Skip to main content

Aalamiparwaz

غزل

 
مشتاق راز 

زباں فروش غضب کا کمال رکھتے ہیں 
ہوس کا حرص کا لہجے میں جال رکھتے ہیں 
اُنھیں کو دیتی ہے دنیا سند شرافت کی 
جو اپنے ساتھ کئی بد خصال رکھتے ہیں 
کبھی کسی پہ نہیں کرتے طنز کی بارش
جو ظرف والے ہیں اتنا خیال رکھتے ہیں 
غلط کمائی سے ہم پیٹ بھر نہیں سکتے 
دعا میں حاجتِ رزقِ حلال رکھتے ہیں 
خدا نے بخشی ہے دولت ہمیں قناعت کی 
مصیبتوں میں بھی چہرے بحال رکھتے ہیں 
بنائے بیٹھے ہیں جو شان میرؔ و مرزاؔ کی 
وہی بیاض میں مانگے کا مال رکھتے ہیں 
ہمارے بارے میں اے رازؔ کوئی کچھ بھی کہے
فقیرِ وقت ہیں سب کا خیال رکھتے ہیں 

fulltext

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے