غزل
رجنیؔ ملہوترا
DVC Bokaro thermal
Distt – Bokaro- Jharkhan
آئے گا انقلاب رہنے دے
سچ کے منہ پر نقاب رہنے دے
اپنا دامن بچا کے تو رکھنا
ہے زمانہ خراب رہنے دے
یہ ضروری نہیں کہ جھوٹے ہوں
اپنے پلکوں پہ خواب رہنے دے
اپنی سانسوں میں لمس کی خوشبو
مثلِ بوئے گلاب رہنے دے
شرم زیور ہے پھر بھی عورت کا
کچھ تو باقی حجاب رہنے دے
میں نے آنکھوں سے پڑھ لیا سب کچھ
زندگی کی کتاب رہنے دے
ناز کس شئے پہ ہو یہاں رجنیؔ
زندگی ہے حباب رہنے دے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
fulltext