پروفیسر علی احمد فاطمی
شعبہ اردو ، الہ آباد یونیورسٹی۔ الہ آبار
تضاد و تصادم کی داستان۔ ”ایوانوں کے خوابیدہ چراغ“
ایک خیال ہے کہ ناول کی تمام قسموں میں سب سے مشکل قسم تاریخی ناول کی ہوتی ہے۔ اس مزاج کے ناول تاریخ اور ناول کے مفکّرانہ و فنکارانہ امتزاج و انجذاب سے وجود میں آتے ہیں۔ امتزاج کی کوئی نہ کوئی صورت اور کیفیت تو ہر قسم کے ناولوں میں ہوتی ہے، لیکن تاریخی ناول میں دو متضاد عناصر کو یکجا کرکے اسے اولااور آخرافکشن یا ناول کی ہئیت اختیار کرنی پڑتی ہے۔ متضاد ان معنوں میں کہ تاریخ کا انحصار حقائق پر ہوتا ہے اور فکشن کا بڑا حصّہ تصور و تخیل سے وابستہ ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں تاریخی ناول میں حقیقت اور رومانیت کا خوبصورت و معنی خیز تال میل بنانا پڑتا ہے اور ناول نگار کو ہمہ وقت یہ خیال بھی پریشان کرتا رہتا ہے کہ وہ تاریخ نہیں بلکہ ناول لکھ رہا ہے، اس لئے ترجیح تو ناول نویسی کو ملتی ہے۔ ناول کے فن کی بالا دستی رہتی ہے۔
اس فنّی و تخلیقی عمل میں درمیانِ تخلیق کبھی کبھی تاریخی حقائق مبہم ہوتے ہیں اور کبھی مسخ بھی جس کی اجازت تاریخ داں نہیں دیتے۔ اکثر تاریخی شعور رکھنے والے قاری بھی۔ لیکن اب اس کا کیا کیا جائے کہ فنّی تقاضوں کے تحت ناول نگار کو اپنے ناول کے لئے کبھی کبھی ایک فرضی پلاٹ کی تشکیل کرنی پڑتی ہے اور کچھ خیالی کردار بھی گھڑنے پڑتے ہیں۔ واقعات میں لچک، کبھی کبھی توڑ مروڑ بھی کرنی پڑتی ہے جس سے تاریخی ناول اکثر ناول تو بن جاتے ہیں لیکن کبھی کبھی حقائق مشتبہ اور مشکوک بھی ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے اکثر تاریخی ناول نگار ان تمام نزاکتوں اور خطروں سے بچنے کے لئے ماضی بعید کا سہارا لیتے ہیں، جہاں حقائق اکثر تاریک یا دُھندلے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ناول نگار کے تخےّل کو آزاد رہنے کی سہولت مل جاتی ہے۔ جہاں حقیقت رومانیت کی شکل اختیار کرکے تخلیقیت میں ڈھل جاتی ہے۔ اسی لیے تاریخی ناول اکثر رومانی ناول ہو جاتے ہیں، جن میں تاریخی بصیرت، ثقافت اور اس عہد کی عوامی زندگی اور جد و جہد کا فُقدان نظر آتا ہے۔ اردو میں جس کی مثال عبدالحلیم شرر کے ناول ہیں، جو تاریخی ناول کہلائے ضرور گئے لیکن اصلاً وہ نیم تاریخی اور نیم رومانی ہیں اور بعض تو پورے کے پورے رومانی ہیں۔
ہندوستانی ادب میں تاریخی ناول ایک خاص عہد میں اور ایک خاص ضرورت کے تحت لکھے گئے۔ جب حال کمزور ہوتا ہے تو ماضی کی صحت و عظمت اور شان و شوکت بالقصد یاد کی جاتی ہے۔ عظمتِ رفتہ کو دہرایا جانا ضرورتِ وقت کے عین مطابق ہوتا ہے۔ اسی لیے اردو میں 1875ء کے بعد تاریخی ناول زیادہ لکھے گئے جب ہندوستانی سماج اور مسلم معاشرہ کئی طرح کے بحران سے گذر رہا تھا۔ بیسویں صدی اور اب اکیسویں صدی میں ان کی تعداد نہ کے برابر ہے اور جو لکھے بھی گئے ہیں ان میں قاضی عبدالستار کے دو ایک ناولوں کو چھوڑ کر زیادہ تر ناکام ہی رہے۔ برسوں بعد بیسویں صدی کے آخر میں دو ایک ناول ”دل مُن اور ”عزازیل“ از یعقوب یاور ”ویر گاتھا“ از سلیم شہزاد قابلِ ذکر ہیں اور اب نورالحسنین کا نیا ناول ”ایوانوں کے خوابیدہ چراغ“ ہے جو گذشتہ دنوں منظرِ عام پر آیا ہے۔ ایسی صورت میں نورالحسنین کا یہ کہنا”میرے ہم عصروں میں تاریخی موضوعات پر کوئی ناول نہیں لکھا۔ البتہ دیگر سماجی، سیاسی، معاشرتی موضوعات پر انھوں نے اچھے ناول لکھے ہیں“غلط ہوگا۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ پر اہم ہے کہ عہدِ حاضر میں تاریخی ناول اور وہ بھی ماضی قریب سے متعلق یہ پہلا تاریخی ناول ضرور ہو سکتا ہے۔
اب میں براہِ راست نورالحسنین کے ناول کے متن و مواد پر گفتگو کروں گا۔
ناول کا آغاز ایک قبرستان کے ویران اور سرد منظر سے ہوتا ہے، جہاں چند مجاہدینِ آزادی انگریز حکومت کے خلاف جیسے گفتگو کر رہے ہیں اور صبح ہونے کا انتظار بھی۔ 1875ء کے قبل کا ماحول، انگریزوں کے خلاف بغاوت کے آثار، اس بغاوت میں ہندو مسلم، مرد عورت سبھی شریک ہونے کو تیار۔ چنانچہ جو کردار قبرستان میں نظر آتے ہیں ان میں حیدر خاں، پنڈت، تارابائی، دینا ناتھ وغیرہ سب کہ سب وطن پرست اور انگریز مخالف ہیں۔ چاروں طرف بقول مصنف ”فرنگیوں کے خلاف نفرت کی آندھیاں اُٹھ رہی ہیں۔ بس چنگاری کی دیر ہے۔ دیکھنا برٹش سامراج کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔“
دوسرے باب میں سید اختر علی ہیں۔ دہلی کا بازار، مسجد بھی ہے اور گلابو بھٹیارن بھی۔ مرزا حکمت یار جو مرغ کے علاج کے لئے فکر مند ہیں۔ نیلوفر اور ان کے عاشق سلیم بھی ہیں۔ غدر کے آثار اور حالات اپنی جگہ اور روزمرّہ کی زندگی اپنی جگہ اور عشق و محبت اپنی جگہ پر کہ انسان بڑے سے بڑے حالات میں بھی اپنی فطرت سے الگ نہیں رہ پاتا۔ اس کے بعد پھر وہی قبرستان، رات اور سردی۔ وہی لوگ اور وہی آگ جو الاؤ میں ہے وہی باغیوں کے سینے میں بھی ہے اور یہ جملہ:
”اے چاند تو گواہ رہنا ہم لوگ بنا کسی گناہ کے بے گھر ہوئے ہیں۔“
”اے چاند تو شاہد ہے ہماری راتوں کا، ہماری بے بسی کا۔“
اس کے بعد ایک کہانی کا آغاز جو تارا سے متعلق ہے۔ کسی کا انتظار بھی ہے جواودھ سے آرہا ہے۔ اودھ یعنی واجد علی شاہ، جن کو انگریزوں نے گدّی سے اودھ کی تاجداری سے دستبردار کر دیا۔ حیدر خاں کا یہ جملہ غور طلب ہے:
”رنگ منچ کا نٹ اگر دربار میں بھی لیلیٰ مجنوں کا ناٹک کھیلے گا تو وقت اس کے ساتھ یہی سلوک کرے گا۔“
اور ایک نئی گفتگو یا بحث سامنے آتی ہے کہ کیا بادشاہ، راجہ مہاراجہ کو شاعری یا فنونِ لطیفہ سے دلچسپی نہیں رکھنی چاہئے۔ ان کے لئے صرف تلوار کی مہارت کافی ہوا کرتی ہے۔ مغل بادشاہوں میں کئی ایسے تھے جو فنِ شاعری، مصوری یا تعمیر کا بہترین ذوق و شوق رکھتے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں حیدر خاں کا جواب یہ ہے:
”وہ جانتے تھے کہ کب لکھنا چاہئے اور ملکی انتظام کس طرح کرنا چاہئے۔ ان میں تلوار اٹھانے کی طاقت تھی۔ اپنے حق کے لئے وہ بغاوت بھی کر سکتے تھے۔“
اور پھر یہ بھی:
”آپ کے واجد علی شاہ تو دن رات راس لیلامیں ڈوبے رہتے۔ طوائفیں دربار کا حصّہ ہو گئیں اور نواب عورت رنگیا ہو گیا۔ اس کا اثر رعایا پر بھی پڑا۔ گھروں سے سپاہیوں کے بجائے شہدے بھانڈ اور بے فکرے باہر نکلنے لگے۔“
یہ ایک باغی کا تبصرہ ہے، ماہر کا نہیں تاہم یہ باتیں غور طلب ہیں اور شاید بحث طلب بھی۔ لیکن اس جملہ سے وطن پرستی کی بو آتی ہے۔
”ا ب بھی وقت ہے سنبھلنے کا ورنہ سارا ہندوستان ایک دن بڑا قبرستان بن کر رہ جائے گا۔“
غالباً اسی لئے اس ناول کا آغاز قبرستان سے ہوتا ہے کہ اس وقت تک ملک ایک چھوٹا قبرستان تو بن ہی چکا تھا۔ لیکن یہی قبرستان ان باغیوں کی پناہ گاہ تھا۔ غم و غصّہ کی آماجگاہ بھی۔ اسی لئے دھندلے الاؤ کی چنگاری میں تڑپ ہے اور تلملاہٹ بھی، جسے مصنف نے بڑے علامتی ڈھنگ سے پیش کیا ہے۔ نیز باتوں اور مکالموں کے ذریعہ اس عہد کی سماجی اور معاشرتی زندگی کا ہلکا سا عکس بھی سامنے آتا ہے جو تاریخی ناول کا وصفِ خاص ہوا کرتا ہے کہ کس طرح لوگ ان حالات میں بھی عیش و عشرت اور مختلف قسم کی بازیوں میں مصروف تھے۔ یہ عشرت ایک طرح کی فراریت بھی تھی۔ دہلی میں بالکل ایسا نہ تھا یہ کہہ پانا مشکل ہے۔ ناول میں دہلی اور لکھنؤ کی معاشرت، تہذیب و ثقافت کی کچھ ایسی امتزاجی تصویر ابھرتی ہے کہ انفرادی ثقافت کی شناخت کی رو سے سوال قائم ہو سکتے ہیں، لیکن ناول کی تخلیقیت کی رو سے شاید یہ مسئلہ زیادہ اہم نہیں۔ ناول نگار نے اکثر مقام پر بے تکلف مکالموں، محاوروں اور کہیں کہیں دمادم مست قلندر پر رقص وغیرہ کے ذریعہ جو تخلیقی فضا قائم کرنے کی پُرکشش و پُرتاثیر کوشش کی گئی ہے اس سے بہر حال ناول نگار تخلیقی فضا بنانے میں کامیاب نظر آتا ہے اور کسی بھی تاریخی ناول کی اس نوع کی ترتیب و تخلیق اکثر اس کی کامیابی کی ضمانت دار ہوتی ہے۔
قبرستان میں دمادم مست قلندر کا جوش بیحد معنی خیز ہے۔ اس کے بعد اودھ کے حالات بارود کا ڈھیر اور حیدر خاں کا یہ جملہ:
”دوستو! میں ایک بڑے انقلاب کی آہٹ محسوس کر رہا ہوں۔“
اودھ بندیل کھنڈ کے ذریعہ پورے ملک میں انقلاب کی لہر پھیلنا اور پھر دکن تک پھیل جانا۔
خاموش قبرستان میں کسی شخص کی آمد دراصل انقلاب کی آمد ہے۔ انتظار ہے انقلاب کا لیکن پھر یہ جملہ:
”اور انتظار قبرستان کی پھاٹک پر لٹک گیا۔“
اس طرح کے جملوں سے مصنف نے قدم قدم پر یہ خیال رکھا ہے کہ ناول کی فضا قصّہ پر ہی رہے اور اسی تکنیک میں اس کا ارتقا بھی ہو۔ درمیان میں محبت کی آمد یعنی چنبیلی کی آمد۔ اتحاد اور قوّت کی آمد کا استعارہ بنتی ہے کہ اس دائرہ عمل میں مرہٹہ سردار سبھی آجاتے ہیں، لیکن دلّی کبوتر بازی اور شعر و شاعری میں مصروف اور مغل بادشاہِ قلعہ میں محصور۔ لیکن آزادی کے یہ دیوانے قبرستان میں ایک نئی صبح کی یعنی آزادی کے انتظار میں دیوانے ہو رہے ہیں۔ مصنف نے اس دیوانگی اور آمدِ صبح کی ملی جُلی کیفیت کو اس انداز میں پیش کیا ہے:
”سپیدی آسمان سے اُتر رہی تھی۔ صبح اپنی آمد کا انتظار کر رہی تھی اور یہ قافلہ قبرستان کی پھاٹک سے نکل رہا تھا۔“
اچھی بات یہی ہے کہ مصنف نے تاریخ کو مس کرتے ہوئے اور اس کی صداقتوں کو مسخ کئے بغیر اس ناول میں ناولیت کی فضا قائم رکھی ہے جس سے مکالموں میں، منظروں میں جوش و خروش میں حقیقت اور صداقت میں ایک ربط و معنویت پیدا ہو گئی ہے۔
ایک اچھا ناول تضادات سے ابھرتا ہے۔ اسی سے کشاکش اور کشمکش کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ ورجینا وولف نے کہا تھا کہ زندگی میں تضاد ہے تو ناول میں بھی ہوگا اور ایک اچھے ناول کی یہی خصوصیت ہے کہ وہ زندگی کی طرح باہم متصادم ہو۔ یہ تصادم خیر و شر کا ہو سکتا ہے اور تضاد کا بھی۔ اس ناول میں بھی تضاد ہے کہ ایک طرف حیدر خاں اور اس کے ساتھی ہیں جو وطن کو آزاد کرانے کے لئے بغاوت پر آمادہ ہیں اور بے گھری اور آزاری کے عمل سے گذر رہے ہیں، تو دوسری طرف ایسا طبقہ بھی ہے جو ان تمام آزاد و آثار سے بے پروا اپنے کوزے میں بند ہے۔ اختر علی سلیم کو شعر و شاعری کا سبق سکھا رہے ہیں اور حسن کا سطحی روایتی تصور سمجھا رہے ہیں:
”تم حسن کے ناز و انداز کیا جانو۔ تمھیں حسن و عشق کی لذّتوں کا کیا خاک اندازہ ہوگا؟ اور یہ کہ تمھیں کیا پتہ کہ محبوب کی حیرت زدہ آنکھیں کیا ہوتی ہیں۔ اس کے انداز کیا ہوتے ہیں۔“
دیکھئے تضاد زندگی کا، حالات کا، کہیں آزادی ہے تو کہیں فراری، کہیں آزاری ہے تو کہیں شعر و شاعری۔ یہ زندگی کے متضاد دھارے ہیں جو ساتھ ساتھ بہتے رہتے ہیں۔ ادب کی تخلیق انھیں دھاروں سے آبشار کی طرح اپنا ایک الگ روپ پیش کرتی ہے جہاں کرب آمیز نشاط یا نشاط آمیز کرب ہے۔ ایک طرف ملک کی حقیقت اور سیاسی بدحالی ہے تو دوسری طرف سلیم اور نیلوفر کا رومان۔ یہ رومان سرسری اور جلد بازی کا ہے،ورنہ اصل کہانی تو حیدر خاں اور ان کے باغی ساتھیوں کی ہے۔ بغاوت کی، آزادی اور کہیں کہیں حیدر خاں کے ماضی کی بھی۔ اس لئے ۷۵ء کی بغاوت چند روزہ قصّہ نہیں بلکہ دہائیوں کی داستان ہے۔ مغل بادشاہوں کے اندرون کا بیان بھی اور درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء کے عقیدت مندان بھی ہیں۔ یہ منظر دیکھئے:
”درگاہ کی طرف لوگوں کے قافلے کے قافلے رواں تھے۔ کوئی پاپیادہ تھا، کوئی سوار تھا۔ کوئی چادر اوڑھے ہوئے تھا، کسی کے ماتھے پر تِلک چمک رہا تھا اور کوئی گھونگھٹ کاڑھے چلا جارہا تھا۔“
درگاہ، قوّالی، فقیر اور مجمعئ عام جس میں حیدر خاں بھی شامل۔ لیکن اس کی دعاء صرف اتنی:
”میں بس آپ کی سرزمین کو ان فرنگیوں سے پاک دیکھنا چاہتا ہوں۔“
اور وہاں قوّالی ہو رہی تھی ؎
بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی
……………………………………. ڈگر پنگھٹ کی
حیدر اور ان کے باغی ساتھی ملک کی سلامتی اور آزادی کی دُعائیں مانگ رہے تھے اور کچھ لوگ:
”ہندوستانی بِکتے رہے۔ دین و ایمان کے سودے ہوتے رہے۔ غدّار اور مکّار قوم کو دھوکہ دیتے رہے۔“
یہ بھی صرف ناول کا نہیں زندگی کا، انسان کا تضاد ہے جو ازل سے ابد تک رہے گا۔ اسی لئے تو شاعر نے کہا ہے ”بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی۔“
یہ مناظر ناول کو نہ صرف دلچسپ بلکہ معنی خیز بناتے ہیں۔ قوّالی، درگاہ، دُعا، آزادی، غدّاری یہ سب ایسی متضاد حقیقتیں ہیں جو لاشعوری طور پر زندگی اور ناول کا حصّہ بنتے جاتے ہیں۔
آگے ناول کچھ ڈرامائی شکل اختیار کرتے ہوئے ایک نئے کردار طالب احمد کے ذریعہ اس منزل پر پہنچتا ہے جب میرٹھ میں فوجی کارتوس پر سخت اعتراض کر رہے تھے اور قبرستان میں چھپے باغی اس اعتراض کو بغاوت میں تبدیل دیکھنے کے لئے بیتاب تھے اور بار بار کہہ رہے تھے ”نجام الدین اولیا جگ اجیارو۔“
اور پھر ایک دن بیج ناتھ، چاند خاں اور ان کے دوسرے ساتھیوں نے کھُلے عام کارتوس استعمال کرنے سے انکار کر دیا کہ ہندوستان، تہذیب اور کلچر کے معاملات میں تو بڑی حد تک سمجھوتہ کر سکتا ہے لیکن مذہب کے معاملہ میں نہیں۔ اسی لئے چاند خاں کہتا ہے:
”مذہب ہمارے لیے اوّل ہے اور ہم سب اپنے مذہب پر جان دے دینا معمولی بات سمجھتا ہے۔“
ٹھیک اسی مقام پر قلعے کے اندر کا ماحول بھی دکھایا گیا ہے جو زبان و بیان کے اعتبار سے دلچسپ ہے۔ ناول نگار نے اس فرق کو بڑے سلیقے سے پیش کیا ہے کہ قبرستان میں بیٹھے باغی کی زبان، لہجہ اور تیور انگریز فوجیوں کی ٹوٹی پھوٹی زبان اور قلعے معلّیٰ کی زبان کی شگفتگی جہاں خواب، نیند اور منزل تو ہے لیکن منزلِ مقصود تک پہنچنے کی ہمت اور طاقت نہیں۔ اس لئے شعر و شاعری ہے اور غزل گوئی ہے اور یہ شعر ؎
وقت پیری شباب کی باتیں
ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں
لیکن شاعر ملک کے حالات سے بے خبر اب بھی محبوب کے قدموں میں جوشِ قدح سے بزمِ چراغاں کرنے کو بیقرار ہے۔ لیکن بوڑھے بادشاہ کا جوان ملکہ کا پوری طاقت کے ساتھ بھینچ لینا اور مرتبان سے کشتے کا چاٹنا عجیب ساضرور لگتا ہے، عین ممکن ہے کہ اس میں فرار و پناہ کی کیفیت شامل ہو۔ ہر چند کہ یہ بے خبری معصومانہ نہ تھی اور محض شاعرانہ تھی اور ان سب پر اس عہد کی سماجی اور سیاسی حالت کا ایک غُبار بہر حال چھایا ہوا تھا جسے مصنف نے منظر بدلنے یا قاری کا ذائقہ بدلنے کے لئے پیش تو کیا لیکن اب کیا کیا جائے کہ عوامی زندگی سے الگ تھلگ یہ مناظر بے جان اور بے کیف سے لگتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ایسے مناظر ناول نگار کے مشاہدے اور تجربے سے غیر متعلق تھے۔ کتابی مطالعہ کی بنیاد پر اور تصور کے ذریعہ پیش کئے گئے ان مناظر میں حقیقت اور فطرت کا گذر ممکن نہیں۔ لیکن یہ بھی ہے کہ مصنف کی کم، اور تاریخی ناول کی اپنی فنّی مشکل ہوا کرتی ہے کہ بادشاہ کے کردار کی زبان ہی نہیں عمل میں بھی وہ تُزک و احتشام ضروری ہے اور وہ تمام لوازمات بھی جو مغل تہذیب و احترام کے داعی ہوا کرتے تھے اور ایک مخصوص تہذیبی جمالیات کا اشاریہ بھی۔ دوسری طرف ناول میں کشاکش اور تضاد بھی ضروری ہوا کرتا ہے اور اس ناول کا جو موضوع اور مُدّت ہے وہ بحرانی اور عبوری ہے، جہاں خیالات و نظریات باہم متصادم تھے۔ غم و غصّہ تھا، جوش و ولولہ تھا، بغاوت تھی اور فراریت بھی۔ لیکن یہ فراریت کب تک۔ وہ نوبت آہی جاتی ہے جب اختر علی کی محفلوں کی ادبی بحث حالاتِ حاضرہ کی طرف مُڑ جاتی ہے۔ مشرف عالم ذوقی نے اچھی بات کہی ہے:
”۷۵۸۱ء جہاں آزادی کے احساس کے ساتھ ایک بڑی نظریاتی تبدیلی غلام ملک کے سماجی اور سیاسی ڈسکورس کا حصّہ بن رہی تھی۔ ماضی اور حال کی کشمکش کے یہ ناول حقیقت اور اظہار کا راست بیان ہے۔“
حالانکہ تاریخی ناول میں راست بیانی اکثر بے کیف ہوا کرتی ہے نیز وہ ناول کے تاریخی ماحول کو بھی متاثر کرتی ہے لیکن اس ناول کی تخصیص یہ ہے کہ حالات و حادثات کو عوامی کرداروں کے ذریعہ پیش کیا گیا ہے اور صرف حادثات ہی نہیں بدلتے ہوئے نظریات کبھی تہذیبی بساط کی اُلٹ پھیر اعلیٰ طبقہ کو متاثر کر رہی تھی جسے کچھ امراء و نوابین بچانے میں مصروف اور کچھ لُٹانے میں اور کچھ جیالے ظلم و ستم سے نبرد آزما ہونے اور ملک کو غلامی سے نجات دلانے میں مصروف کہ سماج کا کوئی بھی خونریز واقعہ ہر طبقہ کے دل و دماغ کو مرتعش کر جاتا ہے۔ جمی جمائی بساط اُلٹ جاتی ہے۔ اس ناول میں تہذیبی سطح پر یہ تقلیب کم کم ہی دکھائی دیتی ہے کہ اصل زور تو بغاوت پر ہے۔ تاہم بعض اشارے، ناول کے بعض اقتباسات ناول کی جہت و پرت میں اضافہ کرتے ہیں اور اسے عمدہ ناول بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ چاندنی چوک کا یہ منظر دیکھئے:
”وہ دلّی یوں ہی تو ہندوستان کا دل نہیں تھی۔ دن کیا نکلتا تھا گویا عید کا چاند دیکھ کر ہی نکلتا تھا۔ چاندنی چوک کی سڑک فردوسِ بریں کا روپ دھارن کر لیتی۔ حُسن لازوال کی پریاں ماہتابوں کی صورت سیاہ نقابوں میں جھانکتی ہوئیں اس طرح اٹھلاتیں گویا آسمان سے کہکشاں زمین پر اُتر آئی ہے۔ جسے دیکھو چندے ماہتاب و آفتاب گویا دلّی کا چاندنی چوک نہیں کوہِ قاف کا کوئی بازار ہے اور پریاں اٹھلاتی پھر رہی ہیں ………..رنگ برنگے دوپٹّے لہرا رہے ہیں۔ کامدانی کاموں سے مزےّن سُرخ، نیلے پیلے سبز بنفشی اطلسی گہرے دار لہنگے، زمین پر خوبصورت جوتیاں چٹخ رہی ہیں۔“
اور ایک مختلف منظر یہ بھی:
”مہادیو جی کی سنگی مورت کے پائین پنڈت جی بیٹھے ہیں۔ ایک پتّھر پر صندل گھِس رہے ہیں۔ مہادیو جی کی مورت درشن دے رہی ہے۔ عقیدت مند ہاتھ جوڑے سر کو جھُکا رہے ہیں اور پنڈت جی صندل میں اُنگلیاں ڈبو رہے ہیں اور ماتھے پر خوشبو بکھیر رہے ہیں۔“
ایک منظر شاہانہ بھی دیکھئے:
”سواری منتظر تھی۔ بختِ رواں کا سنہری ہودا تھا اس میں زربفت کی مسند اور گاؤ تکیہ لگا ہوا تھا۔ سواری پر مخملی پردے جھول رہے تھے۔ صحن میں خواجہ سرا اور خواصِ شاہی باادب کھڑے تھے۔“
ان رنگارنگ تحریروں سے نہ صرف اس عہد کی دلّی کے حالات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے بلکہ تاریخ و تہذیب کے دلکش مرقّعے نظروں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔ تاریخی ناول کا ایک بڑا وصف یہی ہے کہ وہ قاری کو اس عہد میں پہنچا دے۔ اس عہد کی تہذیبی، ثقافتی اور سماجی
زندگی کے دھڑکتے ہوئے مناظر قاری اور اس کی قرأت کے ذوقِ جمال کو کچھ اس انداز سے تسکین پہنچائیں کہ ناول کا فن اور مواد کی فکر دونوں کچھ اس انداز سے تخلیقی وجدان میں رچ بس جائیں کہ تھوڑی دیر کے لئے قاری کی رسائی نہ صرف اس عہد تک ہو جائے بلکہ وہ اسی ثقافت و معاشرت میں سانس بھی لینے لگے اور تمام نقل و حرکت، عمل و ارتقا اس کے رگ و ریشہ میں سما جائے۔ نورالحسنین نے جابجا اس کی کامیاب کوشش کی ہے۔ خاصی محنت کی ہے، مطالعہ کیا ہے اور کرداروں کے حوالے سے یہ بھی کہلوایا ہے:
”بندہ آج بھی دربار سے وابستہ ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ آج بھی کوئی کمی نہیں آئی۔ آپ کو بتادوں کہ کارخانے جات خاصہ کلاں، خاصہ خورد، آب دار خانہ، دواخانہ، توشے خانہ، جواہر خانہ، اسلحہ خانہ، اصطبل بگھّی خانہ، توپ خانہ، شتر خانہ، رتھ خانہ، پالکی خانہ، داروغہ کہاراں، داروغہ خاص، خواجہ سرایاں، فوج مختلف پلٹن موجود ہیں اور سرکار عالیہ سے تنخواہ پاتے ہیں۔“
بادی النظر میں لگتا ہے کہ محض شمار و قطار اور لسانی شان و شوکت کے لئے یہ اقتباس آگیا، لیکن اختر علی کا تبسّم اور تشکیک کا لطیف انداز اسے سنبھال لیتا ہے لیکن اختر علی کی بیٹی نیلوفر اور سلیم کے رومانی تعلقات مصنوعی سے لگتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ ناول نگار غیر ضروری طور پر رومان کا تڑکا لگاتا چل رہا ہے تاکہ رومان کی چاشنی تاریخ کی خشکی کو سنبھالے رکھے اور توازن قائم رہے۔
یہ سارے مناظر ثقافتی سطح پر ناول میں ایک فضا ضرور بناتے ہیں لیکن ناول کی اصل اٹھان اور ارتقا تو حیدر علی کے ساتھیوں کے ذریعہ ہوتا ہے جن میں ہندو بھی ہیں اور خواتین بھی اور صوفیوں سنتوں کے تذکرے بھی کہ ابتداً انھوں نے ہی مجاہدانہ عمل کے سبق سکھائے۔ شیر اور بکری کی کہانی، منگل پانڈے کی قربانی۔ نتیجتاً میرٹھ کی فوجی بغاوت، قتل و خون ”مارو، کاٹو، آگ لگا دو۔“ اور ساتھ ہی نعرہئ تکبیر اور ہر ہر مہادیو کے نعرے، شاید اس لئے کہ کارتوس استعمال نہ کرنے کے پیچھے مذہبی جذبہ کام کر رہا تھا۔ میرٹھ کی آگ دلّی تک پہنچی، لیکن قلعہئ معلّیٰ میں رقص و سرود کی محفل آراستہ تھی۔ ادھر طبلے کی تھاپ ادھر گھوڑوں کی ٹاپ۔ کچھ محبت، کچھ نفرت۔ غرضکہ یہاں بھی قتل و خون کا بازار گرم ہو گیا۔
دہلی کی اس گرم بازاری کا اثر قلعے کے اندرون میں پڑنے لگتا ہے۔ اختر علی کے گھر میں بھی اثر دکھائی دیتا ہے لیکن سلیم کی محبت اس نازک اور گرم موقعے پر چھلکی پڑتی ہے جو بظاہر عجیب سی لگتی ہے اور نہ ہی دہلی کی سماجی اور عوامی زندگی کا نقش ابھرتا ہے، البتہ حیدر کی منھ بولی بہن تارا نے میرٹھ کا حال بیان کیا:
”حیدر بھائی زندگی کو اس طرح بلکتے ہوئے میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ انقلاب کے نام پر انسان، انسان کو ایسے کاٹ رہا تھا جیسے رسوئی کے لئے سبزی ترکاریاں کاٹی جاتی ہیں۔ خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔ چیخ و پکار ایسی کہ کلیجہ منھ کو آرہا تھا اور کسی کے دل میں نام کو رحم نہیں۔“
اور یہ سوال بھی:
”حیدر بھائی کیا ہم ایسے ہی خونخوار انقلاب کی راہ دیکھ رہے تھے۔؟“
تو حیدر کا جواب تھا:
”ہمیں ایسے انقلاب کا انتظار نہیں تھا، لیکن ایسا ہمیشہ ہی ہوتا ہے۔ ہر فاتح مفتوح کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتا ہے ………ہر انسان سوچتا ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے لیکن ہر بار ایسا ہی سب کچھ ہوتا ہے۔“
کیا معرکے کے جملے ہیں۔ اگر محبت ایک جذبہ ہے اور آگے بڑھ کر ایک فلسفہ بھی تو اس کے برعکس نفرت و عداوت بھی ایک جذبہ ہے۔ اندھا جذبہ کہ اس کی لپیٹ میں آدرش اور اصول اکثر قتل ہو جاتے ہیں۔ آگے چل کر مہاتما گاندھی نے عدم تشدّد کا سہارا لے کر تحریکِ آزادی چلائی۔ آزادی ملی، لیکن تشدّد سے پُر۔ قتل و خون سے لبریز۔ ایسے میں تجربہ کار، جہاں دیدہ حیدر خاں کا یہ کہنا ”ہر بار یہی سب کچھ ہوتا ہے۔“ اس ہر بار میں صدیوں کی انسانی تاریخ کا ایک ایسا کڑوا سچ اور کرب پوشیدہ ہے جس کی صداقت نے نہ جانے کتنے نظریوں اور فلسفوں کو جنم دیا لیکن ہر بار ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ بس شکلیں بدلتی رہی ہیں۔
حیدر خاں کے ان مکالموں میں مصنف نے اپنی غیر معمولی ذکاوت اور بلاغت کا ثبوت پیش کیا ہے اور یہ ضروری بھی ہے کہ ناول صرف رواں دواں قصّہ نہیں ہوتا، اس میں حادثہ ہوتا ہے۔ تجربہ اور نظریہ بھی جو آگے بڑھ کر فلسفہ کا روپ لے لیتا ہے۔ شاید اسی لئے لارنس نے کہا تھا کہ فکشن جب تک فلسفہ نہ بن جائے بڑا فکشن نہیں بن پاتا۔
میرٹھ کے باغی فوجیوں کی بہادر شاہ ظفر سے ملاقات، مکمل بادشاہت کا اعلان، بادشاہ کی فقیری و بیچارگی، یہ سب کچھ جلدی جلدی ہو جاتا ہے اور جلد ہی صبح کاذب نمودار ہونے لگی۔ ایک دُھندلی صبح، ایک کمزور سا سچ جس نے آگے چل کر ایک مضبوط تحریک کو جنم دیا۔ بہر حال پہلے کی طرح بادشاہ گدّی پر بٹھائے گئے۔ اسی طرح کا جلوس، اسی طرح کی آن بان اور شان اور اسی طرح کی زبان کہ تاریخی ناول میں زبان کا بہت بڑا رول ہوا کرتا ہے، خواہ وہ خواص کی ہو یا عوام کی۔ خواص بالخصوص بادشاہ، نواب اور ان کے ادب و آداب، ملبوسات۔ یہ جملے دیکھئے:
”دربار شاہی کو زینت بخشنے کی خاطر حضور بادشاہ سلامت کا جلوس روانہ ہوا۔ سب سے آگے نقار خانہ تھا، پھر روشن چوکی تھی۔ ان کے پیچھے پیادہ سپاہی تھے۔ ان کی کمروں میں تلوایں لٹک رہی تھیں۔ ہاتھوں میں نیزے تھے۔ زعفرانی پٹّیوں کے کمربند اور سروں پر کھڑکی دار پگڑیاں تھے۔ پھر گھوڑا سوار دستہ تھا، جن کے گلوں میں سونے چاندی کی ہیکلیں لٹک رہی تھیں۔ ماتھوں پر مرصّع کلغیاں تھیں۔ سلمیٰ ستارہ کے کام کی چادریں کاٹھیوں پر جھول رہی تھیں۔“
یہ سب کچھ تو تھا لیکن بادشاہ کے چہرے پر حسرت کے ساتھ ساتھ مایوسی و بے بسی تھی۔ جیسے جیسے بغاوت زور پکڑ رہی تھی۔ چہرے کا جلال اور بھی منوّر ہو رہا تھا اور توپیں داغی جارہی تھیں۔ لیکن حیدر اور ان کے ساتھی یہ سمجھ رہے تھے کہ فرنگیوں سے مکمل نجات ایک اور بڑی قربانی مانگتی ہے اور آگ اور خون کی گنگا پار کرنی پڑے گی اور یہ عمدہ جملہ ”فتح کرنا آسان ہے لیکن فتح کو قائم رکھنا بیحد مشکل ہوتا ہے۔“ لیکن اس وقت تو سب کہ سب انتقام کے جوش میں تھے اور اس میں پیش پیش تھے حیدر خاں۔ کچھ دیر قتل و خون کا ماحول اس کے بعد پھر وہی
سلیم و نیلوفر کا رومان جو اس ماحول میں غیر فطری لگتا ہے۔
ایک مختصر سی کہانی دلبرداد خاں اور جنیفر کی ہے۔ جینی انگریز لڑکی جس سے دلبرداد خاں پیار کرتا ہے، دیناناتھ تارا سے، حیدر خاں چنبیلی سے اور سلیم نیلوفر سے کہ جنگ و جدل کا ماحول کیسا ہی ہو انسانی فطرت اپنا کام کرتی ہے اور یہ فطرت ذات پات، اونچ نیچ بھی نہیں دیکھتی۔ ایک ایسے ماحول میں جب انگریز مرد و عورت ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کئے جا رہے ہوں دلبرداد خاں جیسا سخت پٹھان ایک انگریز لڑکی کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ الگ الگ مسئلہ ہے اور محبت ایک الگ فلسفہ کہ وہ تو بدترین دشمن کی لڑکی ولڑکے سے بھی ہو جاتا ہے۔ اگر حیدر خاں انگریزوں کا قتل کر رہا ہے تو دلبرداد خاں انگریز محبوبہ کو بچا رہا ہے اور کہہ رہا ہے ”ہم تم کو مرنے کے واسطے نہیں بچائی۔ ہم پر بھروسہ رکھو۔ فرنگی بلبل ہم تمھارا حفاظت کرے گی۔“ محبت کا یہ جذبہ، زندگی کا یہ متضاد روےّہ ناول کی کشمکش میں دھار لگاتا ہے اور محبت و عداوت کا یہ سفر ناول میں متوازی طور پر طے ہوتا رہتا ہے۔ یہی زندگی ہے۔ یہی ادب ہے اور یہی ناول۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ ناول کی شعریات زندگی کی شعریات ہے۔ پتہ نہیں زندگی کی کوئی شعریات ہو سکتی ہے یا نہیں۔ اگر ہو سکتی ہے تو ناول کی بھی ہو سکتی ہے۔ اگر نہیں تو ناول کی بھی نہیں۔ مگر ناول پھر بھی ناول ہے۔ جیسے زندگی زندگی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ناول جیسی بڑی صنف میں زندگی جیسے بڑے تضاد موجود ہوں لیکن یہ فنّی اعتبار سے باہم مربوط و مضبوط ہوں۔ اور فکری و فطری اعتبار سے رواں دواں۔ اس اعتبار سے یہ ناول کہیں کہیں غیر فطری سا ضرور ہو جاتا ہے کہ وہ کئی کرداروں اور کئی ٹکڑوں میں متوازی طور پر چلتا ہے۔ لیکن اچھی بات ہے کہ وہ اپنی مرکزی فکر سے زیادہ علےٰحدہ نہیں ہوتا۔ کہیں کہیں یہ فکر فطرت کا ایسا مظاہرہ کرتی ہے جس کا عام آدمی تو کیا شہزادہ اور بادشاہ تک شکار ہو جاتے ہیں۔ مرزا الہٰی بخش کی خوشامدانہ و سفّاکانہ باتیں و حرکتیں اور یہ جملے:
”شہزادے اب مجھے اس تعظیم سے نہ روکیں۔ میں کسی نوعمر شہزادے کے آگے اپنا سرِ تسلیم خم نہیں کر رہا ہوں، بلکہ کسی غیور مستقبل کے شہنشاہ کی تائید کا اعلان کر رہا ہوں۔“
اس کے بعد مصنف کے یہ جملے:
”باہر تیز دھوپ جھلس رہی تھی اور نقارچی نے بدلتے وقت کی کروٹ کا اشارہ سمجھا اور اس کے نقارے کی آوازیں پورے قلعہئ معلّیٰ میں گونج اُٹھیں۔“
ایسے تفکیری و تخلیقی جملوں سے ہی ناول زندگی سے اوپر اُٹھ کر ادب کا بڑا حصّہ بن جاتا ہے اور فلسفہ کا روپ لے لیتا ہے۔ اسی ماحول میں زندگی کا ایک اور روپ دیناناتھ اور تارا کی شادی، ڈھولک کی تھاپ اور سبحان میاں کا وجد اور پھر لوک گیت اور پنڈت کا یہ جملہ:
”ہم ادھر جنگ میں اپنی جان دے رہے ہیں اور یہ ادھر سگائی کے لڈّو توڑ رہی ہیں۔“
اور یہ جملہ بھی:
”وہ جو بیچتے تھے دردِ دل کی دوا، وہ تلوار اٹھا کر میدانِ جنگ میں چل دئے۔“
اور شادی میں قہقہے پڑ رہے تھے۔ ادھر کانپور کے حالات بدل رہے تھے۔ موت و غم، محبت اور عداوت، زندگی اور موت، غلامی اور آزادی، شادی کی ڈھولک اور جنگ کے نقارے کتنے اور کیسے تضادات اور ایک زندگی اور ایک ناول۔ لیکن ناول تو یہیں سے بنتا ہے اور بگڑتا بھی ہے۔ یہ ناول نگار کے تصوّراتِ فکر و فن پر منحصر ہے اور اس کی علمی و تخلیقی صلاحیت پر۔ نورالحسنین اکثر منزلوں پر کامیابی سے گذرے ہیں اور کہیں کہیں تو منظر کشی سے ہی تمام تر کیفیت کو بیان کر دیا ہے۔ مثلاً:
”آسمان میں سیاہ بادل سفید بادلوں کی طرف تیزی سے بڑھ رہے تھے، ہوائیں چل رہی تھیں اور ایسا لگتا تھا کہ کسی بھی وقت آسمان کا ایک ہی رنگ ہو جائے گا۔“
اور لکھنؤ، دہلی، کانپور، الہ آباد، فیض آباد سب ایک رنگ میں رنگ گئے۔ جھانسی کی رانی، نانا صاحب، تاتیا ٹوپے، زینت محل، عظیم اللہ خاں، احمد اللہ شاہ ایک جذبے میں سرشار تھے۔ لیکن پھر بھی سیاہ اور سفید بادلوں میں تکرار ہوتی رہی اور تاریخ کے لیے بہت سارے سوال چھوڑ گئی کہ نفرت کی آگ اور اجتماعی انتقام کی نفسیات تو تاریخ بھی نہیں سمجھ سکتی۔ ساتھ ہی ساتھ وہ محبت بھی ناقابلِ فہم جو خان اور جنیفر کے درمیان ہوئی اور پتھر پر پھول کھلا۔ ادھر میدانِ جنگ میں مشعلیں روشن ہوئیں اور ادھر دلِ نازک میں قندیلیں۔ ایک ساتھ، ایک ماحول میں دل اور دلّی دونوں کام کرتے رہے۔ یہی زندگی ہے۔ اسی زندگی کا عکس ہے ناول جو کم از کم تاریخی ناول میں کم کم دکھائی دیتا ہے کہ اس پر مخملی پردے پڑ جاتے ہیں۔ لیکن نورالحسنین نے سیاست اور آدمیت، محبت اور نفرت دونوں کو متوازی طور پر پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے اور اسی میں ایک باب اور جُڑتا ہے غدّاری اور بے وفائی کا۔ یہ بھی انسان کی ایک فطرت ہے جس سے اس طرح کے سوالات جنم لیتے ہیں:
”جانِ بہار سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ فرنگیوں کو رات گئے یہ اطلاع پہنچانے والا کون تھا کہ شاہی لشکر بے خبر سو رہا تھا۔“
یا
”خدا جانے اودھ کی اگلی صبح کیا پیغام لے کر آئے گی۔“
میرٹھ اور دلّی کے بعد لکھنؤ اور بنارس کے واقعات کا ذکر ناول کو آگے بڑھاتا ہے اور ۷۵ء کے غدر کی وسعت کے ساتھ ساتھ ناول کے دائرہئ عمل کو بھی بڑھاتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ لکھنؤ کو جس زبان و تہذیب کے ساتھ پیش کیا ہے، بنارس کو بھی اپنی پہچان کے ساتھ۔ جہاں ایک طرف لکھنؤ کی یہ زبان ہے:
”کمال ہے نہ ذوقِ زبان، نہ شوقِ فصاحت۔ تنگیئ داماں تو دیکھئے صبر کا یارا تک نہیں۔ وصل کی تڑپ میں جو لذّتِ ہجر نہ جانے وہ درِ عزیزی پر کیا دم مارے۔“
تو بنارس کی یہ زبان:
”بچّہ یہ جیون ایک دھوکہ ہووے۔ گیان دھیان، لاگ لپیٹ کی اس کرم بھومی پر کون گیانی کون اگیانی؟ جو ہووے وہ نہ ہووے؟ جو نہ ہووے وہ ہووے۔ سنسار کا رچن کرئیا کرے چمتکار۔ کہاں کا ساون کہاں کا بھادوں۔ من تو ٹھہرا مایا، موہ کاڈیرا سب دھوکا ہے دھوکا۔“
لکھنؤ میں رقص و سرود ہے تو بنارس میں بینی چدریا۔ یہ سب الگ الگ رنگ میں ہوتے ہوئے بھی وطن کے جہاد میں سب ایک تھے۔
تاریخ میں شکست و فتح کی جتنی کہانیاں ہیں کم و بیش اتنی ہی بے وفائی اور غدّاری کی بھی ہے۔ اس پہلو کو بھی اشاراتی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور خوبصورت و بامعنی جملوں سے تاریخ کے ان کمزور اور داغدار لمحوں کو تخلیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کنیز، غلام، افسران سبھی اس میں شامل ہیں یہاں تک کہ کہیں کہیں وزیر اور شہزادگان بھی کہ حیرت ہوتی ہے کہ زندگی قدم قدم پر انھیں حیرتوں کو پیش کرتی ہے۔ ناول میں اگر یہ سب کچھ تخلیقی انداز میں جذب و پیوست ہے تو وہ صرف خارجی سیاست اور سماجیت کے ذریعہ نہیں بلکہ انسانی فطرت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو یقینا کامیاب ہوتا ہے۔ ناول نگار نے اسے پورے طور پر برتنے کی کوشش کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کہیں کہیں مصنوعی انداز کی ہے کہ بات دور دراز کی ہے اور اقتدار کی بھی اس کو اسی انداز سے لینا چاہئے۔ کوئی نکتہ چیں یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اس کے بعض کردار فرضی ہیں اور واقعات بی کہیں کہیں تصور و تخیل، تصنّع سے زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔ بعض اعتراضات صحیح ہو سکتے ہیں لیکن یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ناول نگار پیشہ ور مورّخ نہیں ہوتا اور وہ سچّے و پکّے تاریخی واقعات کو ترتیب دینے کا کام نہیں کر رہا ہے بلکہ ناول لکھ رہا ہے۔ وہ اپنی تخلیقی و وجدانی قوتوں کے ذریعہ حقائق کو بھی اس طرح پیش کرتا ہے کہ وہ فکشن لگنے لگے۔ کچھ اس انداز سے کہ فکشن فیکٹس (Facts)کے قریب رہے۔ وہ ان واقعات کے زیادہ قریب جاتا ہے جن میں انسانی خیالات، تجربات نیز تضادات ابھرتے ہوں۔ وہ انھیں سے مواد فراہم کرتا ہے اور ترتیب و تخلیق کرتا ہے۔ ناول کے فطری تقاضوں میں تحےّر و تجسّس اہم عناصر ہوتے ہیں۔ ناول کے ڈھانچے کو تیار کرتے وقت ناول نگار کو اس کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے کہ وہ تاریخ کے ذریعہ محض اطلاعات اور مواد نہیں جمع کر رہا ہے بلکہ احساسات اور جذبات کی کہانی بھی لکھ رہا ہے۔ یہی فرق ہے تاریخ اورتخلیق میں جس کا پورا خیال ناول نگار کو رکھنا پڑتا ہے۔ نیز یہ بھی کہ ناول صرف گذرے ہوئے تاریخی کرداروں سے آگے نہیں بڑھتا بلکہ بعض خیالی کرداروں کے ذریعہ مستقبل کا حوالہ بھی بنتا ہے۔ اسی ناول میں اگر حیدر خاں اگر ماضی کا اشاریہ ہے تو سلیم مستقبل کا اعلامیہ۔ ناول کتنا ہی تاریخی کیوں نہ ہو انسانی سرگذشت کا المیہ و طربیہ ہوتا ہے۔ تاریخ تو حقائق و واقعات کا حساب کتاب رکھتی ہے لیکن قصہ، کہانی، ناول انھیں واقعات و حادثات کے تخےّل کی اُڑان بھرتا ہے اور پرانی حقیقتوں سے ایک نئی حقیقت کو جنم دیتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ قصّہ میں صرف تاریخ کی گونج سُنائی دیتی ہے، تاریخ نہیں۔ کچھ اس طرح سے کہ ماضی حال بن کر سامنے آئے اور مستقبل کو روشن کرنے میں معاون ہو، تبھی تو عاشق سلیم میدانِ جنگ میں اُتر آتا ہے اور آخر میں بزرگ حیدر خاں سے کہتا ہے:
”یہ فرنگی خواہ چٹان بن کر سامنے آجائیں، خواہ وقت دیواریں کھڑی کر دے۔ ہندوستانیوں کی آزادی کی چاہ میں بہنے والا یہ دھارا ہرگز نہیں رُکے گا۔ ایک نہ ایک دن انگریزوں کو یہاں سے جانا ہی پڑے گا۔“
اور سلیم کے چہرے کا اعتماد اور تبسّم کو دیکھ کر مایوس اور بزرگ حیدر خاں کو کہنا ہی پڑا:
”میں نے اپنے پیچھے آنے والی نسل کو تو دیکھا ہی نہیں تھا اور ہمت ہار بیٹھا۔ سچ کہتے ہو تم جب تک اس ملک میں تمھارے جیسے نوجوان پیدا ہوتے رہیں گے ایک فرنگی تو کیا ہر سامراجی طاقت کو یہاں سے جانا پڑے گا۔ سلیم تم نے مجھے دوبارہ زندگی سے جوڑ دیا۔ اب ہم بے سمتی کا سفر نہیں کریں گے۔“
عزم، امید، نشاط پر ناول کا خاتمہ ہوتا ہے، لیکن ایک نئے باب کی شروعات ہوتی ہے۔ تاریخ مستقبل سے وابستہ ہو گئی۔ ایک پودا لگا جس نے پھل دیے( نوّے ) برس بعد۔ ایک اچھا ناول جہاں پر ختم ہوتا ہے وہیں خیالات کی ایک نئی دنیا کی شروعات ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے یہ ناول بامقصد اور بامعنی ہو گیا اور اگر کسی تکنیکی وجہ سے عمدہ تاریخی ناول نہ بھی ہوا ہو، لیکن ایک اچھا ناول ضرور بن گیا کہ اس ناول میں ”زندگی،زندگی سے نبرد آزما تھی۔“ اور بہت سارے سوالات تھے۔
ناول اگر زندگی کا آئینہ ہے تو اس کا رزمیہ بھی اور کہیں کہیں اس کا المیہ بھی اور المیہ کے کوکھ سے فلسفہئ حیات جنم لیتا ہے۔ اقتدار، طاقت، جنگ و جدل ہی اکثر انسانی حیات کا مقصدِ حیات ہوا کرتا ہے اور اسی سے نظریہئ حیات جنم لیتا ہے اور پھر نظریہ فلسفہ بن جاتا ہے۔
نورالحسنین کا یہ ناول ان حوالوں سے خاصا کامیاب ناول ہے جو تاریخ کا ہی نہیں زندگی کے پیچ و خم اور کیف و کم کا مفکّرانہ و فنکارانہ آئینہ دار ہے۔ اس عہد میں جب عام سماجی معاشرتی ناولوں کا ہی فقدان ہے، نورالحسنین نے تاریخی بلکہ اور آگے بڑھ کر فلسفیانہ نوعیت کا ناول لکھ کر ایک بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ جس کے لئے انھیں جتنی بھی مبارکباد دی جائے کم ہے۔
fulltext