کارواں میری نظر میں
از : ڈاکٹر ریحانہ سلطا نہ
کارواں : (افسانوی مجمو عہ)
صفحات : 128
قیمت : 200/ روپے
ناشر : ایم۔ آر پبلی کیشنز
موڈرن پبلشنگ ہا ؤس۔9،گولا مارکیٹ،دریا گنج، دہلی110002
” کارواں “ مہتاب عالم پرویز ؔکی 13/ کہا نیوں کا مجمو عہ ہے۔ ان کا انتخاب اور ان افسا نوں کو رضوان واسطیؔ صاحب نے مرتب کیا ہے۔ کمپو زنگ کا کام شا ہین خان صا حبہ نے بڑی خو بی سے انجام دیا ہے۔
مہتاب عالم پرویزؔ صا حب کی یہ کتاب ادبی دنیا میں خا ص کر افسا نوی ادب میں اپنا الگ مقام رکھتی ہے۔ کیونکہ افسا نہ نگاری کے لیے جو سب سے اہم فن ہے وہ ہے زبان پر گرفت اور ایک خاص اسلوب اور ان دو نوں دو لتوں سے مہتاب عالم پرویز ؔ صاحب کے افسا نے مالا مال ہیں۔ ان کا اپنا اسلوب ان کے افسا نوں میں سے ان کے افسا نے ”باز گشت“ میں بخو بی نظر آ تا ہے۔ اس افسا نے میں افسا نہ نگار نے انسا نی نفسیات کا ایسا نقشہ کھینچا ہے کہ افسا نے کے انجام تک پہنچتے، پہنچتے دل اور دماغ لرز جاتا ہے جس طرح منٹو نے”ٹھنڈا گوشت“، ”کالی شلوار“ اور”کھول دو“ جیسے افسا نوں میں سماج کی درندگی کو ننگا کر کے دکھانے کی جرأت کی تھی۔ اسی طر ح مہتاب عالم پرویزؔ صاحب نے بھی”باز گشت“ لکھ کر کا فی حد تک سماج کی عکا سی کرنے کی ایک کامیاب کو شش کی ہے۔
اس کے بعد اس مجمو عہ کا ایک اور افسا نہ”بیک ڈور“ ہے جو مجھے بہت پسند آیا۔ اس کی خا ص وجہ یہ ہے کہ آج کےMale Dominating سو سائٹی میں ہر جگہ چاہے وہ اسکول کالج یا دفتر ہو، لڑکیوں کو خواتین کو دبانے کی یا ذہنی اور جنسی استحصال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر آج کے سماج کو کس طرح سے جواب دینا ہے یہ افسا نہ بخو بی بیان کرتا ہے اور کس طرح مو سم کا مزاج پہچانتے ہی سانپ کی طرح پھن کاڑھ لیتا ہے اس کا سبق افسانہ نگار نے بخوبی دیا اور اگر سماج میں اپنا مقام بنانا ہے تو اپنی مدد اور حفاظت آپ ہی کو کر نی ہو گی۔
اس کے علا وہ ایک اور افسا نہ جو کہ اس مجمو عے کے عنوان سے بھی منسلک ہے”کارواں“ وہ بھی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس افسا نہ میں افسا نہ نگار نے علا متی اور بیا نیہ انداز اختیار کیا ہے اور وہ میدا نی، پہا ڑی یا سا حلی علا قوں میں رہنے وا لوں کو صحرا کی پا گل ہوا ؤں سے ہو شیار کرتے ہیں۔ دیکھئے کس طرح سے انہوں نے صحرا کا نقشہ کھینچا ہے:
”ہر طرف اونٹوں کے بلبلا نے کی آوا زیں تھیں، آہیں تھیں اور سسکیاں ہی سسکیاں تھیں۔ آگ کی لپٹوں میں گھری ہوئی صحرا کی پاگل ہوائیں اور بھی پا گل ہو اٹھی تھیں۔ ماحول کے درجہ حرارت میں مزید اضا فہ ہو تا جا رہا تھا۔ زہریلی گیس سے ہواؤں میں جلن کی آمیزش تھی۔ آنکھوں سے آ نسوؤں کا سیلاب رواں تھا جس میں نہ جانے کتنے ہی ارمان بہہ رہے تھے۔“
اس طرح ان کا یہ افسا نہ ان کی زندگی کے سفر نامے کی بھی کہا نی بیان کررہا ہے اور اختتام پر قاری کو ایک معصوم کی معصومیت پر رلانے کی بھی طا قت رکھتا ہے۔
اس طرح ان کے سا رے افسا نے اپنی مکمل پہچان رکھتے ہیں اور کہیں نہ کہیں پر ذہن کے گو شہ میں اپنی جگہ بھی بنا لیتے ہیں جو ایک کامیاب افسا نہ نگار ہی کرسکتا ہے جس کے پاس اس کا خود کا قلم موجود ہو۔
٭٭٭
از: ڈاکٹر ریحانہ سلطا نہ
fulltext