Skip to main content

Aalamiparwaz

غزل 

لُوٹا ہے میر ے دل کا چمن ایک بہار نے…..

مہتاب عالم پرویزؔ (کویت) 

MAHTAB ALAM PERVEZ-KUWAIT

 

ہر بد دعا کا درد دعاؤں کو دے دیا

 میرا پتہ یہ کس نے بلاؤں کو دے دیا

 

 لُوٹا ہے میر ے دل کا چمن ایک بہار نے

 الزام تُونے کیسے خزاؤں کو دے دیا

 

 جلتا رہا چراغ ہواؤں کے زور پر

 کیسا نظام رب نے ہواؤں کو دے دیا

 

 گُذرا ہے راہ گیرکوئی اس مقام سے

 پیغام میرا اُس نے ہواؤں کو دے دیا

 

 خنجر تلاش کرتا تھا قاتل تمام شب

 آ نکھوں سے حُکم میں نے اداؤں کو دے دیا

 

 مجھ سے خطا ہوئی تھی یہ اُن کا خیال ہے

 ایک داغ جس نے میری وفاؤں کو دے دیا

 

 سب کچھ گنواکے ہوش میں آنے سے یہ ہوا

 ساری دعائیں اُن کی وفاؤں کو دے دیا

 

 رُوٹھا رہا وہ شخص سدا میری ذات سے

اپنی انا کی بھینٹ سزاؤں کو دے دیا

 

 مہتابؔ بن کےآ ؤں گا میں کہہ کے آ گیا

 ایک انتظار اُن کی جفاؤں کو دے دیا

 

مہتاب عالم پرویزؔ (کویت)

 

fulltext

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے