حج اور حجاج کرام سے مشابہت پیداکرلیں : افروز سلیمیؔ
حج اور حجاج کرام سے مشابہت پیداکرلیں
افروز سلیمیؔ
سب ایڈیٹر ’’ عالمی پرواز.کوم ‘‘ afrozsalimi@gmail.com 8002853919
ام المومنین حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ذی الحجہ کا پہلاعشرہ شروع ہو جائے اورآپ قربانی کا ارادہ رکھتے ہو ں تو آپ کو چاہئے کہ قربانی کر نے تک اپنے بال یا ناخن بالکل نہ ترشوائیں [ رواہ مسلم ]ذی الحجہ کا پہلاعشرہ یقیناًحج کا مبارک عشرہ ہے ،اور ان ایا م کا خاص الخاص عمل حج ہے، لیکن حج تووہی کر سکتاہے جو اہل استطاعت ہو ں اور اس کی خاص برکت وہی شخص حاصل کر سکتے ہیں جو وہاں حاضر ہوکر فریضہ حج کو انجام دے سکتے ہوں ،لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت وبرکت سے سارے اہلِ ایمان کو اس کا موقع دیا ہے کہ جب حج کا مبارک ایام آئے تووہ اپنے قیام گاہ پر بھی رہتے ہوئے حج وحجاج کر ام سے ایک نسبت پیداکر لیں اور ان کے اعمال وافعال میں شریک ہو جائیں ، عید الاضحی کی قربانی کا ایک خاص راز یہی ہے۔ حجاج کرام دسویں ذی الحجہ کو ’’منیٰ ‘‘میں بارگاہ ایزدی میں اپنی قربانیاں پیش کر تے ہیں ، دنیا بھر کے دوسرے مسلمان جو حج میں شریک نہیں ہو سکتے ، ان کو حکم ہے کہ وہ اپنی اپنی جگہ ٹھیک اسی دن بارگاہ خداوندی میں اپنی قربانیاں نذر کریں ، اور جس طرح حجاج کرام احرام باندھنے کے بعد بال یاناخن نہیں ترشواتے، اسی طرح دیگر اہل ایمان جو قربانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں ،ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد بال ، ناخن نہ ترشوائیں اور اس طریقہ کار سے بھی حجاج کرام سے ایک مناسبت ومشابہت پیداکر یں۔ [معارف الحدیث ص۴۱۸ج۳]کس قدر مبارک اور نیکیاں والا عمل ہے کہ جس پر عمل پیراہو کر مشرق ومغرب ،جنوب وشمال کے اہل ایمان حج کے انوار وبرکات سے فیضیاب ہو تے ہیں ۔
*****
٭شب ِ برات قرآن وحدیث کی روشنی میں ٭ محمدافروز سلیمیؔ
٭شب ِ برات قرآن وحدیث کی روشنی میں ٭
محمدافروز سلیمیؔ
8002853919
شبِ برا ت کی حقیقت اور اس کی فضیلت یقینا اپنی جگہ مسلم ہے، اس کے فضائل ومراتب سے انکاربھی نہیں کیاجاسکتا ہے، جیساکہ قرآن کریم کی سورہ دخان کی ابتدائی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”انا النزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ“ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کرام نے خوب وضاحت فرمائی،بعض مفسرین کرام نے اس سے شب ِ قدر مراد لیا ہے اور بعض نے شبِ برات مراد لیا ہے،اور زیادہ مشہور یہی دوسراقول ہے، چونکہ بدیہی طور پرقرآن کریم کانزول تیئس سال میں ہوااور نزول شبِ قدر میں ہویا شبِ برا ت میں، ہرحال میں اس سے وہ نزول مراد ہے جوبیک وقت عرش سے آسمان ِدنیاکی طرف شب برات میں یہ نزول تجویز کیاگیاہواور شبِ قدر میں اس کاوقوع ہواہو، اورمبارکہ سے اس کے فضائل مراد ہے ] خطباتِ حکیم الامت ج7،ص395[ لیکن صاحب تفسیر ابن کثیروصاحب تفسیر مظہری کے ساتھ ساتھ دورحاضرکے ایک باکمال مفسرومحقق اور عالم اسلام کی ایک عظیم شخصیت، ہزاروں کتاب کے مصنف مولانامفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے فی لیلۃ مبارکۃ سے شبِ قدر ہی مرادلئے ہیں ] آسان ترجمہ قرآن ص 1037[ اس رات میں عبادت کرنا، ذکر واذکار میں مشغول رہنا، نوافل کا اہتمام کرنا اور قبرستان جاکر دعائے مغفرت کر نا یہ ساری باتیں اپنی جگہ مسلم ہے، اور دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی روایت کردہ وہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات اپنے پاس نہ پایاتو میں آپ کی تلاش میں گھر سے نکلی تو دیکھتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں تشریف فرماہیں، آپ نے فرمایاکیاتمہیں یہ خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تمہارے ساتھ زیادتی کریں گے، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے یہ خیال ہوا کہ شاید آپ کسی دوسری اہلیہ کے پاس تشریف لئے گئے ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناََ اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمان دنیاپر(اپنی شان کے مطایق)جلوہ گر ہوتاہے، اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتاہے(ترمذی ج۱، ص156، ابن ماجہ، مسند احمد، مصنف ابن شیبہ) یہ حدیث چہ جائے کہ ضعیف ہے لیکن عند المحدثین ایسی ضعیف حدیث جس کی سند یں کئی ہوتو وہ درجہ صحت کوپہونچ جاتی ہے، اس کے علاوہ احادیث ضعیفہ سے احکام وفضائل میں استدلال کے لئے فقہاء وعلماء ومحدثین کرام کی تین رائے ہیں (1) احادیث ضعیفہ سے احکام وفضائل دونوں میں استدلال کیا جاسکتا ہے(2) احادیث ضعیفہ سے احکام وفضائل دونوں میں استدلال نہیں کیاجاسکتاہے(3) احادیث ضعیفہ سے عقائد یا احکام تو ثابت نہیں ہوتے، البتہ قرآن یااحادیث صحیحہ سے ثابت شدہ اعمال کی فضیلت کے لئے احادیث ضعیفہ قبول کی جاتی ہے، جمہور محدثین ومفسرین وفقہاء وعلماء کی یہی رائے ہے، اور مشہورمحدث مسلم شریف کی سب سے زیادہ مقبول شرح لکھنے والے امام نوویؒ (مولف ریاض الصالحین)نے علماء امت کا اس پر اجماع ہونے کاذکر کیاہے۔ اورزمانہ قدیم سے جمہور محدثین کااصول یہی ہے کہ ضعیف حدیث فضائل میں معتبر ہے انہوں نے ضعیف حدیث کوصحیح حدیث کی اقسام کے ضمن میں ہی شمار کیاہے، امام نوویؒ فرماتے ہیں: کہ محدثین، فقہاء اور جمہور علماء نے فریاماہے کہ ضعیف حدیث پر عمل کرنافضائل وترغیب وترہیب میں جائز اورمستحب ہے،(الاذکار، ص8۔7) اور اسی اصول کو دیگرعلماء ومحدثین کرام نے تحریرفرمایا ہے، جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں: شیخ ملاعلی قاریؒ(موضوعات کبیرہ، ص5، شرح العقاریہ، ج۱، ص9)شیخ امام حاکم ابوعبد اللہ نیشاپوریؒ (مستدرک حاکم، ج۱،ص490)شیخ علامہ الشوکانیؒ (نیل الاوطار1044-3) شیخ حافظ ابن رجب حنبلیؒ (شرح علل الترمذی74-42-1)شیخ علامہ ابن تیمیہ حنبلیؒ (فتاویٰ ج۱، ص39) شیخ نواب صدیق حسن خانؒ(دلیل الطالب علی المطالب ص889)
بہر حال موجودہ دور میں شب برات کے متعلق امت مسلمہ کا ایک بڑاطبقہ افراط وتفریط کا شکاربن کر رہ گیاہے بعض حضرات شبِ برات کی نفلی عبادت میں غلو کرجاتے ہیں، مثلاَنوافل، ذکر اذکار، روزہ ومغفرت، اور قبرستان پر جانالازمی شمارکرتے ہیں، اور بڑے اہتمام سے اس کے انتظام میں منہمک رہتے ہیں، اپنے گھروں، مسجدوں اور قبرستانوں کو چراغاں کرتے ہیں، اور حلوے کھانے وپکانے کا خوب زوروشور کے ساتھ اہتمام بھی کرتے ہیں، چہ جائے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت کردہ مذکورہ حدیث میں گھروں ومسجدو ں اورقبرستانوں کوچراغاں کرنے اور حلوے کھانے و پکانے کاذکر نہیں ہے، لیکن پھر بھی ضروری اورلازمی سمجھ کرانجام دیتے ہیں،اسی کے برعکس ایک دوسراطبقہ شب ِ برات کی حقیقت اور اس کے فضائل کوماننے سے انکارکر تے ہیں، اور مذکورہ تمام چیزوں کے اہتمام کو بدعت شمار کر تے ہیں، حالانکہ بخاری ومسلم شریف میں ایک دوسری حدیث حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: ومارایتہ فی شھراکثرمنہ صیاماََ فی شعبان، یعنی میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ نفلی روزے رکھتے ہوں ] بخاری ومسلم [ماہ شعبان میں آقاصلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ نفلی روزے کااہتمام کرتے تھے اس میں کئی وجوہات اور حکمتیں بیان کی گئی ہیں،بعض حدیثوں سے بھی اشارہ ملتاہے چنانچہ حضرت اسامہ بن زید ؓ سے مروی ایک حدیث ہے کہ اس بارے میں پیارے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاگیاتوآپ نے فرمایاکہ: اسی ماہ کے اندر بارگاہ الہٰی میں بندوں کے اعمال کی پیشی ہوتی ہے، اورمیں اس بات کی خواہش رکھتاہوں کہ جب میرے اعمال کی پیشی ہوتومیں روزے کی حالت میں ہوں، علاوہ ازیں رمضان کا قرب اس کے انواربرکات سے مزید مناسبت پیداکرنے کاشوق اورداعیہ بھی غالباََ اس کا سبب اورمحرک ہوگا، اور شعبان کی نفلی روزوں کورمضان کے فرض روزوں سے وہی مناسبت ہوگی جوفرض نمازوں سے قبل پڑھی جانے والی نوافل کو فرضوں سے ہوتی ہے، اسی طرح ماہ شوال کے چھ نفلی روزوں کی تعلیم وترغیب میں وہی مناسبت ہوگی جوفرض نمازوں کے بعد والی سنتوں ونفلوں کو فرض نمازسے ہوتی ہے (معارف الحدیث، ج4،ص379)
اگر کوئی صاحب ِ ایمان حدیث مذکورکی وضاحت کو اپنے ذہن ودماغ میں رکھتے ہوئے ماہ رجب وشعبان کی فضیلت کو اپناتے ہوئے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ” اللّھم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلغنارمضان“ ] مسنداحمد، طبرانی، بیہقی[کوسنتِ رسول جانتے ہوئے شبِ برات میں نوافل و اذکار ومستحبات اور اس کے صبح کبھی نفل روزے کااہتمام کرے اور کبھی نہ کرے توان کے بدعتی ہونے کافتویٰ صادر کرناکونسی عقلمندی ہے؟ہم نے ماناکہ فضائل ِشب ِ برات کے متعلق احادیث ضعیف ہیں،لیکن زیادہ ممکن ہے کہ وہ حدیث حسن ہو، صحیح ہوجس کی وجہ کر نبی صلی اللہ علیہ کے فرمان کا انکارلازم آئے، اور یہ توفضائل کی بات ہے ساتھ ہی اصول بھی ہے کہ ضعیف حدیث فضائل میں معتبر ہے، اس کے علاوہ جید علماء، فقہاء اورمحدثین ِکرام کی ایک بڑی جماعت کی رائے ہے کہ پندرہویں شعبان سے متعلق احادیث کے قابل قبول اور امت مسلمہ کا عمل ابتداء سے اس پر عمل ہونے کی وجہ سے پندرہویں شعبان کی رات میں انفرادی طورپر نفل نمازوں کی ادائیگی، قرآن کریم کی تلاوت، ذکر اور دعاؤں کاکسی حدتک اہتمام کرناچاہئے،لہذااس نوعیت سے پندرہویں شعبان کی رات میں عبادت کرنابدعت نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔
محمدافروز سلیمیؔ
8002853919
جماعتی زندگی کاترک اسلامی زندگی کا ترک ہے: افروز سلیمیؔ
جماعتی زندگی کاترک اسلامی زندگی کا ترک ہے: افروز سلیمیؔ
شہر آہن”جمشیدپور“میں امارت شرعیہ کاتنظیمی وممبرسازی کاعمل زورں پر
جمشیدپور22/ مئی مذہب ِ اسلام کادائرہ محض عبادات ومعاملات تک ہی محدود نہیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں اور گوشوں پر محیط ہے، اسلام انسانوں کی روحانی واخلاقی تربیت کے ساتھ مذہبی ومعاشرتی زندگی سے بھی بحث کرتاہے، اسی لئے مسلمانوں کو اس بات کی ہرگز اجازت نہیں ہے کہ وہ انفرادی زندگی میں تو خداکے احکام کی پوری اطاعت کرے،مگر اجتماعی زندگی میں من مانی اور خود رائی اختیار کرے ان خیالات کا اظہار آج نماز جمعہ سے قبل مولانا افروز سلیمیؔ معاون دار القضاء امارت شرعیہ نے شہرجمشیدپور کی ایک بڑی آبادی ذاکر نگر کی”مسجد ِ عثمان غنی“میں فرمایااور انہوں نے مزید فرمایاکہ جس اسلام نے عبادات جیسے انفرادی اعمال کوبھی ایک خاص نظم و ضبط کے ساتھ اداکرنے کاحکم دیاہو،وہ اجتماعی زندگی میں انتشار کوکیسے برداشت کرسکتاہے، انہوں نے پرزور خطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ تنظیم واتحاد اورجماعتی نظام کی طاقت وقوت کااصل سرچشمہ اسلام کی بتائی ہوئی جماعتی زندگی میں پوشیدہ ہے، آج ملک کے اندر احکام شرعی واحکام الہٰی کااجراونفاذتودرکنار مسلمانوں کے دین وایمان، عزت وآبرواور مذہبی آثار کی حفاظت کا اہم مسئلہ درپیش ہے، ان مسائل سے نمٹنے کے لئے جس صلاحیت کی ضرورت ہے اس کاحصول شرعی بنیادوں پر مسلمانوں کی تنظیم کے بغیرناممکن ہے، اسلئے جماعتی وتنظیمی نظام کے تحت زندگی بسرکرنانہایت ضروری اور وقت کااہم ترین حصہ ہے، مولاناموصوف نے ایک حدیث کاحوالہ دیتے ہوئے فرمایاکہ جوانسان جماعت(تنظیم، امارت) سے ایک بالشت بھی ہٹ کر زندگی گذارے گا تو اس کو موت جاہلیت کی موت ہوگی، اسلئے ہرمسلمان کو امارت شرعیہ کی تنظیم سے جوڑنا اور ممبرسازی میں حصہ لینانہایت ضروری ہے، واضح ہوکہ نماز جمعہ میں کثیر فرزندان توحید کے ساتھ خصوصی طور پر محترم قاری معین الدین صاحب مہتمم مدرسہ تعلیم القرآن، امام مسجدمولانا منور حسین، امارت شرعیہ کے مبلغ مولاناحافظ شہاب الدین صاحب اور اساتذہ مدرسہ تعلیم القرآن بھی پیش پیش ر ہے، اور یہ خبر مقامی دفتر کے شعبہ نشر اشاعت سے قاضی شریعت مولانا قاضی سعود عالم قاسمی صاحب کی نگرانی میں مولانااظہرصاحب قاسمی معلم امارت شرعیہ نے دی۔
محمد اظہرقاسمی
شعبہ نشر واشاعت امارت شرعیہ، جمشیدپور
اصلاحِ معاشرہ میں دینی تعلیم کا کردار : افروز سلیمی ؔ
اصلاحِ معاشرہ میں دینی تعلیم کا کردار
افروز سلیمی ؔ
سب ایڈیٹر ’’عالمی پرواز ‘‘
afrozsalimi155@yahoo.in
آج امت مسلمہ تعلیمی میدان میں کہاں کھڑی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ سال گذشتہ حج کے موقع پر عازمین حج کا ایک قافلہ جن کو گیا ایر پورٹ سے روانہ ہوناتھااور وہ دوسو بیس آدمیوں پر مشتمل تھا ان میں سے تقریبا دوسو عازمین ایسے تھے جنہوں نے قلم پکڑ نے کے بجائے اپنے انگوٹھے کا سہارالیااور حج کے فارم پر نشان لگایاِ ، صرف اور صرف بیس عازمین ایسے تھے جنہوں نے فار م پر دستخط کیا ، ضرورت ہے کہ ان حالات میں ہمیں فکر کے ساتھ ساتھ تحریک تعلیم او راس کے لئے جہد مسلسل کی بھی کوششیں کرنی ہوں گی،اگر ہم مسلم معا شرے کو سنوارنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کی ترقی کے خواہاں ہیں تو اس کی ایک ہی صورت ہے ،اور وہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو تعلیم سے آراستہ کیا جائے ،اور معاشرے میں اس کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے ، دینی تعلیم کی روشنی جب معاشرے میں پھیلے گی تو فساد اور بگاڑ کی ظلمت اور تاریکی دور ہوگی،اور معاشرہ پاکیزہ اورصاف و شفاف ہو گا ،اسی لئے آقائے مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مسلمان مرد وعورت پر دینی تعلیم کے حصول کو لازم قرار دیاہے ،اور اس کے بے شمار فضائل بیان فرمائے ہیں،حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ہر مسلمان (مرد وعورت ) پر علم دین کا حاصل کر نافرض ہے۔[رواہ ابن ماجہ والبیہقی فی شعب الا یمان ،مشکوٰۃ ص:۳۴]
حدیث مذکور کی محدثین کرام نے تشریح کر تے ہو ئے فرمایاکہ ہر مسلمان مرد وعورت پر اتنی ہی دینی تعلیم حاصل کر نا لازم وضروری ہے کہ جس سے عقائد کی اصلاح ہو سکے ،اور عبادات کو بہتر طور پر اداکر سکے ، معاملات ،معاشرت اور اخلاق و کردار کو سنوارسکے۔
علم کا حاصل کر نا ہر مسلمان پر خواہ مرد ہو یاعورت فرض ہے اور فرض کو ترک کرنا گناہ کبیرہ ہے، یاد رہے کہ جوکام انسان پر فرض ہے اس کا طریقہ بھی جاننا فرض ہے ،اور جو کام مستحب ہے اس کا طریقہ بھی جاننامستحب ہے ،پس جب نماز فرض ہے تو اس کے مسئلے جاننا بھی فرض ہے اسی طرح دیگر فرائض کا حال ہے ،یہ ساری باتیں اس علم کے متعلق ہیں جو ہر انسان پر فرض ہے ،اور بعض علوم ایسے ہیں کہ اگر بعض انسان اس کو حاصل کرلیں تو اوروں کے ذمہ ان علوم کا سیکھنا ضروری نہیں رہتا، مثلا ہر خطہ اور ہر آبادی میں ایک ایسا عالم ہونا ضروری ہے جو قرآن وحدیث ودیگردینی مسائل سے آراستہ ہو اور بسااوقات دشمنان اسلام کی آنکھوں سے آنکھیں ملاکر بات بھی کر سکے اور اس کاجواب بھی دے سکے، ایسے علوم ہر شخص پر فرض نہیں ہو تے ہا ں اگر کسی کو شوق ،تڑپ ،لگن ہو تو ان علوم کو حاصل کرلے یہ مستحب ہے،اور اجرعظیم بھی ہے۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اس کو دین کی فہم عطا فرماتے ہیں ۔[متفق علیہ ،مشکوٰۃص:۳۲]
اس ارشاد نبوی سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ دینی تعلیم کی طرف خاطر خواہ توجہ وہی حضرات کر تے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر کا اراد ہ فرماتے ہیں ،بہت ہی خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو دینی تعلیم حاصل کر تے ہیں ،اور لوگوں کو اچھائی کی تعلیم دیتے ہیں ۔
یاد رکھئے !دینی تعلیم سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ،اپنے معاشرے اورسوسائٹی میں اس کو رواج دینا اور اس کو عام کر نا بہت بڑی دولت ہے، اگر ہم نے اس دولت کی قدر کی تو یقینااللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہونگے اور ہم ہر طرح کی تر قیوں سے نوازے جائینگے اور اگر ہم نے اس دولت کی قدر نہیں کی تو تمام ترقیوں اور اعزازوں سے محروم ہوجائیں گے ،اس لئے ہمارایہ مشترکہ فریضہ ہے کہ دینی تعلیم کواپنے گھروں میں اوراپنے معاشرے میں خوب عام کریں ،اور یہ تعلیم مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کے لئے بھی نہایت ضروری ہے،اسلئے کہ عورتیں تعلیم یا فتہ ہوں گی تو ہی اپنی اولاد کی صحیح تر بیت کر سکیں گی ،ان کی آغوش میں پلنے والی اولاد اسلامی تہذیب وتمدن، اخلاق وعادات سے آراستہ ہوں گی ،اور معاشرے کی اصلاح میں کلیدی کردار اداکریں گی ،اور اگر عورتیں دینی تعلیم سے نا بلد رہیں گی تو ان کی گو د میں پھلنے اورپھولنے والے بچے ہر قسم کے خرافات کا شکار ہوں گے۔
حا صل یہ کہ اگر آپ اپنے معاشرے کو اچھابنانا چاہتے ہیں تو اپنی اولاد کو دینی تعلیم سے مزین کیجئے ،ان کو اسلامی تعلیمات ،اسلامی تہذیب ،اسلامی اخلاق اوراسلامی وضع قطع سے آراستہ کیجئے،اور غیر وں کی تہذیب وتمدن وغیروں کی بری صحبت سے باز رکھیے، اسی طر ح قوم کے سربراہوں اور ذمہ داروں پر لازم وضروری ہے کہ ہر خطے اور ہر آبادی میں ایسے مکاتب یاادارے قائم کریں ،جس میں دین کی ضروری تعلیم کا مکمل انتظام ہو ،اور تمام مسلمان بچے اور بچیوں کو دینی تعلیم حاصل کر نے پر مجبو ر کریں ،جب تک مسلمان والدین اور مسلم قوم کے سربراہ اس کی طرف پوری توجہ نہیں کریں گے اصلاح معاشرہ کا خو اب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا۔
()()()()()()()()
افروز سلیمیؔ
سب ایڈیٹر ’’عالمی پرواز ‘‘
عالم انسانیت کے لیے رحمت،حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم : ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ
آپؑ کے یوم پیدائش پر خصوصی مضمون
عالم انسانیت کے لیے رحمت،حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ
آج ہمارے ملک میں سب سے بڑا خطرہ فرقہ پرستی ہے۔ لوگ مذہب پرستی کی آڑ میں، مذہب کی بنیادی باتوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور ذاتی غرض، نفس پرستی اور ظا ہری شان و شوکت کو مذہب کی آڑ میں پائے تکمیل تک پہنچا رہے ہیں۔
مردم شماری کے اعداد و شمار پر نظر ڈا لتے ہیں تو آج دنیا کے دو بڑے مذا ہب میں سے ایک اسلام ہے۔ یہ وہ مذہب ہے جس نے پہلی بار عورتوں کے حقوق کی بات کی۔ یہ وہ مذہب ہے جس نے عوام کو تہذیب سکھائی۔یہی وہ مذہب ہے جس نے ہم کو مساوات کا درس دیا کہ بادشاہ،غلام ایک ساتھ ایک دستر خوان پر کھانا کھائیں۔یہی دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس نے بیوا ؤں سے شادی کر نے کی رسم کی داغ بیل ڈا لی۔
آج بہت سے لوگ(غیر مسلم) کہتے ہیں کہ اسلام میں صرف مسلمانوں کی اصلاح کی بات کہی گئی ہے اور یہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو دنیا میں صرف مسلمانوں کے لیے پیدا کیے گئے جب کہ قرآن شاہد ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے دنیا میں صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بھیجا بلکہ پو ری عالم انسانیت کے لیے رحمت بنا کر بھیجا….قرآن میں اللہ تعالی ا فرماتا ہے وما ارسلناک الا رحمۃ اللعٰلمین۔جس کا مفہوم ہے کہ آپ کو ساری دنیا کے لیے رحمت بناکر بھیجا گیا۔ صاف ظاہر ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت صرف مسلمانوں کے لیے نہیں ہو ئی اور نہ ہی آپ نے تبلیغ اسلام میں کسی تفریق یا امتیاز کو روا رکھا بلکہ دوست ہوں یا دشمن، اپنے ہوں یا غیر، ہم مذہب ہوں یا غیر مذہب، گورے ہوں یا کالے،سب کے لیے آپ کا پیغام یکساں ہے۔
آپؐ اخلاق و کردار کے اعلیٰ نمونہ تھے۔ خدا نے آپ کو لوگوں کے لیے نمونہ بنا کر بھیجا تھا۔ آپ کی سب سے بڑی خوبی قول و فعل کا ایک ہونا تھی،جو کہہ دیا سو کردکھایا،جس سے وعدہ کرلیا اس کو مرتے دم تک نبھایا۔ امین ایسے کہ غیر قسمیں کھاتے تھے، ایمانداری کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ بچپن ہی سے آپ فضول اور لغو باتوں و کاموں سے دور رہتے تھے۔ آپ کی ایمانداری اور شرافت کا شہرہ تھا۔
ایک بار کا ذکر ہے کہ اس وقت آپ کی عمر ۵۳ برس کے قریب تھی،کعبے کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری شروع ہی سے قریش خاندان کے لوگوں پر تھی۔ ایک بار خانہ کعبہ کو ازسر نو تعمیر کیا گیا۔ تعمیر میں تمام قبیلوں کے سرداروں نے مل جل کر کام کیا۔ لیکن ایک زبردست مسئلہ اچانک سامنے آ گیا جب تعمیر حجر اسود کے مقام تک مکمل ہو گئی تو حجر اسود کو اس کے مقام پر رکھنے کی بات آئی، ہر قبیلے کا سردار یہ چاہتا تھا کہ حجر اسود کو اٹھا کر وہ رکھے۔ معاملہ بڑھ گیا۔ممکن تھا کہ ہتھیار باہر نکل آ تے کہ چند بزرگوں نے مشورہ کیا اور یہ طے پایا کہ کل صبح جو شخص سب سے پہلے مسجد حرام کے دروازے پر آ ئے گا ہم یہ مسئلہ اس کے سپرد کر دیں گے، وہ جو فیصلہ کرے گا ہم سب اسے مانیں گے، اگلے روز خدا کی کرنی،حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب سے پہلے مسجد حرام کے دروا زے پر پہنچے۔ لوگوں نے آپ کو دیکھا تو بہت خوش ہو ئے۔ آپ نے فوراً ایک چادر منگوائی۔ حجر اسود کو اٹھا کر چادر میں رکھ دیا اور چادر کے کونے،قبیلے کے سرداروں کو پکڑنے کو کہا اور جب لوگ کعبہ تک پہنچ گئے تو آپ نے اسے چادر سے اٹھا کر اس کے مقام پر رکھ دیا۔ اس طرح آپ کی حکمت اور بصیرت سے ایک بڑا فتنہ ٹل گیا۔
آپ دشمنوں کے بھی دوست تھے۔ کبھی دشمن کے حق میں بد دعا نہ کی بلکہ آ پ کا ظرف تو اتنا اعلی تھا کہ دشمنوں کی مار کھاتے جاتے اور ان کے حق میں دعا ئیں کرتے جاتے۔ سخت سے سخت جانی دشمن تک کو،جب اسلام کا دبدبہ قائم ہوگیا،تو معاف کردیا، سینکڑوں مثا لیں ہوں گی جن میں آ پ نے دشمنوں سے دوستوں جیسا برتاؤ کیا اور انہیں گلے لگایا۔
ایک بار آپ تبلیغ اسلام کے لیے طائف تشریف لے گئے۔ طائف جسے ملک حجاز کا کشمیر کہا جاتا ہے۔ بلند و بالا پہاڑیاں اسے گھیرے ہوئے ہیں۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سوچا کہ اگر طا ئف کے لوگ مسلمان ہو گئے تو اسلام کی قوت میں اضا فہ ہو گا۔ اس مقصد سے آپ پا پیادہ ہی طائف تشریف لے گئے۔ طائف کے سرداروں کو جمع کیا اور ان کے سا منے اسلام کی پیش کش رکھی۔ لیکن ا ن سرداروں نے نہ صرف آپ کی بات نہیں سنی بلکہ عرب والوں کا طرہ امتیاز (مہمان داری) بھی بھول گئے اور آپ کے ساتھ نا روا سلوک کیا۔ ان میں سے ایک نے کہا
”او ہو آپ ہی کو اللہ نے نبی بنا کر بھیجا ہے؟“
دوسرے نے کہا
”اللہ کو تمہارے سوا کوئی نہ ملا جسے رسول بنا کر بھیجے۔“
لیکن آ پ نے برا نہ مانا اور عوام کو سمجھانے چلے گئے۔ لیکن کسی نے آپ کی بات نہ سنی۔ آپ واپس ہو لیے۔ ابھی کچھ ہی دور گئے تھے کہ طائف کے سرداروں نے بچوں اور نوجوانوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا تاکہ وہ گالی بکیں اور پتھر ماریں۔ آپ پر پتھروں کی بارش ہونے لگی۔ پورا جسم لہو لہان ہو گیا۔ آپ کے نعلین مبا رک خون سے بھر گئے، جب کچھ دور جانے کے بعد بچے لوٹ گئے تو آپ نے اطمینان کا سانس لیا اورخدا کے حضور دعا مانگی۔
”اے اللہ میں تجھی سے شکایت کرتا ہوں اپنی کمزوری اور بے بسی کی اور لوگوں میں بے عزت ہو نے کی….اے اللہ اگر تو مجھ سے نا را ض نہیں ہے تو مجھے کسی کی بھی پرواہ نہیں ہے۔ تیرا تحفظ مجھے کافی ہے۔“
اللہ نے فوراً فرشتوں کو بھیجا۔ فرشتوں نے آ کر سلام کیا اور کہا اللہ نے آپ کی اور طائف وا لوں کی باتیں سنی ہیں۔ پہاڑوں کے کام پر تعینات فرشتے نے کہا اگر آپ حکم دیں تو ان دونوں پہاڑوں کو آپس میں ملا دوں جس سے سب ختم ہوجائیں یا آپ جو سزا چاہیں وہ بتا دیں۔ اس پر رحمۃ اللعلمین نے فرشتوں سے فر مایا:
”میں اللہ سے اس کی امید کرتا ہوں کہ اگر یہ مسلمان نہیں ہو ئے تو ان کی اولاد میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کی عبادت اور پو جا کریں گے۔“
یہ آپ کے اخلاق و کردار اور دشمنوں کے ساتھ سلوک کی ایک مثال تھی کہ خود لہو لہان ہیں۔فرشتے آپ کے حکم کے منتظر ہیں۔ سب کچھ آپ کے بس میں ہے۔ پھر بھی دشمن کو نہ تو بد دعا دی اور نہ ہی فرشتوں کو ان کی تباہی کا حکم بلکہ خدا کے حضور خود کو ہی بے کس کہا۔
اس واقعہ پر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ اپنے نفس کو کچلنا اور دشمن کو گلے لگانا کتنی بڑی بات ہے۔ آج اس ترقی یافتہ دور نے جہاں ہم کو معیار کے نام پر بہت کچھ دیا ہے وہیں ہمارے اندر سے اخلاق و کردار کو کھرچ کھرچ کر نکال دیا ہے آج ہم دشمن تو دشمن، دوستوں اور اپنوں سے ایسا سلوک نہیں کرتے اور نہ ہی ان سے امید رکھتے ہیں۔اپنے بھائیوں کو تو گلے لگانے سے گئے،دشمنوں کو کیا خاک گلے لگائیں گے۔ دشمن کو معاف کرنا تو بڑی بات ہے ہم تو اپنے خونی رشتوں کو بھی نہیں بخشتے۔ نفس پرستی کی آگ نے آج ہمیں انسانیت سے گرادیا ہے۔ آج حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار کو اپنانے اور انہیں اپنی زندگی میں اتارنے کی ضرورت ہے۔اور اپنے فکر وعمل سے اسلام کی سچی تصویر پیش کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔
٭٭
Dr. Aslam Jamshedpuri
HOD, Urdu,
CCS University, Meerut
aslamjamshedpuri@gmail.com
09456259850
امام حسین ؓ کاخطاب اوراہل ِکوفہ : افروز سلیمی القاسمیؔ
امام حسین ؓ کاخطاب اوراہل ِکوفہ
افروز سلیمی القاسمیؔ
دار القضاء امارت شرعیہ آزاد نگر، جمشیدپور،
8002853919
سیدنا امام حسین ؓ کی شہادت کوئی معمو لی شہادت نہ تھی،یہ شہادت تاریخ اسلام کا ا یک الم ناک واقعہ ہے، عالم ِ اسلام میں یزیداور ابن زیاد کی اس نازیبا حرکت پر نفرت وعداوت کااظہار کیا گیا اور حجاز میں مدینہ تا مکہ مخالفت کی آگ بھڑ ک اٹھی اور کس قدر دردانگیز بات ہے کہ پیارے رسول اللہ ﷺ کے دنیاسے انتقال کے نصف صدی بعد ہی اہل ِبیت کی ایک عظیم شخصیت پرظلم وبربریت کی انتہاکردی گئی، آخر یوم ِ شہادت کاآفتاب طلوع ہوا حضرت امام حسین ؓ نے نماز فجر سے فارغ ہوکراور اپنے بہترجانثاروں واسلامی مجاہدین کو لے کر میدان کربلاطرف قدم بڑھایا ”میمنہ“ نامی جگہ پر زبیربن قین کو، ”میسرہ“ نامی جگہ پر حبیب بن مطہرکومتعین فرمایا اور حضرت عباس بن علیؓ کو اسلامی جھنڈا پیش کیا، اور خود نواسہ رسول حضرت امام حسین ؓ گھوڑے پر سوار ہوئے، اللہ کی کتاب قرآن مقدس کو سامنے رکھااور ہاتھ اٹھاکر بارگاہِ ایزدی میں دعاکی، ہرگز آپ کو یقین نہ تھاکہ کوئی عمل کار گر ہوگی تاہم آپ ؓنے اتمام حجت کے لئے اہل ِ کوفہ کومخاطب کر کے پر زور خطاب فرمایا۔ اور کہاکہ اے لوگو! اے کوفہ کے باشندو! ذرا ٹھہرو، میری بات کو بغور سنو! کہ میں چاہتاہوں کہ اپنی ذمہ داری پوری کردوں، اے کوفہ والوں! اگر تم نے میری بات کوبغورسنا اور میرے ساتھ عدل وانصاف کابرتاؤکیا تو یاد رکھوتم سے زیادہ خوش نصیب کوئی نہیں ہو سکتا۔ ہاں یاد رکھو! اگر تم نے میری باتوں کو نظر انداز کردیا اور اس کے لئے تم تیار نہ ہوئے تو تمہاری مرضی اور تمہارا اختیار، جوچاہوسوکر و، بیشک میراخالق ومیرامولیٰ اللہ ہے۔اہل ِ کوفہ سے اتنا کہناتھا کہ خیمہ کے اندر سے پردہ نشیں عورتیں آہ وبکاکر نے لگیں اور رونے چلانے کی آواز بلند ہونے لگی، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے ذریعہ عورتوں کو خاموش کیاگیا، آپ ؓ نے دوران خطاب فرمایا کہ اے لوگو! ذراغور کروکہ میں کون ہوں، اور سوچ وفکر سے کام لوکہ کیا تمہارے لئے مجھے قتل کرنا اور میری توہین کر نا جائز ہے؟ کیا میں آقائے مدنی محمد عربی ﷺ کانواسہ نہیں ہوں؟ کیامیں ان کے چچازاد بھائی حضرت علی مرتضیٰ کافرزند نہیں ہوں؟ کیاسید الشہداحضرت حمزہ ؓمیرے والدِمحترم کے چچانہیں تھے؟ کیا ہم دونوں بھائیوں (حسن ؓوحسین ؓ)کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی یہ مشہور حدیث تم نے نہیں سنی۔ کہ اے حسن وحسین! تم جنت کے سردار ہو اور اہل ِ سنت کی آنکھوں کی ٹھندک،اے کوفہ والوں! میری بات کایقین کرو اور اگر یقین نہیں تو پیارے ناناجان کے بہت سے صحابی ا بھی حیات ہیں ان سے پوچھ لو، کہ میں کون ہوں؟ کیا اس درد والی بات کوسن کر بھی میراخون بہانے سے باز نہ آؤگے؟ کیا تم کو فرمان رسول کی حقانیت میں شبہ ہے یا اس بات میں شک ہے کہ میں (حسین ؓ) حضرت فاطمہ زہراکا بیٹا نہیں ہوں۔؟ان ساری باتوں پر اگر تمہیں شک ہیں تو رب ذول الجلال کی قسم تمہیں مشرق ومغرب شمال وجنوب میں میرے علاوہ کوئی رسول اللہ کانواسہ اور حضرت علی ؓ کا لخت جگر، فاطمہ کالال نہ ملے گا، اے کوفہ والوں! تم مجھے کیوں قتل کر تے ہو۔؟ کیا میں نے تمہارے کسی آدمی کاناحق خون بہایا ہے۔؟ کیا تم میں سے کسی کامال ہم نے غصب کیا ہے۔؟ کیا کسی کو میری ذات سے تکلیف ہوئی ہے۔؟ امام حسین ؓ سرداران کوفہ کونام بنام پکار کر کہا کہ کیا تم لوگوں نے مجھے خطوط بھیج کر نہیں بلایاتھا۔؟ اہلِ کوفہ نے ان ساری باتوں کا صر ف ایک جواب دیا”نہیں! ہم نے آپ کو نہیں بلایا “ امام حسین ؓ نے ان لوگوں سے فرمایا۔ تم نے ضرور بلایا۔ہاں یاد رکھو! اگر میری آمد تمہیں ناپسند ہے تو مجھے اپنی جائے پناہ میں جانے دو، اتنے میں ایک آدمی نے کہاکہ ابن زیاد کی باتوں پر عمل کر لیجئے، یہ آپ ؓ کے لئے بہتر ہوگا، امام حسین ؓ نے برجستہ جواب دیا اور کہا کہ رب کعبہ کی قسم میں فاسقوں کی طرح اپناہاتھ دشمنوں کے ہاتھ میں نہیں دے سکتا،اور یادرکھو!غلاموں کی طرح ان کی بند گی کااقرار نہیں کر سکتا، اور اے کوفہ والوں! میں ہر متکبرفرد سے جس کاروز ِ قیامت پر ایمان نہیں ہے، خدا کی پنا ہ مانگتاہوں، ]تاریخ ملت71[
حضرت امام حسین ؓ کی یہ جامع خطاب کار گر ثابت نہیں ہوئی،لیکن سچ پوچھئے تو جس کے دل میں نبی کی قدرے محبت ہوگی تو پتھر دل انسان بھی اس نواسہ رسول اللہ کے جامع خطاب سے اپنے اندر خوف ِ خداضرورپیدا کر لیتا، اورامت مسلمہ ہونے کے ناطے برسر عام ظلم وبربریت کایہ ننگانا چ ہر گز نہ ناچتا، آخر کار اہل ِ کوفہ کی طرف سے ایک تیر پھیکاگیااور جنگ چھڑ گئی، اتنے میں دشمن کی فوج میں سے عمر بن حجاج نے چیخ کر کہا:اے شہسوارو! تمہیں معلوم ہے کہ کس سے مقابلہ کر رہے ہو؟ یہ لوگ اپنی جان اپنے پنجوں میں لئے پھر تے ہیں، خداکی قسم! اگر ان پر پتھر بھی ماروتو نہ بچ پائیں گے، پھر کیا ہو ا بر سر عام لڑائی ہوئی، اہل بیت کے جاں باز مجاہدین نے کوفیوں کو روندنا شروع کیا، حسینی فوج کے بہادر جدھر نکلتے تھے دشمنوں کی صفوں کودرہم برہم کر دیتے تھے، مگر جانبین میں کوئی نسبت نہ تھی، دوپہر ڈھلنے تک کئی مجاہدین شہید ہوگئے تھے، نوجوانان اہل بیت کی باری تھی، سارے مجاہدین اپنی اپنی شمشیر یں لیکر میدان کر بلامیں اتر آئے، امام حسین ؓ کے ساتھ ان کے چاروں بھائی حضرت عباس، عبد اللہ، جعفر اور عثمان ؓکے علاوہ کو ئی نہ رہا،جب تک زورِ بازوو زور سینہ تھا ہر وار کو روکتے رہیں اورآخر شہید ہوگئے،اور اب خود نواسہ رسول اللہ امام حسین ؓ تنہارہ گئے تھے لیکن آپ زخموں سے چور تھے، پیاس کی شدت تھی جوش اور ہمت بھی کم ہوگئی تھی، آخر آپ نڈھال ہوکر زمین پر بیٹھ گئے اور خاموش ہوگئے اتنے میں ایک دشمن شمر نامی شخص نے چیخ کر کہا ”اب کیا انتظار ہے۔؟ قتل کیوں نہیں کرتے“ امام حسین ؓ اپنے مبارک ہونٹ سے پانی کا پیالہ لگائے ہوئے تھے کہ حصین بن نمیر نے نشانہ بناکر ایک تیر ماراجوآپ کے حلقوم میں جاگھسا، زرعہ بن شریک تمیمی نے آپ پر تلوار چلادی، سنان بن انس نخفی نے نیزہ مارکر آپ کو زمین پرگرادیااور تلوار سے سرِ مبارک کوتن سے جداکردیا۔ ] اخبار الطوال ص 255[
آپ کے جسم پر تیتیس 33 زخم نیزہ کے اور تیس 30 زخم تلوار کے تھے اور تیر کے زخم اس کے علاوہ تھے، شہادت کے بعد ان ظالموں نے اہل ِ بیت کے خیموں کی طرف رخ کیا اور جو سازو سامان تھا وہ سب قبضہ کرلیا۔ حتیٰ کہ عورتوں کی چادریں بھی ان ظالموں نے کھینچ لیں، شمرنے ان بچوں پر تیر چلانا چاہا تو عمر بن سعد نے کہا عورتوں کے خیمہ میں ہر گز نہ داخل ہواور بچوں پر ہاتھ نہ اُ ٹھاؤ۔پھر آئندہ کل اہل ِ غاضریہ نے نماز جنازہ اداکیا اور لاش کو اسی میدان میں دفن کردیا، شہیدامام حسینؓ اور دوسرے شہداء کامبارک سر دشمن اپنے ہاتھوں لے لئے تھے اس لئے بغیر سر ہی جسم کو سپرد خاک کردیاگیا۔یہ شہادت عظمی10/محرم الحرام 61ھ روز جمعہ کو پیش آیا۔
٭٭٭٭
افروز سلیمی القاسمیؔ
دار القضاء امارت شرعیہ آزاد نگر، جمشیدپور،
حج اور حجاج کرام سے مشابہت پیداکرلیں : افروز سلیمیؔ
حج اور حجاج کرام سے مشابہت پیداکرلیں
افروز سلیمیؔ
سب ایڈیٹر ’’ عالمی پرواز ‘‘ afrozsalimi@gmail.com 8002853919
ام المومنین حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ذی الحجہ کا پہلاعشرہ شروع ہو جائے اورآپ قربانی کا ارادہ رکھتے ہو ں تو آپ کو چاہئے کہ قربانی کر نے تک اپنے بال یا ناخن بالکل نہ ترشوائیں [ رواہ مسلم ]ذی الحجہ کا پہلاعشرہ یقیناًحج کا مبارک عشرہ ہے ،اور ان ایا م کا خاص الخاص عمل حج ہے، لیکن حج تووہی کر سکتاہے جو اہل استطاعت ہو ں اور اس کی خاص برکت وہی شخص حاصل کر سکتے ہیں جو وہاں حاضر ہوکر فریضہ حج کو انجام دے سکتے ہوں ،لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت وبرکت سے سارے اہلِ ایمان کو اس کا موقع دیا ہے کہ جب حج کا مبارک ایام آئے تووہ اپنے قیام گاہ پر بھی رہتے ہوئے حج وحجاج کر ام سے ایک نسبت پیداکر لیں اور ان کے اعمال وافعال میں شریک ہو جائیں ، عید الاضحی کی قربانی کا ایک خاص راز یہی ہے۔ حجاج کرام دسویں ذی الحجہ کو ’’منیٰ ‘‘میں بارگاہ ایزدی میں اپنی قربانیاں پیش کر تے ہیں ، دنیا بھر کے دوسرے مسلمان جو حج میں شریک نہیں ہو سکتے ، ان کو حکم ہے کہ وہ اپنی اپنی جگہ ٹھیک اسی دن بارگاہ خداوندی میں اپنی قربانیاں نذر کریں ، اور جس طرح حجاج کرام احرام باندھنے کے بعد بال یاناخن نہیں ترشواتے، اسی طرح دیگر اہل ایمان جو قربانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں ،ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد بال ، ناخن نہ ترشوائیں اور اس طریقہ کار سے بھی حجاج کرام سے ایک مناسبت ومشابہت پیداکر یں۔ [معارف الحدیث ص۴۱۸ج۳]کس قدر مبارک اور نیکیاں والا عمل ہے کہ جس پر عمل پیراہو کر مشرق ومغرب ،جنوب وشمال کے اہل ایمان حج کے انوار وبرکات سے فیضیاب ہو تے ہیں ۔
*****
پرفتن دور کی نشانیاں : افروز سلیمیؔ سب ایڈیٹر ’’ عالمی پرواز ‘‘
بسم اللہ الرّحمن الرحّیم
پرفتن دور کی نشانیاں
افروز سلیمیؔ
سب ایڈیٹر ’’ عالمی پرواز ‘‘ afrozsalimi155@yahoo.in
فتنہ کیا چیز ہے ،اور فتنہ کس کو کہتے ہیں ، اور اس فتنے کے دور میں ہمارے اور آ پ کے لئے پیارے آقانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کیا ہے ؟اور کیا ہمیں عملی شکل اختیار کر نا چاہئے ،اور یہ لفظ ہر فرد کی زباں پہ ہو تی ہے کہ آ ج کا دور فتنے کا دور ہے ،اور اللہ تعالیٰ نے قرآ ن کریم میں بھی اس لفظ کو ذکر کیا ہے ،فرمایا ’’والفتنۃ اشد من القتل ‘‘ عند اللہ فتنہ قتل سے بھی زیادہ شدید ہے ، [ سورہ البقرہ ۱۹۱ ] لغوی اعتبار سے فتنہ کامعنی ہیں ’’ سونے یا چاندی وغیرہ کو آگ پر پگھلاکر اس کا کھرا کھو ٹا معلوم کر نا ‘‘ آگ میں تپا کر اس کی حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ یہ خالص ہے یا نہیں ؟اسی مناسبت سے اس کو آزمائش اور امتحان کے معنی میں بھی استعمال کیا جانے لگا،چنانچہ فتنہ کے دوسرے معنی ہوئے آزمائش ، لہذا جب انسان پر کو ئی تکلیف یا مصیبت یا پریشانی آئے اور اس کے نتیجے میں انسان کی اندرونی کیفیت کی آزمائش ہو جائے کہ وہ انسان اس حالت میں کیا طرزِ عمل اختیار کرتا ہے ، صبر کرتا ہے یاواویلا مچاتا ہے ، فرمانبردار رہتاہے یا نافرمان ہو جاتا ہے ، اس آزما ئش کو بھی ’’ فتنہ کہا جاتاہے ۔اسی طر ح جب دو مسلما ن یا مسلما نوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں ، اور ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار آجائیں ، اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جائیں ، اور یہ امتیاز کر نا مشکل ہو جائے کہ بجانب حق کو ن ہے اور با طل پر کون ہے ، تو یہ بھی ایک عظیم فتنہ ہے۔
پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے فتنے کی بہتر ۷۲ باتیں بیان فرمائی ہیں ۔ ان کو آپ اپنی آنکھوں سے چنتے جائیں اور اپنے گردو پیش کا جائز ہ لیتے جائیں کہ یہ سب باتیں ہمارے موجودہ ماحول پر کس طرح صادق آرہی ہیں ۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قرب قیامت میں ۷۲ باتیں پیش آ ئیں گی ۔
لوگ نمازیں غارت کر نے لگیں گے ،یعنی نماز وں کا اہتمام رخصت ہو جا ئے گا، امانت ضائع کر نے لگیں گے یعنی جو امانتیں ان کے پاس رکھی جا ئیں گی اس میں خیانت کرنے لگیں گے، سود کھانے لگیں گے ، جھوٹ کو حلال سمجھنے لگیں گے ، یعنی جھوٹ ایک فن اور ہنر بن جائے گا ،معمولی معمولی باتوں پر خو نریزی کر نے لگیں گے ،ذراسی بات پر دوسرے کی جان لے لیں گے ۔ اونچی اونچی بلڈ نگیں بنائے گے ۔ دین بیچ کر دنیا بنائیں گے ۔قطع رحمی یعنی رشتہ داروں سے بد سلوکی ہوگی ۔ انصاف نایاب ہو جائے گا۔ جھوٹ سچ بن جائے گا ۔ لباس ریشم کا پہنا جائے گا۔ ظلم عام ہو جا ئے گا ۔ طلاقوں کی کثرت ہوگی ۔ ناگہانی موت عام ہو جائے گی ۔ یعنی ایسی موت عام ہو جائے گی جس کا پہلے سے پتہ نہیں ہو گابلکہ اچانک پتہ چلے گا کہ فلاں شخص ابھی زندہ تھا اور اب مرگیا۔ خیانت کر نے والے کو امین سمجھا جائے گا ۔ امانت دار کو خائن سمجھاجائے گا ۔ سچے کو جھوٹا کہا جائے گا۔ تہمت درازی عام ہو جائے گا۔ یعنی لوگ ایک دوسرے پر جھوٹی تہمتیں لگائیں گے۔بارش کے باوجود گرمی ہو گی ۔ لوگ اولاد کی خواہش کر نے کے بجائے اولاد سے کراہیت کریں گے ۔ یعنی جس طرح لوگ اولاد ہو نے کی دعائیں کر تے ہیں اس کے بجائے لوگ یہ دعائیں کریں گے کہ اولاد نہ ہو ، چنانچہ آج دیکھ لیں کہ خندانی منصوبہ بندی ہو رہی ہے اور یہ نعرہ لگارہے ہیں کہ بچے، دوہی اچھے ۔ کمینوں کے ٹھاٹھ ہو ں گے ، یعنی کمینے لوگ بڑے ٹھاٹھ سے عیش وعشرت کے ساتھ زندگی گزاریں گے ۔شریفوں کے ناک میں دم آجائے گا ، یعنی شریف لوگ شرافت کو لے کر بیٹھیں گے تو دنیا سے کٹ جائیں گے ۔ امیر اور وزیر جھوٹ کے عادی بن جائیں گے ، یعنی سربراہِ حکومت اور اس کے اعوان وانصار اور وزراء جھوٹ کے عادی بن جائیں گے ،اور صبح شام جھوٹ بولیں گے ۔ امین خیانت کر نے لگیں گے ۔ سردار ظلم پیشہ ہوں گے ۔ عالم وقاری بد کار ہوں گے۔ لوگ جانوروں کے کھالوں کا لباس پہنیں گے ۔ مگر ان کے دل مردار سے زیادہ بدبو دار ہوں گے ۔اور ایلوے سے زیادہ کڑوے ہوں گے ۔ سونا عام ہوجائے گا۔ چاندی کی مانگ ہوگی ۔ گناہ زیاد ہ ہوجائیں گے ۔ امن کم ہوجائے گا ۔ قرآن کریم کے نسخوں کو آراستہ کیا جائے گا اور اس پر نقش ونگار بنایا جائے گا ۔ مسجدوں میں نقش ونگار کیے جائیں گے ۔ اونچے اونچے مینار بنیں گے ۔ لیکن دل ویران ہوں گے ۔ شرابیں پی جائیں گی ۔ شرعی سزاؤں کو معطل کر دیا جائے گا ۔ لونڈی اپنے آقاکو جنے گی ، یعنی بیٹی ماں پر حکمرانی کرے گی اور اس کے ساتھ ایساسلوک کرے گی جیسے آقا اپنی کنیز کے ساتھ سلوک کرتاہے ۔ جو لوگ ننگے پاؤں ،ننگے بدن، غیرمہذب ہوں گے وہ بادشاہ بن جائیں گے ، کمینے اور نیچ ذات کے لوگ جو نسبی واخلاقی اعتبار سے کمینے اور نیچے درجے کے سمجھے جاتے ہیں ،وہ سربراہ بن کر حکومت کریں گے۔ تجارت میں عورتیں مرد کے ساتھ شرکت ہوں گی ۔ جیسے آج کل ہورہاہے کہ عورتیں زندگی کے ہر کام میں مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کی کو شش کر رہی ہیں ۔ مرد عورتوں کی نقالی کریں گے۔عورتیں مردو ں کی نقالی کریں گی۔غیر اللہ کی قسم کھائی جائیں گی ۔ مسلمان بھی بغیر کہے جھوٹی گواہی دینے کو تیار ہو گا۔ صر ف جان پہچان کے لو گوں کو سلام کیاجائے گا، حالا نکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فر مان یہ ہے :[السلام علیٰ مَن عرفتَ ومَن لا نعرف’] (صحیح البخاری)’’جس کو تم جانتے ہو اس کو بھی سلا م کرو ، اور جس کو نہیں جانتے ہو اس کو بھی سلام کرو ‘‘ غیرِ دین کے لئے شرعی علم پڑھا جا ئے گا ، یعنی شرعی علم دین کے لئے نہیں ، بلکہ دینا کے لئے پڑھا جائے گا، العیاذ باللہ ۔ آخرت کے کا م سے دنیا کمائی جائے گی ۔ مالِ غنیمت کو جاتی جاگیر سمجھ لیا جائے گا۔ امانت کو لو ٹ کا مال سمجھا جائے گا ۔ زکوٰ ۃکو جرمانہ سمجھا جائے گا۔ سب سے رزیل آدمی قوم کا لیڈر اور قائد بن جا ئے گا۔ آدمی اپنے باپ کی نافرمانی کرے گا۔ آدمی اپنی ماں سے بد سلوکی کرے گا۔ دوست کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرے گا۔ بیوی کی اطاعت کر ے گا۔ بد کاروں کی آوازیں مسجد وں میں بلند ہو گی ۔ گانے والی عورتوں کی تعظیم و تکریم ہو گی ان کو بلند مرتبہ دیا جا ئے گا۔ گانے بجا نے کے اور موسیقی کے آلات کو سنبھال کر رکھا جا ئے گا ۔ سرِ راہ شرابیں پی جا ئے گی ۔ ظلم کو فخر سمجھا جائے گا ۔ انصاف بِکنے لگے گا، یعنی عدالتوں میں انصاف فروخت ہو گا، لوگ پیسے دے کر اس کو خرید یں گے۔ پولیس والوں کی کثرت ہو گی ۔ قرآنِ عظیم کو نغمہ سرائی کا ذریعہ بنا لیا جائے گا ۔ درندوں کی کھال استعما ل کی جائے گی ۔ امت کے آخری لوگ اپنے سے پہلے لوگوں پر لعن طعن کریں گے یعنی ان پر تنقید کریں گے اور ان پر اعتماد نہیں کریں گے ۔
پھر فرمایا کہ جب یہ علامات ظاہر ہوں تو اس وقت اس کا انتظار کروکہ…………………………یاتو تم پر سرخ آندھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آجائے گا۔ یا زلزلے آجائیں گے۔ یا لوگوں کی صورتیں بدل جائیں گی ۔ یا آسمان سے پتھر برسیں گے۔ یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کو ئی اور عذاب آجائے گا۔ العیاذ باللہ۔ [ الدرالمنشور۶/۵۲ ]
اب آپ ان علامات میں ذرا غور کر کے دیکھیں کہ یہ سب علامات ایک ایک کر کے کس طرح ہمارے معاشرے پر صادق آرہی ہیں ۔اور اس وقت جو عذاب ہم پر مسلط ہے وہ درحقیقت انہی بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔آمین
افروز سلیمی ؔ
سب ایڈیٹر ’’ عالمی پرواز ‘‘
ای میل : afrozsalimi155@yahoo.in
خدا را عفتِ زن پر دست درازی نہ کیجئے : افروز سلیمی ؔ
خدا را عفتِ زن پر دست درازی نہ کیجئے
افروز سلیمی ؔ
سب ایڈیٹر’’عا لمی پرواز‘‘
قرآ ن چونکہ خدا کی آخری اور مکمل دینی وشرعی کتاب ہے اس لئے کہ اس کے دامن میں انسان کی جان و مال اورعزت و آبرو کی حفاظت کا مکمل قانون ہے ،قرآن نے جان کی حرمت کے متعلق یہ اعلان کیا ………. کتب علیکم القصاص ، اور مال کی حرمت کے بارے میں یہ اعلان کیا …….. السارق والسارقتہ فاقطعوا ایدیہما،چور چاہے مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کا ٹ ڈالو ، ان دونوں حرمتوں کے متعلق یہاں بحث نہیں ہے ۔
آبرو کی حرمت کے سلسلے میں قرآن نے جن افعال کو مجرمانہ فعل یعنی مستلزم سزاقرار دیا ہے ا س کو فقہی اصطلاح میں ’’حد‘‘ کہتے ہیں ،وہ دو ہیں ،عورت کے ساتھ زنا ،اور تہمت زنا یعنی آبرو کی حیثیت سے قرآن نے عورت کو اتنا اونچا کیا کہ اس کی آبرو کی حفاظت کے لئے حد جاری کی اوراس باب میں مرَدوں کی ناپاک خواہشات کے روک اور انسداد کے لئے جو عورت کی آبرو پر اثر انداز ہو
سکتی تھیں ، حفاظتی تدابیر کا بند ھن باندھا ۔
عہد رسالت میں جب کبھی اس طرح کاواقعہ ظہور پذیر ہوا تو شرعی ثبو ت کے بعد بغیر کسی رعایت کے اس پر حد جاری کی گئی ۔ ترمذی شریف میں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ عہدِ رسالت میں ایک عورت کے ساتھ زنا با لجبر کیاگیا جب لوگ اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پکڑ کرلائے تو آپ نے اس کے متعلق فیصلہ فرمایا کہ اس کو رجم کردو ۔[ مشکوۃ کتاب الحدود]
اسی طرح واقعہ افک میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی برأت پر جب وحی الہٰی کا نزول ہوا تو تہمت کے سلسلے میں دو مرَدوں اور ایک عورت پر حدقذف جاری کی گئی ۔[حوالہ مذکور]
قانونِ شریعت میں زنا اور تہمتِ زنا کی سزایہ ہے کہ زانی اگر شادی شدہ نہیں ہے تو زنا کی سزامیں سو درّے (کوڑے ) مارے جائیں اور اگر شادی شدہ ہے تو اس کو رجم یعنی سنگسار کردیا جائے ،اور تہمتِ زنا کی سزایہ ہے کہ اس کو اسّی درّے مارے جائیں ،حدود کے قیام کے بارے میں حضرت عبادہ بن الصامت کی روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے اورغیر سب کے بارے میں اللہ کے حدود کو قائم کرو ۔[رواہ ابن ماجہ]
یاد رکھئے ! اسلام میں عورتوں کی آبرووعفت وعصمت اتنی بڑی چیز ہے کہ اس کے لئے مجرمینِ عصمت پر حد جاری کی گئی اور اس باب میں ثبوت جرم کے بعد کسی طرح کی کو ئی معافی کی گنجائش نہیں رکھی گئی ،مرد نے عورت کی عصمت اس طرح برباد کی ہو کہ عورت کی عفت پر زبردستی ہا تھ ڈالا ہو اور عورت مجبورانہ طور پر اس میں مبتلا ہو گئی ہو تو ایسی صورت میں مر د کو سنگسار کر دیا جائے گا ،یا ۱۰۰ درّے مارے جائیں گے اور چونکہ عورت بے قصور ہے، وہ چھوڑ دی جائے گی، اور اگر عورت اور مرد دونوں کی رضا اس بے عصمتی میں شریک تھی تو دونوں پر حد جاری کی جائے گی، اس لئے کہ دونوں برابر کے مجرم ہیں، اور خدا کی اس حد کے توڑ نے میں برابر کے شریک ہیں ،جس کا اخلاقی نظام کی بقا کے لئے باقی رہنا ضروری تھا ،جس کا فتنہ وفساد کے شیوع اور عمو م کے روک کے لئے با قی رہنا ضروری تھا ۔
سب سے پہلے اس جرم کی سنگینی کے لحاظ سے قرآن کریم میں اس سے احترازو اجتناب کے لئے یہ حکم فر ما یا گیا ……….کہ
زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو یقیناًزنا سراسر فاحشہ ہے، اور براچلن ہے ۔پ ۱۵ سورہ بنی اسرائیل ،یہاں یہ حکم نہیں دیا گیا کہ زنا مت کرو بلکہ حکم یہ ہے کہ اس کے پاس بھی مت پھٹکو ،یعنی ان چیزوں کے پاس بھی نہ جاؤ جو زنا کے قریب ہوں ،اور زنا تک تم کو پہنچا دیں ۔ رہا زنا کا معاملہ تو وہ سراسر فاحشہ ہے، جیسا کہ سورہ اعراف میں ہے ’’ آپ کہدیجئے کہ ہر طرح کے فواحش کو ،چاہے کھلے ہوں یا چھپے ہوں، میرے پرور دگار نے حرام قرار دیا ہے ‘‘ گویا کہ فحش بات کو اللہ تعا لیٰ نے حرام قرار دیا ہے اور زنا چونکہ فحش ہے لہذا وہ بھی عند اللہ حرام ہے، فحشاء کے متعلق دوسری آیت میں ارشاد فرما یا کہ اللہ تعا لیٰ فحشاء سے منکر سے اور بغی سے روکتاہے ۔ [سورہ نحل پ۱۴]
لوگو! اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ ہے کہ فحش کا ظہورمعاشرے میں نہ ہو اور اس کے بندے فحش کا ارتکاب نہ کریں ، اللہ کی مرضی ایسی کیو ں ہے اور اللہ تعالیٰ نے فحش کو کیوں حرام قراردیا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ فحشاء اور فاحشہ ’’ لفظ فحش ‘‘ سے نکلا ہے یعنی حد سے آگے بڑ ھ جا نا اور فحش کے ارتکاب کے معنی حد سے آگے بڑھ جانے کے ہوں گے یعنی خدا کی اس حد کو توڑ دیا جا ئے جو اس نے مقرر کی ہے ۔ اس سے معلوم ہو ا کہ زنا کا ارتکاب کر نا خدا کی حد کو توڑ نا ہے اور اس کی مقررہ حد سے آگے بڑھنا ہے اور یہ عند اللہ سنگین جرم ہے ۔
)()()(
افروز سلیمیؔ
سب ایڈیٹر ’’ عالمی پرواز ‘‘
مزدوروں کا حق اسلامی نظام میں …. رضوان واسطی
مہتاب عالم پرویز صاحب، اسلام علیکم!
بڑی مشکل سے شا ید یہ میل بھیج پا ؤں۔ مزدور ڈے ساری دنیا میں منایا جاتا ہے ، جس کی شروعات امریکہ میں مزدوروں پر کئے گئے بربریت اور ظالمانہ کاروائیوں کی یاد میں ہوئی تھی۔ اسلامیات میں اگر گنجائش ہو تو اسے شامل کرلیں۔
رضوان واسطی
مزدوروں کا حق اسلامی نظام میں
…. رضوان واسطی
ایک حدیث رسول اللہ ﷺ کی مستند اور مشہور ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ محنت کش کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کردو۔‘‘ صاف ظاہر ہے کہ ایسا نہ کرنا باعثِ گناہ ہے۔ بعد میں صحابہٗ کرام نے بھی اس اصول کو اصولی اور شرعی شکل دے دی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مزدوروں کو حد درجہ گرا ہوا سمجھا جاتا تھا۔ آرام اور عیش صرف دولت مندوں کی اجارہ داری تھی۔ کسی تحریک یا ’اِزم کا تصور بھی نہیں تھا۔عمر فاروق ‘ ؓ کے زمانے کا واقعہ ملاحظہ ہو:
’’مصر کا فاتح عمروبن العاصؓ اپنی بہادری اور شجاعت کے ساتھ ساتھ خود شاعر تھے۔ انہوں نے مصر فتح کرنے کے بعدخلیفہ عمرؓ کو اپنی رپورٹ بھیجی اس میں ایک مقام پر کہا گیا۔۔۔ ’اس ملک کے چرواہوں کا ، جو زمین کی سطح کو کالا کئے ہوئے ہیں، موازنہ محنتی چیونٹیوں کے غول سے کیا جاسکتا ہے اور ان لوگوں کی کاہلی کو ان کے مالکوں کے کوڑوں سے دور کیا جاتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو جائداد یا دولت پیدا کرتے ہیں ، اس کی تقسیم مزدوروں اور مالکوں کے درمیان برابر برابر نہیں کی جاتی ہے۔‘ وہ نظریہ اپنے وقت سے بہت آگے کا تھا۔ تمام ملکوں کے قدیم مسائل میں سماجی عدل کا نظریہ نہیں تھا۔ محنت کرنے والے غلام یا ارذل (کمین)مانے جاتے تھے اور وہ نفرت کے لائق سمجھے جاتے تھے اور ان کا استحصال کیا جاتا تھا۔ ان لوگوں کو انسان نہیں مانا جاتا تھا۔پہلے خلیفہ نے جن معاشی اصولوں کو اپنے فرمان میں شامل کیا تھا ان میں عرب تاجروں کے حقوق کی بنیاد پر پرانے سماجی نظریات میں انقلابی تبدیلی لائی گئی۔اس میں کہا گیا تھا کہ’’ جب محنت کش عوام کی محنت کی کمائی ان کے پاس رہے گی تو اس سے کاروبار بڑھے گا۔ انہوں نے فراعنہ اورپٹولمی لوگوں کی حکومتوں کی تعریف کی تھی اور ان پر عرب فتحیابی کے بعد انہوں نے اپنے سپہ سالاروں کو ان بے اعتدالیوں کو دور کرنے کی ہدایت دی تھی جن سے ان کے شاعرانہ ذہن ودل کو چوٹ پہنچتی تھی۔‘‘ یونانیوں اور روم کے حکمرانوں نے صدیوں سے مصرکو لوٹا تھا ، لیکن عربوں کے غلبہ کے بعدوہاں خوشحالی آئی۔‘‘
***