نعتِ گوئی اور اس کی دینی حیثیت….. از: رضوانؔ واسطی، جمشیدپور
نعتِ گوئی اور اس کی دینی حیثیت
از: رضوانؔ واسطی، جمشیدپور
E-nail: rizwanwasti@yahoo.co.in
اصطلاحی اعتبار سینعت حضورِ اکرم ﷺ کی منظوم تعریف و توصیف کو کہتے ہیں۔ حضوراکرم ﷺ کی تعریف و توصیف سب سے پہلے کرنے والا خود خدائے برتر ہے۔قرآن کے صفحات حضوراکرم ﷺ کی مدحت و تعریف سے مالا مال ہیں۔
’’اور ہم نے تم کو جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ (…….سورۂ انبیا)
’’آپ فرما دیجئے اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو۔ خدا تم سے محبت کرنے لگے گااور تمہارے سب گناہوں کو معاف کردے گا۔کیونکہ اللہ معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔‘‘ (…….سورۂ آلِ عمران)
’’اور ہم نے تمہارے لئے ذکرکوبلند کیا۔‘‘ (…….سورۂ الم نشرح)
’’ اور ہم نے تمہیں انسانوں کے لئے نبی بنا کر بھیجا ہے اور اللہ اس پر گواہ ہے۔ (……سورۂ النساء)
اتنا ہی نہیں،واضح طور پر ہدایت دی گئی:
’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے مومنو، تم بھی ان پر درود اور سلام بھیجو۔ ‘‘
جب خدائے برتر جو ہر تعریف کا اکیلا مستحق ہے خود نبی اکرم ﷺ کی تعریف کرے اور مومنوں سے تعریف کرنے کو کہے تو اس فعل کے مقدس اور با برکت ہونے میں کسی شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ کے نبوی زندگی کے ابتدائی دور میں ہی صحابۂ کرام میں سے انہوں نے جنہیں خدا نے صلاحیت عطا فرمائی تھی، حضور ﷺ کے حضور میں منظوم قصیدے لکھے۔سب سے پہلے نعتیہ قصیدہ میمون بن قیسؓ کا ہے۔ ان کے علاوہ حضرت حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحؓ، کعب بن مالکؓ، ضرار بن ازورؓ، اور زیدؓ نے بھی نعتیہ اشعار کہے۔اہلِ بیت میں نعتیہ شاعری کرنے والوں میں حضرت علیؓ، حضرت حمزہؓ،اورحضرت فاطمۃ الزہرہؓ کے نام سرِ فہرست ہیں۔ اپنے ان بزرگوں کی تقلید میں تقریباً تمام عربی شعرأ نے ضرور نعتیہ اشعار لکھے۔ عربی کا شعری ذخیرہ نعتیہ کلام کا خزانہ سموئے ہوئے ہے۔
جب اسلام کی روشنی ایران کی سرزمین پر پہنچی تو فارسی شعرأ نے بھی بڑھ چڑھ کر اس بابرکت عمل میں حصہ لیا۔اور نعت گوئی کے فن کو درجۂ کمال تک پہنچادیا۔جامیؔ ، سعدیؔ ،رومیؔ ، سنائیؔ ، عطارؔ ، شمس تبریزؔ ،نظامیؔ ، قدسیؔ ، عرشیؔ ، عرفیؔ اور امیرخسروکی نعتیں نعتیہ شاعری کے کمال کی آئینہ دار ہیں۔ سعدیؒ کاقطعہ:
بلغ العلیٰ بکمالہٖ کشف الدجیٰ بجمالہٖ
حسنت جمیع خصالہٖ صلو علیہِِ وآلہٖ
یا حضرتِ جامی ؒ کے یہ اشعار
یا صاحب الجمال و یا سیّدالبشر
من وجہک المنیرلقد نیّرالقمر
لا یمکن الثناء کما کان حقہٗ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
آج بھی دینی محفلوں میں لوگ جھوم جھوم کر پڑھتے ہیں۔
عرفی نامِ محمد ﷺ کی عظمت کچھ یوں بیان کتے ہیں ۔
ہزار بار بشویم دہن ز مشک و گلاب
ہنوز نامِ تو گفتن کمالِ بے ادبیست
(ہزار بار مشک اور گلاب سے وضوٗ کرلوں، تب بھی تیرا نام لینا بڑی بے ادبی ہے)
عرشی شہر مدینہ کی رفعت کا ذکر یوں فرماتے ہیں:
ادب گاہیست زیرِ آسماں از عرشِ نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا
(آسمان کے نیچے یہ مقام عرش کی نزاکت سے زیادہ ادب کی جگہ ہے، جنیدؔ و بایزید بھی یہاں ہوش کھو بیٹھتے ہیں)
مرزا غالب جیسے حریفِ ئے مردافگنِ عشق جو خدا کے حضور اپنی شوخی کے لئے مشہور ہیں۔ جب دربارِ نبی کے تصور کو پہنچتے ہیں تو زبان لکنت زدہ ہوجاتی ہے اور حضورؐ کی تعریف کا کام اپنی کم مایگی کے تحت خدا کے سپرد کردیتے ہیں:
غالبؔ ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمدؐاست
اردو زبان جب گھٹنیوں کے بل چل رہی تھی اور توتلی بولی میں باتیں کر رہی تھی تو اسی دور میں اس نے نعت گوئی کی ابتدا کردی تھی۔شمالی ہند میں اردو کے پہلے صاحبِ دیوان شاعرولی ؔ دکنی کے محبت اورعقیدت سے لبریز یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں :
آرزوئے چشمۂ کوثر نہیں
تشنہ لب ہوں شربتِ دیدار کا
کیا کرے تعریف دل ،ہے بے نظیر
حرف حرف اس مخزنِ اسرار کا
بعد کے شعرأ میں شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جس نے دو چار نعتیں نہ کہی ہوں ۔ جن شاعروں نے اپنی نعتیہ شاعری سے لوگوں سے خراجِ تحسین حاصل کیا ان میں رفیع سوداؔ ، خواجہ میر دردؔ ، نظیر ؔ اکبرآبادی، امیر مینائی، محسنؔ کاکوروی، احمد رضا خان بریلوی، حسرت موہانی، شادؔ عظیم آبادی، علامہ اقبال وغیرہ اہم ہیں۔ علامہ اقبالؔ کے کچھ نعتیہ اشعار پیش کرنا چاہوں گا۔ علامہ اقبال نے اپنی شوکتِ الفاظ اور بلند یِ فکر سے نعت کو جمال کے ساتھ جلال بھی بخش دیا:
وہ دانائے سبل ، مولائے کُل، ختمِ رسل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا
نگاہِ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسیں وہی طہٰ
یا یہ اشعار:
شوکتِ سنجر وسلیم تیرے جلال کی نمود
فقرِ جنید و بایزید تیرا جمالِ بے نقاب
شوق اکر ترا نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب میرے سجود بھی حجاب
گزشتہ نصف صدی یا ماقبل کے دوران جن شعرائے کرام نے نعتیہ شاعری میں خراجِ تحسین حاصل کیا ہے ان میں جمیل مظہری، حفیظ جالندھری، ماہرالقادری، ظفرعلی خاں، حمید صدیقی، بیکل اتساہی، شکیل بدایونی،عمیق حنفی، مظفروارثی، واجد سحری، قمر سنبھلی، کوثر نیازی، شاعر لکھنوی،بے دم وارثی، رفعت سروش، وغیرہ کے نام گنائے جاسکتے ہیں۔ اس عرصہ میں نعت گوئی کے فن میں بڑے عمدہ تجربات کئے گئے ہیں۔ مظفرؔ وارثی کے یہ اشعار نئے لہجے کی بہترین نمائندگی کرتے ہیں ؛
جاتا ہوا وقار ملا ان کے نام پر
سر سے گری تو ہاتھ پہ دستار رک گئی
جب ذہن سب بلندیاں تسخیر کر چکا
غارِ حراپہ رفعتِ افکار رک گئی
عشقِ نبی نے مجھ کو مظفر بچالیا
جو مجھ میں گر رہی تھی وہ دیوار رک گئی
اس معاملے میں اپنی ہیچمدانی کا اعتراف کرتے ہوئے ذاتی تجربہ دہرانے میں قباحت اور شرمندگی محسوس نہیں کرتا کہ اکثر میں علامہ اقبالؔ کے ایک شعر کو جسارت سے تعبیر کرتا تھا:
در دشتِ جنونِ من جبریل زبوں صیدے
یزداں بہ کمند آور اے ہمت ہمت مردانہ
لیکن اس شعر کا راز مجھ پراس وقت واضح ہوا، جب جبل نور کی بلندی پر غار حرا کا دیدار نصیب ہوا۔وہیں اس شعر کی اہمیت بھی سمجھ میں آئی۔
نعت گوئی کا کینوس بظاہر بہت چھوٹا نظرآتا ہے۔ بعض بزرگوں نے تو نعت گوئی کو چاول کے دانے پر قُل ھواللہ احد۔۔۔۔الخ (سورۃ اخلاص) لکھنے سے تعبیر کیا ہے۔حضوراکرمؐ کی تریسٹھ سالہ دنیاوی زندگی کے واقعات وسوانح سے ہی شاعر کو اپنی شاعری کے لئے رنگ و روغن حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اب اسے حضوراکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا معجزہ نہیں تو اور کیا کہا جائے گا کہ چودہ سو برسوں سے شعرائے کرام مسلسل نعت گوئی فرمارہے ہیں ، اورنہ کہنے والے کی سیری ہوتی ہے نہ سننے والا سیر ہوتا ہے۔ اصل میں اگر شاعر کے دل میں عشقِ رسو ل ﷺ کا جذبہ موجزن ہو تو یہ کینوس بہت وسیع و عریض نظر آنے لگتا ہے۔اور حضوراکرم ﷺ کی تریسٹھ سالہ دنیاوی زندگی ہزاروں صدیوں پر محیط نظر آنے لگتی ہے۔
ایک اور معجزاتی حقیقت یہ بھی ہے کہ انسانی تواریخ میں اور کوئی دوسرا نام دور دور تک نظر نہیں آتا جس کے سوانح حیات اس قدر معتبر اور مفصل طور پر تواریخ کے صفحوں پر سیرتِ پاک کے طور پر محفوظ ہوں۔ احادیث نبوی کے نام پر آپ کی کہی ہوئی ایک ایک بات ،ایک ایک واقعہ کی تفصیل موجود ہے۔ شاعر کے سامنے مضامینِ نو کا ایک انبار آ کھڑا ہوتا ہے۔عشقِ رسول اس کے آہنگ اور لہجہ میں ایک انوکھا پن پیدا کردیتا ہے۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اور اپنے رسولؐ کے رتبہ کے درمیان ایک خط فاصل قائم کردیا ہے اور اس کو ’قاب قوسینِ اوادنی‘ کے لطیف اشارے سے واضح کیا ہے۔ مولانا جامیؒ نے اس خط فاصل کو یوں بیان فرمایا ہے۔
بعدا خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
جذبات کی رو میں اکثر نعت گو رسولؐ کی محبت کے جوش میں اس خط سیمیں کا خیال نہیں رکھ پاتے اور اپنے ایمان کے لئے خطرہ مہیا کرلیتے ہیں۔اس بات کو زیادہ آسانی سے سمجھنے کے لئے کلمۂ شہادت کا سہارا لیا جاسکتا ہے جس میں اول تو یہ کہا گیا ہے کہ’ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے،‘ اور پھر یہ بھی کہاگیا ہے کہ’ اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمّد ؐ ان کے(اللہ کے) بندہ اور ان کے(اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے) رسول ہیں۔‘اسی حد سے آگے بڑھنا دراصل ایمان کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ علامہ اقبالؔ نے اس بات کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ یوں ادا کیا ہے کہ روح الامین جبرئیل علیہ السلام بھی لاہوت کے آخری مقام پر پہنچ کر حضورِ اکرم ؐسے یہ کہہ کرآگے جانے سے معذوری ظاہر کرتے ہیں اور حضور اکرم ؐمعراج میں اکیلے آگے تشریف لے جاتے ہیں: اگر یک سرِ موئے برتر پرم
فروغِ تجلیٰ بسوزد پرم
کہ اس سے آگے اگر وہ ایک بال کی نوک کے برابر بھی قدم بڑھاتے ہیں تو تجلی کے فروغ سے ان کے بال و پر جل جائیں گے۔
اس پوری گفتگو سے یہ اندازہ ہو گیا ہوگا کہ نعتِ پاک کا اصل موضوع رسولِ اکرم محمّدؐ مصطفےٰ کی تعریف بیان کرنا ہے نہ کہ کچھ اور۔ کچھ مبتدی اور جوشیلے نعت گو نعت جیسی مقدس صنف میں مناظرانہ نونک جھونک اور مسلکی نعرہ بازی شامل کر دیتے ہیں جس سے نعت کا تقدّس مجروح ہو سکتا ہے۔ انہیں میرا پرخلوص اور مفید مشورہ ہے کہ وہ ایسا کرنے سے گریز کریں تو بہتر ہے۔
خدائے برتر نے قرآن میں جب بھی حضور ﷺ کو مخاطب کیا ہے یا ان کا ذکر کیا ہے تو محمّد ﷺ کہہ کر نہیں بلکہ اسمائے صفات ہی استعمال کیا ہے۔ ( قرآن میں صرف چار بار محمد اور ایک بار احمد کا نام آیا ہے) کبھی مزمل، کبھی مدثر، کبھی بشیر تو کبھی نذیر ، طہٰ یایٰسین کہا گیا ہے۔ اللہ اپنے بندوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ بھی اپنی تقریر یا تحریر میں اسم محمّدؐ کے استعمال میں احتیاط برتیں۔ یوں بھی ہم اپنے کسی بزرگ کو ان کے نام لے کر مخاطب نہیں کرتے اور اسے بے ادبی سمجھتے ہیں۔ ایک سچا مومن بھلا یہ کیسے گوارہ کرسکتا ہے کہ وہ حضورِ پاکؐکو بے باکی سے نام لے کر مخاطب کرے۔ جب بھی رسول پاک ﷺکا نام آتا ہے تو ہم دل کی گہرائی سے درود شریف بھی پڑھتے ہیں۔ عرفی ؔ نے کیا خوب کہا ہے:
ہزار بار بشویم دہن بہ مشک و گلاب
ہنوز نام تو گفتن کمالِ بے ادبیست
یعنی اگر ہزار بار بھی اپنا منہ مشک اور گلاب سے دھولوں پھر بھی آپ کا نام لینا بے ادبی کی انتہا ہوگی۔ نعت پڑھتے وقت بھی ادب اور احترام کا پاس رکھنا چاہئے۔ عشقِ رسولؐ کے جذبات کو پیش کرنے کے لئے کچھ نعت گو حضرات ترنم کا بھی سہارا لیتے ہیں۔ایسا کرتے وقت کیا یہ اچھا نہ ہوگا کہ وہ اس فن کی سنجیدگی کا بھی دھیان رکھیں اور سوچیں کہ آج کل کچھ لوگ جو سستی سوقی اور فلمی طرزوں کا استعمال کرتے ہیں ،کہیں وہ اس پاک صنعت کی پیش کش میں تکریم و تحریم کی سطح سے نیچے تو نہیں آرہے ہیں۔
***
دنیا کے بتکدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا……. ۱ز: رضوان واسطی
دنیا کے بتکدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا…….
۱ز: رضوان واسطی
مسجدالحرام
۱۔ عالم موجودات کی یہ عظیم ترین مسجد ہے جس میں ہر صلوٰۃ کا اجرو ثواب اللہ تبارک تعالیٰ کی طرف سے ایک لاکھ گنا بڑھا دیا جاتاہے۔یعنی کسی بھی مسجد میں ادا کی جانے والی نماز سے لاکھ گنا زیادہ ثواب اس مسجد کی نماز میں عطاکیا جاتا ہے۔
۲۔ مسجد الحرام کے عین وسط میں بیت اللہ یعنی اللہ کا گھر ،کعبہ ہے جو ساری دنیا کے مسلمانوں کا قبلہ ہے۔تو ہر مسلمان دنیا کے کسی بھی حصّے یا گوشے میں ہو اسی جانب رُخ کرکے اپنی صلوٰۃ اداکرتا ہے اور اللّہ سبحانہٗ تعالٰی کو سجدہ کرتا ہے۔
۳۔ اس جہان میں صرف تین مساجد ایسے ہیں جن کی فضیلت بیان فرماتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہِ وسلم نے زیارت اور صلوٰۃ کی ادائیگی کی تاکید کی ہے۔ (الف) مسجدالحرام یا بیت اللہ شریف، مکّہ (ب) مسجد نبوی ، مدینہ منوّرہ اور (ج) مسجد اقصیٰ ،یروشلم۔
’’مسجدالحرام میں ہمہ وقت کل ایک سو بیس رحمتیں نازل ہوتی رہتی ہیں۔ان میں سے ساٹھ ان کے لیے جو کعبہ کے طواف میں مشغول رہتے ہیں، چالیس ان کے لیے جو اپنی صلوٰۃ ادا کرتے ہیں اور بیس ان کے لیے مخصوص ہیں جو پورے احترام کے ساتھ کعبہ کے دیدار میں مصروف ہوتے ہیں‘‘۔ یہ تعداد اکائی میں نہیں بلکہ تناسب میں ہے۔
۴۔ یہ مسجد فن تعمیر کے اعتبار سے بھی بے مثال اور واحد ہے۔یہ اتنا عظیم ہے کہ بہ یک وقت چالیس لاکھ کی تعداد میں حجّاج کرام جمع ہوکر نماز ادا کرسکتے ہیں۔ لاؤڈاسپیکر سسٹم دنیا کا بہترین عظیم ترین نمونہ ہے جس کے ذریعے قرآن پاک کی آیتیں سیدھے دلوں پر اثرانداز ہوتی ہیں کہ آنکھوں سے جذبات کے آنسو چھلک پڑیں۔ہر طرف روشنی کا انتظام بھی لاجواب ہے ۔
۵۔مسجدالحرام کے کل ۹۵ دروازے ہیں ، جن میں ۵ شاہ صدر دروازے ہیں۔
۶۔ مکمل مسجدالحرام کے لیے مرکزی ایئر کنڈیشننگ سسٹم ہے جو گوشے گوشے کو بقدر ضرورت کم و بیش درجۂ حرارت مہیا کرتا ہے۔
۷۔ مختلف منازل اور چھت تک رسائی کے لیے جگہ جگہ لفٹ اور چلتی سیڑھیوں کا بہترین انتظام ہے۔زیرِ سطح بھی ایک منزل کی تعمیر کی گئی ہے۔مسجد کے فرش پر کلی طور پر غالیچے بچھے ہوئے ہیں۔زم زم کے ہزاروں مُبرِّد(کولر) جگہ جگہ سجائے گئے ہیں جو اس کی شان کو دوبالا کردیتے ہیں۔حرم شریف کے بیرونی خطّے میں چاروں اطراف میں حالیہ تعمیرشدہ فرش مسجد میں نمازیوں کی گنجائش کو اتنا بڑھا دیتا ہے کہ لاکھوں لوگ جگہ کی قلت کی وجہ سے مایوسی کا شکار خود کو نہ محسوس کریں اور بہ اطمینان اپنی صلوٰۃ ادا کرسکیں۔حرم شریف کے باہر ہزاروں کی تعداد میں جدیدترین قسم کے حمام ، وضو خانے اور بیت الخلاء کا بہترین انتظام ہے کہ ہزاروں حجاج کرام ان کا استعمال ہر وقت بہ آسانی کر سکتے ہیں۔
۸۔ شاہ صدر دروازوں کی پیشانی پر ان کی شناخت کے لئے جگہ جگہ مندرجہ ذیل نام چسپاں و آویزاں ہیں۔
بابِ ملک عبدا لعزیز،بابِ فتح،بابِ صفا،بابِ عمرۃ،بابِ فہد (حالیہ تعمیر)
۹۔ مسجدالحرام کا رقبہ کل تین لاکھ چھپّن ہزار آٹھ سو (3,56,800) مربع میٹرہے
۱۰۔ نمازیوں کی گنجائش کل آٹھ لاکھ بیس ہزار(8,20.000) ہے۔
۱۱۔ کل دروازے 95ہیں۔
۱۲۔ چلتی سیڑھیاں(Escalator)کل 5ہیں
۱۳۔ لفٹ: بابِ صفا کے نزدیک
۱۴۔ منارے:کل 9 (بابِ فہد،بابِ عبدالعزیز، بابِ عمرہ پر دو دو منار ے لیکن بابِ صفا میں صرف ایک منارہ ہے۔
۱۵۔ مناروں میں سے ہر ایک کی اونچائی کل92 میٹر (تقریباً 302فِٹ )ہے
۱۶۔ گوگل نقشہ (map) میں اس کا مقام 21.421881176 N, 39.825182176 E ہے۔
بیت اللہ (کعبہ) اللہ کاگھر
۱۔ یہ ایک چوکور عمارت ہے جو مسجد الحرام کے مرکز میں واقع ہے۔ ساری دنیا کے مسلمان اسی کعبہ کی جانب رخ کرکے اپنی نماز میں اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔
۲۔ لوگوں کاسلسلہ وار طواف ساری دنیا کے سامنے ایک عجوبہ ہی ہوگا۔بارش، طوفان یا دھوپ کچھ بھی ہوطوافِ کعبہ(اللہ کے گھرکے طواف)کو کبھی روکنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔
۳۔اس مختصرعمارت کی تعمیر اور تعمیرِ نو کا اعزاز حضرت آدم علیہ السلام، سیدنا ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اورحضور اکرم محمد مصطفےٰ ﷺکو حاصل ہو اہے۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے مشترکہ طور پر خانۂ کعبہ یعنی بیت العتیق کی تعمیر اللہ کی مرضی سے کی۔ بیت العتیق کا ایک مفہوم اوَّلین یا قدیم ترین مانا جاتا ہے۔اس کے دوسرے مفہوم خود مختاری اور حریت یا آزادی کے ہیں۔دونوں ہی معانی یہاں قابل قبول ہو سکتے ہیں۔
۴۔ اس عمارت کو بیت الحرام یا حرم شریف بھی کہتے ہیں جس کے مطلب ہیں نہایت قابلِ احترام گھر۔
مورخین کی رائے میں پانچ سے بارہ بار اس کی تعمیر یا تعمیرنو کی گئی ہے۔پہلی دفعہ کعبہ کی تعمیر حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعے ہوئی۔اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے کہ یہی خدا کا وہ پہلا گھر ہے جو زمین پر اللہ کی عبادت کے لئے انسانوں کو عطا کیا گیا۔بعد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے ساتھ دوبارہ اس کی تعمیر کی۔
کعبہ کا ریاضی طول و عرض:۔
الف۔ بیرونی دیواروں کی لمبائی: حجرِ اسود سے رکن عراقی تک کل 37 فٹ 6انچ،
رکنِ عراقی سے رکنِ شامی تک۔ کل 31 فٹ6 انچ
رکنِ شامی سے رکنِ یمانی تک کل 37 فٹ6 انچ،
رکنِ یمانی سے حجرِ اسود تک کل30 فٹ
خانۂ کعبہ کی موجودہ اونچائی کل 39فٹ 6 انچ ہے اور کل رقبہ627 مربع فٹ ہے۔
کعبہ کی دیواروں کی موٹائی کل3.28فٹ ہے۔ کعبہ کا اندرونی فرش بیرونی فرش سے، جہاں لوگ طواف کرتے ہیں ، 7.22 فٹ بلندی پر واقع ہے۔داخلی اور بیرونی چھت لکڑی سے بنی تھی جسے ساگوان کی لکڑی سے تعمیرِ نو کی گئی پھرجسے اسٹین لیس اسٹیل سے مڑھ دیا گیا ہے۔
دیواریں پتھر سے بنی ہوئی ہیں جو اندر سے کھردری مگر باہر سے چمکدار اور جلا آمیز ہیں۔عربی زبان میں کعبہ کا لفظی معنیٰ بلند اور باوقار مقام ہوتا ہے۔اسے کعب یعنی شش پہل(Cube) چھ سطحوں والا مربع نما،سے موضوع بھی سمجھا جاتا ہے۔
دنیا کی کرید اس سلسلے میں جاری ہے ۔اس کی تمامترباتوں کو اچھی طرح سمجھنے اور ہر ممکن سوال کا فوری جواب مہیا کرنے کے لئے ایک طویل مضمون کی ضرورت ہے۔انشاء اللہ پھر کبھی۔۔۔۔
مشرقی دروازہ اس وقت 48 فٹ6 انچ کا تھا۔حطیم (کعبہ کے بظاہر باہر نظر آنے والی خستہ جیسی دیوار)کی طرف اس کی لمبائی 33فٹ تھی۔حجرِ اسود سے خط یمانی کے گوشے تک لمبائی 30 فٹ تھی۔مغربی سمت میں اس کی لمبائی 46.5فٹ تھی۔اس کے علاوہ آں حضرت ؐ کی آمدکے قبل کئی اور تعمیرات موجود تھیں۔
قریش کے ذریعے کعبہ کی تعمیر نو: حضور اکرم ﷺ بعثت سے پہلے ہی اس کی تعمیر نو میں ایک دفعہ شامل ہوئے۔ایک اچانک سیلاب کی وجہ سے اس کی دیواروں میں دراریں پڑ گئیں اور دوبارہ تعمیر کی ضرورت پڑ گئی۔یہ ذمہ داری قریش کے چار قبیلوں میں بانٹ دی گئی۔حضوراکرمؐ نے اس کی تعمیر میں مدد پہنچائی۔ دیواروں کی تعمیر کے بعد حجرِ اسود کو اس کی مقررہ جگہ یعنی مشرقی دیوارپر لانا مقصود تھا۔حجت تکرار اس بات پر ہونے لگی کہ کون اس پتھر کو اٹھانے کا صحیح حقدار ہے؟نوبت فساد تک پہنچتی، اس سے قبل مکہ کے سب سے عمر رسیدہ بزرگ ابو امیّہؔ نے مشورہ دیا کہ دوسرے دن سب سے پہلے مسجد کے دروازے میں داخل ہونے والا شخص اس بات کا فیصلہ کرے گا۔ شانِ خداوندی سے یہ شخص اور کوئی نہیں حضور اکرمؐ تھے مکہ والوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ یہی شخص امین و صادق ہے۔آپؐ جب ان کے درمیا ن آئے تو انہیں اس کا فیصلہ کرنے کو کہا گیا۔ آپ تیار ہوگئے۔ایک چادر رکھی ، اور پتھر جو تقریباً 30سنٹی میٹر(12انچ)قطر کاہے اور اب زمین سے 1.5میٹر(لگ بھگ5 فٹ) زمین سے اونچا ہے، کو چادر پر رکھ کر قبیلے کے سرداروں کو کہا کہ مل کر اس کی جگہ پر رکھ دیں۔ چنانچہ ویسا ہی کیا گیا۔
جہاں تک اس کی دینی اہمیت کا تعلق ہے ، اس سلسلے میں حضرت عمر فاروقؓ کی گفتگو کادرج ذیل حصہ ہی کافی ہوگا:
’’ بلا شبہ میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے اور تو نہ تو میرا نقصان کرسکتا ہے اور نہ ہی مجھے فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اگر میں نے اللہ کے رسولؐ ( محمد ﷺ) کو تجھے بوسہ لیتے نہ دیکھا ہوتا،تومیں تجھے کبھی نہ چومتا‘‘
(۔۔۔حضرت عمر فاروقؓ)
۔(***)۔
۱ز: رضوان واسطی
مذہبِ اسلام میں وراثت کی اہمیت : افروز سلیمیؔ
مذہبِ اسلام میں وراثت کی اہمیت
افروز سلیمیؔ
سب ایڈیٹر ’’ عالمی پرواز ‘‘
afrozsalimi155@yahoo.in
مذہبِ اسلام ایک ایسا جامع اور مکمل مذہب ہے کہ اس میں تمام انسانی ضرورتوں کا حل موجود ہے ،ا سی وجہ سے انسانی تہذیب کا کمال مذہب اسلام کی پابندی سے وابستہ ہے ،اور انسانیت کے منازل عالیہ کا حصول اور بلند مراتب کی ارتقاء مذہب اسلام کے بغیر ممکن نہیں ،خداوند کریم نے اس مقدس مذہب کے ذریعہ کہ جس نے تنِ مردہ میں جان پھو نک دی اور انسانیت کا سلیقہ سکھایا،زند گی کے تمام تقاضوں کا حل پیش کیا ہے، اور ہر ہر جز ء حیات میں نہایت ہی جامع اصلاحی نظام اہل عالم کے روبرو رکھاہے،اسی طرح اس عالمِ فانی سے جب انسان رختِ سفر باندہ لیتا ہے تو اس کے مال متاع کے بارے میں ایک ایسانظام اور ایک ایسا قانون رب کریم نے بنایاہے کہ جس کی نظیر ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے۔
جب انسان دنیا وما فیہا کو چھوڑ کر درِآخرت میں منتقل ہو جاتاہے اور اس کے مال واسباب پر ان کی ملکیت باقی نہیں رہتی تو مذہب اسلام نے اس کی تقسیم ایسے صحیح اصولوں پر پیش کیا ہے کہ جس سے وراثت میں انسانی اختلافات اور باہمی کشمکش کو ہمیشہ کے لئے دنیا سے ختم کر دیا اور دنیا کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ یقیناًمذہب اسلام نے شریعت کے ہر ہر جز میں ایک نئی مثال پیش کیاہے ،میں بزور قلم یہ بات باور کرادینا مناسب سمجھتاہوں کہ زمانہ جاہلیت میں مر نے والے کا مال ومتاع پر طاقت ور انسان، وحشیانہ صفت انسان ،اور خود غرض شکم پرور انسان، قا بض ہو جاتے تھے اور وہ ببا نگِ دہل کہتے تھے…………..کیف نعطی المال من لا یر کب فرساََولا یحمل سیفاََ ولا یقاتل عدواََ؟ اور مر نے والے کی یتیم و بے کس اولاد اوربے سہارا بیواؤں کو کچھ بھی میراث سے حصہ نہ ملتا تھا ان یتیم وبے کس کے حلق میں آواز نہ تھی ان کی آخری چیخ اس کے سینے میں دب کر رہ جاتی تھی اور یتیم و بے کس کی نگاہیں یہ پیغام دیتی تھی کہ میں مر چکاہو ں اور میر اجسم میری روح کی قبر بن چکاہے،گویا کہ انہیں مو ت سے قبل ہی موت کے منہ میں ڈال دیا جاتاتھا اور ان کی مظلومیت کی داستانیں سن کر ایک شریف انسان کے چہرے پر غم کے بادل چھاجاتے تھے ۔
غرض یہ کہ درندہ صفت انسان یتیموں کے حقوق پامال کر کے کل مالِ میراث ہضم کر لیتا اور اس ناپاک خصلت اور وحشیانہ
صفت پر شرمندگی کا کچھ اثر بھی نمایاں نہ ہو تا،قرآن کریم نے اس ناپاک عمل کی مذمت بلیغانہ اسلو ب سے اس آیت کریمہ میں بیان فرمایاہے ،الذین یاکلون اموال الیتٰمیٰ ظلماََ انما یاکلون فی بطونہم ناراََ (القرآن )آخر ان ضعیف مظلوموں کی آہ کا دھواں عرش عظیم پر پہنچتاہے اور ان بدکاروں کی حرکتِ ناشائستہ دیکھ کر غیر تِ خداوندی کو جوش آتاہے اور فرماتاہے ،للرجال نصیب مما ترک الوالدان والاقربون وللنساء نصیب مما ترک الوالدان والاقربون (القرآن )اس مجمل حکم سے لوگوں میں ایک کھلبلی سی مچ گئی کہ ذرادیکھیں تو صحیح عورتوں کے لئے کیا حصہ مقرر ہوتاہے،چونکہ ظاہر الفاظ سے یہ گمان تھا کہ عورتوں کو وراثت میں مردوں کے مانند حصہ داربنادیاجائے گا ،اس لئے بعض لوگوں کے اذہان میں تشویش کی لہر دوڈ رہی تھی مگر اس کے بعد نازل ہونے والی آیت کریمہ عورتوں کا ’’مردوں سے آدھاحصہ سن کر ‘‘ان کے چہرے پر مسکراہٹیں بکھر گئیں اور ان کے دل خوشیوں سے بلیّوں اچھلنے لگے۔
یاد کیجئے ! حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کو جو جلیل القدر صحابی تھے ،جنہوں نے احد کی لڑائی میں بارہ زخم کھا کر جام شہادت نوش فرمائی تھی ان کے مال پر ان کے بھائی نے حسب دستور قدیم قبضہ کر لیا،زوجہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ اوران کی بیٹیاں آقائے مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور روتی ہوئی اس مظلومانہ حرکت کی منظر کشی کرنے لگی ،ان کا منظر کشی کر نا رحمت الہی کے لئے ذریعہ بن گیا اور وراثت کا سب سے آخری اور قطعی فیصلہ نازل کردیاگیا ……………..یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین(القرآن)جس میں زوجہ وبیٹیوں کا حصہ اور تمام وارثوں کے لئے وضاحت کے ساتھ قطعی فیصلے مقررکر دیئے گئے،مذہب اسلام میں قاعدۂ میراث کے مطابق جو سب سے پہلی میراث تقسیم ہوئی وہ یہی جلیل القدر صحابی حضرت سعد بن ربیع کی میراث تھی ۔
مذہب اسلام میں وراثت کا وہ اعلیٰ مقام ہے کہ اس نو مولود بچے کو بھی وراثت کے مال سے مالا مال کر دیا جاتا ہے جو مادرِ رحم میں قد م رکھ چکا ہوتا ہے جو طلاق رجعی کی وجہ سے عدت میں ہو بشرطیکہ دورانِ عدت ہی ان کا شوہر انتقال کر گیاہو ۔مذکورہ آیت کے تحت میراث کے ان تمام احکام کی میعاد کو ختم کردیا جو چند ایام کے لئے جاری کئے گئے تھے مہاجر وانصار کی باہمی میراث کا حصہ ختم ،متنبی کو
ترکہ ملنے کا طریقہ معدوم اور وارثوں کے لئے تہائی مال سے زائد کی وصیت ناجائز قراردی گئی ،آقائے مدنی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے مو قع پر پرزور انداز میں ایک خطبہ دیا اور مجمع عام میں یہ اعلان فرمایا ،ان اللہ قد اعطیٰ کل ذی حق حقہ فلاوصیۃ لوارث ،خداوند کریم نے ہر حق والے کا حصہ مقرر فرمایا ہے ،لہذا وارث کے حق میں تہائی مال سے زائد کی وصیت کر نا جائز نہیں رہا ،مذہب اسلام نے وراثت کے سارے احکام اور کمزوروں کے تمام حقوق کو متعین فرمایاہے،اور یہ اصول ہمیشہ کے لئے واجب العمل اور قیامت تک کے لئے دستورِحیات ہیں۔
))()((
افروز سلیمیؔ
سب ایڈیٹر ’’ عالمی پرواز ‘‘
afrozsalimi155@yahoo.in
سدارہے یہ زورِ قلم : افروز سلیمی
اسلام کی اشاعت میں صحافت کا ایک اہم رول رہاہے ،اسی لئے صحافت کی ایک جامع کتاب ’’ ایکس پلورنگ جر نلزم’’میں اس کی جامع تعریف کی گئی ہے کہ ’’جو صحافت ، جدید ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی معلومات ،رائے عامہ اور عوامی تفریحات کی باضابطہ اور مستند اشاعت کا کارنامہ انجام دے ‘‘ [فن خطابت] معاصرِ دنیا کی ترجما نی ،ماحول کی عکاّسی ، رائے عامہ کی نبّاضی اور اندازِ فکر کا تجزیہ صحافت کی اصل روح ہے ۔اور کیوں نہ ہو جب کہ خود اللہ تعالیٰ نے اسی صحافت کی مناسبت سے اپنے پیا رے رسولﷺ کا دفاع کرتے ہوئے قلم کی قسم کھائی اور فرمایا قسم ہے قلم کی جو لکھتے ہیں، آپ اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے،یہی وہ قلم ہے جو مختلف ادوار زمانوں ،قوموں ،مذاہب اور ادیان کے مناظر ہمیں دکھاتا ہے،قلم کی حکمرانی اور توانائی کا انکار نہیں کیاجاسکتا۔ بقول مولانا علی میاں ندوی علیہ الرحمہ کہ دین کی دعوت واشاعت اسی وقت موثر ہوتی ہے جبکہ زبان وقلم میں زور ہو،جن لوگوں نے اشاعتِ اسلام کی تاریخ میں بڑاکا رنامہ انجام دیا اور مسلمانوں کے خیالات ورجحانات پر گہرااثرڈالا وہ عموماََ زبان وقلم کے شہنشاہ تھے ۔
محدث دہلوی حضرت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کی تصنیف شدہ ’’حجۃاللہ البالغہ ‘‘ علمی زبان وقلم کا ایسانمونہ ہے کہ مقدمہ ابن خلدون کےؓؑ بعد ِان صدیوں میں اس سے بہتر کو ئی نمونہ نظر نہیں آتا ۔[پاجاسراغ زندگی]
امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد ؒ فرمایا کر تے تھے کہ سب سے بڑامقام جو کسی انسان کے لئے ہو سکتا ہے وہ یہ کہ وہ شخص مضمو ن نگارہو ،اور اس سے بڑامقام یہ ہے کہ کسی اخبار یا رسالہ کا ایڈیٹرہو۔[قلم گوید کہ من شاہ جانم ]
یاد رکھیئے گاجرمنی کودو دو ہولناک جنگوں کے بعد بھی اس لئے باقی رکھاگیاکہ اس نے اپنی صلاحیت کا ثبوت زبان وقلم سےدیا،اس کو ہمیشہ کے لئے کوئی ختم نہیں کر سکا ،بہت سی قومیں دنیا میں ہیں جو بالکل ختم ہو گئیں،لیکن بہت سی قومیں ایسی ہیں جو بار بار شکست کھانے کے بعد بھی باقی ہیں ،مسلمانوں نے تاتاریوں سے شکست کھائی اور ایسی شکست کھائی کہ شاید دنیا کی کسی قوم نے ایسی شکست نہیں کھائی تھی ،لیکن چونکہ ان کے اندر ’’ماینفع الناس ‘‘ کا مادہ تھا ،ان کے اندر زبان وقلم کا ملکہ تھا ،وہ ایک پیام رکھتے تھے ،وہ ایک زندہ دعوت رکھتے تھے ،اس لئے تاتاریوں کو ان کے سامنے جھکناپڑا،وہ تاتاریوں کے سامنے جھکے ،ان کی تلوار کے سامنے جھکے ،لیکن تاتاریوں کی تلواروں کو،دلوں کو ،اور دماغوں کو اِن کی نافعیت کے سامنے ،اِن کے قلم کے سامنے اور اِن کے پیام کے سامنے جھکنا پڑا،اور ایسا جھکا کہ ساری دنیاکو تہہ وبالا کر ڈالا۔(پاجاسراغ زندگی)
بقائے اسلام واشاعت اسلام کے سلسلے میں قلم کا کر دار ہر دور اور ہرزمانے میں مسلّم رہاہے ،از ماضی تاحال حضرت انسان نے قلم کا سہارالیاہے،اسی لئے بین الاقوامی اردو ادب کا واحد ترجمان ’’عا لمی پرواز‘‘کے پہلاشمارہ کے بینر تلے یہ پہلی آوازہے کہ………………………………..سدارہے یہ زورِقلم …………