ایک نظم: اپنے بیٹے کے نام! ڈاکٹر زین رامشؔ
ایک نظم: اپنے بیٹے کے نام!
ڈاکٹر زین رامشؔ
مرے بیٹے!
تمہارا چہرہ پر نور
میرے دل میں بستا ہے
تمہاری مسکراہٹ ذہن کی تاریکیوں میں
نور بنتی ہے
مری راتیں تمہاری خواب کی تعبیر چنتی ہیں
محبت کی
لطافت کی
صباحت کی
عجب تصویر بنتی ہے
میں اس تصویر کو
آنکھوں میں پھر محفوظ کرتا ہوں
تصور کی نگاہوں سے
اسی تصویر میں پھر رنگ بھرتا ہوں
حسیں رنگوں کی آمیزش
نئے منظر سجاتی ہے
وہی منظر دل و جاں کو
متاع سرفرازی بخش دیتا ہے
مرے بیٹے!
تمہارا چہرہ پر نور
میرے دل میں بستا ہے
تمہاری ہر ادا
مجھ کو بہت مسرور کرتی ہے
تمہاری قامت زیبا
نگاہوں کو سحر انگیز کرتی ہے
عجب ایک کیف کی لذت
مرے باطن کا حصہ بنتی جاتی ہے
اٹھا تا ہوں دعا کو ہاتھ جب
تم مسکراتے ہو
مری معصومیت پر
بے قراری پر
مرے جذبات پر،بے اعتباری پر
مگر میرے لئے تو عظمت رفتہ
متاع زندگی ہے نا؟
مرے بیٹے!
تمہارا چہرہ پر نور
میرے دل میں بستا ہے
تمہاری زندگی کی ساعت مسعود
میری عافیت کا ایک ذریعہ ہے
مجھے رغبت نہیں ہے مال وزر سے
شہرت ومقبولیت سے،دنیا داری سے
مرے بیٹے!
طریق زندگی کو اور بھی شفاف کرنا ہے
دلوں کو جیتنا،گرد کدورت صاف کرنا ہے
اگر اسلاف کی تقدیس بس محفوظ ہو جائے
تو لازم ہے کہ میرا ذہن ودل مسرور ہو جائے
مرے بیٹے!
تمہارا چہرہ پر نور
مرے دل میں بستا ہے
دعا ہے کہ خدا تم کو
متاع عہد رفتہ کا امیں کردے
تمہاری زندگی کو پھر
شعاع علم وحکمت سے فزوں کردے
تمہارے بخت کی طاقوں پہ شمع علم روشن ہو
تمہارے گھر کی دیواروں پہ جو بھی نقش ہوں
علم وہنر کے ہوں
تمہاری شخصیت اور علم گویا
لازم وملزوم ہوجائے
———————————
ہوا کو باندھ کے طوفان کر دیا گیا ہے: دلشاد نظمی
غزل
دلشاد نظمی
ہوا کو باندھ کے طوفان کر دیا گیا ہے
چلیں گی آندھیاں اعلان کر دیا گیا ہے
پتہ نہیں میں کبھی فائدہ بھی لکھ پاؤں
کچھ اس قدر مرا نقصان کر دیا گیا ہے
یہاں سے امن کے حامی گزرنے والے ہیں
یہ رستہ اس لئے سنسان کر دیا گیا ہے
بھگت رہا ہوں میں وعدوں کی تلخ سچائی
تجھے بھی ماءلِ امکان کر دیا گیا ہے
قصاص مانگ رہا تھا امیرِشہر سے جو
دِیَت میں اس کو بھی قربان کر دیا گیا ہے
اٹھا دیے گئے رستوں سے میل کے پتھر
مسافروں کو پریشان کر دیا گیا ہے
بنا دئیے گئے معصوم لوگ دہشت گرد
منافقوں کو مسلمان کر دیا گیا ہے
وہ آخری تھی مری چیخ.اور یہ تازہ لہو
ابھی ابھی مجھے قربان کر دیا گیا ہے
خود اپنے آپ سے دلشاد کچھ نہ کہہ پاؤں
یہ کس قدر مجھے بے جان کر دیا گیا ہے
——–
دلشاد نظمی
بے پردہ سرو تم پہ ردا کیوں نہیں آتی :احمد نثارؔ
نظم
احمد نثارؔ
بے پردہ سرو تم پہ ردا کیوں نہیں آتی
٭٭٭٭
اس دور جہالت کو قضا کیوں نہیں آتی
ہر سمت محبت کی فضا کیوں نہیں آتی
ٹھوکر سے سنبھلتے ہیں سبھی، تو نہیں سنبھلا
آخر تجھے جینے کی ادا کیوں نہیں آتی
کیوں بوجھ سمجھتے ہیں سروں پر یہ دپٹے
بے پردہ سرو تم پہ ردا کیوں نہیں آتی
کیا ہوگیا تقویٰ کی نظر تیری نظر کو
آوارہ نگاہوں کو حیا کیوں نہیں آتی
تا عمر جہنم کے خزینے کو کما کر
روتا ہے کہ جنت کی ہوا کیوں نہیں آتی
کیا بیچ دیا تونے ضمیروں کو زمانے؟
تجھ کو تِرے اندر کی صدا کیوں نہیں آتی
دعویٰ ہے تمہیں اپنی وفاؤں پہ ولیکن
ہر سمت سے پھر بوئے وفا کیوں نہیں آتی
بوتے ہی نہیں بیج وفا اس پہ ستم یہ
کرتے ہیں گلہ شاخ وفا کیوں نہیں آتی
اخلاص و قرینے سے نثارؔ آپ پکاریں
پھر دیکھئے رحمت کی گھٹا کیوں نہیں آتی
٭٭٭
احمد نثارؔ
E-mail: ahmadnisarsayeedi@yahoo.co.in
وقت گواہ ہے: رضواں ؔواسطی
وقت گواہ ہے
رضواں ؔواسطی
جمشیدپور
اس کے خلاف آواز اٹھانا دہشت گردی
ظلم کو سہنا بھی تو ظلم ہے
کچھ لوگوں نے ’ستونِ دار‘ کو
’سر کے چراغوں‘سے تھا سجایا
اب وہ کہاں ہیں؟
کچھ دیوانے ’کوئے یار‘ سے نکلے
’سوئے دار‘ چلے تو
کسی نے سرخ آنچل کو پرچم بنا کے دیکھا
مڑ کے نہ دیکھا
سرخ سویرا خواب تھا ان کا
ؒخواب رہ گیا
قفس کی دیواروں سے سر ٹکراتے رہے وہ
کچھ دیواریں ٹوٹی بھی تھیں
لیکن کچھ آزاد پرندے
مست مگن تھے اپنی اڑانوں میں
کچھ ایس
اپنی حدوں سے آگے بڑھ گئے
جنت ان کے قدموں کی جاگیر بن گئی
پیچھے مڑ کر دیکھتے بھی کیوں؟
اپنے ساتھی تاریکی میں کیسے ڈوبے؟
تاریکی یاظلمت ان کو نظر بھی آخر کیسے آتی؟
ان کی آنکھوں پر تواپنے نئے افق کی
دھول جمی تھی ….سوچا ہم کو جنت مل گئی
سچ یہ نہیں تھا، سچ یہ نہیں ہے
ان کو یہ بھی علم نہیں تھا
انقلاب کے پیچھے بھی اک انقلاب ہے
ایک نیا طوفان کھڑا ہے
اس طوفان کا نام تو چاہے جو بھی رکھ لیں
سائیکلون،ٹارنیڈو، آندھی، آئیلا، ہریکین،
کال بیساکھی،شمال،کیٹرینا یا سونامی
یہ بھی تو سوچیں
یہ سارے طوفان زمیں پر کیوں اگتے ہیں؟
کیوں اٹھتے ہیں؟
یہ بھی زمیں کے پروردہ ہیں
ہند وپاک، افغانستان، عراق،ایران،
شری لنکا، نیپال……
کہیں بھی اٹھ سکتے ہیں
سارے زمیں کے ہی بیٹے ہیں
انقلاب کی کروٹ
جب بھی بدلی ہے دھرتی نے
جنم لیا ہے ایک نئے طوفاں نے
اور یہ نمائندہ ہیں وقت کے
وقت غلام نہیں ہے کسی کا،
وہ کیا سمجھتے ہیں جن کے ہاتھوں میں نیوکلیائی
ہتھیاروں کے ہیں ذخیرے
جن کے قبضے میں دنیا کا ’امن کدہ‘ ہے
امن کی باتیں ان سے سیکھیں؟؟؟
جو اک جانب ہر طوفان کھڑا کرتے ہیں
دوسری جانب،اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے
بیچ کے اپنی جیب ہیں بھرتے
جھوٹ فریب اور مکاری کو
جیسے چاہیں فروغ دے لیں
ذرائع ابلاغ جو ان کے قبضے میں ہیں
بے ایمانی اور مکاری کے اشتہار سے
نئی نئی سرحدیں بناکر
نام نہاد دہشت گردوں پر
پابندی عائد کرتے ہیں
بھولی بھالی دنیا کو یہ بیوقوف
جب چاہیں بنالیں
جس سے جس کو جب لڑوالیں
جنگ کے جال یہی بنتے ہیں
یہی امن کے ٹھیکیدار ہیں
امن کی باتیں ان سے سیکھیں؟۔ا ن سے؟؟
بڑے بڑے فرعونؔ، کنسؔ، نمرودؔاورراونؔ
کہاں کھو گئے،فنا ہوگئے
یہ بھی دھند میں کھو جائیں گے
یہ بھی ماضی ہوجائیں گے
سیکھنا ہے تووقت سے سیکھیں
”وقت گواہ ہے،
بیشک! انساں صرف سراسرگھاٹے میں ہے
سوائے ان کے جن کو یقینِ کامل ہے
اور جنہوں نے اچھے کام کیے ہیں
جنہوں نے حق کانام لیا ہے
اور صبر سے کام لیا ہے“
٭
وطن کی فریاد: احمد نثارؔ
وطن کی فریاد
(ایک گیت)
شاعر: احمد نثارؔ
ممبئی، مہاراشٹرا
Mob: 09325811912 / 9175562265
Email: ahmadnisarsayeedi@yahoo.co.in
آپ کا ملک ہو ں کچھ تو میری سنو
آپ کا ملک ہو ں، کچھ تو میری سنو
میری آواز ہے، میرے نالے ہیں یہ
میری فریاد ہے، کچھ تو میری سنو۔۔۔۔ آپ کا ملک ہوں کچھ تو میری سنو!
خوں سے یوں نہ رنگو، میرے اِتِہاس کو
یوں نہ توڑو کبھی، میرے وشواس کو
میں کبھی بھی تمہیں، غیر جانا نہیں
مجھ کو اپنا کبھی، تم نے مانا نہیں
دھرم کے نام ملکوں کی تقسیم کی
کیا کبھی میں نے نفرت کی تعلیم دی
کیوں محبت کے دامن کو چھوڑے ہوتم
اپنے ہی آپ سے مُنہ کو موڑے ہو تم
میری آواز ہے میرے نالے ہیں یہ
میری فریاہے کچھ تو میری سنو۔۔۔۔ آپ کا ملک ہوں کچھ تو میری سنو!
حملہ ور بن کے آئے یہاں ہر کوئی
آریہ، ہون ہو، یا ہو مسلم کوئی
تم ہو کس دھرم کے میں نے پوچھا نہیں
تم ہو کس نسل کے میں پوچھا نہیں
میں نے دامن بچھایا تھا، ہر ایک کو
میرا گلشن سجایا تھا، ہر ایک کو
اور بدلے میں دیکھو، مجھے کیا مِلا
میرا دامن یوں ٹکڑوں میں بٹوا دیا
جن پہ میں ناز کرتا تھا خاموش ہیں
میرا احساں لئے بھی فراموش ہیں
میری آواز ہے میرے نالے ہیں یہ
میری فریاد ہے کچھ تو میری سنو۔۔۔۔آپ کا ملک ہوں کچھ تو میری سنو!
اتنا سب کچھ ہوا پھر بھی خاموش ہوں
آنکھ نم ہیں تو کیا دِل کا پُر جوش ہوں
گر چکے ہو اگر تم، سنبھل جاؤ گے
نفرتوں کے شرر سے، نکل آؤگے
آپ ہی سے میری، اور میری آپ سے
جان بھی ہے یہاں، اور پہچان بھی
اک نہ اک دن یہ نفرت بھی، مٹ جائے گی
اور محبت کی رونق، پلٹ آئے گی
پھر سے پھیلے گا دامن، مِرا دیکھنا
پھر سے آباد گلشن مِرا دیکھنا
میری آواز ہے میرے نالے ہیں یہ
میری فریاد ہے کچھ تو میری سنو۔۔۔۔آپ کا ملک ہوں کچھ تو میری سنو!
٭٭٭٭
شاعر: احمد نثارؔ
ممبئی، مہاراشٹرا
Mob: 09325811912 / 9175562265
Email: ahmadnisarsayeedi@yahoo.co.in
وہ اتنا کم سے کم تو مہرباں ہے : منصورخوشترؔ
غزل
منصورخوشترؔ
وہ اتنا کم سے کم تو مہرباں ہے
مرا ہی نام زیبِ داستاں ہے
سلیقے سے جو کرتا دشمنی بھی
ستمگر اب کوئی ایسا کہاں ہے
کہانی شوق کی ہے میرے اتنی
کہ اک مٹی کا پانی پر مکاں ہے
مجھے اب کیا کسی شے کی ضرورت
ترا غم جب متاعِ جاوداں ہے
بھلا کیسے یقیں اس پر کروں میں
مرا محبوب مجھ سے بدگماں ہے
کہانی فیس بُک پر ہے رقم اب
محبت اپنی مشہورِ جہاں ہے
مجھے خوشترؔ وطن اپنا ہے پیارا
زمیں پر خُلد یہ ہندوستاں ہے
منصورخوشترؔ
اب نہ جاگو گے تو پھر بیکار ہے : احمد نثارؔ
غزل
شاعر: احمد نثارؔ
اب نہ جاگو گے تو پھر بیکار ہے
سوچ لو یہ وقت کی للکار ہے
کیا عجب دل کیا عجب دلدار ہے
تیرے گلشن میں نہ گل، نہ خار ہے
میان ہے نہ دھار کی تلوار ہے
اب خودی ہے نہ کوئی خود دار ہے
رقص ہے نہ روح کے طاؤس میں
دل کی پائل میں نہ اب جھنکار ہے
اک مذاقِ زندگی ہے یہ مزاح
نامِ فن ہے، اب کہاں فنکار ہے
یہ سمجھنا ہی بہت مہنگا پڑا
زندگی یہ کونسی دشوار ہے
اپنے آباء کی کبھی تاریخ پڑھ
جان، دشمن، کون تیرا یار ہے
اپنی دانائی سے تھوڑا کام لے
دیکھ بیڑے کتنے کرنا پار ہے
کل تلک تھی آبرو گھر کی بنے
آج ننگے سر، سرِ بازار ہے
بے حیائی سر چڑھا کر، دیکھئے
ساری دنیا بن گئی آزار ہے
کھول کر کہہ دے تو دل احمد نثارؔ
آگ دل میں پالنا بیکار ہے
٭٭٭٭
شاعر: احمد نثارؔ
Email: ahmadnisarsayeedi@yahoo.co.in
غزل : احمد نثارؔ
غزل
شاعر : احمد نثارؔ
دیارِ عشق میں تنہا کھڑا، کھڑا ہی رہا
محبتوں کے نگر میں پڑا، پڑا ہی رہا
ثمر خلوص و محبت کے تازہ تر ہی رہے
کدورتوں کا ثمر تھا سڑا، سڑا ہی رہا
تھے خواب جتنے بھی تعبیر سے پرے، لیکن
نگاہِ ناز کا شیدا، اڑا، اڑا ہی رہا
وہ چھوٹی سوچ کا مالک، سمٹ گیا لیکن
خیال و فکر میں جو تھا بڑا، بڑا ہی رہا
ہوا کے ساتھ سفر کر، جہاں میں پھیل گیا
انا کی قبر میں جو تھا گڑا، گڑا ہی رہا
ذرا سی تند پہ شاخوں سے گر گئے پتے
درخت جو بھی زمیں سے جڑا، جڑا ہی رہا
وہ ظرف چھوٹا تھا، پانی بھی کم ملا اس کو
جو اعلی ظرف کا مالک گھڑا، گھڑا ہی رہا
نثارؔ آپ تلاتم سے کھیلتے ہی رہے
یہ زندگی کا سفر تھا کڑا، کڑا ہی رہا
٭٭٭٭٭
شاعر : احمد نثارؔ، شہر پونہ، مہاراشٹر، انڈیا۔ Email: ahmadnisarsayeedj@yahoo.co.in
غزل : نورؔ جمشیدپوری
غزل
نورؔ جمشیدپوری
دل سے دل کا جب تلک کہ رابطہ ہوتا نہیں
پیار کہتے ہیں جسے وہ حادثہ ہوتا نہیں
بارہا سوچا کہ بڑھ کر ہاتھ اسکا تھام لیں
حوصلہ کرتے ہیں لیکن حوصلہ ہوتا نہیں
بس رہا تھا سانس بن کر کل تلک جو روح میں
مدتوں اب اس کو مجھ سے واسطہ ہوتا نہیں
ایک دوجے کو بھلا کیسے بنیں گے ہم خیال
اس سے جب تک گفتگو کا سلسلہ ہوتا نہیں
ہم بڑھاتے دو قدم گر وہ بھی آتا دو قدم
آگیا ہے درمیاں جو فاصلہ ہوتا نہیں
دل کی ویرانی مرے چہرے پہ پڑھ پاتا اگر
اس طرح سے آج مجھ پر وہ خفا ہوتا نہیں
چاہتا ہے ہر گھڑی دل نور کی قربت مگر
پیار بھی تو اس سے لیکن برملا ہوتا نہیں
غزل : صدام غنی
غزل
صدام غنی
شجر کی نرم و نازک پتیّاں دل کو لبھاتی ہیں
ہوائیں اپنی دھن میں راگنی اب بھی سناتی ہیں
وہی خاموش منظر ہے وہی مہکی فضائیں ہیں
بس ایسے میں تری یادیں مجھے پاگل بناتی ہیں
کبھی وعدے محبت کے کبھی قسمیں وفاؤں کی
خیالوں میں وہ باتیں آج بھی دل کو دکھاتی ہیں
لب نازک پہ باتیں پیار کی آنکھوں میں اک جادو
شب غم میں تری الفت کی باتیں یاد آتی ہیں
کبھی چھیڑا کوئی نغمہ وفا کے ساز پہ ہم نے
تو ایسے میں مجھے تری صدائیں یاد آتی ہیں
یہ حسرت رہ گئی تھی دم نکلتا ان کی باہوں میں
وہی حسرت بہ شکل زخم دل ہم کو رلاتی ہیں
کبھی تو راس آئے مجھ کو میرے خواب کی دنیا
مگر خوابوں کا کیا خوابوں کی باتیں یاد آتی ہیں