مہینوں کا سلطاں:احمد نثارؔ
مہینوں کا سلطاں
احمد نثارؔ، شہر پونہ، مہاراشٹر، انڈیا
مہینوں کا سلطاں،ہے یہ ماہِ رمضاں
کہ تکمیلِ ایماں، ہے یہ ماہِ رمضاں
ہلال آگیا ہے نظر آسماں پر
جو برلائے ارماں، ہے یہ ماہِ رمضاں
جو ننھے جواں اور بوڑھوں کے حق میں
سجایا گلستاں، ہے یہ ماہِ رمضاں
ہیں روزوں کے جھرنے، نمازوں کے چشمے
عبادت کا ساماں، ہے یہ ماہِ رمضاں
کہ درسِ وفا درسِ ایثار دیتا
ہوا جو درخشاں، ہے یہ ماہِ رمضاں
سیاہی زمانے کی دھونے دھلانے
جو بخشا ہے یزداں، ہے یہ ماہِ رمضاں
غریبوں امیروں کو نزدیک لانے
ہمیشہ ہی کوشاں، ہے یہ ماہِ رمضاں
مکاں لامکاں کی جو نسبت بتائے
سنو اہلِ ایماں، ہے یہ ماہِ رمضاں
نثارؔ آپ بھی اپنی دولت کما لو
مہینے کا مہماں، ہے یہ ماہِ رمضاں
٭٭٭٭٭
احمد نثارؔ، شہر پونہ، مہاراشٹر، انڈیا
غزل: رضواں ؔ واسطی
غزل
رضواں ؔ واسطی
کوئی کشتی کا ناخدا ہے نا
لاکھ طوفان ہو، خدا ہے نا
بے زبانی زبان کی تاثیر
لب پہ خاموش مدّعا ہے نا
پیاسی نظروں سے پینا جرم ہے کیا
مے کدہ آنکھوں کا کھلا ہے نا
عشق کا ہر قدم مبرّم ہے
رَہ معلّق تو حسن کا ہے نا
فرق رجحان اور سمجھ کا ہے
چاندنی سے بھی گھر جلا ہے نا
شعر بازیگری ہے لفظوں کی
ذہن معنیٰ بھی ڈھونڈتا ہے نا
میری چُپ بھی لگے انہیں تکرار
بولو رضواں ؔیہ انتہا ہے نا
غزل : یامین چودھری
غزل
یامین چودھری
گِلے شکوے مِٹاکر دیکھتے ہیں
ذرا نزدیک آکر دیکھتے ہیں
گھُٹن ہونے لگی اب تو صحن میں
یہ دیواریں ہٹا کر دیکھتے ہیں
تلاشیں بے غرض دنیا کہیں پر
چلو بچپن میں جا کر دیکھتے ہیں
نئی نسلوں کے خوابوں کی زمین کو
سیاست سے بچا کر دیکھتے ہیں
وہ خونریزوں کے شیشے کے گھروں پر
کوئی پتّھر اُٹھا کر دیکھتے ہیں
کِسی معصوم کی معصومیت کو
درِندوں سے بچا کر دیکھتے ہیں
وفاؤں کا اُنہیں ہے پاس کِتنا
نظر اُن سے ملا کر دیکھتے ہیں
اُجاڑی ہے جو بستی نفرتوں نے
اُسے پِھر سے بسا کر دیکھتے ہیں
تمہارے گیت میں اشعار اپنے
ملا کر گنگنا کر دیکھتے ہیں
غزل : نورؔ جمشید پوری
غزل
نورؔ جمشید پوری
ہےسیا ست میں کثافت کی حکومت کیا کروں
رائیگاں اب جارہی ہے ہر شہادت کیا کروں
دیکھ حالت ملک کی اب خون کے آنسو بہے
مل گئی ہے بے ضمیروں کی قیادت کیاکروں
راستہ تھا کون سا ؟ کس راہ پر یہ چل پڑی؟
بڑھ رہی اب قوم میں اپنی ضلا لت کیا کروں
حادثے کچھ دیکھ عبرت سے بھرے، آنکھیں کھلیں
ہاتھ کا یہ میل لگتی ہے بضاعت کیا کروں
لغزشوں سے دور ہوتے، جو دلوں کو جوڑ دے
ایسا کوئی بھی ملے نہ اب وساطت کیا کروں
نذر آتش کردیا ہے ہر سخاوت کا حساب
وقتِ رخصت آگیا ہے اب اشاعت کیا کروں
چین پایا دن میں، نہ ہی رات دیکھی نورؔ نے
اس سے بڑھ کر اب بتاؤ میں ریاضت کیا کروں
نورؔ جمشید پوری
غزل : نورؔ جمشید پوری
غزل
نورؔ جمشید پوری
ادا پہ ایسے بندے کی خدا بھی مسکراتا ہے
انا کو چھوڑ پیچھے جو کہ روٹھوں کو مناتاہے
چمک ہوتی ہے جس کی مختلف کچھ اور تاروں سے
اسے پھر آسماں بھی جھک کے بانہوں میں اٹھاتا ہے
لکیروں میں مقدر ڈھونڈنے کا وہ نہیں قائل
جو اپنے بازوؤں کے دم پہ قسمت کو بناتا ہے
تو پھرہر موڑ پر ملتی ہیں بس ہموار راہیں ہی
اگر کوئی کسی کی راہوں کے پتھر ہٹاتا ہے
برستی ہے سدا رحمت خدا کی اسکے آنگن میں
رضا کے واسطے رب کی جو بچھڑوں کو ملاتاہے
جو بند آنکھوں نے دیکھا تھا اسے تم خواب مت سمجھو
ہے سپنا در حقیقت وہ جو نیندوں کو اڑاتا ہے
رقم کرتا نہیں تاریخ کوئی یوں ہی صفحوں پر
پسینے کی شکل میٰں خون وہ اپنا بہاتا ہے
بڑھا دیتا ہے اپنا مول سونے سا نکھر کر وہ
جو روز و شب لگن کی آنچ میں خود کو تپاتا ہے
یقینا نور سے وہ علم کے سرشار ہوتا ہے
دیا انسانیت کا اس جہاں میں جو جلاتا ہے
سانحہ پشاور : نورؔ جمشید پوری |
سانحہ پشاور : نورؔ جمشید پوری
ان آنکھو ں سے یہ اشکوں کا سمندر کیوں بہا ڈالا
جو منظر دید کے قابل نہ تھا تو نے دکھا ڈالا
ارے ظالم بتا کیا دشمنی تھی تیری بچوں سے
ابھی تو ٹھیک سے کھولی نہ تھیں آنکھیں سلا ڈالا
تو ترسے گا شفاعت کو نبی کی روزِ محشر میں
شرم سے انکی امت کا جو تونے سر جھکا ڈالا
تو انساں ہو نہیں سکتا، یہ حیواں کر نہیں سکتا
عمل نے تیرے وحشی، پتھروں کو بھی رلا ڈالا
ازل سے بر بریت کی جو سنتے آئے تھے تونے
بس اک پل میں وہ ساری ہی مثا لو ں کو مٹا دالا
ابھی اک لمحہ پہلے تھا چمن گلزار پھولوں سے
کچل کر کیوں گلوں کو اس طرح صحرا بنا ڈا لا
ستوں ایمان کا اک لازمی انسانیت بھی ہے
ارے شیطان تو نے آج اسکو بھی ہلا ڈالا
بھلا کب دی تجھے اجداد نے ورثے میں سفاکی
تو آکر کس کے بہکاوے میں ،سب کچھ ہی بھلا ڈالا
خبر تجھ کہ نہیں ظالم تجھے اب زیر کرنے کو
دیا اک عزم کا ہر دل میں تونے ہی جلا ڈالا
تجھے تھا خوف کیا کل نور سے انکے جو یوں تونے
نہ جانے کتنے آنگن کے چراغوں کو بجھا ڈالا
نورؔ جمشید پوری
غزل : دلشاد نظمی
غزل
دلشاد نظمی
یہ الگ ہے کہ مرے ہاتھ نہ آئی دنیا
پر فقیری نے بہت سیر کرائی دنیا
جوڑ، تقسیم ، ضرب سے نہیں رکها مطلب
کهو دیا اس سے زیادہ جو کمائی دنیا
مجھ کو دیوانہ سمجهتے رہے دنیا والے
ساری دنیا سے الگ میں نے بنائی دنیا
اپنی دنیا سے نبهانا ہی بہت مشکل ہے
اس پہ اپنانے کو آئی ہے پرائی دنیا.
خواب میں میرے کوئی اور جہاں روشن تها
صبح دم میں نے وہی سامنے پائی دنیا
مجھ پہ اب جا کے کهلا وہ مری دنیا کا نہ تها
ہائے کس شخص کی آنکهوں سے چرائی دنیا
ہم تو پرکهوں کی بنائی ہوئی دنیا میں رہے
اور بچوں نے الگ اپنی بنائی دنیا
لے گئی مجھ کو ہوس دور بہت دور مگر
اپنی دنیا میں مجهے کھینچ کے لائی دنیا
وقت رہتے ہوئے دلشاد گنوا دی میں نے
اور پهر مڑ کے مرے پاس نہ آئی دنیا
دلشاد نظمی
گیت : نیاز اختر
نیاز اختر
(گیت)
ایس۔ڈی۔او ۔آفس جمشیدپور
سجن کیوں بھول گئے ہو گاؤں
کھیتوں کی وہ بھیگی مٹی
ہردم سوندھی سوندھی مٹی
ماں کی گودی جیسی مٹی
وہی دھوپ اور چھاؤں
سجن کیوں بھول گئے ہو گاؤں
اب بھی چلتا رو ز ر ہٹ ہے
اب بھی ویسا ہی پنگھٹ ہے
بہتی ندیاں گیلا تٹ ہے
جہاں پڑے تھے پاؤں
سجن کیوں بھول گئے ہو گاؤں
لگتے ہیں ویسے ہی میلے
ناٹک کھیل تماشے جھولے
سکھیوں سے سن کر من ڈولے
ساتھ میں کس کے جاؤں
سجن کیوں بھول گئے ہو گاؤں
پتہ پتہ ڈالی ڈالی
کہکے جب کؤیلیا کالی
میں برہن ہو کر متوالی
کس کو د رد سناؤں
سجن کیوں بھول گئے ہو گاؤں
کیسے کاٹوں سونی رتیا
کاہے بھولے ساری بتیا
دکھ سے پھٹتی موعی چھتیا
دل کے زخم کسے دکھلاؤں
سجن کیوں بھول گئے ہو گاؤں
نیاز اختر
ایس۔ڈی۔او آفس جمشیدپور E-mail- niyazakhtar40@gmail.com
غزل : رجنیؔ ملہوترا
غزل
رجنیؔ ملہوترا
DVC Bokaro thermal
Distt – Bokaro- Jharkhan
آئے گا انقلاب رہنے دے
سچ کے منہ پر نقاب رہنے دے
اپنا دامن بچا کے تو رکھنا
ہے زمانہ خراب رہنے دے
یہ ضروری نہیں کہ جھوٹے ہوں
اپنے پلکوں پہ خواب رہنے دے
اپنی سانسوں میں لمس کی خوشبو
مثلِ بوئے گلاب رہنے دے
شرم زیور ہے پھر بھی عورت کا
کچھ تو باقی حجاب رہنے دے
میں نے آنکھوں سے پڑھ لیا سب کچھ
زندگی کی کتاب رہنے دے
ناز کس شئے پہ ہو یہاں رجنیؔ
زندگی ہے حباب رہنے دے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل محمدقسیم اختر
غزل
محمدقسیم اختر، مدیر( اعزازی)
At. Bahadarpur
P.o. Amour, Distt. Purnea
Pin 854315 (Bihar) Mob. 9470120116
بڑھنے لگی ہے گرمئ بازار کیا کریں
حیرت زدہ ہیں آج خریدار کیا کریں
فصل بہار آئی سماں کیف کا لئے
بجنے لگے ہیں جسم کے ہر تار کیا کریں
کالی گھٹا نے جب ڈھکا ماہِ تمام کو
باد نسیم تھم گئی دیدار کیا کریں
عشقِ بتاں ہو عشقِ خدا ہو کہ آپ ہوں
خونِ جگر کے سب ہیں طلبگار کیا کریں
چشمِ خموش کانپتے لب دیکھے آپ نے
اب تشنگی کے ذوق کا اظہار کیا کریں
آیا ہے لیس ہو کے وہ اسبابِ قتل سے
دکھتے نہیں ہیں جینے کے آثار کیا کریں
بجلی گرا دو خاک ہوا چاہتے ہیں ہم
درد جگر سے آج ہیں لاچار کیا کریں
دستِ ستم میں آپ ہی خنجر کو رکھ دیا
یارو بتاؤ مجھ سے یہ فنکار کیا کریں
رعنائیاں وشوخیاں سب اس سے جا ملیں
کوئی نہیں ہے اپنا طرفدار کیا کریں
اخترؔ وفورِ درد سے ہم مسکرادئے
ورنہ ہے دل میں زخم کی بھرمار کیا کریں۔