Skip to main content

Aalamiparwaz

غزل : فیروزؔ اقبال

 غزل

 فیروزؔ اقبال

 
 متاعِ حیات محبت کی راہ میں
سب کچھ لٹایا ہے اُنکی چاہ میں
پھول سے چہرے ہزار ہیں راہ میں
کھڑے ہیں مگر ہم ایک کی چاہ میں 
بادِ صبا مل کے خاروں کے ساتھ
چاک کرے ہے دامن اُن کی راہ میں
بیاں بھی نہ ہو درد سہا بھی نہ جائے
عجیب لذّت ہے عشق کی آہ میں
بھول کر تلخیاں چلے آؤ فیروزؔ 
شباب گم نہ جائے تمہاری چاہ میں 

*** 

contact No. 09423254346
فیروزؔ اقبال 
ناگپور ہندوستان

غزل : ڈاکٹر افسر کاظمی

 غزل

 ڈاکٹر افسر کاظمی

 مجھے پھر قتل کرنے کا تو کوئی فیصلہ لے لے
خزاں آنے کو ہے پھر خوں کا مرے ذائقہ لے لے
میریے چہرے پہ تو جتنا بھی چاہے طنز کر لینا
مگر ہے شرط پہلے ہاتھ میں اک آئینہ لے لے 
تری تاریک راہوں میں بھی کرنیں جگمگا ئیں گی 
اگر اپنے بزرگوں کی دعائے گمشدہ لے لے
کسی دن دیکھنا منزل ترے قدموں تلے ہو گی 
تو اپنے رہنما کے نقش پا کا سلسلہ لے لے
اگر تاریخ کا بھولا سبق اس کو نہ یاد آئے 
تو ایسی قوم سے اللہ اس کا حا فظہ لے لے
تجھے دیوار کہتے تھے کبھی اب ڈھیر اینٹوں کا
کبھی اس زاویئے سے کاش اپنا جائزہ لے لے 
یہ میدان عمل ہے امتحاں گا ہ جنوں افسر
جسے ہو جان پیا ری مصلحت کا راستہ لے لے 

****

غزل : محمد شفیع الرحمن شفیعؔ

 غزل
 محمد شفیع الرحمن شفیعؔ

 
 نزاکتوں کا خیال رکھیے
یہ آبگینہ سنبھال رکھیے
جبیں پہ جاہ و جلال رکھیے
مگر بخاطر جمال رکھیے
متاعِ مال و منال رکھیے
خود اپنی جاں کا وبال رکھیے
جواب جس کا کہیں نہیں ہو
کبھی نہ ایسا سوال رکھیے
جہانِ انجم تو اجنبی ہے
زمیں سے رشتہ بحال رکھیے
ابو لہب اسم با مسمیٰ
سوادِ حبشی بلال رکھیے
سفر ظفر کا بنے وسیلہ
مگر خیالِ مآل رکھیے
ہے دوستی کا یہی تقاضا
سلوک میں اعتدال رکھیے
ہے شرق اپنا ، ہے غرب اپنا
جنوب ہو یا شمال ، رکھیے
شفیعؔ معقول بات کہتے
وبالِ خواہش کو ٹال رکھیے

نذرِ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام :احمد علی برقیؔ اعظمی

نذرِ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام

احمد علی برقیؔ اعظمی

حسین ابن علی کی زندگی اک درسِ عبرت ہے
حسین ابن علی کی آج بھی سب کو ضرورت ہے
جہادِ زندگانی میں یہ روحِ آدمیت ہے
اسی سے خونِ دل میں اہلِ ایماں کے حرارت ہے
بچالی موجِ خوں میں ڈوب کر اسلام کی کشتی
شہامت اِس کو کہتے ہیں،یہی شانِ شجاعت ہے
علی مرتضی کی راہ پر تھے گامزن وہ بھی
کرو تم پیروی اُن کی اگر ذوقِ عبادت ہے
ہے عملی زندگی رُشد و ھدیٰ شبیر و شبر کی
تمہارے سامنے دیکھو یہ معیارِ اِمامت ہے
حسین ابن علی سے آکے سیکھے کربلا میں وہ
جہاں میں جس کو بھی درکار صبرو استقامت ہے
رضائے حق میں ہے برقیؔ مثالی اُن کی قُربانی
اِدھر آؤ اسے دیکھو اگر شوقِ شہادت ہے

غزل : فرحت حسین خوشدؔ ل ہزاری باغ،جھارکھنڈ،انڈیا

 غزل
 فرحت حسین خوشدؔ ل – ہزاری باغ،جھارکھنڈ،انڈیا

 موبائل 9798562194

 ہماری غزلوں کو سُن کے تُم بھی ،غزل سُناؤ تو ہم بھی جانیں۔۔۔۔جو دِل کے اندر مچل رہی ہے وہ لب پہ لاؤ تو ہم بھی جانیں

غزل کی شیریں زباں کا جادُو،جو تُم جگاؤ تو ہم بھی جانیں۔۔۔۔طلسمِ حسنِ غزل کا پہلوئے خاص لاؤ تو ہم بھی جانیں

غزل کا ہر شعر اپنے اندر،چُھپائے رکھتا ہے خاص گوہر۔۔۔۔دبی زباں سے جو حالِ دِل تُم،ہمیں سُناؤ تو ہم بھی جانیں

جنابِ ناوکؔ کا قول پڑھ کر ،سمجھ میں آیا غزل کا تیور۔۔۔۔دو چار غزلیں جو شاد ؔ جیسی ، ہی کہہ کے لاؤ تو ہم بھی جانیں

غزل سے رشتہ ہے جانے کب سے،غزل کو پڑھتے ہیں ہم ادب سے۔۔غزل کو سُن کر غزل سراپا،جو بن کے آؤ تو ہم بھی جانیں

گُمان بھی ہے ،یقین بھی ہے،یہ صِنفِ نازک حسین بھی ہے۔۔۔۔۔غزل کا شعری مزاج ہو تو ، یہ نغمہ گاؤ تو ہم بھی جانیں

غزل کو کہتے ہو نیم وحشی،یہ بات وحشت بھری ہے کیسی۔۔۔۔تُم اپنے دعوے کے حق میں کوئی،دلیل لاؤ تو ہم بھی جانیں

نہیں ہے آساں غزل سرائی،جنابِ خوشدؔ ل کو راس آئی۔۔۔غزل میں غالبؔ کا رنگ لا کر ،ہمیں دکھاؤ تو ہم بھی جانیں

(شادؔ عظیم آبادی اور غالبؔ کی نذر)

غزلیں : اسلم بدر

  شکریہ مہتاب

 

  ” عالمی پرواز ” کے تمام شہپروں کو میری طرف سے بھی عید الالضحیٰ کی مبارکباد………

  آپ کے سائیٹ کے لئے دس بالکل تازہ غزلیں بھیج رہا ہوں ۔

                                                                                          اسلم بد ر

 

 

 غزلیں 

 اسلم بدر
 (مشرق وسطیٰ کے نام دو غزلیں)

 شام کے سائے گھنیرے، وقت ہے ٹھہرا ہوا سا
 فاختہ سہمی ہوئی سی، اژدہا بڑھتا ہوا سا
سوئے ہیں محراب و منبر ریشمی چادر لپیٹے
اک پرانا بوریہ مینار سے لپٹا ہوا سا
برف ہونٹوں سے پھسلتی بولیاں ٹھٹھری ہوئی سی
فکر کفنائی ہوئی، احساس دفنایا ہوا سا
صبح کے صفحے پہ آنکھیں کیا نئی تعبیر لکھیں
رات، پچھلی رات جیسی، خواب بھی دیکھا ہوا سا
متحد ہیں پنچ سب بستی کے لیکن ایک سر کش 
اور کچی ڈور سے اک فیصلہ لٹکا ہوا سا
کالے سونے کی ابلتی موج مئے سے بزم جل تھل
خود فراموشی کا نشّہ چار سو چھایا ہوا سا
سرسراہٹ میں ہواؤں کی، کوئی آہٹ سی اسلمؔ 
پیش خیمہ سر پھری آندھی کا ، سناٹا ہوا سا

                  ******

زیتون کے پرانے شجر اب نہیں رہے
اجلے کبوتروں کے بھی گھر اب نہیں رہے
سر سے کفن لپیٹنے والوں کے پاس اب
چادر ہی صرف رہ گئی سر اب نہیں رہے
جن کے نقوش اب بھی چٹانوں پہ ثبت ہیں 
وہ پاؤں مبتلائے سفر اب نہیں رہے
نم ہو گئی ہے ریت ، رم دشت اب کہاں 
وہ سر بکف ، وہ خاک بسر اب نہیں رہے
بہتی ہوئی ہواؤں کے رُخ پر نظر نہ تھی
تب بھی اڑان بوجھ تھی ، پر اب نہیں رہے
شیشوں کے ہیں مکان میں خانہ بدوشیاں
خیمے میں سیپیوں کے گہر اب نہیں رہے
یوں راس آیا مغربی موسم میں بھیگنا
دامن کسی کی یاد میں تر اب نہیں رہے

                    *****

غزل : ظفر اقبال رحمانی

 غزل

 
 ظفر اقبال رحمانی

    ہما ری عمر سے صد یو ں بڑ ی ہے 
    جو اک مد ت سے آو یز اں گھڑ ی ہے 

کسی کے جسم کا بسترہو جیسے 
ز میں ز یرِ فلک ایسی پڑ ی ہے 

کسی سے بے سبب ر بطِ مسلسل 
عجب قر بت کی یہ لمبی کڑ ی ہے 

میں خضرِراہ سب کی ہو ں نظر میں 
چلی جا مو ت پیچھے کیو ں پڑ ی ہے

ز میں کے ہو نٹ تو پیا سے ر ہیں گے
کہ یہ بر سا ت کی پہلی جھڑ ی ہے 

تر ی لفظوں میں کیا تعر یف ہو ماں 
تر ے ا حسان کی چھتری بڑ ی ہے

حسیں کیو ں ہے اگر بو ڑ ھی ہے د نیا 
نظر اس پہ ظفرؔ سب کی گڑی ہے

*****

غزل : نغمہ ناز مکتومیؔ GHAZAL – NAGHMA NAAZ MAKTOOMI

 غزل

 نغمہ ناز مکتومیؔ 

دُنیا کی بے   نیازی کا    چرچا ہی کیوں کریں
اپنی انا کو شہر  میں     رُسوا ہی کیوں کریں

تیرے   غموں کو   ہم نے جو دل    سے لگا لیا
خوشیوں   کو تیرے غم کا مدا وا ہی کیوں کریں

ہم مطمئن   ہیں اپنی    وفاؤں   سے   ہر طرح
تجھ سے تری جفاؤں  کا شکوہ ہی  کیوں کریں

کرتا ہے فر ق   دونوں     میں اک    جلوۂ   نگاہ
اہلِ خرد    کا ہم    بھلا سجدہ   ہی کیوں کریں

بد نامیوں کا    تیری    ہمیں    خوف    ہے فقط
تو ہی بتا کہ  ہم تجھے    رُسوا ہی   کیوں کریں

نغمہ ؔ رہ حیا ت    میں    غم ساتھ    ساتھ   ہے
محرومیوں  کا جابجا    چرچا ہی    کیوں     کریں

نغمہ ناز مکتومیؔ مکان نمبر ۱۱ ، کروس روڈ نمبر ۶۔ بی
آزاد نگر ، مانگو ، جمشید پور ۔ ۸۳۲۱۱۰
جھارکھنڈ ، انڈیا
E – mail naghmanaazmaktoomi@gmail.com 

غزلیں : یوسف دانشؔ

 غزلیں

 یوسف دانشؔ 

   ہم پہ احساس کا غالب ہے اثر جانتے ہیں
    ورنہ جینے کے کئی اور ہنر جانتے ہیں
 
ہم کو معلوم ہے دنیا کے مصائب کی روش
یہ فقط مفلس و نادار کا گھر جانتے ہیں

کیوں اندھیروں سے ڈراتے ہو ہمیں تم یارو
پردۂ شب سے ابھرتی ہے سحر جانتے ہیں

خود کو اوروں کی نگاہوں سے کبھی دیکھ ذرا
تو بھلا چیز ہے کیا اہلِ نظر جانتے ہیں

گمرہی سے ہی ملا ہے ہمیں منزل کا پتہ
ہم نہ رہبر نہ کوئی راہ گذر جانتے ہیں

موج دریا کو بنالینگے سہارا اپنا
ہم بھی طوفاں سے گذرنے کا ہنر جانتے ہیں

رہ نمائی کی ضرورت نہیں ہم کو دانشؔ 
راہِ منزل کا ہر اک زیر و زبر جانتے ہیں

*****

مرکز میرے اُمید کا ایسا نکل گیا
بھوکا تھا میں وہ خون کا پیاسا نکل گیا

خنجر کی پیاس کی ذرا شدت تو دیکھئے
زخموں سے خون پھر مرے تازہ نکل گیا

رفتار میری دیکھ کے حیرت میں ہے جہاں
اس کو گماں ہے پاؤں سے کانٹا نکل گیا

کتنا ہے خوش نصیب وہ لوگوں کے درمیاں
اندھوں کے شہر میں بھی جو کانا نکل گیا

زخموں کو دیکھتے ہی تعجب ہوا مجھے
سمجھا تھا جس کو غیر وہ اپنا نکل گیا

میں نے کبھی تو ان کو کہا بے وفا نہیں
لیکن قلم سے شعر کچھ ایسا نکل گیا

چرچہ تھا جس کے نام کا دانشؔ ہر اک جگہ
سکہ وہی تو اصل میں کھوٹا نکل گیا
*****

9934116211 موبائل نمبر

شانِ حسینؓ : ناصر ملک

  شانِ حسینؓ
    شاعر: ناصر ملک۔ چوک اعظم (ضلع لیہ) فون: 0302-7844094 

اُس جیسا کوئی ایک سخی ہو۔۔۔
دُنیا نے اِک سورج مانگا
کرنیں چاہیں، رستا مانگا
خیموں کی دہلیز پکڑ کرکوئی درس انوکھا چاہا
ایک زمانہ لرزیدہ سا، شرمندہ سا، ساتھ کھڑا تھا
مانگ رہا تھا
دُنیا کا ہر ایک زمانہ ایک تمدن مانگ رہا تھا
وہ تہذیب کا بانی لیکن، خیمے کی دہلیز کے اندر
اپنے رب کو دیکھ رہا تھا، سوچ رہا تھا
نخلِ جاں سے خون کے قطرے مانگ رہا تھا
اُس تہذیب کی بنیادوں کو خون کے قطرے سونپ رہا تھا
جس تہذیب میں سورج، کرنیں، چاند ، ستارے 
ہر موسم کے پھول اُگے ہیں
بارش، افشاں، آس کے جگنو، نورِ اَنا ہے ، خودداری بھی
عزم، اصول و مقتل، آنسو، صحرا، خون کے دریابھی
رستا، خاک ، گہر کی تاب زمانہ دیکھ رہا ہے
آج بھی اُس تہذیب میں سانسیں پلتی ہیں
***