امید کی کرن……. از : ثمرین پروین
از :ثمرین پروین
۔۔۔۔ وہ میرا ہو نہیں سکتا
مگر میری انا کہتی ہے، وہ میرے سوا
شایدکسی بھی اور کا ہو ہی نہیں سکتا
زمانے میں کسی کی کون سنتا ہے؟
یہ دنیا کے نظارے کتنے روشن ہیں!
نظاروں کے پسِ منظرکوئی چہرہ
مگر روشن نہیں ہوتا
تجھے ثمرین، ہے خواہش زمانے سے رہائی کی
رہائی خودکشی سیہو، کبھی ایسا نہیں ہوتا
خود اپنی اس تباہی کے ہیں ذمہ دار ہم سب خود
نہیں ہوتا ہے کوئی کامیاب ایمان سے ہٹ کر
کبھی اللہ کے حکموں سے توتاخیر ممکن ہے
مگر میرا خدا مایوس بندوں کو نہیں کرتا۔۔۔!!!
دُعا…. از: رضواںؔ واسطی، جمشیدپور
دُعا
از:رضواںؔ واسطی، جمشیدپور
جذبۂ ایماں شوقِ عبادت دے اللہ آمین
پھر وہی عزّت پھر وہی عظمت دے اللہ آمین
دھوپ بہت ہے تیز گناہوں کی، اورہم نادان
جھلس رہے ہیں، سایۂ رحمت دے اللہ آمین
صلوٰۃوصوم وحجّ و زکوٰۃاب بھی ہیں ہمارے پاس
بے جاں جسم میں روحِ عبادت دے اللہ آمین
پتہ نہیں ہم آج کہاں ہیں ،ہوگاکیا انجام؟
شافعِ محشر کی تو شفاعت دے اللہ آمین
مانگ رہے ہیں پھر وہی نورِایماں، جلوۂ طور
ہم پروانۂ شمعِ رسالت دے اللہ آمین
کیوں تیرے محبوب کی اُمّت بنی ’سمندرپھین‘؟
پھر سے اسے جذبۂ اخوّت دے اللہ آمین
مفت کی دولت سے تو مولا ہم کو رکھنا پاک
حلال کی روزی میں برکت دے اللہ آمین
چھوٹے بڑے سب بھول چکے ہیں جینے کے آداب
اِن کو تمیز اور اُن کو شفقت دے اللہ آمین
خود کو کمترسمجھ کے مانگیں کیوں غیروں سے بھیک؟
فنون و حِکمت، علم وتجارت دے اللہ آمین
رسمِ دعا ہم بھول چکے ہیں دامن بھی ہے تنگ
لا محدود ہے تیری عنایت دے اللہ آمین
فرقوں اور مسلکوں میں بٹ کر بکھر رہی ہے قوم
تو اتّحاد، میل محبّت دے اللہ آمین
گمراہوں کو راہ دکھانا کس کے بس کی بات؟
تیری مرضی ہو تو ہدایت دے اللہ آمین
خون کے آنسو بدحالی پر روتا ہے دل آج
رضواںؔ کو تو صبروقناعت دے اللہ آمین
*****
از:رضواںؔ واسطی، جمشیدپور
غزل : تاباں واسطی
غزل
تاباں واسطی
مری زندگی کے ورق ورق پہ ہے تیرا نام لکھا ہوا
مرے ہر نفس میں اے جانِ جاں ہے ترا نفس بھی گھُلا ہوا
ہے تُجھی سے رونقِ انجمن، تو ہی میری جاں تو ہی میرا من
مری آرزو کے چمن میں ہے تو ہی ایک پھول کھِلا ہوا
مری سادگی کی ہر اک ڈگر پہ ہے حسنِ ناز و نیاز تو
تری دوستی کا بھرم ہے یہ کہ چراغ ہوں میں جلا ہوا
ترے لمس کی وہ لطافتیں ہیں مرے دِماغ کی نُزہتیں
ہوں صبا کے سیلِ بہار میں تری رہ گذر پہ کھڑا ہوا
نہ جھٹک تو گیسوئے عنبریں، نہ لُٹا تو نکہتِ دلنشیں
بادب کہ آئینہ زیست کا تری زلف سے ہے بندھا ہوا
ہوں تری نگاہ میں معتبر،تو ہی دوست ہے تو ہی چارہ گر
لے خبر کہ موجِ فراق میں مرا قافلہ ہے پھنسا ہوا
میں شکستہ ساز ہوں منفرد، مرے آئینے میں تری اَدا
کوئی ڈھونڈے میری کتاب میں ترے غم کا موتی چھپا ہوا
ترے عارضوں کا گُلاب ہوں،میں ترے لبوں کی شراب ہوں
میں وہ ایک نخلِ حیات ہوں تری دھوپ میں جو ہرا ہوا
****
تاباں واسطی
غزلیں : محمد قسیم اخترؔ ، پورنیہ (بہار)
غزلیں
محمد قسیم اخترؔ ، پورنیہ (بہار)
ہم زمیں پر آسماں کے نور ہیں
سر بلندی ہے مگر مجبور ہیں
کروٹیں لیتے ہیں بستر پر اَمیر
چین سے سوتے ہیں جو مزدور ہیں
دل میں جذباتِ کلیمی چاہیے
ریت کے ذرّات کو ہِ طور ہیں
آسمانوں سے اُتر کر دیکھیے
فرش والے کس قدر رنجور ہیں
ہم وفا اور وہ جفا کرتے رہے
حسن والوں کے یہی دستور ہیں
ہے تباہی بھی انہیں کے ساتھ ساتھ
اس جہاں میں جو بہت مشہور ہیں
سر کٹا دیتے ہیں جو حق بات پر
اس صدی میں تو وہی منصور ہیں
لُٹ کے ہم رہزن کو دیتے ہیں دعا
چین سے سوتے ہیں اب مسرور ہیں
ٹمٹماتا ہے وہاں اخترؔ تو کیا
ہم جو دیپک ہیں زمیں کے نور ہیں
****
حسیں جنّت بنانا چاہتا ہوں
تمہیں دل سے لگانا چاہتا ہوں
تری مہکی ہوئی زلفوں میں چھپ کر
ہر اک غم کو بھلانا چاہتا ہوں
مرا دل آگیا اک بے وفا پر
اسی پر دل لٹانا چاہتا ہوں
گھڑی بھر کو ترے نزدیک آکر
سکونِ دل کو پانا چاہتا ہوں
تری راہوں میں پھولوں کی جگہ پر
میں اپنا دل بچھانا چاہتا ہوں
سرِ محفل محبت کا ترانہ
تمہارے ساتھ گانا چاہتا ہوں
سُنا کر دل کی بربادی کا قصّہ
زمانے کو رُلانا چاہتاہوں
نشیلی آنکھ سے آنکھیں ملا کر
میں پینا اور پلانا چاہتا ہوں
تری رنگین یادوں کے سہارے
شمع دل کی جلانا چاہتا ہوں
تمہارے درد کو لب پر سجا کر
میں غزلیں گنگنانا چاہتا ہوں
کفن میَں اوڑھ کر اک بار اخترؔ
اسے گھر پر بلانا چاہتا ہوں
****
محمد قسیم اخترؔ ، پورنیہ (بہار)
غزلیں : اشرف علی اشرفؔ ، جمشید پور (جھارکھنڈ)
غزلیں
اشرف علی اشرفؔ ، جمشید پور (جھارکھنڈ)
زخم جب جب بھی مرا تم کو دکھائی دے گا
پشت پہ کس نے کیا وار گو اہی دے گا
بے وفا دیکھ ذرا دل میں اتر کر میرے
ہر طرف درد بھرا نغمہ سنائی دے گا
حسن والے کا تو انصاف جدا ہوتا ہے
قید مانگو گے اگر تم تو رہائی دے گا
نیک کردار ، عمل اور وفا کا پودا
کوئی موسم ہو مگر سبز دکھائی دے گا
کوئی دے یا نہ دے لیکن تھا بھروسہ مجھ کو
وقت آیا تو سہارا میرا بھائی دے گا
دیکھ تو لاکے کبھی اپنے تصوّر میں اُسے
دل کی آنکھوں کو حسیں جلوہ نمائی دے گا
فرمانبردار جو فرزند ترا ہو اشرفؔ
اس سے بڑھ کر کے خدا کیسی کمائی دے گا
****
کلی ہے پھول ہے گلشن ہے کیا کیا جائے
عجب سی ذہن میں الجھن ہے کیا کیا جائے
پسند آئے نہ آئے تجھے تری مرضی
یہی غریب کا آنگن ہے کیا کیا جائے
شباب اور چڑھے گا حیا بھی آئے گی
ابھی ادا میں لڑکپن ہے کیا کیا جائے
بہار چھائی ہے ان کے چمن میں خوشیوں کی
ہماری آنکھوں میں ساون ہے کیا کیا جائے
وہ کوئی غیر نہیں جس نے گھر اُجاڑا ہے
ہمارا بھائی ہی دشمن ہے کیا کیا جائے
میں کیسے پیاس بجھاؤں نگاہ سے اشرفؔ
مرا رقیب یہ چلمن ہے کیا کیا جائے
****
اشرف علی اشرفؔ ، جمشید پور (جھارکھنڈ)
لوری : ناصر ملک
لوری
ایک زلزلہ زدہ لڑکی کے منظوم الفاظ ۔۔۔
ناصر ملک
ڈائریکٹر: آرٹ لینڈ ۔ گرلز کالج روڈ چوک اعظم۔ ضلع لیہ
فون: 0606-372557
چلو اِک بار پھر سے ہم
اجل کے سرخ پنجوں سے نکل کے زندگی اَوڑھیں
یہ مٹی اپنے پیاروں نے لہو سے گوندھ رکھی ہے
اِسی مٹی میں پتھروں کو پَرو کر ہم نئے گھر کی بنا ڈالیں
چلو ماضی کی یادوں میں نیا سپنا سجا ڈالیں
انہی سنگلاخ پتھروں نے مرے ’’بابا‘‘ کو نگلا ہے
اِسی ملبے نے میری ’’ماں ‘‘ کو مجھ سے چھین رکھا ہے
اِسی ٹوٹے ہوئے دَر نے مرا ’’لالہ‘‘ چبا ڈالا
اِسی کونے میں ’’باجی ‘‘ نے فنا کا ذائقہ چکھا
چلو اُٹھو کہ ان بکھری ہوئی چیزوں کو پھر جوڑیں
یہیں سے راستہ ڈھونڈیں ، اِنہی پتھروں سے سر پھوڑیں
درختوں پر لٹکتی روٹیوں سے بھوک اچھی ہے
ہوس آلود نظروں سے بھلی ہے گود پتھر کی
یہ پتھر مار دیتے ہیں مگر نوچا نہیں کرتے
یہ انسانوں سے بہتر ہیں، بُرا سوچا نہیں کرتے
چلو اُٹھو مرے بھیا! چلو جاگو مرے بھیا!
اُٹھو تنکے اکٹھے کر کے اپنا آشیاں جوڑیں
کہ برسوں بعد پہلے کی طرح سب کچھ سجا ہوگا
مگر ’’امی‘‘ نہیں ہوگی، یہاں ’’بابا‘‘ نہیں ہوگا
ہائے ’’باجی‘‘ نہیں ہوگی، مرا ’’لالہ ‘‘ نہیں ہوگا
چلو اُٹھو مرے بھیا! اجل سے بھاگ جاتے ہیں
کھلونے ٹوٹ جاتے تھے جنہیں ہم جوڑ لیتے تھے
گھروندے ٹوٹ سکتے ہیں جنہیں اَب جوڑنا ہوگا
یہی پتھر ہمیں اپنوں سے اِک دن جا ملائیں گے
اِنہی پتھروں سے جیون بھر مقدر پھوڑنا ہوگا
چلو اُٹھو مرے بھیا! اُٹھو جاگو مرے بھیا!
اجل کے سرخ پنجوں سے نکل سے زندگی اَوڑھیں
***
ناصر ملک
ڈائریکٹر: آرٹ لینڈ ۔ گرلز کالج روڈ چوک اعظم۔ ضلع لیہ
فون: 0606-372557
غزلیں : ڈاکٹر سرور ساجد
غزلیں
ڈاکٹر سرور ساجد
جو اب تک ہو نہیں پایا وہی اک کام ہونا چاہیے تھا
دیارِ و دشت میں اک ربط باہم عام ہونا چاہیے تھا
عجب فرضی سی اک پختہ خیالی کی اذیت میں گھرا ہے
اگر دل ہے تو اس میں کچھ خیال خام ہونا چاہیے تھا
قدم کی کامیابی سرحد پستی کو روشن کر رہی ہے
بلندی کی ہوس تھی تو مجھے ناکام ہونا چاہیے تھا
تعجب ہے کہ دل کی بے کلی کچھ اور بڑھتی جا رہی ہے
ملن کے بعد اس سے کچھ نہ کچھ آرام ہونا چاہیے تھا
تمہیں عاشق فریبی میں ملی شہرت زمانے میں اگرچہ
غزل، خوشبو ،دھواں، چشمہ تمہارا نام ہونا چاہیے تھا
نشہ ، تغمہ ،بدن ، خوشبو ہوئے ہیں مفت میں بدنام ساجدؔ
مری بربادی کا بس اس کے سرالزام ہونا چاہے تھا
****
دیکھتے دیکھتے تم دیکھنا ہو جاؤ گے
وہ بھی دن دور نہیں فاصلہ ہو جاؤ گے
میں تری راہ کا پتھر ہی سہی تیرے لیے
کچھ نہ بن پاؤں گا تو آئینہ بن جاؤں گا
کچھ حریفوں سے میں اس طرح سے لوں گا بدلہ
نقش قرطاس پہ اک دیر پا بن جاؤں گا
میں نے قطرے کو بھی دیکھا ہے سمندر بنتے
نقش پا آج ہوں کل راستہ بن جاؤں گا
اتنی تیزی سے بدلنے لگے چہرے ہر ایک
سب سے ممکن ہے کہ ناآشنا بن جاؤں گا
ابکے پھیلوں گا تو ساجدؔ ہے سمٹنا مشکل
اور سمٹوں گا تو اک دائرہ بن جاؤں گا
****
Dr. Sarwar Sajid
Nazeer Khan lane, Main Road Ranchi.
غزلیں : احمد بدرؔ
مہتاب صاحب
عالمی پرواز کی بلند پروازی اور سر بلندی کی نیک خواہشات کے ساتھ دو غزلیں پیش خدمت ہیں۔
شامل کر لیجیے تاکہ میں بھی اڑان بھر سکوں۔
احمد بدرؔ
شعبۂ اردو کریم سٹی کالج
غزل
چہرہ بھی پتھر لگتا ہے آئینے سے ڈر لگتا ہے
گھر گھر میں ویرانی ا یسی صحرا صحرا گھر لگتا ہے
شاخوں پر غنچے دیکھوں تو ہاتھوں میں خنجر لگتا ہے
مردہ سانسوں کی صحبت میں جی پانا دوبھر لگتا ہے
دل کی بے چینی میں مخمل کانٹوں کا بستر لگتا ہے
چینٹی سے ڈرتا ہے ہاتھی کتنا طاقتور لگتا ہے
کل دشمن کو غور سے دیکھا یاروں سے بہتر لگتا ہے
غزل
جب دل میں ویرانی جاگے آنکھوں میں حیرانی جاگے
راتوں کو بے چین سمندر چاند چڑھے تو پانی جاگے
خوشبو کی چادر پھیلائے شب بھرر ات کی رانی جاگے
جاگے دھن مرلی والے کی یا میرا دیوانی جاگے
جب بھی درد پرانا سوئے کوئی یاد پرانی جاگے
غزلیں : یوسف دانش
غزلیں۔۔۔ یوسف دانش
زمیں کو آسماں سے با خبر ہونے نہیں دیتا
یہ شیطاں آدمی کو معتبر ہونے نہیں دیتا
ملاقاتوں سے طئے کرتے رہے ہم فاصلہ لیکن
یہ کیسی بے بسی وہ دل میں گھر ہونے نہیں دیتا
یہ نفرت جو دلوں میں غم کی بارش روز کرتی ہے
وہ صحرا ہے جو الفت کا شجر ہونے نہیں دیتا
وہ اب ناکامیوں سے خوف کھاتا ہے اسی خاطر
مری اچھائیوں کو مشتہر ہونے نہیں دیتا
تماشے بد نصیبی کے توقدرت ہی دکھاتی ہے
ہر اک موسم درختوں میں ثمر ہونے نہیں دیتا
بناتی ہے دعا اک رابطہ احساس کا دل سے
دعا میں حوصلہ میرا اثر ہونے نہیں دیتا
مقدر کا جو لکھا ہے بدلتا ہے کبھی دانشؔ
سکوں سے زندگی اپنی بسر ہونے نہیں دیتا
جستجو میں کس کی دیوانہ ہوں میں
ذات سے خود اپنی بیگانہ ہوں میں
منزلیں ہیں پیار کی باقی ابھی
ٹھوکریں کہتی ہیں انجانا ہوں میں
بار ہے لمحوں پہ یوں میرا وجود
اک ادھورا جیسے افسانہ ہوں میں
مجھ سے چاہے جس قدر برہم رہے
زندگی تیرا ہی پروانہ ہوں میں
اور دانشؔ کیا تعارف دیجئے
ہر نظر میں جانا پہچانا ہوں میں
****
یوسف دانش
غزلیں : مشتاق احزنؔ
غزلیں مشتاق احزنؔ
انا ہی جس نے زمانے میں بیچ دی ہوگی
اسی کی گود میں دنیا کی ہر خوشی ہوگی
بچا کے رکھنا اجالوں کو اپنے دامن میں
تمھارے گھر میں کسی روز تیرگی ہوگی
کوئی تو شب کے سفر میں رہے گا ساتھ مرے
کسی کی شمعِ محبت تو جل رہی ہوگی
وہی تو ہوگا سبب انتشارِ ملّت کا
وہ جس نے ہاتھ سے رسّی ہی چھوڑ دی ہوگی
جسے زمانہ بڑا پارسا سمجھتا تھا
اسی کی ذات سے رغبت گناہ کی ہوگی
ہر ایک شخص فسردہ ہے اپنے غم سے یہاں
ہے کون جس کو میسّر ہر اک خوشی ہوگی
یہ سوچ کر میں جلاؤں گا خونِ دل احزنؔ
کسی کی بزمِ طرب میں تو روشنی ہوگی
میرے اندر کتنا پانی بہہ گیا
پیاس کا احساس لیکن رہ گیا
مر ہی جاتا زہرِ غم پی کر غریب
سخت جاں اتنا تھا سب کچھ سہ گیا
یہ پریشانی مقدّر بن گئی
سلسلہ پیدل سفر کا رہ گیا
زندگی بھر موت کا کرنا نہ خوف
مرتے مرتے مرنے والا کہہ گیا
جو تعلّق کا گھروندہ تھا بنا
ریت کا اک سیَل آیا بہہ گیا
بعد مدّت کے جو احزنؔ سے ملے
باندھ ٹوٹا، اشک سارا بہہ گیا
***
مشتاق احزنؔ
MUSHTAQUE AHZAN
P.W.SCHOOL AZAD NAGAR
MANGO, JAMSHEDPUR- 832110
MOB- 9334135021