Skip to main content

Aalamiparwaz

نئے سال 2020ء کا استقبال : پروفیسر اسلم جمشید پوری

پروفیسر اسلم جمشید پوری 

میرٹھ

نئے سال  2020ء  کا استقبال

                                

2019ء کے اُردو زبا ن و ادب کا سرسری جائزہ

 

                زمانہ ایک قدم اور آگے بڑھ گیا ہے۔ 2020ء دبے قدموں آگیاہے۔ 2019ء تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، مگر جاتے جاتے اپنے بہت سے نشانات نقش کر گیا ہے۔ نئے سال کا استقبال کرتے ہوئے گذشتہ سال پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ اُردو ادب کے تعلق سے یہ سال خاصا یاد گار رہا ہے۔ اسی سال پنجاب یونیورسٹی کے نصاب میں اُردو کو غیر ملکی زبان کے خانے میں رکھا گیا جس پر خاصا ہنگامہ بپاہوا تو بعد میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اس غلطی کی اصلاح کی۔ اسی سال دہلی کورٹ نے محکمہ ئ پولس کو اردو فارسی کے مختلف الفاظ استعمال نہ کرنے کا حکم جاری کیا۔ جس کے خلاف اردو والوں میں خاموشی چھائی رہی اور تا ہنوزیہ حکم کا لعدم نہیں ہوا۔ اتر پردیش اردو اکادمی کی ایوارڈ کمیٹی کے اُس فیصلے کی خاصی مخالفت ہوئی، جس میں انعامات کمیٹی کے چیئر مین اور دو ممبران کو بھی انعامات کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ نہ صرف اتر پردیش بلکہ ہندگیر سطح پر اس فیصلے کی کافی مذمت ہوئی اور اتر پردیش حکومت نے فیصلے پر روک لگادی۔ جو آج تک لگی ہوئی ہے۔

                2019ء اس لیے بھی یادگار ہے کہ اس سال کئی نئے رسالے منظر عام پر آئے۔ اتر پردیش اردو اکادمی نے بچوں کے لیے ایک بے حد دیدہ زیب ماہانہ رسالہ ”باغیچہ“ جاری کیا۔ اس کا پہلا شمارہ جنوری 2019ء میں منظر عام پر آیا، اور اس کا اجراء 12/ فروری 2019ء کو اتر پردیش اردو اکادمی کی چیر پرسن پروفیسر آصفہ زمانی، سکریڑی سید رضوان، مدیر اعزازی ڈاکٹر شمیم احمد صدیقی، مخمورکاکوری وغیرہ کے ہاتھوں اکادمی کے آڈیٹوریم میں ہوا۔ رسالے کی خوبی یہ ہے کہ یہ ملٹی کلر اور دبیز چکنے کاغذ پر 60 صفحات میں پھیلا ہوا ہے۔ مضامین، کہانیاں، منطومات کے علاوہ سائنس، طب، ماحولیات، لذید پکوان۔ دنیا جہاں (سیر سپاٹا) کے ساتھ ساتھ بچوں کی ذ ہنی ورزش کے لیے کئی سلسلے بھی ہیں۔ سب سے آخرمیں پورے شمارے میں استعمال ہونے والے بعض ثقیل الفاظ کے معنی درج ہیں۔ بہت دنوں بعد اردو میں ایک بہت کار آمد رسالہ بچوں کے لیے منظر عام پر آیا ہے۔ رسالے کو تیار کرنے کی ذمہ داری خصوصی طور پر ڈاکٹر شمیم احمد صدیقی کے سپرد کی گئی ہے۔ جو خود بچوں کے اچھے ادیب ہیں۔رسالے کی اشاعت تسلسل اور وقت کی پابندی کے ساتھ جاری ہے۔

                پٹنہ سے واہی اکیڈمی نے ایک بامقصد اور خوبصورت ماہانہ رسالے ”سفیرادب“ کی اشاعت اگست 2019ء سے شروع کی ہے۔ دراصل یہ اکیڈمی معروف مزاحیہ و طنز یہ شاعر رضا نقوی واہی کی یاد میں قائم ہے۔ جس کے صدر رضا نقوی واہی کے صاحبزادے عابد نقوی ہیں۔ عابد صاحب رسالے کے مدیر اعلیٰ بھی ہیں۔ رضا نقوی واہی کے دوست، افسانہ نگار، صحافی ڈاکٹر شاہد جمیل رسالے کے مدیر ہیں۔ رسالہ اب تک ماہانہ پابندی سے شائع ہو رہا ہے اور اپنی منفرد شناخت قائم کر رہا ہے۔ رسالہ گلیز پیپر پر خوبصورتی سے شائع ہوتاہے۔ تحقیقی و تنقیدی مضامین، افسانے، شاعری، تبصرے کے ساتھ ساتھ ہر شمارے میں ”خزائن ادب“ کے تحت مشاہیر کی تخلیقات شائع ہوتی ہیں ”ثمرِ کوہ کنی“ کے تحت تحقیقی مقالات شائع کیے جاتے ہیں۔

                ممبئی سے نیوز ٹاؤن پبلشر کے زیراہتمام ایک سہ ماہی رسالہ ”ادب گاؤں“ کا پہلا شمارہ (اپریل تا جون 2019ء)شائع ہوا ہے۔ ڈاکٹر عبدالباری ایم کے، کی ادارت اور اشتیاق سعید کی ترتیب و تہذیب میں ادب گاؤں نے بہت جلد مقبولیت حاصل کی ہے۔رسالے کا عنوان اور گاؤں سے متعلق تخلیقات کے سبب رسالہ اردو والوں میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہے۔ رسالے نے برسوں سے چلے آرہے مفروضے، کو بھی ختم کیا ہے کہ رسائل میں صرف نئی تخلیقات ہی شائع ہوتی ہیں۔ رسالے کے پہلے ہی شمارے کے اداریے میں یہ جملے ”ادب گاؤں،میں غیر مطبوعہ تخلیقات کا قطعی گذر نہیں۔ اس میں صرف مطبوعہ چیز یں ہی شائع ہوں گی۔“ شائع ہوئے تو پوری اردو دنیا میں حیرانی کے سلسلے قائم ہوگئے۔ یہ سچ بھی ہے کہ ’ادب گاؤں‘نے مطبوعہ، معیاری تخلیقات کو دوبارہ اس طرح شائع کیا ہے کہ جواب نہیں۔ رسالہ خوب پڑھا جا رہا ہے۔ اب تک رسالے کے تین شمارے اپنی وقت پر منظر عام پر آچکے ہیں۔

                جب سے یوجی سی کے ذریعہ API کا فرمان جاری ہوا۔ اردو میں یونیورسٹی، کالجز کے علاوہ متعدد سہ ماہی رسائل شائع ہونے لگے ہیں۔ ان میں زیادہ تر اساتذہ اور نوجوان اسکالرز کے تحقیقی و تنقیدی مضامین شائع ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک بامقصد تحقیقی پئیر ریویوڈ اُردو جرنل ”سہ ماہی ساغرِ ادب“ مظفر پورسے ڈاکٹر سید آل ظفر کی ادارت میں شائع ہونا شروع ہوا ہے جس پہلا شمارہ اپریل تاجون 2019 کی شکل میں شائع ہواہے۔ رسالے میں اساتذاہ اور اسکالرز کے علاوہ ریسرچ اسکالرز کے مقالات بھی خاصی تعداد میں شامل ہیں۔ ایک بہت ہی کار آمد رسالہ جو اب تک تسلسل اور پابندی سے شائع ہورہا ہے۔

                جلگاؤں، مہاراشٹر سے سہ ماہی رسالہ ”صحیفہئ محبت“ کا اجراء بھی عمل میں آیا۔ اس کا پہلا شمارہ اپریل تاجون2019ء ہے۔ اس کے مدیر معروف شاعر ہارون عثمانی اور معاون مدیر جاوید انصاری ہیں۔ یہ ایک عام رسالہ ہے۔ ابھی تک اس کے دو شمارے اتہائی پابندی سے شائع ہوئے ہیں۔ اس برس انعامات کا سلسلہ بھی پورے زور شور سے جاری رہا۔سا ہتیہ

اکادمی، دہلی نے 2019ء میں معروف انگریزی اردو ادیب اور شعبہء ماس کمیونی کیشن، اے ایم یو کے پروفیسر شافع قدوائی کی کتاب ”سوانح سر سید: ایک باز دید“ پر انہیں ساہتیہ اکادمی نے انعام دیے جانے کے لیے منتخب کیا ہے۔اردو کے ادبی حلقوں میں اسکی مخالفت بھی ہو رہی ہے۔دہلی اردو اکادمی نے 2018  کے لیے پروفیسر شارب ردولوی کو کل ہند بہادر شاہ ظفر ایوارڈ اور پروفیسر عتیق اللہ کو پنڈت برج موہن دتا تریہ کیفی ایوارڈ (دونوں کی رقم 2.51 لاکھ روپے) ساتھ ہی پروفیسر وہاج الدین علوی ایوارڈ برائے تحقیقی و تنقید، جناب اظہار عثمانی کو تخلیقی نثر، ڈاکٹر جی آر کنول کو برائے شاعری، جناب شکیل حسن شمسی کو برائے صحافت پروفیسر انیس الرحمن کو برائے ترجمہ نگاری (سبھی کی رقم 1.01 لاکھ روپے) ایوارڈ ز سے نوازا ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ نے غالب یوارڈز 2019 ء کے اعلان میں پروفیسر علیم اللہ حالی کو اردو تحقیقی و تنقید، پروفیسر شہپر رسول کو برائے شاعری، پروفیسر خالد محمود کو برائے اردو نثر، ڈاکٹر نریش کو برائے اردو خدمات، جناب مظفر علی کو برائے اردو ڈراما اور پروفیسر بلقس فاطمہ حسینی کو برائے فارسی تحقیقی و تنقید ایوارڈ (سبھی ایوارڈکے ساتھ 75 ہزار روپے نقد رقم) دینا طے کیا ہے۔ملک کے حالات کے پیشِ نظر غالب انسٹی ٹیوٹ  نے اپنا عالمی سیمینار اور جلسہ تقسیم ِ انعاماتملتوی کر دیا۔ اتر پردیش اردو اکادمی نے 2018 کے لیے اپنے اعلان میں معروف فکشن نگار محترمہ ذکیہ مشہدی(پٹنہ) کو مولانا ابولکلام  آزادایوارڈبرائے مجموعی ادبی خدمات (5 لاکھ روپے نقد)، ساتھ ہی ایک ایک لاکھ روپے کے ایوارڈ ز میں جناب ظفر اقبال (فتح پور) کو برائے شاعری، جناب غضنفر(علی گڑھ) کو برائے فکشن، جناب الیاس اعظمی(اعظم گڈھ) کو برائے تحقیق، جناب شفیق اشرفی (لکھنؤ)کو برائے تنقید، ڈاکٹرعاکف سنبھلی کو برائے ادب اطفال جناب اطہر نبی کو برائے اردو خدمات، اورڈاکٹر شمیم احمد صدیقی (مدیر اعزازی، باغیچہ) کو سائنس، ترجمہ اور دیگر امور کے لیے، ایوارڈ دینا طے کیا ہے۔ایوارڈز کو حکومت کے حکم نامے کا انتظار ہے۔ کلچرل ڈپارٹمنٹ،حکومتِ مدھیہ پردیش نے گذشتہ برس اپنے تین سال کے ’اقبال سمان‘ کا اعلان کیا۔ یہ ایوارڈز پروفیسر عقیق اللہ، پروفیسر شافع قدوائی اور جناب شمس الرحمن فاروقی کو دیے گئے۔ مہاراشٹرا سٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی نے 2019ء کے لیے مرزا غالب ایوارڈ(قومی سطح پر) پروفیسرشمیم حنفی، ولی دکنی ایوارڈ (ریاستی سطح پر) ڈاکٹر یحییٰ نشیط، نیو ٹیلینٹ ایوارڈ شیخ ا سیداشہر اور عبید حارث کو اور صحافتی انعامات کے لیے مختار عدیل، مسلم کبیر، قمرالایمان اورعقیل خاں کا انتخاب کیا گیا۔بزم صدف بین الاقوامی ایوارڈ 2019ء پروفیسر  مظفرحنفی اور بزم صدف نوجوان ادیب ایوارڈ 2019ء ڈاکٹرثروت زہرا (دوبئی) کو دیا گیا۔شعبہء اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کی طرف ہرسال دیا جانے ولا ڈاکٹر منظر کاظمی نیشنل فکشن ایوارڈ 2019ء محترم دیپک بُدکی اور ڈاکٹڑ منظر کاظمی نیشنل ایوارڈ برائے فکشن تنقید  2019ء پروفیسر ارتضیٰ کریم کو پیش کیا گیا۔

                پورے سال سیمیناروں،کانفرنسوں،ورکشاپس کا دور رہا۔ متعدد قومی اور بین الا قوامی پروگرام منعقد ہوئے۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو نئی دہلی کے زیر اہتمام 18 تا20/ مارچ 2019ء چھٹی عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد ہوپ آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔”آج کے عالمی تناظر مین اُردو کا تحفظ و فروغ“ کے موضوع پر منعقد عالم یکانفرنس میں تقریباً ۰۲/ ممالک اور پورے ہندوستان سے مندوبین نے شرکت کی۔ کانفرنس کا کلیدی خطبہ معروف اسکالر ڈاکٹرتقی عابدی (کناڈا)نے پیش کیا۔ خطبہ استقبالیہ کاؤنسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے پیش کیا۔مہمان کے طور پر راشٹریہ  مسلم منچ کے صدر محترم اندر یش کمار نے شرکت کی اور اردو زبان کے فروغ کے لیے مرکزی سرکار کے تعاون کا ہمیشہ کی طرح یقین دلایا۔

                 ورلڈ اردو الیوسی ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام دو روزہ بین الاقوامی سیمینار بعنوان ”اردو فارسی اور عربی میں رزمیہ شاعری: صلح و جنگ کی داستان“ جو اہرلعل نہرو یونیورسٹی میں ۱۳-۰۳/ جنوری 2019ء کو پروفیسر خواجہ اکرام الدین کی چیئرمین شب میں منعقد ہوا۔ ہندوستان کے علاوہ بنگلہ دیش، ماریشش، مصر، ایران، انگلینڈ وغیرہ ممالک کے اسکالزز کی شرکت نے سیمینار کو نیا مقام عطا کیا۔

                بچوں کا رسالہ ”گل بوٹے“ ممبئی کے سلور جبلی کے موقع پر دہلی میں ایک چہار روزہ بین الاقوامی کانفرنس۳۲/ تا۶۲/ ستمبر۹۱۰۲ء منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا موضوع ”ادب اِطفال: سمت ورفتار“ تھا کانفرنس کی خوبی یہ تھی کہ دہلی کی تینوں یونیورسٹیز جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی یونیورسٹی، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اور غالب انسٹی ٹیوٹ میں ایک ایک دن سیمینار کا انعقاد عمل میں آیا۔ آزاد ہندوستان میں بچوں کے ادب پر یہ اپنی نوعیت کی منفرد کانفرنس تھی۔اس موقع پر بچوں کے لیے لکھی گئی متعدد مقبول کتب کے نئے ایڈیشن شائع کیے گئے۔ گل بوٹے کے مدیر فاروق سید کی رہنمائی میں تقریباً سو سوا سواردو ادیب و شاعر اور اسکالرز کا ایک قافلہ ممبئی سے دہلی گیا اور ایک بے حد کامیاب کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا۔

                خواتین کی نوزائدہ تنظیم ’بنات‘ دہلی کا ایک یادگاریک روزہ سیمینار حج کمیٹی آف انڈیا ممبئی کے آڈیوؤیم میں ۱۳/ اکتوبر کو بعنوان ”نسائی ادب: سمت و رفتار“ منعقد ہوا۔ سیمینار میں پروفیسررفیعہ شبنم عابدی نے شاندار کلیدی خطبہ، ڈاکٹر نگار عظیم (صدر، بنات)نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ نظامت کی ذمہ داری تسنیم کو ثر(سکریڑی: بنات) نے انجام دی۔

                2019ء میں اردو کے متعدد نامور ادیب، شاعر، تنقید نگار ہم سے رخصت ہو گئے۔جن کی جگہ پرہونا بہت مشکل ہے۔اردو زبان وادب کو ان کے جانے سے نا قابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ معروف ترقی پسند ناقد پروفیسر سید عقیل رضوی 20/ دسمبر کو ہم سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوئے۔ ان کے ساتھ ترقی پسند تحریک کے ایک دور کا خاتمہ ہوا۔ ہندوستان کے معروف شاعرعلقمہ شبلی بھی دار فانی کو الودع کہہ گئے۔ اردو شاعری خصوصاً بنگال کی اردو شعری روایت کا ایک اہم ستون گر گیا۔ مشترکہ تہذیب کے علمبردار اردو فکشن نگار نند کشور وکرم نے 27/ اگست کو آخری سانس لی۔ عالمی اردو ادب کے بانی مدیر نند کشور وکرم نے اردو ادب کا ایک عالمی انتخاب تسلسل کے ساتھ سائع کیا۔ اردو معاشرتی ناول کا معتبر نام معروف ناول نگار افسانہ نگار مسرور جہاں نے بھی22 ستمبرمیں ہم سے منھ موڑ لیا۔اردو نے ایک بے باک،نڈر اور باوقار فکشن نگار کھو دیا۔ سہ ماہی”رنگ“دھنباد کے مدیر، اچھے شاعر شان بھارتی بھی ہمیں روتا چھوڑ گئے۔ پاکستان کے ہر دل عزیز افسانہ نگار،ناول نگار حامدسراج اور ادب لطیف،کی مدیر، صدیقہ بیگم نے بھی دسمبر میں ملک عدم کی راہ لی.۔جدید افسانہ نگار،ناول نگار انور سجاد بھی”خوشیوں کا باغ‘ چھوڑگئے۔انور سجاد کے ساتھ جدید افسانے کا آخری قلعہ بھی مسمارہوا۔

                2019ء رخصت ہو چکا ہے۔ ہم نے نئے سال کو خوش آمدید بھی کہہ لیا ہے۔ اب سنجیدگی سے اُردو کے حوالے سے غور و فکر کر نے اور اس سال اردو کے فروغ کے منصوبوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ بہت زیادہ نہیں صرف اتنا کر لیں کہ اُردو کے حقوق کی پامالی اور ناانصافی کے خلاف کم از کم ہم آواز ضرور اُٹھائیں۔ ساتھ ہی اپنی اپنی ریاستی حکومتوں کو اُردو کے لیے کچھ منصوبے بنانے اور عمل میں لانے کا دباؤ بنائیں،۔لیکن ان سب سے پہلے ہم خود اردو کا استعمال کریں۔ اخبارات و رسائل خرید کر پڑھیں، اور رسم الخط کی حفاظت یعنی زیادہ سے زیادہ اردو لکھنے کی کو شش کریں۔

                                     ۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔

                                                Prof.AslamJamshedpuri

                                aslamjamshedpuri@gmail.com/08279907070

انٹر میڈئیٹ کے ادو نصاب کی ترتیب و تعئینِ قدر پر سولن میں قومی ورکشاپ کا آغاز

انٹر میڈئیٹ کے ادو نصاب کی ترتیب و تعئینِ قدر
پر سولن میں قومی ورکشاپ کا آغاز

سولن 5 دسمبر (پریس ریلیز):
وزارت فروغ انسانی وسائل کی حکومت ہند کے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے ادارے ’اردو تدریسی وتحقیقی مرکز‘، سولن(ہماچل پردیش) میں ایک ہفت روزہ ورکشاپ بعنوان’’انٹر میڈئیٹ اردو کورس: ترتیب و تدوین اور تعئین قدر“ کا انعقاد ڈاکٹر طارق خان، کارگزار پرنسپل کی زیرِ صدارت ہوا۔ ورکشاپ کے کنوینرڈاکٹر ابو ارشد نے جلسے کی نظامت کے فرائض ادا کیے۔
ڈاکٹر ابو ارشد نے جلسے کی نظامت کرتے ہوئے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس ورکشاپ کا مقصد انٹرمیڈئیٹ سطح کے طلبہ کے لیے گزشتہ ورکشاپ میں تیار کیے گئے نصاب کی ترتیب و تدوین کرنا ہے۔ جس میں ہمیں زبان کے تقاضوں اور موجودہ رائج اصلاحات کا خیال رکھنا ہے۔
ڈاکٹر طارق خان نے اپنے خطبہ صدارت میں زبان کی باریکیوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو کی بدقسمتی ہے کہ اس کے سیکھنے کے لیے کوئی معیار متعین نہیں ہے۔ زبانوں کے مختلف ماہرین، اپنے اپنے طور پر معیار قائم کرتے ہیں۔ اس سے دیگر زبانوں کے طلبا کوزبان سیکھنے اور کوئی ایک معیار قائم کرنے میں بڑی دقت ہوتی ہے۔ہمیں اس ورکشاپ کے ذریعہ یکساں معیار کی ایسی کتاب تیار کرنی ہے جس میں اختلافات کم سے کم ہوں۔ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ادب کی تدریس کا مقصد بھی زبان سکھانا ہوتا ہے۔
ڈاکٹر طارق نے سی.آئی.آئی. ایل.(میسور) کے دیگر منصوبوں کے تعلق سے بھی اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر پروفیسر اسلم جمشیدپوری (میرٹھ)نے اردو زبان کی اہمیت و افادیت کے علاوہ اس کے تدریسی پہلوؤں پرروشنی ڈالی۔اس افتتاحی اجلاس میں ڈاکڑ زبیر شاداب (علی گڑھ)، احمد بدر(جمشیدپور) اور ڈاکٹر معراج الحسن (مرادآباد)نے اردو زبان کے تدریسی مسائل اور تدارک پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔جلسے میں ڈاکٹر مصباح احمد صدیقی،(امروہہ) ڈاکٹر سید تنویر حسن (امروہہ)، ڈاکٹر عبدالرشید (دہلی)، ڈاکٹر آفتاب عالم، ڈاکٹر آفتاب عالم نجمی (علی گڑھ)، ڈاکٹر عائشہ (امروہہ)، ڈاکٹر محمد مونس (پٹیالہ)، ڈاکٹر نصرت جہاں (کولکاتا)وغیرہ نے شرکت فرمائی اور اپنے مفید مشوروں سے نوازا۔

یک روزہ ”نوجوان ڈاراما میلہ 19“کا انعقاد 14/ دسمبر 2019ء

یک روزہ ”نوجوان ڈاراما میلہ 19“کا انعقاد 14/ دسمبر 2019ء میں
شعبہ اردو میں منعقد پریس کانفرنس سے پروفیسر اسلم جمشید پوری اور بھارت بھوشن شرما کا خطاب

29/ نومبر2019ء

شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے پریم چند سیمینار ہال میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔شعبہء اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے بتایا کہ بتاریخ 14/ دسمبر2019ء بروز شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور یونائٹڈ پروگریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن(اُپٹا) میرٹھ کے باہمی اشتراک سے یونائٹڈ پروگریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن کے دسویں یوم تاسیس کے موقع پر”نوجوان ڈرامہ میلہ2019ء“ اور اعزاز یہ پروگرام کا انعقاد نیتا جی’سبھاش چند بوس آڈی ٹوریم‘ میں ہونے جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ڈرامے کا مقصد نوجوانوں کو قومی و سماجی اقدار سے جوڑکر سیر و تفریح کے بامقصد طریقہ کار سے جوڑناہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی سے ملحق ہوئے میرٹھ کے سبھی کالجز سے اس پروگرام میں حصّہ لینے کے لئے درخوات کی گئی ہے۔
یونائٹڈ پروگریسیو تھیئٹر ایسو سی ایشن (اُپٹا) کے صدر محترم بھارت بھوشن شرما نے بتایا کہ یہ ایسوسی ایشن اپنے یوم تاسیس کے موقع پر ہر سال ہندوستانی رنگ منچ کو اپنی بیش قیمتی قربانیوں کے ذریعہ نیا رنگ عطا کرنے والی اہم شخصیات کو مدعو کرتی آرہی ہے۔ اسی سیریز میں اس سال(اپٹا)”بھارتیند و ہریش چندر نیشنل ایوارڈ 2019ء محترم دیوان سنگھ بجیلی کو اُپٹا حبیب تنویرنیشنل ایوارڈ 2019 کے مشہورڈراما ڈائریکٹر محترم سریندرساگر جی (دہلی)کو اور میرٹھ رنگ منچ کے اہم کردار ج ناب راکیش کپور کی مرحوم بیوی نیلو کپور کی یاد میں دیا جانے والا اُپٹا نیلو کپور اچیور ایوارڈ 2019 ء  مشہور و ممتاز اداکارو ناٹک ڈائریکٹر محترمہ راکھی چوہان مہتا (دہلی)کو پیش کیا جا ئے گا۔
اُپٹا کے سیکریٹری و نود کماربے چین نے بتایا کہ امسال مندرجہ بالاپروگرام میں ملک کے رنگ منچ سے جڑی ہوئی اہم شخصیات جیسے محترم دنیش اہلاوتؔ، ٹی وی سیریل کے ڈائریکٹر محترم نیرج شرما، رنگ منچ کی اہم شخصیت محترم ڈاکٹر سپریا پاہوجاؔ اور 2019 کے صدر (جمہوریہ) اعزازیافتہ ملک کے مشہور یوتھ موٹیو یٹر محترمہ مناکشی پاہوجاؔ کے پروگرام میں شرکت کرنے کی منظوری حاصل ہو چکی ہے۔
ڈاکٹر آصف علی نے بتایا کہ ”نوجوان ڈرامہ میلہ“میں کئی کالجز سے حصّہ لینے والے نوجوان کرداروں کی پیش کش کو ججوں کی ٹیم کے ذریعہ جانچا پرکھا جائے گا اور سرٹیفیکٹ و اعزاز سے سرفراز کیا جائے گا۔
اُپٹا کے نائب صدر محترم انل شرما و سیکریڑی سر یندر شرما نے بتایا کہ اُپٹا، میرٹھ اب تک اعزازیہ سیریز کے تحت قومی رنگ منچ سے جڑے ہوئے پروفیسر اصغر وضاحت،محترم وی۔این رائے، مرحوم ریوتی شرن شرما، پروفیسر اسلم جمشید پوری، محترم دنیس اہلاوت، ڈاکٹر سریاپاہوجا، محترم دیا پرکاش سنہا، محترم جے وردھن، (جے،۔ پی۔سنگھ) محترم میترا سنگھ اور محترم کاجل سوری وغیرہ شخصیات کو اعزاز و اکرام سے نواز چکی ہے۔
اُپٹا کے سر پرست پروفیسر اسلم جمشید پوری نے آگے بتایا کہ سابقہ دس برسوں سے اُپٹا میرٹھ، قومی سطح پر ممتاز و مشہور ڈراموں کے ذیعہ این۔سی آر میں اپنا ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ اس کے ذریعہ اب تک تیس سے بھی زائد ڈرامے کا میابی کے ساتھ کھیلے جا چکے ہیں۔ پریس کانفرنس میں ڈاکٹر شاداب علیم، ڈاکٹر ارشاد سیانوی اور محمد شمشاد بھی موجود تھے۔
٭٭٭

اچھے مقالے کے لیے مواداور پیش کش کے ساتھ تلفظ کا درست ہو نا اشد ضروری: پروفیسر اسلم جمشید پوری شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ میں دو روزہ شعبہ جاتی سیمینار کا اختتام

اچھے مقالے کے لیے مواداور پیش کش کے ساتھ تلفظ کا درست ہو نا اشد ضروری: پروفیسر اسلم جمشید پوری
شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ میں دو روزہ شعبہ جاتی سیمینار کا اختتام

(پریس ریلیز) میرٹھ 14نومبر 2019ء

شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں چل رہے دو روزہ شعبہ جاتی سیمینار(14۔13نومبر) کا آج آخری دن تھا جوایک اجلاس پر مشتمل تھا۔جن کی صدارت صدر شعبہ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے اور نظا مت کے فرائض مولانا اسرار، اور محمد شاکر نے انجام دیے۔
سیمینار کے دوسرے دن اجلاس صبح 10:30/ بجے شروع ہوا۔جس ایم فل کی طالب علم رہنما شفا نے”متنی تنقید کی تعریف اور اس کی اہمیت“،سیدہ مریم نے”تنقید کے مفہوم اور اس کے بنیادی اصول“،آصفہ انجم نے ”مولاناامتیاز علی خاں عرشی بحیثیت متنی نقاد“، شاکر مطلوب نے ”ادبی تحقیق کے مسائل: ایک جائزہ“ ایم۔اے سال دوم کے طالب علم اسرار احمد نے”اقبال کی شاعری کے فکری پہلو“،عبدالواحد نے”اقبال کی نظموں کے اقسام“،سامعہ نے”اقبال کے معاصر غزل گو شعراء“، صائمہ نے”اقبال کا فلسفہ خودی: ایک جائزہ“،محمدشاکر نے”اردو غزل گوئی میں اقبال کی انفرادیت“ اور صبا پروین نے”ابوکلام آزادکے قومی نظریات“ ایم۔اے سال اوّل کے طالب علم محمد انس نے ”اردو کے ابتدا کے عوامل و محرکات“ریشماجہاں نے”اردو کی موجودہ صورت حال: ایک جائزہ،علمہ نے”تحقیق کے اصول اور طریقہء کار“ مبشرہ نے ”تحقیق و تنقید کا رشتہ“ بھوت دھولیا نے ”تنقید کے اصول: ایک جائزہ“ موضوعات پر مقالے پیش کیے۔
آخر میں تین طالب علموں اسرار احمد،رہنما شفا،سیدہ مریم نے سیمینار سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا بعد ازاں صدر شعبہ اردو پروفیسر اسلم جمشید پو ری نے طلباء سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ ایک اچھے مقالے کے لیے مواداور پیش کش کے ساتھ تلفظ کا درست ہو نا نہایت ضروری ہے اوراس کے لیے نصابی کتب کے ساتھ ساتھ دیگر کتب کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ دلائل کے ساتھ طلبا کسی کی آرا سے اختلاف کر سکتے ہیں۔مقالات میں سوال قائم ہو نے چاہییں۔ مزید محنت کرتے ہو ئے شعبہ اور یونیورسٹی کا نام روشن کریں۔ اس مو قع پر ڈاکٹر آصف علی اور ڈاکٹر شاداب علیم،ڈاکٹر ارشادنے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
سیمینار میں،فرح ناز، گلناز، فیضان،محمدشمشاد، اور کثیر تعداد میں طلبا و طالبات نے شرکت کی۔

سر سید نے اپنے نظریے کی اشاعت کے لیے با ضا بطہ عملی اقدام بھی اٹھائے:محترم طالب زیدی

سر سید نے اپنے نظریے کی اشاعت کے لیے با ضا بطہ عملی اقدام بھی اٹھائے:محترم طالب زیدی
میرٹھ سمیت مغربی اتر پردیش کے اسکولوں میں ”جشنِ سرسید تقریبات“ انعقاد

(پریس ریلیز)
میرٹھ16/اکتوبر 2019ء

سالہا ئے گذشتہ کی طرح امسال بھی شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور سر سید ایجوکیشنل سوسائٹی، میرٹھ کے اشتراک سے محسن قوم عظیم تعلیمی رہنما سرسید احمد خاں کی یوم پیدائش کے موقع پر ”جشنِ سرسید تقریبات“ کے دوسرے دن میرٹھ میں حسنیٰ بیگم اردو میڈیم موڈل پبلک اسکول،(شاہ پیر گیٹ، میرٹھ)،نیو ہورائزن پبلک اسکول، زیدی نگر سوسائٹی،میرٹھ،اسماعیل نیشنل گرلز انٹر کالج، کوتوالی میرٹھ میں نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ منائی گئی۔
سر سید کا شمار عالمی سطح کے ایسے پیغامبروں میں ہو تا ہے جنہوں نے نہ صرف اپنا نظریہ پیش کیا بلکہ نظریے کی اشاعت کے لیے با ضا بطہ عملی اقدام بھی اٹھائے۔ مہمانِ خصوصی کے بطورشرکت فرما رہے۔ نیو ہورائزن پبلک اسکول میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے معروف شاعر طالب زیدی نے کہا۔مہمانِ خصوصی نے بطور محترم بدرالحسن صاحب نے کہا کہ سر سید احمد خاں نے تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردی ہماری زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو ان کے احسانات سے گرں بار نہ ہو۔مہمانانِ عزازی محترم صابر خان نے کہا کہ سرسید تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر بھی زور دیتے تھے۔کیونکہ اچھی تربیت انسان کی شخیت کو سنوارنے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔محترم بھارت بھوشن نے سر سید کو دنیا کے ان دانشوروں میں شمار کیا جنہوں نے اپنے قلم اور اپنے علم سے دنیا کے انسانوں میں تبدیلی لا نے کافریضہ انجام دیا۔ خصوصی مقرر ڈاکٹر شاداب علیم نے سر سید کا تفصیلی تعروف پیش کرتے ہوئے کہا سرسیدکا میرٹھ سے بڑا گہرا تعلق رہا ہے۔مولانا اسماعیل میرٹھی نے ان کے نقشے قدم پر چل کر تعلیم کو عام کرنے بالخصوص لڑکیوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے میر ٹھ شہر میں تعلیمی ادارے قائم کئے۔ اسکول کی ڈائرکٹرنایاب زہرا زیدی نے بچوں کو تعلیم کی اہمیت و افادیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کے وقت میں تعلیم انسانی زندگی میں اتنی ہی ضروری ہے جتنا انسانی زندگی کے لیے ہوا اور پانی۔پروگرام کی شروعات اسکول کے بچوں نے حمد نات اور تلاوت کلام پاک سے کی،اور سرسید کا تعارف پیش کیا۔ ا پروگرام کی نظامت کے فرائض اسکول کے اسا تذ ہ محترمہ ناظمہ اورمحترم محمد عابدنے مشترکہ طور پر ادا کئے۔ پروگرام کے آخرمیں علی گڑ ترانہ پیش کیا گیااور اسکول کی پرنسپل محترمہ شوبھا صاحبہ نے سبھی مہمانان کو مومیٹو پیش کئے اور شکریہ کی رسم ادا کی۔
حسنیٰ بیگم اردو میڈیم موڈل پبلک اسکول،(شاہ پیر گیٹ، میرٹھ) میں بھی بہت شاند جشن سرسید تقریبات کا اہتمام کیا گیا، پروگرام میں صدارت کے فرائض شہر کے معروف ایڈوکیٹ ایاز احمد نے انجام دیے مہمانِ خصوصی کے بطور میرٹھ کی معروف شخصیت ڈاکٹر سراج احمد نے شرکت کی۔مہمانان عزازی کے بطور ڈاکٹر فرحت خاتون، اور محترم قمرالحسن شریک محفل رہے۔حمد و نعت اور سرسید کا تعارف اسکول کے طلبہ نے پیش کیا۔اسکول کے پرنسپل محترمہ شہناز احمد نے مہمانوں کو پھولوں کا گلدستہ اور سر سید یادگار مومینٹو پیش کئے۔اسکول کے ڈائرکٹر محترم آفاق احمد خاں نے نہایت دل چسپ انداز میں بچوں سے سرسید کوئز لیا اور شکریہ کے فرائض انجام دئے۔
اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر سراج الدین نے کہا کہ سرسید اور مولانا اسماعیل میرٹھی دونون ہی تعلیم کے ذریعہ قوم کو مین اسٹیم پر لانا چہاتے تھے اس لیے دونوں تعلیمی ادارے قائم کر رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا یہ دونوں ایسے زمانے میں سامنے آئے جب ہندوستانی معاشرہ بالخسوس مسلم طبقہ علم کی روشنی سے دور تھا۔ایڈوکیٹ ایاز صاحب نے کہا کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں کے 17/ اکتوبر کو سرسید کونہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی یاد کیا جاتا ہے اور ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔محترمہ فرحت خاتون نے سر سید پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سرسید نے نہایت پر آشوب حالات میں علم کی ایسی شمع روشن کی جس سے آج ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا منور ہو رہی ہے۔
اسماعیل نیشنل گرلز انٹر کالج میں بھی نہایت ہی اہتمام کے ساتھ جسن سرسیدتقریبات کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کی صدارت کے فرائض محترمہ طاہرا رضوی نے انجام دیے۔مہمان خصوصی نے بطور ڈاکٹر فرحت خاتون نے شرکت فرمائی،اور مہمانانِ ذی وقار کے بطورڈاکٹر سراج الدین،اور محترمہ سلطانہ جیلانی موجود رہے۔حمد نات اور تلاوت قرآن سے پروگرام کی شروعات ہوئی۔استقبالیہ کلمات اسکول کی پرنسپل محترمہ تبسم خاتون نے اور نظامت کے فرائض محترمہ نگہت پروین نے انجام دیے اور اسکول کی ٹیچر الماس صاحبہ نے سر سید کوئزکرائی۔
سرسید کی ادبی تعلیمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر فرحت خاتون نے کہا کہ سرسید کے مشن اور ان کی تعلیم کو نئی نسل تک منتقل کرنا اور عالمی سطح پر راہ ہموار کرنا ہماری ذمہ داری ہونی چاہئے یہی سر سید کے مشن کی اشاعت و تبلیغ ہو گی۔طارہرا رضوی نے کہا کہ سر سید نے ہندوستان کی زوال آ مادہ قوم کو تعلیم کے زیور سے آ راستہ کر نے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی تھی۔آج ان کے تعلیمی نظریات کو عام کر نے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر سراج الدین نے کہا کہ سرسید احمد خاں نے اپنے نظریات، فکرو فلسفے سے ایک عالم کو متاثر کیا۔ علم کا ایسا چراغ روشن کیا کہ جس سے آج دنیا کے کونے کونے میں ہزاروں چراغ روشن ہیں۔محترمہ سلطانہ جیلانی نے کہا کہ ہمارا سر سید کو بڑا خراج عقیدت یہ ہو گا کہ ہم اپنے طالب علموں کی اسی نہج پر ذہن سا زی کریں۔
مظفرنگر: مظفرنگر نواب عظمت علی خان گرلز ڈگری کالج، مظفر نگر میں پروفیسر اسلم جمشید پوری کی صدارت میں جشن سرسید کی شاندار تقریب منعقد ہوئی،ڈاکٹر ہاشم رضا زیدی مہمان خصوصی اور ڈاکٹر ارشد اقبال اور ارشد اکرام بطور مہمان اعزازی شریک ہوئے۔ کالج کی اردو استاد محترمہ ثنا صاحبہ نے جلسے کی نظامت کی۔ کالج کی کئی طلبہ نے سرسید پر مقالے پیش کیے۔ اس موقع پر سر سید کوئز کا بھی انعقاد ہوا، جس میں ۰۱/ طلبات نے انعامات حاصل کیے۔ کالج کی پرنسپل ڈاکٹر انیتا اگروال نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
دیوبند: اسلامیہ ڈگری کالج، دیو بند میں شاندار جشن سرسید کا انعقاد عمل میں آیا جلسے کی نظامت کالج کے پرنسپل ڈاکٹر اسجد ترکی نے اور صدارت پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کی۔ مہمان خصوصی کے طور پر محترم مولانا شاہ عالم گورکھ پوری، استاد دارالعلوم، شریک ہوئے۔
اس موقع پر ایک ساندار سرسید کوئز کا بھی اہتمام کیا گیا۔ طلباء و طالبات نے اپنے پروگرام پیش کئے۔
جشن سر سید کوئیز سیرز کی نیرونی ٹیم گلاوٹھی میں مفید عام انٹر کالج،ہاپوڑ میں آؤ پڑھیں، سوسائٹی، ریحان پبلک اسکول،سیانہ میں اسلامیہ جونیر ہائی اسکول اور بلند شہر میں گرلز ڈگری کالج میں بھی سر سید کے پیغام کو عام کیا۔
مفید عام انٹر کالج (گلاوٹھی)مفید عام انٹر کالج گلاوٹھی میں پروفیسر جمال احمد صدیقی کی صدارت میں جشن سرسید کی شاندار تقریب منعقد ہوئی، محترم سرتاج ایڈوکیٹ مہمانے خصوصی اور محمد آصف، شاکر مطلوب، مہمانان عزازی شریک رہے۔ کالج کے پی ٹی آئی سہیل احمد صاحب نے جلسے کی نظامت کی اس موقع پر شاکر مطلوب نے سرسید کوئز کرائی۔ جس میں 10/ طلبہ کو انعامات سے نوازا گیاکالج کے پرنسپل محمد ڈاکر نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
ہاپوڑ: ہاپوڑ میں آؤ پڑھیں سوسائٹی ریحان پبلک اسکول میں جشن سرسید کا شاندار انعقاد عمل میں آیا پروگرام کی نظامت حاجی اسماعیل اور صدارت جمال احمد صدیقی نے کی اور مہمان خصوصی کے طور پر محترم سرتاج احمد ایڈوکٹ شریک ہوئے۔اس موقع پر ایک شاندار کوئز کا بھی اہتمام کیا گیا اور اس میں ۷/ اسکولوں کی ٹیم نے حصہ لیا اورمہر پبلک اسکول کی ٹیم نے سب سے زیادہ سالوں کے جوابات دیکرپہلا نمبر حاصل کیا۔ پروگرام کے کنونر فصیح چودھری کو کنوینر مشرف چودھری، فراز چودھری، ضیاء الرحمنٰ، جمیل احمد وغیرہ حضرات موجود رہے۔
جشن سر تقریبا ت کے تحت 17/ اکتوبر 2019ء مائی پبلک اسکول شاستری نگر، میرٹھ، میں صبح9:00/ بجے،حمید یہ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول،خیر نگر میں 10:30بجے،مظفر نگر: انس نصیرانٹر کالج 8:00/ بجے سر سید لیکچر سیریز اور سر سید کوئز کا اہتمام کیا جائے گا۔ ڈی ٹی ایس گرلز ڈگری کالج، چلکانہ، سہارنپور میں 12/بجے جس میں مقریرین کی حیثیت سے ڈاکٹر فضل الرحمنٰ(پرنسپل فیضِ عام ڈگری کالج) محترم ارشد خان(پرنسپل ٹرانسلیم اکیڈمی)،محترم آفاق احمدخان،محترمہ رما نہرو، ڈاکٹر جمال احمد صدیقی، محترم قاری شفیق الرحمنٰ، ڈاکٹر سراج الدین، محترم رفعت جمالی، محترمہ قمرانساء زیدی، پروفیسر اسلم جمشید پوری، ڈاکٹر شاداب علیم، محترم مفتی راحت، مولانا شاہ عالم وغیرہ شرکت کریں گے۔

 

کسی بھی افسانہ نگار کی پہلی کہانی پہلی اولاد کی طرح اہم ہوتی ہے: پروفیسر اسلم جمشید پوری

”کسی بھی افسانہ نگار کی پہلی کہانی پہلی اولاد کی طرح اہم ہوتی ہے“: پروفیسر اسلم جمشید پوری
شعبہ اردو میں ایک ادبی نشست کا انعقاد
(پریس رلیز)
میرٹھ 21 / ستمبر 2019ء

شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے پریم چندسیمینار ہال میں ایک ادبی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں شعبہ اردو میں پڑھنے والے ایم۔ اے، ایم فل، پی ایچ ڈی کے طلباء نے پروگرام کی پہلی نشست میں اپنی تخلیقات پیش کیں اور دوسری نشست میں شعبہ اردو کے استاد ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹر شاداب علیم نے تخلیقات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا پروگرام کی صدارت پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کی، نظامت کے فرائض شعبہء اردو کی رسرچ اسکالر شوبی زہرا نقوی نے بحسن و خوبی انجام دی۔
پروگرام کا آغاز ایم۔اے کے طالب علم اسراراحمد نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔بعداذاں ایم۔اے کی طالب علم صبا نے نعت اور علما نے اقبال کی غزل پیش کی۔ رہنما شفا نے اپنا ایک منفرد مضمون بعنوان”اردو کے فروغ میں مدارس کا کردار“پیش کیا۔جس کو کافی پسند کیا گیا۔اصفہ انجم نے اپنی کہانی”قیدی“ پیش کی جبکہ، شاکر مطلوب نے اپنی کہانی”جڑیں“منفرد انداز میں سناکر سامعین کو متاثر کیا اور مریم نے اپنی کہانی ”ملازمہ“ کی قرأت کرکے سامعین کو داد دینے کے لیے مجبور کر دیا۔ اسرار احمد، تابش فرید اور فیضان انصاری نے مشہور شعراء کی غزلیں مترنم لب و لہجے میں پیش کیں۔ ڈاکٹر شاداب علیم نے طلبا و طالبات کی تخلیقات پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ان بچوں کی یہ ابتدائی تخلیقات ہیں جن میں تھوڑی بہت کمیوں کا ہونا عام بات ہے۔جن کو آگے سدھارا جا سکتا ہے۔ پروگرام میں تخلیق کاروں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ جن تخلیقات پر تن من دھن خرچ ہوتا ہے،وہ قابل قبول ہوتی ہیں۔صدارتی خطبے میں پروفیسر اسلم جمشید پوری نے سبھی طلبا ء و طالبات کے کلام پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے ساتھ تربیت شخصیت کو بہتر بناتی ہے۔ ادبی محفلوں سے طالب علم جہاں سلیقہ، روایت کا احترام اور نت نئے ڈھنگ سیکھتا ہے، وہیں اس کے اندر بردباری آتی ہے۔ کسی بھی افسانہ نگار کی پہلی کہانی پہلی اولاد کی طرح اہم ہوتی ہے۔سبھی طلباء و طالبات کی حوصلہ افضائی کرتے ہوئے صدر شعبہء اردو نے مفید مشوروں سے بھی نوازا اور آئندہ بہترتخلیقات پیش کرنے کی ہدایت دی۔
اس موقع پر ڈاکٹر ارشاد سیانوی، ڈاکٹر پشپیندر کمار نمؔ، محمد نوید حاں،ثناایاز، شاذیہ، فرہین، محمد شمشاد شہاب الدین، کلدیپ وغیرہ حاضر رہے۔

٭٭٭

 

ابھی تو ظلمتیں ہم کو بہت ڈرائیں گی_ ابھی نہیں ہے ہمارے حساب کا سورج: (مقصود جالب)

ابھی تو ظلمتیں ہم کو بہت ڈرائیں گی ابھی نہیں ہے ہمارے حساب کا سورج: (مقصود جالب)

معروف شاعر محترم بی ایس جین جوہر ؔ کی یاد میں مشاعرہ
(پریس ریلیز)
میرٹھ یکم/جولائی 2019ء

شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ کے منشی پریم چند سیمینار ہال میں میرٹھ کے معروف شاعر مرحوم بی ایس جین جوہرؔ کی یاد میں ایک مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت پروفیسر سید احمد شمیم نے کی اور مہمانان میں پروفیسر خالد حسین خاں، محترم نپن جین شریک ہوئے مہمانان کے لیے استقبالیہ کلمات ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے ادا کیے اور تعارف ڈاکٹر شاداب علیم، نظامت کے فرائض معروف نوجوان شاعر فرقان سنبھلی نے بحسن و خوبی ادا کیے۔
اس موقع پر اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر سید احمد شمیم نے بی ایس جین جوہر ؔ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ داغؔ دہلوی کے علمی خانوادے کی روایت کے امین جوہرؔ نے اپنے استاد سیماب اکبر آبادی کے رنگ کو بخوبی نبھایا۔ دنیا کی بے ثباتی، قومی ہم آہنگی، انسانی شناخت، حب الوطنی جیسے عناصر سے مملو کی شاعری، میرٹھ ہی نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ایک خزانے سے کم نہیں۔
پروفیسر اسلم جمشید پوری نے محترم نپن جین کی پیش کش کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ایم فل اردو کے ٹاپر کو بی ایس جین جوہرؔ گولڈ میڈل اسپانسر کریں گے۔ واضح ہو کہ شعبہ ء اردو میں ایم اے کے ٹاپر کو مولانا امتیاز علی عرشی گولڈ میڈل سے نوازا جاتا ہے۔
بی ایس جین جوہرؔ کی یا د میں مشاعرہ بے حد کامیاب رہا ہے اردو کے ساتھ ساتھ ہندی شعراء نے بھی شرکت کی شعراکا منتخب کلام پیش ِ خدمت ہے۔

کمل اردو کے کھلتے ہیں یہا ں ہندی کی جھیلوں میں _غزل کو باندھنا مشکل ہے بھاشائی قبیلوں میں
(ڈاکٹر ایشور چند گمبھیر)
لکھ کے والد کی شان کا غذ پر _رکھ دیا آسمان کا غذ پر
(جمیل مظہر سیانوی)
اپنے وطن پہ جان لٹا کر تو دیکھئے _ماٹی میں اپنا خون ملاکر تو دیکھئے
(ڈاکٹر یونس خان)
چراغ یوسف اُمیدوں کے جلاؤ تو سہی _ہے پوشیدہ اندھیروں میں بھی دیکھئے اُجالا بھی
(ڈاکٹر یوسف میرٹھی)
گھٹے گا دم جو ہمارا تو شکایت کیسی _ہمیں نے زہر فضاؤں میں ڈال رکھا ہے
(ڈاکٹر رام گوپال بھارتیہ)
غافل ہے روک تھام سے سرکار کس لیے _لٹتی ہے آبرو سرے بازار کس لیے
(ڈاکٹر فرقان سردھنوی)
ابھی تو ظلمتیں ہم کو بہت ڈرائیں گی _ابھی نہیں ہے ہمارے حساب کا سورج
(مقصود جالب)
بخشش کو کافی ہوتی ہے معمولی سی نیکی بھی _صابن کی چھوٹی کرچی بھی کر دیتی ہے دھبا صاف
(فخری میرٹھی)
وہ جو ظلمتوں کاحریف تھا وہ جو روشنی کا نقیب تھا _وہ چراغِ راہِ خولاس تھا اسے اندھیوں نے بجھا دیا
(یونس غازی)
ہوا کے رخ سے جلانے چراغ نکلے ہیں _ان اندھیوں کا ہمیں زور آزمانا ہے
(نظیر میرٹھی)
دیکھتے کچھ اور تھے لیکن سمجھتے تھے کچھ _مدتوں ہم اپنی بینائی سے چھل کرتے رہے
(اسرارالحق اسرار)
پگھلتی نظر بھی تیری آمد کی منتظر کیوں ہے _تیرے وعدے پے مجھے یقین اس قدر کیوں ہے (سواتی شر ما)
اس موقع پر بھارت بھوشن شرما، رام اوتار بنسل،محمد دانش، آفاق احمد خان، معراج الدین انصاری، الکا وششٹھ،مکیش جین، ادت جین، اشونی گیرا، راجیو جی،منوج جی، پروین گرگ، آلوک شرما،فرح ناز، گل ناز، ڈاکٹر سیدہ،فیضان انصاری، عبدالواحد،محمد شمشاد وغیرہ شریک ہوئے۔
٭٭٭

 

معروف شاعر محترم بی ایس جین جوہر ؔ کے انتقالِ پر ملال پر تعزیتی جلسہ

معروف شاعر محترم بی ایس جین جوہر ؔ کے انتقالِ پر ملال پر تعزیتی جلسہ
بی ایس جین جوہر ؔ کا انتقال نہ صرف میرٹھ بلکہ پوری اردو دنیا کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے : پروفیسر سید احمد شمیم
(پریس ریلیز)
میرٹھ 28/ جون 2019ء

شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ کے منشی پریم چند سیمینار ہال میں میرٹھ کے معروف شاعر مرحوم بی ایس جین جوہرؔ کی یاد میں ایک تعزیتی جلسہ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت پروفیسر سید احمد شمیم نے کی اور مہمانان میں پروفیسر خالد حسین خاں، محترم نپن جین شریک ہوئے مہمانان کے لیے استقبالیہ کلمات ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے ادا کیے اور تعارف ڈاکٹر شاداب علیم، نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف علی نے بحسن و خوبی ادا کیے۔
تعزیتی جلسہ کا آغاز شعبے کے طالب علم اسرار احمد نے مرحوم بی ایس جین جوہر ؔ کی خوبصورت غزل سے کیا۔بعداذاں ڈاکٹر شاداب علیم نے معروف شاعر محترم بی ایس جین جوہر ؔ کا تعاروف پیش کرتے ہوئے کہا کہ محترم جوہرؔ جیسے شاعر،ملنسار اوربا کردار انسان کبھی کبھی پیدا ہوتے ہے۔شاعری کے ذریعے ان کی لگن و کام جو انھوں نے اپنی زندگی میں جاری رکھے اور غریبوں کو آگے بڑھانے میں مدد کی ان کی وفات کے بعد یہ ذمہ داری انکے رشتہ داروں اور دوستوں کی بنتی ہے کہ وہ محترم بی ایس جین جوہر ؔکے کام کو آگے بڑھائیں۔اس موقع پر پروفیسر خالد حسین نے کہا کہ مرحوم بی ایس جین جوہرؔایک اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے تاجر بھی تھے۔ان کے ساتوں شعری مجموعوں سے ہندو مسلم یکجہتی کی نمائندگی ہوتی ہے۔ مرحوم کے بیٹے محترم نپن جین نے اپنے والد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد ایک اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین تاجراور خوش اخلاق تاجر بھی تھے۔ ان کی شاعری سے محبت کا پیغام جاتا ہے۔ انہوں نے کبھی ہندو، مسلمان میں فرق نہیں کیا۔
پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ ان کا چلے جانا ادب کا بہت بڑا نقصان ہے۔ محترم بی ایس جین جوہرؔ اردو کے بڑے ادیب اور بہترین شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ملنسار،دیش بھکت اورسچے انسان تھے۔ ان کے کلام پر جب رسرچ ہوگی تو ادب کے نئے نئے گوشے سامنے آئیں گے۔ صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر سید احمد شمیم نے کہا کہ استاد شاگردی کا رشتہ اب کمزور ہوتا جا رہا ہے۔آج ایک دوسرے سے محبت، ہمدردی، انسیت جیسی صفات ختم ہوتی جارہی ہیں۔یہاں پر بہت سی زبانیں ہیں جن کے ملنے سے ایک گلدستہ بنتا ہے۔ شاعری کی طرح اردو افسانے کی رسرچ کے لیے بھی کافی محنت کرنی پڑتی ہے۔لیکن آج اسکالررسرچ پر ہونے والی محنت سے دور بھاگ رہے ہیں۔اردو زبان پورے ملک کی تہذیبی زبان ہے۔ اسے سیکھنے کی ضرورت ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر فرحت حسین خوشدل(ہزاری باغ) کی مرتب کردہ کتاب ”انتخاب ِ کلامِ جوہر“اور فرحت حسین خوشدل کی ہندی نظموں کا مجموعہ پشپانجلی(جسے انہوں نے بی ایس جین جوہر کے نام کییا ہے)کا اجرا بھی مہمانوں کے ہا تھوں عمل میں آیا۔
اس موقع پر بھارت بھوشن شرما، رام اوتار بنسل،محمد دانش، آفاق احمد خان، ڈاکٹر ارشاد انصاری، معراج الدین انصاری، الکا وششٹھ،مکیش جین، ادت جین، اشونی گیرا، راجیو جی،منوج جی، پروین گرگ، آلوک شرما،فرح ناز، گل ناز، شبشتہ خان، ڈاکٹر سیدہ،فیضان انصاری، عبدالواحد،محمد شمشاد وغیرہ شریک ہوئے۔
٭٭٭

 

” وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ” : مرجینا صدیقی – MARJINA SIDDIQUI

  

"وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ”

مرجینا صدیقی

 

دولت علم سے بہرہ مند ہونا ہر مرد و زن کے لئے لازمی امر ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کو مجموعی طور پر دین سے روشناس کرانے‘ تہذیب و ثقافت سے بہرہ ور کرنے میں اس قوم کی خواتین کا اہم بلکہ مرکزی اور اساسی کردار ہوتا ہے۔ ترقی صرف اس قوم کی میراث ہے جس کے افراد زور علم سے آراستہ و پیراستہ ہوں۔ اور قوم کے نونہالوں کی صحیح اُٹھان اور نشوونما میں ان کی ماﺅں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ ماں کی گود بچے کا اولین مدرسہ ہے۔ بچے کی ابتدائی درسگاہ دراصل ماں کی گود ہوتی ہے۔ اگر ماں تعلیم یافتہ اور سلیقہ شعار ہو تو اولاد بھی صاحب علم اور مہذب ہوگی۔ ماں کے قدموں تلے جنت کا ہونا بھی اس  کاباعث ہے کہ اولاد کی تعلیم و تربیت میں ماں کا کردار بہ نسبت باپ زیادہ کی اہمیت ہے۔ ایک ماں ہی اپنی اولاد کے خیالات اور کردار کو سنوارنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ جب ماں کی بنیادیں مستحکم ہوں گی تو بچے بھی معاشرے کے اہم فرد کی حیثیت سے اُبھر سکتے ہیں۔علم کے بغیر انسان خدا کو بھی پہچاننے سے قاصر ہے۔ کسی بھی عمل کے لئے علم ضروری ہے کیوں کہ جب علم نہ ہوگا تو اس پر عمل کیسے ہو سکے گا۔ اس لئے شروع ہی سے اسلام نے جس طرح مردوں کے لئے تعلیم کی تمام تر راہیں ہموار کی ہیں ان کو ہر قسم کے مفید علم کے حصول کی نہ صرف آزادی دی ہے بلکہ اس پر ان کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے بھی حصول علم لازمی ہے۔ اسلام نے تعلیم کو مردوں اور عورتوں کے لئے یکساں طور پر فرض قرار دیا ہے۔ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اسلام نے مرد و عورت دونوں کے حصول علم کی تاکید کی ہے خواہ اس کے لئے دور دراز کا سفر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ ہمارے معاشرے میں عورت و مرد دونوں کی اہمیت یکساں ہے۔ چنانچہ ہر دور میں مردوں کے شانہ بشانہ اسلام میں ایسی باکمال خواتین بھی جنم لیتی رہی  ہیں جنہوں نے اطاعت گزار بیٹی‘ وفا شعار بیوی اور سراپا شفقت بہن کا کردار نبھانے کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنے علم کا چراغ روشن کیاہے۔ ہر قوم کی تعمیر و ترقی کا انحصار اس کی تعلیم پر ہی منحصرہے۔ تعلیم ہی قوم کے احساس وشعور کو نکھارتی ہے اور نئی نسل کو زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتی ہے۔ علم ایک ایسا بہتا ہوا دریا ہے جس سے جو جتنا چاہیں سیراب ہو سکتے ہیں لیکن شرط محنت اور لگن ہے۔ زندگی کے اقدار میں نکھار اور وقار علم سے ہی آ سکتا ہے۔ ترقی کی راہوں پر آگے بڑھنے کے لئے عورتوں کے لئے بھی علم  اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ مردوں کے لئے گویا عورت اور مرد ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں جن میں سے ایک کی بھی علم سے لاتعلقی کائنات کے نظام کو درہم برہم کر سکتی ہے۔ زندگی کے اقدار میں نکھار اور وقار علم سے ہی آ سکتا ہے۔ سب سے بہترین درسگاہ ماں کی گود ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ ہر ایک کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ  ہوتا ہے ۔

روزے کی فرضیت کا بنیادی مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے: مولا نا جبرئیل

روزے کی فرضیت کا بنیادی مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے: مولا نا جبرئیل
شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کیمپس میں روزہ افطار کا انعقاد،وائس چانسلر کی شر کت
(پریس ریلیز)میرٹھ ۲۲مئی
شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی،میرٹھ میں ایک شاندار افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا جس میں یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ پروفیسر این کے تنیجا، دیگر پروفیسر،افسران، ملازمین اور طلباو طالبات کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں علماء،دانشوران،سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ صدر شعبہ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری،ڈپٹی لائبریرین ڈا کٹر جمال احمد صدیقی، ارشد سلطان، ڈاکٹر نازیہ ترنم،ڈاکٹر شاداب علیم، ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹر ارشاد سیانوی، نے سبھی مہمانان کا استقبال کیا۔
روزہ کسا ئی کی اس تقریب میں معروف خطیب مولا نا جبرئیل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کا مہینہ بہت ہی با برکت اور عظمت وا لا ہے اور اللہ تعالیٰ اس ماہ میں ہر عمل خیر کا درجہ کئی گنا بڑھادیتے ہیں۔روزے کی فرضیت کا بنیادی مقصد لوگوں کی زندگی میں تقویٰ پیدا کرنا ہے۔روزہ خواہشات کو کنٹرول کرنے میں بڑا معاون ہو تا ہے اور جب خواہشات پر قابو پالیا جاتا ہے تو انسان تقویٰ کی جانب گامزن ہوجا تا ہے اور تقویٰ سے ہی دلوں میں اللہ کا خوف پیدا ہو تا ہے۔اسی لیے روزہ کے ذریعے ہم عبادات، معاملات،اخلاقیات اور معاشرت،انسانیت، غرباو مساکین کے ساتھ ہمدردی غرض کہ زندگی کے تمام شعبوں میں ہم اپنے خالق ومالک کے احکامات کے مطابق اپنی زندگی بسر کرسکتے ہیں اور اپنے مالک کی خوشنودی حاصل کرسکتے ہیں۔روزہ انسان میں صبرو تحمل، مشکلات پر قابو پانے اور نفس کو کنٹرول میں رکھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے اور یہ ایک ایسا جو ہر ہے کہ ہر افراد کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ہمیشہ کام آتا ہے۔
روزے کے فائدے بھی بہت ہیں۔جسمانی بھی اور رو حانی بھی۔ ڈاکٹروں کے قول کے مطابق رو زے سے نظام ہاضمہ درست رہتا ہے اور سبھی جانتے ہیں کہ تمام بیماریوں کی جڑ نظام ہاضمہ کی خرابی ہے۔انہوں نے اس موقع پر سبھی کے ساتھ مل کر ملک وقوم،شعبہ اور یونیورسٹی کی سلامتی و ترقی کے لیے دعا کرائی۔سائرن بجنے کے ساتھ ہی سبھی نے افطارکیا بعد ازاں قاری انیس الرحمن کی امامت میں نماز مغرب ادا کی گئی۔
افطار پارٹی میں پروفیسر اے کے چوبے، ڈاکٹر وضاحت حسین رضوی، کینسر کے ماہر ڈاکٹر ماجدتالی کوٹی، محمد عثمان خان، ا نجم ضیاء، حاجی عمران صدیقیڈاکٹر تعظیم جہاں، محمد آصف نان پوری،حاجی جی ایم مصطفی،اکرام بالیان، ڈاکٹر ارشد اقبال، ایڈوکیٹ سرتاج احمد،ڈاکٹرشکیل احمد، ڈاکٹرپرویز عالم، آفاق خان،اسلم پاشا، عبد السلام، سائرہ بانو، مدیحہ اسلم، شناور اسلم، محمد شمشاد، انس سبز واری، سلیم سیفی، ڈاکٹر ارشاداحمد انصاری، انجنئیر رفعت جمالی، حاجی مشتاق سیفی،، سعید احمد سہارنپوری سمیت دیگر معزز حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ رپورٹ : ارشاد سیانوی