Skip to main content

Aalamiparwaz

زخمی احساس کا شاعر مشتاق احزن : ڈاکٹر معصوم رضا امرتھوی

 

زخمی احساس کا شاعر:مشتاق احزن

صبح ہونے تک کے آئینے میں

ڈاکٹر معصوم رضا امرتھوی

سابق صدر شعبہ اردو، مہیلا کالج،جموئی،بہار

09934664444, 093408186380

 

 

                         مشتاق کا زخمی احساس مسلسل زخموں کی چوٹ کھا کر سکون محسوس کرتا ہوا زخمی احساس سے پیدا شدہ حالات کے تحت حزن وملال کی تاریکی میں ڈوب کر نئے حوصلے کے ساتھ ”صبح ہونے تک“ کے انتظار میں اپنا ذہنی سفر جاری رکھتاہے۔ موصوف اپنے اس ذہنی کرب کے اظہار کے لئے جو شعری Patternاختیار کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے جو معنویت اور اثر انگیزی میں جواب نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے علامہ ناوک حمزہ پوری جیسے بزرگ استاذ شاعر نے ان کے شعری فکر کو بے داغ اورتہذیب ِغزل کی شان کہا ہے   ؎

فنکار غزل حضرت مشتاق احزن

پاکیزہ ہے ہر فن تو بے داغ ہے فن

تہذیب غرل کے یہ نقوش ذی شان

تاریخ سخن کے یہ طبرناک بیان

                احزن کے شعری محاسن سے پھر پور اشعار نے مجھے بے حد متاثر کیا   ؎

نہ پوچھ ساتھ گزرا ہوا وہ اک لمحہ

جو یاد آئے تو کتنا سکوں دیتا ہے

                مجموعہ کلام ”صبح ہونے تک“ علامتی اہمیت سے لبریز ہے۔ جناب اسلم بدر نے ٹھیک ہی کہا کہ مشتاق احزن کی شاعری میں مشتاق پر احزن غالب ہے۔ چونکہ ان کے زیادہ تر اشعار پر حزن و ملال کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ میرے خیال میں یہی ان کی شاعری کی جان ہے۔ بقول انگریزی زبان کے مشہور شاعر P.B.Shelley

Our sweetest song are those which are full of pathos

                چونکہ حزنیہ شاعری میں دردوغم اور سوزوگداز ہوتاہے جو رنگِ تغزل کو نکھارتاہے۔ میر تقی میر اپنی حزنیہ شاعری کے دلکش انداز اور سوزو گداز کے سبب شہنشاہِ تغزل کہلاتے ہیں۔مشتاق احزن کی شاعری اسم بامسمیٰ جو قابلِ تحسین اور منفردہے۔

                موصوف ہر جگہ شکایتِ زمانہ، بے بسی، مایوسی اور بے حسی کا رونا روتے نظر آتے ہیں مگر یہ رونا بے سبب نہیں ہے   ؎

اپنے اشکوں کو یہی سوچ کر پی لیتا ہوں

 چند قطرے کبھی یہ سیلاب نہیں لاسکتے

                یہ Pessimisticقنوطی فکر کو واضح کرتی ہے مگر اس کے باوجود موصوف شاعری کی عام روش اور شاعروں کی عام صف سے الگ نظر آتے ہیں۔ ان کے تخلص کے مطابقت سے ان کے کلام میں حزن وملال، کرب و انتشار کی فراوانی انہیں قنوطیت کے قریب بے شک لے جاتی ہے۔

خوشی کا کوئی پل مجھ پر کبھی غالب نہیں آتا

یہ وہ دل ہے، جو بس محرومیوں سے پیار کرتا ہے

دامن کو آنسوؤں سے بھگونا پڑا مجھے

خواہش تھی مسکرانے کی رونا پڑا مجھے

                یہ رنگ اور بھی گہرا ہوجاتاہے جب کہتے ہیں   ؎

درد کل کو چھپاتے ہوئے جی لیتا ہوں

ٹوٹتے رہتے ہیں منظر مرے اندر کتنے

                مایوسی اور بے بسی کا درد ابھر کر سامنے آجاتا ہے جب شاعر یہ کہتا ہے   ؎

آج کی رسوائیوں پہ کیوں ہے تو احزن اداس

تجھ پر سیمینار ہوں گے دم نکل جانے کے بعد

                ہر زمانہ کے ہر شاعر کا وطیرہ یہی رہا ہے۔میر بھی شاکی رہے غالب کو بھی گلہ رہا۔ مایوسی اور بے بسی میں گھرے مندرجہ بالا اشعار میر تقی میر کا انداز لئے ہوئے ہیں۔ ان کے حزنیہ کلام ناقدری،گلہ شکوہ سے بھرپور اشعار سے متاثر ہوکر اسلم بدر جیسے شاعر یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ”مشتاق کی شاعری میں جذبوں کی لطافت پر کثافتِ حزن وملال غالب آچکا ہے۔“

                ایسا کہنا بجا ہے۔ چونکہ فنکار اپنے ماحول کا پروردہ ہوتاہے، حالات و حوادث سے متاثر ہونا ناگزیر ہے اور یہ احساس حیاتِ انسانی کا عظیم سرمایہ ہوتاہے۔ موجودہ دور کے مادیت پرست ماحول نے انسان کو اس قدر بے مروت اور بے حس بنادیا ہے کہ رشتوں کی پہچان مٹ گئی ہے۔ آج کا انسان انسانیت کی سطح سے کافی نیچے گر گیا ہے، جس کا احساس شاعر کو بے چین کردیتاہے   ؎

کھڑاہوا ہے جو تن کر قطار انساں میں

وہ شخص مجھ کو تو انساں عمر بھر نہ لگا

خزاں چشیدہ ہوئے کیوں سبھی پرانے پیڑ

جو سایہ دار ہو ایسا کوئی شجر نہ لگا

                اکثر شعرا کو ان کی بے جا انانیت نے انہیں گمراہ کیا بدنام کیا مگر احزنؔنے بے جا ”انانیت“ سے اپنے دامن کو بچائے رکھا ہے، جو ان کے ایک اچھے شاعر کے ساتھ ساتھ ایک اچھے انسان ہونے کی غماز ہے جو ان کی خاکساری کو اجاگر کرتی ہے   ؎

ہم غزل کہتے ہیں احزن پھر بھی اپنے ہاتھ میں

ہے کہاں الفاظ کی جادوگری کا آئینہ

                شاعر اس قدر حساس ہے کہ اسے دوسروں کے احساس و جذبات کی پاسداری کا احساس بے چین کردیتاہے۔

احزنؔ وہ میرے سامے کچھ اتنا جھک گیا

رسوا خود اپنے آپ سے ہونا پڑا مجھے

                احزن جتنے اچھے شاعر ہیں اتنے اچھے انسان بھی ہیں ورنہ اردو کے اکثر شعرا بڑے ہونے کے باوجود ان میں کہیں بڑا پن دکھائی نہیں پڑتاہے۔ ان کے کردار و گفتار میں کافی تضاد پایا جاتا ہے۔ عمران پرتاپ گڑھی کی مثال ہمارے سامنے ہے جنہوں نے اردو زبان وادب کے سہارے مشاعرے کو توسط سے مسلمانوں اور اردو داں حضرات کا جذباتی استحصال کرکے سستی شہرت اور دولت کمانے کے لئے شاعری کو وسیلہ بنایا۔ اللہ کا شکر ہے کہ مشتاق احزن گروپ بازی سے الگ تھلگ رہ کر خاموشی سے اردو زبان وادب کی خدمت کررہے ہیں۔ جہاں تک ان کی حزنیہ اور بے حسی و بے بسی، مایوسی اور حزن وملال سے بھر پور شاعری کا سوال ہے تو انہیں مکمل طو ر پر زخمی احساس کا شاعر کہنا بجا نہ ہوگا۔ چونکہ ان کے مجموعہ کلام میں ہمیں جابجا حوصلہ مندی،عزم، جوش و ولولہ اور امید کی جھلک بھی ملتی ہے   ؎

اسی کے ہاتھ خزانہ لگے سمندر کے

وہ آدمی جسے گہرائیوں سے ڈر نہ لگا

ہوا میں دیپ جلانے کا حوصلہ کرنا

نئی لکیر نیا ہی شگون دیتا ہے

عزم ہی سے آدمی پاتاہے منزل کا سراغ

ٹھوکریں کھاکھا کے گر کے سنبھل جانے کے بعد

چلاؤ جتنا چلا پاؤ اس پہ تم پتھر

سنبھل نہ پاؤگے جب ہوگا وار شیشے کا

ہزار بار یہ بکھری ہے اور سمٹی ہے

ہماری ذات ہے اردو زباں کی صورت

                شاعر موصوف نے زندگی کے نشیب و فراز، تغیراتِ زمانہ سے پیدا شدہ انتشار، تباہی وبربادی، حزن وملال، شرافت وانسانیت کی پامالی،زندگی کے ہر شعبہ حیات کی گراوٹ اور مختلف موضوعات ومضامین کو شعری پیکر میں بڑے والہانہ اوردلکش انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جس میں خلوص کا مخلصانہ اظہار ملتاہے   ؎

فرعون وقت کوئی بھی ہو سرکشی کرو

یارو میری طرح بسر زندگی کرو

                اس میں شک نہیں کہ احزنؔ کی شاعری میں زمانے ناقدری اور گلہ شکوہ کے سبب تلخی اور بے رخی نے احتجاجی صورت اختیارکرلی ہے مگر یہی احتجاج تو نئی توانائی پیداکرتی ہے جو حوصلہ مندی کی علامت ظاہر کرتی ہے اور اس کے جواز میں علامہ ڈاکٹر محمداقبال کا یہ شعر پیش کیا جاسکتا ہے   ؎

گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتا

جب روح کے اندرمتلاطم ہوں خیالات

                موصوف کی شاعری سیدھا سادہ انداز بیان ہے۔ ان کی شاعری میں زلفوں کے پیچ و خم نہیں بلکہ سادگی کا حسن ملتاہے۔ ان کی شاعری میں جدید نظریات و خیالات کے ساتھ ساتھ روایت کی پاسداری بھی ملتی ہے۔ حقیقت پسندی اور ترقی پسندی نے ان کے کلام کو اوربھی نکھار دیا ہے۔

                کسی بھی فن سے تعلق رکھنے والا شخص عام اور نارمل انسان نہیں ہوتا ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ابنارمل ہوتاہے بلکہ اس کا لا شعور اس کی تحریروں میں نمایاں ہوجاتا ہے۔فنکار اپنے لاشعور کی بھول بھلیوں میں نہ جانے کہاں کہاں بھٹکتاہے۔ وہ کبھی احساسِ کمتری کا شکار ہوکر قنوطیت کی وادیوں میں گم ہوجاتاہے اور کبھی احساس برتری میں رجائیت کے پہلو سے گزرکر بے جا انانیت کامظاہرہ کرنے لگتاہے۔ احزنؔ ان دونوں پہلوؤں کے سماجی اور طبقاتی کشمکش پر بھی غوروفکر کرتے نظر آتے ہیں   ؎

امیر شہر کے لاشے پہ خلقت ٹوٹ پڑتی ہے

کسی مفلس کی میت پر کبھی ماتم نہیں ہوتا

جس دن سے خود کو پیکر الفت بنالیا

احزن کو آئینے کی ضرورت نہیں رہی

                موصوف کی شاعری میں زندگی کا کوئی پہلو مخفی نہیں ہے۔ موصوف بیٹی کے جوان ہونے پر باپ کے دل پہ کیا گزرتی ہے کا ذکر اس طرح کیا ہے   ؎

اک باپ غمزدہ ہے قسطوں میں مررہاہے

احساس ہے کہ گھر میں بیٹی بڑی ہوئی ہے

                حالانکہ مذکورہ شعر میں تکرار الفاظ اور آورد نے شعر کی دلکشی کو گھن لگا دیا ہے۔

                ملت کے ہونہار،پڑھے لکھے،باصلاحیت نوجوانوں کی بے روزگاری سے تنگ آکر دیارِ غیر میں ہجرت اور مختلف اقسام کی اذیت کا درد محسوس کرتے ہوئے شاعر کا درد مند دل تڑپ اٹھتاہے   ؎

آسرا جن کا نہیں ہوتا یہاں

آس رکھتے ہیں سمندر پار سے

ان سے ہجرت کی اذیت پوچھئے

دور ہوجاتے ہیں جو گھر بار سے

                ملک کی موجودہ فرقہ پرستی اور انسانیت سوز واقعات کی طرف شاعر توجہ مبذول کراتے ہوئے کہتاہے   ؎

کبھی وقار وطن ہم بنائے جاتے ہیں

کبھی گھروں میں زندہ جلائے جاتے ہیں

ہے جن کے خون میں شامل وطن سے غداری

سبق وفا کا وہ ہم کو پڑھائے جاتے ہیں

                سچائی کا علم بلند کرنے والے فنکار کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ فریبی، عیارو مکار، خوشامدی، مبالغہ آرائی کرنے والے کوتاہ قد فنکاروں کو اہلِ علم نواز رہے ہیں،جو ایک المیہ ہے   ؎

انعام جھوٹ کہنے پہ دیتے ہیں اہل علم

سچائی ہے گناہ ادیبوں کے شہر میں

                اپنوں سے بے مروتی آج کے مسلمانوں کا وطیرہ بن گیا ہے جس کی طرف شاعر بڑے دکھے دل کے ساتھ توجہ مبذول کرتے ہوئے کہتا ہے   ؎

جب کہ اپنوں نے پھیر لیں نظریں

غیر سے بے رخی کا شکوہ کیا

                صفحہ 95 پر مذکور غزل کا ہر شعر معنوی اور صوری حیثیتوں سے قابلِ تحسین ہے۔بالخصوص مطلع کا شعر   ؎

جو مٹتاہے وہی رہتا ہے باقی داستاں ہوکر

نشاں منزل کا ملتاہے جہاں میں بے نشاں ہوکر

                آج کے پر آشوب دور میں کسی گھر میں آگ لگ جانے پر ہمسایہ بجھانے کے بجائے ہوا دے کر چنگاری کو شعلہ بنادیتا ہے۔ یہاں تک کہ باپ اور بیٹے کے درمیان بھی رشتے کی پہچان مٹ رہی ہے جس کی طرف شاعر نے اشارہ کیا ہے   ؎

کیوں کرنہ آنکھ باپ کو بیٹا دکھائے اب

نفرت کا زہر خون میں ملاتے رہے ہیں لوگ

                شاعر موصوف نے نئے استعارہ کا سہارا لے کر کیا عمدہ شعر کہا ہے   ؎

میں تیرے شاخِ بدن پر پھول سا کھل جاؤں گا

جب تیرا اجڑا ہوا گلشن صدا دے گا مجھے

                ہندوستان کی موجودہ حکومت میں جمہوری اقدار کی منصوبہ بند پامالی اور دستور ہند کی خلاف ورزی کی طرف موصوف نے بہت قبل اپنے شعر میں نشاندہی کردی ہے  ؎

جمہوریت کے نام کی مے تو چھلک چکی

خالی ہے جام اور پئے جارہے ہیں لوگ

                مگر عوام کی سادہ لوحی دیکھئے کہ پھر بھی ان سے امید وفا لگائے بیٹھے ہیں جو نہیں جانتے وفا کیا ہے اور رہزن کو رہبر سمجھ کر لٹتے جارہے ہیں   ؎

لٹتے ہی جارہے ہیں ہر اک گام پر مگر

رہزن کا اعتبار کئے جارہے ہیں لوگ

                شاعر موصوف کے کلام میں رجائیت خود اعتمادی اور عزم و حوصلہ مندی کے ساتھ جدوجہد کرنے کے پیغام بھی ملتاہے   ؎

ان آنسوؤں کونہ پوچھو کہ کتنی مشکل سے

چھپا کے پلکوں میں ہم مسکرائے جاتے ہیں

وہ اپنے ہاتھ میں تدبیر کے ہتھیار رکھتاہے

امیدوں کو اسیر بے بسی ہونے نہیں دیتا

                شہر آہن،جمشیدپور جہاں کے صنعتی و تجارتی لوگ لوہے کے،دل لوہے کا،مزاج لوہے کا ذہن اور لوہے کی زبان رکھتے ہیں جہاں معمولی معمولی باتوں پر فرقہ وارانہ تناؤ کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے اس کیفیت کی طرف شاعر نے کیا خوب اشارہ کیا ہے   ؎

ہمارے شہر کی مٹی بہت زرخیز ہے اس میں

فسادی بیج بونے کا کوئی موسم نہیں ہوتا

                موجودہ دور کی مسموم فضا کا موصوف نے باریک بینی سے مطالعہ و مشاہدہ کیا ہے۔اس کا اندازہ ان کے اشعار سے لگایا جا سکتا ہے   ؎

ہر گام پر بچھی ہیں بارود کی سرنگیں

رستہ سنبھل کے چلئے اکیسویں صدی ہے

شاید کہ ہونہ جائے غرقاب ساری دنیا

مغرب کے بادلوں کی اک موج اٹھی ہے

                چند سالوں قبل گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی کے بعد ملک میں فرقہ پرستی کا زہر تیزی ے پھیل رہا ہے اور مسلمانوں کی طرح طرح سے دل آزاری کھلے عام کی جارہی ہے فرقہ پرست لیڈران اب کھلے عام ملک کو گجرات بنانے کی دھمکی دے رہے ہیں جس کی طرف شاعر نے بہت قبل نشاندہی کرتے ہوئے سیکولر عوام کو باخبر کرتے ہوئے کہتے ہیں   ؎

رہنمائے ملک کا احزن ہے منصوبہ یہی

ہر جگہ گجرات کی تصویر ہونی چاہئے

امن کی خاطر یہی تدبیر ہونی چاہئے

وحشتوں کے پاؤں میں زنجیر ہونی چاہئے

                موصوف نفرت آمیز سیاست پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں   ؎

جوایک بھائی کی گردن کٹادے بھائی سے

ہمیں نہ چاہئے ایسا نظام رہنے دے

                مختصریہ کہ مشتاق احزن نے شعبہ حیات کے ہر پہلو پر شاعری کے ذریعہ روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے غمِ جاناں کو غمِ دوراں بنا دیا ہے   ؎

ابھی تو قرض زمانے کے ہیں بہت مجھ پر

اجل نہ آئے ابھی تھوڑا انتظار کرے

دیوار تکلف کو اچانک نہ گرائیں

عجلت کا کوئی کام ہی بہتر نہیں ہوتا

بے حسی اوڑھ کے سونے سے تو اچھا ہے یہی

خود کو احساس کی سولی پہ چڑھایا جائے

غمِ حیات غمِ ہجر اور غمِ جاناں

ہمارے حصے میں الجھن تمام رہنے دے

تعلق کی ڈگر پر ذہن کو اپنے کھلا رکھنا

ذراسی بدگمانی سے بھی رشتہ ٹوٹ جاتاہے

خدا ہی جانتا ہے حالِ دل مگر ہم تو

کسی کا ہاتھ اٹھا اور دعا سمجھ بیٹھے

                شاعر سے اردو ادب کو بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ موصوف نے مشق جاری رکھاتو ان کے فن کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگے گا۔ میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔

٭٭٭٭٭

ارشاد سیانوی کی تنقیدی بصیرت کا ثبوت ہے،نئی صدی کا اردو افسانہ : ڈا کٹر وضا حت حسین رضوی

ارشاد سیانوی کی تنقیدی بصیرت کا ثبوت ہے،نئی صدی کا اردو افسانہ : ڈا کٹر وضا حت حسین رضوی
تنقید کے مروجہ اصولوں سے انحراف،ارشاد کی شناخت:خورشید حیات
شعبہ اردو،سی سی ایس یومیں ڈاکٹر ارشاد سیانوی کی کتا ب ”نئی صدی کا اردو افسانہ“کی رسم اجراء

(پریس ریلیز)میرٹھ04/مئی 2019ء
”یہ کتاب تحقیق کے طالب علموں کے لئے بے حد مفید صابت ہوگی۔ارشاد سیانوی نے اپنی تنقیدی بصیرت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ 21وی صدی میں 21 کہانیوں کے حوالے سے کئی بدلاؤ پیش کئے گئے ہیں۔ ابھی کئی بڑے نام چھوٹ گئے جن کو شامل کئے جانے کی ضرورت ہے۔ “یہ الفاظ ڈا کٹر وضا حت حسین رضوی، (ڈپٹی ڈائریکٹر، انفارمیشن،میرٹھ،اور سابق مدیر ماہنامہ نیا دور،لکھنؤ) کے تھے جو شعبہ اردو میں منعقدہ پروگرام ڈاکٹر ارشاد سیانوی کی دوسری تنقیدی کاوش”نئی صدی کا اردو افسانہ“ کی رسمِ اجراء کے مو قع پر ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شعبہ اردو اپنے طالب علموں کو جس طرح تراش خراش کر منظر عام پر لا رہا ہے،وہ دیگر اداروں کے لئے مثال ہے۔
اس موقع پر معروف افسانہ نگار محترم خورشید حیات نے کہا ”فکر نو کی تجلیوں کو نئی تنقید کے کوہِ طور پر دیکھنا ہو تو ڈا کٹر ارشاد سیانوی کی کتاب”نئی صدی کا اردو افسانہ“ کے ورق ورق کا مطا لعہ ضروری ہے کہ اکیس کہانیوں پر انہوں نے جو تجزیے کیے ہیں اسے پڑھ کر مجھے ایسا لگا کہ ہر کہانی پر تجزیہ کرتے وہ تحلیل کے مراحل سے گذرے ہیں۔اردو فکشن پر ریسرچ کرنے وا لے طلباء کے لیے یہ کتاب کافی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈا کٹر ارشاد سیانوی کی تنقید بین العمومی رویوں کے ساتھ مجھے کبھی رو مانی تو کبھی رو حانی دکھائی دے رہی ہے کہ وہ کہانی کی روح میں اتر کر تجزیہ کرتے ہیں۔ تنقید کے مروجہ اصو لوں سے انحراف ڈا کٹر ارشاد کی شناخت ہے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازمفتی را حت علی صدیقی نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔پرو گرام کی صدارت،صدر شعبہ اردو پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے کی۔مہمان خصو صی کے بطور پروفیسر سنجیو کما ر شر ما وائس چانسلر، مہاتما گاندھی سینٹرل یو نیورسٹی، بہار نے شرکت کی جبکہ مہمانان ذی وقار کے بطور ڈا کٹر وضا حت حسین رضوی، (ڈپٹی ڈائریکٹر، انفارمیشن،میرٹھ)سید معراج الدین (سابق چیئر مین،پھلاؤدہ)اور معروف فکشن نگار خورشید حیات شریک ہوئے۔استقبالیہ کلمات ڈا کٹر شاداب علیم اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر فرقان سردھنوی نے انجام دیے۔سبھی مہمانان نے مل کر کتاب کی رونمائی کی۔کتاب کا تعارف ڈا کٹر آصف علی نے پیش کیا۔
پروفیسر سنجیو کمار (شیخ الجامعہ، مہاتما گاندھی سینٹرل یو نیورسٹی، بہار )نے کہا، اولاد اور طالب علم آگے بڑھ جائے اور اگر ان سے شکشت بھی مل جائے تو باپ اور استاد کو بہت خوشی ہوتی ہے۔ اردو شعبۂ  کی جہاں ایک طرف بین الاقوامی سطح پرشناخت بنی ہے وہیں اس کے طلبہ اپنی تخلیقات و تصنیفات کے ذریعہ پہچان بنا رہے ہیں۔ سید معراج الدین پھلاؤدہ نے کتاب کے بارے میں کہا کہ 21صدی ایک Challenge کا دور ہے جس میں آئے دن نئے تجربے ہو رہے ہیں۔ ایسے میں ایمان داری سے لکھنے والوں کی کمی ہے۔ڈاکٹر ارشاد سیانوی کی کتاب میں ایمان داری دیکھنے کو ملتی ہے۔
اپنے صدارتی خطبہ میں پروفیسر اسلم جمشیدپوری نے کہا کہ کتاب کا اجراء ہر ادیب کے لئے خواب ہوتا ہے۔ارشاد کا یہ خواب آج پورا ہو رہا ہے۔جب کوئی کتاب چھپ کر آ جاتی ہے تو وہ پڑھنے والوں کی ہو جاتی ہے۔ نئی صدی کے افسانہ کو ڈاکٹر ارشاد نے کیسے دیکھا اور منتخب کیا یہ ان کا فیصلہ ہے۔ انہوں نے نئے افسانہ نگاروں کی شمولیت پر کہا کہ اگر معروف ادیب افسانہ نگار کو ہی انتخاب میں شامل کرتے رہیں گے تو نئے اور اچھے مصنف کب سامنے آئینگے؟ ان پر کب لکھا جائے گا۔ ہر ناقد اپنے معیار اور مقصد کے مطابق لکھتا ہے۔اس کتاب میں بھی ارشاد نے آزادانہ طور پر انتخاب و تجزیہ کیا ہے۔
اس موقع پر سبھی مہمانان کو مومینٹو پیش کئے گئے۔ پروگرام میں ڈاکٹرجمال احمد صدیقی، ڈاکٹر سیدہ، انجینئر رفعت جمالی، حاجی عمران صدیقی، ڈاکٹر تعظیم جہاں، بھارت بھوشن شرما، انل شرما، فیضان انصاری، ڈاکٹر ودیا ساگر، ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹریونس غازی، ڈاکٹرارشادانصاری، طاہر سیفی، آفاق احمد خان، محمد شمشاد، سعید سہارنپوری، شناور اسلم، شعیب، مدیحہ اسلم، وشودیپ سدھارتھ، مظہر سیانوی، ڈاکٹرظہیر، محمد علی، ڈاکٹرحکیم، ماسٹر آصف، کوثر پروین، گلزار احمد، محمد شہزاد، حافظ محمد آزاد، ابدال خالق، علی محمد، ماسٹر منےّ خاں، نظیرمیرٹھی، اظہار ندیم، اسد قمر، وصی حیدر اور ان کے علاوہ شہر کے معزز حضرات، مختلف اسکول، کالج کے طلبہ و طلبات اور اساتذہ اکرام موجود رہے۔

عالمی پرواز ڈاٹ کوم کے مدیران پرویزؔ اور نغمہؔ کی ہمسفری …….

عالمی پرواز ڈاٹ کوم کے مدیران 
پرویزؔ 
اور  
نغمہؔ 
کی ہمسفری، 
(پرویز ؔکے مہتاب
کو 
نغمہؔ پر ناز
ہوا)
کے یاد گار لمحات
کو سلام
دعا ہے 
کہ دونوں یو ں 
ہی ہمراہ رہیں 
اور 
نئی نئی منزلیں 
سر کریں

مبارکباد

ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ
نگراں 
عالمی پروازڈاٹ کوم

پروفیسر صالحہ رشید (صدر شعبہ عربی و فارسی،الٰہ آباد یونیورسٹی)کی کتاب ”اسلم جمشید پوری“اور”بوستان خیال“کی رسم رونمائی

پروفیسر صالحہ رشید (صدر شعبہ عربی و فارسی،الٰہ آباد یونیورسٹی)کی کتاب ”اسلم جمشید پوری“اور”بوستان خیال“کی رسم رونمائی

الٰہ آباد یونیورسٹی عربی و فارسی شعبے کی صدر پروفیسر صالحہ رشید صاحبہ کی دونوں کتابوں ”اسلم جمشید پوری اور بوستان خیال کی رسم رونمائی شعبہ اردو کی صدر پروفیسر شبنم حمید اور صالحہ صدیقی (رسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ) کے ہاتھوں عمل میں آئی۔جس پر موجود اساتذہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا،اسرار گاندھی نے اس کتاب کو تحقیق کی دنیا کا ایک نیا اضافہ قرار دیا۔اس موقع پر شہر کی معروف شخصیات اور معروف فکشن نگار اسرار گاندھی،احمد حسنین کے ساتھ شعبے کے اساتذہ ڈاکٹر محمد کاشف،ظفراللہ انصاری،سنجے کمار،رسرچ اسکالرس اور طلبہ و طالبات موجود رہے۔
پروفیسرصالحہ رشید بھلے ہی بنیادی طور پر عربی و فارسی درس و تدریس سے وابستہ ہو لیکن ان کا رشتہ اردو سے اتنا ہی گہرا ہے جنتا اردو زبان کا عربی و فارسی سے ہے۔ان کے تحقیقی و تنقیدی مضامین،کتب وقتا فوقتا اردو رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔اگر بات کریں ان کی ان دونوں کتابوں کی تو پروفیسر صالحہ رشید نے اسلم جمشید پوری کا افسانہ ”لینڈرا دی ریئل“ اور فارسی افسانہ ”بچے مردم“ (مصنف: جلال آل احمد) کا تقابلی مطالعہ کرنے کے ساتھ اسلم جمشید پوری کے افسانوں پر مضامین بھی قلمبند کیے ہے۔ جب کہ ان کی دوسری کتاب”بوستان خیال“ تحقیقی نقطہئ نظر سے انتہائی اہم ہے۔یہ کتاب دراصل مخطوطات پر مبنی ہے جس میں 83 شاعروں کے کلام کو یکجا کیا گیا ہے یہ بیاض ہے اس کتاب کا اہم وصف یہ ہے کہ اس میں 5 ایسے شاعروں کو شامل کیا گیا ہے جن کا اس سے قبل کہیں بھی ذکر نہیں ملتا۔ پہلی بار صالحہ رشید نے ان پانچ شاعروں کو عربی و فارسی دنیا سے متعارف کرایا ہیں۔جس کا اعتراف و پذیرائی پوری دنیا میں کیا جا رہا ہے۔میں ان کی اس کاوش و عرق ریزی کے لیے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔

صالحہ صدیقی
(رسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ،یونیورسٹی،دہلی)
Email: salehasiddiquin@gmail.com

اداریہ : پروفیسر اسلم جمشید پوری ؔ

اداریہ:  

پروفیسر اسلم جمشید پوری ؔ

 

                                اردو کو ووٹ بینک بنایا جائے

                 عالمی پرواز کے قارئین کو نئے سال کی دلی مبارکباد

            لیجئے وقت کے بے کراں سمندر میں ایک بوند  2018  پھر سما جانے کو ہے۔ایک نیا سال ہمارے رو برو ہے۔ گذشتہ برسوں کی طرح گذرتے ہوئے سال  2018نے ہمیں اردو کے فروغ کے لیے سنجیدگی سے غور کرنے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اردو کی مقبو لیت کے شور وغو غا میں ہم اس کے بنیادی مسائل پر توجہ نہیں دے پا رہے ہیں۔ ہماری نئی نسل اردو سے دور ہوتی جارہی ہے۔ جو بچے ایم۔اے، ایم فل تک پہنچ رہے ہیں، ان میں بھی زیا دہ تعداد مدارس اور پرائیویٹ تعلیم حاصل کرنے وا لوں کی ہے۔ مدارس کے طلبہ تو عربی،فارسی پس منظر سے آ تے ہیں تو ان کی زبان بہتر ہوتی ہے۔ وہ تھو ڑی سی سنجیدگی اختیار کرتے ہیں تو بہت بہتر طا لب علم ثابت ہوتے ہیں۔لیکن پرا ئیویٹ، بی اے اور ایم اے کرنے وا لے طالب علم اردو میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کی بنیاد بھی کمزور ہو تی ہے۔

            در اصل اس کی جڑ پرائمری سطح کی تعلیم میں پیوست ہے۔ جنوب کی کچھ ریاستوں اور کشمیر، بہار، بنگال کو تھو ڑی دیر کے لیے الگ کردیا جائے تو اردو میں پرا ئمری کی تعلیم کی صورتِ حال بہت خراب ہے۔ اتر پردیش، ہریانہ، پنجاب، اترا کھنڈ، را جستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، اڈیسہ وغیرہ ریاستوں میں پرائمری سطح پر اردو کا نظم بہت ہی ناقص ہے۔ زیادہ تر ریاستوں میں اس سطح پر اردو ہے ہی نہیں، جہاں ہے، وہاں طا لب علم نہیں اور جہاں طالب علم ہیں وہاں اردو کے مستقل استاد کی کمی ہے۔پھر سو نے پر سہا گہ یہ کہ سر کاری اسکولوں میں اردو کی کتب کی فراہمی بھی کم کم ہے۔ غیرسرکاری پرائمری اسکولوں میں اردو، سرکاری سطح کے اسکولوں سے بہت اچھی صورت میں نہیں ہے، ہاں وہاں انگریزی کے انداز میں خوبصورت اور رنگین کتب کا استعمال ضرور ہو تا ہے۔ پرا ئمری سطح سے بی اے، ایم اے اور تحقیق تک آ تے آتے اردو کے طا لب علموں کی تعداد میں بتدریج کمی ہو تی جاتی ہے۔

            غیر مسلم طلبہ و طالبات کے فی صد میں بھی کمی آئی ہے۔ شعرا، ادبا، ناقد و محقق میں بھی اب غیر مسلم حضرات کا فقدان ہے کیو نکہ نئی نسل اس طرف نہیں آرہی ہے۔ پروفیسر نارنگ،رتن سنگھ، گلزاردہلوی، گلزار، کے ایل نارنگ ساقی،چندر شیکھر، بلراج بخشی، رینو بہل،دیپک بدکی،جیسے لوگ تبرک کے طور پر ہیں۔ان کے بعد کی کو ئی نسل اب تک سامنے نہیں آئی ہے۔

            قومی اردو کو نسل اور اکا دمیوں کے اردو مراکز اور اردو کو چنگ اسکول سے ایک امید زندہ ہو ئی تھی کہ ان کے خاطر خواہ اثرات قائم ہوں گے اور نئے لوگ اردو کی طرف آ ئیں گے۔ مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ ہزاروں ایسے مراکز سے فارغ ہو نے والے لا کھوں طلبہ کہاں گم ہو جاتے ہیں، ان میں زیا دہ تر کا مقصد زبان سیکھنا نہیں ہو تا بلکہ سند اور اسکا لر شپ حاصل کرنا ہو تا ہے۔یہی با عث ہے کہ فرا غت کے بعدیہ زبان سے تعلق قائم نہیں رکھ پا تے ہیں۔

            اردو اخبارات کے متعدد ایڈیشنز سامنے آ رہے ہیں۔ اخبارات کی تعداد میں اضا فہ ہو رہا ہے۔ مگر اردو کی ریڈرشپ میں مناسب اضا فہ نہیں ہو رہا ہے۔ ایک سر وے کے مطابق یوپی کے اکثر شہروں کے مسلم علا قوں میں اردو اخبارات سے زیادہ امر اجالا اور دینک جاگرن پڑھے جاتے ہیں۔

            یو نیورسٹی، کالج، ریڈتو اسٹیشن، دور درشن، سرکاری ادارے، سر کاری رسائل وغیرہ میں اردواساتذہ اور دیگر آسامیاں بھری نہیں جا رہی ہیں۔ فخر الدین علی احمد میمو ریل کمیٹی اور ملک کی متعدد اکا دمیوں میں اردو کی جگہیں برسوں سے خالی کی خالی پڑ ی ہیں۔ حد تو یہ ہو گئی ہے کہ اردو اکا دمیوں اور دوسرے اداروں میں جو ممبران رکھے جا رہے ہیں ان میں بیشتر اردو سے نا واقف ہیں۔ یہی نہیں اردو ادارے اپنا کام کاج انگریزی اور ہندی میں کررہے ہیں۔

            مشاعروں کا بھی عجب حال ہو گیا ہے۔ واہ، واہ، کیا بات ہے، مکرر، کیا مصرعہ ہے، جواب نہیں، مصرعہ اٹھانا جیسے مشاعرہ سننے کے آ داب اب غا ئب ہو تے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ داد کی بھیک مانگنا، تالیاں بجانا، ہندی میں کلام لکھ کر لانا،کسی غیر ادبی شخص کی صدارت،عام سی بات ہو تی جا رہی ہے۔ سیمیناروں کے احوال سے بھی سب واقف ہیں۔ روز بہ روز گرتا معیار، غیر معیاری مقا لے، سوالات سے عاری سیشن80 فیصد سیمینار، اپنے مو ضوع کا مکمل احا طہ بھی نہیں کر پاتے۔

            پو رے ملک میں اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد میں خا طر خواہ کمی واقع ہو رہی ہے۔ سر کاری اسکولوں میں ہندی کے ساتھ سنسکرت پڑھا ئی جا رہی ہے۔ یہ معاملہ کم و بیش ملک کے بڑے حصے میں ہے۔ ہم اردو والے حسین منظر ناموں میں کھو ئے جشن تک محدود ہو تے جا رہے ہیں۔ مشا عروں میں بے شمار سامعین میں سے اکثر اردو رسم الخط سے نا واقف ہیں۔ مشاعروں اور پرو گرا موں کے بینر، مسجدوں، قبرستانوں، شادی گھروں کے بورڈ ہندی اور انگریزی میں تیار ہورہے ہیں۔

            2018ء میں ان حالات میں ہم سو رہے ہیں۔ نئے سال  2019میں ہمیں چا ہئے کہ ہم اردو کی جڑوں (پرائمری سطح کی تعلیم) کو پانی دیں۔ پرائمری سطح سے اعلی تعلیم کے ادارے اور مدارس کے ذمہ داران ایک پلیٹ فارم پر بیٹھیں۔ مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل تلاش کریں۔ وقت آ گیا ہے کہ سیاسی سطح پر اردو کے لیے کام کیا جائے۔ سیاسی پارٹیوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ مسلم علاقوں میں اردو میں تشہیر کریں۔اردو کی سوجھ بوجھ رکھنے والے امید وار میدان میں آئیں اور اردو کو ووٹ بینک بنایا جائے تا کہ ایکPressure Group بن سکے۔ایم پی،ایم ایل اے حضرات  کے پانچ سال کے کاموں میں اردو کے مسائل بھی ہوں۔جب ایسا ہوگا تو اردو کے مسائل خود بخود حل ہوں گے۔ نئے سال  2019پر ہم اپنی زبان کے لیے ضرور کوئی منصوبہ بنائیں اور اس پر عمل کریں،تاکہ نئے سال 2019ء کا استقبال با معنی ہو سکے۔

شعبہ اردو کے زیر اہتمام منعقدہ چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینارمیں مشاعرہ کی یاد گار شام

شعبہ اردو کے زیر اہتمام منعقدہ چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینارمیں مشاعرہ کی یاد گار شام

اک داغ ہے سینے میں دو اشک ہیں آنکھوں میں

مفلس نہ مجھے سمجھو یہ میرا خزانہ ہے
عارف نقوی
11/دسمبر2018ء (پریس ریلیز)

برہسپتی بھون،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے ہال میں چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار کے دوران ایک شاندار مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ جس کی صدارت جرمنی سے تشریف لائے عارف نقوی نے کی۔مہمانان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر معراج الدین احمد، سید معراج اور حاجی عمران صدیقی نے شرکت کی۔مہمانوں کا تعارف ڈاکٹر اسلم جمشید پوری(صدر شعبہئ اردو)نے پیش کیا جب کہ نظامت کے فرائض نو جوان شاعر،معروف ناظم معین شاداب نے بحسن و خوبی انجام دیے۔
بعد ازاں مہمانوں نے مل کر شمع افروزی کی۔اس مو قع پر پڑھا گیا منتخب کلام قارئین کی نظر ہے ؎
اک داغ ہے سینے میں دو اشک ہیں آنکھوں میں
مفلس نہ مجھے سمجھو یہ میرا خزانہ ہے
عارف نقوی
اس دور میں جھوٹ کا کچھ ایسا چلن ہے
سچ بھی کوئی بولے تو بھروسہ نہیں ہوتا
رفیق ریوانی
تمام عمر میں زد میں رہاہوں راتوں کی
مرے خدا مرے حصے کی اب سحر آئے
خان محمد رضوان
چراغ بجھنے لگے سر ہوئے ہیں مدھم پھر
گذر نہ جائے یہ آزادیوں کا موسم پھر
خدا کرے یہ محبت تو راس آجائے
لگا رہا ہے زخمِ جاں پہ مرہم پھر
اظہر اقبال
تم ابھی آسماں کو تکتے ہو
شہر میں سب نے عید بھی کرلی
معین شاداب
جن بھائیوں کے واسطے سب کچھ لٹا دیا
وہ لڑ رہے ہیں صحن میں دیوار کے لیے
ڈاکٹر یونس غازی
کچھ نہ کچھ ہے غم دلوں میں سب کے
چہرے اترے ہوئے ہیں ہم سب کے
جمیل مظہری
اس کی یاد آئی ہے مت چھیڑ مجھے باد صبا
تجھ سے پھر بات کروں گی ابھی فرصت ہی نہیں
ڈاکٹر نگار عظیم

چھوڑ کے بے حال مجھ کو اپنے بیگانے گئے
گردشِ ایام میں سب لوگ پہچانے گئے
وہ اپنے جھوٹ سے دیوار و در سجاتا رہا
میں ایک سچ کی رِدا اوڑھتا بچھاتا رہا
فخری میرٹھی
اب چہروں کے داغ چھپانے کی خاطر
آئینوں میں نقص نکالے جائیں گے
سوچ سمجھ کر کرنا سیدھی بات بھی
الٹے سیدھے ارتھ نکالے جائیں گے
ڈاکٹر رام گوپال بھارتیہ
دوسگی بہنوں سے دو گنجوں کی شادی ہوگئی
اور یہ بے زلف بھی ہم زلف کہلانے لگے
احمد علوی
پتھر بھی تجھے دیکھ پگھل جائے گا
بھنورے کا کوئی گیت مچل جائے گا
تو بھول کر بھی انگڑائی مت لینا
سنتوں کا بھی ایمان بدل جائے گا
منوج کمار منوج
آج اپنی فالتو چیزیں جدا کرتا ہوں میں
ہے کوئی ایسا جسے میری شرافت چاہئے
ڈاکٹر ایم آر قاسمی،علیگ
خواب تو آبرو ہے آنکھوں کی
خواب دے یا میری آنکھیں لے جا
عتیق انظر،دوحہ،قطر
وہ قد آور میری اونچائی سے بڑھ کر نہ ہوا
میرے جھکنے پہ بھی وہ میرے برا بر نہ ہوا
مقصود انور مقصود،دوحہ،قطر
پروگرام کے اختتام پر مقامی و بیرونی شعرا کو مومنٹو پیش کی گئے اور ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے شکریے کی رسم ادا کی۔
اس مو قع پر ڈاکٹر صالحہ رشید،بشیر مالیر کوٹلوی، ڈاکٹر محمد عباس،ڈاکٹر عفت ذکیہ،ڈاکٹر شاداب علیم، ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹر ارشاد سیانوی،ڈاکٹر اختر آزاد،اسرار گاندھی،ارشد منیم،انجینئر رفعت جمالی،مسعود اختر،نفیس زیدی،شناور اسلم، اشتیاق سعید،عمائدین شہر،یونیورسٹی ملازمین اور کثیر تعداد میں طلبا و طالبات نے شرکت کی۔

رپورٹ: راحت علی صدیقی

 

 

 

شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار اختتام پذیر

شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار(اردو،ہندی،انگریزی) اختتام پذیر

آخری روزریسرچ اسکالرز کے مقالات کے علاوہ،رسم اجراء اور تقسیم انعامات کا انعقاد
11/دسمبر2018ء
شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ اور اتر پردیش اردو اکادمی کے اشتراک سے’موجودہ سماجی تغیرات کے فکشن پر اثرات“ عنوان سے منعقدہ چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار(اردو،ہندی،انگریزی) کے چوتھے دن ریسرچ اسکالرز سیمینار،کتاب کی رسم اجراء اور تقسیم انعامات کا پرو گرام منعقد ہوا۔ جس میں ابرا ہیم افسر، شوبی زہرا نقوی، تسلیم جہاں اور راحت علی صدیقی نے اپنے اپنے مقالات پیش کیے۔یہ اجلاس مجاہد آزادی مولانا محمد علی جوہر اورمرحوم نواب کوکب حمید کی یاد میں منعقد کیے گئے تھے کی، محفل صدارت پر پرو فیسرشہاب ظفر اعظمی،پٹنہ،نایاب زہرا زیدی،میرٹھ ڈا کٹر ارشد اقبال،نوشاد عالم،جمشید پور اور ڈاکٹر محمد عباس،جمشید پور رونق افروز رہے۔نظامت کے فرائض تابش فرید نے انجام دیے۔بعد ازاں تقسیم انعامات کا جلسہ منعقد ہوا جس کی صدارت پروفیسر غلام ربانی، بنگلہ دیش، اشتیا ق سعید، ممبئی، حاجی عمران صدیقی اور ڈا کٹر نگار عظیم نے کی۔ استقبالیہ کلمات ڈا کٹر شاداب علیم، شکریے کی رسم ڈا کٹر ارشاد سیانوی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف علی نے انجام دیے۔ پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے مہمانوں اور مقالہ نگاروں کو پھول، سر ٹیفکٹ اور نشان یاد گار دے کر ان کا اعزازکیا۔
اس مو قع پربنگلہ دیش سے تشریف لائے پروفیسر غلام ربانی نے شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی سمیت پورے ہندوستانیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش اور ہندوستان کی اردو کہانیوں کے پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بنگلہ دیش اور ہندو ستانی معاشرے کے مسائل یکساں ہیں اور اردو افسانوں نے ان مسائل کو بخو بی پیش کیا ہے۔
پروفیسر شہاب ظفر اعظمی نے اس چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار(اردو،ہندی،انگریزی) کو غیر معمو لی بتاتے ہوئے کہا کہ جب ادب سماج کا آئینہ ہے تو سماجی تغیرات کے فکشن پر اثرات سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔
نایاب زہرا زیدی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر چہ اردو فکشن کی عمر انگریزی، عربی، فارسی اور سنسکرت جیسی زبانوں کے ادب سے بہت کم ہے لیکن سماجی تغیرات کو پیش کرنے میں اور سماجی حقیقت کو بیان کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں ہے۔
ڈاکٹر نگار عظیم نے کہا کہ اگر آپ اردو فکشن کی سلسلے وار قرأت کریں گے تو بہت آ سانی سے سماجی تغیرات کی پو ری تاریخ جان سکتے ہیں۔اس مو قع پرنا یاب زہرا زیدی کی کتاب”آخری پڑاؤ“ جس کو ڈاکٹر شاداب علیم نے مرتب کیا ہے کا اجراء مہمانان کے ہاتھوں عمل میں آیا۔
اس موقع پرڈا کٹر اسلم صدیقی، ڈا کٹر ہما مسعود،، محمد بشیر مالیر کوٹلوی،فر زانہ بنت عاصم،مسعود اختر،شاداب علی،انیس میرٹھی، مدیحہ اسلم ڈا کٹر فر حت جہاں،ڈکٹر اختر آزاد، اسرار احمد، آفتاب انصاری،فیضان انصاری،محمد شمشاد،اشتیاق سعید،عبدالباری،ارشد منیم،جاوید انور،احمد حسنین،نیاز اختر،نذیر میرٹھی، رفیق،ریوانی،عمائدین شہر اورکثیر تعداد میں طلبہ و طالبات نے شر کت کی۔
٭٭٭

شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار

شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار(اردو،ہندی،انگریزی)جاری

تیسرے روز مقالات کے علاوہ، شام افسانہ اورڈرامہ”خاک وطن“ کا انعقاد
10/دسمبر2018ء
شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ اور اتر پردیش اردو اکادمی کے اشتراک سے’موجودہ سماجی تغیرات کے فکشن پر اثرات“ عنوان سے منعقدہ چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار(اردو،ہندی،انگریزی) کے تیسرے دن اردو کے دو اجلاس،انگلش کا ایک اجلاس اور شام افسانہ کی محفل منعقد کی گئی۔ساتھ ہی اس مو قع پرشام پانچ بجے آرجی پی جی کالج میں حب الوطنی پر مبنی ڈرامہ ”خاک وطن“ اسٹیج کیا گیا۔
سیمینار کے پہلے اور دوسرے اجلاس جو پروفیسر عظیم الشان صدیقی اورعابد سہیل کے نام تھے کی محفل صدارت پراسرار گاندھی، الہ آ باد، ڈاکٹر حسن البنا، بنگلہ دیش، ڈا کٹر عابد حسین حیدری، سنبھل، جاوید انور،عارف نقوی، پروفیسر صا لحہ رشید، الہ آ باد، ڈاکٹر محمد کاظم،ڈاکٹر اکبر علی،کے پی شمس الدین، احمد حسنین رونق افروز رہے۔جبکہ تیسرے اجلاس(انگلش) جو سابق وائس چانسلر آنجہانی پروفیسر ارون کمار کی یاد میں منعقد کیا گیا تھا کی محفل صدارت پرڈاکٹر جمال احمد صدیقی، ڈاکٹر انویتا اگروال اور رما نہرو رونق افروز رہے۔ان تینوں اجلاس کی نظامت بالترتیب ڈاکٹر آصف علی،ڈاکٹر ارشاد سیانوی اورمدیحہ اسلم نے کی جب کہ مقالہ پڑھنے والوں میں ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ، ڈاکٹر عابد حسین حیدری، ڈاکٹر نشاں زیدی،ڈاکٹر ایم اے حق، رانچی،حقانی القاسمی، ڈاکٹر فرحت خاتون، ڈاکٹر یو سف رام پوری، آدیتی، ورشا شامل رہے۔
شام تین بجے افسانے کی محفل منعقد کی گئی جس کی صدارت بدر الاسلام، انجینئر رفعت جمالی،جی ایم مصطفی اور ڈا کٹر نگار عظیم نے کی اور اس محفل میں ڈاکٹر اختر آزاد،نصرت شمسی،بشیر مالیر کوٹلوی وغیرہ نے اپنے افسانوں کی قرأت کی۔افسانوں کو سامعین نے خوب پسند کیا۔ اس محفل کی صدارت ناصر آزاد نے کی۔
اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مشہور نقاد حقانی القاسمی نے کہا کہ ادب سماج کا آئینہ ہے اس لیے اس میں سماجی تغیرات کی عکاسی لازمی ہے۔اگر فکشن کا بھی ہم مطا لعہ کریں تو پریم چند سے لے کر اب تک اپنے عہد کے تمام سماجی تغیرات اپنی پو ری آب و تاب کے ساتھ افسا نوں اور ناولوں میں جھلکتے ہیں اور اسلوب و انداز ان کے موافق ہے۔ مثلاً نائن الیوین کے بعد جو بیا نیہ کہانیوں میں سامنے آ یا وہ اپنے قبل کے عہد سے مختلف تھا۔ سماجی تغیرات اور اسلوب و بیانیہ کا یہ انداز یوں تو سبھی زبانوں کے فکشن میں نظر آ تا ہے مگر اردو فکشن بالخصوص اردو افسانے کی یہ خاصیت رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ احتجاج کا الم تو بلند کیا ہے لیکن جارحیت کو کبھی اپنے اندر پیدا نہیں ہونے دیا ہے۔در اصل جارحیت منفی نظریات کا نتیجہ ہو تی ہے جو معاشرے کے لیے ہمیشہ نقصان دہ ہوتے ہیں۔ادیبوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام استحصالی سازشوں کی مخا لفت کریں۔کیونکہ استحصال سے بغاوت اور بغا وت سے جارحیت کی لے پیدا ہوتی ہے مثلاً عورتوں کے سا تھ انصاف نہیں کیا تو وہ اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں جس کا یقینا احترام کیا جانا چاہئے مگر بعض وجوہ کی بنا پر وہ بغا وت سے نکل کر جارحیت کی حد میں داخل ہو رہی ہیں جن سے ہما ری اخلا قی روایات متاثر ہورہی ہیں۔ اس کا خیال رکھیں۔
اس موقع پرڈا کٹر اسلم صدیقی، ڈا کٹر ہما مسعود،ڈا کٹر شاداب علیم، ڈاکٹر آصف علی،ڈاکٹر ارشاد سیانوی،ڈا کٹرضیاء، محمد بشیر مالیر کوٹلوی،فر زانہ بنت عاصم،مسعود اختر،شاداب علی،انیس میرٹھی، ڈا کٹر فر حت جہاں،امیر عالم، اسرار احمد، آفتاب انصاری،فیضان انصاری،محمد شمشاد،اشتیاق سعید،عبدالباری،ارشد منیم،جاوید انور،احمد حسنین،نیاز اختر،نذیر میرٹھی، رفیق،ریوانی،عمائدین شہر اورکثیر تعداد میں طلبہ و طالبات نے شر کت کی۔

 

شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار

شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار(اردو،ہندی،انگریزی)جاری

دوسرے روزدرجنوں مقالات کے علاوء بک فیئر، آرٹ گیلری اور شام افسانہ کا انعقاد
(پریس ریلیز)
9/دسمبر2018

شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ اور اتر پردیش اردو اکادمی کے اشتراک سے’موجودہ سماجی تغیرات کے فکشن پر اثرات“ عنوان سے منعقدہ چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار(اردو،ہندی،انگریزی) کے دوسرے دن اردو کے دو اجلاس،ہندی کا ایک اجلاس اور شام افسانہ کی محفل منعقد کی گئی۔ساتھ ہی اس مو قع پریونیورسٹی کے شعبہ فائن آرٹس کی طالبات اور معروف آرٹسٹ ڈاکٹر عابد زیدی کی پینٹنگ سے سجی آرٹ گیلری اوربک فیئر کا بھی اہتمام کیا گیا۔شام میں عالمی مشاعرہ منعقد ہوا۔
سیمینار کے پہلے اور دوسرے اجلاس کی محفل صدارت پرپرو فیسر غلام ربا نی بنگلہ دیش، سر دار علی،امریکا، پروفیسر صا لحہ رشید، الہ آ باد، پرو فیسر ارادھنا، ڈاکٹر فو زیہ بانو،عارف نقوی، جرمنی، مقصود انور قطر، ڈاکٹروضاحت حسین رضوی،ڈاکٹر نعیم فلاحی، طالب زیدی رونق افروز رہے۔ان اجلاس میں ڈاکٹر حسن البنا، بنگلہ دیش،ڈا کٹر نعیم فلا حی راجستھان، ڈا کٹر عابد حسین حیدری، سنبھل، بشیر مالیر کو ٹلوی، پنجاب،پروفیسر غلام ربانی،پروفیسر صا لحہ رشید، ڈا کٹر اختر آزاد، جاوید انورنے اپنے مقالے پیش کیے۔ جب کہ ہندی سیشن کی مجلس صدارت پر رام گو پال بھارتیہ،ڈا کٹر کویتا تیاگی، امیش بھا ردواج، ڈا کٹر پرگیہ پا ٹھک، ڈا کٹر دیپا تیا گی،ڈا کٹر بینا شرما، نیرج شرما اور بھا رت بھوشن شرما رونق افروز رہے۔ اس اجلاس میں ڈا کٹر ودیا ساگر سنگھ،ڈاکٹر اسلم صدیقی، آشو، ممتا وغیرہ نے اپنے مقالے پیش کیے۔ ان تینوں اجلاس کی نظامت باالترتیب ڈا کٹر آصف علی، ڈاکٹر ارشاد سیانوی اور ڈاکٹر الکا وششٹھ نے کی۔
ان اجلا س میں پڑھے گئے مقالوں کا خلاصہ یہی تھا کہ ادب سماج کا آئینہ ہو تا ہے۔ ادب میں جو کچھ بھی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں فکشن پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔منشی پریم چند سے لے کر موجو دہ عہد تک سبھی فکشن نگاروں نے اپنے اپنے سماج کی بہترین عکاسی کی ہے۔ کچھ مقالوں میں اس بات پر بھی رو شنی ڈالی گئی کہ پریم چند کے عہد کے پس ماندہ طبقات، عورتوں اور مزدوروں،کسانوں کا استحصال جیسی معاشرتی برائیاں سماج میں اس لیے با قی ہیں کہ انسان نے خود کو ظا ہری طور پر تو سنوارا ہے جب کہ انسان کو انسان بننے کے لیے اس کے باطن کا صاف و شفاف ہونا نہایت ضروری ہے۔ موجودہ عہد میں تغیرات کی شدت نے سب کچھ یکسر بدل دیا ہے۔ کمپیوٹر عہد، آئی ٹی کا بے حد استعمال، سوشل میڈیا، نئی نئی سماجی اصطلاحات سے ایک نیا ما حول سامنے آ یا ہے۔ قدریں ختم ہو رہی ہیں۔ رشتوں کا احساس ٹوٹ رہا ہے۔ ایسے میں ہمارے ادب خصوصا فکشن نے ان سب کو عمدگی سے اپنے اندر اتارا ہے۔
شام افسا نہ کی محفل شام 5/ بجے منعقد کی گئی جس میں ایم اے حق، رانچی، طالب زیدی، میرٹھ، مسعود اختر، میرٹھ، ڈا کٹر نگار عظیم،دہلی اشتیاق سعید، ممبئی، پرو فیسر اسلم جمشید پوری، اسرار گاندھی، الہ آ باد، ارشد منیم، پنجاب اور عارف نقوی،جرمنی نے اپنے افسانوں کی قرأت کی۔جن پر حقانی القاسمی نے تبصرہ کیا۔
اس موقع پرڈا کٹر اسلم صدیقی، ڈا کٹر جمال احمد صدیقی،ڈا کٹر شاداب علیم، ڈاکٹر آصف علی،ڈاکٹر ارشاد سیانوی،ڈا کٹر اختر آ زاد، محمد بشیر مالیر کوٹلوی،فر زانہ بنت عاصم، سلیم سیفی، حاجی مشتاق سیفی،ڈا کٹر فر حت جہاں،شبستاں،اسرار گاندھی،مدیحہ اسلم،امیر عالم، اسرار احمد، آفتاب انصاری،فیضان انصاری،محمد شمشاد،اشتیاق سعید،عبدالباری، ناصر آزاد،ارشد منیم،جاوید انور،احمد حسنین،نیاز اختر،نذیر میرٹھی، رفیق،ریوانی،عمائدین شہر اورکثیر تعداد میں طلبہ و طالبات نے شر کت کی۔

چہار روزہ بین الاقوامی سیمینار کے تعلق سے شعبہ اردو میں سی سی ایس یو میں پریس کانفرنس کا انعقاد

چہار روزہ بین الاقوامی سیمینار کے تعلق سے شعبہ اردو میں سی سی ایس یو میں پریس کانفرنس کا انعقاد

اس دوران شام افسانہ، شام غزل، مشاعرہ، آرٹ گیلری، بک فیئر اور ڈرامے کا بھی ہوگا انعقاد
شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔پریس سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر اسلم جمشید پوری نے بتایا کہ شعبہ اردو’اور اتر پردیش اردو اکادمی کے اشتراک سے’موجودہ سماجی تغیرات کے فکشن پر اثرات“ عنوان سے7/ دسمبر2018ء سے10/ دسمبر 2018ء تک ایک کثیر لسانی عالمی سیمینار(اردو، ہندی،انگریزی) کا انعقاد کررہا ہے۔جس کا مقصد زبانوں کا ارتقا،باہمی میل جول، مختلف زبانوں کے ادب کا ارتقا و شناسائی، کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے ادیبوں کے ادب کی پرکھ، گیرا ئی و گہرائی،مختلف زبانوں میں کی جا رہی ادبی خدمات کی ایک دوسرے سے واقفیت،عوام کے سامنے ان سبھی کاموں کو سامنے لانا اور ادبی وراثت کو مزید پختگی فراہم کرنا، آپسی میل جول، اتحاد و اتفاق کو فروغ دینا ہے۔اس چہار روزہ عالمی سیمینار میں، مشاعرہ، شام غزل، شام افسا نہ، ڈراما، کتب میلہ،آرٹ گیلری اورکتابوں کے اجراء جیسے مختلف پروگرام منعقد ہو ں گے۔ جس میں جرمنی،امریکا، کناڈا، قطر اور بنگلا دیش کے علاوہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں کشمیر، پنجاب،یوپی،اتراکھنڈ، دہلی، بہار،جھار کھنڈ،کرناٹک،چھتیس، گڑھ، مدھیہ پردیش اور مقامی سطح کے معروف ادیا وشعرا،ناقدین، محققین اور دانشوران حضرات حصہ لیں گے۔
عالمی سیمینار کا افتتاح7/ دسمبر2018ء کو سہ پہر تین بجے یونیورسٹی کے برہسپتی میں ہو گا۔ جس کی صدارت معروف ناقد اور پروفیسر ایمریٹس جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی پروفیسر شمیم حنفی فرمائیں گے۔ مہمان خصوصی کے طور پر یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ پرو فیسر این کے تنیجا شر کت کریں گے جب کہ مہمانان ذی وقار کے بطور عارف نقوی، جرمنی، پروفیسر ارتضیٰ کریم، صدر شعبہئ اردو، دہلی یو نیورسٹی، ڈا کٹر سید فاروق، ڈائریکٹر ہمالین ڈرگس، پرو فیسر یو گیندر سنگھ،ڈین فیکلٹی آف آرٹس،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ شر کت کریں گے۔ جب کہ کلیدی خطبہ معروف ناقد پروفیسر زماں آزردہ پیش کریں گے۔
ڈاکٹر آصف علی نے پریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار(اردو، ہندی، انگریزی) کے تقریبا گیارہ اجلاس منعقد ہوں گے جس میں ہندی اور اردو کے سیشن بھی شامل ہیں۔ اور ہم نے ان سیشنوں کو ان عظیم ہستیوں کی یاد میں کردیا ہے جن کا ادب کے میدان میں اہم کردار رہا ہے۔ جیسے پہلے اجلاس کو منشی پریم چند کے نام، ہندی سیشن کو معروف گیت کار گو پال داس نیرج کے نام، انگلش سیشن کو پرو فیسر ارون کمار کے نام، شام غزل کو حفیظ میرٹھی کے نام کے علاوہ مولانا محمد علی جو ہر، قاضی عبد الستار،عابد سہیل، قرۃ العین حیدر وغیرہ کے نام کیا گیا ہے۔
پریس کو ڈاکٹر معراج الدین احمد نے بتایا کہ عالمی سیمینار میں 7/ دسمبر2018ء کو شام پانچ بجے شام غزل جسے معروف غزل سنگر مکیش تیواری پیش کریں گے،ناظرین کے لیے یہ پروگرام دلچسپی کا سبب ہو گا۔یونائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن(UPTA)کے صدر بھارت بھوشن شرمانے کہا کہ8/ دسمبر2018ء کو برہسپتی بھون میں شام6:00/ بجے سید اطہر الدین کی یاد میں منعقدہ بین الاقوامی مشاعرہ اور9/دسمبر 2018ء کو آرجی پی جی کالج، میں شام5بجے منعقد ہونے والا ڈراما ”خاک وطن“ جیسے پرو گرام بھی اہم ہیں۔ حاجی عمران صدیقی نے بتایا کہ آرٹ گیلری اور بک فئیر کا افتتاح8دسمبر2018ء کو صبح دس بجے شعبہئ اردو سے ہوگا۔ ڈاکٹر شاداب علیم نے کہا کہ اس دوران مختلف اجلاس میں نایاب زہرا زیدی، پرو فیسر اسلم جمشید پوری، پرو فیسر صالحہ رشید، ڈاکٹر محمد یونس غازی، ڈا کٹر ارشاد سیانوی، احمد حسنین وغیرہ کی کتابوں کا رسم اجراء بھی عمل میں آئے گا۔ پریس کانفرنس کو ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے بھی مخاطب کیا۔