Skip to main content

Aalamiparwaz

پروفیسر اسلم جمشید پوری کا دورہ پاکستان

پروفیسر اسلم جمشید پوری کا دورہ پاکستان
پاک آرٹ کونسل کی ۱۱ ویں کانفرنس میں ”جدید اردو افسانہ“ پر مقالہ پیش کیا
میرٹھ(29/ نومبر2018ء)
چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کے صدر شعبہ اردو، پرو فیسر اسلم جمشید پوری اپنے ایک ہفتے کے پا کستان دورے کے بعد میرٹھ واپس آگئے ہیں۔ واپسی پر انہوں نے پریس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا۔”پاکستان آرٹ کونسل، کراچی کے ذریعے منعقدہ ۱۱ /ویں بین الا قوامی اردو کانفرنس میں شر کت کر کے بے حد خو شی ہوئی۔ یہ ایک یاد گار کانفرنس تھی جس میں ہند و پاک کے علاوہ دنیا کے دیگر مما لک کے بھی معروف ادبا و شعرا شریک تھے۔ میں نے جدید اردو افسانہ: موضو عات و مسائل“ مو ضو ع پر اپنا مقا لہ پیش کیا جسے کا فی سرا ہا گیا۔ کانفرنس میں سیمینار کے علاوہ عالمی مشا عرہ، رقص و مو سیقی، شام غزل کے علا وہ، جون ایلیا، جمیل الدین عالی، مشتاق احمد یو سفی، رضیہ سجاد ظہیر کی یاد میں اجلاس منعقد ہوئے۔ ساتھ ہی ساتھ انور مقصود، مستنصر حسین تارڑ، انور مسعود کے ساتھ گفتگو کے اجلاس، متعدد کتب کے اجراء وغیرہ کا انعقاد عمل میں آ یا۔کانفرنس کی کا میابی کا ثبوت یہ ہے کہ آڈیٹوریم میں پا ؤں رکھنے کی جگہ نہیں تھی اور با ہر اسکرین پر پروگرام دیکھنے والوں کا بھی جم غفیر تھا۔ کانفرنس کے ساتھ ساتھ اردو کتابوں کا ایک شاندار کتب میلہ، بھی عوام کی دلچسپی کا سبب تھا۔“
پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے دیگر ادبی مصروفیات کا ذکر کرتے ہو ئے کہا”کرا چی پہنچنے کے پہلے ہی دن رات ۱۱/ بجے احباب حلقہ ادب کی بے تکلف نشست میں شر کت کا مو قع ملا۔ چا ئے محل نامی ایک ریستو ران میں ایک ٹیبل کے گرد بیٹھے پرو فیسر شاداب احسانی(کرا چی یو نیورسٹی) شاعر صفدر صدیق رضی، صحافی سید راشد عزیز، افسانہ نگار اور شاعر،ناقد اور ادیب صبا اکرام کی موجود گی میں رات ساڑھے با رہ بجے تک ادبی مو ضو عات پر طویل گفتگو اور بحث و مباحثہ چلتا رہا۔
ایک دن صبا اکرام نے اپنے دولت کدے پر فکشن گروپ، کرا چی کی طرف سے میرے اعزاز میں ”ایک شام اسلم جمشید پوری کے نام“ منعقد کی میرا تعارف کرا نے کے بعد مجھ سے افسا نوں کی فرمائش کی گئی۔میں نے محفل میں تین افسا نے سنائے۔ افسا نے پر شرکاء نے گفتگو کی۔ شرکاء میں معروف افسا نہ نگار،صحا فی اے خیام، شاعر، ناقد اور”رنگ ادب“ کے مدیر شاعر علی شاعر، ناقد اور شاعر شفیق احمد شفیق، شاعر احمد سعید، پروفیسر شکیل احمد خان(لہوئے ادب) شاعر صفدر صدیق رضی،امین الدین (افسا نہ نگار) طارق رئیس، راشد عزیز، پروفیسر شاداب احسا نی(صدر محفل) اور دیگر موجود تھے۔
شعبہ اردو، جامعہ کرا چی میں بیرو نی ممالک کے مندو بین کو استقبا لیہ دیا گیا جس میں عارف نقوی (جرمنی)، رضاعلی عابدی(لندن)،وفا یزدان منش(ایران) اور اسلم جمشید پوری(ہندوستان) شا مل تھے۔ ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس میں بیرو نی مہمانوں نے اپنے اپنے ملک کے ادبی حا لات اور اپنی تخلیقا ت پر گفتگو کی۔صدارت کے فرا ئض صدر شعبہ اردو پرو فیسر تنظیم الفردوس نے اور نظا مت کے فرا ئض ڈا کٹر ذکیہ را نی نے ادا کیے۔پرو فیسر شاداب احسانی نے شکریے کی رسم ادا کی۔
پروفیسر اسلم جمشید پو ری نے مزید بتایا کہ واپسی کے دن لا ہور میں دو گھنٹے کے قیام کے دوران میں نے ایک تاریخی درسگاہ گو رنمٹ کالج، لاہور دیکھا جو اب ترقی کر کے جی سی یو نیورسٹی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ واضح ہو کہ یہ وہی کالج ہے جہاں علا مہ اقبال، فیض، پطرس بخا ری، ن م راشد، امتیاز علی تاج، ضیاء جالندھری، کنہیا لال کپور جیسے آ فتاب و ماہتاب نے ابتدا ئی تعلیم حاصل کی۔ علا مہ اقبال جس کمرے میں رہا کرتے تھے اس کے بھی دیدار ہوئے۔1960ء میں اس ہا سٹل کو اقبال ہا سٹل کردیا گیا ہے۔ اقبال ہاسٹل کے وارڈن اور صدر شعبہ اردو، کرا چی یو نیورسٹی پرو فیسر خالد سنجرانی نے میزبانی کے فرا ئض انجام دیتے ہوئے اقبال ہاسٹل دکھایا۔ بعد ازاں شعبہ اردو میں ایک لیکچر کا اہتمام کیا گیا۔ جہاں میں نے اتر پردیش خصوصا میرٹھ کے ادبی ما حول کا ذکر کیا۔1857ء کی پہلی جنگ آزادی، میرٹھ یو نیورسٹی اور میرٹھ کے معروف ادباء و شعرا پر گفتگو کی۔ جلسے میں طلبہ و طا لبات کے علاوہ پروفیسر خالد سنجرا نی، پرو فیسر تبسم کاشمیری، پروفیسر ریاض قدیر،ڈا کٹر رفاقت علی شا ہد، ڈا کٹر محمد سعید، ڈا کٹر سفیر حیدر، ڈا کٹر نسیمہ رحمانی، ڈا کٹر الماس خانم وغیرہ موجود تھے۔ انہوں نے آ خر میں کہا مجموعی طور پر میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ میری زندگی کا ایک بے حد کامیاب غیر ملکی ادبی دورہ تھا۔

اسلم جمشید پوری کا افسانوی اسلوب متاثر کرتاہے:پروفیسر شاداب رحمانی

 

اسلم جمشید پوری کا افسانوی اسلوب متاثر کرتاہے:پروفیسر شاداب رحمانی

فکشن گروپ کراچی کے زیراہتمام”ایک شام اسلم جمشید پوری کے نام“کا انعقاد
کراچی:(۲۲/نومبر)پروفیسر اسلم جمشیدپوری کا اافسانوی اسلوب متاثر کرتا ہے۔انہوں نے کولاژٹکنک کا کامیابی سے استعمال کیاہے،جس طرح کیمسٹری میں جراثیم نیوکلیس سے باہر ہوجاتاہے وہ وجود کردیتا ہے،ٹھیک اسی طرح کولاژٹکنک میں بھی ہر واقعے کا مرکزی خیال سے اندرونی ربط کہانی کو پاور فل بناتاہے۔آدھی ادھوری کہانی خود کلامی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے اور قاری کوبے حد متاثر کرتی ہے۔یہ الفاظ شعبہ اردو کراچی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور صدرمحترم ڈاکٹر شاداب رحمانی کے تھے۔وہ میرٹھ سے تشریف لائے ہندوستان کے معروف افسانہ نگار اور فکشن ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری کے اعزاز میں فکشن گروپ کراچی کے زیر اہتمام ایک شام اسلم جمشیدپوری کے نام سے بہ طور صدر خطاب کررہے تھے۔
معروف شاعر و ناقد صبااکرام کے دولت کدے،گرے گارڈن گلشن جوہر، کراچی پر منعقدہ پروگرام میں پروفیسر اسلم جمشید پوری کا تعارف کراتے ہوئے ناظم جلسہ صبا اکرام نے کہاکہ اسلم جمشید پوری اس وقت نہ صرف ہندوستان بلکہ اردو دنیاکے انتہائی متحرک،فعال ادبی شخصیت ہیں،وہ نئی نسل کے نمائندہ افسانہ نگار اور فکشن ناقد ہیں۔ان کے افسانے اور تنقید پاکستان میں پابندی سے شائع ہوتی رہتی ہے۔اس موقع پر اسلم جمشید پوری نے دو افسانے آدھی رات اورآدھی ادھوری کہانی سنائے جنہیں باذوق سامعین نے پسند کیا۔
معروف افسانہ نگار وناقداے فہام نے افسانوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ مصوری کی ایک اصطلاح کولاژ ہے۔اسے افسانے میں بھی برتا جاتا ہے۔ اسلم جمشید پوری نے اسے افسانے میں خوبصورتی سے استعمال کیاہے۔صفدرصدیقی رضی نے کہاکہ کہانی میں حالات کو اس طرح پرویاگیاہے کہ دلچسپی آخر تک بنی رہتی ہے۔افسانے کا اسلوب اسے مزید مستحکم کرتا ہے۔پروفیسر شکیل احمد خان نے کہاکہ آدھی ادھوری کہانی میں نے کسی رسالے میں پڑھی ہے،اس طرح کے افسانوں میں مرکزی کہانی نہیں ہوتی،بس مرکزی خیال ہوتا ہے،سارے واقعے مرکزی خیال سے مربوط ہیں۔افسانہ نگار امین الدین نے کہاکہ اسے صرف ہندوستان کی کہانی نہیں کہہ سکتے یہ پاکستان کی بھی کہانی ہے،اس طرح کے واقعات یہاں بھی ہوتے رہتے ہیں۔”رنگ ادب“ کے مدیر فکشن ناقد شاعر علی شاعر نے کہاکہ حالات حاضرہ پر اچھی کہانی ہے،اس طرح کی کہانی ابھی ہمارے یہاں نہیں لکھی جارہی ہے۔راشدعزیز نے افسانے کو ایک عمدہ افسانہ قرار دیا۔
نشست کے آخر میں اسلم جمشید پوری کے ایک اور افسانہ”خداکے نام خط“بھی سناگیا۔اس موقع پر ابتہاج الحق نے شکریے کی رسم اداکی اور پر تکلف عشائیہ پر نشست کا اختتام ہوا۔

پروفیسر اسلم جمشید پوری کا کامیاب دورہ جرمنی ”ستارہ اردو“ کے اعزازسے نوازے گئے

پروفیسر اسلم جمشید پوری کا کامیاب دورہ جرمنی
”ستارہ اردو“ کے اعزازسے نوازے گئے
(پریس ریلیز)
میرٹھ:

             معروف افسا نہ نگار، فکشن نا قد اور صدر شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی پرو فیسر اسلم جمشید پوریؔ جو اردو انجمن برلن، جرمنی کی دعوت پر 29/جون کوجرمنی کے لیے روا نہ ہوئے تھے۔آج مورخہ6/جولائی کو خیریت کے ساتھ واپس ہندوستان تشریف لے آ ئے ہیں۔ان کا یہ دورہ انتہائی کامیاب رہا ہے۔اس دورے کے دوران انہوں نے اردو انجمن برلن کے سالا نہ جلسے میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شر کت کی۔واضح ہو کہ یہ انجمن گذشتہ40/ برسوں سے جرمن میں اردو زبان و ادب کے فروغ اور بقا کے لیے سر گرم عمل ہے۔ محترم عارف نقوی کے زیر سر پرستی، انجمن نے پو ری اردو دنیا میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کرلی ہے۔ انجمن سالانہ ایک بین الاقوامی پروگرام منعقد کرتی ہے جس میں یو روپ کے علاوہ ہندو پاک کے اہم اسکالرز کو مدعو کیا جاتا ہے۔
             امسال انجمن نے اپنے سالانہ جلسے میں شرکت کے لیے پرو فیسر اسلم جمشید پو ریؔ کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو کیا تھا۔انجمن نے اس جلسے میں انہیں ”ستارہ اردو“کے اعزاز سے نوازا۔اس کے تحت ٹرا فی اور سرٹیفکٹ پیش کیا گیا۔ دورہ جرمنی کے دوران ان کے اعزاز میں ایک مشاعرے اور شام افسا نہ کا بھی اہتمام کیا گیا۔ مشاعرے کی صدارت پروفیسر اسلم جمشید پوریؔ اور شام افسا نہ کی صدارت عارف نقوی نے کی۔
              اس کے علاوہ پروفیسر اسلم جمشید پوری نے مختلف مو ضوعات پر لیکچر پیش کیے۔جس میں ہم بولڈ یونیورسٹی، برلن کے شعبہ ساؤ تھ ایشین لنگویجز میں دیا گیا خطبہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔خطبے کا عنوان”اردو ہندی ادب کل آج اور کل“ تھا جومذکو رہ شعبے کے اردو اور ہندی کے طلبا کو مشترکہ طور پر دیا گیا تھا جسے خوب سرا ہا گیا۔
                 دورہ جرمنی سے واپسی پر ڈاکٹر شاداب علیم، ڈاکٹر آصف علی،ڈاکٹر ارشاد سیانوی اور سعید احمد سہارنپوری سمیت اردو دوستوں نے مبارک باد پیش کی۔

 

جرمنی میں جشنِ رضیہ سجاد ظہیر اور احمد ندیم قاسمی : اسلم جمشید پوریؔ کو "اردو ستارہ‘ ایوارڈ”

جرمنی میں جشنِ رضیہ سجاد ظہیر اور احمد ندیم قاسمی
اسلم جمشید پوریؔ کو "اردو ستارہ‘ ایوارڈ”
رپورٹ: عارف نقوی

برلن 4/جولائی

              جرمنی کی راجدھانی برلن میں اتوار یکم جولائی کو دو ممتاز ترقی پسند ادیبوں رضیہ سجاد ظہیر کے سو سالہ یومِ پیدائش
اور احمد ندیم قاسمی کے102سالہ یوم پیدائش کے احترام میں ایک بڑا جلسہ کیا گیا۔ جس میں ہندوستان سے معروف ادیب و میرٹھ کی چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبہ ء اردو کے صدر پروفیسر اسلم جمشید پوریؔ اور دہلی سے رضیہ سجاد ظہیر کی دختر ڈاکٹر نور ظہیر نے خاص طور سے شرکت کی۔ کراچی سے انجمن ترقی اردو کی ڈاکٹر فاطمہ حسن کو بھی شرکت کرنا تھی، لیکن انہیں وقت پر جرمنی کا ویزا نہ مل سکا۔
                سب سے پہلے معروف طنز و مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔اس کے بعد رضیہ سجاد ظہیر اور احمد ندیم قاسمی کی زندگی اور خدمات کے بارے میں اردو انجمن کے نائب صدرانور ظہیر رہبر کی تیار کردہ ایک مختصردستاویزی فلم دکھائی گئی۔ انور ظہیر نے اردو میں اور مایا ظہیرنے جرمن زبان میں نظامت کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی اسلم جمشید پوری،نور ظہیر اور اردو انجمن کے صدر عارف نقوی کو ڈائس پر بیٹھنے کی دعوت دی۔اور مہمانوں کا تعارف کرایا۔
             اردو انجمن برلن کے صدر عارف نقوی نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے، اپنی انجمن کی سرگرمیوں اور تقریب کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو انجمن ایک غیر سیاسی، غیر تجارتی، غیر مذہبی اور قومیت کی حدوں سے بلند ہو کر ہر اس انسان کی تنظیم ہے جس کے سینے میں انسانیت کا درد ہے۔وہ معیاری اور انسانیت پسند ادب کو فروغ دینے کے لئے کو شاں ہے۔ رضیہ سجاد ظہیر اور احمد ندیم قاسمی کے افسانوں اور ناولوں میں بھی انسانیت، امن، دوستی کے لئے اور استحصال کے خلاف جذبات عیاں ہیں۔
                رضیہ سجاد ظہیر کی دختر نور ظہیر نے، جن کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور وہ دہلی آئی پی ٹی اے کی صدر بھی ہیں، اپنی والدہ کی زندگی اور تخلیقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، کہ میری امّی کے فکشن پر کسی بڑے فکشن نگار کا اثر نہیں ہے۔ حالانکہ وہ میکسم گورکی، موپاساں، عصمت چغتائی کی تخلیقات کو بہت پسند کرتی تھیں۔اور اچھی کہانی پڑھکر کئی دنوں تک اس میں کھوئی رہتی تھیں۔

                 میرٹھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر پروفیسر اسلم جمشیدپوری ؔ نے احمد ندیم قاسمی اور رضیہ سجاد ظہیر کی زندگی اور تخلیقات نیز قربانیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہو ں نے کہا: ”اردو انجمن برلن کی اردو خدمات قابلِ قدر ہیں۔انجمن نے کئی دہائیوں سے جس طرح اردو کے فروغ اور جرمنی سے روابط اور پیغامِ محبت کو عام کرنے کا اہم کارنامہ انجام دیا ہے اس کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے۔
               اسلم جمشید پوریؔ نے کہا: ”آج اردو دنیا کی بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ہند و پاک سے جرمنی،برطانیہ، روس،جاپان، افریقہ، خلیجی ممالک، چین۔۔الغرض دنیا کے طول و عرض پر اردو کا پرچم لہرا رہا ہے۔ یہ داغ کے اس خواب کی تعبیر ہے جو انہوں نے آج سے تقریباً ایک صدی قبل دیکھا تھا:
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

                     احمد ندیم قاسمی اور رضیہ سجاد ظہیر کے بارے میں روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسراسلم جمشید پوریؔ نے کہا کہ احمد ندیم قاسمی کا شمار اردو کے ان معدودے چند افسانہ نگار شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے نظم و نثر میں یکساں طبع آزمائی کی اور دونوں اصناف میں مقبولیت کے نئے پیمانے وضع کئے۔
                  ”احمد ندیم قاسمی اردو کے عظیم افسانہ نگار ہیں۔ انہوں نے اپنے منفرد اسلوب، موضوعات کی بوقلمونی، فن افسانہ پر دسترس، واقعہ اور کردار نگاری میں مہارت، ماحول اور منظرکی تعمیر و تشکیل میں لفظی پیکروں کی کرشمہ سازی اور نثر میں شاعرانہ اسلوب کے سبب اپنے ہم عصروں میں خود کو ممیزو ممتاز کیا۔“
رضیہ سجاد ظہیر کے بارے میں خیالات ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے افسانے، خاکے اور ناول توجہ کے طالب ہیں۔ ”رضیہ سجاد ظہیر اہنے عہد کی بڑی افسانہ نگار تھیں۔ ان کے افسانوں میں عام انسانوں کی آرزوئیں، خوشی و غم، بھوک پیاس، عشق و محبت ملتے ہیں۔ ان کے ناول سمن، اللہ میگھ دے اور دو افسانوی مجموعے ’زرد گلاب‘ اور ’اللہ دے بندہ لے‘کے علاوہ خاکے اور متعدد ترجمہ شدہ کتابیں ہیں۔ جہاں تک ان کے افسانوں کا تعلق ہے تو انہوں نے متعدد خوبصورت اور معیاری افسانے اردو کو دئے۔ خاص طور پر زرد گلاب، اللہ دے بندہ لے، نیچ، تب اور اب، کچھ تو کہئے، نئی نویلی، وہ شعلے، واردات، پہچان، سنٹی، چور دروازے، ان کے ایسے افسانے ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔“
                   جلسے کے دوران اسلم جمشید پوری ؔکی کتاب عید گاہ سے واپسی کے تیسرے ایڈیشن، عارف نقوی کی کتاب ’طائر آوارہ‘، عشرت معین سیما کی کتاب ’جرمنی میں اردو‘ کا رسم اجراء کیا گیا۔ فرانکفورٹ سے آئی ہوئی مہمان ہمہ فلک کی کتاب وقت پر نہیں پہنچ سکی لیکن انہوں نے بتایا کہ یہ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے جس کی رسمِ اجراء وہ اردو انجمن کے جلسے میں چاہتی تھیں۔

                  اردو انجمن برلن کی طرف سے پروفیسر اسلم جمشید پوریؔ کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ”اردو کا ستارہ“ ایوارڈ پیش کیا گیا اور خاص طور سے اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے ان کی اور ان کے شعبے کی بہترین خدمات کو سراہا گیا۔
                 رضیہ سجاد ظہیر کی دختر ڈاکٹر نور ظہیر کوان کی تخلیقات اور خدمات کے اعتراف میں ایک میمنٹو کے ساتھ اردو انجمن کا اعزاز پیش کیا گیا۔ بزم ادب کے صدر علی حیدر وفا کو بھی اردو انجمن کی طرف سے ان کی خدمات کے اعتراف میں ایک سرٹیفیکٹ پیش کیا گیا۔اعزازِ اردو انجمن کے دیگر سرٹیفیکٹ ٹی ایس فوڈ کے خالد محمود، سہیل انور خان، ڈاکٹر عاصم قادری اور عمر ملک کو پیش کئے گئے۔
                  چائے کے وقفے کے بعد ایک مشاعرہ منعقد کیا گیا جس میں اردو شعراء کے ساتھ ہندی، پنجابی، انگریزی وغیرہ زبانوں کے شعراء نے بھی اپنے کلام پیش کئے۔

Report: Arif Naqvi
Rudolf-Seiffert-Str. 58, 10369 Berlin

پروفیسر اسلم جمشید پوری ؔ جرمنی کے دورے پر روانہ

 

پروفیسر اسلم جمشید پوری ؔ جرمنی کے دورے پر روانہ

(پریس ریلیز)

میرٹھ: معروف افسا نہ نگار، فکشن نا قد اور صدر شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی پرو فیسر اسلم جمشید پوریؔ، اردو انجمن برلن، جرمنی کی دعوت پر جرمنی کے لیے روا نہ ہو گئے ہیں۔
اردو انجمن برلن، گذشتہ40/ برسوں سے جرمن میں اردو زبان و ادب کے فروغ اور بقا کے لیے سر گرم عمل ہے۔ محترم عارف نقوی کے زیر سر پرستی، انجمن کی پو ری اردو دنیا میں خاص پہچان ہے۔ انجمن ہر سال ایک بین الاقوامی پروگرام منعقد کرتی ہے جس میں یو روپ کے علاوہ ہندو پاک کے اسکالرز کو مدعو کیا جاتا ہے۔
اردو انجمن، اس سال معروف فکشن نگاروں احمد ندیم قاسمی اور رضیہ سجاد ظہیر پر یکم جولائی2018ء کو یک روزہ سیمینار منعقد کررہی ہے۔ سیمینار میں مہمان خصوصی کے حیثیت سے پروفیسر اسلم جمشید پوری ؔکو مد عو کیا ہے۔
پروفیسر اسلم جمشید پوریؔ سیمینار میں شرکت کریں گے اور جرمنی میں مختلف مو ضوعات پر لکچر بھی دیں گے۔ ساتھ ہی ان کے اعزاز میں شامِ افسا نہ اور مشاعرے کا بھی انعقاد کیا جارہا ہے۔
واضح ہو کہ پروفیسر اسلم جمشید پوریؔ کا شمار نئی نسل کے اہم فکشن ناقدین میں ہو تا ہے۔ فکشن تنقید پر ان کی تقریبا نصف درجن اہم کتب شا ئع ہو چکی ہیں۔ ا س مو قع پر شعبہ اردو کے اساتذہ، احباب اور میرٹھ کے معززین نے انہیں مبارک باد دی ہیں۔

عید چراغاں : احمد نثارؔ

عید چراغاں
از قلم: احمد نثارؔ

                دنیا کے لگ بھگ اقوام میں یہ رواج عام ہے کہ خوشی کے موقعوں پر گھر، گلی، کوچوں، اداروں، درسگاہوں اور عبادت گاہوں کو چراغاں کرے۔ یہ عمل ایک قسم کا اظہار خوشی ہے۔ ماحول کو روشن کرنااور روشنی کو عام کرنا، روشن دانوں اور فانوسوں کو روشن کرنا ایک ثقافتی فعل تصور کیا جاتا ہے۔ خواہ اس چراغاں کرنے کی نسبت مذہب سے ہو یا نہ ہو، مگر چراغاں کرنا اپنی تذہیب و تمدن کی عکاسی یا اس کا نمونہ مانا جاتا رہا ہے۔
                  فانوس یا قمقمے جلانا، دیے جلانا مشرقی ممالک اوربرصغیر میں عام ہے، تو فانوس جلانا عرب کے علاقے بی الخصوص مصر میں اور سلطنت عثانیہ کے ماثر علاقوں میں عام ہے، یہاں تک کہ آج کل متحدہ عرب امارات، کویت جیسے ممالک میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ وسط ایشیائی ممالک جیسے ازبکستان، تاتارستان، آذربائجان و دیگر ممالک میں بھی یہ رواج عام ہے۔ مصر کا فانوس روشن کرنے کا رواج کافی دلچسپ رہا اور اس کلچر کو مختلف اقوام نے بھی اپنا لیا ہے۔مصر میں خلافتِ فاطمیہ کے دور سے یہ رواج چلا آرہا ہے۔ ماہِ رمضان میں اور خاص طور پر ماہِ رمضان کے آخری ایام میں اور عیدالفطر کے موقع پر دلکش ڈیزائنوں کے فانوس جلا کر گھروں کو سجانا عید کی خوشیوں میں شامل ہے۔ ملیشیا اور انڈونیشیا میں دیے اور قمقے جلانے کا رواج آج بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس رواج کے پیچھے ہندو ثقافت کا اثرہے یا اس ہندو رواج پر مسلم کلچر کا اثر ہے، اس بات کا پتہ کرنا بھی ضروری ہے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ تہذیبیں اپنی ثقافتوں کو دیگر تہذیبوں کے ساتھ شیئر کرتی ہیں اور ان کو آفاقی بنا دیتی ہیں۔
                  بھارت کے مسلم طبقوں میں یہ رواج ابھی عام نہیں ہوا ہے۔ غالبا برصغیر کے دیگر ممالک کے مسلم طبقوں میں بھی یہ رواج عام نہیں ہے۔ غالبا اس کی وجہ ہندو کلچر میں دیوالی پر جلائے جانے والے دیپ یا دیے ہوسکتے ہیں، یا پھر عیسائی برادری کرسمس کے موقع پر جلانے والی موم بتیاں۔ شاید مسلم یہ نہیں چاہتا ہوگا کہ دیگر مذاہب کے کلچر کو کیوں اپنایا جائے۔ لیکن اس خبر سے بے بحرہ ہے کہ یہ کلچر عربی ہے اور مصر سے آیا ہے۔ مزید مزے کی بات یہ ہے کہ آج کل دیوالی میں جلائے جانے والے فانوس یا روشن دان عرب ممالک اور ترک میں بنائے جانے والے روشن دانوں کے ڈیزائن ہیں۔
                   ترکی میں بننے والے ڈیزائن کے فانوس اب بھارت میں بھی مشہور ہیں، اکثر دیوالی اور دیگر تہواروں کے موقعوں پر اس قسم کے فانوس پچھلے دس سالوں میں زیادہ مقبول ہوئے ہیں۔ اب بھارت کے کاریگر اور فنکار بھی اس فانوس کو بنانے میں مہارت حاصل کرلی ہے۔ چین تو اس کی مارکیٹنگ خوب کررہا ہے اور چھایا بھی ہوا ہے۔ دنیا کی کئی کمپنیاں بھی ان فانوس اور روشندانوں کو بنانے اور فروخت کرنے لگی ہیں۔ یہ روشن دان اور فانوس لکڑی کاغذ، لوہے اور دیگر اشیاء سے بنائے جاتے ہیں۔ آنلائن پر اشیاء فروخت کرنے والی کمپنیاں بھی ان فانوس اورروشن دانوں کی تصارویر اپنے پورٹلز پر رکھ کر ڈور ڈیلیوری سپلائی بھی کر رہی ہیں۔
              رمضان کے دوران مساجد کو سجانا، خاص طور پر شب قدر کوبجلی کے قمقموں سے سجانا، دیدہ زیب ڈیکوریشنس کرنا بھارت کے ہر شہر اور گاؤں میں دیکھا جاسکتا ہے۔
                    یعنی رمضان ماہ چراغاں تو عید الفطر عید چراغاں ہے۔
٭٭٭٭
از قلم: احمد نثارؔ
E-mail: ahmadnisarsayeedi@yahoo.co.in

عید الفطر کی دلی مبارکباد

عالمی پرواز ڈاٹ کام

 

کے ناظرین اور قارئین کی خدمت میں

عالمی پرواز ڈاٹ کام انتظامیہ کی طرف سے

عید الفطر کی دلی

مبارکباد

خدا کرے یہ عید ہم میں باہمی اتحاد و اتفاق کا

مضبوط وسیلہ بنے

اور

دنیا کے مسلمان امن و امان میں رہیں

اور

عالمی سطح پر انسانی بھائی چارہ بنا رہے

 

منجانب

ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ 

ابرار مجیب

مہتاب عالم پرویزؔ

نغمہ ناز مکتومیؔ

افروز سلیمیؔ

 

پروفیسر عظیم الشان صدیقی کا انتقال اردو فکشن تنقید کا زبردست نقصان ہے۔

پروفیسر عظیم الشان صدیقی کا انتقال اردو فکشن تنقید کا زبردست نقصان ہے۔
شعبہ اردو، سی سی ایس یونیورسٹی میں تعزیتی نشست
(پریس ریلیز)
میرٹھ6/ جون2018ء

              شعبہ اردو،چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی میں معروف فکشن ناقد اور مشفق استاد پرو فیسر عظیم الشان صدیقی کے سانحہئ ارتحال پر ایک تعزیتی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صدر شعبہ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا:پروفیسر عظیم الشان صدیقی کا انتقال اردو ادب خصوصاً اردو فکشن تنقید کا زبردست نقصان ہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مستند اساتذہ کے نما ئندہ پروفیسر عظیم الشان صدیقی کافی زمانے تک یاد کیے جائیں گے۔ پروفیسر عظیم الشان صدیقی نے اردو فکشن کی تنقید میں ہمیشہ ایک خاص معیار قائم رکھا۔ فکشن تنقید پر آپ کی کئی کتب”اردو ناول: آغاز و ارتقا(1957ء تا 1914ء)، پریم چند: ایک محاکمہ، اردو افسا نہ: فکری مباحث، ہمارے تنقیدی سر مائے میں اضا فہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے علاوہ بھی ان کی کئی کتب مقبول ہوئی ہیں۔ تنقید میں آپ سرسر ی گذرنے کے قائل نہیں تھے۔ آپ چھوٹے سے چھوٹے نکتے پر بھی خاصی بحث کرتے تھے۔
             پروفیسر عظیم الشان صدیقی کا ایک اہم کار نامہ انجمن اردو اساتذہئ جامعات ہند کو مضبوط و مستحکم بنایاہے۔ مرحوم زمانے تک اردو اسا تذہ کے اس ادارے کے اہم منا صب پر اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ مرحوم کو ایک شفیق اور مربی استاد کی حیثیت سے بھی جانا جاتا ہے۔ آپ کو اور آپ کی کتب کو متعدد ادبی انعامات بھی مل چکے ہیں۔ اتر پردیش اردو اکادمی نے اپنا پریم چند ایوارڈ2011میں آپ کی خدمات آپ کو ملا۔ آپ کے متعدد شاگرد آج ادب میں اپنا مقام بنا چکے ہیں۔
             اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے ڈا کٹر آصف علی نے کہا کہ پرو فیسر عظیم الشان صدیقی معروف اور معتبر اوراعلی پائے کے فکشن ناقدہونے کے ساتھ ساتھ نہایت مخلص استاد،ایماندار،ہمدرد، ملنسار، مہذب،آئیڈیل، اور علم دوست انسان تھے۔ان کا جانا علم کا بڑا خسارہ ہے لیکن یہ بات دل کو سکون اور قرار بخشتی ہے کہ ان کے بہت سے لائق شاگرد بھی یقینا اپنے مشفق استاد کی راہ پر ہے اور ادب کے گلستاں کومہکانے کا کام خوش اسلوبی سے انجام دے رہے ہیں۔
             شعبہ کی استا نی ڈا کٹر شاداب علیم نے کہاپروفیسر عظیم الشان صدیقی اسم با مسمیٰ تھے۔یقینا آپ اردو فکشن کی تنقید کا عظیم الشان نام تھا۔آپ کی رحلت سے فکشن تنقید میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا پُر ہونا فی الوقت نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ آپ ما ہر پریم چند، غیر جانب دار ناقد، مشفق انسان اور قابل استاد تھے۔ آپ نے مختلف جہات سے اردو کی جو خدمات انجام دی ہیں وہ ادبی تاریخ کا زریں باب ہے۔اللہ رب العزت آپ کو جواہر رحمت میں جگہ عطافرمائیں اور آپ کے متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
             آخر میں حاضرین نے آپ کے لیے دعا مغفرت فر مائی۔

 

روزے کی فرضیت کا بنیادی مقصد لوگوں کی زندگی میں تقویٰ پیدا کرنا ہے: مولانا جبریئل

روزے کی فرضیت کا بنیادی مقصد لوگوں کی زندگی میں تقویٰ پیدا کرنا ہے: مولانا جبریئل

شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کیمپس میں روزہ افطار کا انعقاد
(پریس ریلیز)
میرٹھ یکم جون2018ء

           شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی،میرٹھ میں ایک شاندار افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا جس میں یونیورسٹی کے پروفیسر،افسران، ملازمین اور مسلم طلباو طالبات کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں علماء،دانشوران،سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوریؔ،ڈپٹی لائبریرین ڈا کٹر جمال احمد صدیقی،ڈاکٹر شاداب علیم، ڈاکٹر آصف علی،ارشد حسین،محمد عثمان،نجم پاشا، عبد السلام، اور اسٹوڈینٹ لیڈرفرحین نے سبھی مہمانان کا استقبال کیا۔
             معروف خطیب مولا نا جبرئیل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کا مہینہ بہت ہی با برکت اور عظمت وا لا ہے اور اللہ تعالیٰ اس ماہ میں ہر عمل خیر کا درجہ کئی گنا بڑھادیتے ہیں۔روزے کی فرضیت کا بنیادی مقصد لوگوں کی زندگی میں تقویٰ پیدا کرنا ہے۔روزہ خواہشات کو کنٹرول کرنے میں بڑا معاون ہو تا ہے اور جب خواہشات پر قابو پالیا جاتا ہے تو انسان تقویٰ کی جانب گامزن ہوجا تا ہے اور تقویٰ سے ہی دلوں میں اللہ کا خوف پیدا ہو تا ہے۔اسی لیے روزہ کے ذریعے ہم عبادات، معاملات،اخلاقیات اور معاشرت،انسانیت، غرباو مساکین کے ساتھ ہمدردی غرض کہ زندگی کے تمام شعبوں میں ہم اپنے خالق ومالک کے احکامات کے مطابق اپنی زندگی بسر کرسکتے ہیں اور اپنے مالک کی خوشنودی حاصل کرسکتے ہیں۔روزہ انسان میں صبرو تحمل، مشکلات پر قابو پانے اور نفس کو کنٹرول میں رکھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے اور یہ ایک ایسا جو ہر ہے کہ ہر افراد کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ہمیشہ کام آتا ہے۔
روزے کے فائدے بھی بہت ہیں۔جسمانی بھی اور رو حانی بھی۔ ڈاکٹروں کے قول کے مطابق رو زے سے نظام ہاضمہ درست رہتا ہے اور سبھی جانتے ہیں کہ تمام بیماریوں کی نظام ہاضمہ کی خرابی ہے۔انہوں نے اس موقع پر سبھی کے ساتھ مل کر ملک وقوم،شعبہ اور یونیورسٹی کی سلامتی و ترقی کے لیے دعا کرائی۔سائرن بجنے کے ساتھ ہی سبھی نے افطارکیا اور انہی کی امامت میں نماز مغرب ادا کی گئی۔
            افطار پارٹی میں پروفیسر اے کے چوبے،چیف پراکٹرپروفیسربھوپیندرسنگھ،پروفیسرایس کے بھاردواج۔ڈاکٹر تعظیم جہاں، ڈاکٹر سیدہ، محمد آصف نان پوری،حاجی جی ایم مصطفی،ایم ایل اے رفیق احمد انصاری،اکرام بالیان، ڈاکٹر ارشد اقبال، ڈاکٹر ہاشم رضا زیدی،رضوان الحق،امیش پٹیل،ڈاکٹر پشپیندر کمار نم، سہیل،ایڈوکیٹ سرتاج عالم،ڈاکٹرشکیل احمد،آفاق خان،ذیشان خان،محمد سہیل، ڈاکٹر اسرار، ڈاکٹر ارشاد سیانوی،ڈاکٹر اعجاز،سائرہ بانو، مدیحہ اسلم، شناور اسلم، انس سبز واری، سعید احمد سہارنپوری سمیت دیگر معزز حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

ہر کامیاب انسان اور دنیا کی ہر ترقی کے پیچھے کسی نہ کسی استاد کا ہاتھ ہوتا ہے: پرو فیسر ایچ ایس سنگھ

ہر کامیاب انسان اور دنیا کی ہر ترقی کے پیچھے کسی نہ کسی استاد کا ہاتھ ہوتا ہے۔پرو فیسر ایچ ایس سنگھ

سید اطہر الدین میمو ریل سو سائٹی کے زیر اہتمام پروفیسر اسلم جمشید پو ری ؔکو استقبالیہ و اعزاز

                (پریس ریلیز)

                میرٹھ: 16/مئی2018ء

                شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینا ہال میں سید اطہر الدین میمو ریل سو سائٹی کے زیر اہتمام ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کے پرو فیسرمنتخب ہو نے پر ایک استقبالیہ و اعزازیہ پرو گرام منعقد ہوا۔ جس کی صدارت سید اطہر الدین میمو ریل سو سائٹی کے نائب صدر سید معراج الدین نے کی۔مہمان خصوصی کے طور پر یو نیورسٹی کے نائب شیخ الجامعہ پروفیسر ایچ ایس سنگھ اور مہمانان ذی وقار کے بطوراسماعیل گرلز انٹر کالج کے منیجر ڈاکٹر سراج الدین احمد، سابق وزیر حکو مت اتر پردیش ڈا کٹر معراج الدین احمد اور جمعیت علمائے ہند کے شہر صدر حاجی جی ایم مصطفٰی شریک ہو ئے جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف علی، استقبالیہ اور تعارف سید اطہر الدین میمو ریل سو سائٹی کی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شاداب علیم اور شکریہ کی رسم تابش فرید نے ادا کی۔

                پرو گرام کا آ غاز مفتی راحت علی صدیقی نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔ہدیہ نعت ایم فل کی طالبہ خوشنما نے پیش کیا۔ مہمانوں کا پھولوں سے استقبال کیا گیا بعد ازاں مہمانان نے ملکر شمع رو شن کی۔سو سائٹی کی جانب سے پرو فیسر اسلم جمشید پوری کو شال،سپاس نامہ اور نشان یاد گار پیش کیا گیا۔

                اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر ایچ ایس سنگھ نے کہا کہ سید اطہر الدین میمو ریل سو سائٹی اس لیے قابل مبا رکباد ہے کہ اس نے ایک استاد کو اعزا ز سے نوازنے کا فیصلہ کیا ہے۔مجھے اس وقت بے حد خوشی ہوتی ہے جب کسی استاد کو کسی اعزاز سے نوا زاجاتا ہے۔کیو نکہ موجودہ سماج میں اساتذہ کی خدمات کو فراموش کر کے دوسرے حضرات کونوازنے کا چلن عام ہو گیا ہے۔جب کہ ہر کامیاب انسان اور دنیا کی ہر ترقی کے پیچھے کسی نہ کسی استاد کا ہاتھ ہوتا ہے۔

                ڈاکٹر ودیا ساگر نے پرو فیسر اسلم جمشید پوریؔ کو مبا رک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی سب سے بڑی دشمن دوہری شخصیت ہے۔میرے تجربے کے مطابق پرو فیسر اسلم جمشید پوریؔ اس خا می سے پاک ہیں۔ان میں عاجزی انکساری، ہمدردی اور ملنساری جیسی صفات بدرجہئ اتم موجود ہیں۔ وہ اپنی یہی صفات اپنے طلبہ میں ودیعت کر نے کی کوشش کرتے ہیں جو یقینا لا ئق تحسین ہے۔

                ڈاکٹر سراج الدین احمد نے اس مو قع پر سو سائٹی اور پروفیسر اسلم جمشید پوری ؔکی خدمات کا تفصیلی تعارف کراتے ہوئے اپنی جانب سے شعبہ اردو کے ایک ہونہار طالب علم کو ہر سال”حکیم سیف الدین پدم شری گولڈ میڈل“ اور ایک  ہونہارطالب علم کوپا نچ ہزار روپے و ظیفہ دینے کا اعلان کیا۔ حاجی عمران صدیقی، یو نائیٹیڈ پروگریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن کے صدر بھا رت بھو شن شرما،جی ایم مصطفےٰ اور ڈا کٹر قمر النساء زیدی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

                پروگرام کے آخر میں اپنے صدارتی خطبے میں سید معراج الدین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  یوں توسبھی درسگاہیں اور سبھی اساتذہ مبا رک باد کے مستحق ہیں۔کیو نکہ وہ علم کی رو شنی سے جہالت کے اندھیرے کو حتی المقدور دور کر نے کی کو شش کرتے ہیں۔ لیکن کچھ شخصیات اپنے کارناموں اور خدمات کا دائرہ ایسا وسیع کر لیتے ہیں کہ ہر یگانہ و بے گانہ ان کا معترف ہو تا ہے اور ان کے دم سے درسگاہوں اور زمانے کا نام روشن ہو تا ہے جن میں بلا شبہ نا ئب شیخ الجامعہ پروفیسر ایچ ایس سنگھ اور پروفیسر اسلم جمشید پوریؔ کا نام بھی شامل ہے۔

                پروگرام میں اے آر بنسل، انل شرما، ہیمت گو ئل، سریندر شرما، شا ہد سیفی، سید فرقان احمد، ڈا کٹر سیدہ، ڈاکٹر صبیحہ، ڈاکٹر پروین کٹا ریہ، ڈا کٹر یگیش،ڈاکٹر انجو،سید انس سبز واری،ڈاکٹر ارشاد سیانوی، مو لا نا جبرئیل،تسلیم جہاں سمیت کثیر تعداد میں عمائدین شہر اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔