Skip to main content

Aalamiparwaz

رمضان کی پر خلوص مبارکباد : ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ


’’عالمی پرواز ‘‘


کے قارئین کو 
مقدس مہینے
رمضان 
کی پر خلوص
مبارکباد
خدا ہم سب 
کو گناہوں سے
بچنے اور زیادہ 
سے زیادہ
ثواب کمانے کی 
تو فیق عطا کرے۔
آ مین

ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ

 

ابرار مجیب

مہتاب عالم پرویزؔ

نغمہ ناز مکتومیؔ

افروز سلیمیؔ

 

 

معروف افسانہ نگاراورفکشن ناقد ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کابحیثیت پروفیسر تقرر

معروف افسانہ نگاراورفکشن ناقد ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کا بحیثیت پروفیسر تقرر
(پریس ریلیز)

میرٹھ: معروف افسانہ نگار، فکشن ناقد اور شعبہ اردو،چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کے صدر ڈا کٹر اسلم جمشید پوریؔ کو یونیور سٹی نے سی اے ایس کے تحت پروفیسر کے عہدے پرتقرر کیا ہے۔
پرو فیسر اسلم جمشید پوری ؔکی اب تک29کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ گذشتہ دنوں آپ کی کئی اہم کتب عید گاہ سے واپسی(افسانے) اردو فکشن کے پانچ رنگ(تحقیق وتنقید)،تجزیے(تنقید)، جدید اردو افسا نہ بدلتی قدریں (ترتیب و تزئین) عصمت شناسی(ترتیب) کی ادبی حلقوں میں کافی پذیرا ئی ہوئی۔ان کی دیگر اہم کتب میں لینڈرا(افسانے)،اردو فکشن: تنقید و تجزیہ (تحقیق وتنقید) اردو افسا نہ: تعبیر و تنقید (تحقیق وتنقید)، جدیدیت اور اردو افسانہ (تحقیق وتنقید)، ترقی پسند اردو افسا نہ اور اہم افسا نہ نگار (تحقیق وتنقید)، آدھا گاؤں (ترجمہ) شا مل ہیں۔
پروفیسر اسلم جمشید پوریؔ نے گذشتہ پندرہ بیس برسوں میں بطور فکشن ناقد اپنی حیثیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔ انہیں اکیسویں صدی کے اہم فکشن ناقدین میں شمار کیا جاتا ہے۔انہوں نے اپنی تنقید کے ذریعہ نئی نسل کو متعارف کرانے کا اہم کام کیا ہے۔ان کی فکشن تنقید پر نسف درجن سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں۔
شعبہ اردو کا قیام اور اسے استحکام بخشنے کا کار نامہ انہیں اپنے ہم عصروں میں ممیز و ممتاز کرتا ہے۔آج شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیور سٹی کی شناخت قومی ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر ہے۔متعدد طالب علم درس و تدریس،میڈیا اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بر سرِروز گار ہیں۔
پروفیسر اسلم کا ایک اہم کارنامہ مغربی اتر پردیش کے ادبا و شعرا پر تحقیقی کام کرانا اور ان کی از سر نو دریافت کرنا ہے۔ پروفیسر اسلم جمشید پوریؔ کے فکشن پر اسلم جمشید پوری ؔبحیثیت افسا نہ نگار(ڈا کٹر تسنیم فا طمہ امروہوی)اسلم جمشید پوری ؔکے دیہی افسا نے(ڈا کٹر فرقان سنبھلی) اسلم جمشید پوری ؔکے دس نما ئندہ افسا نے(پریم گو پال متل) شا ئع ہوچکی ہیں۔ اسکندریہ یو نیورسٹی،مصر میں ”لینڈرا“ پر عربی مقالے پر ڈگری ایوارڈ ہو چکی ہے، ہندوستان کی کئی جامعات میں ان کے فن اور شخصیت پر مقا لے تحریر کیے جا رہے ہیں۔ انہیں فکشن اور اردو ادب کی خدمت کے لئے متعدد انعامات مل چکے ہیں۔ ان کی متعدد کتب پر اتر پردیش اردو اکادمی،بہار اردو اکادمی،مغربی بنگال اردو اکادمی سے بی ایوارڈ مل چکے ہیں۔ ان کی نگرانی میں اب تک ۸۱ طالب علموں کو پی ایچ۔ڈی اور ۰۸ طالب علموں کو ایم فل کی ڈگری تفویض ہو چکی
ہے۔
اس مو قع پر شعبہ اردو کے دیگر اساتذہ ڈا کٹر آصف علی، ڈا کٹر شاداب علیم، ڈا کٹر الکا وششٹھ، سعید سہارنپوری اور احباب ڈا کٹر جمال احمد صدیقی، محترم قاری شفیق الر حمان قاسمی، حاجی عمران صدیقی،،مولانا شاہ عالم گورکھ پوری،محترم سرفرازعلی(ممبر اتر پردیش اردو اکادمی)،محترم ندیم اختر (ممبر اتر پردیش اردو اکادمی)محترم آصف سیفی،رفعت جمالی، تابش فرید،بھارت بھوشن شرما، انل شرما سریندر شرما،مولانا جبرئیل،مفتی راحت، ڈاکٹر شاہد صدیقی،ڈاکٹر نعیم صدیقی، وغیرہ نے مبارکباد پیش کی۔

تخلیقی تنقید کی نئی بولیاں : سلمان عبد الصمد

 

● تخلیقی تنقید کی نئی بولیاں !

■ سلمان عبد الصمد

○ آزاد الفاظ بولتے ہیں اور اس طرح بولتے ہیں کہ تقریر وتحریر کی دیواریں ایک دوسرے سے گلے ملتی دکھائ دیتی ہیں۔ تخلیق و تنقید کی سرحدیں مدغم ہوجا تی ہیں۔ خورشید حیات کے یہاں بھی ا لفاظ بولتے ہیں ۔ تخلیق وتنقید کی سرحدیں مل جاتی ہیں۔ حالانکہ الفاظ ان کے ہاتھوں میں محبوس ہیں۔ حبس کے ماحول میں زبانیں تو گونگ ہوجاتی ہیں۔فکری سوتے خشک ہوجاتے ہیں ، مگر ان کے یہاں محبوس لفظوں میں قوتِ گویائی کیوں باقی رہتی ہے؟ اس سوال و تضاد پر شاید خود خورشید حیات بھی حیرت کناں ہیں۔ اس لیے پوچھتے ہیں ’لفظ تم بولتے کیوں ہو؟‘۔ ’تجسیمِ لفظ ‘ کے پنڈتوں نے بتایا ہے کہ جو ش ملیح آبادی کے سا منے الفاظ ہاتھ جوڑے کھڑے رہتے تھے اور ان کی فکر کی غلامی لفظوں کے لیے باعث افتخار تھی۔جوش کے شاعرانہ پیکر اور نثری ساخت میں قید ہو کر بھی الفاظ بولتے تھے،خورشید حیات کے یہاں بھی الفاظ اسی حدتک غلام ہیں کہ بولنے کی آزادی سلب نہیں ہوئی۔ خورشید کے یہاں لفظوں کو حیاتِ نو کا جام ملتا ہے اوریہ الفاظ ابولکلا م کے ہم کلام ہوجاتے ہیں کہ قید ہیں تو کیا ہوا ، یہاں بھی تو روشنی کی بارش ہوتی ہے ۔ ہم بولتے ہیں اور سوچتے ہیں ۔ خورشید حیات کے تنقید ی مضامین میں تخلیقی ابال، غنائیت ونغمگی کا احساس بسا ہوا ہے۔ یہی احساس ہمیں ان کے افسانوں تک پہنچا دیتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا مناسب ہوگا کہ خورشید کی تنقید خود ان کی تخلیقات کو پڑھنے پر بھی ابھارتی ہے۔ امید ہے کہ ان کے تنقیدی مضامین پڑھنے والوں کو ان کے افسانوں کی جستجو بھی رہے گی۔یہاں اس پہلو کی جانب اشارہ بھی شاید مناسب ہوگا کہ تخلیقات کی تنقید میں،دیگرخالص ناقدوں سے بیش تر تخلیق کار ناقدین بہتر تنقیدی فریضہ انجام دے سکتے ہیں۔تاہم ہماراعجیب المیہ ہے کہ اب تک تنقید وتخلیق کو ساتھ ساتھ لے کر چلنے کا کوئی عام رجحان نہیں ہے۔تخلیق وتنقید کی اوّلیت کے لیے مناقشے تو ہوئے،تاہم ان کے درمیان قربت پیدا کرنے کی کوئی سنجیدہ مہم نہ چلی۔ یہی وجہ ہے کہ لا تعداد نرے ناقدین شور وغوغا کرتے ہیں کہ تخلیقی اعتبار سے ہم قلاش ہیں۔ افلاس کے شکار ہیں۔ دوسری جانب تخلیق کار چہ بہ جبیں ہیں کہ ناقدین کے اندر تخلیقی فہم نہیں۔ اِس کش مکش سے نجات پانے کے لیے تنقید ی فراست اور تخلیقی مزاولت کے مہم جوؤں کو بہ نظرِتحسین دیکھنا ضروری ہے، تاکہ تنقیدی چنبیلی اور تخلیقی یاسمین سے ادبِ اردو معطر ہوجائے ۔ یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ ہم ’لفظ تم بولتے کیوں ہو‘کے ہر لفظ سے اتفاق کریں اور یہ کہہ دیں کہ ’تخلیقی تنقید‘تنقید کا ایک نیا مکتب فکر ہے۔کیوں کہ اس کتاب میں نہ صرف تخلیق کو پرکھنے اور اس پر تلازمے کا نیا رویہ سامنے آتا ہے ، بلکہ لفظوں کے ساختیاتی نظام میں بھی تبدُّل کی کیفیت پائی جاتی ہے،اس لیے تخلیقی تنقید کے اس مکتبہ فکر کو ساختیات واسلوبیات سے گفت وشنید کرنا ابھی باقی ہے۔ البتہ خورشید حیات کی یہ کتاب دو وجوہ بھی باعث کشش ہے۔ اول ، یہ کہ وہ تخلیق کار ہیں ۔ دوم ، فقط تنقید نگار ہی نہیں تخلیقی ناقد ہیں۔ خورشید حیات کی تنقید میں پائے جانے والے تخلیقی رویوں سے اتنی بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ وہ اپنی راہ کے تن تنہا مسافر ہیں۔ کیوں کہ تجزیہ وتنقید کا منطقی انداز بدلا ہوا ہے ۔ وہ مکالماتی اور ڈرامائی ا نداز بدرجۂ اتم موجود ہے ، جو مسلمہ طور پر تخلیق کاہے، مگرا نھوں نے تنقید کو بھی ڈرامائی حسیت اوراندازِ تخاطب سے مالا مالا کیا ہے۔اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خورشید حیات کی تخلیقی تنقید سے ، تخلیق آشنا ذہن اور تخلیق آشنا قاری ہی مکمل طور پرلذت یاب ہوں گے ۔ کیوں کہ ان کی تشبیہات واستعارات کی خوشبووں سے ایسے ہی قارئین کے مشامِ جان معطر ہو ں گے۔ ساتھ ہی ، ا ن کے لیے اور بھی زیادہ باعث کشش ہے ، جن کا ذہن دیسی لفظ آشنا ہو ۔ ’لفظ تم بولتے کیوں ہو؟‘میں تنقید کا رویہ مکمل طو ر یکساں نہیں ہے۔ جس طرح تخلیق کار کے مختلف شیڈس ہوتے ہیں اور مختلف رنگ آمیزیاں ہوتی ہیں ، اسی طرح خورشید کے یہاں بھی تنقید اپنا رنگ بدلتی ہے۔ انھوں نے 352 صفحات پر مشتمل اپنی اس کتاب کو بنیادی طور پر تین زمروں میں منقسم کیا ہے ؛ تعبیر ، تفہیم اور تکلیم۔ ان تینوں زمروں پر نگاہ ڈالنے سے یہ بات پایۂ وثوق تک پہنچتی ہے کہ ان کا تنقیدی رنگ، رنگیلا ہے۔ کیوں کہ انھوں نے تجزیے کے دوران کسی مضمون میں کسی فن کی ارتقائی جھلکیاں سامنے رکھی ہیں، جیسے ناول: روحانیت سے رومانیت تک ۔ کسی میں تعارفی رنگ بھی ابھارا ہے ، جیسے قصہ اردو ناول کے درویش کا ۔ کبھی ڈرامائی اندازِ تخاطب پر توجہ مبذول کی ، جیسے” صندلی کہانی کشتی پر سوار :شائستہ فاخری” ۔ الغرض خورشید حیات کی تنقید ، تخلیق گزیدہ متعدد رنگوں کی عکاس ہے اور اِن رنگوں میں چار رنگ انتہائی چوکھا ہے؛تخلیق اُبال ، غنائیت ونغمگی کا اظہار ، مکالمے و ڈرامے کا احساس اور دیسی لفظوں کی مٹھاس ۔

■ سلمان عبد الصمد

■ رابطہ :نمبر9810318692

ڈاکٹر سپریا پاہوجا،جے پی سنگھ(جئے وردھن)، اور ہیمنت کمار گویل کو اُپٹا نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا

شعبہ اردو،میرٹھ یونیورسٹی اوریو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشنکے مشترکہ اہتمام میں ڈراما فیسٹول اور ایوارڈ فنکشن کا انعقاد
ڈاکٹر سپریا پاہوجا،جے پی سنگھ(جئے وردھن)، اور ہیمنت کمار گویل کو اُپٹا نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا
(پریس ریلیز)
میر ٹھ 31/دسمبر2017ء
آج یہاں نیتا جی سبھاش چندر بوس آڈیٹوریم،واقع چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میں شعبہ اردو اور یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن(UPTA) کے مشترکہ اہتمام میں ڈرا ما فیسٹول میں بعنوان”مایا رام کی مایا“ اور درپن کلا کیندر کا ڈرامہ”گدھ“پیش کیا گیا جس کو نا ظرین نے خوب پسند کیا اور تالیوں کی گڑ گڑا ہٹ سے ارا کین ڈرامہ اور اداکاروں کو حوصلہ بخشا۔ڈرامہ ”گدھ“ونود کمار بے چین کا تحریر کردہ ڈرا ما ہے جس کا ڈا ئریکشن انل شرما نے کیا۔ جب کہ یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن کی پیش کش ”مایا رام کی ما یا“کو جے وردھن نے تحریر کیا تھا اور اس کا ڈائریکشن بھا رت بھو شن شرما نے کیا۔
اُپٹا نے ہر سال کی طرح امسال بھی اسٹیج اورڈراما نگاری کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے وا لوں کو ایوارڈ سے سر فراز کیا۔ معروف ڈرامہ نویس اور اداکار جے پی سنگھ(جئے وردھن) کواپٹا بھارتیندو ہریش چندر نیشنل ایوارڈ2017ء”اُپٹانیلو کپور اچیور ایوارڈ2017ء ڈاکٹر سپریا پاہوجا(معروف اسٹیج اداکارہ) کو اور اپٹا اتکرشٹتا ایوارڈ2017ء ہیمنت کمار گویل کو پیش کیے گئے۔
اس مو قع پر(UPTA) کے سر پرست اور صدر شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا”شعبہ اردو کی کوشش رہتی ہے کہ میرٹھ میں ادبی ماحول بنے اور نئی نسل ادب اور تہذیب و ثقافت سے رو بہ رو ہو سکے“۔مہمان مکرم کے بطور ڈاکٹر آر کے بھٹنا گر(سابق آئی اے ایس)، ڈاکٹر معراج الدین(سابق وزیر حکو مت اتر پردیش)، ڈا کٹر بی ایس یادو(پرنسپل، ڈی این کالج، میرٹھ) اور نیرج شرما (ادا کار و ہدایت کار، دور درشن) موجود رتھے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آ غاز پروفیسر وائی وملا(ڈی ایس ڈبلیو،چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی)اور ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ(صدر شعبہ اردو) نے شمع افروز کر کے کیا۔ بعد ازاں مہمانان کا پھولوں کے ذریعے استقبال کیا گیا اور اُپٹاکے صدربھارت بھوشن شرما نے مہمانوں کا استقبال اور یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن، میرٹھ کا تعارف پیش کرتے ہو ئے کہا کہ اُپٹا نے اپنے آٹھ سالہ کامیاب سفر کے دوران شہر کے متعدد مقامات پر سماجی مسائل پر مبنی مختلف ڈرامے پیش کر کے تہذیبی وراثت اور اخلا قی قدروں کو فروغ دینے کا کار نامہ انجام دیا ہے۔جسے شہر کے غیور عوام نے خوب سرا ہا ہے۔اب ہمیں اور محنت کر کے اور دیگر تنظیموں کو بھی اس میں شامل کر کے بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی شناخت قائم کرنی ہوگی اور سماج میں پا ؤں پسار نے وا لی فرقہ پرست قوتوں سے ہر سطح پر مقا بلہ کر نا ہو گا۔ ادیب، ادا کار اور دوسرے فن کار اپنی ذمہ داری ادا کررہے ہیں۔ سماج کے باقی افراد بھی اپنی ذمہ داری محسوس کریں اور ملک سے فر قہ پرستی کے زہر کو ختم کر نے کی طرف اقدام کریں۔
یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن، میرٹھ نے اپنے آٹھ سالہ سفر کے دوران شہر کے متعدد مقامات پر سماجی مسائل پر مبنی مختلف ڈرامے پیش کر کے تہذیبی وراثت اور اخلا قی قدروں کو فروغ دینے کا کار نامہ انجام دیا ہے۔جسے شہر کے غیور عوام کے ذریعے خوب سرا ہا بھی گیا ہے۔عوام کی اس پسنددیدگی نے ہمیں حو صلہ عطا کرنے کے ساتھ اس تحریک کو جا ری رکھنے کی ترغیب دی ہے۔
یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن،میرٹھ کی ان کامیاب پیش کشوں نے،میرٹھ کی بکھرتی رنگ منچ کی دنیا کو کامیابی سے ہمکنار کر نے کی سعی بلیغ کی ہے۔ اُپٹا کی کامیاب ترین پیش کشوں میں ”’کالی رات کے ہم سفر“،’بیٹی ایک وردان“،”پیمنٹ اتھارٹی“، ”دل کی دکان“،”مادہ کیکٹس“”لڑائی جاری ہے“،”اندھیر نگری“،”یہ سنگھا سن ہے“ اور ”جس لاہور نئیں دیکھیاں وہ جنما نئیں“وغیرہ بطور خاص قابل ذکرہیں۔
پروگرام میں کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات اور شہر کے معززین نے شر کت کی۔

 

جدید ٹکنالوجی کی طرف تیزی سے بڑھتے اردو کے قدم: ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ

ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ

 

  جدید ٹکنالوجی کی طرف تیزی سے بڑھتے اردو کے قدم

فیس بک کے بعد،وھاٹس ایپ پر اردو کی سر گرمیاں قابلِ ستائش

آج سے بیس برس قبل اردو کے حوا لے سے یہی مشہور تھا کہ اردو جدید ٹکنا لوجی کے استعمال کے معا ملے میں دیگر زبانوں سے بہت پیچھے ہے۔ بہت سے لوگوں کو اس میں بھی شک تھا کہ اردو میں کمپیوٹر کا استعمال بخو بی ہو پائے گا۔ لیکن اردو جیسی ہر دل عزیز، سخت جان اور پیاری زبان نے ثا بت کردیا کہ وہ جدید ٹکنا لوجی کے استعمال میں کسی زبان سے پیچھے نہیں ہے۔
یوں تو اردو میں کمپیوٹر بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں ہی آگیا تھا، لیکن نئی صدی کی ابتدا نے تو اردو میں کمپیوٹر کے بہترین استعمال اور شاندار نتا ئج پر مہر لگا دی تھی۔ اکیسویں صدی نے زندگی کے ہر شعبے کو متا ثر کیا۔ زبان و ادب میں نئے تصورات، نئے رجحانات سامنے آ ئے۔ ادب سے لے کر سیاست تک ایک نئے دور کا آ غاز ہوا۔ نفرت، فرقہ پرستی، آ تنک واد، ظلم و ستم، نئے نئے روپ میں سامنے آ ئے۔ اکثریت اور اقلیت کے درمیان کی خلیج مزید وسیع ہوئی۔ ایسے میں دیگر زبانوں کے کردار سے الگ اردو صحا فت نے سچ کو سچ کہا اور ایک بالکل نئے روپ میں ہمارے سامنے آ ئی۔
اکیسویں صدی جوں جوں آ گے بڑھتی گئی، اردو کے نئے منظر نامے سامنے آ تے گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ اردو بعض علا قوں میں کمزور بھی ہوئی لیکن بعض علاقوں میں مزید مقبو لیت حاصل کی۔گذشتہ چار پانچ برسوں میں اردو نے کمپیوٹر، ویب سائٹس، انٹر نیٹ سے مزید آگے بڑھتے ہوئے فیس بک پر مستحکم انداز میں اپنے قدم جمائے۔ اردو فونٹUnicode نے اردو کو جدید ٹکنا لوجی سے ہم آہنگ کر نے میں انقلاب آ فریں اقدام کیا۔اردو کمپوٹر کے علاوہ گوگل، مو بائل فون، ٹیبلیٹس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی بہ آ سانی لکھی اور پڑھی جانے لگی۔ فیس بک پر اردو نے ہنگامہ بپاکردیا۔اردو سائٹس کی باڑھ سی آگئی۔ اردو ادب، اردو افسا نہ فورم، اردو پوائنٹ، اردو شاعری، اردو اکا دمی دہلی، اردو ریسرچ فورم، اسلام آ باد، اردو فکشن، اردو شاعری بزم، عالمی افسا نہ فورم، عالمی افسا نوی کارواں، عالمی اردو مرکز،عالمی اردو کانفرنس، عالمی اردو ادب،بزم اردو، بزم اردو انڈیا، بزم صدف، قصہ کہانیاں، اردو دوست، آواز دوست، بزم امکان، اردو سخنوراں، دریچے،عالمی پروازڈاٹ کوم، اردو اسکالرز، اردو لغت جیسے ہزاروں اداروں نے فیس بک کا استعمال شروع کیا۔یہی نہیں دیگر معروف اردو پورٹل یعنی اردو سخن، شعرو سخن، اردو نیٹ جا پان جیسے سینکڑوں اداروں، اخبا رات، ایجنسیوں نے فیس بک پر بھی اپنے اکا ؤنٹ شروع کیے۔ یہی نہیں شعبہ ہائے اردو میں بھی کئی نے مثلا دہلی یو نیورسٹی، مولانا آزاد یو نیورسٹی، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی، الہ آ باد یو نیورسٹی کےPages بھی فیس بک پر شروع ہوئے۔ ان تمام سائٹس پر اردو زبا ن و ادب، اردو رسم خط میں لوڈ کیا جاتا ہے۔
گذشتہ کئی برسوں سے سوشل میڈیا میں وہاٹس ایپ بھی سر گرم ہے۔ جہاں تک اردو کا سوال ہے تو یہ بات بالکل صاف اور واضح ہے کہ اردو میں وہاٹس ایپ کا استعمال گذشتہ دو تین برسوں سے شروع ہوا ہے۔ لیکن 2017ء اردو میں وہاٹس ایپ کے استعمال کے عروج کا زمانہ ہے۔ یہ بات اردو کی مقبو لیت میں چار چاند لگاتی ہے۔ آج وہاٹس ایپ متعدد معاملا ت میں دیگر سو شل میڈیا سے کافی آ گے نکل گیا ہے۔ یہ ہما ری زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ عوام سے لے کر حکومت تک وہاٹس ایپ کے استعمال سے فا ئدہ اٹھا رہے ہیں۔ ایسے میں ہماری زبان اردو کیسے پیچھے رہتی۔2017ء میں وہاٹس ایپ پر اردو نے ایسا دھمال مچایا ہے کہ حیرا نی اور خوشی ہو تی ہے۔ متعدد گروپس اور افراد وہاٹس ایپ کے ذریعے اردو کے فروغ میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ اردو اسکالرز گروپ، عالمی اردو پرو فیسر ز گروپ، اردو فکشن، صرف ادبی خبریں، داستان تک، ادب سلسلہ، جدید معاشرہ، ضیائے حق اردو اسکالرز گروپ، دربھنگہ ٹا ئمز، جہا نگیر نیوز، د ستک ادبی فورم بی ایچ یو، اردو چینل، وغیرہ کے علاوہ انتظار عالم سیفی ردا، سہیل وحید نیا دور، انیس امروہوی، قمر صدیقی علیم نانڈیز اردو کے فروغ میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ یہی نہیں وہاٹس ایپ پر ہزاروں اردو والے سر گرم ہیں۔ ان تمام میں اب تصاویر، مبارک باد کی خبریں، نایاب اور قدیم تصا ویر، نشستوں، محفلوں، سیمیناروں کی تصا ویر، خبریں، مضا مین، افسانے، غزلیں، نئی شائع ہونے والی کتابوں کے سر ورق، کتا بوں کی پی ڈی ایف فائلس، اخبارات و رسائل میں شائع شدہ تحاریر کی کا پیاں، رسائل کی پی ڈی ایف، یوم پیدا ئش کے پیغا مات، خراج عقیدت، وصال کی خبریں۔الغرض زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات اور واقعات آج کل وہاٹس ایپ پر اردو میں لکھے اور پڑھے جارہے ہیں۔
وہاٹس ایپ کے ذریعے بعض ایسی باتیں ممکن ہوئی ہیں جنہیں ناممکنات مانا جاتا تھا۔یعنی گذشتہ دنوں علا مہ اقبال کی آواز میں ’شکوہ‘ کا ایک آڈیو سب تک پہنچا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میں شک ہے کہ کیا یہ واقعی اقبال کی آ واز ہے؟اسی طرح پروین شاکر کو کلام پڑھتے ہوئے دیکھنا، فیض کو سننا، ساتھ ہی ساتھ یوم اقبال، آزاد و غا لب پر ان کی تحریروں کا وہاٹس ایپ پر ایک سیلاب سا دکھائی دیتا ہے۔
وہاٹس ایپ کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اس سے اردو ریسرچ اسکالرز کو زبردست فائدہ پہنچ رہا ہے۔ کسی مضمون کتاب یا دیگر حوا لے کے تعلق سے ریسرچ اسکالرز وہاٹس ایپ پر اپنا سوال لکھ دیتے ہیں اور بہت کم وقت میں انہیں ان کے جواب مل جاتے ہیں۔
اردو چینل اور قمر صدیقی کا میں خاص طور پر ذکر کرنا چا ہوں گا کہ وہ وہاٹس ایپ پر اردو ادب کی اصل خدمت انجام دے رہے ہیں۔ معروف شعرا و ادبا کی یوم پیدا ئش اور یوم وفات کے مو اقع پر خصوصی مضمون شا ئع کرنا، قدیم ادب سے انتخاب، مو قع بہ موقع خصوصی مضامین کی اشاعت اور پوری پوری کتاب اپ لوڈ کر نے اور دیگر ضروری معلو مات کے ذریعہ وہاٹس ایپ کے قارئین کو بہت سیراب کیا ہے۔
وہاٹس ایپ پر ایک اور دھماکہ ہوا ہے۔ اب خبروں کے ویڈیوز بہت وائرل ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ای ٹی وی اردو کی خبروں کے ویڈیوز خوب لوڈ ہورہے ہیں اور پسند کیے جا رہے ہیں۔وہاٹس ایپ پر مذہبی مواد بھی اس قدر موجود ہے کہ ہر طرح کے قاری کی ضرورت پوری ہوتی رہتی ہے۔ مشاعروں کے مقبول شعرا کی غزلوں، نظموں اور گیتوں کے ان آواز میں ویڈیوز خوب دیکھے اور سنے جارہے ہیں۔
2017ء اردو میں وہاٹس ایپ کے دھما کوں کے لیے یاد کیا جائے گا۔ سال کے گذر نے پر ہمیں اپنا احتساب ضرور کرنا چاہئے کہ ہم نے اس سال اردو کے لیے کیا کیا اور آئندہ سال ہمیں اپنی زبان کے لیے کیا کرنا چا ہئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت سب سے ضروری نئی نسل کو اردو سے واقف کرانا ہے تاکہ نسل در نسل اردو کی آبیاری جاری رہے۔
٭٭٭
Dr. Aslam Jamshedpuri
HOD, Urdu, CCS University, Meerut
aslamjamshedpuri@gmail.com
09456259850

 

مدیحہ اسلم اور ان کی ٹیم نے ڈاکیو منٹری کے ذریعے اعضاء ہد یہ کی ترغیب دی

مدیحہ اسلم اور ان کی ٹیم نے ڈاکیو منٹری کے ذریعے اعضاء ہد یہ کی ترغیب دی

میرٹھ: آر۔جی (پی جی) کالج،میرٹھ کے شعبہ با ٹنی اکیڈمی و کلچرل سو سائٹی کے زیر اہتمام اعضاء ہدیہ بیداری پرو گرام منعقد کیا گیا۔جس میں خصوصی مقرر کے طور پر میرٹھ کے معروف آئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر گورو مشرا نے شر کت کی۔نظامت کے فرائض ایسو سی ایٹ پروفیسر نرلیپ کور نے انجام دیے۔اس پروگرام کی کنوینر ڈاکٹر مینو گپتا تھیں۔
پروگرام میں خصوصی مقرر ڈا کٹر گورو مشرا نے جسمانی اعضاء کو ہد یہ کر نے کی اہمیت، افادیت اور ضرورت پر رو شنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انسان اور صحت مند سماج کی پہلی ضرورت صحت مند انسان ہیں۔ معذوری اور اپاہج پن عہد حاضر کے لیے انتہائی شرم ناک پہلو ہے کیونکہ میڈٰیکل سائنس نے آج جو ترقی کر لی ہے اس کی بنیاد پر فطرت کے دیے ہوئے اپاہج پن اور معذوریت کو بڑی حد تک دور کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے معاشرہ کو بیدار کر کے انہیں اعضاء ہدیہ کر نے کی ترغیب دینی ہو گی۔ یہ سماجی خد مت کا ایک انتہائی قیمتی اور کار گر طریقہ ہے۔ اس سے معاشرہ کو صحت مند بنانے کے ساتھ ساتھ آپسی میل ملاپ اور بھائی چارے کا ما حول بھی قائم ہو گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرنے کے بعد ہمارے اعضاء ہما رے اپنے کسی کام کے نہیں رہتے جب کہ ہم انہیں ہد یہ دے کر دوسروں کو زندگی یا اور بہتر زندگی دے سکتے ہیں۔
اس مو قع پر بی ایس سی باٹنی کی طالبہ مدیحہ اسلم نے ایک انتہائی جذباتی اور سبق آ موز نظم سنائی جس میں سماج سے اپاہج پن کو دور کرنے کے لیے اعضاء کے ہدیے کی ترغیب دی گئی تھی۔ علاوہ ازیں کالج کی طالبات نویدتا گل،سلونی یادو وغیرہ نے ایک ڈاکیو منٹری کے ذریعے اس عنوان کو بڑی خو بصورتی سے پیش کیا جس میں مختلف انداز سے اعضاء کے ہدیے کو دنیا کا سب سے بڑا ہدیہ ثا بت کیا۔اسی دوران طالبات نے پاور پوائنٹ پرزنٹیشن کے ذریعے ہندو ستان کی کچھ نامور شخصیتوں مثلاً امیتابھ بچن، شاہ رخ خان، ایشوریہ رائے کے ذریعے دیے گئے اپنے اعضاء کو سماج کے لیے وقف کرنے کا ذکر کیا۔ جس سے حاضرین میں بھی اعضاء ہدیہ کے تئیں جوش پیدا ہوا۔
پروگرام کو کامیاب بنا نے میں مدیحہ اسلم، نویدتا گل، نشٹھا، ڈا کٹر گریما ملک، سنیو گپتا، ڈاکٹر گیتا سنگھ،ڈاکٹر مدھو سنگھ،ڈاکٹر رجنی وغیرہ کا تعاون رہا۔اس موقع پر بڑی تعداد میں اسکول اساتذہ وطالبات بڑی تعداد میں موجود رہیں۔

 

لاہور دل میں،تو قصور آنکھوں میں بسا ہے_ از قلم:حسیب اعجاز عاشرؔ

 

 لاہور دل میں،تو قصور آنکھوں میں بسا ہے_

 لاہور سے قصور تک کا سفر۔یادوں کے دریچوں سے حال کی چوکھٹ پر

 از قلم:حسیب اعجاز عاشرؔ

            بات علم و فنون کی ہو یا مذہب و روحانیت کی یا چاہے سیاست و معاشرت، ادب و صحافت، تہذیب و ثقافت،فن و سیاست،صنعت و معیشت کی،یا کسی بھی شعبہ ہائے زندگی کی بات ہی کیوں نہ ہوہر میدان میں قصور کی زرخیز مٹی نے شہرہ آفاق ناموں کو جنم دیا۔مگرجب میں نے اپنے بزرگوں کے ہمراہ اِس شہرمیں آناشروع کیا تو اتنا چھوٹا تھا کہ بابا بلھے شاہ،بابا کامل شاہ،پیر جہانیاں جیسی برگزیدہ ہستیوں سے بھی نا واقف تھا،اور محمد علی ظہوری قصوری،عبداللہ عبدالقادر خویشگی‘ اقبال قیصر‘ اقبال بخاری‘ مقصود حسنی، میڈم نورجہاں،بھولو پہلوان، گاما پہلوان، یوسف خان،ضیاء محی الدین، مصور آزر روبی،قوال مہر علی اور شیر علی قوال،راجہ ٹوڈرمل سمیت ڈاکٹر معین قریشی‘ خورشید محمود قصوری جیسی قصور کی نامور  شخصیات بھی میرے علم میں نہ تھی۔اور نہ ہی میں یہاں کے فالودے، اندردسوں، بھلے پکوڑیوں، دہی قلچوں، مسالے دار مچھلی جیسے لذیز ترین روایتی کھانوں اور اِس  شہر کے تاریخی پس منظر سے مکمل واقف تھا،قصور کے لئے میرا پہلا اور آخری حوالہ صرف  بابا نواز ش علیؒ(مرحوم)تھے،اِن روحانی ہستی سے ہمارے خاندان کا اپنائیت اور خلوص کا گہرا رشتہ تھا۔یہاں پاکستان کے طول و عرض سے آئے عقیدت مندوں کو اِن کے علم و عمل سے فیض یاب ہوتے دیکھتا رہتا،اِنکا دست ِ شفقت ومحبت میری ابتدائی علمی اور عملی زندگی میں قدم قدم میرے سر پرشجر سایہ دار بن کر رہے۔ بابا جیؒ جہان فانی سے رخصت کیا ہوئے ہم جیسوں کیلئے  یہ شہرویران کر گئے۔مگر ایک موڑ پر اِسی شہر میں رشتہ ازدواج میں بندھا اور یہاں سے تعلق مزید گہرا ہوتاچلا گیا۔ازدواجی زندگی کے محدود دو ڈھائی سال کے عرصہ میں قصور شہر کے دامن میں سم ٹے بڑے شہروں کی سی چمک دمک،رونقوں، رنگا رنگی، اور چھوٹے شہروں والی بناوٹ کے بغیر سادگی،الفت کو قریب سے پرکھنے کا حقیقی موقع ملا۔ اللہ کے امر کہیے کہ کو تاہیوں نے اِس نازک رشتے کوآگے بڑھنے نہ دیا۔ مگرقصور کی مٹی میں وہ ملنساری وہ مٹھاس وہ چاہت، وہ محبت کچھ ایسی رچی بسی ہیں کہ ایک بار اس پر قدم رکھنے والے کو اِس سے جدا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے،اور یوں اِنہیں گلیوں بازاروں میں پروان چڑھتے اپنے آٹھ سالہ لخت جگر محمد بن عاشرکے بہانے آج میں بابا بلھے شاہ کی نگری سے پہلے سے بھی زیادہ ایسا مضبوط جڑ چکا ہوں کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ لاہور میرے دل میں رچا ہے تو قصور آنکھوں میں بسا۔۔

            مصروفیات و مجبوریوں اور مصلحتوں کی زنجیروں سے بچ بچا کر قصور جانے کا خوشگوار ماحول استوار ہو جائے تو اِس کے سوا مجھے اور کیا چاہے۔تو کیسے ممکن تھا کہ ایک تو  پاکستان رائیٹرزونگ کے زیراہتمام اور دوسرا یہ قصور میں منعقدہ تقریب کا دعوت نامہ میرے لئے باعثِ مسرت نہ ہوتا۔ مذہبی، ثقافتی اور روحانی روایات کا امین شہرقصور کی لازوال ادبی تاریخ بھی ہے جس میں یہاں کی ادبی تنظیموں کا ادبی شخصیات کی آبیاری اور تربیت میں ناقابل فراموش کردار رہا۔مگر یہ پہلی مثال ہے کہ ایک دوسرے شہر کی ادبی تنظیم قصور کی سرزمین پرپاکستان بھر سے اہل علم و دانش کو ایک پلیٹ فورم پراکٹھا کر کے ادب کا ایک نئا چراغ روشن اورایک نئی تاریخ رقم کر رہی تھی۔ونگ کے چیئرمین مرزا یسیٰن بیگ بھائی تقریب کی تیاریوں کے حوالے سے لمحہ بہ لمحہ رابطے میں رہے،مختلف پہلوؤں میں مشورے بھی لئے،اُنہیں اہمیت دے کر عزت سے بھی نوازا۔خیر۔۔وقت کی برق رفتاری اُس دن کو لے آئی جسکا کئی ہفتوں سے انتظار تھا،دوست ندیم نے مغلپورہ سٹاپ پر ڈراپ کیا اور بذریعہ رکشہ دوستوں سے طے شدہ وقت 8:30 بجے، طے شدہ مقام مسلم ٹاؤن سٹاپ پر آن پہنچا,الطاف احمد چند لمحہ پہلے ہی پہنچے جبکہ زاہد حسن صاحب 8:00سے ہمارے منتظر تھے،اسحاق جیلانی پچھلے بیس پچیس منٹس سے مسلسل سات منٹ میں پہنچے کا کہہ کرمنظر سے غائب تھے۔ہمیں قصور پہنچانے والے افتخار صاحب سے سب ایک گھنٹے سے رابطہ کرنے کی کوشش میں تھے مگر ماجال ہے کہ موصوف کا فون آٹو میسج پہ یہی کہہ دیتا ”اپنا بندوبست کر لو میں سو رہا ہو“، زاہد حسن صاحب کا انتظار کرنا ہمارے لئے ناقابل قبول تھا تو ہم تینوں نے لوکل ٹرانسپورٹ پر ہی سفر جاری رکھنے میں غنیمت و عزت جانا۔جنرل ہسپتال تک ہی پہنچے تھے کہ اسحاق جیلانی کے سات منٹ پورے ہوئے اور پُرشکوہ فون آیا کہ بھائی صاحب کہاں ہو؟ حسن اتفاق خان اور جیلانی صاحبان ایک ساتھ ہی مقررہ جگہ پر پہنچے،تھوڑی سی ہلکی پھلکی ادبی تکرار کے بعد ہم غیر ادبی حرکت کرتے ہوئے بس سے اُتر گئے،جہاں چند منٹوں میں دوست پہنچ گئے،گلے شکوے مکاتے گپ شپ کرتے سفر منزل کی جانب گامزن ہوا، دورانِ سفر میرے بیٹے کا بھی ذکر ہوا،دوست جانتے تھے کہ میں ملاقات کیلئے بے تاب، پُرامید اور پُرجوش ہوں،وہ بھی دیدار کا اشتیاق رکھتے تھے۔مصافحت طے ہوئی اور ہم ڈسٹرکٹ کونسل ہال قصور پہنچ گئے جہاں مہمانان کی آمد کا سلسلہ جوبن پر تھا۔ براؤن چیک دار ٹو پیس،سفید شرٹ اور لال ٹائی میں ملبوس میں سامنے کھڑے مرزامحمد یسین بیگ بھائی کا ہستا مسکراتا چہرہ یہ واضح پیغام دے رہاتھا کہ عوامی دلچسپی عروج پر ہے اوروہ سازشیں دم توڑ گئیں ہیں جو چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک منظم انداز میں برسرِپیکار تھیں کہ عوام  

عدمِ دلچسپی کا مظاہر ہ کر کے اس تقریب کو ناکام بنائے،افسوس کہ اِس میں اپنے قلم قبیلہ کے کچھ معتبر نام بھی شامل تھے۔ تقریب اپنے وقت سے چند منٹ پہلے شروع ہو گئی،ہال کی کوئی نشست خالی نہ تھی نئے آنے والوں نے ایک طرف کھڑے رہ کر پروگرام کا حصہ بننے کو واپس جانے پر فوقیت دی۔ وہ دلجمعی سے اختتام تک ہال میں موجود رہے۔

            محفل کا آغاز ہوا جاتا تھا،فرحان اللہ کوکب نے تلاوت قرآنِ پاک کی سعادت حاصل کی اور خوش بخت سامعین کے روح و قلب کو سکون بخشا، میاں جمیل احمد نے اپنی دل سوزآواز میں آپﷺ کے حضور نعت کا نذرانہ عقیدت بہ اوصافِ وشان ِ کمالی پیش کر کے فضا کو پُرنور کر دیا۔مرزا یسین بیگ نے اپنی جداگانہ انداوبیان کی آمیزش لئے پُرکشش نظامت سے شخصیات کو اُنکے مقام کے مطابق عزت و تکریم سے نواز اور سبھی کو اپنا مداح کر لیا۔سٹیج پر مجیب الرحمن شامی، حافظ شفیق الرحمن،رائے محمد خان ناصر، سجاد جہانیہ اوراقبال خاں منج بحثیت مہمانان خصوصی جلوہ افروز تھے۔ جبکہ وائس چیئرمین ضلع کونسل ملک اعجاز احمد خان بھی سٹیج کی رونق میں خوب اضافہ کر رہے تھے۔

            مقررین جن میں  بالترتیب زاہد حسن ادیب و شاعر،اقبال خاں منج،سنیئر کالم نگار(نئی بات)،اسسٹنٹ پروفیسر رضیہ رحمان،سجاد جہانیہ، سینئر کالم نگار،ڈائریکٹر ملتان آرٹ کونسل،ڈاکٹر اختر عظمیٰ ادیب،حافظ شفیق الرحمن، نامور صحافی،کالم نگار (نئی بات) اور مجیب الرحمن شامی، سینئرتجزیہ نگار،چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان شامل تھے،نے اپنے اظہار خیال میں ادب و صحافت کے حوالے سے لکھاریوں کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی اور کامیاب تقریب کے انعقاد پر مرزا یسیٰن بیگ، قاری عبداللہ اور ملک شہباز کی کاوشوں کو سراہا اور اُس امید کا بھی اظہار کیا ایسی تقاریب کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔

            قلمی خدمات کے اعتراف میں منتخب لکھاریوں کو شیلڈز پیش کی گئیں۔راقم الحروف کو حافظ شفیق الرٰحمن صاحب کے بدست مبارک ”حافظ شفیق الرحمن ایوارڈ برائے فروغ صحافت“ مرزا یسیٰن بیگ بھائی کے اِن انمول الفاظ  ”محبتوں کے سفیر“سے نواز گیاجو میرے لئے اعزازت سے بڑھ کر اعزاز تھا۔ تقریب میں ملک محمد شہباز،انور زاہد، الطاف احمد،قاری عبداللہ،مجید احمد جائی،،عبدالعزیز،مہرسلطان محمود،ڈاکٹر تنویر، ظفر اقبال ظفر،ولی محمد عاظمی،ندیم نظر،بشارت احمد، ڈاکٹر تنویر،الطاف چیمہ،شہزاد اسلم راجہ،ظفر اقبال ظفر، ایم ایم علی،حافظ محمد زاہد،عقیل احمد خان، خان فہد خان، عبدالصمد مظفر سمیت سبھی اپنے خوش مزاج بے غرض  دوست موجود تھے جن سے ملاقات میرے لئے ہمیشہ ہی مسرت کا ساماں ہوتی ہے۔

            تقریب اختتام پذیر ہوچکی،شرکاء خوشگوار لمحات کی حسین یادوں کو اپنے دامن میں سمیٹے گھروں کا رُخ کرنے لگے۔،مگر ہمارا لاہور سے قصور تک سفر ابھی جاری تھا بیٹے سے ملاقات کی تڑپ اور خلش بھی باقی تھی دورانِ تقریب بیٹے کے ذمہ داران کا موصول نہ کئے گئے میرے فون کے جواب کا میں تاحال منتظر تھا۔اسحاق جیلانی اپنے منظور نظر دوست ندیم نظر کے ہمراہ بلھے شاہؒ کے مزار کو ہو لئے،راقم الحروف، افتخار خان،زاہد حسن صاحب اورالطاف احمد کیساتھ علیحدہ سے بابا بلھے شاہؒ کی دربار پر حاضری کیلئے پہنچا،ہم نے ظہرین دربار سے کے احاطے میں موجود مسجد میں ادا کی،اسحاق جیلانی یہاں بھی اپنا دامن بجاتے ندیم نظر کے ہمراہ کسی کام کا کہہ کر رفو چکر ہوگئے۔عثمان کوٹ نئا بازار میں شیخ آصف فولادہ کی دُکان سے فالودہ کا مزہ لیا گیا،افتخار کے رابطہ پرلکھاری دوست شیخ عثمان یوسف قصوری بھی یہی تشریف لے آئے،جن کی میزبانی کی پُرخلوص پُرزور پیشکش الطاف احمد کی فراغی دلی کے سامنے ناکام رہی۔جیلانی دوست کا پُرشکوہ فون ”ارے بھائی کہاں ہو؟ کیا کررہے ہو؟“،وہی جو آپ ہمیں چھوڑ کر کرنے چلے گئے۔۔۔اِس برجستہ جواب پرسبھی ایسا مسکرائے کہ محفل کشت زعفران بن گئی۔اُنہیں تھوڑی دیر میں پہنچنے کا  دلاسہ دیا اور عثمان کے ہمراہ شہر کے مقبول عثمان کوٹ میں واقع نفیس فولادہ شاپ میں آ پہنچے۔۔”واہ دُکان ہے کہ شیش محل“الطاف کا پہلی بارقصور آنا تھا اور وہ ہر منظر ہرلمحے سے بہت محظوظ ہورہا تھا۔افتخار نے اپنی فیملی کیلئے ایک گڑوی پارسل لی اور پھر زاہد حسن صاحب کی گھر کیلئے اندرسے لینے کی خواہش نے عثمان نے لمبے قدم اُٹھائے، وہ موصوف آگے آگے اور ہم پیچھے پیچھے،شام قصور کی دہلیز پر دستک دے رہی تھی،ہم کبھی گھڑی کو دیکھیں او ر کبھی تنگ گلیوں میں دائیں بائیں ہوتے عثمان اور زاہد حسن صاحب کی رفتار کو۔آخر کارنویاں گلیاں کے معروف شیخ غلام محی الدین طاہر سویٹ سے اندرسے لینے پہنچ گئے۔جیلانی دوست کے پُرشکوہ فون کا سلسلہ جاری تھا”ارے بھائی کدھر رہ گئے“ہمار نئا پلان سُن کر چونک گئے”تو مجھے کیوں اپنے سے الگ کر دیا؟“میرے اِس جواب کہ آپ نے ہمیں چھوڑا ہم نے نہیں،وہ ماننے کو تیار نہیں تھے بہرحال اُنکے پاس مزید انتظار کے سوا کوئی چارا نہ تھا۔اِن راستوں سے گزرتے ہوئے میں نے کئی بار سوچا کہ ایک بارپھر ملاقات کیلئے فون کر لیا جائے،پھر ناجانے کیوں رُک سا گیا؟۔ہم گنجان ترین گلیوں میں لمحہ بھر کیلئے تھوڑا سا کیا ہٹے کہ راستہ بھٹک گئے۔پھر فون پر گاڑی تک پہنچنا طے پایا مگر چند گز کی دوری پر ہی الحافظ میموریز سویٹس کے دُکان پر اپنے قافلے کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا جو عثمان کے قریبی عزیز شیخ طارق وحید صاحب کی پُرتکلف مہمان نوازی کے نرغے میں تھے۔ہم بھی لذیز ترین گرما گرم گاجر حلوہ سے لطف اندوز ہوئے،سب معاملات سے فارغ ہو کر سبھی کو جیلانی دوست کی یاد ستانے لگی، جنہیں کیری ڈبے کے دروازے کھڑکیاں کھول کر تھکا ہوا چہرہ لیا آدھے لیٹے آدھے بیٹھے آدھے سوئے آدھے جاگے کی سی کیفیت میں پایا گیا۔شکوہ پھر وہی کہ ”مجھے کیوں نکالا‘؟‘۔اُن کو سمجھانے کی تمام کاوشیں بے سود تھیں کہ بھیا آپ بتائیے کہ ”ہمیں کیوں چھوڑا؟“،طنزو مزاح کے ایک دوسرے پر خوب نشتر کسے گئے،سڑک کنارے دوستوں کے ساتھ ایک یادرگار سیلفی بنائی،مہمان نوازی پر عثمان قصوری سے اظہار تشکر کیساتھ واپسی کا فیصلہ کیا۔اِس خوشی کیساتھ کہ قصور سے اپنے دوستوں عثمان قصوری، ملک شہباز، مہر سلطان محمود،بلال ساجد،عبدالمتین، محمد اکمل تصور،عبدالولی،عقیل خان اورملک سلمان سمیت کئی دیگر کی دوستی نے رشتہ اور مضبوط رکردیا ہے یہ افسوس بھی تھا کہ یہ سفر میرے لئے ادھورا ہی رہ گیا۔،شام گئے ابھی فون کرنا بھی نامعقول تھا،بہت دیر ہوچکی تھی،ایسے ہی جیسے دوستوں سے رابطہ رکھنے میں،فون کا جواب دینے میں، پیغامات پڑھنے میں،تحریر لکھنے لکھانے میں،کوئی فیصلے کرنے میں، پھر اُس پر عمل کرنے میں،میں اکثر دیر کردیتا ہوں۔ منیر نیاز ی نے یہ کلام شاید مجھ جیسوں کیلئے ہی ہے۔

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں

ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو

اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو

بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں_

اہل عرب نے حسابی ہندسہ لکھنے کا طریقہ ہندوستانیوں سے سیکھاجسے وہ ارقام ہندیہ کہتے ہیں:پروفیسر عبد العلی

اہل عرب نے حسابی ہندسہ لکھنے کا طریقہ ہندوستانیوں سے سیکھاجسے وہ ارقام ہندیہ کہتے ہیں۔پروفیسر عبد العلی

شعبہ عربی و فارسی،الہ آباد یونیورسٹی میں خطبے کا انعقاد
پریس ریلیز۔شعبہ عربی و فارسی الہ آباد یونیورسٹی میں ”اسلامک سائنٹفک میراث کے سنسکرت مآخذ“ عنوان سے ایک خطبے کا انعقاد کیا گیا۔اس جلسے کی صدارت معروف سنسکرت اسکالر پروفیسر مردولا ترپاٹھی (سابق ڈین فیکلٹی آف آرٹس،الہ آباد یونیورسٹی)نے کی۔پروفیسر عبد العلی (سابق چیر پرسن،شعبہ اسلامک اسٹڈیز)مقرر خاص اور خواجہ غلام السیدین،ماہر خطاطی و سکہ شناسی،سابق صدر شعبہ ایپی گرافی، ناگپور میوزیم نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ محمد عابد نے تلاوت کلام پاک سے جلسے کا آغاز کیا۔صدر شعبہ ڈاکٹر صالحہ رشید نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے ان کا تعارف پیش کیا۔اس کے بعد موضوع کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ محسن قوم سر سید کے دو صد سالہ یوم پیدائش کے جشن کی مناسبت سے اس خطبے کا اہتمام کیا گیا ہے۔اس موقعے پر ڈپارٹمنٹ سے شائع ہونے والے عربی فارسی ریسرچ جرنل کے سر سید خصوصی شمارے کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ خطبے کا عنوان”اسلامک سائنٹفک میراث کے سنسکرت مآخذ“اس لئے انتخاب کیا گیا کہ سر سید کے سائنٹفک رجحان پر روشنی پڑے نیز یونیورسٹی کے نہ فقط آرٹس بلکہ سائنس کے طلبا بھی فیض یاب ہو سکیں۔
مقرر خاص پروفیسر عبد العلی نے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی۔اس دوران انھوں نے بتایا کہ یوروپ جو اپنی سائنسی ایجادوں پر فخر کر رہا ہے،اس کی جڑیں ہندوستان میں نہاں ہیں۔ یہ تمام علوم یوروپ عربوں کے توسط سے پہونچے۔ عرب ہندوستان میں تجارت کی غرض سے آئے اور رفتہ رفتہ یہاں کے علوم و فنون کی جانب راغب ہوئے۔ 750ء؁ سے850ء؁ یعنی امویوں اور عباسی خلفا کے زمانے میں سنسکرت کی انگنت کتابوں کے ترجمے عربی میں ہوئے۔ ان میں برہما گپت کی برہم سدھانت، چرک سنہتا، پنچ تنتر،چانک اور ویاگھر کی کتابیں،ہیئت،نجوم، طب، سیاست اور اخلاقیات کے علاوہ بھی کتابیں شامل ہیں۔ ایک پنڈت ہندوستان سے برہم سدھانت لے کر بغداد جاتا ہے تو مشہور عرب منجم ابو معشر دس برس بنارس میں رہ کر علم نجوم و ہیئت سیکھتا ہے۔ یہ سدھانت ہی ہے جس پر مسلمانوں نے اپنی زیچ کی بنیاد رکھی۔ مہمان خصوصی خواجہ غلام السیدین نے سرسید کی آثار الصنادید کی تالیف میں ان کے سائنٹفک ٹمپر اور جاں فشانی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس کتاب کی تالیف کا مقصد اپنی تہذیبی و ثقافتی میراث کو محفوظ کرنا تھا۔ان کا زمانہ آج کی سی آسانیوں کا زمانہ نہیں تھا۔چھ دن دفتر کا کام کاج اور ساتواں دن جو چھٹی کا ہوتا تھا اس دن یہ اہم کام ہوتا تھا۔ انھوں نے طلبا کو نصیحت کی کہ ذریعہ معاش وہ کوئی بھی چنیں،مگر اپنی تہذیبی وراثت کو بچانے کا تھوڑا جنون بھی پیدا کریں۔پروفیسر پشپا تیواری (صدر شعبہ تاریخ و آثار قدیمہ)نے بتایا کہ انھوں نے اپنے تدریسی مراحل میں عربوں کی اہمیت کا بالخصوص مطالعہ کیا اور تب وہ کئی پیچیدہ موضوع طلبا کو سمجھا سکیں۔صدر جلسہ پروفیسر مردولا ترپاٹھی نے حکیم برزویہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ جس کتاب کو یہاں سے لے گیا وہ ترجمہ در ترجمہ ہوکر ہندوستان واپس آئی اور لوگوں کے درمیان ہے۔ہندوستانی عالم فاضل ضرور ہوتے رہے مگر تنگ دل بھی تھے۔وہ اپنے علم کو بانٹنے میں یقین نہیں کرتے تھے، جب کہ عرب اس کے بر عکس فراخ دل گذرے۔وہ دوسرے کے علم کو سیکھنے اور اپنے علم کو دوسروں تک پہونچانے کی حتی المقدور کوشش کرتے تھے۔ جس کی بدولت ہندوستانی علوم ساری دنیا میں رسائی حاصل کر سکے۔ جلسے کا اختتام شکریہ کے کلمات کے ساتھ ہوا۔شرکاء میں پروفیسر اوما کانت یادو، پروفیسر عبد القادر جعفری، پروفیسر میتا بینر جی، ڈاکٹر محمود مرزا،ڈاکٹرعبد الحفیظ، قمر الحسن صدیقی،ایڈووکیٹ، محمد بختیار یوسف
، ایڈوکیٹ،ڈاکٹر رفاق احمد، ڈاکٹر نعیم صدیقی، ڈاکٹر محمد نفیس، ڈاکٹر تبسم جہان، ڈاکٹر حمیدہ خان، ڈاکٹر زینت رضا، ڈاکٹر عابدہ خاتون، ڈاکٹر ندرت محمود، ڈاکٹر شبانہ عزیز، ڈاکٹر سعدیہ جعفری، سومیہ کرشن، تحسین بانو، محمد قاسم،اخلاق احمد، محمد جاوید وغیرہ کے نام خاص ہیں۔

” زاویہ نظر "اور عامر نظیر ڈار کی باتیں

 

” زاویہ نظر "اور عامر نظیر ڈار کی باتیں

کتاب کا نام: زاویہ نظر
مصنف : پشپیندر کمار نم
صفحات : 112
قمیت : 150
پبلیشر : ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس،دہلی
مبصر : عامر نظیر ڈار
ریسرچ اسکالر،شعبہء اردو دہلی یونیورسٹی،دہلی
قبل اس کے کہ ہم کتاب کے مواد پر گفتگوکرے پہلے اس کے مصنف کے حوالے سے کچھ جاننے کی کوشش کرے گے۔ مصنف کا تعلق اردو ادب کے ان طلبہ میں سے ہے جو ایک ایسے حلقے سے آئے ہیں جن کا اردو زبان سے دور دور تک کوئی رشتہ نہیں تھا، اب یہ محبت میں یا مجبوری میں انہوں نے اردو زبان کو گلے لگایا بحرحال جو کچھ بھی ہے انہوں نے سچے من سے اردو زبان کو سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کی کوششوں میں ایک کوشش ”زاوئے نظر‘‘ بھی ہے۔یہ ان کے22مضامین پر مشتعمل ایک مجموعہ ہے۔اس کتاب کو انہوں نے پیش لفظ اورکتابیات کے علاوہ تین ابواب پر منقسم کیا ہے۔پہلا باب صنف”غزل“ پر ہے جس میں انہوں نے میرؔ،غالبؔ،حالی ؔ، ساحر لدھیا نویؔ،مجروح ؔسلطان پوری،اختر شیرانی ؔ جیسے بلند پائے غزل گوشاعروں پر مضامین قلم بند کئے۔ انہوں نے ان کی غزل گوئی کو کئی ہسیتوں سے جاچھنے اور پرکھنے کی کوشش کی،اور ساتھ ہی ساتھ ان کی شاعری میں مختلف موضوعات کی تلاش بھی کی۔انہوں نے اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے مضامین میں مثالوں کا بے پناہ استعمال کیا ہے۔جسے ایک تو ان کی محنت کا اور دوسرا ان کے ذوق مطالعہ کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔
اس کتاب کا دوسرا باب شاعری کی ایک اہم صنف”نظم“ پر مبنی ہے اس باب میں مصنف نے چار مضامین اختر شیرانی ؔ کی نظم نگاری کے حوالے سے لکھے ہیں جن میں انہوں نے ان کی رومانی،وطنی،قومی موضوعات کے حوالے سے اور ان کی ایک مشہور نظم ”اے عشق کہیں لے چل“ کا فنی جائزہ لیا ہے۔ساتھ ہی نظیر اکبر آبادی،علامہ اقبال اور احمد ندیم قاسمی کی شعری و فکری رحجانات پر بھر پور مضامین لکھے۔ان مضامین کا مطالعہ کرنے کے بعد محسوس ہو رہا ہے کہ ”پشپندر کمار نم“کو شاعری سے کافی لگاؤ ہے کیونکہ انہوں نے شاعری کے جن مایہ ناز ہسیتوں پر قلم چلایا ہے وہ اپنے آپ میں بہت بڑا کام ہے۔اکثر طلبہ کے ہاتھ ان موضوعات پر کچھ تحریر کرنے سے کانپ جاتے ہیں شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان کی شاعری وسیع مطالعے کی مانگ کرتی ہے۔کیونکہ وہی قلم کاران کی شاعری کا ہر وہ پیغام سمجھ سکتا ہے جس کا مطالعہ وسیع ہو۔اپنے ان دونوں ابواب میں انہوں نے 1857ء کے بعد غزلیہ شاعری اور1857ء کے بعد نظمیہ شاعری کا بھی جایزہ لیا ہے جن میں انہوں یہ دیکھانے کی کوشش کی کہ1857ء کے بعد کم وبیش تمام شاعروں نے ملک کے روز افزوں بدلتے ہوئے ماحول ومزاج کی تصویر کشی میں کہیں کوتاہی نہیں کی۔ تاریخ و حقائق اردو شاعری کے حرف وصورت میں سماگئے ہیں کبھی کھل کر اور کبھی اشاروں کنائے میں ان کی تصویر کشی ہوئی ہے۔
اس کتاب کا تیسرا اور آخری باب نثری مضامین کے حوالے سے ہے۔اس باب میں ان کی صلاحیت اور تعلیمی لیاقت کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔اس باب میں فورٹ ولیم کالج سے پہلے اردو نثر،اردو نثر کے فروغ میں غالب کے خطوط کا حصہ،نظیر احمد کے ناول ”مراۃ العروس“ کا تنقیدی جایزہ،اردو ادب میں علی گڑھ تحریک کے اثرات،پریم چند کے افسانے ”کفن“ کا تنقیدی جائزہ اور اردو ادب میں ادبی تحقیق کے مسائل پر مضامین تحریر کئے گئے ہیں۔یہ باب موضوعات کے حوالے سے اہمیت کے حامل تو ہے لیکن اتنے وسیع موضوعات کو انہوں دو ا ڈھائی صفحات پرہی مکمل کردیا۔ جس کی وجہ سے ان کو کافی اختصار سے کام لینا پڑھا ہے ورنہ یہ ایسے موضوعات ہے جن پر تفصیل سے بحث کی جاسکتی تھی۔تفصیل سے بحث نہ کرنے کی وجہ سے کافی کچھ باتیں سامنے آنے سے رہ گئی ہے۔جس کا مصنف کو خودبھی احساس ہو گا۔
اخر پر ہم اس کتاب کے حوالے سے اتنا ضرور لکھنا چاہتے ہیں کہ بھلے ہی ان مضامین میں قارئین کو دیگرناقدین کی طرح تنقیدی بہاو نظر نہ آئے لیکن جیسا کہ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے لکھا ہے کہ ”ان مضامین میں کوئی بہت بڑی تنقیدی کاوش نظر نہیں آئے گی لیکن یہ ایک طالب علمانہ نظر کے حامل ضرور ہیں۔ہر قاری خواہ وہ استاد ہو،طالب علم ہویا دانشور اس کا اپنا زاویہ ہوتا ہے۔“اور ہمیں بھی یقین ہے کہ مصنف کی اس پہلی کوشش کو اردو حلقوں میں سراہا جائے گا۔

 

معین شاداب اور شاہد انجم اکیسویں صدی کے ممتاز شاعر: ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ

معین شاداب اور شاہد انجم اکیسویں صدی کے ممتاز شاعر: ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ
(پریس ریلیز)
میرٹھ6/ ستمبر2017ء

چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں اس سیشن کی پہلی ہفت روزہ ادبی محفل کا انعقاد عمل میں آیا۔ جس میں اردو کے دو مشہورو معروف شاعر معین شاداب اور شاہد انجم نے بطور مہمان شر کت کی۔ صدارت کے فرائض صدر شعبہ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ نے انجام دیے اورنظا مت ڈا کٹر آصف علی نے کی۔ شعبے میں ان کا استقبال ڈا کٹر شاداب علیم نے کیا۔ محفل کا آغاز شو بی زہرا نقوی نے نعت پاک سے کیا۔ ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔنے محفل کے آ خر میں اپنے صدارتی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معین شاداب اور شاہد انجم اکیسویں صدی کے ممتاز شعرا ہیں۔ ان کے یہاں نئی لفظیات، ترا کیب اور نیا لب و لہجہ ملتا ہے جو انہیں اپنے عہدکے شعرا میں ممتاز کرتا ہے۔دونوں مہمان شاعروں نے اپنے کلام سے سامعین کو خوب مسحور کیا اور خوب داد و تحسین حاصل کی۔ منتخب اشعار قارئین کے پیش نظر ہیں ؎
شکست جس کا نصیب ہو گی کچھ اس کا سوچو
تمہارا کیا ہے تمہیں تو سکہ اچھالنا ہے
؎
یہ کس کی سانسوں کو خوشبو گراں گزرتی ہے
یہ کون گملوں میں تیزاب ڈال دیتا ہے
معین شاداب
جو اب کے ٹوٹ گیا تو بکھر بھی سکتا ہوں
بچھڑ کے تم سے میں اس بار مر بھی سکتا ہوں
ضرورتیں مجھے پاگل بنائے رہتی ہیں
میں اپنے آپ کو نیلام کر بھی سکتا ہوں
؎
پھولوں کو زعفران کی خوشبو نے ڈس لیا
بچوں کو سانپ نے نہیں سادھو نے ڈس لیا
شاہد انجم
آخر میں پی ایچ ڈی کی طالبہ شبستاں پروین نے مہمانوں اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔
پروگرام میں آفتاب عالم،محمد شمشاد،وشو دیپ سدھارتھ، فرحین،شفالی،شاداب علی،فر حانہ پروین،گلستہ،گلناز،تسلیم جہاں، سعید احمد سہارنپوری وغیرہ موجود رہے