ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کے افسانوی مجمو عے”عید گاہ سے واپسی“کو انعام
ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کے افسانوی مجمو عے”عید گاہ سے واپسی“کو انعام
(پریس ریلیز)
میرٹھ24/ جون2017ء
معروف افسا نہ نگار، ناقد اور صدر شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری ؔکے افسانوی مجمو عے”عید گاہ سے واپسی“ پر بہار اردو اکادمی پٹنہ نے کتابوں پر دیا جانے والا اپنا پہلا انعام جو21000 روپے پر مشتمل ہے، دیے جانے کا اعلان کیا ہے۔
واضح ہو کہ”عید گاہ سے واپسی“ ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کا چو تھا افسا نوی مجمو عہ ہے جو اکتو بر2015ء میں منظر عام پر آیا۔ چھ ماہ کی قلیل مدت ہی میں مجمو عے کا دوسرا ایڈیشن مارچ2016ء میں شا ئع ہوا۔ مجمو عے میں کل 12/ افسانے شامل ہیں جن میں عالمی سطح پر شہرت یا فتہ افسا نہ ”عید گاہ سے واپسی“ بھی شامل ہے۔ اس افسانے میں ڈاکٹر اسلم نے پریم چند کی معروف کہا نی”عید گاہ“ کے کردار حامد کو70سالہ بزرگ دکھایا ہے اور پریم چند کے 70سال بعد، آج کے فرقہ وارانہ ما حول میں خصوصادیہات کے پس منظر میں کہانی کا تانا بانا بنا ہے۔مجمو عے کی کئی دیگر کہا نیاں پانی اور پیاس، بدلتا ہے رنگ آ سماں …،تیری سادگی کے پیچھے، دن کے اندھیرے رات کے اُجالے، ہوئے تم دوست جس کے، ایک ادھوری کہانی، وغیرہ ادبی حلقوں میں کا فی شہرت حاصل کرچکی ہیں۔
اس مو قع پر شعبہ اردو کے اسا تذہ ڈا کٹر آصف علی، ڈا کٹر شاداب علیم، آفس انچارج سعید احمد، احباب ذیشان خاں، آفاق احمد خاں، طالب زیدی، حاجی مشتاق سیفی، سلیم سیفی، انس سبز واری وغیرہ نے مباکباد پیش کی۔
روزہ ہمیں انسانیت،قربانی اور غربا ومساکین کے ساتھ ہمدردی کا درس دیتا ہے:قاری شفیق الرحمن قاسمی
روزہ ہمیں انسانیت،قربانی اور غربا ومساکین کے ساتھ ہمدردی کا درس دیتا ہے:قاری شفیق الرحمن قاسمی
چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں روزہ افطار کا انعقاد،شیخ الجامعہ پروفیسر این کے تنیجا کی شرکت
(پریس ریلیز)
میرٹھ 17/ جون2017ء
شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی،میرٹھ میں ایک شاندار افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا جس میں یونیورسٹی افسران، ملازمین اور مسلم طلباو طالبات کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں علماء،دانشوران،افسران،سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ صدر شعبہ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ،ڈپٹی لائبریرین ڈا کٹر جمال احمد صدیقی،ڈاکٹر نازیہ ترنم،ڈاکٹر شاداب علیم، ڈاکٹر آصف علی،محترم ارشد حسین اور سلمان چوہان نے سبھی مہمانان کا استقبال کیا۔
معروف خطیب مولا نا جبرئیل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روزے کے بے شمار فائدے ہیں۔جسمانی بھی اور رو حانی بھی۔ اس کے ذریعے جہاں روح میں بالید گی پیدا ہوتی ہے وہاں جسمانی طور پر بھی بیماریاں کم ہوتی ہیں۔ڈاکٹروں کے قول کے مطابق رو زے سے نظام ہاضمہ درست رہتا ہے۔یہ جسم کے لیے اوور ہالنگ کا کام کرتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ہفتے میں دو رو زے رکھنے والا تمام بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ اس سے رزق میں اور حسن میں اضافہ ہو تا ہے۔
اس مو قع پر معروف عالم دین محترم قاری شفیق الرحمن قاسمی نے روزے کی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ رمضان کا مہینہ بہت ہی با برکت اور عظمت وا لا ہے اور اللہ تعالیٰ اس ماہ میں ہر عمل خیر کا درجہ کئی گنا بڑھادیتے ہیں۔روزے کی فرضیت کا بنیادی مقصد لوگوں کی زندگی میں تقویٰ پیدا کرنا ہے۔روزہ خواہشات کو کنٹرول کرنے میں بڑا معاون ہو تا ہے اور جب خواہشات پر قابو پالیا جاتا ہے تو انسان تقویٰ کی جانب گامزن ہوجا تا ہے اور تقویٰ سے ہی دلوں میں اللہ کا خوف پیدا ہو تا ہے۔اسی لیے روزہ کے ذریعے ہم عبادات، معاملات،اخلاقیات اور معاشرت،انسانیت، غرباو مساکین کے ساتھ ہمدردی غرض کہ زندگی کے تمام شعبوں میں ہم اپنے خالق ومالک کے احکامات کے مطابق اپنی زندگی بسر کرسکتے ہیں اور اپنے مالک کی خوشنودی حاصل کرسکتے ہیں۔انہوں نے سبھی کے ساتھ مل کر ملک وقوم،شعبہ اور یونیورسٹی کی سلامتی و ترقی کے لیے دعا کرائی۔سائرن بجنے کے ساتھ ہی سبھی نے افطار کر قاری شفیق الرحمن قاسمی کی امامت میں نماز مغرب ادا کی۔
افطار پارٹی میں شیخ الجامعہ پروفیسر این کے تنیجا،پروفیسر وائی وملا،ایف۔او انل کمار،جی۔ایم مصطفی(نائب صدر جمعےۃ العلما ء ہند)حاجی مشتاق سیفی، سلیم سیفی،ایڈ وکیٹ ایاز احمد،ایڈ وکیٹ توصیف احمد،عبد السلام،ایڈوکیٹ عبد الجبار،ڈاکٹر پرویز عالم، محمدنجم ضیاء،شکیل احمد،،محمد اشرف،آفاق خان،کلیم خاں،ذیشان خان،سمیع خان،بھارت بھوشن شرما، انل شرما،رما نہرو، کملا نہرو،اروند شرما،سائرہ بانو، مدیحہ اسلم، شناور اسلم، ڈاکٹرآمرین،صبیحہ بانو،محمد منتظر، ازنما پروین،شاہین خان،برہان آصف،محمد تابش، انس سبز واری محمد آصف،سعید احمد سہارنپوری سمیت دیگر معزز حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
شناور اسلمؔ کی ہائی اسکول میں شاندار کامیابی
شناور اسلمؔ کی ہائی اسکول میں شاندار کامیابی
میرٹھ: (4 جون):
معروف ناقد،افسانہ نگار اور صدر شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یو نیور سٹی، میرٹھ، کے فرزند شناور اسلمؔ نے سی بی ایس سی کے دسویں کے امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔انہوں نے میرٹھ کے مشہور اسکول،کے ایل انٹر نیشنل اسکول سے دسویں جماعت پاس کی ہے۔ شناور اسلمؔ نے انگریزی میں 95فی صد نمبر حاصل کئے ہیں۔دیگر مضامین حساب،سائنس،ہندی اور سشل سائنس میں بھی 85 فی صد نمبر حاصل کئے ہیں۔اس موقع پر احباب نے ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کو مبارکباد دی ہے۔
کارواں میری نظر میں : ڈاکٹر ریحانہ سلطا نہ KARWAN MERI NAZAR MEN – DR. REHANA SULTANA
کارواں میری نظر میں
از : ڈاکٹر ریحانہ سلطا نہ
کارواں : (افسانوی مجمو عہ)
صفحات : 128
قیمت : 200/ روپے
ناشر : ایم۔ آر پبلی کیشنز
موڈرن پبلشنگ ہا ؤس۔9،گولا مارکیٹ،دریا گنج، دہلی110002
” کارواں “ مہتاب عالم پرویز ؔکی 13/ کہا نیوں کا مجمو عہ ہے۔ ان کا انتخاب اور ان افسا نوں کو رضوان واسطیؔ صاحب نے مرتب کیا ہے۔ کمپو زنگ کا کام شا ہین خان صا حبہ نے بڑی خو بی سے انجام دیا ہے۔
مہتاب عالم پرویزؔ صا حب کی یہ کتاب ادبی دنیا میں خا ص کر افسا نوی ادب میں اپنا الگ مقام رکھتی ہے۔ کیونکہ افسا نہ نگاری کے لیے جو سب سے اہم فن ہے وہ ہے زبان پر گرفت اور ایک خاص اسلوب اور ان دو نوں دو لتوں سے مہتاب عالم پرویز ؔ صاحب کے افسا نے مالا مال ہیں۔ ان کا اپنا اسلوب ان کے افسا نوں میں سے ان کے افسا نے ”باز گشت“ میں بخو بی نظر آ تا ہے۔ اس افسا نے میں افسا نہ نگار نے انسا نی نفسیات کا ایسا نقشہ کھینچا ہے کہ افسا نے کے انجام تک پہنچتے، پہنچتے دل اور دماغ لرز جاتا ہے جس طرح منٹو نے”ٹھنڈا گوشت“، ”کالی شلوار“ اور”کھول دو“ جیسے افسا نوں میں سماج کی درندگی کو ننگا کر کے دکھانے کی جرأت کی تھی۔ اسی طر ح مہتاب عالم پرویزؔ صاحب نے بھی”باز گشت“ لکھ کر کا فی حد تک سماج کی عکا سی کرنے کی ایک کامیاب کو شش کی ہے۔
اس کے بعد اس مجمو عہ کا ایک اور افسا نہ”بیک ڈور“ ہے جو مجھے بہت پسند آیا۔ اس کی خا ص وجہ یہ ہے کہ آج کےMale Dominating سو سائٹی میں ہر جگہ چاہے وہ اسکول کالج یا دفتر ہو، لڑکیوں کو خواتین کو دبانے کی یا ذہنی اور جنسی استحصال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر آج کے سماج کو کس طرح سے جواب دینا ہے یہ افسا نہ بخو بی بیان کرتا ہے اور کس طرح مو سم کا مزاج پہچانتے ہی سانپ کی طرح پھن کاڑھ لیتا ہے اس کا سبق افسانہ نگار نے بخوبی دیا اور اگر سماج میں اپنا مقام بنانا ہے تو اپنی مدد اور حفاظت آپ ہی کو کر نی ہو گی۔
اس کے علا وہ ایک اور افسا نہ جو کہ اس مجمو عے کے عنوان سے بھی منسلک ہے”کارواں“ وہ بھی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس افسا نہ میں افسا نہ نگار نے علا متی اور بیا نیہ انداز اختیار کیا ہے اور وہ میدا نی، پہا ڑی یا سا حلی علا قوں میں رہنے وا لوں کو صحرا کی پا گل ہوا ؤں سے ہو شیار کرتے ہیں۔ دیکھئے کس طرح سے انہوں نے صحرا کا نقشہ کھینچا ہے:
”ہر طرف اونٹوں کے بلبلا نے کی آوا زیں تھیں، آہیں تھیں اور سسکیاں ہی سسکیاں تھیں۔ آگ کی لپٹوں میں گھری ہوئی صحرا کی پاگل ہوائیں اور بھی پا گل ہو اٹھی تھیں۔ ماحول کے درجہ حرارت میں مزید اضا فہ ہو تا جا رہا تھا۔ زہریلی گیس سے ہواؤں میں جلن کی آمیزش تھی۔ آنکھوں سے آ نسوؤں کا سیلاب رواں تھا جس میں نہ جانے کتنے ہی ارمان بہہ رہے تھے۔“
اس طرح ان کا یہ افسا نہ ان کی زندگی کے سفر نامے کی بھی کہا نی بیان کررہا ہے اور اختتام پر قاری کو ایک معصوم کی معصومیت پر رلانے کی بھی طا قت رکھتا ہے۔
اس طرح ان کے سا رے افسا نے اپنی مکمل پہچان رکھتے ہیں اور کہیں نہ کہیں پر ذہن کے گو شہ میں اپنی جگہ بھی بنا لیتے ہیں جو ایک کامیاب افسا نہ نگار ہی کرسکتا ہے جس کے پاس اس کا خود کا قلم موجود ہو۔
٭٭٭
از: ڈاکٹر ریحانہ سلطا نہ
جرمنی میں اردو زبان و ادب کی ترقی کے لیے متعدد ادبی تنظیمیں سر گرم عمل ہیں: عارف نقوی
جرمنی میں اردو زبان و ادب کی ترقی کے لیے متعدد ادبی تنظیمیں سر گرم عمل ہیں: عارف نقوی
شعبہ اردو،سی سی ایس یونیورسٹی میں ”جرمنی میں اردو کی صورت حال“پر خطبہ اور تین کتابوں کی رسمِ اجراء
میرٹھ8/اپریل2017ء(پریس ریلیز)
شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں شعبہ اردو کے دو سابق طالب علموں کی تحقیقی و تنقیدی کتابوں،چاندنی عباسی کی کتاب ”ڈاکٹر ودیا ساگر آنند: حیات و خدمات“ اور پشپیندر کمار نم کے مضامین کا مجموعہ”زاویہئ نظر“ کا اجراء عمل میں آیا۔جس میں مہمان خصوصی کے بطور جرمنی سے تشریف لائے اردو کے معروف اسکالر محترم عارف نقوی شریک ہو ئے اور صدارت کے فرائض صدر شعبہ اردوڈاکٹراسلم جمشید پوریؔ نے انجام دیے۔ اس موقع پر عارف نقوی کی کتاب ”راہِ الفت میں گامزن“ کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ جلسے میں بطورمہمانان ذی وقار یو نیورسٹی کے کار گذار رجسٹرار ڈا کٹر دنیش کمار،سابق وزیر حکو مت اتر پردیش ڈاکٹر معراج الدین احمد اور عرشیہ پبلی کیشنز، نئی دہلی کے منیجرمحترم اظہار ندیم نے شر کت کی۔ استقبالیہ کلمات ڈا کٹر شاداب علیم، نظا مت ڈا کٹر آ صف علی اور شکریے کی رسم ڈا کٹر الکا وششٹھ نے ادا کی۔
اس سے قبل پروگرام کا آ غاز مولانا نجم الدین نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔ ہدیہئ نعت محمد وصی نے پیش کیااورمہمانوں کا پھولوں کے ذریعے استقبال کیا گیاجب کہ پشپیندر کمار نم کوبزم اردو کے سیکریٹری شاکر مطلوب اور چاندنی عباسی کو بزم اردو کی صدر شبستاں پروین نے بکے پیش کیا۔
کتابوں اور مصنفین پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مفتی راحت علی نے کہا کہ ابھی ان کی کتابوں میں شمس الرحمن فاروقی اورگوپی چند نارنگ جیسی سنجیدگی تلاش کرنا ان کے ساتھ نا انصا فی ہو گی۔البتہ ان کی محنت،لگن،ایمانداری،سے قائل ہونا پڑتا ہے اور ان کا مستقبل تابناک نظر آتا ہے۔کافی حد تک دونوں نے اپنے موضوع سے انصاف کر نے کی بہترین سعی کی ہے جو یقینا قابل تحسین ہے۔
اس موقع پر مہمان خصوصی محترم عارف نقوی نے”جرمنی میں اردو کی صورت حال“ پر ایک خوبصورت لیکچر پیش کیا۔انہوں نے بتایا کہ جرمن میں مقبول ترین زبان سنسکرت تھی۔ ٹیگور کے جانے کے بعد بنگالی زبان کا چلن ہوا۔ 1961ء میں میرے جرمنی جانے کے بعد لوگ اردو سے متعارف ہونے لگے۔ کئی انسٹی ٹیوٹ میں اردو زبان میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہوا۔ہندو پاک سے اردو کے ادیب و شاعر آنے جانے لگے، ادبی انجمنیں قائم ہو نے لگیں۔ مختلف ورکشاپ اور کانفرنسیں منعقد ہونے لگیں اور انہی چیزوں کے ذریعے جرمنی باشندوں نے اردو زبان و ادب کی اہمیت کو بخوبی سمجھنا شروع کردیا اور اردو ادب کے تراجم کا فروغ ہونے لگا۔ اس وقت جرمن میں اردو زبان و ادب کی ترقی کے لیے متعدد ادبی تنظیمیں سر گرم عمل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنی زبان، اپنے ملک اور انسانی اقدار کو اعلی سمجھتا ہوں اور یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ہما را ملک اور ادب انسانی اقدار کے تعلق سے دیگر مما لک کے لیے مثال قائم کر سکتا ہے۔
ڈا کٹر دنیش کمار نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح پیڑ کی جڑیں دکھائی نہیں دیتیں لیکن پیڑ کو تھا مے رکھتی ہیں اسی طرح ادیب بھی اپنے فن سے معاشرے میں انسانی بقا کے کام انجام دیتے ہیں۔
اس مو قع پر ڈا کٹر اسلم جمشید پوری ؔنے اپنے صدارتی خطبے میں کہا ”شعبہ اردو کا مشن میرٹھ کو ادب کی مین اسٹریم میں لانا ہے۔اسی مشن کی ایک کڑی آج کا یہ جلسہ ہے۔جس میں شعبے کے دو سابق طالب علموں کی کتابون کا اجرا عمل میں آیا۔یہ دونوں کتابیں چاندنی عباسی اور پشپیندر کمار نم کی طالب علمانہ کوشش ہیں،جن کی ہمت افزائی ہونی چاہیے۔اور محترم عارف نقوی صاحب کی کتاب”راہِ الفت میں گامزن“ در اصل ان کے سفر ناموں کا مجموعہ ہے۔یہ اردو میں نئی پہل ہے۔اس میں چھوٹے چھوٹے سفر نامے ہیں جنھیں پڑھتے ہوئے افسانے کا لطف بھی آتا ہے اور سفر کے حالات کا علم بھی ہوتا ہے۔
ڈا کٹر معراج الدین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے میرٹھ کے لئے فخر کی بات ہے کہ یہاں ملک اور بیرونِ ملک کی معزز ادبی اور سماجی شخصیات تشریف لاتی رہتی ہیں۔
پروگرام میں ڈاکٹر فوزیہ بانو، ڈا کٹر ہما مسعود، ڈا کٹر راجکمار ساگوان، ڈاکٹر ایشور چندر گمبھیر،سید معراج الدین، ڈا کٹر فرقا ن سردھنوی،، محمد آصف، آفاق احمد خاں،چاند میاں عباسی،کنور ویر چودھری، تسلیم احمد، سنیل کمار نم، راہل گو جر، وسیم خان، نذیر میرٹھی، سمیع خان، اکرام بالیان، ظہیر انور، تسلیم جہاں،اسما پروین، عامر نظیر ڈار،سمنیش سمن، بھارت بھو شن شرما،انل شرما،سید جاوید اختر،تفضل کریم سمیت کثیر تعداد میں طلبہ طالبات اور عمائدین شہر نے شرکت کی۔
ڈرامے کے فروغ کے لیے ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کو صفدر ہاشمی ایوارڈ سے نوازا گیا
ڈرامے کے فروغ کے لیے ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کو صفدر ہاشمی ایوارڈ سے نوازا گیا
(پریس ریلیز)
میرٹھ27/ مارچ2017ء
بین الاقوامی اسٹیج ڈے اور در پن کلا کیندر ناٹیہ سنستھان(رجسٹرڈ) کے45/ ویں یوم تاسیس کے مو قع پر ناٹیوتسو2017ء کا انعقاد، ڈی این پی جی کالج، میرٹھ کے شنکر آ ڈیٹوریم میں ہوا۔
اس مو قع پر میرٹھ میں ڈرا مے کے فرو غ کے لیے ڈا کٹر اسلم جمشید پوریؔ، صدر شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ کو”صفدر ہاشمی ایوارڈ“ سے سر فراز کیا گیا۔ ایک شال، ایک نشان یا دگار اور سند کی شکل میں یہ ایوارڈ سابق ایم ایل اے اور وزیر محترم پر بھو دیال با لمیکی، در پن کلا کیندر کے سر پرست جناب ستیش شرما، ڈا ئریکٹر جناب ونود کمار بے چین اور دیگر نے عطا کی۔ واضح ہو کہ ڈا کٹر اسلم جمشید پوریؔ نے گذشتہ دس بارہ برسوں میں میرٹھ میں ڈا را مے کے فروغ کے لیے کا فی کام کیا ہے۔ ان کی سر پرستی میں تقریبادو درجن اہم ڈرا مے پیش کیے جا چکے ہیں۔ کئی ڈرا مہ فیسٹیول، نکڑ ناٹک اور ڈرا مے کے مقابلوں کا انعقاد کر کے ڈا کٹر اسلم نے میرٹھ میں ڈرا مے کے لیے فضا ہموار کر نے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ گذشتہ تین برسوں سے یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن(UPTA) آپ کی سر پرستی میں کافی سر گرم عمل ہے۔
اس مو قع پر ٹی وی اور ریڈیو ڈرا مے کے فرو غ کے لیے جناب نیرج شرما(فلم اور ٹی وی ہدایت کار) کو شیلا بھاٹیہ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ در پن کلا کیندر کا ڈرا ما”یہ بھی ایک سچ ہے“،یو نا ئٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن کا ڈرا ما”ایک تھا گدھا عرف الا داد“ اور انڈین پی پیپلز تھیٹر ایسو سی ایشنIPTA کا مزاحیہ ڈرا مہ”کوئی تو ہے“ اسٹیج کیے گئے۔ تینوں ڈرا موں نے نا ظرین کو با ندھے رکھا اور خوب داد و تحسین پائی۔اس مو قع پر ڈا کٹر اسلم جمشید پوریؔ نے اپنے بیان میں کہا”ڈرا ما ہماری زندگی کا آئینہ ہو تا ہے۔ یہ صرف تفریح کا سامان نہیں بلکہ زندگی کی سچائیوں سے رو برو کرانے کا ذریعہ ہے۔“
پروگرام میں ڈا کٹر الکا وششٹھ، انل شرما، بھا رت بھو شن شرما، سہیل احمد، مدیحہ اسلم،سعید احمد سہارنپوری سمیت کثیر تعداد میں عما ئدین شہر اور طلبہ طا لبات نے شر کت کی۔
انشائیہ کی بے ترتیبی میں بھی ایک ترتیب ہوتی ہے: پرو فیسر زماں آزردہ
انشائیہ کی بے ترتیبی میں بھی ایک ترتیب ہوتی ہے: پرو فیسر زماں آزردہ
شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میں معروف اردو اسکالر پرو فیسر زماں آزردہ کا خصوصی خطبہ
(پریس ریلیز)
میرٹھ25/ مارچ2017ء
شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کے پریم چند سیمینار ہال میں کشمیر یو نیورسٹی کے سابق صدر شعبہ اردو اور معروف ناقد و محقق پروفیسر زماں آزردہ نے صنف انشائیہ کے تعلق سے ایک لیکچر دیا۔پرو گرام کی صدا رت صدر شعبہ اردو ڈا کٹر اسلم جمشید پوریؔ نے فر مائی اور مہمان خصوصی کے بطور میرٹھ کے معروف شاعر نذیر میرٹھی نے شر کت کی۔ استقبالیہ کلمات شعبہ کی استاد ڈا کٹر شاداب علیم، نظا مت ڈا کٹر آصف علی اور شکریے کی رسم ڈا کٹرالکا وششٹھ نے انجام دی۔
پرو گرام کا آ غاز سعید احمد سہارنپوری نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔ہد یہئ نعت ایم فل کے طالب علم وصی حیدر نے پیش کیا۔ بعد ازاں ایڈ وکیٹ سر تاج احمد اورمحترم آفاق خاں نے پرو فیسر زماں آزردہ کا پھولوں کا گلدستہ پیش کر کے استقبال کیا۔
اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے پروفیسر زماں آزردہ نے اپنے خصوصی لیکچرمیں صنف انشائیہ اور اس کی تاریخ پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انشائیہ اب اردو ادب کی معروف اور انتہائی اہم صنف ہے جس کو تمام یو نیورسٹیز اور کالجز میں پڑھایا جاتا ہے۔ لیکن اس کی تاریخ اور خدو خال پر ابھی خاطر خواہ کام نہیں ہوا ہے۔ اسے ایک بے ترتیب صنف یا ذہنی ترنگ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کی بے ترتیبی میں بھی ایک ترتیب ہو تی ہے اوریہ ذہن ہی نہیں بلکہ پختہ ذہن کی ترنگ ہے۔عام طور پر انشا ئیوں میں کسی ایک خصوصیت خصو صا طنز و مزاح کو بڑھا کر پیش کردیا جاتا ہے جس سے اس کی خو بصورتی متاثر ہو تی ہے۔ انشا ئیہ نگار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کی تمام خصوصیات میں تنا سب کا خیال رکھے۔انشائیہ در اصل کسی ایک مو ضوع یا نکتے پر بہت سے لوگوں کی را یوں اور نظریوں کے بیچ نکا لا گیا را ستہ ہے۔انہوں نے اس مو قع پر اپنے ایک انشائیے”تصویر“ کی قرأت بھی کی جسے سامعین نے بے حد پسند کیا۔
پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے صدر شعبہ اردو ڈا کٹر اسلم جمشید پوریؔ نے کہا پروفیسر زماں آزردہ نے انشائیہ کے ہر پہلو پر سیر حاصل گفتگو کی۔ ان کا انشا ئیہ ”تصویر“ ایک عمدہ انشائیہ ہے جس میں بلا کی روا نی تھی۔ پرو فیسر زماں آزردہ کو بات سے بات نکالنے کا ہنر بخو بی آ تا ہے۔ مجھے امید ہے طا لب علموں نے انشا ئیہ کا لطف بھی لیا ہوگا اور انشائیہ کے تعلق سے بنیادی اور اہم معلو مات بھی حاصل کی ہو ں گی۔“
پرو گرام میں ڈا کٹر سیدہ، انیس میرٹھی، حنا، زیبا، فر ح ناز، ارو ن پال، وشو دیپ سدھارتھ، شو بی را نی، گلستاں، گلناز، نجم الدین،شا کر مطلوب، ثنا خان، رو زی، خو شنور، خو شنما،مختار خاں، شیبا مختار وغیرہ سمیت طلبہ و طالبات نے حصہ لیا۔
عالمی یوم خواتین
عالمی یوم خواتین کے مو قع پر
شعبہ اردو،سی سی ایس یو اور وی کمٹ،میرٹھ کے زیر اہتمام مشاعرہئ شاعرات کا انعقاد
(پریس ریلیز)
میرٹھ 8/مارچ2017ء
شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں عالمی یوم خواتین کے مو قع پر شعبہ اردو اور وی کمٹ کے مشترکہ اہتمام میں ایک شاندار مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ جس کی صدارت محترمہ نایاب زہرا زیدی نے کی۔مہمان خصوصی کے طور پراسماعیل نیشنل گرلز پی جی کالج کی پرنسپل ڈاکٹر سادھنا سہائے نے شرکت کی اور مہمان ذی وقار کے بطور صدرجمہوریہ ایوارڈ یافتہ محترمہ قمرالنساء زیدی نے شرکت کی۔نظامت کے فرائض محترمہ میناکشی شاستری نے بحسن و خوبی انجام دیے مہمانوں کا تعارف ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ(صدر شعبہ اردو)نے پیش کیا اور شکریے کی رسم سماجی تنظیم وی کمٹ کی صدر محترمہ رما نہرو نے ادا کی۔
پرو گرام کا آ غازشوبی رانی نے ہدیہئ نعت سے کیا۔ بعد ازاں مہمانوں نے مل کر شمع افروزی کی۔
اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کا ’عالمی یوم اردو‘ پروگرام منعقد
اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن،مظفرنگر
دفتر: 55،سٹی سینٹر مارکیٹ،مناکشی چوک،مظفرنگر فون:9897632786
پریس ریلیز
اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کا ’عالمی یوم اردوپروگرام منعقد
اردو اور ہندی کا لسانی جھگڑا ہندوستانیت کے فروغ کا سمِ ّقاتل: پروفیسر مولا بخش
اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعہ ہمیں بیدار کرنے کی عملی کوشش کی: ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ
250/اردو طلبہ وطالبات کو ٹرافی اور سرٹیفکیٹ دیے گئے۔اہم شحصیات کو ”علامہ اقبال ایوارڈ‘ سے نوازاگیا۔
مظفرنگر:9/نومبر2016
اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن و اردو انووادک راجیہ کر مچاری سنگھ کے زیر اہتمام شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم پیدائش 9 نومبر کے موقع پر ’عالمی یوم اردو‘کا انعقاد سادات ہوسٹل،آریہ سماج روڈ،مظفرنگر میں کیا گیا،جس کی صدارت معروف ماہر تعلیم اشوک کمار بھٹناگر نے کی اور مشترکہ نظامت یو. ڈی. او. کے ضلع صدر کلیم تیاگی ونائب صدر مولانا موسیٰ قاسمی نے کی۔ پروگرام کا بابرکت آغاز نعت ِسرورِ کونین سے ہوا۔جس میں مہمان کے طور پر پروفیسر مولی ٰ بحش علی گڈھ مسلم یونیورسٹی،ڈاکٹر اسلم جمیشد پوری صدر شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ،ببلو کمار ایس ایس پی مظفرنگر،ڈاکٹر ارشد اقبال ڈائریکٹر سبھارتی یونیورسٹی میرٹھ نے شرکت کی۔
بطور مہمان خصوصی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تشریف لائے شعبہ اردو کے استاد ماہر اقبالیات اور تنقیدنگار پروفیسر مولا بخش نے اپنے خطاب میں کہا کہ کون نہیں جانتا کہ اردو نے مختلف زبانوں سے دودھ پیا اور اسی مٹی میں پلی بڑھی اور جوان ہوئی۔ کون ہے جو اردو کے زلفِ گرہ گیر کا اسیر نہیں۔ وہ ہندہو یا مسلمان سبھی اس کی شاعری اور ادب کی چاشنی کے دلدادہ ہیں۔ آج بھی سیکڑوں ادیب ایسے مل جائیں گے جو ہندی اور اردو میں کوئی فرق نہیں کرتے۔ اردو اور ہندی کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ اردو اور ہندی کا لسانی جھگڑا ہے۔ اگر اردو اور ہندی کے لوگ ساتھ آجائیں تو وہ دن دور نہیں کہ ہندوستان میں سیکولرزم کی فضا اس طرح سے عام ہوگی کہ ہندوستان کے فرقہ پرستوں کا دم نکل جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ جب تہذیبوں میں انسانیت کا رس گھل جاتا ہے تو اردو زبان پیدا ہوتی ہے۔ یہ بہت بڑی سچائی ہے کہ ہندوستان کے شیڈیول کی ساری زبانیں ہندوستان کو بنانے میں اپنا اہم رول ادا کرتی آئیں ہیں لیکن سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ ہندوستان جس طرح سے سیکولرزم کے بغیر ایک دن بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔اسی طرح سے اردو کے بغیر ہندوستان کے پھیپھڑے میں زہر گھل جائیگا اور ہندوستان مر جائیگا۔انہوں نے مزید کہا کہ اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے اہل کاروں کو میرا سلام ہے کہ یہ لوگ اردو کو نہیں بلکہ اردو کے سہارے ہندوستان کو اس کے اصلی روپ میں زندہ رکھنا چاہ رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے انعامات حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو بھی اپنی نیک خواہشات سے نوازا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔
ضلع پولیس کپتان ببلو کمار نے کہا کہ مجھے بڑی خوشی ہے کہ آج اردو کے اس پروگرام میں شرکت کا موقع ملا،انہوں نے کہا کہ بڑی بدقسمتی ہے کہ آج اردو کو مذاہب سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے، زبانوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، انہوں نے کہا کہ اردو ہمارے ملک کی بڑی اور شیریں زباں ہے، بدقسمتی ہے کہ اردو کو فراموش کیا جارہا ہے، انہوں نے کہ اردو کے فروغ کے لئے ضروری ہے کہ ہمیں اردو کو سیکھنا چاہئے، اور اپنے بچوں کو اردو پڑھایا جائے۔
مجاہد اردو، معروف افسانہ نگار اور صدر شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری ؔنے کہا کہ علامہ اقبال ہماری علمی،تہذیبی شنا خت کا روشن مینار ہیں۔جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ نہ صرف ہمیں بیدار کرنے کی عملی کوشش کی بلکہ ہمیں اپنی شاندار مذہبی روایت سے بھی جوڑنے کی کاوش کی۔ان کی شاعری جہاں ایک طرف فکر وفلسفے کی شاعری ہے تو دوسری طرف حبِ وطن اور ادب اطفال کی بھی بے مثال شاعری ہے۔اقبال نے غزل خصوصا نظم کو جو معیار عطا کیا،وہ ہماری پوری اردو شاعری کے معیارکو بلند کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یومِ اقبال کے موقع پر منعقدہ اس پروگرام کے لئے مظفرنگر کے اردو جیالے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ہمارے بچے اردو زبان کی طرف توجہ دیں جس سے تہذیب زندہ ہو اور اردو کا فروغ ہو۔ انہوں نے بھی طلبہ و طالبات کو مبارک باد پیش کی اور ساتھ ہی تنظیم کے کارکنان کا شکریہ ادا کیا۔
ضلع صدر کلیم تیاگی نے کہا کہ آج علامہ اقبال کا یوم پیدائش ہے جنہوں نے اردو شاعری میں اپنا نام رہتی دنیا تک روشن کردیا ہے۔ آج ان کی وجہ سے ہی پوری اردو دنیا میں ”عالمی یوم اردو“ منایا جا رہا ہے، جس کی شروعات اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن نے کی، قابل مبارک باد ہیں تنظیم کے سبھی اراکین جنہوں نے اتنی اچھی محفل سجائی اور اردو۔ہندی والوں کو مدعو کیا اور ہمارے مظفرنگر کی گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔
اردو انووادک راجیہ کرمچاری سنگھ کے صوبائی نائب صدر تحسین علی نے کہا کہ اردو زبان کو فروغ دینے کے لیے اسے روزی روٹی سے جوڑنا نہایت ضروری ہے۔اس لئے مرکزی اور صوبائی حکومت کو چاہئے کہ وہ اردو کو روزی روٹی سے جوڑنے کا موقع زیادہ سے زیادہ فراہم کرے، کیونکہ اردو وہ انقلابی زبان ہے جس نے ملک کو آزادی دلانے میں اہم کردار ادا کیا، اور انقلاب زندہ آباد کا نعرہ دیا۔
تنظیم کے ضلع نائب صدر مولانا موسیٰ قاسمی نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ مظفر نگر جیسی تاریخی سرزمین میں ادبی سرگرمیوں اور تحقیق و تصنیف کا فقدان ہے، انہوں نے کہا کہ اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن گزشتہ 10 سالوں سے یوم اردو پر اسی لئے ان طلبہ و طالبات کا اعزاز اور حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ شاید مستقبل میں انہی میں سے اردو ادیب، محقق، مصنف اور شاعر بن کر نکلیں، اور دنیائے افق پر ضلع مظفرنگر کا نام روشن کرتے ہوئے اردو کی شمع کو روشن کریں
اتر پردیش فروغ اردو ادبی تنظیم کے جنرل سکریٹری حاجی اوصاف احمد نے کہا کہ اردو اساتذہ اردو زبان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں، طلبہ و طالبات کو نہایت انہماک سے اردو سکھائیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں، ساتھ ہی اپنے گھروں میں اردو اخبار ضرور خریدیں اور اپنی درخواستیں سرکاری محکمات میں اردو میں ہی دیں۔
پروفیسر مولا بخش اور ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کی اردو خدمات کے اعتراف میں ان کو ”علامہ اقبال ایوارڈ 2016“سے سرفراز کیا گیا جبکہ ڈاکٹر ارشد اقبال و اشوک کمار بھٹناگر کو”محسن اردو ایوارڈ 2016“ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ تنظیم کے اراکین کو بھی اعزازی مومنٹو پیش کئے گئے۔ یو.ڈی.او. کی جانب سے اِس سال کا ’اسپیشل فخر اردو‘ ایوارڈ حاجی اوصاف احمد کو ان کی اردو خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے دیا گیا۔
ا س موقع پر 250 طلبہ و طالبات کو مومینٹو اور اسناد سے نوازا گیا۔اردو مضمون میں ہائی اسکول میں 95 فیصد نمبر حاصل کرنے والی طالبہ ردا اختر (آزاد ہائی اسکول) اور محمد فہیم (اسلامیہ انٹر کالج) کو مخصوص ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ +90 نمبرحاصل کرنے والے 26 اور +85 نمبر حاصل کرنے والے 36 طلبہ و طالبات کومومینٹو و اعزازی اسناداور +75 نمبر حاصل کرنے والے تقریباً 180 طلبہ و طالبات کو میڈل و سرٹیفکیٹ دئے گئے۔ اور عالمی یوم اردو پر دہلی سے شائع کردہ ’یادگار مجلےّ‘ کا اجراء بھی عمل میں آیا۔
اس موقع پر جوائنٹ سیکرٹری شمیم قصار نے سکریٹری رپورٹ پیش کی۔
پروگرام کو کامیاب بنانے میں دن رات کی مشقت اور محنت کرنے والوں میں کلیم تیاگی، بدر الزماں خان، شمیم احمد قصار، حاجی اوصاف احمد، گلفام احمد، تحسین علی، وکیل احمد، ڈاکٹر سلیم سلمانی، مولانا موسی قاسمی، ماسٹر رئیس الدین رانا، قاری سلیم احمد کے نام قابل ذکر ہیں۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر شمیم الحسن، ماسٹر معصوم علی، بابو معصوم تیاگی، ڈاکٹر پردیپ جین، حاجی آصف راہی، استخار تیاگی،گوہر صدیقی،شمشیر ملک، بلقیس چودھری،مولانا طاہر قاسمی،مولانا اکرم ندوی، امیر اعطم ایڈوکیٹ،محبوب عالم ایڈوکیٹ، اسعد زماں ایڈوکیٹ،صفیہ بیگم،نذر محمد،مدن تیاگی، اکرام قصار،مولانا ممشاد، وسیم اکرم تیاگی، نزاکت رانا وغیرہ موجود رہے۔
تنویراختررومانی کا افسانوی شجر ” ببول” اورڈاکٹراختر آزادؔ
تنویراختررومانی کا افسانوی شجر ” ببول” اور ڈاکٹراخترآزادؔ
تنویر اختر رومانی نے اپنے افسانوی سفرکی شروعات افسانہ ” ندامت کے آنسو“ سے کی۔ یہ افسانہ ماہنامہ بتول ، رامپور کے دسمبر 1975کے شمارے میں شائع ہوا۔اس طرح اگر آ پ دیکھیں تو ان کا افسانوی سفر چالیس سالوں سے بھی زیادہ عرصے پر محیط ہے۔اس عرصے میں بقول ان کے کہ انہوں نے باسٹھ افسانے لکھے۔شب وروز کے ترازو کے ایک پلڑے میں اگر ایک سال کابٹکھرا رکھیں تو دوسرے پلڑے میں صرف ڈیڑھ افسانے ہی چڑھتے ہیں۔
دوسری طرف اگر دیکھیں اور دیگر اصناف میں لکھی گئی تصنیفات جس میں بچوں کے لئے کہانیاں، افسانچے،،ڈرامے،انشایئے،مضامین، تبصرے ،نظمیں اور غزلیں اور اردو سے ہندی اور ہندی سے اردو افسانوں کے تراجم کو جو ڑ دیا جائے تو یہ تعداد تقریبا پونے تین سو ہو جاتی ہیں۔ یعنی سال میں سات تخلیقات جس میں تراجم بھی شامل ہیں۔
1990 سے 2014 تک تقریبا 25 سالوں کے دوران انہوں نے صرف دو افسانے لکھے ۔ گزشتہ بیس سالوں سے وہ جماعت کے ساتھ بھی جڑے رہے ہیں ۔ ایک وجہ تو یہ سمجھ میں آتی ہے کہ جماعت کی مصروفیت کے باعث وہ ادب کے لئے وقت نہیں نکال پائے ۔ہم جیسے ادب کے طالب علموں کو بھی لگتا تھا کہ تنویر صاحب ان دنوں ادب کے ساتھ انصاف نہیں کر پارہے ہیں۔میں نے ان سے کئی بار دبی زبان میں کہا بھی کہ جماعت کے ساتھ ساتھ آپ ادبی سفر بھی جاری رکھیں آپ کی شناخت شہر سے باہر ایک ادیب کی بھی ہے۔خدا کا شکر ہے کہ ہم جیسے طالب علموں کی دعائیں کام آئیں اور 2014سے ایک بار پھرنئے دم خم کے ساتھ ان کی ادب میں زور دار واپسی ہوئی۔ آجکل اور ایوان ارود جیسے اہم رسالوں میں تواتر کے ساتھ ان کی چار پانچ کہانیاں شائع ہو گئیں ، جس کا فائدہ یہ ہوا کہ وہ خواب جو برسوں سے ان کی آنکھوں کے صحرا میں ایک بیج کی صورت میں موجود تھا ،حوصلے کی نمی پاتے ہی انکُر کر افسانوی شجر کی صورت میں سامنے آ گیا۔اور وہ شجر جسے تنویر اختر رومانی نے ببول کا نام دیا۔کسی افسانوی مجموعے کا نام ببول ہو شاید کم لوگوں نے سوچا ہو گا۔ ویسے جب اس مجموعے کو ترتیب دیا جا رہا تھا تو مرتب نے اسے ”بند مُٹّھی کا کرب“ رکھا تھا لیکن شاید آخری وقت میں انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ بند مٹّھی کے کرب سے سکّے کو نجات دلانے سے بہتر ہے کہ چالس سالہ افسانوی ببول کو قاری کے سامنے رکھ دیا جائے تاکہ اسے گڑیں بھی ، خون بھی نکلیں اورجب درد ہو تو وہ سبق بھی سیکھیں ۔
اگر ہم جمشید پور کی سو سالہ ادبی تاریخ اُٹھا کر دیکھیں تو جہاں ہربنس سنگھ دوست، زکی انور ، گر بچن سنگھ ، شمیم چواروی، محمود واجد ، اور منظر کاظمی جیسے چمکتے آفتاب ومہتاب یہاں موجود تھے آج بھی انور امام ، ابرار مجیب ، اسلم جمشید پوری ، مہتاب عالم پرویز ، نیاز اختر اور آج کے دُلہا تنویر اختر رومانی آسمانی اُفق پر اپنی چمک بکھیر رہے ہیں ۔
حضرات ! افسانوی مجموعہ ”ببول “ میں چھوٹے بڑے 20 افسانے ہیں ۔ سبھی اصلاحی نقطہءنظر کو سامنے رکھ کر لکھے گئے ہیں۔ یوں تو سبھی افسانے پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ لیکن اس میں سات افسانے ”ببول ، بھروسہ ، دنگل ، بند مٹھی کا کرب، بدولت، روٹی مانگتی زندگی “اور بڑے دالان والا آدمی “ ایسے افسانے ہیں جو آنے والے دنوں میں ان کی شناخت کی وجہ بنیں گے۔قیمت 200 روپئے ہے ۔عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی نے بڑے اہتمام سے اسے شائع کیا ہے ۔