Skip to main content

Aalamiparwaz

ترکی میں پہلی عالمی اردو ادب کانفرنس بیاد احمد ندیم قاسمی منعقد

ترکی سے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری ؔکی رپورٹ
ترکی میں پہلی عالمی اردو ادب کانفرنس بیاد احمد ندیم قاسمی منعقد
ترکی کے شہر انتالیہ میں سہ روزہ کانفرنس13 تا 15 اکتوبر 2016کا شاندار اہتمام
کسی ادیب کو اس کی وسیع النظری بقائے دوام عطا کرتی ہے: پروفیسر ارتضیٰ کریم
احمد ندیم قاسمی بڑے مدیر، ادیب و شاعر کے علاوہ اچھے انسان بھی تھے: ناہید قاسمی

                 ترکی کے دارالسلطنت انقرہ میں واقع شاندار انقرہ یونیورسٹی شعبہ اردو کے زیراہتمام یونیورسٹی کے انتالیہ مرکز کے ہوٹل Orsem میں معروف شاعر و افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی کی صدسالہ یوم پیدائش کے موقعے پر پہلی بین الاقوامی اردو ادب کانگریس کا افتتاح کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی محترمہ ناہید قاسمی (احمد ندیم قاسمی کی بڑی صاحب زادی) نے کہا ”مجھے وہ آج بے حد حساب یاد آرہے ہیں وہ ایک بڑے شاعر، افسانہ نگار، کالم نویس اور اعلیٰ پائے کے مدیر تو ہی تھے لیکن ایک بہترین انسان اور شفیق و بہترین باپ بھی تھے۔“ محترمہ ناہید قاسمی نے اس موقع پر اپنے والد احمد ندیم قاسمی کے بعض ذاتی واقعات سنائے اور ان کی ادبی نگارشات پر کھل کر گفتگو کی۔
پہلی بین الاقوامی اردو ادب کانگریس کی روح رواں صدر شعبہ اردو انقرہ یونیورسٹی پروفیسر آسماں بیلن آزگن نے استقبالیہ خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً نو مہینے کی محنت رنگ لائی اور آج یہ یادگار تاریخ ساز کانفرنس منعقد ہوئی۔ گذشتہ 15 جولائی کو ترکی کے سیاسی حالات کی تبدیلی نے ہمیں خوف زدہ کردیا تھا۔ ہم لوگوں نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری۔ ہم اپنی سرکار کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے ہمیں اپنے کانفرنس کے انعقاد میں بھرپور تعاون دیا۔ میں ہندوستان،پاکستان، جرمنی،جاپان اور ترکی کی مختلف یونیور سٹیز سے آئے مند و بین کا خیر مقدم کرتی ہوں۔مجھے افسوس ہے کہ ہمارے کئی اسکالرس حالات خراب ہونے کے سبب نہیں آپائے۔
اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ ترکی جیسے ملک میں اردو ادب کانفرنس کا انعقاد اردو کی بین الاقوامیت کا ثبوت ہے۔ یہ کانفرنس بین الاقوامی سطح پر اردو کی مقبولیت اور تشہیر و تبلیغ کے نئے در وا کرے گی۔
پروفیسر ارتضیٰ کریم نے مزید کہا کہ کسی ادیب کو اس کی وسیع النظری بقائے دوام عطا کرتی ہے۔ احمد ندیم قاسمی اپنی انسان دوستی اور وسیع النظری کی بنا پر انتقال کے بعد بھی زندہ ہیں۔ بڑا ادیب کسی بھی تحریک سے بڑا ہوتا ہے۔ انھوں نے منتظمین کو مبارک باددیتے ہوئے کہا کہ آج جب کہ ہندو پاک میں اردو کے زوال پذیر ہونے کا رونا رویا جارہا ہے ترکی میں انقرہ یونیورسٹی کے ذریعے منعقدہ یہ کانفرنس ہم اردو والوں کے لیے ایک سبق ہے۔
افتتاحی اجلاس میں احمد ندیم قاسمی پر مبنی ایک دستاویزی فلم ’ندیم کہانی‘ دکھائی گئی جس میں احمد ندیم قاسمی کے بچپن، جوانی، تعلیم، ملازمت اور ادبی تخلیقات پر مفصل روشنی ڈالی گئی۔احمد ندیم قاسمی کے تعلق سے معروف ادبا و شعرا اشفاق احمد، علی سردار جعفری، مالک رام،شفیق احمد،شرہت بخاری وغیرہ کے تاثرات بھی دکھائے گئے۔ اس موقع پر پاکستانی سفیرمحترم سہیل محمود کا ویڈیو کانفرنسنگ سے خطاب ہوا اور ترکی کا قومی ترانہ بھی ویڈیو کے ذریعہ پیش کیا گیا۔
کانفرنس کا پہلا باضابطہ اجلاس معروف ناقد پروفیسر انوار احمد کی صدارت میں شروع ہوا۔ اس سیشن میں جاپان کی اوساکا یونیورسٹی سے پروفیسر مرغوب حسین طاہر نے ’احمد ندیم قاسمی کی غزل‘ کا بھرپور جائزہ لیا۔ انھوں نے کہا کہ قاسمی کی غزل دل کی آواز ہے جس میں تصوف بھی ہے اور تغزل بھی۔جو ہمیں نئے جہان عطا کرتی ہے۔
ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری صدر شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ انڈیا نے’’احمد ندیم قاسمی کے افسانوی ابعاد“ پر مقالہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ احمد ندیم قاسمی نے اپنے افسانوں میں انسان دوستی، جاگیر دارانہ ظلم و جبر، مفلوک الحال کسان اور مزدور، مظلوم عورت جیسے موضوعات پر کامیاب افسانے تحریر کیے۔ احمد ندیم قاسمی کے یہاں موضوعات کا تنوع ملتا ہے ڈاکٹر عقیلہ بشیر (پاکستان) نے’’احمد ندیم کے افسانے تانیثی تناظر میں“ پیش کرتے ہوئے.

دوسرا اجلاس محترمہ پروفیسر روبینہ ترین (ملتان یونیورسٹی) کی صدار ت میں شروع ہوا۔ اس اجلاس میں معروف شاعر و ناقد اصغر ندیم سید نے”احمد ندیم قاسمی کے افسانوں کے نچلے طبقے کے کردار“، شاہد اقبال کامران نے”احمد ندیم قاسمی: دل دانش اور دنیا کے درمیان“، جاپان کے پروفیسر سویامانے یاسر نے ”جدید اردو ادب کے فروغ میں احمد ندیم قاسمی کی خدمات“ اور راشدہ قاضی نے احمد ندیم قاسمی کی غزل و نظم پڑھ کر سنائی۔ اس موقعے پر اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر روبینہ ترین نے ترکی میں اردو کانفرنس کے انعقاد کو اردو کے فروغ میں سنگ میل قرار دیا۔
دوسرے دن(14اکتوبر) کے پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر عقیلہ بشیر نے کی۔اس اجلاس میں پروفیسر یعقوب یاور (صدر شعبہ ء اردو،بنارس ہندو یونیورسٹی) نے”سعادت حسن منٹو کی افسانہ نگاری“ پر مقالہ پیش کرتے ہو ئے فرمایا ”منٹو اپنے عہد کا ہی نہیں،آج تک کا بڑا افسانہ نگار ہے۔اس کے افسانے تنوع کی اعلیٰ مثال ہیں۔اس کے افسانون کو عالمی سطح کے بڑے افسانہ نگاروں کے مقابل رکھا جا سکتا ہے۔“ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے ”احمد ندیم قاسمی کے افسانوں میں انسان دوستی“ میں کہا ”قاسمیکے افسانوں میں انسانی ذات کا افسانہ پورے شد ومد کے ساتھ ملتا ہے۔ان کے نسوانی کردار پریم چند کے نسوانی کرداروں سے یکسر مختلف ہیں اور سادگی کے ساتھ باغیانہ تیور بھی رکھتے ہیں۔“ محترم نیر حیات قاسمی (احمد ندیم قاسمی کے نواسے) نے ”احمد ندیم قاسمی کے اداریوں کی انفرادیت و اہمیت“ میں کہا کہ قاسمی کے اداریے اپنے عہد کی ادبی تاریخ بھی ہیں۔ڈاکٹر عقیلہ بشیر نے صدارتی تقریر میں اس اجلاس کو بے حد کامیاب بتایا اور تینوں مقالوں کو بلیغ اور جامع بتایا
دوسرے اجلاس کی صدارت پرو فیسر ارتضی ٰ کریم نے کی۔اس اجلاس میں فرخ سہیل گوئندی نے ”احمد ندیم قاسمی کا اردو ادب کے ذریعہ سماج کی تعمیر میں کردار“ مقالہ پیش کرتے ہوئے ان کے افسانوں اور شاعری کے ذریعہ سماج کی مثبت تعمیر پر مفصل بحث کی۔انقرہ یونیور سٹی کے رسرچ اسسٹینٹ کینن اردمیر اور طلعت الطاف نے بھی اپنے مقالے پیش کئے۔صدارتی خطبے میں پروفیسر ارتضیٰ کریم نے احمد ندیم قاسمی کے تخلیق کردہ ادب کی اہمیت و معنویت پر اظہار خیال کیا۔انہوں نے مشورہ دیاکہ ہمیں اقبالیات اور غالبیات کی طرح احمد ندیم قاسمی کی تخلیق کردہ ادب کے لئے قاسمیات یا ندیمانہ ادبی رویے استعمال کر نا چاہئے۔ان کے مشورے کو سامعین نے کافی سراہا۔
تیسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر یعقوب یاور نے کی۔اس اجلاس میں پروفیسر روبینہ ترین نے”اردو کی رومانی تحریک کے لئے ترک سر چشمہ ء فیض“، دہلی یو نیورسٹی کے پروفیسر انل کمار رائے نے ”عظیم اردو شاعر میر اور اس کی شاعری“، ڈاکٹر رجب درگن نے ”احمد ندیم قاسمی کی شاعری میں حب الوطنی“ پر مقالات پیش کئے۔ پروفیسر یعقوب یاور نے صدارتی خطبے میں اردو ہندی کو ایک ہی زبان قرار دیا۔انہوں نے کہا دونوں میں اسکرپٹ کا فرق ہے۔دونوں زبانوں کا ادبی سرمایہ خاصا مشترک ہے۔
دوسرے دن کے چوتھے اجلاس کی صدارت محترمہ راشدہ قاضی نے کی۔اس اجلاس میں ہندوستان کے، ترکی میں مقیم ڈاکٹر سائیں ناتھ نے ”اردو میں خواتین پر تحریر کردہ پہلا ناول مراۃ العروس“، جرمنی سے ڈاکٹر سرور غزالی نے ”خواتین کی اردو ادب میں دین“،ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے”احمد ندیم قاسمی کے افسانوں میں دیہی خواتین کے مسائل“ پیش کیا۔راشدہ قاضی نے انقرہ یونیورسٹی کے اس عالمی کانفرنس کو بے حد کامیاب بتایا۔
تیسرے دن ( 15اکتوبر)کے پہلے اجلاس کی صدارت دہلی یونیورسٹی کے شعبہ ہندی کے پروفیسر انل کمار رائے نے کی اور دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد قادری نے ’ریاست جموں کشمیر میں ترجمے کی روایت‘ پر اپنا مقالہ پیش کر تے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں ترجمے کی روایت کو ریاست جموں کشمیر کے دارالترجمہ نے خاصی تقویت عطاکی۔ مہاراجہ رنبیر سنکھ نے ریاست میں ترجمے کے کام کو دوام عطاکیا۔ ان کے علمی کارناموں کے سبب انہیں سرسید ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ مولانا آزادیونیور سٹی،حیدرآباد کے ڈاکٹر ابوالکلام نے ”ترجمے کے نئے اصول وضوابط: ایک جائزہ“ پیش کیا۔جس میں انہوں نے ترجمہ نگاروں کے تعلق سے مغربی دانشوروں کی آراکا جائزہ لیا۔مدورائی یونیور سٹی،چینئی کے ڈاکٹر کھنڈوے چندو 

نے ”اردو شاعری کا ہندی پر اثر،غزل کے خصوصی حوالے سے“میں امیر خسرو سے بیسویں صدی تک کی اردو غزل کا مختصر جائزہ پیش کرتے ہوئے ہندی غزل پر اس کے اثرات پر گفتگو کی۔پروفیسر انل کماررائے نے صدارتی خطبے میں کہا”یہ حسن ِاتفاق ہے کہ یہ پورا اجلاس ہندوستانی ہو گیا ہے۔اس اجلاس میں عمدہ پر چے پڑھے گئے۔“
تیسرے دن کے دوسرے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر رجب درگن نے کی اور ڈاکٹر فرحت جبیں ورک نے ’کرنل مسعود اختر شیخ کے تراجم کا ترک پاک رشتوں پر اثر‘ میں کرنل مسعود کے ذریعہ ترکی کے 32 ادیبوں کی کہانیوں کے ترجمے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی محترمہ پروفیسر انوپما (شعبہ ہندی، انقرہ یونیورسٹی) نے ترکی اور ہندوستانی زبانوں کا تعلق کے موضوع پر مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو اور ہندی میں بے شمار الفاظ ترکی کے پائے جاتے ہیں۔ شلوار، چہرہ، کتاب، قلم جیسے بہت سے لفظ ہیں جو ترکی اور ہندوستان میں بولے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر رجب نے دونوں مقالات کو بہتر قرار دیا۔
اختتامی اجلاس
ترکی کے معروف مقام سیاحت انتالیہ میں انقرہ یونیورسٹی کی جانب سے منعقد پہلی بین الاقوامی اردو کانفرنس کا شاندار طریقے سے اختتام ہوا ۔
ا ٓ خری اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پرفیسر ارتضیٰ کریم (ڈائرکٹر، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی) نے کہا ”یہ پہلی بین الا قوامی کانفرنس ’مطا لعہ ندیمیات‘کے نئے دروا کرے گی۔ انقرہ یونیورسٹی کی یہ کوشش ہند و پاک میں بھی اپنے اثرات قائم کرے گی۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اس موقعے پر اعلان کیا کہ احمد ندیم قاسمی پر پڑھے گئے مقالات کو قومی کونسل احمد ندیم قاسمی نمبر کی شکل میں اپنے سہ ماہی مجلہ فکر و تحقیق میں شائع کرے گی۔
اختتامی اجلاس کو خطاب کر تے ہوئے محترمہ ناہید قاسمی نے کہا کہ مجھے بے انتہا خوشی کا احساس ہورہا ہے کہ میں اپنے والد کے صد سالہ یوم پیدائش پر منعقدہ پہلی عالمی کانفرنس میں بہ نفس نفیس موجود رہی۔ کانفرنس میں احمد ندیم قاسمی کی تفہیم کے نئے نئے پہلو سامنے آئے ہیں۔
کانفرنس کی روح رواں انقرہ یونیورسٹی کی صدر شعبہ اردو محتر پروفیسر آسماں بیلن آزگن نے بے حد جذباتی لہجے میں شرکا کا شکریہ اداکیا۔ معروف نقاد پروفیسر انوار احمد نے اس موقعے پر کہا کہ ہم سب انقرہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے شکر گزار ہیں جس کے سبب ایک اتنا بڑا ادبی جشن منعقد ہو پایا۔ محترم اصغر ندیم سید، پروفیسر انل کمار رائے اور پروفیسر شاہد اقبال کامران نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کیا۔
کانفرنس کے دوران شاندار Dance and Songs،احمد ندیم قاسمی کا 100 واں یومِ پیدایش (بڑا سا کیک کا ٹا گیا، پاکستانی قوالیاں اور ہندوستانی گانے سنوائے گئے)، سمندری ساحل پر شب میں مخصوص پارٹی،وغیرہ کا بھی انعقاد ہوا۔رقص و موسیقی کے پروگراموں میں صدر شعبہ ء اردو،دیگر اساتذہ اور انقرہ یونیور سٹی کے طلبہ اور طالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اور مست ہو کر ترکی رقص کیا۔
کانفرنس کا اختتام 15اکتوبر کو لنچ سے پہلے ہو گیا تھا۔لنچ کے بعد آس پاس کے سیاحتی مقامات کی سیر کرائی گئی۔16اکتوبرمولانا رومی کے آستانے پر حاضری دیتا ہوا کچھ مخصوص لوگوں پر مشتمل یہ ادبی کارواں،شام میں انقرہ یونیورسٹی پہنچا۔آہندہ کے منصوبوں پر غور وفکر،لیکچر اور سیاحت کے بعد سبھی اپنے اپنے ممالک کو واپس ہوئے۔
یہ کانفرنس انقرہ یونیورسٹی، ترکی کی مہمان نوازی کے لئے بھی یاد ر ہے گی۔تمام جدید سہولیات سے مزین یونیورسٹی کے ہو ٹلORSEM کی شاندار عمارت۔ناشتہ،ظہرانہ،عشائیہ،شام کی چائے۔۔سب کچھ اپنے وقتِ مقررہ پر۔۔۔مختلف اقسام کے شہد، زیتون اور انجیر،دودھ،سوفٹ ڈرنکس انڈے مختلف انداز میں پکے ہوئے،انواع اقسام کے پھل،پھلوں کے رس،متعدد قسم کے سوپ،مچھلی کی طرح طرح کی ڈشیز۔۔بے مزہ چکن، روٹی کی شدید خواہش اور کالی کلوٹی بے کار سی چائے اور مچھلی نما بڑی بڑی بریڈ۔سبزیوں کی عجیب وغریب کائنات، کھانے سے کئی گنا کھانا برباد کرنا،ہر ڈش کو چکھنا اور پسند نہ آنے پر چھوڑ دینا،ہر لمحے برتن اٹھانے پر معمور انتہائی خوبصورت مستعد نوجوان لڑکے لڑکیاں۔ہر طرف ترکی زبان۔انگریزی کی بے قدری۔اپنا مافی الضمیر ادا کرنے میں ہونے والی پریشانیاں اور اشاروں کا استعمال۔ سمندری ساحل کی سیر و تفریح۔ ہر خریداری میں لیرا (ترکی کرنسی)،ڈالر اور روپیہ کا حساب کتاب، کانفرنس کی یہ یادیں ہمیشہ تازہ رہیں گی۔ ( ترکی سے ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کی رپورٹ)

 

تنویر اختر رومانیؔ،زندگی کی حقیقتوں کو افسانہ کر نے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں: ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ

تنویر اختر رومانیؔ،زندگی کی حقیقتوں کو افسانہ کر نے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں: ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ
ادارہ ادب ِ اسلامی،جمشید پور کے زیرِاہتمام،تنویر اختررومانیؔ کے افسانوں کے پہلے مجموعے ”ببول“ کی تقریبِ رسمِ رونمائی

                   جمشید پور (27 اکتوبر): ”زندگی سے مردِ آہن کی طرح آنکھیں ملانا سب سے بڑا فن ہے او رتنویر اختر رومانی ؔنے ایسے فن کو برتا ہے۔ برسوں وہ حقیقت کو افسانہ اور افسانے کو حقیقت سے روشناس کراتے رہے۔ کبھی اپنے کردار پر حرف نہیں آنے دیا۔ نئی نسل کی تعلیم وتربیت، ادب کی خدمت اور آپسی میل جول اور بھائے چارے کے فروغ میں اپنا صد فی صد وقت دینے والے ایک عظیم انسان، ایک فنکار کا نام تنویر اختر رومانیؔ ہے جو زندگی کی حقیقتوں کو افسانہ کر نے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔“ان خیالات کا اظہار چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ کے صدر شعبہ اردو، ڈاکٹر اسلم جمشیدپوریؔ نے تنویر اختر رومانیؔ کے افسانوں کے پہلے مجموعے ”ببول“ کی رسمِ رونمائی کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تنویر اختر رومانیؔ کی کئی کہانیاں ایسی ہیں جو سماج کا آئنہ ہیں۔ببول،دنگل،روٹی مانگتی زندگی،بھروسہ،بند مٹھی کا کرب ایسے ہی افسانے ہیں۔ان افسانوں کے کردار،حقیقی زندگی کے کردار ہیں جو ہمارے آس پاس چلتے پھرتے ہیں۔
ادارہ ادبِ اسلامی، شاخ جمشیدپور کی جانب سے جماعت اسلامی ہند، آزادنگر، جمشیدپور کے کانفرنس ہال میں جمشید پور کے کہنہ مشق افسانہ نگار تنویر اختر رومانیؔ کے افسانوں کے پہلے مجموعے ”ببول“ کی رسمِ رونمائی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔کتاب کی رونمائی مہمانانِ خصوصی ڈاکٹر اسلم جمشیدپوریؔ، ڈاکٹر محمد زکریا(پرنسپل کریم سٹی کالج) اور نامور افسانہ نگار،ڈاکٹر اختر آزادؔ،سعید فردوسی(صدر،ادارہ ادب اسلامی)اور ممتاز شارق نے اجتماعی طور پر کی۔تقریب کا آغاز شام کے چھ بجے اشرف علی اشرف کی تلاوت ِ قرآن اور ”حمد“ سے ہوا۔اس کے بعد نامور افسانہ نگارممتاز شارق نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔
ڈاکٹر اختر آزاد ؔنے کتاب”ببول“کے افسانوں کا بھر پور جائزہ پیش کیا۔صاحبِ کتاب تنویر اختر رومانیؔ نے ”کچھ بیاں اپنا“ کے عنوان سے اپنے افسانوی سفر کی روداد بیان کی۔ڈاکٹر محمد زکریا نے تنویر اختررومانیؔ پر بہت ہی خوبصورت خاکہ پڑھا جسے سامعین نے بے حد سراہا۔
اس تقریب کی صدارت جناب سعید فردوسی فرمارہے تھے جب کہ نظامت کی ذمہ داری پروفیسر جاوید اختر انصاری(شعبہ اردو جمشیدپور ورکرس کالج)نبھارہے تھے۔ہدیہ تشکر ممتاز شارق نے پیش کیا۔
تقریب میں اچھی خاصی تعدادمیں ادب اور سماج کے کئی معروف خواتین و حضرات شریک تھے جن میں ظفر امام (امیر حلقہ، جماعت اسلامی ہند، جھارکھنڈ)،، رضوان اورنگ آبادی (ہیڈ ماسٹر کبیر میموریل اردو ہائی اسکول)،ابرار احمد(ہیڈ ماسٹر کبیریہ ا ردو مڈل اسکول،ذاکرنگر)،شمیم احمد منھ پھٹ مدنی، انورامام، شاکر عظیم آبادی(بیوروچیف روزنامہ قومی تنظیم، پٹنہ) پروفیسر احمد بدر، پروفیسر افسر کاظمی،پروفیسر یحییٰ ابراہیم،نامہ نگار ایم ندیم احسن،نیاز اختر، پروفیسر گوہر عزیز، سلطان احمد ساحل،خورشید ازہر، مشتاق احزن،یوسف دانش،ناصرہ خاتون (ناظمہ حلقہ خواتین، جماعت اسلامی ہند، جمشیدپور)پروفیسر سیما انور، پروفیسر انجم پروین،ڈاکٹر نزہت پروین وغیرہ تھے۔رات ساڑھے آٹھ بجے تقریب کا اختتام ہوا۔

فرقان سنبھلی کو پی ایچ ڈی ڈگری تفویض (علی گڑھ)

فرقان سنبھلی کو پی ایچ ڈی ڈگری تفویض
(علی گڑھ)

                         ادیب و افسانہ نگار محمد فرقان سنبھلی کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے شعبہ اردو کے لئے تحریر کردہ مقالے پر پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی ہے۔کنٹرولر آف ایگزام،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق محمد فرقان(سنبھلی)نے شعبہ اردو کے سینئر پروفیسر اور معروف نقاد پروفیسر ابوالکلام قاسمی کے زیر نگرانی ”روہیلکھنڈ میں اردو افسانے کا ارتقاء“ کے موضوع پر مقالہ مکمل کیا تھا۔جس کے بیرونی ممتحن جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی کے پروفیسر عبید الرحمن ہاشمی نے مقالے کو اہم تحقیقی کام قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مقالے میں خطہ روہیلکھنڈ میں اردو افسانے کے ارتقاء کو سمجھنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے ساتھ ہی روہیلکھنڈ علاقے کی اردو افسانے کو دین کو بھی سلیقے سے پیش کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ فرقان سنبھلی نے تقریبا سولہ سال سول انجینیرنگ کے شعبہ میں کام کرنے کے بعد اردو سے اپنی محبت کے لئے پی ایچ ڈی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ نو(9) اہم کتابوں کے مصنف محمد فرقان سنبھلی کو بہار اور یوپی کی اردو اکادمیوں سے سات (7)قومی سطح کے ایوارڈ مل چکے ہیں۔ وہ اب تک کل (21) اعزاز و انعامات سے نوازے جا چکے ہیں۔انھیں حال ہی میں الفلاح یونیورسٹی نے ایک تعلیمی کانفرنس کے دوران ایوارڈ سے بھی نوازا ہے۔وہ ساٹھ(60)سے زائد انٹرنیشنل اور نیشنل سیمیناروں میں تحقیقی مقالے پیش کرنے کے علاوہ ان کے سو (100) سے زائدمضامین و مقالات موقر رسائل و جرائدمیں شائع ہو چکے ہیں۔فرقان سنبھلی کی کتابیں مصر قدیم،آئینہ فلکیات،اردو صحافت اور ضلع مرادآباد،ترک اور سنبھل سرکار،نقوش قلم،روہیلکھنڈ میں لوک گیتوں کی روایت وغیرہ ملک اور بیرون ملک خاصی مقبول ہوئی ہیں اور ریختہ ڈاٹ آرگ ،بزم اردو لائبریری کے ساتھ مختلف ویب سائٹس پر بھی دستیاب ہیں۔ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ٓاب حیات بھی بے حدپسند کیا گیا تھا اور دوسرا افسانوی مجموعہ طلسم شائع ہوکر مقبول ہو چکا ہے۔فرقان سنبھلی کی دو کتابیں،”سفرنامہ ناروے کا ترجمہ اور صحافت،انٹرنیٹ اور اداریہ نویسی“ بہت جلد شائع ہو رہی ہیں۔فرقان سنبھلی فل حال ویمنس کالج علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے اردو سیکشن سے وابستہ ہیں۔

شعبہ اردو میں مرحوم شمس الدین کی یاد میں تعزیتی جلسہ کا انعقاد

شعبہ اردو میں مرحوم شمس الدین کی یاد میں تعزیتی جلسہ کا انعقاد
(پریس ریلیز)
7/جون2016ء

                     خدائے برتر نے انسان کو عجیب و غریب خصائل سے نوازا ہے۔ کبھی انسان ضروری وسائل اور ساز گار ما حول کے با وجود اپنا نصب العین حاصل نہیں کر پاتا ہے تو کبھی وسائل کی کمی اور ناسازگار ما حول میں بھی وہ ایسے کار نا مے انجام دے جاتا ہے کہ وہ مثال کی حیثیت رکھنے لگتے ہیں۔ایسے ہی مثا لی کا ر نامے انجام دینے والوں میں مرحوم شمس الدین کی شخصیت بھی تھی۔ تعلیمی درسگاہوں کے فقدان اور دیہاتی ماحول میں پرورش پانے کے با وجود دھنو را،ضلع بلند شہر کے ساکن مرحوم شمس الدین نے اپنی ذاتی کو ششوں سے علاقے میں پہلی مرتبہ ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا تھا۔ ان کی یہ کاوش اہل علا قہ کے لیے قابل فخر تھی اور انہوں نے انہیں ”بابو جی“ کے نام سے موسوم کردیا تھا۔ انہوں نے اپنے علاقے کے کئی بچوں کی ادھوری تعلیم مکمل کرا کر ملازمت کے لیے راہ استوار کی تھی۔ان کا5/جون2016 ء کو اچا نک حر کت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے 85سال کی عمر میں انتقال ہو گیا تھااور انہیں اسی دن بعد نماز مغرب تیج گڑھی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا تھا۔
آج 7/ جون2016ء کو ساڑھے بارہ بجے سید اطہر الدین میمو ریل سوسائٹی کی جانب سے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے کیے شعبہ اردو چو دھر ی چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ میں ایک تعزیتی جلسے کا انعقاد کیا گیا۔جلسے کا آغاز سعید احمد نے تلا وت کلام پاک سے کیا بعد ازاں محمد صادق نے اپنی مترنم آ واز میں ہدیہ نعت پیش کیا۔ تعزیتی جلسے میں اہل خانہ کے علاوہ دوست احباب نے شر کت کی۔اس مو قع پر اپنے وا لد کو یاد کرتے ہو ئے صدر شعبہ اردو ڈا کٹر اسلم جمشیدپوریؔ نے روتے ہو ئے کہا کہ میرے والد کا انتقال میرے لیے دنیا کا سب سے بڑا حادثہ ہے۔کیونکہ میں اپنی پو ری زندگی پر نظر ڈا لتا ہوں تو زندگی کا ہر لمحہ ان کے احسانات سے گراں بار نظر آ تا ہے۔انہوں نے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے کے ساتھ ساتھ عملاً ان کو شر مندہئ تعمیر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ان کے بڑے صاحبزادے محترم یا مین نے اپنے والد کی یادوں کو تازہ کرتے ہو ئے کہا کہ میں نے ان کو ہمیشہ دوسر وں کے ساتھ بھلائی کرتے اور ان کے لیے کچھ بہتر کرنے کا جذبہ رکھتے ہو ئے دیکھا تھا۔
ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ انسان دنیا میں اللہ کا نائب و خلیفہ ہے۔ اس کا فرض ہے کہ وہ بنا تفریق و مذہب و ملت انسانیت کی خد مت کرے۔ مرحوم شمس الدین نے اپنی پو ری زندگئی اسی فرض کو پورا کر نے میں گذاردی۔
ڈا کٹر شاداب علیم نے کہا کہ مرحوم دوسروں کی حوصلہ افزائی کر کے انہیں کامیابی تک پہنچانے میں مدد کرتے تھے۔اس موقع پر معروف شاعرڈا کٹر ایشور چندر گمبھیر،جمشید پور سے آئے محترم نوشاد عالم اور مولانا ٓزاد نیشنل اردو یونیورسٹی،حیدر سے تشریف لا ئے ڈا کٹر ظفر گلزار نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
تعزیتی جلسے میں ڈا کٹر ارشد اقبال،محمد اقبال،ڈاکٹر الکا وششٹھ، سنیل گجراتی۔کامران زبیری،عبد القادر ،ابولکلام خان طلبہ طالبات اور عمائدین شہر نے شرکت کی۔

مدیحہ اسلم ؔنے بایو لوجی میں نام روشن کیا

 مدیحہ اسلم ؔنے بایو لوجی میں نام روشن کیا

                     میرٹھ (۲۲ مئی) : معروف افسانہ نگار اور صدر،شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یو نیور سٹی،میرٹھ ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کی صاحبزادی مدیحہ اسلم ؔنے سی بی ایس سی کے بارہویں کے امتحان میں بایو لوجی میں 94% نمبر حاصل کرکے اسکول کا نام روشن کیا ہے۔میرٹھ پبلک گرلس اسکول، شاستری نگر،میر ٹھ کی طالبہ مدیحہ اسلمؔ نے مجموعی طور پر 81.3% نمبر حاصل کئے ہیں۔ مدیحہ اسلمؔ نے اپنے مستقبل کے منصوبے کے بارے میں بتایا کہ وہ گریجو یشن کے بعد سول سروسز کی طرف جائیں گی۔

شعبہ اردو، سی سی ایس یونیورسٹی اور وی کمٹ کی جانب سے مقابلہ بیت بازی کا انعقاد

شعبہ اردو، سی سی ایس یونیورسٹی اور وی کمٹ کی جانب سے مقابلہ بیت بازی کا انعقاد
7/ مئی2016ء

                شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ اور میرٹھ کی ایک معروف سماجی تنظیم وی کمٹ اور اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ کے مشترکہ اہتمام سے ایک عظیم الشان بیت با زی مقابلہ کا انعقاد صبح دس بجے سے یو نیورسٹی میں واقع برہسپتی بھون میں کیا گیا۔ جس میں میرٹھ اور آس پا س کے اضلاع کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ اس کا مقصد اردو کی اس اہم قدیم ادبی روا یت کو نئی نسل تک پہنچا نا تھا۔ پرو گرام میں مہمان خصوصی کے طور پر اتر پردیش اردو اکا دمی کے چیئر مین اور معروف شاعر ڈا کٹر نواز دیو بند، مہمان ذی وقار کے بطور مو لا نا آزاد نیشنل اردو یو نیورسٹی حیدر آ باد کے فا ؤنڈر وا ئس چا نسلر پرو فیسر شمیم جے راج پوری اور ججز کے بطور ڈاکٹر یونس غازی، ڈاکٹر سمنیش سمن، ڈا کٹر فر قان سردھنوی، نذیر میرٹھی، منوج کمار منوج اور رام گوپال بھارتی شریک ہو ئے۔جب کہ اسٹوپ واچ کی ذمہ داری مرزا منہاج اور نظا مت کے فرائض آفاق احمد خاں اور ڈا کٹر آصف علی نے انجام دیے۔ ڈاکٹر اسلم جمشیدپوریؔ نے بیت بازی کی اہمیت اور اصول و ضوابط پر روشنی ڈالی۔ ڈا کٹر شاداب علیم نے مہمانوں کا تعارف وی کمٹ کے نائب صدر ڈاکٹر شیو چرن شرما مدھر نے،مہمانوں کا استقبال اور وی کمٹ کی صدر رما نہرو نے شکریے کے فرا ئض انجام دیے۔
یہ مقابلہ بیت با زی دو حصوں انٹر سیکشن اور ڈگری سیکشن میں منقسم تھا۔ انٹر سیکشن میں حصہ لینے وا لی ٹیموں کے نام اسماعیل نیشنل گرلز انٹر کالج، تحصیل،میرٹھ،حمید یہ گرلز ہائی سیکنڈری اسکول، میرٹھ، اسماعیل نیشنل گرلز انٹر کالج، شاستری نگر، میرٹھ گرلز انٹر کالج، میرٹھ، ملینم پبلک اسکول،باغپت روڈ میرٹھ۔ آ رین پبلک اسکول، مودی پورم،آئی آئی ایم ٹی،گنگا نگر اور این۔ اے۔ایس انٹر کالج، میرٹھ اورڈگری سیکشن میں اسماعیل نیشنل گرلز پی جی کا لج،میرٹھ، ٹی جی ٹی کالج آف ایجو کیشن، سہارنپور اور شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ جنہیں بدریج اسما عیل میرٹھی، علامہ اقبال، حفیظ میرٹھی، حا لی، امیر خسرو، دشینت، ذوق، نرا لا، میر، پنتھ اور غا لب نام دیے گئے تھے۔ انٹر سیکشن میں پہلا انعام اسماعیل نیشنل گرلز انٹر کالج، پرا نی تحصیل، میرٹھ، دو سرا انعام میلنیم پبلک اسکول، با غپت روڈ میرٹھ اور تیسرا انعام اسماعیل نیشنل انٹر کالج، میرٹھ جب کہ ڈگری سیکشن میں پہلا انعام شعبہ اردو، کیمپس، دوسرا انعام اسماعیل نیشنل پی جی کالج، میرٹھ اور تیسرا انعام ٹی جی ٹی کالج آف ایجو کیشن، سہارنپور نے حا صل کیے۔مذکو رہ انعا موں کے علاوہ، مین آف دی میچ کی طرز پر وومین آف بیت بازی کا اعزاز ملینیم پبلک اسکول کی ماریہ اور مین آف بیت بازی کا اعزاز ٹی جی ٹی کالج آف ایجو کیشن، سہارنپور کے شاہ اسد راشد کو پیش کیا گیا۔
اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے ڈا کٹر نواز دیو بندی نے کہا کہ بیت بازی جیسے یہ پرو گرام بڑے بڑے اداروں کے ساتھ ساتھ گا ؤں، قصبوں اور گلی محلوں کے چھوٹے چھوٹے اسکولوں تک میں منعقد ہونے چا ہیے۔ کیونکہ ان سے طلبہ کی ذہنی ورزش اور صحیح تلفظ کے علاوہ، اخوت و مساوات اور بھائی چارے کا ما حول پیدا ہو تا ہے۔
پرو فیسر شمیم جے راج پوری نے اتر پردیش اردو اکا دمی، لکھنؤ، شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ اور وی کمٹ،میرٹھ کے اراکین کو مبارک باد دیتے ہو ئے کہا کہ اس بیت بازی کے مقابلے کو منعقد کر کے ان اداروں نے ایک قدیم ادبی روا یت کو زندہ کیا ہے۔ یہ انتہائی قابل تحسین قدم ہے۔اس سے اردو زبان کے فروغ کے ساتھ ساتھ آپسی بھا ئی چارے کا ما حول بھی پیدا ہو تا ہے۔
اس مو قع پر پرو فیسر اے کے چو بے، جمال احمد صدیقی، ڈا کٹر ظفر گلزار، پشپا نہرو، ڈاکٹر الکا وششٹھ، سلیم سیفی، پون کمار، محمد زید، عرفانی بیگم سمیت کثیر تعداد میں شہر کے اسکول و کالجز کے اساتذہ و طلبہ شریک ہو ئے۔

شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں ایک پریس کانفرنس منعقد ہوئی۔

پریس ریلیز

4/ مئی2016ء

                شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں ایک پریس کانفرنس منعقد ہوئی۔

                شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں ایک پریس کانفرنس منعقد ہوئی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے صدر شعبہ اردو ڈا کٹر اسلم جمشید پوریؔ نے کہا کہ اردو ادب کی کچھ روا یتیں ایسی ہیں جو زمانے کے ساتھ ساتھ مفقود ہو تی جا رہی ہیں۔ ان ہی میں سے ایک بیت بازی بھی ہے جس کا ماضی تو شانداررہا ہے لیکن آج کی اس برق رفتار زندگی میں یہ روا یت دم توڑ رہی ہے۔ہماری نئی نسل تو اس سے تقریبا نا آشنا ہے۔ اسی روایت کو زندہ رکھنے اور نئی نسل تک پہنچا نے کی غرض سے شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ اورمیرٹھ کی معروف سماجی تنظیم وی کمٹ کے اشتراک سے اس روایت کو پھر سے زندہ رکھنے کی خاطرزونل سطح پربیت بازی کے مقابلے کا اہتمام کررہا ہے۔ یہ مقابلہ7/مئی2016ء کو بوقت صبح10:00بجے یو نیورسٹی کے احاطے میں منعقد کیا جائے گا۔

                 وی کمٹ تنظیم کی صدر رما نہرو نے بتا یا کہ اس بیت بازی مقا بلے میں میرٹھ کے اسکول و کالجز کے علا وہ مظفر نگر،سہانپور، انبیٹہ،گنگوہ، بلند شہر وغیرہ اسکول و کالجز کی ٹیمیں کافی تعداد میں حصہ لیں گی۔ ڈاکٹر آصف علی نے بیت بازی کے اصول و ضوابط پر روشنی ڈالتے کہا کہ بیت بازی مقا بلے کی شرطیں اس طرح ہوں گی۔

                1۔           ایک کالج سے تین طالب علم اس مقابلے میں شرکت کرسکتے ہیں۔

                2۔           غیر معیاری اشعار،فحش اور فلمی گانوں کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔

                3۔           کسی ایک شعر کا استعمال ایک راؤنڈ میں دوبار نہیں کیا جائے گا۔

                4۔           کسی بھی متنا زع معا ملے میں ججس کا فیصلہ حتمی ہو گا۔

                5۔           شعر کا جواب20سکنڈ میں دینا لازمی ہو گا اور جواب نہ دینے اور وقت پورا ہوجانے کی صورت میں مخالف ٹیم کو 10سکنڈ میں جواب دینا ہوگا۔

                پریس کانفرنس میں ڈاکٹر شاداب علیم نے شعبہ اردو اور پشپا نہرو نے وی کمٹ تنظیم کی کار کردگی کے تعلق سے معلومات فراہم کیں۔پریس کانفرنس میں ڈا کٹر الکا وششٹھ بھی موجود رہیں۔

عالمی پرواز ڈاٹ کوم کے مدیران پرویزؔ اور نغمہؔ کی ہمسفری

عالمی پرواز ڈاٹ کوم کے مدیران 
پرویزؔ 
اور  
نغمہؔ 
کی ہمسفری، 
(پرویز ؔکے مہتاب
کو
نغمہؔ پر ناز
ہوا)
کے یاد گار لمحات
کو سلام
دعا ہے
کہ دونوں یو ں
ہی ہمراہ رہیں
اور
نئی نئی منزلیں
سر کریں

مبارکباد

ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ
نگراں
عالمی پروازڈاٹ کوم

شعبہ اردو،سی سی ایس یومیں ”نرگس کے پھول“ کا اجراء

شعبہ اردو،سی سی ایس یومیں ”نرگس کے پھول“ کا اجراء
(پریس ریلیز)
میرٹھ22/ جنوری2016

شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ اور کیلاش راج سیوا گیان سمیتی کے مشترکہ اہتمام میں میرٹھ کے معروف افسانہ نگار سنیل گجراتی کے افسا نوی مجمو عے”نرگس کے پھول“ کا اجراء عمل میں آیا۔ پرو گرام کی صدارت کے فرائض صدر شعبہ اردو ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری ؔنے انجام دیے۔مہمانان خصوصی کے بطور نائب شیخ الجامعہ پرو فیسر ایچ ایس سنگھ اور ڈا کٹر کلدیپ اُجول(وزیر حکومت اتر پردیش) شریک ہوئے جب کہ مہمانان ذی وقار کے طور پر پرو فیسر وائی وملا(ڈی ایس ڈبلیو، سی سی ایس یو)۔مراد احسن(انجینئر، سہارنپور) اور معروف ہندی شا عر ڈا کٹر ایشور چند’گمبھیر‘ نے شرکت کی۔نظا مت ڈا کٹر آصف علی، استقبال ڈا کٹر شاداب علیم اور شکریے کی رسم آبھا شرما(صدر،کیلاش راج سیوا گیان سمیتی) نے انجام دی۔
تقریب کا آ غاز مہما نان نے شمع رو شن کر کے کیا اور مہمانوں کو پھولوں کا نذرا نہ پیش کیا گیا۔اس مو قع پر محمد صادق نے اپنی مترنم آواز میں اقبال کی غزل پیش کر کے سامعین کو مسحور کردیا۔ بعد ازاں مہمانان کے ہاتھوں ”نرگس کے پھول“ کا اجراء عمل میں آیا۔ سنیل گجراتی کا تعارف ڈا کٹر آصف علی نے پیش کیا اور اس مجمو عے پر ڈا کٹر الکا وششٹھ نے بھر پور تبصرہ پیش کیا۔
اس موقع پر پرو فیسر ایچ ایس سنگھ نے سنیل گجراتی کو مبا رک باد دیتے ہوئے کہا کہ نر گس کے پھول میں شامل کہا نیاں سماج کو اچھائی کی طرف لے جانے کی ایک انمول کوشش ہے۔ یہ کو شش اگر چہ ہر فن کا ر کے یہاں پائی جاتی ہے مگر سنیل گجراتی کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے معاشرے کے عام اور روز مرہ کے واقعات کو منتخب کیا ہے اور ان سے جو تانا بانا بنا ہے اس سے ایک عام آدمی بھی بنا کسی غورو خوض کے نتیجہ اخذ کر لیتا ہے۔
پروفیسر وائی وملا نے ادب کی اہمیت پر رو شنی ڈا لتے ہو ئے کہا کہ ادب کی تخلیق صالح معاشرے کے لیے انتہا ئی ضروری ہے۔ ما دی وسائل انسان کو ما دی آسائش تو فرا ہم کرا سکتے ہیں رو حانی تسکین نہیں۔ رو حانی تسکین صرف اخلا قی قدروں کی بدو لت حاصل ہو سکتی ہے اور اخلا قی قدریں ادب کے ذریعے نئی نسل میں ودیعت کی جا سکتی ہیں۔ اس اعتبار سے سنیل گجراتی کا کار نامہ لائق مبا رک باد ہے۔
ڈاکٹر کلدیپ اُجول نے کہا کہ ماضی میں گھر کے بزرگ سو نے سے پہلے بچوں کو کہانیاں سنایا کرتے تھے جن سے ان کے اندر اخلاقی قدریں اور سماج کے تئیں ذمہ داری کا احساس پیدا ہو تا تھا مگر یہ سلسلہ اب منقطع ہو تا جا رہا ہے جس کی بدو لت تیزی سے اخلا قی قدروں میں گرا وٹ آ تی جارہی ہے۔ میرے نزدیک اس سلسلے کی باز یافت ادب با لخصوص عام ادب کے ذریعے ممکن ہے۔ سنیل گجراتی نے بھی اپنی کہانیوں میں اس بات کا خیال رکھا ہے اس لیے مجھے امید ہے کہ ان کی یہ کہا نیاں اس خلا کو پر کر نے میں معاون ہوں گی۔اس مو قع پر ڈا کٹر ایشور چند گمبھیر اور انجینئر مراد احسن نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
آخر میں ڈا کٹر اسلم جمشید پوری ؔنے اپنے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہو ئے کہا کہ ادب سماج کا آ ئینہ ہو تا ہے اور سنیل گجراتی کی کہانیاں بھی سماج کو آئینہ دکھاتی ہیں۔یہ کہا نیاں ہما ری زندگی کے مختلف مناظر ہیں اور یہ سماج اور نو جوان نسل کو اچھائی کا راستہ دکھاتی ہیں۔
اس مو قع پرذیشان خان، آفاق احمد خاں،بھارت بھوشن شرما،انل شرما،تسلیم جہاں،اکرام بالیان، عامر نظیر ڈار، ارشاد سیانوی سمیت کثیر تعداد میں دانشوران شہر اور طلبا و طالبات نے شرکت کی۔

نورالعین ساحرہ بطور افسانہ نگار اور نقاد:باسط آزر

نورالعین ساحرہ بطور افسانہ نگار اور نقاد:باسط آزر

 

                      نور العین ساحرہ دو الگ طرح کی معاشرت سے براہ ِ راست متعلق ایک لکھاری ہے  اور جب بھی دو تہذیبیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہوتی ہیں ان میں انجذاب کا عمل شروع ہوتا ہے. یہی انجذاب جب  ایک تخلیقی صورت میں سامنے آئے تو اس میں انفرادیت پیدا ہونا کوئی  تعجب کی بات نہیں ۔ 
                ایلیٹ جب لکھاری کو اپنے سے پہلے لکھا گیا پڑھنے کا مشورہ دیتا ہے اور روایت کے ساتھ تنوع اور جدید عمل کی طرف بڑھنے کا کہتا ہے ، تو وہ ایک تناظر پیش کرتا ہے ، جس میں انفرادی صلاحیت کو بھی شامل کیا جاتا ہے اور خود ایلیٹ ایک ہی ثقافت یا کسی ملکی ادب کو پیش نہیں کرتا ، ہر تہذیب ہر جگہ لکھے جانے اور لکھنے والوں کو اپنی مٹی اور اپنے ادب سے جڑنے اور نئے ادبی ارتقا کی طرف دعوت دیتا ہے ۔
مارکسی تناظر آپ کو انسان پر ہونے والے ظلم اور ہر طرح کے جبر اور استحصال کا ادراک کرنے اور اسے تخلیقات میں پیش کرنے کی تحریک دیتا ہے جو قارئین تک جس حد تک ممکن ہو آسانی سے پہنچ سکے ۔۔ 
ساختیات لفظ اور علامت کے درمیان ربط کی طرف توجہ دلاتی ہے اور نئے سرے سے پرکھ اور تخلیق کو مہمیز کرتی ہیں ، اور پسِ ساختیات میں مصنف کی تخلیق سے علیحدگی تخلیق یا کام کے مکمل ہونے اور اشاعت کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے ، اور صرف شناخت یا پہچان کی صورت باقی رہ جاتی ہے ۔ 
یہ تمام باتیں کوئی تمہید نہیں بلکہ  نور العین ساحرہ کے بحیثیت لکھاری اور نقاد تعارف کا حصہ ہیں ۔ بحیثیت نقاد وہ اپنی تنقیدی صلاحیت سے تخلیق کو خود سے علیحدہ کر کے پرکھ سکتی ہیں ان کا ماضی کا مطالعہ اور ادب میں موجود عناصر اور لٹریری ڈیوائسز کا ادراک  ان کے بہترین اور بخوبی استعمال کا فن عطا کرتا ہے ۔ ایک اور خوبصورتی اور انفرادیت کہ نور اپنی تخلیقات میں زمین سے وابستہ رہتی ہے اور شاید ہی کہیں میٹا فزیکل ہوتی ہو ۔ وہ اپنی اصل میں مارکسی ہے ، ساختیاتی اور پس ِ ساختیاتی ادراک کے باوجود علامت کے استعمال تک کو عام فہم کے قریب لے آتی ہے ، 
                   ذیل میں اس کے کچھ افسانوں کا کچھ سطور میں مختصر جائزہ لینا اہم سمجھوں گا جو درحقیقت بطور افسانہ نگار نور العین ساحرہ کا درست تعارف ہوگا ، اور میری پہلے کی گئی بات کا جواز اور ثبوت بھی ۔
ابتدائی کچھ افسانوں کا مذکور ہونا ضروری نہیں ، مگر وہ نور کے تخلیقی سفر میں ایک اہمیت ضرور رکھتے

اس کے افسانہ پارکنگ لاٹ میں برف یا انجماد کے ساتھ ہی ایک ابتری اور کرب کی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے ، جو نئے ہمسائیوں کے سرد مہر رویے سے براہ ِ راست متناسب ہے ۔ علامات کے ساتھ وہ اس افسانہ کو عالمی تناظر کے ساتھ جوڑتے ہوئے باہمی ملاقات کے دوران ویٹو ، ( اقوام ِ متحدہ) پارکنگ ٹائم میٹنگ ، انتہائی مصروف زندگی کے ساتھ تمام کرداروں کو ایسی کردار سے ایک جڑت میں سموتی ہے جو کہ فطرت سے انس رکھتی ہے ، گویا اپنی زندگی میں مگن تمام کردار اس کے ذریعے فطرت کو دیکھتے اور خود میں بنیادی فطرت جو سب کو جوڑنے کا باعث ہے کو کھوج لیتے ہیں حتٰی کہ منحرف سرد مہر مکان میں موجود انسانی شکل کی برف بھی پگھلنے لگتی ہے ۔ 
ردِ تشکیل کے حوالہ سے اس کا مرکز اقوامی اتحاد ، فطرت سے قربت اور محبت ہیں اور امیجری پیسٹورل ۔ 
یوں سمبولزم (علامات ) ابرف باری ۔۔ سرد مہری ، ابتری ، المیہ ، بہار ۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی ، محبت خلوص اور ریزرکشن کے معنی لیتے ہوئے دونوں فلیش فاروڈ ڈیوائس کے طور پر سامنے اتے ہیں ۔ اور ایک علاقہ جو یونیورسل سمبل کی ایک کوشش کے طور پر ایک خیالی واحد وطن کا روپ دھارے ہوئے ہے ، مثالی تصور لے لیتا ہے ۔ سب سے اہم بات اس کا رجائی اختتام ہے ۔ جو امید بندھاتا ہے کہ تمام اقوام ایک دن اس دھرتی کو اپنا وطن سمجھ کر ایک ہو جائیں گی ۔ یوں یہ افسانہ ایک مثالی ( Utopian ) جہت بھی اختیار کر لیتا ہے_

                     آخری کہانی میں مزاحمتی ادب واضح ہے جو ایک کونفرمٹی اور انحراف کی ( Conflict between Conformity and deviance

 From macro to micro according to male chauvinism ) کو بنتا ہوا ، سفاکیت کے ساتھ بہت سے سوالات کے جواب دیتا اور نئے سوال سامنے رکھ جاتا ہے ۔ یہاں ایک عورت علامتی (سیمیوٹک ) طور پر عورت طقہ کی نمائندگی کرتے ہوئے اختتام پر واحد کی طرف لوٹ آتی ہے ۔ 
                    ردِ تشکیل کے حوالہ سے اس کا مرکز عورت کا صدیوں پرانا استحصال اور وہ کشمکش ہے ، جو معاشرہ اور اس کے مقام کے درمیان جاری ہے۔ یہی رد ِ تشکیل جب سوشل ماڈرنزم پر کی جائے تو پیٹریارکل آرکیوڈ سٹیٹس کے بوجھ تلے دبی تمام عورتوں کی کتھا ہے ۔ چاہے وہ دیوانگی کی اس سطح پر پہنچیں یا نہ پہنچیں ۔ 
امیجری زیادہ استعمال نہیں ہوئی ، علامات میکرو لیول کی ہیں ، جیسے عورت بحیثیت گھائل نصف آبجیکٹو کو ریلیٹو کے اعتبار سے ایک بہترین مثال ہے جسے انفرادی صلاحیت سے دور ِ حآضر کی کیفیات کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔ 

                     فیمینزم ۔۔۔ طربیہ اور المیہ ایک ساتھ سامنے آتے ہیں ، ایک قید عورت کی کہانی جس کی منزل آزادی ہے ۔ جس کا سفر آزادی نہیں مگر خواہش اور مقصد آزادی ہے ۔ جو کامیابی کا اعلان سن کر کیا محسوس کرے جب وہ اس کی ہو اور اسے حاصل نہ ہو سکے ۔ ایک مختصر افسانہ کی ایسی عمدہ مثالیں بہت کم دیکھنے میں آتی ہیں ۔ جس کا گراؤنڈ سوشلسٹ فیمینسٹ ہے ۔ ایک ہاؤس وائف کبھی اپنا مقام حاصل نہیں کر سکے گی ، جب تک وہ فیلڈ میں مرد کے برابر نہ آ سکے۔ 

                        تشکیک میں بہت سہولت اور آسانی کے ساتھ وہ ایک عام سوشل ڈسکورس کی شکار کردار کے ذریعے سمجھا جاتی ہے کہ ایسی آزادی کا تصور کتنے بڑے مغالطہ پر قائم ہے ، اور کیسے آئیڈیالوجی کے ذریعے معاشرے کے ہر فرد کو غلام بنا لیا جاتا ہے ( پسِ ساختیات )۔ یہ افسانہ  مکمل طور پر ایک فلسفہ اور سوکریٹک ڈائیلکٹکس کی عمدہ عملی مثال ہے ۔

                          ایک گاؤں کی کہانی قاری کو مذہب کے منفی استعمال اس کی وجہ سے ہونے والے عظیم نقصانات ، افراد کی منفی خواہشات اور برہنگی کا لبادہ بنتے اور زمین و فضا کو سرخ ہوتے دکھاتی ہے۔  اس افسانے کو (Social Psychological ) گراؤنڈ پر پرکھنا بہت اہم ہے ، معمولات ( Norms ) مذہبی ہوں یا غیر مذہبی ان میں اندھی تقلید اور عدم تجزیاتی رجحان بہت سی سٹیریو ٹائپس کو جنم دیتا ہے ۔ حاکم ، بارسوخ اور منفی رجحانات کا حامل مگر طاقتور طبقہ انہی کے زیر ِ اثر نسلوں کے ذہن نگل جاتا ہے ۔ ایسی جہالت جنم لیتی ہے جو علم کو زمیں بوس کر دیتی ہے ، قبائلی نظام کے ساتھ اس کی جڑت ، ( Pastoral ) گراؤنڈ اور ( Imagery ) کے ساتھ اسے معاشرتی عمرانیات کے ایک نمونے کی طرح لیا جا سکتا ہے ۔ جو ہماری موجود معاشرتی حالت کی نہ صرف عکاسی کرتا ہے بلکہ وجوہات تلک لے جاتا ہے۔ رد ِ تشکیل کے حوالہ سے اس کا مرکز بلوؤں کا جنم اور مظلوم طبقات کا معاشی و جانی زیاں و استحصال ہے ۔

                           تیری ذات کے حوالہ میں اگرچہ مذہبی عنصر کسی حد تک وکیلانہ رنگ میں ہے مگر واضح بیانیہ انسان دوستی اور محبت کا درس لیے ہوئے ہے اور مرکزی کردار کی خوبصورتی مذہب بدلنے سے پہلے بھی وہی تھی ، اور بدلنے کے بعد بھی ۔ یعنی عظمت مذہب بدلنے سے نہیں انسان سے محبت کرنے میں ہے ۔ ردِ تشکیل میں اس کا مرکز مذہب یا اسلام سمجھنے سے میں قطعاً متفق نہیں اور میرے رائے میں یہ انسانیت اور باہمی محبت ہے ، جو روشنی کی علامت سے واضح ہوتا ہے ۔ 

                             دیس ملکی اور ڈیاسپورا کا حسین سنگم اور ایک مکمل حزنیہ ہے جو ثقافتی تغیر ، رشتوں کو خواہشات اور زر کی بھینٹ چڑھانے سے انسان خود اپنے ہاتھوں مرتب کرتا ہے ۔ اس افسانہ کی خوبی اس کا دوسری زمینوں سے متعلق افراد کا اس میں انجذاب ہونے کا ناممکن عمل ، اپنی جڑوں میں کسی بھی شجر کے پیوست رہنے کی منطق کو واضح کرتا ہے ۔ دوسری طرف ( Conflict ) نمایاں ہے جو مارکسی معاشرتی تناظر میں انتہائی اہم ہے ، اور اس سے زیادہ اہم اس کا زر ، پرائمری گروپس ، فیملی اور پوسٹ ماڈرنزم سے متعلق ہونا ہے ( عمرانی طور پر ) ۔ 

                             سنو مین  ڈیاسپورا کی ایک خوبصورت مثال ہے ، اور جنسی خواہشات کی بے لگامی پر ایک کاری وار بھی ۔ جس کو بہت عمدہ افسانوی ترکیب سے سامنے لایا گیا ہے۔ نور العین ساحرہ کے ایسے تمام افسانے ان رنگین خوابوں کو بے وقعت ثابت کرتے ہیں جو یہاں سے بہتر زندگی کے طور پر دیکھے جاتے ہیں ، اور ان تمام مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ جو پردیس میں سامنے آتے ہیں انفرادی اور اجتماعی ذہنی زبوں حالی کی عکاسی بھی کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ ایک سچی لبرل ، اور سوشلسٹ فیمینسٹ کےٓ روپ میں سامنے آتی ہے ، جس کے سامنے صرف  حقیقت ہے ، شہرت کا کوئی سستا خواب ، پاپولر فکشن یا اس حوالے سے ( Pornographic lust ) نہیں ، جس کو وہ مشہور ہونے کا ذریعہ بنائے ۔ صاف واضح ہوتا ہے کہ وہ سچی لکھاری ہے ، اور وہ سچ لکھنا چاہتی ہے ، حقیقت کو رقم کرتی ہے ۔

                               شبانہ کا شوہر عورت کے گرد مصنوعی دیوار کی نشاندہی ہے ، جو معاشرتی کلامیہ کا ہی عکس ہے ، عورت کا المیہ جسے کوئی عورت ہی سمجھ سکتی تھی ۔ 

                               لبرل جڑیں اپنے اختتام پر پلٹتے ہوئے ایک ایسی حقیقت سامنے لاتا ہے جو انسان میں کسی وجہ سے ایک لمحہ میں رونما ہونیوالا ایسا تغیر ہے جو اس کو یکسر بدل کر رکھ دے ۔ اور ہر محبت ہر گمان پل بھر میں قصہؑ پارینہ محسوس ہو ۔ ایک خوبصورت ( Paradoxical creative work ).

                               دو اور دو بائیس ۔۔۔ ظاہر اور مخفی انسان کو بیک وقت سامنے لاتی ہے جو ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں ، اور افسوس کہ کامیاب بھی ، ایک المیہ جو ہمیشہ خلوص اور محبت کے لہو سے لکھا جاتا ہے ، مخلص اور سچے کردار (افراد) جس کی بھینٹ آسانی سے چڑھ جاتے ہیں . یہ افسانہ 
(True bad and false good conscious dual personality ) کی عمدہ مثال ہے ۔

                               ہولی گھوسٹ کی تکنیک پور فول ( دوستووسکی) کی تکنیک کے مشابہہ ہے جس میں انتہائی حساس موضوع اپنی جزئیات سمیت رقم ہے ۔ اس کو بجا طور پر ایک بہترین سائبر افسانہ کہا جا سکتا ہے۔ 

                             ان نمایاں افسانوں میں جو انڈو پاک کے مختلف اہم ادبی رسائل  کی زینت بن چکے ہیں ، نور مکمل طور پر اپنے پہلے زمینی مقام سے جڑی ہوئی نظر آتی ہے ۔ اور اسی زبان سے بھی جو اس زمینی مقام پر اس نے سیکھی ، ہجرت نے اسے ڈیا سپورا مسائل پر جو گرفت اور اوریجنیلیٹی عطا کی ہے وہ شاید کسی اور لکھاری (خصوصاً خواتین ) میں نظر نہیں آتی ۔ اس کی نمایاں خصوصیات میں عمرانی پہلوؤں پر اچھی گرفت ، ادبی اور تنقیدی مطالعہ اور سب سے اہم بات ایک اچھا مشاہدہ موجود ہے جس کے ساتھ تجزیاتی صلاحیت اس کے تخلیق کو انفرادیت اور نمایاں قوت عطا کرتے ہیں ۔ جیسا کہ پارکنگ لاٹ ، آخری کہانی ، ایک گاؤں کی کہانی اور دوسرے افسانوں میں نمایاں ہے ۔ 

                    پیچیدہ معاشرتی اور عالمی مسائل کو کلامیہ میں سادگی سے بیان کرنے سے لے کر ، علامات کے استعمال ، متنی پیچیدہ بنت ، نفسیاتی عوال اور وجوہات تک رسائی ، جزئیات نگاری پر گرفت ، انفرادی ، گروہی ، اجتماعی تناظر کو فرد ِ واحد میں سموتے ہوئے بیان کرنا ، تاریخی جبر کا ادراک اور تخلیق اظہار ، مرکز مائل اور مرکز گریز تخلیق کو خاص ترتیب سے کرافٹ میں لانا ، یہ تمام صلاحیتیں اس کے افسانوں میں نمایاں نظر آتی ہیں ۔ اور یقین کیا جا سکتا ہے کہ مستقبل کے سفر میں وہ اس میں اضافہ اور مزید نکھار لاتی جائے گی اور ہم کئی شہکار پڑھ کر حظ اٹھا سکیں گے۔ 

                    افسانے کے ساتھ ساتھ مجھے خوشگوار حیرت کا سامنا اس وقت ہوا جب میں نے ایسے مضامین پڑھ کر افسوس کرنا شروع کیا تھا ، جو خصوصا ساختیاتی اور پسِ ساختیاتی حوالوں سے لکھے جاتے ہیں اور ترجمہ شدہ یا جگالی زدہ مواد اپنے نام سے شائع کروایا جا رہا ہے ۔ گوپی چند نارنگ نے منٹو اور فیض پر کام کیا جس کو پڑھ کر تسلی ہوئی کہ کچھ ( Original ) سامنے آ رہا ہے ،پھر کچھ عرصہ پہلے نورالعین ساحرہ کا ثالث اور اس کے بعد انقلاب میں اداریہ ” اردوافسانے کا مستقبل ۔۔ عالمی تناظر میں ” پڑھنے کو ملا جس میں اس نے اردو ادب اور افسانہ نگاری کا جائزہ ( Colonial and postcolonial ) حوالہ سے لیا ۔ اگرچہ نئے لکھاریوں سے ایسا مواد نہیں مل سکا مگر امید ہے ایسے تنقیدی اور تعمیری اداریے اور کاوشیں ایک مہمیز کا کام کریں گی ۔ پرانے لکھاریوں جن میں احمد ندیم قاسمی ، منشی پریم چند اور قراۃ العین حیدر کا جائزہ سرسری بھی جتنا معنویت اور استدلال سے بھرپور ہے ۔ وہ گہری بصیرت کی کی طرف توجہ دلاتا ہے ۔ 
                     یہی گہری بصیرت اور تجزیاتی صلاحیت نور کے کافکا اور اس کے فکشن پر لکھے گئے مضمون میں اس سے بھی نمایاں نظر آئی ، کافکا جس کا جنم عظیم جرمن فلسفی مارکس ی وفات کے قریب قریب ہوا ،اسی دور کا شاہد اور اسی نظام کا مخالف ایک پیچیدہ ترین شخصیت اور پیچیدہ ترین مصنفین میں شمار کیا جاتا ہے جس پر قلم اٹھانا بھی حوصلے کی دلیل ہے ۔ اس مضمون میں میٹامورفوسز سے لے کر ٹرائیل اور دوسری تخلیقات کے بارے سرسری جائزہ اور تجزیہ لیا گیا وہ اپنی ایک الگ اہمیت رکھتا ہے ، مضمون کیونکہ مصنف کے کام اور اس کی زندگی دونوں سے متعلق تھا اس لیے تخلیقات کے ساتھ اس کے دور اور اس ذہن کا تجزیہ لازم تھا جو آپسی تفاعل کے بعد ایسی تخلیقات کا سبب بنے ۔

                      نور بحیثیت نقاد اسی گروہ میں شامل کی جا سکتی ہے جس میں ٹی ایس ایلیٹ سب سے اہم ہیں یعنی تخلیق کار اور نقاد ۔ یہ دونوں اوصاف اسے تخلیقی کام کے متن کو سمجھنے میں بہترین معاون ثابت ہوتے ہیں ، جیسا کہ اسکے اہم مضمون” منٹو کے افسانہ بو کے متنی جائزہ میں نمایاں ہے ، اگر وہ ہمارے ناقدین کے تنقیدی عمل سے مطمئن نہیں تو میں اسے بہر طور اس معاملہ میں حق پر سمجھتا ہوں ۔ کیونکہ وہ ماضی اور تخلیق کار کی ذات سے ہٹ کر فردا اور تخلیقی کام پر توجہ مبذول کرنے کی خواہشمند ہے ۔ بو کے متنی جائزہ میں منٹو پر پہلے سے کی گئی تنقید کو کسی حد تک نشانہ بنانے میں نور کامیاب نظر آتی ہے ۔ نسوانی کردار کا خاموش کٹھ پتلی بنے رہنا شاید ہی کوئی جائز قرار دے سکے ( میں خود منٹو کا قدردان ہوں ) ۔ گوپی چند نارنگ کے بقول اگر منٹو معاشرہ کو ماں کی نظر سے دیکھتا ہے ، تو بو کے معاملہ میں واقعی ایسا نظر نہیں آتا ۔ 
                       اپنی تنقید میں پروگریسو ایپروچ کے ساتھ پسِ ساختیات تک رسائی کی وجہ سے اس میں ایک بہت اچھی ابھرتی ہوئی نقاد کی جھلک نمایاں ہے ۔ جس کے ایک بہترین افسانہ نگار ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔

(باسط آزر)