سال نو میں سالِ گذشتہ کا محاسبہ : ڈاکٹر اسلم جمشیدپوریؔ
سال ِنو میں سالِ گذشتہ کا محاسبہ
ڈاکٹر اسلم جمشیدپوریؔ
وقت، ایک بہتا ہوا دریا ہے۔ایسا دریا جو ہمیشہ بہتا رہتا ہو۔ ٹک ٹک ٹک۔۔۔گردشِ لیل ونہار کا اشاریہ ہے۔ اقبال نے کیا خوب عکاسی کی ہے۔
سلسلہ ء روز وشب، نقش گرِ حادثات
سلسلہ ء روز وشب، اصلِ حیات وممات
یہ وقت کاسلسلہ ہے جو کبھی رکتا نہیں ہے،خواہ زلزلہ آئے،یا آسمانی بجلی گرے یا پانی اور ہواکتنا ہی طوفان اُٹھائے۔سکنڈ سے منٹ، منٹ سے گھنٹہ اور پھر دن، مہینے اور سال۔۔یہ سفر یو ں ہی جاری رہتا ہے ۔ جنوری میں سال شروع ہوتا ہے۔ہم نئے سال کا جشن مناتے ہیں۔ پھرپورے سال ہم موج مستی میں غرق، اپنی من مرضی کرتے،’ وقت‘ کو اپنے قدموں تلے روندے رہتے ہیں لیکن دسمبر کے آتے ہی منظر بدل جاتا ہے۔ وقت ہمیں روندتا ہوا بے رحمی سے گذرتا، خدا حا فظ کہتا، منہ چڑا تا،چلا جا تاہے۔ ہم ہوش میں آکر وقت کے پیچھے بھاگنے اور اسے پکڑ نے کی سعی ناکام کرتے رہتے ہیں۔ دسمبر ہمیں احساس دلادیتا ہے کہ ہم نے کتنی بیش قیمت چیز کو گنوا دیا ہے۔ جدھر دیکھئے، ایک افرا تفری کا عا لم ہو تا ہے۔
نیا سال، یعنی اکیسویں صدی کا ایک سال اور گذرا۔ نیا زمانہ۔اب آئی ٹی اور سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔ دنیا چھوٹی سی اسکرین میں سما چکی ہے۔ مو بائل نا می یہ چھو ٹا سا آلہ اپنے اندر نئی نئی دنیا ؤں کو بسائے دینا کا اہم ترین آلہ بن چکا ہے۔ ریلوے،ہوائی جہاز کا ٹکٹ، ٹیلیفون، بجلی کی بلنگ، بینکنگ، شاپنگ، کارو باری ڈیل، سے لے کر پڑھائی تک ہر کام میں موبا ئل ہماری مدد کرتا ہے۔ اتنی چھوٹی سی مشین میں دنیا کے سمٹ آ نے کے بے شمار فوائد ہیں۔ آپ کہیں ہوں، آپ کا کوئی ضروری کام، اب رکے گا نہیں، کوئی فارم ڈاؤن لوڈ کرنا ہو، فارم بھر کر جمع کرنا ہو موبائل آپ کی ہر جگہ مدد کرے گا۔ یہ سب I Tکی مدد سے ہوا ہے۔ یہ ایک انقلاب ہے۔ اس انقلاب کو مزید استحکام اور وسعت دینے کا کام سوشل نیٹ ورکنگ یعنی سوشل میڈیا نے کیا ہے۔ پہلے تو میڈیا ہی کم معاون تھا کیا؟ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بھی آئی ٹی کے سبب بہت زیا دہ تیز، بہتر، اثر دار اور پر کشش ہو گیا ہے۔ وائی فائی نے نیٹ ورکنگ کو خوب سے خوب تربنا دیا ہے۔ سماجی،سیاسی زندگی میں ایک انقلاب سا آگیا ہے۔انتخابات میں پارٹیاں اور امید واراب ان نئے میڈیا کا بہتر استعمال کر رہے ہیں۔ہر پارٹیاب انٹر نیٹ ر موجود ہے۔وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ اپنی بات اور پیغام ایس ایم ایس اور ای میل سے ارسال کرنے لگے ہیں۔عام آدمی تک جب وزیر اعظم کا میل پہنچتا ہے تو وہ خوش ہو جا تا ہے ۔یہ اکیسویں صدی کا کمال اور انقلاب نہیں تو اور کیا ہے۔ ایک مشہور شعر ہے ؎
اب کے بچھڑے تو شاید خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
آج سے بیس پچیس سال قبل تک یہ شعر ہر جدا ہونے وا لے شخص کی زبان پر ہو تا تھا۔ لیکن سو شل میڈیا نے ایسے اشعار کو غلط ثابت کردیا ہے بلکہ خواب کا حصہ بن چکے40،30 سال پرا نے کھوئے ہوئے لوگوں کو سوشل میڈیا نے ملوادیا ہے۔ سماجی سطح پر ہر شخص دور دراز کے دوستوں سے ہر وقت رابطے میں رہتا ہے۔ شادی، بیاہ، مبارک باد، ہائے، ہیلو، پیار محبت، پسند نا پسند((Like,unlike، شیئر،کمنٹ، تصویروں کا لین دین، کور اور پرو فائل کی تصویروں کے بدلتے رنگ، اپنی زندگی کے ہر لمحے، ہر کروٹ کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے رابطے کی ایک نئی دنیا آباد ہوئی ہے۔ فیس بک، وہاٹس اپ سے لے کر ٹواور اورو تک رابطے کا نیا جہان آباد ہوا ہے۔ اس جہان کی تعمیرو تشکیل میں اردو اخبارات کے ای ایڈیشن، ادبی میگزین، پورٹل، ای میگزین،ای بکس، فیس بک کے ادبی صفحات اوروہاٹس اپ نے اردو کے فروغ میں حیرت انگیز کار نامے انجام دیے ہیں۔ اب کسی مضمون،غزل اور افسا نے کو سینکڑوں نہیں، ہزاروں لوگ پڑھتے ہیں۔مقبو لیت کا نیا نشہ بازار میں آچکا ہے۔ پہلے نئی کتاب کا سر ورق لوڈ کیا جاتا ہے پھر آہستہ آہستہ کتاب کے مندرجات لوڈ کیے جاتے ہیں۔ ایک کتاب مہینوں تک ہزاروں لوگوں میں لائک،شیئر اور کمنٹ کے شانوں پر سفر کرتی مقبولیت کے نئے آسمان سر کرتی رہتی ہے۔ تھوڑی سی دانشمندی،حاضر دماغی اور کمپیو ٹر،نیٹ وغیرہ کی مہارت سے عالمی شہرت حاصل ہو جاتی ہے۔
اخبارات میں،انقلاب،راشٹرسہارا، اودھ نامہ،ہماراسماج،سیاسی تقدیر،اخبارِ مشرق،خبردار جدید،روزنامہ خبریں،رہنمائے دکن، صحافت،آگ،،قومی تنظیم، متاعِ آخرت،منصف،سیاست،سالار،جدیدسالار، (پاکستان)جنگ، نوائے وقت،روزنامہ خبریں وغیرہ کے انٹر نیٹ ایڈیشنز نے2015 میں خاصی دھوم مچائی۔۔اردو اخبارات نے دہلی اور بہار انتخابات سے لے کر دادری سانحہ،وزیر اعظم کے بیرونی ممالک کے دورے،عدم روداری تحریکات،فرانس بم دھماکے،آئی ایس آئی کے ٹھکانوں پر انگلینڈ اور فرانس کی بم باری،کے ساتھ ساتھ مسلم مسائل کو بخوبی منظرِعام پر لانے کا کام کیا ہے۔
اردوسخن ڈاٹ کام،شعر و سخن ڈاٹ کام،،یونیورسل اردو پوسٹ،اردو نیٹ ڈاٹ کام،اردو دوست ڈاٹ کام،عالمی پرواز ڈاٹ کام،لن ترانی ڈاٹ کام،اردو منزل ڈاٹ کام استحکام کے ساتھ اردو کی خدمات کرتی رہیں۔تو ریختہ ڈاٹ کام،یونیور سل اردو پوسٹ ڈاٹ کام،بصیرت آن لائن اردو وغیرہ نے اردو کے پرچم کو بلند رکھا۔ رانچی کے جمہوریت ٹائمز نے انٹر نیٹ پر مسلسل شائع ہو کرپہلے ای روزنامے کے طور پر مضبوط شناخت بنائی۔
فیس بک پر اردو افسانہ فورم،عالمی افسانہ فورم،فسانہ گو،افسانہ سینیما،بازگشت،دریچہ،عالمی افسانوی کارواں،ادب ڈاٹ کام،اردو شاعری،اردو کمیونٹی،اردو ادب عالمی اردو ادب، عالمی اردو مرکز،عالمی دستاویز،عالمی میڈیا اینڈ جرنلسٹ ایسو سی ایشن،نشتر خانقاہی فین گروپ،ملک زادہ فین گروپ اور متعد د گروپ فیس بک پر اردو میں اپنی دنیا آباد کئے ہوئے ہیں۔ان میں اردو رسمِ خط میں مختلف تخلیقات شائع ہوتی رہتی ہیں۔اردو افسانہ فورم نے اس سا ل بھی ”عالمی افسانہ میلہ“ کا انعقاد کیا، اس سال ایک اور بات ہوئی۔فکشن اور شاعری کے متعدد گروپ انتشار کا شکار ہوئے اور کئی نئے گروپس سامنے آئے۔سب نے افسانوی نشست،افسانوی میلے،مشاعرے،شعری نشست،طرحی مشاعرے منعقد کئے جس میں سینکڑوں افسانے،ہزاروں غزلیں شائع ہوئیں۔ہرتخلیق پر بے شمار کمنٹ(تبصرے )
،لائک اور شیئر ہوئے۔تبصروں پر تبصرے،یوں ایک طویل سلسلہ۔۔شروع ہوا۔
گوگل،یا ہو اورجی میل پر بھی بزم ِاردو جیسی اردو کی کئی تنظیمیں،اخبارات اور رسائل اردو کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔
اردو ایسی زبان ہے جس میں ہر محاذ اور ہر حال میں ارتقا ء اور فروغ کی زبردست قوت ہے۔اور اردو نے انٹر نیٹ کے اس برق رفتار عہد میں بھی خود کو ثابت کیا ہے۔ اشاعت و طباعت کے معاملے میں بھی اردو نے نئی بلندیوں کو چھوا ہے۔ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،عرشیہ بپلیکیشنز،ایم آر بپلیکیشنز،فرید بک ڈپو،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،قومی اردو کونسل،نیشنل بک ٹرسٹ، وغیرہ کی اردو اشاعتوں نے اردو کے وقار کو عظمت بخشی ہے۔
قومی اردو کونسل نے اس سال اردو کو کتابوں،رسالوں کے علاوہ کئی اہم تحفے دئے ہیں۔اردو وکی پیڈیا، اردو یونی کوڈ، طلبہ کے لئے ڈریم پروجیکٹ،اور اسمارٹ فون پر اردو فونٹ میں لکھنا ،گذشتہ برس کے کاموں کے ساتھ نئے ڈائرکٹر نے اردو دنیا،فکر و تحقیق،بچوں کی دنیا کو صوری اورمعنوی اعتبار سے تبدیل کیا۔کونسل کے بینر تلے صحافت کے دوسو سالہ جشن قومی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف شہروں میں منعقد ہوئے اور ہونے والے ہیں۔ عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد بعنوان ”اردو صحافت کے دو سو سال“ فروری میں ہو نے والا ہے۔ اردو رسرچ اسکالروں کے لئے اسکالر شپ کااعلان ہوا۔ایک بالکل نیا منصوبہ "Urdu on Wheels” تیا ر ہو گیا ہے۔جس کے تحت ایک گاڑی میں اردو سکھانے کے جدید سامان سے لیس اردو ٹیچر ہوگا اور یہ گاڑی غیر اردو داں علاقوں میں مخصوص اوقات میں جا اردو سکھانے کا کام کرے گی۔
اس سال بہت سے معیاری قومی اور بین الاقوامی سیمینار، ورکشاپس، لکچرز کا انعقاد عمل میں آیا۔ انجمن ترقی اردو ہند، اردو اکادمی دہلی،بہار اردو اکادمی۔مغربی بنگال اردواکادمی،ساہتیہ اکادمی،اتر پردیش اردو اکادمی،مدھیہ پردیش اردو اکادمی،مسلم انسٹی ٹیوٹ،کلکتہ، شبلی کالج،اعظم گڑھ،سریندر ناتھ ایوننگ کالج، کلکتہ،حمید یہ گرلس کالج، الہ آباد،ایم جی ایم کالج، سنبھل، کریم سٹی کالج،جمشید پور،شعبہ ہائے اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، اے ایم یو،دہلی یو نیور سٹی،مولانا آزاد یو نیور سٹی، خواجہ معین الدین چشتی عربی فارسی یو نیورسٹی،کشمیر یونیورٹی،چودھری چرن سنگھ یونیور سٹی،لکھنوء یونیور سٹی،ممبئی یونیورسٹی،پنجابی یونی ورسٹی،پٹنہ یونیورسٹی،کلکتہ یونیور سٹی،ادے پور یونی ورسٹی،وغیرہ میں ادبی سر گر میاں جاری رہیں۔
ادبی رسائل میں آج کل،ایوانِ اردو،شاعر،اردو ادب، زبان وادب،اجرا،روشنائی،دیدہ ور،چہار سو، ارتقاء،اردو دنیا،فکروتحقیق،روحِ ادب،فروغ ِادب،نیا دور،لاریب،آمد،،سب رس،جہان ِاردو،سبقِ اردو،اسباق،کتاب نما،سہیل،ادبی گزٹ،تہذیب الاخلاق،پیش رفت،شاندار،جہاں نما،مژگاں،بیباک،اسپین،اردو نامہ،اردو چینل،افقِادب دربھنگہ ٹائمز وغیرہ رسایل مستقل شائع ہو رہے ہیں۔بچوں کی دنیا،امنگ،پھلواری،گل بوٹے،پیامِ تعلیم،جیسے رسائل بچوں کی ذہنی تربیت کر رہے ہیں۔ثالث،کاوش،عالمی انوارِتخلیق،امیدِ سحر، فکر و تحریر،راوی،تعلیم، احساس(جرمنی)اجمال(پاکستان) جیسے نئے رسائل پابندی سے اپنے سفر پر گامزن ہیں۔
گذشتہ برس کئی اہم ناول،’نالہء شب گیر‘(مشرف عالم ذوقی)،’چاند ہم سے باتیں کرتا رہتا ہے‘(نورالحسنین)’،گؤ دان کے بعد‘(علی ضامن) ’جس دن سے‘(صادقہ نواب سحر)منظر ِعام پر آئے۔متعدد افسانوی مجموعے، افسا نوی مجمو عے میں مظہر الزماں خاں کا مجمو عہ’خود کا غبار‘، بشیر ما لیر کوٹلوی کا مجمو عہ”زندگی زندگی“، سید احمد قادری کا مجمو عہ،ملبہ“، احمد صغیر کا مجموعہ’کہا نی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے‘،اختر آ زاد کا مجمو عہ”خدا سے سوال“،مہتاب عالم پرویزؔ کا مجمو عہ”باز گشت“، وسیم حیدر ہاشمی کا مجمو عہ”گو ہر پس انداز“، راجیو پرکاش ساحر کا مجمو عہ ”ایک بھیگے لمحے کی لمبی سڑک“نسرین ترنم کا مجمو عہ”ابر“، وحشی سعید کا”کنوارے الفاظ کا جزیرہ“راقم کا مجموعہ”عید گاہ سے واپسی“ ڈاکٹر اخلاق گیلانی کے افسانچوں کا مجموعہ ”سچائیاں“،نذیر فتح پوری کی بچوں کے لئے کہانیاں ”پشاور کی۷۱کہانیاں“ منظر عام پر آئے۔شعری مجموعے،چنیدہ (مظفر حنفی کا شعری انتخاب)سرِکنارہ ء شام (رئیس الدین رئیس)،بوندسمندر(اسلم بدر)گیت سناتی ہے ہوا(راشد انور راشد)درد کارشتہ(ڈاکٹر یو گیندر بہل تشنہ)ہست اشعار(ہر بنس سنگھ تصور)چہار بیت(سلیم خاور)رختِ سفر(رشد عارفی)،شکستِ خواب(محمود عالم)صبح ہونے تک(مشتاق احزن) سانسوں کے پار(خلیل مامون)گوہرِشہسوار(مرتبہ: سید مبارک علی)پرِشکستہ(افسر کاظمی)گیت بھی تو،غزل بھی تو(سعید رامش),سلسلے سوالوں کے (کہکشاں تبسم)پتھر میں کھدی ہوئی کشتی(صدیق عالم)،نصابِ آگہی (ارشد غازی ارشد)،احساس (سلیمان فراز حسن پوری)، پسِ غبار(یاور وارثی)،میرا لہجہ (نسیم فائق)،دیوانِ سرور(مرتبہ:مجیب شہزر)،دیوانِ سیفی حسن پوری(سلیمان فراز حسن پوری)،آخری وقفے کاکھیل(شمس ندیم)، شرارِسنگ (ظفر انصاری ظفر)،شہرِ رباعی (عادل حیات)شائع ہوئے۔
تنقیدی وتحقیقی کتب میں مولانا الطاف حسین حالی کی یاد میں (مرتبہ: اشتیاق احمد ظلی)،نو طرزِمرصع(مرتبہ: پروفیسر ارتضیٰ کریم)،گریز(مرتبہ: پروفیسر ارتضیٰ کریم)،متن معنی اور تھیوری(پروفیسر قدوس جاوید) اردو افسانے کا سفر(ڈاکٹر نجمہ رحمانی)آثار وانوار(اسلم بدر)،شکست کی آواز:نئے اطراف کی طرف(آفتاب احمد آفاقی)،اردو ناول کا تنقیدی جائزہ 1980 کے بعد(ڈاکٹر احمد صغیر)، راشد الخیری؛فکر و فن (ڈاکٹر محمد اکبر)،تنقیدی جہات (نسیم احمد نسیم)یاس یگانہ چنگیزی(وسیم فرحت کارنجوی)خورشید الاسلام: ایک شاعر،ایک ناقد(ڈاکٹر ظفر گلزار)،کرشن چندر:افکار ونظریات(ڈاکٹرفخر الکریم)اردو افسانے میں خواتین کاحصہ(ڈاکٹر محمد مرتضیٰ)،قرۃ العین حیدر کا ناول چاندنی بیگم:ایک مطالعہ(ارشاد سیانوی)مقال(آفاق عا لم صدیقی)،اردو کے چند فکشن نگار: تنقید و تجزیہ (ڈاکٹر ایم نسیم اعظمی)،زندگی نامہ: گوپی چند نارنگ (مرتبہ: ڈاکٹر جمیل اختر)مطالعاتی زاویے(ڈاکٹر حناآفریں)،اقبال اور دبستانِ شبلی (ڈالٹر محمد الیاس اعظمی)،مشرقی پنجاب کاادبی منظر نامہ(ڈاکٹر محمد اسلم)،مشترکہ پنجاب کے اردو اخبارات(ڈاکٹر محمد اسلم)ریو تی سرن شرمابحیثیت ڈرامہ نگار(تسلیم جہاں)،تفہیم و تقلید(عاصم شہنواز شبلی)،ظفر اوگانوی:نقوش و آثار(مرتبہ:عاصم شہنواز شبلی)،معنی نما (ہمایوں اشرف)،تدوینِ تاریخ ادب اور پروفیسر وہاب اشرفی(عبد القیوم ابدالی)،اور پورے،آدھے،ادھورے( عابدسہیل کے خاکے) نقشِ بر آب(سہیل انجم کے خاکے) وغیرہ کتب شائع ہوئیں۔
2015 رخصت ہو چکا ہے۔اس کا محاسبہ اور نئے سال2016ء کا شاندار استقبال ہو نا چاہیے اور یہ استقبال صرفزبانی نہ ہو بلکہ ہم سب اردو کی خدمت کے نئے منصو بے بنائیں۔اردو کو نئی نسل تک پہنچانے کا انتظام کریں۔کیوں کہ اردو کی ترقی کا سارا دارو مدار اردو رسم الخط میں اردو کو لکھنا اور پڑھناہے۔ اور یہ جب ہی ممکن ہے جب اردو رسمِ خط جاننے والوں کی نئی پود،نسل در نسل اردو کو ملتی رہے،یعنی اردوسکھانے کا عمل منصوبہ بند طریقے کے سے مستقل جاری رہنا چاہئے۔ اس کیلئے ہم سب اردو والے،اردو ادارے،اردو اکیڈمیاں،شعبہ ہائے اردو،ناشرین،قومی اردوکونسل،اردو اسکول،کالج،یونیور سٹی اور اردو میڈیا۔۔ سب کی ذمہ داری ہے، اردو کی بقاء میں حصہ لینا۔ہم سب اپنی اپنی جگہ کوشش کریں گے تو اردو ہمیشہ ہمارے قدم بہ قدم ہوگی۔
٭٭٭
aslamjamshedpuri@gmail.com,
09456259850
محمد یامین انصاری کو پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری تفویض
محمد یامین انصاری کو پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری تفویض
(پریس ریلیز)
میرٹھ: یکم جنوری2016ء
شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کے ریسرچ اسکالرمحمد یامین انصاری کو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ نے ان کے مقا لے”پنڈت رتن ناتھ سر شار کی ناول نگاری کا تنقیدی جائزہ“ پر پی۔ایچ۔ ڈی کی ڈگری تفویض کی ہے۔ محمد یامین انصاری نے اپنا مقالہ شعبہ اردو کے صدر اور معروف ادیب و فکشن نگارڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کے زیر نگرا نی مکمل کیا ہے۔انہیں یہ ڈگری یونیورسٹی کے جلسہ تقسیم اسنادجو کہ5/ جنوری2016ء کو منعقد ہو نے جا رہا ہے،میں گورنر اتر پردیش عزت مآب جناب رام نائک کے ہاتھوں پیش کی جائے گی۔
محمد یامین انصاری نے اپنے مقالے میں پنڈت رتن ناتھ سر شار کی ناول نگاری کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے بتایا ہے کہ انیسویں صدی کے آخر میں اودھ کی زوال پذیر تہذیب میں جو نشیب و فراز دیکھنے کو ملے انہیں سر شار نے نہایت ہی خوبصورت انداز میں اپنے ناولوں میں پیش کیاہے۔ سر شار کے شہرہ آ فاق ناول”فسانہ آ زاد“ پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے ان کے اہم کرداروں پر خصوصی رو شنی ڈا لی گئی ہے۔ محمد یامین انصاری نے اس موقع پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقالے کی تکمیل میں ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ (نگراں وصدر شعبہ اردو) کی قدم بہ قدم سر پرستی، مفید مشورے اور ہر ممکن خیر خواہی کا کافی دخل رہا ہے۔اس موقع پرمحمد یامین انصاری کو ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹر شاداب علیم، عامر نظیر ڈار، سعید احمد سہارنپوری،فرمان چودھری، نوازش مہدی،نعمان قیصر اوران کے ہم جماعت ساتھیوں اور عزیز و اقارب نے مبارک باد پیش کی۔
نئے سال کی آپ سب کو مبارک باد: ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ
2016
کی آمد پر
"عالمی پروازڈاٹ کوم”
"عالمی افسانوی کارواں”
اور
"اُردو آپریشن”
کے قارئین اور ناظرین
کو
صمیمِ قلب سے
مبارکباد
دیتا ہوں
خدا کرے یہ سال
آپ کی زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں
بھر دے اور ہر طرف امن و امان
بحال رہے۔آمین
————-
ڈاکٹراسلم جمشیدپوری
ابرار مجیب
رضوان واسطی
جہانگیر محمد
نغمہ نازمکتومیؔ
مہتاب عالم پرویزؔ
افروز سلیمی
زیرِاہتمام ” عالمی پرواز .کوم ”
www.aalamiparwaz.com
ایک شام مشہور شاعر و محقق اسلم بدرؔ کے نام رپورٹ:ڈاکٹر اقبال واجد، صدر گوشہ ادب، الجبیل، سعودی عرب
ایک شام مشہور شاعر و محقق اسلم بدرؔ کے نام
رپورٹ:ڈاکٹر اقبال واجد، صدر گوشہ ادب، الجبیل، سعودی عرب
الجبیل مملکت سعودی عربیہ کا ایک صنعتی شہر ہے۔سمندری ساحل پر بسے ہوئے اس شہر میں پٹرولیم، پٹرو کیمیکل اور فولاد کے کارخانوں کا ایک سلسلہ میلوں میل تک پھیلا ہوا ہے۔تلاش معاش میں دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے لوگ یہاں آباد ہیں۔انہیں لوگوں میں خصوصی طور پرہند و پاک سے آئے ہوئے وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے یہاں اردو زبان و تہذیب کی شمع روشن کر رکھی ہے۔ بلکہ یہ کہنا بھی بیجا نہیں ہو گا کہ انہیں کی وجہ سے یہاں کے بازاروں میں اردو زبان کی کلکاریاں سنائی دیتی رہتی ہیں۔
اردو عوام اور ادبی انجمنوں کو جب یہ اطلاع ملی کہ شہر میں بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر و محقق محترم اسلم بدر صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں تو ان کے اعزاز میں شعری نشستوں کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ شہر کی ایک سر بر آوردہ و فعال ادبی انجمن ’گوشہئ ادب‘ نے بھی ’ایک شام اسلم بدر کے نام‘ منعقد کرنے کا فیصلہ لیا اور یہ شام نہایت تزک و احتشام کے ساتھ ’اوشیان رسٹورنٹ‘ کے کانفرنس ہال میں منائی گئی۔تقریب کے وقار کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر مکرم علی خان (علیگ) صدارت کی کرسی پر جلوہ افروز تھے۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے،جدہ سے تشریف لائے ہوئے شاعر و محقق محترم سید نعیم حمید الحامدشریک تھے اور مہمان اعزازی کے طور پر سعودی بحریہ کی ریسرچ لیبارٹری کے محترم ڈاکٹر وجاہت فاروقی (علیگ)۔
جلسے کے آغاز میں راقم (اقبال واجد) نے صدر و دیگر مہمانان کا اجمالی تعارف پیش کرتے ہوئے اسلم بدر کی شخصیت و شاعری پر بھر پور روشنی ڈالی۔یہ جلسہ دو حصوں میں منقسم تھا۔ پہلے حصے میں اسلم بدر کی تازہ ترین شعری تخلیق ’بوند سمندر‘ کا اجراء ڈاکٹر مکرم علی خان کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ڈاکٹر سید نعیم الحامد نے اسلم بدر کی خدمت میں اعزازیہ کے طور پر گوشہ ادب کی جانب سے ایک میمنٹو پیش کیا۔بعد ازاں جناب محمد فیاض صاحب نے ’اسلم بدر، مشاعرے سے بوند سمندر تک‘ کے عنوان سے ایک دلچسپ خاکہ پڑھا، جسے خاصا پسند کیا گیا۔ راقم (اقبال واجد) نے بھی اسلم بدر کی شعری جہات پر روشنی ڈالی اور ’بوند سمندر‘ پر اپنی رائے پیش کی۔جلسے کے دوسرے دور میں مندرجہ ذیل مہمان شعرائے کرام نے اپنے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ منتخب اشعاریوں ہیں:
چراغ لے کے مرے ساتھ ساتھ آؤ تم
مرا ارادہ ہے پاتال میں اترنے کا
سفر طویل ہے صحرا کے پار جانا ہے
کوئی نظام نہیں چھاگلوں کو بھرنے کا
سعید اشعر
سینے پہ لگا تمغہ کہیں بیچ نہ دینا
بازار میں ملتی نہیں اعزاز کی قیمت
ایوب صابرؔ
چراغ علم جلا کر کے کو بہ کو رکھنا
کہ تم پہ فرض ہے اس ضو کو چار سو رکھنا
ثاقبؔ جونپوری
وہ جس نے ذہن کو افکار کی تجلی دی
اُسے تلاش کرو بس وہی خدا ہو گا
دھنسے ہوئے ہیں گناہوں میں اس قدر ہم لوگ
کوئی عذاب نہ آیا تو معجزہ ہو گا
سید باقر نقوی علیگ
نہ انتظار کرایا نہ اُس نے وعدہ کیا
نہ اس نے ترک ملاقات کا ارادہ کیا
ڈاکٹر اقبال واجد
زاویے حسن کی نظروں میں نکھرتے ہی رہے
جستجو نے تری ہر آن سفر میں رکھا
ابو شارق
جب نظر اپنے ارادوں پہ جما لی جائے
غیر ممکن ہے نشانہ ترا خالی جائے
ضیاء الرحمٰن صدیقی
اندھیری رات میں جب جب وہ بے نقاب آئے
مقابلہ سا رہا ان کا ماہتاب کے ساتھ
محمد عبد السلیم
میں اس سے جنگ آخر کروں تو کیسے کروں
کہ میرا تیر بھی اُس کی کماں میں رہتا ہے
ڈاکٹر سجاد سید
تھا سبب کوئی کہ اظہار محبت نہ کیا
ورنہ کہنا بہت آسان تھا تُم جانتے تھے
کس طرح تم نے کسی اور سے منسوب کیا
وہ جو نغمہ مری پہچان تھا تم جانتے تھے
اقبال طالبؔ
حرف تازہ جو نہ ارباب قلم نے لکھا
ریگ صحرا پہ مرے نقش قدم نے لکھا
روشنائی متحمل نہ ہوئی غم کی مرے
خون ِدل میں جو ڈبویا تو قلم نے لکھا
ڈاکٹرنعیم حمید الحامد
چونکہ آج کی شام اسلم بدر کے نام تھی، اس لئے اسلم بدر کو لوگوں نے جی بھر کے سنا۔موصوف نے اپنی تعتیہ نظم ’الکوثر‘ سے آغاز کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے کئی غزلیں سنائیں۔۔ کچھ اشعار یوں تھے:
وقت تو اپنی ہی رفتار کا مارا نکلا
وہ محبت تھی کہ سورج بھی دوبارہ نکلا
ابھی نہ مال غنیمت سمیٹئے اسلمؔ
سوار پُشت کے ٹیلوں میں چھُپ کے بیٹھے ہیں
سر سے کفن لپیٹنے والوں کے پاس اب
چادر ہی صرف رہ گئی، سر اب نہیں رہے
اسلم بدرؔ
’علم‘ کے عنوان سے اسلم بدر نے ایک پُر مغز نظم بھی سنائی، جس کے کئی کئی شعر بار بار سنے گئے۔ جلسے کا اختتام صدر جلسہ ڈاکٹر مکرم علی خان(علیگ) کے خطبہ صدارت پہ ہوا۔خطبہ کے دوران ڈاکٹر صاحب نے قدیم علی گڈھ روایات کے کچھ دلچسپ واقعات سنائے اور اپنے مخصوص انداز میں مشاہیر کے اشعار پر پیروڈیاں بھی سنائیں۔
ڈاکٹر وجاہت فاروقی علیگ نے اظہار تشکرکے بعد یہ اعلان کیا کہ کل (25 دسمبر) ان کے دولت کدہ پر ایک مخصوص شعری نشست کا اہتمام رہے گا۔مزید یہ کہ31 دسمبر2015ء کو علی گڑھ اولڈ بوائز کی جانب سے، 8 جنوری 2016ء کو ادارہ ادب اسلامی کی جانب سے اور 14 جنوری 2016ء کو دمام کی ایک ادبی انجمن کی جانب سے مشاعرے کا اعلان کیا گیا۔
اسلم بدر کے نام یہ شام یہاں کی روایت کے مطابق ’کام و دہن کی آزمائش‘ پر اختتام پذیر ہوئی۔
امارت شرعیہ کی طرف سے غرباء ومساکین کے مابین کمبل کی تقسیم
امارت شرعیہ کی طرف سے غرباء ومساکین کے مابین کمبل کی تقسیم
ملک کے مشہورادارہ، دینی وشرعی عدالت، مذہبی وفلاحی تنظیم” امارت شرعیہ“ بہار، اڑیسہ وجھارکھنڈ پھلوری شریف پٹنہ کے ذیلی دفتر ”امارت شرعیہ“ آزاد نگر، جمشیدپور میں آج کئی دنوں سے غرباء ومساکین کے درمیان موسم سرما کے موقع پر کمبلوں کی تقسیم کرتے ہوئے شہر کے قاضی شریعت مولانا سعود عالم قاسمی صاحب نے فرمایا کہ امارت شرعیہ جہاں مسلمانوں کی ملی وحدت اور اجتماعی نظام کی عملی شکل اور مذہبی وفلاحی تنظیم ہے، جوتبلیغ ودین، تنظیم ملت، قانون شریعت کے نفاذ، دینی تعلیم کی اشاعت، عصری اور ٹیکنیکل تعلیم کے فروغ، مسلمانوں کی معاشرتی اصلاح اور ان کے مذہبی حقوق کی حفاظت جیسے محاذوں پر ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہے،وہیں پرامارت شرعیہ یتیموں، بیواؤں اور غرباء ومساکین کے درمیان ہر سال موسم سرما کے موقع پر کمبلوں کی تقسیم اسی طرح نادر لڑکیوں کی شادی اور دوسرے اہل حاجت کی امداد کرتی آرہی ہے، فلاحی کاموں کے متعلق مولانا افروز سلیمی القاسمی معاون قاضی دار القضاء امات شرعیہ جمشیدپورنے فرمایا کہ امارت شرعیہ کے بنیادی مقصدوں میں غرباء ومساکین کابر وقت امداد کرناہے،اور اس کے اخلاص ہی کا نتیجہ ہے کہ آج الحمدللہ امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ وجھارکھنڈ اور بنگال کا56/ ذیلی دار القضاء ودفاتر ہیں، جوقانون شریعت کے عملی نفاذ کے ساتھ ساتھ ملی وفلاحی اور تعلیمی کاموں کو بحسن وخوبی انجام دے رہی ہے، اس موقع پر امارت شرعیہ، آزاد نگر،جمشیدپور میں غرباء ومساکین کافی تعداد میں موجود تھے اس کے علاو ہ شہر کے بے باک ومشہور بزرگ صحافی محترم شاکرصاحب عظیم آبادی کے علاوہ سابق کارکن امارت شرعیہ مولانا ذوالفقار صاحب مظاہری اورمعلم مکتب امات شرعیہ مولانااظہر قاسمی ومحمد ایوب خان ودیگر عوام الناس بھی کثیر تعداد میں موجودتھے۔
شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں معروف گیت کار بھارت بھو شن کو خراج عقیدت
شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں معروف گیت کار بھارت بھو شن کو خراج عقیدت
میرٹھ18/ دسمبر2015ء
شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی،میرٹھ اور یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن(UPTA) کے مشترکہ اہتمام میں معروف گیت کار آنجہانی بھارت بھوشن کی برسی کے مو قع پر شعبہ کے پریم چند سیمینار ہال میں ایک شاندار پرو گرام کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کی صدارت کے فرا ئض صدر شعبہ اردو ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری ؔنے انجام دیے۔مہمان خصوصی کے طور پربھا رت بھو شن کے دا ماد وی کے سکسینہ نے شرکت کی۔اور مہمان ذی وقار کے طور پر معروف ادیب پرو فیسر وید پر کاش بٹوک شریک ہو ئے۔ نظا مت کے فرا ئض ڈا کٹر آصف علی نے انجام دیے۔استقبال ڈا کٹرشاداب علیم اور شکریے کی رسم یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن کے صدر بھارت بھوشن شرما نے ادا کی۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز مہمانان شمع رو شن کر کے کیا۔ بعد ازاں مہمانوں کا پھولوں کے ذریعے استقبال کیا گیا۔ پروگرام تین حصوں پر منقسم تھا۔پہلے حصے میں عظیم گیت کار بھا رت بھو شن پر مبنی ڈا کیو منٹری فلم دکھائی گئی جس کو ناظرین نے خوب سرا ہا۔
دوسرے حصے میں بھا رت بھو شن کی زندگی اور کارناموں اور گیتوں کے تعلق سے مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا
کہ بھا رت بھو شن کا شمار میرٹھ کی سر زمین سے بلند ہو نے وا لی قومی سطح کی ایسی آوازوں میں ہو تا ہے جنہوں نے گیت کو نیا آسمان عطا کیا اور عام انسانوں کے دکھ درد کو شاعری کا حصہ بنایا۔
اپنے صدارتی خطبے میں ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ نے کہا کہ بھا رت بھو شن، حفیظ میرٹھی اور بشیر بدر کے ہم عصروں میں تھے اور میرٹھ سے ایک وقت میں اٹھنے وا لی یہ تینوں آوازیں اپنی انفرا دیت کے سبب قومی ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر اپنے نشان ثبت کر نے میں کامیاب رہیں۔
پرو گرام کا تیسرا اور آخری حصہ گیت، غزلوں پر منحصر رہا۔ اس حصے کی صدارت پرو فیسر وید پر کاش بٹوک اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر سمنیش سمن نے انجام دیے،کویوں اورشعرا کے بطور ڈا کٹر شیو چرن شرما، ڈاکٹر کرشن کمار’بیدل‘ڈاکٹر گیا نیش دت، گو وند رستوگی، منوج کمار منوج،رام گو پال بھارتی، دھرم جیت ’سرل‘ اونکار ناتھ’گلشن‘ شیو کمار شکل، مدن شرما، ڈا کٹر یو نس، ڈا کٹر یو سف، ڈا کٹر یو نس ’غازی‘ ڈاکٹر ایشور چند ’گمبھیر‘ اورواجد میرٹھی شریک ہو ئے۔
پروفیسراصغروجاہت، محترم دنیش اہلاوت اور ڈاکٹر عابد زیدی کواُپٹا نیشنل ایوارڈ2015ء
پروفیسر اصغر وجاہت، محترم دنیش اہلاوت اور ڈاکٹر عابد زیدی کواُپٹا نیشنل ایوارڈ2015ء
شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ اور یونائیٹڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن کا پریس کانفرس میں اعلان
میرٹھ6/نومبر2015ء
شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ اور یونائیٹڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن کے مشترکہ اہتمام میں بتاریخ 7/ نومبر2015ء بروز ہفتہ بمقام شنکر آڈیٹوریم،ڈی این پی جی کالج، میرٹھ میں شام پانچ بجے یونائیٹڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن کے چھٹے یوم تاسیس کے موقع پر ایک شاندار پروگرام منعقد ہو گا جس میں معروف ادیب و ڈراما نگار پروفیسر اصغر وجاہت کو”اُ پٹا بھارتیندو ہریش چندر نیشنل ایوارڈ2015ء“،مشہور ہدایت کار اداکار محترم دنیش اہلاوت ”اُپٹا حبیب تنویر نیشنل ایوارڈ2015ء“ اور مشہور مصورہ ڈاکٹر عابد زیدی کو”اُپٹا امرتا شیر گل نیشنل ایوارڈ2015ء پیش کیے جائیں گے۔
اس مو قع پر بطور مہمان خصوصی کمشنر میرٹھ محترم آلوک سنہا(آئی اے ایس) شریک ہوں گے۔ جب کہ شمع افروزی کی رسم چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کے نائب شیخ الجامعہ پروفیسرایچ ایس سنگھ،سرسوتی پوجا محترم سنیل کمار وادھوا اور صدارت کے فرائض ڈ ا کٹر تریوینی شرما(پرنسپل ڈی این پی جی کالج، میرٹھ) انجام دیں گے۔مہمانان ذی وقار کے طور پر پرو فیسر کے کے شرما(معروف تاریخ داں)،محترم نیرج شرما(معروف سیریل پروڈیوسر و ڈائریکٹر)، محترم اشوک سدھا کر،پنڈت سنیل کوشک اور مہمان مکرم کے بطور محترم منیش جین(روی پاکٹ بکس)،محترم منوج شکلا(سنجیونی کلاسز)، محترم ورون اگر وال(ایم۔ڈی ایڈ کو ڈولپر) اور محترم آشیش گوتم(آئی آئی ایم ٹی،ایف ایم) موجود رہنے کا امکان ہے۔یہ معلومات یونائیٹڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن کے صدر بھا رت بھوشن شر ما نے پریس کانفرنس میں فرا کرا ئیں۔
ایسو سی ایشن کے سر پرست ڈا کٹر اسلم جمشید پوریؔ نے ایسو سی ایشن کے مقاصد کی وضا حت کرتے ہو ئے کہا کہ سماج میں نفرت دن بدن بڑھتی جارہی ہے جسے دور کرنا سماج کے ہر فرد اور گروپ کا فریضہ ہے۔ ایسو سی ایشن بھی اپنے ڈراموں کے ذریعے اس پیغام کو عام کررہی ہے،اس نے اب تک جو ڈرا مے اسٹیج کیے ہیں ان میں سے ”جس نے لا ہور نئیں دیکھیاں وہ جنما نئیں“ جیسے کئی ڈرا موں کابنیادی مقصد یہی پیغام ہے۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے ڈا کٹر آصف علی نے بتایا کہ اس موقع پر بنگال کے معروف کہانی کار سمریش بسو کی مشہور کہانی ”آداب“ پر منحصر ڈراما ’کالی رات کے ہم سفر‘ اسٹیج کیا جائے گا جس کا مقصد سماج میں بڑھ رہی منافرت کو کم کرنا ہے۔اس میں ہیمنت گویل، راشد یوسف، پروین پانڈے، چندر پرکاش بھاسکر اہم کردار ادا کریں گے۔موسیقی انل شر ما،میک اپ اور اسٹیج کی سجاوٹ عابد سیفی اور ساجد لوی کی ہو گی جب کہ ڈا ئریکشن بھا رت بھوشن شرما کا ہو گا۔
پریس کا نفرنس میں ڈا کٹر شاداب علیم، انل شر ما، ہیمنت گو یل، سریندر شرما اور راشد یو سف مو جود رہے۔
سرسید کی سوچ سائنسی تھی اورجدید تعلیم عام کرنا ان کا مشن تھا:پروفیسر این کے تنیجا
سرسید کی سوچ سائنسی تھی اورجدید تعلیم عام کرنا ان کا مشن تھا:پروفیسر این کے تنیجا
شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اورسرسید ایجوکیشنل سوسائٹی کے باہمی اشتراک سے منعقدہ ہفت روزہ سر سید تقریبات اختتام پذیر
میرٹھ19 / اکتوبر2015ء
(پریس ریلیز)
سرسید کی سوچ سائنسی تھی اورجدید تعلیم عام کرنا ان کا مشن تھا جو آج بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جو سرسید کے وقت میں رکھتاتھا۔ سرسید کی اسی سوچ کو عام کرنا ان کو سچا خراج عقیدت ہوگا۔ سر سید کا مقصد ہر شہر،گاؤں اور محلے میں تعلیم گاہ کھولنا اور تعلیم کو عام کرنا تھا۔ ابھی ہم لوگ بہت پیچھے ہیں۔ ہم سب کو مل کر سر سید کے مشن کو عام کرنا ہوگا۔یہ الفاظ تھے شیخ الجامعہ پروفیسر این کے تنیجا کے جو شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اورسرسید ایجوکیشنل سوسائٹی کے باہمی اشتراک سے پریم چند سیمینار ہال میں منعقدہ جشن سر سید تقریبات سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔
اس موقع پرسیانہ، بلند شہر سے تشریف لائے محترم بدر الاسلام(ممبر حج کمیٹی،اتر پردیش) نے کہا کہ سر سید ایسے زمانے میں سامنے آئے جب قوم بے سہارا اور تعلیم کے مقصد سے بے بہرہ تھی۔انہوں نے تعلیم اور بالخصوص جدید تعلیم کی وکالت اور ادارہ قائم کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک تحریک تھے۔
ڈین فیکلٹی آف آرٹ پروفیسر یوگیندر سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ سرسید ایک ماہر تعلیم اور ہندوستان میں جدید تعلیم کے بانی تھے۔ان کے نظریات کو عام کرنے کی ضرورت ہے اور سر سید ایوارڈ کے لیے جن ناموں کا انتخاب کیا گیا وہ مناسب ہیں۔صدر شعبہئ اردو ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری ؔنے سرسید تقریبات کے معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان تقریبات کے مقاصد پرروشنی ڈالی اور کہا کہ ان تقریبا ت سے طلبہ میں نہ صرف معلومات کا اضافہ ہوتا ہے بلکہ ان میں اتحادو یگانگت اور ملک وقوم سے محبت ووفاداری کا جذبہ پیدا ہوتاہے۔
اس سے قبل شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ اور سر سید ایجوکیشنل سوسائٹی کے باہمی اشتراک سے منعقد ہورہے ہفت رزہ جشن سرسید تقریبا ت کا آج شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ کے پریم چند سیمنار ہال میں شام ساڑھے چار بجے اختتامی جلسہ منعقد ہوا۔ جس کے صدارت کے فرائض پروفیسر زین الساجدین (چیئر مین، مدرسہ ایجو کیشن بورڈ،اتر پردیش اور شہر قاضی میرٹھ) نے اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف علی نے انجام دیئے۔ استقبالیہ کی رسم ڈاکٹر شاداب علیم نے اور شکریہ کی رسم نایاب زہرا زیدی(صدر سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی، میرٹھ) نے اداکی۔ جب کہ پروفیسر این کے تنیجا(شیخ الجامعہ،چودھر ی چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ)مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔
تقریب کا آغامولانا جبرئیل نے تلاوت کلام پاک سے کیا اور مہمانوں نے شیخ الجامعہ کے ساتھ ملکر شمع روشن کی اور گلدستوں سے مہمانوں کا استقبال کیا گیا۔محمد صادق نے خوبصورت اندازمیں غزل پیش کی۔بعد ازاں سر سید ایوارڈ یافتگان میں ”تہذیب الاخلاق“ اور پروفیسر صغیر افراہیم کا تعارف محترم آفاق احمد خاں نے،پروفیسر صالحہ رشید کا تعارف ڈاکٹر شاداب علیم نے اور محترم تارا چند شاستری کا تعارف ذیشان خان نے پیش کیا۔
اپنے صدارتی خطبہ میں پروفیسر زین الساجدین نے تقریبات کی مجلس منتظمہ کو مبارکبا د دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو بلندیوں تک لے جانے کے لئے آج سرسید جیسے ماہرین تعلیم کے نظریات کو ہر فردتک پہنچانا ضروری ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ برے وقت میں بڑا آدمی بننا ایک مشکل عمل ہو تا ہے۔سر سید نے انتہا ئی نا موافقت حا لات میں یہ کار مشکل انجام دیا۔
دریں اثناء”تہذیب الاخلاق“(مدیر پروفیسر صغیر افراہیم،علی گڈھ) کو سرسید کے افکار و نظریات کو فروغ دینے،پروفیسر صالحہ رشید (الہ آباد یونیورسٹی)کو عربی و فارسی خدمات کے لیے اور محترم تارا چند شاستری کو فروغ تعلیم کے لیے سرسید نیشنل ایوارڈ2015سے نوازا گیا۔ساتھ ہی بلند شہر کی مسلم گرلز ڈگری کالج کی طالبات کو تقریری مقابلے میں اول،دوم اور سوم اعزاز سے نوازا گیا۔علاوہ ازیں سر سید سینٹر مشن کے طور پر مولانا آزاد انٹر کالج،مظفر نگر،مسلم گرلز ڈگری کالج،بلند شہر، مدرسہ اسلا میہ، سیانہ، بلند شہر،این بی پبلک اسکول، میرٹھ،سرسید انٹر کالج، میرٹھ،حمیدیہ گرلز ہائی اسکول، میرٹھ اور اس ہفت روزہ تقریبات میں رات دن ایک کردینے والے محترم آ فاق خاں، محترم ذیشان خاں اور محترمہ نایاب زہرا زیدی کو بھی وائس چانسلر کے دست مبارک سے مو منٹو پیش کیے گئے۔
اس موقع پر ڈاکٹر یونس غازی،طالب زیدی،ڈاکٹر سراج الدین،ڈاکٹر فرحت خاتون، عرفانی بیگم، ڈاکٹر ظفر گلزار،قاضی عقیل احمد، روحامہ احمد،ڈاکٹر آمرین،سلیم سیفی، ڈاکٹر ارشد اقبال، اکرام بالیان،جی ایم مصطفی،پربھات کمار رائے، اروند شرما،مکیش کپور،ڈاکٹر نعیم صدیقی،ڈاکٹر شاہد صدیقی،سمیع خان، ظہیر انور،ارقم شجاع میرٹھی،مدیحہ اسلم، شناور اسلم،محمد آصف، رخسانہ عثمانی، انجینئر رفعت جمالی،ایڈوکیٹ توصیف احمد،ڈاکٹر ارشاد سمیت یونیورسٹی کے طلبہ وطالبات اور عمائدین شہر نے کثیر تعدا د میں شرکت کی۔
ہفت روزہ جشن سر سید تقریبات کا سلسلہ جاری
ہفت روزہ جشن سر سید تقریبات کا سلسلہ جاری
(پریس ریلیز)
میرٹھ15/ اکتو بر2015ء
شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی اور سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی، میرٹھ کے باہمی اشتراک سے منعقد ہو رہے ہفت روزہ جشن سر سید تقریبات کے چوتھے روز سر سید لیکچر سیریز کا اہتمام میرٹھ گرلز انٹر کالج میں کیا گیا جس کی صدارت کے فرائض ڈاکٹر اسلم جمشید پوری ؔنے انجام دیے۔مہمان خصوصی کے بطور محترمہ نایاب زہرا زیدی (صدر،سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی، میرٹھ)موجود رہیں۔ جب کہ مقررین کے طور محترم ذیشان خا ن،ڈاکٹر فرحت خاتون اور حامد علی خاں (منیجر،میرٹھ گرلز انٹر کالج)شریک ہوئے۔نظامت کے فرائض آفاق احمد خاں نے بحسن و خوبی انجام دیے اور شکریے کی رسم فرزانہ بنت عاصم نے اداکی۔
پرو گرام کا آغازسے تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ مہمانان کا پھولوں کے ذریعہ استقبال کیا گیا۔بعد ازاں مقرین نے سر سید احمد خاں کی حیات و خدمات پر روشنی ڈا لی۔اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے ذیشان خان نے کہا کہ سرسید احمد خاں ایک نام ہی نہیں خود میں ایک پوری تحریک تھے۔انہوں نے جس وقت ہوش سنبھالا وہ ہندوستان کے لیے انتہائی نازک دور تھا،قوم منتشرتھی اور ظالم طاقتیں ہندوستانیوں بالخصوص مسلم معاشرے کوتباہ و بر باد کر نے پر تلی تھیں۔مفکر قوم سر سید نے ان حالات کو باریکی سے سمجھا اوراور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ظالم و باطل طا قتوں سے براہ راست ٹکرانے کے بجائے ان سے مقابلہ کی قوت پیدا کر نی ہوگی اور وہ صرف جدید علوم و فنون کے ذریعہ ہی حا صل ہوسکتی ہے۔ڈاکٹر فرحت خاتون نے کہا کہ سر سیداحمد خاں مذہبی اور دنیا وی تعلیم کا بہترین امتزاج تھے۔ ان کے نزدیک ان دو نوں کو اپنائے بغیر معاشرے کی ترقی نا ممکن تھی۔
اپنے صدارتی خطبے میں مہمان خصوصی ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ نے کہا کہ سر سید احمد خاں مختلف الجہات شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں کار نامے انجام دیے۔انہیں سچا خراج،ان کے نقش قدم پر چلنا اور ان کے مشن”تعلیم کو عام کرنا“ پھیلانا ہے۔ہمیں اپنی اپنی سطح پر تعلیم کے لیے کوشش کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ مغلیہ حکومت کے زوال کے بعد ہندوستانی معاشرہ جس اضطراب و انتشار کا شکار تھااس کا واحدحل جدیدتعلیم کی نئی روشنی تھی جسے عام کرنے کے لئے انہوں نے متعدد تعلیمی ادارے سوسائٹیاں اور کانفرنسز منعقد کیں۔مدرستہ العلوم اس کی ایک مثال تھا جو آج اے۔ایم۔یو کی شکل میں نئی روشنی کو دنیا بھر میں پھیلانے کا فریضہ انجام
دے رہاہے۔
اس مو قع پر طالبات،اسکول اسٹاف اورمعززین شہر نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
کل کے پروگرام:
جشن سر تقریبا ت کے تحت آج مو رخہ 16/ اکتوبر 2015ء کو میں سر سید لیکچر سیریز اور سر سید کوئز کا اہتمام کیا جائے گا۔
سرسید احمد خاں جدید ہندوستان کے بنیاد گذار تھے: پروفیسرقاضی زین الساجدین
سر سید احمد خاں جدید ہندوستان کے بنیاد گذار تھے:پروفیسر قاضی زین الساجدین
ہفت روزہ جشن سر سید تقریبات کا حمیدیہ گرلز ہائی اسکول،میرٹھ میں شاندارآغاز
(پریس ریلیز)
میرٹھ12/ اکتو بر2015ء
شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی اور سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی، میرٹھ کے باہمی اشتراک سے منعقد ہو رہے ہفت روزہ جشن سر سید تقریبات کاآغاز حمیدیہ گرلز ہائی اسکول،خیر نگر، میرٹھ میں ہوا جس کی صدارت کے فرائض ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ(صدر شعبہ اردو) نے انجام دیے۔مہمان خصوصی کے بطورپروفیسر قاضی زین الساجدین (چیئرمین مدرسہ ایجو کیشن بورڈ، اتر پردیش،لکھنؤ)اور مہمان ذی وقار کے بطور محترم پربھات رائے(سابق آئی اے ایس) شریک ہوئے۔جب کہ مقررین کے طور پر ڈاکٹرمہر عالم خاں،محترم ذیشان احمد خان،محترمہ نایاب زہرا زیدی محترمہ قمر النساء زیدی اور عرفانی بیگم نے شرکت کی۔نظا مت اور کوئز کی ذمہ داریاں محترم آفاق احمد خاں نے بحسن و خوبی انجام دیں۔
پرو گرام کا آغاز تلا وت کلام پاک سے ہوا۔ بعد ازاں مقرین نے سر سید احمد خاں کی حیات و خدمات پر روشنی ڈا لی۔اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے ڈاکٹر مہر عالم خاں نے کہا کہ سر سید ایک تحریک کا نام ہے جو آج تک جاری ہے۔بچوں کو سرسید سے واقفیت کرانا ہماری ذمہ داری ہے۔
شہر قاضی پروفیسر زین الساجدین نے کہا کہ سر سید احمد خاں جدید ہندوستان کے بنیاد گذار تھے۔ہندوستان کو بام عروج تک پہنچا نے کے لیے سر سید کے تعلیمی نظریات کو ہر نو جوان تک پہنچا نا اشد ضروری ہے۔ سر سید احمد خاں ایک ایسے زمانے میں سامنے آئے جب ہندوستانی معاشرہ بالخصوص مسلم طبقہ علم کی روشنی سے دور ہو تا جا رہا تھا۔انہوں نے ایسے پر آشوب حالات میں علم کی ایسی شمع روشن کی جس سے آج ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا منور ہو رہی ہے۔نایاب زہرا زیدی نے اس موقع پر خصوصا بچوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سر سید چاہتے تھے بچے تعلیم اور تربیت سے آراستہ ہو کر اچھے انسان بنیں۔ذیشان احمد خان نے تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کو ضروری قرار دیتے ہو ئے کہا کہ سر سید جیسی بلند قامت شخصیت کی تعمیر میں ان کی وا لدہ محترمہ کا بنیا دی ہاتھ تھا۔آج معا شرے کو پھر ایسی ماؤں کی ضرورت ہے جو بچوں میں ایمانداری، اخلاق،صداقت اور بلند کردار پیدا کر سکیں۔پربھات رائے نے سر سید کی شخصیت کو ایک تحریک بتاتے ہو ئے کہا کہ سر سید نے تعلیم کا جو لائحہ عمل طے کیا تھا وہ کسی بھی نسل یا معا شرے کو بلندیوں تک لے جانے کے لیے ضروری ہے۔
پروگرام کے اختتام پر اپنے صدارتی خطبے میں ڈاکٹر اسلم جمشید پوری ؔنے سر سید احمد خاں کی حیات و خدمات پر تفصیلی روشنی ڈا لتے ہوئے کہا کہ سر سید نے ہندوستان کی زوال آ مادہ قوم کو تعلیم کے زیور سے آ راستہ کر نے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی تھی۔آج ان کے تعلیمی نظریات کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔آج سر سید کے مشن کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ہم سب محبان سر سید پر ہے۔
کالج کی پرنسپل عرفا نی بیگم نے شکریہ پیش کرتے ہو ئے کہا بچوں کو سرسید اور ان کے کاموں سے متعارف کرا نا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کل کے پروگرام
جشن سر تقریبا ت کے تحت آج مو رخہ 13/ اکتوبر2015ء کو پروفیسر حسنیٰ بیگم میموریل اردو اسکول، شاہ پیر گیٹ،میرٹھ اوراین بی پبلک اسکول، ہاپوڑ روڑ،میرٹھ سر سید لیکچر سیریز اور سر سید کوئز کا اہتمام کیا جائے گا۔