اسلم جمشیدپوریؔ کی کہانیاں بیانیہ کی عمدہ مثال ہیں۔ پروفیسر اعجاز علی ارشد
اسلم جمشیدپوری ؔکی کہانیاں بیانیہ کی عمدہ مثال ہیں۔ پروفیسر اعجاز علی ارشد
دنیائے ادب“جمشیدپور کے زیر اہتمام معروف افسانہ نگار اسلم جمشیدپوریؔ کے تازہ افسانوی مجموعے ”عیدگاہ سے واپسی“کی رسم اجرا کاانعقاد
جمشید پور(4/اکتوبر) : ”عیدگاہ سے واپسی“ نئی صدی میں منظر عام پرآنے والے افسانوی مجموعوں میں انفرادیت کا حامل ہے۔ مجموعہ کے زیادہ تر افسانے سماج کے تضاد کو عمدگی سے پیش کرتے ہیں“یہ جملے معروف فکشن ناقد اور مظہر الحق عربی فارسی یونیور سِٹی، پٹنہ کے وائس چانسلر پروفیسر اعجاز علی ارشد کے تھے۔ وہ ڈاکٹر شری کرشن سنہا سنستھان، بسٹوپور جمشیدپور میں ”دنیائے ادب“ کے زیر اہتمام معروف افسانہ نگار اسلم جمشیدپوریؔ کے تازہ افسانوی مجموعے ”عیدگاہ سے واپسی“کی رسم اجرا کے موقع پر بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔
پروفیسر اعجاز علی ارشد نے مزید کہاکہ اسلم جمشیدپوریؔ کی کہانیاں بیانیہ کی عمدہ مثال ہیں۔مجموعہ کی ٹائٹل کہانی عیدگاہ سے واپسی پریم چند کی کہانی کو آج کے پس منظر میں بیان کرتی ہے۔
اسی موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف افسانہ نگار ابرار مجیب نے کہا کہ اسلم جمشیدپوریؔ کے افسانے براہ راست بیانیہ یا راست بیانیہ کا بھرپور اظہار ہیں۔ عیدگاہ سے واپسی بین المتونیت کی روایت کے تسلسل میں تہہ در تہہ معنویت کا حامل افسانہ ہے۔ مجموعہ میں شامل تمام تر افسانے اسلم جمشیدپوری ؔکی روایت سے گہری وابستگی اور فنی شعور کی اعلٰی جہت کی نمائندہ ہیں۔
اس موقع پر شعبہء اردو چودھری چرن سنگھ، میرٹھ کے رسالہ ہماری آواز کے خصوصی شمارے کا بھی اجرا ء سید رضا عباس رضوی ”چھبن“ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس رسالے کے مدیر خصوصی محترم ڈاکٹر اختر آزادؔ نے رسالے کے تعلق سے کہا کہ اس خصوصی شمارے میں اسلم جمشیدپوری ؔکی تخلیقات اور شخصیت پر مضامین کو یکجا کیا گیا ہے جو آنے والے دنوں میں اسلم جمشیدپوری ؔپر ریسرچ کرنے والوں کے لئے کارآمد ہو گا۔
خطبہء صدارت میں سید رضا عباس رضوی ”چھبن“صاحب نے فرمایا کہ عید گاہ سے واپسی کا اجرا ء کے موقع پرمجھے بے حد خوشی ہورہی ہے، اس کتاب کے ذریعہ اسلم جمشید پوری ؔکے ساتھ ساتھ جمشیدپور کی بھی ادبی شناخت ادب میں مزید واضح ہوگی۔
اس موقع پر ڈاکٹر شری کرشنا سنستھان کے جنرل سکریٹری جناب ہر ولبھ سنگھ آرسی اور شہر کے مشہور وکیل اور ہندی ادیب جناب لکشمی ندھی نے بھی پریم چنداور عیدگاہ کی روایت پر روشنی ڈالی اور قومی ایکتا کے عناصر کو نمایاں کیا۔
دنیائے ادب کے جنرل سکریٹری جناب انور ادیب نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ اس موقع پر صاحب کتاب جناب اسلم جمشیدپوریؔ نے اردو افسانے کے ارتقا اور جمشیدپور کے نمایاں افسانہ نگاروں کی خدمات کا ذکر کیا اور اپنے افسانہ ”پانی اور پیاس“ سے ایک خوبصورت اقتباس سنایا جس سے قارئین بہت لطف اندوز ہوئے۔
مہمانان کی خدمت میں شال اور مومنٹو”دنیائے ادب“کے صدر جناب سید رضا عباس رضوی ”چھبن“ کے ہاتھوں پیش کیا گیا۔
نظامت کے فرائض جناب پروفیسر احمد بدر صاحب اور اظہار تشکّر پروفیسر پی کے مشرا نے انجام دیئے۔ اس موقع پر شہر کی اہم ادبی اور سماجی شخصیات بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ ان شخصیات میں جناب اسلم شیخ محمود، اسلم بدر،تنویر اختر رومانی، سعید فردوسی، منظر کلیم، رضوان اورنگ آبادی ڈاکٹر قاضی حسین،ناصر راہی، انور امام، نیاز اختر، مشتاق احزن، جی ڈی احمر، گوہر عزیز، سرور حسین، اے پی آرنائر، نوشاد عالم قمر، محمد اکرم، ممتاز علی اہم ہیں۔
(انشائیہ)اردو ریل: احمد نثارؔ(نثاراحمد سید)، شہر پونہ، مہاراشٹر، ہندوستان
(انشائیہ)
اردو ریل
از قلم
احمد نثارؔ (نثار احمد سید)، شہر پونہ، مہاراشٹر، ہندوستان
Email : ahmadnisarsayeedi@yahoo.co.in
شہر پونہ سے ممبئی جانے والی ریل، دکن کوین، اپنی تیز رفتار ی سے جارہی تھی۔
کھڑکی سے باہر بیش بہا مناظر ، مہاراشٹر کے مغربی گھاٹ جنہیں مہاراشٹر گھاٹ کے نام سے بھی جاناپہچانا جاتا ہے۔
فطرت کے خوشنما اور دلکش مناظر ذہن کے اندر ایک نئی دنیا کا نقشہ کھینچ رہے تھے۔
ریل کی دھڑدھڑاہٹ کی آواز۔۔۔
ہواکی سرسراہٹ سے تھوڑی مدھم ضرور ہوئی تھی۔۔۔۔
لیکن اپنی وہی پرانی پہچان سے آگے جاری تھی۔۔۔۔
جسے اکثر سنا کرتے ہیں۔
اونچی پہاڑیوں سے گذرتی ریل،
ریل کے باہر پہاڑی سلسلوں کادیدہ زیب منظر
نہایت ہی خوبصورت تھا،
یوں لگ رہا تھاکہ۔۔۔
کسی ننھی لڑکی نے ۔۔۔
ریت کو استعمال کرکے۔۔۔
اپنے نازک ہاتھوں سے۔۔۔
پہاڑیاں بنائی ہو،
اور ادھراُ دھر سے سبز پودے لاکر جوڑ دی ہو۔۔۔
سبز چادر
ہوا کے ہلکے جھونکوں سے دلکش نظارا پیدا کر رہی تھی۔
ریل کے اندر سے آنے والی آواز نے میرے اس خیالی سفر سے ریل کے اندر کھینچ لائی۔
ریل کے اندر ایک عجیب منظر،
چار اندھے لوگ، جن میں دو خواتین،
ایک چھوٹی لڑکی اور ایک ادھیڑ عمر کا آدمی ۔
اردو نوازوں کے نام سے اپنی پہچان بنانے والوں کے لیے یہ ایک سبق آموز تجربہ ہے
کہ یہ اردو کو کتابوں کے اوراق میں قید کرکے یا تو رسالوں یا مشاعروں کے ذریعہ عوام تک لے جا کر اپنے آپ کو تسکین دے لیتے ہیں،
یا پھر تحقیق کے نام پرکچھ لکھ لیتے ہیں،
لائبرری نام کی قبر میں
مقالہ نام کے مردے کو
دفن کرکے
ڈاکٹر نام کا کتبہ کندہ کردیتے ہیں۔
اور ایسے ہی لوگ بڑے بڑے اداروں کے سربراہ بن جاتے ہیں۔
اگر ان سے پوچھیں کہ انگریزی پارٹس آف اسپیچ کو اردو میں بتائیں؟
تو ان کے دیدے اتنے کھل جاتے ہیں
کہ اس میں جامعات کے اردو شعبوں کا خاکہ دکھائی دیتا ہے۔
جب کہ حقیقت میں اردو کو عام کرنے والوں میں ایسے ہی لوگ ہیں جن کو زمانہ ہمیشہ سے نظر انداز کرتا آرہا ہے۔
اور ان کا تذکرہ کرنا بھی گوارا نہیں کرتا۔
ہندوستان میں عوام گو کہ اردو سے واقف نہ ہو
اور ان کی مادری زبان ہندی، مراٹھی ، گجراتی تمل اور کنڑ کیوں نہ ہو
اُن تک اردو کے تغزل اور ترنم کو پہنچانے والی میڈیا نہ تو رسالے ہیں نہ ہی کتابیں نہ ہی نام نہاد ڈاکٹر۔
ایسے لوگ جو نہ رسالوں سے نہ کتابوں سے نہ مشاعروں سے وابستگی رکھتے ہیں ،
پر ان کی زبان پر اردو ضرور رقص کرتی ہے۔
ہم ایسے ہی لوگوں کا تذکرہ کریں گے۔
مئی کا مہینہ ، دوپہر تین بجے کی دکن کوین ایکسپریس ریل جس میں لوگوں کی اچھی خاصی تعداد اور جس میں
مختلف دھرم اور زبانوں والے سفر کررہے تھے۔
ایک گروپ جو اندھوں کا تھا، چار افراد پر مشتمل، بھیک مانگ رہا تھا۔
اُن کی زبان پر دو گیت رقص کررہے تھے۔
1۔نفرت کی دنیا کو چھوڑ کر پیار کی دنیا میں خوش رہنا میرے یار۔۔۔(فلم ہاتھی میرے ساتھی،گلوکار محمد رفیع صاحب)۔ 2۔آدمی مسافر ہے ۔۔آتا ہے جاتا ہے۔۔ آتے جاتے رستے میں یادیں چھوڑ جاتا ہے۔۔۔(فلم آدمی سڑک کا، گلو کار محمد رفیع صاحب اور لتامنگیشکر)۔
یہ گیت دونوں اردو سے لبریز تھے،
ادب اور فلسفۂ زندگی سے ہمکنار تھے ،
دھُن بھی دل کو چھو لینے والی،
اور خوشی کی بات یہ ہے کہ لوگ بھی ان گیتوں کو گنگنا اور ہمّنگ کر رہے تھے۔
گنگنانے والے یا تو زندگی کے فلسفے پر جھوم اور گنگنارہے تھے ،
یا زبان اور ترنم پر۔۔۔
یا پھر الفاظ کی غنائیت پر۔۔۔
یعنی بالواسطہ طور پر اردو زندہ نظر آتی ہے۔
اردو کے چاہنے والوں کے نام سے اپنے نام کودعوے کے ساتھ منظم اور مستحکم کرنے والے حضرات،
آواز بلند کرتے ہی رہتے ہیں کہ۔۔۔
اردو اُن کی بدولت زندہ ہے!
شاید ان کا دعویٰ اردو رسم الخط کے تحفظ کو لے کر ہے۔
وہ بھی ایسی اردو جسے آج کل ایک عجیب نام دیا گیا ہے،
جِنّاتی اردو۔۔۔
جسے نہ عام وخاص مروجہ دیکھا جاسکتا ہے اور نہ ہی پڑھا اور پرکھا جاسکتا ہے۔
ایسی اردو جسے دیکھ کر لوگ ڈر جائیں، اور اردو کا نام لینا چھوڑدیں۔۔۔
لیکن یاد رہے کہ زبان رسم الخط میں رہے یابولی کی شکل میں ، عوام کی زبان زبان ہو تی ہے۔
جسے عوام اپناتی ہے، استعمال کرتی ہے، پروان چڑھاتی ہے اور ورثہ کے طور پر اپنی آنے والی نسلوں کو عطیہ دیتی ہے۔۔
اوریہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔۔۔
عوام کی زبان پر ، بولی کی شکل میں جو زبان زندہ رہتی ہے وہی زبان متواتر تر و تازہ اور زندہ رہتی ہے اور آنے والی نسلوں تک ترسیل کرتی جاتی ہے۔
گیت کار ، گلوکار ، موسیقی کار، اور دیگر فنکار،
اور دوبارہ اُس کو گانے اورگنگنانے والی عوام ،
اس سے زیادہ مضبوط ابلاغ اور سٹرانگ میڈیا اور کیا ہوسکتا ہے؟
ملک بھر کے جامعیات کے اردو شعبہ میں جتنے طلبا اور مدرسین ہیں،
ان سے زیادہ تو اس ریل میں اردو کے چاہنے والے ہیں!
جو صرف اپنے شوق سے اردو کو زندہ رکھا ہے،
نہ انہیں تنخواہیں ملتی ہیں نہ کوئی رعایتیں۔۔۔
نہ یہ سیمینار جاتے ہیں نہ مقالے پڑھتے سنتے ہیں ۔۔۔
ایسا لگ رہا تھا، ریل ڈبے کا یہ منظر چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا !
اور کیا چاہئے اردو کو زندہ رکھنے کے لیے !
اردو کے علم بردار، آنکھیں کھولیں !
اردو رسم الخط کو عام کرنے کا کام شروع کریں !
جو کہ جامعات تک محدود نہ ہو بلکہ عوام الناس تک پہونچے !
اردورسم الخط کو رومن اردو خط سے تباہ نہ کریں !
ترکستان کے کمالزم کا کمال یہاں نہ دکھائیں !
جائیں اور یہ فکر چھوڑیں کہ اردو زبان مر رہی ہے۔۔۔
*******
از قلم
احمد نثارؔ (نثار احمد سید)، شہر پونہ، مہاراشٹر، ہندوستان
Email : ahmadnisarsayeedi@yahoo.co.in
جامعات میں ادبی و علمی مباحث کی فضا کو پروان چڑھانے کی ضرورت: خواجہ شاہد
جامعات میں ادبی و علمی مباحث کی فضا کو پروان چڑھانے کی ضرورت:خواجہ شاہد
مرکز برائے اُردو زبان‘ ادب و ثقافت‘ مانو میں کتاب ”خورشید الاسلام‘ ایک شاعر ایک ناقد“ کا رسم اجراء
حیدرآباد 26/اگست (پریس نوٹ): خورشید الاسلام اُردو ادب کا ایک جانا پہچانا نام ہے‘ نقاد کی حیثیت سے ان کی خدمات کاشہرہ ہے تاہم شاعر کے طور پر ان کی شخصیت سے عوام پوری طور پر آگاہ نہیں تھے‘ ڈاکٹر ظفر گلزار کی کتاب نے اس کمی کو پورا کیا ہے۔پروفیسر خواجہ محمد شاہد شیخ الجامعہ‘ مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی نے کتاب ”خورشید الاسلام‘ ایک شاعر ایک ناقد“ کی رسم اجراء انجام دیتے ہوئے اپنے صدارتی خطاب میں کل ان خیالات کا اظہار کیا۔ یونیورسٹی کے مرکز برائے اُردو زبان‘ ادب و ثقافت نے سمینار ہال میں اس تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ پروفیسر خواجہ محمد شاہد نے خورشید الاسلام کے علی گڑھ سے تعلق کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ میں ان کی قیام گاہ ترقی پسند وں کی آماجگاہ تھی۔ اُس دور کے علی گڑھ میں ادبی علمی و تحقیقی موضوعات پر کھل کر بحث ہوتی تھی۔ آج جامعات میں ایسی ہی صحت مندفضاء کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔
حیدرآباد کے ممتاز اسکالرس پروفیسر بیگ احساس‘ پروفیسر مجید بیدار اور ڈاکٹر حبیب نثار کے علاوہ پروفیسر وہاب قیصر اور ڈاکٹر شمس الہدیٰ دریابادی نے اس تحقیقی کتاب کا دلچسپ انداز میں جائزہ پیش کیا۔ ڈاکٹر ظفر گلزار (سیکشن آفیسر مانو) نے میرٹھ یونیورسٹی میں اس موضوع پر اپنی پی ایچ ڈی کے لئے داخل کردہ مقالے کو کتابی شکل دی ہے۔ پروفیسر محمد ظفر الدین‘ ڈائرکٹر‘مرکز برائے اُردو زبان‘ ادب و ثقافت نے ابتدامیں خیر مقدم کرتے ہوئے مرکز کی حالیہ سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبوں سے واقف کروایا۔انھوں نے تالیوں کی گونج میں اعلان کیا کہ مرکز کا تحقیقاتی ریفریڈ جریدہ ”ادب و ثقافت“ آئندہ ماہ منظر عام پر آئے گاجو اُردور یونیور سٹی میں اُردو کا پہلا تحقیقاتی ریفریڈ جریدہ ہوگا۔ اگلے ہفتے ممتاز نقاد پروفیسر علی احمد فاطمی‘شہرہ آفاق افسانہ نگار راجندرسنگھ بیدی کی صد سالہ تقاریب کے ایک حصے کے طور پر ”راجندر سنگھ بیدی کی تخلیقات میں عورت“ کے موضوع پر مرکز میں توسیعی خطبہ دینگے۔ پروفیسر بیگ احساس نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ محقق اور مصنف نے خورشید الاسلام مرحوم کے حالات زندگی کو کافی محنت سے جمع کیا ہے۔ خورشید الاسلام کی تنقید کے نفسیاتی پہلو اور سائنٹیفک نقطہ نظر کی نشاندہی ایک نیا اضافہ ہے۔خورشید الاسلام کی انگریزی تصنیف ”تھری مغل پوئٹس“ایک شاہکار ہے۔انھوں نے اُردو یونیورسٹی کے مرکز برائے اُردو زبان میں ادبی سرگرمیوں کے آغاز پر اظہار مسرت کیا۔ پروفیسر مجید بیدار نے کہا کہ شخصی تحقیق آسان نہیں۔ خورشید الاسلام کی شاعری‘ تنقید و تحقیق‘مشرق اور مغربی روایات کا حسین امتزاج ہے۔ ڈاکٹر حبیب نثار نے کہا کہ خورشید الاسلام اُردو تحقیق و تنقید کا ایک اہم نام ہے وہ ایک عمدہ شاعر تھے لیکن تنقید نگاری نے ان کے اس پہلو کو اوجھل کردیا۔ خورشید الاسلام کے غیر مطبوعہ کلام کی بازیافت‘ ڈاکٹر ظفر گلزار کا اہم کارنامہ ہے۔ پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ‘ رجسٹرار انچارج نے اپنی تقریر میں ڈاکٹر ظفر گلزار کو عمدہ کتاب کی اشاعت پر مبارکباد دی۔پروفیسر وہاب قیصر جنھوں نے اس کتاب کا دیباچہ تحریر کیا ہے‘ کہا کہ کسی ہمہ جہت اور ہمہ پہلو شخصیت پر تحقیق ایک مشکل امر ہے‘ ڈاکٹر ظفر گلزار نے موضوع کے ساتھ انصاف کیا ہے۔ ڈاکٹر شمس الہدیٰ دریابادی نے کہا کہ کتاب سے موضوع کتاب اور صاحب کتاب کا بھرپور تعارف ملا ہے۔ حبیب اللہ (ریسرچ اسکالر‘ شعبہ ترجمہ) کی تلاوت اور ترجمہ سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ حاضرین میں پروفیسر فاطمہ پروین‘ پروفیسر خالد سعید‘ پروفیسرصدیقی محمد محمود‘ پروفیسر فضل الرحمن‘ پروفیسر نسیم الدین فریس‘ پروفیسر نجم الحسن‘ پروفیسر احتشام احمد خان‘ڈاکٹر ابوالکلام‘ ڈاکٹر فہیم اختر ندوی‘ ڈاکٹر عبد القدوس کے علاوہ اساتذہ‘ طلبہ‘ عہدیداروں اور اسکالرس کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈاکٹر ظفر گلزار کے کلمات تشکر پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا۔
محمد ظفر الدین
ڈائریکٹر
مرکزبرائے اُردو زبان‘ ادب وثقافت
کرشن کمار بیدل کی کتاب ہندی کے نو آموز شعرا کو شاعری کا صحیح علم دے گی: ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ
کرشن کمار بیدل کی کتاب ہندی کے نو آموز شعرا کو شاعری کا صحیح علم دے گی: ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ
بین الاقوامی ساہتیہ کلا منچ، کے بینر کے تحت ڈاکٹر کرشن کمار بیدل کی ہندی میں شائع شدہ کتاب”غزل: ردیف قافیہ اور ویاکرن“ کی رسمِ اجرا
میرٹھ (24 اگست) : ”داکٹر کرشن کمار بیدل کی کتاب ”غزل: ردیف قافیہ اور ویاکرن“ہندی شعرا کے لئے فالِ نیک ہے۔ہندی میں غزل کے عروض اور قواعد پر میرٹھ سے شائع ہونے والی پہلی کتاب ہے۔زمانے سے ہندی کے حلقوں میں کسی ایسی کتاب کی کمی محسوس کی جارہی تھی،جس سے شاعری کے فن میں پختگی آسکے۔جو ہندی کے نو آموز شعرا کو شاعری کا صحیح علم دے سکے۔ڈاکٹر بیدل کی کتاب نے اس بڑی کمی کوبہت حد تک پورا کیا ہے۔“ یہ الفاظ ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کے تھے۔وہ چیبر آف کامرس میں بین الاقوامی ساہتیہ کلا منچ، کے بینر کے تحت ڈاکٹر کرشن کمار بیدل کی ہندی میں شائع شدہ کتاب”غزل: ردیف قافیہ اور ویاکرن“ کی رسمِ اجراکے موقع پر بطور مقررِ خصوصی اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا”کرشن کمار بیدل نے کتابِ ہٰذا میں عمدگی سے اردو کی شعری اصناف، غزل کی روایت،قافیہ،تضمین،عیوبِ شعر،بحر،بحر کی اقسام،تقطیع،وغیرہ کو تفصیل سے مع مثال سمجھایا ہے۔یہ شاعری عروض کے تعلق سے اچھی کتاب ہے۔اس سے نہ صرف اورد ہندی بلکہ ہندو مسلم کے درمیان کی دوری بھی کم ہوگی اور دونوں زبانوں کی تہذیب کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
جلسے کی صدارت برکلے یونورسٹی کے پروفیسر وید پرکاش بٹک نے کی۔انہو ں نے اس موقع پر کہا کرشن کما ربیدل کی کتاب سے ہندی شاعری کے معیار اور وقار میں اضافہ ہوگا۔اس طرح کی کتاب سب کو پڑھنی چاہیے۔اور کتاب خرید کر پڑھنا چاہئے۔امریکا میں سبھی کتاب خرید کر پڑھتے ہیں۔
الہ آباد یونورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر نور نے کتاب کا اجرا کرتے ہوئے کہا کہ کرشن کمار
نے ہندی والوں پر احسان کیا ہے۔یہ کتاب ہند شاعروں کے لئے انتہائی مفید ہے۔
اس موقع پر کتاب کے مصنف نے اپنی ایک غزل سنائی اور کتاب کے تعلق سے گفتگو کی۔جلسے کو ڈاکٹر رام گوپال بھارتیہ،لکشمی نارائن وششٹ، کوشل کمار،اگروال جی،وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔ نظامت کے فرایض نو جوان شاعر اور ناطم کمار پنکج نے خوبصورتی سے انجام دئے۔ اس موقع پر امت اننت اور غازی آباد سے آئی محترمہ سریواستو نے اپنا کلام بھی سنایا۔پروگرام میں شہر کے اردو اور ہندی کے شعرا،ادیب اور معززین نے شر کت کی اور صاحبِ کتاب کو مبارک باد دی۔
’’لیمی نیٹیڈ گرل ‘‘کی انفرادیت موضوع اور ٹکنک : پروفیسرسیّد احمد شمیم
’’لیمی نیٹیڈ گرل ‘‘کی انفرادیت موضوع اور ٹکنک
پروفیسرسیّد احمد شمیم
اختر آزاد نے اپنی زندگی کی ابتداء مختصر افسانے سے کی اور بہت ہی قلیل مدّت میں اُنہوں نے افسانے کی صورت گری میں اپنی انفرادی حیثیت قائم کی ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے ہم عصروں میں بیانیہ پر اتنی مضبوط گرفت کم ہی لوگوں کو حاصل ہو گی ۔بیانیہ کا سارا معاملہ دراصل لفظوں کی ہنر کاری پر منحصر ہے ۔ کفایت لفظی لازماً ضروری ہے ۔ وقوعہ کے بیان میں اتنی چابکدستی حاصل ہونی چاہئے کہ کس واقعہ کو کتنا بیان کریں اور کتنا نظر انداز کردیں ،یہ سب سے اہم بات ہے ۔یہی وہ فن ہے کہ افسانہ نگار کے لئے جادوئی ٹوپی کا کام دیتا ہے کہ وہ سب کو دیکھتا ہے اور کوئی اُسے نہیں دیکھتا ۔ اس لئے اس فن کی معروضی وضاحت میرے خیال میں ناممکن ہے ۔
اختر آزاد نے اپنے ادبی سفر میں ایک قدم یہ بھی بڑھایا کہ انہیں ناول نگاری سے دلچسپی پیدا ہو گئی ۔ ان کا پہلا ناول ’’لیمی نیٹیڈ گرل‘‘ 2013ء میں منظر عام پر بھی آ چکا ہے ۔ اور موضوع گفتگو بھی بنا ہے ۔ اختر آزاد نے اپنی افسانہ نگاری کے فن سے اس میں اچھّا خاصہ فائدہ اُٹھایا ہے ۔ اس کا اندازہ ابواب کی تقسیم پر نظر دوڑاتے ہی ایک اچھّے قاری کو ہو جاتا ہے ۔ لفظوں کے انتخاب میں بھی کفایت لفظی کے فن کو برتا ہے ۔ کسی وقوعہ کو ضرورت سے زیادہ طول نہیں دیا ہے ۔ سوائے ان معاملات کے جنہیں ہم عرف عام میں ہوٹ لائن کہتے ہیں ، یا پھر سیکس کہہ لیجئے ۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں میں یہ سوچ کر ٹھٹھک جاتا ہوں کہ اختر آزاد کی اس دلچسپی پہ مجھے گفتگو کرنی چاہئے یا نہیں …….. کیوں کہ میری خوش قسمتی ہے کہ وہ میرے شاگرد بھی رہ چکے ہیں ۔ اور شاگرد اور استاد کا رشتہ آج بھی ہمارے یہاں پابند روایت سمجھا جاتا ہے ۔ لہٰذا اس پر گفتگو میں اس لئے نہیں کروں گا کہ سیکس زندگی کی ایک حقیقت ہے اور کسی بھی فن کار کو اس پر حق پہنچتا ہے کہ ان حقیقتوں سے الجھنے کا اپنے اندر حوصلہ پیدا کرنے کا ۔یہ حوصلہ اختر آزاد کے اندر موجود ہے ۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسے کتنا کھلنا چاہئے اور کتنا بند رہنا چاہئے ۔ کیوں کہ یہ فنّی اظہار ، بالیدہ شرط اور اشاریت کو ہی سمجھا جاتا ہے ۔
اس ناول کو پڑھتے وقت ایک چیز میرے ذہن میں آئی کہ کیا ہندوستان میں اتنا بُرا وقت آ گیا ہے کہ اکیڈمک تعلیمی اداروں کو رقص و موسیقی کے ادارے اتنا نقصان پہنچا دیں کہ وہ دھڑا دھڑ بند ہونے لگیں۔شاید ابھی ایسا نہیں ہوا ہے……… مگر اختر آزاد کی تیسری آنکھ شاید مستقبل کو دیکھ رہی ہے ۔ اُنہیں یہ خوف ہے کہ آئندہ ایسا ہوگا ۔ اس لئے اُنہوں نے اپنے ناول کے ’مستقبل‘ کو’ حال ‘میں بدل دیا ہے ۔ اور ایسا کرنا ناول میں کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ قاری اگر ذہین نہ ہو اسے دھوکا بھی ہو سکتا ہے۔ یا یہ کہیں کہ پہلی نظر میں دھوکہ ہو سکتا ہے ۔لیکن غور کریں تو مستقبل اسی روپ میں سامنے کھڑا ہو سکتا ہے جس طرح سے اختر آزاد نے اس میں دکھانے کی کوشش کی ہے ۔اس سے صاف ہوتا ہے کہ وہ اختر آزاد اپنے سینے میں ایک گداز دل بھی رکھتے ہیں اور چوں کہ خود مرکزی حکومت کے ایک ماڈل پلس ٹو تعلیمی ادارے سے وابستہ ہیں ، اس لئے انہیں اس سے گہری اور فطری محبّت بھی ہے اور ہونا بھی چاہئے جس کی جھلک ناول میں صاف دکھائی دیتی ہے ۔
ناول میں زندگی کی چہل پہل بھر پور دکھائی دیتی ہے ۔ اور یہی ناول اور افسانے کا فرق بھی ہے کہ افسانہ سب جانتے ہیں کہ وہ کسی ایک وقوعہ کی ہلکی سی نمائش کرتا ہے ، جب کہ ناول بھر پور زندگی کی کوشش کرتا ہے ۔ کسی ناول میں وقوعات کا ایک سیل رواں ہوتا ہے کہ جو موت در موت پھیلتا رہتا ہے ۔ ایک چیز اور یہ ہے کہ افسانے میں بہر حال کوئی نا کوئی پلاٹ ہونا چاہئے ۔ جدید پسندوں نے اس سے انکا ر بھی کیا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی انتہا پسندی دھواں بن کر اُڑ گئی ۔ناول میں ایک پلاٹ نہیں کئی پلاٹ ہو سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ٹالسٹائی کے ’’وار اینڈ پیس ‘‘ کو پلاٹ لیس ناول کہا گیا ہے ۔ بلکہ مختلف پلاٹ کو جوڑ کر زندگی کا رزمیہ اُبھارا گیا ہے ۔ بظاہر اختر آزاد اپنے ناول میں بھی کسی ایک پلاٹ پر جم کر نہیں رہنا چاہتے ہیں ۔ لیکن ایسا ہے نہیں …….. اختر آزاد ’’لیمی نیٹیڈ گرل‘‘ میں قدیم آداب زندگی اور جدید آداب زندگی کو ایک دوسرے سے بدلنا تو نہیں چاہتے ۔ لیکن کہیں نہ کہیں نئی وحشتوں کے درمیان کی کشاکش سے ہر جگہ الجھتے نظر آتے ہیں ۔
زندگی کی اس رزمیہ میں ظاہر ہے بہت سے کردار اُبھرتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں ۔ لیکن چند کردار ایسے ہیں جو اس ناول کی بنت میں بے حد اہمیت رکھتے ہیں اور زندگی کی کشاکش میں مستقل جوجھتے رہتے ہیں ۔ ان میں ایک تو خود لیمی نیٹید گرل یعنی ’پریتی‘کی معصومیت ہے ۔ دوسرے اس کی ماں’ شوبھا ‘ہے جو صارف زندگی کی نمایاں ترین شخصیت کی شکل میں اس ناول میں موجود ہے، جو زندگی کی نئی لذّتوں سے ہم کنار ہونے کے لئے ہی بے تاب نہیں ہے بلکہ زیادہ سے زیادہ سیر یاب بھی ہونا چاہتی ہے ۔لہٰذا کس طرح پیسہ کمانا چاہئے ……… زیاددہ سے زیادہ دولت کمانے کی اس ہوس میں اس کے لئے اپنی آبرو اور اپنی بیٹی کی معصومیت بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتی ۔ دوسرے کنارے پر لیمی نیٹیڈ گرل کا باپ ’’ڈاکٹر کپل ‘‘ہے جو کامیاب ڈاکٹر ہونے کے باوجود روایت کا پاسدار اور ہندوستانی تہذیب و معاشرت کا آئینہ دار ہے ۔ اس کی بوسیدہ چھتری بھی اس کا ایک استعارہ ہے ۔ جوہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے ۔ بوسیدہ ہونے کے باوجود اسے خود سے الگ نہیں کرتے …….. بہر حال شکست خوردہ لیمی نیٹیڈ گرل کی ماں کے لئے یہی چھتری ، جس سے اسے نفرت تھی ، جسے اس نے بالکنی سے نیچے پھینک دیا تھا ۔ وہی چھتری بُرے دنوں میں اس کے لئے آخری پناہ گاہ کے طور پر سامنے آتی ہے ۔ جب کہ وہ پہلی پناہ گاہ بھی تھی۔
ناول چوں کہ عصری زندگی سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس لئے اس میں چمک دمک کافی ہے ۔ فلم ، ٹی وی اور ریئلیٹی شو کی چمک دمک سے لبریز ہے اور یہ ساری چیزیں ہمارے سیاسی رہنُماؤں کے زیرِ سایہ پر ورش پاتی ہیں …….. یعنی گندگی کا سارا چشمہ خود سیاست داں ہیں اور ان کے چمچے ہیں ۔ اس میں غنڈہ کانا سلیم جو خود کو بے جھجھک’ سلیم کانے‘ کہتا ہے ، یعنی زندگی کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتا ہے ۔ اور پھر اس کے پاس وہ وزیر ہے جو عورتوں کے لئے ہڈّی توڑ ہے ۔ اس سے آگے نہیں بڑھوں گا کہ میری زبان جلتی ہے ۔
آج کے سماج کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے چمک دمک کم ہونے لگتی ہے حسیناؤں کی چاہت کا بازار بھی مندا ہو نے لگتا ہے ۔ لیکن وہ لوگ جو زیادہ ذہین ہوتے ہیں ، آخری وقت تک بازار میں ڈوبے رہنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ صرف تجارت کا رنگ اور معیار بدلتا رہتا ہے۔چناچہ اس ناول میں بھی یہی کہنا ہے کہ جیسے جیسے ہیروئن بلوغت کی طرف بڑھتی ہے اس کا ڈیمانڈ کم ہونے لگتا ہے ۔کیوں کہ بلوغت کی عمر طبعی کی بلوغت سے پہلے آ چکی تھی ۔ کوئی چیز اب اس کے تجسُّس ، تحیُّر یا حیرت کا سبب نہیں بنتی تھی ۔مگر اس کی شاطر چالاک ماں اسے رواں سکّے کی طرح رکھنے کی مستقل کوشش کرتی ہے ۔ کبھی ایڈ کے لئے استعمال کرتی ہے اور کبھی کچھ اور چیز کرنے کے لئے ۔ اور جب یہ تمام مرحلے طے ہو جاتے ہیں تو پھر وہ چاہتی ہے کہ ایک دولت مند سے اس کی شادی ہو جائے ۔ مگر اب لڑکی ہوشیار ہو چکی ہے ۔ ماں کا سارا کھیل جو اچانک بھک سے اُڑ جاتا ہے اور اس کی شادی اس لڑکے سے ہو جاتی ہے جس سے اس کی کمینہ فطرت ماں خود اپنے لئے کبھی اس لڑکے کے نوزائدگی میں استعمال کرنا چاہتی تھی ۔
ایک فکشن رائٹر کے لئے ضروری ہے کہ زبان وبیان پر بھر پور دسترس ہو ۔ اور یہ دسترس اختر آزاد کو حاصل ہے ۔ بہت ہی رواں کہیں کہیں سادہ ، کہیں کہیں نوکیلی اور کہیں کہیں پھولوں کی پنکھڑی جیسی زبان لکھنے پر ان کو قدرت حاصل ہے ۔یہاں حوالے کے طور پر ایک پیراگراف رقم کرنا چاہوں گا ۔ یوں تو یہ چوتھے باب کا پہلہ حصّہ ہے ، لیکن حقیقی معنوں میں یہ ناول یہیں سے شروع ہوتاہے۔جملے دیکھئے:
’’شام کا مغربی آنچل وقت کے دوش پر لہرا رہا ہے اور اُس کو چھو کر گذرنے والی ہوا مشرقی اُفق پر بیٹھی نئی نسل کی سانسوں کے راستے آہستہ آہستہ اُس کے اندر اُتر رہی ہے ۔زندگی اور موت کے درمیان سانس کی کڑی جہاں کمزور پڑی روح کا رشتہ جسم سے ٹوٹ جاتاہے ۔ڈاکٹر کپل اور شوبھا کے درمیان کے رشتے تب کمزور پڑنے لگے جب ٹی وی چینلزنے ٹی آر پی کی اُگاہی کے لئے نئی نسل کے جسموں پرمرچ مصالحہ لگا کر وقت کے توے میں مغربی تیل سے ڈیپ فرائی کیا اور ا سکرین نما پلیٹ میں موڈرنیٹی کا نمک چھڑک کر زندگی کے رنگین ٹیبل پر اِس طرح خوش نما بنا کر پیش کیاکہ چھُری کانٹے سے لیس لوگوں نے ٹیبل مینرکو بالائے طاق رکھ کر ریئلیٹی شوکے اِس نادرکباب پر چاروں طرف سے یلغار کر دیا۔
’’لیمی نیٹیڈ گرل‘‘ صفحہ ۔10
اختر آزاد نے ناول کے اختتام میں ایک مشاق فنکار کی طرح بہت خوبصورتی کے ساتھ تمام واقعات کو سمیٹا ہے اور بڑے ہی ڈرامائی انداز میں اسے کلائمکس تک پہنچایا ہے ۔ جس کے دو اختتام ہیں ۔ ایک خاص قاری کے لئے اور دوسرا عام قاری کے لئے ۔ لیکن جہاں تک میرا خیال ہے کہ کہ یہ اختتام نہیں ایک اختتام ہے جسے صرف ایک ٹکنک کے طور پر خاص و عام کے درمیان بانٹا گیا ہے ۔ کیوں کہ کوئی بھی قاری ایک انجام تک پہنچ کر نہیں رک سکتا ۔ اسے دوسرے انجام تتک پہنچنا ہی ہو گا ۔جس میں تجسّس بھی ہے اور انفرادیت بھی ۔جس کی داد دی جانی چاہئے ۔ میری دعا ہے اور یقین ہے کہ آئندہ کی فکشن کی دنیا میں وہ بہت زیادہ نمایاں ہوں گے ۔ نمایاں تو اب بھی ہیں ۔لیکن کل پوری اعتماد اور انفرادیت کے حامل بھی ہوں گے جسے چیلنج کرنا کسی کے لئے بھی آسان نہیں ہو گا ۔
***
ادب کی تخلیق جوکھم بھرا کام ہے: آلوک کمار
ادب کی تخلیق جوکھم بھرا کام ہے: آلوک کمار
”ادب میں تخلیق کا کام جوکھم بھرا ہے۔ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ جواں سال قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔“
یہ باتیں دھال بھوم، جمشیدپور کے ایس ڈی او شری آلوک کمار نے نیاز اختر کے افسانوی مجموعے”بوڑھے برگدکا انت“ کی رسم رونمائی کی تقریب کے موقع پر کہیں۔
14/جون2015 کو سنٹر فار ایکس لینس میں شہر سنگ و آہن، جمشیدپور کے جواں سال افسانہ نگار نیاز اختر کے افسانوی مجموعے ”بوڑھے برگد کاانت“ کی رسمِ رونمائی کی تقریب کا انعقاد ہوا۔ شری آلوک کمار(ایس ڈی او، دھال بھوم، جمشیدپور) کے ساتھ انجمن ترقی پسند مصنفین، جمشیدپور کے صدراور نامور کہانی کار شری جے نندن، ڈاکٹر سبھاش چندر گپتانے بھی کتاب کی رونمائی کی اور انہیں مومینٹو اور شال بھی پیش کیا۔ایس ڈی او شری آلوک کمار نے نیاز اختر کے پہلے افسانوی مجموعے کے لئے مبارک باد دی اور ان کے روشن ادبی مستقبل کی خواہش کا اظہار کیا۔
تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انجمن ترقی پسند مصنفین، جمشیدپور کے سکریٹری شری سبھاش چندر گپتا نے نیاز اختر کو بے چینیوں کا کہانی کار بتایا اورکہا کہ نیاز اختر عام آدمی کو بے چین کرنے والی الجھنوں کو اپنی کہانیوں میں شامل کرنے کے ساتھ ہی ان سے نپٹنے کی راہ تلاشتے ہیں۔
یحییٰ ابراہیم نے اپنے خطاب میں مابعد جدیدیت کو ادیبوں کا پر کترنے والا بتاتے ہوئے نیاز کو اس سے بچائے رکھنے کی وکالت کی۔ انھوں نے مجموعے کی کئی افسانوں کاذکر کرتے ہوئے ان کی خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کی۔ ساتھ ہی ساتھ ادب کے گلوبلائزیشن کے نظریے سے مجموعے کی کہانیوں کاتجزیہ پیش کیا۔
اردو کے نامور افسانہ نگار ڈاکٹر اختر آزاد اور ابرار مجیب نے بھی مجموعے کے افسانوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
شری جے نندن اپنے صدارتی خطبے میں فرمایا کہ نیاز اختر کی کہانیاں ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ ہم اپنی آنے والی نسل کووراثت میں کیسی دنیا دینے جا رہے ہیں۔
اس تقریب میں سید احمد شمیم، اسلم بدر، احمد بدر،انور امام،سلطان احمد ساحل، تنویر اختر رومانی، سعید فردوسی، ممتاز شارق، نیاز احمد آسی، رضوان اورنگ آبادی،پروفیسر جاوید اختر انصاری،پروفیرگوہر عزیز،اختر جاوید،شاکر عظیم آبادی،حسن امام ملک، مختارعالم خان،پارول سنگھ (بی ڈی او،جمشیدپور)،سنجے پانڈے(سی او پوٹکا)،یسمیتا سنگھ(مجسٹریٹ)،انیتاکیرکیٹا (مجسٹریٹ)،ارپتا سری واستو، پروفیسر وجے شرما، آشیش مہنتی (رکن ادارہ حقوق انسانی)،شنکر پال، سنتوش کمار،بلوندر کوراورمیرا شکلاجیسے شہر کے کئی معروف قلمکار، اساتذہ، صحافی، افسران اور ادب نواز خواتین اور حضرات شریک تھے۔
پروگرام کی نظامت (نقابت) منظر کلیم فرما رہے تھے۔
تنویر اختر رومانی
جمشید پور 14/ جون
انتظار حسین کی تخلیقات میں ہجرت کا کرب تفہیم کے نئے زاویوں کا متقاضی ہے۔ پرو فیسر اعجاز علی ارشد
انتظار حسین کی تخلیقات میں ہجرت کا کرب تفہیم کے نئے زاویوں کا متقاضی ہے۔ پرو فیسر اعجاز علی ارشد
شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میں اسماعیل میرٹھی یادگاری خطبہ بعنوان”انتظار حسین کی افسانہ نگاری میں ہجر کا کرب“ کا انعقاد
میرٹھ:شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ اور قومی کونسل برا ئے فروغ اردو زبان،نئی دہلی کے اشتراک سے،شعبہ کے پریم چند سیمینار ہال میں مولانا اسماعیل میرٹھی یادگا ری خطبہ بعنوان”انتظار حسین کی افسانہ نگاری میں ہجر کا کرب“ کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کی صدارت صدر شعبہئ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوری ؔنے کی۔خصوصی مقرر کی حیثیت سے پرو فیسر اعجاز علی ارشد(شیخ الجامعہ،مظہرالحق عربی فارسی یونیورسٹی، پٹنہ)اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر خواجہ اکرام الدین(ڈائریکٹر این سی پی یو ایل، نئی دہلی)اور مہمانان ذی وقار کی حیثیت سے پروفیسر فاروق بخشی (صدر شعبہ اردو،موہن لال سکھاڈیا یونیورسٹی، اودے پور)اورمعروف افسانہ نگار محترم بشیر مالیر کوٹلوی شریک ہوئے جب کہ نظامت کے فرائض شعبہ کے استاد ڈاکٹر آصف علی نے انجام دیے۔
تقریب کا آ غاز مولانا شاہ عالم گورکھپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔استقبالیہ کلمات اور مولانا اسماعیل میرٹھی کا مختصر تعارف ڈاکٹر شاداب علیم نے پیش کیا۔مہمانوں نے مل کر شمع رو شن کی اور گلوں کے ذریعے مہمانوں کا استقبال کیا گیا۔
اس کے بعد خصوصی مقرر پرو فیسراعجاز علی ارشد نے مذکورہ موضوع پر ایک تفصیلی اور جامع خطبہ پیش کیا،جس میں انہوں نے انتظار حسین کی افسانہ نگاری پالخصوص ان کے افسانوں میں ہجر کے کرب کے تعلق سے مدلل گفتگو کی۔جس نے سامعین کومتحیر کردیا۔انہوں نے کہا کہ انتظار حسین کے یہاں دو باتیں بہت اہم ہیں۔ایک مضبوط حافظہ انتظار حسین کا مستقل ساتھی ہے جو انہیں کسی بھی واقعے سے مترادف کسی قدیم واقعے کی یاد دلاتا ہے اسے ہم ناسٹلجیا کی ایک صورت کہہ سکتے ہیں مگر یہ کسی مریضانہ ذہنیت کا نتیجہ نہیں۔یہ ان کی کمزوری بھی نہیں قوت ہے اور کسی حد تک اسی کے سبب انہوں نے ایک ایسا اسلوب بیان اختیار کیا ہے جو روا یتی تو ہر گز نہیں ہے۔خود انہوں نے کئی مواقع پر اعتراف کیا ہے کہ ترقی پسندوں سے ان کی کبھی قربت نہیں رہی،نہ ان کے انداز بیان سے ان کا رشتہ رہا۔انہوں نے مزید کہا کہ انتظار حسین نے ہجرت کا جو کرب اپنے افسانوں اور ناولوں میں پیش کیا ہے وہ گردش ماہ و سال کے ساتھ نئی معنویتوں سے ہم کنار ہو رہا ہے۔اور تفہیم کے نئے زاویوں کا متقاضی ہے۔
مہمان خصوصی پروفیسرخواجہ اکرام الدین نے اسماعیل میرٹھی کی شخصیت اور خدمات پر رو شنی ڈالتے ہو ئے کہا کہ اسماعیل میرٹھی بچوں کے ساتھ ساتھ عوام کے شاعر تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں مشکل الفاظ،بھاری بھر کم محاورات اور دور ازکار تشبیہات و استعارات کے بجائے عوام میں رائج الفاظ،روزمرہ کے محاورات استعمال کیے ہیں۔آج اردو اور ہندی کے ادیب اپنی اپنی زبانوں کوفارسی اور سنسکرت کی طرف لے جانے کی کوشش کررہے ہیں،یہ نقصان دہ نظریہ ہے۔آج پھر ضرورت ہے کہ ہم الفاظ کی شعبدہ بازی سے باز آکرسادہ عام فہم اور سماج میں رائج زبان کا استعمال کریں۔یہی ان زبانوں کی بقا کا واحد راستہ ہے۔اس موقع پر ڈا کٹر فاروق بخشی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا
آخر میں اپنا صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری ؔنے کہاکہ مولانا اسماعیل میرٹھی ان معدودے چند ادیبوں میں سے ہیں جنہوں نے ادب کے ذریعے ملک و قوم کی تعمیر میں نمایاں حصہ لیا ہے اورجب کو ئی ادیب مفکر، دانشور،شاعر اور ساتھ ہی ماہر تعلیم بھی ہو تا ہے تو اس ادب کی تو دنیا ہی بدل جاتی ہے اور وہ ادب آفاقیت کا حامل ہوجاتا ہے۔اسماعیل میرٹھی نے بھی اپنی تخلیقات سے نہ صر ف قوم کی اصلاح کا کام اوراتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی بلکہ قوم کے نو نہالوں کے مستقبل کو سنوارنے وا لا ادب پیش کر کے انسانیت کے تن مردہ کی جڑوں کو سینچنے کا فریضہ انجام دیا اور یہ ان کا عظیم کارنا مہ ہے۔
اس مو قع پر ڈاکٹرثروت خان اورڈاکٹر ترانہ پروین ابرار مجیب،اشتیاق سعید،ڈاکٹر الکا وششٹھ،انل شرما،بھارت بھوشن،محمد یامین انصاری اور کثیر تعداد میں طلبا و طالبات نے شرکت کی۔
ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کو افسانہ کلب،مالیر کو ٹلہ، پنجاب کا باوقار ’’منٹو ایوارڈ2015“ پیش کیا گیا
ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کو افسانہ کلب،مالیر کو ٹلہ، پنجاب کا باوقار ’’منٹو ایوارڈ2015“ پیش کیا گیا
میرٹھ (12 مئی): نئی نسل کے ممتاز افسانہ نگار،صحافی، ناقداور صدر شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیور سٹی،میرٹھ ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کو مالیر کوٹلہ کلب،پنجاب میں با وقار ’’منٹو ایوارڈ 2015“سے سرفراز کیا گیا۔
ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کو اردو افسانے کی ترقی وفروغ کے لئے،ہندوستان کی معروف تنظیم افسانہ کلب،ملیر کوٹلہ کی جانب سے یہ اعزاز پروفیسر صغیر افراہیم(مدیر، تہذیب الاخلاق)،محترم امجد علی(چیئر مین،سہراب گروپ آف کمپنیز)،محترم سکھ دیو سنگھ گریوال(امریکا)،محترم نگیندر پال،محترم بشیر مالیر کوٹلوی(صدر،افسانہ کلب) کے دستِ مبارک سے، دو روزہ کل ہند سیمینار ”اردو کے سکھ افسانہ نگار“ کے افتتاحی اجلاس میں دیا گیا۔
واضح ہو کہ پہلا منٹو ایوارڈ اردو کے معروف افسانہ نگار محترم شرون کمار ورما کو دس سال قبل دیا گیا تھا۔دوسرا منٹو ایوارڈ پیش کرتے ہوئے افسانہ کلب کے صدر محترم بشیر مالیر کوٹلوی نے کہا ”یہ ایوارڈ اردو افسانے کے فروغ میں عملی تعاون دینے والے لوگوں کو دیا جاتاہے۔ڈاکٹر اسلم جمشید پوری ؔنے نہ صرف افسانے تحریر کر کے نئی نسل میں اپنا مقام بنایا ہے،بلکہ انہوں نے افسانے کے فن پر متعدد قومی اور بین الاقوامی،سیمینار اور ورکشاپ منعقد کرائے ہیں اور کئی طالب علموں کو افسانے کے تعلق سے تحقیق بھی کرائی ہے۔کئی طالب علم افسانے بھی لکھ رہے ہیں۔وہ اس منٹو ایوارڈ کے مستحق ہیں۔
اس موقع پر معروف فکشن ناقد پروفیسر صغیر افراہیم،ڈاکٹر نگار عظیم،محترم حقانی القاسمی،ڈاکٹر ابو بکر عباد،ڈاکٹر شاداب علیم،ڈاکٹر آصف علی،مشتاق احمد وانی،عزیز عباس، وغیرہ ادبی شخصیات نے ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری ؔکو مبارکباد پیش کی۔
شادی کی اٹھارویں سالگرہ مبارک : رضواں واسطیؔ
شادی کی اٹھارویں سالگرہ مبارک
دعائیہ
…رضواں واسطیؔ
جیون کا یہ میل مبارک، شادی کی یہ سالگرہ
آس کے دیپ جلانے کو اور نئی امیدیں جگانے کو
پیار، محبت، وفا، دوستی کی یہ محفل رہے سد ا
بیتے اٹھارہ سال ، ابھی ہیں سال ہزاروں آنے کو
ایک کلی ایک پھول کی خوشبو مہکائے عالم سارا
نور ’ دعا ایمان ‘ ہے ،’ عبداللہ ‘ ہے آنکھوں کا تارا
صدیاں لاکھوں آئیں، اورآنگن میں کریں یہ اجیارا
رحمت سے اللہ کی یہ جگ سجا رہے پیارا پیارا
نغمہ ناز مکتومی کی دنیا کا محافظ خدا ر ہے
بس یوں ہی مہتاب عالم پرویز کا گلشن کھِلا رہے
٭٭٭٭٭٭
نئی نسل کے معروف افسانہ نگار….. مہتاب عالم پرویزؔ اور ’’ عالمی پروازڈاٹ کوم ‘‘ کی فاضل مدیرہ نغمہ ناز مکتومی ؔ کو شادی کی اٹھارویں سالگرہ مبارک …..
نئی نسل کے معروف افسانہ نگار
مہتاب عالم پرویزؔ
اور
"عالمی پروازڈاٹ کوم "
"عالمی افسانوی کارواں”
"اُردوآپریشن”
کی فاضل مدیرہ
"اُردو گھرانہ” کی ڈائریکٹر محترمہ نغمہ ناز مکتو می ؔ
کو
شادی کی اٹھارویں سالگرہ
مبارک
خدا کرے تم دونوں
ملک اور ادب کی
خوب خدمت کرو
منجانب
ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری
صدر
شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی
میرٹھ