پانچ روزہ بین الاقوامی افسانہ ورکشاپ کی یاد گار مشاعرہ کی شام
پانچ روزہ بین الاقوامی افسانہ ورکشاپ کی یاد گار مشاعرہ کی شام
29/ اپریل2015ء (پریس ریلیز)
برہسپتی بھون،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے ہال میں پانچ روزہ بین الاقوامی افسانہ ورکشاپ کے دوران ایک شاندار مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ جس کی صدارت معروف استاذ شاعر محترم جمیل مظہر سیانوی نے کی۔مہمانان خصوصی کے طور پر محترم جاوید راؤ،محتر م حا جی عاد ل چودھری،محترم سلیم سیفی نے شرکت کی۔ مہمانان ذی وقار کے بطور ڈاکٹر سراج الدین،محترم پربھاش دویدی (رجسٹرار، سی سی ایس یونے شرکت کی۔مہمانوں کا تعارف ڈاکٹر اسلم جمشید پوری(صدر شعبہ اردو)نے پیش کیا جب کہ نظامت کے فرائض نو جوان شاعر،معروف ناظم فرقان سردھنوی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔
پرو گرام کا آ غازمجیب شہزر نے ہدیہئ نعت سے کیا۔ بعد ازاں مہمانوں نے مل کر شمع افروزی کی۔اس مو قع پر پڑھا گیا منتخب کلام قارئین کی نظر ہے .
تقاضا بندگی کا ہے یہی امید مت چھوڑو
گھڑی مقبولیت کی کیا پتہ کس وقت آجائے
ضیاء باغپتی
مریض عشق کو فورا کسی تھانے میں پہنچا دو
ذرا دیکھیں مرض یہ کس طرح اچھا نہیں ہوتا
احمد علوی
پیروں سے اپنا جسم سنبھلتا نہیں سلیم
سر پر کسی کا بوجھ تو کیسے اٹھائے گا
سلیم اختر سلیم،سیانہ
گیلی لکڑی کی طرح مجھ کو جلا نے والے
کبھی تو پوجا تھا تمہی نے مجھے پیپل کی طرح
سکندر عاقل
بے تابیوں کو میری کہانی کہا گیا
آنکھوں سے بہتی آگ کو پانی کہہ گیا
جمیل مظہر سیانوی
خامشی چھپاتی ہے عیب اور ہنر دونوں
شخصیت کا اندازہ گفتگو سے ہوتا ہے
شمس رمزی
تیرا فراق بھی تنہا نہ کر سکا مجھ کو
کلام کرتے رہے رات بھر درو دیوار
شہباز ندیم ضیائی
سنا ہے باز بوڑھا ہوگیا ہے
تبھی تو فاختائیں بولتی ہیں
ڈاکٹر راشد الاسلام راشد
مجھ کو شریک زندگی اک اور دے خدا
بیوی کے پاس بیٹھ کے ایسی دعا کروں
اقبال فردوسی
کسان اپنا لہو دینے لگے ہیں فصل گل کو
میرے مولیٰ زمینوں میں نمی کم ہورہی ہے
اظہر اقبال
آج کی مریم یہ کہتی ہے اپنے پیارے بیٹے سے
سچ کی اور نہ جانا ورنہ جسم ٹنگے گا کیلوں پر
ڈاکٹر مجیب شہزر
دل کے امیر ہوتے ہیں یہ لوگ اے نوید
کس نے کہا غریب سے رشتہ نہ کیجئے
ابوذرنویدکرتپوری
میں نے تو سر پہ کفن باندھ کے بازی ماری
جنگ میں مارا گیا جان بچانے والا
نذیر میرٹھی
تنقیدوں سے نکھرا ہے فن
تپ کے ہوا ہے سونا کندن
نذیر میرٹھی
شعبہ اردو کے ذریعہ منعقدہ پانچ روزہ بین الاقوامی افسا نہ ورکشاپ اختتام پذیر ورکشاپ میں تینوں زبانوں کی کہانیوں کی تفہیم کے نئے در وا ہوئے : پروفیسر زماں آزردہ
شعبہ اردو کے ذریعہ منعقدہ پانچ روزہ بین الاقوامی افسا نہ ورکشاپ اختتام پذیر
ورکشاپ میں تینوں زبانوں کی کہانیوں کی تفہیم کے نئے در وا ہوئے : پروفیسر زماں آزردہ
میرٹھ 28/ اپریل2015ء
اس ورکشاپ میں تینوں زبانوں کی تفہیم کے در وا ہوئے ہیں۔اب انسانی زندگی اور اس کی تمام تہذیبی قدریں بدل چکی ہیں جس کے اثرات معاشرے پر جا بجا نظرآ رہے ہیں۔کہانی بخو بی اس تغیر کو پیش کر رہی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان دوستی اور اخوت و بھائی چارے کی فضا کو ہموار کیا جائے۔ اس سلسلے میں افسانہ تاریخ ساز کردار ادا کرسکتا ہے۔یہ الفاظ تھے پرو فیسر زماں آزردہ کے جو شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی میرٹھ،قومی کونسل برا ئے فروغ اردو زبان اور اتر پردیش اردو اکادمی کے با ہمی اشتراک سے منعقدہ پا نچ رو زہ بین الاقوامی افسا نہ ورکشاپ(اردو،ہندی، انگریزی) کے اختتامی اجلاس میں بطور صدر خطاب کررہے تھے۔
مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر ایچ ایس سنگھ (نائب شیخ الجامعہ،سی سی ایس یو)نے شرکت کی جب کہ مہمانان ذی وقار کی حیثیت سے پروفیسرزین الساجدین،(چیئر مین،عربی فارسی بورڈ، لکھنو)،ڈاکٹر ہاشم رضا زیدی،محترم طالب زیدی، ڈاکٹر پارُل تیاگی، محترمہ قمر النساء زیدی،محترم انل شرما اور محترم قاری شفیق الرحمن قاسمی نے شرکت کی۔ اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف علی اور ڈاکٹر اعظم انصاری نے مشترکہ طور پر انجام دیے۔ پانچ روزہ ورکشاپ کی ایک مختصر رپورٹ ڈا کٹر شاداب علیم نے پیش کی۔
اختتامی تقریب کے پہلے حصہ میں سب سے ڈا کٹر نعیم صدیقی،میرٹھ،ڈا کٹر دیپا اور ڈا کٹر ریحانہ سلطا نہ نے اپنی کہا نیاں پیش کیں اور ڈا کٹر وکیل احمد رضوی، محمد بشیر مالیر کوٹلوی،ڈا کٹر صا لحہ رشید، ڈا کٹر نصرت جہاں، محترم بھا رت بھوشن شر ما اور محترم ابرار مجیب نے اس پانچ رو زہ ورکشاپ کاتفصیلی تجزیہ پیش کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ یہ ورکشاپ نئے افسانے کے سمت ورفتار کے تعین میں معاون رہا ہے۔اس کے ذریعے سے کہانی لکھنے کے اصول و ضوا بط سے لے کر کہانی کے اجزا ئے ترکیبی، ان کی اہمیت اور کہانی سننے اور اس کی افہام وتفہیم جیسے تمام مسائل پر غوروخوض کیا گیا جس کا مقصد آج کے مصروف اور تجارتی دور میں افسا نے کے فروغ کے امکانات تلاش کر نا تھا۔ساتھ ہی یہ جاننا بھی تھا کہ ہم عصر زبانوں بالخصوص ہندی اور انگریزی زبانوں میں کہانی کی صورت حال کیا ہے۔اس سے بہر حال یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اردو افسانے کی سمت و رفتار اطمینان بخش ہے۔
تقریب کے دوسرے حصے میں قاری شفیق الرحمن قاسمی، انل شرما، قمر النساء زیدی، طالب زیدی پرو فیسر زین الساجدین،پروفیسر ایچ ایس سنگھ اور پروفیسر زماں آزردہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ قاری شفیق الرحمن قاسمی نے کہا کہ میرٹھ نا کام معرکہ آ زادی کے بعد سے لوٹ پاٹ، قتل و غارت گری کے لیے جانا جانے لگا تھا۔شعبہ اردونے اپنی محنت و لگن سے اس کی یہ تصویر بدلی ہے۔ان کے آنے کے بعد مردہ ادبی اور تہذیبی و ثقافتی سر گرمیوں میں جان پڑ ی ہے۔انل شر ما نے کہا کہ اس پانچ رو زہ ورکشاپ میں شریک ہو کر یہ محسوس ہوا ہے کہ اردو افسانے کی رفتار اور سمت بھی غیر اطمینان بخش نہیں ہے۔ اس میں دیگر زبانوں کی کہا نیوں کی طرح انسانی زندگی کے شعبہ جات کی عکاسی ملتی ہے۔قمر النساء زیدی نے کہا افسا نہ انسان کی حقیقی زندگی کا ترجمان ہے۔ کچھ وقفے کے لیے اردو میں کہا نی ٹریک سے اتر گئی تھی مگر خوشی کا مقام ہے کہ نئی نسل نے اسے دو بارہ ٹریک پر ڈال دیا ہے۔ یہ پا نچ رو زہ افسا نہ ورکشاپ بھی اس کی دلیل ہے۔ طا لب زیدی نے پانچ رو زہ بین الااقوامی ورکشاپ کے انعقاد پر صدر شعبہ اردو اور ارا کین شعبہ کو مبار ک باد پیش کرتے ہو ئے کہا کہ نئی کہا نی نے انسانی زندگی کے بدلتے منظر نامے کو جس خوبصورتی سے پیش کیا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا مستقبل تابناک ہے۔
پروفیسر قاضی زین الساجدین نے ورکشاپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ایسی تقریبات سے قاری اور تخلیق کار کے درمیان رشتہ مضبوط ہو گا اور یہ ورکشاپ میرٹھ کی ادبی فضا کوصحت مند بنا ئے گا۔
پروفیسر ایچ ایس سنگھ نے ورکشاپ کے کا میاب اختتام پر خواہش کا اظہار کرتے ہو ئے کہا یہ ورکشاپ اردو،ہندی اور انگریزی ادیبوں کے درمیان کی دوریاں کم کر نے کی سمت میں اٹھایا گیا ایک اہم عملی قدم ہے اگر یہ سلسلہ جا ری رہاتو یقینا یہ تینوں زبانوں کے فروغ کا سبب ہو گا، انہوں نے اس طرح کی تقریبات کے لیے اپنے مکمل تعاون کا بھی وعدہ کیا۔
ورکشاپ کی غرض و غایت، نتائج اور پانچ دنوں کا ایک خا کہ پیش کرتے ہو ئے صدر شعبہ اردو ڈا کٹر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ ورکشاپ میں کل پندرہ اجلاس منعقد ہو ئے جن میں ایک اجلاس ہندی کہا نی، ایک اجلاس انگریزی کہانی اور ایک اجلاس صرف خواتین مقالہ نگاروں اور افسا نہ نگاروں پر مشتمل تھا۔ورکشاپ کے دوران تقریبا 70مندو بین نے ہندو ستان کے کونے کو نے اور بیرونِ ہند سے شرکت کرتے ہو ئے مقالے، کہا نیاِں اور تجزیے پیش کیے۔ یہ ورکشاپ اپنے آپ میں میرٹھ کی ادبی تاریخ میں سنگِ میل ثا بت ہو گا۔
پرو گرام کے آخر میں مقالہ نگاروں اور اس ورکشاپ میں جن کی کتابیں منظر عام پر آئیں،تسلیم جہاں، عامر نظیر ڈار،فرح ناز کو مو منٹو پیش کیا گیا۔اس طرح اس ورکشاپ میں اپنا بھر پور تعاون دینے کے لیے پرو وی سی،میڈیا پرسن، گیسٹ ہاؤس، شعبہ انجینئرنگ، اساتذہ وملازمین کو مو منٹو پیش کیے گئے۔شعبہ کے راجو اور رجّو کو بھی مو منٹو سے نوازا گیا۔
اس مو قع پر ڈاکٹر اتویر، ڈاکٹر پرگیہ،ڈا کٹر فو زیہ با نو، ڈا کٹر عفت ذکیہ، ڈا کٹر سیدہ خا تون،آفاق خاں، ذیشان خاں،طلبہ و طالبات،یونیورسٹی ملازمین اور عمائدین شہر نے کثیر تعداد میں شر کت کی۔
بالغ نظر افسانہ نگار پرویزؔ : ڈاکٹر زین رامشؔ
ڈاکٹر زین رامشؔ
شعبہ اردو
ونو بھا بھاوے یونیورسٹی،ہزاری باغ
جھار کھنڈ
بالغ نظر افسانہ نگار پرویزؔ
ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کتاب میں شامل اپنے مضمون بعنوان”مہتاب عالم پرویز ؔکے افسانوی بال و پر“کے دوسرے پیرا گراف میں اطلاع فراہم کرتے ہیں کہ:
”مہتاب عالم پرویز ؔنے 1985ءسے اپنے افسانوی سفر کا آغاز کیا تقریبا25/سال کے اپنے افسانوی سفر میں مہتاب عالم پرویزؔ نے بڑے نشیب و فراز دیکھے‘کبھی کہانی ان کے اندر اٹھکھیلیاں کرتی‘ کبھی انگڑائیاں لیتی تو کبھی وہ کہانی سے عشق فرمانے لگتے اور کبھی ایسا ہوتا کہ دونوں کے درمیان ہجر اپنے پاؤں پسارنے لگتا کہانی اور پرویز ؔکے درمیان کے تعلقات گزشتہ ایک دہائی تک بالکل ختم سے ہوگئے تھے لیکن ادھر پرویزؔ نے پھرسے مراجعت کی ہے۔“
علاوہ ازیں جن دانشمندانہ خیالات سے مستفیض ہوا وہ ڈاکٹر محمد زکریا،جناب اسلم بدرؔ،جناب احمد بدرؔاور ڈاکٹر اختر آزادؔکے خیالات تھے۔یہ ساری آرا، سارے خیالات اور سارے تاثرات قدرِ مختلف بھی تھے اور قدرِ مشترک بھی۔لیکن اس بات پر بہر حال اتفاق دکھاکہ افسانہ نگاری کے تعلق سے پرویز ؔکے یہاں روشن امکانات موجود ہیں۔روشن امکانات کی یہ موجودگی اس لیے بھی نظر آتی ہے کہ پرویزؔ نہ تو افسانے کے فن کے تعلق سے تکنیکی بھول بھلیوں میں اپنے کو گرفتارکرتے ہیں‘ نہ ہی بہت زیادہ اس فکر میں مبتلا ہوتے ہیں کہ میں افسانے کیوں لکھ رہا ہوں اور نہ ہی جدیدیت یا ترقی پسندانہ افکار و نظریات سے دانستہ طور پر اپنے فن کا ڈانڈا ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ خود ہی اس حقیقت کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ:
”دل کے جذبات‘،’آنکھوں کے خواب‘،دنیا کے تماشے اور کہانی کے تانے بانے کب لفظوں اور جملوں سے بر سرِ پیکار ہوئے، کب کاغذ پر تحریر کردہ لکیریں زندہ ہو اُٹھیں اور انہیں لوگوں نے افسانہ کہہ دیا،یہ سب مجھے تاریخ کے طالب علم کی طرح یاد نہیں۔“
زیرِ تذکرہ مجموعہ افسانہ’ریت پر کھینچی ہوئی لکیر‘میں شامل افسانوں میں دو افسانے ’رشتے کی بنیاد‘ اور ’ریت پر کھینچی ہوئی لکیر‘ کو متفقہ طور پر بہ نظرتحسین دیکھا گیا۔میں نے بھی ان دونوں افسانوں کو بہ کیفیت اشتیاق پڑھا انتہائی گھسے پٹے موضوع کو دائرہ تخلیق میں لاکر مہتاب عالم پرویز ؔنے اپنے انفرادی فن کارانہ ٹریٹمنٹ کے ذریعہ جس طرح زندہ جاوید کردیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔حقیقتا ان دونوں افسانوں کے ذریعہ پرویزؔکی خلاقانہ اہمیت کا جواز فراہم ہوتا نظر آتا ہے۔
مہتاب عالم پرویزؔکے اہم ترین اور متاثر کن افسانوں میں ان کا ایک افسانہ ’جلتی دھوپ میں رِم جھم‘اس افسانے کو ہم موضوع اور پیش کش دونوں اعتبار سے اہمیت کا حامل اس لیے بھی قرار دے سکتے ہیں کہ اس میں ایک بہت ہی نازک ترین نفسیاتی نکتے کو کامیابی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔پرویز ؔکے اس افسانے کو پڑھنے کے بعد جناب اسلم بدرؔ کی اس رائے کی معنویت کھلتی ہے کہ:
”افسانہ نگار فرائڈ اور ڈی ایچ لارنس کو بھی خوب خوب پڑھاہے اس لیے نہ صرف نفسیاتی الجھنوں اور پیچیدگیوں سے واقف ہیں۔بلکہ اکثر افسانوں میں انفرادی اور سماجی مسائل کا نفسیاتی تجزیہ کرتے بھی نظر آتے ہیں۔“
شام ہوتے ہی دُکانوں کے سجنے،گلیوں کے روشنیوں کی آماجگاہ بن جانے‘لوگوں کے ذریعہ اندھیرے کی پناہ ڈھونڈنے گھنگھروؤں کی جھنکار اور ڈھولک کی تھاپ جیسے منظر سے کہانی کی ابتدا ہوتی ہے اور لمحہ بھر کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کسی جنس زدہ افسانہ نگار کی تفریحی تحریر کی شروعات ہے۔یہاں تک کہ کہانی یہ منظر بھی پیش کرتی ہے کہ اس نے مجھے بستر پہ کھینچ لیا۔اور بلاؤز کا ہک کھولنے لگی‘۔لیکن کہانی کا اختتام یہاں ہوتا ہے:
”…..کیا تم میری ماں نہیں بن سکتیں؟ ’ماں‘ کا لفظ سن کر اس کے لب کپکپا اٹھے….وہ میری باہوں میں جھول گئی اور زارو قطار رونے لگی۔اسے اس طرح اچانک روتے دیکھ کر مجھے ایسا لگا کہ اس کی جلتی تپتی سی زندگی میں بارش کی رم جھم پھوار گر گئی ہو۔“
اس کہانی پر طویل گفتگو کی بہت ساری گنجائشیں موجود ہیں،لیکن میں نے مختصراشارے صرف اس لیے کیے ہیں کہ تجسس قائم رہ سکے،اور اس کہانی کا مطالعہ ضرور کیا جائے۔
پرویز کی کہانیوں کا ایک قابلِ ذکر معاملہ ان کی رواں نثر اور زبان کا تخلیقی استعمال بھی ہے جس پر گفتگو پھر کبھی….!
٭٭٭
ڈاکٹر زین رامشؔ
شعبہ اردو
ونو بھا بھاوے یونیورسٹی،ہزاری باغ
جھار کھنڈ
مہتاب عالم پرویزؔ کے گرم افسانے MAHTAB ALAM PERVEZ KE GARM AFSANE : رضوانؔ واسطی
مہتاب عالم پرویزؔ کے گرم افسانے
MAHTAB ALAM PERVEZ KE GARM AFSANE
از:…رضوانؔ واسطی
برسوں قبل کی بات ہے ایک دن ٹاٹا اسٹیل شعبہ تعلیم کے ایک اعلیٰ افسر نے مجھے بلا کر کہا۔”رضوان صاحب! آپ کا تعلق ساہتیہ سے ہے، ذرا اس کتاب کو دیکھئے، خاص طور پر پنسل سے نشان شدہ سطروں کو…، ایک گارجین کی شکایت ہے کہ یہ اشلیل(فحش) کتاب ان کے بیٹے کو اپنے کلاس میں اول آنے کے سلسلے میں بطور انعام دی گئی ہے۔“ انہوں نے اپنے کیبنیٹ کے دراز سے ایک لفافہ نکالااور اس میں سے جو کتاب نکالی وہ سعادت حسن منٹو کا واحد ناول ’ بغیر عنوان‘ تھا..میں نے کہا۔”سر، اسے پڑھنے کی کیا ضرورت ہے، اسے میں اسی وقت پڑھ چکا ہوں جب میں خود ہائی اسکول کا طالب علم تھا۔یہ اردو کے اس ا فسانہ نگار کی کتاب ہے جسے لوگ شہنشاہِ افسانہ کہتے ہیں۔ دنیا کے عظیم افسانہ نگاروں کی صف میں کھڑے کئے جاتے ہیں، یہ ان کا واحد ناول ہے۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ کچے ذہنوں کے بچوں کو یہ کتاب پڑھنے کے لیے نہیں دینی چاہئے تھی، بچے غلط اثر لے سکتے ہیں۔میں دیکھو ں گا کہ ایسا کیوں اور کیسے ہوا“ بہر حال بعد میں پتا چلا کہ جن کتابوں کی فرمائش کتاب دُکان میں کی گئی تھی اس فہرست میں یہ کتاب نہیں تھی، اس کی جگہ ایک مذہبی کتاب تھی۔اور اس کتاب کی نایابی کی صورت میں لگ بھگ اسی قیمت کی دوسری ’اہم‘ کتاب دُکان کی طرف سے ڈال دی گئی تھی جو اردو کے عظیم افسانہ نگار کی لکھی ہوئی تھی۔اور اس طرح طا لب علم کے ہاتھوں تک یہ کتاب پہنچ گئی۔ یہ عجیب حقیقت تھی جو افسانہ بن گئی۔
اس سے پہلے کہ میں مہتاب عالم پرویز ؔاور ان کے افسانوں یا گرم افسانوں کے بارے میں کچھ عرض کروں آپ کی توجہ ا ن مہتاب عالموں کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں جو لاکھوں کی تعداد میں اپنے بیوی بچوں، خاندان کے افراد اپنے گھر شہر اور ملک سے ہزاروں کلو میٹر دور انہیں کی پرورش اور مستقبل اور روٹی روزی کی تلاش میں ریگستانوں کی خاک چھانتے ہیں اور دن بھر کی محنت کے بعد اپنے تابوت نما کمروں میں آکر قید ہوجاتے ہیں۔ سوچتے سوچتے شاید سو بھی جاتے ہیں۔ اپنے دکھ درد سنانا بھی چاہیں تو سننے والا کوئی نہیں۔ مہتاب عالم پرویزؔبھی انہی میں سے ایک ہیں، لیکن ان سے ان معنوں میں مختلف ہیں کہ اپنی یادیں نہ صرف افسانوں کی شکل میں سمیٹ کر رکھتے ہیں بلکہ موقع اور وقت ملتے ہی اپنے خون پسینے کی کمائی سے ان حقیقتوں کو آپ کے ہاتھوں اور آپ کے اذہان تک کتابی شکل میں پہنچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک ساتھ ان کی تین کتابیں منظرِعام پر آجاتی ہیں۔ کمال کی بات یہ کہ کتاب کی طباعت و اشاعت سے متعلق سارے تکنیکی، فنی اور عملی خدمات خود ہی انجام دیتے ہیں۔یہ بات تعریف کی مستحق ہے، تنقیص کی نہیں۔ انسان اپنی زندگی کئی پہلووں میں جیتا ہے۔ پرت در پرت، خانہ درخانہ، پہلو در پہلو…. نجی اور ذاتی زندگی، معاشرتی اور قومی زندگی اور کڑیوں کی شکل میں جوڑنے والی نجی اور سماجی پہلووں سے ہم آہنگ زندگی۔ مہتاب عالم پرویز ؔنے ان سب کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ نجی زندگی اپنی ہو یا اوروں کی، انسان پردے میں رکھنا چاہتا ہے۔ڈرتا ہے کہ اپنے عیب نمایاں نہ ہوجائیں۔ عصمت چغتائی نے اگر اپنے بلاؤز کا کونا اُٹھایا ہے تو اپنے سینے کے زخم دکھانے کے لئے۔ واجدہ تبسم نے اگر یہ کام کیا ہے تو نفسانی تلذذ کے لیے … لطف لینے کے لیے۔ مزہ لینے کے لیے تو کچھ لوگ ’چھوٹی کتابیں‘بھی پڑھتے ہیں۔ لیکن ان تینوں قسموں کو ایک ہی خانے میں نہیں رکھ سکتے۔ جنسیات، عریانیت اور فحش نگاری میں بہت فرق ہے۔ مہتاب عالم پرویز ؔکی کچھ کہانیاں جنسی ضرور ہیں، لیکن انہیں فحش اور عریاں نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں اگر پڑھنے والے کا ذہن گرم ہوتا ہے تو انہیں گرم افسانیکہنے میں کوئی ہرج نہیں، بلکہ ضرور کہہ سکتے ہیں۔ یہ زندگی کی حقائق بیان کرتے ہیں۔ اب منٹو کے ایک مشہور مِنی افسانے کو لے لیجئے۔ صرف نام ہی لینا کافی ہے۔ کسی کا بھی ذہن و دل کہیں تک پرواز کرسکتا ہے…”کھول دو“ ۔ جبکہ اصل افسانے میں ڈاکٹر نرس سے صرف کھڑکی کھولنے کو کہتا ہے۔ مہتاب عالم پرویزؔ کہتے ہیں:
”شام ڈھلنے لگی تھی اور سورج کی لالی نیلم کی آنکھوں میں اُتر آئی تھی۔ اس کی آنکھیں سرخ ہونے لگی تھیں، جیسے وہ نشے کی عادی ہو۔ جب وہ کمرے میں دوبارہ واپس لوٹی تو حویلی کا نوکر اس کی پشت پہ موجود تھا اس کے ایک ایک ہاتھ میں خوبصورت سے ٹرے میں رنگین مشروب کے دو گلاس سجے ہوئے تھے۔ اور دوسرے ہاتھ میں جو ٹرے تھا اس میں ایک مرغ مسلم سجا ہوا تھا۔ ٹرے میں مرغ مسلم کچھ اس انداز سے سجایا گیا تھاکہ مجھے محسوس ہورہا تھا کہ نیلم مکمل برہنہ بستر پر دراز ہے اور اس کی دونوں ٹانگیں اوپر اُٹھی ہوئی ہیں۔ نوکر دونوں ٹرے سنٹر ٹیبل پر رکھ کر جاچکا تھا۔ نیلم نے ایک گلاس میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔آج کی شام تمہارے نام“
افسانہ (…کُتیا)
کیا حقیقتیں ہی افسانوں کا روپ اختیار کرلیتی ہیں؟ یا حقیقت افسانے کی ضدہے؟؟….. یہ اور ایسے ہی نہ جانے کتنے لامتناہی سوالات افسانوں سے متعلق تنقیدی وادیوں میں گونجتے رہتے ہیں۔لیکن جہاں تک لسانی قواعد کی دنیا ہے، افسانہ اور حقیقت کو ایک دوسرے کی ضد ہی مانا جاتا رہا ہے۔تو پھر اتنی اختلافی بحث کیوں؟ دراصل وقت کے دریا نے اپنے بہاؤ کے ساتھ ایک ایسے جزیرہ نماکی تشکیل کی ہے، جہاں ایک طرف تو مفروضات کا ایک سمندر ہے اور دوسری طرف حقیقتوں کاایک پہاڑ…کسی قوم کے لیے سو سال کا فاصلہ بہت بڑا نہیں ہوتا، لیکن قوموں کی روِش میں تبدیلی ضرور آجاتی ہے۔ ادبی دنیا میں افسانوں کا بھی یہی حال ہے۔ قواعد کی دنیا کے الفاظ ’افسانہ‘ اور’حقیقت‘ آج سے سو سال پہلے ضرور ایک دوسرے کے بالمقابل نظر آتے رہے ہوں گے لیکن اب تویہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ساتھ ساتھ ادب کی دنیا میں چہل قدمی کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر اس حیثیت سے دیکھیں تو آج کے دَور کے تیزی سے پھلتے پھولتے افسانہ نگاروں میں ایک اہم نام مہتاب عالم پرویز ؔکا ہے۔یوں تو مہتاب عالم پرویزؔکا خیال ہے کہ انہوں نے نہ تو اردو کے گوناگوں افسانوں کا مطالعہ بغور کیا ہے اور نہ ہی وہ کسی افسانہ نگار سے شعوری یالاشعوری، باضابطہ یا بے ضابطہ طور پر تأثر قبول کیا ہے۔ اگرچہ دل ان کی بات مان بھی لے، لیکن میرا ذہن ان کی اس دلیل کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے؛ کہ آج کے دور کا کوئی بھی تخلیق کار آگے بڑھنے کے لیے کسی بھی تخلیق کار سے نہ تو متأثر ہوا ہو اور نہ ہی اس کے زیر مطالعہ عظیم اور شہرت یافتہ مقبولِ زمانہ افسانہ نگاروں کی تخلیقات رہی ہوں۔ معاملہ تخلیقات کا ہو یا ننھے بچوں کا، … Aping کی راہ پر چلنا ہی پڑتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ آگے بڑھنے کے بعد اپنی نجی آزادی کا اعلان ببانگ دُہل کردیا جائے۔ اور شعوری رَو سے لے کر ریلزم اور سر ریلزم کے بخیے اُدھیڑتے ہوئے دنیا کھنگال ڈالے، یا ترقی پسند تحریک، جدیدیت اور مابعدجدیدیت اور اس کے آگے پرواز کرجائے۔Aping یا پیروی اور نقل بری چیز نہیں ہے۔سرقہ بُرا ہے۔ آج کا کوئی بھی اردو نثر نگار اگر یہ دعویٰ کرے کہ اس نے ابنِ صفی کو نہیں پڑھا ہے اور ایک ادیب کی حیثیت سے اسے کوئی مقام بھی نہیں دینا چاہتا، تو بات عجیب ہوتے ہوئے بھی مجھے ان کی بات تسلیم کرتے ہوئے خاموش ہوجانا پڑے گا،کہ میرے پاس اس کی نفی کی کوئی دلیل یا ثبوت نہیں ہے۔ حُجت تو کرنے سے رہا۔کچھ ایسے بزرگ تخلیق کاروں سے بھی میرا واسطہ پڑا ہے جنہوں نے ابن صفی کے ادیب نہ ہونے پر گھنٹوں بحث کرڈالی ہے، لیکن گفتگو کے آخیر میں ابن صفی کی دو تین کتابیں مجھ سے چھین لے گئے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ”دے دو میں وقت گزاری کے لیے پڑھ کر واپس کردوں گا“ یہ اور بات ہے کہ کتابیں مجھے واپس نہ ملی ہوں۔ یہاں ابن صفی کا نام لینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ یہی وہ معتبرفنکار ہے جس نے افسانوی ادب کو قصہ گوئی اور داستان گوئی کی پراسرار دنیا سے نکال کر موجودہ دور کے پراسرار جاسوسی ناولوں کااَوتار دیا۔ ساتھ ہی سرعت کے ساتھ تقریباڈھائی سو ناول لکھ ڈالے اوران کے اسلوب و آداب نے زبان کو اتنا چست درست اور شائستہ بنادیا کہ ان کا کوئی بھی قاری جو خود بھی افسانہ نگار بن گیا ہو،ان کے اندازِ بیان کے سحر سے آزاد نہ ہو سکا۔ اس بات کا اعتراف میں نہیں اردو کے تقریبااکثر و بیشتر معتبر اور مستند نقادوں اور محققوں نے کیا ہے۔ بہر حال مہتاب عالم پرویز ؔنے جاں فشانی اور ایمانداری سے قلم کی بھرپور دوستی کا حق نباہیاہے اورنباہ رہے ہیں۔ ان کے افسانوں کو سلسلہ وار پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں افسانوں کی اپنی سرگزشت کا آئینہ دار کہا جاسکتا ہے۔ افسانہ نگار دراصل زندگی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔روٹی، کپڑاور مکان… بھوک بیماری اور کمزوری یا لاچاری… اسی سوچ نے پریم چند کی نمائندگی کی اور انجمن ترقی پسند مصنفین کا قیام عمل میں آیا۔کم و بیش تمام افسانہ نگار اسی راہ پر چل نکلے۔افسانہ نگار اور ادیب و شاعر کا کام ہوگیا کہ وہ سماج کی ناکامیوں اور کمزوریوں کی آئینہ داری کرے، لیکن اچھے افسانہ نگار وہ ہیں جو نہ صرف ناکامیوں اور کمزوریوں کو اُجاگر کریں بلکہ اس کے علاج کی دریافت کی کوشش بھی کریں۔ سب سے اچھے افسانہ نگار وہ ہیں جو کمیوں کو ظاہر تو کریں لیکن ان کا علاج ڈاکٹر کی حیثیت سے خود نہ کرنے لگیں بلکہ قاری کو ایک ایسی سوچ عطا کریں کہ وہ خود اس کی طرف راغب ہوجائے۔ یہ کام انجمن ترقی پسند مصنفین سے الگ ہٹ کر بھی منٹو نے کیا۔عصمت چغتائی یہ نہ کرسکیں۔ تفصیلی بحث کی ضرورت بھی نہیں۔
سعادت حسن منٹو اردو کا واحد کبیر افسانہ نگار ہے جس کی تحریریں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ وہ ایک صاحب اسلوب نثر نگار ہے۔ منٹو ایک معمار افسانہ نویس تھا جس نے اردو افسانہ کو ایک نئی راہ دکھائی-’افسانہ مجھے لکھتا ہے‘ منٹو نے یہ بہت بڑی بات کہی تھی۔ منٹو کی زندگی بذات خود ناداری انسانی جدو جہدبیماری اور ناقدری کی ایک المیہ کہانی تھی جسے اردو افسانے نے لکھا۔ منٹو نے دیکھی پہچانی دینا میں سے ایک ایسی دنیا دریافت کی جسے لوگ قابلِ اعتنا نہیں سمجھتے تھے یہ دنیا گمراہ لوگوں کی تھی۔ جو مروجہ اخلاقی نظام سے اپنی بنائی ہوئی دنیا کے اصولوں پر چلتے تھے ان میں اچھے لوگ بھی تھے اور بُرے بھی۔ یہ لوگ منٹو کا موضوع تھے اردو افسانے میں یہ ایک بہت بڑی موضوعاتی تبدیلی تھی جو معمار افسانہ نویس کی پہلی اینٹ تھی۔ اس کے افسانے محض واقعاتی نہیں تھے ان کے بطن میں تیسری دنیا کے پس ماندہ معاشرے کے تضادات کی داستان موجود تھی۔
مہتاب عالم پرویز ؔکے کچھ افسانے گرم ضرور ہیں مثلا اس کتاب ”مہتاب عالم پرویز ؔکے گرم افسانے“کی تقریباسبھی کہانیاں۔یہ کتاب سعادت حسن منٹو کے نام منسوب کی گئی ہے۔اور مہتاب عالم پرویزؔ نے لکھا ہے۔
ادیب کبھی نہیں مرتا
اُن کے لکھے ہوئے افسانے
اُن کی لکھی ہوئی کہانیاں
اُنہیں سدا زندہ رکھتی ہیں ……
” ریت پر کھینچی ہوئی لکیر “ کی طرح
جیسے ریت پر اُنگلی سے کوئی لکیر کھینچ دی جائے
اور ہوائیں اُسے معدوم کر دیں، لکیر پھر بھی اندر ہی اندر زندہ رہتی ہے…..
اور
یہ کوئی افسانہ نہیں
بلکہ یہ ایک زندہ حقیقت ہے
ایک ایسی ہی حقیقت جس سے انحراف نہیں کیا جاسکتا۔
افسانے ہر دور میں لکھے جائیں گے۔
لیکن
کل
اور
آج
میں کافی اُتھل پتھل ہو گیا ہے۔
اور پھر بھی
وقت کا افسانوی
”کارواں“
رواں دواں ہے۔
لیکن
فرق صرف اتنا ہے۔
کل
قیاس آرائیوں کی صدی تھی
اور
آج
عینی شہادت کا زمانہ ہے۔
سماجی بے راہ روی کے قصے
تو صدیوں پُرانے ہیں۔
آج
جُھوٹ کی تشہیر
اس طرح سے
ہورہی ہے کہ
سچائی کا
زوال ہوتا جا رہا ہے۔
ویسے میں بھی کہانیاں لکھتا ہوں
میں بھی افسانے لکھتا ہوں ……
مجھے یقین ہے کہ میری لکھی ہوئی کہانیوں
اور
میرے لکھے ہوئے افسانوں کی
” بازگشت “
صدیوں قائم
رہے
گی۔
ان افسانوں کو آپ ضرور پڑھیں تبھی آپ ان کی گہرائیوں میں اُتر سکیں گے۔ افسانوں کو تنقیدی اصولوں کے تحت پرکھیں۔نکتہ چینی تو کوئی بھی کرسکتا ہے۔
٭٭٭
از:…رضوانؔ واسطی
عالمی پرواز ڈاٹ کام کے زیر اہتمام مہتاب عالم پرویزؔ کی تین کتابوں کی شانداررسمِ اجرا
مہتاب عالم پرویزؔکے افسانے موجودہ وقت کے مسائل کی عمدیہ عکاسی ہیں:ڈاکٹر اسلم جمشیدپوریؔ
عالمی پرواز ڈاٹ کام کے زیر اہتمام مہتاب عالم پرویزؔ کی تین کتابوں کی شانداررسمِ اجرا
جمشیدپور (23/مارچ) : ”بحث اس سے نہیں ہے کہ مہتاب عالم پرویزؔ کے افسانے منٹو کے افسانوں کی طرح کتنے نفسیاتی ہیں، کتنے جنسی ہیں یاکتنے گرم ہیں۔ افسانے گرم ہوں یا ٹھنڈے یہ بھی قابلِ ذکر بات نہیں ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مہتاب عالم پرویز کا اسلوب اپنا ہے۔یہ بڑی خوبی ہے کہ جب ان کے افسانے موجودہ وقت کے مسائل کی عمدیہ عکاسی ہیں۔ ہم ان کے افسانے پڑھتے ہیں تو محسوس ہوجاتا ہے کہ یہ افسانے مہتاب عالم پرویزؔ ہی کے ہیں۔یہی چیز ادب میں کسی افسانہ نگار کو زندہ رکھتی ہے، اسے دوام عطا کرتی ہے۔یہ بڑی بات ہے کہ مہتاب عالم پرویزؔ کسی کے اسلوب کی نقل نہیں کرتے۔“
مہتاب عالم پرویزؔ کی افسانہ نگاری کے تعلق سے یہ خیالات،تقریبِ رسمِ اجرا میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک،ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری،صدر شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے ہیں۔
انھوں نے اس موقع پر مزید کہا ”بے جا تعریف و توصیف سے تنقید نگار یا مبصر حضرات افسانہ نگار کے ساتھ انصاف نہیں کرتے۔ایسا کرنے سے افسانہ نگار کو اپنی خامیوں اورفنی کمزوریوں پر فکرو تدبر کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ آپ مہتاب عالم پرویز کے افسانے سنجیدگی سے پڑھئے اور صحت مند نقد و نظر سے آگاہ فرمائیں،تو یہ افسانہ نگار کے ساتھ انصاف ہوگا۔“
ادبی تنظیم ”عالمی پرواز ڈاٹ کام“ کے زیر اہتمام۴۲/مارچ کو صابر کامپلکس، آزادنگر، جمشیدپور میں جواں سال افسانہ نگار مہتاب عالم پرویز کے بہ یک وقت تین افسانوی مجموعوں (۱) بازگشت (۲) مہتاب عالم پرویزؔ کی منتخب کہانیاں ]مرتب:ابرار مجیب [(۳) مہتاب عالم پرویز کے گرم افسانے]مرتب:رضواں واسطی[کی رسمِ اجرا کی تقریب کا انعقاد، معروف ادبی سرپرست جناب سید عباس رضوی چھبن کی زیر صدارت ہوا۔
شام ۷/بجے حافظ افروز سلیمی کی تلاوتِ قرآن سے تقریب کا آغاز ہوا۔
نامور شاعر اور ناقدڈاکٹرزین رامش (شعبہ اردو،ہزاری باغ یونیورسٹی) اورمشہور افسانچہ نگار ایم اے حق(رانچی) نے مہمانانِ اعزازی کے طور پر اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔
اسلم بدر، رضواں واسطی، ابرار مجیب اور جاوید اختر نے مہتاب عالم پرویز کے افسانوں جائزہ کا پیش کیا۔
اس تقریب کی نظامت جناب گوہر عزیز نے فرمائی جبکہ ہدیہ تشکر نامور فکشن نگار ڈاکٹر اختر آزاد نے پیش کیا۔
آخر میں صاحبِ کتاب نے اپنی افسانہ نگاری، اپنی گھریلو زندگی اور اپنی معاشی جدوجہد کے تعلق سے سامعین کو آگاہ فرمایا۔
شاکر عظیم آبادی،اسلم محمود، انور امام، سید احمد شمیم، پروفیسر احمد بدر،تنویر اختر رومانی، ممتاز شارق،نیاز اختر، نیاز احمد آسی، جی ڈی احمر، مشتاق احزن، یوسف دانش، عالمی پرواز (پورٹل) کی مدیرہ نغمہ ناز مکتومی، گل فشاں شبیر، دعا ایمان، شمع آفتاب، تحسین، صنم راج، طلعت نور فاطمہ،روشن جہاں،مکتوم شرط،نوشاد احمد، شفیق احمد،مطیع اللہ صدیقی، محمد نور اللہ حیدری، آفتاب عالم جاوید،شہاب عالم خورشید،نواب عالم قیصرجیسے شعرا،ادبا اور ادب نواز خواتین و حضرات کی ایک کثیر تعداد شریکِ محفل تھی۔
شب کے دس بجے محفل کا اختتام ہوا۔
رپورٹ : تنویر اختررومانی
مہتاب عالم پرویز ؔ کی منتخب کہانیاں : MAHTAB ALAM PERVEZ KI MUNTAKHIB KAHANIYAN
مہتاب عالم پرویز ؔ کی منتخب کہانیاں
MAHTAB ALAM PERVEZ KI MUNTAKHIB KAHANIYAN
مہتاب عالم پرویز ؔنے 1985ء سے اپنے افسانوی سفر کا آغاز کیا۔ تقریباً 30سال کے اپنے افسانوی سفر میں مہتاب عالم پرویز ؔنے بڑے نشیب و فراز دیکھے۔کبھی کہانی ان کے اندر اٹھکھیلیاں کرتی، کبھی انگڑائیاں لیتی تو کبھی وہ کہانی سے عشق فرمانے لگتے۔اور کبھی ایسا ہوتا کہ دونوں کے درمیان ہجر اپنے پاؤں پسارنے لگتا۔کہانی اور پرویزؔ کے درمیان کے یہ تعلقات گذشتہ ایک دہائی تک بالکل ختم سے ہوگئے تھے، لیکن اِدھر پرویز ؔنے پھر سے مراجعت کی ہے۔ اور مہتاب عالم پرویز ؔنام کا افسانہ نگار اپنے علم و فن سے ایوانِ افسانہ میں زلزال ثابت ہوا۔
کئی کہانیوں میں ان کے اسلوب نے جدید لب و لہجہ سے انہیں انفرادیت عطا کی ہے۔پرویز ؔکی کہانیوں میں خوبصورت جملے، عمدہ تشبیہات و استعارے اور تراکیب قاری کو جہاں زبان کا لطف عطا کرتی ہیں، وہیں تحیر و تجسس، لطف و انبساط، کیف و سرور اور دلکشی و لگاؤ، کہانی اور قاری کے فاصلوں کو ختم کرکے، افسانے میں دلچسپی کے عناصر تخلیق کرتی ہیں۔مہتاب ؔنے شہر آہن کی فضا ؤں میں آنکھیں کھو لیں، قلم سنبھا لا اور واقعات کو قصے اور کہا نیوں کا لباس عطا کیا۔ پھر عمر کا ایک بڑا حصہ خلیج کے ریگ زاروں میں گذا را……سنگ، آہن، سفر،پرندہ، پرواز، ریگستان،نخلستان، وطن سے دوری، اپنوں کی بے پناہ محبتیں، قربتوں اور فاصلوں کے درمیان جھولتی زندگی، تنہا ئی،اندرون کا سفر، شناخت اورباز یافت کا مسئلہ وغیرہ ایسے مو ضو عات ہیں جن سے پرویز ؔکا سامنا ہمیشہ ہو تا رہا ہے۔ یہی باعث ہے کہ پرویزؔ کی کہا نیوں میں کچھ اشیاء نے مستقل علامت کی صورت اختیار کرلی ہے۔ پرندہ، پرواز، ریت، کبوتر،باز، سفر……. ان کے یہاں صرف الفاظ کی صورت استعمال نہیں ہو ئے ہیں بلکہ گنجینہ معنی کا طلسم کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ لفظ اپنے اندر معنی کی پوری کائنات رکھتا ہے شرط لفظ کے در، وا کر نے کی ہو تی ہے معنی کا طلسم خود ظا ہر ہو نے لگتا ہے۔ پرویز ؔکی متعدد کہا نیاں اس کی عمدہ مثال کہی جا سکتی ہیں۔
ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ
افسانوی مجموعہ ” بازگشت ” مہتاب عالم پرویزؔ : BAZGASHT BY MAHTAB ALAM PERVEZ
افسانوی مجموعہ ” بازگشت "
” بازگشت ” مہتاب عالم پرویزؔ
BAZGASHT BY MAHTAB ALAM PERVEZ
اربابِ نقد و نظر کی آراء اور جانچ پرکھ سے قطع نظر یہ بات پوری ادبی ذمہ داری کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ مہتاب عالم پرویز ؔکے افسانے اپنی تخلیقیت، زبان و بیان اور اثرپذیری کے تناظرمیں عصری اُردو فکشن میں مثبت اہم اور خوش آئند اضافہ ہیں۔ مہتاب عالم پرویزؔکے افسانے یہ باور کرا دیتے ہیں کہ مصنف کا تخلیقی اور فکری اُفق، وسیع، انسانی و سماجی شعور پختہ اور اسلوبِ نگارش بلیغ و دل پذیرہیں۔ مہتاب عالم پرویز ؔاپنے گردوپیش کے جیتے جاگتے کرداروں کے غموں، مسرتوں، حسرتوں، آرزوؤں اور جذبوں کو کہانیوں میں پروکر اتنی سچائی اور ایمانداری سے بیان کرتے ہیں کہ انسانی احساسات کی دھڑکنیں اور روح کی سانسیں صاف صاف سنی جاسکتی ہیں۔ مہتاب عالم پرویزؔ کے افسانے یقینا اس عہد کے بہترین افسانوں میں شمار کیے جائیں گے او راس لحاظ سے بھی مہتاب عالم پرویزؔ کی افسانہ نگاری کی انفرادیت کو تسلیم کیا جائے گا کہ وہ اُردو افسانے کی مروّجہ تکنیک، ہیئت اور فنّی اُصولوں سے تجاوز کیے بغیر تشبیہات، استعارات اور علائم کے وسیلے سے کہانی کہنے کا فن جانتے ہیں۔ مہتاب عالم پرویزؔ ؔکے فن کی سب سے بڑی شناخت یہی ہے۔ ادبیات کے وسیع مطالعے اور غیر معمولی قوتِ مشاہدہ، حساس ذہنِ دور رس نگاہ کے بغیر ایسی صلاحیت حاصل نہیں ہوتی۔ مہتاب عالم پرویزؔ کو پڑھنے والے یہ اندازہ بہ آسانی لگا سکتے ہیں کہ مشرقی اور مغربی سماجیات و فلسفہ پر ان کی گہری نظر ہے۔ مہتاب عالم پرویزؔ چوتھائی صدی سے لکھ رہے ہیں اُن سے اور بھی بہت سی توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ ایک عام قاری کی حیثیت سے میرا ایقان ہے کہ مہتاب عالم پرویزؔ کا یہ افسانوی مجموعہ اُردو افسانہ کی نئی لوحِ تاریخ پر نقش کا لحجر ثابت ہوگا۔
فاروق ارگلی
مہتاب عالم پرویزؔ کی منتخب کہانیاں : MAHTAB ALAM PERVEZ KI MUNTAKHIB KAHANIYAN
مہتاب عالم پرویزؔ کی منتخب کہانیاں
MAHTAB ALAM PERVEZ KI MUNTAKHIB KAHANIYAN
مہتاب عالم پرویزؔ کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے بعض حضرات نے لفظ بیانیہ پر اپنی سادہ لوحی کے سبب بڑا زور صرف کیا ہے۔ میرے نزدیک مہتاب عالم پرویزؔ کے تمام تر افسانے بیانیہ سے گہرا انسلاک رکھتے ہیں۔ اور کہانی پن بھی اپنی پوری شدّت کے ساتھ ان افسانوں میں نمایاں ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کے افسانوں میں کہانی سیدھی لکیر میں نہیں چلتی بلکہ اپنے اندر ایک ابہام ، ایک اسرار لئے ہوئے آگے بڑھتی ہے۔ ادب میں فکشن کے عظیم مصنف سیدھی سادی کہانیاں کبھی نہیں لکھتے۔ میں وکٹورین عہد کے ناول اور افسانوں کی مثال کو طاق پر رکھ کر گفتگو کر رہا ہوں۔ آپ گیبرل گارسیا مارکز کے فکشن پر ایک نظر ڈالیں۔ کیا سو سال کی تنہائی میں حبسیوں کے ٹوٹکوں کا بیان یا اس کی مختلف کہانیوں میں جادوئی فضا بندی آپ کو ایک مبہم دُنیا کی سیر نہیں کراتی۔ فکشن میں موجود معنی قاری سے ذہانت کا مطالبہ کرتا ہے۔ مہتاب عالم پرویز ؔ کے افسانے بھی ذہنی ورزش کے بغیر حواس کی گرفت میں نہیں آتے۔
افسانہ ’’ کارواں ‘‘ اس درد کی ترجمانی ہے جسے ہزاروں لاکھوں لوگ گلف میں جہدِمسلسل سے گُذرتے ہوئے محسوس کرتے ہیں لیکن اسے کوئی زُبان نہیں دے سکتے۔ صحرا کے سُراب کے خوفناک فریب کو انتہائی چابک دستی سے قید کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس موضوع پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ ’’ کارواں ‘‘جیسا پُراثر افسانہ فی الحال میری نظر سے نہیں گُذرا، بعض لوگوں کی نظر میں یہ سپاٹ بیانیہ ہے لیکن انسان کی کایاکلپ ’’ تابُوت ‘‘ میں موجود ’’ اُونٹ ‘‘ کی متمنی ’’ بیٹی ‘‘ افسانے کو علامتی رنگ دے دیتی ہے۔ علامت اور کسے کہتے ہیں۔؟ میرے خیال میں اس افسانے کا عنوان ’’ اُونٹ ‘‘ ہونا چاہئے۔
افسانہ ’’ کُتیا ‘‘ کے پہلے پیرا گراف نے مجھے چیخوف کا افسانہ ’’ ڈارلنگ ‘‘ یاد دلا دیا۔ بہترین جزئیات نگاری اور مدھم بیان نے افسانے کے حُسن میں اضافہ کردیاہے۔
اردو میں ANIMAL SEX کے موضوع پر شاید یہ اپنی نوعیت کا پہلا افسانہ ہے جسے مہتاب عالم پرویزؔ فنی چابک دستی سے یوں لکھ گئے کہ کہہ سکتے ہیں کاجل کی کوٹھری میں گھسے بھی اور ان کا منھ بھی کالا نہ ہوا۔ افسانے میں فنی سطح پر ایک آنچ کی کسر رہ گئی یہ کسر پوری ہو جاتی اگر وہ کردار کی نفسیاتی گرہ کو کھولتے انہوں نے مکالموں اور افعال پر زیادہ توجہ صرف کی۔ میں چاہوں گا کہ وہ یہ افسانہ ازسر نولکھیں۔
’’ کارواں ‘‘ میں شامل دوسرے قابلِ ذکر افسانوں میں ’’ کبوترباز ‘‘ ’’ سانپ اور پرندے ‘‘ اور ’’ بازگشت ‘‘ خاص اہمیت کے حامل ہیں خاص طور سے ’’ سانپ اور پرندے ‘‘ اپنی نوعیت کا ایک ہی احتجاجی افسانہ ہے۔ میں مہتاب عالم پرویزؔ کو اُن کے اس کتاب کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
ابرار مجیب
مہتاب عالم پرویزؔ کے گرم افسانے : MAHTAB ALAM PERVEZ KE GARM AFSANE
مہتاب عالم پرویزؔ کے گرم افسانے
MAHTAB ALAM PERVEZ KE GARM AFSANE
اردو افسانے پر بھی عجب وقت آن پڑا ہے۔ اذہان عجب گومگو کی کیفیت میں مبتلاہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس فن کے تعلق سے گُلاب اور ببول کی صف بندی میں کوئی عار نہیں۔ اس کی وجہ ہے ترقی پسندی ، جدیدیت اور اب مابعد جدیدیت جیسی اصطلاحات نے لوگوں کے ذہن کو پراگندہ کر دیا ۔ معدودے چند باعلم لوگوں کے علاوہ بیشتر ہی لوگوں نے شاید ہی غور کیا ہو کہ ان اصطلاحات کا اِطلاق افسانے کے فن پر کیسے اور کیوں کر ہوا……… ترقی پسندیدیت کو پرے رکھتے ہوئے، جدیدیت اور ما بعد جدیدیت پر اک ذرا ٹھہر کر غور کریں۔ عام خیال یہ ہے کہ جدیدیت نے افسانوں میں علامت ، استعارہ ، تمثیل ، یہاں تک کہ داستانوں کی کج ادائی کا کافرانہ رجحان پیدا کیا اور بیانیہ کی موت واقع ہوگئی۔ اب مابعد جدیدیت کے طفیل افسانہ بیانیہ کی دلبری سے ازسر نو بہرہ مند ہورہا ہے۔ کیا واقعی ایسا کچھ ہے۔؟ ایک تو اس غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے کہ بیانیہ ،فن افسانہ نگاری کے قلم رو سے کبھی بھی بے دخل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ہوا ہے۔ کچے اذہان بیانیہ اور کہانی پن کو یک چشمی نظر سے دیکھتے ہیں حالانکہ دونوں میں بعدالقطبین ہے۔ کہانی پن چیزے دیگر است ، کسی نثری ٹکڑے میں کہانی پن کی موجودگی دلیل نہیں ہے، اس کے افسانہ ہونے کی، اسی طرح بیان کو منہا کردیں تو افسانے کا وجود نا ممکن ہے، خواہ وہ علامتی افسانہ ہو کہ استعاراتی، تجریدی ہو کہ تمثیلی یا داستانی……..
ابرار مجیب
مہتاب عالم پرویزؔ کے گرم افسانے : MAHTAB ALAM PERVEZ KE GARM AFSANE
مہتاب عالم پرویزؔ کے گرم افسانے
MAHTAB ALAM PERVEZ KE GARM AFSANE
منٹو کی بے باکی اور عریانیت کو دیکھ کر ایک زمانے کو خیال ہوا کہ وہ ترقی پسندتحریک کے غلاف میں اپنے لیے شہرت کاراستہ اختیار کررہے ہیں۔ لیکن یہ بہتان اور جھوٹے الزام سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ترقی پسند تحریک کاہرگز یہ مفہوم نہیں تھا۔ یہ ان کا ذاتی فعل تھا اور اپنی ذہنی اپج سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ وہ دراصل تحریک کو زندگی کے اتنا نزدیک کرنا چاہتے تھے کہ معاشرہ سے ہر قسم کی برائی کو مٹایا جاسکے، خواہ وہ معاشی کشمکش ہو یا ذہنی، نفسیاتی اور جنسی بے راہ روی ہو۔ منٹو افسانوں کے بادشاہ کہے جاسکتے ہیں۔ اس واقعاتی تجزیہ کے پس منظر میں اگر مہتاب عالم پرویزؔ کی کہانیوں کا جائزہ لیا جائے تو یقینا میرے اس دعوے کو تقویت ملے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضوان واسطیؔ