افسانوی مجموعہ ” بازگشت ” BAZGASHT BY MAHTAB ALAM PERVEZ
افسانوی مجموعہ ” بازگشت "
” بازگشت ” مہتاب عالم پرویزؔ
BAZGASHT) BY MAHTAB ALAM PERVEZ)
”باز گشت“ کے افسانے مہتاب عالم پرویزؔ کےفن پر دسترس، اظہار کی راہ اور جدید لب ولہجے کے غماز ہیں۔ان افسانوں کے موضو عات نئی صدی کے نئے مسائل ہیں۔خلیجی ممالک کی زندگی،اس کے مسائل اور اس میں ایک ہندوستانی حساس فنکار کا رد عمل اور نئے تجربات،مہتاب کے افسانوں کا وصف ہے۔یہ افسانے قاری سے گہرا رشتہ استوار کرتے ہیں،ان میں جاذبیت ہے،یہ قاری کے اندر تحلیل بھی ہو جاتے اور زندگی کو اپنے اندر جذب بھی کر لیتے ہیں۔مجموعے کے سبھی افسانے قراٗت کے متقاضی ہیں،لیکن بعض افسانے باز گشت، پوسٹ مارٹم، فیس بک، اسکن، وِل پاور،کسی نظر کو تیرا انتظار …… وغیرہ آپ کو بے چین کر دیں گے۔
ڈاکٹر اسلم جمشیدپوریؔ
مہتاب عالم پرویزؔ ، میں اور میری آنکھیں MAHTAB ALAM PERVEZ – MAIN AUR MERI AANKHEN جاوید اختر
مہتاب عالم پرویزؔ ، میں اور میری آنکھیں
MAHTAB ALAM PERVEZ – MAIN AUR MERI AANKHEN
جاوید اختر
اُردو ادب میں افسانہ کی تخلیق اِس کی وجودیت اور اس کی تعریف ابھی تک غیر واضح اور مشکوک ہے افسانہ کی تعریف اور تشریح ہماری پرائمری اسکول کے استادوں اور یونیورسیٹی کے پروفیسر وں اور ڈا کٹروں کے ذریعہ ہوتی آئی ہے اور ہو رہی ہے با لکل نہ مناسب اورمضحکہ خیزہے تعجب اور حیرت انگیز ی بھی کہ بڑے بڑے پروفیسروں بڑے بڑے ادبی ڈاکٹروں ناقدین منٹو ،عصمت ،واجدہ تبسم ،بیدی ، اوراشک کے افسانوں پر موٹی موٹی کتابیں لکھنے والے اتنے سطحی اور معمولی ذہن کے مالک ہیں کہ افسانہ کی تعریف نہیں لکھ پاتے پھر وہ اپنے پست اور قاصر ذہن کا اقرار کیوں نہیں کر لیتے کہ افسانہ نگاری ایک ایسی پیچیدہ اور غیر معمولی صلاحیت کی حامل ہے جس کی تخلیق افسانہ نگار کی غیر معمولی ذہانت اور ادبی الہامی کیفیت کے سبب وجود میں آتی ہے جس کا بیان لفظوں اور جملوں میں کرنا ایک غیر تخلیق کار کیلئے نہ ممکن سے بھی نہ ممکن ہے۔
کاش کے منٹو سے پوچھا ہوتا کہ افسانہ نگاری کیا ہے ۔تو ہمارا افسانوی اُردو ادب اتنا غریب نہ ہوتاوہ ’’کھول دو ‘‘کی افسانوی نشیب و فراز کھول دیتا ’’ بو ‘‘کی طرح پرفیوم اور پسینے کی افسانوی مہک اور خوشبوں کی نفسیات بیان کر دیتا ’’ ٹھنڈاگوشت ‘‘ کی طرح افسانے کا ڈائیگنوسس کردیتا اور ’’ ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘‘کی طرح سیاسی نفسیات کی عالمی وسعت بتا دیتا۔ اگر سعادت حسن منٹو ابھی تک بہ حیات ہوتے تو ہمارے نقادوں اور ڈاکٹروں کی ادبی صلاحیت پر سوائے ماتم کے اور کچھ نہیں کررہے ہوتے۔
زبان تخلیق کار کی مُحتاج ہوتی ہے اور ایک غیر تخلیق کا ر زبان کا مُحتاج ہوتا ہے ایک ادیب اور شاعر کا علم آسمانوں کی سی لامحدود عالمی وسعت رکھتا ہے لیکن ایک غیر ادیب اور شاعر زبان کی محدود حصار میں قید رہتا ہے کوئی بھی ادب اپنی معیاری تخلیقات سے ہی رِچ ہوتا ہے نہ کہ تنقید سے۔ ویسے اگر سنجیدگی سے خود تنقید کا نفسیاتی جائزہ لیا جائے تو
ایک بات کھل کر واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ تنقید ادب اور خاص کر افسانوی ادب کیلئے اتنی ضروری اور موزوں بھی نہیں اُردو ادب میں تنقید نکتہ چینی کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کا خمیازہ خود تنقید نگار اور تنقید بھگت رہی ہے یہی وجہ ہے کہ ایک تنقید نگار کو معیاری تخلیق کی نہ توتمیزرہ گئی ہے اور نہ ہی اُن کے پاس انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کا گہراعلم ہی…….. یہی وجہ ہے کہ تنقید نگاری اپنا معیار کھو بیٹھی ہے سعادت حسن منٹو ،عصمت چغتائی، واجدہ تبسم ،بیدی ، اور اشک جیسے افسانہ نگاروں کی معیاری تخلیقات کے میزان پر غیر معیاری اور بونی ثابت ہوئی ہے منٹو پر لاہور کی عدالت میں فحش نگاری کا مقدمہ چلا اور بری ہوئے ہمارے تنقید نگاروں نے انہیں فحش نگار کا خطاب دے ڈالا لیکن افسانہ کی نوعیت اور نفسیات کا جائزہ نہیں لیا کہ سعادت حسن منٹو کی فحش نگاری افسانے کی نوعیت اور نفسیات کے عین مطابق ہے بھی کہ نہیں اُن کے دیگر تخلیقات جیسے بُو، کھول دو، ٹھنڈا گوشت اور کالی شلوار کو بھی فحش نگاری کے زمرے میں رکھا لیکن ان معیاری تخلیقات میں پُوشیدہ انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کا انکشاف کا تخلیقی خلاصہ اور تجزیہ کرنے میں قاصر رہے کیونکہ منٹو کے افسانے کھول دو،ٹھنڈا گوشت، کالی شلوار،بُو اور ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے افسانے کسی بھی تنقید نگاروں کے تنقیدی صلاحیت کے ساتھ ساتھ اُس کی تخلیقی تنقید نگاری کی بھی صلاحیت کا مطالبہ کرتے ہیں اور کسی افسانے کا نفسیاتی خلاصہ اور تجزیہ ہر نقاد کی تخلیقی تنقید نگاری کی ذہانت اور قابلیت کا امتحان اور میزان ہوتی ہے کیونکہ اردو کے سب سے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے بالا تحریر کردہ افسانوں کی تخلیقی تنقید اُن کا خلاصہ اور تجزیہ ایک پورے ناول جیسی ضخامت کا مطالبہ کرتے ہیں ۔
اُردو ادب میں تخلیقی تنقید کا فقدان رہا ہے انگریزی ادب میں ہمیشہ سے تخلیقی تنقید کی روایت رہی ہے جس کے باعث انگریزی لٹریچر اتنا رچ اور ضخیم ہے۔ انگریزی ادب میں نئے آنے والے فکشن رائٹر اور شاعر بہت جلد اپنی جگہ لٹریچر میں مقّرر کر لیتے ہیں اُ ردو ادب میں خاص کر افسانوی تنقید غیر موضوع اور غیر مناسب ہے تخلیقی تنقید یقینی طور پر مفید اور کارگر ہے ۔ صرف تنقید ادب میں تخریب کاری کا کام کرتی ہے جس میں ذہانت اور قابلیت کا فقدان ہوتا ہے جس میں تنقید نگارکی اپنی غیر تخلیقی رائے کی ہی فراوانی ہوتی ہے کوئی بھی افسانہ نگار افسانوں کی تخلیق ادب کیلئے کرتا ہے نا کہ تنقید نگاروں کیلئے، ادب کی شادمانی خوشحالی اور سر خروئی تخلیقات کی دین ہے ناکہ غیر تخلیقی تنقید کی ۔
پلک جھپکنے کے لمحہ سے بھی کم تر وقت میں انسانی دماغ کے بہت ہی لاغر اور ضعیف گوشے سے تپاک سے یہ سوال اُبھر کر سامنے آسکتا ہے کہ یہ تخلیقی تنقید ہوتی کیا ہے؟ کہاں سے آئی ،اس کا گھر کہا ں ہے۔؟
یہ پیدا کہاں ہوئی؟ پروان کہاں چڑھی کتنی نوخیز کتنی جوان ہے یہ ۔تو جناب عالیٰ یہ تمام عالمی ادیبوں اور شاعروں کی دین ہے اِس کی وسعت عالمی ہے یہ ہر ایک تخلیق کار کے ذہن میں ہمیشہ سے جوان اور حسین و جمیل رہی ہے یہ کبھی بوڑھی نہیں ہوتی اس کے ہارمونس ہمیشہ نوخیز رہتے ہیں۔
منٹو کا افسانہ ’’کھول دو‘‘ کا تخلیقی تنقید تجزیہ اور اُس کا خلاصہ تھوڑا سا کچھ یوں ہے ۔سعادت حسن منٹو کی سکینہ کی نفسیات پورے وثوق سے کہتی ہے کہ اُس کے ساتھ زنا کرنے والوں میں ایک یا دو چہرے ایسے ضرور رہے ہونگے جنہیں سکینہ روز انہ دیکھتی چلی آئی تھی اور یہی وجہ رہی ہوگی کہ سکینہ اُن لوگوں کے ہمراہ جانے کیلئے فوراتیار ہو گئی ہو گی یا پھر تھوڑی کشمکش کے بعد نہ چاہتے ہوئے بھی ہمراہ ہو لیا ہو اُنہوں نے سکینہ کو پُورے یقین اور عتماد میں لیا ہوگا ایسے لوگ کافی میٹھی اور مہذب زبان استعمال کرتے ہیں اللہ رسول کا واسطہ ضرور دیا ہوگا ۔
’’کہ تو ہمارے ہمراہ چل تیرے رشتے داروں سے تجھے ملا دوں گا تیرے ابّا امّی وغیرہ کو ہم لوگوں نے ہی فلاں کیمپ میں بہ حفاظت پہنچا دیا ہے تو ڈر مت ہماری بہنیں بھی کیمپ میں ہیں ہم لوگ رضا کا ر ہیں ہم بچھڑوں کو ملواتے ہیں شام ہونے سے پہلے ہی ہم تمہیں وہاں پہنچادیں گے تمہارے ابّاجان کہہ رہے تھے کہ بیٹا تم لوگوں کو سکینہ کا پتہ چلے تو یہاں پہنچادینا تمہا رے ابّا جان اور امّی جان ہم لوگوں کو کافی دُعائیں دے رہے تھے کہ خُدا وحد ہ لاشریک تم لوگوں کو سلامت رکھے اور ہر بلا اور مصیبت سے دور رکھے یہ منٹوکے افسانہ ’’کھول دو‘‘ کا کوئی پیرا گراف نہیں ہے یہ میں نے سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’’کھول دو‘‘ کا تھوڑا سا تخلیقی خلاصے کی مثال دی ہے ورنہ تفصیلی تجزیہ کیلئے کا فی ضخامت درکار ہے۔
افسانہ ’’ بازگشت ‘‘قابل مطالعہ اور معیاری ہے یقین نہیں ہوتا کہ اِن افسانوں کا خالق چند میلوں کے فاصلے پر رہتا ہے افسانے کا اسلوب اور ٹریٹمینٹ افسانے کی نوعیت کے عین مطابق ہے کیونکہ افسانے کی نوعیت اپنے اسلوب کا تعین خود بخود فطری طور پر کر لیتی ہے۔ افسانوی ادب کے نقطہ نگاہ سے غیر فطری اور غیر موضوع اسلوب کا استعمال افسانہ نگار نے نہیں کیا ہے افسانوں میں اسلوب کی روانی اور تسلسل بر قرار ہے کہیں بھی سلسلہ منقطع ہوتاہوا محسوس نہیں ہوا خاص کر افسانہ ’’ باز گشت ‘‘کافی معیاری افسانوں کی فہرست میں شامل ہُوچکا ہے افسانہ ’’ بازگشت ‘‘کا موضوع کافی بولڈ اور پیچیدہ ہے مہتاب عالم پرویز نے ’’ بازگشت ‘‘ کی تخلیق کر افسانوی ادب میں ہیومن سائیکولوجی اور اُس کی پیچیدہ نشیب و فراز کا انکشاف کیا ہے غیر معمولی ذہانت اور قابلیت کی افسانوی ادب میں مثال قائم کی ہے علم شاہد ہے کہ کوئی بھی افسانہ نگار اپنی چند معیاری تخلیقات کی دین سے ہی ادب میں اونچا اور بڑا مقام حاصل کرتا ہے غیر معیاری افسانوں کا انبار لگاکرکوئی بھی افسانہ نگار ادب میں مقام حاصل نہیں کرسکتا ہے۔
جس طرح اُردو ادب کے سب سے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو نے ٹھنڈا گوشت ،بو ،کالی شلوار ،کھول دواورٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے معیاری افسانوں کی تخلیق کر اُردو افسانوی ادب کو آسمانوں جیسی بلندی اور وسعت عطا فرمائی ہے اُسی طرح مہتاب عالم پرویزؔ نے افسانہ ’’ بازگشت ‘‘تخلیق کر ادب کے معیار میں اضافہ کیاہے مہتاب عالم پرویزؔ کا یہ افسانہ ایک ادبی شاہکار ہے یہ ایک تخلیق کار کے ادبی الہامی کیفیت کا حیرت انگیز نتیجہ ہے ورنہ اُردو ادب میں ایسے معیاری افسانوں کا فقدان رہاہے کیونکہ اتنے حساس اور پیچیدہ موضوع کو افسانہ کی شکل دینا خشک چٹّانوں میں ایک نحیف سی ہریالی کے تصّورات کے مترادف ہے افسانے کا مرکزی کردار وہ شخص کا نفسیاتی تجزیہ اور تفصیلی خلاصہ ہی افسانے کی اہمیت اور معیار کی غمازی کرتا ہے افسانہ ’’بازگشت ‘‘ کو نہ تو تنقید نگاروں کی ضرورت ہے اور نہ ہی تنقید کی ۔بعض تخلیقات اتنی ذہین اور معیاری ہوتی ہیں کہ اُن کو کسی کی رائے، کسی کی ادبی علم ،یا پھر کسی کے سہارے کی، ضرورت کی بھی نوبت نہیں آتی۔
’’باز گشت ‘‘ انہیں افسانوں میں سے ایک ہے ۔رٹے رٹائے تنقیدی جملوں ، لفظوں اور پیرا گرافوں کا محتاج نہیں ایک اچھا ادیب اور شاعر کبھی بھی تنقید نگاروں کی طرف نگاہ اُٹھا کر نہیں دیکھتا ،نہ کبھی دیکھنا چاہیے اور نہ ہی کبھی اہمیت دینی چاہئے ۔
افسانہ ’’بازگشت ‘‘کا وہ بے نام حسّاس اور اِبنارملشخص فسادات سے پہلے یقینی طور پر اپنی نجی زندگی میں بالکل سیدھا سادہ اور خوش مزاج شخصیت کا مالک تھا دورِ حاضر کے انسانی مکاریوں اور سیاسی قلابازیوں سے ناواقف اُس شخص نے بڑی پیا ری اور بھولی طبیعت پائی تھی ۔ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ آبادی والے محلّے میں اُس کا تین کمروں والا آبائی مکان تھا بغل میں حاجی حکیم الدین کا شاندار چار منزلہ مکان بھی تھا گورنمنٹ آف انڈیا کے انکم ٹیکس کے دفتر میں چپراسی تھے پتہ نہیں اتنی دولت اُن کے پاس کہا سے آئی تھی کہ چار بار حج کر چکے تھے۔ اُن کے دونوں بیٹے سعودی عرب میں پلمبر مزدور تھے۔ حاجی صاحب کی محلّے میں کافی آؤبھگت تھی۔اور یہی وجہ تھی کہ حاجی صاحب تھوڑا سا مغرور بھی ہوگئے تھے ورنہ حج کرنے سے پہلے کافی اخلاق مند اور مخلص شخص تھے۔ جیسے جیسے خُدا نے انہیں رزق سے نوازا وہ بخل کرنے لگے ۔ پہلے کیامجال تھی کہ اُن کے گھر سے کوئی فقیر یا فریادی خالی ہاتھ لوٹ جاتا، سیدھا سادہ وہ شخص حاجی صاحب کو اپنے پتا جی کے سمان عزت واحترام کرتا تھا۔اچھے پڑوسی جو ٹھہرے اُس کے ماں باپ نے اُس حسا س اور اِبنارملشخص کا نام بڑے پیار سے پرکاش داس گپتا رکھا تھا، یہ لوگ اُتر پردیس کے رہنے والے تھے ۔ ذات کے بنیاتھے۔ پرکاش نے بھی اپنے باپ دادا کے پشتینی کاروبار کو ہی گاؤں کی طرح شہر میں آ کر اپنا لیا۔ گھر کے سڑک والے باہری حصے میں ایک دُکان نکالی اور آٹا دال چاول مرچ مصالحے بیچنا شروع کردیا ، دُکان اچھی خاصی چل پڑی تو مسلمانوں کی عورتوں کے گہنے وغیرہ بھی گروی رکھنا اُس کے اچھے کاروبار میں شامل ہوگیا۔ دھیرے دھیرے پرکاش داس گپتا کی دُکان قصبے میں بڑی دُکا ن کہلانے لگی ، پھر اُس نے اپنی دُکان کا نام بھی گپتا اسٹور رکھ دیا تھا ۔ اُس کے زیادہ تر گراہک غریب مسلمان ہی تھے جو روز کمانے کھانے والوں میں شامل تھے۔ بحیثیت مسلمان بھی اُس کے گراہک تھے مگر اُن کی تعداد کم تھی ۔اچھی حیثیت ہوجانے کے باوجود پرکاش داس گپتا کے پیر ہمیشہ زمین پر ہی رہا کرتے تھے۔ اُس کے زیادہ تر دوست مسلمان ہی تھے وہ محلّے کے بڑے بوڑھوں کی کافی عزّت کیا کرتا تھا کیونکہ اُس کا بچپن بھی اِسی محلے میں گذراتھا اور جوانی بھی اِسی محلّے میں پروان چڑھی تھی ماں باپ کی اکلوتی سنتان ہونے کی وجہ سے اُس کی شادی بھی ۱۸ سال کی عمر میں اُس کے با پ نے کرادی تھی یوں تو اپنے شہر سے بھی اچھے اچھے لوگوں کے یہا ں سے رشتے آئے لیکن پرکاش داس گپتا کو اپنے گاؤں کی لڑکی پسند آئی جو واقعی خوبصورتی اور سندرتا کی مثال تھی گوری چٹّی دراز قد ……پریتی……..
محلّے کی عمر دراز عورتیں اور کم سن لڑکیاں بھی اُس کی خوبصورتی کی تعریف کیا کرتی تھیں محلّے کے مسلمانوں کے آوارہ اور اوباش قسم کے لڑکوں کی تومت پوچھئے دن بھر اُس کے گھر اور دُکان کے آس پاس چکّر پہ چکّر لگاتے رہتے تھے یہ بات پرکاش داس گپتا کو کھٹکتی بھی تھی گھر اور دُکان فروخت کر ہندوؤں کے محلّے میں جا بسیں لیکن مرتا کیا نا کرتا اُ س کی دُکان جو اِتنی اچھی چل نکلی تھی کہ وہ مجبور تھا اور پھر باپ دادا کے بنائے ہوئے مکان فروخت بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اِسی مکان سے اُس کے بچپن کی تمام یادیں وابستہ تھیں ماں بابو جی کی آتما اسی گھر میں بسی تھی اُن کی بڑی بڑی تصویریں دُکان اور گھر کے ایک بڑے کمرے میں لگا رکھی تھیں جس پرروزانہ وہ تازہ پھولوں کی مالا چڑھایا کرتا تھا لوبان اوراگربتّی کی دھوؤں اور خوشبوؤں سے اُس کی دُکا ن اور اُس کا مکان معطّر رہتا تھا۔ پھرکیسے بیچ دے وہ اس مکا ن کو۔ اپنے پرکھوں کی آتما ؤں کو کیا جواب دے گا ۔گھر کے آنگن میں پرکھوں کے دوارا بنوایا گیا چھوٹا سا مندر بھی تھا جس میں بھگوان شیوکی پوتر مورتی کی استھاپنا اُس کے دادا شیو داس گپتا نے کی تھی لیکن محلّے کے اوباش اور آوارہ لڑکوں کی مشکوک حرکتیں اور اُس کے دُکان و مکان کے ارد گرد اُن کی ہر وقت کی موجودگی ایک کربناک خاموش ٹیس بن کر اُس کے لاشعور سے چپگ گئی تھی۔ خیر شادی کے دوسال بعد ہی بھگوان نے خوبصورت سی پریتی کو ایک خوبصورت بچی پردان کیا۔گھر میں چارو ں طرف خوشیاں پھیل گئیں دوسرے ہی دن پرکاش داس گپتا نے ہندو ؤں اورمسلمانوں کے گھروں میں میٹھائیاں بٹوائیں اور گھر میں پوجا پاٹھ کروایا محلّے کے اوباش اور آوارہ قسم کے لڑکوں کو بھی خاص کر بلوایا کر اُن کے ہاتھوں میں میٹھائیاں دیں اور بڑے ادب اور پیار سے کہا تمہاری بھتیجی پیدا ہوئی ہے میٹھائیاں کھاؤ اور خوشیاں مناؤ۔
حاجی حکیم الدین کے یہاں تو اُس نے پورے ایک کیلو کا پیکیٹ ہی اپنے ہاتھوں سے پہنچایا۔سیدھا سادہ پرکا ش ارپنا کے جنم پر بہت خوش تھالیکن اُسے کیا پتہ تھا کہ چند دنوں بعد ہی یہ شہر یہ محلہ شمسان بن جائے گا۔
خاص کر اُس کی پتنی پریتیؔ کے لئے جس سے وہ والہانہ محبت کرتا تھا رات کے آٹھ بجے تھے وہ حسبِ معمول وہ اپنی دُکان میں گراہکوں کو سامان دینے میں مشغول تھاکہ اچانک محلّے کے ماحول میں چہ میگوئیاں ہونی شروع ہوگئیں اوّل تو اُس نے اس پر دھیان نہیں دیا لیکن تھوڑی دیر بعد جب شور و غل چیخ و پکار اوربھاگ دوڑ کی آواز یں گونجنے لگیں اور اُس کی سماعت سے ٹکرائیں وہ گھبرا اُٹھا ،گراہک بھی دُکان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے اُس کے حواس گم ہوگئے تھے تھوڑی دیر تک تووہ دُکان کے ترازو کو پکڑ کر بے حس و حرکت کھڑا رہا ………………. پھر ہوش آتے ہی پریتی کو زورسے آواز دی کہ باہر نکل ارپنا کولے کر ………….فساد پھوٹ پڑا ہے سارے شہر میں ۔
ابھی وہ دُکان کی لائٹ آف کر شٹر گراہی رہا تھا کہ ایک بڑا سا پتھر لٹکے ہوئے ترازو کو توڑتا ہوا دُکان کے اندر جا گرا۔ اور اسی کے ساتھ محلّے میں ’’نعرہ تکبیر ‘‘ اور’’ بجرنگ بلی کی جے‘‘کی آوازیں فضاؤں میں گونجنے لگیں۔
دونوں پتی پتنی ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھر تھر کانپ رہے تھے۔اور دونوں کے بیچ معصوم بچی ارپنا چیخیں ما رمار کر رو رہی تھی۔
حاجی صاحب اور حاجی صاحب کی بیوی اپنی چار منزلہ عمارت کی چھت پر موجود تھے ۔ دیکھتے ہی دونوں نے ببک وقت آواز لگائی گپتا بیٹا میرے گھر میں جلدی سے آجاؤ، میں تمہارا محافظ ہوں، جلدی آؤ دیر نہ کرو۔
موت کی دہشت اور خوف سے کانپتے ہوئے دونوں نے اپنی نگاہیں حاجی صاحب کی چار منزلہ عمارت کی چھت کی جانب اُٹھائی ہی تھی کہ محلّے کے آوارہ اور اوباش قسم کے بد تہذیب اور غیر مہذّب نوخیز لڑکوں کی ایک بڑی تعداد نعرے لگا تے ہوئے اُس کی دُکان اور مکان میں داخل ہوگئی ۔ اور لوٹ پاٹ شروع کردیا ،کوئی آٹے کی چھوٹی بڑی بوری لے کر بھاگ رہا ہے ،کوئی تیل کا ڈبّا ،تو کوئی گڑاور چینی کی بوری اُٹھائے بھاگا جا رہا ہے،کوئی گھر کا چھوٹا موٹاسامان ہی لے کر بھاگا جا رہا ہے حد تو تب ہوئی کہ نچلے طبقے کے مسلمان کی عورتیں بھی دُکان اور مکان کے لوٹنے میں شامل ہوگئیں۔
’’باز گشت ‘‘ کا وہ سیدھاسادہ شخص پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے گھر اور دُکان کو لٹتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔یہ وہ لوگ تھے جنہیں وہ اُدھا ردیا کرتا تھا ۔ کتنے ایسے بھی تھے جنہیں وہ پانچ سواور ہزارروپئے کی مدد آئے دن کیا کرتا رہتا تھا۔ کتنی عورتیں ایسی بھی تھیں جنہیں وہ ما ں اوربھابی کہا کرتا تھا ۔
وہ جو آٹے کی بوری لے کر بھاگ رہا ہے ، محلّے کے کانا صغیر کا لڑکا ہے ، جو کبھی کبھی آٹو رکشہ چلایا کرتا ہے۔وہ لمبا سا لڑکا جو گھر کے فریج کو با ہر نکال رہا ہے۔اُس کا باپ لڑکیوں کی سپلائی کے کیس میں کئی بار جیل جا چُکا ہے۔آئے دن پولیس اُس کے گھر میں چھاپے مارتی رہتی ہے۔وہ جو تیل کا بڑا سا ڈبّالے کر اندھیری گلی میں روپوش ہوچکاہے۔ اُس کی ماں اُس کے عمر دراز باپ کو چھوڑ کر محلّے کے ہی ایک آوارہ لڑکے کے ساتھ کھلے عام رہ رہی ہے۔
کتنوں کو وہ شناخت کرتا۔ سارے چہرے تو شناساتھے۔اُس نے جلدی سے ارپنا کو پریتی کی گود سے جھپٹا اور اُس کا ہا تھ پکڑ کر حا جی حکیم صاحب کے گھر کی جانب بڑھا ہی تھا کہ محلّے کے وہی آوارہ لڑکوں کی ٹولی اُس کے پاس پہنچی اور پریتی کو اُسی کے ہی تاریک گھر میں کھینچ لے گئے۔ پھرمہتاب عالم پرویز ؔ کی پریتی کے ساتھ وہی ہوا ۔ جو سعادت حسن منٹو کی سکینہ کے ساتھ ہوا تھا۔ منٹو کی سکینہ تو اسپتال پہنچ گئی تھی لیکن پریتی کو اسپتال لے جانے والا کوئی نہیں تھا۔نازک حسین پریتی اپنے ہی گھر میں دم تُوڑ چُکی تھی………. کا ش کہ منٹو زندہ ہوتے تو بتا دیتے کہ سکینہ لا شعور اور تحت الشعور کے اندھیروں سے نکل کر نارمل زندگی جی پائی …….؟یا کہ ساری عمر اپنے گھر میں قید ننگی لیٹی رہی……….؟
مہتاب عالم پرویزؔ کی پریتی تو اپنے پتی کے سامنے ہی سفید الٹیوں کی تاب نہ لا کر دم توڑ چُکی تھی ۔وہ فرش پہ بالکل برہنہ تھی۔با لکل بے حس و حرکت وہ شخص اپنی معصوم بچّی کو ما ں کی ننگی چھا تی سے لگا دینا چاہتا تھا ۔مگر سفید خون کی اُلٹیوں کی غلیظ بُو نے اُسے ایسا کرنے سے باز رکھا ۔ وہ پریتی کو آواز بھی نہ دے سکا قوت گویا ئی جیسے اُس کی سلب ہو چُکی تھی ،آنکھوں میں وحشت اور دہشت سما سی گئی تھی۔دماغ ماؤف ہو چکا تھا ۔ چیخ و پکا ر آہ و بکا کی باز گشت، دھماکوں کی ہولناک آوازیں ،گولیوں کی تڑ تڑ آہٹ، آگ اور دھوؤں کا احساس اُس کے شعور سے مکمّل طور پر ختم ہو چکا تھا ۔شاید سما عت کے پردے موٹے ہوکر گدگد ہوگئے تھے۔اُس کے تحت الشعور کے گہرے تا ریک غا روں میں صرف اور صرف پریتی کی بر ہنہ لاش تھی اور جگہ بہ جگہ اُس کے شریر پر منجمد غلیظ سفید خون کے ٹیڑھے میڑھے دھبّوں کا احساس ہی ثبت ہوکر رہ گیا تھا ۔پریتی کے مرتے ہی جیسے ساری کائنا ت یک بیک بے آواز ہو کر تھم سی گئی تھی۔دوڑتے بھاگتے لوگ جیسے قدیم زمانوں کی مورتیوں کی مانند اپنی اپنی جگہ بے حس و حرکت ہوکر پتھروں میں تبدیل ہو گئے تھے ۔محلّے کے آوارہ کتّے بھی نہ جانے کہا غائب ہوگئے تھے۔جو آکثر رات، رات بھر آسمانوں کی جانب سر اُٹھاکر رویا کرتے تھے شایدوہ بھی پتھروں میں تبدیل ہو گئے تھے اُس کا شعور اور لا شعور مظلو میت اور لا چارگی کی دبیز تہوں میں دب کر رہ گیا تھا کائنات کی وہ کمزور ترین شے کے مترادف ہو گیا تھااُس کے پاس اپنی بچّی کو سینے سے چمٹائے رہنے بھر کا ذہن اور قوّت باقی رہ گئی تھی وہ ارپناکو کنگارو کے بچّے کی مانند اپنے سینے سے چمٹائے تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا محّلے سے دور سڑک کے کنارے ایک کھڈ میں جاکربیٹھ گیا وہ ساری رات ایک ہی حالت میں اکڑوں بیٹھا رہانہ جا نے کتنی سکینا ئیں اور پریتیاں اُس رات ننگی ہوئیں……….غلیظ خون کی بجلیاں پریتی کی طرح کتنوں میں سما گئی …….صبح ہوئی قدرت ہمیشہ کی طرح ویسی ہی تھی سب کچھ معمول کے مطابق تھاسورج ویسا ہی اُگاجیسے ازل سے اُگا کرتا ہے ہوائیں ویسے ہی چلیں جیسے چلا کرتی ہیں آسمان حسب معمول ویسا ہی تھازمین ویسے ہی اپنی جگہ منجمد تھی اُس کا پورا وجود ہر طرح کے احساسات و جذبات سے خالی ہو چکا تھا۔اُسے اپنی بچّی کے رونے تک کااحساس نہیں تھا ارپناکو فقط اُس کے دونوں ہاتھ قدرے سختی سے جکڑے بھرتھے عجیب سی بے حسی کی کیفیت اُس پر طاری ہو چُکی تھی کہ اُس کا وجود ہے بھی کہ نہیں …….بچّی اُس کی گود میں ہے بھی…….اور نہیں بھی، آنکھوں کی پلکیں ٹھہر سی گئی تھیں صرف اُس کی آنکھوں کی پتلیوں میں تھوڑی سی جنبش باقی رہ گئی تھی کہ کبھی خلاؤں میں کچھ تلاش کرتی ہوئی محسوس ہوتیں تو کبھی اپنے ہی وجود میں تھوڑی دیر پھسل کر رہ جاتیں جیسے کوئی ایک بے حد ٹھنڈی شے اُس کے وجود میں سرایت کر گئی ہوجس کے زیر اثر اُس کا وجود ایک ہی جھٹکے میں بے حس اور ازحد کمزورہو کر رہ گیا ہوتبھی تو گشتی پولیس والوں کے کئی با رآوازیں دینے کے با وجود وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوا تھا۔ اور اُسے یہ بھی احساس نہیں ہوا کہ کئی پولیس والے بندوقیں تا نے اُس کے پشت پر آکر کھڑے ہوگئے ہیں۔پولیس والوں نے اُس شخص کو بچّی سمیت شہر کے صدر اسپتال میں پہنچا دیا ،اتِفاق سے اُس کی پڑوسن نادرہ بھی کئی دِنوں سے اسی ہسپتا ل میں زیر علاج تھی۔جس کی دودھ پیتی ہوئی ایک بچّی اور شوہر بھی اِسی فساد کی نذرہوگئے تھے ۔شاید قدرت ہی اُسے ہسپتال میں نادرہ کے بستر کے قریب لے آئی ۔ پتہ نہیںیہ ایک ماں کی ممتا تھی یا پھر ایک جوان عورت کی نفسیاتی اور جسمانی لذّت کا جذبہ کہ اُس نے تپاک سے بچّی کو اُس شخص کے ہاتھوں سے لے کر اپنی بے حجاب عریاں چھاتیوں کو کھول کر بچّی کو بڑی بے تا بی سے دودھ سے لگا دیا۔ اور اپنی آنکھیں مانو چند لمحوں کے لئے موندسی لیں۔ اُسے یہ بھی خیا ل نہیں رہا کہ بھیڑ سے بھرے پورے ہسپتا ل میں اُس کے بیڈ کے قریب ایک جوان شخص کھڑا ہے۔جس کی آنکھوں کا مرکز اُس کی خوبصورت سڈول عریاں چھاتیاں ہیں۔
اُس کی بے سبب نگاہیں کچھ دیر تک ہسپتال کے بیڈوں پر پھسلتی رہیں۔پھر بڑے خاموش قدموں سے ہسپتال کے باہر سڑک پر آگیا ۔ بہت جلد شہر معمول پر آگیا زندگیاں پھر سے چلنے لگیں۔ارپنا نادرہ کا دودھ پیتی رہی اور زیبابن گئی۔
اُدھر وہ شخص ننگ دھڑنگ ، میلا،کچیلا،شہرکی سڑکوں، چوراہوں،گلیوں اور محلّوں میں گھومتا رہا۔شہر میں فسادات کو تھمے ہوئے اچھا خاصہ عرصہ گزر چکا تھا۔لیکن اُس کے جسم پر آج بھی فساد والے دن کے ہی کپڑے موجود تھے جو جگہ بہ جگہ پھٹ گئے تھے۔جس سے اُس کی شرم گاہیں واضح طور پر دکھائی دینے لگی تھیں۔وہ اپنے جسم کی عریانیت سے با لکل نا واقف تھا۔ٹھیلوں اور فٹ پاتھوں پر پھل بیچنے والے روزانہ اُسے کچھ نہ کچھ کھانے پینے کو دے دیا کرتے تھے۔اکثر وہ نادرہ کے یہاں بھی بے تکلّف گھس جایا کرتا تھا ۔ سماعت اور گویائی ابھی بھی اُس کی مشکوک تھی۔زباں سے کچھ نہ بولتا ۔ بس اپنی وحشت اور دہشت بھری ویران سرخ آنکھوں سے درو دیوارں کو تکا کرتا۔کبھی اُس کا دل چاہتا تو زمین پر اکڑو بیٹھ کر اپنی ننھی منّی ارپناکو کھیلتے کودتے دیکھتے رہتا، بنا پلک جھپکائے دیکھتے ہی جاتا ……….دیکھتے ہی جاتا ……….
جب کبھی بھی وہ نادرہ کے یہا ں جاتا تو نادرہ اُسے بنا کھلائے جانے نہیں دیتی۔وہ با ت کرنے کی کوشش کرتی کہ وہ کچھ بولے، لیکن وہ ہمیشہ کی طرح خاموش ہی رہتا ۔ مانو زبان اُس کے منھ میں تھی ہی نہیں……….نادرہ کے یہاں کھانا کھا کر کبھی تو گھنٹوں یوں ہی بیٹھا رہتا ۔ تو کبھی کھانا ختم ہوتے ہی بڑی تیزی سے نادرہ کے گھر سے نکل جاتا جیسے اُسے کچھ یاد آگیا ہو……. نادرہ اُسے پکارتی رہ جاتی لیکن وہ ٹھہرتا ہی نہیں ۔بھاگتا ہی جاتا ……. بھاگتا ہی جاتا ……. محلّے سے دور بہت دور اُسی سڑک کے کنارے والے کھڈ میں جا کر سہما سہما دُبک کر بیٹھ جاتا ۔ جہاں وہ پہلی بار فسادات والی رات اپنی پھول سی بچّی کو لیکر پناہ لی تھی۔اکثر اُسے محسوس ہوتا کہ اُس کے بے حس وجود کے گوشے گوشے میں اچانک خاموش دھماکے شروع ہوگئے ہیں۔آسمانوں کی وسعتوں تک پہنچی ہوئی ہولناک نعروں کی آوازیں ……. معصوم لوگوں کی چیخ و پُکا ر جس میں اُس کی پریتی کی بھی چیخیں شامل ہوتیں۔
فسادات والی رات کا پورا منظر اُس کے ذہن کے پردے پر اُبھرنے لگتا…….دونوں گھٹنوں کے بیچ وہ اپنے سر کو یوں پیوست کرلیتا مانوں کسی عورت کے حمل میں سکڑا ہوا پل رہا ہو جہاں صرف تاریکی ہی تاریکی ہے خوف ہی خوف ہے یہی وہ خوفناک لمحہ ہوتا جہاں وہ اپنے آپ کو دُنیاکی کمزورترین شے کے مترادف سمجھتااکثر و بیشتر وہ ایسی ذہنی کیفیت سے گزرتا……. کبھی کبھی تو اُس کے اوپر ایسی کیفیت گھنٹوں طاری رہتی وہ اپنے محلّوں کے چھوٹے چھوٹے بچّوں سے بھی ڈرا کرتا کبھی کبھی تو محلّے کے بچّے اُسے گھوڑا بننے کا حکم دیتے اوور وہ فوراگھوڑا بن کر بچّو کو اپنے پیٹھ پر سوار کر لیتاباقی بچّے چل میرے گھوڑے گپتا اسٹور کہتے ہوئے اس کے آگے پیچھے چلنے لگتے اور وہ واقعی بچّوں کواپنی پیٹھ پر سوار کئے محلّے اور گلیوں سے گزرتاہوااپنے بوسیدہ مکان میں آکر رک جاتا بچّے اتر کر بھاگ جاتے وہ بھی بوجھل قدموں سے ادھ جلے گپتا اسٹور کے بورڈ کو دیکھتا ہوا کھنڈرنمااپنے گھرمیں داخل ہوجاتا ، جہاں لوگوں نے اُس کے دُکان کو پیشاب خانہ اور سارے گھر کے کمروں کو کوڑادان بنا ڈالا تھااچھے اچھے مہذّب لوگ بھی اُس کے گھر میں جاکرپیشاب اور پاخانہ کی حاجتیں پوری کرنے لگے تھے نچلے طبقے کے غیر مہذّب اور جاہل لوگوں کی تو بات ہی غیر تھی اکثر ہندوؤں کی گائیں مسلمانو ں کی بھینسیں اور بکریاں بھی کمروں میں پیشاب اور گوبر وغیرہ کرنے لگی تھیں راہ گیر بھی بڑے اطمینا ن سے وہا ں کھڑے ہوکر اپنی حاجت روائی کرتے۔ محلّے کے منچلے اور آوارہ لڑکوں نے اُس کے گھر کو ’’ گپتا شوچا لے ‘‘تک کا نام دے رکھا تھا ۔آج بہت دنوں کے بعد وہ فطری طور پر اپنے گھر کی دیواروں دروں کو بغور دیکھ رہا تھا ۔کیڑے مکوڑوں اور چیونٹیوں کی بے شمار قطاریں گندے فرش سے لیکر ٹوٹی پھوٹی دیواروں پر مسلسل چڑھ اور اتر رہی تھیں، ایسے ایسے کیڑے مکوڑے پیدا ہوگئے تھے جنہیں وہ پہچانتا بھی نہیں تھا ۔کافی دیر تک وہ کیڑے مکوڑوں کا دوڑنا بھاگنا ، رینگنا ، اُڑنا اور دیواروں پر چڑھنا اُترنا دیکھتا رہا ، پھر نہ جانے کس جذبے کے تحت مسکرا پڑا ، اگلے ہی لمحے وہ اپنے ننگے ہاتھوں سے فرش پر پھیلے ہوئے بے شمار کیڑے مکوڑوں اور دُکان کی دیواروں پر چڑھتی اترتی چیونٹیوں کو مسل کر مارنے لگا اور مسلسل مسکرائے بھی جا رہا تھا ۔ڈھیر سارے کیڑے مکوڑوں کو اُس نے ما ر ڈالا پھر بھی بہت سارے بچ بھی گئے تھے دُکان سے باہر آکر اُس نے آکاش کی اُور دیکھا اور زور سے کھلکھلا پڑا ،اُس نے اپنے دونوں ہاتھ یوں جھاڑے مانو اُس نے کوئی بڑا قلعہ فتح کر لیا ہو۔ اُس کی ویران سُرخ مائل آنکھوں میں تھوڑی سی چمک اور چہرے پر ذرا سی شادابی نظر آئی ……….
اب تو یہ اُس کا معمول بن چُکا تھا کہ وہ جہاں کہیں بھی کاکروچوں چیونٹیوں ،چوہوں ، بلیّوں اور کتّوں کے بچّوں کو دیکھتا تو مارڈالتا ۔ایک بار اُس نے حد ہی کر دی کہ گلی میں حاجی صاحب کی بکری کا بچّہ ابھی اپنی ماں کی پیٹ سے آدھا ہی نکل پایا تھا کہ نظر پڑتے ہی اُس نے پھٹاک سے اُس کی گردن دبا دی ،اُس کی فطرت کی یہ تبدیلی سارے محلے میں موضوعِ بحث بنی ہوئی تھی۔
۱۷ سا ل کا طویل عرصہ بس یوں ہی گذر گیا وقت کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے زیبا پُرکشش ، خوبصورت اور مسحور کُن شخصیت کی دو شیزہ بن گئی با لکل ہوبہو اپنی ما ں پریتی کی طرح وہی دراز قد ،گوری رنگت ،خوبصورت گھنے لمبے کالے بال ، ستواں ناک اور بھرے بھرے تھوڑے سے دونوں موٹے ہونٹ ۔خُدا وحدہ لاشریک نے مانو نادرہ کے گھر حور بھیج دی ہو۔
نادرہ بہت خوش تھی اور وہ زیبا کا بڑا خیال رکھتی تھی۔ہر وقت سائے کی طرح اُس کے ساتھ رہتی تھی۔
ادھر کئی مہینوں سے وہ شخص شہر سے باہر تھا ۔ہوا یوں کہ کسی ٹرک ڈرائیور نے اُسے بیٹھا لیا اور اپنے ساتھ لے کر چلا گیا تب سے وہ شہر سے غائب تھانادرہ کے دل میں بھی کئی بار خیا ل آیا آخر وہ گیا تو کہا ں گیا زیبا بھی کئی بار نادرہ سے پوچھ چُکی تھی کہ باپو بہت دنوں سے گھر نہیں آئے۔؟
زیبا جب سے جوان ہوئی تھی۔نادرہ نے اُس کے کہیں تنہا نکلنے پر پابندی لگا دی تھی۔کیونکہ محلہ غیر مہذّب نچلے طبقے کے بد تمیز اور جاہل لوگوں سے پٹا پڑا ہوا تھا ۔مہتاب عالم پرویز ؔ کے افسانہ ’’بازگشت‘‘کا وہ شخص بھی اب نادرہ کے گھر بہت کم ہی آیا جایا کرتا تھا ۔زیبا بھی اپنے باپو کے آنے پر اُس سے بہت کم باتیں کیا کرتی تھی۔ایسی بات نہیں کہ نادرہ نے منع کر رکھا تھا ۔بلکہ بقول اُسی کی بیٹی زیبا کہ باپو بہت گندے رہتے ہیں۔با پو کے آتے ہی زیبا اپنے ناک کو دوپٹّے سے بڑے احتیا ط کے ساتھ باندھ لیا کرتی تھی۔ کہ اُس شخص کے گندے جسم سے اُٹھتی ہوئی بدبو سے اُسے متلیوں اور اُبکائیوں کا احساس نہ ہونے لگے۔جتنی وہ خوبصورت تھی اتنی ہی وہ نفاست اور صفائی پسند بھی تھی۔اس لئے پابو کے آتے ہی گھر کے سارے کمروں میں اگر بتّیاں جلا دیا کرتی تھی۔جس سے کبھی موگرے کی خوشبو آتی تو کبھی رجنی گندھا کی۔
لیکن اچانک ایک دن وہ شخص کسی دوسرے ٹرک سے شہر کی سڑک پر نمو دار ہوگیا وہ کافی بدلا ہوا معلوم ہورہا تھااچھے اور صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے تھا اوربڑھے ہوئے بال اور بڑھی ہوئی داڑھی بھی اُس نے بنوا لئے تھے وہ پہلے سے کافی نارمل لگ رہا تھاآنکھوں میں وحشت اور ویرانی کی جگہ عجیب سی چمک نے لے رکھی تھی وہ پہلے کی طرح نہ تو ڈرا سہما لگ رہا تھا اور نہ ہی ایک کمزور ترین شخص۔ ماتھے پر اُس نے ایک خوبصورت سا چندن کا ٹیکا بھی لگا رکھا تھا جس سے اُس کی نارمل شخصیت میں اضافہ ہو رہا تھا وہ تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا نادرہ کے گھر کی طرف جا رہا تھانادرہ اُسے دیکھتے ہی حیران رہ گئی حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات اُس کے دل میں اچانک اُبھر آئے۔
رات ہوئی تو اُس شخص نے نادرہ کے یہاں ٹھہرنے کی اِچھّا پرکٹ کی جسے نادرہ نے مان لیا ، اور وہ ایک کمرے میں ٹھہر گیا …….
رات بہت اندھیری تھی۔ آسمان کالے کالے بالوں سے ڈھکا ہوا تھاتیز اور موسلا دھار بارش ہونے والی تھی جو تھوڑی ہی دیر میں تیز ہواؤں کے ساتھ شروع بھی ہو گئی۔ بادلوں کی گڑ گڑاہٹ تیز بجلیوں کی چمک نے رات کو اور بھی خوفنا ک بنا دیا تھااُس شخص کی نیند اچانک کھل گئی ، با ہر کھڑکیوں سے جھانک کر دیکھا ۔بہت تیز بارش ہو رہی تھی۔وہ پھر اچانک خوف زدہ سا ہو گیا ۔اُسے لگا شہر میں فساد پھر پھوٹ پڑا ہے۔لوگ پہلے ہی کی طرح وحشی ہوگئے ہیں۔وہ صرف عورتوں اور لڑکیوں کو ہی ڈھونڈ رہے ہیں۔محلّے کے آوارہ اور غیر مہذّب لڑکوں کا ایک گروہ منظّم طریقے سے ایک بار پھر اُس کے گھر کی جانب بڑھ رہا ہے۔اب پریتی تو نہیں اُس کی اپنی ارپنا ہے۔
اُسے یوں لگا کہ محلّے کے لڑکوں کا وہ منظّم گروہ تیز بارش میں بھی نا درہ کے گھر کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔اُن کے ہاتھوں میں مختلف قسم کے ہتھیار ہیں، اور وہ زیبا زیبا کہہ کر پُکار رہے ہیں۔سب سے آگے محلّے کا لنگڑا سلیم ہے جو پچھلے فساد میں اُس کے گھر سے نکلنے والا آخری لڑکا تھا جو تیموری چال سے چلتا ہوا اُس کے اپنے گھر میں گھس گیا تھا ۔پریتی کی عصمت دری اور موت کا سارا منظر عکس بن کر واضح طور پر اُس کی آنکھوں میں اُتر آیا ۔پریتی کی چیخ وپُکار اُس کی بے بسی اور لاچارگی اور کچھ نہ کر پانے کا اُس کاخود کاکمزور احساس ، اور کسی بھی انسان کو جسمانی اور دماغی طور پرلاغر بنا دینے والی فسادات کی وحشت ود ہشت اور ہولناکیاں۔مہتاب عالم پرویزؔ کی’’ باز گشت‘‘بن کر ایک بار پھر مانواُس کے حواس پر حاوی ہورہی تھیں۔
دروازہ کھول کر وہ مانو بڑی ہمّت اور قوّت کے ساتھ زیبا کے کمرے کی طرف تیز قدموں سے چلتا ہوا داخل ہو گیا ۔بلا کی خوبصورت زیبا نادرہ کے ساتھ اُسی کے پلنگ پر سورہی تھی نادرہ بھی گہری نیند میں تھی ۔
سُرخ زیرو پاور کے بلب کی ملگجی روشنی میں زیبا کا مسحور کُن حُسن حوروں جیسا تھا جیسے خُدا نے اُسے ابھی ابھی فرشتوں کے ہمرا ہ نادرہ کے پہلو میں اُتا ردیاہے نیند کی خماری یا غنودگی کے کو ئی بھی نشان اُس کے چہرے پر نہیں تھے جیسے اُس نے لمحہ بھر پہلے ہی نادرہ کے پہلو میں اپنی آنکھیں موند لی ہوں۔
وہ زیبا کو حیرت انگیز نگاہوں سے دیکھتا رہ گیا وہ زیبا کو پہلی بار اتنے قریب سے بے نیاز ہوکر دیکھ رہا تھازیبا کا مکمّل وجود پریتی جیسا ہی تھاوہی آنکھیں،وہی خوبصورت ستوان ناک ،پرکشش بھرے بھرے دونوں ہونٹ اوردراز قد، اُس کا پورا وجود مختلف قسم کی کیفیتوں سے دوچار ہونے لگا اُس کا سارا وجود پتا نہیں کس جذبات کے زیر اثر سہر اُٹھا اُس کے تحت الشعور کی تاریک غاروں سے مانواُس کی پریتی کامکمّل وجود اُس کے شعور کے لئے حاضر تھا اُس نے بڑے احتیاط اور آہستگی سے خلاء میں سرگوشی کی کہ چل میرے ساتھ…….. میرے کمرے میں …..کہ باہر وحشی پھر تجھے ڈھونڈ رہے ہیں…….پیوست ہوجا گداز جسم بن کر میرے جسم میں…….تحلیل ہو جا روح بن کر میری روح میں …….کہ کوئی تجھے ڈھونڈ نہ سکے ۔ایک خلاء بن کر تو مجھ میں سما جا…….. کہ تجھے کوئی محسوس بھی نہ کر سکے۔
زیبا اس سے پہلے کچھ سمجھ پاتی وہ مہتاب عالم پرویزؔ کے اُس شخص کے مقنا طیسی کشش کے زیرِ اثر اُس کے ساتھ کمرے میں چلی گئی اُس اندھیری کالی رات میں وہ شخص زیبا کے گداز جسم میں خلاء بن کر سما چُکا تھا ……….
صبح نادرہ حیرت زدہ تھی ، اُس کی چھاتیوں میں دودھ کی ایک بوند بھی نہ تھی ………. وہ شخص کہیں بھی نہیں تھا ……….. شاید خلا ؤں میں ……………..وہ اپنے مکمّل وجود کے ساتھ تحلیل ہو چُکا تھا ۔
مہتاب عالم پرویزؔ کے افسانو ں کے کردار اور اُس کی رُوح کے ساتھ زندگی جینا بہت دشوار کُن اور پیچیدہ ہے،کیونکہ اُن کے افسانوں کے کردار ہلکے پھلکے نفسیات کے ساتھ گہرے اور تحت الشعوری نفسیات کے حامل ہوتے ہیں۔جسے پڑھنا اور سمجھنا قاری اور ادبی شخصیتوں کے لئے بھی گہرا اور سنجیدہ مطالعہ کا مطالبہ کرتی ہے۔
کیونکہ خُدا نے اس کا ئنات کوجسے ہم جانتے ہیں اور جس کا ہمیں علم ہے کہ ہر شئے کو مختلف نفسیات دے کر پیدا کیا ہے۔چاہے وہ جاندار ہو یا بے جان ، ذرّہ ذرّہ نفسیات میں قید ہے۔اس لئے نفسیات سے رہائی ممکن نہیں۔ کیونکہ نفسیات ہی روح کی شکل میں کسی بھی عورت کے حمل میں پلتے ہوئے بچّے میں پھونکی جاتی ہے۔جسے روح بھی کہتے ہیں۔یہ نفسیات ہی ہے جو روح کی شکل میں ہمارے ساتھ ساتھ رُوح قبض ہونے تک رہتی ہے۔یہ نفسیات ہی ہے جو ہما رے جسم کو کبھی چھوڑنا نہیں چاہتی ہے ، اور یہ نفسیات ہی ہے کہ مہتاب عالم پرویز ؔ کے ’’باز گشت‘‘کا وہ شخص اپنی ہی بیوی اور اولاد میں تمیز نہیں کر پایا۔ غرض یہ کہ انسانی اورغیر انسانی ہرچھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی جنبش کے پس منظر میں نفسیا ت ہی کار فرما ہوتی ہے ۔ یہاں تک کے پہاڑوں اور پتھروں کا اپنی جگہ غیر متحرک ہونا بھی اِس کے متحرک ہو نے کی نفسیات میں شامل ہے میری نفسیا ت یہ تسلیم اور تصوّر کرتی ہے کہ جس طرح اِس سر زمین پر عورت اور مرد کے پاکیز ہ اور غیر پاکیزہ جسمانی تعلقات سے عورت کے شکم سے ایک بچہ نمودار ہوتا ہے اور بڑا ہوتا ہے ٹھیک اُسی طرح پتھروں اور پہاڑوں کے درمیان بھی کسی طرح کے اختلاط کا عمل بھی کار فرماہو جسے ہم دیکھ یا محسوس نہیں کر پاتے۔ ہماری عقل یہ سمجھ نہیں پاتی کہ اُس میں تغیرکیسے آیا۔؟ وہ بڑے کیسے ہوگئے۔؟ ہمارے باپ داداؤں کے باغوں میں زمین میں دھنسا اور گڑا ہوا وہ پتھر چند سالوں یا بہت سالوں بعد کیسے بڑا ہوگیاٹھیک اُسی طرح بازگشت کا وہ شخص اپنی ہی بیٹی کے ساتھ اختلا ط میں کس نفسیا ت کے زیر اثر مبتلاء ہواقاری اور ادبی شخصیتوں کے ذہن و دماغ میں یہ آئینے کی طرح واضح ہو چُکا ہے کیونکہ انسانی نفسیات سے ایسے عمل کا سرزد ہونا کوئی بعید نہیں بلکہ یہ لازمی اور ممکن عمل ہے جس سے وہ شخص دو چار ہوا۔
ہوسکتا ہے پھر کبھی مہتاب عالم پرویزؔ کے افسانوں اور یا پھر کسی افسانے کے ذریعہ موقع ملے تو پھر باتیں ہوں گی ۔ کیونکہ ابھی ابھی میری سب سے بڑی بیٹی حنا مہوش کا فون آیا ہے کہ پاپا انجنیئرنگ کالج کل سے بند ہو رہا ہے اور میں کل ہی آ رہی ہوں۔
دُعاگو ہوں کہ خُداہم سب کو اپنی امان میں رکھے۔آمین۔
()()()()()
جاوید اختر
شاعری دلوں کو جوڑنے کا بہترین ذریعہ ہے : ڈاکٹر نوازد یوبندی
شاعری دلوں کو جوڑنے کا بہترین ذریعہ ہے : ڈاکٹر نوازد یوبندی
شعبہ اردو سی سی ایس یو اور میرٹھ پبلک گرلز اسکول کی جانب سے”بچوں کا مشاعرہ“کا کا میاب انعقاد
(پریس ریلیز)
میرٹھ16/ فروری2015ء
شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ پبلک گرلز اسکول اور اتر پردیش اردو اکا دمی کے با ہمی اشتراک سے آج یہاں یونیورسٹی کے برہسپتی بھون میں ایک شاندار پروگرام بعنوان”بچوں کا مشاعرہ“ کا انقاد ہوا۔ جس میں مہمان خصوصی کے بطور اتر پردیش اردو اکا دمی کے چیئر مین اور شہرہئ آفاق شاعر محترم ڈاکٹرنوا ز دیو بندی شریک ہوئے اور پروگرام کی صدا رت شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ کے صدر محترم ڈا کٹر اسلم جمشید پوری نے فرمائی۔نظامت کے فرا ئض زہرا اور آکانشا گوسوامی نے ادا کیے۔مہمانوں کا تعارف اورشکریے کی رسم میرٹھ پبلک گرلز اسکول کی پرنسپل ڈاکٹر مرنالنی اننت نے ادا کی۔
پرو گرام کا آغاز شان رحمانی نے نعت پاک سے کیا۔بعد ازاں مہمانوں کا پھولوں سے استقبال کیا۔اس موقع پرحسنیٰ میموریل اسکول، صوفیہ گرلز اسکول، نیو ہو رائزن پبلک اسکول اور میرٹھ پلک گرلز اسکول کے طلبہ و طالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔مشاعرے میں میرٹھ پبلک گرلز اسکو ل کی سینئر سیکشن کی طالبات ساکشی، مدیحہ اسلم، نشا، مبشرا، آمنا،شکھا،آل زہرا، ساکشی سنگھ، لائبہ، افشین، تزین اور حبا خان(صوفیہ اسکول)سمیر(حسنیٰ میموریل،اسکول)مہک (نیو ہو رائزن،اسکول) وغیرہ کی طالبات نے ملک کے معروف ومشہور شعرا، مرزا غالب،اقبال،ندا فاضلی،لتا حیا،ہاشم فیروزہ آبادی، گلزار، سمپورن سنگھ کالرا اور سید اطہر الدین اطہرؔ کا کلام پیش کر کے خوب داد و تحسین حاصل کی۔میرٹھ پبلک اسکول کی طالبات نے امیر خسرو کے چھاپ تلک گیت پر رقص پیش کر کے ناظرین کو انگشت بدنداں کردیا۔
ٍٍ اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے ڈا کٹر نواز دیوبندی نے کہا کہ اردو کا جاننے وا لا تمام زبانیں صحیح تلفظ کے ساتھ بول سکتا ہے۔کسی دوسری زبان میں یہ خصوصیت نہیں ہے۔کسی دوسری زبان کا بڑے سے بڑا ماہر بھی ’رکشک‘ کو صحیح نہیں بول سکتا۔ ہندو ستان مختلف مذا ہب اور رنگ و نسل کے لوگوں کا ملک ہے،بعض عنا صر نے ہمیشہ اسے الگ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہما ری ذمہ داری ہے کہ ہم دلوں کو اور ملک کو جوڑنے کی کوشش کریں۔ شاعری دلوں کو جوڑنے کا بہترن ذریعہ ہے۔کیونکہ آج جن بچوں نے کلام پڑھا ہے وہ اگر چہ دوسرے شعراء کا تھا لیکن وہ جلد ہی خود کوشش کر کے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
اپنے صدارتی خطبے میں ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری نے کہا کہ اس تقریب کے اہتمام کا مقصداسکولوں میں اردو زبان و ادب کے تئیں دلچسپی پیدا کرنا ہے۔ اردو ایک شیریں زبان ہے جس کا دن بہ دن عالمی سطح پر دائرہ وسیع ہورہا ہے۔اتر پردیش اردو اکادمی اردو کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔اس نے مختلف اسکیمیں اردو کے فروغ کے لیے شروع کی ہیں۔ ”بچوں کا مشاعرہ“ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،جس کا مقصد طلبا بالخصوص اسکولوں کے طلبا میں نعت غزل، نظم،رباعی وغیرہ شعری اصناف سے واقف کرانا اور اردو زبان کے حصول کے لیے راضی کرنا ہے۔یہ اردو اکا دمی کی ایک نئی اسکیم ہے جس کا پہلا مشاعرہ شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ پبلک گرلز اسکول،نے برہسپتی بھون میں منعقد کیاگیا۔ پرو گرام کے آخر میں تمام طلبا و طالبات کو انعا مات سے نوازا گیا۔
پرو گرام میں ڈا کٹر آصف علی، ڈا کٹر شاداب علیم، ڈا کٹر سیدہ،طالب زیدی، نایاب زہرا زیدی،آفاق احمد خاں، بیگم شہناز احمد، فرح ناز، شوکت احمد داس، محمد آصف،ارشاد علی، عمائدین شہر اور کثیر تعداد میں طلبا و طالبات نے شرکت کی۔
طرزِبیان کے معاملے میں اردو کہانی ہندی سے بہت آگے ہے: ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
طرزِبیان کے معاملے میں اردو کہانی ہندی سے بہت آگے ہے۔ ۔ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
شعبہ ء اردو ،موہن لال سوکھاڈیہ یونیورسٹی ،اودے پور،راجستھان ،میں’’ہم عصر اردو۔ہندی کہانی ‘‘مو ضوع پر توسیعی خطبہ
اودے پور ,انڈیا: رپورٹ۔شہناز(ریسرچ اسکالر)
اردو افسانہ آج کے معاصر سماج کی مکمّل عکاسی کے فرائض پوری ذمہ داری سے ادا کر رہا ہے۔پریم چند نے اردو افسانے کو جو زمین فراہم کی تھی اس کی بنیادوں پر آج اردو افسانے کی عالی شان عمارت کھڑی ہے۔‘‘یہ جملے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کے تھے،وہ شعبہ ء اردو ،موہن لال سوکھاڈیہ یونیورسٹی ،اودے پور،راجستھان ،میں’’ہم عصر اردو۔ہندی کہانی ‘‘مو ضوع پر توسیعی خطبہ پیش کررہے تھے۔ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے اس موقع پر مزید کہا کہ گلوبلائزیشن کے ساتھ زندگی کے بدلتے ہوئے منظر نامے کا بیان ہو یا نئی طرزِ معاشرت سے پیدا ہونے والی برائیاں ہوں یا ان کے مثبت پہلو، اردو افسانے نے سب کچھ اپنے موضوعات میں سمیٹ لیا ہے۔دہشت گردی ‘فرقہ وارانہ فسادات ،صارفیت‘ ماحولیات ،آبی تحفظ ،آنر کلنگ ،علاقائیت ،رشتوں کی بکھرتی کرچیاں ، ٹوٹتے خاندان، غرض سب کچھ آج کی اردو کہانی میں بیان ہو رہاہے۔ اردو ۔ہندی کہانی کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندی کہانی میں موضوعات کا تنوع اردو سے زیادہ ہے۔جبکہ بیانیہ اردو کہانی کے پاس ہے۔طرزِبیان کے معاملے میں اردو کہانی ہندی سے بہت آگے ہے۔ اسی لئے اردو کہانی پڑھنے اور خاص کر سننے میں بہت مزہ دیتی ہے۔
خطبے کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر آی وی تریویدی نے کی ۔پروفیسر فریدہ شاہ،ڈین فیکلٹی آف ،آرٹس،معروف افسانہ نگار ڈاکٹر نگار عظیم (دہلی)بطور مہمانانِ ذی وقار موجود تھیں۔صدر شعبہ ء اردو ،پروفیسر فاروق بخشی نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے لئے راجستھان میں فضا ساز گار ہو رہی ہے جس کا ثبوت اس جلسے میں وائس چانسلر پروفیسر آئی۔ وی ۔ترویدی کی موجودگی ہے۔ موصوف اردو کے تئیں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ڈاکٹر اسلم جمشید پوری اردو کے معروف افسانہ نگار اور ممتاز فکشن ناقدہیں۔ان کی متعدد کتابیں شائع ہو کر مقبول ہو چکی ہیں۔ہماری دوسری مہمان ڈاکٹر نگار عظیم ہمارے عہد کی مقبول افسانہ نگار ہیں۔
صدارتی خطبہ دیتے ہوئے شیخ الجامعہ پروفیسر آئی۔ وی۔ ترویدی نے اپنے مخصوص انداز اور لب ولہجے میں کہا کہ اردو ایک رعب دار زبان ہے۔اور میں ہمیشہ اردو والوں کو قابلِ رشک سمجھتا رہا ہوں۔آج کا لکچر بہت معلوماتی تھا۔اسلم صاحب نے بڑی فنکاری سے اردو ہندی کہانی کا جائزہ پیش کیا۔اس کامیاب پروگرام کے لئے میں شعبہ ء اردو اور پروفیسر فاروق بخشی کومبارکباد پیش کر تا ہوں۔یوں بھی جب سے نے پروفیسر فاروق بخشی نے اس شعبہ کی باگ ڈور سنبھالی ہے ،اس کی ترقی میں نئے باب وا ہو ئے ہیں۔ میرا تعاون ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گا۔
جلسے میں مہمان خصوصی ڈین آرٹس فیکلٹی پروفیسر فریدہ شاہ نے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کے خطبے کو یادگار قرار دیا ۔معروف افسانہ نگار ڈاکٹر عظیم نے ،خواتین افسانہ نگاروں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کئی طالب علموں نے اس موقع پر سوالات بھی کئے جن کے اسلم جمشید پوری نے تشفی بخش جوابات دئے۔ جلسے کی نظامت ڈاکٹر رئیس احمد نے کی اور اظہارِ تشکّر ڈاکٹر حدیث انصاری نے کیا۔
اس موقع پر پروفیسرہاڑ،پرفیسر نیرج ،پروفیسر ترکھا،ڈاکٹر ترانہ پروین ،ڈاکٹر سیما ملک ،ڈاکٹر شاہد پٹھان ،شاہد عزیز، الحاج محمد حسین بنا،مشتاق چنچل ،شبنم جلال ،ایم اے اردو،ایم اے ہندی کے طلبہ و طالبات اور رسرچ اسکالرز خاصی تعداد میں موجود تھے۔
اسلم جمشیدپوری کے افسانوں میں دیہات : فرقان سنبھلی
اسلم جمشیدپوری کے افسانوں میں دیہات
فرقان سنبھلی
اسلم جمشیدپوری کاشمار دورحاضرکے کامیاب افسانہ نگاروں میں ہوتاہے۔ انھوں نے جن موضوعات پر افسانے لکھے ہیں وہ نہ صرف شہربلکہ گاؤں کے مسائل کوبہ خوبی متعارف کراتے ہیں۔ اسلم جمشیدپوری نے فنی لوازمات کا لحاظ رکھتے ہوئے افسانے لکھے ہیں جس کی وجہ سے افسانے نہ صرف دلچسپ ہیں بلکہ سماجی، عصری مسائل کوخوبصورتی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ وہ جس نوع کے افسانہ نگارہیں اس میں افسانوں کا Categorization توممکن نہیں پھربھی الجھن کودورکرنے کے لیے موٹے طورپردوزمروں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ ایک وہ افسانے جوشہرکی زندگی اوراس کے مسائل پرمبنی ہیں اوردوسرے وہ جوپریم چندکی روایت کاحصہ ہیں ساتھ ہی دیہی مسائل اوردیہی زندگی کے عکاس ہیں۔
اسلم جمشیدپوری نے دیہی زندگی کے تعلق سے جوافسانے تخلیق کیے ہیں ان میں سے ”لینڈرا“،”عیدگاہ سے واپسی“،”شبراتی“،”بدلتاہے رنگ“،”دن کے اندھیرے رات کے اجالے“،”اندھیراابھی زندہ ہے“،”نہ بجھنے والا سورج“وغیرہ اہم افسانے ہیں۔ جنھوں نے نہ صرف مقبولیت حاصل کی ہے بلکہ ادب میں بھی گراں قدراضافہ کیاہے۔ ان تمام افسانوں میں گاؤں کی زندگی کے مختلف شیڈپیش کیے گئے ہیں جس طرح کی حقیقت نگاری ان افسانوں میں دکھائی دیتی ہے وہ ان افسانوں کوپریم چندکی روایت کاحصہ بنادیتی ہے۔قابل ذکربات یہ ہے کہ انھوں نے ان افسانوں میں اکثرانہی تکنیک کواپنے اندازمیں برتاہے جوکہ پریم چندکاخاصہ ہیں۔ ان افسانوں کااختتام بھی تقریباً اسی اسٹائل میں ہوتاہے جیساکہ پریم چندنے اپنے بہت سے افسانوں کااختتام کیاہے۔مثلاً
”ہائے اللہ …………“
ایک دلدوز ودلخراش چیخ کے ساتھ شبراتن شبراتی کے بے جان جسم سے لپٹ گئی۔ اس کے دونوں بچے بھی روتے ہوئے لاش پرٹوٹے پڑرہے تھے۔
گاؤں والوں کی زبانوں پرتالے پڑگئے تھے۔ ان کے سروں پر مانومنوں بوجھ تھاکہ سب کی گردنیں جھکی ہوئی تھیں۔ گاؤں سے دکھ نکل گیاتھا۔
شبراتی کے دونوں بچے اپنی ماں کادامن کھینچ رہے تھے گویاکہہ رہے ہوں، ماں ہمارے گھرمیں گھسے دکھ کوکون نکالے گا……؟“
(کہانی محل۔ص98)
”لینڈرا“اسلم جمشیدپوری کانہایت اہم افسانہ ہے جوکہ لینڈراکے کردارکی ذہنی و فکری کشمکش اوراس کے نفسیاتی پہلوپراس اندازمیں روشنی ڈالتاہے کہ دیہی زندگی کامکمل سچ ہمارے سامنے آکھڑاہوتاہے۔ افسانے کاتانابانانہایت چابک دستی کے ساتھ بناگیاہے۔ کہانی ایک ربط کے ساتھ آگے بڑھتی ہے اورجزئیات ومفاہیم کی دنیاآبادہونے لگتی ہے۔ لینڈراکاکرداراسلم جمشیدپوری کے عمیق مطالعہ ومشاہدہ کی طرف اشارہ کرتاہے چونکہ لینڈراکے حقیقی کردارسے اسلم جمشیدپوری کاواسطہ پڑچکاتھااس لیے کردارکی پیش کش اورزیادہ حقیقی بن گئی ہے۔ لینڈراپرہونے والے ظلم،اس کے خلاف لینڈراکابے نیازانہ عمل اورپھراچانک خودی کے جاگنے پرخودکوانسانی جبلت کے عین مطابق پیش کش نے لینڈرا کوآفاقی کرداربنادیاہے۔ یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”کون ہے……؟
آوازکلواکے ماموں کی شادی شدہ بہن کی تھی۔ جوشادی میں شریک ہونے ایک ہفتے سے آئی ہوئی تھی۔
”میں ……میں ……“
”میں کون……لینڈرا……“
”ہاں ……چلم بھرنے آیوتھو۔(آیاتھا)“
لینڈراکہنے پراس کے تن بدن میں آگ لگ گئی گویاچلم کی آگ نے اس کے بدن کے حقّے کوسلگادیاہو۔ نجانے کیوں وہ ایک عورت کے منہ سے لینڈراسن کرجل گیاتھا۔“
(کہانی محل۔ص32)
لینڈراکے ذریعے اسلم جمشیدپوری نے اس گاؤں کی زندگی کی بہترین عکاسی کی ہے جوکہ دلہن کے ساتھ جہیز میں آئے بچے کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے کوتیارنہیں ہے۔ لینڈراایک چڑھ بن جاتی ہے اورفقیرمحمد”لینڈرا“کے نام سے ہی مشہورہوجاتاہے۔ مصنف نے ”لینڈرا“کے آغازمیں لینڈراکوبے ضرراورشریف النفس انسان بناکرپیش کیاہے جو کہ موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی نہیں کرتااوربے نیازی کے ساتھ اپنے اوپرہونے والے ظلم کربرداشت کرجاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ پورے گاؤں کابے اجرت مزدوربن جاتاہے۔ گاؤں کی عورتیں اورنوجوان لڑکیاں بھی اس سے خوب گھلی ملی رہتی تھیں اورتمام ظاہراورخفیہ کام بھی کرواتی رہتی تھیں:
”گاؤں کی عورتیں جن میں بزرگ عورتیں بھی شامل تھیں اورنوجوان لڑکیاں اوربہوئیں بھی۔سب لینڈرا سے ایسے گھلی ملی تھیں جیسے لینڈراانھیں کی نسل کاہو۔ کسی کولینڈراکے مردہونے کایقین نہیں تھا۔ وہ اس کی موجودگی میں اپنی خفیہ باتیں بھی کرلیتیں۔ بغیردوپٹے اس کے سامنے آجاتیں۔ لینڈراسے نہانے کا گرم پانی غسل خانے میں رکھوالیتیں۔ کبھی کبھی ہاتھ پاؤں بھی دبوالتیں“۔
(کہانی محل 30)
لینڈراکابے ضرراورمخلصانہ رویہ دراصل گاؤں کے مردعورتوں کوبے حس بنا دیتا ہے اوروہ اس کی نفسی خواہشات کی طرف سے اس قدرلاپرواہ ہوجاتے ہیں کہ گھروالے اس کی شادی تک کے بارے میں خیال نہیں کرتے۔ سب خودساختہ طورپرمان لیتے ہیں کہ لینڈراشادی کے لائق ہی نہیں ہے؟یہی بات لینڈراکے ذہن میں ٹھہرجاتی ہے۔ پھرجب اس کے بھائی کلواکی ممیری بہن اس کو’لینڈرا‘کہتی ہے تواس کے اندرکامرد جاگنے لگتاہے۔ وہ جب اس کی ٹانگیں دبانے لگتاہے توپہلی مرتبہ اسے اپنے اندرجنسی تلذذکااحساس جاگتاہوامعلوم ہوتاہے۔ جب کلوااپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعداس سے دوبارہ نکاح کرناچاہتاہے توحلالہ کے لیے لینڈراکاانتخاب کیاجاتاہے۔ لینڈراکانکاح ہوجاتاہے اوراسے حجلہئ عروسی میں رات گذارنے کے لیے بندکردیاجاتاہے انسانی فطرت کے عین مطابق اچانک لینڈرا کے اندردبی نفرت کی چنگاری سلگ اٹھتی ہے وہ اپنے اوپرہوئے ظلم کویادکرتاہے اورگاؤں والوں کے ساتھ کیے گئے وعدوں پرغورکرتاہے۔ دھیرے دھیرے اس کاذہن بیدارہوتاہے۔ اس کے اندرشادی کی پہلی رات کاتجسس،ظلم کے بدلے کی چنگاری، جنسی تلذذکی خواہش جیسے جذبات ایک ساتھ ابھرتے ہیں۔انہی جذبات سے مغلوب ہوکروہ خود کو مرد ثابت کردیتاہے۔
”لینڈرا“افسانے کاپوراماحول دیہی زندگی کانمونہ ہے اسلم جمشیدپوری نے اس افسانے میں جزئیات پرخاصا زوردیاہے۔ انھوں نے گاؤں کی تہذیب اورفضاکی بڑی حقیقی تصویرکشی کی ہے۔ فقیرمحمدعرف لینڈراکے پیچیدہ کردارمیں بڑی جاذبیت ہے۔ وہ جب انتقام بھی لیتاہے توقاری اس کے عمل کوہمدردی کے ساتھ دیکھنے پرمجبورہوجاتاہے کہ یہ سماج ہی توہے جس نے اس کی طرف سے بے حسانہ رویہ اختیارکررکھاتھااوراسے توڑنے کی صورت شایداس کے پاس کوئی اور نہیں تھی۔ افسانے کاپلاٹ مربوط ہے جس کی وجہ سے تجسس کی فضامسلسل برقراررہتی ہے۔ حالانکہ اختتام بے حد فطری ہے۔ آخری حصے میں لینڈراکے پھرسے فقیرمحمدبن جانے کے احساس اورذہنی کشمکش کواسلم جمشیدپوری نے خوبصورت بیانیہ کے ذریعے پیش کیاہے۔ لینڈرانے مواقع ملنے کے باجودبھی گناہ نہیں کیے تھے جس کی وجہ سے اس کے بارے میں غلط فہمی یایوں کہیں کہ بے حسی کارویہ عام ہوگیاتھا۔ اختتام پروہ اپنے جائزحق کااستعمال کرکے نہ صرف خودکو مکمل مرد ثابت کردیتاہے بلکہ کیاہواوعدہ بھی نبھادیتاہے۔اقتباس ملاحطہ فرمائیں:
”کتنااطمینان ہے حرام زادی کے چہرے پر……کیوں ہے یہ اطمینان،صرف اس لیے ناکہ میں لینڈراہوں۔ لینڈرا جو شاید مرد نہیں ہوتا۔ گاؤں کی ساری عورتیں مجھے یہی سمجھتی ہیں نا۔ انھیں یہ نہیں پتہ لینڈرا،مردہے،لیکن بدکردار نہیں۔ کبھی کسی لڑکی کونہیں چھیڑا، کسی عورت کی طرف نگاہ اٹھاکرنہیں دیکھاتواس کامطلب یہ تونہیں کہ میں مردنہیں …… نامردہوں۔ سارے گھرکو،پورے گاؤں کواطمینان ہے۔ سب مجھے نامردسمجھتے ہیں ……آؤ،گاؤں والودیکھ لو……میں نامرد نہیں ہوں۔
رات کے پچھلے پہرلینڈراکے کمرے سے ابھرنے والی چیخوں اورکراہوں نے فضامیں ارتعاش پیداکردیاتھا۔ صبح کی نمازکے بعد لینڈرا،نہیں فقیرمحمد، جوآج بادشاہ وقت سے کم نہ تھا، نے حسب وعدہ گہناچکے چاندپراپنے دروازے ہمیشہ کے لیے مقفل کردیے۔“
(کہانی محل۔ص38)
”شبراتی“افسانہ اسلم جمشیدپوری کادیہی پس منظرمیں لکھاگیاایساافسانہ ہے جوکہ گاؤں کے سیدھے سادے عوام میں اندھ وشواس اورٹونے ٹوٹکے کے ذریعے مسائل کاحل نکالنے کی کوششوں پرچوٹ کرتاہے۔’شبراتی‘کامرکزی کردارشبراتی ہے جوکہ مشترکہ تہذیب کی علامت ہے اورگاؤں سے دکھ نکلوانے کی خاطرخودکی جان گنوادیتاہے۔ افسانہ کا آغاز گاؤں کے لوگوں کی اس فکرکے ساتھ ہوتاہے کہ ان کے جانورکسی نامعلوم بیماری کی وجہ سے مرتے جارہے ہیں گاؤں والے اس بیماری سے نجات پانے کے لیے طوفانی رات میں شبراتی کوگاؤں سے باہردکھ سے بھرے گھڑے کودفنانے بھیج دیتے ہیں۔ شبراتی گاؤں سے دکھ نکالنے کی خاطراپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اس مشن پر جاتاہے۔ اس مشن میں اس کے ساتھ بھیجے گئے دوسرے لوگ طوفانی بارش سے گھبراکرچپ چاپ اسے اکیلاچھوڑکرگاؤں واپس چلے آتے ہیں لیکن شبراتی کام کوکامیابی کے ساتھ مکمل کرکے واپس لوٹتے وقت ٹیوب ویل کی نالی میں گرکرڈوب جاتاہے اوراس کی موت ہوجاتی ہے۔ افسانے کااختتام قاری کوسوچنے پرمجبورکردیتاہے کہ پورے گاؤں کے دکھوں کوختم کرنے والے کے گھرمیں درآئے دکھ کواب کون نکالے گا۔ شبراتی کی لاش کے پاس شبراتن اوراس کے دونوں بچے بین کررہے ہیں۔ ان کی آنکھیں سوال کرتی ہیں جس کاجواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ اسلم جمشیدپوری نے افسانے کوفنی چابک دستی کے ذریعے نہایت متاثرکن اندازمیں پیش کیا ہے۔ ہندواکثریتی گاؤں میں مسلمان شبراتی کوہی کیوں اس خطرناک کام کے لیے چنا جاتا ہے یہ واضح نہیں ہوپاتا۔ افسانے میں اندھے یقین کی روایت، طوفانی رات کابیان اور منظرکشی کوبہترین ڈسکرپشن کہاجاسکتاہے جوکہ افسانہ کے بیانیہ کوبڑی تقویت دیتاہے۔ یہ افسانہ آج کے حالات میں بھی بے حدموثرافسانہ ہے جوکہ گاؤں کی زندگی میں پنپنے والے اندھ وشواس کی جیتی جاگتی تصویرپیش کرتاہے۔ افسانے کی زبان میں برج بھاشا کا اثر دکھائی دیتاہے جوکہ گاؤں دھنورا(بلندشہر)کی عام بول چال سے میل کھاتاہے۔افسانے کے مکالمے فطری ہیں جوکہ گاؤں کی زبان میں ہی پیش کیے گئے ہیں۔مثلاً:
”رات تاریک تھی۔ چاروں طرف ایک ہوکاعالم تھا۔ آسمان کالے کالے بادلوں سے بھراتھا۔ کبھی کبھی بجلی کی چمک اوربادلوں کی گرج ماحول کوپرہول بنارہی تھی۔ ملکھان سنگھ کی بیٹھک پرگہماگہمی تھی۔ گاؤں کے نوجوان اور بوڑھے جمع تھے۔ شبراتی نے سر پر منڈاسہ (پگڑی)اوردھوتی کولنگوٹ کی صورت پہن رکھاتھا۔ اس کے پورے جسم پر کالی سیاہی ملی ہوئی تھی۔ چہرہ بھی کالک سے پوت دیاگیاتھا۔ دس ہٹے کٹے نوجوان بھی کچھ اسی قسم کاحلیہ بنائے ہوئے تھے۔ ان سب کے ہاتھوں میں لاٹھی اوربلم تھے۔ تیاری مکمل تھی۔ بس مکھیاکی اجازت دینے کی دیرتھی“۔
(کہانی محل۔ص94)
شبراتن کے کچھ مکالمے ضروراٹپٹے محسوس ہوتے ہیں جیسے:
”اے اللہ میرے پتی کوسپھل واپس لائیو“
مسلمان گھروں کی خواتین اس زبان کااستعمال گاؤں میں بھی نہیں کرتی ہیں۔ زبان کے معاملے میں یہ اختلاف رائے پایاجاتاہے کہ کچھ ادیب ہندی الفاظ کے زیادہ استعمال کوبھی برانہیں مانتے جب کہ زیادہ ترکی رائے ہے کہ اردوزبان لکھتے وقت صرف اسی حالت میں غیر زبان کالفظ استعمال کیاجائے جب کہ اس کامتبادل اردومیں موجود نہ ہو۔ لیکن گاؤں کی زبان کے بارے میں کیاکہاجاسکتاہے کہ اس پربرج اورکھڑی بولی کے جواثرات مرتب ہوئے ہیں اس کے سبب ہندی کے الفاظ اورگؤ، آگو، میروپتی جیسے الفاظ بھی افسانے میں استعمال ہوئے ہیں۔ اسلم جمشیدپوری نے شبراتی کے کردار میں حقیقت کے خوب رنگ بھرے ہیں۔ اس کے کردارکی مضبوطی اسے آئڈیل کرداربنادیتی ہے جوکہ اپنے کام کے لیے خودکوپوری طرح وقف کردیتاہے گاؤں اورگاؤں کے لوگوں کے لیے اس کی عقیدت دورحاضرکے مشترک تہذیب والے گاؤں کے لیے مثال بن جاتی ہے۔
”مکھیاجی کی رہنمائی میں ساراگاؤں پنڈت گوپال کے کھیت کی طرف چل پڑا۔ چاروں طرف پانی کی حکومت تھی۔ گوپال کا کھیت بھی پانی سے لبالب تھا۔ شبراتی کادوردورتک پتہ نہیں تھا۔ سب کے چہروں پرہوائیاں اڑرہی تھیں۔ اچانک کسی کے زورسے چلانے کی آوازآئی۔
”شب…………شبراتی …………!!
سب اس طرف لپکے۔ جمن کاکاسرکاری نالی پرکھڑے تھے۔ وہاں شبراتی کابے جان جسم پڑاتھا۔ اس کاجسم پھول کرکافی موٹاہوچکاتھا۔جابجا کالک لگااس کاجسم بہت ہی ڈراؤنالگ رہا تھا۔ نالی کے گہرے پانی سے بڑی مشکل سے اس کی لاش کونکالاگیا۔ لوگوں کی آنکھوں سے زاروقطارآنسوبہہ رہے تھے“۔
صمیمِ قلب سے مبارکباد : عالمی پرواز.کوم
سالِ نو
2015
کی آمد پر
"عالمی پرواز.کوم”
"عالمی افسانوی کارواں”
اور
"اُردو آپریشن”
کے قارئین اور ناظرین
کو
صمیمِ قلب سے
مبارکباد
دیتا ہوں
خدا کرے یہ سال
آپ زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں
بھر دے اور ہر طرف امن و امان
بحال رہے۔آمین
————-
ڈاکٹراسلم جمشیدپوری
ابرار مجیب
رضوان واسطی
جہانگیر محمد
نغمہ نازمکتومیؔ
مہتاب عالم پرویزؔ
افروز سلیمی
زیرِاہتمام ” عالمی پرواز .کوم "
www.aalamiparwaz.com
”آج سر سیدکے مشن کو آگے بڑھانا ہی ان کوسچا خراج ہے۔“ پرو فیسر صغیر افراہیم
”آج سر سیدکے مشن کو آگے بڑھانا ہی ان کوسچا خراج ہے۔“ پرو فیسر صغیر افراہیم
شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ میں ایک خصوصی لیکچر بعنوان ”سر سید اور ان کے معاصرین“ کا انعقاد
میرٹھ 22دسمبر2014ء
شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں ایک خصوصی لیکچر بعنوان ”سر سید اور ان کے معاصرین“منعقد ہوا۔ یہ لیکچر خصوصی مقرر شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرو فیسر اور معروف رسالہ”تہذیب الاخلاق“ کے مدیر پرو فیسر صغیر افراہیم نے دیا۔ پرو گرام کی صدارت، صدر شعبہ اردو، ڈا کٹر اسلم جمشید پوری نے فرمائی۔مہمان خصوصی کے طور پر سابق وزیر حکومت اتر پردیش ڈاکٹر معراج الدین نے شر کت کی اور مہمانان ذی وقار کے طور پر محترم بھارت بھوشن (صدر، اُپٹا) اور معروف ادیب و شاعر محترم طالب زیدی موجود رہے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف علی،استقبال ڈاکٹر شاداب علیم اور شکریے کی رسم محترم آ فاق احمد خاں نے انجام دیے۔
پرو گرام کا آغاز محمد نعیم نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔بعد ازاں چاندنی عباسی نے نعت اور محمد صادق نے غزل پیش کی۔محترم افاق احمد خاں اور انس سبزواری نے مقرر خصوصی پروفیسر صغیر افراہیم کو گلدستہ پیش کرکے استقبال کیا۔اس کے بعدشعبہ اردو کے طالب علموں مو لانا جبرئیل نے ”مشرقی تنقید: ایک جائزہ“،فرحانہ نے”ادبی تحقیق کے مسائل“ اور وصی حیدر نے”مثنوی سحرالبیان کا تجزیاتی مطالعہ“ پر اپنے مقالات پیش کیے، جن کوسامعین نے پسند کیا۔
پروفیسر صغیر افراہیم کا تعارف پیش کرتے ہوئے فرقان سنبھلی نے کہا کہ صغیر افراہیم اردو فکشن تنقید کی نئی نسل کا معتبر اور مستند نام ہے۔ان کی متعدد کتابیں تحقیقی حوالے کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔
اس مو قع پر خصوصی مقرر پرو فیسر صغیر افراہیم نے اپنے خطبے ”سر سید اور ان کے معاصرین“میں عہدِ سر سید اور معاصرین کی خدمات پر بھرپور روشنی ڈالی۔انہوں نے سر سید کی اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنے ساتھیوں کو ایک سمجھتے تھے، ان کے یہاں سینئر اور جونیئر نہیں ہوا کرتے تھے جب کہ آج یہ عام بات ہو تی جارہی ہے۔ سر سید کے تعلیمی مشن کی کا میابی کا راز بھی یہی تھا۔آج سر سیدکے مشن کو آگے بڑھانا ہی ان کوسچا خراج ہے۔
پروفیسر صغیر افراہیم نے حالی شبلی کے تعلق سے کہا کہ انہوں نے سر سید کا ساتھ دیتے ہوئے سرسید تحریک کوعوامی بنانے میں اپناصدفی صد تعاون دیا۔سر سید کے انتقال کے بعد بھی ان دونوں سر سید کے مشن کو آگے بڑھانے کا کام بخوبی انجام دیا۔
اس موقع پر شاعر اور ادیب طالب زیدی نے کہا کہ اردو زبان کی خوبی یہ ہے کہ ہم کسی بھی زبان کو اس کے لہجے میں بول سکتے ہیں یہ خوبی دیگر زبانوں میں نہیں۔صغیر افراہیم کا خطبہ معلومات کا خزانہ تھا۔
مہمان ِ خصوصی ڈا کٹر معراج الدین احمد اس موقع پر صغیر افراہیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نے کہا کہانہوں نے سر سید اور ان کے ساتھیوں کے تعلق سے اہم جانکاریاں ہمیں دیں۔انہوں نے مزید کہاکہ سر سید تحریک سے ایسے لوگ جڑے تھے جو اردو نہیں جانتے تھے،جو دیگر مذاہب کے تھے۔ راجہ مہندر پرتاپ کے والد سر سید کے دوست تھے انہوں نے راجہ جی کو گود میں لے کر یہ کہا تھا اسے مجھے دے دو اور ان کی تعلیم و تربیت کی تھی۔
پرو گرام کی صدارت کرتے ہوئے ڈا کٹر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ پروفیسر صغیر افرا ہیم نے اپنے خطبے میں سر سید اور ان کے ساتھیوں کے تعلق سے نہایت اہم معلومات فراہم کیں۔ ان کا یہ خطبہ طا لب علموں کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ سر سید او ر ان کا عہد عظیم لوگوں کا عہد تھا۔سر سید کے معاصرین اپنے اپنے شعبے کے ماہرین تھے۔ ڈپٹی نذیر احمد کے سر اردو ناولکی شروعات کا سہرا ہے۔حالی سے اردو میں تنقید اور شاعری میں اسلامی موضوعات کی شروعات ہوئی،توشبلی نے تقابلی تنقیداور مشرقی تنقید کو اردو میں متعارف کرایا۔وہیں سر سید کا سب سے بڑا کار نامہ تعلیمی مشن ہے جس نے ”جدید ہندوستان“کی بنیاد سازی کا کام کیا۔آج سر سید کے اس مشن کو آگے بڑھا نے کا چیلینج ہمارے سامنے ہے۔
اس مو قع پر مسلم یونیورسٹی سے شا ئع ہونے وا لا شہرہئ آ فاق رسالہ”تہذیب الاخلاق“ کے سر سید نمبر کا اجراء بھی پروفیسر صغیر افراہیم،ڈاکٹر اسلم جمشید پوری اور ڈاکٹر معراج الدین کے ہاتھوں عمل میں آیا۔
پشاور واقعے کی مذمت
دورانِ جلسہ پشاورکے ظالمانہ اور اندوہناک واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے صدر جلسہ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے اسے انتہائی شرمناک بتایااور پورے علاقے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کمر بستہ ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔پروگرام کے آخرمیں حاضرینِ جلسہ نے دو منٹ کی خاموشی اختیار کر کے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
پرو گرام میں ڈا کٹر سیدہ،انس سبز واری، انجینئر رفعت جمالی،دکھ ہرن شرما،نذیر میرٹھی،شمس الدین،محمد خالد، محمد وسیم، برہان آصف،فرح ناز،محمد ابراہیم سمیت،عمائدین شہراور کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات نے شر کت کی۔
”آخری پرواز “ پرویز ؔ کی پہلی افسانوی پرواز: ڈاکٹر اسلم جمشید پو ریؔ
ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری
”آخری پرواز “ پرویز ؔ کی پہلی افسانوی پرواز
مہتاب عالم پرویز، جمشید پو ر کے80ء کے بعد اُبھرنے والے تازہ کا ر افسانہ نگار ہیں۔ مہتاب نے شہر آہن کی فضا ؤں میں آنکھیں کھو لیں، قلم سنبھا لا اور واقعات کو قصے اور کہا نیوں کا لباس عطا کیا۔ پھر عمر کا ایک بڑا حصہ خلیج کے ریگ زاروں میں گذا را……سنگ، آہن، سفر،پرندہ، پرواز، ریگستان،نخلستان، وطن سے دوری، اپنوں کی بے پناہ محبتیں، قربتوں اور فاصلوں کے درمیان جھولتی زندگی، تنہا ئی،اندرون کا سفر، شناخت اورباز یافت کا مسئلہ وغیرہ ایسے مو ضو عات ہیں جن سے پرویز کا سامنا ہمیشہ ہو تا رہا ہے۔ یہی باعث ہے کہ پرویز کی کہا نیوں میں کچھ اشیاء نے مستقل علامت کی صورت اختیار کرلی ہے۔ پرندہ، پرواز، ریت، کبوتر،باز، سفر……. ان کے یہاں صرف الفاظ کی صورت استعمال نہیں ہو ئے ہیں بلکہ گنجینہئ معنی کا طلسم کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ لفظ اپنے اندر معنی کی پوری کائنات رکھتا ہے شرط لفظ کے در، وا کر نے کی ہو تی ہے معنی کا طلسم خود ظا ہر ہو نے لگتا ہے۔ پرویزؔ کی متعدد کہا نیاں اس کی عمدہ مثال کہی جا سکتی ہیں۔
’آخری پرواز‘ مہتاب عالم پرویز ؔکی ایسی ہی ایک عمدہ کہا نی ہے۔ بظا ہر ایک رو مانی کہا نی ہے۔ کبوتر اور کبوتری کے عشق و وصال کا قصہ ہے۔ ہر طرف پیا رہی پیا ر۔کبوتری نے انڈے دیے۔ بچے نکلنے کا وقت آ یا تو بالکل فلمی کہا نیوں کی طرح ایک ولن یعنی حضرت باز کہیں سے کہانی میں داخل ہو جاتے ہیں اور اپنی طے شدہ لائن کی طرح گھونسلے میں توڑ پھوڑ، انڈوں اور ان میں سے باہر آ نے کے منتظر نو زائیدہ بچوں اور کبو تری کو اپنے ظلم و ستم کا شکار بنا کر چلے جاتے ہیں۔ کبو تر واپسی پر یہ منظر دیکھتا ہے تو کراہ اٹھتا ہے۔ اُ جڑا ہوا گھو نسلہ، ٹوٹے اور بکھرے کبو تر ی کے پر، لہو لہان ٹوٹے پڑے انڈے، انڈوں سے آدھے ادھو رے چو زے مردہ حا لت میں ادھر ادھر پڑے ہیں۔دور زخمی حا لت میں کبوتری بھی مل جاتی ہے جو قریب المرگ ہے۔ کبوتری، کبوتر کی گود میں اس دارِ فانی کو الوداع کہہ جاتی ہے۔…..اوپر آسمان پر باز کو منڈلاتے دیکھ کر کبوتر اپنی ساری طاقت مجتمع کرکے اس پر حملہ آ ور ہو تا ہے۔ جنگل کے پرندے اس کے ہمراہ ہیں۔باز یہ سب دیکھ کر خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ کہا نی مکمل ہو جاتی ہے۔
کہانی اپنی اوپری سطح پر ایک المناک رو مانی کہا نی ہے۔ پرویز ؔنے عمدگی سے کبوتر،کبوتری اور باز جیسے کرداروں پر ایک عام سے عشقیہ مو ضوع پر، خوبصورت اور منفرد کہانی لکھی ہے۔ یہاں وصال کی عکاسی بھی لا جواب ہے۔ ایسا لگتا ہے دو انسان آپس میں پیار کررہے ہیں۔
”آنسوؤں کے دو موٹے قطرے ایک کے رخساروں پر ڈھلک آ ئے اور ایک نے اپنی چونچ میں ان آ نسو ؤں کو سمو لیا اور بڑے ہی پیار بھرے انداز میں کہا۔”یہ آ نسو زمین میں جذب ہو نے کے لیے نہیں، بلکہ میرے وجود میں جذب ہوجانے کے لیے ہیں۔ تم رو کیوں رہی ہو آج تو خوش ہو نا چاہیے تم اتنی جلدی گھبرا کیوں گئیں ……اس طرح نہیں رو یا کرتے پگلی، دیکھو آج کا سورج ہم دو نوں کے لیے تو طلوع ہوا ہے۔“اور پھر ان کے درمیان خا موشی کی چادر تن گئی۔“
وصل کا اُجالا جب ہجر کے اندھیرے میں ضم ہو نے لگا اور ہجر سیاہ رات کی مثل چھا جاتا ہے تو کبوتر، کبوتری سے یوں گویا ہو تا ہے۔
”در اصل مجھے جانا ہے……. نا معلوم منزل کی اور…….
ایک تو جانے کا کہہ رہے ہو اور دوسرے گم سم اور اداس، کوئی زندگی بھر کے لیے تو نہیں جارہے ہو۔تم کوئی انسان نہیں کہ بے وفا نکلو، مجھے تمہارے وعدے پر اعتبار ہے۔“
مہتاب عالم پرویزؔ نے باز کے ذریعے گھونسلے، انڈوں اور کبوتری کی تباہی کے بعد کبو تر پر گذرنے وا لی قیامت کو عمدگی سے لفظوں کے پیرا ئے میں بیان کیا ہے۔ قاری اپنے آنسوؤں پر بڑی مشکل سے قابو رکھ پا تا ہے۔
”وہیں پر کبوتری بھی خون میں شرا بور تڑپ رہی تھی۔ اس کی آ نکھوں سے گرم گرم آ نسو امڈ پڑے۔ اس نے کبو تری کا زخمی سر اپنی گود میں لے لیا۔ میں اپنا وعدہ نہیں نبھا سکی مجھے معاف کردو“کبوتری اتنا ہی کہہ سکی۔اب کی بار کبوتری کے منہ سے چیخ نکل کر ساری کائنات پر پھیل گئی۔“
ہر افسا نے کی ظا ہری سطح ہوتی ہے۔’آخری پرواز‘ اپنی ظا ہری سطح پر بھی ایک مکمل سبق آ موز کہا نی ہے جس میں افسانہ نگار نے فنکاری سے مظلوموں کو ایک پلیٹ فارم پر کھڑا کر کے ہر مصیبت کا متحد ہو کر مقابلہ کر نے کی عملی رائے دی ہے۔
اچھا اور بڑا افسا نہ متعدDimentionsرکھتا ہے۔ اس کی ظا ہری سطح کے اندر ایک اور سطح ہو تی ہے جس کا ادراک اور تفہیم متجسس قا ری کے ہی حصے میں آ تی ہے۔’آخری پرواز‘ ایسی ہی ایک کہا نی ہے۔ کبو تر کو ہم امن و امان، صلح وآشتی اور صبرو سکون کی علا مت کے طور پر بھی جانتے ہیں جو ایسے انسا نوں کی نمائندگی کرتا ہے جو صلح پسند ہیں،زمین پر امن و امان چاہتے ہیں۔دوسرے کبوتری، صنف نازک، کمزور طبقے، مجبور و بے بس انسا نوں کی علا مت ہے۔ باز، ولن، دشمن،مکار، عیار، دہشت پسند، آتنک وادی، شر پسند انسان نما شیطان کی علا مت ہے جو جسم و ہیئت، تیزی وطراری میں کبوتر سے کئی گنا زیادہ ہو تا ہے۔جس کا کام اپنے پیٹ کے لیے شکار کرنا، دہشت پھیلا نا اور تشدد کر نا ہو تا ہے۔ اُ سے اس کی پرواہ نہیں ہو تی کہ کسی کی جان جائے یا کوئی دہشت زدہ ہویا کہیں تباہی رقص کرے……..ازل سے دو نوں طرح کے انسان ہو تے آ ئے ہیں۔ کہانی ظلم کی کسی بھی داستان میں فٹ نظر آ ئے گی۔ باز کا کردار دہشت اور تشدد پھیلا نے والے ہر اس شخص جیسا لگتا ہے جو انسانیت کا دشمن ہے۔ باز کا کبوتر کے گھونسلے کو تباہ و برباد کرنا کیا گجرات کی یاد تازہ نہیں کرتا۔ نا مکمل چو زوں کا خون، کیا بے گنا ہ ماؤں کے رحم میں پل رہے بچوں کا وحشیانہ قتل نہیں لگتا۔ ایسا لگتا ہے کہا نی گجرات کے فساد کا آ نکھوں دیکھا حال بیان کررہی ہے۔ ہمیں خود کے کردار پر سوچنے کی بھی دعوت دے رہی ہے کہ ہم خود کہاں کھڑے ہیں، اس وحشی باز کے خیمے میں شامل ہوکر ظلم و ستم کی نئی نئی داستان رقم کررہے ہیں۔ یا بے کس و مجبور کبوتری کی طرح ہر ظلم کو خاموش سہنے وا لوں میں ہیں یا پھر ظلم کے حد سے گذر جانے کے بعد خالی ہاتھ ہی اُ ٹھ کھڑے ہو نے وا لے اس مظلوم کی طرف،جس نے اپنا سب کچھ کھو کر سر پر کفن باندھ کر اپنی، اپنے گھر اور وطن کی حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے اور طا قت ور سے طاقت ور باز سے بھی ٹکرا جانے کو اپنی پو ری قوت کے ساتھ میدان جنگ میں آ چکا ہے۔جس کے تیوروں اور اس کے پیچھے، اس جیسوں کا ہجوم دیکھ کر باز کے دل میں یکبارگی کو تو خوف گھس جاتا ہے۔ یہ کہا نی کا وہ مقام ہے جہاں سے ایک انقلاب کروٹیں لے کر منظر عام پر آ نے کو بے تاب ہے۔ یہ غریب، دبے کچلے، پسماندہ اور محروم طبقے کی ہنکار ہے جس نے حکمراں طبقے کواور ایوان کی بلند و بالا عمارتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تصور کیجئے، کیا آ پ کو پر عزم کبوتر اور اس کے پیچھے بے شمار پرندوں کے ہجوم میں انا ہزارے اور اور ان کی حمایت میں امڈے انسانی سیلاب کی تصویر نظر نہیں آتی۔ غور کریں گے تو کبوتر آپ کو عوا می انقلاب کا نما ئندہ نظر آ ئے گا۔ یہی نہیں ظلم کے خلاف آواز اُ ٹھا نے وا لے ہر شخص کی تصویر آپ کو کبوتر میں نظر آ ئے گی۔
کہا نی کے عنوان نے بھی مجھے حیرت میں ڈال دیا۔ میں نے بہت غور کیا تو سمجھ میں آ یا کہ اس کا عنوان تو ’پہلی پرواز‘ ہو نا چاہیے تھا۔ وہ پہلی پرواز، جو شاید سب سے آخر میں شروع ہو رہی ہے۔ یہ پرواز ظلم و ستم کے خلاف پہلی پرواز ہے۔ یہ ہر اندھیرے کے بعد طلوع ہونے وا لے اجالے کی مانند تھی۔اسی سبب کہا نی کا نام پہلی پرواز ہو تا تو بہتر تھا۔ لیکن مجھے لگتا ہے پرویز اپنی جگہ درست ہیں۔ وہ ظلم و بربریت کی پرواز کو اب اور زیا دہ برداشت نہیں کر سکتے۔ اس لیے انہوں نے کمزور اور مظلوم کبوتر اور دوسرے پرندوں کی متحد ہو کر اپنے دشمن کے خلاف حملے گھبرا کر، اپنی جان بچانے کے لیے باز جیسے ہمت اور طاقت ور، تیز رفتار، باز کی انتہا ئی بزدلانہ اور جان بچاکر بھاگنے وا لی پرواز کو آخری پرواز کہا ہے کہ اب ظالم نہیں بچے گا اور بس یہی اس کی آخری پرواز ہو گی اور شاید اسی لیے انہوں نے کہا نی کا آخری جملہ”ظلم و ستم کی داستان کا شاید اب انت ہو نے وا لا ہے۔“ تحریر کیا ہے۔
کہا نی کا اختتام قدرت کے ایک اور اصول کی طرف خوبصورت اشارے کرتا ہے۔ ہر انجام کسی نہ کسی آ غاز کا با عث ہو تا ہے۔ ایک دنیا ختم ہوتی ہے تو کئی نئی دنیا ئیں آ باد ہو جاتی ہیں۔ بظا ہر کہا نی ختم ہو رہی ہے لیکن کبوتر کے حوصلے اور ہمت کے سہا رے ایک نئی دنیا کا آ غاز ہو رہا ہے۔
کہا نی کی لسانی تفہیم بھی ہمیں کہا نی کے مرکزی خیال سے قریب کرتی ہے۔ پرویز ؔنے کہانی میں علامتی زبان کا بہتر استعمال کیا ہے۔ پوری کہانی میں جس لفظیات کا استعمال ہوا ہے وہ کہا نی کے طلسم کی اجتماعی صورت گری کرتی ہیں۔ کبوتر، کبوتری، باز، بھوک، پیاس، اندھیرا، سناٹا، چمگادڑ، رات، صبح، سورج، سمندر،خاک، خون، دھوپ، خوف، چیخ، حیرت، ظلم و ستم،جیسے الفاظ کہانی میں اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لفظوں کی عمدہ ترتیب سے وجود میں آئے جملے، وا قعہ کو حقیقت کی شکل عطا کرنے میں کامیاب ہیں۔
’آخری پرواز‘ میں افسا نہ نگار سے کئی جگہ سہو بھی ہو ا ہے۔ کہا نی کا آخری جملہ وہ نہ بھی لکھتے تو بھی کہانی قا ری کے اندر اپنے وسیع تر امکا نات کے ساتھ اُ تر جاتی بلکہ یہی زیا دہ بہتر ہو تا۔کہیں کہیں ماحول کی عکاسی کرتے وقت، ماحول،کردار اور مو سم کے توازن کا لحاظ نہیں رکھا گیا ہے۔ ان چھو ٹی موٹی اغلاط کے باوجود کہا نی کا مرکزی خیال، یا کہا نی کی ترسیل متاثر نہیں ہوتی۔ پرویز کی یہ کہا نی ان کی نما ئندہ کہا نی کہلائے جانے کی مستحق ہے اور پرویز کی افسانوی پرواز کی ابتدا ہے ؎ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔
٭٭٭
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری ؔ
’’لیمی نٹیڈ گرل ‘‘ نئے موضوع پر لکھا گیا منفرد ناول : ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
’’لیمی نٹیڈ گرل ‘‘ :نئے موضوع پر لکھا گیا منفرد ناول
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
اردو ناول ہمیشہ ترقی پذیر رہا ہے۔ ادھر نئے اردو ناول نے ایک نئی انگڑا ئی لی ہے۔ اکیسویں صدی میں اردو ناول نے موضو عات کی سطح پر اور تکنیک کے طور پر بھی خا صی ترقی کی ہے۔ 10-12برسوں میں اردو کوکئی اہم اور معیاری ناول میسر آئے ہیں ۔شمس الرحمن فاروقی، مشرف عالم ذوقی، غضنفر، پیغام آ فاقی، ترنم ریاض، رحمن عباس، صا دقہ نواب سحر، شا ئستہ فاخری، عبد الصمد، نور الحسنین ،احمد صغیر، محمد علیم، شموئل احمد وغیرہ کے کئی ناول زیور طبع سے آ راستہ ہو کر با زار میں آ ئے ہیں۔کئی ناولوں نے ادب میں اپنا مقام متعین کرلیا ہے اور کئی کا مقام ابھی وقت طے کرے گا۔ ناول نگاروں کے اس قافلے میں ایک نئے نام ڈا کٹر اختر آزاد کا اضا فہ ہوا ہے۔ ناول کی دنیا میں اختر ضرور نو وا رد ہیں لیکن وہ اس سے قبل افسا نے کی دنیا میں اپنا لو ہا تسلیم کر وا چکے ہیں۔ اس سے قبل ان کے کئی افسا نوی مجمو عے بابِل کا مینار، ایک سمپورن انسان کی گاتھا، سو نامی کو آ نے دو منظر عام پر آکر مقبو لیت کی سند حا صل کر چکے ہیں۔
ڈا کٹر اختر آزاد کاناول’’لیمی نٹیڈ گرل ‘‘ نئے موضوع پر لکھا گیاایک منفرد ناول ہے۔ بڑھتی ہو ئی صا رفیت میں ہر چیز با زار کا سامان بن کر رہ گئی ہے۔ خصوصاً عورت تو اب گوشت پوست کے بجائے پلاسٹک کو ٹیٹڈ چمچماتی ہوئی شئے بن کر رہ گئی ہے اور عورت کو اس مقام تک لانے میں جہاں اس کی اپنی بے راہ روی،فیشن اور دو لت کی فرا وا نی کا ہاتھ رہا ہے فلم اور ٹی وی نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ خصوصاً ٹی وی کے مختلف چینلز پر تقریبا روزانہ نشر ہو نے وا لےReality Shows نے عورت کو فروخت ہو نے والی اشیاء بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بظا ہرTalent Show کے نام پر منعقد ہو نے وا لے یہ Reality Shows آج معاشرے میں بے شرمی، بے حیا ئی، فحا شی، پھو ہڑ پن اور جسم فرو شی کے کا رو بار کو فروغ دینے کا کام کررہے ہیں۔ یہی نہیں ان شوز کے ذریعے یہ سا ری برائیاں فیشن اور رو زگار کے نام پر برا ئی نہ رہ کر خوبی، Talent اورStatus بن گئی ہیں۔ سماج میں آج اپنے نو نہالوں کو TV Show میں بھیجنے،ان کوTrainingکرانے اورپیسہ کما نے کی مشین بنانے کی ایک ہوڑ سی لگی ہوئی ہے۔ اختر آزاد نے اپنے ناول’’ لیمی نیٹڈ گرل‘‘ میں سماج میں پھیلی اس بیماری بلکہ نا سور بنتے اس روگ کو بے نقاب کیا ہے۔ پورا ناول سماج میں پھیلتے اس مرض کے خلاف احتجاج ہے۔
اختر آزاد نے نا ول میں بڑی فن کا ری سے ایک ماں کو اپنی بیٹی کو ایسے شوز کے لیے تیار کرتے ہو ئے دکھایا ہے۔ جو اپنی بیٹی کو ٹریننگ سے، Selection اور پھر کامیابTV Girl بنانے کے لیے وہ ہر امتحان سے گذرتی ہے۔ امتحان نہیں، خود کو ہر طرح کی رشوت کے طور پر پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ یہی نہیں وہ اپنے یہ سارے اوصاف اپنی معصوم بیٹی کے ذہن میں بھی سرایت کردیتی ہے کیونکہ اس کے سر پر تو شہرت، پیسے اور نام کا بھوت سوار ہے اور جب ایسا ہو تا ہے تو پھر انسان اپنا سب کچھ لٹا نے پر بھی تیار ہو جاتا ہے۔ شو بھا ناول کی مرکزی کردار ہے جو ہر ممکن اقدام کے بعد اپنی بیٹی کو ایک کامیاب ڈا نسر بنا دیتی ہے۔ ایک ایسی ڈا نسر جو اپنے ناظرین کی دیگر خوا ہشات کو بھی پورا کرتی ہو۔ ماں بیٹی شہرت کی بلندیوں کو تو پالیتی ہیں لیکن بالآخر وہی ہو تا ہے جو ایسے حا لات میں ہوا کرتا ہے۔ اختر آزاد نے اپنی فنی مہارت کا ثبوت دیتے ہو ئے ناول کا اختتام کیا ہے، انہوں نے با ور کرادیا ہے کہ ایسےReality Shows ہمارے معاشرے کوسنوارنے کا کام نہیں کررہے ہیں بلکہ معا شرے میں برا ئیوں کے جنم لینے کا سبب بن رہے ہیں۔ ناول کے دو اقتباسات ملا حظہ ہوں:
’’اب آپ یہ بتائیں کہ جب بچوں کی عمر کھلو نے کھیلنے کی ہو تی ہے تب ماں باپ قانون کی آنکھوں میں آرٹ کلچر اور انٹر ٹینمنٹ کی پٹی باندھ کر ’’ رئیلٹی شو‘‘ کے نام پر معصوم بچوں سے شفٹوں میں کام کروا تے ہیں۔ اس میں کتنی سچا ئی ہے اور کیا یہ بال مزدوری نہیں ہے اور اگر بال مزدور ایکٹ کے دائرے میں یہ آ تا ہے تو ان گارجین کو کیا سزا ملنی چا ہیے جو بچوں سے اس طرح کی مزدوری کروا تے ہیں……؟‘‘(صفحہ نمبر108)
اختر آزاد نے یہاں ایک اہم سوال اٹھایا ہے۔بچوں سے محنت مزدوری کروانا اور پیسے کموانا بال مزدوری کہلاتا ہے اور جو ہمارے ملک کے آئن کے مطابق غیر قانونی ہے۔لیکن فلوں،سیریلوں،ریلیئٹی شوز میں کام کرنے والے بچوں سے دن رات محنت کروائی جاتی ہے،ماں باپ ان سے پیسے کماتے ہیں،مگرہمارا قانون اسے غلط نہیں سمجھتا۔آج کے پروگراموں کی بے حیائی کا ایک منظر دیکھیں۔اختر آزاد نے عمدگی سے لفظوں کا پیرہن دیا ہے:
’’تالیوں کے شور کے ساتھ منچ پر رنگ برنگی روشنیوں کا جال سا پھیل گیا۔ جلتے بجھتے رنگین قمقمے کی سانسیں رکتی ہوئی دکھائی دینے لگیں۔ پھر یکایک جھماکے کے ساتھ روشنی کا کھیل شروع کیا۔چھم چھم کرتی ہوئی پریتی سرخ دائرے کا چکر کاٹنے کے بعد کیمرے کی طرف پشت کر کے ڈانسنگ پوز میں کھڑی ہو گئی۔ سر سے پیر تک ٹرانسپرنٹ گولڈن ڈوپٹے میں وہ خود کو ڈھکی ہو ئی تھی۔ میو زک کے ساتھ ہی وہ ڈو پٹہ ایک طرف پھینک کر کیمرے کی طرف مڑتی ہے۔‘‘(صفحہ نمبر150۔149)
پریتی کی ماں شو بھا کا کردار پورے ناول پر چھایا ہوا ہے۔اختر نے کمالِ فن کا ری سے کردار کو زندگی بخشنے کا کام کیا ہے۔ ایک نئے موضوع پر زندگی کے اوراق پلٹتے پلٹتے اختر آزاد نے بتا دیا ہے کہ بدلتے ہو ئے زمانے کے ساتھ اقدار بھی تبدیل ہوتی جا رہی ہیں اور اب والدین برائیوں کو شہرت،Talent اور سماج میںStatus کا نام دے کر جائز اور وقت کی ضرورت قرار دے رہے ہیں۔
اختر آزاد نے فن کا ری کے ساتھ سماجی برا ئی کو ظا ہر کرنے کا کام کیا ہے۔ شو بھا، شوبھا کے شو ہر ڈاکٹر کپل سنگھ، پریتی، پرنسپل، ایم ایل اے سلیم کانے، منتری جی ،شیام سندر،راج ملہوترہ ناول کے اہم کردار ہیں۔ مرکزی کردار کے طور پر شو بھا پو رے ناول پر چھا ئی ہو ئی ہے۔ ناول نگار نے شو بھا کے کردار کو بڑی فن کا ری سے ڈھالا ہے۔ شو بھا آج کی فیشن پرست، شہرت اور پیسوں کے لیے کچھ بھی کر نے کو تیار ہو جانے وا لی ایک ایسی عورت کی تصویر ہے جو ہر وقت خود کو اور اپنی بیٹی کو منظر عام پر لانے میں مصروف رہتی ہے۔ ویسے اس کا مقصد اپنی بیٹی کو سجا سنوار کر، بازار میں اس طرح پیش کرنا ہے کہ با زار میں اس کی بو لی سب سے زیا دہ لگے اور ہر طرف پریتی ہی پریتی ہو۔ اس کے دروا زے پر ریلٹی شو وا لوں کی قطار لگی رہے۔ در اصل وہ خود کو اس مقام پر دیکھنا چا ہتی ہے۔ لیکن عمر زیا دہ ہو نے کے سبب اب وہ اپنی معصوم بیٹی پریتی کو ہر طرح سے اس کے لیے تیار کر تی ہے۔ معصوم اور پاک صا ف ایک بچی کو زمانے کے فیشن اور عیا ری و مکا ری کے انجکشن دیے جاتے ہیں۔ وقت سے پہلے بچی کو جوان بنا دیا جاتا ہے اور شو بھا ظا ہری عیش و عشرت، نام اور پیسے کے لیے نہ صرف خود کو کہیں بھی پیش کردیتی ہے بلکہ اپنی بیٹی کو بھی اسی راہ پر ڈا ل دیتی ہے۔ یہ سماج کا انتہا ئی کریہہ چہرہ ہے۔ یہ چہرہ آج کل ہائی فا ئی سو سائٹی میں خوب نظر آ تا ہے۔ یہ ایسے چہرے ہیں جو اپنے مفاد کی خا طر نئی نسل کا حال تو حال، مستقبل بھی خراب کررہے ہیں۔ پو رے معا شرے کو تنزلی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
’’ارے میں ویسی ساس نہیں کہ دا ماد کو صرف بیٹی کے ساتھ ہی با ندھ کر رکھوں گی۔ موڈرن زمانہ ہے جب جو جس کے ساتھ رہنا چا ہے رہے۔ دنیا میں اور رکھا ہی کیا ہے۔ اسی محور پر تو دنیا گھوم رہی ہے…..‘‘ پھر اس نے کلنڈر میں بنے شو لنگ کی طرف اشارہ کیا۔’’ہم سب تو ان کے انویائی ہیں۔ اس لیے دل کرے تو پریتی کے ساتھ عیش کرنا نہیں تو دوسرے کے ساتھ___اور اگر دونوں جگہ دل بھر جائے تو مجھے یاد کر لینا‘‘ شوبھا یہ کہہ کر آنکھ ما رتے ہو ئے وہاں سے جانے لگی۔‘‘ (صفحہ نمبر273)
اختر آزاد نے اپنے نا ول میں ایسے چہروں کو بے نقاب کر نے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ سوسائیٹی کے نام پر کلنک شو بھا جیسی جنس و شہوت کی دیوانی عورت ،جو جنسی ملن کو ہی سب کچھ سمجھتی ہے۔اس کے آگے رشتے ناطے سب بے مقصد اور بے وقعت ہیں۔ان جیسے لوگ دراصل سماج کے ناسور ہیں،جو سماج کو اندر اندرکھوکھلا کر رہے ہیں۔ اختر نے اپنے ناول میں ان سب کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے ،سا تھ ہی ساتھ رئیلٹی شو کے نام پر اندر ون میں چلنے وا لے جنسی کھیل کو بھی رو شنی میں لا نے کا بڑا کام انجام دیاہے۔
ڈا کٹر کپل جو شو بھا کو شو ہر اور پریتی کا باپ ہے، کی شکل میں ایک ایسا کردار بھی ناول میں موجود ہے جو یہ سب نہ صرف پسند نہیں کرتا بلکہ وہ اس کے خلاف حتی الامکان لڑا ئی لڑ تا ہے۔ لیکن وہ اکیلا پڑجاتا ہے اور بے بس بھی۔ ایک شریف باپ اپنی بیٹی کو غلط راہ پر جا تا ہوا دیکھتا رہتا ہے۔بیوی کی علیحدگی اور بیٹی کے ماں کے ساتھ چلے جانے سے وہ ٹوٹ جا تا ہے۔اختر نے ڈاکٹر کپل کا زندہ جاوید کر دار پیش کیا ہے۔
’’ ڈاکٹر کپل کو اب یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ شوبھا کے لئے خوبصورتی کے کیا معنی ہیں۔اور جب بیٹی اے ٹی ام کارڈ لگنے لگے تو پھر آپ چاہے جتنے بھی پاس ورڈ بدل لیں،لیکن شوبھا جیسی عورت جسمانی سسٹم کو ہائک کر کے سب کچھ کیش کرا لے گی‘‘ ( صفحہ نمبر 35 )
اختر آ زاد کا یہ ناول موجو دہ زمانے کا کچا چٹھا ہے۔ آج کے سماجی اور سیاسی منظر نامے کی ایک زندہ تصویر ہے۔ ناول میں عصری حسیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ ہر باب، ہر واقعہ سماج کے مختلف پہلو ؤں کی بھر پو ر عکا سی کرتا ہے۔
ناول میں نئے زمانے کی تکنیک بھی موجود ہے۔ اختر آزاد ناول میں خود بھی شریک ہیں اور قاری کو ابتدا، درمیان اور آخر میں ناول میں شریک کرتے رہتے ہیں۔ ناول کے ابواب کے سر نامے بھی اختر کے اپنے ذہنی اختراع ہیں۔مثلا مغربی ڈش اور لیگس فرائی چکن،حسن کی منڈی اور اے ٹی ایم کارڈ،اینٹی وائرس ویکسین اور سنہری دلدل،موسم ،بارش اور بھیگے بدن کا لمس،ناطرین ،ووٹنگ سسٹم اور جج صاحبان،عورت ،لیسن پلان اور قانون کے جوتے، وغیرہ۔
پورے ناول میں ناول نگار نے منفرد زبان کا استعمال کیا ہے۔موجودہ زمانے کی مکس زبان کو تخلیقیت کے سانچے میں ڈھال کر اختر آزاد نے ایک الگ لطف پیدا کیا ہے۔جو ناول کے موضوع اور ماحول کے اعتبار سے ضروری بھی ہے اور ناول میں دلچسپی بھی پیدا کرتا ہے۔
’’ ……..اور بھیگے بدن کا لمس آلود پانی،سوچ کی ٹیڑھی میڑھی نالیوں سے ہو کر ڈاکٹر کپل کی زندگی کے تالاب میں جمع ہوتا رہا۔‘‘
’’ وقت شام کی سواری کرتے ہوئے جب بھی محوِ سفر ہوتا سورج احتراماً راستہ دیتا ہوا پہاڑی چوٹی سے نیچے رات کے آنگن میں اُتر جا تا۔‘‘
’’جب ڈاکٹر کپل نے اپنی آنکھوں کی گولیاں گھمائیں تو انہیں یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ بچے چاہے کسی سوسائٹی کے ہوں،آج ان کے اندر ’رئلیٹی شوز‘ کا ایسا وائرسداخل ہو گیا ہے۔جو پڑھ لکھ کر آئی اے ایس ڈاکٹر ، انجینئر،پروفیسر اور وکیل بننے کو بے وقوفی سمجھتے ہیں۔ ‘‘
اختر آزاد نے ناول کے انجام کو بھی ایک نیا پن دینے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے ناول کے دو انجام تحریر کئے ہیں اور قاری پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ ان میں سے کسی ایک انتخاب کر لے تا کہ قاری ناول میں ہر طرح سے شریک رہے۔یہ اردو ناول میں نیا پن ہے۔اب یہ الگ بات ہے کہ یہ بات ادب میں قابلِ قبول ہے یا نہیں اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔ایک اور بات ناول کی ایک خوبی اور خامی یہ ہے کہ مرکزی کردار کے طور پر ناول نگار نے پریتی کو پیش کیا ہے،لیکن پریتی کی ماں شوبھا ناول کی مرکزی حیثیت سے کہیں بھی بار نہیں ہوتی اور پورا ناول پریتی کے بجائے شوبھا کے گرد گھومتا ہے۔قاری مرکزی کردار کا تعین نہیں کر پاتا۔وہ مصنف کے بنائے فارمولے کے مطابق نہیں سوچتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ناول شوبھا نامی کردار کا ناول ہے۔ویسے بھی کنگ سے بڑا کنگ میکر ہوتا ہے اور لیمی نیٹیڈ گرل سے زیادہ اسے لیمینیٹ کرنے والا کردار ،یعنی شوبھا بڑی ہے۔
مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اختر آزاد کا ناول’’ لیمی نیٹیڈ گرل‘‘ اردو میں نئے موضوع پر لکھا گیا ایک بہتر ناول ہے،جو ناول نگار کے طرزِ تحریر کا اچھا نمونہ ہے۔اختر آزادسے بہت سی امیدیں ہیں، وہ آئندہ اور بہتر ناول تحریر کریں گے۔ ***
, aslamjamshedpuri@gmail.com, 09456259850 University, Meerut HOD, Urdu, CCS ، Dr. Aslam Jamshedpuri
کون فرقہ پرست ہے ا ور کون سیکو لر۔۔۔۔؟ : ممتاز شارق
کون فرقہ پرست ہے ا ور کون سیکو لر۔۔۔۔؟
تحریر : ممتاز شارق ، جمشیدپور
عام طور پر ہندوستان میں دو طرح کی سیاسی تنظمیں پائی جاتی ہیں۔کچھ ایسی ہیں جو فرقہ وارانہ کشیدگی کا ماحول پیدا کرکے سیاسی مفاد کی حصولیابی میں لگی ہوئی ہیں اور یہ سلسلہ اپنے عروج سے بھی آگے نکل چکا ہے۔دوسری طرف بہت ساری ایسی جماعتیں بھی ہیں جو خود کو سیکولر کہتی ہیں۔جسکا مطلب ان کے کہنے کے مطابق مذہب،ذات،برادری،علاقائیت سے اُپر اُٹھ کر صرف اور صرف ملک کی سا لمیت کے لئے کام کرنا مقصد ہوتا ہے۔ جبکہ حقیقتاایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آتا ہے۔کیوں کہ گذشتہ ساٹھ برسوں سے اکثر انتخابات میں مخصوص مذہبی طبقہ کو اولیّت دیتے ہوئے، ذات،برادری، اہل ثروت اور علاقائیت کو نظر میں رکھ کر ہی ٹکٹ تقسیم کی جاتی ہے۔
دوسری طرف انہیں خودساختہ سیکولر جماعتوں سے ہی نکل کرکچھ لوگ فرقہ پرست جماعتوں میں نظر آرہے ہیں۔ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ مذہبی فرقہ پرست سیاسی جماعت میں اسمبلی یا پارلیمانی انتخابی ٹکٹ نہیں ملنے یا حسب خواہش عہدہ نہیں ملنے پر وہاں سے واپس آکر پھر مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہوئے خود کو سیکولر کہنے لگتے ہیں۔سیکولر یا مذہبی فرقہ پرست ہونے یا نا ہونے کا فرق بہت ہی معمولی سا ہے جسکا تعلق براہ راست مسلمانوں سے ہے۔ جو اکشر نظر بھی نہیں آتا۔ملک کی سب سے بڑی سیکولر سیاسی پارٹی کے گذشتہ ساٹھ برسوں سے زائدعرصے کے طویل طرز عمل کو دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ صرف انتخابات جیتنے تک خود کو سیکولر دیکھاتی ہے اوراقتدار کے اعلی منصب پر فائز ہوتے ہی اسکیتمام تر فیصلے سیکولر کے خلاف اور باخصوص مسلم طبقہ کے لئے نقصان دہ ہی ثابت ہوئے ہیں۔مسلمان انکے دور اقتدار میں پستی کی عمیق گہرائی میں جاگرے جس کا جیتا جاگتا اقرارنامہ سچر کمیٹی کی رپورٹ ہے۔دراصل خود کو سیکولر کہنے والی پارٹی میں وہی چہرے ہیں جو کسی مجبوری کے سبب فرقہ پرست تنظیم کاحصہّ نہیں بن سکتے۔مگر نظر یاتی طور پر پس پر دہ سبھی فرقہ پرست تنظیموں کے حامی ہیں۔جس کا ثبوت حالیہ پارلیامانی انتخات میں کامیابی ہے۔اس کامیابی کے سہرے کا صحیح حقدار یہ خودساختہ سیکولر تنظیمیں ہیں۔ جسکی اندرونی نا اتفاقی اور ناہلی نے فرقہ پرست تنظیموں کو اگے بڑھنے کا موقع دیا۔
اگر ایک سخت گیر ہندو تنظیم صبح و شام صرف ہندو،ہندو راشٹر اور ہندو کہتا نظر آئے تو اُسے ہم بے جھجھک فرقہ پرست کہتے ہیں۔ سیکولر کہلانے والی تنظیم کے ذریعہ کوئی ایک بھی ایسا کام نہیں کیا گیا ہو جس سے مسلم طبقہ کو عملی طور پر کچھ راحت ملی ہو یا مسلمانوں کے جائز حقوق کی حصولیابی ہوئی ہو۔خود کو سیکولر کہنے والی سیاسی تنظیمیں صرف وعدوں کی بیساکھی سے مسلمانوں کو گھسیٹنے کا کام کر رہی ہیں۔صرف اقلیت،مسلمان اور مسلمان کی ما لا جپنے والی خود ساختہ سیکولر تنظیموں میں اور دیگر مذہبی فرقہ پرست تنظیموں میں کیا فرق ہے؟ اس طرح کی دونوں جماعتوں سے ملک کی امن و شانتی اور بھائی چارے کو شدید خطرہ لاحق ہے۔خود کو سیکولر کہنے والی بے عمل تنظیموں سے اس ملک کے مسلمانوں اور بھی زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔کیوں کہ عملی طور پر یہی لوگ فرقہ پرست تنظیموں کے الہئ کار بنتے ہیں۔
جمشیدپور میں ایک سیاسی جماعت کے اقلیتی کمیٹی سے تعلق رکھنے والے ناکام سیاسی رہنما جس کا ایک پیر ہندوستان میں تو دوسرا پیر غیرملک میں رہتا ہے۔جسکے بچّے یورپ میں جا بسے ہیں۔وہ خود کس ملک کے شہری ہیں پتہ نہیں؟الیکشن کازمانہ آتے ہی ملک کی یاد ستاتی ہے اور واپس آکر پھر وہی اقلیت اور مسلمان کی سیاست کرتے نظر آتے ہیں۔جس سے مسلمانوں کو کئی فائدہ تو نہیں پہنچتا، ہاں نْقصان تو ضرور ہوتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے اس طرح کے مسلم سیاسی رہنما دراصل ببول کے کانٹے دار جھاڑیوں سے زیادہ اور کچھ نہیں، جس سے ان کے پاس پروس‘محلہ ‘علاقے اور بستی کے لوگوں کی مصیبتوں میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ان سے دوسروں کے مسائل کا سدباب ممکن نہیں اور ساتھ ہی ملک کی سا لمیت اور آپسی اتحادکو شدیدخطرہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اسطرح کے لوگوں کے لئے کسی بھی سیاسی جماعت کے مین اسٹریم میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس لئے اپنا روپیہ خرچ کرکے اقلیتی مورچہ، اقیلتی کمیٹی یا اقلیتی سیل جیسے شعبہ میں رہنے پر مجبور ہیں تاکہ انکا کاروبار، انکی فیکٹریاں چلتی رہیں۔مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے ٹھیکہ سے ہی انکی سیاسی زندگی کی سانسیں قائم ود ائم ہیں۔حالیہ دنوں اس طرح کے ایک خود ساختہ اقیلتی رہنما نے تمام تر فرقہ پرستی کے حد کو پار کرتے ہوئے اپنے گھر پر صرف اور صرف مسلم صحافیوں کو قوم وملّت کے حالات پر آنسو بہانے کے لئے مدعو کیا۔اگر وہ ذی شعورسیاستدانوں میں شمار ہوتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ صحافی صرف صحافی ہوتا ہے وہ کسی مذہب کا نمائندہ نہیں بلکہ وہ سماج کا آئینہ ہوتا ہے۔
اگرچہ سماج کے دوسرے شعبہ کے ساتھ ساتھ صحافت کے میدان میں بھی کہیں نہ کہیں جوکچھ آلودگی نظر آتی ہے اسکے ذمہ دار بھی کچھ با رسوخ دولت مند سیاست داں ہی ہیں۔ اس کے باوجود مجموعی طور پر موجودہ ملکی سطح پرصحافت کی دیانتداری، ذمہ داری اور غیر جانبداری کی قسم کھائی جاسکتی ہے۔جسکا فوری رد عمل یہ ہوا کہ تمام الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے اُردو اور ہندی کے مسلم صحافیوں، فوٹوگرافروں اور نامہ نگاروں نے اُنکے پروگرام کا خاموشی سے بائیکاب کیا سوائے دو مسلم رپورٹر کے(جو صرف لذیذ پکوان کے لئے گئے تھے، جیسا کہ انکی رپورٹ میں اس کا ذکر ہے)۔
افسوس ہیمسلم سیاسی رہنماؤں کی سوچ کا ہے۔خود کو مسلم کہتے ہیں اور ذہنمشرکانہ ۔ غیروں کی طرح انہیں بھی مسلمانوں سے عملی طور پر کوئی ہمدردی نہیں، ’ہندو مسلم اتحاد‘ سیقطعا کوئی دلچسپینہیں۔ کیوں کہ ”ہندو مسلم اتحاد“سے تو دونوں طرح کی سیاسی بازی گری ختم ہوجائے گی۔ فرقہ پرست سیاست اور نام نہاد سیکولر سیاست کیبساط ہی بکھر کر رہ جائے گی۔ اسلئے ہندو مسلم یکجہتی کے حقیقی علمبرداروں کو فرقہ پرست طاقتوں کے ساتھ ساتھ نام نہاد سیکولر اور اقلیت کی سیاست کرنے والوں پر سخت نظر رکھنے کی سخت ضرورت ہے۔٭٭٭
mumtazshariq435@gmail.com