Skip to main content

Aalamiparwaz

تضاد و تصادم کی داستان۔ ”ایوانوں کے خوابیدہ چراغ“ : پروفیسر علی احمد فاطمی

پروفیسر علی احمد فاطمی

شعبہ اردو  ، الہ آباد یونیورسٹی۔ الہ آبار

تضاد و تصادم کی داستان۔ ”ایوانوں کے خوابیدہ چراغ“

 

                ایک خیال ہے کہ ناول کی تمام قسموں میں سب سے مشکل قسم تاریخی ناول کی ہوتی ہے۔ اس مزاج کے ناول تاریخ اور ناول کے مفکّرانہ و فنکارانہ امتزاج و انجذاب سے وجود میں آتے ہیں۔ امتزاج کی کوئی نہ کوئی صورت اور کیفیت تو ہر قسم کے ناولوں میں ہوتی ہے، لیکن تاریخی ناول میں دو متضاد عناصر کو یکجا کرکے اسے اولااور آخرافکشن یا ناول کی ہئیت اختیار کرنی پڑتی ہے۔ متضاد ان معنوں میں کہ تاریخ کا انحصار حقائق پر ہوتا ہے اور فکشن کا بڑا حصّہ تصور و تخیل سے وابستہ ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں تاریخی ناول میں حقیقت اور رومانیت کا خوبصورت و معنی خیز تال میل بنانا پڑتا ہے اور ناول نگار کو ہمہ وقت یہ خیال بھی پریشان کرتا رہتا ہے کہ وہ تاریخ نہیں بلکہ ناول لکھ رہا ہے، اس لئے ترجیح تو ناول نویسی کو ملتی ہے۔ ناول کے فن کی بالا دستی رہتی ہے۔

                اس فنّی و تخلیقی عمل میں درمیانِ تخلیق کبھی کبھی تاریخی حقائق مبہم ہوتے ہیں اور کبھی مسخ بھی جس کی اجازت تاریخ داں نہیں دیتے۔ اکثر تاریخی شعور رکھنے والے قاری بھی۔ لیکن اب اس کا کیا کیا جائے کہ فنّی تقاضوں کے تحت ناول نگار کو اپنے ناول کے لئے کبھی کبھی ایک فرضی پلاٹ کی تشکیل کرنی پڑتی ہے اور کچھ خیالی کردار بھی گھڑنے پڑتے ہیں۔ واقعات میں لچک، کبھی کبھی توڑ مروڑ بھی کرنی پڑتی ہے جس سے تاریخی ناول اکثر ناول تو بن جاتے ہیں لیکن کبھی کبھی حقائق مشتبہ اور مشکوک بھی ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے اکثر تاریخی ناول نگار ان تمام نزاکتوں اور خطروں سے بچنے کے لئے ماضی بعید کا سہارا لیتے ہیں، جہاں حقائق اکثر تاریک یا دُھندلے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ناول نگار کے تخےّل کو آزاد رہنے کی سہولت مل جاتی ہے۔ جہاں حقیقت رومانیت کی شکل اختیار کرکے تخلیقیت میں ڈھل جاتی ہے۔ اسی لیے تاریخی ناول اکثر رومانی ناول ہو جاتے ہیں، جن میں تاریخی بصیرت، ثقافت اور اس عہد کی عوامی زندگی اور جد و جہد کا  فُقدان نظر آتا ہے۔ اردو میں جس کی مثال عبدالحلیم شرر کے ناول ہیں، جو تاریخی ناول کہلائے ضرور گئے لیکن اصلاً وہ نیم تاریخی اور نیم رومانی ہیں اور بعض تو پورے کے پورے رومانی ہیں۔

                ہندوستانی ادب میں تاریخی ناول ایک خاص عہد میں اور ایک خاص ضرورت کے تحت لکھے گئے۔ جب حال کمزور ہوتا ہے تو ماضی کی صحت و عظمت اور شان و شوکت بالقصد یاد کی جاتی ہے۔ عظمتِ رفتہ کو دہرایا جانا ضرورتِ وقت کے عین مطابق ہوتا ہے۔ اسی لیے اردو میں 1875ء کے بعد تاریخی ناول زیادہ لکھے گئے جب ہندوستانی سماج اور مسلم معاشرہ کئی طرح کے بحران سے گذر رہا تھا۔ بیسویں صدی اور اب اکیسویں صدی میں ان کی تعداد نہ کے برابر ہے اور جو لکھے بھی گئے ہیں ان میں قاضی عبدالستار کے دو ایک ناولوں کو چھوڑ کر زیادہ تر ناکام ہی رہے۔ برسوں بعد بیسویں صدی کے آخر میں دو ایک ناول ”دل مُن اور ”عزازیل“ از یعقوب یاور ”ویر گاتھا“ از سلیم شہزاد قابلِ ذکر ہیں اور اب نورالحسنین کا نیا ناول ”ایوانوں کے خوابیدہ چراغ“ ہے جو گذشتہ دنوں منظرِ عام پر آیا ہے۔ ایسی صورت میں نورالحسنین کا یہ کہنا”میرے ہم عصروں میں تاریخی موضوعات پر کوئی ناول نہیں لکھا۔ البتہ دیگر سماجی، سیاسی، معاشرتی موضوعات پر انھوں نے اچھے ناول لکھے ہیں“غلط ہوگا۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ پر اہم ہے کہ عہدِ حاضر میں تاریخی ناول اور وہ بھی ماضی قریب سے متعلق یہ پہلا تاریخی ناول ضرور ہو سکتا ہے۔

                اب میں براہِ راست نورالحسنین کے ناول کے متن و مواد پر گفتگو کروں گا۔

                ناول کا آغاز ایک قبرستان کے ویران اور سرد منظر سے ہوتا ہے، جہاں چند مجاہدینِ آزادی انگریز حکومت کے خلاف  جیسے گفتگو کر رہے ہیں اور صبح ہونے کا انتظار بھی۔ 1875ء کے قبل کا ماحول، انگریزوں کے خلاف بغاوت کے آثار، اس بغاوت میں ہندو مسلم، مرد عورت سبھی شریک ہونے کو تیار۔ چنانچہ جو کردار قبرستان میں نظر آتے ہیں ان میں حیدر خاں، پنڈت، تارابائی، دینا ناتھ  وغیرہ  سب کہ سب وطن پرست اور انگریز مخالف ہیں۔ چاروں طرف بقول مصنف ”فرنگیوں کے خلاف نفرت کی آندھیاں اُٹھ رہی ہیں۔ بس چنگاری کی دیر ہے۔ دیکھنا برٹش سامراج کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔“

                دوسرے باب میں سید اختر علی ہیں۔ دہلی کا بازار، مسجد بھی ہے اور گلابو بھٹیارن بھی۔ مرزا حکمت یار جو مرغ کے علاج کے لئے فکر مند ہیں۔ نیلوفر اور ان کے عاشق سلیم بھی ہیں۔ غدر کے آثار اور حالات اپنی جگہ اور روزمرّہ کی زندگی اپنی جگہ اور عشق و محبت اپنی جگہ پر کہ انسان بڑے سے بڑے حالات میں بھی اپنی فطرت سے الگ نہیں رہ پاتا۔ اس کے بعد پھر وہی قبرستان، رات اور سردی۔ وہی لوگ اور وہی آگ جو الاؤ میں ہے وہی باغیوں کے سینے میں بھی ہے اور یہ جملہ:

”اے چاند تو گواہ رہنا ہم لوگ بنا کسی گناہ کے بے گھر ہوئے ہیں۔“

”اے چاند تو شاہد ہے ہماری راتوں کا، ہماری بے بسی کا۔“

                اس کے بعد ایک کہانی کا آغاز جو تارا سے متعلق ہے۔ کسی کا انتظار بھی ہے جواودھ سے آرہا ہے۔ اودھ یعنی واجد علی شاہ، جن کو انگریزوں نے گدّی سے اودھ کی تاجداری سے دستبردار کر دیا۔ حیدر خاں کا یہ جملہ غور طلب ہے:

”رنگ منچ کا نٹ اگر دربار میں بھی لیلیٰ مجنوں کا ناٹک کھیلے گا تو وقت اس کے ساتھ یہی سلوک کرے گا۔“

اور ایک نئی گفتگو یا بحث سامنے آتی ہے کہ کیا بادشاہ، راجہ مہاراجہ کو شاعری یا فنونِ لطیفہ سے دلچسپی نہیں رکھنی چاہئے۔ ان کے لئے صرف تلوار کی مہارت کافی ہوا کرتی ہے۔ مغل بادشاہوں میں کئی ایسے تھے جو فنِ شاعری، مصوری یا تعمیر کا بہترین ذوق و شوق رکھتے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں حیدر خاں کا جواب یہ ہے:

”وہ جانتے تھے کہ کب لکھنا چاہئے اور ملکی انتظام کس طرح کرنا چاہئے۔ ان میں تلوار اٹھانے کی طاقت تھی۔ اپنے حق کے لئے وہ بغاوت بھی کر سکتے تھے۔“

اور پھر یہ بھی:

”آپ کے واجد علی شاہ تو دن رات راس لیلامیں ڈوبے رہتے۔ طوائفیں دربار کا حصّہ ہو گئیں اور نواب عورت رنگیا ہو گیا۔ اس کا اثر رعایا پر بھی پڑا۔ گھروں سے سپاہیوں کے بجائے شہدے بھانڈ اور بے فکرے باہر نکلنے لگے۔“

یہ ایک باغی کا تبصرہ ہے، ماہر کا نہیں تاہم یہ باتیں غور طلب ہیں اور شاید بحث طلب بھی۔ لیکن اس جملہ سے وطن پرستی کی بو آتی ہے۔

”ا ب بھی وقت ہے سنبھلنے کا ورنہ سارا ہندوستان ایک دن بڑا قبرستان بن کر رہ جائے گا۔“

                غالباً اسی لئے اس ناول کا آغاز قبرستان سے ہوتا ہے کہ اس وقت تک ملک ایک چھوٹا قبرستان تو بن ہی چکا تھا۔ لیکن یہی قبرستان ان باغیوں کی پناہ گاہ تھا۔ غم و غصّہ کی آماجگاہ بھی۔ اسی لئے دھندلے الاؤ کی چنگاری میں تڑپ ہے اور تلملاہٹ بھی، جسے مصنف نے بڑے علامتی ڈھنگ سے پیش کیا ہے۔ نیز باتوں اور مکالموں کے ذریعہ اس عہد کی سماجی اور معاشرتی زندگی کا ہلکا سا عکس بھی سامنے آتا ہے جو تاریخی ناول کا وصفِ خاص ہوا کرتا ہے کہ کس طرح لوگ ان حالات میں بھی عیش و عشرت اور مختلف قسم کی بازیوں میں مصروف تھے۔ یہ عشرت ایک طرح کی فراریت بھی تھی۔ دہلی میں بالکل ایسا نہ تھا یہ کہہ پانا مشکل ہے۔ ناول میں دہلی اور لکھنؤ کی معاشرت، تہذیب و ثقافت کی کچھ ایسی امتزاجی تصویر ابھرتی ہے کہ انفرادی ثقافت کی شناخت کی رو سے سوال قائم ہو سکتے ہیں، لیکن ناول کی تخلیقیت کی رو سے شاید یہ مسئلہ زیادہ اہم نہیں۔ ناول نگار نے اکثر مقام پر بے تکلف مکالموں، محاوروں اور کہیں کہیں دمادم مست قلندر پر رقص وغیرہ کے ذریعہ جو تخلیقی فضا قائم کرنے کی پُرکشش و پُرتاثیر کوشش کی گئی ہے اس سے بہر حال ناول نگار تخلیقی فضا بنانے میں کامیاب نظر آتا ہے اور کسی بھی تاریخی ناول کی اس نوع کی ترتیب و تخلیق اکثر اس کی کامیابی کی ضمانت دار ہوتی ہے۔

                قبرستان میں دمادم مست قلندر کا جوش بیحد معنی خیز ہے۔ اس کے بعد اودھ کے حالات بارود کا ڈھیر اور حیدر خاں کا یہ جملہ:

”دوستو! میں ایک بڑے انقلاب کی آہٹ محسوس کر رہا ہوں۔“

اودھ بندیل کھنڈ کے ذریعہ پورے ملک میں انقلاب کی لہر پھیلنا اور پھر دکن تک پھیل جانا۔

                خاموش قبرستان میں کسی شخص کی آمد دراصل انقلاب کی آمد ہے۔ انتظار ہے انقلاب کا لیکن پھر یہ جملہ:

”اور انتظار قبرستان کی پھاٹک پر لٹک گیا۔“

اس طرح کے جملوں سے مصنف نے قدم قدم پر یہ خیال رکھا ہے کہ ناول کی فضا قصّہ پر ہی رہے اور اسی تکنیک میں اس کا ارتقا بھی ہو۔ درمیان میں محبت کی آمد یعنی چنبیلی کی آمد۔ اتحاد اور قوّت کی آمد کا استعارہ بنتی ہے کہ اس دائرہ عمل میں مرہٹہ سردار سبھی آجاتے ہیں، لیکن دلّی کبوتر بازی اور شعر و شاعری میں مصروف اور مغل بادشاہِ قلعہ میں محصور۔ لیکن آزادی کے یہ دیوانے قبرستان میں ایک نئی صبح کی یعنی آزادی کے انتظار میں دیوانے ہو رہے ہیں۔ مصنف نے اس دیوانگی اور آمدِ صبح کی ملی جُلی کیفیت کو اس انداز میں پیش کیا ہے:

”سپیدی آسمان سے اُتر رہی تھی۔ صبح اپنی آمد کا انتظار کر رہی تھی اور یہ قافلہ قبرستان کی پھاٹک سے نکل رہا تھا۔“

                اچھی بات یہی ہے کہ مصنف نے تاریخ کو مس کرتے ہوئے اور اس کی صداقتوں کو مسخ کئے بغیر اس ناول میں ناولیت کی فضا قائم رکھی ہے جس سے مکالموں میں، منظروں میں جوش و خروش میں حقیقت اور صداقت میں ایک ربط و معنویت پیدا ہو گئی ہے۔

                ایک اچھا ناول تضادات سے ابھرتا ہے۔ اسی سے کشاکش اور کشمکش کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ ورجینا وولف نے کہا تھا کہ زندگی میں تضاد ہے تو ناول میں بھی ہوگا اور ایک اچھے ناول کی یہی خصوصیت ہے کہ وہ زندگی کی طرح باہم متصادم ہو۔ یہ تصادم خیر و شر کا ہو سکتا ہے اور تضاد کا بھی۔ اس ناول میں بھی تضاد ہے کہ ایک طرف حیدر خاں اور اس کے ساتھی ہیں جو وطن کو آزاد کرانے کے لئے بغاوت پر آمادہ ہیں اور بے گھری اور آزاری کے عمل سے گذر رہے ہیں، تو دوسری طرف ایسا طبقہ بھی ہے جو ان تمام آزاد و آثار سے بے پروا اپنے کوزے میں بند ہے۔ اختر علی سلیم کو شعر و شاعری کا سبق سکھا رہے ہیں اور حسن کا سطحی روایتی تصور سمجھا رہے ہیں:

”تم حسن کے ناز و انداز کیا جانو۔ تمھیں حسن و عشق کی لذّتوں کا کیا خاک اندازہ ہوگا؟ اور یہ کہ تمھیں کیا پتہ کہ محبوب کی حیرت زدہ آنکھیں کیا ہوتی ہیں۔ اس کے انداز کیا ہوتے ہیں۔“

                دیکھئے تضاد زندگی کا، حالات کا، کہیں آزادی ہے تو کہیں فراری، کہیں آزاری ہے تو کہیں شعر و شاعری۔ یہ زندگی کے متضاد دھارے ہیں جو ساتھ ساتھ بہتے رہتے ہیں۔ ادب کی تخلیق انھیں دھاروں سے آبشار کی طرح اپنا ایک الگ روپ پیش کرتی ہے جہاں کرب آمیز نشاط یا نشاط آمیز کرب ہے۔ ایک طرف ملک کی حقیقت اور سیاسی بدحالی ہے تو دوسری طرف سلیم اور نیلوفر کا رومان۔ یہ رومان سرسری اور جلد بازی کا ہے،ورنہ اصل کہانی تو حیدر خاں اور ان کے باغی ساتھیوں کی ہے۔ بغاوت کی، آزادی اور کہیں کہیں حیدر خاں کے ماضی کی بھی۔ اس لئے ۷۵ء کی بغاوت چند روزہ قصّہ نہیں بلکہ دہائیوں کی داستان ہے۔ مغل بادشاہوں کے اندرون کا بیان بھی اور درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء کے عقیدت مندان بھی ہیں۔ یہ منظر دیکھئے:

”درگاہ کی طرف لوگوں کے قافلے کے قافلے رواں تھے۔ کوئی پاپیادہ تھا، کوئی سوار تھا۔ کوئی چادر اوڑھے ہوئے تھا، کسی کے ماتھے پر تِلک چمک رہا تھا اور کوئی گھونگھٹ کاڑھے چلا جارہا تھا۔“

                درگاہ،  قوّالی،  فقیر اور مجمعئ عام جس میں حیدر خاں بھی شامل۔ لیکن اس کی دعاء صرف اتنی:

”میں بس آپ کی سرزمین کو ان فرنگیوں سے پاک دیکھنا چاہتا ہوں۔“

اور وہاں قوّالی ہو رہی تھی  ؎

بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی

                                                                …………………………………….         ڈگر پنگھٹ کی

                حیدر اور ان کے باغی ساتھی ملک کی سلامتی اور آزادی کی دُعائیں مانگ رہے تھے اور کچھ لوگ:

”ہندوستانی بِکتے رہے۔ دین و ایمان کے سودے ہوتے رہے۔ غدّار اور مکّار قوم کو دھوکہ دیتے رہے۔“

یہ بھی صرف ناول کا نہیں زندگی کا، انسان کا تضاد ہے جو ازل سے ابد تک رہے گا۔ اسی لئے تو شاعر نے کہا ہے ”بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی۔“

                یہ مناظر ناول کو نہ صرف دلچسپ بلکہ معنی خیز بناتے ہیں۔ قوّالی، درگاہ، دُعا، آزادی، غدّاری یہ سب ایسی متضاد حقیقتیں ہیں جو لاشعوری طور پر زندگی اور ناول کا حصّہ بنتے جاتے ہیں۔

                آگے ناول کچھ ڈرامائی شکل اختیار کرتے ہوئے ایک نئے کردار طالب احمد کے ذریعہ اس منزل پر پہنچتا ہے جب میرٹھ میں فوجی کارتوس پر سخت اعتراض کر رہے تھے اور قبرستان میں چھپے باغی اس اعتراض کو بغاوت میں تبدیل دیکھنے کے لئے بیتاب تھے اور بار بار کہہ رہے تھے ”نجام الدین اولیا جگ اجیارو۔“

                اور پھر ایک دن بیج ناتھ، چاند خاں اور ان کے دوسرے ساتھیوں نے کھُلے عام کارتوس استعمال کرنے سے انکار کر دیا کہ ہندوستان، تہذیب اور کلچر کے معاملات میں تو بڑی حد تک سمجھوتہ کر سکتا ہے لیکن مذہب کے معاملہ میں نہیں۔ اسی لئے چاند خاں کہتا ہے:

”مذہب ہمارے لیے اوّل ہے اور ہم سب اپنے مذہب پر جان دے دینا معمولی بات سمجھتا ہے۔“

ٹھیک اسی مقام پر قلعے کے اندر کا ماحول بھی دکھایا گیا ہے جو زبان و بیان کے اعتبار سے دلچسپ ہے۔ ناول نگار نے اس فرق کو بڑے سلیقے سے پیش کیا ہے کہ قبرستان میں بیٹھے باغی کی زبان، لہجہ اور تیور انگریز فوجیوں کی ٹوٹی پھوٹی زبان اور قلعے معلّیٰ کی زبان کی شگفتگی جہاں خواب، نیند اور منزل تو ہے لیکن منزلِ مقصود تک پہنچنے کی ہمت اور طاقت نہیں۔ اس لئے شعر و شاعری ہے اور غزل گوئی ہے اور یہ شعر  ؎

وقت پیری شباب کی باتیں

ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں

لیکن شاعر ملک کے حالات سے بے خبر اب بھی محبوب کے قدموں میں جوشِ قدح سے بزمِ چراغاں کرنے کو بیقرار ہے۔ لیکن بوڑھے بادشاہ کا جوان ملکہ کا پوری  طاقت کے ساتھ بھینچ لینا اور مرتبان سے کشتے کا چاٹنا عجیب ساضرور لگتا ہے، عین ممکن ہے کہ اس میں فرار و پناہ کی کیفیت شامل ہو۔ ہر چند کہ یہ بے خبری معصومانہ نہ تھی اور محض شاعرانہ تھی اور ان سب پر اس عہد کی سماجی اور سیاسی حالت کا ایک غُبار بہر حال چھایا ہوا تھا جسے مصنف نے منظر بدلنے یا قاری کا ذائقہ بدلنے کے لئے پیش تو کیا لیکن اب کیا کیا جائے کہ عوامی زندگی سے الگ تھلگ یہ مناظر بے جان اور بے کیف سے لگتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ایسے مناظر ناول نگار کے مشاہدے اور تجربے سے غیر متعلق تھے۔ کتابی مطالعہ کی بنیاد پر اور تصور کے ذریعہ پیش کئے گئے ان مناظر میں حقیقت اور فطرت کا گذر ممکن نہیں۔ لیکن یہ بھی ہے کہ مصنف کی کم، اور تاریخی ناول کی اپنی فنّی مشکل ہوا کرتی ہے کہ بادشاہ کے کردار کی زبان ہی نہیں عمل میں بھی وہ تُزک و احتشام ضروری ہے اور وہ تمام لوازمات بھی جو مغل تہذیب و احترام کے داعی ہوا کرتے تھے اور ایک مخصوص تہذیبی جمالیات کا اشاریہ بھی۔ دوسری طرف ناول میں کشاکش اور تضاد بھی ضروری ہوا کرتا ہے اور اس ناول کا جو موضوع اور مُدّت ہے وہ بحرانی اور عبوری ہے، جہاں خیالات و نظریات باہم متصادم تھے۔ غم و غصّہ تھا، جوش و ولولہ تھا، بغاوت تھی اور فراریت بھی۔ لیکن یہ فراریت کب تک۔ وہ نوبت آہی جاتی ہے جب اختر علی کی محفلوں کی ادبی بحث حالاتِ حاضرہ کی طرف مُڑ جاتی ہے۔ مشرف عالم ذوقی نے اچھی بات کہی ہے:

”۷۵۸۱ء جہاں آزادی کے احساس کے ساتھ ایک بڑی نظریاتی تبدیلی غلام ملک کے سماجی اور سیاسی ڈسکورس کا حصّہ بن رہی تھی۔ ماضی اور حال کی کشمکش کے یہ ناول حقیقت اور اظہار کا راست بیان ہے۔“

                حالانکہ تاریخی ناول میں راست بیانی اکثر بے کیف ہوا کرتی ہے نیز وہ ناول کے تاریخی ماحول کو بھی متاثر کرتی ہے لیکن اس ناول کی تخصیص یہ ہے کہ حالات و حادثات کو عوامی کرداروں کے ذریعہ پیش کیا گیا ہے اور صرف حادثات ہی نہیں بدلتے ہوئے نظریات کبھی تہذیبی بساط کی اُلٹ پھیر اعلیٰ طبقہ کو متاثر کر رہی تھی جسے کچھ امراء و نوابین بچانے میں مصروف اور کچھ لُٹانے میں اور کچھ جیالے ظلم و ستم سے نبرد آزما ہونے اور ملک کو غلامی سے نجات دلانے میں مصروف کہ سماج کا کوئی بھی خونریز واقعہ ہر طبقہ کے دل و دماغ کو مرتعش کر جاتا ہے۔ جمی جمائی بساط اُلٹ جاتی ہے۔ اس ناول میں تہذیبی سطح پر یہ تقلیب کم کم ہی دکھائی دیتی ہے کہ اصل زور تو بغاوت پر ہے۔ تاہم بعض اشارے، ناول کے بعض اقتباسات ناول کی جہت و پرت میں اضافہ کرتے ہیں اور اسے عمدہ ناول بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ چاندنی چوک کا یہ منظر دیکھئے:

”وہ دلّی یوں ہی تو ہندوستان کا دل نہیں تھی۔ دن کیا نکلتا تھا گویا عید کا چاند دیکھ کر ہی نکلتا تھا۔ چاندنی چوک کی سڑک فردوسِ بریں کا روپ دھارن کر لیتی۔ حُسن لازوال کی پریاں ماہتابوں کی صورت سیاہ نقابوں میں جھانکتی ہوئیں اس طرح اٹھلاتیں گویا آسمان سے کہکشاں زمین پر اُتر آئی ہے۔ جسے دیکھو چندے ماہتاب و آفتاب گویا دلّی کا چاندنی چوک نہیں کوہِ قاف کا کوئی بازار ہے اور پریاں اٹھلاتی پھر رہی ہیں ………..رنگ برنگے دوپٹّے لہرا رہے ہیں۔ کامدانی کاموں سے مزےّن سُرخ، نیلے پیلے سبز بنفشی اطلسی گہرے دار لہنگے، زمین پر خوبصورت جوتیاں چٹخ رہی ہیں۔“

اور ایک مختلف منظر یہ بھی:

”مہادیو جی کی سنگی مورت کے پائین پنڈت جی بیٹھے ہیں۔ ایک پتّھر پر صندل گھِس رہے ہیں۔ مہادیو جی کی مورت درشن دے رہی ہے۔ عقیدت مند ہاتھ جوڑے سر کو جھُکا رہے ہیں اور پنڈت جی صندل میں اُنگلیاں ڈبو رہے ہیں اور ماتھے پر خوشبو بکھیر رہے ہیں۔“

ایک منظر شاہانہ بھی دیکھئے:

”سواری منتظر تھی۔ بختِ رواں کا سنہری ہودا تھا اس میں زربفت کی مسند اور گاؤ تکیہ لگا ہوا تھا۔ سواری پر مخملی پردے جھول رہے تھے۔ صحن میں خواجہ سرا اور خواصِ شاہی باادب کھڑے تھے۔“

                ان رنگارنگ تحریروں سے نہ صرف اس عہد کی دلّی کے حالات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے بلکہ تاریخ و تہذیب کے دلکش مرقّعے نظروں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔ تاریخی ناول کا ایک بڑا وصف یہی ہے کہ وہ قاری کو اس عہد میں پہنچا دے۔ اس عہد کی تہذیبی، ثقافتی اور سماجی

زندگی کے دھڑکتے ہوئے مناظر قاری اور اس کی قرأت کے ذوقِ جمال کو کچھ اس انداز سے تسکین پہنچائیں کہ ناول کا فن اور مواد کی فکر دونوں کچھ اس انداز سے تخلیقی وجدان میں رچ بس جائیں کہ تھوڑی دیر کے لئے قاری کی رسائی نہ صرف اس عہد تک ہو جائے بلکہ وہ اسی ثقافت و معاشرت میں سانس بھی لینے لگے اور تمام نقل و حرکت، عمل و ارتقا اس کے رگ و ریشہ میں سما جائے۔ نورالحسنین نے جابجا اس کی کامیاب کوشش کی ہے۔ خاصی محنت کی ہے، مطالعہ کیا ہے اور کرداروں کے حوالے سے یہ بھی کہلوایا ہے:

”بندہ آج بھی دربار سے وابستہ ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ آج بھی کوئی کمی نہیں آئی۔ آپ کو بتادوں کہ کارخانے جات خاصہ کلاں، خاصہ خورد، آب دار خانہ، دواخانہ، توشے خانہ، جواہر خانہ، اسلحہ خانہ، اصطبل بگھّی خانہ، توپ خانہ، شتر خانہ، رتھ خانہ، پالکی خانہ، داروغہ کہاراں، داروغہ خاص، خواجہ سرایاں، فوج مختلف پلٹن موجود ہیں اور سرکار عالیہ سے تنخواہ پاتے ہیں۔“

بادی النظر میں لگتا ہے کہ محض شمار و قطار اور لسانی شان و شوکت کے لئے یہ اقتباس آگیا، لیکن اختر علی کا تبسّم اور تشکیک کا لطیف انداز اسے سنبھال لیتا ہے لیکن اختر علی کی بیٹی نیلوفر اور سلیم کے رومانی تعلقات مصنوعی سے لگتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ ناول نگار غیر ضروری طور پر رومان کا تڑکا لگاتا چل رہا ہے تاکہ رومان کی چاشنی تاریخ کی خشکی کو سنبھالے رکھے اور توازن قائم رہے۔

                یہ سارے مناظر ثقافتی سطح پر ناول میں ایک فضا ضرور بناتے ہیں لیکن ناول کی اصل اٹھان اور ارتقا تو حیدر علی کے ساتھیوں کے ذریعہ ہوتا ہے جن میں ہندو بھی ہیں اور خواتین بھی اور صوفیوں سنتوں کے تذکرے بھی کہ ابتداً انھوں نے ہی مجاہدانہ عمل کے سبق سکھائے۔ شیر اور بکری کی کہانی، منگل پانڈے کی قربانی۔ نتیجتاً میرٹھ کی فوجی بغاوت، قتل و خون ”مارو، کاٹو، آگ لگا دو۔“ اور ساتھ ہی نعرہئ تکبیر اور ہر ہر مہادیو کے نعرے، شاید اس لئے کہ کارتوس استعمال نہ کرنے کے پیچھے مذہبی جذبہ کام کر رہا تھا۔ میرٹھ کی آگ دلّی تک پہنچی، لیکن قلعہئ معلّیٰ میں رقص و سرود کی محفل آراستہ تھی۔ ادھر طبلے کی تھاپ ادھر گھوڑوں کی ٹاپ۔  کچھ محبت، کچھ نفرت۔ غرضکہ یہاں بھی قتل و خون کا بازار گرم ہو گیا۔

                دہلی کی اس گرم بازاری کا اثر قلعے کے اندرون میں پڑنے لگتا ہے۔ اختر علی کے گھر میں بھی اثر دکھائی دیتا ہے لیکن سلیم کی محبت اس نازک اور گرم موقعے پر چھلکی پڑتی ہے جو بظاہر عجیب سی لگتی ہے اور نہ ہی دہلی کی سماجی اور عوامی زندگی کا نقش ابھرتا ہے، البتہ حیدر کی منھ بولی بہن تارا نے میرٹھ کا حال بیان کیا:

”حیدر بھائی زندگی کو اس طرح بلکتے ہوئے میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ انقلاب کے نام پر انسان، انسان کو ایسے کاٹ رہا تھا جیسے رسوئی کے لئے سبزی ترکاریاں کاٹی جاتی ہیں۔ خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔ چیخ و پکار ایسی کہ کلیجہ منھ کو آرہا تھا اور کسی کے دل میں نام کو رحم نہیں۔“

اور یہ سوال بھی:

”حیدر بھائی کیا ہم ایسے ہی خونخوار انقلاب کی راہ دیکھ رہے تھے۔؟“

تو حیدر کا جواب تھا:

”ہمیں ایسے انقلاب کا انتظار نہیں تھا، لیکن ایسا ہمیشہ ہی ہوتا ہے۔ ہر فاتح مفتوح کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتا ہے ………ہر انسان سوچتا ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے لیکن ہر بار ایسا ہی سب کچھ ہوتا ہے۔“

کیا معرکے کے جملے ہیں۔ اگر محبت ایک جذبہ ہے اور آگے بڑھ کر ایک فلسفہ بھی تو اس کے برعکس نفرت و عداوت بھی ایک جذبہ ہے۔ اندھا جذبہ کہ اس کی لپیٹ میں آدرش اور اصول اکثر قتل ہو جاتے ہیں۔ آگے چل کر مہاتما گاندھی نے عدم تشدّد کا سہارا لے کر تحریکِ آزادی چلائی۔ آزادی ملی، لیکن تشدّد سے پُر۔ قتل و خون سے لبریز۔ ایسے میں تجربہ کار، جہاں دیدہ حیدر خاں کا یہ کہنا ”ہر بار یہی سب کچھ ہوتا ہے۔“ اس ہر بار میں صدیوں کی انسانی تاریخ کا ایک ایسا کڑوا سچ اور کرب پوشیدہ ہے جس کی صداقت نے نہ جانے کتنے نظریوں اور فلسفوں کو جنم دیا لیکن ہر بار ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ بس شکلیں بدلتی رہی ہیں۔

                حیدر خاں کے ان مکالموں میں مصنف نے اپنی غیر معمولی ذکاوت اور بلاغت کا ثبوت پیش کیا ہے اور یہ ضروری بھی ہے کہ ناول صرف رواں دواں قصّہ نہیں ہوتا، اس میں حادثہ ہوتا ہے۔ تجربہ اور نظریہ بھی جو آگے بڑھ کر فلسفہ کا روپ لے لیتا ہے۔ شاید اسی لئے لارنس نے کہا تھا کہ فکشن جب تک فلسفہ نہ بن جائے بڑا فکشن نہیں بن پاتا۔

                میرٹھ کے باغی فوجیوں کی بہادر شاہ ظفر سے ملاقات، مکمل بادشاہت کا اعلان، بادشاہ کی فقیری و بیچارگی، یہ سب کچھ جلدی جلدی ہو جاتا ہے اور جلد ہی صبح کاذب نمودار ہونے لگی۔ ایک دُھندلی صبح، ایک کمزور سا سچ جس نے آگے چل کر ایک مضبوط تحریک کو جنم دیا۔ بہر حال پہلے کی طرح بادشاہ گدّی پر بٹھائے گئے۔ اسی طرح کا جلوس، اسی طرح کی آن بان اور شان اور اسی طرح کی زبان کہ تاریخی ناول میں زبان کا بہت بڑا رول ہوا کرتا ہے، خواہ وہ خواص کی ہو یا عوام کی۔ خواص بالخصوص بادشاہ، نواب اور ان کے ادب و آداب، ملبوسات۔ یہ جملے دیکھئے:

”دربار شاہی کو زینت بخشنے کی خاطر حضور بادشاہ سلامت کا جلوس روانہ ہوا۔ سب سے آگے نقار خانہ تھا، پھر روشن چوکی تھی۔ ان کے پیچھے پیادہ سپاہی تھے۔ ان کی کمروں میں تلوایں لٹک رہی تھیں۔ ہاتھوں میں نیزے تھے۔ زعفرانی پٹّیوں کے کمربند اور سروں پر کھڑکی دار پگڑیاں تھے۔ پھر گھوڑا سوار دستہ تھا، جن کے گلوں میں سونے چاندی کی ہیکلیں لٹک رہی تھیں۔ ماتھوں پر مرصّع کلغیاں تھیں۔ سلمیٰ ستارہ کے کام کی چادریں کاٹھیوں پر جھول رہی تھیں۔“

                یہ سب کچھ تو تھا لیکن بادشاہ کے چہرے پر حسرت کے ساتھ ساتھ مایوسی و بے بسی تھی۔ جیسے جیسے بغاوت زور پکڑ رہی تھی۔ چہرے کا جلال اور بھی منوّر ہو رہا تھا اور توپیں داغی جارہی تھیں۔ لیکن حیدر اور ان کے ساتھی یہ سمجھ رہے تھے کہ فرنگیوں سے مکمل نجات ایک اور بڑی قربانی مانگتی ہے اور آگ اور خون کی گنگا پار کرنی پڑے گی اور یہ عمدہ جملہ ”فتح کرنا آسان ہے لیکن فتح کو قائم رکھنا بیحد مشکل ہوتا ہے۔“ لیکن اس وقت تو سب کہ سب انتقام کے جوش میں تھے اور اس میں پیش پیش تھے حیدر خاں۔ کچھ دیر قتل و خون کا ماحول اس کے بعد پھر وہی

سلیم و نیلوفر کا رومان جو اس ماحول میں غیر فطری لگتا ہے۔

                ایک مختصر سی کہانی دلبرداد خاں اور جنیفر کی ہے۔ جینی انگریز لڑکی جس سے دلبرداد خاں پیار کرتا ہے، دیناناتھ تارا سے، حیدر خاں چنبیلی سے اور سلیم نیلوفر سے کہ جنگ و جدل کا ماحول کیسا ہی ہو انسانی فطرت اپنا کام کرتی ہے اور یہ فطرت ذات پات، اونچ نیچ بھی نہیں دیکھتی۔ ایک ایسے ماحول میں جب انگریز مرد و عورت ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کئے جا رہے ہوں دلبرداد خاں جیسا سخت پٹھان ایک انگریز لڑکی کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ الگ الگ مسئلہ ہے اور محبت ایک الگ فلسفہ کہ وہ تو بدترین دشمن کی لڑکی ولڑکے سے بھی ہو جاتا ہے۔ اگر حیدر خاں انگریزوں کا قتل کر رہا ہے تو دلبرداد خاں انگریز محبوبہ کو بچا رہا ہے اور کہہ رہا ہے ”ہم تم کو مرنے کے واسطے نہیں بچائی۔ ہم پر بھروسہ رکھو۔ فرنگی بلبل ہم تمھارا حفاظت کرے گی۔“ محبت کا یہ جذبہ، زندگی کا یہ متضاد روےّہ ناول کی کشمکش میں دھار لگاتا ہے اور محبت و عداوت کا یہ سفر ناول میں متوازی طور پر طے ہوتا رہتا ہے۔ یہی زندگی ہے۔ یہی ادب ہے اور یہی ناول۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ ناول کی شعریات زندگی کی شعریات ہے۔ پتہ نہیں زندگی کی کوئی شعریات ہو سکتی ہے یا نہیں۔ اگر ہو سکتی ہے تو ناول کی بھی ہو سکتی ہے۔ اگر نہیں تو ناول کی بھی نہیں۔ مگر ناول پھر بھی ناول ہے۔ جیسے زندگی زندگی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ناول جیسی بڑی صنف میں زندگی جیسے بڑے تضاد موجود ہوں لیکن یہ فنّی اعتبار سے باہم مربوط و مضبوط ہوں۔ اور فکری و فطری اعتبار سے رواں دواں۔ اس اعتبار سے یہ ناول کہیں کہیں غیر فطری سا ضرور ہو جاتا ہے کہ وہ کئی کرداروں اور کئی ٹکڑوں میں متوازی طور پر چلتا ہے۔ لیکن اچھی بات ہے کہ وہ اپنی مرکزی فکر سے زیادہ علےٰحدہ نہیں ہوتا۔ کہیں کہیں یہ فکر فطرت کا ایسا مظاہرہ کرتی ہے جس کا عام آدمی تو کیا شہزادہ اور بادشاہ تک شکار ہو جاتے ہیں۔ مرزا الہٰی بخش کی خوشامدانہ و سفّاکانہ باتیں و حرکتیں اور یہ جملے:

”شہزادے اب مجھے اس تعظیم سے نہ روکیں۔ میں کسی نوعمر شہزادے کے آگے اپنا سرِ تسلیم خم نہیں کر رہا ہوں، بلکہ کسی غیور مستقبل کے شہنشاہ کی تائید کا اعلان کر رہا ہوں۔“

اس کے بعد مصنف کے یہ جملے:

”باہر تیز دھوپ جھلس رہی تھی اور نقارچی نے بدلتے وقت کی کروٹ کا اشارہ سمجھا اور اس کے نقارے کی آوازیں پورے قلعہئ معلّیٰ میں گونج اُٹھیں۔“

                ایسے تفکیری و تخلیقی جملوں سے ہی ناول زندگی سے اوپر اُٹھ کر ادب کا بڑا حصّہ بن جاتا ہے اور فلسفہ کا روپ لے لیتا ہے۔ اسی ماحول میں زندگی کا ایک اور روپ دیناناتھ اور تارا کی شادی، ڈھولک کی تھاپ اور سبحان میاں کا وجد اور پھر لوک گیت اور پنڈت کا یہ جملہ:

”ہم ادھر جنگ میں اپنی جان دے رہے ہیں اور یہ ادھر سگائی کے لڈّو توڑ رہی ہیں۔“

اور یہ جملہ بھی:

”وہ جو بیچتے تھے دردِ دل کی دوا، وہ تلوار اٹھا کر میدانِ جنگ میں چل دئے۔“

اور شادی میں قہقہے پڑ رہے تھے۔ ادھر کانپور کے حالات بدل رہے تھے۔ موت و غم، محبت اور عداوت، زندگی اور موت، غلامی اور آزادی، شادی کی ڈھولک اور جنگ کے نقارے کتنے اور کیسے تضادات اور ایک زندگی اور ایک ناول۔ لیکن ناول تو یہیں سے بنتا ہے اور بگڑتا بھی ہے۔ یہ ناول نگار کے تصوّراتِ فکر و فن پر منحصر ہے اور اس کی علمی و تخلیقی صلاحیت پر۔ نورالحسنین اکثر منزلوں پر کامیابی سے گذرے ہیں اور کہیں کہیں تو منظر کشی سے ہی تمام تر کیفیت کو بیان کر دیا ہے۔ مثلاً:

”آسمان میں سیاہ بادل سفید بادلوں کی طرف تیزی سے بڑھ رہے تھے، ہوائیں چل رہی تھیں اور ایسا لگتا تھا کہ کسی بھی وقت آسمان کا ایک ہی رنگ ہو جائے گا۔“

اور لکھنؤ، دہلی، کانپور، الہ آباد، فیض آباد سب ایک رنگ میں رنگ گئے۔ جھانسی کی رانی، نانا صاحب، تاتیا ٹوپے، زینت محل، عظیم اللہ خاں، احمد اللہ شاہ ایک جذبے میں سرشار تھے۔ لیکن پھر بھی سیاہ اور سفید بادلوں میں تکرار ہوتی رہی اور تاریخ کے لیے بہت سارے سوال چھوڑ گئی کہ نفرت کی آگ اور اجتماعی انتقام کی نفسیات تو تاریخ بھی نہیں سمجھ سکتی۔ ساتھ ہی ساتھ وہ محبت بھی ناقابلِ فہم جو خان اور جنیفر کے درمیان ہوئی اور پتھر پر پھول کھلا۔ ادھر میدانِ جنگ میں مشعلیں روشن ہوئیں اور ادھر دلِ نازک میں قندیلیں۔ ایک ساتھ، ایک ماحول میں دل اور دلّی دونوں کام کرتے رہے۔ یہی زندگی ہے۔ اسی زندگی کا عکس ہے ناول جو کم از کم تاریخی ناول میں کم کم دکھائی دیتا ہے کہ اس پر مخملی پردے پڑ جاتے ہیں۔ لیکن نورالحسنین نے سیاست اور آدمیت، محبت اور نفرت دونوں کو متوازی طور پر پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے اور اسی میں ایک باب اور جُڑتا ہے غدّاری اور بے وفائی کا۔ یہ بھی انسان کی ایک فطرت ہے جس سے اس طرح کے سوالات جنم لیتے ہیں:

”جانِ بہار سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ فرنگیوں کو رات گئے یہ اطلاع پہنچانے والا کون تھا کہ شاہی لشکر بے خبر سو رہا تھا۔“

یا

”خدا جانے اودھ کی اگلی صبح کیا پیغام لے کر آئے گی۔“

                میرٹھ اور دلّی کے بعد لکھنؤ اور بنارس کے واقعات کا ذکر ناول کو آگے بڑھاتا ہے اور ۷۵ء کے غدر کی وسعت کے ساتھ ساتھ ناول کے دائرہئ عمل کو بھی بڑھاتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ لکھنؤ کو جس زبان و تہذیب کے ساتھ پیش کیا ہے، بنارس کو بھی اپنی پہچان کے ساتھ۔ جہاں ایک طرف لکھنؤ کی یہ زبان ہے:

”کمال ہے نہ ذوقِ زبان، نہ شوقِ فصاحت۔ تنگیئ داماں تو دیکھئے صبر کا یارا تک نہیں۔ وصل کی تڑپ میں جو لذّتِ ہجر نہ جانے وہ درِ عزیزی پر کیا دم مارے۔“

تو بنارس کی یہ زبان:

”بچّہ یہ جیون ایک دھوکہ ہووے۔ گیان دھیان، لاگ لپیٹ کی اس کرم بھومی پر کون گیانی کون اگیانی؟ جو ہووے وہ نہ ہووے؟ جو نہ ہووے وہ ہووے۔ سنسار کا رچن کرئیا کرے چمتکار۔ کہاں کا ساون کہاں کا بھادوں۔ من تو ٹھہرا مایا، موہ کاڈیرا سب دھوکا ہے دھوکا۔“

لکھنؤ میں رقص و سرود ہے تو بنارس میں بینی چدریا۔ یہ سب الگ الگ رنگ میں ہوتے ہوئے بھی وطن کے جہاد میں سب ایک تھے۔

                تاریخ میں شکست و فتح کی جتنی کہانیاں ہیں کم و بیش اتنی ہی بے وفائی اور غدّاری کی بھی ہے۔ اس پہلو کو بھی اشاراتی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور خوبصورت و بامعنی جملوں سے تاریخ کے ان کمزور اور داغدار لمحوں کو تخلیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کنیز، غلام، افسران سبھی اس میں شامل ہیں یہاں تک کہ کہیں کہیں وزیر اور شہزادگان بھی کہ حیرت ہوتی ہے کہ زندگی قدم قدم پر انھیں حیرتوں کو پیش کرتی ہے۔ ناول میں اگر یہ سب کچھ تخلیقی انداز میں جذب و پیوست ہے تو وہ صرف خارجی سیاست اور سماجیت کے ذریعہ نہیں بلکہ انسانی فطرت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو یقینا کامیاب ہوتا ہے۔ ناول نگار نے اسے پورے طور پر برتنے کی کوشش کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کہیں کہیں مصنوعی انداز کی ہے کہ بات دور دراز کی ہے اور اقتدار کی بھی اس کو اسی انداز سے لینا چاہئے۔ کوئی نکتہ چیں یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اس کے بعض کردار فرضی ہیں اور واقعات بی کہیں کہیں تصور و تخیل، تصنّع سے زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔ بعض اعتراضات صحیح ہو سکتے ہیں لیکن یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ناول نگار پیشہ ور مورّخ نہیں ہوتا اور وہ سچّے و پکّے تاریخی واقعات کو ترتیب دینے کا کام نہیں کر رہا ہے بلکہ ناول لکھ رہا ہے۔ وہ اپنی تخلیقی و وجدانی قوتوں کے ذریعہ حقائق کو بھی اس طرح پیش کرتا ہے کہ وہ فکشن لگنے لگے۔ کچھ اس انداز سے کہ فکشن فیکٹس (Facts)کے  قریب رہے۔ وہ ان واقعات کے زیادہ قریب جاتا ہے جن میں انسانی خیالات، تجربات نیز تضادات ابھرتے ہوں۔ وہ انھیں سے مواد فراہم کرتا ہے اور ترتیب و تخلیق کرتا ہے۔ ناول کے فطری تقاضوں میں تحےّر و تجسّس اہم عناصر ہوتے ہیں۔ ناول کے ڈھانچے کو تیار کرتے وقت ناول نگار کو اس کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے کہ وہ تاریخ کے ذریعہ محض اطلاعات اور مواد نہیں جمع کر رہا ہے بلکہ احساسات اور جذبات کی کہانی بھی لکھ رہا ہے۔ یہی فرق ہے تاریخ اورتخلیق میں جس کا پورا خیال ناول نگار کو رکھنا پڑتا ہے۔ نیز یہ بھی کہ ناول صرف گذرے ہوئے تاریخی کرداروں سے آگے نہیں بڑھتا بلکہ بعض خیالی کرداروں کے ذریعہ مستقبل کا حوالہ بھی بنتا ہے۔ اسی ناول میں اگر حیدر خاں اگر ماضی کا اشاریہ ہے تو سلیم مستقبل کا اعلامیہ۔ ناول کتنا ہی تاریخی کیوں نہ ہو انسانی سرگذشت کا المیہ و طربیہ ہوتا ہے۔ تاریخ تو حقائق و واقعات کا حساب کتاب رکھتی ہے لیکن قصہ، کہانی، ناول انھیں واقعات و حادثات کے تخےّل کی اُڑان بھرتا ہے اور پرانی حقیقتوں سے ایک نئی حقیقت کو جنم دیتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ قصّہ میں صرف تاریخ کی گونج سُنائی دیتی ہے، تاریخ نہیں۔ کچھ اس طرح سے کہ ماضی حال بن کر سامنے آئے اور مستقبل کو روشن کرنے میں معاون ہو، تبھی تو عاشق سلیم میدانِ جنگ میں اُتر آتا ہے اور آخر میں بزرگ حیدر خاں سے کہتا ہے:

”یہ فرنگی خواہ چٹان بن کر سامنے آجائیں، خواہ وقت دیواریں کھڑی کر دے۔ ہندوستانیوں کی آزادی کی چاہ میں بہنے والا یہ دھارا ہرگز نہیں رُکے گا۔ ایک نہ ایک دن انگریزوں کو یہاں سے جانا ہی پڑے گا۔“

اور سلیم کے چہرے کا اعتماد اور تبسّم کو دیکھ کر مایوس اور بزرگ حیدر خاں کو کہنا ہی پڑا:

”میں نے اپنے پیچھے آنے والی نسل کو تو دیکھا ہی نہیں تھا اور ہمت ہار بیٹھا۔ سچ کہتے ہو تم جب تک اس ملک میں تمھارے جیسے نوجوان پیدا ہوتے رہیں گے ایک فرنگی تو کیا ہر سامراجی طاقت کو یہاں سے جانا پڑے گا۔ سلیم تم نے مجھے دوبارہ زندگی سے جوڑ دیا۔ اب ہم بے سمتی کا سفر نہیں کریں گے۔“

                عزم، امید، نشاط پر ناول کا خاتمہ ہوتا ہے، لیکن ایک نئے باب کی شروعات ہوتی ہے۔ تاریخ مستقبل سے وابستہ ہو گئی۔ ایک پودا لگا جس نے پھل دیے( نوّے ) برس بعد۔ ایک اچھا ناول جہاں پر ختم ہوتا ہے وہیں خیالات کی ایک نئی دنیا کی شروعات ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے یہ ناول بامقصد اور بامعنی ہو گیا اور اگر کسی تکنیکی وجہ سے عمدہ تاریخی ناول نہ بھی ہوا ہو، لیکن ایک اچھا ناول ضرور بن گیا کہ اس ناول میں ”زندگی،زندگی سے نبرد آزما تھی۔“ اور بہت سارے سوالات تھے۔

                ناول اگر زندگی کا آئینہ ہے تو اس کا رزمیہ بھی اور کہیں کہیں اس کا المیہ بھی اور المیہ کے کوکھ سے فلسفہئ حیات جنم لیتا ہے۔ اقتدار، طاقت، جنگ و جدل ہی اکثر انسانی حیات کا مقصدِ حیات ہوا کرتا ہے اور اسی سے نظریہئ حیات جنم لیتا ہے اور پھر نظریہ فلسفہ بن جاتا ہے۔

                نورالحسنین کا یہ ناول ان حوالوں سے خاصا کامیاب ناول ہے جو تاریخ کا ہی نہیں زندگی کے پیچ و خم اور کیف و کم کا مفکّرانہ و فنکارانہ آئینہ دار ہے۔ اس عہد میں جب عام سماجی معاشرتی ناولوں کا ہی فقدان ہے، نورالحسنین نے تاریخی بلکہ اور آگے بڑھ کر فلسفیانہ نوعیت کا ناول لکھ کر ایک بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ جس کے لئے انھیں جتنی بھی مبارکباد دی جائے کم ہے۔

ذوقی کی فکری جہت نالہ شب گیر کے حوالے سے : الماس فاطم

 

 ذوقی کی فکری جہت نالہ شب گیر کے حوالے سے

 از۔الماس فاطمہ                          

 اورنگ آباد،مہاراشٹر    

                                  ”کیا کہتی ہے مجھ سے میری روٹھی ہوئی تقدیر

                                  ائے نالہئ شب گیر……..

                                  بیگانی ہوئی جاتی ہے مجھ سے میری تصویر

                                  ائے نالہئ شب گیر……..

                                  کیوں لکھنے لگا کوئی میرے درد کی تفسیر

                                  ائے نالہئ شب گیر……..“

                موجودہ عہد کی ایک ایسی شخصیت جو اپنے شاندار ناولوں اور افسانوں سے اردو ہی نہیں بلکہ ہندی دنیا میں بھی اپنا ایک منفرد مقام بنائے ہوئے ہیں وہ شخصیت مشرف عالم ذوقی کی ہے۔ ذوقی اب تک کئی ناولوں کی تخلیق کر چکے ہیں جس میں نیلام گھر،بیان،مسلمان،شہر چپ ہے،پوکے مان کی دنیا، لے سانس بھی آہستہ اور آتش رفتہ کا سراغ جیسے ناول شامل ہیں۔ یہ ناول اپنے علیحدہ علیحدہ موضوع کی بناء پر مشہور ہوئے ہیں۔ ذوقی نے اب تک جو بھی لکھا ہے بہت سوچ سمجھ کر پوری ذمہ داری سے لکھا ہے۔ ذوقی اپنے ناول کے ذریعہ ایک نیا موضوع اور نیا مسئلہ قاری کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اس کا حل بھی بتاتے ہیں۔ جہاں انھوں نے ”مسلمان“ میں ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت زار پر روشنی ڈالی ہے وہیں ”بیان“بابری مسجد کے انہدام کا نوحہ بیان کرتا ہے۔”پوکے مان کی دنیا“ نئی نسل اور نئی تہذیب کی افسوس ناک تصویر پیش کرتاہے تو ”پروفیسر ایس کی عجیب داستان وایا سونامی“ موجودہ عہد کی سماجی،سیاسی،مذہبی اور ادبی اورفکری نا انصافیوں کے خلاف اپنا احتجاج درج کراتا ہے۔ جہاں ”لے سانس بھی آہستہ“ تہذیبوں کے تصادم کی کہانی کو پیش کرتا ہے وہیں ”آتش رفتہ کا سراغ“ مسلمانوں کے خلاف رچی جا رہی سیاسی سازشوں کی قلعی کھولتا ہے۔

                ذوقی نے اپنے پچھلے تمام ناولوں کی طرح اس ناول کا موضوع بھی منفرد رکھا ہے۔ صرف موضوع ہی نہیں بلکہ اسلوب و تکنیک بھی دوسرے ناولوں سے علیحدہ استعمال کی ہے۔ اس ناول کے ذریعہ ذوقی نے ایسے مسئلے کو قاری کے سامنے پیش کیا ہے جو آج ہندوستان کا ہی نہیں بلکہ تمام ممالک کا مسئلہ بن چکا ہے اور یہ مسئلہ ایک عورت، اس کے حقوق اور اس کی عصمت و وقار کا ہے۔یوں تو عورتوں کے موضوع کو بہت سارے ناول نگاروں نے اپنے ناول میں جگہ دی ہے۔ منٹو،عصمت چغتائی،خدیجہ مستور،واجدہ تبسم وغیرہ مگر ایک عورت کے جس پہلو سے ذوقی نے ہمیں متعارف کرایا ہے وہاں تک شاید ہی کوئی ناول نگار پہنچا ہو۔انھوں نے اپنے ناولوں میں عورتوں کے درد و کرب، ان کی کمزوری، ان کے استحصال کے ذکر کے ساتھ ساتھ ان کے احتجاج اور انتقام کی کہانی کو بہت انوکھے انداز میں سچائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔

ذوقی نے اس ناول کے ذریعہ ایک ایسے سماج کو ہمارے روبرو کرایا ہے جہاں عورتیں ایک انسان نہ ہو کر محض ایک ضرورت بن چکی ہیں۔ جہاں ان کا استحصال کیا جاتا ہے اور ان کے آواز اُٹھانے پر ان کو موت کے کنویں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ ناول ایسے ہی سماج سے جوجھتی ہوئی ایک لڑکی کی کہانی ہے۔مشرف عالم ذوقی نے ناول کے آغاز میں صوفیہ مشتاق احمد کو ناول کی ہروئین کی حیثیت سے تعارف کرایا ہے مگر ناول کے مطالعہ کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ناول کی ہروئین صوفیہ نہ ہو کر ناہید ناز ہے۔

                 صوفیہ ذیلی کردار اور ناہید ناز کلیدی کردار کی حیثیت سے نظر آتی ہیں۔یہ ناول انہیں دو کرداروں کے گرد گھومتا ہے جہاں صوفیہ ایک ایسی بد نصیب لڑکی ہے جو تا زندگی پیار اور شفقت سے محروم رہی۔ اس کے والدین بچپن میں ہی انتقال کر گئے تھے۔اس کے بھائی بہن اس کو بوجھ سمجھ کر اس کی شادی کسی بھی لڑکے سے کرا کر اپنے فرض سے سبک دوش ہونا چاہتے ہیں۔ یہی صدمہ صوفیہ کو گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ تو دوسری طرف ناہید ناز ایک ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہے جو جہنم سے بھی بد تر ہے وہ اپنے ماں باپ بہن بھائی کے موجود ہونے کے باوجود پیار اور شفقت کو ترستی ہے۔ وہ خود کو اپنے ہی گھر میں محفوظ نہیں پاتی اور پھر ایک ایسا حادثہ پیش آتا ہے کہ ناہید کو بھی اپنا گھر چھوڑنا پڑتا ہے۔

”کچھ باقی رہ گیا ہے……میں امی کی طرف پلٹی……..میں نے پھر اس لفظ کو دوہرایا…….کچھ باقی رہ گیا ہے …….اماں کسی اور سوچ میں گرفتار تھیں۔لیکن یہ لفظ کچھ باقی رہ گیا ہے۔دیر تک میرے اعصاب پر سوار رہے۔ اندر کشمکش چل رہی تھی۔ گھر میں طوفان آسکتا ہے۔ جب گھر میں مردوں کو بہوش عظیم کا پتہ چلے گا تو ہنگامہ شروع ہو جائے گا۔ مجھے اس ہنگامہ سے پہلے ہی گھر چھوڑ دینا تھا۔ میں اب کسی مصیبت کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ جب کی میں اتنی باہوش تھی کسی بھی مصیبت کا سامنا کرنے کو تیار تھی۔“

                نالہئ شب گیر ہر اس لڑکی کی کہانی کو پیش کرتا ہے جو راہ چلتے، بسوں میں، کالجوں میں یہاں تک کہ اپنے ہی گھر میں خود کو غیرمحفوظ تصور کرتی ہے۔آزاد ہندوستان میں آج کوئی بھی عورت خود کو آزاد نہیں پاتی ہے۔ناول میں ذوقی نے ان دو نسوانی کرداروں کو اس طرح پیش کیا ہے کہ وہ قاری کا مرکز بنی رہتی ہے۔ایک صوفیہ مشتاق احمد اور دوسری ناہید ناز جو مرد سے انتقام لینا چاہتی ہیں۔ناول میں ذوقی نے خود کو مصنف کی حیثیت سے پیش کیا ہے جو ایک نئی کہانی کی تلاش میں گھومتا رہتا ہے۔ اسی بیچ جیوتی گنگ ریپ کا حادثہ ہوتا ہے اور پوری دہلی میں انقلابی آگ پھیل جاتی ہے اور انڈیا گیٹ کے چوراہے پر انقلابی مجمع میں مصنف کی ملاقات ناہید ناز سے ہوتی ہے،جو مصنف کو پر اثر انداز سے متاثر کرتی ہے اور وہ اس کی کہانی کو جاننے کے لئے بیقرار نظر آتا ہے اس کی یہی بیقراری اس کو ناہید ناز کے گھرنینی تال پہنچا دیتی ہے۔ وہاں ناہید اس کو اپنی زندگی کی ایسی کہانی سناتی ہے جس کو سننے کے بعد مصنف ہی نہیں قاری کے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ذہن سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا کسی گھر میں ایسا واقعہ بھی پیش ٓایا ہوگا۔ کیا کسی گھر میں ایسے بھی لوگ ہونگے جو انسان

نہیں بلکہ حیوان ہیں۔ جنہیں رشتوں کا لحاظ نہیں،جہاں بیوی،بھابھی،بیٹی،بھتیجی میں فرق ہی نہ ہو۔ کیا کوئی ماں اتنی بے بس ہو سکتی ہے کہ سب کچھ دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی آنکھ موندے رہتی ہے۔

                یہ ناول جہاں عورتوں کے استحصال کی داستان بیان کرتا ہے وہیں ایک عورت کا مردوں کے لیے نفرت اور انتقام کی بڑھتی ہوئی شدت کو بھی دکھاتا ہے۔ یہ ہر اس عورت کی داستان بیان کرتا ہے جو مردوں کے ظلم و جبر،جنسی زیادتی، تشدد،مردوں کی جھوٹی انا کے خاطر خود کو قربان کرتے کرتے تھک چکی ہے اور اب وہ ان سب سے آزادی چاہتی ہے۔ وہ آج مردوں کے کندھے سے کندھا ملا کر چلنا چاہتی ہے۔ ایک عورت جو ہر جگہ نظر آتی ہے فلم سے لے کر سیاست تک،اسکول کالجوں سے لے کر اسپتال تک وہ ہر جگہ موجود ہے مگر جب وہی عورت اپنے گھر سے نکلتی ہے تو یہ مرد اور سماج اس پر الزام لگانے سے نہیں چوکتا۔ اگر وہ کسی مرد سے بات کرتی ہے تو اس کے ساتھ اس کا رشتہ بنا دیا جاتا ہے۔ ہمیشہ عورت کے بارے میں غلط ذہن کیوں رکھا جاتا ہے۔ مردوں کے لیے ایسا کیوں نہیں سوچا جاتا ہے۔ انہیں سوالوں کے منجدھار میں پھنسی ناہید ناز کو جب لغات کاکام ملتا ہے تو وہ فاحشہ،کلنکنی،طوائف،رنڈی،وحشیا یہ سارے نام وہ مردوں سے منسوب کر دیتی ہے اور کہتی ہے کہ آنے والے وقتوں میں مرد کو اسی ناموں سے جانا جائے گا۔اس کو اسی ناموں کے ساتھ جینا ہوگا۔

                یہ ناول ایسے سماج کے احتجاج کی کہانی ہے جہاں عورت کس طرح برسوں سے صدمے اٹھا رہی ہے، ان کا کلیجہ مردوں کے طعنوں اور ان کے کوسنے سے چھلنی ہو چکا ہے، ناسور بن چکا ہے اور جب یہ ناسور پھٹتا ہے تو ناہید ناز جیسی عورت وجود میں آتی ہے۔ جو سماج کی ہر بندشوں کو توڑنا چاہتی ہے عورت کے راہ میں بچھے کانٹوں کو نکال پھیکنا چاہتی ہے۔وہ مردوں سے ان کے ظلم کا انتقام لینا چاہتی ہے۔ ہر وہ کام جو عورت سے منسوب ہے مردوں کے نام کرنا چاہتی ہے۔ اس لئے ناہید ناز کمال کو بار بار ہر وہ کام کرنے پر مجبور کرتی ہے جو ایک مرد کی انا کو گواراہ نہیں اور آخر میں وہ کمال کو گھر سے باہر نکال دیتی ہے۔

”میں کانپ رہا تھا’تم جانتی بھی ہوتم کیا کر رہی ہو___پاگل ہو گئی ہو تم___‘

’بس نکلو___ ورنہ دھکے مار کر……… لوہے کا ڈنڈا پاگل پن کے انداز میں گھوماتی ہوئی وہ مجھے باہر والے دروازے تک لے آئی __اس کے چہرے کا رنگ اچانک بدلہ تھا __اب اس چہرے پر مسکراہٹ تھی__وہ غصہ سے میری طرف دیکھتی ہوئی چیخی __تم لوگ ایسے ہی اپنی بیویوں کو گھر سے باہر نکالتے ہونا__؟ دھکے مار کر…….؟ سوچتے بھی نہیں کہ وہ کیا کرے گی؟ کہاں جائے گی__تمہارے الفاظ اس پر کیا اثر کریں گے __؟ سب کچھ بھول جاتے ہو تم لوگ نا…….؟ اب میں یہی کرنے والی ہوں …….دیکھ کیا رہے ہو__نکلو باہر ……..باہر نکلو____؟“

                                                                                                (نالہئ شب گیر۔ مشرف عالم ذوقی ص ۲۵۳)

ناہید اپنے شوہر کے انتقام کے ذریعہ مردوں کو یہ سبق دینا چاہتی ہے کہ اب کوئی مرد عورت کے ساتھ زیادتی کے بارے میں سوچے گا بھی نہیں۔ آج عورت اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ وہ مردوں کے سہارے کے بنا اپنی زندگی خوشگوار طریقے سے گزار سکتی ہے اور ناہید ناز نے ایسا کر کے بھی دیکھا یاساپنے گھر کو خیر آباد کرنے کے بعد وہ ایک ایسے گروہ سے جڑ جاتی ہے جو صرف عورتوں کے لیے ہی کام کرتا ہے،وہ عورتوں کو بنا مرد کے جینا سیکھاتا ہے۔

                صدیوں سے عورتوں کے ساتھ مردوں کا جو رویہ رہا ہے وہ غیر مناسب ہے۔ مگر آج زمانہ بدلہ ہوا نظر آتا ہے اب کہا جاتا ہے کہ عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق ملنا چاہئے انہیں بھی آزادی سے جینے کا حق ہے مگر آج جب عورت مردوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہتی تو ہمارا سماج ہی اسے پیچھے دھکیل دیتا ہے کیوں؟وہ کہتا ہے کہ ہم عورتوں کی عزت کرتے ہیں وہ یہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم مردوں کی عزت کرتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ” ہم عورتوں کی عزت کرتے ہیں ” کا مطلب ہی یہی ہے کہ عورتوں کو مردوں کی برابری کا درجہ نہیں مل پا رہا ہے__مگر کیوں؟ ایسی کیا وجہ ہے جو عورتوں کومرد کے برابری کا درجہ نہیں مل پا رہاس ہے لہذا عورتوں کو ابھی اور طاقتور بننے کی ضرورت ہے تا کہ وہ مردوں کے سماج میں سر اُٹھا کر چل سکے اور ان کو یہ کہنے پر مجبور کر سکے کہ ”ہاں عورت اور مرد برابرہیں۔“

 "چھو کر دیکھو دل میرا میں دل میں تم کو بھر لونگی

پر چھیڑ کر دیکھو تم مجھکو میں تم کو نہیں  جینے  دونگی”

                نالہئ شب گیر میں ذوقی نے سادہ مگر ٹھوس الفاظ کا استعمال کیا ہے کہیں کہیں انھوں نے ایسے الفاظ اور جملے لکھے ہیں جو دل کو چھو جاتے ہیں۔ نالہئ شب گیر میں انھوں نے عبارت میں یا کرداروں کے مکالموں میں ایسے جملے لکھے ہیں جو ساخت کے اعتبار سے مختصر ہوتے ہیں مگر ان کے اندر جو گہرائی چھپی ہے وہ قاری کے ذہن اور اس کے وجود میں ایک تلاطم برپا کردیتی ہے۔

”اور اب میری سمجھ میں آیا کہ ان سب کے پیچھے کون ہے __؟ مائی گاڈ……..سب کچھ آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا اور ہم کتنے بے خبر تھے۔

’ان سب کے پیچھے کون ہے؟‘ ناہید کا لہجہ بھی بدل گیا تھا۔

’عورت‘

نرمل اساس کا لہجہ اس وقت برف کی طرح سرد تھا __’عورت‘ جس نے آئی ٹی انڈسٹری سے سائبر اسپس تک قبضہ کر لیا۔ اور انتہائی ہوشیاری سے مردوں کو ایک نیا مرد بنا دیا۔ یعنی عورت…….“

                                                                                                (نالہئ شب گیر۔ مشرف عالم ذوقی ص ۹۱۳)

                مشرف عالم ذوقی نے روز مرہ کے پیش آنے والے واقعات و حادثات کا بہت گہرائی سے مشاہدہ کیا ہے اور اس کو سچائی کے ساتھ اپنے ناول میں سمو دیا ہے۔ ان کا لہجہ، اسلوب،اندازِ بیان سادہ اور سلیس ہے۔ کہیں کہیں علامتیں نظر آتی

ہیں مگر ایہام نہیں ہے۔ ذوقی نے ناول میں ناہید ناز کے ذریعہ ان مردوں کے خلاف احتجاج پیش کیا ہے جو عورتوں کا استحصال کرتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے خلاف اپنا غم و غصہ بھی درج کرایا ہے۔ذوقی نے بیچ بیچ میں چھوٹی چھوٹی نظمیں اور مرثیوں کا استعمال بھی کیا ہے۔ یہی وہ منفرد اسلوب ہے جسے ذوقی نے اپنایا ہے اور وہ اس نئے اسلوب کی بدولت وہ اردو ادب کو ایک نیا ڈائمنشن دینے میں کامیاب رہے ہیں۔ اپنے اسلوب اور طرزِفکر کی وجہ سے یہ ناول اس موضوع پر لکھی جانے والی تحریروں میں زیادہ قابلِ اعتنا نظر آتا ہے۔ ناول کے سارے افرادوواقعات ٹھوس اور حقیقی نظر آتے ہیں اور ایسا شاید اس لیے ہو سکا کہ ناول کی زبان اور پیرائے بیان بھی ٹھوس، غیر جذباتی اور تعمیری ہیں۔اس میں موزونیت اور لطافت نہیں جو شاعرانہ نثر کا حصہ ہے۔لیکن خشک اور بے رنگ الفاظ کی اوٹ سے گہری سوچ اور عصری حقائق سے الجھنے والی فکر کی کرنیں اس طرح پھوٹتی ہیں کہ ذہن چکا چوند ہو جاتا ہے۔ناول میں سلاست اور روانی اتنی ہے کہ ناول بوجھل نہیں معلوم ہوتا ہے اور قاری کی دلچسپی آغاز سے اختتام تک بنی رہتی ہے۔

”مگر کیا سچ مچ ایسا ہے میڈم……..نہیں مجھے معاف کیجئے گا۔ کیا یہ دنیا اس حد تک بدک چکی ہے؟

یہ اپنے اپنے نظریہ سے سوچنے اور دیکھنے کی بات ہے……..،

’ہاں۔‘یہ بھی ٹھیک ہے،…….نرمل اساس مسکرانے کی کوشش کر رہا تھا__’اور آپ نے صیحح کہا۔ ڈسکو چلے جائیے۔ نئی نسل کو دیکھئے۔ مرد اور عورت اور عورت مرد……..یعنی سمجھ میں نہیں آتا کہ کون کیا ہے۔میرے بیٹی کانوں میں چھلے پہنے ہیں۔بیٹی لڑکوں کی طرح رہتی ہے۔ شاید آپ ٹھیک کہتی ہیں۔لیکن اس بدلتی ہوئی صورت حال میں …….وہ شیشے کے کیبن سے باہر دیکھ رہا تھا__’تبدیلی بہر حال ہم ایک بڑی اور خوفناک تبدیلی کی زد میں ہیں۔“

                                                                                                (نالہئ شب گیر۔مشرف عالم ذوقی ص ۰۱۳)

                نالہئ شب گیر کے بعد یہ بہ آسانی کہا جا سکتا ہے کہ ناول موضوع کے اعتبار سے قاری کو متاثر کرتا ہے اور پڑھتے وقت  وہ اپنے آپ کو ناول سے وابستہ کر لیتا ہے کیوں کہ یہ تمام حالات اس کے اپنے عہد کے ہیں اور ان تمام واقعات سے وہ کہیں نہ کہیں گزرتا بھی ہے۔ ذوقی کا یہ ناول بلا شبہ دور حاضر کی تلخ سچائی ہے۔ کم کرداروں اور پر کشش لب و لہجہ کی بناء پر یہ ناول دلچسپ ہے۔ جیوتی گنگ ریپ اور اندیا گیٹ پر انقلابی ماحول تو سبھی کے ذہنوں میں آج بھی موجود ہے لیکن ْٖٖؒذوقی نے اپنے کرداروں کے ذریعہ نالہئ شب گیر میں ہمیشہ کے لئے درج کرادیا ہے۔

٭٭٭

معاشرے کی تشکیل میں کہانیوں کا اہم کردار: پرو فیسر صغیر افراہیم

  معاشرے کی تشکیل میں کہانیوں کا اہم کردار: پرو فیسر صغیر افراہیم

  عظیم اسٹریٹ،سر سید نگر،علی گڈھ،میں اسلم جمشید پوری کے اعزاز میں ”شامِ   افسانہ“
  علی گڑھ (ایس این بی)

                              ”کہانی لکھنا مشکل فن ہے۔کہانی سننے اور سنانے کا دور وا پس لوٹ آ ئے تو تہذیبی زوال رک سکتا ہے۔ معاشرے کی تشکیل میں کہانیوں کا اہم کردار ہو تا ہے۔“ان خیالات کا اظہار معروف ناقد پرو فیسر صغیر افرا ہیم نے ڈاکٹر افشان ملک کے دولت کدے عظیم اسٹیٹ، سر سید نگر میں نئی نسل کے منفرد افسانہ نگارجناب ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کے اعزازمیں شام ِافسانہ“ تقریب میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہو ئے کیا۔انہوں نے مزیدکہا کہ ناول اور افسا نہ نگار بے حد حساس ہو تے ہیں اور وہ زمانے کے درد کو پہلے خود پر طاری کرتے ہیں تب جا کر کوئی فن پا رہ تخلیق ہو تا ہے۔انہوں نے از سر نو کہانی کا رواج فروغ دینے پر زور دیا۔بزم افسا نہ کے مہمان اعزازی، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کے شعبہئ اردو کے صدر،معروف افسا نہ نگار ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری نے اپنا تا زہ افسا نہ ”انجان راہوں کا مسافر“ پیش کیا۔ جس میں انہوں نے شہروں کی تاریخ کے ساتھ نیا تجر بہ پیش کیا۔ انسان کے ساتھ انسان کے بے حسا نہ رویہ اور بے بس باپ کے کردار کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا۔
پرو فیسر نجمہ محمود نے علامتی انداز کا افسانہ”غار“ پیش کیا۔ جس کی فضا فلسفیا نہ خیالات، رو حانیات،عرفا نیات سے پر نظر آ تی تھی۔پرو فیسر طارق چھتا ری نے اپنے نئے نا ول کے ایک باب”آسان منزل“ کو پیش کیا۔جس میں نہ صرف زبان و بیان کی لطا فتوں نے محظوظ کیا بلکہ حنیف جراح اور میر سخا وت علی جیسے کرداروں کی پیش کش نے بھی بہت متا ثر کیا۔آصف اظہار علی نے افسا نہ”اندھیرا اجالا“ پیش کیا جس میں ایک بے میل شادی اور اس کے مسا ئل کو مو ضوع بنایا گیا۔ڈا کٹر افشاں ملک نے افسا نہ”سمندر،جہاز اور میں“ پیش کیا۔ جو کہ ماضی اور حال کے رشتوں کو تاریخ و قصص کے وسیلے سے علا متی انداز میں پیش کرتا ہے۔ انجینئر فرقان سنبھلی نے افسانہ ”دائمی جہیز“ پیش کیا۔ جس میں انہوں نے جہیز کے بدلتے انداز اور انسانی دماغ کی ترقی یا فتہ شکل کو پیش کیا ہے۔
اس مو قع پر خالد ندیم،غیاث الدین ملک، کلیم تیاگی، مجیب شہزر، اظہار علی وغیرہ نے بطور خاص شرکت کی۔

                                                                                 *************************

ریت پر ….ایک ناقص رائے : محمد زکریا

  ریت پر ….ایک ناقص رائے

  محمد زکریا
  پرنسپل،کریم سٹی کالج
  جمشید پور

                          ”ریت پر کھینچی ہوئی لکیر“ کے مسودے کوپہلے تو الٹ پلٹ کر دیکھا،کچھ کہانیوں کو سنجیدگی سے پڑھا اور پھر ایک انجانے عذاب میں پھنسا۔پرویز نے بڑی محبت سے کہانیوں پر کچھ لکھنے کا اصرار کیا۔پہلے تو یقین ہی نہیں ہوا کہ مجھ سے کیا مطالبہ کیا جارہا ہے،اوریہ افواہ کس نے پھیلادی کہ کہانیوں پر میں بھی رائے دے سکتا ہوں۔میں تو ٹھہرا معمولی قاری اور ادبی محفلوں کا سنجیدہ سامع ….!چلو افواہ کا ایک فائدہ تو ضرور ہوا کہ بیٹھے بٹھائے ہم بھی پڑھے لکھے لوگوں کی صَف میں شامل ہوگئے….!اور جب معلوم ہوا کہ پرو فیسر احمد بدر اور ڈاکٹر اختر آزاد نے اس کتاب ِ مستطاب پر امام ضامن باندھ کر دَم کردیا ہے تو میری حیثیت تو اس مولوی کی ٹھہری جو بغیر کچھ پڑھے فاتحہ کی مٹھائی پر پھونک مارتا ہے اور اپنی عافیت خراب کرتا ہے…!
                           کہانی پڑھنا،سمجھنااور پھر ہضم کرنا-ان تینوں مراحل سے گزرنے کے بعد جو رائے وجود میں آئے گی۔اسے گرانقدر رائے کہیں گے۔اس میں سب سے سخت مرحلے کا تعلق نظامِ ہاضمہ سے ہے کیوں کہ اپنچ حالت میں جو رائے قائم ہوگی وہ گرانقدر تو ہوہی نہیں سکتی۔ہاں قاری پر صاحبِ کتاب پر ”قدرے گراں“ ضرور گزرے گی۔ویسے کچھ ناقدوں نے مصلحت پسندی کا عقیدہ قائم کرتے ہوئے ایک ”رائج الوقت“رائے ایجاد کرلی ہے۔یعنی وہ رائے جو بغیر پڑھے عالم وجود میں آئے -اور اس میں یہ بھی ضروری نہیں کہ مسودہ صاحب ِ رائے نے دیکھا بھی ہو۔ اس ترکیب کے ڈھیر سارے فوائد ہیں اور اس میں کسی کو کوئی شکایت بھی نہیں ہوتی۔ظاہر ہے الہامی باتیں ہمارے یہاں مستند ہیں۔صاحبِ کتاب بھی خوش،قاری بھی خوش اور ناقد پر بھی مصنف کے کاری حملے کا کیس درج نہیں ہوگا۔ادب کی خدمت اور باہمی اتحاد و اتفاق قائم کرنے کی بھلا اس سے بہتر ترکیب اور کیا ہوسکتی ہے۔مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی پڑھا لکھا ہو، کیوں کہ ہمیشہ گمراہی ان پڑھ کے حصے میں نہیں۔
زندگی کھٹے میٹھے واقعات و حادثات کا پلندہ ہے۔اور جب ان واقعات و حادثات کو مشاہدے کی کوئی ہنر مندی کے ساتھ جملوں میں پرونے کا سلیقہ آجائے تو جو چیز وجود میں آئے گی اسے کہانی یا افسانہ کا نام دے سکتے ہیں۔مگر کہانی لکھنے والا تخلیق کار اس وقت بنتا ہے،جب وہ اپنے اندر سے باہر آکر گرد وپیش میں ہونے والے واقعات و حادثات کو بھی اپنے تخلیقی سوتے سے جلا بخشے۔
                             پرویز کی کچھ کہانیاں مثلا ”خانے تہہ خانے“،”آخری پرواز“،”نقطے کا سفر“ اور”کہانی کا دوسرا رخ“ وغیرہ جدید لب و لہجہ اختیارکیے ہوئی ہیں۔ پرویز نے کچھ بیانیہ کہانیاں بھی لکھی ہیں۔مثلا”ریت پر کھینچی ہوئی لکیر“، ”رشتے کی بنیاد“ وغیرہ۔مگر بیانیہ افسانوں میں بھی یہ علامتوں اور استعاروں سے گھرے نظر آتے ہیں۔یہ برائی نہیں ہے،بلکہ ایک منفرد انداز ہے، جس کو ایمانداری سے برتنے کے لیے بڑی ریاضت و مشقت کی ضرورت ہے۔ ”ریت پر کھینچی ہوئی لکیر‘پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پرویز کا تخلیقی چشمہ زندہ ہے۔اور اس چشمے سے اور بھی کہانیاں پھوٹیں گی اور افسانوی ادب میں منفرد انداز کے ساتھ ایک نئے باب کا اضافہ ہوگا۔
                              افسانوی مجموعہ ”ریت پر کھینچی ہوئی لکیر“ کے کچھ افسانوں کو پڑھ کر نہ جانے کیوں ایک نظم کے کچھ ٹکڑے ذہن پر دستک دینے لگے۔جب پوری نظم یاد آئی تو محسوس ہوا کہ پرویز کے افسانوں پر اس سے زیادہ میں اور کیا لکھوں پہلے تو ڈرا کہ نظم دوسرے کی ہے،بغیر اجازت اسے کیسے شامل کروں۔پھر سوچا کہ جب نظم دوسرے کی ہے تو سنانے میں ڈر کیسا؟
خدا ایسا نہیں کرتا
کہ اپنے نیک بندے کو
عطا کرکے وہ آنکھیں
نیند سے محروم کر ڈالے
کئی برسوں سے ان آنکھوں سے میری نیند روٹھی ہیں
تو کیا میں آسمان والے کاکوئی خاص بندہ ہوں
میں کوئی چور ہوں
مجرم سا اِک احساس رکھتا ہوں
جو میری خشک پلکوں کو
کبھی جڑنے نہیں دیتا
وہ بچہ ہوں
طلسمی ماجرے میں
جس کی حیرانی نہیں جاتی
میں کوئی داستاں ہوں
جس کو
صدیوں سے سنایا جارہا ہے
اور ادھوری کی ادھوری ہے
کوئی بھٹکا ہوا راہی ہوں
پوری شب
اندھیرے جنگلوں کے بیچ گزرا ہوں
جہاں بھی روشنی دیکھی
اسے نور ِ ہدایت جان کر
اس کی طرف لپکا
ہر اک جھوٹی بلندی
چَھل یوں ہی کرتی رہی مجھ سے
مسلسل نیند سے محروم!
پابندِ ستم بندہ
کرم فرمائے اب مجھ پر
جو مجھ کو نیند آجائے
میں اپنی ذات کے اسرار
اپنے خواب میں دیکھوں
خدا کے واسطے
گر یہ نہیں ممکن تو ایسا ہو
میری ہلتی ہوئی یہ پتلیاں
پتھر کی ہوجائیں!
عجب زہریلی بے خوابی کا نشہ
مجھ پہ طاری ہے!
رگوں میں دوڑتی سیال ناگن
جھومتی ہے رقص کرتی ہے
جگائے رکھتی ہے
سونے نہیں دیتی!
اسے معلوم ہے کہ
میں قلو پطرہ کا عاشق ہوں
خدا محفوظ رکھے
میری یہ بے خواب آنکھیں
نیل کے ساحل پہ رہتی ہیں۔

٭٭٭

ادب کی تعلیم کے بغیر انسان ادھو را ہے : ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری

          ادب کی تعلیم کے بغیر انسان ادھو را ہے : ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری

                   میرٹھ پبلک گرلز اسکول، شاستری نگر،میرٹھ میں  ”ادب پر ایک کوئز“  کا  انعقاد

 

                 (پریس ریلیز)

                    میرٹھ26/ اگست2014ء

                  ”ادب انسان کو زندگی گزارنے کے سلیقے سکھاتا ہے۔ ادب کی تعلیم کے بغیر انسان ادھو را ہے۔ دنیا کی تمام زبانوں کا ادب انسان کو سوچنے، سمجھنے اور غورو فکر کر نے دعوت دیتا ہے۔“ یہ الفا ظ صدر شعبہ اردو ڈا کٹر اسلم جمشید پوری کے تھے۔وہ میرٹھ گرلز پبلک اسکول، شاستری نگر میں ادب پر منعقد ایک کوئز میں بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہاکہ”شاعری، افسا نہ، ناول وغیرہ آج کے آلودہ ماحول میں تازہ ہوا کے مانند ہیں۔“

                پرو گرام کی شروعات مہمان خصوصی ڈا کٹر اسلم جمشید پوری، مہمان ذ ی وقار محترم وکرم شاستری(ڈائریکٹر آف اسکول) اور محترمہ کیتکی سنگھ شاستری کے استقبال سے ہوا۔

                کوئز میں اسکول کے چار ہاؤسز  (۱)  اہلییہ (۲)   میتری  (۳)  سروجنی   (۴)  گارگی ہاؤس،نے حصہ لیا۔ ہر ٹیم میں چار ممبران تھے۔اردو،ہندی اور انگریزی ادب کے سوا لات پر مبنی اس ادبی کو ئز کی فاتح اہلییہ ہاؤس کی ٹیم رہی جب کہ میتری ہا ؤس کی ٹیم نے دوسرا مقام حاصل کیا۔ مہمانان نے بچوں کو اسناد تقسیم کیں۔ اسکول کی پرنسپل ڈاکٹر مر نالنی اننت نے مہمانوں کا استقبال اور نتائج کا اعلان کیا۔کوئز کا انعقاد محترمہ یا تیکا، مو نیکا اگر وال وغیرہ نے کیا۔

 

شموئل احمد کی افسانہ نگاری : ڈاکٹر پرویز شہریار

 

  شموئل احمد کی افسانہ نگاری
   ڈاکٹر پرویز شہریار 
   ایڈیٹر،این سی ای آر ٹی، نئی دہلی16-(انڈیا)

                   شموئل احمد کی پہچان اُن کے مشہور افسانہ ”سنگھاردان“ سے قائم ہوتی ہے،لیکن خود شموئل احمد کو ”عنکبوت“ میں شامل افسانہ ”ظہار“بہت پسندہے۔ بہر حال،”ظہار“ اگرشموئل کا سب سے پسندیدہ افسانہ ہے تو ”سنگھاردان“ کی بھی اپنی انفرادی شان ہے۔
شموئل احمد نے اس افسانے میں جس طرح ہندوستانی مسلمانوں کی اجتماعی سائیکی پر سوار فسادات کے مضر اثرات کے آسیب کو بوتل میں قید کیا ہے۔اس کمال ِفن تک مابعد جدیدیت کے اچھے سے اچھے افسانہ نگار کی رسائی ممکن نہیں ہو پائی ہے۔ اعتراض کرنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ آٹھویں دہائی کے بعد افسانہ نگاری کے نام پر زیادہ تر رپورٹنگ ہوئی ہے۔ایسے ناقدین ادب سے میری مودبانہ گزارش ہے کہ وہ ایسے قلب کو بے چین کر دینے والے احساسات اورروح کو فگار کر دینے والے کٹیلے واقعات پر مبنی شموئل کے افسانے کی قرات سے خود کو کم از کم ایک بار ضرور گزاریں اور دیکھیں کہ اس افسانے میں موجود آتشیں شعلوں سے وہ کس حد تک اپنا دامن بچا پاتے ہیں۔ المختصر، یہ افسانہ شموئل احمد کا معجزہئ فن ٹھہرا ہے۔
شموئل نے ایسے ایسے موضوعات پر افسانے لکھے ہیں جن پر میں سمجھتا ہوں کوئی بھی میڈیا خواہ وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا رپورٹنگ نہیں کر سکتا ہے۔ادب اگر تہذیبی دستاویز ہے تو شموئل کے افسانے اپنی تمام تر جمالیاتی قدروں کے ساتھ فنکارانہ تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اپنے اسلوب کی انفرادیت کے ساتھ ادبی دستاویز قرار دیئے جاسکتے ہیں۔
فسادات میں کشت و خون، آتش زنی اور لوٹ مار عام بات سمجھی جاتی ہے۔جس کا نوحہ قریب قریب سبھی افسانہ نگاروں نے لکھا ہے۔جانی اورمالی زیاں کا حساب بہتوں نے پیش کیا ہے۔دل و دماغ کے زخمی ہونے اور فوری ردّعمل کی صورت میں نفسیاتی طور پر اعضائے رئیسہ کے مفلوج ہونے کے واقعات بھی قلم بند کیے گئے ہیں۔لیکن سنگھاردان کے قلیدی کردار برجموہن اور اس کی تین جوان بیٹیوں اور بیوی کا قلب ماہیئت ہو جانا اور اپنے تمام ہوش و حواس کے ساتھ رنڈیوں اور دلال میں تبدیل ہو جانا، اپنے آپ میں ایک ایسا عجیب و غریب واقعہ ہے جوکہیں نہ کہیں ہندوستانی مسلمانوں کی متاثرہ سائیکی کو چھو جاتا ہے۔یہی اس افسانے کے موضوع اور اس کے ٹریٹ منٹ کی غیر معمولی کامیابی کا راز ہے۔

اسی طرح،ان کا افسانہ ”ظہار“ بظاہر ایک مذہبی معاشرت سے تعلق رکھنے والا افسانہ ہے۔ لیکن جس طرح سے شموئل نے اس موضوع کو افسانہ کیا ہے وہ ان ہی کا حصہ ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ کہانی کے ہیروپر اس کی بیوی نجمہ حرام ہوگئی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ اس نے خلوت میں جنسی عمل کے پس منظر میں بیوی کو ماں سے تشبیہ دے دی تھی۔ ایسا کر کے وہ ظہار جیسے گناہ کا مرتکب ہوگیا تھا اور اس کے بعد وہ کفارہ ادا کیے بغیر بیوی سے جنسی تعلقات کے لیے رجوع نہیں کرسکتا تھا۔ 
شہر قاضی نے اس کے لیے مشورہ دیا تھا کہ ——-
”شوہر کو چاہیے کہ ایک غلام آزاد کرے یا دو ماہ مسلسل روزہ رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کھانا کھلائے۔“
نجمہ کے دو سال بعد بھی جب بچہ تولید نہ ہوا تو ساس نے مشورہ دیا کہ وہ چربیا گئی ہے اس لئے بچہ نہیں جن سکتی ہے۔ نجمہ کے شوہر کو لگتا ہے کہ ماں اس کی دوسری شادی نہ کردے کیونکہ وہ نجمہ سے بے انتہا پیار کرتا ہے حالات کے دباؤ میں وہ غیر فطری جنسی پیش رفت کر بیٹھتا ہے۔ نجمہ ایک موذن کی بیٹی، مذہبی خیالات کی لڑکی تھی وہ اسے گناہ سمجھتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کفارہ کے طور پر کہانی کا ہیرو جو کہ پیشے کے اعتبار سے کاتب ہے وہ مجاہدہ کی ٹھان لیتا ہے۔ وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھتا ہے اس کے بعد جب نجمہ کی صحبت میں جب اسے جنسی حاجت محسوس ہوتی ہے تو وہ وضو بنا کر نماز کے لئے کھڑا ہوجاتا ہے اور خود پر لعنت بھیجتا ہے:
”تف ہے مجھ پر کہ پیشاب دان سے پیشاب دان کا سفر کروں ……“
اس کہانی کا اصل موضوع ملکوتی خواہشات کے ذریعے جبلی خواہشات پر قابو ہے۔ بے شک یہ عارضی کیفیت ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عورت اور مرد کے فطری خواہشات کے ابلتے ہو سرچشمے کو سنگ ملکوتیت سے دبایا جاسکتا ہے۔ اخلاقی اور مذہبی اصول وضوابط کے تحت قابو میں کیا جاسکتا ہے؟
شموئل کا اپنا اسلوب بیان اس افسانے میں بھی جلوہ افروز ہے وہ عورت اور مرد کے خلوت کی جزیات اپنے انداز سے بیان کرتے ہیں۔ جب کہانی کا ہیرو اپنی غیر فطری پیش رفت پر تاسف کررہا ہوتا ہے تو اس کی جزئیات دیکھئے:
”نجمہ اسی طرح سوتی تھی……وہ اس کے لب ورخسار کو چومتا تھا۔ آخر کیا کمبختی سوجھی کو لبھانے لگے اور اس نے لواطت کو راہ دی……؟ اس پر شیطان غالب ہوا۔ اس کو حیرت ہوئی کہ کس طرح وہ اپنا ہوش کھو بیٹھا تھا……؟ اس نے نجمہ کے ساتھ زیادتی کی……وہ ڈر گئی تھی۔ ہر عورت ڈر جائے گی…… نجمہ تو پھر بھی معصوم ہے۔ نیک اور پاک صاف بی بی……جیسے خدا نے ایک ناہنجار کی جھولی میں ڈال دیا۔“
اس افسانے میں نفس امارہ کی کرشمہ زائیوں سے لڑنے کے لیے گر سنگی کو ہتھیار بتایا گیا ہے۔ گناہوں سے توبہ، معانی عبارت، روزہ، اپنے نفس سے مجاہدہ، دنیاوی لذتوں سے اجتناب کے ذریعے خباثت پر قابو پایا جاسکتا ہے بشرطیکہ یہ سبھی اعمال سچے دل سے کیے جائیں۔
”اس کو پہلی بار احساس ہوا کہ عبادت کا بھی اپنا سرور ہے۔ واپسی میں قاضی سے ملاقات ہوئی۔ قاضی اس کو دیکھ کر مسکرایا۔ ”مسجد نہیں آتے ہو میاں ……؟“
جواب میں وہ بھی مسکرایا۔
”جہنم کی ایک وادی ہے جس سے خود جہنم سو بار پناہ مانگتی ہے اور اس میں وہ 

علما داخل ہوں گے جن کے اعمال دکھاوے کے ہیں۔“
”مصر کی ڈلی“ بھی نو بیاہتا جوڑے راشدہ اور عثمان کی ازدواجی زندگی سے جنسی کشش اور مدافعت کی کہانی ہے۔ ایسے باریک احساس کی کہانی ہے جہاں ایک شریف نوجوان عثمان اپنی بیوی راشدہ کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا ہے اور اسے اس کی خوشی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے درپے رہتا ہے لیکن اس کے جنسی رویوں تہہ وبالا کر دینے والی وہ عورت نہیں ہے اس کی بیوی راشدہ جس کی متمنی ہے۔ راشدہ جنسی اعتبار سے گرم اور پہل کرنے والی جوان عورت ہے تاہم راشد کی طرف سے وہ والہانہ پن کی کمی اسے اپنے گھر کے سامنے آئے نئے پڑوسی الطاف کی طرف ملتفت کر دیتی ہے۔ یہ دو اقتباس دیکھیں:
”عثمان کے ہاتھ کھردرے ہوں گے لیکن اس کی گرفت بہت نرم تھی……وہ بھنبھوڑتا نہیں تھا…… وہ راشدہ کو اس طرح چھوتا جیسے کوئی اندھیرے میں بستر ٹٹولتا ہے……!“
”جنسی فعل کے دوران کوئی شیشہ دیکھے گا تو کیا دیکھے گا……؟ جبلت، اپنی خباثت کے ساتھ موجود ہوگی۔ لیکن عثمان کے ساتھ ایسا نہیں تھا…… وہ اس کے لب ورخسار کو اس طرح سہلاتا جیسے عورتیں رومال سے چہرے کا پاؤڈر پونچھتی ہیں!“
عثمان کا نیا پڑوسی الطاف کسی نہ کسی بہانے سے ان کی ازدواجی زندگی میں آڑے آتا ہے اور عثمان کے دل ودماغ میں شبہ جڑ پکڑنے لگتی ہے، اس افسانے کے کردار اور واقعات کو شموئل نے ستاروں کی خصلت کے پیرائے میں بیان کیا ہے۔ عثمان کا ستارہ منگل ہے لیکن الطاف شنی ہے۔ شنی چمر چٹ ہے، وہ پیچھا نہیں چھوڑتا۔ شنی دکھ کا استعارہ ہوتا ہے اورمنگل خطرے کی علامت ہے کہتے ہیں کہ شنی اور منگل کا جوگ اچھا نہیں ہوتا۔ چوتھے خانے میں ہو تو گھر برباد کردے گا اور دسویں خانے میں ہو تو دھندہ چوپٹ کرے گا۔
راشدہ بہت پیار دینے والی عورت تھی۔ اس لیے عثمان کو الطاف سے زیادہ اپنی بیوی راشدہ سے خطرہ محسوس ہونے لگتی ہے۔ جب بھی عثمان الطاف کی چوری پکڑ لیتا ہے راشدہ اس کا بیچ بچاؤ کرنے لگتی ہے۔
الطاف عثمانی کے غیر موجودگی میں موقع دیکھ کر راشدہ کی قربت حاصل کر لیتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ کھل کھیلنے لگتے ہیں الطاف کی نوازشیں جاری رہتی ہیں۔ کبھی مچھلی، کبھی باسمتی چاول کی کھبی تیل مصالحہ کبھی سبزیاں مٹھائی کے ڈبے وغیرہ وہ تحفے تحائف کے طور پر دے جاتا ہے۔
شنی کی ایک خوبی اور ہے شنی جس کا دوست ہو جائے،اسے اپنی نوازشوں سے لاد دیتا ہے۔ شموئل نے اس پہلو کو ’مصری کی ڈلی‘ میں عملاً ہوتا ہوا دکھایا ہے۔
آخر میں عثمان اس مداخلت بے جا کا اس قدر عادی ہوجاتا ہے کہ اسے ایک طرح سے اپنی ازدواجی زندگی کے تحفظ کے سمجھوتا کر لیتا ہے۔
”راشدہ آہستہ سے عثمان کے کانوں میں پھسپھسائی۔ ”ابی جب تک الطاف بھائی دوسرے کمرے میں آرام کرلیں تو کوئی حرج ہے؟“
عثمان اس وقت مچھلی کھا رہا تھا۔ اس کو لگا کانٹا حلق میں پھنس رہا ہے……
عثمان نے سادہ چاول کا نوالہ بنایا اور چاول کے ساتھ کانٹا بھی نگل گیا۔“
شموئل احمد نے اپنے افسانے ”سراب“ میں سماجیاتی تناقصات کا منظر عام پر لانے کی کوشش کی ہے۔ ترقی یافتہ مسلم معاشرہ اور دقیانوسی یا Ghattoمسلم معاشرے کے تفاوت کو بہت ہی موثر اور دلچسپ ڈھنگ سے اپنے منفرد اسلوب کے ساتھ پیش کیا۔ 

اس میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے اسکول کے ایک ماسٹر خلیل کا اطاعت گزار بیٹا بدر الدین جیلانی آئی ایس آفیسر ہو جاتا ہے اور باپ کی انا اسے کامیابی کی منتہا پر دیکھنا چاہتی ہے۔ اس چکر میں اس کی شادی کسی کمشنر رحیم صمدانی کی بیٹی عاطفہ حسین سے کرا دی جاتی ہے۔ لیکن عاطفہ کی پرورش اونچی سوسائٹی میں ہوئی ہے اس لیے مسلم گھیٹوائزڈ محلے میں وہ رہنا پسند نہیں کرتی ہے۔ یہ لوگ آئی اے ایس کا لونی میں آباد ہوجاتے ہیں۔ لیکن تمام عمر جیلانی پلٹ کر اپنے محلے اور اپنے بچپن کے دوست حیات اور معشوقہ حسن بانو کی طرف دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ وقت کسی کو معاف نہیں کرتا۔ عاطفہ حسین کی موت ہو جاتی ہے۔ اپنی پہلی فرصت میں جیلانی اپنے آبائی محلہ میں واپس آتا ہے جہاں اس کے بچپن اور جوانی کے شب وروز گزرتے تھے۔ لیکن تب تک بہت کچھ بدل چکا تھا۔ محلہ شہر نما ہوگیا تھا۔ حتی کہ اس کی استانی کی بیٹی حسن بانو سے اس کی اتفاقیہ ملاقات ہوجاتی ہے۔ جس کے بالوں میں عمر رسیدگی کی وجہ سے چاندنی گھل چکی ہوتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ جیلانی کے دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے۔ دوسرے دن وہ شہر چلا آتا ہے۔ لیکن شہر آتے ہی اس کے بچپن کے دوست حیات کا فون آتا ہے کہ حسن بانو اب اس جہاں میں نہیں رہی۔ جیسے وہ جیلانی کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہی اب تک زندہ تھی اور دیدار کے بعد اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر جاتی ہے۔
اس درد بھری کہانی میں شموئل کے فن نے دل کو چھو لیا ہے۔ ہر چند کے شموئل کا فن موڈرن آرٹ کی طرح بہت تفصیل بیان نہیں کرتا ہے پھر بھی ان کے موئے قلم کی جنبش سے جو چند آڑی ترچھی لکیریں کھینچی ہیں ان میں انھوں نے درد انڈیل دیا ہے۔ مسلم معاشرے کی خامیوں کو اجاگر کیا ہے۔ فنی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس میں وحدت تاثر اپنی جگہ موجود ہے۔ لیکن وہ واقعات کے بیان میں بیدی کی طرح چول سے چول نہیں کستے بلکہ منٹو کی طرح لفظوں کا بڑی کفایت شعاری سے استعمال کرتے ہیں۔ اختصار ہی ان کے افسانوں کا امتیازی وصف ہے۔ البتہ بیان میں راوی کہیں نمل نہیں ہوتا بلکہ پس پردہ واقعات بیان کرتا جاتا ہے۔ بیچ بیچ میں حکایت کی طرح پند ونصیحت کی سطریں بھی آجاتی ہیں جس سے قصے کی تفہیم اور رفتار میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔ 
”انسانی رشتوں میں ان کی کیل جڑی ہوتی ہے۔ سب میں بھاری ہوتی ہے باپ کی انا……اضافہ ہوتا ہے مثلاً۔
باپ کا رول اکثر ویلن کا بھی ہوتا ہے۔“
مذہبی ریاکاری، جنس اور جرائم کے موضوعات پر بے شمار افسانے لکھے گئے ہیں لیکن شموئل احمد کا افسانہ ”اونٹ“ اب تک لکھے گئے تمام افسانوں سے ان معنوں میں مختلف ہے کہ شموئل نے یہاں منفی قدروں کی حامل سکینہ کے اندر موجود مثبت قدروں کو منظر عام کی کوشش کی ہے۔ انسان اور سکہ میں فرق ہوتا ہے۔ کھوٹا سکہ دونوں طرف سے کھوٹا ہوتا ہے لیکن انسان کا اگر ایک پہلو برا ہے تو دوسرا پہلو بھی برا ہو کوئی ضروری نہیں ہے بلکہ دوسرا پہلو اچھا بھی ہوسکتا۔ اس کہانی کی مرکزی کردار سکینہ ایک حرافہ اور فاحشہ عورت ہے جس کے شوہر کا کوئی پتہ نہیں اور وہ اپنے دو بچوں سمیت رحمت علی کے جواری بیٹے حشمت علی کے گلے پڑ جاتی ہے۔ محلے والے اسے حشمت علی کی رکھیل بتلاتے ہیں۔
مذہبی ریا کاری کے نمائندہ کردار مولانا برکت اللہ وارثی ہیں جو مسجد کے امام ہیں دوسری طرف توہم پرستی اور اندھی عقیدت کے شکار رحمت علی کا کردار ہے جن کا خیال ہے کہ ان کے گھر پر کسی نے سحر کردیا ہے جس سے ان کے گھر کی برکت جاتی رہی ہے اور اکلوتا بیٹا جواری نکل گیا ہے جو کہیں سے دو بچوں کی ماں سکینہ کو اٹھا لایا ہے۔ مولانا کی آمد ورفت دعا تعویذ کے بہانے گھر تک شروع ہوجاتی ہے اور سکینہ سے ان کے جنسی 

تعلقات قائم ہوجاتے ہیں۔ لیکن سکینہ کے اندر موجود مثبت قدریں کروٹیں بدلنے لگتی ہیں اور وہ مولانا کے ساتھ اس کے ناجائزرشتے پر انگلی اٹھانا شروع کر دیتی ہے۔ جس کا انجام اسے اپنی موت کو گلے لگا کر بھگتنا پڑتا ہے۔
افسانے کے ابتدائی چند جملوں میں شموئل نے اشارہ کر دیا ہے کہ یہ افسانہ سانحات Eventsکا افسانہ ہے جہاں ایک عجیب وغریب صورت حال نے جنم لیا ہے اور اس کے کردار مذہب، جنس اور احساس جرم کی دلال میں گھر ے ہوئے ہوئے ہیں۔ یہ اقتباس دیکھیں:
”مولانا برکت اللہ وارثی کا اونٹ سرکش اور سکینہ رسی بانٹی تھی۔ مولانا نادم نہیں تھے کہ ایک نا محرم سے ان کا رشتہ اونٹ اور ارسی کا ہے، لیکن وہ مسجد کے امام بھی تھے اور یہ بات ان کو اکثر احساس گناہ میں مبتلا کرتی تھی۔“
در اصل، سگمنڈ فرائڈ نے جنس کی جبلت کو سب سے بڑا محرک بتایا ہے۔ 
یہاں مولانا برکت اللہ وارثی جیسا عالم جیسے نفس پر قابو اور ضبط کرنے کی تعلیم وتربیت حاصل ہے وہ بھی اس کی بھوک سے تڑپ اٹھتا ہے اور اپنی کی بہ نسبت ایک فاحشہ کے اندر زیادہ شہوانی کشش محسوس کرنا ہے اور اس پر اپنی جان چھڑکنے لگتا ہے۔ اس کی نار برداری کرتا ہے اوراس کی ہر فرمائشیں پوری کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ
”زندگی میں کبھی نتھ نہیں خریدی تھی……وہ بھی سونے کی ……زوجہ نتھ نہیں پہنتی تھی، وہ بلاق پہنتی تھی ناک کے بیچوں بیچ چاندی کی بلاق…… وہ خانقاہی تھی۔ بستر پر آتی تو دعائے مسنون پڑھتی اور مولانا نے محسوس کیا تھا کہ سکینہ میں جست ہے اور زوجہ ٹھس ہے۔“
لیکن فرمائشوں نے جب تحکمانہ انداز اختیار کر لیا تو مولانا سر سے پانی اوپر ہوتا ہوا محسوس ہونے لگتا ہے۔ واقعہ یہ تھا کہ مولانا نماز جنازہ پڑھا کر اپنے گھر جانے کے بجائے سکینہ سے جنسی لگاوٹ کی خواہش لیے سیدھے سکینہ کے گھر پہنچتے ہیں۔ لیکن عین وقت پر سکینہ کا ضمیر بیدار ہوجاتا ہے اور وہ مولانا سے امامت سے استعفی دینے کی ضد پکڑ لیتی ہے۔ وہ کہتی ہے میں تو بری ہوں، لوگ مجھے برا سمجھتے ہیں لیکن آپ امام ہیں۔ قوم آپ کے پیچھے نماز پڑھتی ہے۔ آپ کو بحیثیت امام یہ سب حرکتیں زیب نہیں دیتی ہیں۔ مولانا ایک فاحشہ کی تنبیہ برداشت نہیں کر پاتے ہیں وہ ایک دم چراغ پا ہو جاتے ہیں۔ مولانا یکلخت محسوس ہوتا ہے۔ سکینہ بھی زوجہ کی طرح ٹھس ہے سکینہ کہتی ہے۔
”بھلا آپ جیسا آدمی جنازے کی نماز پڑھائے……؟
”قوم ہر جگہ رسوا ہو رہی ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ آپ جیسے لوگ امامت کر رہے ہیں۔ زندگی میں اگر صحیح نماز نہیں ملی تو کم از کم مرنے کے بعد تو نصیب ہو……“
مولانا برکت اللہ اس فاحشہ عورت سے نظر چرانے لگتے ہیں۔ وہ ہر وقت ان سے امامت سے استعفیٰ دینے کی نصیحتیں کرتی رہتی ہے۔ لیکن جب سکینہ انکشاف کرتی ہے کہ وہ پیٹ سے ہے اور بیٹا ہوا تو دیوبند میں پڑھائے گی اور عالم فاضل بنائے گی۔ تو یہ سنتے ہی مولانا کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ سکینہ ضدی ہے اگر وہ کہہ رہی ہے تو بیٹے کا نام بھی قدرت اللہ وارثی ضرور رکھے گی۔
وہ اس فاحشہ کے بطن میں پلنے والے امام کے وجود کے تصور سے کانپ جاتے ہیں۔ مولانا کو محسوس ہوتاہے کہ سکینہ کی خم دار ثبت در اصل 

جارحیت کی غماز ہے…… آگے کی طرف نکلا ہوا سینہ……تلوار کی طرح لہراتے ہوئے بازو عقاب جیسی آنکھیں ……ایسی عورتیں آسانی سے سپر نہیں ڈالتیں ہیں۔ مولانا کو اس وقت لوگ لاج ستانے لگتا ہے اور شہوت کا بھوت سر سے غائب ہوجاتا ہے۔
”مولانا کو خاموش دیکھ کر سکینہ کی آنکھوں میں نفرت کی چمک بڑھ گئی۔“
”ایمان کی حفاطت ضروری ہے۔“ پھر اس نے سر سے پاؤں تک آگ برساتی نظروں سے دیکھا اور انتہائی حقارت سے بولی۔
”آپ جیسا امام……؟ اونہہ……!“ اور کمر سے نکل گئی…… کمرے سے نکلتے ہوئے اس نے فرش پرتھو کا نہیں تھا لیکن مولانا کو لگا کہ حرامن نے باہر نکل کر تھوکا ہے……حرام زادی چھنال……!!“
مولانا برکت اللہ اپنی ہتک برداشت نہیں کر پاتے ہیں۔ جیسے ہی سفلی جذبہ شہوت کا عمل دخل کمزور پڑتا ہے اسی وقت بدلہ اور انتقام جیسے سفلی جذبے اس خلا کو پر کر دیتے ہیں۔ انسان کے اندر موجود ہوس کی آگ اب انتقام کی آگ میں بدل جاتی ہے۔ تبھی وہ اس راز کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کر دیئے کا منصوبہ بنا لیتے ہیں اور موقع ملتے ہی وصال کے لمحات میں تکیہ سے منھ دبا کر اسے ہمیشہ کے کی موت کی نیند سلا دیتے ہیں۔
”سکینہ کی آواز حلق میں گھٹ کر رہ گئی……آنکھیں اُبل پڑیں ……زبان اینٹھ گئی ناک اور منھ سے خون ابل کر تکیے پر پھیل گیا۔“
شموئل احمد کا ”اونٹ“ معاشرکے دوہرے معیار زندگی اور Doxaکے تحت اپنی سماجی حیثیت منوانے والے مرد اساس معاشرے پر ایک زبردست طنز ہے جس میں تلخی اور ترشی دونوں گھلی ہوئی ہے۔ شموئل نے سماجی حاشیہ پر زندگی بسر کرنے والی ایک حرافہ اور فاحشہ عورت کے ذریعے سماج کے مقتدر علماکے طبقہ سے تعلق رکھنے والے شخص پر طنز سے بھرپور تازیانے لگائے ہیں۔ ایسے افراد معاشرے اور ملت کی رہنمائی کا دعویٰ کرتے ہیں اور موقع بے موقع اپنی سفلی خواہشوں کی غلام گردش سے بھی باز نہیں آتے ہیں۔ ایسی صورت حال، سماج میں ناسور اور کینسر کی طرح پنپ رہی ہے اور اس کا اگر وقت رہتے انسداد نہیں کیا گیا تو عین ممکن ہے کہ ایک دن پورا معاشرہ اس کی چپٹ میں آ جائے گا۔
شموئل کو علم نجوم سے بھی گہرا شغف رہا ہے۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ”مصری کی ڈلی“ کے علاوہ انھوں نے دیگر کئی افسانے لکھے ہیں مثلا ”القمبوس کی گردن“اور”چھگماس“میں کھل کر علم نجوم کی اصطلاحوں کا فنکارانہ اور تخلیقی استعال کیا ہے۔
شموئل کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ ان کی نظر ہمیشہ جنس کی نفسیات پر رہتی ہے۔ لیکن معروضی نظر سے دیکھا جائے تو شموئل احمد روایت کی پاسداری کے ساتھ ساتھ پختہ عصری حسیت کے بھی مالک ہیں۔ موضوعات کی ندرت ا ور بوقلمونی نے ان کے افسانوں کو ایک علیحدہ تشخص عطا کی ہے۔ ان کے اکثر افسانے پیچیدہ سیاسی بصیرت او ر عمیق عمرانی شعور سے بھی معمور معلوم ہوتے ہیں۔ ان کے منفرد اسلوب اور دلکش انداز بیان کی ہی کرشمہ زائیاں ہیں کہ ان کے افسانوں کو عصری اردو ادب میں ایک خاص اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ 
(ختم شد)

Dr. Perwaiz Shaharyar
Editor, NCERT
IV/48, NCERT Campus
Sri Aurobindo Marg
New Delhi-110016
(INDIA)

 

” ریت پر کھینچی ہوئی لکیر “ پر یو پی اُردو اکادمی کا انعام

 ” ریت پر کھینچی ہوئی لکیر “ پر یو پی اُردو اکادمی کا انعام

        میرٹھ : 23 جون : اُتر پردیش اُردو اکادمی،لکھنونے گذشتہ دنوں 2011 ، 2012 اور 2013 کی کتابوں پر انعامات کا اعلان کر دیا ہے۔ 2011 کے لئے یوپی اُردو اکادمی نے نئی نسل کے معروف افسانہ نگار محترم مہتاب عالم پرویزؔ کے پہلے افسانوی مجموعے ” ریت پر کھینچی ہوئی لکیر“ کو انعام کے لئے منتخب کیا ہے۔اُتر پردیش اردو اکادمی صاحبِ کتاب محترم مہتاب عالم پرویز ؔکو ……. انعام پانچ ہزار روپے اور سند پیش کرے گی۔
        خوشی کے اس موقع پر جمشید پور اور میرٹھ کے احباب پروفیسر ساغر بر نی ، رضواں واسطی ، جہانگیر محمد ، اختر آزاد ؔ، نغمہ ناز مکتومیؔ ( ایڈیٹرعالمی پرواز. کوم ) ڈاکٹر            اسلم جمشید پوری وغیرہ نے مہتاب عالم پرویز ؔ کو صمیمِ قلب سے مبارک باد دی ہے۔
        مرسلہ
        ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
        ممبر اُتر پردیش اُردو اکادمی

راوی ادبی کتا بی سلسلہ : شمارہ : اول اگست – 2014

راوی ادبی کتا بی سلسلہ :  شمارہ : اول اگست – 2014

…………………راوی کے ابواب مشہور مصور، افسانہ نگار اور ہالی ووڈ فلم ساز، ہدایت کار، ڈرامہ نویس ممتاز حسین کی مصوری سے مزیں ہوں گے۔

 ………………شمارہ اول کے شرکا کی ایک ناتمام جھلک…

 

 ڈاکٹر گوپی چند نارنگ

سریندر ورما

ایلس منرو

فاطمہ حسن

علی احمد فاطمی

شموئل احمد

پیغام آفاقی

 دانیال طریر

 معید رشیدی

اقبال حسن خاں

 فرخ ندیم

 راشد اشرف

 ابرار احمد

 فرحت پروین

عذرا عباس

ممتاز حسین

 احمد سہیل

حسنین جمال

 نسیم سید

 سید احمد قادری

 کوثر جمال

محمد نعیم دیپالپور

 نورالعین ساحرہ

 

راوی میں شامل اردو کی تخلیقات اور مضامین غیر مطبوعہ ہیں جنہیں فیس بک یا الکٹرنک میڈیا پر بھی پیش نہیں کیا گیا ہے.

 

افسانہ ’’ آقا ‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ : مہتاب عالم پرویزؔ

  افسانہ ’’ آقا ‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ
   مہتاب عالم پرویزؔ 

              جہانگیر محمد کا شمار عصر حاضر کے ممتاز ادیبوں میں ہوتا ہے ۔ جمشید پور میں آپ کو بہت ہی عزّت و احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ افسانے کے بہترین اُستاد ہیں اور اُن کے تمام شاگردوں کے اندر وہی جلالت شان، فن کمالات بدرجہ اُتم موجود ہے اور یہ آپ کی درسی خدمت کا ثمرہ ہے ۔تیس بتّیس سالوں کے بعد غیر دانستہ طور پرآپ کا افسانہ ’’ حقائق ‘‘ میں پڑھ کر بے حد خوشی ہوئی ویسے آپ کے افسانے کی ابتدا ۱۹۷۷ء تا ۱۹۷۸ء میں ہو چکی تھی اور آپ کی پہلی کہانی ’’ ایک سفید گلاب ‘‘ جواز میں شائع ہوئی تھی پھر کئی کہانیاں جیسے ’’ لا کا سفر ‘‘ ’’ سُرخ گلاب ‘‘ اور آج کل میں ’’ ممی ‘‘ جیسے مقبول افسانے۱۹۸۳ء میں شائع ہوئے ۔ اور ان دنوں بہت ساری کہانیاں، غزلیں، نظمیں اور آزاد نظمیں میں نے سُنی ہیں جو غیر مطبوعہ ہیں۔
             شہر آہن کے ہی بہت سارے ادیبوں کی نشود نما آپ کے ہی ہاتھوں ہوئی جن میں ،میں بھی شامل ہوں۔
یہ الگ سی بات ہے کہ تصوف کی طرف آپ کا قلمی ملان بہت زیادہ تھا اور آخر میں اپنی زندگی کا بیش تر حصہ آپ نے اُسی میں صرف کر دیا۔آپ کی زندگی کا مقصد دین کی سرفرازی ہے۔ 
             اور آج میں نے مجبوری میں اپنا یہ قلم اُٹھایا ہے اور یہ نئی مراجعت ہے کہ آپ کے افسانے ’’ آقا ‘‘ پر اپنے خیالات اور اپنے تصورات کا اظہار کر سکوں۔ویسے مجھے احساس ہوتا کہ کہانیاں تو اسی سماج کی دین ہیں، اسی معاشرے میں جنم لیتی ہیں۔ کہانی کار بھلا کیا کرسکتا ہے، ایک بہاؤ ہے جو اندر کی سبھی چٹانوں کو توڑ کر باہر نکل پڑتا ہے۔ اور قلم دوڑنے لگتا ہے۔
             حَکم اپنے پس منظر میں مکّے کا ابوجہل تھا جو ’’ آقا ‘‘ کا مرکزی کردار ہے۔ مکّے کا یہ سردار اپنے آپ کو سب سے زیادہ عقل مند سمجھتا تھا اسی تاریخی پس منظر میں یہ کہانی وجود میں آئی ہے ۔ سارے معجزے اُسی عقل مند ابوجہل کے سامنے ہوئے۔ کنکری کا کلمہ پڑھنا ، چاند کا دو ٹکڑے ہونا، اور ان سارے معجزوں کو دیکھنے کے بعد بھی حکم ( ابوجہل )ایمان نہیں لاسکا۔ ایسے ہی حالات آج کے معاشرے میں بھی موجود ہیں اور اُس کے ذرّیات ہم لوگوں کو چاروں طرف سے اپنے حصار میں لئے ہوئے ہیں۔ ہمارے سماج کی بھی آج نا گفتہ حالات ہیں ، علم کی انتہا کبر پر ہوگئی ۔ دربار ملکوت کے معلم کو لعنت کا طوق ڈال کراللہ نے راندہ درگاہ کردیا ، حالانکہ علم کی ابتدا اور انتہا طلب ہے اور شیطان کو اُس کے علم کے غرور نے کھا لیاکیونکہ اس پورے روئے زمین پر شیطان لفظ کا نام ونشان نہیں تھا جو بہکا دیتا اُس کو اپنی عبادت ، علم اور معرفت کا غرور کھا گیا جس طرح حَکم آزاد کو اس افسانے میں ملک الموت کھا گیا یہی ہے وقت کا تقاضہ جس پر ہماری نظر ہونی چاہیے اور یہ کہانی اُسی پس منظر میں لکھی گئی ہے۔کہانی علامتی ہے اور ترسیل و ابلاغ کے دروازے کھولتی ہے۔ آ پ بھی سمجھ جائیں گے اگر غور کریں گے تو یہ کہانی آپ کے آس پاس ہی موجود ہے تفہیم کی رسائی ہو جائے گی تو کہانی کھل جائے گی۔
            اقتباس کے طور پر ’’ آقا ‘‘ کے چند خوبصورت باب ملاحظہ فرمائیں ………
            وہ ایک خاردار جھاڑ تھا اس کی نشود نما یوں ہوئی تھی، نہ پھل نہ پھول اور نہ چھاؤں ہیبت ناک اُس کے تنے پر کانٹے ہی کانٹے تھے ہیبت کریہہ اُس کے تمام پتّے، تنے اور جڑ کانٹے سے بھرے ہوئے تھے۔
            بن موسم، بن برسات اور بن کھیتی اُگ آئے تھے یہ پودے………
            یہ کتنا خوبصورت استعارہ ہے جو علامتی انداز میں منظر کشی میں کردار کے اردگرد تمام مناظر کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ جیسے کوئی نطفہ نا تحقیق کا لاوارث سا پودا نہ علم ،نہ عمل ،نہ کوئی تربیت اور نہ ہی ادب ، بے ادب ، بد نصیب کی روایت اس کہانی کا مرکزی کردار ہے۔ جب اس کی ریشہ دوانیاں اورنکتہ چینیاں دل آزاری کا سبب بننے لگیں تو کہانی کار اُس کی اصلاح کرنا چاہتا تھا مگر اُس نے تو اُس قلم کارکے ہاتھوں کو بھی زخمی کر دیا اورڈس لیا پھر قلم لہولہان ہو اُٹھا اور پھر ایک ایسی کہانی وجود میں آئی جس کا جنم نطفہ نا تحقیق سے ہوا تھا اور جس پر تمام عقل ختم ہو جاتی ہے بلکہ یوں کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا ختم العقل آقانے کبھی سچائی اور حق کو تسلیم ہی نہیں کیا اور کبر میں ڈوبی ہوئی اُس کی عقل کی مونچھیں فلک شگاف نعروں کی بلندیوں پر براجمان ہونے لگیں اور وہیں سے ابتدا ہوئی اس کہانی کی، سارے کرتوت اولجلول حرکتیں اس کی عادت میں شمار تھیں اکثر نا مناسب جملے گڑھنا اُس کا شیوہ تھا۔اُس کی جاہلانہ حر کت سے پڑھے لکھے لوگ بھی نالاں رہتے تھے ایسی اُچھی حرکتوں پر بھی وہ خوش فہمی کا شکار رہتاتھا۔ دراصل وہ عُجب کا مریض تھا۔
          ویسے بھی آج کا افسانہ انسانیت کا زوال ،انسانی قدروں کی پامالی اور انفرادیت کی گمشدگی اور بے چہرگی کی شناخت بن گیا ہے یہ انسان کا سب سے بڑا المیہ ہے اس عظیم انسانی المیے کا شاہد اگر کوئی زمین پر موجودہے تو وہ صرف مخلص اور حساس فنکار ہے جو افسانہ ’’ آقا ‘‘ میں روشن خیالات کی آرا سے صاف اور شفاف دکھائی دیتا ہے ۔ یعنی وہ انسان صرف آدم کا لیدر پہنے ہوئے ہے لیکن فطرتا سانپ کی طرح ڈسنے والا اور اپنے بھائیوں کو ایذا پہچانے والا زہریلا سانپ ہے۔ اُس کی پیش کش اور تکیہ کلام کے اس ایک جملے میں عیاں ہوتی ہے کہ سوئے ہوئے سانپ کو جگانا نہیں چاہیے۔
          افسانے کی اصل روح اُس کا کلا ئمکس جس پر تمام لوگوں اور قاری کی نظر نہیں پڑسکی کہ جب کبر و غرور کے نعرے فلک شگاف بلندیوں پر براجمان ہونے لگے، تو وہ ایک چنگھاڑ آتشی تھی جو بجلی کی طرح حکم پر گر گئی اور اُس کی بصارت کو موت کے وقت بھی اُچک کرلے گئی اور اُس کے وجودکو بھی پاش پاش کر گئی قارئین بھی ششدر رہ گئے اور ایک بہاؤ تھا قارئین بھی ان لفظوں کے بہاؤ میں تیرنے لگے۔
          دراصل یہی وہ بصارت تھی جو بہت سارے مبصرین کو اپنے ابہام میں بہا لے گئی، سوال یہ ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ بچے سارے شور مچا رہے تھے کہ سوئے ہوئے سانپ کو اب کون جگائے گا…….؟ یہ کیوں …….؟یہ کافی گہرا سوال ہے جو گنجینہ معنی میں اپنے اندر تفہیم کی پوری وسعت رکھتا ہے ۔ کہانی کا علامتی پیرایہ یہ ہے جو شور مچاتے ہوئے بچوں کی شکل میں نئی نسل کے طور پر افسانے کی معراج پر پہنچ گیا۔ جس سے معنی کا طلسم خود ظاہر ہونے لگتا ہے لیکن قارئین اس گہرے رمز کو چھو نہیں سکے یہی کہانی کا کلائمکس ہے جو بہت عبرت ناک ہے۔ موت کے پہلے آدمی کی اصلاح ہو سکتی ہے لیکن موت کے بعد کچھ بھی نہیں اور انجام کے اعتبار سے یہی حَکم کی موت کا بہانا بن گئی اور’’ آقا ‘‘ کے تمام غرور کا خاتمہ ہوگیا ۔ویسے یہ افسانہ کافی عبرت ناک ہے …….

*****
مہتاب عالم پرویز ؔ مکان نمبر ۱۱ ، کراس روڈ نمبر ۶۔ بی 
آزاد نگر ، مانگو جمشید پور۔ ۸۳۲۱۱۰
جھار کھنڈ انڈیا
E- mail mahtabalampervez@gmail.com  

اداریہ- الوداع2013ء، خوش آ مدید2014ء : ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری

   اداریہ
  الوداع2013ء، خوش آ مدید2014

   ڈاکٹراسلم جمشیدپوری

                       الوداع2013ء، خوش آ مدید2014ء۔نیا سال2014ء شروع ہو گیا ہے۔ آپ سب کو مبارک۔ 2013 بڑا یاد گار رہا۔ ادب، سماج، سیاست ہر سطح پر نمایاں تغیرات رونما ہو ئے۔ نشیب و فراز سے گذرتے ہو ئے2013ء نے متعدد تاریخ رقم کیں۔ ادب کے لیے2013ء نئی سو غا تیں لے کر آیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا میں اردو نے اپنے پرچم لہرا ئے۔ فیس بک، وہاٹس اپ، ٹو (Too)سے لے کر یو ٹوب تک اردو کے نغمے، قصے اور شیرینی کا خوب زور چلا۔ گذشتہ برس ہی ’’عالمی پرواز .کوم ‘‘نے اردو ادب کے آسمان سے گلیاروں تک پرواز کی۔ ’’ عالمی پرواز.کوم ‘‘ کی مقبو لیت نے کئی قدیم ویب سائٹس کے ریکارڈز کو پس پشت ڈال دیا۔ اسی مقبو لیت کے شانے پہ سوار ’’ عا لمی پرو از .کوم ‘نے ’’عالمی افسانوی کارواں ‘‘ کی شروعات کی۔ فیس بک پر ’’ عالمی افسا نوی کارواں ‘‘ کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ یہی نہیں ’’عالمی پرواز .کوم ‘‘نے محسوس کیا کہ اخبارات و رسائل اور انٹر نیٹ کی پورٹل اور میگزین میں جو کچھ شائع ہو رہا ہے اس کا ایمانداری سے تجزیہ سامنے نہیں آ پا رہا ہے۔ کہیں تنقیص حا وی ہے، کہیں گروہ بندی کے جلوے ہیں تو کہیں تحسین کا شور ہے۔ ایسے میں ادب پاروں کی صحیح قدر شناسی مفقود ہو گئی ہے۔ ایک اور روا یت نے ہمارے ادب کے معیار کو خاصا متاثر کیا ہے یعنی اب ادبی رسا لوں نے خصوصی نمبر، شخصیات نمبر ایسے شائع کرنے شروع کردیے ہیں جن میں مخصوص و مذکور شخص کے ادب کی تعریف و تحسین میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں۔ در اصل صارفیت کے اس دور نے ادب کو بھی متا ثر کیا ہے۔ اب اردو کے رسائل خرید کر پڑھنے کا رواج تقریباً ختم سا ہو رہا ہے۔ اب رسائل یا تو خصوصی اشاعتوں کی خصوصی خرید و فروخت سے آکسیجن پاتے ہیں یا پھر اب قومی کو نسل کی رسائل کی خرید اسکیم نے رسائل میں زندگی بھردی ہے۔ قومی کو نسل ہر رسالے کی کم از کم100کاپیاں خرید تی ہے۔ بعض رسائل تو صرف انہیں دو اسباب کی بنا پر شا ئع ہو رہے ہیں جب ایسا ہو گا تو معیارو وقارِ ادب کا کیا ہوگا۔ ’’عالمی پرواز . کوم ‘‘نے ادب کے اس رویے کو محسوس کرتے ہو ئے ایک ایسی سائٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا جس میں تخلیق کو صحیح معیاروں پر پرکھا جا سکے۔ فن پا روں کی بہتر تعینِ قدر کی جاسکے۔ ناقدین بھی اپنی را ئے کا اظہار کریں اور قارئین اور تخلیق کار بھی اپنے اپنے فہم و ادراک سے تخلیق ہی نہیں تخلیق پر ہو نے وا لی تنقید کا بھی تجزیہ کرسکیں۔
اسی کے پیش نظر ہم نے ’’اردو آپریشن‘‘ کی شروعات کی جس کی پالیسی میں ہم نے طے کیا کہ پہلے کسی ایک تخلیق کار کی تخلیق شائع کی جائے گی ساتھ ہی اس تخلیق کا آپریشن کسی معروف ناقد یا تخلیق کار کے ذریعہ کیا جا ئے گا، اسے بھی تین دن کے اندر شا ئع کیا جا ئے گا۔ پھر کہا نی کا آپریشن قاری اپنے اپنے طور پر کریں گے اور وہ سارے آپریشن بھی شائع کیے جائیں گے۔ تخلیق،آپریشن، آپریشن پر قارئین کے تبصرے، ان سب پر بھی قارئین کی آ را شا ئع کی جائیں گی۔ ’’اردو آپریشن ‘‘2013ء کے اکتوبر میں شروع ہوا اور کامیابی سے ہمکنار بھی۔
2014ء آ گیا ہے۔ خدا کرے یہ سال ہم سب کے لیے راحتیں، مسرتیں اور خوشیاں لے کر آئے۔ اردو زبان مقبولیت کے نئے آسمان سر کرے۔ انٹر نیٹ پر اردو کی مقبو لیت اور شہرت میں اضا فہ ہو۔ ’’عالمی پرواز. کوم ‘‘ اس سال بھی نئے نئے منصو بے بنا رہا ہے عنقریب آ پ کو کچھ تحفے ملیں گے۔ آپ سے امید ہے کہ آپ عالمی پرواز.کوم، عالمی افسانوی کارواں اور اردو آپریشن کو اپنا بھر پور پیار یوں ہی عطا کرتے رہیں گے اور ہر تخلیق، خبر پر اپنی رائے سے بھی نوازتے رہیں گے۔
آخر میں ’’عالمی پرواز . کوم ‘‘کے پو رے خاندان،مدیرہ نغمہ ناز مکتو میؔ ، بانی مہتاب عالم پرویزؔ ، نائب مدیر افروز سلیمی کی جانب سے نئے سال کی مبارک باد قبول فر مائیں۔

آپ کا
ڈاکٹراسلم جمشید پوری