Skip to main content

Aalamiparwaz

ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کو ’’ پوروانچل پتھک‘‘ نے’’ نشان الہ آ باد اعزاز‘‘ سے نوازا

 ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کو ’’ پوروانچل پتھک‘‘ نے’’ نشان الہ آ باد  اعزاز‘‘ سے نوازا
 ہندی رسالہ پوروانچل پتھک کے سالانہ جلسے میں’’ دکھ نکلوا‘‘ پر مذاکرہ اور متعدد علمی  و ادبی شخصیات کو اعزاز دیا گیا

 میرٹھ31؍ دسمبر2013ء
                     الہ آ باد سے شائع ہو نے وا لا ہندی رسالہ’’پوروانچل پتھک‘‘ نے اپنے سا لانہ پرو گرام میں ڈا کٹر اسلم جمشید پوری کو’’ نشان الہ آ باد اعزاز‘‘ سے نوازا ساتھ ہی جلسے میں ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری کے ہندی مجمو عے’’ دکھ نکلوا‘‘ پر ایک مذاکرے کا بھی اہتمام کیا۔میرٹھ پہنچنے پر ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری نے پریس میں یہ جانکا ری دی۔ انہیں یہ اعزاز اردو کے معروف ترقی پسند ناقد وسا بق صدر شعبۂ اردو ،الہ آ باد یو نیورسٹی پرو فیسر سید محمد عقیل رضوی، سابق ایڈ وکیٹ جنرل،اتر پردیش محترم سید محمد احمد کاظمی اور جناب جی کے بنسل( آئی اے ایس،آفیسر) نے ایک سپاس نامہ اور ٹرا فی کی شکل میں پیش کیا۔
’’دکھ نکلوا‘‘ پر مذاکرے میں پرو فیسر سید محمد عقیل رضوی، سید محمد احمد کاظمی، اسرار گاندھی، ڈا کٹر صا لحہ رشید، ارملا جین، انل رنجن بھو مک، اجامل ویاس، کرشنا مکھرجی، گورو کرشن بنسل، بشارت خاں عا قل وغیرہ نے حصہ لیا۔ متفقہ طور پر سب نے تسلیم کیا کہ ’’دکھ نکلوا‘‘ پریم چند کی روا یت کو آگے بڑھا تی ہے اور دیہات کی پیش کش کے تعلق سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ ڈا کٹر اسلم کی دیہات پر لکھی کہا نیاں، گاؤں دیہات کے عصری مسائل کو بخو بی پیش کرتی ہیں۔
اس موقع پر ڈا کٹر اسلم جمشید پوری نے مظفر نگر کے پس منظر میں اپنی آواز بلند کرتے ہو ئے کہا کہ آج پریم چند کے گا ؤں دیہات میں بھی نفرت کے بیج بو دیے گئے ہیں۔ ادب، خصوصاً شاعری اور افسا نہ پیار بھری فضا کی تشکیل کرسکتے ہیں۔ اب ادیب و شاعر پر زیا دہ ذمہ داری آ گئی ہے۔
نشانِ الہ آ باد سے نوا زے جانے پر میرٹھ کے احباب اور شعبۂ اردو کے اساتذہ اور طالب علموں نے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کو مبارک باد پیش کی۔

اتر پردیش کی حکمراں جماعت ،مسلمان اور بے چا ری اردو: ڈاکٹراسلم جمشید پوری

  اتر پردیش کی حکمراں جماعت ،مسلمان اور بے چا ری اردو
  ڈاکٹر اسلم جمشید پور

                            اتر پردیش سر کار کی تشکیل کو اکیس مہینے کا طویل عرصہ گذرنے کو ہے ۔اس مدت میں موجودہ سر کار نے اپنے تقریبا سبھی شعبوں میں مختلف النوع کاموں سے شروعات کردی ہے۔ سبھی شعبوں کی تشکیل بھی ہو گئی ہے۔ اب سے کچھ ماہ قبل تک اقلیتوں سے متعلق زیا دہ تر شعبے مدرسہ عربی فارسی بورڈ ،اقلیتی کمیشن،وقف بورڈ ،اردو اکادمی، فخر الدین علی احمد کمیٹی وغیرہ معلق سے تھے۔ ان کے نہ تو سر براہ اور نہ ہی کمیٹیاں نامزد ہوئی تھیں۔ ان میں سے صرف حج کمیٹی ہی ایسا ادارہ ہے جو حکومت کی ابتدا کے ساتھ ساتھ کام کررہا تھا۔ ان تمام اداروں کا تعلق براہ راست مسلمانوں سے ہے۔ موجودہ سر کار بھی نہ صرف مسلمانوں کی حمایتی رہی ہے بلکہ اس بار کے انتخاب میں مسلمانوں کے یک طرفہ ووٹ ڈالنے سے سر کار نے ریکارڈ فتح حاصل کرتے ہو ئے واضح اکثریت سے بھی زائد نشستیں حا صل کیں۔ یوں بھی ملائم سنگھ مسلمانوں کے مسیحا کہلائے جاتے ہیں اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملائم اور مسلمان ایک سکے کے دو پہلوں کے طور پر اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ سماج وا دی نے اتر پردیش میں جتنے بھی انتخابات میں حصہ لیا ان میں مسلمانوں کے کل ووٹ کا بڑا فیصد حا صل کیا ہے۔ دوسری طرف ملائم سنگھ نے بھی ہمیشہ مسلمانوں کی محبت کا حق ادا کیا۔ خواہ معا ملہ سر کاری نوکریوں میں مسلمانوں کی بحا لی کا ہو۔ اردو اسا تذہ کی بھرتی کی بات ہو یا پھر ہر ضلع میں اردو مترجم کی تقرری ہو۔ یہی نہیں اردو اور مسلمانوں کو ملا ئم سنگھ نے ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا۔ انہیں کار ہائے نمایاں کی بدو لت ملائم سنگھ کو بہت سا رے القابات سے بھی نوا زا گیا۔ مسلمانوں کا مسیحا، ملّا ملائم سنگھ،اردو کا مسیحا، وغیرہ کے القابات سے نہ صرف ملا ئم سنگھ اپنا سینہ چو ڑا کرلیتے ہیں بلکہ مسلمانوں کو بھی اس بات کا فخر ہو تا تھا کہ صو بے میں کوئی ہے جو ان کا اپنا ہے۔ کوئی ہے جو ان کا غمگسار ہے۔ ان کی سننے اور مدد کرنے وا لا ہے۔ ملائم سنگھ نے بہت سے مسلم ایم ایل اے حضرات کو حکومت میں حصہ دار بھی بنایا ۔ 2012ء میں جب سماج وا دی پارٹی نے وا ضح اکثریت کے جا دوئی عدد کو بھی کافی پیچھے چھوڑ دیا تو ملا ئم اور مسلمان پھولے نہیں سمائے۔ ہر طرف ملائم سنگھ کے وزیر اعلی بننے کی مبا رک بادیوں کے سلسلے تھے۔ لیکن قسمت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا ۔ اس انتخاب میں جہاں ملائم اور دیگر رفقاء کی محنت اور جانفشانی شامل تھی ۔وہیں نو جوان دلوں کی دھڑ کنYoth Iconاکھلیش یادو کی سوجھ بوجھ ،جدید ٹکنا لوجی کا بہتر استعمال اور ہوش مندی سے انتخاب لڑ نے کا اثر بھی تھا۔ تین بڑی پارٹیاں، کانگریس میں راہل گاندھی، بی جے پی میں ورون گا ندھی اور سماج وادی پارٹی میں اکھلیش یادو نوجوان نگاہوں کا مرکز بنے ہو ئے تھے۔مغربی اتر پردیش میں راشٹریہ لوک دل کے جینت سنگھ بھی اسی صف میں شامل تھے۔ ان چا روں میں نہ صرف عوامی سطح پر زبر دست مقابلہ تھا بلکہ یہ سب اپنی اپنی پارٹی کی کامیابی کے لیے اپنا سب کچھ دا ؤ پر لگا رہے تھے۔ اس انتخاب میں پہلی بار فیس بک اور انٹر نیٹ کو بھی انتخاب کے اشتہار کا ذریعہ بنایا گیا تھا۔ نتائج نے سب کو حیرا نی میں ڈال دیا۔ نتائج سے پہلے راہل گاندھی کے بہت چر چے تھے اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ گانگریس راہل کے کاندھوں پر اپنی کھوئی زمین پانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لیکن اکھلیش یا دو نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا تھا اور نہ صرف اتر پردیش بلکہ قومی سطح پر اکھلیش Youth Iconکے طور پر ابھرے۔ نوجوانوں کے لیے ان کی اہمیت ایک منور چاند کی سی تھی۔ وہ بیرون ملک تعلیم حا صل کر کے لو ٹے تھے۔ ان کا کھلا ہوا ذہن، ترقی یا فتہ سوچ، جدید ٹکنا لوجی سے ذہنی ہم آ ہنگی نے انہیں اتر پردیش میں سر کار کا مرکز بنا دیا۔ ملائم سنگھ کے لیے یہ بات خوش کن حیرا نی کی تھی اور انہوں نے خو شی خوشی اکھلیش کو اتر پردیش کی باگ دوڑ سونپ دی۔ انہیں اکھلیش پر کافی بھرو سہ تھا اور پھروہ خود ان کی پشت پر تھے۔سر کار بنی۔ سب کچھ ٹھیک ٹھیک چلنے لگا،اکھلیش یا دو کی تاج پو شی سے مسلمانوں میں بھی خو شی کی لہر سرایت کر گئی۔انہیں اکھلیش یادو سے بہت امیدیں تھیں۔ ابتدا ئی تین ماہ گذرے۔ مسلمانوں کی امیدیں مزید بڑھتی گئیں۔ چھ ماہ اور پھر سال گذر گیا ۔ سر کار ہر طرف اپنے بگڑے کام سنوار رہی تھی۔ ایک سال میں صرف اقلیتوں کے معاملات ہی ایسے تھے جن کی طرف سرکار کی توجہ نہیں تھی۔ اس سلسلے میں بہت سی افوا ہیں گرم تھیں۔ کوئی کہتا کہ یہ سب کام اقلیتوں کے وزیر کا بینہ محمد اعظم خاں کی وجہ سے معطل ہیں۔کوئی کہتا وزیر اعلیٰ ایک نہیں پانچ پانچ لوگ ہیں۔ہر شخص کی اپنی اپنی پسند ہے۔پھر مسلمان تو سماج وا دی پارٹی کے اپنے ہیں۔ کہاں بھا گے جارہے ہیں۔ دیر سویر سب کچھ ہو جائے گا۔ اسی انتظار میں ایک دن اخبارات میں ڈا کٹر یا سین عثمانی کے اردو اکا دمی کا چئیر مین بنائے جانے کی خبر شا ئع ہو ئی۔ اردو والوں میں امیدقوی ہو ئی کہ اب سارے معاملات ٹھیک ہوجائیں گے۔لیکن تین دن بعد ہی اس خبر کی تردید کردی گئی اور معاملہ پھر ’’جوں کا توں‘‘ کی کیفیت میں آ گیا۔پھر ایک عرصہ گذر گیا۔ایک دن مدرسہ عربی و فارسی بورڈ کے چئیر مین کے طور پر میرٹھ کے شہر قاضی پروفیسر زین الساجدین کانام خبروں کی سرخی بنا تو ایسا لگا کہ اب اقلیتوں کے سارے شعبے حرکت میں آ جائیں گے اور سبھی کے سر براہ اور ممبران کی نامزدگی ہو جائے گی۔ اس بات کو بھی ڈیڑھ دو ماہ کا عرصہ ہونے کو ہے۔ حا لات ہنوز ویسے ہی ہیں۔
اردو اکا دمی اور فخرالدین علی احمد کمیٹی کی تشکیل نو ابھی التوا میں ہے۔ جب کہ 2012ء میں سر کار کی تشکیل کے پہلے سہ ماہی کے اندر اندر بھا شا اور ہندی سنستھان کے سر براہ اور ممبران کو نامزد کردیا گیا تھا۔کیا اسے اتفاق ہی سمجھا جائے کہ اردو اکادمی اور فخر الدین علی احمد کمیٹی کو انتظار میں ڈال دیا گیا یا اردو میں بہترین شخصیت کی طویل تلاش۔ کیا اردو میں موجودہ سر کار کو کوئی لائق فائق اور ایماندار شخص نہیں ملا ۔ اردو اکادمی سرکار کی بے توجہی کا شکار کیوں ہے۔یہ ایک بہت اہم اور سلگتا ہوا سوال ہے۔جب کہ سر کار اردو نواز ہے بلکہ ملائم سنگھ کو تو اردو کا مسیحا بھی کہا جاتا ہے۔ پھر اس کے کیا اسباب ہو سکتے ہیں، جب کہ پچھلی سر کار نے حکومت سازی کے ایک ماہ کے اندر اردو اکا دمی، فخرالدین کمیٹی اور دیگر اقلیتی اداروں کے نا ئب چئیر مین بحال کردیے تھے۔اردو اکیڈمی کی اس حالت کی ذمہ داری اتر پردیش کے اردو وا لوں پر ہی زیا دہ ہے۔ اردو وا لوں نے کبھی احتجاج نہیں کیا۔ اردو وا لوں نے کبھی حکومت سے مانگ نہیں کی کہ ایک ماہ کے اندر اکیڈمی کا قیام ہو یا اکیڈمی کا بجٹ بڑھا کر دس کروڑ ،بیس کروڑ کردیا جائے۔کیوں کہ اردو وا لے کبھی اردو کے معاملے میں متحد نہیں ہوئے۔ کبھی اردو کو سرکار کی کمزوری نہیں بنایا۔ سر کاروں کو بھی ایسا لگنے لگا کہ سب سے آخر میں اکیڈمی کو دیکھیں گے۔پھر ایک اور غلط رواج یہ چل پڑا کہ سیاسی جما عتوں نے غیر اردو داں حضرات کو ان عہدوں پر بٹھا نا شروع کردیا ۔ یہی نہیں اب تو اکیڈمی اور فخر الدین کمیٹی توپارٹی ورکروں کے لیے مخصوص ہوگئی ہیں۔ اردو وا لوں نے اس بات پر بھی کبھی اعتراض نہیں کیا، جب پہلی بار ایک سیا سی جماعت نے ایک غیر اردو داں سیاسی ورکر کو اکیڈمی کا چئیرمین بنا دیا تو صحا فیوں نے ان سے سوال کیا۔ آپ اردو نہیں جانتے تو اکیڈمی کیسے چلائیں گے۔ تو ان کا مضحکہ خیز جواب تھا کہ ریل کے وزیر کو کیا ریل چلا نی آ تی ہے یا ہوا بازی کے وزیر کو جہاز اڑا نا آ تا ہے؟ سیاست نے اردو اور اردو اداروں کے وقار کو ضرب پہنچا ئی اور ہم اردو وا لے دیکھتے رہے۔ تقریبا دو سال سے اردو اکادمی اور فخرالدین کمیٹی کی سر گرمیاں معلق ہیں، اردو وا لوں کو فکر نہیں۔ اردو کے طالب علموں کو وظیفہ نہیں مل رہا ہے، ہم خا موش ہیں اور مصنفین کو انعا مات نہیں دیے جا رہے ہیں،ہم خا موش ہیں،جب کہ اس کے متوا زی ہندی سنستھان کے انعا مات دینے کے لیے وزیر اعلیٰ خود حاضر ہوتے ہیں۔ یہ سب کیا ہے؟ ایک وزیر کے سر منڈھ کر سر کار کیا ثابت کرنا چاہ رہی ہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی مسلمانوں کو مسلمان سے ہی نقصان پہنچا ؤ۔ اقلیتوں کے سارے معاملات میں تاخیر کا ذمہ دار ایک وزیر کو بنا کر سارے معاملات کو پسِ پشت ڈالا جارہا ہے۔ کہاں ہے مسلمانوں کے مسیحا؟ کہاں ہیں اردو کے مسیحا؟کب تک اردو پر یہ ظلم ہو تا رہے گا۔ ادھر پتہ چلا ہے کہ اردو کے کسی دیوا نے نے کورٹ میں اردو اکادمی کی بحا لی پر RTIکیا تو کورٹ نے حکومت سے جواب مانگا ۔ سر کار نے جواب دینے کے کے لیے بھا شا وبھاگ کے چیف سکریٹری کو چئیر مین بنا کر خانہ پری کر کے جواب دے دیا۔ یہ سب کیا ہے؟یہ سب ہماری سیاسی سوجھ بوجھ کی کمی ہے ۔ اردو کے بزرگ اور اکابرین کی سادہ لو حی اور معصومیت ہے کہ انہوں نے کبھی اردو اکادمی کو مسلمانوں کی آواز نہیں بننے دیا۔اردو کو ووٹ بینک نہیں بننے دیا مگر دوستو اب وقت آ گیا ہے کہ اردو کے لیے کام کر ونے ا لوں کو ووٹ سے حمایت اور کام نہ کرنے وا لوں کو ووٹ سے محروم کرنا ہوگا اور اردو اکادمی اور دیگر اداروں کو ایک قوم، ایک طبقے تک پہنچنے کا ذریعہ بنانا ہو گا۔ اردو کے حقوق کے لیے میدا ن میں آ نا ہوگا۔ کیا ہی اچھا ہو تا کہ ہما رے مسلم ایم ایل اے حضرات بھی اردو کا درد سمجھتے اور سب مل کر سر کار پر اردو کے حقوق کے لیے دبا ؤ ڈا لتے۔ یہی نہیں اردو کے ساتھ ہو نے وا لی نا انصا فی پر ہر شہر میں ہزا روں اور لا کھوں محبان اردو،’’ ارردو ریلی‘‘ نکالتے۔جس میں اردو سے محبت کرنے وا لاہر سیا سی جماعت کا آ دمی شریک ہو تا۔ جب اردو کی حمایت میں لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد ،ہم سڑ کوں پر جمع کر پائیں گے تو خود بخود اردو کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم خا موشی کو توڑ دیں، اردو اداروں کے سر براہ اگر غیر اردو داں حضرات کو بنایا جائے تب بھی ہمیں علم احتجاج بلند کرنا ہوگا۔ اردو کے حقوق کی لڑا ئی کے لیے کمر بستہ ہونے کا وقت ہے۔ سبھی اردو والے اپنے اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر آ ئیں اور اردو کی حفاظت کا ذمہ خود اپنے شانوں پر لیں ۔
aslamjamshedpuri@gmail.com

فرقہ پرستی کی بنیاد مذہب نہیں بلکہ سوچ ہے ……. ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

 فرقہ پرستی کی بنیاد مذہب نہیں بلکہ سوچ ہے ……. ڈاکٹر اسلم  جمشید پوری
 مظفرنگر22؍نومبر(کلیم تیاگی )

                 جب انسان خود کو برترسمجھنے لگتا ہے تو اس کے اندر ایک برائی اور پیدا ہوتی ہے وہ دوسروں کو کمتر اور اپنے سے برا سمجھنے لگتا ہے ، یہیں سے فرقہ پرستی کی شروعات ہوتی ہے۔فرقہ پرستی کی بنیاد صرف مذہب نہیں بلکہ انسانوں کی کمتربی اور برتری کی سوچ ہوتی ہے۔ اِن خیالات کا اظہارڈاکٹر اسلم جمشیدپوری (صدر شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی ،میرٹھ) نے آج پیس لائبریری میں منعقد سمینار میں کیا۔ وہ ’سروکار ‘نامی تنظیم کے زیر اہتمام منعقدہ’فرقہ پرستی اور سماج‘ کے عنوان پربطور مہمانِ خصوصی عوام سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں لاتعداد فرقہ وارانہ فسادات ہو چکے ہیں،جو صرف اور صرف مذہب کی بنیاد پر نہیں ہوتے اُن کی دیگر وجوہات بھی ہوتی ہیں، انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بھی فسادات ہوتے ہیں، جبکہ وہاں غیر مسلم بہت کم ہیں، اسی طرح پوری دنیا میں اِس وقت فساد رونما ہو رہے ہیں، جس کی وجہ انسانوں کی ذہنیت بن رہی ہیں، لہٰذا میں سب سے پہلے انسان بننا ہوتا، انسانیت کا سبق لینا ہوگا۔ہر انسان اپنے اپنے مذہب کے مطابق اُس پر پورا پورا عمل کرے تب کہیں جاکر فساد پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ سماج کو بہتر معاشرہ دینے کیلئے بلا تفریق مذہب و ملت ہمیں اتفاق اور اتحاد کے ساتھ آگے آنا ہوگا تب کہیں جاکر بہتر اور پر امن سماج کی تشکیل کی جاسکتی ہے۔
اِس موقع پر مقررِخاص کے طور پر دہلی سے تشریف لائے عظیم مفکر،قلم کار اور سابق لیکچرار پروفیسر پشپیش پنت نے بھی فرقہ پرستی پر تفصیلی گفتگو کی اور کہا کہ سماج میں فرقہ پرستی کو دورکرنے کیلئے سیکولر ذہن کے لوگوں کو ایک ساتھ سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ کہیں نہ کہیں اِن فرقہ وارانہ فسادات میں سیاست کا دخل ضرور ہوتا ہے ، سرکار کے نکمے پن اور نااہل ہونے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ آج ووٹ بینک کی سیاست نے ہندو اور مسلمانوں کو بانٹ دیا ہے، جبکہ مذہب آپس میں بیر رکھنا نہیں سکھاتے ، مذہب تو انسانیت کا درس دیتے ہیں، انہوں نے کہا کہ حالانکہ میں مذہب میں یقین نہیں رکھتا ۔
انہوں نے کہا دونو ں ایک دھری کے دو پہئے ہیں۔فرقہ پرستی کو ختم کرنے کیلئے ہمیں تکبر اور اناء کو چھوڑنا ہوگا۔
پروگرام کا آغاز سرسوتی دندنا سے ہوا اور نظامت کے فرائض امت دھرم سنگھ نے بحسن و خوبی انجام دئیے۔ اِس موقع پر قاضی ظہیر عالم، ڈاکٹر ریاست علی، تحسین علی(نائب صوبائی صدر اتر پردیش انوادک کرمچاری سنگھ ) کلیم تیاگی (صدر اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن)، ممتاز علی، کے.ڈی. گوتم، نجم مظفرنگری، مہیش گوتم، ڈاکٹر چندکانت کوشک، ڈاکٹر الکا وشسٹھ، ڈاکر بی .کے. مشرا، ڈاکٹر انج کمار، ہرپال سنگھ کے علاوہ سیکڑوں لوگ موجود رہے۔

’’جاٹ ریزرویشن‘‘ کا خواب شرمندۂ تعبیر، مسلم ریزرویشن تا ہنوز خواب : ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

 ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

  ’’جاٹ ریزرویشن‘‘ کا خواب شرمندۂ تعبیر، مسلم ریزرویشن تا ہنوز خواب

             آزادی کے64سال بعد بھی ہندوستان ریزرویشن کے جنجال سے با ہر نہیں آ پا یا ہے۔ ایس سی،ایس ٹی کو اب تک ریزرویشن مل رہا ہے۔اوبی سی کے نام پر مختلف ذات برادریوں میں ریزرویشن کی ریوڑی تقسیم کی جاتی رہی ہے۔27% او بی سی ریزرویشن میں ہی اب جاٹوں کو بھی کو ٹا مختص کیا گیا ہے۔ اس سے کچھ قبل2009ء کے عام انتخابات کے وقت مرکزی سرکار نے مسلم ریزرویشن، کا کارڈ کھیلا تھا اور مسلمانوں کو او بی سی کوٹے سے5% ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا تھا۔جو شر مندۂ تعبیر نہیں ہو سکا۔ آندھرا پردیش میں کانگریس حکو مت نے5% ریزرویشن پاس کر کے دیا تھا جسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور معاملہ التویٰ میں چلا گیا۔ در اصل مرکزی سرکار نے حقیقت میں مسلم ریزرویشن کے تئیں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔کسی بھی طبقے، ذات ،برادری کو ریزرویشن دینے سے قبل کچھ ضروری اقدا مات کرنے ہوتے ہیں۔مثلا
 کسی بھی طبقے کو ریزرویشن دینے سے قبل اس سماجی،معاشی اور تعلیمی اعتبار سے پسماندہ ہو نے کا سر وے ہونا چاہیے تاکہ اس کا پسماندہ ہو نا ثا بت ہو۔ 
 سرکاری ملازمتوں میں ان کی نمائندگی اطمینان بخش نہ ہو۔
 کسی بھی حال میں کل ریزرویشن50%سے زائد نہ ہو۔
مرکزی سرکار نے مسلم ریزرویشن کے لیے سچر کمیٹی سفارشات کو بنیاد تو بنایا لیکن عدا لتوں کے لیے پہلے سے کوئی منصوبہ نہیں تھا۔بلکہ مرکز کا مقصد مسلم ریزرویشن کا اعلان کر نے سے مسلمانوں کو حسیں خواب دکھانا ہی تھا۔تقریباً چار سال گذرجانے کے بعد بھی مرکز نے مسلم ریزرویشن کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا۔ مرکزی سرکار کے کئی وزراء الگ الگ بیان دیتے رہے۔ مرکزی وزیر سلمان خورشید مسلمانوں کو12% ریزرویشن کی بات کرتے رہے۔
’جاٹ ریزرویشن‘ کے اعلان سے ایک بار پھر ملک کی سیاست میں کھلبلی مچ گئی ہے۔کیا وا قعی سر کار جا ٹوں کو مرکزی سر کاری کوٹے میں ریزرویشن دے پائے گی؟ یا پھر یہ بھی مسلم ریزرویشن کے اعلان کی طرح کا ہی پانسہ ہو گا جو جاٹوں کو راضی کرنے کے لیے پھینکا گیا ہے۔۔لیکن دو نوں معاملات میں خا صا فرق ہے۔ جاٹ ریزرویشن کے لیے جدو جہد کی پوری تاریخ ہے۔ یہ معا ملہ 1999ء سے ہی اٹھایا جاتا رہا ہے۔ اس کے لیے کئی بار ملک گیر احتجاج ہو چکے ہیں۔کئی سیا سی جما عتیں اس تحریک میں شا نہ بہ شانہ شریک رہی ہیں۔ خصوصاً راشٹریہ لوک دل، بھارتیہ کسان دل، کسام مو رچہ وغیرہ۔ چو دھری چرن سنگھ، دیوی لال سے لے کر چو دھری اجیت سنگھ اور مہندر سنگھ ٹکیت تک اس سلسلے میں خاصی جدو جہد کر چکے ہیں۔ 1999ء میں چودھری اجیت سنگھ کی رہنمائی میں131 ایم پی نے جاٹ ریزرویشن کی حمایت میں ایک تجویز اس وقت کے وزیر اعظم کو دی تھی۔اسی دوران1999ء میں دہلی اور راجستھان میں جاٹوں کو او بی سی کوٹے میں ریزرویشن دیا گیا۔ اگلے ہی سال یعنی2000ء میں اتر پردیش میں بھی او بی سی ریزوریشن ملا۔2002ء میں کل ہند جاٹ مہا سبھا نے ریزیرویشن کی جدو جہد کو تیز کرنے کے لیے کل ہند جاٹ ریزرویشن سنگھرش سمیتی کی تشکیل کی۔ 2009ء میں اسی سمیتی کے بینر تلے ۱۲ ریاستوں کے لاکھوں جاٹ میرٹھ میں جمع ہو ئے۔2009ء میں اجیت سنگھ کی مانگ پر مرکزی سرکار نے جاٹ ریزرویشن کا وعدہ کیا۔2010ء میں سنگھرش سمیتی نے ریزرویشن کو لے کر پنجاب، ہر یانہ، یو پی، راجستھان میں ایک ساتھ تقریباً63 مقامات پر جام اور جلوس کا اہتمام کیا۔ ایک کسان کی پولس گو لی سے موت بھی ہو ئی۔ 2010ء میں ہی سمیتی نے کامن ویلتھ گیمس کا انعقاد نہ ہونے دینے کی دھمکی بھی دی۔ 2011ء میں اسی سمیتی نے جے پی نگر، حصار اور متھرا میں ریلوے ٹریک پر قبضہ جمایا۔اس شاندار جدو جہد کے نتیجے میں مرکزی سرکار نے جاٹ ریزرویشن کو کیش کرنے کا منصو بہ بنا لیا تھا۔2013ء کے پانچ ریا ستوں کے انتخابات سے قبل اس کا اعلان کیا جانا تھا تا کہ ان ریاستوں میں کانگریس کو فائدہ پہنچ سکے۔ لیکن الیکشن کمیشن کے اعلامیہ کے بعد یہ بروقت نہیں ہو سکا۔ اسی دوران مظفر نگر کا فساد رو نما ہو گیا جس میں جاٹ اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ فساد نے پو رے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ سیا سی اعتبار سے مظفر نگر کا سب سے زیا دہ نقصان راشٹریہ لوک دل اور سماج وادی پارٹی کو ہوا۔ سماج وادی پارٹی یو پی میں حکمراں کی حیثیت میں ہے اس لیے اس نے پہلے مسلمانوں کو منانے کا کام کیا اور پھر جاٹوں اور ٹھا کروں کو ہموار کر نے کی پالیسیاں بنائیں۔ فساد متاثرین کو5،5؍لاکھ رو پے دیے گئے۔کیمپوں میں بھی راحت کا سامان فراہم کیا۔کئی مسلم رہنماؤں کو لال بتی دے کر مسلمانوں کے زخموں پر مر ہم رکھنے کی کوشش کی۔ وہیں جاٹوں کو بھی ہموار کرنے کے لیے جاٹ، رہنما ؤں کے قد بڑھا ئے گئے۔ وزیر اعلیٰ اکھلیش یا دو جاٹوں کی امداد کو خود آگے آگے23؍ دسمبر چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے یوم پیدا ئش کے دن تعطیل کا اعلان اور23 کو چو دھری چرن سنگھ کی یاد میں ہونے وا لے جلسے میں وزیر اعلیٰ کی شرکت بھی اسی طرف قدم ہے۔ دوسری طرف راشٹریہ لوک دل نے مظفر نگر فساد کے بعد ہونے والے نقصان کو کم کرنے کی کوشش تیز کردی۔ اجیت سنگھ کئی بڑی میٹنگوں کو خطاب کر چکے ہیں۔جینت چو دھری بھی میدان میں آ کر زیا دہ سر گرم ہو گئے ہیں۔ راشٹریے لوک دل کی پریشا نی یہ تھی کہ ان سے جاٹ بھی ناراض ہو ئے اور مسلم بھی۔ ان کی جیت میں جاٹ مسلم گٹھ جوڑ ہی اہم کردار ادا کرتا تھا۔ پھر سماج وا دی پا رٹی نے چودھری اجیت سنگھ کے قلعے باغپت میں ان کے مخا لف مسلم امید وار(سوال خاص کے ایم ایل اے، غلام محمد) کھڑا کر کے انہیں گھیرنے کی کوشش کی تو اجیت کوئی بڑا داؤ لگانے کی تاک میں تھے اور وہ مرکزی سرکار کو ’’جاٹ ریزرویشن‘‘ کے لیے تیار کر کے یہ داؤ پر کامیابی سے کھیل گئے۔ اب جاٹ ریزرویشن کے اعلان کے بعد، اس کا سیا سی فائدہ اور کریڈٹ لینے کی ہوڑ لگ گئی ہے۔ راشٹریہ لوک دل اسے اپنی بڑی کا میابی مان رہا ہے اور اسے سماج وا دی کو کرارا جواب بھی مان رہا ہے جب کہ کانگریس اسے کیش کرنے میں لگی ہے۔ اسے آئندہ عام انتخابات کی فکر ہے۔ وہ ہر یانہ، اتر پردیش، راجستھان، پنجاب، مدھیہ پردیش، ہماچل پردیش کے جاٹوں کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اتر پردیش میں کانگریس گذشتہ20؍ برسوں سے انتہائی خستہ حا لت میں ہے۔ جاٹ ریزرویشن سے وہ مغربی اتر پردیش میں اپنی کھو ئی زمینوں کو دوبارہ پالینا چا ہتی ہے۔
اس کے بر خلاف’’ مسلم ریزرویشن‘‘ کی بات کی جائے تو معاملہ خا صا مختلف نظر آ تا ہے۔ مسلم ریزرویشن کے لیے’جاٹوں‘ کی طرح منظم تحریک کا ہمیشہ فقدان رہا۔اس کی سب سے بڑی وجہ مسلم ریزرویشن پر مسلما نوں کا متحد نہ ہو نا ہے۔ بعض اعلیٰ مسلمانوں کا خیال ہے کہ مسلمانوں کو ریزرویشن کی ضرورت نہیں۔ مسلمانوں کا یہی طبقہ اعلیٰ عہدوں اور وزراتوں پر فائز ہے۔ دوسری جانب مسلمانوں میں پسماندہ طبقات، جن کی تعداد خاصی ہے اور جنہیں ریزرویشن کی سخت ضرورت بھی ہے،لیکن یہ طبقہ سیا سی ،سماجی، معا شی اور تعلیمی اعتبار سے اتنا پسماندہ ہے کہ اپنے حقوق کی لڑا ئی کو منظم طریقے سے لڑ سکیں۔ یہی باعث ہے کہ آج تک مسلم ریزرویشن کی حمایت میں کوئی بڑی تحریک، جلسہ یاجلوس منعقد نہیں ہو سکا۔ قومی سطح کی بات تو در کنار، صو بائی اور علا قائی سطحوں پر بھی مسلم ریزرویشن کے لیے کوئی یاد گار تحریک سامنے نہیں آ ئی۔ اس کے با وجود مسلم ووٹوں کی خاطر قو می اور علا قائی سیا سی جما عتوں نے’’ مسلم ریزرویشن‘‘ کا شوشہ چھو ڑا۔ مرکزی سرکار متعدد بار یہ موضوع اٹھا تی رہی ہے۔ اتر پردیش میں سماج وا دی پارٹی نے2012ء کے اسمبلی انتخا بات کے وقت مسلم ریزرویشن کا وعدہ کیا تھا۔ سر کار بنانے کے بعد اب تک اس موضوع پر کوئی کام نہیں کیا۔ ہاں بہلا وے کے لیے سر کار نے ریاستی محکموں میں سے20 محکموں میں مسلمانوں کو چھوٹ دیے جانے کا منصوبہ بنایا، اعلان کیا ۔لیکن بات اعلان سے آگے نہیں بڑھی۔
اب ’’جاٹ ریزرویشن‘‘ کے اعلان کے بعد مسلم ریزرویشن اور گو جرریزرویشن کی مانگ بھی مضبوطی سے سامنے آنے کی امید ہے۔باقی آگے آگے دیکھنا ہو گا کہ آیا’’ جاٹ ریزرویشن‘‘ عمل میں آ پا تا ہے یا نہیں اور اب اسی کے سہارے سماج میں نئی توا نائی کی امیدیں زندہ رہیں گی۔ مسلم ریزرویشن کا خواب بھی شا ید نئی انگڑا ئی لے کر بے دار ہو جائے ؂
آ گے آگے دیکھئے ہو تا ہے کیا

***
aslamjamshedpuri@gmail.com

معرکہ : ثناءغوری

   معرکہ

   ثناءغوری

                    پاکستان میں جنگل کا قانون رائج ہے آئی ٹی منسٹری سو رہی ہے یہ کہنا سرا سرغلط ہے. مجھے اس جملے سے ہمیشہ شدید اختلاف رہا ہے، کیوں کہ جنگل کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے، قدرت کے عطاکردہ  ضابطے ہوتے ہیں، جن پر چرند پرند عمل کرتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں، مگر ہمارے یہاں تو اندھیر نگری چوپٹ راج ہے۔ مہذب اورباعزت معاشرے کے قیام کے لیے انسانی حقوق کی پاس داری بہت ضروری ہے۔ دوسروں کے حقوق کے احترام کے بغیر فرد انسانیت کے مرتبے تک نہیں پہنچ سکتا۔ چناں چہ حق تلفی کے سدباب کے لیے قوانین اور ادارے بنائے جاتے ہیں، جو کسی فرد یا جماعت کے حقوق چھینے جانے پر حرکت میں آجاتے ہیں۔ لیکن ایسے قوانین کی تشکیل اور اداروں کا قیام اور ان کی کارکردگی اس بات پر منحصر ہے کہ معاشرہ اپنے حقوق سے کس حد تک آشنا اور ان کی پاس داری کے لیے تیار ہے۔ ہم پاکستانیوں کا المیہ تو یہ ہے کہ ہماری حق تلفی ہوتی رہی اور ہم اس کے عادی ہوتے گئے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ کم ازکم غریب شہریوں کوگرانی کی آفت سے بچائے رکھے، مگر مہنگائی بڑھتی رہی، بڑھتی جارہی ہے، لیکن اسے روکنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ہماری جان کے تحفظ کا حق پامال ہوتا رہا، ہم سڑکوں پر ان جانی گولیوں کا نشانہ بن کر مرتے رہے، لیکن ہماری جان کے تحفظ کا حکومتی فرض چپ چاپ تماشا دیکھتا رہا۔ ٹریفک کے مسائل گھنٹوں کے ٹریفک جام اور خوف ناک حادثات کی صورت میں ہماری جان کا روگ بنے ہوئے ہیں، لیکن کسی کو سڑکوں پر ٹائروں تلے کچلے جانے والے ہمارے حقوق کا خیال نہ آیا۔ مثالی معاشرہ تو دور کی بات ہے، ایک معاشرے کے قیام کے لیے بھی ضروری ہے کہ اس کے افراد کے حقوق وفرائض کا تعین کیا جائے، اور ان کے نفاذ کے لیے حکومت اور اس کے ادارے کوشاں رہیں، اگر ایسا نہ ہو وہ معاشرہ نہیں محض افراد کی بھیڑ ہوگی۔ میں یہ نہیں کہتی کہ قیام امن سے لے کر اخلاقی روایات کی پامالی تک ہر معاملے میں حکومت ہی کو ذمے دار سمجھا جائے، ذمے داری عوام کی بھی ہے، لیکن جب کسی حق اور فرض کے حوالے سے قانون بنایا ہی نہیں جائے گا یا اس سے آگاہی فراہم نہیں کی جائے گی تو عوام میں اس حوالے سے شعور کیسے اجاگر ہوگا؟ رہے اخلاقی ضابطے، تو کسی قانون کی عدم موجودگی میں صرف اخلاق کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ سیاست دانوں، آمروں اور افسرشاہی کی عنایت سے ہمارا ملک آج جس نہج پر جاپہنچا ہے اس کے نتائج ہم دیکھ بھی رہے ہیں اور بھگت بھی رہے ہیں۔ ہر پاکستانی واقف ہے کہ اس کا ملک کن گمبھیر مسائل سے دوچار ہے۔ اسے پتا ہے کہ دہشت گردی ریاست کو گُھن کی طرح چاٹ رہی ہے اور فرقہ واریت کا جنون معاشرے کو بھڑکتے جہنم کی طرف لے جارہا ہے۔ ایسے میں حکومت ہو یا میڈیا، کسی واقعے کی بابت حقائق چھپا کر عوام سے ان کے جاننے کا حق ہی نہیں چھینتے، بلکہ افواہوں اور الزامات کا راستہ بھی کھول دیتے ہیں۔ سانحۂ راولپنڈی نے بھی یہ حقیقت اجاگر کردی ہے کہ حقائق چھپانا مسئلے کا حل نہیں۔ جب یہ سانحہ رونما ہوا تو دو دن تک میڈیا خاموش رہا۔ اس خاموشی کی بنیاد مصلحت پر مبنی یہ پالیسی تھی کہ اس سانحے کی خبر کو پوری تفصیل کے ساتھ اور ٹھیک ٹھیک نشر کرنے سے حالات خراب ہوجائیں گے، لہٰذا خبر کو فی الوقت دبا دیا جائے یا اس کی سنگینی کم کردی جائے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں الیکٹرانک میڈیا نیند سے بیدار ہوگیا اور اس سانحے کے حوالے سے ٹاک شوز میں ریٹنگ بڑھانے کا عمل شروع ہوگیا۔ دو دن کی یہ خاموشی خطرناک ثابت ہوئی۔ اس پُراسرار خاموشی میں سوشل میڈیا پر جو شور برپا ہوا اس نے الیکٹرانک میڈیا کی چُپ کے ساتھ مل کر شکوک وشبہات اور الزامات کی فضا تیار کردی۔ سوشل میڈیا پر فریقین یا فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والوں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی، تصاویر پوسٹ کرنے اور نازیبا زبان کے استعمال کا سلسلہ شروع ہوگیا اور بڑھتا چلا گیا۔ یہ سب ایک عرصے سے ہورہا ہے، لیکن شکر ہے کہ حکومت نے اس مرتبہ سماجی ویب سائٹس پر پھیلائی جانے والی منافرت کا نوٹس لیا ہے۔ میں اپنے گزشتہ کالموں میں بھی سوشل میڈیا کے حوالے سے قانون سازی کی بات کرتی رہی ہوں۔ شکر ہے کہ حکومت نے اس پر غور شروع کردیا ہے۔ تاہم ہماری حکومتوں کی ترجیحات اور مسائل کی آتش کو دعوؤں اور بڑھکوں کے پانی سے سرد کرنے کی روش دیکھتے ہوئے مجھے یقین ہے کہ ہر بار کی طرح اس بار بھی یہ معاملہ التوا کا شکار ہوجائے گا۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ٹی وی چینلز پر پورے کروفر کے ساتھ انتباہ کیا جاتا ہے کہ ’’جو شخص عوامی رابطے کی ویب سائٹس پر اشتعال انگیز مواد پھیلاتا پایا گیا، اسے سخت سزا دی جائے گی۔‘‘ حد ہے صاحب! آپ کے پاس تو وہ قانون ہی نہیں جو کسی کو اس اشتعال انگیزی سے روک سکے۔ میں اپنے کالموں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ارباب اختیار کو مشورہ دے چکی ہوں کہ وہ سوشل ویب سائٹس کے حوالے سے قوانین اور ضابطے بناکر اپنی ذمے داری کا حق ادا کریں، لیکن اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ سوشل میڈیا کے دائرۂ کار اور نوعیت کے باعث اس کے اثرات دنیا بھر میں مرتب ہو رہے ہیں۔ سوشل ویب سائٹس پر ہر شخص کو اپنی بات کہنے کی آزادی ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ یہ آزادی ذمے داری کے ساتھ پوری نہیں کی جارہی۔ افراد اور گروہ، چاہے وہ کسی سیاسی نظریے کے حامل ہوں یا مذہبی عقیدے کے، افواہوں، الزامات اور دل آزار پوسٹس کے ذریعے معاشرے کے انتشار اور اختلافات کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ یہ حقیقت اس معاملے کو مزید سنگین بنادیتی ہے کہ سوشل ویب سائٹس کے استعمال کرنے والوں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو اپنے جذبات میں شدت رکھتے ہیں۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم اپنے سماج کو اس میڈیا کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے اقدامات کریں۔ اس کے لیے قانون سازی ضروری ہے، لیکن یہ ایک خالصتاً تیکنیکی مسئلہ ہے، جو صرف قانون بنادینے سے حل نہیں ہوسکتا۔ سوشل ویب سائٹس سے قابل اعتراض اور نفرت انگیز مواد کے خاتمے اور اس کی روک تھام کے لیے حکومت کو ان ویب سائٹس کی مالک کمپنیوں سے بات چیت کرکے موثر اقدامات کرنے ہوں گے۔ مثال کے طور پر یوٹیوب پر موجود اشتعال انگیز مواد ہٹوانے اور آئندہ ایسے مواد کی آمد روکنے کے لیے، یوٹیوب کی مالک کمپنی گوگل کے قواعد کی رو سے، ہماری حکومت کو یوٹیوب کا پاکستان کے لیے ڈومین حاصل کرنا ہوگا، جس کے لیے اس کمپنی کو تحفظ کی ضمانت دینا لازمی ہے۔ اس ضمانت کی فراہمی کے لیے الیکٹرانک کرائم بل میں ترمیم ناگزیر ہے۔ حکمرانوں کو سوشل ویب سائٹس سے متعلق حقائق کا ادراک کرنا ہوگا، تب ہی اس حوالے سے موثر پالیسی اور قوانین کا نفاذ ممکن ہے۔ —

By: Sana Ghori

اردو کے فروغ کے لیے معاصر چیلنجز کو سامنے رکھنا ضروری : پروفیسرخواجہ اکرام الدین

 اردو کے فروغ کے لیے معاصر چیلنجز کو سامنے رکھنا  ضروری:پروفیسرخواجہ اکرام الدین

 شعبۂ اردو ،میں قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر کا پریس سے خطاب

 (پریس ریلیز)
 میرٹھ12؍ دسمبر

                         اس میں شک نہیں کہ اردو زبان مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ کمپیوٹر، انٹر نیٹ اور مو بائل وغیرہ میں بھی اردو کے نئے نئے پروگرامس لانچ کیے جا رہے ہیں۔اس سلسلے میں قومی کونسل برا ئے فروغ زبان اردو نئی دہلی نے اہم خدمات انجام دی ہیں۔ انہی سب باتوں کے تعلق سے شعبۂ اردو میں ایک کانفرنس منعقد ہو ئی جس میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹرپروفیسر خواجہ اکرام الدین نے تفصیل سے رو شنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اردو کو اگر فروغ دینا ہے تو معاصر چیلنجز کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ موجودہ عہد میں تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ تعلیمی وسائل میں بھی زبردست تبدیلی آ ئی ہے۔ موجودہ عہد میں زبان کے سیکھنے اور سکھانے کے روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ نئے وسائل میں بڑی تیزی سے جگہ بنائی ہے۔جیسے آن لائن لرننگ۔ ڈیجیٹل اور کمپیوٹر ٹیکنا لوجی کی مدد سے تعلیم کو عام کرنے کی عالمی کوششیں ہو رہی ہیں۔ان ہی کے پیش نظر کونسل نے آن لائن اردو لرننگ کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ آج کونسل کی آن لائن اردو لرننگ کے تحت پانچ ہزار سے زائد طلبہ و طالبات جڑے ہو ئے ہیں۔ان میں ہندوستان کے علا وہ سترہ ممالک کے طا لب علم شامل ہیں۔
اسی طرح اردو پیڈیا اور آن لائن اردو لائبریری سے بھی بڑی تعداد میں اردو احباب عالمی سطح پر مستفیض ہورہے ہیں۔ اس کے علا وہ کونسل نے اردو یونی کوڈ کے تیرہ فا ؤنڈ اور این رائیڈ کے لیے اردو کی بورڈ جاری کیا ہے جو عوامی مفاد میں مفت دستیاب ہے۔ اس کی وجہ سے اپنے مو بائل کو اردو زبان میں استعمال کرنا ممکن ہوا ہے۔ عنقریب یعنی دسمبر کے اواخر میں اردو او سی آر اور اردو سافٹ وئیر لانچ ہو نے ہیں۔جس کے ذریعے ڈیجیٹل کے تمام پلیٹ فارم پر اردو استعمال کرسکیں گے۔انہوں نے اردو زبان کے بڑھتے دائرے اور اثر کا ذکر کرتے ہو ئے مزید بتایا کہ کونسل کے رسالہ’’ اردو دنیا‘‘ کی ستائیس ہزار اور نئے رسالے ’’بچوں کی دنیا‘‘ جس کا محض چو تھا شمارہ سامنے آ یا ہے کی پچیس ہزار سے اوپر کاپیاں فروخت ہو رہی ہیں۔ یہ اپنے آپ میں ایک تاریخی بات ہے۔
اس مو قع پر صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے خواجہ اکرام الدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے فروغ کے تعلق سے پروفیسر مو صوف نے جو معلومات فراہم کی ہیں وہ نہ صرف طلبا بلکہ اس خطے کے اردو نواز احباب کے لیے بھی امید افزاں ہیں۔ کیوں کہ اس وقت اردو کے مستقبل کو لے کر اردو احباب میں متعدد غلط فہمیاں بیٹھی ہوئی ہیں اور انہیں اردو زبان کا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اردو جدید ٹکنا لوجی کے ذریعے ملک کی حدود سے نکل کر عالمی سطح پر اپنی پہچان اور انفرادیت قائم کرتی جا رہی ہے۔ 
اس مو قع پر این ،سی پی ،یو۔ ایل کے آفیسرڈاکٹر کلیم اللہ شعبۂ اردو کے استاد ڈاکٹر آصف علی اورڈاکٹر شاداب علیم نے بھی پریس سے خطاب کیا۔ 

محمد علی جو ہر یو نیورسٹی مولانا کو پہلا عملی خراج عقیدت : ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

مولانا محمد علی جو ہر کی یاد میں تقریب کا اہتمام
محمد علی جو ہر یو نیورسٹی مولانا کو پہلا عملی خراج عقیدت:ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
میرٹھ10؍ دسمبر2013ء

                  مولانا محمد علی جو ہر ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے۔صحافت،سیاست، خطابت ،شاعری، میں جہاں انہیں ملکہ حاصل تھا وہیں مولانا قائدانہ صلاحیت سے بھی مالا مال تھے۔اظہار حق میں بھی انہوں نے کبھی تامل سے کام نہیں لیا ۔اس تعلق سے دوست و دشمن کی ان کے یہاں کوئی تفریق نہیں تھی۔انہوں نے گول میز کانفرنس کے دوران ملک کے واجب مطالبات کو ایسے مدلل انداز میں پیش کیا تھا کہ بڑے سے بڑے سیاست داں انگشت بدنداں رہ گئے تھے۔یہ الفاظ تھے صدر شعبۂ اردو،ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری کے جو شعبۂ اردو میں مولانا محمد علی جو ہر کے یوم پیدائش پر منعقدہ تقریب کی صدارت کے دوران پیش کر رہے تھے۔انہوں نے طلبا سے مخا طب ہو تے ہو ئے کہا کہ مو لا نا جوہر کے اندر یہ لیاقت علم کی بدولت پیدا ہوئی تھی۔ہمیں انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے معیاری تعلیم گاہیں کھولنااور اپنے اپنے شعبہ جات کا تعلیمی معیار بلند کرنا ہوگا۔اس سلسلے میں رام پور میں واقع محمد علی جو ہر یو نیورسٹی، میرے نزدیک پہلا عملی اقدام ہے۔
                  اس تقریب میں مہمان اعزازی کی حیثیت سے معروف شاعر اور میرٹھ کالج، میرٹھ کے پراکٹر ڈاکٹر محمد یو نس غازی شریک ہوئے۔انہوں نے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ مولانا محمد علی جو ہر تحریک آزادی کے وہ مجاہد مرد تھے جنہوں نے صحافت کے ذریعے ایوان باطل میں لرزہ اور محبان آزادی میں غلامی سے نجات کاجوش و ولولہ پیدا کیا تھا۔ نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے ڈاکٹر آصف علی نے مولانا محمد علی جوہر کی حیات اور کار ناموں کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔خیر مقدمی کلمات گلستاں اور اظہار تشکر کی رسم اسما نے اداکی۔
                 اس سے قبل فرح ناز نے تلا وت کلام پاک سے تقریب کا آ غاز کیا۔تلاوت کے بعد مسرورہ نے ہدےۂ نعت پیش کیا۔اس مو قع پر شعبہ کی استاد ڈاکٹر شاداب علیم نے کہا کہ وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنے ماضی کو فرا موش نہ کر یں بلکہ اسے اپنی مستقبل کی زندگی میں ڈھال لیں۔لہٰذا ہمیں مولانا کی زندگی کو فرا موش نہیں کر نا چا ہیے۔اس مو قع پرشعبہ کی طالبہ شوبی رانی اور ساجد علی نے بھی مولانا محمد علی جوہر کی خدمات پر روشنی ڈالی ۔ 
اس تقریب میں عامر نظیر ڈار،سمیع اللہ الائی ،عشرت یعقوب ، وغیرہ نے بھی شر کت کی۔

ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کی نئی کتاب دکھ نکلوا شائع ہو گئی ہے

 ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کی نئی کتاب دکھ نکلوا شائع ہو گئی ہے

 (پریس ریلیز)
 میرٹھ30؍ نومبر2013ء

                      شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کے پریم چند سیمینار ہال میں ایک پریس کانفرنس منعقد ہو ئی۔پریس کانفرنس میں ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری (صدر شعبۂ اردو،سی سی ایس یو)کی ہندی کہانیوں کا نیا مجمو عہ جو ’’دکھ نکلوا‘‘ کے نام سے شائع ہوکر آ یا ہے پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔’’دکھ نکلوا‘‘ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کی مشہور تصنیف ’’لینڈرا‘‘ ،جسے قومی و بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی ،کا ہندی روپ ہے۔مجمو عی طور پر یہ ان کی انیسویں کتاب ہے۔اس سے قبل ان کی متعدد کتابیں تنقید، تحقیق،ترتیب و تالیف پر آچکی ہیں۔ساتھ ہی ساتھ ان کے افسا نوں کے کئی مجمو عے مثلا’’افق کی مسکراہٹ‘‘،’’ممتا کی آواز‘‘،’’جاگتی آ نکھوں کا خواب‘‘،’’لینڈرا‘‘،’’کہانی محل‘‘ وغیرہ منظر عام پر آ چکی ہیں۔
’’دکھ نکلوا‘‘ کی زیا دہ تر کہا نیاں قومی و بین الاقوامی اخبا رات و رسائل میں شائع ہو چکی ہیں اور کئی کہانیوں کو مختلف انعا مات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
’’دکھ نکلوا‘‘ کے اردو روپ’’ لینڈرا‘‘ پر اسکندریہ یو نیورسٹی، مصر اور شعبۂ اردو جموں یو نیورسٹی جموں میں تحقیقی و تنقیدی کام ہو رہاہے۔ ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری کی اس کتاب کو میرٹھ کے معروف ہندی پبلشر روی پبلشرز نے شائع کیا ہے اور ارشاد علی نے کتاب کا دیدہ زیب اور معنی خیز سر ورق تیار کیا ہے۔
پریس کانفرنس کو ڈاکٹر اسلم جمشید پوری،کتاب کے پبلشر منیش جین اور معروف سر ورق ڈیزائنر ارشاد علی نے خطاب کیا۔اس مو قع پر ڈاکٹر آصف علی اور سعید احمد سہارنپوری بھی موجود تھے۔

 

ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کو اردو خدمات کے لیے ایوارڈ

 ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کو اردو خدمات کے لیے ایوارڈ
 (پریس ریلیز)
 میرٹھ4؍ جون2012ء

                   میرٹھ کی معروف تنظیم’وجے ما نو سیوا سنستھان‘ نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں میرٹھ کا نام روشن کر نے وا لی اہم شخصیات کو ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری ( صدر شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ) کو اردو زبان و ادب کے فرو غ کے لیے’’وجے مانو سیوا ایوارڈ2012ء‘‘ سے نوازا گیا۔ انہیں یہ ایوارڈ سا بق چیف جسٹس ایس پی تیاگی، سریندر پرتاپ سنگھ، را میشور تیاگی اور ڈا کٹر انشو جندل نے مشترکہ طور پر پیش کیا۔
ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری کو ایوارڈ ملنے پر اردو حلقوں میں خو شی کی لہر ہے۔احباب نے انہیں مبارک باد پیش کی ہے۔

مو جو دہ عہد کے ر ضو انؔ وا سطی میں ثا نی امیر خسروکی روح ہے۔ جہانگیر محمد

مو جو دہ عہد کے ر ضو انؔ وا سطی میں ثا نی امیر خسروکی روح ہے۔

جہانگیر محمد

                   آ ہنی شہر میں سیدرضو ان وا سطی کا شمار عصر حا ضر کے ممتاز و معروف شاعروں اوراد یبو ں میں ہو تا ہے ۔آپ وا سطی خاندان کے مشہور علمی خا ندان سے تعلق ر کھتے ہیں ۔یہ خا ندان جمشید پو ر میں عز ت وا حترام کی نگا ہو ں سے دیکھا جا تا ہے ۔ آ پ کی پیدائش ۱۰ جون ۱۹۴۶ جمشید پور میں ہوئی ۔ر ضو ان وا سطی اقلیم نثرکے شہر یا ر توقا در الکلا می شا عر ی کے تا جدا رہیں۔ز با ن و بیان پر ان کو د سترس حاصل ہے ۔ان کی کئی نگار شا ت اردو ادب نیز ہندی وانگر یزی میں بھی اپنا جلو ہ دکھا چکی ہیں ۔ان کی حا لیہ تصنیف ’’سچ ‘‘ اور ’’آ ٹو گر اف ‘‘ اردو ادب کا پیش قیمت سر ما یہ ہے ۔ٖصاف ستھری زبان ، عمدہ اسلو ب بیان ،معنو ئیت اور افکار سے لبر یز۔ان کے کئی ادبی ثہ پا رے منظر عا م پر آ چکے ہیں ۔اردو کے با ذوق اور ذہین قا ری کو دعو ت سخن دیتے ہیں ۔ان کی سحر انگیز ی او ردلاآو یزی ان کی حد درجہ کو شش اور ر یاضت کا ثمرہ ہے ۔انگریزی میںEssence of Ghazal اور’’کر نیں سہیل کی ‘‘(سہیل وا سطی کا د یو ان ) آپ کی گر انقدر تصا نیف ہیں۔’شا ن اردو‘ بچو ں کی نفسیات کے پیش نظر لکھاہوا اردو کا قاعدہ ہے ۔خا کسا ری اور عا جز ی آپ کی شخصیت کی پہچا ن ہے ۔ایسی شاعر ی آج کے عہد میں کم یا ب ہو ئی جا رہی ہے، جو آپ کی انفرادیت ہے ۔میں آپ کی شا عر ی کی مثال آپ کے سا منے ر کھتا جا تا ہو ں فیصلہ تو آپ کر یں گے ۔سو رہ فاتحہ کو آپ نے کس سلیقے سے منظو م کیا ہے غور کر یں گے ۔
ہا تھ پھیلا ئے کھڑ ے تھے ما نگنا آ تا نہ تھا ۔تب ز با ن تو نے عطا کی اور سکھا ئی یہ دعا
’’ نام سے اﷲکے جو رحمن ہے اور ہے رحیم ۔سب جہا نو ں کا تو رب تیر ی ہے حمد و ثنا 
ر حمتو ں والا بھی تو اور ر حم وا لا بھی تو ، فیصلے کے دن کاتو ما لک جزا دے یاسز ا
کر تے ہیں کر تے ر ہیں گے ہم عبا دت بس تیر ی،اور مدد ما نگیں گے تجھی سے جب مدد ہو ما نگنا
راستہ سیدھا دکھا ہم کو اور ایسا راستہ، جس پہ چلنے والوں کو انعام ہے تیرا ملا
ہاں مگر ان کا نہیں نازل ہوا جن پر عتاب، جو بھٹک کر ہوگئے گمراہیوں میں مبتلا‘‘
نعتیہ اشعاریوں تو تلو ار پر چلنے کے مصدا ق ہے اک طر ف تو حید اور دوسر ی طر ف ر سالت … بیچ میں ہے پل صر اط ۔آپ کتنا محتاط اور مشاق ہیں ملا خط فر مائیں ۔
نا ز قسمت یہ جتنا کر یں ہم ہے کم ،شکر الحمدﷲاس کا کر م 
کلمہ طیبہ پڑ ھنے وا لے ہیں ہم اور مو لا کا پیارا ہما رانبی ؐ
آپ کی عا دات واطوار بھی خسر وانہ ہے۔ بے شمارعلو م فنو ن کے درواز ے بھی آپ پر کھلتے ہیں ۔ہا ر مونیم، گٹا ر ،ما و تھ آر گن، بانسری ، موسیقی ،را گ ،ڈ را مہ ،ادا کا ری ،فو ٹو گر افی اور پا مسڑ ییا جواہرات شناسی ایک طرف تو دوسری طرف شاعر ی ، افسا نہ نگا ری ،خا کہ نگاری ،جد ید عہد میں کمپیو ٹر انڑ نیٹ ،جد ید عہد کو جا معیت کے سا تھ اپنی شخصیت کا آئینہ بنا یا ۔اس لئے اپنے تما م ہمعصر و ں میں آپ (شش جہت ) منفر دا ور فعا ل سمجھے جا تے ہیں ۔آپ کی شا عر ی دردوسو ز کے سا تھ بڑ ی خو بصو ر تی اور ر عنا ئی کا مظہر ہو ئی۔سا دگی و عا جزی آپ کا شعا رہے۔ امیر خسر و پر آپ کی گہر ی نظر ہے ۔بندہ گسیو درا زؒ پر بھی آپ تحقیقی مقا لہ لکھ چکے ہیں۔امیر خسر و کی مشہو ر غزل کو کس طر ح تضمین میں ا لفا ظ کا جا مہ پہنایا ہے ۔آپ بھی د یکھیں ۔
تضمین بر غزلِ خسروؔ 
کجا نہ دانم تبسّمِ گل،بچھی ہوئی کیوں ہیں سوکھی پتیاں
کسے نشنود ایں نالۂ شب، سناؤں دل کی کسے مِنتیاں
منم کہ اِستادہ دست بستہ، معاف کردو مری غلطیاں
زحالِ مسکیں مکن تغافل دورائے نینا بنائے بتیاں
کہ تابِ ہجراں نہ دارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں
نمی شناسم کہ چیست منزل، منم مسافر کسے نہ ہمراہ
کبھی نہ دیکھی ہے جس کی صورت،ہے من میں میرے اسی کی کیوں چاہ؟ 
دلم زیادش سکون یابد، مگر میں سوچوں تو نکلے بس آہ
شبانِ ہجراں دراز چو زلف و روزِوصلت چو عمرِکوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں 
اگرنہ یابم محبتِ آں، چہ مال و دولت چہ تاجِ زرِّیں
مری وفاؤں نے بدلے رشتے، تواس نے کیوں اپنی انکھیاں بدلیں
ز ہرسو خوشبوئے یار آید تو کیسے نہ دل کی کلیاں کھلتیں 
یکایک از دل دوچشم جادو بصدفریبم ببرد تسکیں
کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں 
چہ دشت و قریہ چہ کوہ و دریا، کجا کجا من تلاشم آخر
میں ٹوٹوں کب ٓتک؟ میں بکھروں کب تک؟یہ سلسلہ ہو کبھی کم آخر؟
زبالیں برخاستند اطبّأ، نکل نہ جائے مرا دم آخر
چو شمع سوزاں چو ذرہ حیراں، زبہر آں ماہ گشتم آخر
نہ نیند نیناں ،نہ انگ چیناں نہ آپ آویں نہ بھیجیں پتیاں
گزاشتم عمر بے معانی، بہ ایں فراز و نشیب خسرو 
میں آئینہ ریزہ ریزہ بکھروں تو دے گاکیا مجھ کو زیب خسرو؟ؔ 
ترا چہ گویم؟ چہ گونہ گویم ؟ مجھی میں شاید ہو عیب خسروؔ 
بحقِّ روزِوصالِ دلبر کہ داد مارا فریب خسروؔ 
سپیت منکے دورائے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کی کھتیاں
جب بھی میں نے اس جامع شخصیت کے با رے میں سو چا تو ہز ارو ں ر نگ کے پیکر آ ئے ۔دراز قد ،رو شن آ نکھیں مسکرا تا ہوا چہرہ ہو نٹوں پر تبسم کشا دہ پیشا نی او رزلف کی دولٹکتی ہو ئی لٹیں ان کی ذ ہا نت و عزمیت کے گہر ے نقو ش چہرہ پر نما یا ں کر تی ہیں گفتگو میں تری ۔علم وحلم سے بھر ی با تیں ۔تو اضع وا نکسا ری بڑے سے بڑے علمی گتھیوں کو تا ر یخی حوالے کے پس منظر میں فو ر احل کر دیتے ہیں۔کبھی میں نے غصہ کر تے نہیں د یکھا ۔یہ خاکسا ری اور عا جزی خا ند انی و صف کا حصہ ر ہا ہے ۔جن کی شا عر ی صر ف کتا بو ں اور حو الو ں کی ز ینت نہیں بنی بلکہ جیتی جا گتی وا ردا تو ں ،اور روز مرہ کے مشا ہدات اور تجربات کا ا ظہا ر ہے جس سے جا م و جم کھنکتے ہیں اور آئینہ دل پگھلتا ہے ۔
کتنے ہی اس کی کھو ج میں گم ہو گئے کہا ں کہا ں 
شہ ر گ کے جو قر یب ہے ڈ ھو نڈ یں اسے کہا ں کہا ں 
وہ ناخدا کبھی بنے، کشتی کبھی ڈُبوگئے 
ان کی شناخت کیسے ہو،کس شکل کے کہاں کہاں
ٹو تا ہوا پتا ہو ں کب جا ئے کد ھر جا ؤں ۔ اڑ جا ؤں ہواؤں میں یا جھیل میں تر جا ؤں
آتی ہیں بہا ر یں تو میں سو چتا ر ہتا ہو ں ۔ پھو لو ں کی طر ح کھل کر خو شبومیں بکھر جا ؤں 

با غ و بہا ر جا ن تمنا ر ہے ہیں ہم ۔ اے عکس تو نہ جا نے گا کیا کیا ر ہے ہیں ہم 
ہم ارتقا ئی دا ئرے نقطے میں قید ہیں ۔ گتھی عجیب ہے جسے سلجھار ہے میں ہم 

کئی ز بان پر آپ کو د ستر س حا صل ہے ۔ فا رسی ،عربی ،بنگا لی انگر یزی، ہند ی وغیرہ کا علم تو ہے ہی، اور اردو تو آپ کی ما دری زبا ن ہے ۔ ادب فلسفہ و تصوف پر بھی آپ کی گہری نظر ہے ۔ نفسیا ت اور تا ر یخ کا بھی گہرا مطالعہ ہے ۔ ایسی ہمہ جہت شخصیت اور حیرت انگیزخو بیو ں کے حا صل جو اپنے ملی افکا ر اور تعلیمی ادبی خد مات کے حو الے سے اردو کے عظیم اسکا لر ر ہے ہیں ۔ بلا کی کشش ہے اس شخص میں وہ جو شا عر ی کا سبب ہوا ۔
خشک اک روز ہر سانس کا دریاہو گا ۔ آپ نے تو ٹتے تا روں کو تو د یکھا ہو گا 
آپ ر ضو اں کے تبسم کو سمجھے کیا ہیں بیتے موسم کا کوئی ز خم سا تڑ پاہو گا 
ایک بھو نر ے نے بس گنگنایا ذ را ہر کلی کو مسکنے کا فن آگیا 
غنچے انگڑائی لے کر جو ان ہو گئے پھو ل کو بھی مہکنے کا فن آگیا 
منز لو ں کے نشا ں دھند میں کھو گئے ، را ستے کچھ ادھر سے اد ھر ہو گئے 
عشق کی ر ہنمائی ملی جب ہمیں ہر قد م کو بھٹکنے کا فن آگیا 
بن کے گھنگھور بادل برسنے لگے، صرف رضواں نے یہ آپ سے کہہ دیا
آپ کی زلف جب سے گھٹا بن گئی،چاندنی کو چمکنے کا فن آگیا
ر ضوان وا سطی بے شما ر فنو ن کے ز مزشنا س کا نا م ہے ۔جما لیا تی حس اور تغز ل کے ر نگ میں جب آ پ نے ڈ و ب کرلکھا تو پھر ہنگامہ آرا ئی اور سحر انگیز ی کا طو فان کھڑ اکر تے ہیں آپ بھی محظوظ ہو ں ان کی قا درالکلا می سے لطف اُٹھائیں ۔
پہاڑ پر جو تھا با دل ہُوا ہَو ا کیسے
ہوا چلی نہیں آ نچل سرک گیا کیسے 
اُبل پڑ ے گا ابھی دودھ ایسا لگتا تھا 
چھو ا نہ ہا تھ لگایا تو میں چلا کیسے
دل نے نہ ما نی ،ذہن نے منت ہز ارکی 
لے ڈوبی ز ند گی کو یہی ایک انا ر کی 
بیبا ک لمحے چھپنے پہ مجبور کر نہ دیں
تم کو نہ ڈھونڈنے لگے خو شبو اچا رکی 
اک بہتر ین استا د ہو نا ۔ہمہ و قت مقصد تعلیم کو پیش نظر ر کھنا اپنے شا گر دو ں کے اند ر و ہی کما لا ت جلا لت شا ن پیدا کر نا ۔یہ آپ ہی کا حصہ ہے ۔سبک دوشی کے بعد بھی آپ کر یم سیٹی کا لج (بی ایڈ)میں بحیثیت مہمان لکچررر درس و تد ر یس سے وا بستہ ہیں ۔گھا ٹ شیلا کاج اور پھرٹاٹا اسٹیل( شعبۂ تعلیم) کے صحرا میں بھٹکتے ر ہے ہیں یہ بھی اک سر بستہ را ز ہے ۔بھٹکنے کے نا م پر جو آپ نے قر با نی دی ٹھو کر یں کھا ئی ہیں یہ ہمیشہ دو سر و ں کو عا لی منصب پر فا ئز کر نا تھا ۔یہ آپ کی شخصیت کا ایسا حسین المیہ ہے جس کی نظیرملنی مشکل ہے ۔مگر کچھ عا قبت اند یش یہا ں بھی آپ کی قر با نی کو دو سر ی نگا ہ سے د یکھتے ہیں ۔یہ لطا فت بھی آپ کی شا عر ی کا قا بل دید ر مز ہے جو آپ کی شا عر ی میں جا بجا با نسر ی کی مد ھر آواز کی طر ح سنیے کو چھید کر اور فن کے اعلی قدرو ں سے سج اور سنو ر کر نکلا ہے ۔
خشک ہو نٹو ں یہ تبسم کی جلا رہنے دو ۔تیزآند ھی ہے کو ئی د یپ جلا ر ہنے دو 
حادثے اتنے ہو ئے حادثہ کو ئی نہ بچا ۔ ز ند گی مشغل�ۂ کر ب و بلا ر ہنے دو 
لا ش رسو انہ ہو خو ابو ں کا کفن ر ہنے دو ۔ دل میں امید کی ہلکی سی کر ن ر ہنے دو 
ہے اد کاری یہ جینے کی ادا بھی ر ضواں ۔ رو تے ہو نٹو ں یہ بھی ہنسنے فن ر ہنے دو 

لا کھ غر بت میں کٹی یو ں تو انا کے با عث ۔ میر ی عزت ر ہی محفوظ د عا کے با عث
میر ی غلطی تھی اسے آئینہ دل میں ر کھا ۔عکس ٹو ٹا میرا اس ہو ش ربا کے با عث
رضو ان وا سطی ایک جا مع الکمالا ت شخص وا قع ہو ئے ہیں ۔وہ ایسی مختلف خصو صیا ت کے حا مل میں کہ اک شخص میں یہ سا ری باتیں کم ہی مجتمع ہو تی ہیں ۔ان کا سب سے بڑ اامتیازی و صف ان کی جا معیت ہے۔ جس کی خو شبو انکے اشعا رسے چھلکتی ہیں ۔روز مر ہ کے مشا ہدات سے با لکل ہم آ ہنگ ۔
ہر گا م ،ہجو م انسا ں ہے ڈ ھونڈ و تو ملے انسا ن کہا ں 
غیر وں سے ملتے عمر کٹی اپنو ں کی ہو ئی پہچا ن کہا ں 
دعو ے کر نا ،لڑنا مر نا اب د ھر م ایمان کا مقصد ہے 
ہم جس کے نام پہ لڑ تے ہیں وہ دھر م کہا ں ایما ں کہا ں 
ز مین کو سخت کر نا آسماں کو دور کر نا کیا ۔میں بندہ ہو ں تر ا تو بندے کو مجبو ر کر نا کیا 
فقط اک لن تر انی ہی تھی کا فی رب ارنی کو ۔ جھلک د کھلا کے منظر کو جلا کر طو ر کر نا کیا 
یہ ایک گتھی ہے فلسفہ کی از ل کہا ں تھا مآ ل کیا ہے ؟ الجھ گیا ہے دما غ اسی میں جواب کیا دو ں سو ال کیا ہے ؟
کیا ہے تخلیق آدمی کو خو داپنی صو رت پہ جس خدا نے ۔جمیل ہے ذات اس کی بے شک تو پھر یُحِبُّ ا لْجَمَا ل کیا ہے ؟
آپ کی سا ری عمر لکھنے پڑ ھنے درس تد ر یس میں گز ری ہے ۔آپ کے بے شما ر شا گر دہیں … آپ نے جس پر بھی نگا ہ ڈ الی علم و فضل کے میدان کا شا ہکا ر بن کر چمکا ۔آپ ہمہ و قت اپنے شا گر دو ں کے کر دا رسازی ،علمی گہر ائی کے حصو ل تکمیل کیلئے جا نفشانی کے سا تھ لگے ر ہے ہیں ۔اسلئے آپ کے شا گر دو ں کا دا ئرہ ہندو ستا ن سے لے کر بیر ون تک پھیلاہے ۔ آج بھی انڑ نیٹ پر آپ سو الو ں کے جو اب دیتے ر ہتے ہیں ۔بین لااقو امی ادبی سطح پر اس کا سا مناکرنے کی آپ کے اندر ر بے با کی و جرأت وحو صلہ مندی ہے’’ سِن کو ےئن ‘‘ایک نئی صنف سخن ہے ۔ذرا غو ر کر یں ۔
’’وہ کیا ہے۔ ؟
جو سب سے بڑا ہے ۔؟
نہ ہو گا نہ اس سا ہوا ہے ۔
نہ ہی ابتدا ہے ،نہ ہی انتہا ہے ۔
خدا ہے ‘‘
آپ نے مختلف مو ضا عا ت پر قلم اٹھا یا ۔غز لیں نظمیں،ر با عیا یات ،قطعات دو ہے ۔جد ید غز ل ،آزاد غزل ،جد ید نظم ،آزاد نظم،سانیٹ،جیسے اصناف پربے شما ر تجربے کر تے رہتے ہیں ۔پھر اردو کے شا ئقین حضرات سے مطا لعہ کی درخوا ست کر تے ہیں پیش ہے۔چندربا عیات:
کا نٹے کی چبھن میں گلا ب ہے پنہاں۔جس طر ح لڑ کپن میں شبا ب ہے پنہا ں
ر و شن ہو بصیرت کی نگاہیں بھی اگر۔ہر ذرے میں اک آ فتا ب ہے پنہاں
تعبیرخزا ں سَیربہا را ں کیا ہے ۔کیا ہے غم دور ا ں غم جانا ں کیاہے
آغو ش تمدن میں نہ کھیلا ہے جو ۔ وہ کیسے سمجھ پاتاکہ انسا ں کیا ہے 
قطعات۔
وہ مجھ سے کب ملا تھا مجھے یا د بھی نہیں ۔بس عمر بچھڑنے کا احسا س رہ گیا 
خو شیاں سمیٹنے کی توفر صت ہی کب ملی ۔جو اس نے غم دیا تھا و ہی یا درہ گیا 

آزاد نظم ’’ و قت گو اہ ہے‘‘ 
وہ کیا سمجھتے ہیں جن کے ہا تھو ں میں نیو کلیا ئی ۔ہتھیا رو ں کے ز خیرے ہیں ۔
جن کے قبضے میں دینا کا امن کدہ ہے ۔امن کی با تیں ان سے سیکھیں ؟
جو اک جانب ہر طو فان کھڑاکر تے ہیں ۔دو سر ی جا نب ،اپنے ہتھیاروں کے ز خیر ے بیچ کر ،اپنی جیب بھرتے ہیں
میں جھوٹ فر یب اور مکا ری ۔جسے چاہیں فر و غ دے لیں
ذ را ئع ابلاغ جو ان کے قبضے میں ہے ۔بے ایما نی ور مکا ری کے اشتہا ر ہے 
نئی نئی سر حد یں بناکر ۔نا م بہار د ہشت گر دو ں پر پا بند ی عا ئد کرتے ہیں
بھو لی بھالی د نیا کو یہ بے و قو ف ۔جب چا ہیں بنا لیں ۔جس سے جسکو جب لڑ و الیں 
جنگ کے حال تو ہی بنتے ہیں ۔یہی ان کے ٹھیکید ا ر ہیں ۔امن کی با تیں ان سے سیکھیں ؟ ان سے ؟
بڑ ے بڑ ے فر عو ن کشن را ون اور نمر ود 
کہا ں کھو لئے ۔فنا ہو گئے۔یہ بھی د ھند میں کھو جا ئیں گے ۔یہ بھی فانی ہو جا ئیں گے ۔
سیکھا ہے تو و قت سے سیکھیں ۔
و قت گو اہ ہے 
بے شک انسا ن صر ف سراسر گھا ٹے میں ہے 
سوائے ان کے جن کو یقین کا مل ہے 
اور جنہوں نے اچھے کام کئے 
جنہو ں نے حق سے کا م لیا
اور صبر سے کام لیا ۔
جہا ں آپ نے نظم کے اختتا م پر قر آن شریف کی ’’وا لعصر سو رہ ‘‘کو منظوم کیا ہے اک بڑا فن ہے ظا ہر ہے یہ کہنہ مشق شا عر ی کی شنا خت ہے ۔جو قا بل ر شک ہے اور ار دو شا عر ی میں گر انقدر ا ضا فہ ہے ویسے آپ ا گر تسلیم کر یں تو ر ضو اں ؔ وا سطی اس عہدکے ثا نی امیر خسر و ہیں ۔
حا لا ت ہو ئے جا تے ہیں میر ے بد خو اہ ۔مسدود ہو ئی جا تی ہے جیسے ہر را ہ 
اب کو ئی سہا را ہی کہا ں ہے با قی ۔بس یا دہے لا تقنظو امن الر حمتہ اﷲ
’’عالمی پرواز . کوم ‘‘ کے توسط سے تمام قارئین تک ترسیل وابلاغ کے تمام رابطے روشن وعیاں ہوتے رہے ہیں ۔ بہت کم مدت میں روز بروز ’’ عالمی پرواز .کوم ‘‘ کے دائرے وسیع تر ہوتے جا رہے ہیں ۔ ادبی حلقوں کی گہما گہمی بڑھتی جا رہی ہے۔ ان تمام کاوشوں میں مہتاب عالم پرویز ؔ اور نغمہ ناز مکتومی ؔ کی ادبی خدمات ، جدوجہد ، حد درجہ ، لگن اور کوشش کا جلوہ پورے طور پر نمایاں دکھائی دیتا ہے ۔
آج ’’ عالمی پرواز . کوم ‘‘ کو بین الاقوامی سطح پر لانے کے لئے مہتاب عالم پرویزؔ نے جس خلوص کا اظہار کیا ہے وہ قابلِ توجہ ہے ۔ اردو کے تمام مفکر و احباب سے گُذارش ہے کہ اتحاد کی فضا کو قائم رکھیں تو انشا اللہ بہت جلدکامیابی ہمارے قدم چومے گی اور پھر اردو دُنیا کی مقبول زُبان ہوگی۔
ابرار مجیب ،منظر کاظمی اوررضواں واسطی کے بعدبہت سارے لوگ ہماری فہرست میں موجود ہیں اُن پر ہم کو کام کرنا ہے۔ گاہے گاہے اُن کی شخصیت سے آپ روشناس ہو جائیں گے۔
میں نے بھی یادوں کے جھروکے کو ان تمام ادبی ہستیوں کے لئے دل میں سجا رکھا ہے۔ اللہ تعالی سے دُعا گو ہوں کہ اللہ ’’عالمی پرواز . کوم ‘‘ اور مہتاب عالم پرویز ؔ کو روز افزوں ترقی کی معراج عطا فرمائے۔ 

****

جہانگیر محمد