امام حسینؓ کاخطاب اوراہلِ کوفہ : افروز سلیمی
امام حسینؓ کاخطاب اوراہلِ کوفہ
افروز سلیمی ؔ
سب ایڈیٹراردوپورٹل’’ عالمی پرواز ‘‘
سیدنا امام حسینؓ کی شہادت کوئی معمو لی شہادت نہ تھی،یہ شہادت تاریخ اسلام کا ا یک الم ناک واقعہ ہے، عالمِ اسلام میں یزیداور ابن زیاد کی اس نازیبا حرکت پر نفرت وعداوت کااظہار کیا گیا اور حجاز میں مدینہ تا مکہ مخالفت کی آگ بھڑ ک اٹھی اور کس قدر دردانگیز بات ہے کہ پیارے رسول اللہ ﷺ کے دنیاسے انتقال کے نصف صدی بعد ہی اہلِ بیت کی ایک عظیم شخصیت پرظلم وبربریت کی انتہاکردی گئی، آخر یومِ شہادت کاآفتاب طلوع ہوا حضرت امام حسینؓ نے نماز فجر سے فارغ ہوکراور اپنے بہتّر جانثاروں واسلامی مجاہدین کو لے کر میدان کربلاطرف قدم بڑھایا ’’ میمنہ ‘‘ نامی جگہ پر زبیربن قین کو، ’’میسرہ‘‘ نامی جگہ پر حبیب بن مطہرکومتعین فرمایا اور حضرت عباس بن علیؓ کو اسلامی جھنڈا پیش کیا، اور خود نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ گھوڑے پر سوار ہوئے ، اللہ کی کتاب قرآن مقدس کو سامنے رکھااور ہاتھ اٹھاکر بارگاہِ ایزدی میں دعاکی ، ہرگز آپ کو یقین نہ تھاکہ کوئی عمل کار گر ہوگی تاہم آپؓ نے اتمام حجت کے لئے اہلِ کوفہ کومخاطب کر کے پر زور خطاب فرمایا۔ اور کہاکہ اے لوگو! اے کوفہ کے باشندو! ذرا ٹھہرو، میری بات کو بغور سنو! کہ میں چاہتاہوں کہ اپنی ذمہ داری پوری کردوں ، اے کوفہ والوں! اگر تم نے میری بات کوبغورسنا اور میرے ساتھ عدل وانصاف کابرتاؤکیا تو یاد رکھوتم سے زیادہ خوش نصیب کوئی نہیں ہو سکتا۔ ہاں یاد رکھو! اگر تم نے میری باتوں کو نظر انداز کردیا اور اس کے لئے تم تیار نہ ہوئے تو تمہاری مرضی اور تمہارا اختیار ، جوچاہوسوکر و، بیشک میراخالق ومیرامولیٰ اللہ ہے۔اہلِ کوفہ سے اتنا کہناتھا کہ خیمہ کے اندر سے پردہ نشیں عورتیں آہ وبکاکر نے لگیں اور رونے چلانے کی آواز بلند ہونے لگی، حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے ذریعہ عورتوں کو خاموش کیاگیا، آپؓ نے دوران خطاب فرمایا کہ اے لوگو! ذراغور کروکہ میں کون ہوں ، اور سوچ وفکر سے کام لوکہ کیا تمہارے لئے مجھے قتل کرنا اور میری توہین کر نا جائز ہے ؟ کیا میں آقائے مدنی محمد عربی ﷺ کانواسہ نہیں ہوں ؟ کیامیں ان کے چچازاد بھائی حضرت علی مرتضیٰ کافرزند نہیں ہوں ؟ کیاسید الشہداحضرت حمزہؓ میرے والدِمحترم کے چچانہیں تھے؟ کیا ہم دونوں بھائیوں ( حسنؓ وحسینؓ )کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی یہ مشہور حدیث تم نے نہیں سنی ۔ کہ اے حسن وحسین ! تم جنت کے سردار ہو اور اہلِ سنت کی آنکھوں کی ٹھندک ،اے کوفہ والوں ! میری بات کایقین کرو اور اگر یقین نہیں تو پیارے ناناجان کے بہت سے صحابی ا بھی حیات ہیں ان سے پوچھ لو، کہ میں کون ہوں ؟ کیا اس درد والی بات کوسن کر بھی میراخون بہانے سے باز نہ آؤگے ؟ کیا تم کو فرمان رسول کی حقانیت میں شبہ ہے یا اس بات میں شک ہے کہ میں (حسینؓ ) حضرت فاطمہ زہراکا بیٹا نہیں ہوں ؟ان ساری باتوں پر اگر تمہیں شک ہیں تو رب ذول الجلال کی قسم تمہیں مشرق ومغرب شمال وجنوب میں میرے علاوہ کوئی رسول اللہ کانواسہ اور حضرت علیؓ کا لخت جگر ، فاطمہ کالعل نہ ملے گا، اے کوفہ والوں! تم مجھے کیوں قتل کر تے ہو؟ کیا میں نے تمہارے کسی آدمی کاناحق خون بہایا ہے ؟ کیا تم میں سے کسی کامال ہم نے غصب کیا ہے ؟ کیا کسی کو میری ذات سے تکلیف ہوئی ہے ؟ امام حسینؓ سرداران کوفہ کونام بنام پکار کر کہا کہ کیا تم لوگوں نے مجھے خطوط بھیج کر نہیں بلایاتھا؟ اہلِ کوفہ نے ان ساری باتوں کا صر ف ایک جواب دیا’’ نہیں ! ہم نے آپ کو نہیں بلایا ‘‘ امام حسینؓ نے ان لوگوں سے فرمایا ۔ تم نے ضرور بلایا ۔ہاں یاد رکھو! اگر میری آمد تمہیں ناپسند ہے تو مجھے اپنی جائے پناہ میں جانے دو، اتنے میں ایک آدمی نے کہاکہ ابن زیاد کی باتوں پر عمل کر لیجئے، یہ آپؓ کے لئے بہتر ہوگا، امام حسینؓ نے برجستہ جواب دیا اور کہا کہ رب کعبہ کی قسم میں فاسقوں کی طرح اپناہاتھ دشمنوں کے ہاتھ میں نہیں دے سکتا ،اور یادرکھو!غلاموں کی طرح ان کی بند گی کااقرار نہیں کر سکتا ، اور اے کوفہ والوں ! میں ہر متکبرفرد سے جس کاروزِ قیامت پر ایمان نہیں ہے ، خدا کی پنا ہ مانگتاہوں ، [تاریخ ملت ص۷۱]
حضرت امام حسینؓ کی یہ جامع خطاب کار گر ثابت نہیں ہوئی ،لیکن سچ پوچھئے تو جس کے دل میں نبی کی قدرے محبت ہوگی تو پتھر دل انسان بھی اس نواسہ رسول اللہ کے جامع خطاب سے اپنے اندر خوفِ خداضرورپیدا کر لیتا، اورامت مسلمہ ہونے کے ناطے برسر عام ظلم وبربریت کایہ ننگانا چ ہر گز نہ ناچتا، آخر کار اہلِ کوفہ کی طرف سے ایک تیر پھینکاگیااور جنگ چھڑ گئی، اتنے میں دشمن کی فوج میں سے عمر بن حجاج نے چیخ کر کہا:اے شہسوارو! تمہیں معلوم ہے کہ کس سے مقابلہ کر رہے ہو؟ یہ لوگ اپنی جان اپنے پنجوں میں لئے پھر تے ہیں ، خداکی قسم ! اگر ان پر پتھر بھی ماروتو نہ بچ پائیں گے ، پھر کیا ہو ا بر سر عام لڑائی ہوئی ، اہل بیت کے جاں باز مجاہدین نے کوفیوں کو روندنا شروع کیا ، حسینی فوج کے بہادر جدھر نکلتے تھے دشمنوں کی صفوں کودرہم برہم کر دیتے تھے ، مگر جانبین میں کوئی نسبت نہ تھی ، دوپہر ڈھلنے تک کئی مجاہدین شہید ہوگئے تھے ، نوجوانان اہل بیت کی باری تھی ، سارے مجاہدین اپنی اپنی شمشیر یں لیکر میدان کر بلامیں اتر آئے ، امام حسینؓ کے ساتھ ان کے چاروں بھائی حضرت عباس ، عبد اللہ ، جعفر اور عثمانؓ کے علاوہ کو ئی نہ رہا،جب تک زورِ بازوو زور سینہ تھا ہر وار کو روکتے رہیں اور بلآخر شہید ہوگئے،اور اب خود نواسہ رسول اللہ امام حسینؓ تنہارہ گئے تھے لیکن آپ زخموں سے چور تھے ، پیاس کی شدت تھی جوش اور ہمت بھی کم ہوگئی تھی ، آخر آپ نڈھال ہوکر زمین پر بیٹھ گئے اور خاموش ہوگئے اتنے میں ایک دشمن شمر نامی شخص نے چیخ کر کہا ’’ اب کیا انتظار ہے؟ قتل کیوں نہیں کرتے ‘‘ امام حسینؓ اپنے مبارک ہونٹ سے پانی کا پیالہ لگائے ہوئے تھے کہ حصین بن نمیر نے نشانہ بناکر ایک تیر ماراجوآپ کے حلقوم میں جاگھسا ، زرعہ بن شریک تمیمی نے آپ پر تلوار چلادی ، سنان بن انس نخفی نے نیزہ مارکر آپ کو زمین پرگرادیااور تلوار سے سرِ مبارک کوتن سے جداکردیا ۔ [ اخبار الطوال ص ۲۵۵]
آپ کے جسم پر تیتیس ۳۳ زخم نیزہ کے اور تیس ۳۰ زخم تلوار کے تھے اور تیر کے زخم اس کے علاوہ تھے ، شہادت کے بعد ان ظالموں نے اہلِ بیت کے خیموں کی طرف رخ کیا اور جو سازو سامان تھا وہ سب قبضہ کرلیا ۔ حتیٰ کہ عورتوں کی چادریں بھی ان ظالموں نے کھینچ لیں، شمرنے ان بچوں پر تیر چلانا چاہا تو عمر بن سعد نے کہا عورتوں کے خیمہ میں ہر گز نہ داخل ہواور بچوں پر ہاتھ نہ اُٹھاؤ۔پھر آئندہ کل اہلِ غاضریہ نے نماز جنازہ اداکیا اور لاش کو اسی میدان میں دفن کردیا ، شہیدامام حسینؓ اور دوسرے شہداء کامبارک سر دشمن اپنے ہاتھوں لے لئے تھے اس لئے بغیر سر ہی جسم کو سپرد خاک کردیاگیا۔یہ شہادت عظمیٰ ۱۰/محرم الحرام ۶۱ھ روز جمعہ کو پیش آیا۔
****
افروز سلیمی ؔ سب ایڈیٹراردوپورٹل’’ عالمی پرواز ‘‘
مہتاب عالم پرویزؔ ، میں اور میری آنکھیں : جاوید اختر MAHTAB ALAM PERVEZ , MAIN AUR MERI AANKHEN : JAVED AKHTAR
مہتاب عالم پرویزؔ ، میں اور میری آنکھیں
جاوید اختر
*اُردو ادب میں افسانہ کی تخلیق اِس کی وجودیت اور اس کی تعریف ابھی تک غیر واضح اور مشکوک ہے افسانہ کی تعریف اور تشریح ہماری پرائمری اسکول کے استادوں اور یونیورسیٹی کے پروفیسر وں اور ڈا کٹروں کے ذریعہ ہوتی آئی ہے اور ہو رہی ہے با لکل نہ مناسب اورمضحکہ خیزہے تعجب اور حیرت انگیز ی بھی کہ بڑے بڑے پروفیسروں بڑے بڑے ادبی ڈاکٹروں ناقدین منٹو ،عصمت ،واجدہ تبسم ،بیدی ، اوراشک کے افسانوں پر موٹی موٹی کتابیں لکھنے والے اتنے سطحی اور معمولی ذہن کے مالک ہیں کہ افسانہ کی تعریف نہیں لکھ پاتے پھر وہ اپنے پست اور قاصر ذہن کا اقرار کیوں نہیں کر لیتے کہ افسانہ نگاری ایک ایسی پیچیدہ اور غیر معمولی صلاحیت کی حامل ہے جس کی تخلیق افسانہ نگار کی غیر معمولی ذہانت اور ادبی الہامی کیفیت کے سبب وجود میں آتی ہے جس کا بیان لفظوں اور جملوں میں کرنا ایک غیر تخلیق کار کیلئے نہ ممکن سے بھی نہ ممکن ہے۔
کاش کے منٹو سے پوچھا ہوتا کہ افسانہ نگاری کیا ہے ۔تو ہمارا افسانوی اُردو ادب اتنا غریب نہ ہوتاوہ ’’کھول دو ‘‘کی افسانوی نشیب و فراز کھول دیتا ’’ بو ‘‘کی طرح پرفیوم اور پسینے کی افسانوی مہک اور خوشبوں کی نفسیات بیان کر دیتا ’’ ٹھنڈاگوشت ‘‘ کی طرح افسانے کا ڈائیگنوسس کردیتا اور ’’ ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘‘کی طرح سیاسی نفسیات کی عالمی وسعت بتا دیتا۔ اگر سعادت حسن منٹو ابھی تک بہ حیات ہوتے تو ہمارے نقادوں اور ڈاکٹروں کی ادبی صلاحیت پر سوائے ماتم کے اور کچھ نہیں کررہے ہوتے۔
زبان تخلیق کار کی مُحتاج ہوتی ہے اور ایک غیر تخلیق کا ر زبان کا مُحتاج ہوتا ہے ایک ادیب اور شاعر کا علم آسمانوں کی سی لامحدود عالمی وسعت رکھتا ہے لیکن ایک غیر ادیب اور شاعر زبان کی محدود حصار میں قید رہتا ہے کوئی بھی ادب اپنی معیاری تخلیقات سے ہی رِچ ہوتا ہے نہ کہ تنقید سے۔ ویسے اگر سنجیدگی سے خود تنقید کا نفسیاتی جائزہ لیا جائے تو
ایک بات کھل کر واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ تنقید ادب اور خاص کر افسانوی ادب کیلئے اتنی ضروری اور موزوں بھی نہیں اُردو ادب میں تنقید نکتہ چینی کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کا خمیازہ خود تنقید نگار اور تنقید بھگت رہی ہے یہی وجہ ہے کہ ایک تنقید نگار کو معیاری تخلیق کی نہ توتمیزرہ گئی ہے اور نہ ہی اُن کے پاس انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کا گہراعلم ہی…….. یہی وجہ ہے کہ تنقید نگاری اپنا معیار کھو بیٹھی ہے سعادت حسن منٹو ،عصمت چغتائی، واجدہ تبسم ،بیدی ، اور اشک جیسے افسانہ نگاروں کی معیاری تخلیقات کے میزان پر غیر معیاری اور بونی ثابت ہوئی ہے منٹو پر لاہور کی عدالت میں فحش نگاری کا مقدمہ چلا اور بری ہوئے ہمارے تنقید نگاروں نے انہیں فحش نگار کا خطاب دے ڈالا لیکن افسانہ کی نوعیت اور نفسیات کا جائزہ نہیں لیا کہ سعادت حسن منٹو کی فحش نگاری افسانے کی نوعیت اور نفسیات کے عین مطابق ہے بھی کہ نہیں اُن کے دیگر تخلیقات جیسے بُو، کھول دو، ٹھنڈا گوشت اور کالی شلوار کو بھی فحش نگاری کے زمرے میں رکھا لیکن ان معیاری تخلیقات میں پُوشیدہ انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کا انکشاف کا تخلیقی خلاصہ اور تجزیہ کرنے میں قاصر رہے کیونکہ منٹو کے افسانے کھول دو،ٹھنڈا گوشت، کالی شلوار،بُو اور ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے افسانے کسی بھی تنقید نگاروں کے تنقیدی صلاحیت کے ساتھ ساتھ اُس کی تخلیقی تنقید نگاری کی بھی صلاحیت کا مطالبہ کرتے ہیں اور کسی افسانے کا نفسیاتی خلاصہ اور تجزیہ ہر نقاد کی تخلیقی تنقید نگاری کی ذہانت اور قابلیت کا امتحان اور میزان ہوتی ہے کیونکہ اردو کے سب سے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے بالا تحریر کردہ افسانوں کی تخلیقی تنقید اُن کا خلاصہ اور تجزیہ ایک پورے ناول جیسی ضخامت کا مطالبہ کرتے ہیں ۔
اُردو ادب میں تخلیقی تنقید کا فقدان رہا ہے انگریزی ادب میں ہمیشہ سے تخلیقی تنقید کی روایت رہی ہے جس کے باعث انگریزی لٹریچر اتنا رچ اور ضخیم ہے۔ انگریزی ادب میں نئے آنے والے فکشن رائٹر اور شاعر بہت جلد اپنی جگہ لٹریچر میں مقّرر کر لیتے ہیں اُ ردو ادب میں خاص کر افسانوی تنقید غیر موضوع اور غیر مناسب ہے تخلیقی تنقید یقینی طور پر مفید اور کارگر ہے ۔ صرف تنقید ادب میں تخریب کاری کا کام کرتی ہے جس میں ذہانت اور قابلیت کا فقدان ہوتا ہے جس میں تنقید نگارکی اپنی غیر تخلیقی رائے کی ہی فراوانی ہوتی ہے کوئی بھی افسانہ نگار افسانوں کی تخلیق ادب کیلئے کرتا ہے نا کہ تنقید نگاروں کیلئے، ادب کی شادمانی خوشحالی اور سر خروئی تخلیقات کی دین ہے ناکہ غیر تخلیقی تنقید کی ۔
پلک جھپکنے کے لمحہ سے بھی کم تر وقت میں انسانی دماغ کے بہت ہی لاغر اور ضعیف گوشے سے تپاک سے یہ سوال اُبھر کر سامنے آسکتا ہے کہ یہ تخلیقی تنقید ہوتی کیا ہے؟ کہاں سے آئی ،اس کا گھر کہا ں ہے۔؟
یہ پیدا کہاں ہوئی؟ پروان کہاں چڑھی کتنی نوخیز کتنی جوان ہے یہ ۔تو جناب عالیٰ یہ تمام عالمی ادیبوں اور شاعروں کی دین ہے اِس کی وسعت عالمی ہے یہ ہر ایک تخلیق کار کے ذہن میں ہمیشہ سے جوان اور حسین و جمیل رہی ہے یہ کبھی بوڑھی نہیں ہوتی اس کے ہارمونس ہمیشہ نوخیز رہتے ہیں۔
منٹو کا افسانہ ’’کھول دو‘‘ کا تخلیقی تنقید تجزیہ اور اُس کا خلاصہ تھوڑا سا کچھ یوں ہے ۔سعادت حسن منٹو کی سکینہ کی نفسیات پورے وثوق سے کہتی ہے کہ اُس کے ساتھ زنا کرنے والوں میں ایک یا دو چہرے ایسے ضرور رہے ہونگے جنہیں سکینہ روز انہ دیکھتی چلی آئی تھی اور یہی وجہ رہی ہوگی کہ سکینہ اُن لوگوں کے ہمراہ جانے کیلئے فوراتیار ہو گئی ہو گی یا پھر تھوڑی کشمکش کے بعد نہ چاہتے ہوئے بھی ہمراہ ہو لیا ہو اُنہوں نے سکینہ کو پُورے یقین اور عتماد میں لیا ہوگا ایسے لوگ کافی میٹھی اور مہذب زبان استعمال کرتے ہیں اللہ رسول کا واسطہ ضرور دیا ہوگا ۔
’’کہ تو ہمارے ہمراہ چل تیرے رشتے داروں سے تجھے ملا دوں گا تیرے ابّا امّی وغیرہ کو ہم لوگوں نے ہی فلاں کیمپ میں بہ حفاظت پہنچا دیا ہے تو ڈر مت ہماری بہنیں بھی کیمپ میں ہیں ہم لوگ رضا کا ر ہیں ہم بچھڑوں کو ملواتے ہیں شام ہونے سے پہلے ہی ہم تمہیں وہاں پہنچادیں گے تمہارے ابّاجان کہہ رہے تھے کہ بیٹا تم لوگوں کو سکینہ کا پتہ چلے تو یہاں پہنچادینا تمہا رے ابّا جان اور امّی جان ہم لوگوں کو کافی دُعائیں دے رہے تھے کہ خُدا وحد ہ لاشریک تم لوگوں کو سلامت رکھے اور ہر بلا اور مصیبت سے دور رکھے یہ منٹوکے افسانہ ’’کھول دو‘‘ کا کوئی پیرا گراف نہیں ہے یہ میں نے سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’’کھول دو‘‘ کا تھوڑا سا تخلیقی خلاصے کی مثال دی ہے ورنہ تفصیلی تجزیہ کیلئے کا فی ضخامت درکار ہے۔
افسانہ ’’ بازگشت ‘‘قابل مطالعہ اور معیاری ہے یقین نہیں ہوتا کہ اِن افسانوں کا خالق چند میلوں کے فاصلے پر رہتا ہے افسانے کا اسلوب اور ٹریٹمینٹ افسانے کی نوعیت کے عین مطابق ہے کیونکہ افسانے کی نوعیت اپنے اسلوب کا تعین خود بخود فطری طور پر کر لیتی ہے۔ افسانوی ادب کے نقطہ نگاہ سے غیر فطری اور غیر موضوع اسلوب کا استعمال افسانہ نگار نے نہیں کیا ہے افسانوں میں اسلوب کی روانی اور تسلسل بر قرار ہے کہیں بھی سلسلہ منقطع ہوتاہوا محسوس نہیں ہوا خاص کر افسانہ ’’ باز گشت ‘‘کافی معیاری افسانوں کی فہرست میں شامل ہُوچکا ہے افسانہ ’’ بازگشت ‘‘کا موضوع کافی بولڈ اور پیچیدہ ہے مہتاب عالم پرویز نے ’’ بازگشت ‘‘ کی تخلیق کر افسانوی ادب میں ہیومن سائیکولوجی اور اُس کی پیچیدہ نشیب و فراز کا انکشاف کیا ہے غیر معمولی ذہانت اور قابلیت کی افسانوی ادب میں مثال قائم کی ہے علم شاہد ہے کہ کوئی بھی افسانہ نگار اپنی چند معیاری تخلیقات کی دین سے ہی ادب میں اونچا اور بڑا مقام حاصل کرتا ہے غیر معیاری افسانوں کا انبار لگاکرکوئی بھی افسانہ نگار ادب میں مقام حاصل نہیں کرسکتا ہے۔
جس طرح اُردو ادب کے سب سے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو نے ٹھنڈا گوشت ،بو ،کالی شلوار ،کھول دواورٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے معیاری افسانوں کی تخلیق کر اُردو افسانوی ادب کو آسمانوں جیسی بلندی اور وسعت عطا فرمائی ہے اُسی طرح مہتاب عالم پرویزؔ نے افسانہ ’’ بازگشت ‘‘تخلیق کر ادب کے معیار میں اضافہ کیاہے مہتاب عالم پرویزؔ کا یہ افسانہ ایک ادبی شاہکار ہے یہ ایک تخلیق کار کے ادبی الہامی کیفیت کا حیرت انگیز نتیجہ ہے ورنہ اُردو ادب میں ایسے معیاری افسانوں کا فقدان رہاہے کیونکہ اتنے حساس اور پیچیدہ موضوع کو افسانہ کی شکل دینا خشک چٹّانوں میں ایک نحیف سی ہریالی کے تصّورات کے مترادف ہے افسانے کا مرکزی کردار وہ شخص کا نفسیاتی تجزیہ اور تفصیلی خلاصہ ہی افسانے کی اہمیت اور معیار کی غمازی کرتا ہے افسانہ ’’بازگشت ‘‘ کو نہ تو تنقید نگاروں کی ضرورت ہے اور نہ ہی تنقید کی ۔بعض تخلیقات اتنی ذہین اور معیاری ہوتی ہیں کہ اُن کو کسی کی رائے، کسی کی ادبی علم ،یا پھر کسی کے سہارے کی، ضرورت کی بھی نوبت نہیں آتی۔
’’باز گشت ‘‘ انہیں افسانوں میں سے ایک ہے ۔رٹے رٹائے تنقیدی جملوں ، لفظوں اور پیرا گرافوں کا محتاج نہیں ایک اچھا ادیب اور شاعر کبھی بھی تنقید نگاروں کی طرف نگاہ اُٹھا کر نہیں دیکھتا ،نہ کبھی دیکھنا چاہیے اور نہ ہی کبھی اہمیت دینی چاہئے ۔
افسانہ ’’بازگشت ‘‘کا وہ بے نام حسّاس اور اِبنارملشخص فسادات سے پہلے یقینی طور پر اپنی نجی زندگی میں بالکل سیدھا سادہ اور خوش مزاج شخصیت کا مالک تھا دورِ حاضر کے انسانی مکاریوں اور سیاسی قلابازیوں سے ناواقف اُس شخص نے بڑی پیا ری اور بھولی طبیعت پائی تھی ۔ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ آبادی والے محلّے میں اُس کا تین کمروں والا آبائی مکان تھا بغل میں حاجی حکیم الدین کا شاندار چار منزلہ مکان بھی تھا گورنمنٹ آف انڈیا کے انکم ٹیکس کے دفتر میں چپراسی تھے پتہ نہیں اتنی دولت اُن کے پاس کہا سے آئی تھی کہ چار بار حج کر چکے تھے۔ اُن کے دونوں بیٹے سعودی عرب میں پلمبر مزدور تھے۔ حاجی صاحب کی محلّے میں کافی آؤبھگت تھی۔اور یہی وجہ تھی کہ حاجی صاحب تھوڑا سا مغرور بھی ہوگئے تھے ورنہ حج کرنے سے پہلے کافی اخلاق مند اور مخلص شخص تھے۔ جیسے جیسے خُدا نے انہیں رزق سے نوازا وہ بخل کرنے لگے ۔ پہلے کیامجال تھی کہ اُن کے گھر سے کوئی فقیر یا فریادی خالی ہاتھ لوٹ جاتا، سیدھا سادہ وہ شخص حاجی صاحب کو اپنے پتا جی کے سمان عزت واحترام کرتا تھا۔اچھے پڑوسی جو ٹھہرے اُس کے ماں باپ نے اُس حسا س اور اِبنارملشخص کا نام بڑے پیار سے پرکاش داس گپتا رکھا تھا، یہ لوگ اُتر پردیس کے رہنے والے تھے ۔ ذات کے بنیاتھے۔ پرکاش نے بھی اپنے باپ دادا کے پشتینی کاروبار کو ہی گاؤں کی طرح شہر میں آ کر اپنا لیا۔ گھر کے سڑک والے باہری حصے میں ایک دُکان نکالی اور آٹا دال چاول مرچ مصالحے بیچنا شروع کردیا ، دُکان اچھی خاصی چل پڑی تو مسلمانوں کی عورتوں کے گہنے وغیرہ بھی گروی رکھنا اُس کے اچھے کاروبار میں شامل ہوگیا۔ دھیرے دھیرے پرکاش داس گپتا کی دُکان قصبے میں بڑی دُکا ن کہلانے لگی ، پھر اُس نے اپنی دُکان کا نام بھی گپتا اسٹور رکھ دیا تھا ۔ اُس کے زیادہ تر گراہک غریب مسلمان ہی تھے جو روز کمانے کھانے والوں میں شامل تھے۔ بحیثیت مسلمان بھی اُس کے گراہک تھے مگر اُن کی تعداد کم تھی ۔اچھی حیثیت ہوجانے کے باوجود پرکاش داس گپتا کے پیر ہمیشہ زمین پر ہی رہا کرتے تھے۔ اُس کے زیادہ تر دوست مسلمان ہی تھے وہ محلّے کے بڑے بوڑھوں کی کافی عزّت کیا کرتا تھا کیونکہ اُس کا بچپن بھی اِسی محلے میں گذراتھا اور جوانی بھی اِسی محلّے میں پروان چڑھی تھی ماں باپ کی اکلوتی سنتان ہونے کی وجہ سے اُس کی شادی بھی ۱۸ سال کی عمر میں اُس کے با پ نے کرادی تھی یوں تو اپنے شہر سے بھی اچھے اچھے لوگوں کے یہا ں سے رشتے آئے لیکن پرکاش داس گپتا کو اپنے گاؤں کی لڑکی پسند آئی جو واقعی خوبصورتی اور سندرتا کی مثال تھی گوری چٹّی دراز قد ……پریتی……..
محلّے کی عمر دراز عورتیں اور کم سن لڑکیاں بھی اُس کی خوبصورتی کی تعریف کیا کرتی تھیں محلّے کے مسلمانوں کے آوارہ اور اوباش قسم کے لڑکوں کی تومت پوچھئے دن بھر اُس کے گھر اور دُکان کے آس پاس چکّر پہ چکّر لگاتے رہتے تھے یہ بات پرکاش داس گپتا کو کھٹکتی بھی تھی گھر اور دُکان فروخت کر ہندوؤں کے محلّے میں جا بسیں لیکن مرتا کیا نا کرتا اُ س کی دُکان جو اِتنی اچھی چل نکلی تھی کہ وہ مجبور تھا اور پھر باپ دادا کے بنائے ہوئے مکان فروخت بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اِسی مکان سے اُس کے بچپن کی تمام یادیں وابستہ تھیں ماں بابو جی کی آتما اسی گھر میں بسی تھی اُن کی بڑی بڑی تصویریں دُکان اور گھر کے ایک بڑے کمرے میں لگا رکھی تھیں جس پرروزانہ وہ تازہ پھولوں کی مالا چڑھایا کرتا تھا لوبان اوراگربتّی کی دھوؤں اور خوشبوؤں سے اُس کی دُکا ن اور اُس کا مکان معطّر رہتا تھا۔ پھرکیسے بیچ دے وہ اس مکا ن کو۔ اپنے پرکھوں کی آتما ؤں کو کیا جواب دے گا ۔گھر کے آنگن میں پرکھوں کے دوارا بنوایا گیا چھوٹا سا مندر بھی تھا جس میں بھگوان شیوکی پوتر مورتی کی استھاپنا اُس کے دادا شیو داس گپتا نے کی تھی لیکن محلّے کے اوباش اور آوارہ لڑکوں کی مشکوک حرکتیں اور اُس کے دُکان و مکان کے ارد گرد اُن کی ہر وقت کی موجودگی ایک کربناک خاموش ٹیس بن کر اُس کے لاشعور سے چپگ گئی تھی۔ خیر شادی کے دوسال بعد ہی بھگوان نے خوبصورت سی پریتی کو ایک خوبصورت بچی پردان کیا۔گھر میں چارو ں طرف خوشیاں پھیل گئیں دوسرے ہی دن پرکاش داس گپتا نے ہندو ؤں اورمسلمانوں کے گھروں میں میٹھائیاں بٹوائیں اور گھر میں پوجا پاٹھ کروایا محلّے کے اوباش اور آوارہ قسم کے لڑکوں کو بھی خاص کر بلوایا کر اُن کے ہاتھوں میں میٹھائیاں دیں اور بڑے ادب اور پیار سے کہا تمہاری بھتیجی پیدا ہوئی ہے میٹھائیاں کھاؤ اور خوشیاں مناؤ۔
حاجی حکیم الدین کے یہاں تو اُس نے پورے ایک کیلو کا پیکیٹ ہی اپنے ہاتھوں سے پہنچایا۔سیدھا سادہ پرکا ش ارپنا کے جنم پر بہت خوش تھالیکن اُسے کیا پتہ تھا کہ چند دنوں بعد ہی یہ شہر یہ محلہ شمسان بن جائے گا۔
خاص کر اُس کی پتنی پریتیؔ کے لئے جس سے وہ والہانہ محبت کرتا تھا رات کے آٹھ بجے تھے وہ حسبِ معمول وہ اپنی دُکان میں گراہکوں کو سامان دینے میں مشغول تھاکہ اچانک محلّے کے ماحول میں چہ میگوئیاں ہونی شروع ہوگئیں اوّل تو اُس نے اس پر دھیان نہیں دیا لیکن تھوڑی دیر بعد جب شور و غل چیخ و پکار اوربھاگ دوڑ کی آواز یں گونجنے لگیں اور اُس کی سماعت سے ٹکرائیں وہ گھبرا اُٹھا ،گراہک بھی دُکان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے اُس کے حواس گم ہوگئے تھے تھوڑی دیر تک تووہ دُکان کے ترازو کو پکڑ کر بے حس و حرکت کھڑا رہا ………………. پھر ہوش آتے ہی پریتی کو زورسے آواز دی کہ باہر نکل ارپنا کولے کر ………….فساد پھوٹ پڑا ہے سارے شہر میں ۔
ابھی وہ دُکان کی لائٹ آف کر شٹر گراہی رہا تھا کہ ایک بڑا سا پتھر لٹکے ہوئے ترازو کو توڑتا ہوا دُکان کے اندر جا گرا۔ اور اسی کے ساتھ محلّے میں ’’نعرہ تکبیر ‘‘ اور’’ بجرنگ بلی کی جے‘‘کی آوازیں فضاؤں میں گونجنے لگیں۔
دونوں پتی پتنی ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھر تھر کانپ رہے تھے۔اور دونوں کے بیچ معصوم بچی ارپنا چیخیں ما رمار کر رو رہی تھی۔
حاجی صاحب اور حاجی صاحب کی بیوی اپنی چار منزلہ عمارت کی چھت پر موجود تھے ۔ دیکھتے ہی دونوں نے ببک وقت آواز لگائی گپتا بیٹا میرے گھر میں جلدی سے آجاؤ، میں تمہارا محافظ ہوں، جلدی آؤ دیر نہ کرو۔
موت کی دہشت اور خوف سے کانپتے ہوئے دونوں نے اپنی نگاہیں حاجی صاحب کی چار منزلہ عمارت کی چھت کی جانب اُٹھائی ہی تھی کہ محلّے کے آوارہ اور اوباش قسم کے بد تہذیب اور غیر مہذّب نوخیز لڑکوں کی ایک بڑی تعداد نعرے لگا تے ہوئے اُس کی دُکان اور مکان میں داخل ہوگئی ۔ اور لوٹ پاٹ شروع کردیا ،کوئی آٹے کی چھوٹی بڑی بوری لے کر بھاگ رہا ہے ،کوئی تیل کا ڈبّا ،تو کوئی گڑاور چینی کی بوری اُٹھائے بھاگا جا رہا ہے،کوئی گھر کا چھوٹا موٹاسامان ہی لے کر بھاگا جا رہا ہے حد تو تب ہوئی کہ نچلے طبقے کے مسلمان کی عورتیں بھی دُکان اور مکان کے لوٹنے میں شامل ہوگئیں۔
’’باز گشت ‘‘ کا وہ سیدھاسادہ شخص پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے گھر اور دُکان کو لٹتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔یہ وہ لوگ تھے جنہیں وہ اُدھا ردیا کرتا تھا ۔ کتنے ایسے بھی تھے جنہیں وہ پانچ سواور ہزارروپئے کی مدد آئے دن کیا کرتا رہتا تھا۔ کتنی عورتیں ایسی بھی تھیں جنہیں وہ ما ں اوربھابی کہا کرتا تھا ۔
وہ جو آٹے کی بوری لے کر بھاگ رہا ہے ، محلّے کے کانا صغیر کا لڑکا ہے ، جو کبھی کبھی آٹو رکشہ چلایا کرتا ہے۔وہ لمبا سا لڑکا جو گھر کے فریج کو با ہر نکال رہا ہے۔اُس کا باپ لڑکیوں کی سپلائی کے کیس میں کئی بار جیل جا چُکا ہے۔آئے دن پولیس اُس کے گھر میں چھاپے مارتی رہتی ہے۔وہ جو تیل کا بڑا سا ڈبّالے کر اندھیری گلی میں روپوش ہوچکاہے۔ اُس کی ماں اُس کے عمر دراز باپ کو چھوڑ کر محلّے کے ہی ایک آوارہ لڑکے کے ساتھ کھلے عام رہ رہی ہے۔
کتنوں کو وہ شناخت کرتا۔ سارے چہرے تو شناساتھے۔اُس نے جلدی سے ارپنا کو پریتی کی گود سے جھپٹا اور اُس کا ہا تھ پکڑ کر حا جی حکیم صاحب کے گھر کی جانب بڑھا ہی تھا کہ محلّے کے وہی آوارہ لڑکوں کی ٹولی اُس کے پاس پہنچی اور پریتی کو اُسی کے ہی تاریک گھر میں کھینچ لے گئے۔ پھرمہتاب عالم پرویز ؔ کی پریتی کے ساتھ وہی ہوا ۔ جو سعادت حسن منٹو کی سکینہ کے ساتھ ہوا تھا۔ منٹو کی سکینہ تو اسپتال پہنچ گئی تھی لیکن پریتی کو اسپتال لے جانے والا کوئی نہیں تھا۔نازک حسین پریتی اپنے ہی گھر میں دم تُوڑ چُکی تھی………. کا ش کہ منٹو زندہ ہوتے تو بتا دیتے کہ سکینہ لا شعور اور تحت الشعور کے اندھیروں سے نکل کر نارمل زندگی جی پائی …….؟یا کہ ساری عمر اپنے گھر میں قید ننگی لیٹی رہی……….؟
مہتاب عالم پرویزؔ کی پریتی تو اپنے پتی کے سامنے ہی سفید الٹیوں کی تاب نہ لا کر دم توڑ چُکی تھی ۔وہ فرش پہ بالکل برہنہ تھی۔با لکل بے حس و حرکت وہ شخص اپنی معصوم بچّی کو ما ں کی ننگی چھا تی سے لگا دینا چاہتا تھا ۔مگر سفید خون کی اُلٹیوں کی غلیظ بُو نے اُسے ایسا کرنے سے باز رکھا ۔ وہ پریتی کو آواز بھی نہ دے سکا قوت گویا ئی جیسے اُس کی سلب ہو چُکی تھی ،آنکھوں میں وحشت اور دہشت سما سی گئی تھی۔دماغ ماؤف ہو چکا تھا ۔ چیخ و پکا ر آہ و بکا کی باز گشت، دھماکوں کی ہولناک آوازیں ،گولیوں کی تڑ تڑ آہٹ، آگ اور دھوؤں کا احساس اُس کے شعور سے مکمّل طور پر ختم ہو چکا تھا ۔شاید سما عت کے پردے موٹے ہوکر گدگد ہوگئے تھے۔اُس کے تحت الشعور کے گہرے تا ریک غا روں میں صرف اور صرف پریتی کی بر ہنہ لاش تھی اور جگہ بہ جگہ اُس کے شریر پر منجمد غلیظ سفید خون کے ٹیڑھے میڑھے دھبّوں کا احساس ہی ثبت ہوکر رہ گیا تھا ۔پریتی کے مرتے ہی جیسے ساری کائنا ت یک بیک بے آواز ہو کر تھم سی گئی تھی۔دوڑتے بھاگتے لوگ جیسے قدیم زمانوں کی مورتیوں کی مانند اپنی اپنی جگہ بے حس و حرکت ہوکر پتھروں میں تبدیل ہو گئے تھے ۔محلّے کے آوارہ کتّے بھی نہ جانے کہا غائب ہوگئے تھے۔جو آکثر رات، رات بھر آسمانوں کی جانب سر اُٹھاکر رویا کرتے تھے شایدوہ بھی پتھروں میں تبدیل ہو گئے تھے اُس کا شعور اور لا شعور مظلو میت اور لا چارگی کی دبیز تہوں میں دب کر رہ گیا تھا کائنات کی وہ کمزور ترین شے کے مترادف ہو گیا تھااُس کے پاس اپنی بچّی کو سینے سے چمٹائے رہنے بھر کا ذہن اور قوّت باقی رہ گئی تھی وہ ارپناکو کنگارو کے بچّے کی مانند اپنے سینے سے چمٹائے تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا محّلے سے دور سڑک کے کنارے ایک کھڈ میں جاکربیٹھ گیا وہ ساری رات ایک ہی حالت میں اکڑوں بیٹھا رہانہ جا نے کتنی سکینا ئیں اور پریتیاں اُس رات ننگی ہوئیں……….غلیظ خون کی بجلیاں پریتی کی طرح کتنوں میں سما گئی …….صبح ہوئی قدرت ہمیشہ کی طرح ویسی ہی تھی سب کچھ معمول کے مطابق تھاسورج ویسا ہی اُگاجیسے ازل سے اُگا کرتا ہے ہوائیں ویسے ہی چلیں جیسے چلا کرتی ہیں آسمان حسب معمول ویسا ہی تھازمین ویسے ہی اپنی جگہ منجمد تھی اُس کا پورا وجود ہر طرح کے احساسات و جذبات سے خالی ہو چکا تھا۔اُسے اپنی بچّی کے رونے تک کااحساس نہیں تھا ارپناکو فقط اُس کے دونوں ہاتھ قدرے سختی سے جکڑے بھرتھے عجیب سی بے حسی کی کیفیت اُس پر طاری ہو چُکی تھی کہ اُس کا وجود ہے بھی کہ نہیں …….بچّی اُس کی گود میں ہے بھی…….اور نہیں بھی، آنکھوں کی پلکیں ٹھہر سی گئی تھیں صرف اُس کی آنکھوں کی پتلیوں میں تھوڑی سی جنبش باقی رہ گئی تھی کہ کبھی خلاؤں میں کچھ تلاش کرتی ہوئی محسوس ہوتیں تو کبھی اپنے ہی وجود میں تھوڑی دیر پھسل کر رہ جاتیں جیسے کوئی ایک بے حد ٹھنڈی شے اُس کے وجود میں سرایت کر گئی ہوجس کے زیر اثر اُس کا وجود ایک ہی جھٹکے میں بے حس اور ازحد کمزورہو کر رہ گیا ہوتبھی تو گشتی پولیس والوں کے کئی با رآوازیں دینے کے با وجود وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوا تھا۔ اور اُسے یہ بھی احساس نہیں ہوا کہ کئی پولیس والے بندوقیں تا نے اُس کے پشت پر آکر کھڑے ہوگئے ہیں۔پولیس والوں نے اُس شخص کو بچّی سمیت شہر کے صدر اسپتال میں پہنچا دیا ،اتِفاق سے اُس کی پڑوسن نادرہ بھی کئی دِنوں سے اسی ہسپتا ل میں زیر علاج تھی۔جس کی دودھ پیتی ہوئی ایک بچّی اور شوہر بھی اِسی فساد کی نذرہوگئے تھے ۔شاید قدرت ہی اُسے ہسپتال میں نادرہ کے بستر کے قریب لے آئی ۔ پتہ نہیںیہ ایک ماں کی ممتا تھی یا پھر ایک جوان عورت کی نفسیاتی اور جسمانی لذّت کا جذبہ کہ اُس نے تپاک سے بچّی کو اُس شخص کے ہاتھوں سے لے کر اپنی بے حجاب عریاں چھاتیوں کو کھول کر بچّی کو بڑی بے تا بی سے دودھ سے لگا دیا۔ اور اپنی آنکھیں مانو چند لمحوں کے لئے موندسی لیں۔ اُسے یہ بھی خیا ل نہیں رہا کہ بھیڑ سے بھرے پورے ہسپتا ل میں اُس کے بیڈ کے قریب ایک جوان شخص کھڑا ہے۔جس کی آنکھوں کا مرکز اُس کی خوبصورت سڈول عریاں چھاتیاں ہیں۔
اُس کی بے سبب نگاہیں کچھ دیر تک ہسپتال کے بیڈوں پر پھسلتی رہیں۔پھر بڑے خاموش قدموں سے ہسپتال کے باہر سڑک پر آگیا ۔ بہت جلد شہر معمول پر آگیا زندگیاں پھر سے چلنے لگیں۔ارپنا نادرہ کا دودھ پیتی رہی اور زیبابن گئی۔
اُدھر وہ شخص ننگ دھڑنگ ، میلا،کچیلا،شہرکی سڑکوں، چوراہوں،گلیوں اور محلّوں میں گھومتا رہا۔شہر میں فسادات کو تھمے ہوئے اچھا خاصہ عرصہ گزر چکا تھا۔لیکن اُس کے جسم پر آج بھی فساد والے دن کے ہی کپڑے موجود تھے جو جگہ بہ جگہ پھٹ گئے تھے۔جس سے اُس کی شرم گاہیں واضح طور پر دکھائی دینے لگی تھیں۔وہ اپنے جسم کی عریانیت سے با لکل نا واقف تھا۔ٹھیلوں اور فٹ پاتھوں پر پھل بیچنے والے روزانہ اُسے کچھ نہ کچھ کھانے پینے کو دے دیا کرتے تھے۔اکثر وہ نادرہ کے یہاں بھی بے تکلّف گھس جایا کرتا تھا ۔ سماعت اور گویائی ابھی بھی اُس کی مشکوک تھی۔زباں سے کچھ نہ بولتا ۔ بس اپنی وحشت اور دہشت بھری ویران سرخ آنکھوں سے درو دیوارں کو تکا کرتا۔کبھی اُس کا دل چاہتا تو زمین پر اکڑو بیٹھ کر اپنی ننھی منّی ارپناکو کھیلتے کودتے دیکھتے رہتا، بنا پلک جھپکائے دیکھتے ہی جاتا ……….دیکھتے ہی جاتا ……….
جب کبھی بھی وہ نادرہ کے یہا ں جاتا تو نادرہ اُسے بنا کھلائے جانے نہیں دیتی۔وہ با ت کرنے کی کوشش کرتی کہ وہ کچھ بولے، لیکن وہ ہمیشہ کی طرح خاموش ہی رہتا ۔ مانو زبان اُس کے منھ میں تھی ہی نہیں……….نادرہ کے یہاں کھانا کھا کر کبھی تو گھنٹوں یوں ہی بیٹھا رہتا ۔ تو کبھی کھانا ختم ہوتے ہی بڑی تیزی سے نادرہ کے گھر سے نکل جاتا جیسے اُسے کچھ یاد آگیا ہو……. نادرہ اُسے پکارتی رہ جاتی لیکن وہ ٹھہرتا ہی نہیں ۔بھاگتا ہی جاتا ……. بھاگتا ہی جاتا ……. محلّے سے دور بہت دور اُسی سڑک کے کنارے والے کھڈ میں جا کر سہما سہما دُبک کر بیٹھ جاتا ۔ جہاں وہ پہلی بار فسادات والی رات اپنی پھول سی بچّی کو لیکر پناہ لی تھی۔اکثر اُسے محسوس ہوتا کہ اُس کے بے حس وجود کے گوشے گوشے میں اچانک خاموش دھماکے شروع ہوگئے ہیں۔آسمانوں کی وسعتوں تک پہنچی ہوئی ہولناک نعروں کی آوازیں ……. معصوم لوگوں کی چیخ و پُکا ر جس میں اُس کی پریتی کی بھی چیخیں شامل ہوتیں۔
فسادات والی رات کا پورا منظر اُس کے ذہن کے پردے پر اُبھرنے لگتا…….دونوں گھٹنوں کے بیچ وہ اپنے سر کو یوں پیوست کرلیتا مانوں کسی عورت کے حمل میں سکڑا ہوا پل رہا ہو جہاں صرف تاریکی ہی تاریکی ہے خوف ہی خوف ہے یہی وہ خوفناک لمحہ ہوتا جہاں وہ اپنے آپ کو دُنیاکی کمزورترین شے کے مترادف سمجھتااکثر و بیشتر وہ ایسی ذہنی کیفیت سے گزرتا……. کبھی کبھی تو اُس کے اوپر ایسی کیفیت گھنٹوں طاری رہتی وہ اپنے محلّوں کے چھوٹے چھوٹے بچّوں سے بھی ڈرا کرتا کبھی کبھی تو محلّے کے بچّے اُسے گھوڑا بننے کا حکم دیتے اوور وہ فوراگھوڑا بن کر بچّو کو اپنے پیٹھ پر سوار کر لیتاباقی بچّے چل میرے گھوڑے گپتا اسٹور کہتے ہوئے اس کے آگے پیچھے چلنے لگتے اور وہ واقعی بچّوں کواپنی پیٹھ پر سوار کئے محلّے اور گلیوں سے گزرتاہوااپنے بوسیدہ مکان میں آکر رک جاتا بچّے اتر کر بھاگ جاتے وہ بھی بوجھل قدموں سے ادھ جلے گپتا اسٹور کے بورڈ کو دیکھتا ہوا کھنڈرنمااپنے گھرمیں داخل ہوجاتا ، جہاں لوگوں نے اُس کے دُکان کو پیشاب خانہ اور سارے گھر کے کمروں کو کوڑادان بنا ڈالا تھااچھے اچھے مہذّب لوگ بھی اُس کے گھر میں جاکرپیشاب اور پاخانہ کی حاجتیں پوری کرنے لگے تھے نچلے طبقے کے غیر مہذّب اور جاہل لوگوں کی تو بات ہی غیر تھی اکثر ہندوؤں کی گائیں مسلمانو ں کی بھینسیں اور بکریاں بھی کمروں میں پیشاب اور گوبر وغیرہ کرنے لگی تھیں راہ گیر بھی بڑے اطمینا ن سے وہا ں کھڑے ہوکر اپنی حاجت روائی کرتے۔ محلّے کے منچلے اور آوارہ لڑکوں نے اُس کے گھر کو ’’ گپتا شوچا لے ‘‘تک کا نام دے رکھا تھا ۔آج بہت دنوں کے بعد وہ فطری طور پر اپنے گھر کی دیواروں دروں کو بغور دیکھ رہا تھا ۔کیڑے مکوڑوں اور چیونٹیوں کی بے شمار قطاریں گندے فرش سے لیکر ٹوٹی پھوٹی دیواروں پر مسلسل چڑھ اور اتر رہی تھیں، ایسے ایسے کیڑے مکوڑے پیدا ہوگئے تھے جنہیں وہ پہچانتا بھی نہیں تھا ۔کافی دیر تک وہ کیڑے مکوڑوں کا دوڑنا بھاگنا ، رینگنا ، اُڑنا اور دیواروں پر چڑھنا اُترنا دیکھتا رہا ، پھر نہ جانے کس جذبے کے تحت مسکرا پڑا ، اگلے ہی لمحے وہ اپنے ننگے ہاتھوں سے فرش پر پھیلے ہوئے بے شمار کیڑے مکوڑوں اور دُکان کی دیواروں پر چڑھتی اترتی چیونٹیوں کو مسل کر مارنے لگا اور مسلسل مسکرائے بھی جا رہا تھا ۔ڈھیر سارے کیڑے مکوڑوں کو اُس نے ما ر ڈالا پھر بھی بہت سارے بچ بھی گئے تھے دُکان سے باہر آکر اُس نے آکاش کی اُور دیکھا اور زور سے کھلکھلا پڑا ،اُس نے اپنے دونوں ہاتھ یوں جھاڑے مانو اُس نے کوئی بڑا قلعہ فتح کر لیا ہو۔ اُس کی ویران سُرخ مائل آنکھوں میں تھوڑی سی چمک اور چہرے پر ذرا سی شادابی نظر آئی ……….
اب تو یہ اُس کا معمول بن چُکا تھا کہ وہ جہاں کہیں بھی کاکروچوں چیونٹیوں ،چوہوں ، بلیّوں اور کتّوں کے بچّوں کو دیکھتا تو مارڈالتا ۔ایک بار اُس نے حد ہی کر دی کہ گلی میں حاجی صاحب کی بکری کا بچّہ ابھی اپنی ماں کی پیٹ سے آدھا ہی نکل پایا تھا کہ نظر پڑتے ہی اُس نے پھٹاک سے اُس کی گردن دبا دی ،اُس کی فطرت کی یہ تبدیلی سارے محلے میں موضوعِ بحث بنی ہوئی تھی۔
۱۷ سا ل کا طویل عرصہ بس یوں ہی گذر گیا وقت کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے زیبا پُرکشش ، خوبصورت اور مسحور کُن شخصیت کی دو شیزہ بن گئی با لکل ہوبہو اپنی ما ں پریتی کی طرح وہی دراز قد ،گوری رنگت ،خوبصورت گھنے لمبے کالے بال ، ستواں ناک اور بھرے بھرے تھوڑے سے دونوں موٹے ہونٹ ۔خُدا وحدہ لاشریک نے مانو نادرہ کے گھر حور بھیج دی ہو۔
نادرہ بہت خوش تھی اور وہ زیبا کا بڑا خیال رکھتی تھی۔ہر وقت سائے کی طرح اُس کے ساتھ رہتی تھی۔
ادھر کئی مہینوں سے وہ شخص شہر سے باہر تھا ۔ہوا یوں کہ کسی ٹرک ڈرائیور نے اُسے بیٹھا لیا اور اپنے ساتھ لے کر چلا گیا تب سے وہ شہر سے غائب تھانادرہ کے دل میں بھی کئی بار خیا ل آیا آخر وہ گیا تو کہا ں گیا زیبا بھی کئی بار نادرہ سے پوچھ چُکی تھی کہ باپو بہت دنوں سے گھر نہیں آئے۔؟
زیبا جب سے جوان ہوئی تھی۔نادرہ نے اُس کے کہیں تنہا نکلنے پر پابندی لگا دی تھی۔کیونکہ محلہ غیر مہذّب نچلے طبقے کے بد تمیز اور جاہل لوگوں سے پٹا پڑا ہوا تھا ۔مہتاب عالم پرویز ؔ کے افسانہ ’’بازگشت‘‘کا وہ شخص بھی اب نادرہ کے گھر بہت کم ہی آیا جایا کرتا تھا ۔زیبا بھی اپنے باپو کے آنے پر اُس سے بہت کم باتیں کیا کرتی تھی۔ایسی بات نہیں کہ نادرہ نے منع کر رکھا تھا ۔بلکہ بقول اُسی کی بیٹی زیبا کہ باپو بہت گندے رہتے ہیں۔با پو کے آتے ہی زیبا اپنے ناک کو دوپٹّے سے بڑے احتیا ط کے ساتھ باندھ لیا کرتی تھی۔ کہ اُس شخص کے گندے جسم سے اُٹھتی ہوئی بدبو سے اُسے متلیوں اور اُبکائیوں کا احساس نہ ہونے لگے۔جتنی وہ خوبصورت تھی اتنی ہی وہ نفاست اور صفائی پسند بھی تھی۔اس لئے پابو کے آتے ہی گھر کے سارے کمروں میں اگر بتّیاں جلا دیا کرتی تھی۔جس سے کبھی موگرے کی خوشبو آتی تو کبھی رجنی گندھا کی۔
لیکن اچانک ایک دن وہ شخص کسی دوسرے ٹرک سے شہر کی سڑک پر نمو دار ہوگیا وہ کافی بدلا ہوا معلوم ہورہا تھااچھے اور صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے تھا اوربڑھے ہوئے بال اور بڑھی ہوئی داڑھی بھی اُس نے بنوا لئے تھے وہ پہلے سے کافی نارمل لگ رہا تھاآنکھوں میں وحشت اور ویرانی کی جگہ عجیب سی چمک نے لے رکھی تھی وہ پہلے کی طرح نہ تو ڈرا سہما لگ رہا تھا اور نہ ہی ایک کمزور ترین شخص۔ ماتھے پر اُس نے ایک خوبصورت سا چندن کا ٹیکا بھی لگا رکھا تھا جس سے اُس کی نارمل شخصیت میں اضافہ ہو رہا تھا وہ تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا نادرہ کے گھر کی طرف جا رہا تھانادرہ اُسے دیکھتے ہی حیران رہ گئی حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات اُس کے دل میں اچانک اُبھر آئے۔
رات ہوئی تو اُس شخص نے نادرہ کے یہاں ٹھہرنے کی اِچھّا پرکٹ کی جسے نادرہ نے مان لیا ، اور وہ ایک کمرے میں ٹھہر گیا …….
رات بہت اندھیری تھی۔ آسمان کالے کالے بالوں سے ڈھکا ہوا تھاتیز اور موسلا دھار بارش ہونے والی تھی جو تھوڑی ہی دیر میں تیز ہواؤں کے ساتھ شروع بھی ہو گئی۔ بادلوں کی گڑ گڑاہٹ تیز بجلیوں کی چمک نے رات کو اور بھی خوفنا ک بنا دیا تھااُس شخص کی نیند اچانک کھل گئی ، با ہر کھڑکیوں سے جھانک کر دیکھا ۔بہت تیز بارش ہو رہی تھی۔وہ پھر اچانک خوف زدہ سا ہو گیا ۔اُسے لگا شہر میں فساد پھر پھوٹ پڑا ہے۔لوگ پہلے ہی کی طرح وحشی ہوگئے ہیں۔وہ صرف عورتوں اور لڑکیوں کو ہی ڈھونڈ رہے ہیں۔محلّے کے آوارہ اور غیر مہذّب لڑکوں کا ایک گروہ منظّم طریقے سے ایک بار پھر اُس کے گھر کی جانب بڑھ رہا ہے۔اب پریتی تو نہیں اُس کی اپنی ارپنا ہے۔
اُسے یوں لگا کہ محلّے کے لڑکوں کا وہ منظّم گروہ تیز بارش میں بھی نا درہ کے گھر کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔اُن کے ہاتھوں میں مختلف قسم کے ہتھیار ہیں، اور وہ زیبا زیبا کہہ کر پُکار رہے ہیں۔سب سے آگے محلّے کا لنگڑا سلیم ہے جو پچھلے فساد میں اُس کے گھر سے نکلنے والا آخری لڑکا تھا جو تیموری چال سے چلتا ہوا اُس کے اپنے گھر میں گھس گیا تھا ۔پریتی کی عصمت دری اور موت کا سارا منظر عکس بن کر واضح طور پر اُس کی آنکھوں میں اُتر آیا ۔پریتی کی چیخ وپُکار اُس کی بے بسی اور لاچارگی اور کچھ نہ کر پانے کا اُس کاخود کاکمزور احساس ، اور کسی بھی انسان کو جسمانی اور دماغی طور پرلاغر بنا دینے والی فسادات کی وحشت ود ہشت اور ہولناکیاں۔مہتاب عالم پرویزؔ کی’’ باز گشت‘‘بن کر ایک بار پھر مانواُس کے حواس پر حاوی ہورہی تھیں۔
دروازہ کھول کر وہ مانو بڑی ہمّت اور قوّت کے ساتھ زیبا کے کمرے کی طرف تیز قدموں سے چلتا ہوا داخل ہو گیا ۔بلا کی خوبصورت زیبا نادرہ کے ساتھ اُسی کے پلنگ پر سورہی تھی نادرہ بھی گہری نیند میں تھی ۔
سُرخ زیرو پاور کے بلب کی ملگجی روشنی میں زیبا کا مسحور کُن حُسن حوروں جیسا تھا جیسے خُدا نے اُسے ابھی ابھی فرشتوں کے ہمرا ہ نادرہ کے پہلو میں اُتا ردیاہے نیند کی خماری یا غنودگی کے کو ئی بھی نشان اُس کے چہرے پر نہیں تھے جیسے اُس نے لمحہ بھر پہلے ہی نادرہ کے پہلو میں اپنی آنکھیں موند لی ہوں۔
وہ زیبا کو حیرت انگیز نگاہوں سے دیکھتا رہ گیا وہ زیبا کو پہلی بار اتنے قریب سے بے نیاز ہوکر دیکھ رہا تھازیبا کا مکمّل وجود پریتی جیسا ہی تھاوہی آنکھیں،وہی خوبصورت ستوان ناک ،پرکشش بھرے بھرے دونوں ہونٹ اوردراز قد، اُس کا پورا وجود مختلف قسم کی کیفیتوں سے دوچار ہونے لگا اُس کا سارا وجود پتا نہیں کس جذبات کے زیر اثر سہر اُٹھا اُس کے تحت الشعور کی تاریک غاروں سے مانواُس کی پریتی کامکمّل وجود اُس کے شعور کے لئے حاضر تھا اُس نے بڑے احتیاط اور آہستگی سے خلاء میں سرگوشی کی کہ چل میرے ساتھ…….. میرے کمرے میں …..کہ باہر وحشی پھر تجھے ڈھونڈ رہے ہیں…….پیوست ہوجا گداز جسم بن کر میرے جسم میں…….تحلیل ہو جا روح بن کر میری روح میں …….کہ کوئی تجھے ڈھونڈ نہ سکے ۔ایک خلاء بن کر تو مجھ میں سما جا…….. کہ تجھے کوئی محسوس بھی نہ کر سکے۔
زیبا اس سے پہلے کچھ سمجھ پاتی وہ مہتاب عالم پرویزؔ کے اُس شخص کے مقنا طیسی کشش کے زیرِ اثر اُس کے ساتھ کمرے میں چلی گئی اُس اندھیری کالی رات میں وہ شخص زیبا کے گداز جسم میں خلاء بن کر سما چُکا تھا ……….
صبح نادرہ حیرت زدہ تھی ، اُس کی چھاتیوں میں دودھ کی ایک بوند بھی نہ تھی ………. وہ شخص کہیں بھی نہیں تھا ……….. شاید خلا ؤں میں ……………..وہ اپنے مکمّل وجود کے ساتھ تحلیل ہو چُکا تھا ۔
مہتاب عالم پرویزؔ کے افسانو ں کے کردار اور اُس کی رُوح کے ساتھ زندگی جینا بہت دشوار کُن اور پیچیدہ ہے،کیونکہ اُن کے افسانوں کے کردار ہلکے پھلکے نفسیات کے ساتھ گہرے اور تحت الشعوری نفسیات کے حامل ہوتے ہیں۔جسے پڑھنا اور سمجھنا قاری اور ادبی شخصیتوں کے لئے بھی گہرا اور سنجیدہ مطالعہ کا مطالبہ کرتی ہے۔
کیونکہ خُدا نے اس کا ئنات کوجسے ہم جانتے ہیں اور جس کا ہمیں علم ہے کہ ہر شئے کو مختلف نفسیات دے کر پیدا کیا ہے۔چاہے وہ جاندار ہو یا بے جان ، ذرّہ ذرّہ نفسیات میں قید ہے۔اس لئے نفسیات سے رہائی ممکن نہیں۔ کیونکہ نفسیات ہی روح کی شکل میں کسی بھی عورت کے حمل میں پلتے ہوئے بچّے میں پھونکی جاتی ہے۔جسے روح بھی کہتے ہیں۔یہ نفسیات ہی ہے جو روح کی شکل میں ہمارے ساتھ ساتھ رُوح قبض ہونے تک رہتی ہے۔یہ نفسیات ہی ہے جو ہما رے جسم کو کبھی چھوڑنا نہیں چاہتی ہے ، اور یہ نفسیات ہی ہے کہ مہتاب عالم پرویز ؔ کے ’’باز گشت‘‘کا وہ شخص اپنی ہی بیوی اور اولاد میں تمیز نہیں کر پایا۔ غرض یہ کہ انسانی اورغیر انسانی ہرچھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی جنبش کے پس منظر میں نفسیا ت ہی کار فرما ہوتی ہے ۔ یہاں تک کے پہاڑوں اور پتھروں کا اپنی جگہ غیر متحرک ہونا بھی اِس کے متحرک ہو نے کی نفسیات میں شامل ہے میری نفسیا ت یہ تسلیم اور تصوّر کرتی ہے کہ جس طرح اِس سر زمین پر عورت اور مرد کے پاکیز ہ اور غیر پاکیزہ جسمانی تعلقات سے عورت کے شکم سے ایک بچہ نمودار ہوتا ہے اور بڑا ہوتا ہے ٹھیک اُسی طرح پتھروں اور پہاڑوں کے درمیان بھی کسی طرح کے اختلاط کا عمل بھی کار فرماہو جسے ہم دیکھ یا محسوس نہیں کر پاتے۔ ہماری عقل یہ سمجھ نہیں پاتی کہ اُس میں تغیرکیسے آیا۔؟ وہ بڑے کیسے ہوگئے۔؟ ہمارے باپ داداؤں کے باغوں میں زمین میں دھنسا اور گڑا ہوا وہ پتھر چند سالوں یا بہت سالوں بعد کیسے بڑا ہوگیاٹھیک اُسی طرح بازگشت کا وہ شخص اپنی ہی بیٹی کے ساتھ اختلا ط میں کس نفسیا ت کے زیر اثر مبتلاء ہواقاری اور ادبی شخصیتوں کے ذہن و دماغ میں یہ آئینے کی طرح واضح ہو چُکا ہے کیونکہ انسانی نفسیات سے ایسے عمل کا سرزد ہونا کوئی بعید نہیں بلکہ یہ لازمی اور ممکن عمل ہے جس سے وہ شخص دو چار ہوا۔
ہوسکتا ہے پھر کبھی مہتاب عالم پرویزؔ کے افسانوں اور یا پھر کسی افسانے کے ذریعہ موقع ملے تو پھر باتیں ہوں گی ۔ کیونکہ ابھی ابھی میری سب سے بڑی بیٹی حنا مہوش کا فون آیا ہے کہ پاپا انجنیئرنگ کالج کل سے بند ہو رہا ہے اور میں کل ہی آ رہی ہوں۔
دُعاگو ہوں کہ خُداہم سب کو اپنی امان میں رکھے۔آمین۔
()()()()()
جاوید اختر
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کو ادب اور ڈرا ما کے فروغ کے لیے کملیشور ایوارڈ سے نوازا گیا…..
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کو ادب اور ڈرا ما کے فروغ کے لیے کملیشور ایوارڈ سے نوازا گیا
یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشنUPTA،میرٹھ کے چوتھے یوم تاسیس میں’’ایک اور درونا چاریہ‘‘ کھیلا گیا۔
(پریس ریلیز)
میرٹھ یکم نومبر؍2013ء
’’ یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن، میرٹھ نے اپنے چار سالہ کامیاب سفر کے دوران شہر کے متعدد مقامات پر سماجی مسائل پر مبنی مختلف ڈرامے پیش کر کے تہذیبی وراثت اور اخلا قی قدروں کو فروغ دینے کا کار نامہ انجام دیا ہے۔جسے شہر کے غیور عوام نے خوب سرا ہا ہے۔اب ہمیں اور محنت کر کے اور دیگر تنظیموں کو بھی اس میں شامل کر کے بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی شناخت قائم کرنی ہوگی۔’’ڈراما’’ایک اور دروناچاریہ‘‘ سماج میں خصوصاً شعبۂ تعلیم میں پھیلتے جارہے کرپشن پر کاری ضرب ہے۔‘‘ یہ الفاظ تھے صدر شعبۂ اردو ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری کے جو کملیشور ایوارڈ حاصل کر نے کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔
یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن،میرٹھ نے اپنے چو تھے یوم تاسیس کے مو قع پر سینٹ جوزف انٹر کالج میں ایک ڈرا ما بعنوان’’ ایک اور درونا چاریہ‘‘ کا کامیاب اسٹیج شو پیش کیا۔جس میں دکھایا گیا کہ ایک استادکوکس طرح مسائل میں الجھا کر غلط کام کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔
اسٹیج شو کا آ غاز سینٹ جوزف انٹر کالج کے سیمینار ہال میں ہوا جس میں پربھو دیال بالمیکی(ایم ایل اے) اور چھا ؤنی پریشد کی نائب صدر شپرا رستوگی،نریش کنسل اور شکتی سنگھ مہمانان خصوصی کے طور پر شریک ہو ئے۔ ڈرا مے میں عہد قدیم کے درونا چاریہ اور عہد حاضر کے ایک استاد اروند کے حالات کو یکساں دکھایا گیا ہے۔انل شرما کی ہدا یت میں بھا رت بھو شن شرما، انل شرما، ونود بے چین، ہیمنت گویل، سیما سمر، ونشی دھر چترویدی، عابد سیفی، شیبا غزالہ، امت، رمیش، ارجن وغیرہ نے ڈرا مے کے کرداروں کو انتہائی کامیابی کے ساتھ پیش کیا۔اسٹیج شو میں برقی انتظام نو جوان ڈرا مہ نگار جتیندر سی راج اور سیٹ کا ڈیزائن ہیمنت کمار نے خوبصورتی کے ساتھ کیا تھا۔
اس موقع پر اُپٹا نے ادبی،صحافت ،سماجی خدمات اور ڈراما نگاری کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے وا لوں کو ایوارڈ سے سر فراز کیا۔اس سلسلے میں باالترتیب ادب اور سماجی خدمات کے فروغ کے لیے’’اُپٹا ایکسی لینسی ایوارڈ2013ء (کملیشور ایوارڈ) معروف افسانہ نگار اور رنگ منچ کو فروغ دینے وا لے ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری،صحافت کے لیے اُپٹا میڈیا ایوارڈ2013ء (ڈاکٹر دھرم ویر بھارتی ایوارڈ)مشہور معروف صحافی محترم شمبھو ناتھ شکل اور رنگ منچ کی دنیا کے لیے اُپٹا ناٹیہ ایوارڈ2013ء(ناٹیہ رتن) نو جوان ڈرا ما نگار محترم جتیندر سی راج کو پیش کیے گئے۔
اسٹیج شو کو کامیاب بنانے میں یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن،میرٹھ تنظیم کے ارا کین اور عہدیداران میں سے سریندر شرما، کنوینر،راکیش کو شک اور عا بد رضوی نے بطور خاص تعاون پیش کیا۔
اس مو قع پر ذیشان احمد خان، حاجی مشتاق سیفی، سلیم سیفی،ڈاکٹر شاداب علیم،سائرہ اسلم، شناور اسلم، مدیحہ اسلم، رخسانہ عثمانی، ارقم شجاع میرٹھی،سعید احمد سہارنپوری،سمیع اللہ الائی،شاہد چودھری،سندیپ سریواستو، ریتا سریواستو، شاہین خان،سلیم صدیقی اور کثیر تعداد میں طلبا و طالبات اور عماہدین شہر نے شر کت کی۔
یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن،میرٹھ نے میرٹھ اور اس کے نواحی علاقوں کے نوجوانوں کو رنگ منچ کی دنیا اور اس کی تکنیک سے رو برو کرا نے کے لیے مستقبل قریب میں ایک تھیٹر ورکشاپ ود پروڈکشن پلے کا بھی اہتمام کرنے کا فیصلہ لیاہے۔
پریس کانفرنس میں محترم بھارت بھو شن شرما، انل شرما، سریندر شرما، ہیمنت گویل، جتیندر سی راج وغیرہ موجود رہے۔
منظر کاظمی… علامتی افسانے کے عظیم اسکول : جہانگیر محمد
منظر کاظمی…… علامتی افسانے کے عظیم اسکول
جہانگیر محمد
*عصر ی ا فسا نے کے ا علی وارفع میز ان پربہت سا رے افسا نہ نگار ہیں۔یہ ایک طویل فہر ست ہے۔ما بعد جد ید یت ، ا ظہار وا سلو ب کی تبد یلی کے بعد آج پھر ا فسا نے کو عا م راہ پر لا کرکھڑا کیا ۔ ترقی پسند ی ،حقیقت نگا ری اور رومان پسند ی کے بعد علا متی ،تجریدی ، ا ستعار ی دو ر سے گُذر تا ہو ا آج بہت سار ے سو ا لات کو لئے آج کے عہد کا ا فسا نہ آسما ن سے ز مین پر ا تر آیا ہے۔ قبو ل و ر دکی تما م سند سے بے نیاز ہو کر لیکن منظر کا ظمی ان تما م بھیڑمیں ا یسا فعا ل چہرہ ہے جس پر آ نکھیں مر کو زہو جا تی ہیں۔کیو نکہ اس نے بھیڑ سے الگ را ہیں متعین کی ہیں ۔آج منظر کا ظمی کا ا فسا نہ ا فکا ر کی بلندیوں پر بر ا جمان ہے۔ حا لا نکہ ان کے ا فسا نے کی تعداد بہت کم ہیں ۔نہ لکھنے کے باو جو دان کے ا فسا نے گہر ی فکر وں کی ، گہر ے مشاہدات سے گُذرا ہے خو دان کی ز بانی ان کا حا ل سنئے ہما ے ا ندرقصہ سنے اور سنا نے کا جذ بہ شریا نو ں میں دوڑنے والے خو ن کا مطا لبہ ہے ۔ لہذا ا یسا سوچنا و قت ضائع کر ناہے کہ و ہ آدمی جس نے کسی ز ما نے میں غذا حا صل کر نے کی مشقتو ں سے ا نکا ر کر د یا ،کا ہل تھا درا صل اس کا جسم بھی اس کے ر فیقو ں کی طر ح تو ا نا تھا مگر ان کا ذ ہن اس کے جسم سے زیا دہ قو ی تھا ۔اسکے سا تھیو ں کی آ تیں جلتی تھیں اور اس کے دل میں آگ لگتی تھی۔ اس کے سا تھی جنگلی جا نوروں کا پیچھاکر تے تھے اور وہ خو بصورت پر ند وں جیسے آبشا رو ں رم جھم کر تی بر سات ،بلند پہاڑ و ں ،پھیلے ہوئے مید ان پاگل کر د ینے وا لی چا ند نی اور سر پٹکتے سمندر کی بے تابی پر ا پنا دھیا ن ر کھتا اپنے اوقا ت اس طر ح گذ ارنے پر وہ ا بتد ا میں نا پسند ید ہ قر ا ر د یا گیا اس پر فا قے بھی گذرے کہ جنگلی جا نو روں کے شکار میں اس کا کو ئی حصہ نہ تھا ۔ مگر و ہ ا پنی د ھیان کی دنیا میں مگن رہا۔ پھراس نے تھکے ماندے لیکن شکم آسو دہ لو گوں کو ا پنے د ھیان کی باتیں سنائیں، اور یہ سلسلہ طو یل ہو ا تو لو گ خو شی خو شی اور بد لے میں ا سکے تجربوں اور مشا ہدوں کی با تیں سننے لگے اور یوں دنیا میں پہلی با ر افسا نہ کا جنم ہو ا ۔افسا نہ نئی تہذیب کا لفظ ہے ۔اس سے پہلے بھی اس کا م کی پہچا ن کے لئے مختلف اوقا ت میں الگ الگ لفظ ا ستعما ل کئے گئے ۔ لفظ کسی خیا ل کے ا ظہار میں کا م آتا ہے اور یہ بھی درست کہ آج تک کسی خیا ل کے ہو بہو ا ظہار میں لفظ نا کا م رہے لہذ ا کا م چلا نے کے لئے جو ا لفا ظ ہاتھ لگیں ا نہیں غینمت جا ننا چا ہیے ، لیکن ہم جسے آج افسا نہ کہتے ہیں یا کہا نی کا نا م د یتے ہیں یا کبھی دا ستا ن کہہ کر پکارتے ہیں ان سب کے پیچھے ا صل مسئلہ قصہ کا ہے ۔
یاد نہیں ہے کہ وہ کو ن سی گھڑی تھی کہ قصہ سنتے سنتے قصہ سنانے کی ایک با ت سا منے آکر ٹھہر گئی ہز ار کو شش کے با و جو د ند ی ،تالا ب ، پنگھٹ ،چا ند نی اور چو پا ل کی یا دوں کے سا ئے ذ ہن کی د ہلیز سے نہیں اتر ے اور جد یدمعاشرے میں زند گی جینے کا سا را فر یب کبھی کبھی پشت پر سوار ہو کر مخا لف سمت سفر کی ترغیب دلا تا ہے ۔ لیکن ہم ہیں کہ بہر طو ر سے عہد کے لوگوں میں شمار کئے جا نے کی تمنا ر کھتے ہیں ہرآن آگے بڑھنے کی کو شش میں لگے ہیں اور یو ں کمر جھکتی جا تی ہے اور قصہ پیچیدہ ہو جا تا ہے تمام افسا نو ں کا بس ایک ہی قصہ ہے ۔ قصہ ا فسا نہ کب بنا یہ ا ک ایسی کہا نی ہے جس کی ا بتدا کا کو ئی ا ندا زہ نہیں ا لبتہ چھٹی دہا ئی کے آس پاس کا ز ما نہ یاد ہے کہ جب ہم نے کبھی سٹر ک کی نرم نرم د ھو ل کی ر فا قت چھوڑی اور کو لتار کی سٹر کو ں سے لپٹ گئے تو ا پنی ذا ت خو د ایک کہا نی بن گئی ۔ہما ری تحریر کہ جس پر و قت کے تیس سال گز چکے ہیں ہما ر ی ذا ت کا وہ منظر نا مہ ہے جس کے پس منظر سے ا فسا نہ نگا ری کے نا م پر نوحہ خوانی کی آواز ا بھرتی رہتی ہے ۔ و یسے قصہ کہنے و ا لا ہر حا ل میں قصہ کہے گا اور ا پنی حا ل کی کہے گا سو کہہ رہاہے ۔ لیکن ہم تو ایسے عہد میں دا خل ہو گئے ہیں جہا ں عظمت آدم کا کو تصور سر سے غائب ہو چکا ہے جو ا بو ں کے طور پر بعض دا نشو روں کی تحر یر نظر آجائے تو آجائے۔
ور نہ عا م ز ند گی میں اس کا اتہ پتہ نہیں ہے۔ فکشن تو اد بی ا ظہا ر کا سب سے با معنی اورپُر و قا ر ذریعہ ہے ایک ا فسا نے کا سب سے بڑا کمال یہ ہو تا ہے کہ ان کا قا ر ی اس افسا نے کے ذریعہ ا پنی ذا ت سے آشناہو تا ہے ا فسا نہ جیسے جیسے اس پر کھلتا ہے اس کی ذات اس پر منکثف ہوتی جا تی ہے ۔ آدمی کی زند گی کا سب سے بڑا ا لمیہ یہ ہے کہ و ہ خو د ا پنے آپ سے وا قف ہو جائے۔ ا پنی ذا ت کے نا آشنائی کی دھند ا سی ا فسا نے کے تو سط سے چھنٹتی ہے منظر کا ظمی لفظوں اور ذ ہنو ں سے ا س طر ح آ پ کومسحورکر د یں گے کہ آپ نظرہٹا نہیں سکتے اور ان کی تحر یر وں کی یہ جا دو بیا نی ہے ان کے افسا نے میں بھی دو گنی بڑھ جا تی ہے جب اک اک لفظ صدیوں میں گم ہو جا تا ہے ۔منظر کا ظمی کا سب سے بڑاکما ل ہے، ان کی ذ ہنی ہم آہنگی ان کا پختہ مشو ر ہ، با معنی اور پر و قار اسلو ب جو ان کے ہمعصرو ں میں کہیں نہیں مل پا تا ۔ ان کے ا فسا نے کی ا ستعاری ٹیکنک اورعلا متی ا ظہا ر آپ کے ا ند رفکر وں کی شمعیں رو شن کر د یں گی اور آپ متحیر ہو ں گے ہم نے لا کھو ں ا فسا نے پٹر ھے ہیں لیکن ایسا ایک بھی نہیں ہے۔ان کی ا نفر اد یت سے آپ بھی د یکھئے ا یک وا ٹر ٹینک کی تیاری میں ہز ا ور ں گا گریں ٹو ٹتی ہیں اور اس ٹینک کو آگے بٹر ھنے کی علا مت سمجھ کرلو گ خو ش ہو تے ہیں جہاں تک ان کے دل کے قریب ہی بعض لمحوں نے ایسے گھر بسائے جہا ں شا م ہو تے ہی گر یہ وز اری اور نو حے کی د لخر ا ش آوا زیں آگے بٹر ھنے کی تما م علا متو ں کو تو ڑ پھوڑ کر ر کھ دیتی ہیں اور پس منظر ایک آ وا ز دو ر سے آتی ہوئی ملی جلی آو ا ز و ں کا ایک سرگم بلند ہو نے لگتا ہے ۔(لکشمن ر یکھا ) ۔
گا ؤں کے ہر یالے لہلہاتے کھیت صا ف اور شفا ف ہو ا وہ پھولو ں کی تا ز گی میں بسا خو بصو رت چہرہ اور وہ پنگھٹ او راس کی ر عنا یا ں سب کچھ جو فطر ی اور قدرتی عطیہ تھا وا ٹر ٹینک کی تیار ی نے ان ہزاروں گا گر و ں کو توڑ دیا آج تو وہ شام کی گو ری مخملی فر ش پر تھرکتے ہوئے جسم کے پیچ و خم کے سر گم کی تما م کی تمام بلندیاں دم توڑ رہی ہیں۔جسم کو بیچ کر ما ل کمانے اور اس کی نما ئش کرنے کی ہو س نے کتنے پنگھٹ اور گا ؤں کو و یران کیا ۔یہ ا فسا نہ نہیں ہے ،حقائق کی بلندیو ں سے گز ر تا ہے تو حسا س قا ری رو تا ہے ۔یہ کیا ہو ا یہی ہے آج کے عہد کا ا فسانہ ۔آگے بڑھنے کی جہد اور نا کامی ا نسانی گراوٹ۔
اسی با ب میں آج کی لا کھو ں کہا نیوں میں منشی پریم چند سے لے کر منٹو تک اور عصمت سے لے کر قراۃ العین حید رتک یہ و ہ افسا نے میں جو سطیحت سے ہٹ کر لکھے گئے ۔ اور میں صر ف آپ کو ا شا رے کر ر ہا ہو ں کہ منظر کا ظمی ا پنے عہد کے عظیم ا فسا نہ نگا ر ہی نہیں A twought of school ہیں ۔ایک آگ کا در یا ے اور ڈو ب کر جا نا ہے چند اقتبا س میرے حصے کی نیند کا…… ملا حظہ فر ما ئیں ا گر نقسیم کر نے کی شئے ہو تی تو د نیا میں سب سے ز یا دہ قا بل قدرا نسا ن کا زمانہ اس کو ما نا جا تا ۔ لیکن کا ر نا مے تو وہ قر ار پائے جو نیند ا ڑ ا لے گئے ۔ ’’میر ے حصے کی نیند‘‘
نیند موت کی چھوٹی بہن ہے ۔ لیکن نیند علامت ہے سکون کی معراج کی طمانیت کی آشتی کی نیند علامت ہے جینے کی اور زند گی کی مگر آج گد از بستر اور اے سی روم میں نیند کیو ں نہیں آ تی ہے۔ کہ ہم نے چین اور قر ار سب کھو دیا ہے اور بستر کے نرم مخملی آغوش میں بھی بے چینیاں ہما را مقد ر بنی ہو ئی ہیں بظا ہر ہم ا یر کنڈیشن رو م میں ہیں لیکن ا فغان اور عر اق کی مصر کی سرحد دپر برسنے وا لے اسّی لاکھ ٹن با ر ور نے ہم کو بے چین کر ر کھا ہے کے سر حدپر پناہ گز یں معصوم بچو ں کو اور عو ر تو ں اور ضعیفوں کا کیا حا ل ہو گا۔ ؟ آج آدم ا نسانیت کا کار نا مہ وہ ہے جو نیند وں کو اُ ڑا لے گئے ، سب کچھ ا لٹ گیاہے ۔
وا قعہ ا صحاب کہف سے اس خیا ل کو تقویت ملتی ہے یو ں ر قمطر از ہیں ۔
ایک ز ما نہ ا یسا گذرا کہ چند افراد اپنے ایک وفا دار جانور کے ساتھ اپنے شہر سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے اور بھاگے بھاگے ایک غار میں پناہ لی اور پھر ا س غار میں ا یسا سوئے کہ جب ان کی آنکھ کھلی تو پہلی با ر ا یسا لگا جیسے مقر رہ و قت ا ند از ہ پر ا پنی نیندسے جاگے۔ ’’میر ے حصے کی نیند ‘‘
لیکن شہر سے و یر ان غا رکی طرف کیو ں بھاگے تھے ۔؟ لا فرضیت اور بے چہرگی ، گنا ہ کے ا رتکاب سے سو ال پھر ما ضی کے کئی ادو ا ر سے گذ رتاہو ا حا ل کی طر ف ہے ۔آج بھی ہے۔ ؟اس لئے میں یہ ببانگ د ہل کہتے ہو ئے کو ئی آرنہیں کہ منظر کا ظمی ا فسا نہ نگا ر ہی نہیں ایک بلند پا یہ ا نسان کا خو اب بن کر بقول پر و فیسر قمر آعظم ہاشمی ۔
یہ ا فسا نو ی بیا نا ت نہیں ہیں جس وا رد ات کا محسوس اظہا ر ہیں یہ ا نسا ن کی آپ بیتی ہے ۔ اس عہد کی آپ بیتی ہے جس میں ا فسا نہ طر از کے روز و شب ملو ث ہیں اور جس میں مسلم و جو د کے چکناچورہو جا نے کی پر سو ز نوحہ گر ی کا شو رو شر وا ضح ہے ۔ منظر کا ظمی نے مشا ہد ات اور تجربات کو ا پنے تخلیقی شعو ر کا حصہ بناکر ا لفا ظ کے ا ختصا رو کفائت کے سا تھ ا فسا نو ی پیرائے میں اس طر ح منتقل کیا ہے کہ علا متو ں اور اشا رو ں کے برتا و کے باو جو د کہیں معمہ نہیں بنتا ۔ ا پنے عہد کی Sensibility کے ا ظہا ر کے لئے افسا نہ نگار نے ایسی Technicا ختیار نہیں کی ہے ۔بلکے Creative Styleو ضح کی ہے جس کی شا دا بی تو ا نا ئی معنی خیز بھی ہے اور ا ثر انگیز بھی منظر کا ظمی نے ا فسا نہ وز ندگی کو اک دو سرے سے یو ں ہم آ ہنگ مر بو ط ر کھا ہے دوئی و حد ت بن گئی ہے ۔ ایک اسی تخلیقی و حد ت جس کی حسن کا را نہ وا قفیت اور فنکارا نہ بصیرت پر گہر ے نقش قا ئم کر تی ہے اور جس کا تاثر دیر تک اور دور تک پھیلتا ہے ا فسا نہ نگار کو کیا کہنا ہے۔؟ کسی طر ح کہنا ہے۔ کیوں کہنا ہے۔ ؟ اس کا وا ضح ادراک حا صل ہے۔ اور وہ غیر مشر و ط ا نداز وا سلو ب میں اس ادراک کو ا فسا نو ی پیر ائے کے سپرد یوں کر تا ہے کہ ا فسا نو ئیت بھی قا ئم رہتی ہے اور کو ئی معمگی پیدا نہیں ہو تی ، زند گی کی گر ہیں گتھیا ں اور مختلف تہیں سامنے آتی جا تی ہیں ۔ ظا ہر ی با ت ہے اس کر ب سے گز رنے میں ریاضت اور بہت د کھ جھیلنے پڑتے ہیں تب کہیں جا کر تخلیق سنو رتی ہے اد ب کی وہ جلو ہ نما ئی جو منظر کا ظمی کی ،پہچا ن اور شنا خت ہے اور ان کے فن کو ا علی وا رفع بنا تی ہیں۔ ا تنی سی با ت لو گو ں کی سمجھ میں کیوں نہیں آتی کہ ہما رے پا س سب کچھ ہو نے کے بعد بھی کچھ نہیں ہو تا اور ایک آدمی ایسا بھی تھاکہ اس کے پا س کچھ نہیں تھا پھر بھی بہت کچھ تھا اور اس کے پا س جو کچھ تھا وہ لو گو ں میں تقسیم کر تا تھا ۔ اس وقت ا یسے بھی لو گ تھے جنہو ں نے اس دو لت کو حقیر سمجھا اور اپنا منھ پھیر لیا اور اسے لو گ بھی تھے جنہو ں نے اس کی قد ر جا نی اور گھٹنوں کے بل جھکے رہے یہی و جہ ہے کہ آج ا یک شخص کو دن بھی تا ر یک نظر آتا ہے اور دو سر ے کیلئے را ت بھی روشن ہے (سیا ہ غلاف اور کا لے جر نیل )
یہ وہ زریں با ب تھے جس سے ہما ری اور ہما رے قو م کی قلعی کھل جا تی ہے کہ انبیائے کر ام کی وارثت وہ علم نبو ت تھے جس نے پستی میں آسما ن بن کر جینے کا طر یقہ سکھا یا تھا اور جس کی جٹر یں تو حید پر ہیں لیکن سب کچھ جا ننے کے بھی ہم لکشمی کے پوجا کر نے لگے اور فقط زبان کی نوک پر تو حیدا ور رسا لت کے دعو ے رہ گئے ہم نے فر عو ن اور نمر و د بنے کی تمنا کر لی ہے وہ اسو لا حسنہ بس ز بان کی نوک پر لفظو ں میں ہیں کس طر ح ما ل کمانا اور کسی طر ح آگے بٹر ھناہے ۔حر ام کیا اور حلا ل کیا ۔؟ جہا ں تک کے روس کے ا نقلا بات ز ارکی ہٹ د ھر می سا منے آجا تے ہیں اور آج ہمارے تعمیر اور محراب پر بھی بس لفا ظی ہو ر ہی ہے ۔ اِللہ ما شا اﷲکل بھی قلیل تھے آج بھی قلیل ہیں کچھ لو گ وہ شخص جس کی پشت پرچا ند چمکتا تھا ۔اگر چاہتا تو سیاہ جھیل کو پا ر کر سکتا تھا ۔ لیکن یہ با ت اسے ا چھی نہیں لگی کہ گھر میں آگ لگا کر اس نے اُٹھنے والو ں شعلوں کو حسین کہا جا ئے ۔اور جب رو شنی کے چنار کو د یکھے بغیروہ واپس ہو اتو اس کے ساتھی مغمو م ہو ئے اور اپنے آپ کو شکست خوردہ کہنے لگے۔لیکن اس شخص نے بتا یا کہ ا پنی آنکھیں کھلی ر کھو اور دیکھوکہ وہ جو بظاہر نہیں شکست معلو م ہو تی ہے ۔ا پنے ا ندر فتح کی ز بر د ست صلا حیت ر کھتی ہے ۔؟ یوں فتح ہو ئی۔
مگر یہ با ت سمجھ میں نہیں آتی کہ ا تنا کچھ جا ن لینے کے بعد بھی رو شنی کے د یوانے کا لے کا لے جر نیلوں سے خو ف ز دہ کیو ں ہیں۔؟
کہیں ا یسا تو نہیں کہ تعداد ان کے یہاں کو ئی جنس بن گئی ہے ؟ اور مقصد سے بٹر ا کو ئی جر نیل نہیں۔ ’’سیاہ غلا ف اور کا لے جرنیل ‘‘
پہلا باب صلح حدیبیہ کا ہے کہ آپ نے ھندا کو بھی معاف کیا۔
اور وحشی کو بھی اور عکر مہ کو بھی تو صحابہ کر ا م نے جس کو شکست سمجھا تھا وہ فتح میں بد ل گئی اور دب کر صلح کر ناصحابہ کر ام کو با ر ہو ا تھا لیکن آج کے تناظر میں وہ آخر ی با ت جس کو منظر کا ظمی چیخ چیخ کر کہنا چاہتے ہیں اور وہ دعو ت ہے ایمان کی اور مقصدحیا ت کی آج ہم نے ضر ورت کو مقصدسمجھ لیا ہے اور ایما ن والے بہت ہو ں گے سمند رکی طر ح بے شمار لا تعد اد لیکن ایمان جھا گ کی طر ح ہوگا۔عیسائی، یہودی ،مسلمانوں کو اس طر ح نگل جائیں گے جس طر ح ہم نو ا لہ چباتے ہیں اس کی و جہ ایک صحا بی نے ر سو ل صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا موت سے کر ا ہیت اور دُنیا کی محبت۔ آج ہم د نیا کو بڑی چیز سمجھ رہے ہیں ۔اور آخر ت پشت پر لا کھو ں کی تعد اد میں اک جگہ بیٹھ کر روتے ہیں اور گر یہ وز اری کر تے ہیں ہم نے ا گر یہ سمجھ لیا ہے کہ لو گ ہما رے قصو ں پر سر دھنیں گے تو غلط ہے ہم ا پنے خون بہانے کا فن بھو ل گئے تو اس کر ہ ار ض پر اور کو ن ہو گا ۔جس سے ہم آنے والی سیا ہ طو فا نی را توں میں ٹھاٹھیں ما رتے ہو ئے خو ن کے سمندر کی کہا نی کا مطلب پوچھیں گے ۔
بقو ل منظر کاظمی ’’ا فسا نہ ایک کجلا ئی ہوئی شا م ‘‘
آج کے در دو کر ب کو آج کی کہا نی میں پیش کر نے کے جواز کو مزید و ضا حت کے لئے وارث علو ی سے بھی رجو ع کیجئے ۔تیکھی نگا ہ ر کھنے وا لے اس آد می کا کلیجہ بھی چھلنی ہے اور اسی کے علا قے میں عور تو ں کی ا جتماعی آبر ور یز ی کی شا ئد فلم بند ی بھی ہو ئی تھی ۔ شانتی اور اہنساکے علمبر دا ر گا ندھی جی کی جنم بھومی بھی یہی ہے ہم بنیا دی طو ر پر سب کے سب آدمی ہیں ایک آدمی ا یسا بھی ہے ۔ جوکا ر پر بیٹھ کر لوگوں کو رو ندتا بھی ہے او رکتے کاپلا بھی کہتا ہے کہ اس کی کا ر سے کچل گیا تو وہ کیا تو کیا کر ے ۔؟ آج کا وہ ہٹلر پی ایم بننے کا خوا ب د یکھ رہا ہے ۔سب سے بٹر انقصا ن تو یہ ہو ا ہے کہ بین الاقوامی سطح کا ا یک غنڈ اآج دُنیا کی پوری آبا دی کو ذلیل ور سو ا کر نے پر تلا ہو ا ہے ۔ لیڈر بننے کے لئے حلقوم کو پھاڑنا اور پھیلانا پڑتاہے ۔ادب کے لئے ہنڈی پگھلانی پٹر تی ہے ،نعرہ با ز ا پنے مہنگائی ، بھتے اور بونس کی لڑا ئی میں چلا تا ہے۔ اور گھوٹالہ کرتا ہے لیکن ا یک ادیب اپنے تخلیقی ا ظہار ،پر مر یم کی طرح خا مو ش ہو جا تا ہے ۔
ہر عہد میں کہا نی کو اپنے متعلقہ ماحول اور مسائل سے واسطہ رہاہے ۔ پریم چندر اپنے عہد کی کہانی لکھ رہے ہیںیہ بھی سچ ہے کہ اک بٹر ا افسا نہ کسی نہ کسی مر حلہ پر دو سر ے عہد کو بھی شر و ع کر د تیا ہے ۔ ’’ کفن ‘‘کی مثا ل لے لیجئے پر یم چندر نے اس ا فسانے سے ہما رے عہد کی ا بتدا کر دی ۔ میں تو یہ سمجھتاہو ں کہ پر یم چندرایک کہا نی لکھنے کے لئے سیکڑوں کہا نی کی مشقت اُٹھاتے رہے آج کے دردو کر ب سے آپ کی کہا مراد۔ ؟ یہ کب نہ رہا۔ ؟ کسی زما نے کی نشا ند ہی کر کے بتا دیجئے۔آدم کی پہلی اولا د قا تل ٹھہر ی ۔ نو ح کے بیٹے نافر ما ن نکلے ۔موسی کی قو م و عدہ شکن تھی عرب کی اک خا تو ن حضر ت ر سو ل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کا کلیجہ چبا گئی درد و کرب کی دا ستا ن ہر مو ڑ پر مل جاتی ہے ۔د یکھئے ا بھی چند بر سو ں ۱۹۷۹ میں اسی شہر جمشید پور میں ۱۰۷ عو رتو ں اور بچو ں کو اک سا تھ ز ند ہ جلا یا گیا پٹر ول ڈ ال کر، اپنی دو ا نگلیوں کے درمیاں کسی بھی ڈ ھا نچے کو اُ ٹھا کر مسل د یتے تو گر د بن جا تی ۔لیکن ستم د یکھئے مذ ا ق بھی اُڑا کہ پوسٹ ما ر ٹم کے لئے بوروں میں جلی ہوئی ہڈیا ں لے جا ئی گئیں ۔میں بھی کچھ ٹکر ے کلکتہ کی کا نفرنس میں جو فر قہ وا ر یت کے خلا ف ہو ئی تحفہ کے طو ر اشتراکیوں کے حو الے کر آیا ۔ آپ بتائے میر ے سا تھی زکی ا نو ر کو ما ر کر کنویں میں ڈا ل دیا گیا ۔؟ آپ بتا سکتے ہیں ؟ یہ حا د ثہ کر ب کی کس منزل پر ہے۔ ؟ ا س لئے تخلیق د کھ جھیلنے کے بعد جنم لیتی ہے ۔ بہت ہی کر ب سے گز رنا پٹر تا ہے۔ وہ ز کی ا نو رکی مو ت نہیں منظر کا ظمی کی مو ت تھی ۔ آج ہم کہا ں جی رہے ہیں۔ ؟ ز ند گی ہم پر کئی جہتو ں پر ظا ہر ہو رہی ہے ؟ اس پر غورکر تے ر ہنا چا ہئے کہ ہما را اجتما عی معاشرتی ڈ ھا نچہ کہا ں کھڑا ہے ۔؟ فلسطین سے لے کر افغان ،عر اق ،مصر ،لیبیا ،یمن اور شا م آپ کو ہر جگہ شکستگی اور ذلت رسو ائی کا سامنا ہے کیو ں۔ ؟
اور ا فسا نہ د نیاکی کسی بھی ز با ن کے افسا نو ں سے آ نکھ ملا کر با ت کر سکتا ہے ۔ لیکن آنکھ ملا کر کر با ت کر نے کے لئے حوصلہ اور ہمت چاہئے ہم تو غلا موں کے ذ ہن سے جتے ہیں ۔انگر یزی اد ب کی با ت کر تے ہو تے سا مر اج کو مت بھولئے اس نے دنیا کے بٹر ے حصوں پر محض حکو مت نہیں کی ا پنی زبا ن ،اپنا کلچر ،اپنی تہذیب سارا کچھ برا ہ را ست محکوم علا قو ں پر Imposeکیا ۔لو گو ں نے کبھی منٹو کو مو پا سا ں سے ملا یا تھا بٹر ی ہمت سے کا م لیا تھا ۔حا لا نکہ سچ اور بھی ہے ۔منٹو اور بید ی کے محض پا نچ پا نچ ا فسا نو ں کا انتخا ب کر لیجئے اور دنیا کے کسی زبا ن وا دب کے کسی افسا نے نگا ر کے تخلیق کے سا منے ر کھ د یجئے۔ دیکھ لیجئے آپ کا سر کتنا اونچاہو گا ؟ لیکن یہ کا م کو ن کر ے ۔سب ار دوو الو ں کی ذمہ داری ہے ۔
پھر subjectکی طر ف سمٹ آؤں بقو ل یو سف جما ل کے منظر کا ظمی ادب کی وہ پر بہار شخصیت ہیں جواپنے ا فسا نو ں میں ا نفر اد ی لب و لہجہ کی و جہ سے مسلم شنا خت کا در جہ ر کھتے ہیں ، ا پنی بھر پور تخلیقیت سے آج کے ا فسا نہ نگا رو ں کی انبوہ میں وہ جدا گا نہ اور بلند و با لا قد کے حا مل ہیں اور یہ او صا ف جلیلیہ بہ پنا ہ بے پناہ محنت اور ریاضت سے حا صل ہو تے ہیں ۔
بلا شبہ ’’ لکشمن ریکھا ‘‘ منظر کاظمی کا ا فسا نو ی مجمو عہ اد ب میں ایک سنگ میل کا در جہ ر کھتا ہے ۔اس مجموعہ سے افسا نے میں علا مت نگار ی کے ایک نئے اور خوش رنگ باب کا آغاز ہوتا ہے ۔ جہاں لکشمن ریکھا افسانوی مجموعہ کی بھیڑ میں ا پنی ا ہمیت کا جا دو جگا تا نظر آتا ہے ۔و ہیں ا یک ا ہم اور بٹر ا نا م بھی ہے ۔پر و فیسر و ہا ب ا شر فی نے ر مزو ایماء کاعظیم ا فسا نہ نگا ر قر اردیا ہے ۔بلکہ باشعو ر قا ری کو پٹر ھنے کی تلقین بھی کی ہے ۔بے شک منظر کا ظمی عصر ی افسا نے میں معما ر کی حیثیت سے یا د کئے جا ئیں گے ۔منظر کا ظمی صاحب کی فنکا را نہ ا نفرادیت اور عظمت نا قا بل فر امو ش ہے ۔میں منظر کا ظمی صاحب کو علا متی افسا نے کا عظیم ا سکو ل ما نتاہو ں آنے وا لا و قت سب عیا ں کر دے گا انشا اللہ۔
آخری بات جس بات کا مجھے احساس واعتراف رہے گا کہ افسانہ نگاری کے بال و پر سنوارنا میں نے ڈاکٹر منظر کاظمی صاحب نور اللہ مرکدہ سے سیکھا ہے۔ جو کچھ بھی میں نے اُن سے پایا ان تمام افسانوی فکروں کو میں ابرار مجیب ، مہتاب عالم پرویز ؔ اور اختر آزاد کی تحریروں میں ڈھا ل چکا ہوں۔
میری کتنی شامیں اس کاوش میں قربان ہوئی ہیں اس حقیقت کا اندازہ وہی کر سکتے ہیں جو اکیسویں صدی کے ادب میں کامیابی کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ دراصل منظر کاظمی صاحب نے جمشید پور کو کئی بڑے افسانہ نگار دیئے ہیں ۔ آج جو بھی کاوشیں ’’ شہر آہن ‘‘ میں دکھائی دیتی ہیں اُس کے پس منظر میں ڈاکٹر منظر کاظمی صاحب کی فکری ارتقاء کا ہی کرشمہ ہے،اس لئے میں منظر کاظمی صاحب کو علامتی افسانے کا اسکول اور روحِ رواں مانتا ہوں۔ آج بھی منظر کاظمی صاحب کے افسانے کی فکری ارتقاء کو کوئی چھو نہیں سکا۔ وہ رمزو ایماء کہاں۔؟
ادب دراصل تزکیہ نفس، تصفیہ قلب کا نام ہے۔ آپ اپنے آپ کو پہچانیں یہی ادب ہے۔ عقل میں مونچھ اور خود ستائی مجھے بالکل پسند نہیں۔ یہ ہے وہ منظر کاظمی صاحب کے اقتسابات جو میرے دل میں کچوکے بار بار وصیت کے طور پر لگاتارہا اور جس کا اعلان ضروری تھا۔
بشیر بدر کا ایک شعر وہ ہمیشہ پڑھا کرتے تھے …….
خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے
کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے
بہت سے ادیب اس مرض میں مبتلاء ہیں۔ غرور اور کبر کی آیتیں اس طرح پڑھتے ہیں جیسے ہیضہ عام ہو۔
کئی بار منظر کاظمی صاحب نے مجھ سے کہا کہ مہتاب عالم پرویز ؔ کا آخری افسانہ ابھی نہیں آیا ہے ابھی وہ لکھ رہے ہیں اور بھی افسانے لکھیں گے تو آپ ششدر رہ جائیں گے کہ کیسے کیسے افسانے لکھنے ان کو باقی ہیں۔
ویسے وہ منظر کاظمی صاحب کے بے حد چہیتے شاگرد ہیں اُن کے بتائے ہوئے راستے پر ضرور چلیں گے۔
منظر کاظمی صاحب پرویزؔ کی بے حدتعریف کیا کرتے تھے اور ہمیشہ کہتے تھے ان لوگوں پر نگاہ رکھو آنے والے وقت کے یہ لوگ بڑے افسانہ نگار ہوں گے سمت کا تعین اصل روح ہے لکھنے کے تمام آداب بتاتے اور اسی طرح براہ راست ابر ار مجیب ارمان شباب سے ان کے اندر یہ بات آگئی یعنی چراغ سے چراغ جل رہا تھا۔ آپ ہمیشہ تزکیہ نفس کا ذکر کیا کرتے تھے۔
ہم کو یاد ہے مہتاب عالم پرویزؔ کی کہانی’’ اندھیرے کا سفر ‘‘ کو منظر کاظمی صاحب نے جب پڑھا اور کئی جگہ رُکے اور ایک عجیب بات آپ کی زُبان سے نکلی کہ پرویزؔ آسمان کا وہ (GALAXY) ہے کہ لاکھوں ستارے اس میں گُم ہیں۔ یہ ہے وہ حوصلہ افزائی اللہ اُن کی روح کو منور کرے۔
اور یہ سچ ہے ایک دن منظر کاظمی صاحب نے ہمیں بڑے ہی طمطراق سے بتایا آج میں نے پرویزؔ کی فیس معاف کر دی ایسے بچوں کی مدد بے حد ضروری ہے نہ جانے کیوں مہتاب عالم پرویزؔ سے اُن کی اُنسیت بڑھ گئی تھی۔
اللہ ان کی قبر کو نو ر سے بھر دے آمین ۔
(ماخوذ منظر نامہ سے )
****
جہانگیر محمد
یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن،میرٹھ(UPTA) کی سالانہ تقریبات31 اکتو بر کو
یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن،میرٹھ(UPTA) کی سالانہ تقریبات31 اکتو بر کو
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری،شمبھو ناتھ شکل اور جتیندر سی راج کو دیے جائیں گے ایوارڈ
(پریس ریلیز)
میرٹھ29اکتو بر2013ء
مورخہ31اکتو بر؍2013ء بروز جمعرات شام ۶؍ بجے بیگم پل زیرو مائل پر وا قع سینٹ جوزف انٹر کالج کے آڈیٹوریم میں یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن(UPTA) میرٹھ اپنے چو تھے یوم تاسیس کے مو قع پر ایک ڈرا ما بعنوان’’ ایک اور درونا چاریہ‘‘ کے کھیلنے کا اہتمام کررہا ہے۔
یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن، میرٹھ نے اپنے چار سالہ سفر کے دوران شہر کے متعدد مقامات پر سماجی مسائل پر مبنی مختلف ڈرامے پیش کر کے تہذیبی وراثت اور اخلا قی قدروں کو فروغ دینے کا کار نامہ انجام دیا ہے۔جسے شہر کے غیور عوام کے ذریعے خوب سرا ہا بھی گیا ہے۔عوام کی اس پسنددیدگی نے ہمیں حو صلہ عطا کرنے کے ساتھ اس تحریک کو جا ری رکھنے کی ترغیب دی ہے۔
یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن،میرٹھ کی ان کامیاب پیش کشوں نے،میرٹھ کی بکھرتی رنگ منچ کی دنیا کو کامیابی سے ہمکنار کر نے کی سعی بلیغ کی ہے۔ اُپٹا کی کامیاب ترین پیش کشوں میں ’’بیٹی ایک وردان‘‘،’’پیمنٹ اتھارٹی‘‘،’’لڑا ئی جاری ہے‘‘،’’اندھیر نگری‘‘،’’یہ سنگھا سن ہے‘‘ اور ’’جس لاہور نئیں دیکھیاں وہ جنما نئیں‘‘وغیرہ بطور خاص قابل ذکرہیں۔
اُپٹا ہر سال کی طرح امسال بھی ادبی،صحافتی ،سماجی اور ڈراما نگاری کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے وا لوں کو ایوارڈ سے سر فراز کرے گی۔اس سلسلے میں باالترتیب ادبی اور سماجی خدمات کے لیے’’اُپٹا ایکسی لینسی ایوارڈ2013ء (کملیشور ایوارڈ) معروف افسانہ نگار اور رنگ منچ کو فروغ دینے وا لے ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری،صحافت کے لیے اُپٹا میڈیا ایوارڈ2013ء (ڈاکٹر دھرم ویر بھارتی ایوارڈ)مشہور معروف صحافی محترم شمبھو ناتھ شکل اور رنگ منچ کی دنیا کے لیے اُپٹا ناٹیہ ایوارڈ2013ء(ناٹیہ رتن) نو جوان ڈرا ما نگار محترم جتیندر سی راج کو پیش کیے جائیں گے۔
یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن،میرٹھ نے میرٹھ اور اس کے نواحی علاقوں کے نوجوانوں کو رنگ منچ کی دنیا اور اس کی تکنیک سے رو برو کرا نے کے لیے مستقبل قریب میں ایک تھیٹر ورکشاپ ود پروڈکشن پلے کا بھی اہتمام کرنے کا فیصلہ لیاہے۔
پریس کانفرنس میں محترم بھارت بھو شن شرما، انل شرما، سریندر شرما، ہیمنت گویل، جتیندر سی راج وغیرہ موجود رہے۔
سر سید کو سچا خراج ان کے تعلیمی اور عملی مشن کو گھر گھر تک پہنچانا ہے : پروفیسر منظور احمد
سر سید کو سچا خراج ان کے تعلیمی اور عملی مشن کو گھر گھر تک پہنچانا ہے : پروفیسر منظور احمد
شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی اور سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی، میرٹھ کے باہمی اشتراک سے ’’یوم سر سید‘‘ کا انعقاد
(پریس ریلیز)
میرٹھ19؍ اکتو بر2013ء
’’ سر سید احمد خاں ایسے وقت میں سامنے آئے جب ہندوستانی معاشرہ تنگ نظری ، بے جا تعصب اور بے عملی جیسی برائیوں میں مبتلا تھا، انہوں نے عمل کا درس دیا ۔گوشہ نشینوں کو خلوت سے نکالا،ماضی پرستوں اور اجداد کے کارناموں پر فخر کر نے والوں کو و قت اور عمل کی اہمیت سکھائی ،قوم آج ایک بار پھر انہی سماجی برائیوں کی طرف بڑھ رہی ہے ۔لہٰذا ایسے میں قوم کی سب سے بڑی خدمت اور سر سید کو سچا خراج عقیدت یہی ہوگا کہ ہم ان کے تعلیمی اور عملی مشن کو گھر گھر تک پہنچائیں۔‘‘ ان خیالات کااظہار پروفیسر منظور احمد(شیخ الجامعہ، سبھارتی یونیورسٹی، میرٹھ) نے شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی اور سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی، میرٹھ کے باہمی اشتراک سے منعقد ہ ہفت روزہ جشن سر سید تقریبات کے اختتام ’’یوم سر سید ‘‘کے موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
’’یوم سر سید‘‘ کی صدارت پروفیسر قاضی زین الساجدین(شہر قاضی، میرٹھ) نے کی۔ مہمانان ذی وقار کے بطورمحترم اوم پرکاش(رجسٹرار ،سی سی ایس یونیورسٹی) محترمہ نایاب زہرا زیدی(صدر،سر سید ایجو کیشنل سوسائٹی، میرٹھ)نے شرکت کی اور سر سید ایوارڈ یافتگان میں محترم آفاق الرحیم خان(نائب صدر مسلم گرلز ڈگری کالج، بلند شہر) اور اقرا ء قریشی( پرسنالٹی ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرینر، دہلی) موجود رہے۔استقبال معروف ادیب محترم طالب زیدی نے،شکریہ نایاب زہرا زیدی نے اور نظا مت کی ذمہ داریاں آفاق احمد خاں نے بحسن و خوبی انجام دیں۔
واضح ہو کہ سالہائے گذشتہ کی طرح امسال بھی شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی اور سر سید ایجو کیشنل سوسائٹی،میرٹھ کے اشتراک سے محسن قوم، عظیم تعلیمی رہنما سر سید احمد خاں کی یو م پیدا ئش کے موقع پر ہفت روزہ ’’ جشن سر سید تقریبات‘‘ کا شاندار اہتمام کیا گیا ، جس کے تحت اسکول، کالجزاور یو نیورسٹیوں میں پڑھنے وا لے طلبا و طالبات کو سر سید احمد خاں کی زندگی،ان کی خدمات اور ان کے کارناموں سے روشناس کرا نے کے لیے سر سید لیکچر سیریز اور سر سید کوئز کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس سلسلے کے تحت فیض عام انٹر کالج،حمیدیہ گرلز ہائی اسکول،حیدر پبلک اسکول اور منصبیہ عربی کالج، میرٹھ ،مسلم گرلز ڈگری کالج،بلند شہر اور انڈسٹریل مسلم گرلز انٹر کالج، سہارنپور میں سر کردہ دانشور اور ما ہر تعلیم حضرات نے جا کر لیکچر دیے،ساتھ ہی کوئز کا بھی اہتمام کیا ،جس میں طالب علموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور انعامات
حاصل کیے ۔
پرو گرام کا آغاز سعید احمد سہارنپوری نے تلا وت کلام پاک سے کیا بعد ازاں مہمانوں نے مل کر شمع روشن کی اور مہمانوں کا پھولوں کے ذریعے استقبال کیا گیا۔اس مو قع پر چار شخصیات محترم اعظم خاں(بانی وچانسلر مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی ، رام پور،پروفیسر اختر الواسع (نائب صدر دہلی اردو اکادمی ، دہلی )،محترم آفاق الرحیم خاں اور اقراء قریشی کو اعلی تعلیمی و سماجی خدمات میں نمایاں کار کردگی پر’’ سر سید قومی ایوارڈ‘‘ سے سر فراز کیا گیا۔سر سید ایوارڈ یافتگان میں سے محمد اعظم خاں کا تعارف صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے پروفیسر اختر الواسع کا تعارف ڈا کٹر شاداب علیم، آفاق الرحیم خاں کا تعارف ڈا کٹر آصف علی اور اقراء قریشی کا تعارف ذیشان احمدخان نے پیش کیا۔
رجسٹرار اوم پرکاش نے کہا کہ سر سید نے تعلیمی و سماجی جو بھی خدمات انجام دیں وہ کسی خاص طبقے کے لیے مخصوص نہیں تھیں بلکہ انہوں نے جو تعلیمی اور اصلاحی کارنامے انجام دیے ہیں ان سے ہر فرقہ اور طبقہ مستفیض ہوا ہے۔
سر سید قومی ایوارڈ یافتہ معروف سماجی خدمت گار محترم آفاق الرحیم خاں نے اس مو قع پر شعبۂ اردو اور سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی کا شکریہ ادا کرتے ہو ئے کہ سر سید کے مشن کو آگے بڑھا نے کا کام علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی سے تعلیم یا فتہ حضرات اور محبان سر سید کے کا ندھوں پر ہے۔صرف ڈنر اور پارٹی منعقد کر کے ماضی کی یا دوں کو تو تا زہ کیا جا سکتا ہے لیکن سر سید کے مشن کو آگے بڑھا نے کے لیے قوم کے نو نہا لوں کو تعلیم کے زیور سے آ راستہ کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید زور دیتے ہو ئے کہا کہ آئندہ برس سے سر سید کے مشن کو شہروں کے علاوہ قصبات اور دیہات میں بھی لے جانے کی ہم سب کوشش کریں گے۔
سر سید قومی ایوارڈ یافتہ محترمہ اقراء قریشی نے کہا کہ یہ ایوارڈ میرا پہلا ایوارڈ ہے اور میں بہت خوش ہوں کہ شعبۂ اردو نے مجھے یہ ایوارڈ دیا۔یہ ایوارڈ مجھے ہمیشہ سر سید احمد خاں اور ان کے مشن کو عام کر نے اور گھر گھر تک پہنچا نے کے لیے متحرک کر تا رہے گا۔آپ نے یہ ایوارڈ دے کر میری ذمہ داریوں میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ میں پو ری کو شش کرو ں گی کہ آپ کی توقعات کو ایماندارانہ طور پر پو را کر سکوں۔
ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری نے جشن سر سید لیکچر سیریز کے سالا نہ اہتما م کے اغراض مقاصد پر رو شنی ڈالتے ہو ئے کہا کہ آج کی نو جوان نسل اخلاقی گراوٹ اور تمام سماجی برا ئیوں میں ملوث ہوتی جا رہی ہے۔یہ ہر ذی شعور فرد کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے ۔ایسے میں تاریخ پر نظر ڈا لی جائے تو سرسید کی زندگی اور کار نامے ہمیں مشعل راہ نظر آتے ہیں۔ کیوں کہ انہوں نے ایک ایسے پر آ شوب دور میں قوم کی اصلاح کی کمان سنبھا لی تھی جب ہر طرف تاریکی ہی تاریکی نظر آتی تھی۔انہوں نے قوم کو حو صلہ بخشا اور یہ درس دیا کہ تعلیم اور عمل یہ دو ایسے کیمیائی نسخے ہیں کہ جن کے سہارے بام عروج تک پہنچا جا سکتا ہے۔
اپنے صدارتی خطبے میں پرو فیسر قاضی زین الساجدین نے سر سید تقریبات کے انعقاد پرشعبۂ اردو اور سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی، میرٹھ کے اراکین کو مبا رک باد دیتے ہو ئے کہا کہ یہ تقاریب نوجوان نسل کو سر سید جیسے عظیم مفکر، ہمدرد ورہنما اور مصلح قوم اور ماہر تعلیم کی شخصیت سے متعارف کرانے میں معاون ہو رہی ہیں۔یہ ایک خوش آئند بات ہے۔کیونکہ سر سید کے افکار و خیالات یقینانو جوان نسل میں حوصلہ،عمل اور تعلیم کے لیے جذبہ بیدار کرنے کا سبب ہوں گے۔
اس پرو گرام میں جن اسکولوں اور کالجز نے حصہ لیا تھا ان سبھی کو نشان یاد گار،سر سید کا فوٹواور جن افراد نے ’’جشن سر سید تقریبات‘‘ کو کامیاب بنانے میں تعا ون دیا سبھی کو انعا مات سے نوازا گیا اور مہمانوں کو بھی مو منٹو پیش کیے گئے۔آخر میں سر سید ڈنر کا اہتمام ہوا۔
پروگرام میں ،سید ذکی الدین،سابق ایم ایل اے، نواب کوکب حمید،سابق وزیر حکومت اتر پردیش ،سید معراج الدین، سید فرقان احمد،قاری شفیق الرحمن قاسمی،نائب قاضی زین الراشدین،پربھات رائے،گریش شکلاڈاکٹر محمد یونس غازی،ڈاکٹر ضیاء عالم زیدی ،ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ،ڈاکٹر ریاض احمد، ڈاکٹر ارشد اقبال،ڈاکٹر شاہد صدیقی ،ڈاکٹر نعیم صدیقی ،ڈاکٹر فرحت خاتون حا جی مشتاق سیفی، سلیم سیفی، پیش نواز ایڈ وکیٹ،ظہیر انور،جمیل احمد،سمیع خان،ایاز احمد خاں، بیگم شہناز احمد،عر فانی بیگم،انجینئر رفعت جمالی،تنظیر احمد، ڈا کٹر ارشاد، محمد ارشاد، شوبی را نی،کمال الدین راعین،ایڈوکیٹ محمد شعیب،سمیع اللہ الائی ، شوکت احمد داس ،طلبا و طالبات اور کثیر تعداد میں عمائدین شہر نے شر کت کی۔
اُردو کا المیہ : نغمہ ناز مکتومیؔ URDU KA ALMIA – NAGHMA NAAZ MAKTOOMI
اُردو کا المیہ
نغمہ ناز مکتومیؔ
ایڈیٹر ’’ عالمی پرواز ‘‘
ایڈیٹر ’’ اُردو آپریشن ‘‘
عصرِحاضر کا سب سے بڑا المیہ اُردو کے ساتھ بے اعتنائی ، بے توجہی اور بے التفاتی ہے۔جو محتاجِ بیان نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ناقابلِ تلافی جُرم ہے ارباب اُردوسے لے کر اُردو کے مفکّر ، دانش ور ، حکمراں تمام لوگوں سے اس سمت بے توجہی ہوتی رہی ہے۔ اس پر بھی بس نہیں ہے بلکہ ہمارے جگر گوش نئی تہذیب کے دلدادہ HYPOCRIT نوجوان انگریزی پڑھ کر اُردو اور اُردو والوں کو کمتر نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دراصل وہ خود ہی احساس کمتری کے شکار ہیں اور وہ اپنی مادری زُبان کے ساتھ غدّاری کر رہے ہیں۔ کاش اُن کو انگریزی زُبان پر بھی عبور حاصل ہوتا۔کسی زُبان کو سیکھنا جُرم نہیں ہے بلکہ یہ ایک اچھی علامت ہے ، مگر اپنی تہذیب اور تمدن کو کمتر سمجھنا اور نقالی کرنا یہ ایک بڑی حماقت ہے،خصوصی ہم جس ملک میں رہتے ہیں۔ ہندوستان میں اُردو دم توڑ رہی ہے مظلوم ، مجبور اور بے بس نظر آتی ہے۔آج تو ہم خود ہی اس کی قبر کھودرہے ہیں۔ اب تو یہ ہمارے گھروں سے بھی رخصت ہو رہی ہے جس کے ذمّے دار ہم سب اردو والے ہیں جو اس عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ جن کی زُبان ٹھہری، جس نے گنگا جمنی تہذیب کاانمٹ نقوش قائم کیا اورجس کا نعرہ انقلاب تھا۔آج اُسی کے حلق میں اُس کی آواز پھنس کر رہ گئی ہے۔ ستم تو یہ ہے کہ ہم اُس کے حلقوم پر آخری چھُری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ یہ اپنے حقیقی وارثوں کے یہاں زندہ ہو رہی ہے۔آج مدرسوں، جماعتوں اور خانقاہوں میں اس کی نشودنما ہو رہی ہے۔ دراصل اس کے آخری وارث مدرسے والے ہی ہیں اور اب یہ وہیں لوٹ رہی ہے۔ بقول کلیم عاجز صاحب کے……
ہم کو اب یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں۔ فلم والے اور کچھ ادیبوں نے اس کی آبرو بچائی تھی اُسی زمانے میں ایک سیلاب آیا تھا جس کی وجہ ہے اس کے جانشیں کہیں کہیں دکھائی دیتے ہیں۔ اِللہ ماشا اللہ ورنہ آج اُردو کو سب سے زیادہ نقصان اُردو کی روٹی کھانے والوں سے ہی ہے۔ یہ اُردو کا سب سے بڑا المیہ ہے جو ناقابلِ بیان ہے۔ ہماری گذارش قوم کے بہی خاہوں اور اسکالروں سے ہے کہ اس وقت اُردو کی بقا ء کے لئے جدو جہد نہیں کریں گے تو ایسا نہ ہو کہ اُردو والوں کی زُبان تراش لی جائے اور آنے والی نسلیں گونگی اور بہری ہو جائیں۔
مخلوط خلط ملط تعلیم نے ہم کو یہاں تک پہنچا دیا ہے یہ ایک بڑی سازش ہے کہ تاریخ میں ہماری شناخت بھی نہ قائم رہ سکی اور ہماری تہذیب اور تمدن کلچر اور زُبان سے ہم کوسوں دور ہو گئے اور وقت نے اُردو کے ساتھ ایک عظیم سانحہ کی طرف ہم سب کو ڈھکیل دیا ہے کہ اب ہم رو ہی سکتے ہیں۔
تم سے جُدا ہوئے تو رویا کریں گے ہم
ایک دوسرے کی یاد میں نہ سویا کریں گے ہم
قتیل شفائی
اُردو صرف زُبان ہی نہیں ہے بلکہ ایک مکمل تہذیب ہے جس کے نطفے سے آئندہ کئی زُبانیں پیدا ہوں گی۔ بقول رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری کے۔
فورٹ ویلیم کالج اور آکسفوڈ میں یہ آج بھی پڑھائی جا رہی ہے، اور اُردو کے وسیع امکانات ہیں لیکن آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اُردو کے ساتھ ہم خود نا انصافی کر رہے ہیں۔ اور یہ بات دل نشیں کر لیں اردو کی بقاء کے لئے ہم کو پورے آب و تاب کے ساتھ جدو جہد کرنا ہے۔میں آپ لوگوں سے یہ التجاء کررہی ہوں اور ناگواری کے لئے معافی کی خواشتگار ہوں۔پھر لکھوں گی نرم گرم سرد تلخ و شیریں……….
****
نغمہ ناز مکتومیؔ
مد رس ہوم پبلک اسکول عصری اور دینی تعلیم کا مرکز
مد رس ہوم پبلک اسکول عصری اور دینی تعلیم کا مرکز۔
جمشید پور ( صبیحہ شاکر) : موجودہ دور میں تعلیم کی اہمیت اور افادیت پر اکثر باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ وہیں انگریزی تعلیم کے کچھ مضر اثرات کا ذکر بھی لازمی ہے۔ ایسے ہی ماحول میں مسلم اقلیتی طبقہ کے لئے معیاری تعلیمی ادارہ بنانا اور اسکو اچھے ڈھنگ سے چلانا کوئی آسان کام بھی نہیں ہے۔کیونکہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ عوامی فلاحی کاز شروع کرنے والا ایک قدم بڑھانے سے قبل ہی ذاتی نفع و نقصان کا حساب لگا نے لگتاہے اور بڑے بڑے منصوبے بنتے ہی پانی کے بلبلے کی طرح مٹ جاتے ہیں۔ ایسے ہی ماحول میں خاموشی سے ایک شخص سعودی عرب سے چودہ برسوں کے بعد ملازمت ترک کر کے آتا ہے اور اپنی تمام تر جمع پونجی کو اپنی والدہ محترمہ کے نام:
Mother Rabia Educational & Charitable Trust کو وقف کرکے جمشید پور کے اہل علم اور دانشوروں کے باہم مشوروں اور مشترکہ کوششوں کے نتیجہ میں 2مارچ1997 ء Mother’s Home Public School کا قیام عمل میں آیا۔کل تیس بچوں سے اس اسکول کی شروعات کی گئی اب ماشاء اللہ پانچ سو سے زائد طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔
ان دنوں ’’ مدرس ہوم پبلک اسکول ‘‘ جمشیدپور کا واحد مسلم اقلیتی اسکول ہے جہاں عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے سولہ برسوں سے تعلیمی خدمت میں پیش پیش ہے۔CBSE Pattern پر تعلیم دیجاتی ہے۔ جہاں کمپیوٹر لازمی سبجیکٹ ہے اور سی ڈی پروجیکٹر کے استعمال کے ساتھ ساتھ اسلامی اسٹڈیز اور اُردو ایک ایک سبجیکٹ کے طور پر درجہ ہشتم تک پڑھائی جاتی ہے۔گذشتہ چھہ برسوں سے انگریزی میڈیم سےJAC میٹرک بورڈ میں یہاں کے طلباء100% ریزلٹ کر رہے ہیں۔ اسلامی تعلیم و روایات کو قائم رکھتے ہوئےStd.IV سے ہی لڑکیوں کے لئے بالکل علیحدہ کلاسیز کا نظم کیا جاتا ہے۔ رمضان کے دنوں میں جماعت سے ظہر کی نماز پڑھائی جاتی ہے۔ لڑکیوں اور استانیوں کے لئے نماز گاہ کابھی نظم کیا گیا ہے۔ اسکول کے بانی و ڈائرکٹر ممتاز شارق نے بتایا کہ کچھ کمرے اور بن جاتے ہیں تو لڑکیوں کے لئے +2تک بالکل علیحدہ کلاسیز کا ارادہ ہے۔ کیوں کہ مخلوط نظام تعلیم سماج کے لئے مضر ہے۔ اس سلسلے میں مولانا آزاد ایڈوکیشن فاونڈیشن ، دلی سے بھی ربطہ کیا گیا ہے۔
ایک رہائشی اسکول کے لئے جمشیدپور سے تقریباً 57 کیلومیٹر کی دوری پر رانچی ٹاٹا روڈ NH-33( رڈ گاوءں، تماڑ) میں تین ایکڑ زمین کی رجسٹری دو سال قبل ہوچکی ہے۔ وہاں ا بھی فی الحال ایک پرانی عمارت میں نرسری سے درجہ پنجم تک کی پڑھائی ہو رہی ہے۔ جمشیدپور اسکول کے طلباء و طالبات شہر و بیرون شہر کے اچھے اچھے کالجوں میں زیر تعلیم ہیں۔اس کے علاوہ اس اسکول سے فارغ طلباء میں سے دس ایسے ہیں جو انجینئرینگ کے اخری سال میں ہیں۔ اس اسکول کے مشاورتی بورڈ میں خاص کر ڈاکٹر محمود عالم ((FRCS ڈاکٹر محمد زکریہ ( پرنسپل کریم سٹی کالج) ، پروفیسر سید رضوان الحق( رضواں واسطیّؔ ) ،ڈاکٹر محمدساغر خان( سابق صدر شعبہ اردو جمشیدپور ورکرس کالج) حسن امام ملک( ٹاٹا اسپورٹس) اور الحاج سلطان احمدوغیرہم بھی شامل ہیں۔
ایک شخص تمام تر سیاسی مفاد سے دور رہ کر اورمسلکی تنازعوں سے اپنے دامن کو بچاتے ہوئے مسلم اقلیتی بچوں کو کم خرچ میں بہتر اور میعاری تعلیمی مہیا کرانے میں سرگرم عمل ہے تو کیا ہمارے مسلم رہنماؤں اور قوم و ملت کا درد رکھنے والے ، اہل علم، دانشوروں اور صاحب حیثیت افراد کا فرض نہیں بنتا ہے کہ اس ادارہ میں جو کمی رہ گئی ہے اور جس چیز کی ضرورت ہے، اپنے سیاسی اثر رسوخ سے اس اسکول کو ایک مثالی اور میعاری ادارہ بنانے میں تعاون کریں۔ اسکول کے ویب سائٹwww.mothershomeschool.com پر جا سکتے ہیں اور ای میلmhpschool@gmail.com پربھی رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔
***
جشن سر سید تقریبات کا فیض عام انٹر کالج، میرٹھ میں شاندار آ غاز
جشن سر سید تقریبات کا فیض عام انٹر کالج، میرٹھ میں شاندار آ غاز
(پریس ریلیز)
میرٹھ8؍ اکتو بر2013ء
شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی اور سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی، میرٹھ کے باہمی اشتراک سے منعقد ہو رہے ہفت روزہ جشن سر سید تقریبات کا آج فیض عام انٹر کالج ،میرٹھ میں شہر قاضی پروفیسر زین الساجدین کی سرپرستی میں شاندار آغاز ہوا۔جس کی صدارت کے فرائض ڈاکٹرمحمد یو سف قریشی،ایڈوکیٹ نے انجام دیے۔مہمان خصوصی کے بطور نواب کو کب حمید(ایم ایل اے وسابق وزیر حکومت اتر پردیش) اور مہمان ذی وقار کے طور پر ڈاکٹر معراج الدین (سابق وزیر ،حکومت اتر پردیش )شریک ہوئے۔جب کہ مقررین کے طور پر پر بھات کمار را ئے، قاری شفیق الرحمن قاسمی، رو حامہ احمد، ذیشان احمد خان نے شرکت کی۔ اور نظا مت کے فرا ئض آفاق احمد خاں نے انجام دیے اور شکریے کی رسم ڈاکٹر اسلم صدیقی نے ادا کی۔
واضح ہوکہ ہر سال شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی سر سید ایجو کیشنل سوسائٹی،میرٹھ کے اشتراک سے محسن قوم، عظیم تعلیمی رہنما سر سید احمد خاں کی یو م پیدا ئش کے موقع پر ہفت روزہ ’’ جشن سر سید تقریبات‘‘کا اہتمام کرتا ہے۔جس کا مقصد ہے کہ اسکول، کالجزاور یونیورسٹیوں میں پڑھنے وا لے طلبا و طالبات کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سر سید احمد خاں کی زندگی،ان کی خدمات اور ان کے کاموں سے روشناس کرا یا جاسکے ۔اس کے تحت وہ سر سید لیکچر سیریز اور سر سید کوئز کا اہتمام کرتاہے۔ جس میں شہر کے سر کردہ دانشور اور ما ہر تعلیم حضرات مختلف اسکولوں اور کالجز میں جا کر سرسید احمد خاں کی حیات اور ان کے کار ناموں پر لیکچر دیتے ہیں ساتھ ہی کوئز مقابلے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اسی سلسلے کے تحت ہفت روزہ جشن سر سید تقریبات کا افتتاح دو پہر 1:00؍ بجے فیض عام انٹر کالج میں ہوا۔
تقریب کا آ غاز محمد شاکر نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کو کب حمید نے کہا کہ سر سید مختلف الجہات کے مالک تھے۔ انہوں نے زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں کارنامے انجام دیے۔انہیں سچا خراج یہی ہو گا کہ ان کے نقش قدم پر چلا جا ئے اور ان کے مشن یعنی تعلیم کو پھیلا ئے۔طالب زیدی نے سر سید کی تربیت میں ان کی والدہ کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کی تربیت کے لیے ان کی ماؤں میں سر سید کی والدہ کے کردار کو زندہ کرنا ہوگا۔قاری شفیق الرحمن قاسمی نے کہا کہ علم اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے اور اس صفت کو جو بھی اپنا ئے گا یقیناًاس کا فیض ہمیشہ جا ری رہے گا۔ سر سید احمد خاں نے علم کے فیضان کی تحریک کو جاری کر کے نسلوں کو زندگی دینے کا کار نامہ انجام دیا۔پر بھات کمار را ئے نے کہا کہ سر سید ہندوستان میں جدید تعلیم کے بانی تھے۔وہ ایسے وقت میں منظر عام پر آئے جب اہل وطن کو سہارا اور تعلیم کی اشد ضرورت تھی۔ان کی جلائی علم کی شمع سے آج پوری دنیا فیض یاب ہو رہی ہے۔ذیشان خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ سر سید احمد خاں نے تعلیمی دانش گاہ قائم کر کے ہندوستان کی ترقی اور قوم کو تعلیم یافتہ بنانے کی را ہ ہموار کی۔رو حامہ احمد نے کہا کہ ہندوستان کو مزید بلندیوں تک لے جانے کے لیے آج سر سید جیسے ماہرین تعلیم کے نظریات کو ہر فرد تک پہنچا نا ضروری ہے۔
ڈاکٹرا سلم جمشید پو ری نے کہا کہ سر سید ایسے زمانے میں سامنے آئے جب قوم بے سہارا،ناتواں،کمزور اور تعلیم کے مقصد سے بے بہرہ تھی۔ سر سید احمد خاں نے تعلیم اور خاص طور پر جدید تعلیم کی وکالت اور ادارہ قائم کر کے یہ ثابت کردیا کہ وہ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک تحریک تھے۔ ہم سب کو مل کر سر سید کے مشن کو عام کرنا ہوگا۔ برے وقت میں بڑا آدمی بننا نہایت مشکل عمل ہو تا ہے لیکن سر سید نے انتہا ئی نا موافقت حالات میں یہ مشکل کام انجام دیا اور آج ان کی محنتوں کا ثمرہ قوم کو حاصل ہو رہا ہے۔
آفاق احمد خاں نے نظامت کے فرائض انجام دیتے اور معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہو ئے ان تقریبات کے مقاصد پر رو شنی ڈا لی اور کہا کہ ایسی تقریبات سے طلبا میں نہ صرف معلومات کا اضا فہ ہو تا ہے بلکہ ان میں اتحاد و یگانگت اور ملک و قوم سے محبت اور وفاداری کا جذبہ بھی پیدا ہو تا ہے۔انہوں نے سبھی طالب علموں اور سامعین سے کل 9؍ اکتوبر سے حمیدیہ گرلز ہائی اسکول،خیر نگر، میرٹھ سے شروع ہورہی سر سید لیکچر سیریز اور کوئز میں بھی زیادہ سے زیا دہ شرکت کو یقینی بنانے کی درخواست کی۔
اس مو قع پر ڈاکٹر فرحت خاتون، قاضی عقیل احمد، رو حامہ احمد،ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹر شاداب علیم سمیع اللہ الائی، شوکت احمد داس اور طلبا و طالبات نے شر کت کی۔
آج مسلمانوں کو تحفظ،تعلیم اور رو زگار کی اشد ضرورت ہے: سید فیصل علی
آج مسلمانوں کو تحفظ،تعلیم اور رو زگار کی اشد ضرورت ہے: سید فیصل علی
شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی ،میرٹھ کے 11؍ویں یوم تاسیس پر تین کتابوں کا اجراء اور شام افسانہ کا انعقاد
(پریس ریلیز)
میرٹھ2؍ اکتو بر2013ء
شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی ،میرٹھ نے بڑے تزک و احتشام سے اپنا11؍واں یوم تاسیس منایا۔ اس مو قع پر شعبۂ اردو نے بعنوان’’ایک شام کہانی کے نام‘‘سے جہاں ہندوستان کے مختلف افسانہ نگاروں کی محفل آراستہ کی وہیں تین اہم کتابوں کے اجراء کا بھی اہتمام کیا۔
پروگرام کی صدارت صدر شعبۂ اردو، ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری نے کی،مہمان خصوصی کے طور پر یونیورسٹی کے نائب شیخ الجامعہ پرو فیسر جے کے پنڈیر نے شرکت کی ،مہمان ذی وقار کے بطور سید فیصل علی، گروپ ہیڈ راشٹریہ سہارا اردو و عالمی اردو نیوز چینل ،شریک ہو ئے اور مہمان مکرم کے بطور مولاناسید محمد اطہر کاظمی، ممبر عربی و فارسی بورڈ، اتر پردیش نے شرکت کی۔جب کہ نظا مت کے فرائض ڈا کٹر آصف علی اور مہمانوں کا استقبال ڈاکٹر شاداب علیم نے اداکیا۔
پروگرام کا آ غاز قاری محمد خالد کی تلا وت کلام پاک سے ہوا۔مہمانوں نے مل کر شمع رو شن کی ۔بعد ازاں سعید احمد سہارنپو ری نے انور کی غزل پیش کر سامعین کو مسحور کردیا ۔اس کے بعد ڈاکٹر شاداب علیم نے شعبۂ اردو کے 11؍ سالہ سفر پر تفصیلی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ شعبہ نے بہت کم وقت میں قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت قائم کی اور یہ شعبہ کی بڑی کامیابی ہے۔شعبہ سے فارغ طلباقومی و بین الاقوامی سطح پر تعلیمی و صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔شعبہ نہ صرف تعلیمی بلکہ تہذیبی وثقافتی،قومی یکجہتی و حب الوطنی پر مبنی پروگرام بھی منعقد کرتا رہتا ہے جس سے طالب علموں کی ذہنی نشوونما تو ہوتی ہی ہے ساتھ ہی ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو بھی تقویت حاصل ہوتی ہے۔ پروگرام دوحصوں پر مشتمل تھا ۔پہلے حصے میں ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ (شعبۂ اردو، جی بی یو، نوئیڈا) کی کتاب’’ قرۃ العین حیدر کے نما ئندہ افسانے‘‘،سراج فا روقی(ممبئی) کا پہلا افسانوی مجمو عہ’’ تم اب بھی‘‘ اور شعبۂ اردو سے گذشتہ سال اسی موضوع پر ایم فل کر چکے سید ساجد علی(غازی آ باد) کی کتاب ’’اردو صحا فت : سہارا گروپ کے تعلق سے‘‘ کا اجراء عمل میں آیا۔اس مو قع پر سید فیصل علی نے کہا کہ شعبۂ اردو نے سہارا گروپ کی اردو اشاعتوں پر تحقیقی کام کرا کر قابل تعریف کام کیا ہے اور آج کے دور میں اس طرح کے تحقیقی کاموں کی الگ اہمیت ہے کیو نکہ آج مسلمانوں کو تحفظ،تعلیم اور رو زگار کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے فرقہ وارانہ تشدد اور اخبارات کی ذمہ داری پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں ضروری ہوتا ہے کہ کچھ باتوں کو نہ چھاپا جائے اور راشٹریہ سہارا نے ایسا ہی کیا۔ اردو اخبارات سماج کی سچائیوں کو سامنے لانے میں کسی زبان کے اخبار سے پیچھے نہیں ہیں۔ پرو فیسر جے کے پنڈیر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ تحقیق کا معیار روز بروز گرتا جا رہا ہے اور ایسے ما حول میں اگر کوئی طالب علم معیاری تحقیقی کام کرتا ہے تو یہ نہ صرف شعبہ کے لیے بلکہ یو نیورسٹی کے لیے بھی فخر کی بات ہے۔
ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ کی کتاب پر اظہار خیال کرتے ہوئے مولاناسید محمد اطہر کاظمی،میرٹھ نے کہاکہ’’ یہ کتاب قرۃ العین حیدر کے افسانوں کا عمدہ انتخاب ہے۔سونے پہ سہاگہ یہ کہ ان افسانوں کے تجزیے بھی عمدہ ہیں۔ یہ تجزیے عام فہم اور سہل زبان میں ہیں۔ یہ کتاب قرۃ العین حیدر شناسی میں بہت جلد اپنا مقام بنا لے گی۔ محترم خورشید حیات، چھتیس گڑھ نے بھی اس کتاب پر اظہار خیال کیا۔
سراج فاروقی کی کتاب’’تم اب بھی‘‘ پر اظہار خیال کرتے ہوئے ممبئی سے تشریف لائے محترم لطیف ثانی نے کہاکہ ’’سراج کی کہانیاں آج کے عہد کا نوحہ ہیں۔انہوں نے سماج کے رستے ہو ئے زخموں کو افسانوں کے قالب میں ڈھالا ہے ۔ وہ اپنے افسانوں کے ذریعہ انسانی زندگی کی سچائی اور حقیقت کو سامنے لانے کا کام کیا ہے ۔ان کے کئی افسانے ماں ،وفا کا بدلہ ،گہری چال، تم اب بھی ،آتش نمرود،ایک کربلا اوراس دور کے عمدہ افسانوی مرقع ہیں۔محمدعبد البا ری،ممبئی نے بھی اس کتاب پر تبصرہ کیا اور سا جد علی کی کتاب پر ڈا کٹر آصف علی نے تجزیہ پیش کرتے ہو ئے کہا کہ کتابیں آج کے ڈیجیٹل اور ای لائبریری کے زمانے میں بھی نہایت اہمیت کی حا مل ہیں۔مختلف میدا نوں کے اساتذہ اور طلبا میں استعداد پیدا کر نے کے لیے کتابیں ہی معاون ہوتی ہیں اور اگر کتابیں اپنے مو جودہ وقت کے تقا ضوں کو پورا کرتی ہوں تو ان کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
اس مو قع پر صدارتی خطبہ دیتے ہو ئے ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری نے کہا کہ یوم تاسیس در اصل اپنا احتساب کرنے کا دن ہو تا ہے کہ ہم نے اب تک کیا کام کیے اور کون سے کام اب تک نہیں کر پائے۔انہوں نے تینوں صا حبانِ کتب کو مبارک باد دی۔ خصوصاً ساجد علی کی کتاب کے تعلق سے کہا کہ یہ کتاب اردو میں اپنی نو عیت کی پہلی کتاب ہے جس میں کسی کار پوریٹ گھرا نے کی اردو خدمات کا جائزہ لیا گیا۔
’’ ایک شام کہا نی کے نام ‘‘سے پرو گرام کا دوسرا حصہ شام بجے شروع ہوا۔ جس کی صدا رت معروف ادیب و شاعر طالب زیدی نے فرمائی۔مہمان خصوصی کے طور پر لیاقت علی نے شرکت کی اور نظا مت کے فرائض ڈاکٹر شاداب علیم نے انجام دیے۔اس افسانوی محفل میں مشرف عالم ذوقی(دہلی)نے’’ہونے دو‘‘،خورشید حیات(چھتیس گڑھ) نے’’عورت،سمندر، سڑک‘‘،اشتیاق سعید(ممبئی) نے ’’غیرت‘‘، سراج فاروقی(ممبئی)نے’’ترشول‘‘ اور ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری نے شہرۂ آفاق افسانہ’’بدلتا ہے رنگ آسماں…‘‘ کی قرأت کی۔ بعد ازاں پٹنہ سے تشریف لائے معروف افسانہ نگار مشتاق احمد نوری نے کہانیوں پر تجزیہ کرتے ہو ئے کہا کہ اس طرح کی محفلیں ادب کی آبیاری کرتی ہیں۔اسلم جمشید پو ری کا افسانہ’’بدلتا ہے رنگ آسماں….‘‘اس عہد کا ایک خوبصورت افسا نہ ہے جس میں افسانہ نگار نے گاؤں کے سیدھے سادھے لوگوں کی زندگی کو فن کاری سے پیش کیا ہے۔ یہ افسا نہ بے قصور مسلمانوں کو جیل میں بند کرنے کے پولس کے رویے کے خلاف احتجاج بھی ہے۔
پرو گرام میں ڈاکٹر ضیاء عالم زیدی، ڈا کٹر ہما نسیم،ڈاکٹر امرین، ڈا کٹر فرحت خا تون،ڈاکٹر فرقان سردھنوی،سلیم سیفی، ذیشان خان،سمیع اللہ الائی، شوکت احمد داس،امیر احمد،تابش فرید، آفاق احمد خاں، انجینئر رفعت جمالی، اکرام بالیان، ماسٹر حامد علی،صبیحہ بانو، آصف علی،ماسٹر مظہر الاسلام،سید آصف علی(سی اے)،علاء الدین،فیروز خان،فرح ناز، شیبا مختار، چاندنی عباسی،عشرت یعقوب،مسرورا، شوبی رانی،اسما پروین،شنا ور اسلم،ساجد علی،مختار خاں اور کثیر تعداد میں طلبا و طالبات نے شرکت کی۔