Skip to main content

Aalamiparwaz

ملک کے تمام تر سیاسی اور سماجی کاموں میں گاندھی کے اصولوں پر چلنا ہی صحیح معنے میں مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت ہے۔ ممتاز شارق

     ملک کے تمام تر سیاسی اور سماجی کاموں میں گاندھی کے  اصولوں پر چلنا ہی صحیح معنے میں مہاتما گاندھی کو خراج  عقیدت ہے۔

  ممتاز شارق

                ’’ ہر سیاسی مکتب فکر ، سماجی تنظیمیں ، فلاحی ادارے ، اعلیٰ عہدہ دار اور سرکاری و غیر سرکاری ملاز مین کی زبانوں پر گاندھی جی کا نام صرف ایک فیشن اور رسم کے طور پر ہوتاہے ۔ حقیقتاً دور دور تک انکے اصولوں پر کوئی عمل کرتا نظر نہیں آتا۔ ملک کے تمام تر سیاسی اور سماجی فیصلوں پر گاندھی کے اصولوں کو فوقیت دینی چاہئے اور تمام تر سیاسی اور سماجی کاموں میں گاندھی کے اصولوں پر چلنا ہی صحیح معنے میں مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت ہے۔گاندھی جی نے کہا تھا ’’ ہندو اور مسلمان ہماری دو آنکھیں ہیں۔‘‘ لیکن ملک میں فرقہ وارانہ فساد کا سلسلہ آزادی کے قبل سے اب تک جاری ہے۔ملک سے محبت اور خدمت کا دم بھرنے والے رہنما بے شرمی کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔ بے قصور نوجوانوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلا جارہا ہے۔ گاندھی کے اس دیش میں انکے اصولوں کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور ہم رسما گاندھی جینتی منا تے ہیں۔۔‘‘ یہ باتیں مدرس ہوم پبلک اسکول کے ڈائریکٹرممتا ز شارق نے گاندھی جینتی کے موقع پر کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک سچائی اور آہنسا پر ہم سبھی عمل نہیں کرتے اس وقت تک گاندھی کی قربانیوں کا قرض ہم ہندوستانیوں پر باقی رہے گا۔ اس موقع پر اسکولی بچوں نے ’’ حصول آزادی میں مہاتماگاندھی کا کردار ‘‘ کے موضوع پر مضمون نویسی اور تقاریر میں حصّہ لیا۔ لیکن طالبات نے بازی ماری اور تقریر میں دسویں درجہ کی طالبہ زیبا خانم اول مقام پر رہی جبکہ دوسرے اور تیسرے مقام پر آٹھویں درجہ کی عظمی ارم اور یاسمین پروین اور مضون نویسی میں نوویں درجہ کی مسکان سمّی، دورے اور تیسرے مقام پر سُریا ضیاء اور صبیحہ صبا رہیں۔ اس تقریب میں کامیاب ہونے والی تمام طالبات کو اسکول کی پرنسپل محترمہ ڈی۔ آر۔ داس نے اسناد اور انعامات سے نوازتے ہوئے بچوں کو اچھی باتیں سننے ، کہنے اور اس پر عمل کرنیکے ساتھ ساتھ ایمانداری سے اپنی پڑھائی کرنے کی نصیحت کے ساتھ تمام اساتذہ، اسکول انتظامیہ اور بچوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔ اس موقع پر خاص کر اساتذہ میں اجئے گوسوامی(اجئے مہتاب) ، تسلیم انصاری ، کنچن سنگھ، فرحت جہاں، انجم آرا، ہلالہ فردوس، بینا جھا، شبنم خانم ، صابرہ مشتاق و غیرہ نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں بہت اہم رول ادا کیا۔

Mrs. Deepa Rani Das
Principal
Mother’s Home Publiuc School

ڈیمیج کنٹرول : متاثرین سے ہمدردی یا ووٹ بینک کی درستگی : ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

  ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

  ڈیمیج کنٹرول : متاثرین سے ہمدردی یا ووٹ بینک کی درستگی

                     یہ زبان بھی کیا عجیب شئے ہے؟ الفاظ، وقت حا لات اور استعمال سے کیسے کیسے معنی دیتے ہیں۔ انگریزی سے دور دور رہنے وا لے اور ہندی اور اردو کا دم بھرنے وا لے بھی انگریزی کے بعض الفاظ کا دھڑ لے سے استعمال کر نے سے خود کو روک نہیں پاتے ہیں۔ سو شل انجینئرنگ سے تو آپ سب وا قف ہو ہی گئے ہو ں گے۔ اب ڈیمیج کنٹرول کا استعمال ہندی اور اردو رو زناموں میں تیزی سے ہو رہا ہے۔ مظفر نگر فساد کے بارے میں قیا فہ شناس بھی حیران ہیں کہ ایسا تو نہیں سو چا تھا۔ مجھے لگتا ہے منصو بہ بنا نے وا لوں کے بھی وہم و گمان میں نہیں ہو گا کہ اونٹ اس کروٹ بیٹھ جا ئے گا۔
بعض لو گوں کا ماننا ہے کہ چو را سی پریکرما کی طرح مظفر نگر فساد بھی بی جے پی اور سماج وا دی کا ایک منصو بہ بند ڈرامہ تھا۔کچھ لوگوں نے اسے’’فکسڈ‘‘ بھی قرار دیا۔ کچھ نے اسے دو پہلو انوں کی’نو را کشتی‘ سے بھی تعبیر کیا۔۔ چو را سی پریکرما اور مظفر نگر فساد کے ابتدا ئی کے دنوں کے حا لات سے قیاس کرنے وا لوں کی بات میں کچھ دم ضرور نظر آرہا تھا۔ لیکن رو ز بروز بدلتے منظر نامے نے مظفر نگر فساد کی تصویر کو خا صا تبدیل کر کے رکھ دیا ۔ فساد کے متا ثرین کے آ نسو، آہیں، بے دری، بھوک، پیاس، خوف، دہشت وغیرہ نے معمولی فساد سمجھ رہے لوگوں کی آنکھیں کھول کر رکھ دیں۔ اب جو حقیقتیں سامنے آنے لگیں تو پتہ چلا کہ قتلِ عام ہوا ہے۔گھروں اور دکانوں میں آ تش زنی کی گئی ہے۔ عورتوں اور لڑکیوں کی عصمتیں بھی تار تار ہو ئی ہیں اور یہ سب حفاظت کے ذمہ داروں کے سا منے، ان کی شہ اور ان کی شمو لیت کے سا تھ ہوا۔معاملات کی نزاکت اور شدت نے سب کچھ تبدیل کردیا۔ گجرات کا منظر نامہ، نظروں میں زندہ ہو گیا۔ سماج وا دی پارٹی کی آ نکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اتر پردیش کو ہر طرح محفوظ رکھنے کا وعدہ کرنے وا لی سر کار اتنی ناکام کیسے ہو گئی۔ مانا نفرت کی آگ پھیلانے وا لے مخصوص جماعتوں کے تھے، ان کی نشاندہی بھی کی گئی لیکن کوئی بتائے کہ اس قدر بڑے پیمانے پر تبا ہی کیا ایک دو دن میں برپا ہو تی ہے۔ یہ تو مہینوں کی تیاری کا پیش خیمہ ہے۔ ایسے میں سر کاری انتظا میہ، پولس آ فیسران کیا کررہے تھے؟ ملزمین کو قابو میں کیوں نہیں کیا گیا؟ خدا کا شکر ہے کہ ڈی جی پی، اتر پردیش نے پولس افسران کی خامی کو قبول تو کیا لیکن وہ کون سے افسران تھے؟ ان کے خلاف کارروا ئی جلد ہو نی چا ہیے۔ مقدمے قائم ہوں اور ان کی گرفتاریاں ہونی چا ہییں۔ اس سے عوام میں اعتماد بحال ہوگا۔ اس وقت متاثرین کا اعتماد بحال کرنا اولین ضرورت ہے۔
سماجی ڈیمیج :
مظفر نگر میں تقریباً رو زانہ بڑے بڑے سیا سی رہنما ؤں کی آمد و رفت کا سلسلہ جا ری ہے۔ حکومت کے نما ئندہ سیا سی رہنما، بے گھروں کو بسا ئے جانے کا دلا سہ دے رہے ہیں۔ جلد از جلد انہیں اپنے گاؤں میں آباد کیا جائے یا پھر الگ سے بستیاں بسائی جا ئیں۔ پو را منصو بہ منظر عام پر آنا چا ہیے اور ایک ڈیڈ لائن بھی مقرر ہونی چاہیے۔ سر کار اس کا اعلان کرے کہ فلاں تاریخ کے بعد کوئی کیمپ میں نہیں رہے گا۔کیا کیمپوں کو ابھی اس لیے بحال رکھا جارہا ہے کہ آ قا ؤں کو آ نے پر کیا دکھائیں گے۔ سر کار کی دیکھ ریکھ میں ہندو۔ مسلم اور پو لس کے نو جوانوں پر مشتمل کمیٹیاں بنیں اور پناہ گزینوں کو آ باد کر نے کا کام تیزی سے ہو۔ معا وضہ فو راً دیا جائے، جو لوگ بے رو ز گار ہو ئے ہیں، ان کو روزگار کے لیے رقم مہیا کرا ئی جائے۔ اس طرح سماجی سطح پر ہو نے وا لے ڈیمیج کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس میں سر کار، دو نوں مذا ہب کی رفا حی تنظیموں کا سہا را بھی لے سکتی ہے۔پھر ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بھی کچھ ذمہ دا ری سو نپی جا ئے۔ انہیں بھی ایک ایک گا ؤں سپرد کیے جائیں۔ گا ؤں میں چھوٹی چھوٹی چو کیاں بنا ئی جائیں۔ شا ہرا ہوں سے گا ؤں کو جوڑنے والی سڑکوں کو درست کیا جائے اور پیٹرو لنگ پو لس کی گشت بڑھا ئی جائے۔ آنے وا لے ایام میں بقر عید، دسہرہ اور دیوالی جیسے تہوار کی آمد آ مد ہے۔ ان سے پہلے آپسی نفرت کو بھا ئی چارے میں بدلنا ہو گا تا کہ ان تہوا روں کو ہم پھر سے مل کر منائیں۔ دلوں میں نفرت کا شا ئبہ تک نہ رہے۔ محبت اور اتحاد قائم رکھنے وا لے تہذیبی و ثقا فتی پرو گرام منعقد کرا ئے جائیں۔ حالات معمول پر آئیں گے۔ ہم ایک دوسرے سے مل کر رہیں گے۔ یہ ہما ری سرشت میں شامل ہے۔ ہم ہندوستانی مختلف ہو تے ہوئے بھی متحد ہیں۔یہی ہماری شناخت ہے اور اسے قائم رکھنا ہی ہماری شان ہے اور وقت کا تقاضا بھی۔
مظفر نگر فساد پر سیا ست :
فساد ہوا، خونی ہو لی کھیلی گئی۔ دکانوں کو نذر آتش کیا گیا۔ تبا ہی کی نئی داستان رقم کی گئی۔بچے کھچے لوگوں نے ادھر اُدھر بھاگ کر جان بچا ئی۔ متعدد مدارس میں لوگوں نے قیام کیا۔ عورتیں، بچے، بوڑھے، مریض، حاملائیں،چیختے، کراہتے لوگ، ہمیشہ کے لیے جدا ہو جانے وا لوں کے لیے آہ و بکا، علاج کے فقدان میں تڑپتے زخمی__ایک طرف تو یہ سب تھا دوسری طرف بی جے پی اس پورے معاملے کا سیا سی فا ئدہ اٹھانے کے لیے ہر وقت تیار۔ بی جے پی کے بڑے رہنماؤں کا بیان کہ فساد سماج وا دی کا سو چا سمجھا منصو بہ ہے۔ یہی نہیں ایک اسٹنگ آپریشن نے سماج وا دی کے بڑے مسلم لیڈر اعظم خاں کو ہی کٹہرے میں کھڑا کردیا۔ بس پھر کیا تھا بی جے پی کے رہنماؤں نے محمد اعظم خاں کو فساد کا ذمہ دار قرار دے کر ان کی گرفتاری اور ان پر مقدمہ چلا ئے جانے کی مانگ زور و شور سے کی جانے لگی۔ کئی دن اخبارات کے سر ورق پر یہ خبر جلی حرفوں میں شا ئع ہوئی۔ دوسری طرف بی ایس پی کے رہنما ؤں نے بیان دیا کہ یہ بی جے پی اور سماج وا دی کی ملی جلی سا زش ہے۔ بی ایس پی کے ایک ایم پی پر بھی فساد بھڑ کانے کا الزام ہے۔ راشٹریہ لوک دل، جس کی زمین ہی جاٹ ۔مسلم ووٹ ہیں، اس فساد سے بہت زیا دہ متاثر ہیں۔ ان کے رہنما ؤں کا بیان ہے کہ مظفر نگر فساد سماج وادی کا مسلم ووٹوں پر قبضے کا ایک کھیل ہے اور سماج وا دی نے جاٹ۔ مسلم اتحاد کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ کانگریسی رہنماؤں کے بیان آ رہے ہیں کہ یہ بی جے پی کو فا ئدہ پہنچا نے کے لیے سماج وا دی کی چا ل ہے کہ ووٹ کہیں اور نہ جائے۔ صرف بی جے پی اور سماج وا دی میں ہی تقسیم ہو۔ خود سماج وا دی کے کئی لیڈران بیان دے چکے ہیں کہ یہ فا شسٹ طاقتوں کا کھیل ہے۔ ان بیان با زیوں کے درمیان تھوڑی دیر کے لیے یہ سو چیں کہ کس سیاسی جماعت نے حالات کو قابو میں کرنے، متاثرین کی امداد اور انہیں آباد کیے جانے کے لیے کیا کیا تو آپ کو علم ہوگا کہ یہ سب صرف زبان جمع خرچ کررہے ہیں۔ سر کار ہو یا حزب مخالف سب کے چہرے عوام کے سامنے ہیں۔
سیا سی ڈیمیج کنٹرول :
سماجی اعتبار سے تو ڈیمیج کنٹرول کی کوئی خاص کوشش اب تک نظر نہیںآرہی ہے۔ سماجی اور مذہبی تنظیمیں اپنی اپنی سطح پر امداد و تعاون میں لگی ہوئی ہیں۔ سماج وا دی پا رٹی کے تعلق سے شور ہوا کہ اس فساد کا منفی اثر سب سے سے زیا دہ سماج وا دی پر پڑے گا اور ہوا بھی کچھ ایسا ہی کہ باغپت سے سماج وا دی امید وا ر سوم پال شاستری نے سماج وا دی کا دا من چھوڑ دیا جب کہ وہ ایسے قد آور رہنما تھے کہ وہ اجیت سنگھ کو ایک بار شکست بھی دے چکے ہیں دو بارہ بھی ان سے امید کی جاسکتی تھی۔ سماج وا دی نے راتوں رات سوال خاص کے ایم ایل اے حاجی غلام محمد کو امید وار بنا دیا۔ یہی نہیں کئی سال سے پارٹی سے خا رج عمران مسعود کو بھی نہ صرف پا رٹی میں شامل کیا گیا بلکہ ایم پی کے لیے سہا رنپور سے امید وار بنایا۔ سماج وا دی کے اس اقدام سے دو سری جماعتوں کی را توں کی نیندیں حرام ہو گئیں۔غلام محمد مسلمانوں کے علا وہ جا ٹوں، گوجروں اور دوسرے طبقات میں بھی مقبول ہیں۔وہ اجیت سنگھ کو بھی ٹکر دے سکتے ہیں۔ عمران مسعود نو جوا نوں کی بھر پور نمائندگی کرتے ہیں۔ عمران مسعود کو مظفر نگر فساد میں نا راض مسلمانوں کو منانے کی ذمہ داری دی گئی ۔پھر شیو پال یا دو کو بھی سیا سی ڈیمیج کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی طور پر بھیجا گیا ہے۔معاوضہ کا اعلان، آباد کیے جانے کا بھروسہ اور ملزمین کی گرفتاری سے سماج وا دی اپنے نقصان کو پو را کرنے میں لگی ہے۔ اس پورے معا ملے سے محمد اعظم خاں کو الگ رکھا جا رہا ہے۔ شاید سماج وا دی کے اندر کے ایک حلقے کی منشا یہی تھی۔ یہ وہ حلقہ ہے جو اندرونی طور پر محمد اعظم خاں کے خلاف تھا۔ ایسے میں بخا ری صا حب نے تو کھلم کھلا اعظم خاں کی مخا لفت کرتے ہو ئے انہیں پا رٹی سے بر خواست کرنے تک کی مانگ کی۔
مظفر نگر فساد سے زیادہ متا ثر ہو نے وا لی دوسری پا رٹی، را شٹریہ لوک دل ہے۔ اس کی مشکل یہ ہے کہ اس کی سیا ست کی بنیاد جاٹ۔مسلم اتحاد ہی پارہ پارہ ہو گیا ہے۔ اس سے مسلم بھی نا راض ہیں اور جاٹ بھی۔ مسلمانوں کی نا راضگی تو شاید اجیت سنگھ برداشت بھی کر لیں لیکن جاٹ نا را ضگی ان کے سیا سی کیرئیر کا زوال ہی ہو گا۔شاید یہی وجہ ہے کہ اجیت سنگھ نے باغپت میں ڈیمیج کنٹرول کے دوران ہی جاٹ ریزرویشن کا اشا رہ بھی عوام کو دیا۔
بی ایس پی اس پو رے معا ملے میں’ واچ اینڈ ویٹ‘س، کی پا لیسی اپنا رہی ہے۔ اس کے ایک ایم پی کی گرفتاری کا حکم نامہ جا ری ہو گیا ہے اور اب سپریمو کے اشا رے بھی مل گئے ہیں کہ گرفتار ہو جا ؤ۔ گرفتاری کا ایک سیا سی فا ئدہ بھی ہے کہ ہمدردی کی ایک لہر عوام میں سرا یت کر جا تی ہے۔ بی جے پی اسی لہر کو کیش کرنا بھی چا ہتی ہے۔ ان سب سے الگ کانگریس مسلم ووٹوں کو پھر سے اپنا نے کے حربے آزما رہی ہے۔ یہ سب یوں ہی چلتا رہے گا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈیمیج کنٹرول کے پردے میں کیا کیا گل کھلتے ہیں۔ لوگ فساد متا ثرین کے ڈیمیج کو ٹھیک کرتے ہیں یا پھر اپنے سیا سی نقصانات کی بھر پائی اور یہ بھی قابل غور ہے کہ پناہ گزینوں کے کیمپ کب تک اپنے وجود کے ساتھ بد نما دا غوں کے مصداق مغربی اتر پردیش کے دامن پر نظر آئیں گے اور کب ان بیچا روں کو امن و امان، سکون، گھر بار، کارو بار وغیرہ میسر ہوں گے۔
***
Dr. Aslam Jamshedpuri
HOD, Urdu CCS University, Meerut
aslamjamshedpuri@gmail.com.
09456259850

جمعیۃعلماء ہند کے زیر اہتمام ۲۷؍اجتماعی شادیاں منعقد

   جمعیۃعلماء ہند کے زیر اہتمام ۲۷؍اجتماعی شادیاں منعقد

   ہر لڑکی کو جمعیۃ کی طرف سے ۱۰۔۱۰ہزار نقد اور حکومت اترپردیش کی جانب سے ۱۔۱ لاکھ روپئے کا چیک دیا گیا

       مظفرنگر 25ستمبر(پریس ریلیز)

                     جمعیۃعلماء ہند کے زیر اہتمام آج قصبہ شاہپور محلہ قریشیانمیں ان افراد کی 27 لڑکیوں کی اجتماعی شادیاں ہوئی جوامدادی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے نکاح پڑھایا۔
جمعیۃعلماء قصبہ شاہپورکے صدر حافظ محمد عباس نے بتایا کہ ان غریب لوگوں کی لڑکیوں کی شادیاں آج ہوئی ہیں جنہوں نے اپنی بیٹیوں کے نکاح کی تیاریاں مکمل کر رکھی تھیں مگر فسادات میں ان کا گھر بار لٹ گیا اور انہیں گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس لئے جمعیۃعلماء ہند کے ذمہ داران نے ان لوگوں کی بیٹیوں کی شادی کرنے کا فیصلہ کیا جو آج مکمل ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان تمام بچیوں کو ضرورت کا تمام سامان، بیڈ ، برتن ، کپڑے اور دیگر سامان دیا گیا ہے یہ تمام چیزیں مسلمانوں نے جمع کرکے ان لڑکیوں کو دی ہیں۔
اس موقع پر مولانا سید ارشد مدنی نے بھی 10۔10 ہزار روپے ہر لڑکی کو جمعیۃعلماء ہند نے دیے۔ ان کے ساتھ آئے وزیرمملکت آشو ملک نے حکومت کی طرف سے ہر لڑکی کو 1۔1 لاکھ روپے کا چیک سونپا ۔ اس کے علاوہ یہ اعلان بھی کیا گیا کہ کیمپ میں جس عورت کو بچہ پیدا ہوگا اس کو ۲۰۔۲۰ہزار روپئے دئیے جائیں گے۔
مولانا ارشد مدنی نے مرنے والوں کے تئیں ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے دکھ کی گھڑی میں جمعیۃعلماء ہند آپ کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرستوں کے خلاف جمعیۃعلماء ہند قانونی چاراجوئی کر رہی ہے اور مقدمے چاہیں سپریم کورٹ میں لڑے جائیں ان سے بھی پیچھے نہیں ہٹا جائے گا۔
اس موقع پر مولانا سید اشہد رشیدی ( صوبائی صدر )، مولانا نذر محمد ( ضلع صدر )، مولانا مہربان علی ( جنر ل سیکریٹری )،مفتی عبدالجبار ( شہر صدر )، مولانا طاہر قاسمی ( شہر سکریٹری )، گوہر صدیقی ، محمد انیس ، محمد اکرام ،فیاض ملک، شمیم احمدقصار ، قاری عبدالسلام، قاری محمد الاسرار ، حکیم ربانی ، انتظار رانا، محمد عارِف چیئرمین، راشد قریشی، مولانا محمد قاسم ،محمد انیس ، حاجی ادریس، مرسلین راعین، حاجی کلوّ قریشی، امیر اعظم قیصر محمد خان اور ڈاکٹر شمیم الحسن کے علاوہ سیکڑوں کی تعداد میں اراکین جمعیۃ اور مقامی افراد موجود رہے۔

مظفر نگر فساد: پل پل بدلتا سیاسی منظر نامہ : ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری

 ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری کے قلم سے

 مظفر نگر فساد: پل پل بدلتا سیاسی منظر نامہ

                  مظفر نگر فساد آ ہستہ آہستہ ہندوستا نی سیا ست کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ کرفیو ہٹا لیا گیا ہے اور سیا سی رہنما ؤں کی آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ پہلے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو، پھر وزیر اعظم منمو ہن سنگھ، سو نیا گا ندھی اور را ہل گاندھی….. گاؤں گاؤں بر بریت کے ہو ئے ننگے ناچ اور اس کے نتا ئج کے طور پر کیمپوں میں پناہ گزیں افراد کی درد بھری داستانیں۔یہ سب دیکھنے اور سننے کے بعد سب نے تسلیم کیا کہ ’’ اتنا بڑا فساد‘‘ ہو گیا ۔جی یہ اس مظفر نگر کا حال ہے جہاں مسلم آ بادی کا تناسب35-40 فی صد ہے۔ کل میرے ایک دوست جو میرٹھ کے ہیں لیکن 20-25؍ برسوں سے راجستھان میں مقیم ہیں، نے فون پر فساد پر خاصا افسوس جتایا۔ انہوں نے جب یہ کہا کہ اس سے تو ہم مسلمان راجستھان میں ہی محفوظ ہیں جہاں2یا5فی صد مسلمان شہروں اور گا ؤں میں ہے۔ اتر پردیش میں مسلمانوں کا یہ حال ہے؟ ان کی زبا نی یہ سب سن کر واقعی افسوس ہوا۔ دل بہت پریشان ہوا۔
فساد کے اسباب :
فساد ہوا، خوں ریزی، آ تش زنی اور قتل عام ہوا۔ جاٹ۔ مسلم جو صدیوں سے ایک ہو کر رہتے آ ئے تھے۔ اب ایک دوسرے کے خون کے پیا سے ہو گئے۔ وجہ، ایک مسلم نو جوان کو لڑکی چھیڑ نے کے سزا کے طور پر قتل کر کے لوٹ رہے دو جاٹ نو جوانوں کا مقتول کے حا میوں کے ذریعے قتل کیا جانا….معاملہ خطر ناک حد تک سنسنی خیز تھا لیکن اس پر قابو پایا جاسکتا تھا۔ دو نوں اطراف کے ملوث افراد کی گرفتاری کر کے اور بعد میں ہو نے وا لی مہا پنچایتوں پر پابندی لگا کر حالات کو بگڑ نے سے رو کا جا سکتا تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا؟ دوسری سب سے بڑی وجہ فساد پھیلنے کی شر پسند عناصر کے ذریعے طالبان کے دو نوجوانوں کے قتل کی کلپنگ کا زور و شور سے علا قے میں خاص کر جاٹ اکثریتی گاؤں میں دکھایا جانا۔ کلپنگ دیکھنے کے بعد گاؤں ،گاؤں محلے، محلے قتل عام شروع ہوا۔ پولس نہ صرف بہری گونگی بنی رہی بلکہ متاثرین کے مطابق پولس نے شر پسندوں کا ساتھ دیا۔
شر پسند عناصر کی نشاندہی اور کارروائی :
فساد کرا نے وا لوں کی نشاندہی اور گرفتاری سے بھی حا لات پر آہستہ آہستہ قا بو پا یا جاسکتا ہے۔ مظفر نگر پو لس انتظامیہ نے بی جے پی کے ایم ایل اے حکم سنگھ، سنگیت سوم، سریش رانا، بی ایس پی کے ایم پی قادر رانا کو فساد بھڑ کانے کا ذمہ دار مانتے ہو ئے ان کے خلاف ایف آر آئی درج کرا ئی۔ ایف آئی آر درج ہو نے کے تقریباً10روز بعد آج تک ان میں سے کسی ایک کو بھی گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ جب کہ یہ سب کے سب اخبارات، ٹی وی چینلس پر انٹر ویو دیتے رہے اور سر کار کو چیلنج کرتے رہے۔ یہی نہیں اسمبلی کے مانسون اجلاس کی شروعات وا لے دن بھی یہ امید تھی کہ اگر یہ ممبر اسمبلی آتے ہیں تو گرفتار کیے جائیں گے۔ لیکن یہ سب قیاس، قیاس ہی رہے۔ سر کار ان کو گرفتار کیوں نہیں کررہی ہے؟ شاید سماج وا دی پارٹی کو یہ ڈر ہے کہ ان کو گرفتار کرتے ہی، بی جے پی پا لیسی کے مطابق ان کو شہرت حا صل ہو جائے گی اور انتخاب میں ہندو ووٹ، سماج وا دی سے منحرف ہو سکتا ہے۔ سماج وا دی کی مجبو ری یہ ہے کہ وہ نہ ہندو ووٹ چھوڑ سکتی ہے اور نہ مسلمان، لہٰذا وہ کوئی مستحکم اقدام کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔
ایک چینل کا اسٹنگ آ پریشن:
ابھی یہ سب قیاس آ رائیاں، الزا مات اور مرہم رکھے جانے کا سلسلہ چل ہی رہا تھا کہ مسلمانوں کے بڑے سیاسی رہنما، سماج وا دی کے مضبوط ستون وزیر ،اعظم خاں جنہیں بمشکل ابھی منایا گیا تھا اور اعظم خاں کی نا راضگی کی وجہ بھی مظفر نگر فساد میں انتظا میہ کی ڈھیل ہی تھی۔اچا نک ایک نیوز چینل کے اسٹنگ آپریشن میں ہیرو سے زیرو ہوتے نظر آئے۔ چینل کے مطابق ابتدا میں یعنی27؍ اگست کو جن جاٹ نو جوا نوں کا قتل ہوا ،قتل کے مجرمین کو بچا نے کے لیے وزیر مو صوف نے پو لیس آفیسر کو فون کر کے گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا۔ بظا ہر تو یہ ایک اسٹنگ آپریشن ہے۔ لیکن یہ ایک خطرناک سیاست کا حصہ نظر آرہا ہے۔ محمد اعظم خاں، مسلمانوں کے رہبر، ہمدرد اور غم گسار کو داغدار کرنے کی سا زش ہے۔داغ بھی ایسا جو ان کے سیاسی کیرئر پر سوا لیہ نشان لگا دے ۔ اعظم خاں کا پو را کیرئر اس بات کا گواہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ ظالم کی کبھی حمایت نہیں کی۔ خواہ ظالم ہندو ہو یا مسلم،رشتہ دار ہو یا انجان ……سیاست کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک خطر ناک طوائف کے مانند ہوتی ہے جس کے کسی بھی عمل کا اندازہ لگانا مشکل ہو تا ہے کہ کب کیا گل کھلائے گی۔ یہ سنا تھا لیکن مظفر نگر فساد نے یہ سچ کر دکھایا ہے جو لوگ ملزم اور مجرم ہیں وہ ایف آئی آر ہونے کے با وجود سماج میں ہیرو بنے ہو ئے ہیں اور ایک وہ شخص جو ہمیشہ منافرت کو کم کر نے میں کوشاں رہا ہے اسے آج ملزمِ اعظم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔واہ رے سیا ست۔
بی جے پی کی بلّے بلّے :
مظفر نگر فساد سے سب سے زیا دہ فائدے میں بی جے پی کے رہنے کی امید ہے۔بی جے پی نے دو تین ماہ قبل اتر پردیش کے سلسلے میں جو منصو بہ بندی کی تھی اتر پردیش خود بخود اس ڈھرے پر چلا آ یا ہے۔جب سے مو دی اور اس کی پو ری ٹیم کا دھیان اتر پردیش میں مر کوز ہوا ہے،اتر پردیش کو نظر لگ گئی ہے۔ بی جے پی کے لیڈران نے ایک تو مودی کو وزیر اعظم کا دعویدار بنا کر پیش کیا دوسرے مظفر نگر فساد میں بی جے پی کے کئی ایم ایل اے حضرات نے ما حول کو کشیدہ کر کے حالات کو بی جے پی اور مودی کے موا فق بنانے میں ہر ممکن تعاون دیا ہے۔ اب پو را مغربی اتر پردیش کشیدہ حالات سے گذر رہا ہے۔ میرٹھ، باغپت، بلند شہر، سہا رنپور وغیرہ میں چھٹ پٹ واردات سے ما حول روز بروز کشیدہ ہو تا جا رہا ہے اور یہ فضا بی جے پی کے لیے خاصی فائدہ مند ہے کہ مودی کی لانچنگ کے لیے اب زمین ہر طرح سے تیار ہے۔ دوسری سیاسی جما عتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ اگر ایسا ہی ہو تا رہا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ2014ء کا نقشہ ہی بدل جائے۔
کیمپوں کے پناہ گزینوں کا مستقبل :
مظفر نگر فساد کی شدت کا اندازہ، اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تقریباً ایک ڈیڑھ لاکھ افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر مدارس اور کیمپوں میں پناہ گزیں ہیں۔ وزیر اعلیٰ، وزیر اعظم، سونیا اور راہل کے دوروں میں ان بے چاروں کا دکھ درد عیاں بھی ہوا۔ زیا دہ تر لوگ اپنے گاؤں وا پس جانا نہیں چا ہتے۔ لیکن ان کے درد کا درماں کب ہو گا۔ ان لوگوں کا مستقبل کیا ہے؟ کیا اتر پردیش سرکار نے ان کو آ باد کر نے کا کوئی منصو بہ بنا یا ہے؟ کیا ان کو اپنے گاؤں میں آ باد کیا جا سکے گا؟ گاؤں میں نفرت کی شدت اتنی ہے کہ یہ لوگ وا پس جانا نہیں چا ہتے۔ ایسے میں اگر سرکار انہیں پو لس کی حفاظت میں گاؤں میں آ باد کرتی بھی ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ لوگ مستقبل میں بھی محفوظ رہ سکیں گے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سرکار ان کے لیے الگ سے گاؤں آ باد کرے۔انہیں زمینیں دی جائیں، نوکریاں دی جائیں اور ہر طرح کا تحفظ بھی۔
مسلمانوں کے لیے لمحۂ فکریہ :
مظفر نگر فساد نے مسلمانوں کے لیے عجیب کشمکش کے حالات پیدا کر دیے ہیں۔جس پر بھی اعتبار کیا اسی نے دھوکہ دیا۔عام انتخابات سر پر ہیں۔ ایسے میں ایک سے ایک مدا ری آ رہے ہیں، مگر مچھ کے آ نسو بہانے وا لوں کی بھی کمی نہیں۔ مو قع کا فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کر نے وا لے ماہرین کی بھی بہتات ہے۔ پرا نے مداری بھی آرہے ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی فیصلہ لیتے وقت مظفر نگر فساد کا منظر نامہ اور مدارس اور کیمپوں میں پناہ گزیں بے سہا را لوگوں کے آ نسوؤں کو یاد رکھیں اور کسی کی طرف جھکنے سے تو بہتر ہے کہ اپنے پھونس کے پتلے کھڑے کریں اور صد فی صد ان کی ہی حمایت کریں تا کہ آپ کی طا قت کا اندازہ ہو سکے تا کہ ایک سیاسی قوت آپ کے پاس آ سکے۔ آپ اپنا خود تحفظ کرنے لائق بنیں ۔

***
Dr. Aslam Jamshedpuri
HOD, Urdu, CCS University, Meerut
aslamjamshedpueri@gmail.com, ajamshedpuri@rocketmail.coms
09456259850

ادبی رسائل کا کردار ریسرچ کے میدان میں : ہاجرہ بانو

 ادبی رسائل کا کردار ریسرچ کے میدان میں

 ہاجرہ بانو

                          ادب کی اشاعت و فروغ کیلئے ادبی رسائل کا وجود بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہر دور کا ادب تخلیق میں اپنی نمایاں عکاسی پیش کرتا ہے اور تخلیقات تو اپنی اشاعت کے لئے سب سے پہلے ادبی رسائل ہی میں اپنا مقام بناتی ہیں اور اپنے عصری دور کی خامیوں اور خوبیوں کو پیش کرتی ہیں۔ تخلیق کار کے اظہار خیال کے لئے ادبی رسائل کا زینہ سماج تک راست طریقے تک اپنی بات پہنچانے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ مغرب کی ترقی کا راز بھی وہاں کے ادبی رسائل و جرائد کی اشاعت سے ہی منسلک ہے۔ مشرق نے بھی طرز سخن کے اس طریقے کو اپنایا اور حتی المکان کامیابی حاصل ہوئی۔ ابتدا میں اخبارات شائع ہوئے۔ خبروں کے ساتھ ساتھ ادبی نگارشات بھی صفحات کی زینت بننے لگیں۔ خواص و عوام کی پسندیدگی کے پیش نظر رفتہ رفتہ یہ صفحات علوم و فنون کے ہر شعبے سے متعلق علیحدہ علیحدہ ادبی رسائل کی شکل اختیار کرنے لگے۔ دور حاضر میں ایک خاصی بڑی تعداد ادبی رسائل کی ہے جن میں ماہنامے، دوماہی، سہہ ماہی، ششماہی اور سالنامے شامل ہیں۔ یہ تمام رسائل کبھی حکومتی اور اوپر تو کبھی غیر امدادی طریقے سے عوام تک پہنچتے رہتے ہیں۔ چند رسائل جو کتابی سلسلے ہیں جنہیں کسی امداد یا اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ اشاعت کی قیود کے حصار سے آزاد ہوکر صرف اپنے شمارے کا اندراج کرکے شائع کیے جاتے ہیں۔ کئی ادبی رسائل بڑی پابندی سے وقت مقررہ پر شائع ہوتے ہیں۔ لیکن بعض رسائل چند وجوہات کی بناء پر اپنی باقاعدگی برقرار نہیں رکھ سکتے۔ جن میں مالی اور تکنیکی مسائل سر فہرست ہوتے ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود ادبی رسائل کی پابندی یا غیر پابندی کوئی خاص اہمیت نہںے رکھتی کیونکہ بہرحال ان میں شائع شدہ مواد کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ ہر زبان کے ادبی رسائل اپنے سماج کی عکاسی کے ساتھ ساتھ نئے رجحانات، نظریات اور نئے تخلیق کاروں کو پیش کرتے ہیں اس طرح خود بھی نظام کائنات کے مسلسل گردشی سلسلے کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ 
اتنا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ادبی رسائل کے کئی مسائل ہیں۔ کمپیوٹر کی ترقی کی بدولت طباعت کی ترقی کے باوجود زیادہ تر اردو ادبی رسائل اپنے قدیم طریقہ اشاعت پر آج بھی قائم ہیں۔ مالی مشکلات کے سبب مدیران اپنے رسائل کو زیادہ دیدہ زیب اور پرکشش نہیں بناپاتے۔ جس کی وجہ سے وہ قارئین کی بڑی تعداد کو متاثر نہیں کرپاتے اور اسی سبب سے انہیں حکومتی یا نجی اشتہارات کی بدولت مالی تعاون حاصل کرنا دشوار کن ہوتا ہے۔ نتیجتاً قوی ہیکل مالی مسئلہ جوں کا توں کھڑا رہتا ہے۔ اکثر اوقات ادبی رسائل بہترین تخلیق کاروں کو معاوضہ سے محروم کرکے عمدہ تحریروں سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں۔ آج کل زیادہ تر رسائل اپنی باقاعدہ اشاعت کے لئے معیاری و غیر معیاری تخلیق کاروں سے منسلک گوشے یا خصوصی نمبر شائع کررہے ہںے۔ جس کی بدولت وہ ایک اطمینان بخش رقم حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ معیاری گوشوں اور خصوصی نمبر کی حد تک تو بات ٹھیک ہے لیکن غیر معیاری تخلیقات کے گوشے جب عوام تک پہنچتے ہیں تو طلباء یہ فیصلہ نہیں کرپاتے کہ یہ معیاری ہے یا غیر معیاری۔ پھر کئی ریسرچ اسکالرز انہیں اپنا موضوع بناکر ایک بے مقصد کی ناکام تحقیق کی بناء پر ڈگری پانے کے دعویدار بن بیٹھتے ہیں۔ موجودہ ریسرچ اسکالرز کی تن آسانی اور رسائل کے ذاتی و کاروباری مفاد کی بناء پر آنے والی نسلیں ایک غیر معیاری ادب سے روشناس ہوکر اسی کو اپنا سنگ میل سمجھ رہی ہیں اور دانستہ یا غیر دانستہ یہ فعل اردو ادب کے لئے کافی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ سنگین مسئلہ دانشوران، مدیران اور جامعات کے سربراہان کی خصوصی توجہ چاہتا ہے۔ کیونکہ اسطرح سے اردو ادب کے خلاء کو کبھی معیاری درجے سے پر نہیں کیا جاسکتا۔ 
دوسری طرف معیاری اور اعلیٰ پایہ کے شعراء و ادباء ایسے نازک ترین حالات میں خود کو حاشئے پر رکھ کر محفوظ کئے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کی یہ احتیاط اردو ادب کے سرمایہ مںے فرسودہ و خستہ تخلیقات اور مقالات کے اضافہ کا باعث بن رہی ہے۔ اکثرتحقیقی مقالات تضیع اوقات کا سبب محسوس ہوتے ہیں۔ یہ خیال بیک وقت کئی دانشوران کا ہے لیکن کمال حیرت ہے کہ باوجود اس کے سیکڑوں مقالات ردی مواد سے بھرے پڑے ہیں۔ زیادہ تر ریسرچ اسکالرز کم محنت میں زیادہ فائدہ تلاش کرنے کی کوشش میں غیر معیاری اور کمزور ادب کو دلکش پرنٹ کے ساتھ پیش کرکے ہر دو تین سال بعد اردو ادب کے تناور سرسبز درخت کے تنے پر کلہاڑی سے وار پر وار کئے جارہے ہیں۔ وہ دن دور نہیں کہ یہ درخت ایک دن آخرکار خود کو زمین سے جدا کرلے گا۔ سیکڑوں تحقیقی مقالات ایسے ہیں جن مںے کوئی نہیں بتاسکتا کہ نیا کیا ہے؟ ان کی تحقیق کا مرکزو محور کیا ہے؟ اور موضوع سے غیر منسلک مواد سے کیوں صفحات کے صفحات ضائع کئے جارہے ہیں۔ زیادہ تر ایسے تحقیقی مقالات میں حوالۂ کتب اور مصنفین کے گزشتہ یادوں کے اقتباسات، قدیم تصاویر کے نمونہ اور خود نمائی سے پیش کردہ چند تصاویر کے علاوہ کچھ بھی نیا نہیں ہوتا۔ دراصل یہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے تغیرات ہیں اور ایسے نظریاتی اصطلاحات پیش کرتے ہیں جن میں نئی تحقیق کا فقدان ہوتا ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ ترقی و ذہانت کی صدی ہے جو کمپیوٹر کے سینگوں پر ٹکی ہے تو اس ذہین صدی سے یہ توقع کی جانی چاہئے کہ موجود خدمات اردو زبان کی ترقی میں ایک بہترین کردار ادا کرے گی۔ لیکن اس کے برعکس یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ ریسرچ اسکالرز کی تعلیم کا مقصد جس قدر علمیت کے شعبہ سے منسلک ہونا چاہئے اس سے ہزار گنا زیادہ حصول ذریعہ معاش ہے۔ لیکن یہ اسکالرز اس حقیقت کو فراموش کررہے ہیں کہ ان کے پیش کردہ مردہ صفحات ادب کے مجسموں میں نئی روح نہیں پھونک سکتے۔ وہ زیادہ تر صرف یہ دیکھتے ہیں کہ ان کا مقالہ کتنے صفحات کا احاطہ کرکے انہیں جلد از جلد ڈگری ہولڈر بناسکتا ہے۔
نجانے کیوں طلباء اور معلم ایسے بے مقصد کے تحقیقی مقالے کو مستند بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ سونے پر سہاگہ کئی ریسرچ اسکالرز مسودہ کی خرید و فروخت بھی دھڑلے سے کرتے ہیں۔ کئی خود ساختہ مصنف خود اپنی فرسودہ تصانیف کو نقرئی طشت میں برائے تحقیق پیش کرتے ہیں۔ اکثر ریسرچ اسکالرز ایسے ہی مواقع تلاشتے ہیں۔ یہ صرف خود نمائی، مفاد پرستی اور ادب کی جڑوں کی زہریلی آبیاری کے سوا کچھ نہیں۔ آج کی عنقا ہورہی علمیت مستقبل میں ادب کا معیار پست سے پست تر کردے گی۔ 
دیکھا جائے تو ریسرچ کا اصل مفہوم ہی صداقت کی تلاش بسیار اور حق کی کھوج ہے۔ یہ کام آغاز میں تو نہایت آسانی سے رنگ برنگی گلوں سے بھری وادیوں میں سیر و تفریح کے مصداق لگتا ہے لیکن رفتہ رفتہ ہی مخملی راہیں پرخار بننے لگتی ہیں اور زندگی کے لمحات طویل و دشوار کن محسوس ہونے لگتے ہیں۔ عمر کے لئے سال صرف کرنے کے بعد قدرے مشکل اس گوہر نایاب کو حاصل کیا جاتا ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ ہر جگہ صورتحال یکساں ہے۔ ان خاردار غیر معیاری مقالات کی جھاڑیوں میں پوشیدہ معیاری مقالات کے گلاب، گل داؤدی، گل سوسن کو تلاش کرکے ادب کی نئی مہک سے تزئین کاری کی جاسکتی ہے۔ لیکن یہ مقدس فریضہ صرف اور صرف آج کے ادبی رسائل ہی انجام دے سکتے ہیں۔ 
اردو میں ریسرچ کے عنوانات عموماً تحقیقی نہیں بلکہ تنقیدی یا تجزیاتی ہوتے ہیں۔ اگر طالب علم میں ریسرچ کی صعوبتیں سہنے کی صبر آزما تلاش اور علمیت و اہلیت کا فقدان ہو تو وہ موضوع سے پوری طرح انصاف نہیں کرپاتے۔ متعین مدت میں مخصوص گائیڈس کی نگرانی میں موضوع کے تقاضوں کو پورا کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا۔ گائیڈ اور ریسرچ اسکالرز کی ذہنی ہم آہنگی نہ ہو تو یہ کام مزید مشکل ہوجاتا ہے۔ کئی بار یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ بیشتر گائیڈ اپنی تحقیقی اور ترسیلی اہمیت کے باوجود ریسرچ اسکالرز میں ادب فہمی کا ذوق بیدار کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ جس کی بناء پر وہ زچ ہوکر جلد از جلد اس مقالہ کی فائل کو کلوز کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں اور نتیجہ میں ایک کمزور تحقیقی مقالہ منظر عام پر آجاتا ہے۔ 
محقق پروفیسر رفیع الدین ہاشمی نے 2009 میں تقریباً 81 یونیورسٹیز کی سندی تحقیقی مقالات کی فہرست پیش کی اور تقریباً 15 صفحات پر مشتمل مرتب کا تحریر کردہ ’’مقدمہ‘‘ ہے جس میں موصوف نے جدید تحقیق کا جائزہ لیا ہے۔ صفحہ نمبر 27 پر زندہ شخصیات پر ریسرچ کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ مقدمہ کے آخر میں انہوں نے لکھا کہ اس طرح کی تحقیق پر اگر ایک بے لاگ چھلنی نہ لگائی جائے گی تو ریسرچ کا معیار مزید گرتا جائے گا۔ اور اردو والوں کی جگ ہنسائی کا باعث ہوگا۔ بالکل اسی طرح اس سنگین مسئلہ سے متعلق ڈاکٹر جمیل جالبی کے مطابق موجودہ تحقیقی معیار کی خرابی کے ذمہ دار وہ استاد ہیں جو جامعات میں ان مقالات کے نگراں ہیں اور خود فن تحقیق و تدوین کے اصول و مسائل سے نابلد ہیں۔ تحقیق بھی ایک علم ہے۔ جس طرح دیگر علوم کی مبادیات متعین ہوتی ہیں۔ اسی طرح تحقیق کے بھی اصول مرتب ہیں۔ جب تک ان اصول و ضوابط سے آگہی نہ ہو تو اس علم پر عبور حاصل کرنا ناممکن ہے۔ اس لئے اگر نگراں کار اپنے ریسرچ اسکالرز کو پہلے اس کی تعلیم دے اور انہیں تمام اصول اچھی طرح ذہن نشین کرواکر اسے وسیع مطالعہ کے ساتھ موضوع کی تاریخ و پس منظر کا کامل مطالعہ کا موقع فراہم کرے۔ ساتھ ہی اسکالر میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کرکے اپنی ذاتی رائے کو شامل نہ کرتے ہوئے ادب پارہ سے متعلق لسانی، ادبی اور احاطے کے سیاق و سباق کی روشنی میں اپنی تحریر کو صفحہ قرطاس کے سپرد کرکے دوسرے محققین کے نظریات، دلائل و نظریات کو ایک نئے نقطہ نظر کے ساتھ اس کی تائید و تردید کرے۔ حواشی اور تعلیقات کے اندراج کو اہمیت دے کر استفادہ کئے گئے کتب و رسائل کا برملا اعتراف کرکے نرگسیت سے پرہیز اور اپنی خامیوں کا اعتراف کرے۔ استاد مقالے کے ہر صفحے ہر سطر پر طالب علم کی رہنمائی کرے تو کچھ مشکل نہیں کہ اچھے مقالے ادب کے خزانے کی زینت بنیں۔ 
بادشاہ اکبر کے درباری شاعر نظیر نیشاپوری نے ایک بار بادشاہ سے کہا کہ میں نے آج تک لاکھ روپے کا ڈھیر نہیں دیکھا۔ بادشاہ نے فوراً شاہی خزانے سے لاکھ روپے نکلواکر ڈھیر لگادیا۔ جب نظیر نیشاپوری لاکھ روپے کا ڈھیر دیکھ چکے تو بادشاہ نے وہ روپے خزانے میں واپس بھجوادئیے اور نظیری دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔ آج کے ریسرچ اسکالرز کی حالت نظیری اور گائیڈ کی حالت بادشاہ اکبر کی طرح ہی ہے۔ موضوع کا انتخاب کرنے کے بعد گائیڈ انہیں کتابوں اور رسائل سے بھری الماریاں تو دکھادیتے ہیں لیکن یہ وضاحت کرنے سے قاصر رہتے ہیں کہ صرف ان کتب و رسائل کا دیدار کرنا ہے کہ آیا ان ہٹ کر کس طرح نئی تحقیق پیش کرنی ہے۔ نہ وہ جدید موضوع مہیا کرانے میں محنت دکھاتے ہیں اور نہ ہی اپنے ریسرچ اسکالرز سے کسی نئی جہت و فکر و ویژن کی امید رکھتے ہیں۔ نہ ہی وہ مقاصد موضوع کی نئی وسعت اور دائرہ عمل کی وضاحت کرکے ریسرچ کا تقاضا پورا کروانے کی سعی کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ انتہائی مصروف ہوتے ہیں۔ اپنے طالب علم کے علاوہ ان کے پاس ہر کام کے لئے وقت ہوتا ہے۔ نتیجتاً طلباء اپنے گائیڈس کو بڑی رقم دے کر، دعوتیں کرکے یا ان کے ذاتی فرائض کی تکمیل کرکے ڈگریاں حاصل کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں جو بھی تحقیق کی جاتی ہے وہ نامکمل ہوتی ہے۔ 
ریسرچ کی قوس قزح میں تنقیدی تاریخ، امور، واقعات و حالات کے پس منظر، مختلف شخصیات، صنف شاعری، نثری اصناف غرض تمام متعلقہ امور کی اچھی طرح چھان بین کرکے مقصد موضوع کی نئی تحقیق کرنا ہے۔ ساتھ ہی قدیم و فرسودہ تصورات کے کھوکھلے مجسم پر آہن کاری کرنا ہے۔ حقائق و معروضیت کو دیدہ دلیری سے پیش کرکے دروغ بیانی اور باطل کا پردہ فاش کرنا ہے۔ جدید فکر و نظر کے تمام پہلوؤں کو سامنے لاکر صداقت کی روشنی بکھیرنا ہے۔ کسی نسخے یا کتاب کو گمنامی سے نکال کر سرسری تحقیق کردینا ہی اصل مقصد نہیں ہوتا بلکہ قطعیت کے ساتھ اپنی بات کہہ کر مصنف کے اندر پوشیدہ فنکار اور تحریری زاوئیے تک رسائی کرنا ریسرچ اسکالرز کا اصل فریضہ ہوتا ہے
کرہ ارض پر آنکھیں کھولنے کے ساتھ وقت کے پہئے پر گردش کرتے کرتے کئی چیزوں کا علم رکھنے والے انسانی ذہن پر لاعلمی کے دبیز پردے پر اپنی تہہ جمانے لگتے ہیں اور صرف معلم کی عظیم ہستی اور بہترین ادبی رسائل ہی ان لا علمی کے پردوں کو چاک کرنے کا عمل انجام دے سکتی ہے تاکہ وہ مخفی علم و خوبیوں کو ظاہر کرسکے جو دوسروں کے نظروں سے پوشیدہ ہیں۔ آج جہاں سنجیدہ ادبی حلقہ اپنے دائرے کو تنگ ہوتا محسوس کررہا ہے وہیں ہندوستانی معاشرہ کے سامنے ادبی روایات کے کئے مسائل درپیش ہیں سیکڑوں ادبی رسائل کی موت کے بعد بھی امید باقی ہے کہ رسائل کی موجودگی بہرحال ہمیشہ قائم رہے گی کیونکہ یہ ادبی رسال رفاقت کا ایک بہترین اور مؤثر احساس پیدا کرتے ہیں جو کوئی دوسرا ذریعہ نہیں کرتا۔ کئی ایک تو یہ سوچتے ہیں کہ نئی تحقیق سامنے لانے سے کوئی ادبی تنازعہ یا اختلاف کھڑا نہ ہوجائے۔ اختلافات نہ ہوں گے تو ترقی کے مراحل کیسے طئے ہوں گے۔ ہمیں وقت اور روایات کے اس جمود سے احتراز کرنا چاہئے۔ جب بیک وقت تمام لوگوں کی سوچ منجمد ہوکر ایک نقطے پر مرکوز ہوجائے۔ جب تک اختلافی ادب پیش نہیں ہوگا تو آنے والی نسلوں کے لئے نئی راہیں کیسے کھلیں گی۔ یہ تو ایک اٹل حقیقت ہے کہ تحقیق یا علم میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی۔ ارادوں کی آہنی طاقت ہمت و حوصلہ کو مزید جلا بخشتی ہے۔ آخر ایک ہزار میل کا سفر پہلا ایک قدم اٹھانے سے ہی شروع ہوتا ہے۔ 

***
Mob: 9860733049
E-mail: hajerabano555@gmail.com 

مظفر نگر فساد : ترقی یافتہ عہد میں کہاں جارہے ہیں ہم : ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

  ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

  مظفر نگر فساد : ترقی یافتہ عہد میں کہاں جارہے ہیں ہم

                            اکیسویں صدی، آئی ٹی کی صدی____ہر طرف کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، مو بائل، اسمارٹ فون، ایس ٹی ڈی، آئی ایس ڈی، پین ڈرائیو، ڈی وی ڈی، وسی سی ڈی، بلو ٹوتھ، فیس بک، ٹوئیٹر، یو ٹوب اور اس طرح کی ہزا روں سوشل سائٹس کی بھر مار___، ما ؤس کلک کرتے ہی اسکرین بدل جانے کے عہد میں انسان کہاں جا رہا ہے۔ کیا یہی ترقی ہے؟ وسائل اور مادیت کے معاملے میں ہم نے کس قدر ترقی کر لی۔ ہندو ستان کا شمار دنیا کے چار پانچ طاقتور ملکوں میں ہو تا ہے۔ ہمارے پاس پانچ ہزار کلو میٹر تک مار کر نے وا لی میزائیلیں موجود ہیں،خود کار جنگی طیارے، ٹینک شکن تو پیں، زمین سے ہوا، پانی اور زمین پر دشمنوں کو مار گرا نے وا لی میزائیلوں سے مسلح ہندوستان۔ آئی ٹی میں امریکہ کو ٹکر دینے وا لا ملک ہندوستان____کتنی ترقی کی ہے ہم نے۔ لیکن بحیثیت انسان ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ماں بہن بیٹیوں کی عصمت دن رات تار تار ہو رہی ہے۔ انسان مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے خون کا پیا سا ہو گیا ہے۔ یہ سب کیا ہے؟کیسی ترقی ہے یہ؟ امن کا پیغامبر ملک، کثرت میں وحدت کا ملک، عدم تشدد کی آواز دنیا میں بلند کر نے وا لا ملک،آس پاس ہی نہیں، پورے ایشیا بلکہ پو ری دنیا میں ہمیشہ امن و امان قائم کر نے کا حامی ملک ہندو ستان____ آج کیا ہو گیا ہے اس کو ؟کس کی نظر لگ گئی ہے؟مادی اعتبار سے ہم خلا،چاند اور ستاروں پر کمندیں ڈال رہے ہیں لیکن اخلا قی اعتبار سے دورِ جا ہلیت اور اس سے بھی آگے جا رہے ہیں۔ اپنے ہی پڑو سیوں کو، بھا ئیوں کی طرح رہنے وا لوں کو بے رحمی سے قتل کررہے ہیں، ایک دوسرے کی عبادت گا ہوں کو نہ صرف نجس کررہے ہیں بلکہ مسمار بھی کررہے ہیں؟ یہ کون سا عہد ہے۔کس زمانے میں داخل ہو چکے ہیں ہم؟ مظفر نگر جسے شہر محبت کہا جاتا ہے۔ مظفر نگر جوشہرِ آہن بھی ہے۔ مظفر نگر جو بزرگان دین کی آ ماجگاہ ہے۔ اسی مظفر نگر میں نفرتوں کی آگ پھیلی ہے،جس نے مظفر نگر کے شہر تو شہر قصبات اور گاؤں تک اپنے پیر پھیلا لیے ہیں۔ گاؤں جو آپسی میل جول، بھا ئی چارے اور اتحاد و اتفاق کے نمونے ہوا کرتے تھے۔گاؤں جہاں صدیوں سے ہندو۔ مسلم شیر و شکر کی طرح رہتے آرہے تھے۔ شہروں میں اکثر نفرتوں کی فصل لہلہا ئی، خون بھی اپنے رنگ پر شرمسار ہوا، لیکن گا ؤں دیہات پر اس کا کبھی کوئی اثر نہیں پڑا۔پھر اب ایسا کیا ہوا؟ لگتا ہے اس بار نفرت کے بیج بھی کچھ خاص قسم کے ہیں۔ مظفر نگر ہی کیا پو را مغربی اتر پردیش نفرت کے بارود کے ڈھیر پر ہے۔ مظفر نگر فساد تو اس بارود میں آگ لگانے کی شروعات ہے۔ بارود کے ڈھیر سے چنگاری پھو ٹی ہے۔ چنگاری شعلہ بھی بنی ہے۔ مظفر نگر سے شعلے، شاملی، باغپت، بڑوت، میرٹھ، دیوبند اور سہارنپور تک بھی پہنچے ہیں،لیکن جو کچھ بھی ہوا ہے، یہ سب ایک بڑی فلم کا ٹریلر ہے۔ پو را مغربی اتر پردیش اندر اندر دھ دھک رہا ہے۔ آ تش فشاں کی مانند اندر اندر درجۂ حرارت بڑھ رہا ہے۔ لاوا سرخ رقیق کی صورت اختیار کر چکا ہے کسی بھی وقت یہ لا وا پو رے مغربی اتر پردیش کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔
اسباب و علل :
مغربی اتر پردیش میں پھیلنے وا لی آگ کا صرف منظر نامہ ہی دہشت انگیز نہیں ہے بلکہ اس کا پس منظر اس سے بھی خطرنا ک ہے۔کوئی آگ لمحوں میں منظر عام پر نہیں آ تی ۔ اس کے اسباب و علل ہو تے ہیں۔مظفر نگر فساد کی زمین کافی پہلے سے تیار ہو رہی تھی۔
۱۔ 2011ء میں سماج وادی سرکار کی تشکیل کے بعد بہت سے منظر نامے یکا یک تبدیل ہو گئے۔ ایک افواہ یہ پھیلی کہ یہ سرکار مسلم حمایتی ہے۔اکثریتی فرقے نے اپنے آپ کو چست درست کر نا شروع کردیا۔یہ بات بھی عام ہوئی کہ اب غنڈوں کی خوب چلے گی اور ہوا بھی ایسا ہی۔ شر پسند عناصر، جرائم پیشہ افراد اور مافیا کا راج قائم ہو نا شروع ہو گیا۔ مسلم حمایتی ہو نے کی مہر نے ایک بڑے سیاسی گروپ کو اچھا خا صا مو قع فرا ہم کیا۔جب کہ حقیقت اس کے برخلاف تھی۔اتر پردیش میں متعدد فسادات ہو ئے ،قتل و غارت گری کی وارداتیں ہو ئیں، معصوم اور بے گناہوں کو جیلوں میں بند کیا گیا۔ دورانِ قید و بند اموات بھی ہو ئیں اور ان سب میں سر کار کا مسلم حمایتی رُخ کبھی سامنے نہیں آ یا۔جن شہروں میں فسادات ہو ئے آج تک وہاں گناہ گاروں کی شناخت نہیں ہو ئی۔
۲۔ ایو دھیا میں چوراسی پریکرما کے نام پرجو کچھ بھی ہوا وہ بظا ہر کچھ بھی رہا ہو لیکن اندرو نی طور پر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بی جے پی اور ایس پی کی نو را کشتی تھی۔ ایک فکس میچ تھا۔اس سے خوامخواہ بی جے پی کو ایو دھیا اور اس کے پاس ہی نہیں پو رے اتر پردیش میں آکسیجن مل گئی۔تقریباً ہر شہر میں مظا ہرے، دھرنے اور جلسے جلوس منعقد ہو ئے۔مغربی اتر پردیش میں چو را سی پریکرما رو کے جانے کے خلاف مظا ہرے کے بہانے بی جے پی نے اپنی طا قت کا مظاہرہ کیا۔
۳۔ گذشتہ کئی ماہ سے اتر پردیش میں بی جے پی حر کت میں آ گئی۔مو دی کو وزیر اعظم کا عہدیدار پیش کرنے کی کوشش کو بی جے پی ہر شہر میں زور و شور سے کیش کررہی ہے۔پھر نریندر مودی اپنی پو ری ٹیم کے سا تھ اتر پردیش خصوصاً مغربی اتر پردیش کو اپنا ٹارگیٹ بنا رہے ہیں۔مقامی رہنما ؤں نے بھی ہر چھوٹے بڑے ایشو پر بڑے بڑے مظا ہرے اور احتجاج کر کے ما حول کو گرمانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔
۴۔ گذشتہ کئی ماہ سے میرٹھ اور گرد و نواح میں متعدد ایسے واقعات اور وارداتیں ہوئی ہیں جنہوں نے فرقہ پرستی کے لیے ماحول ہموار کر نے کا کام کیا:
149 میرٹھ میں ابتدا ئے رمضان میں شیو چوک چھیپی ٹینک پر ترا ویح کی نماز کو لے کر زبردست ٹکرا ؤ کے حالات بن گئے تھے۔ در اصل شیو چوک پر قدیم قبرستان ہے ۔قبرستان کے کنارے ایک مسجد ہے ۔اس مسجد میں مدتوں سے رمضان کی ابتدائی تین شبوں میں سہ رو زہ شبینہ ترا ویح کا اہتمام کیا جا تا ہے اور اس نماز میں میرٹھ کے بہت سے لوگ شر کت کرتے ہیں۔ بھیڑ اتنی ہو تی ہے کہ چھو ٹی سی مسجد ناکا فی پڑ جاتی ہے اور با ہر سڑک پر دور تک صفیں لگانی پڑ تی ہیں۔شیو چوک پر ایک مندر بنا ہوا ہے ۔ مندر میں نماز کے وقت بھجن بجانے کا سلسلہ شروع کر کے ماحول خراب کر نے کی کوشش ہو ئی جو رنگ لائی اور ہندو مسلم منافرت اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ لیکن انتظا میہ نے سخت پہرے میں نماز مکمل کرا ئی ۔سمجھو توں کے دور چلے ۔ہندو تنظیموں خصوصاً بی جے پی، بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد نے اس کا خوب فا ئدہ اٹھایا اور ما حول کو گر مانے کی کوشش کی۔
149 رمضان ہی کے مہینے میں میرٹھ کے ایک گا ؤں ننگلا مل میں افطار کے وقت مندر میں گھنٹے بجانے کی زبردستی نے بھی فرقہ وارانہ فساد کی شکل اختیار کر لی تھی۔بی جے پی کے ایم ایل اے نے مو قع کا خوب فائدہ اٹھایا۔ زہر افشا نی کر کے ما حول میں نفرت پھیلا نے کا کام کیا۔
149 عید سے کچھ قبل رمضان کے آخری عشرے میں کانوڑ یاترا مسلم محلوں سے پو ری طرح طوفان بد تمیزی کے ساتھ بینڈ باجے سے نہ صرف گزرتی رہی بلکہ جگہ جگہ توڑ پھوڑ کے واقعات اور شور شرا بے سے رمضان کا مقدس ماحول متاثر ہوا۔ تقریباً ایک ہفتے تک گوشت کی دکا نیں اور ہوٹلوں کو بند کردیا گیا۔
149 عید کے بعد تبلیغی جما عت کے لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی واردات ہو ئی۔
۵۔ مظفر نگر میں کوال کا واقعہ۔ کوال میں دو حملہ آوروں نے شہنواز کو قتل کیا۔ قتل کے بعد بھاگتے وقت مقتول کے حامیوں نے دونوں حملہ آوروں سچن اور گورو کو بھی گھیر کر ماردیا۔ یہ جھگڑا در اصل لڑکی کو چھیڑنے کو لے کر تھا۔ اس کے بعد دو نوں فرقوں میں غصے کی آگ اندر اندر سلگنے لگی۔ ایسے میں دونوں فرقوں کے کئی بہت بڑے اجتماع پنچایت کی شکل میں منعقد ہو ئے۔ انتظا میہ نے ان کی اجا زت کیوں دی؟چشم دید گوا ہوں کا بیان ہے کہ کئی پنچا یتوں میں لا کھوں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ پنچا یتوں میں سیا سی رہنماؤں نے زہر افشا نی کا کام کیا۔
مظفر نگر کے الماس پور میں اکثریتی فرقے کے لوگوں نے اچانک گاؤں کے اقلیتی فرقے پر حملہ کیا۔ قتل و خون ہوتا رہا۔ خوف و دہشت میں لوگ گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
ننگلا میں بہو بیٹی سمّان بچاؤ مہا پنچایت منعقد ہوئی۔ یہ بات۷؍ ستمبر کی ہے۔ پو لس نے اس کی اجا زت کیوں دی۔ اس مہاپنچایت میں لاکھوں لوگ شریک ہو ئے۔ بی جے پی کے کئی رہنماؤں نے پنچایت میں زہر اگلا اور لوگوں کو بھڑکانے کا کام کیا۔
فر قہ وارا نہ فسادات کا خونی کھیل کھیلا جاتا رہا اور انتظا میہ سو تی رہی۔دیہات سلگتا رہا ، بے قصور مسلمانوں کو تہہِ تیغ کیا جاتا رہا۔ لوگ اپنی اپنی جا ئیداد اور گھر بار چھوڑ کر جائے پناہ کے لیے بھاگ نکلے۔متعدد مسلمانوں نے مدرسوں میں پناہ لی۔ کچھ کو پولیس نے تھا نوں میں پناہ دی۔ بر بریت کے مظا ہرے ہو تے رہے۔ مظفر نگر کی یہ آ گ میرٹھ کے قصبات اور دیہات میں بھی پھیلنے لگی۔ شکر ہے کہ میڈیا کی خبروں نے انتظا میہ کو مجبور کردیا اور کئی دن کے بعد انتظا میہ حرکت میں آ ئی۔ بی جے پی کے چار ممبر اسمبلی پرFIRدرج ہوئی۔ لیکن مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ بی جے پی کے ایم ایل اے حکم سنگھ کے خلاف ایف آئی آر درج تھی اور وہ نیوز20 چینلپر انٹر ویو دے رہے تھے۔ جب ان سے پو چھا گیا کہ آپ کو تو پولیس تلاش رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ میں تو اپنے گھر میں موجود ہوں۔ تا دم تحریر کسی ایم ایل اے کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ یہ کیا ہے؟
ایک ضروری نکتہ :
تقریباً ایک ہفتے سے مظفر نگر شہر اور دیہات فرقہ وارانہ فساد میں سلگ رہے ہیں۔ ہر طرف خوف، ڈر، دہشت، قتل و غارت گری، آتش زنی کا ما حول ہے۔ روز نئے نئے واقعات رو نما ہو رہے ہیں۔ شاملی، موا نہ، سر دھنہ بھی اس کی لپیٹ میں آ گئے۔ آگ باغپت اور میرٹھ تک آنے لگی۔ اتنا سب ہو جانے کے با وجود مسلمانوں کے مسیحا کہلا نے وا لے کہاں ہیں؟مانا سماج وا دی مسلمانوں کی ہمدرد ہے۔ پھر کیا بات ہے کہ اب تک وزیر اعلیٰ کا دورہ نہیں ہوا۔ ایس پی کے بڑے بڑے مسلم وزیر اور رہنما کہاں ہیں؟ خود ملائم سنگھ کہاں بیٹھے ہیں؟ آگرہ میں پارٹی کی میٹنگ ہو رہی ہے۔ انسانیت جل رہی ہے۔ مسلمان کراہ رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ یا دیگر وزراء میں سے کوئی مظفر نگر میں ڈیرہ ڈال کر انتظا میہ پر نظر رکھتا تو کیا یہ سب ہو تا؟ بہت جلد معاملات پر قابو پایا جا سکتا تھا۔ اب تک مہلوکین اور زخمیوں کے لیے ریاستی سرکار نے امداد کا اعلان بھی نہیں کیا۔ مرکزی سرکار نے وزیر اعظم فنڈ سے مہلوکین کو دو دو لاکھ رو پے کا اعلان کیا ہے۔ یہ سب کیا ہے؟ کہیں ایسا نہ ہو مظفر نگر فساد کے نتائج2014ء کے سنہرے خواب دیکھنے وا لی ریا ستی سرکار کے ارمانوں پر پانی پھیر دیں ۔فرقہ وارانہ فساد کو سیا سی فائدے کے لیے استعمال کرنا، سب سے بڑا سیا سی گناہ ہے جو بھی اس کا مرتکب ہو گا اس کا حشر دیر سویر عبرتناک ہو گا۔ ایسے حالات میں انسانیت کا تقاضا ہے کہ ہم سب آپسی دشمنی بھلا کر، پھر سے ایک ہو جائیں تاکہ اقبال کا یہ مصرعہ ہم پر ناز کرے ؂
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا 
Dr. Aslam Jamshedpuri
HOD, Urdu
CCS University, Meerut
09456259850
aslamjamshedpuri@gmail.com

’مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا‘

 ’مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا‘
 میرٹھ13؍ ستمبر2013ء
 (پریس ریلیز)

                            گذشتہ کئی دنوں سے مظفر نگر اور آس پاس کے علاقوں میں گنگا جمنی تہذیب اور جمہوریت مخالف فرقہ پرست عناصر نے جس طرح انسانوں کے بھیس میں درندگی کو انجام دیا وہ مہذب اور تعلیم یافتہ سماج کے ماتھے کا بد نما داغ ہے۔جس طرح عورتوں،بچوں اور بوڑھوں پر مظالم ڈھائے گئے اس کی مثال تاریخ میں خال خال ہی نظر آ تی ہے اور المیہ تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ مذہب کے نام پر کیا گیا جب کہ کوئی بھی مذہب ظلم کی اجازت نہیں دیتا بلکہ بھائی چارے،آپسی میل جول ،رواداری اور دوسروں کے جذبات کا احترام اور امن و سکون قائم کر نے کا حکم دیتا ہے۔مختلف مذاہب میں امن کے اس پیغام کو عام کر نے کے تعلق سے شعبۂ اردو چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی ،میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں ’’مذہب نہیں سکھاتا آ پس میں بیر رکھنا‘‘کے عنوان سے ایک پرو گرام منعقد ہوا۔ جس کی صدارت ڈاکٹر دھرم دیواکر نے کی اور مقررین کے طور پر پرو فیسر زین الساجدین(شہر قاضی،میرٹھ)،پرو فیسر تنگ ویر سنگھ آریہ(صدر شعبۂ میڈیسن،میڈیکل کالج، میرٹھ)محترم منیش جانسن(فادر)،قاری شفیق الرحمن قاسمی، ڈاکٹر اُپاسنا ورما، مولانا شرافت حسین کاظمی،محترم منجیت سنگھ کوجھڑ، مولانا گلزار قاسمی، محترم ہریش گوتم، کنور شفیق احمد ایڈ وکیٹ اور منیش تیاگی ایڈوکیٹ نے شرکت کی۔نظامت کے فرائض صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوری،استقبال محترم آفاق احمد خاں اور شکریہ ڈاکٹر شاداب علیم نے ادا کیا۔اس سے قبل پروگرام کا آغاز ایم فل کی طالبہ شوبی رانی نے اقبال کی نظم’’ نیا شوالہ‘‘ سے کیا۔
اس مو قع پرپرو فیسر تنگ ویر سنگھ آریہ نے کہا کہ کو ئی بھی مذہب نفرت کی تعلیم نہیں دیتا۔ یہ امن کے دشمن اور جمہوریت مخالف فرقہ پرست عناصر کا کام ہے۔ نفرت کے اس ماحول میں صبر سے کام لینے کی ضرورت ہے اور جو انسان صبر سے کام لیتے ہیں وہی بہادر کہلا تے ہیں۔قاری شفیق الرحمن قاسمی نے کہا کہ آپسی نفرتوں کو ختم کر نے کے لیے یقین،قربانی، خدمت اور عدم تشدد جیسے اوصاف کو نوجوان نسل میں پھیلا نے کی اشد ضرورت ہے اور اسلام بھی ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور جو پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا تو اس میں انسانیت ختم ہو جاتی ہے اور وہ حیوا نوں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔پرو فیسر قاضی زین الساجدین نے کہا کہ آج ہر طرف خوف و ہراس کا ما حول ہے اس فضا کو ختم کر نے کے لیے اس طرح کے پرو گراموں کے انعقاد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام اخوت، رواداری اور تحمل کی تعلیم دیتا ہے اور انسان کی انسان سے محبت،بھلائی،رواداری اور انصاف پر مبنی سماج کی تخلیق ہی اسلامی تعلیم کی بنیاد ہے۔مولانا گلزار قاسمی نے کہا امن، سلامتی اور خوف و ہراس سے مبرا ما حول کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا اگر ما حول نفرتوں کے زہر سے آ لود ہو گا تو انسان کا جینا دو بھر ہو جائے گا۔جس طرح شرپسند عناصر نے مظفر نگر،دیوبند اور آس پاس کے علاقوں میں فرقہ واریت کا زہر اگل کر لوگوں کو ناقابل تلا فی نقصان پہنچا یا ہے اس سے اب امن پسند لوگوں کو فکر لاحق ہو گئی ہے۔ انسانی زندگی میں ماحول کی ساز گاری قدم قدم پر ضروری اور لازم ہے،اگر ہم انسانیت کی بقا کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ہمیں مثالی بھائی چارہ، اخوت اور مساوات کا چلن عام کرنا ہو گا اور اس کے لیے مسلسل جدو جہد، کاوش اور محنت کرنا ہو ہوگی۔فادر جانسن نے کہا کہ سبھی مذاہب یہ تعلیم دیتے ہیں کہ انسانیت کا مذہب سے بڑا ہے۔ خدا نے ہمیں انسان بنایا ہے،ہمیں محبت کا پیغام لے کر ہی لوگوں کے درمیان جانا چا ہیے۔مولانا شرافت حسین کاظمی نے کہا کہ نفرت پھیلا نے وا لوں کا کوئی مذہب نہیں ہو تا ان کا کام صرف ماحول بگاڑ کر اپنی مراد پو ری کرنا ہو تا ہے۔ہمیں ایسے لوگوں سے ہو شیار رہنا ہوگا۔اپنے صدارتی خطبے میں ڈاکٹر دھرم دیواکر نے مختلف مذاہب میں موجود انسانیت کے پیغام پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہاجو لوگ مذاہب کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں وہ کبھی اپنے نا پاک ارادوں میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور ایسے لوگوں کی تعداد زیا دہ نہیں ہے۔بس ہمیں ایسے ماحول میں صبر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔جمہوریت مخالف فرقہ پرست عناصر اور سیا سی سازشیں ہمارے قومی اتحاد کو توڑ نہیں پائیں گی۔
اس موقع پر متعدد شا عروں نے حب الوطنی اور بھائی چارے کے تعلق سے اپنی تخلیقات پیش کیں جن میں سے ذیل کے اشعار کو سامعین نے خوب پسند کیا ؂
نگر نگر یہ اندھیروں کا سلسلہ کیوں ہے
کوئی بتائے چراغ وفا بجھا کیوں ہے
لکھی ہو ئی تھی جہاں داستاں رشتوں کی
بس ایک پل میں وہ چہرہ بدل گیا کیوں ہے
طالب زیدی
قائم رہے وطن میں امن اور بھائی چارہ
بھارت کی سر زمیں ہے گلستاں ہمارا
ڈاکٹر یو نس
وطن رہے تو سلامت وطن تجھے سلام
رہے جہاں میں اونچا تیرا مقام
ڈاکٹر یوسف
وہ ہندو ہے وہ مسلماں ہے وہ عیسائی
تو ایسی سوچ کے پنجرے سے کب رہا ہوگا
منہر
سیاست میں نہیں معلوم جن کو راستہ اپنا
ہمیں کیا ہو گیا ہے ہم انہیں رہبر سمجھتے ہیں
کشن سوروپ
کاش انسانیت انساں میں زندہ ہو جائے
آدمی آدمی کو اپنا درد بتلائے
میں تیری آ نکھوں میں خوا بوں کو بسا لوں اپنے
نماز میں بھی پڑوھوں تو بھی آرتی گا ئے
ڈاکٹر ایشور چند گمبھیر
اس مو قع پرنایاب زہرا زیدی، حاجی مشتاق سیفی، سلیم سیفی،سراج سیفی، شا ہد سیفی، گریش شکلا، شاہد چودھری،ماسٹر حامد، ارقم شجاع میرٹھی، رخسانہ عثمانی،عمائدین شہر اور کثیر تعداد میں طلبا و طالبات نے شر کت کی۔

’’ ادبی منچ ‘‘ نے ڈاکٹر لطف الرحمٰن کو خراجِ عقیدت پیش کیا : ممتاز شارق

  ’’ ادبی منچ ‘‘ نے ڈاکٹر لطف الرحمٰن کو خراجِ عقیدت پیش کیا

    ممتاز شارق
     صدر
     ادبی منچ ، جمشیدپور

                          اردو ادب کے نامور ناقد و شاعر ڈاکٹر لطف الرحمٰن کی یاد میں ’’ ادبی منچ ‘‘ جمشید پور کی جانب سے مدرس ہوم میں ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ موسلا دھار بارش کے باوجود کافی تعداد میں اہل ادب اور دانشوروران شہر موجود تھے۔ جلسہ کی صدارت سیّد رضا عباس رضوی چھبّن نے فرمائی۔ اس موقع پر برصغیر کی عظیم شخصیت ڈاکٹر لطف الرحمٰن کے ساتھ ساتھ خواجہ جاوید اختر کو بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ پروفیسر سید احمد شمیم نے اپنے عزیز دوست کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ لطف الرحمٰن سے صرف دوستی نہیں بلکہ آشنائی تھی۔ شاعر و ادیب کئی ہوتے ہیں مگر لوگوں کے دلوں میں کوئی کوئی ہی جگہ بنا پاتا ہے جس میں ڈاکٹر لطف الرحمٰن ایک ہیں۔ ‘‘ تقریب کی نقابت کرتے ہوئے ممتازشارق نے کہا کہ ’’ ڈاکٹر لطف الرحمٰن کا جمشید پور سے گہرا تعلق رہا ہے۔ جمشید پورکی کئی ادبی محفلوں میں شامل ہوئے ہیں۔ سیمینار میں انکی شمولیت پروگرام کی کامیابی کی دلیل مانی جاتی تھی۔ انہوں نے تقریباً ایک درجن سے زائد صرف تنقیدی کتابیں لکھی ہیں۔ صوبہ بہار کے سابق وزیر بھی رہ چکے تھے ‘‘ ۔ اسلم بدر ؔ نے کہا کہ انکے ساتھ میرا بہت کم وقت گذرا ، لیکن جتنا بھی گذرا میں ان سے بہت ہی متاثر رہا۔ انکی تحریر وں میں بُت شکنی پائی جاتی ہے۔ انکی نظموں سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ بلا شبہہ وہ ایک عظیم شخصیت تھی‘‘۔ ڈاکٹر افسر کاظمی کے ساتھ ادبی اور گھریلو تعلقات اس قدر گہرے تھے کہ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ’’ آخر میں بولوں تو کیا بولوں؟ کس موضوع پر بولوں؟ ہر موضوع پر ایک ایک داستاں بکھری پڑی ہے۔ فی الحال خراج عقیدت کے لئے انکے چند اشعار سنا کر سامعین کو محظوظ فرمایا۔ پروفیسرجاوید اختر انصاری نے کہا کہ ’’ صوبہ بہار میں فروغ اُردو کے لئے انہوں نے بہت کچھ کیا۔ ادبی اور سماجی خدمات کے ساتھ ساتھ مثبت سیاسی سوچ کے حامل تھے۔ انکے ظاہری اور باطنی شخصیت میں کہیں بھی تضاد نظر نہیں آتا۔‘‘ 
رضوان اورنگ آبادی نے فرما یا کہ ’’ ڈاکٹر صاحب کی تحریروں سے بے باکی اور سچائی جھلکتی ہے۔ ‘‘ بزرگ شاعر اسلم شیخ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ3؍ نومبر2012 کو میری کتاب کی اجراء کے لئے انہیں جمشید پور آنا تھا مگر آل انڈیا ریڈیو کے ایک انٹرویو کے سلسلے میں جو پہلے سے طئے تھا اس کی وجہہ سے نہیں آسکے جسکا مجھے افسوس ہے۔ ‘‘ مولانا عرفان کے دعائیہ کلمات کے ساتھ اس تعزیتی نشست کے اختتام کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پر خاص کر پروفیسر سلیم غوثی، ماسٹر شہاب الدین، اشفاق عالم ، علی حسین ( انجینئر) جمی عالم، متین الحق، صغیر احمد کے علاوہ شہر کے دانشوروں کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔***

ممتاز شارق
صدر
ادبی منچ ، جمشیدپور

اردو افسانہ فورم کے عالمی افسانہ میلہ کی ناقابل یقین پذیرائی : ابرار مجیب

  اردو افسانہ فورم کے عالمی افسانہ میلہ کی ناقابل یقین پذیرائی

  ابرار مجیب

 

                                اردو افسانہ فورم کے عالمی افسانہ میلہ کی ناقابل یقین پذیرائی اور کامیابی پر ہم فورم کے تمام ممبران ، میلہ کے شرکا افسانہ نگار ، تبصرہ نگار اور ناقدین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور انہیں مبارک باد پیش کرتے ہیں. افسانہ کے تعلق سے ہند و پاک میں ایک مایوسی کی فضا پائی جاتی ہے، اس بات کا اکثر رونا رویا جاتا ہے کہ شاعری نے اردو ادب کو اپنے شکنجے میں کس رکھا ہے اور افسانہ نگاری دم توڑ رہی ہے . اس کی بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ نۓ لکھنے والے سامنے نہیں آ رہے ہیں. لیکن عالمی افسانہ میلہ میں شریک ہونے والے تازہ واردان ادب کو دیکھیں تو یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ نئے لکھنے والوں کی کمی نہیں ہے. اتنی کثیر تعداد میں افسانہ نگار سامنے آئے ہیں کہ حیرت سے آنکھیں پھٹ جاتی ہیں. اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فنکاروں کے ابھر کر نہ آنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ نوجوانوں میں افسانہ نگاری سے بے رغبتی ہے بلکہ اردو کے ادبی رسالوں کی وہ برسوں پرانی فیوڈل ذہنیت ہے جس کے تحت نئے لکھنے والوں کو بہ مشکل ہی اس جنّت میں داخلہ ملتا ہے . اردو کے ادبی رسالوں کو اقربا پرستی اور تعلقات کی سطح سے بلند ہو کر تازہ اذہان کی دریافت کا کام کرنا چاہیئے، اسی طرح ناقدین کو بھی سیف گیم کی ذہنیت سے نکل کر نیے لکھنے والوں پر بھی لکھنے کا رسک لینا چاہیے. آپ کوئی بھی معتبر رسالہ اٹھا کر دیکھ لیں وہی چند پرانے نام بار بار نظر آئیں گے. من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو کا ماحول ہے سارا . کیا کوئی ہمیں بتائے گا کہ اس میلہ میں نیے ناموں کا ایک طوفان کیوں نظر آ رہا ہے. معیار کے لحاظ سے بھی یہ افسانے بہترین ہیں . اردو افسانہ فورم مذکورہ پس منظر میں عالمی افسانہ میلہ کو ایک کامیاب پروگرام تصور کرتا ہے .

یوں تو تمام احباب نے میلہ میں بڑھ چڑھ کر شراکت کی ، افسانے پڑھے، افسانے پیش کیے، بصیرت افروز تبصرے کئے. اس سلسلے میں ہم کچھ خاص دوستوں کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جو شروع سے آخر تک بیحد فعال رہے. ہم ان کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے اپنا افسانہ پیش کیا لیکن پھر لا پتہ ہو گئے. ہم ان مہمان خصوصی کے بطور خاص ممنون ہیں جنکے نام ہمارے بینر کی زینت تھے مگر وہ خود عا لم غیاب میں رہے. 
اردو افسانہ فورم آنے والے دنوں میں فن اور فنکار کے حوالے سے خصوصی مطالعات کا ایک نیا سلسلہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اگلے دو ہفتہ تک ہم فورم پر کوئی نیا افسانہ نہیں لگائیں گے، ان دوہفتوں میں میلہ میں پیش کئے گئے افسانوں پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری رہے گا، میلہ کے دوران کل 100 افسانے پیش کئے گئے۔
ہمیں امید ہے آپ کا تعاون ہمیں حاصل رہے گا.
اعلان کے مطابق آج ہم عالمی افسانہ میلہ کے اختتام کا اعلان کرتے ہیں. انتظامیہ ایک بار پھر آپکا انتہائی ممنون و مشکور ہے .

 ابرار مجیب

 

دلاور علی آزر کی شاعری : ایک جہانِ حیرت : ابرار مجیب

 دلاور علی آزر کی شاعری : ایک جہانِ حیرت
  ابرار مجیب

  جمشیدپور ، انڈیا

                               شاعری جہانِ حیرت کی تخلیق کا نام ہے۔ یہ جہانِ حیرت کیا ہے ؟ انسانی سطح پر شاعر کے تجربات و مشاہدات وہی ہیں جو ایک عام آدمی کے ہیں، وہ اسی دنیا میں سانس لیتا ہے ، آفتاب کے طلو ع و غروب کا نظارہ کرتا ہے۔ چاند کی ٹھندی کر نو ں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ ندیوں کی روانی اور ہو ا کی اٹھکھیلیاں ، زندگی کے سرد و گرم ، خوبصورتی اور بدصورتی، نفرت اور محبت ، موت و حیات کی کشمکش یہ سب کچھ کسی شاعر کے تجربات و مشاہدات کا بھی حصہ ہوتے ہیں ۔ آخر یہ تجربات و مشاہدات کس طرح ایک جہانِ حیرت میں ڈھل جاتے ہیں جب شاعری کی صورت اپنی جلوہ گری دکھاتے ہیں؟ کس طرح ہمیں ایک شعر اس محسوس دنیا سے نکا ل کر ایک ماوئرائی کائنات کی سرحدو ں میں داخل کر دیتا ہے۔ ایک ایسے تجربے سے گزارتا ہے جو نہ صر ف یہ کہ حیرتناک ہے ، پراسرار اور تفہیم کی اقلیم سے باہر بلکہ ہماری بصیرت اور بصارت پر ایک سوالیہ نشان لگاتا ہوا ہمیں اس چھوتھے کھونٹ میں داخل کردیتا ہے جو ہمارے لئے بالکل ایک نئی جہت ہوتی ہے۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی محض اس جہانِ رنگ و بو تک محدود نہیں بقول آزر زمیں کی تہہ سے نیا آسماں نکلتا ہے۔ شعر دیکھیں:

میں اپنی جستجو میں یہاں تک پہنچ گیا 
اب آئینہ ہی رہ گیا ہے درمیان میں
کس کے درمیان ہے یہ آئینہ؟ وہ کون سی جستجو ہے جس نے شاعر کو یہاں تک پہنچا دیا؟ ایک اسرار ہے اس شعر میں جو اسرار بھی ہے ، اور اس اسرار سے اٹھتے ہوئے پردے کا نظارہ بھی۔ یہی وہ دنیا ہے جو تمام حقیقتوں میں سب سے بڑی حقیت ہے اور خود اس حقیقت کا التباس بھی۔ دلاور علی آزر کی شاعری حقیقت اور اس کے التباس کی آمیزش سے خلق کردہ ایک جہانِ حیرت ہے۔

اس قبیلے میں کوئی عشق سے واقف ہی نہیں 
لوگ ہنستے ہیں مری چاک گریبانی پر
غزل کی روایت عشق اور اس سے ہم آہنگ واقعات و حادثات کے سلسلے سے وابستہ ہے۔ ’’ مضمون‘‘ جو کہ مشرقی شعریات کا بنیادی وصف ہے، شعری تجربے کے ایک نامختتم سلسلے کی عظیم داستان ہے۔ عشق شعری واردات میں تجرباتی سطح پر عہد بہ عہد اپنی صورت بدلتا رہا ہے ۔ اوپر جو شعر پیش کیا گیا ہے، ہمارے عہد کے ابھرتے ہوئے شاعر دلاور علی آزر کے مجموعہٗ کلام ’’پانی‘‘ کی ایک غزل سے ماخوذ ہے۔ یہ شعر وارداتِ عشق کو ایک بالکل مختلف تنا ظر میں پیش کرتا ہے۔ یہ لفظ کو مابعد الطبعیاتی تجربے میں ڈھالنے کا ہنر ہے لیکن یہ مابعد الطبیعات محض ایک غیر ارضی تجربہ نہیں ہے بلکہ انسانی فکر ومشاہدہ کی فلسفیانہ تاویل سے اس گہرا رشتہ ہے۔ عشق جب زندگی اور موت کی کش مکش میں ڈھل کر روحانی واردات بن جاتا ہے تو ارضی مابعد الطبیعاتی تجربے کا ظہور ہوتا ہے۔ دلاور علی آزر کی شاعری میں الفاظ کا معنوی نظام اسی ارضی وابستگی اور ما بعد الطبیعاتی فکر کی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ چند اشعار دیکھئیے ع

درونِ خواب نیا اک جہاں نکلتا ہے
زمیں کی تہہ سے کوئی آسماں نکلتا ہے

بھلا نظر میں بھی وہ آئے تو کس طرح آئے
مرا ستارہ پسِ کہکشاں نکلتا ہے

بدن کو چھوڑ ہی جانا ہے روح نے آزر
ہراک چراغ سے آخر دھواں نکلتا ہے 
دلاور علی آزر کی غزل کے یہ اشعار اور ان میں الفاظ و تراکیب کی دروبست اور ان کی معنویت پر غور کریں تو کوئی حیرانی سی حیرانی والی کیفیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ درونِ خواب۔۔۔۔۔ نیا جہاں۔۔۔۔ زمیں کی تہہ سے نکلتا آسماں۔۔۔ ستارہ پسِ کہکشاں نکلتا ہے۔۔۔۔ روح کا خروج، جیسے بجھتے چراغ کا دھواں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں الفاظ کو جس ترتیب سے میں نے پیش کیا ہے، معنویت کی انتہائی بلیغ سطح کا اظہار خود بخود ہوجاتا ہے۔ لیکن ارضی تجربات و مشاہدات کا مابعدا لطیعاتی منظر نامہ یہیں تک محدود نہیں۔شعری تجربے میں درونِ خواب ایک نئے جہان کی بازیافت جمالیاتی احساس کی ایک نہج ہے، لیکن جدید کائناتی علوم نے اسے ایک سائنسی حقیقت بھی بنادیا ہے۔ زمیں کی تہہ سے نئے آسماں کا نکلنا فلسفیانہ پس منظر میں وجود کا اثبات اور شکست و ریخت کی نفی ہے۔ زندگی کی معنویت اور امید ، اک نئے جہان کی بشارت ہے لیکن اس کی ایک دوسری نہیج جدید کاسمو لوجیکل ریسرچ کی روشنی میں ایک حقیقت کا حیرت انگیز انکشاف بھی ہے، اسی لئے میں دلاور علی آزر کی شعری کائنات کو ارضی مابعدالطبعیات سے منسوب کرتا ہوں۔ چند اشعار دیکھئے ع۔

چاروں سمتوں میں کوئی شئے بھی اگر ہے موجود
اس نے وہ لا کے گرانی ہے مرے کوزے میں

میں اپنی جستجو میں یہاں تک پہنچ گیا
اب آئینہ ہی رہ گیا ہے درمیان میں

منظر بھٹک رہے ہیں دروبام کے قریب
میں سورہا تھا خواب کے پچھلے مکان میں

لاکھ ترتیب کئے جاتے ہوں مٹی سے چراغ
کوزہ گر مان یہ گارہ نہیں روشن ہونا
اردو غزل کو بعض شدت پسند ناقدین نے اس لئے معتوب قرار دیا کہ غزل میں فکری تسلسل کا فقدان ہوتا ہے۔ فکر میں کوئی ارتقائی آہنگ نہ ہونے کی وجہہ سے غزل وحشت کا سماں پیش کرتی ہے، غزل کی معنویت کا تعین ممکن نہیں لیکن جدید تھیوری نے ان اعتراضات کی قلعی کھول دی ہے کہ معنی کی تجسیم کل میں نہیں جز میں ہوتی ہے۔ جیسے جوہر کا وجود مرکزہ کے وجود سے ہم آہنگ ہے اور مرکزہ کا انتشار توانائی کے اخراج کی صورت ظہور پذیر ہوتا ہے، یہی توانائی شعر کی اکائی میں معنویت کی حامل ہے۔ دلاور علی آزر غزل کی کلاسیکی روایت کے عین مطابق کل سے جز کی طرف سفر کرتے ہیں اور اشعار میں معنویت کی توانائی کو خلق کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ جہانِ آبِ گلِ اور سماوی مابعدالطیعاتی تجربات سے گزر کر تخئیل اور حقیقت کی آمیزش سے ایک ایسا جہان وجود میں لاتے ہیں جو معنی سطح پر جوہر کے مرکزہ کے مشابہ ہے اور پھر یہ مرکزہ بھی تحلیل ہوکر معنی کے فشار کی صورت نمو پذیر ہوتا ہے۔

اک لہر یہاں آتی ہے نیندوں کے سفر پر
اور خواب اترتا ہے سفینے سے ہمارا

سوچا ہے کہ دریافت کریں گے نئی دنیا
جی اوبھ گیا قصد میں جینے سے ہمارا

اک دن جو یونہی پردہٗ افلاک اٹھایا
برپا تھا تماشا کوئی تنہائی سے آگے
دلاور علی آزر کے یہاں عشق ایک بالکل مختلف سطح پر نظر آتا ہے۔ عشق کا مفہوم بے حد وسیع ہے۔ یہاں عشق محبوب کی دلجوئی کی بجائے محبوب سے بے نیازی کی کیفیت کا بیان ہے۔ دلاور علی آزر عشق کو ارضی واردات کی پناہوں سے نکال کر ایک کائناتی حقیقت میں بدل دیتے ہیں۔ عاشق ومعشوق کا روایتی تصور دلاور کی شاعری میں منہدم ہوتا نظر آتا ہے۔ دلاور علی آزر کا معشوق لاموجود ہے، اور شاعر کا عشق ما بعد الطبیعاتی تجربے کی وہ انتہا ہے کہ لاموجود ، موجود نظر آتا ہے۔ ان اشعار میں تخئیل کی تجسیم اور فکری ماوٗرائیت ایک ٹھوس شکل اختیار کرتی نظر آتی ہے جیسے مصور نے تخئیل کو ہو بہو پینٹ کردیا ہو۔ لیکن ماوٗرائی تخئیل کا اسرار ہرگز فنا نہیں ہوتا۔ نامعلوم معلوم کی سرحدوں میں داخل ہوجاتا ہے اور حقیقت اور فسانے کی تفریق ناممکن ہوجاتی ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں ۔ ع

سب دیکھ رہی تھی پسِ دیوار وہ جو کچھ
تھی چشمِ تما شائی تما شا ئی سے آگے

ہوتی ہے نیند میں کہیں تشکیل خد وخال
اٹھتا ہوں اپنے خواب کا چہرہ اٹھا کے میں

اور کہاں خاک مری خاک سے نکلا ہوگا
کچھ گماں ہے بھی تو ادراک سے نکلا ہوگا

ایک لمحے کے لئے تنہا نہیں ہونے دیتا
خود کو اپنے ساتھ رکھا جس جہاں کی سیر کی
دلاور علی آزر کے مجموعہ کلام ’’پانی‘‘ کی معنویت پر جب میں نے غور کیا تو فورا’’ زندگی کا خیال آیا کہ پانی اور زندگی لازم ملزوم ہیں۔ عہد نامہ عتیق تخلیق سے قبل خدا پانیوں پر سانس لیتا تھا، جدید سائنس نے کہا کہ زندگی کی تخلیق پانی کی رہین منت ہے یعنی پانی زندگی ہے۔ پانی جس کا رنگ ہے نہ روپ، چاہے جس رنگ میں رنگ لو، جس روپ میں ڈھال لو۔ دلاور علی کی شاعری بھی پانی کے مزاج سے پوری طرح ہم آہنگ ہے، جدید تنقیدی افکار کی روشنی میں معنی کوئی جامد شئے نہیں ہے بلکہ سیال ہے، اچھے شعر کی اور خوبیوں کے علاوہ ایک خوبی یہ بھی ہے وہ معنوی سطح پر تکثیری مزاج رکھتا ہو۔ معنی کا ادراک بھی ان الفاظ سے نہ ہو جو شاعر نے لکھے ہیں بلکہ شاعر کی عظمت اس بات میں پوشیدہ ہے کہ وہ معنی کی کائنات کو ان خلاٗ میں روشن کرنے میں کامیاب ہوسکا ہے یا نہیں جسے بین السطور کہتے ہیں۔ شعر کے ان کہے اسپیس میں معنی کی بنت کاری ہرکس وناکس کے بس کی بات نہیں یہ وہی کرسکتا ہے جس نے شاعری کے دشت کی سیاحی میں دماغ کا تیل اور جگر کا خون جلایا ہو۔ اس پس منظر میں دلاور علی آزر کے یہاں بین السطور موجود معنوی کائنات ایک جھلک مندرجہ ذیل اشعار میں دیکھیں۔ع۔

میں ازل سے جل رہا ہوں از سرِ طاقِ ابد
اور بدن کی داستاں تک آگ روشن ہے مری

پاوٗں کے نیچے تھی زمین ابھی
آسماں بھی یہیں کہیں پر تھا

پاوٗں رکھتا ہوا ستاروں پر
میں پسِ کہکشاں چلا جاوٗں

زمیں سے کوئی تعلق نہ آسمان سے ہے
مرا خمیر کسی تیسرے جہان سے ہے

کس نے بدن کے طاقچے کو رنگ بخشا سرمئی
کون صحرا کو سنہرے سائباں تک لے گیا

خام لفظوں سے میں یہ تصویر بنا سکتا ہوں
عین ممکن ہے مجھے مصرعہٗ تر مل جائے
آئیے دلاور علی آزر کے خلق کردہ جہان حیرت کے ایک اور در کو وا کریں جہاں خواب بستے ہیں۔ خواب آزر کی شاعری میں ایک کلیدی لفظ ہے جو تواتر کے ساتھ آتا ہے۔ نفیساتی تجزیہ کی رو سے خواب دیکھنے کا عمل نیند سے فرار کی صورت ہے۔ یعنی مکمل نیند جسے عرصہٗ غفلت بھی کہتے ہیں خواب سے لاتعلق ہوتی ہے، خواب شعور اور لاشعور کے بین بین ہے، اور اسی نیم بیداری میں خواب کا نزول ہوتا ہے، شعور خواب سے برسر پیکار بیدار ہوتا ہے۔ دلاور کی شاعری میں خواب کوئی ناسٹلجیا نہیں ہے جو تاریخ کے نہاں خانوں سے نکل ذہن پر سوار ہوجائے۔ ماضی کے بوسیدہ محل سے نکل کر زہن کو غنودگی کے عالم میں بے دست وپا کرنے والے خواب موجود کی نفی کا اعلامیہ ہوتے ہیں۔ پانی کو زندگی کا استعارہ قرار دینے والا شاعر ایسے خواب نہیں دیکھتا۔ قابل غور بات یہ ہے دلاور علی آزر کی شاعری میں متواتر خواب کا ذکر کیوں ہے؟ کیا یہ عصر حاضر کے مسخ شدہ چہرے، آگ وخون کے خوفناک مناظر اور زندگی کی بے اعتباری ، مکروفریب کے جنگل سے گزرتے ہوئے ایک نئی صبح کے امکان کے خواب ہیں۔ ان اشعار سے ان سوالات کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ ع
درونِ خواب نیا اک جہاں نکلتا ہے
زمیں کی تہہ سے کوئی آسماں نکلتا ہے

اک لہر یہاں آتی ہے نیندوں کے سفر پر
اور خواب اترتا ہے سفینے سے ہمارا

منظر سے ادھر خواب کی پسپائی سے آگے
میں دیکھ رہا ہوں حدِ بینائی سے آگے

یک بہ یک خواب کھلے خواب میں ہو نیل پری
اچھی لگتی ہے مجھے کیفیتِ بے خبری

ہوتی ہے نیند میں کہیں تشکیل خدوخال
اٹھتا ہوں اپنے خواب کا چہرہ اٹھا کے میں

نیند سے جاگے ہیں کوئی خواب بھی دیکھا ہے کیا
دیکھا ہے تو بولیے شب بھر کہا ں کی سیر کی

یہ خواب ہے جسے جاگتے ہوئے دیکھوں
یہ آئینہ جو مرے چار سو کیا گیا ہے

دلاور علی آزر کا جہان حیرت خواب کی حقیقت کا سفر ہے جہان زندگی بے کراں پانیوں میں سانسیں لیتی ہے۔ اردو شاعری کے عصری منظر نامے میں آزر کی شاعری ایک خوشگوار واقعہ ہے، ایک تازہ جہانِ حیرت، جذب پانی جس سے زندگی کو نمو ہے۔
لہریں کچھ اس طرح سے دمکتی ہیں رات بھر
روشن ہوا ہو جیسے تہہَ آب اک چراغ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابرار مجیب
جمشیدپور ، انڈیا