پاپی پیٹ کا سوال : ڈاکٹر آصف علی
ڈاکٹر آصف علی
شعبۂ اردو
چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی
میرٹھ
پاپی پیٹ کا سوال
افسا نہ عالمی ادب کی سب سے مقبول صنف ہے ،اُسے اردو کے نثری ادب میں وہی حیثیت حا صل ہے جو شعری اصناف میں غزل کو۔ ادب کے اس دور انحطاط میں بھی غزل ہی کی طرح اس کے قارئین اور تخلیق کاروں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ غزل کی طرح افسانہ بھی زندگی کے کسی ایک گو شے، واقعے یا کسی ایک نفسیاتی حقیقت کو پیش کرتا ہے مگر اس کے پس منظر میں معنی کا ایک پو را جہاں آ باد ہو تا ہے جو بڑے بڑے عصری مسائل کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔لیکن افسا نے میں تاثر اسی وقت پیدا ہو سکتا ہے جب وہ حقیقت سے قریب تر ہو۔ بعض حضرات موضوع کے اچھوتے پن کو افسا نے کی کا میابی کی دلیل مانتے ہیں جو غا لباً صحیح نہیں کیوں کہ بے شمار ایسی مثا لیں موجود ہیں ۔کہ ادیبوں نے اپنے گہرے مطالعے وسیع مشا ہدے اور عمیق تجربے کی بنیا د پر عام اور بالکل سامنے کے موضو عات کو اچھو تا اور بے مثال بنا دیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تا تو ما دھو، گھیسو، بدھیااورہو ری یا کسا نوں کے مسائل، مزدوروں کی پریشانیاں ،گھریلو الجھنیں، مہنگائی و بے رو زگاری کے بھوت ، سماجی نا برا بری اور شادی بیاہ کے حو صلہ شکن سودے جیسے عام مو ضوعات کبھی افسا نے کی تاریخ کی معراج نہیں بن سکتے تھے۔
گویاکوئی ادیب جب روز مرہ کے حادثات کا محض مشاہدہ کر نے کے بجائے ان کے کرب کو اپنے اندر جذب کر کے اپنی قوت متخیلہ کے ذریعے حقیقت کا ادراک کرادے تو وہ لافا نی بن جاتا ہے اور ایسا ہی کو ئی ایک فن پاری تخلیق کار کو امر بھی بنا دیتا ہے۔
مہتاب عالم پرویز کا زیر تبصرہ افسانہ ’’رشتے کی بنیاد‘‘ مجھے اسی قبیل کا نظر آ تا ہے ۔کیوں کہ میں مصنف سے نہ تو ذا تی طور پر واقف ہوں اور نہ ہی اپنی بدقسمتی سے ان کی دیگر تخلیقات پڑھ سکا ہوں ۔مجھے یہ بھی علم نہیں کہ ان کا نسلی و ادبی جغرا فیہ کیا ہے؟ اور انہوں نے ادب کی دیوی کے کن کن پہلوؤں کو منور کر کے اپنا ادبی قد کتنا بلند کر لیا ہے۔مجھے تو محض ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری کے ذریعے ان کی کی یہ کہا نی پڑھنے کو ملی تھی جس کی بنیاد پر محض یہ قیاس کرسکتا ہوں کہ ان کا ادبی قد کافی بلند ہوگا۔ کیوں کہ انہوں نے اپنی اس کہا نی میں اعلیٰ اخلا قی قدروں کی پامالی اور انسانی غلبہ سماج میں عورتوں کے استحصال کے اس عام موضوع کے بطن میں چھپے کرب کو جس انو کھے انداز میں بیان کیا ہے وہ کافی مشاق اور منجھے ہو ئے فن کا ر کا ہی حصہ ہے۔ کیوں کہ عموماً افسانہ نگار تین مرا حل سے گذرنے کے بعد ہی صحیح معنی میں افسا نہ نگار بنتا ہے۔ وہ پہلے رو مانی کہانیوں اور عام دلچسپی کے چھوٹے موٹے روایتی واقعات پر ہاتھ صا ف کرتا ہے پھر رفتہ رفتہ اس کے مزاج میں تبدیلی آ تی جاتی ہے اور عصری موضو عات حا وی ہونے لگتے ہیں تب کہیں جاکر وہ منزل آ تی ہے کہ وہ فن کار ان موضوعات میں کوئی اچھوتا یا نادر رنگ بھرنے میں کامیاب ہو تا ہے۔’’رشتے کی بنیاد‘‘ میں مجھے اس کا تخلیق کا ر اسی تیسرے درجے پر فائز نظر آ تا ہے۔
جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ یہ کہانی عورت کے استحصال کی ایک عام کہا نی دکھا ئی دیتی ہے ۔ کہا نی کے مرکزی کردار نوری کے باپ عالم صا حب ایک عام کہا نی کے کرداروں کی طرح غریب اور ایماندار ہیں ،جو بینک کی معمولی ملازمت سے اپنے اور اپنی ا ہلیہ و بچی کے جسم و جاں کے رشتے کو کسی طرح با قی رکھے ہو ئے ہیں۔ لیکن آسمان کج رفتار کو یہ بھی گوارا نہیں ہو تا اور وہ نوری پر اپنا دائرہ مزید تنگ کردیتا ہے۔ پہلے عالم صا حب فالج کے حملے میں اپنے دو نوں پیروں سے معذور ہو کر صا حب فراش ہو جاتے ہیں اور پھر نو ری کی ماں رشیدہ گھر کا تمام اثاثہ علا ج و معالجے پر خرچ کر دیتی ہے۔کھلنے والی کلی کی طرح گداز ہو تی نو ری کی قربت حا صل کرنے کے لیے مدد کے لیے بہت سے ہاتھ آ گے آ تے ہیں جو رفتہ رفتہ رشیدہ اور نوری کی بے اعتنائی سے نہ صرف پیچھے ہٹ جاتے ہیں بلکہ دی ہو ئی مدد پر دوگنے تین گنے بیاج کا مطالبہ کر کے ماں بیٹی کو اپنے مطالبات ماننے کے لیے مجبور کرنا چاہتے ہیں ۔انور ان سب میں سبقت لے کر سینہ زوری پر اتر آ تا ہے جس کی تاب نہ لاکر بالآخر رشیدہ اللہ کو پیاری ہو جاتی ہے۔
یہاں تک کہانی بالکل ایک عام روایتی انداز کے مطابق آ گے بڑھتی ہے اور اپنا کوئی خاص تاثر نہیں چھوڑتی۔لیکن کہا نی کے اختتا م سے قبل یہ جملے :
’’نو ری کا سر چکرا نے لگا ۔اس نے یہ کبھی نہیں سو چا تھا کہ زندگی کا مختصر سا فاصلہ طے کرنے کے لیے ایک باپ اپنی بیٹی کے بدن سے اس کا آ خری لباس تک نوچنے کی سازش کرے گا۔ ‘‘
’’نوری……‘‘
بڈھے نے کھانے وا لی نظروں سے نوری کی طرف دیکھا اور گرجا ’’اس گھر میں تمہاری نہیں بلکہ میری مرضی چلے گی۔سمجھی، میں جو کہوں گا تمہیں وہی کرنا ہوگا۔‘‘
قاری کے سامنے معنی کا ایک نیا جہان آ باد کرتے ہیں اور اس کا ذہن اپنے آس پاس ہو نے وا لے روز مرہ واقعات اور اخبارات میں بھری ان جیسی خبروں کی بھول بھلیوں میں بھٹکتے بھٹکتے سماج میں پھیلی برائیوں اور اخلا قی قدروں کی پامالی کی اصل تہہ تک پہنچ جاتا ہے۔ اس سلسلے میں کہا نی کے یہ دو جملے :
’’ میں اب کسی کام کا نہیں رہا کہ ایک وقت کی روٹی بھی جٹا سکوں ۔‘‘
’’اور اگر یہ سب نہیں کرسکتیں تو کھاؤ گی کہاں سے۔‘‘
قاری کی بڑی مدد کرتے ہیں اور وہ شدت سے یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ اگر خدا سے دن بہ دن درکتے انسانی اعتماد کے رشتے کی بنیادوں کو اگر فوراً استوار نہ کیا گیا تو خدا کی بنا ئی یہ خوبصورت دنیا مزید جہنم کا نمو نہ بن جائے گی۔
کہا نی اس کے بعد اور آ گے چلتی ہے ۔لیکن میرے نزدیک کہا نی کا اگلا پو را پیرا گراف کہانی کو کہانی کی ماہیت سے دور لے جاتا ہے۔ کیوں کہ جب وہ یہ کہتا ہے کہ :
’’ایک باپ اپنی بیٹی کے لیے یہ نہیں چاہتا کہ اس کی عزت خاک میں ملا دی جائے ۔کاش …….آپ عورتوں کے مقام کو پہچانتے ۔ ہم عورتوں کا سب سے قیمتی سرمایہ ہماری عزت ہے اور سا تھ ہی والدین کی بھی، گلاب کی پنکھڑیوں جیسی ملا ئم اور نازک ہماری ہستی ہے ایک بار بھی اگر ہماری عزت پر دھبہ لگ گیا تو زندگی بھر رو نا مقدر ہو جاتا ہے۔‘‘
تو وہ تخلیق کار کے منصب سے ہٹ کر واعظ کی مسند پر براجمان نظر آتا ہے ۔البتہ دوسرے پیرا گراف میں کہا نی دو بارہ اپنی اصل کی طرف لوٹ آتی ہے اور اخلا قیات کے زوال آ مادہ اس دور میں بھی عورت کا وہ روپ پیش کرتی ہے جو دنیا وی تمام اشیا سے مقدس ہے یعنی وہ گو ہر آ برو کو برباد کر نے کی بجائے موت کو گلے لگانا پسند کر تی ہے۔اور کہتی ہے :
’’ دیکھئے ،میں بھوکی مر جاؤں گی…….مگر اپنی عزت کا سودا نہیں کرسکتی۔میری زندگی پر آ پ کا حق ہے ،میری موت پر تو نہیں۔میں موت کو گلے لگا لوں گی……مگر…… ‘‘
مگر صنف نا زک کے تقدس ،اولوالعزمی اور برا بری کا بکھان کر نے وا لا اکیسویں صدی کا یہ مرد بھی اسے عملاکمزور ، ناتواں ،صرف زبان کا غازی اور دوسرے درجے کی مخلوق سمجھتا ہے۔ اور وہ اپنی خود ساختہ برتری کے زعم میں ایسا فرعون ہو جاتا ہے کہ اپنی خطا ؤں اور زیا دتیوں سے تو بہ کرنے کی بجائے بیٹی کے معصوم جذبات کو محض ایک طفلا نہ دھمکی سمجھتا ہے ۔لیکن اگلے ہی لمحے حیا کی دیوی کا پختہ عزم عملی شکل میں سامنے آ تا ہے تو :
’’عالم صاحب کے ہا تھوں سے بیساکھیاں چھوٹ کرگر پڑیں اور وہ پھٹی آنکھوں سے نوری کو گھورنے
لگے……….پیٹ کے کنویں میں پھر کوئی بھاری چٹان گر پڑی تھی،جس کی وجہ سے ان کے سا رے وجود میں زلزلے کے آ ثار پیدا ہو گئے۔
کمرے کا اندھیرا اس قدر گھنا ہو چکا ہے کہ اب کوئی بھی رو شنی اس میں اجالا نہیں کر سکتی۔ ‘‘
صرف عالم صاحب کی کہا نی نہ رہ کر پو رے عالم کی کہا نی بن جاتی ہے اور اس کھو کھلے مہذب سماج کے سامنے یہ سوال کھڑا کر دیتی ہے کہ اس اکیسویں صدی میں عورتوں کے ساتھ نا انصا فی اور جبرو استحصال کے بڑھتے گراف کا آخر جواز کیا ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم عورت کے حقوق کی بحا لی اور اس کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹ کر اسے دور جاہلیت سے بھی زیا دہ سخت امتحان میں تو مبتلا نہیں کررہے ہیں ۔
کسی کہانی میں مختلف شیڈز کے بر آ مد ہو نے کوبھی کہانی کی کامیابی کی علا مت سمجھاجاتا ہے۔ میرے نزدیک انسان کی ضعیف الاعتقادی اور عورت کے استحصال کے علا وہ کہا نی کے یہ جملے:
’’شام کے لیے چاول تو نہ ہو ں گے، دو دن سے اب انور بھی نہیں آیا۔‘‘
بوڑھے کی آواز میں ایسی تھرتھرا ہٹ تھی جیسے پیٹ کے خالی کنویں میں بہت بھا ری چٹان پھینکنے کی دھمک گونج رہی ہو ۔‘‘
پیٹ کے کنویں میں پھر کوئی بھا ری چٹان گر پڑی تھی جس کی وجہ سے ان کے سارے وجود میں زلزلے کے آثار پیدا ہو گئے ۔‘‘
کہا نی کا ایک تیسرا رنگ سامنے لاتے ہیں ،جس کے آ گے سارے رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں اور وہ رنگ ہیں……پاپی پیٹ کا سوال……..اور یہ سوال کل بھی تھا ، آج بھی ہے اور کل بھی اسی طرح باقی رہے گا اور جب تک یہ سوال باقی رہے گا۔کہا نیاں اسی طرح نئے نئے روپ میں جنم لیتی رہیں گی۔
کہا نی کی زبان سادہ ، سلیس اور عام فہم ضرور ہے لیکن اس میں زنجیر کی کڑیوں جیسا منطقی ربط موجود نہیں ہے۔عبارت میں کہیں کہیں الفاظ یا جملے کم بھی کر دیے جائیں تو اس کے تسلسل اور روا نی میں کمی نہیں آ ئے گی۔
مختصر طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مہتاب عالم پرویز ؔ کی یہ کہا نی ایک اچھی کہا نی ہے جو سماج کے کئی سلگتے موضوعات کو سامنے لاتی اور سادہ نگاری کا نمو نہ پیش کرتی ہے۔
***
ڈاکٹر آصف علی
شعبۂ اردو
چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی
میرٹھ
گورنر آف جھارکھنڈ نے ڈاکٹر اخترآزاد کو’بیسٹ کریئٹوفکشن رائٹر‘ کے اعزاز سے نوازا
گورنر آف جھارکھنڈ نے ڈاکٹر اخترآزاد کو’’بیسٹ کریئٹوفکشن رائٹر‘ کے اعزاز سے نوازا
(جمشیدپور۔۲۰؍اگست۲۰۱۳ء)
۱۹؍ ستمبر کو راج بھون (رانچی)میں نئی نسل کے اہم افسانہ نگارو ناول نگار ڈاکٹر اختر آزادکی فکشن میں نمایاں کارکردگی کو دیکھتے ہوئے جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ عزّت مآب عالی جناب ڈاکٹر سیّد احمد نے انہیں’’بیسٹ کریئٹیوفکشن رائٹر ‘‘ کے لئے گورنر مومینٹو سے نوازا۔یہ پہلا موقع ہے جب جھارکھنڈ کے گورنر نے جمشید پور کے ادیب کی اس طرح سے حوصلہ افزائی کی ہے ۔ اس موقع پر اختر آزاد کا ناول ’’لیمی نیٹیڈ گرل‘(جھارکھنڈ کے قیام کے بعدیہ اردو کا پہلا ناول ہے)‘کی رسم رونُمائی بھی ہوئی ۔دریں اثناڈاکٹراختر آزادکے فن اورشخصیّت پر پروفیسر منظر حسین (رانچی یونیورسِٹی )نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ اس سے قبل اختر آزاد کو مرکزی حکومت کے زیر سایہ پروان چڑھ رہے۔’’ اردوہیری ٹیج کارواں ‘‘کی جانب سے سعادت حسن منٹو کی صدسالہ تقریبات کے موقع پر ’’انڈیا انٹر نیشنل سِنٹر‘‘ دہلی میں مرکزی وزیر کپل سبّل کے ہاتھوں پہلا ’’سعادت حسن منٹو ایوارڈ ۔ینگ ٹلینٹ فار اردو پروز‘‘ ۱۹ ؍ ستمبرکو دیا گیا تھا ۔ اس کے علاوہ درجنوں اعزازات و انعامات اختر آزاد کے نام ہیں ۔* شکیلہ اختر ایوارڈ ۔۲۰۱۱ء ’بہار اردو اکیڈمی‘ کی جانب سے ،برائے تخلیقی ادب۔ افسانوی مجموعہ ’’ سونامی کو آنے دو‘‘ کے لئے۔* ادارہ ’’ شائقینِ ادب‘‘ اعزاز ( ۳۰؍ مئی ۲۰۱۲ اور۲؍جولائی 2013) ’’چودھری چرن سنگھ یونیورسِٹی اعزاز‘‘ : (مجموعی خدمات)2102(۲۰؍ ستمبر ۲۰۱۲ء )*’’حسن عسکری ایوارڈ‘‘ بہار اردو اکیڈمی ،2006-2007) کے لئے) برائے تصنیف ’’ منظر کاظمی کے افسانوں کا تنقیدی جائزہ ‘‘ کے لئے (2011)میں ملا۔ * ادارہ ’’ شائقینِ ادب‘‘ اعزاز (۲۹؍مئی 2011) (مجموعی خدمات )* ’’ منظر کاظمی پرائڈ آف پرفارمینس ایوارڈ‘‘۔۱۸؍ فروری 2011(اردو قبیلہ ، جمشید پور)* ’’ شیلڈ آف آنر ‘‘ بدست وائس چانسلرمیرٹھ یونیورسٹی۔ ( 2010)* ’’ ہِم کلا سنگم ساہتیہ سمّان‘‘ ہماچل پردیش 2009- (’’ہم کہاں جائیں ….؟ ‘‘ ہندی کہانی سنگرہ کے لئے۲۰۱۰ء میں دیا گیا )* ’’لدارچا سمّان ‘‘ ( لاہول اسپیتی، ہماچل پردیش ۔ 2006)(لدارچا فیئر کے موقع پر۔ ۱۹؍ اگست ۲۰۰۵ء)* ’’بہار اردو اکاڈمی ایوارڈ‘‘۔2005 کے لئے( افسانوں کا مجموعہ ’’ایک سمپورن انسان کی گاتھا ‘‘ کے لئے )سال 2007میں ملا ۔
اختر آزاد کوگورنر آف جھارکھنڈ سے اتنے بڑے اعزاز کے ملنے پر شہرکے ادب نوازوں میں خوشی کا ماحول ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمّد زکریا ۔ پرنسپل کریم سِٹی کالج ،پروفیسر سیّد احمد شمیم ، اسلم بدر،پروفیسر احمد بدر، پروفیسر افسر کاظمی، ڈاکٹر اسلم جمشید پوری ، زین رامش، عبدالستّار ،تنویر اختر رومانی ،اشرف علی اشرف ، مہتاب انور، سعید فردوسی،ممتاز شارق، منظر کلیم ، مہتاب عالم پرویز ، نیاز اختر،ڈاکٹر آفاق اختر ،اصغر امام اشک، اورشاکر عظیم آبادی نے اختر آزاد کو مبارک باد سے نوازا ۔
رپورٹ :۔ منظر کلیم
آر ایس ٹیو ٹو ریل کا ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری کے دست مبا رک سے افتتاح
آر ایس ٹیو ٹو ریل کا ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری کے دست مبا رک سے افتتاح
(پریس ریلیز)
میرٹھ20؍ اگست2013ء
’’تعلیم کو عام کرنا ہمارا دینی اور دنیا وی فریضہ ہے۔ ہم پر غیر تعلیم یافتہ لوگوں کو علم کی دولت سے مالا مال کر نے کی ذمہ داری ہے۔ علم کا حصول اسی وقت مکمل ہو تا ہے جب ہم سیکھے ہو ئے علم کو دوسروں تک پہنچا دیں۔‘‘ یہ الفاظ ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری کے تھے۔وہ ذا کر کالونی ، میرٹھ میں وا قع آر ایس ٹیو ٹو ریل کا بطور مہمان خصوصی افتتاح کررہے تھے۔
ڈا کٹر اسلم نے مزید کہا کہ کو چنگ اور ٹیوٹو ریل کلا سز بھی سماج میں بڑی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ ہر کوچنگ سینٹر پر ایک لائبریری اور انفارمیشن سینٹر ہو نے چاہےءں تاکہ طالب علموں اور عام لوگوں کو بھی مستفید ہونے کے موا قع مل سکیں۔
اس مو قع پر کو چنگ کے ڈا ئریکٹر رئیس الدین سیفی نے مہمانوں کا استقبال کیا اور کو چنگ کے طور پر طلباء کو بہتر سہولتیں فراہم کر نے کا وعدہ کیا۔ پرو گرام کی نظا مت اطہر خان نے کی۔ صدارت محترم حفیظ احمد نے کی۔ انہوں نے اس موقع پر رئیس الدین صاحب کی کو ششوں کو سرا ہا۔
افتتاح کے مو قع پر وشال ارو ڑہ، مدثر علی، راشد سیفی، شائستہ سیفی، یمن سر، گگن سر، پنکج اطہر سر اور طلباو طالبات نے شر کت کی۔
” عالمی افسانہ میلہ "
” عالمی افسانہ میلہ "
معزز خواتین و حضرات
15سے 31 اگست تک اردو افسانہ فورم میں ” عالمی افسانہ میلہ ” کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ جس میں دنیا بھر سے افسانہ نگار حصہ لے رہے ہیں ۔ آپکو بھی اس میں شمولیت کی باقاعدہ دعوت دی جاتی ہے ۔ امید ہے آپ اس میلہ میں بھرپور شرکت فرمائیں گے ۔ براہ کرم میلہ کے قواعد و ضوابط دیکھ لیجیئے ۔
سب سے پہلے تو اس بات کے لئے معذرت قبول کیجیے کہ افسانہ میلہ کے دوران افسانے کے علاوہ کسی بھی قسم کی کوئی اور پوسٹ فورم پر اپروو نہ کی جائیگی۔
قواعد و ضوابط
1۔ ” عالمی افسانہ میلہ ” کے دوران ہر افسانہ نگارکو اپنا ایک ہی افسانہ پیش کرنے کی اجازت ہے۔ براہ کرم ہمیں افسانہ دیتے وقت اس کے ساتھ یہ ضرور لکھیں ۔ افسانہ برائے عالمی میلہ ، افسانے کا نام ، آپکا اپنا نام ، شہر اور ملک کا نام ۔
2۔ آپ ابھی سے افسانہ میلہ کے لیئے اپنے افسانے براہ راست فورم کی وال پر پوسٹ کر سکتے ہیں (آپ جو افسانہ فورم کی وال پر پیش کرینگے اسے اپروو کرنے سے پہلے اس کے لیئے ہم ایک بینر بنائیں گے ، جس پرآپکی پروفائل پکچر ، افسانے کا نام ، آپکا اپنا نام ، شہر اور ملک کا نام جلی حروف میں لکھ کر اسے فورم پر پیش کریں گے۔
3۔ براہ کرم اپنا افسانہ ٹائپ کر کے پیش کریں ، تصویر یا لنک کی صورت میں نہ ہو۔
4۔ اس میلہ کا مقصد اردو افسانے کی ترویج و ترقی اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہے لہذا سینیئرز کی ذمہ داری ہے کہ نئے لکھنے والوں کی خامیاں بتانے کے ساتھ ساتھ انکی حوصلہ افزائی بھی کریں ۔ اسی طرح جیسے آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپکی تخلیق پر سب رائے دیں تو یاد رکھیں دوسرے بھی آپ سے اسی توجہ کے متقاضی ہیں ۔ امید ہے آپ عالمی میلہ میں پیش ہونے والے افسانوں پر اپنی گرانقدر آراء سے ضرور نوازیں گے۔
منجانب
انتظامیہ اردو افسانہ فورم
اقبال حسن آزاد ، محمد ابرار مجیب ، منیر احمد فردوس ، نورالعین ساحرہ، وحید احمد قمر
مشرقی اور مغربی سماجیات و فلسفہ پر گہری نظر : فاروق ارگلی
فاروق ارگلی
25، گنیش پارک، رشید مارکیٹ
دہلی۔51
مشرقی اور مغربی سماجیات و فلسفہ پر گہری نظر
اربابِ نقد و نظر کی آراء اور جانچ پرکھ سے قطع نظر یہ بات پوری ادبی ذمہ داری کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ مہتاب عالم پرویز ؔ کے افسانے اپنی تخلیقیت، زبان و بیان اور اثرپذیری کے تناظرمیں عصری اُردو فکشن میں مثبت اہم اور خوش آئند اضافہ ہیں۔ مہتاب عالم کے اوّلین افسانوی مجموعے ’’ریت پر کھینچی ہوئی لکیر‘‘ میں شامل صرف پندرہ افسانے اور پانچ افسانچے پڑھنے والے کو یہ باور کرا دیتے ہیں کہ مصنف کا تخلیقی اور فکری اُفق، وسیع، انسانی و سماجی شعور پختہ اور اسلوبِ نگارش بلیغ و دل پذیرہیں۔ مہتاب عالم پرویز ؔ اپنے گردوپیش کے جیتے جاگتے کرداروں کے غموں، مسرتوں، حسرتوں ، آرزوؤں اور جذبوں کو کہانیوں میں پروکر اتنی سچائی اور ایمانداری سے بیان کرتے ہیں کہ انسانی احساسات کی دھڑکنیں اور روح کی سانسیں صاف صاف سنی جاسکتی ہیں۔
اس مجموعے میں شامل افسانے ریت پر کھینچی ہوئی لکیر، تپتی ریت کا مسافر، اندھیرے کا سفر، آخری پرواز، پرندے کی واپسی، رشتے کی بنیاد وغیرہ یقیناًاس عہد کے بہترین افسانوں میں شمار کیے جائیں گے او راس لحاظ سے بھی مہتاب عالم پرویز ؔ کی افسانہ نگاری کی انفرادیت کو تسلیم کیا جائے گا کہ وہ اُردو افسانے کی مروّجہ تکنیک، ہیئت اور فنّی اُصولوں سے تجاوز کیے بغیر تشبیہات، استعارات اور علائم کے وسیلے سے کہانی کہنے کا فن جانتے ہیں لیکن اس طرح کہ ان کے افسانوں پر تجریدیت یا ’’شب خونی دور‘‘، کی جدیدیت غالب نہیں آتی، جس میں افسانہ غائب ہو جاتا ہے اور صرف مصنف کی ذہنی اور شعوری بازگیری ہی باقی رہ جاتی ہے۔ مہتاب عالم پرویز ؔ کے فن کی سب سے بڑی شناخت یہی ہے کہ وہ ماحول کی منظر کشی، کردار کے محسوسات اور نفسیاتی کیفیت، انسانی، سماجی، جذباتی، جمالیاتی، جسمانی اور جنسیاتی مرحلوں پر اپنی غیر معمولی شاعرانہ تخلیقیت کا مظاہرہ اس طرح کرتے ہیں کہ افسانہ ایک مؤثر واقعاتی نظم معلوم ہونے لگتا ہے لیکن فنکار کا کمال یہ ہے کہ افسانے کا ’’کتھانک‘‘ پوری توانائی کے ساتھ قائم رہتا ہے۔ ادبیات کے وسیع مطالعے اور غیر معمولی قوتِ مشاہدہ، حساس ذہنِ دور رس نگاہ کے بغیر ایسی صلاحیت حاصل نہیں ہوتی۔ مہتاب عالم پرویز ؔ کو پڑھنے والے یہ اندازہ بہ آسانی لگا سکتے ہیں کہ مشرقی اور مغربی سماجیات و فلسفہ پر ان کی گہری نظر ہے۔
مہتاب عالم پرویزؔ چوتھائی صدی سے لکھ رہے ہیں، لیکن اگر اس مجموعے کو ان کے سفر کا پہلا سنگِ میل مان لیا جائے تو ابھی اُن سے بھی بہت سی توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ ایک عام قاری کی حیثیت سے میرا ایقان ہے کہ مہتاب عالم پرویزؔ کا یہ افسانوی مجموعہ ’’ریت پر کھینچی ہوئی لکیر‘‘ اپنے عنوان کے برعکس اُردو افسانہ کی نئی لوحِ تاریخ پر نقش کا لحجر ثابت ہوگا۔
***
فاروق ارگلی
25، گنیش پارک، رشید مارکیٹ
دہلی۔51
روزہ خواہشات کو کنٹرول کرنے میں معاون ہو تا ہے:پروفیسر قاضی زین الساجدین
روزہ خواہشات کو کنٹرول کرنے میں معاون ہو تا ہے:پروفیسر قاضی زین الساجدین
شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں روزہ افطار کا انعقاد
(پریس ریلیز)
میرٹھ29؍ جو لائی2013ء
شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی ،میرٹھ میں ایک شاندار افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا جس میں یونیورسٹی افسران،ملازمین اور مسلم طلباو طالبات کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں علماء،دانشوران،افسران،سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے سبھی مہمانان کا استقبال کیا۔
اس مو قع پر معروف عالم دین اور شہر قاضی میرٹھ پروفیسر قاضی زین الساجدین نے روزے کی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ رمضان کا مہینہ بہت ہی با برکت اور عظمت وا لا ہے اور اللہ تعالیٰ اس ماہ میں ہر عمل خیر کا درجہ کئی گنا بڑھادیتے ہیں۔روزے کی فرضیت کا بنیادی مقصد لوگوں کی زندگی میں تقویٰ پیدا کرنا ہے۔روزہ خواہشات کو کنٹرول کرنے میں بڑا معاون ہو تا ہے اور جب خواہشات پر قابو پالیا جاتا ہے تو انسان تقویٰ کی جانب گامزن ہوجا تا ہے اور تقویٰ سے ہی دلوں میں اللہ کا خوف پیدا ہو تا ہے۔اسی لیے روزہ کے ذریعے ہم عبادات ، معاملات ،اخلاقیات اور معاشرت،انسانیت، غرباو مساکین کے ساتھ ہمدردی غرض کہ زندگی کے تمام شعبوں میں ہم اپنے خالق ومالک کے احکامات کے مطابق اپنی زندگی بسر کرسکتے ہیں اور اپنے مالک کی خوشنودی حاصل کرسکتے ہیں۔انہوں نے سبھی کے ساتھ مل کر ملک وقوم ،شعبہ اور یونیورسٹی کی سلامتی و ترقی کے لیے دعا کرائی ۔سائرن بجنے کے ساتھ ہی سبھی نے افطار کر قاری شفیق الرحمن قاسمی کی امامت میں نماز مغرب ادا کی۔
افطار پارٹی میں پرو فیسر جے کے پنڈیر(پرو وائس چانسلر)،اوم پرکاش( رجسٹرار) ،ارون کمار یادو(اسسٹنٹ رجسٹرار)،اے کے سنگھ(سا بق ایف سی) ڈاکٹر معراج الدین(سابق وزیر ،حکومت اتر پردیش)،ڈاکٹر محمد یوسف قریشی،(کانگریس لیڈر)،ڈاکٹر سراج الدین،سید ذکی الدین(سابق ایم ایل اے)،جی۔ایم مصطفی(نائب صدر جمعےۃ العلما ء ہند)سیدمعراج الدین ، رفیق انصاری(سپا لیڈر)،شمش الدین ،حاجی مشتاق سیفی، سلیم سیفی، انجینئر رفعت جمالی،ایڈ وکیٹ ایاز احمد،ایڈ وکیٹ توصیف احمد،ایڈوکیٹ امیر عالم،ڈاکٹر پرویز عالم، ڈاکٹر شکیل احمد،ڈاکٹر اسرار احمد،جمیل احمد،محمد ارشد خاں، ندیم احمد، قیصر عباس، محمدنجم ،عمران چوہان،آفاق خان،کلیم خاں،اکرام بالیان،محمد خالد، ڈاکٹر فرحت جہاں،سائرہ بانو، مدیحہ اسلم، شناور اسلم،آمرین،صبیحہ بانو،عبد القادر تیاگی،ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹر شاداب علیم،عامرنظیر ڈار،سعید احمد سہارنپوری سمیت دیگر معزز حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اللہ تعا لی کا پاک کلام بڑا مبا رک ہے : شیخ طریقت محترم شاہ شجاعت علی میرٹھی
اللہ تعا لی کا پاک کلام بڑا مبا رک ہے : شیخ طریقت محترم شاہ شجاعت علی میرٹھی
سیکٹر11،نوئیڈا میں ترا ویح میں قرآن کی تکمیل، ایک خصوصی دعائیہ تقریب کا اہتمام
میرٹھ23؍ جو لائی2013ء
مساجد کے ساتھ ساتھ ،گھروں اور کارخانوں وغیرہ میں نماز تراویح میں قرآن کریم مکمل ہو نے کا سلسلہ جاری ہے۔محمد رفیع کی رہائش گاہ اے87 واقع دھول گری اپارٹمنٹ سیکٹر11،نوئیڈا میں قرآن کریم مکمل ہو نے پر ایک خصوصی دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں خصوصی دعا کے ساتھ ساتھ رو زے اور قرآن کریم کی تلا وت کی فضیلت پر روشنی ڈا لی گئی۔
شیخ طریقت محترم شاہ شجاعت علی میرٹھی نے اپنے خطاب میں کہاآپ لو گوں کے لیے بڑی سعادت کی بات ہے کہ آج آپ کے گھر پر ترا ویح میں قرآن پاک بخیر و عافیت تکمیل اور پو را ہوا ہے۔ اس کے لیے جتنی خوشی منائی جائے کم ہے۔جس بندے کو اس مجلس میں شریک ہو نے کی توفیق حا صل ہو جائے اسے بڑی چیز سمجھنا چا ہیے۔ حقیقت اور سچا ئی بھی یہی ہے کہ اللہ تعا لی کا پاک کلام بڑا مبا رک ہے۔اس مقدس اور پاک کتاب کی پر تا ثیر ہے کہ جس جگہ پر اس پاک کتاب کی تلا وت کی جاتی ہے وہ جگہ بھی باعث برکت ہو جاتی ہے ۔وہ بندہ جس کا دل سیاہ اور مردہ ہوگیا ہو تو اس کی تلا وت سے اس کو دلی حیات حاصل ہو جاتی ہے۔یہ وہ کلام ہے جس کی زیارت کرنا،دیکھنا عبادت ہے ،جو بندہ صدق دل کے ساتھ ،دل کی گہرائی کے ساتھ تلاوت کرتا ہے اس بندے کے ساتھ انوار ہی انوار بر کات ہی برکات ہے۔اس بندے کا ظاہری وجود فرش پر ہو تا ہے اور باطنی وجود اللہ تعالی کی ذات اقدس کے سا تھ ہو تا ہے گویا کہ فرش سے لے کر عرش تک اور عرش سے لے کر فرش تک رحمت ہی رحمت برکت ہی برکت ہے۔ یہ وہ پاک کتاب ہے جس کی تلا وت قیامت تک ہوتی رہے گی بلکہ قیا مت کے بعد بھی ہوتی رہے گی۔ اہلِ جنت کو ذاتِ حق اپنا کلام خود پڑھ کر سنائیں گے۔
اگر آپ لوگ یہ چا ہتے ہیں کہ قرآن پاک کے جو انوارات ہیں،اس کی جو برکات ہیں،اس کی جو تاثیر ہے اور جو اس کی فضیلت ہے وہ شامل حال ہو تو آپ لو گوں کو با ادب بننا ہو گا جو لوگ با ادب ہو تے ہیں ان لوگوں کو جلدی جلدی ترقئ ایماں حاصل ہو جاتا ہے جو لوگ بے ادب ہو تے ہے وہ لوگ اللہ تعا لی کی رحمت سے،خیر سے ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔اس لیے بندے کو چاہیے کہ وہ با ادب بنے۔اللہ تعالیٰ کے پاک نام کا ادب ہو، اس کی پاک کتاب کا ادب ہو۔حدیث شریف کا ادب ہو، سجدے کا ادب ہو۔ہر وہ چیز جس کی نسبت اللہ تعالی کی ذاتِ اقدس سے وابستہ ہو اس کا ادب ضروری و لازم ہے ۔اس لیے بندے کو چا ہیے کہ وہ بے ادبی سے ہمیشہ دور رہے کہ گناہ کرنے سے اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا کہ بے ادبی سے ہو تا ہے۔
اس مو قع پر مولانا الطاف حسین مظاہری،محمد آزاد علی، محمد رفیع، محمد نثار،حاجی محمد سعید، قاری محمد مستقیم، حافظ محمد وسیم، محمد ساجد خاں ،حافظ محمد انعام، قاری محمد طاہر، حا فظ محمد مہتاب، محمد عمر، محمد جاوید، حاجی محمد افتخار، شاہ خالد جمیل صدیقی، محمد شہزاد، محمد دانش، محمد آصف اور نوئیڈا کے معزز شہریوں نے شرکت کی۔
شعبہ اردو ،میرٹھ یونیورسٹی میں معروف شاعرخواجہ جاوید اختر کو خراج عقیدت
شعبہ اردو ،میرٹھ یونیورسٹی میں معروف شاعرخواجہ جاوید اختر کو خراج عقیدت
میرٹھ15؍جولائی2013ء
شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ میں نئی نسل کے معتبر و معروف شا عرخواجہ جاوید اخترکے انتقال پر ایک تعزیتی جلسہ کا انعقاد کیا گیا،جس کی صدارت صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری نے کی اور نظا مت کے فرا ئض ڈاکٹر آصف علی نے انجام دیے۔واضح ہو کہ خواجہ جاوید اختر کلکتہ کے رہنے وا لے تھے مگر عرصہ دراز سے ملازمت کے تعلق سے الہ آ باد میں سکونت اختیار کیے ہو ئے تھے۔ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ’’نیند شرط نہیں‘‘ 2010ء میں منظر عام پر آ یا تھا جسے 2010ء میں اتر پردیش اردو اکا دمی،لکھنؤ اور 2012ء میں بہار اردو اکادمی،نے انعامات سے نوازا۔
پرو گرام کا آ غاز سعید احمد سہا رنپوری نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔اس مو قع پر ڈاکٹر آصف علی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ خواجہ جاوید اختر کی شاعری کا لہجہ عام گفتگو پر مبنی ہے۔ایسے اشعار بہت متاثر کن ہوتے ہے بشر طیکہ شاعر تک بندی سے اجتناب کرے۔
ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری نے اپنے صدارتی خطبہ میں فرمایا کہ خواجہ جاوید اختر اردو شاعری کی دنیا میں ایک نئی آواز، ایک منفرد لب و لہجے اور اچھوتے شعری تجربات کے ساتھ داخل ہوئے۔ان کے اشعار نے قارئین کو حیرت میں ڈال دیا ہے کیوں کہ انہوں نے زمانے کی عام لفظیات سے پرہیز کیا ہے اور سہل ممتنع کے انداز کے شعر کہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ جتنے عمدہ ادیب وشاعر تھے اتنے ہی اچھے قاری اور سامع بھی۔ وہ اپنا زیا دہ وقت مطالعے میں گذارتے اور ادبی پرو گراموں میں شرکت کرتے تھے۔ان کے رخصت ہو نے سے ادبی دنیا میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔جس کا نعم البدل شا ید ممکن نہ ہو۔آخر میں عامر نظیر ڈار نے ان کی کئی غزلیں خوش الحانی سے سنا کر سامعین کو محظوظ کیا۔شائقین ادب کے لیے ان کے کچھ اشعار پیش خدمت ہیں
بھروسا بہت ہے مجھے زندگی پر
مگر زندگی کا بھرو سا نہیں ہے
یہ کیسے کہہ دوں کہ پہچانتا بھی ہوں اس کو
وہ جس کو ایک زمانے سے جانتا ہوں میں
کوئی بھی راستہ اس کا مرے گھر تک نہیں آتا
مجھے معلوم ہے وہ شہر میں ہر سو نکلتا ہے
اس موقع پر فرح ناز،سمت کمار، عامر نظیر ڈار،سمیع اللہ الائی ،پشپیندر کمار نم ،اسما پروین وغیرہ طلبا و طالبات موجود رہے۔
روزہ جسم وروح کی پاکیزگی اور مہلک بیماریوں سے نجات کیلئے خدائی ایک عظیم تحفہ : مولانا کبیر الدین فاران مظاہری
روزہ جسم وروح کی پاکیزگی اور مہلک بیماریوں سے نجات کیلئے خدائی ایک عظیم تحفہ
مولانا کبیر الدین فاران مظاہری
(مسروالاپریس ریلیز)
اللہ کے حکموں اور آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ کے مبارک طریقوں میں زندگی گزارنا۔ ظاہر اور باطن ہر لحاظ سے انسانوں کیلئے فائدے اور رحمت کا ضامن ہے اللہ کے حکم اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کے مطابق رمضان المبارک کے مکمل روزے رکھکر انسان اپنے رب کا فرمانبرداراور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی کہلاتاہے وہیں انسانی خیر خواہی یعنی بھوکے پیاسے رہکر غریبوں محتاجوں کی ضرورتوں کا احساس پیداکرلیتاہے اورگناہوں سے بچکر نیک بندہ بن جاتاہے اس طرح وہ روزے رکھ کر کئی مہلک بیماریوں سے نجات پالیتاہے ۔
مشہور روحانی عالم دین حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب ؒ کا ارشاد ہے کہ روزہ رکھنے کی غر ض یہی ہے کہ انسان کہ اندر موجود حیوانی صفت بے لگام نہ ہوجائے۔اس کا اظہار رمضان المبارک کے پہلے جمع کی نماز سے قبل مرکزوالی مسجد مسروالامیں مدرسہ قادریہ مسروالا
ہماچل پردیش کے ناظم مولانا کبیر الدین فاران ایک مجمع سے خطاب کررہے تھے ۔
آپ نے سلسلہ بیان میں کہا کہ روزہ داروں کیلئے اللہ کی طرف سے روحانیت کی تربیت اور ایک طبی معجزہ ہے جو جسم اور روح کیلئے مفید تر ہے ۔ روزے کی اہمیت پر دنیا کے ماہر ڈاکٹر لوتھر جیم نے کہاہے کہ روزہ جسم اور خاص طور پر معدہ کے امراض میں صحت کی ضمانت ہے اسی طرح مشہورماہر نفسیات سگمنڈ فرائیڈکا کہنا ہے کہ روزے سے دماغی اور نفسیاتی امراض کا مکمل خاتمہ ہوجاتاہے ۔جرمنی ،امریکہ اور یورپ کے ماہرڈاکٹروں نے تجزیہ کیا ہے کہ روزہ شوگر لیول ،کولیسٹر ول اور بلڈ پریشر میں اعتدال لاتا اور اسٹریس واعصابی اور ذہنی تناؤختم کرکے بیشتر نفسیاتی امراض سے چھٹکارادلاتاہے ۔روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہوجاتاہے اور جسم کی تطہیر ہوجاتی ہے ۔روزہ انسانی جسم سے
فضلات اور تیزابی مادوں کا اخراج کرتاہے ۔اسی طرح موٹاپے اور پیٹ کو کم کرنے میں بھی مفیدہے ۔
معاشرہ میں امن وانصاف کا قیام وقت کی اہم ضرورت : حضرت امیر شریعت
معاشرہ میں امن وانصاف کا قیام وقت کی اہم ضرورت : حضرت امیر شریعت
جمشید پور ۲۹؍ جون
امن وانصاف کا قیا م موجودہ معاشرہ کی اہم ضرورت ہے ، اس لئے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انصاف کی راہ کو آسان بنائیں اور معاشرہ میں امن وسکون کی خوشگوار فضا قائم کرنے کی فکر کریں۔دار القضاء کا نظام در اصل اسی انصاف کی راہ کو آسان بنانے اور مسلمانوں کو ان کے عائلی مسائل میں شریعت اسلامی کے مطابق فیصلہ حاصل کرنے کیلئے قائم کیا گیا ہے ، ضرورت ہے کہ اس نظام کو مزید مستحکم بنایا جائے اور پوری وسعت دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس نظام سے فائدہ اٹھا سکیں ،ان خیالات کا اظہار حضرت امیر شریعت مولانا سید نظام الدین مد ظلہ جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بوورڈ نے قضاۃ وعلماء کے ایک باوقات اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔ آپ نے اس موقع پر علماء اور قضاۃ کو اپنے مطالعہ میں وسعت پیدا کرنے،مقدمات کے فیصلوں میں پوری گہرائی وگیرائی کے ساتھ غور اور تدبر کرنے کی بھی تلقین کی اور کہا کہ ہمارے علماء اور قضاۃ کو ہر حال میں عالمانہ وقار اور داعیانہ کردار کا حامل ہونا چاہئے اور معاشرہ میں ایسی ایمانی قوت کو فروغ دینا چاہئے کہ مسلمان اپنے تنازعات میں شریعت اسلامی کی طرف رجوع کریں اور جو فیصلہ دار القضاء سے صادر کیا جائے محض ایمانی قوت کی بنیاد پر بلا چوں وچرا اس کو عملی طور پر تسلیم کریں ۔ واضح رہے کہ آج کا یہ اجتماع امارت شرعیہ بہار اڑیسہ وجھارکھنڈ پھلواری شریف پٹنہ کے زیر اہتمام اور دفتر امارت شرعیہ جمشید پور کے زیر انتظام منعقد ہونے والی تفہیم شریعت کانفرنس کی پہلی نشست تھی جو ۹؍ تا ۱؍ بجے دن شہر جمشید پور کے محل اِن کے خوبصورت ہال میں منعقد ہوی ۔کارروائی کا آغاز جناب قاضی ارشد صاحب گوگری کھگڑیا کی تلاوت سے ہوا ، مولانا سعود عالم قاسمی قاضی شریعت جمشید پور نے خطبہ استقبالیہ پڑا ، جبکہ افتتاحی خطبہ امارت شرعیہ کے چیف قاضی مولانا جسیم الدین رحمانی نے پیش کیا ، اس اجتماع میں ملک کے جن مختلف صوبوں سے تشریف لائے قاضیوں نے شرکت کی تھی ،ان میں مہاراشٹر ، گجرات ، آندھرا پردیش ، مدھیہ پردیش، راجستھان ،کرناٹک ،ہریانہ، یوپی ، بنگال، آسام ، اڑیسہ جھارکھنڈ اور بہار کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔
آج کے اس اجتماع میں کار قضاء سے متعلق کئی اہم سوالات اور اس کے جوابات پر تبادلۂ خیال بھی کیا گیا ، اجتماع کی اہمیت سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے مشہور فقیہ اور نامور عالم دین مولانا خالد سیف اللہ رحمانی حیدر آباد نے امارت شرعیہ کے ذریعہ اس اجتماع قضاۃ کے انعقاد پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ یہ بہترین آغاز ہے، اس طرح کا پروگرام ہوتا رہنا چاہئے ، آج کے بدلتے ہوئے حالات اور ترقی یافتہ زمانہ میں اس طرح کے اجتماع کی اہمیت اور دو چند ہو گئی ہے ، آپ نے سوالات کے جوابات کی مناسبت سے بھی بہت ہی مدلل اور مؤثر گفتگو فرمائی ۔ دار القضاء کمیٹی آل مسلم پرسنل لا بورڈ کے کنوینر اور دار العلوم ندوۃ العلماء کے ممتاز استاذ مولانا عتیق احمد بستوی نے امارت شرعیہ کو ایک مثالی ادارہ قرار دیتے ہوئے تربیت قضاء سے متعلق کئی اہم مشورے دیے ، جامعہ عربیہ ہتھوڑہ کے شیخ الحدیث مولانا عبید اللہ اسعدی صاحب نے بھی اس اجتماع کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور کہا کہ ہمارے علماء پوری تیاری اور مطالعہ کے ساتھ ایسے اجتماع میں شریک ہوں اور مباحثہ میں حصہ لیں تو اس کا فائدہ مزید بڑھ جائے گا ۔ حضرت مولانا قاضی محمد قاسم مظفر پوری صاحب نے موضوع بحث مسئلہ سے متعلق اپنی وقیع رائے پیش کرتے ہوئے علماء کو تحقیقی ذوق پیدا کرنے اور علمی رسوخ حاصل کرنے کی نصیحت کی ۔مولانا مفتی احمد دیلوری گجرات نے کہا کہ یہ پہلا اجتماع ہے جس میں پورے ملک کے قاضیوں کو جمع کیا گیا ہے ، جس سے یقیناًنظام قضاء کو قوت واستحکام حاصل ہوگا، مولانا ذکاء اللہ شبلی مدھیہ پردیش نے کار قضاء سے متعلق کئی دشواریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اس نظام کو ملک کے کونے کونے تک پہونچانے کی گذارش کی ، مولانا مفتی نذر توحید نے پیش گئے سوالات کے بارے میں وقیع خیالات کا اظہار کیا ، آج کے اس اجتماع میں جن مسائل اور ان کے جوابات پر غور ہونا تھا اور اس سلسلہ کے جو مقالات جمع ہوئے تھے ان کی تلخیص امارت شرعیہ کے مفتی مولانا سعید الرحمن نے پیش کی جبکہ نظامت کے فرائض مفتی محمد سہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے انجام دی ، کانفرنس کے نگراں اور امارت شرعیہ کے ناظم حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے اپنی توجہ ونگرانی سے مجلس کو رونق اور وقار بخشا۔ اس مجلس میں علماء اور قضاۃ کے علاوہ شہر کے معززین اور دانشوران نے بھی شرکت کی ۔ مفتی وصی احمد قاسمی ، مولانا ارشد قاسمی کھگڑیا، مولانا عبد الحفیظ کٹکی ، مولانا ارشد قاسمی پورنیہ ، مولانا ارشد رحمانی جودھپوراور توقیر بدر قاسمی نے بھی جوابات سے متعلق اظہار کیا ، دعا سے قبل حضرت امیرشریعت مدظلہ کے دست مبارک سے ایک نہایت ہی اہم کتاب ’’قضایا امارت شرعیہ جلد دوم‘‘ کی رسم اجراء ادا کی گئی ۔ یہ کتاب امارت شرعیہ کے نائب قاضی شریعت مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی نے مرتب کی ہے ۔ اس سے قضایا امارت شرعیہ کی پہلی جلد بھی ان کی محنت وعرق ریزی سے طبع ہوکر منظر عام پر آ چکی ہے ، اجلاس کا اختتام ظہر سے قبل حضرت امیر شریعت مد ظلہ کی دعا پر ہوا۔اس اجتماع کو با مقصد اور کامیاب بنانے میں اجلاس کے کنوینر مولانا محمد انظار عالم قاسمی اور ان کے رفقاء نے اہم رول ادا کیا۔ یہ اطلاع مولانا افروز سلیمی قاسمی معاون قاضی امارت شرعیہ جمشید پور و سب ایڈ یٹر ’’ عالمی پرواز ‘‘ نے دی ۔