Skip to main content

Aalamiparwaz

مہتاب عالم پرویزؔ کی کہانی اور ’’ کہانی کا دوسرا رُخ ‘‘ MAHTAB ALAM PERVEZ KI KAHANI AUR KAHANI KA DOOSRA RUKH

 مہتاب عالم پرویزؔ کی کہانی اور ’’ کہانی کا دوسرا رُخ ‘‘ 

   (  MAHTAB ALAM PERVEZ KI KAHANI AUR ( KAHANI KA DOOSRA RUKH 

 

ڈاکٹر شاداب علیم 
شعبۂ اردو 
سی .سی. ایس. یونیورسٹی ،میرٹھ

        اردو افسانے کا کارواں خرا ماں خراماں دس دہا ئیاں طے کرچکا ہے۔ اس مختصر مدت میں اس کو اپنی بقا کے لیے مختلف چو لے بدلنے پڑے ۔کبھی رومان پسندی کی ردا اوڑھی، تو کبھی سماجی حقیقت نگاری کا جبہ پہنا، کبھی ترقی پسندی کا عمامہ سر پر رکھا ،تو کبھی جدیدیت کے دو شالے میں پناہ لی۔ اس طرح ہمارا افسا نہ کبھی تخلیق کا مرہون منت نہیں رہا بلکہ اس میں عہد بہ عہد فنی و فکری سطح پر بہت سی تبدیلیاں ہو تی رہیں۔شاید انہی کے باعث وہ آج بھی ترو تازہ اورسرسبز و شاداب ہے۔
اردو افسا نے کی تاریخ میں وہی افسانہ نگار اہم تصور کئے گئے جنہوں نے تازہ ہواؤں کا خیر مقدم کیا اور تقلید سے انحراف برتتے ہو ئے نئی نئی فضا ؤں سے اکتساب فیض کیا۔یہ سلسلہ ہر دور میں جاری رہا اور آج بھی مہتاب عالم پرویز ؔ جیسے افسانہ نگار ہمارے افسا نوی ادب کو اپنی تازہ کا ری کے باعث صرف نئے رجحان ہی سے نہیں بلکہ نئے امکانات سے بھی آ شنا کرارہے ہیں۔
        مہتاب عالم پرویزؔ اپنی کہا نیوں کا مواد اپنے گردو پیش سے منتخب کرتے ہیں اور پھر ان افسا نوں کو اپنی زبان کی چاشنی سے شیرینی عطا کرتے ہیں۔ ان کی کہا نیوں میں جدیدیت کا رنگ وا ضح نظر آ تا ہے۔زیر نظر افسا نہ ’’کہانی کا دوسرا رُخ ‘‘ ایک معمہ یا ایک پہیلی نظر آتا ہے ۔عام قاری کہانی مکمل ہونے کے بعد کہانی کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف ہوجاتا ہے اور کہانی میں جدیدیت کی چیستانی تکنیک قاری کے دماغ کو الجھادیتی ہے۔مہتاب عالم پرویزؔ نے کہانی میں ماضی اور حال کو اس طرح پرودیا ہے کہ ایک سے دوسرے کو الگ کرنا ایک مشکل مرحلہ بن گیا ہے ۔
        کہانی کا آغاز الزام تراشی سے ہوتا ہے۔افسانہ نگار پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے کہانی کی ہیروئن ’سنبل ‘ کو اپنی کہانی کا کردار بناکر سماج میں بدنام کردیا ہے۔یہی الزام سنبلؔ اور افسانہ نگار کے بیچ جدائی کی وجہ بن جاتا ہے۔اس سے قبل کہ افسانہ نگار الزامات کا جواب دے پاتا سنبلؔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کی زندگی سے دور ہوجاتی ہے ۔جس کا اظہار افسانہ نگار ان الفاظ میں کرتا ہے:
        ’’میں سرابوں کا اسیر خوابوں کے جزیرے میں تنہا رہ گیا ۔اپنی بے گناہی کی لاش اپنے ہی کاندھوں پر اٹھائے آنسوبہاتا ہوابے سمت،نامعلوم منزلوں کی طرف گامزن۔‘‘
        افسانہ نگار اپنی کہانی کے جواز میں ایک آفاقی حقیقت بیان کرکے اپنی بے گناہی ان الفاظ میں ثا بت کرتا ہے:
        ’’مجھے احساس ہوتا ہے کہ کہانیاں تو اسی سماج کی دین ہیں ، اسی معاشرے میں جنم لیتی ہیں ۔کہانی کار بھلا کیاکرسکتا ہے ،ایک بہاؤ ہے جو اندر کی سبھی چٹانوں کو توڑ کر باہر نکل پڑتا ہے اور قلم دوڑنے لگتاہے۔‘‘
        افسانہ نگار کی خود کلامی کے دوران مہتاب عالم پرویز ؔ بلا کسی تمہید ایک نئی کہانی کا آغاز کردیتے ہیں ۔ایک مڈل کلاس اوسط ہندوستانی جوڑے کی کہانی دفتر میں کام کرنے والا ایک ادھیڑ مرد اور گھر کی چہار دیواری میں قید ایک ادھیڑ عمر عورت کی کہا نی ،جو کئی لڑکوں کی ماں ہے ،گھر کی نوکرانی ہے ۔بچوں کی آیا ہے۔اور مرد کی جنسی تسکین کا ذریعہ بھی۔ لیکن جو ایک لڑکی کی پیدائش کی شدید خواہش رکھتی ہے۔وہ اپنے شوہر سے بے حد نالاں ہے کیوں کہ:
        ’’ایک پھول سی بچی مانگتے مانگتے تھک گئی ہوں۔ اس سے تو کہیں اچھا ہوتا کہ میں بانجھ ہوتی‘‘
        یہ مسئلہ دونوں کے درمیان مستقل موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ عورت کو یقین ہے کہ اس کا شوہربیٹی پیدا کر نے کے قابل نہیں ہے۔ایک روز جب شوہر وقت سے قبل گھر لوٹتا ہے ،تو گھر میں بچوں کا شور و ہنگاموں کانہ ہونا اسے حیرت میں ڈال دیتا ہے لیکن جلد ہی اس کو خاموشی کی وجہ سمجھ میں آجاتی ہے جب وہ بیڈ روم سے آتی ہوئی آواز سنتا ہے ۔
        ’’ڈارلنگ تمہیں لڑکی چاہیے ۔بس اتنی سی بات ‘‘
         یہ سن کر وہ چپ چاپ واپس لوٹ جاتا ہے اور کہانی ختم ہوجاتی ہے ۔ قاری کو حیران چھوڑ کر ۔کہانی کے اس حصے میں کہی گئی کئی باتیں تسلیم کر نے کے لیے ذہن تیار نہیں ہو تا۔ایک مڈل کلاس عورت کی لڑکی کے لیے اس قدر شدید خواہش کہ وہ اس خواہش کی تکمیل کے لیے اپنا جسم غیر مرد کے حوالے کردے بعید از قیاس ہے ۔آج کے سماج میں جب کہ مرد عورت پر مکمل طور پر حاوی ہے اور لڑکیاں رحم مادر ی میں قتل کی جارہی ہیں، ایک لڑکی کی خواہش کے لیے ایک گھریلو عورت کا اس حد تک گر جانا حقیقت سے دورہے ۔ایک لڑکے کے لیے اگر کوئی عورت ایسا قدم اٹھائے تو کسی حد تک مانا جاسکتا ہے۔لیکن شاید حقیقت اور افسانے میں یہی فرق ہے کہ نا ممکن حقیقت ،افسانہ بن جاتی ہے۔
         اگر مذکورہ بالا حقیقت کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو بھی عورت کا کردار قابلِ یقین نہیں ۔بد ترین عورت کے لیے بھی اس کی اولاد تذکیر و تانیث کی قید کے بغیر اس کے وجود کا حصہ ہوتی ہے۔عورت کا ماں بننا اس کے وجود کی تکمیل ہے۔کہانی کار نے ماں کی زبان سے……..
           ’’یہ پِلّا تو میری گود چھوڑ تا ہی نہیں ۔‘‘
           ’’یہ مانا کہ میں نے ان پلّوں کو جنم دیا ہے۔‘‘ 
           یا
           ’’ویسے بھی تم نے آج تک ان پلّوں کے نام کے سوا دیا ہی کیا ہے۔‘‘ 
          جیسے جملے قبول کرنے سے ذہن انکار کر دیتا ہے ۔بیٹی کی خواہش کتنی بھی شدید سہی مگر ماں کے لیے بیٹے پلّے ہوجائیں یہ ممکن نہیں۔
          حیران قاری جب کہانی کو سمجھنے کے لیے باریک بینی سے کہانی کا دوبارہ مطالعہ کر کے کہانی کی گتھی سلجھانے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر کہانی کی اول اور آخری حصے کے تسلسل کی حقیقت کھلتی ہے ۔ وہ یہ کہ کہانی کاآخری حصہ یعنی مرد و عورت کی کہانی در اصل سنبل ؔ کی کہانی کا ’’ فلیش بیک ‘‘ ہے۔
          مہتاب عالم پرویز ؔ نے آج کے پیچیدہ سماج کی ایک پیچیدہ کہانی تحریر کی ہے۔اگر وہ کہانی کے حال اور ماضی کی جانب ذراسا اشارہ کردیتے تو کہانی گنجلک نہ ہوکر ایک واضح کہانی بن جاتی۔اس پیچید گی کو مہتاب عالم پرویز ؔ نے ایک تکنیک کے طور پر استعمال کیا ہے لیکن اس تکنیک نے کہانی کی ترسیل کو دشوار بنا دیا ہے۔
          ہر فن کار اپنے اظہار میں خوش شگفتگی اور حسن کارانہ فنی رویوں کو سب سے زیا دہ اہمیت دیتا ہے۔کیوں کہ مواد اور خیال قاری کے لیے ثا نوی حیثیت رکھتے ہیں۔ فن کار اپنے خیالات و احساسات کو قاری یا سامع تک پہنچا نے کے لیے لفظوں کا سہا را لیتا ہے۔ لفظ یا اظہار بیان خوبصورت نہ ہوں تو بہتر خیال بھی اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔مہتاب عالم پرویزؔ صا حب اس فن سے بخو بی وا قف ہیں۔
        کہانی میں اول تا آخر مہتاب عالم پرویز ؔ کی زبان کی چاشنی بر قرار رہتی ہے۔کہیں کہیں تو ان کی نثر نثری نظموں کا مزہ دیتی ہے۔ملاحظہ ہو:
          ’’دیکھیے میری خاموشی کا یہ مطلب نہیں کہ آپ میرے وجود سے میرا آخری لباس بھی نوچ لیں۔‘‘ 
          ایک جگہ ان کے جملے کا نوں میں اس طرح شہد گھول دیتے ہیں:
          ’’ اس کی خوب صورت آنکھوں میں روز کی طرح کا جل کی لکیریں تھیں جو اس کی آنکھوں کے اسرار کو وسعت بخشتی تھیں۔‘‘
          یا یہ:
          ’’اب ہر طرف جدائی کا موسم ہے۔شاید ہماری قسمت میں وصال کے اتنے ہی لمحے آئے تھے ۔ہر طرف خوابوں کی برسات ہو رہی ہے ۔شاید اب آنسوؤں سے چراغ جلیں گے۔‘‘ 
         کہا نی کے بیا نیہ کے دوران مہتاب عالم پرویز ؔ چپکے سے تلخ حقائق اور کام کی باتیں بھی کہہ جاتے ہیں۔جیسے’’باتیں ہوئیں اور ختم بھی ہوگئیں ۔اور لوگ باگ پرانے قصے ،کہانیوں کی طرح اس سانحہ کو بھی اپنے اندر کسی گوشے میں گم کرکے نئے قصوں کی تلاش کرنے لگے۔‘‘
         یا
         ’’ گھر کا مذہبی ماحول ،پابندیاں ، سماج کا پھیلاہوا خوفناک جبڑا ،زندگی اور موت اور سبھوں کے اپنے اپنے فلسفے ،نشیب و فراز ، تضادوں کی دنیا ،امی کی آدرش وادی باتیں حق اور باطل کے وہی پرانے قصے ۔‘‘
         مہتاب صاحب آج کی تیز رفتار اور پیچیدہ زندگی میں بے چہرگی کو بھی خو بصورتی سے بیان کرتے ہیں جو کہ جدیدیت کی خاص پہچان ہیں:
         ’’آدمی اس پوری بھیڑ میں اپنی پہچان کی تلاش میں بھٹک رہا ہے ۔بھیڑ موجود ہے لیکن اس کا چہرہ ،گردنوں کے اوپر جانوروں کے چہرے لگائے لوگ ایک دوسرے کو بھنبھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔‘‘ 
         مہتاب عالم پرویز ؔ کی یہ کہانی پلاٹ کی پیچیدگی اورزبان کی شیرینی کے بہا ؤ میں بہتی چلی جاتی ہے۔قاری کہا نی کو لطف لے لے کر آخر تک پڑھتا ہے۔دیکھا جائے تویہ کہانی آج کی پیچیدہ سماج کی ایک پیچیدہ کہا نی ہے۔جہاں حقائق بعید از فہم ضرور لگتے ہیں مگر کیا آج کا سماج بعید از فہم نہیں؟ 

***

ڈاکٹر شاداب علیم 
شعبۂ اردو 
سی .سی. ایس. یونیورسٹی ،میرٹھ

جموں وکشمیر میں اردو ناول کا ارتقاء از: محمد سلمان بلرامپوری

 جموں وکشمیر میں اردو ناول کا ارتقاء
 از: محمد سلمان بلرامپوری
۱۳۷۔ایس۔ایس نارتھ،
اے .ایم.یو،علی گڑھ
9897908383
salmankhan0009@gmail.com

 جموں کشمیر میں اردو ناول کی روایت کوئی خاصی پرانی نہیں بلکہ ۱۹۴۷ ؁ء کے بعد اور بھی مرکز توجہ رہی۔ جو کچھ ناول کا سر مایہ ہمیں دیکھنے کو ملتاہے وہ سب کے سب ۱۹۴۷ ؁ء کے بعد ہی ملتے ہیں لیکن ہم اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ یہاں کے ناول نگار جس فنی مہارت و ریاضت کا ثبوت بہم پہچاتے ہیں وہ امید افزا بھی ہے اور قابل ستائش بھی یہ ناول فنی، تکنیکی اور مو ضو عی اعتبار سے حد درجہ روایتی ہیں لیکن ناولوں کی اہمیت اس سے ہے کہ ان کا اصل دار و مدار اس بات پر ہے کہ مختلف سیاسی و سماجی معاشرتی اور تہذیبی رنگوں کو پیش کرتے ہیں بلاشبہ اردو کے مختلف و متعدد ادیبوں نے کشمیر کو اپنا موضوع خاص بنایا ہے ممتاز شعراء اور ادیبوں نے کشمیر کی برف پوش کہساروں، دوشیزہ سبزہ زاروں، فطرت کے دیگر شاداب اور سحر کار مناظر کو اپنی تخلیقات میں سمونے کی کوشش کی ہے، لیکن ان تخلیقات میں ہم صرف کشمیر کا جسم دیکھ سکتے ہیں یہاں کی روح بڑی حد تک ان کی نظروں سے اوجھل رہی ہے کشمیر کے فطری حسن کا جادو ان پر کچھ اس انداز سے سر چڑھ کر بولا کہ وہ یہاں کی سسکتی اور تڑپتی زندگی کا اندازہ نہیں کرسکے کشمیر میں لکھے گئے۔ ناول ’’کشمیر کی بیٹی‘‘، جمناداس اختر کا ناول’’ اوردیا بجھ گیا‘‘ یہی وہ ناول ہیں جوکہ کشمیر کی سچائی اور حقیقی زندگی کی عکاسی کرتی ہیں۔ کرشن چندر کے بیشتر ناول رومانیت کے زیر اثر لکھے گئے ان ناولوں میں زندگی صرف رومان اور اس سے وابسطہ شادابیوں، الجھنوں اور المیوں تک محدود ہیں اور پھر رومانی کیفیات اور واردات کو سطحی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ منصور احمد منصوؔ ر کشمیری ناولوں کے بارے میں لکھتے ہیں۔
’’ متعدد ناول زندگی کی زہرناکی، انسانی رشتوں کے پیچ وخم، انسان کے ازلی وابدی دکھوں اور المیوں کو فنکارانہ بصیرت کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ یہ ناول افلاس اور استحصال کی مادی زندگی کے نقش ابھارتے ہیں۔ یہ آج کے انسان کے بے کل باطن کی پر چھائیوں کو مختلف انداز سے پیش کرتے ہیں‘‘۔
(شیرازہ۔جموں کشمیر میں اردو ادب کے پچاس سال: ص ۱۷۸)
جموں وکشمیر میں اردو ناول کے اولین نقوش کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے شروع میں سب سے پہلے ناول نگاری کی شروعات پنڈت سالک رام سالکؔ اور مولوی محمد الدین فوقؔ نے کی۔ سالکؔ نے ’’داستان جگت روپ‘‘ اور’’ تحفہ سالکؔ ‘‘ تصنیف کرکے نثر کے اس شعبے کی طرف توجہ کی۔ اگرچہ یہ تصانیف قطعی طور پر ناول کے زمرے میں شامل نہیں کی جاسکتیں۔ لیکن ان میں قصے کی مہک ہے‘‘۔
’’ داستان جگت روپ‘‘ ناول سے زیادہ ایک داستان ہے اس کی بہتر کوشش مولوی محمدالدین فوقؔ کے یہاں ملتی ہیں۔ فوقؔ کی تصانیف ایک سو کے لگ بھگ ہیں ان میں ان کے نثری کار نامے بھی شامل ہیں۔ ان میں بعض قصوں پر ناول نگاری کا اطلاق کیا جاسکتا ہے۔
فوقؔ اورسالک رام کے بعد جس کا نام سر فہرست ہے وہ ہیں موہن لال مروہؔ اور وشواناتھ ورماؔ ۔ جنھوں نے ناول نگاری کی روایت میں اضافہ کیا۔ ڈاکٹر ظہورالدین نے بتایا کہ موہن لال مروہ نے ’’داستان محبت‘‘ کے نام سے جو ناول لکھا وہ ۱۹۲۴ میں شائع ہوا کشمیر میں نندی لال بے غرض نے اس شعبے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا انہوں نے پنڈت رتن ناتھ سرشار سے تتبع میں تازیانۂ عبرت ‘‘ لکھا۔
پریم ناتھ پردیسی جوکہ کشمیر کے معروف افسانہ نگار ہیں انہوں نے ’’ پوتی‘‘ کے نام سے ایک ناول لکھا۔ یہ ان افسانہ اور ناول نگاروں میں سے ہیں جن کا شمار آزادی سے پہلے کہ ناول نگاروں میں ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ان کے بہت سے ناول اور بہت سی تخلیقات ۱۹۴۷ء ؁ کے ہنگامے میں تلف ہوگئے۔
ناول نگاری کی طرف جموں وکشمیر میں ۱۹۴۷ء ؁ کے بعد ہی پیش رفت ہوئی۔ وہ فنکار جن کا تعلق نئی نسل سے تھا انہوں نے اچھے اور کامیاب ناول لکھے۔ نرسنگھ داس نرگسؔ نے’’پار بتی‘‘ اور’’نرملا‘‘ جیسے قابل ذکر ناول لکھے۔ نرسنگھ داس کے ہم عصروں میں کشمیری لال ذاکرؔ اور ٹھاکر پونچھیؔ نے یکے بعد دیگرے بہت سارے ناول لکھے۔ اوراس میدان میں انہوں نے اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا۔
کشمیر لال ذاکرؔ اپنے ناول نگاری کی شروعات ایک ناولٹ سے کرتے ہیں جس کا نام’’ سندور کی راکھ‘‘ ہے۔ انہوں نے متعدد ناول لکھے مثلاً ’’ جاتی ہوئی رت‘‘ اور’’دھرتی سدا سہاگن ‘‘ وغیرہ
اسی دوران مدن موہن شرما۔ برج کیتال اور ملک رام آنند نے بھی ناول لکھے۔ عبدالقادر سروری رقم طراز ہیں
’’ ملک رام آنند کا پہلا ناول’’ نئے خدا‘‘ ۱۹۵۸ ؁ء میں مرتب ہوا اور اس کے بعد دوسرے ہی سال ایک اور ناول ’’ دہکتے پھول شبنمی آنکھیں‘‘ شائع ہوا۔ دو اور ناول ’’صلیب اور دیوتا‘‘ اور ’’اپنے وطن میں اجنبی‘‘ شائع ہوئے ‘‘۔
( کشمیر میں اردو تیسرا حصہ ۔صفحہ ۳۴۲)
برج کیتال نے ’’چراغ بجھنے سے پہلے‘‘ لکھ کر ناول نگاری میں اضافہ کیا۔ مدن موہن شرما کے کچھ اہم ناول جوکہ’’ ایک منزل چار راستے‘‘ اور’’ پیاسے کنارے‘‘ کے نام سے شائع ہوئے۔ سبھی ناول کشمیری شہریوں کی زندگی، روز مرہ کے مسائل، زندگی کی ناہمواریوں، سماجی نابرابری، دولت کی نامساویانہ تقسیم اور سماج میں طبقاتی نظام کی بہترین عکاسی کرتے ہیں ۔
ٹھاکر پونچھیؔ نے بھی بہت سے ناول لکھے۔ پونچھیؔ کی ناول نگاری کے بارے میں منصور احمد منصورؔ لکھتے ہیں:
’’ ٹھا کر پونچھیؔ نے متعدد ناول لکھے وہ صحیح معنوں میں ناول کے فنکار ہیں انہیں ناول کے فن پر بھی عبور ہے اور زبان و بیان پر بھی دسترس حاصل ہے، وہ انسانی نفسیات کی باریکیوں کو بڑی چابکدستی سے پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں وہ بڑی خوبصورتی سے دیہاتی وشہری زندگی کے مرقع پیش کرتے ہیں اہم سماجی ونفسیاتی مسائل بھی ان کے ناولوں سے جھلک رہے ہیں ٹھاکر پونچھی کے ناولوں میں ’’وادیاں اور ویرانے‘‘،’’ یادوں کے کھنڈر‘‘،’’شمع ہر رنگ میں جلتی ہے‘‘،’’ زلف کے سر ہونے تک‘‘،’’ اداس تہائیاں‘‘،’’ چاندنی کے سائے‘‘ اور’’پیاسے بادل‘‘ قابل ذکر ہیں‘‘ (شیرازہ جموں وکشمیر میں اردوادب کے پچاس سال ۔صفحہ ۱۸۰)
تیج بہادر بھانؔ غلام رسول سنتو شؔ ، علی محمد لونؔ ، حا مدی کشمیری، نورشاہ، شبنم قیوم، عمر مجید، وحشی سعید ساحلؔ ، بھوشن لال بھوشنؔ ، رشید پروین اور فاروق رینز و ایسے ناول نگار ہیں جوکہ ۱۹۶۰ء ؁ کے بعد منظر عام پر آئے ۔بطور خاص یہ فنکار’’ کشمیر میں اردو ناول نگاری‘‘ میں بہت اہمیت کے حامل ہیں لیکن ان میں سے بیشتر ناول نگاروں نے ایک ہی دو ناول لکھے اور اس فن سے دست کش ہوگئے۔ ناول نگاری کو شوق پورا کرنے کا ذریعہ بنایا یہ لوگ اپنے اندر بے پناہ صلاحیت رکھتے تھے جوکہ انہوں نے اپنے کار ناموں سے ثابت کیا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے یہ لوگ اردو ناول نگاری کا وہ حق ادا نہیں کیا جس کااردو ناول اصلی معنوں میں مستحق تھا۔
تیج بہادر بھانؔ نے صرف ایک ناول ’’ سیلاب اور قطرے ‘‘ کے عنوان سے لکھا ۔یہ ناو ل لکھ کرانھوں نے یہ بات تو ثابت کردیا تھا کہ وہ ایک اچھے ناول نگار ہیں ۔اور اپنے اندر ناول لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔اگروہ چاہیں تواپنے قیمتی سرمائیوں کے ذریعہ ناول کے جہان میں اضافہ کردیں۔
’’سیلاب اور قطرے‘‘ پر عبدالقادر سروری رقم طراز ہیں،
’’یہ ناول ایک اچھا حقیقت پسندانہ بیانیہ، ایک نفسیاتی مطالعہ، کشمیر کی وضاحتاور نچلے طبقے کی زندگی کے واقعات کے بیٹھ بیٹھا معنی خیز نقشہ بن گیا ہے‘‘ ۔
(شیرازہ جموں وکشمیر میں اردوادب کے پچاس سال ۔صفحہ۱۸۸)
ڈاکٹر حامدی کا شمیری نے بھی اردو ناول لکھے’’پرچھائیوں کا شہر‘‘ ان کا ایک ناولٹ ہے اس کے علاوہ ’’بہاروں میں شعلے‘‘ ۱۹۵۶ ؁ء’’ پگھلتے خواب‘‘ ۱۹۵۷ ؁ء، ’’اجنبی راستے‘‘ ۱۹۵۸ ؁ء اور ’’بلندیوں کے خواب ‘‘ ۱۹۶۱ء ؁ حامدی کاشمیری کے قابل ذکر ناول ہیں۔ منصور احمد منصور ان ناولوں پر لکھتے ہیں کہ :
’’۔۔۔ حامدی کاشمیری کے ان ناولوں کا کینوس بہت ہی محدود ہے ان ناولوں میں رومان کی سحر انگیزی ہے لیکن پس منظر میں کشمیری زندگی اور یہاں کا سیاسی و سماجی ماحول شدت کے ساتھ اپنے موجودگی کا احساس دلاتا ہے یہ ان ناولوں کا طرہ امتیاز ہے ۔’’بلندیوں کے خواب‘‘ میں حامدی کاشمیری نے کشمیر کی غیر فطری تقسم کو پیش کیا ہے‘‘
علی محمد لون نے’’ شاہد ہے تیری آرزو‘‘،غلام رسول سنتوش نے ’’سمندر پیاسہ ہے‘‘ لکھ کرکشمیر کی ناول نگاری میں اضافہ کیا ’’شاہد ہے تیری آرزو‘‘۔ عبدالقادر سروی کے مطابق یہ ان کے قیام دہلی کے زمانے کے مشاہدات اورتجربات کی پیداوار ہے۔ سنتوشؔ نے اپنے اس ناول میں بڑی بے رحمی کے ساتھ انسان کے باطن میں موجود ہوسناکی اورزہرناکی کو ابھارا ہے۔ ٹھاکر پونچھیؔ اس ناول کے بارے میں لکھتے ہیں۔
’’سمندر پیاسہ ہے‘‘ ایک دریا کی کہانی ہے جو پہلی بھٹکی چھوٹی چھوٹی سی ندیوں کو اپنے سینے سے لگائے ان کی منزل کی جانب بڑھنے کی جستجو میں ہوتا ہے۔۔۔ سنتوش ؔ انسانی نفسیات اور سیاسی وسماجی باریکیوں اور لغزشوں پر گہری نظر رکھتا ہے‘‘
( تعارف ’’سمندر پیاسہ ہے‘‘ صفحہ ۸۷)
کشمیر کے اور بھی ناول نگار ہیں مثلاً نورشاہ، بھوشن لعل بھوشنؔ ، عمر مجید شبنم قیوم، جان محمد آزاداور فاروق رینزووغیرہ نے اپنے ناولوں کے ذریعہ ناول کے جہاں میں اضافہ کیا۔

****

انسانیت کا تقا ضا یہ ہے کہ ہم سب کے لیے کام کریں۔قاری شفیق الرحمن قاسمی اترا کھنڈ میں آ ئے طوفان میں لقمۂ اجل بن جانے وا لے لوگوں کی یاد میں تعزیتی جلسہ

 انسانیت کا تقا ضا یہ ہے کہ ہم سب کے لیے کام کریں۔قاری   شفیق الرحمن قاسمی
 اترا کھنڈ میں آ ئے طوفان میں لقمۂ اجل بن جانے وا لے لوگوں کی یاد میں تعزیتی جلسہ

                  شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی ،میرٹھ اور جا گرک ناگرک ایسو سی ایشن،میرٹھ کے مشترکہ اہتمام میں اترا کھنڈ میں آ ئے طوفان میں لقمۂ اجل بن جانے وا لے لوگوں کی یاد میں تعزیتی جلسہ کا انعقاد عمل میں آ یا۔جلسے کی صدارت ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر محترم پربھات کمار رائے نے اور نظا مت گریش شکلا نے ادا کی۔
جلسے کو خطاب کرتے ہو ئے خطیب جامع مسجد،میرٹھ محترم قاری شفیق الرحمن قاسمی نے کہا ۔ ’’قدرتی آ فات عبرت کے لیے ہو تی ہیں۔ قرآن میں متعدد ایسی آ فات و حادثات کا ذکر ہے۔ یہ ذکر اس لیے ہو تا ہے تاکہ ہم ان سے سبق حا صل کریں۔ ان مشکلات کے لمحات میں انسانیت کا تقا ضا یہ ہے کہ ہم سب کے لیے کام کریں۔‘‘
اس مو قع پر اترا کھنڈ کے کیدار نا تھ کا سفر مکمل کر کے کسی طرح اپنی جان بچا کر وا پس آ نے والے پون کمار نے وہاں کے آنکھوں دیکھے حا لات کا بیان کیا۔انہوں نے بتایا کہ قدرتی آ فات کے بعد کس طرح انسان نے انسان کو لو ٹا،مجبوریوں کا فائدہ اٹھایا،دس اور بیس رو پے کے سا مان کو سینکڑوں رو پے میں فروخت کیا گیا۔
جان بچا کر وا پس آ نے والے ایک اور عینی شاہد چو دھری یشپال نے دوران طوفان ،درد ناک اور دلدوز واقعات کا بیان کیا۔انہوں نے بتایا کہ مقامی ریا ستی سرکار ہر محاذ پر ناکام ہے اور انسا نوں کو بچا نے کا کوئی انتظام سر کار نے نہیں کیا۔آج بھی ہزاروں افراد پھنسے ہوئے ہیں۔
صدر شعبۂ اردو ڈا کٹر اسلم جمشید پوری نے اس مو قع پر کہا کہ اتنی بڑی تباہی ،اتنے زیا دہ نقصا نات کہ اب تک ہزا روں لوگوں کے مختلف مقامات پر پھنسے رہنے کا اندیشہ ہے۔ ان سب کے با وجود اسے قومی پریشا نی کیوں نہیں قرار دیا گیا اور ہندو ستان کے سینکڑوں بڑے صنعتی گھرا نے کہاں سو ئے ہو ئے ہیں۔سب مل کر ایک ہفتے میں پھنسے ہو ئے لوگوں کو نکال سکتے تھے۔
اپنے صدارتی خطبے میں محترم پربھات رائے نے کہا کہ شعب�ۂ اردو کی یہ کوشش قابل ستائش ہے ۔ہم سب کو مل کر یہ کوشش کر نی چا ہیے کہ آئندہ اس طرح کے حادثات کے وقت ،ایسی حکمت عملی اپنا ئی جائے کہ جانی نقصان کم ہو اور جنگلات کا تحفظ بھی کیا جا نا چا ہیے۔ جس رفتار سے جنگلات اور پہا ڑوں کی تخریب کا ری کا عمل جاری ہے اس سے اس طرح کے حادثات کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
طالب زیدی،اسنہویر پنڈیر اور قیصر عباس نے بھی جلسے سے خطاب کیا۔
اس مو قع پر دو منٹ کی خا مو شی اختیار کر کے ہمیشہ کے لئے جدا ہو نے وا لوں کو خراج پیش کیا گیا اور صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری نے دعا کرا ئی۔جس کے بعد جلسے کا خا تمہ ہوا۔اتفاق رائے سے طے پا یا کہ ایک قرار داد مرکزی اور اترا کھنڈ سر کار کو بھیجی جائیں:
قرار داد
 ما حولیات کے تحفظ کے لیے پر زور کوششیں کی جائیں اورما حولیات سے چھیڑ چھاڑ کرنے وا لوں کے خلاف سخت قانون بنایا جائے۔
 مقا می باشندوں کی صحیح مردم شماری کی جائے۔
 زیا دہ سے زیادہ شجر کاری کی جائے۔
 باندھوں کی تعمیرات پر ما حولیات کے ماہرین کی را ئے کو ترجیح دی جائے ۔
 پہاڑوں پر موجود مذہبی مقا مات پر جانے وا لوں کا رجسٹریشن کر کے ان کی تعداد پر قابو پا یا جائے۔
 چھوٹے باندھوں کو ترجیح دی جائے۔
 کار خانوں اور شہروں کے ذریعے مکدر کی جارہی آب و ہوا پر قدغن لگایاجائے۔
 پہاڑی علا قوں میں ذاتی گاڑیوں پر رو ک لگا کر پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے کی سعی کی جائے۔
 سبھی مذہبی اور سیا حتی مقا مات پر ہو ٹلوں سمیت تمام طرح کی سہولیات پر حکومت کے ذریعے فیس مقرر کی جائے اور تحفظ کے مناسب انتظامات کو یقینی بنا یا جائے۔
اس موقع پرحاجی مشتاق سیفی،ایس ڈی شرما،بی ایم گرگ،ماسٹر حامد علی،سلیم سیفی،شاہد سیفی،جے،پی کوشک،راکیش پاٹھک،جی ایس بیدی،آنند پرکاش کش،مینل گوتم،نیتو گرگ،سرویش گرگ،اسلام احمد،دلشاد علی،شوکین علی،مسرت جہاں،پنکج شرما،سعیدبزمی،ارشاد علی،آمر نذیر ڈار،محمد مرتضی،اروند شکلا،اجے چوہان،سنی چوہان،دل بہار احمد وغیرہ موجود تھے۔

تابُوت کا اُونٹ ……… اور مہتاب عالم پرویزؔ کے افسانے : ابرار مجیب TABOOT KA ONTH AUR MAHTAB ALAM PERVEZ KE AFSANE

 تابُوت کا اُونٹ ……… اور مہتاب عالم پرویزؔ کے افسانے

                                                                                     ابرار مجیب

 

             اردو افسانے پر بھی عجب وقت آن پڑا ہے۔ اذہان عجب گومگو کی کیفیت میں مبتلاہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس فن کے تعلق سے گُلاب اور ببول کی صف بندی میں کوئی عار نہیں۔ اس کی وجہ ہے ترقی پسندی ، جدیدیت اور اب مابعد جدیدیت جیسی اصطلاحات نے لوگوں کے ذہن کو پراگندہ کر دیا ۔ معدودے چند باعلم لوگوں کے علاوہ بیشتر ہی لوگوں نے شاید ہی غور کیا ہو کہ ان اصطلاحات کا اِطلاق افسانے کے فن پر کیسے اور کیوں کر ہوا……… ترقی پسندیدیت کو پرے رکھتے ہوئے، جدیدیت اور ما بعد جدیدیت پر اک ذرا ٹھہر کر غور کریں۔ عام خیال یہ ہے کہ جدیدیت نے افسانوں میں علامت ، استعارہ ، تمثیل ، یہاں تک کہ داستانوں کی کج ادائی کا کافرانہ رجحان پیدا کیا اور بیانیہ کی موت واقع ہوگئی۔ اب مابعد جدیدیت کے طفیل افسانہ بیانیہ کی دلبری سے ازسر نو بہرہ مند ہورہا ہے۔ کیا واقعی ایسا کچھ ہے۔؟ ایک تو اس غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے کہ بیانیہ ،فن افسانہ نگاری کے قلم رو سے کبھی بھی بے دخل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ہوا ہے۔ کچے اذہان بیانیہ اور کہانی پن کو یک چشمی نظر سے دیکھتے ہیں حالانکہ دونوں میں بعدالقطبین ہے۔ کہانی پن چیزے دیگر است ، کسی نثری ٹکڑے میں کہانی پن کی موجودگی دلیل نہیں ہے، اس کے افسانہ ہونے کی، اسی طرح بیان کو منہا کردیں تو افسانے کا وجود نا ممکن ہے، خواہ وہ علامتی افسانہ ہو کہ استعاراتی، تجریدی ہو کہ تمثیلی یا داستانی……..
             مندرجہ بالا تمہید کی ضرورت یوں پیش آئی کہ مہتاب عالم پرویزؔ کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے بعض حضرات نے لفظ بیانیہ پر اپنی سادہ لوحی کے سبب بڑا زور صرف کیا ہے۔ میرے نزدیک مہتاب عالم پرویزؔ کے تمام تر افسانے بیانیہ سے گہرا انسلاک رکھتے ہیں۔ اور کہانی پن بھی اپنی پوری شدّت کے ساتھ ان افسانوں میں نمایاں ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کے افسانوں میں کہانی سیدھی لکیر میں نہیں چلتی بلکہ اپنے اندر ایک ابہام ، ایک اسرار لئے ہوئے آگے بڑھتی ہے۔ ادب میں فکشن کے عظیم مصنف سیدھی سادی کہانیاں کبھی نہیں لکھتے۔ میں وکٹورین عہد کے ناول اور افسانوں کی مثال کو طاق پر رکھ کر گفتگو کر رہا ہوں۔ آپ گیبرل گارسیا مارکز کے فکشن پر ایک نظر ڈالیں۔ کیا سو سال کی تنہائی میں حبسیوں کے ٹوٹکوں کا بیان یا اس کی مختلف کہانیوں میں جادوئی فضا بندی آپ کو ایک مبہم دُنیا کی سیر نہیں کراتی۔ فکشن میں موجود معنی قاری سے ذہانت کا مطالبہ کرتا ہے۔ مہتاب عالم پرویز ؔ کے افسانے بھی ذہنی ورزش کے بغیر حواس کی گرفت میں نہیں آتے۔
             افسانہ ’’ کارواں ‘‘ اس درد کی ترجمانی ہے جسے ہزاروں لاکھوں لوگ گلف میں جہدِمسلسل سے گُذرتے ہوئے محسوس کرتے ہیں لیکن اسے کوئی زُبان نہیں دے سکتے۔ صحرا کے سُراب کے خوفناک فریب کو انتہائی چابک دستی سے قید کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس موضوع پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ ’’ کارواں ‘‘جیسا پُراثر افسانہ فی الحال میری نظر سے نہیں گُذرا، بعض لوگوں کی نظر میں یہ سپاٹ بیانیہ ہے لیکن انسان کی کایاکلپ ’’ تابُوت ‘‘ میں موجود ’’ اُونٹ ‘‘ کی متمنی ’’ بیٹی ‘‘ افسانے کو علامتی رنگ دے دیتی ہے۔ علامت اور کسے کہتے ہیں۔؟ میرے خیال میں اس افسانے کا عنوان ’’ اُونٹ ‘‘ ہونا چاہئے۔
            افسانہ ’’ کُتیا ‘‘ کے پہلے پیرا گراف نے مجھے چیخوف کا افسانہ ’’ ڈارلنگ ‘‘ یاد دلا دیا۔ بہترین جزئیات نگاری اور مدھم بیان نے افسانے کے حُسن میں اضافہ کردیاہے۔
            اردو میں ANIMAL SEX کے موضوع پر شاید یہ اپنی نوعیت کا پہلا افسانہ ہے جسے مہتاب عالم پرویزؔ فنی چابک دستی سے یوں لکھ گئے کہ کہہ سکتے ہیں کاجل کی کوٹھری میں گھسے بھی اور ان کا منھ بھی کالا نہ ہوا۔ افسانے میں فنی سطح پر ایک آنچ کی کسر رہ گئی یہ کسر پوری ہو جاتی اگر وہ کردار کی نفسیاتی گرہ کو کھولتے انہوں نے مکالموں اور افعال پر زیادہ توجہ صرف کی۔ میں چاہوں گا کہ وہ یہ افسانہ ازسر نولکھیں۔
            ’’ کارواں ‘‘ میں شامل دوسرے قابلِ ذکر افسانوں میں ’’ کبوترباز ‘‘ ’’ سانپ اور پرندے ‘‘ اور ’’ بازگشت ‘‘ خاص اہمیت کے حامل ہیں خاص طور سے ’’ سانپ اور پرندے ‘‘ اپنی نوعیت کا ایک ہی احتجاجی افسانہ ہے۔ میں مہتاب عالم پرویزؔ کو اُن کے اس مجموعہ کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

ابرار مجیب

مولانا محمد نجیب قاسمی کی دو کتابوں: "مختصر حج مبرور” و”تحفۂ رمضان المباک” اور عمرہ ویڈیو کا اجراء

 مولانا محمد نجیب قاسمی کی دو کتابوں: "مختصر حج مبرور”   و”تحفۂ رمضان المباک” اور عمرہ ویڈیو کا اجراء

  مولانا محمد نجیب سنبھلی قاسمی کی چوتھی کتاب "تحفۂ رمضان المباک” وپانچویں کتاب "مختصر حج مبرور” کے اجراء کے ساتھ عمرہ کی ویڈیو کا افتتاح حضرت مولانا عبدالباری قاسمی کے بدست ۲۱ جون ۲۰۱۳ء بروز جمعہ ہوا۔ عمرہ کی یہ ویڈیو ۲۹ منٹ پر مشتمل ہے جس میں نئی ٹکنولوجی سے بھرپور فائدہ اٹھاکر عمرہ کی ادائیگی کے طریقہ کو بہت خوبصورت اور دلکش انداز میں پیش کیا گیا ہے تاکہ عمرہ کی ادائیگی کیلئے جانے والے حضرات عمرہ کی ادائیگی کے طریقہ کو آسانی سے سمجھ سکیں۔ استفادہ عامہ کے لئے یہ ویڈیو (www.najeebqasmi.com) کے علاوہ Youtube پر بھی ڈال دی گئی ہے۔ اس ویڈیو کی مقبولیت پر حج کی ادائیگی کے طریقہ پر بھی مشتمل ویڈیو تیار کی جائے گی۔ ایک باصلاحیت ڈیزائنر جناب عالمگیر خان کی مسلسل کاوشوں کے بعد یہ ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ 

پاکٹ سائز کی کتاب "مختصر حج مبرور” میں مصنف کی سابقہ کتاب "حج مبرور” میں تحریر کردہ مسائل حج کو کسی حد تک اختصار کے ساتھ عام فہم زبان میں مرتب کیا ہے۔ "حج مبرور” کے اب تک تین ایڈیشن ۲۰۰۵ ؁ و۲۰۰۷ ؁ و ۲۰۱۱ ؁میں عازمین حج کو مفت تقسیم کرنے کے لئے شائع ہوچکے ہیں۔

"تحفۂ رمضان المباک” میں روزہ، رمضان، سحری، افطار، تراویح، شب قدر، اعتکاف، رؤیت ہلال، صدقۂ فطر، عید الفطر، شوال کے چھ روزے اور زکاۃ سے متعلق فضائل، مسائل اور احکام قرآن وحدیث کی روشنی میں تحریر کئے گئے ہیں۔ اس کتاب کی تقریظ حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے تحریر فرمائی ہے۔ 

مولانا محمد نجیب قاسمی کی اسلامی ومعلوماتی ویب سائٹ (www.najeebqasmi.com) کا افتتاح ۴ جنوری۲۰۱۳ کو ہوا تھا ، لیکن چھ ماہ سے کم عرصہ میں ہی ویب سائٹ انتہائی مقبول بن گئی ہے چنانچہ سیکڑوں حضرات روزانہ اس ویب سائٹ سے استفادہ کرتے ہیں۔ اس ویب سائٹ میں عمرہ کی یہ ویڈیو، مولانا محمد نجیب قاسمی کی پانچوں کتابیں اور قرآن وحدیث کی روشنی میں تحریر کردہ ان کے سو سے زیادہ مضامین قارئین کے لئے ایک منظم شکل میں پیش کئے گئے ہیں۔ نیز اس ویب سائٹ میں الیکٹرانک اسلامی لائبریری بھی مہیا کی گئی ہے جس میں کئی سو کتابیں مفت پڑھنے اور ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے موجود ہیں۔

پروگرام کی ابتداء قاری شمشاد صاحب کی تلاوت اور مولانا عبد الرحمن عمری کی نعت پاک سے ہوئی۔ مفتی عاشق الہی صاحب نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ مولانا محمد نجیب قاسمی نے عمرہ کی ادائیگی کے طریقہ سے متعلق ویڈیو اور نئی کتابوں کا مختصر تعارف کرایا۔ مولانا عبدالباری قاسمی نے عمرہ کی ویڈیو کو کافی سراہا اور اس کے مختلف زبانوں میں ترجمہ پر زور دیا اور فرمایا کہ کتابیں پڑھنے کے بعد حج وعمرہ کی ادائیگی کے وقت حاجی یا معتمر سے غلطی سرزد ہوجاتی ہے مگر اس طرح کی ویڈیو سے تربیت حاصل کرنے کے بعد غلطی کے امکانات کم ہیں۔

ریاض میں مقیم برصغیر کی سرکردہ شخصیات نے شرکت فرمائی، چند نام یہ ہیں: انجینئر خورشید انور، ڈاکٹر مشرف علی، سید اکرم، آفتاب علی نظامی، ظفر باری، مرشد کمال، ڈاکٹر حفیظ الرحمن فلاحی، نظام شیخ، احسان عظیم، محمد سلیم، انعام الحق قاسمی، محمد ہارون قاسمی، شبیر ندوی، لئیق اعظمی اور اشرف علی قاسمی ۔

مدعیان اردو کی چشم پوشی اردوزبان کے لئے خطرہ اردو کی بقاء کے لئے حکومت کی جانب دست سوال کرنے کے بجائے ہمیں خود آگے آ نا ہوگا :پروفیسراسلم جمشید پوری

 مدعیان اردو کی چشم پوشی اردوزبان کے لئے خطرہ
 اردو کی بقاء کے لئے حکومت کی جانب دست سوال کرنے کے بجائے ہمیں خود آگے آ نا  ہوگا :پروفیسراسلم جمشید پوری

 اردو زبان کی شیرینی اور اس میں مٹھاس کے قائل نہ صرف اہل زبان رہے ہیں بلکہ اس زبان کے شیدائیوں میں برادران وطن سمیت متعدد انگریز اسکالر بھی رہے ہیں جن میں خاص طور سے کرنل ہالرائڈ اور جان گلکرائسٹ کا نام لیا جا سکتا ہے ۔اس کے باوجود اردو زبان اپنے ہی گھر میں بے گھری کی شکار رہی ہے ،جس کے ذمہ دار صرف ارباب حل و عقد ہی نہیں بلکہ خود اس زبان کی پرستاری اور اس سے محبت کا دعویٰ کر نے والے بھی ہیں ۔جب اردو کی لسانی اہمیت اور اس کو مستقبل میں در پیش خدشات سے متعلق میرٹھ یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردوپروفیسر اسلم جمشید پوری سے گفتگو کی گئی تو انہوں نے حقائق کا اعتراف کرتے ہوئے اردو کے ساتھ سرکاری سطح پر کی گئی نا انصافیوں اور اپنوں کی چشم پوشیوں کی وضاحت کی اور اس زبان کے مستقبل سے متعلق خدشات کا ازالہ کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ہم اردو کو خطرات سے بچا سکتے ہیں اور اس کا مستقبل تابناک کرتے ہوئے اپنے تہذیبی ورثہ کا تحفظ کر سکتے ہیں ۔اسلم جمشید پوری خود ناقد وتخلیق کار ہیں ان کی رائے کی ا ردو دنیا میں اہمیت ہے اس لئے جو انہوں نے اردو سے متعلق کہا ہے وہ کافی اہم ہے ۔اسلم جمشید پوری میرٹھ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے بانی ہیں ،اس سے قبل انہوں نے جامعہ ملیہ میں بطور گیسٹ فیکلٹی خدمات انجام دی ہیں ۔ا ن کے افسانوی مجموعہ ’’لینڈرا‘‘سمیت پندرہ تنقیدی کتب منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان کے علاوہ بہت سے مضامین ملک و بیرون ملک کے ادبی رسالوں کے زینت بڑھاتے رہتے ہیں ۔بنیادی طور سے ان کا تعلق اتر پردیش کے مردم خیز ضلع بلند شہر سے ہے ،وا لد کی ملازمت کی وجہ سے جمشید پور میں ایک عرصہ تک قیام رہا اور ان کی ابتدائی تعلیم بھی جمشید پور میں ہی ہوئی حالانکہ اعلیٰ تعلیم انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے حاصل کی اور یہیں سے ان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی ۔ اس لئے انہوں نے اپنی نسبت بلند شہر کے بجائے جمشید پور سے کر لی جو ان کے نام کا ایک جزء بن گیا اور اب لوگ ان کو بلند شہری کے بجائے جمشید پوری تصور کرتے ہیں ۔ ۔پروفیسر اسلم جمشید پوری نے اردو سے متعلق سیر حاصل گفتگو کی انہوں نے سب سے اہم بات یہ کہی کہ اگر اردو کو بقائے دوام دینا ہے تو حکومت کی جانب دزدیدہ نگاہوں سے دیکھنے کے بجائے خو د اس کے لئے کچھ کر نا ہو گا جس کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے خود ہم اپنے گھروں میں اس زبان کی ابتدائی تعلیم کا بندوبست کریں ،اور اس سے والہانہ محبت کرتے ہوئے بول چال میں استعمال کریں اور اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ زبان کا استعمال کرتے وقت بالکل احساس کمتری کا شکار نہ ہوں ۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی تہذیب کی شناخت اس کی زبان ہو تی ہے اور اپنی تہذیب کی بقاء کے لئے کسی سے بھیک نہیں مانگی جاتی بلکہ خود بڑھ کر اس کا تحفظ کیا جا تا ہے ۔جب ان سے کہا گیا کہ اردو زبان کو اتر پردیش میں دوسری زبان کا درجہ حاصل ہے اور اس کی تعلیم کے لئے سر کاری اسکولوں میں زیریں سطح سے لے کر اعلیٰ سطح تک اساتذہ کا بھی انتظام ہے مگر پرائمری کے اساتذہ میں لیاقت کا فقدان ہے اور بعض جگہ تو ایسے افراد کا اردو پڑھانے کے لئے تقرر ہوا ہے جو اپنا نام تک لکھنا نہیں جانتے تو انہوں نے کہا کہ اس زبان کے خاتمہ کے لئے منظم سازش کی جارہی ہے یہی وجہ ہے کہ ایسے اساتذہ کی تقرری کی جاتی ہے جن میں اہلیت نہیں ہو تی اور پھر ان سے اس زبان کی تدریس کے بجائے دوسرا کا م لیا جاتا ہے ۔پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ پرائمری کے اساتذہ سے بہت سے دیگر کام بھی لئے جاتے ہیں جو کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے اس سے تعلیم کے معیار پر ضرب آتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈائٹ میں اردو میڈیم میں ٹیچنگ نہیں ہوتی جبکہ اساتذہ کی تیاری اور ان کی تربیت کے لئے یہاں اردو میں ٹیچنگ کا نظم ہو نا چاہئے ۔ان سے جب پوچھا گیا کہ جب اردو اساتذہ سے دوسرے مضامین پڑھانے کا کام لیا جاتا ہے تو وہ احتجاج کیوں نہیں کر تے ؟تو انہوں نے کہا کہ در اصل اخلاقیات میں مرورزمانہ کے ساتھ پستی آئی ہے اور سماج کے سامنے جوابدہی کا خوف ختم ہو گیا ہے بلکہ اس سے سے بڑھ کر ضمیر نام کی چیز ختم ہو تی جارہی ہے جو سر چشمہ انسانیت ہے اب اس صورت میں ان اساتذہ سے کیا امید کی جا سکتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی سطح پرپراؤیٹ پرایمری اساتذہ کی تربیت کا انتظام کر رہے ہیں اور میرٹھ کے نواح میں اس کے لئے مکمل انتظام کیا جا رہا ہے جہاں اساتذہ کو اردو پڑھانے کی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ اپنے فرائض منصبی بخوبی ادا کر سکیں ۔اسلم جمشید پوری نے بتایا کہ ہم نے انجمن فروغ اردو کے تحت ’’کیپسول کورس‘‘ ترتیب دیا ہے جس میں ۳۶ گھنٹہ میں اردو زبان سکھائی جاتی ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کیپسول کورس سے بہت سے ناخواندہ افراد اردو پڑھنا اور لکھنا سیکھ جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ اس کورس کی ترتیب ہی ایسی ہے کہ اگر کوئی شخص متعینہ نظام الاوقات پر عمل کرتے ہو ئے اردو زبان سیکھتا ہے تو اس کا اپنے مقصد میں کامیاب ہو نا لا زمی ہے ۔ 
پروفیسر اسلم جمشید پوری نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جب کافی عر صہ قبل سر کاری سطح پر اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ مل چکا ہے تو اس کو تمام محکموں اور اداروں میں عمل لا نا چاہئے ۔اردو زبان میں بھی کتبے لگانے چاہئیں ۔انہوں نے کہا اس ریاستی حکومت سے محبان اردو کوکافی امیدیں ہیں جن کو پورا کرنے کے لئے حکومت کو اب زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی اقدامات کر نا چاہئے اور اس کو حقیقت میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینا چاہئے ۔انہوں نے کہا حکومت نے مدرسہ بورڈ کی ڈگری کو مساوی تو مانا ہے ،مگر کلی طور سے نہیں بلکہ اس ڈگری کی اہمیت جزوی ہے ،انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ رویہ سوتیلا ہے کیونکہ جب مساوی ڈگری ہے تو تمام کورسوں میں داخلہ ملنا چاہئے مگر ایسا نہیں ہے بلکہ مدرسہ بورڈ کے سند یافتگان کا داخلہ صرف اردو ،عربی اور فارسی زبان میں یو نیورسٹیوں میں لیا جاتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہو نا چاہئے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مدرسہ بورڈ کا قیام حکومت نے خودکیا ہے اس لئے اس کی ڈگری کو یوپی کی یو نیورسٹی ہر کورس میں داخلہ کے لئے تسلیم کیا جا نا چاہئے اس سے ان طلباء کو بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں تعاون کا موقع ملے گا اور ملک کا نام روشن ہو گا۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کے شعبہ ہائے اردو کو جدیدکورسوں سے لیس کیا جا نا چاہئے جس سے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو سکے ۔پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ جس طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ڈپلوما ان ماس کمیونیکشن (اردو )شرو ع کیا ہے اسی طرح تمام یو نیورسٹیوں میں ماس میڈیا ،ڈپلوما ان نیوز ریڈنگ،اینکرنگ اور اسکرپٹ رائٹنگ شروع کرنا چاہے اس سے بچوں کا مستقبل تابناک ہو گا۔
پروفیسر اسلم جمشید پوری نے اردو زبان کے فروغ میں مدار س کے کردار کو ناقا بل فراموش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مدار س نے اردو کی بڑی خدمت کی ہے اور اگر زبان باقی ہے تو انہی مدارس اور مساجد کی رہین منت ہے ۔انہوں نے کہا کہ مدارس نے اردو ادب کو ہیرے دیئے ہیں جنہوں نے زبان و ادب کی بے بہا خدمت کی ہے ۔جب ان سے کہا گیا کہ بعض مذہبی کتب تو اردو کے لئے آب حیات ثابت ہوئی ہیں مثلا مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب ’’بہشتی زیور ‘‘ جو ایک خا ص مکتب فکر میں اہمیت کے پیش نظر بچیوں کو جہیز تک میں دی جاتی تھی اس کے باوجود ان کے کردار کوفراموش کیا گیا اور زبان کے فروغ میں ان کاذکر نہیں آتا تو انہوں نے کہا کہ ہاں اردو زبان کے فروغ میں مذہبی کتب کا بھی بڑا اہم کرادر ہے مگر یہ کردا صرف زبان تک ہے ادب تک نہیں غالبا اسی وجہ سے ان کتب کو نظر انداز کیا گیا ۔ 
پروفیسراسلم جمشید پوری سے جب اردو زبان میں تخلیق اور تنقید کی حالیہ روش سے متعلق گفتگو کی گئی تو انہوں نے اس سطح پر اردو کا مستقبل تابناک بتا تے ہوئے کہا کہ تخلیق اور تنقید دونوں کا مستقبل ذمہ دار ہاتھوں میں منتقل ہو رہا ہے جو حوصلہ افزا ہے اس لئے اس سطح پر بہت زیا دہ خدشات نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے پس منظر میں ناقد تخلیق کار پر حاوی ہے جبکہ یوروپی ممالک میں تخلیق کار آزادہے ۔انہوں حالانکہ تخلیق کار کی اہمیت قبول کرتے ہوئے کہا کہ تخلیق کار کی اہمیت زیادہ ہو نی چاہئے کیونکہ تنقید کا وجود تخلیق سے ہے جبکہ تخلیق کے وجودکے لئے تنقید کا ہو نا ضروری نہیں ہاں البتہ تنقید نگار ایک تخلیق کار کو راہ ضرور دکھاتا ہے اس لئے اس کا عمل دخل صرف راہبر تک ہی ہو نا چاہئے ۔پروفیسر اسلم جمشید پوری سے جب یہ بتایا گیا کہ آپ تخلیقی ادب کے مستقبل سے بہت پر امید ہیں جبکہ بزرگ تخلیق کاروں کو بہت زیا دہ امیدیں نہیں جس کی وجہ سے وہ نئی نسل سے نا امیدی کا اظہار کرتے ہیں تو انہوں بڑی اہم اور دو ٹوک بات کہی انہوں نے کہا کہ اردو کے بزرگ ادیبوں میں سے اکثر انا نیت کا شکار ہیں اور وہ نئی نسل کی تخلیقا ت کو نہ قابل اعتنا سمجھتے اور نہ اس کا مطالعہ کرتے ہیاگر وہ نئی پود کی تخلیق و تنقید کا مطالعہ کرتے تو میری طرح ان کی بھی بہت امیدیں وابستہ ہو تیں ۔انہوں ے کہا کہ تخلیق میں نظمیہ شاعری کی تو کو ئی بات ہی نہیں ہر روز مجموعے منظر عام پر آرہے ہیں جن میں کچھ شعراء کا کلام کافی اہم ہو تا ہے جس میں نہ صرف سماجی سروکار ہو تا ہے بلکہ داخلی اور خارجی کیفیات کا بیان بڑی خوبصورت زبان میں ہوتا ہے جس میں تمام شعری تلازمات کو بروئے کار لایا جاتا ہے ۔اس لئے اس صنف کے لئے کوئی خطرہ کی بات ہی نہیں ۔
پروفیسر اسلم جمشید پور ی نے افسانوی ادب کے پس منظر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشرف عالم ذوقی ،اختر آزاد ،مہتاب عالم پرویز،ابرار مجیب ،ایم اسلم ،مبین مرزانئی نسل کے ایسے افسانہ نگار ہیں جن کے افسانے کافی اہم ہو تے ہیں انہوں نے کہا کہ شائستہ فاخری ،ثروت خان ،غزالہ قمر اعجاز ،قمر قدیر ارم ،نشاں زیدی ،وغیرہ بہت اچھی افسانہ نگاری کر رہی ہیں ۔پروفیسر اسلم جمشید پوری سے جب افسانوی ادب میں تجربہ پرسوال کیا گیا اور پو چھا گیا کہ ’’پوپ کہانی ‘‘کا مستقبل آپ کو کیسا لگتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ نثری ادب میں بہت عرصے کے بعدنیا تجربہ کیا جا تا ہے انہوں نے کہا کہ پوپ کہانی کا کوئی مستقبل نہیں کیوں کہ افسانچہ اور پوپ کہانی میں کو ئی فرق نہیں اس لئے نام بدل دینے سے ہیئت نہیں بدل جاتی ۔انہوں نے کہا یہی حال یک سطری کہانی کا ہے اس کا تجربہ بھی ناکامی کا شکار ہوگا۔ پروفیسر جمشید پوری نے کہاادب میں وہی صنف زندہ رہتی ہے جس میں ادب کے تمام تقاضے ہوں ،انہوں نے اپنی ایک یک سطری کہانی سنائی کہ’’افسانہ میں زندگی ہو تی ہے لیکن زندگی افسانہ نہیں ‘‘مگر خوداس کہانی سے مطمئن نظر نہیں آئے ۔جب ان سے کہا گیا کہ کہانی کے لئے کردار اور پلاٹ کا ہو نا ضروری ہے مگر یک سطری کہانی پلاٹ کی متحمل نہیں اس لئے کردار تو ہو نا ہی چاہئے تو انہوں نے قبول کیا کہ یہ بات بالکل درست ہے اور یک سطری کہانی میں یہ عناصر مفقود ہیں ۔انہوں نے کہا کہ افسانچہ اور منی کہانی تک تو غنیمت ہے مگر اس کے بعد کے تجربوں میں دم نہیں اس لئے امید نہیں کی جاسکتی ۔
پروفیسر اسلم نے اردو تنقید کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اردو کے تنقیدی نظریات میں بڑی وسعت ہے جو جدید تقاضوں سے لیس ہیں ۔انہوں پروفیسر ابولکلام قاسمی ،پروفیس ظفراحمد ،حقانی القاسمی ،کوثر مظہری وغیرہ کی تنقید کو اعلیٰ معیار کی بتایا ۔انہوں نے کہا کہ مدرسہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی یکجائی نے ان نقادوں کے نظریات اور زبان میں کافی اہم کردار ادا کیا ہے ۔انہوں نے کہا مدرسہ اور کالج کی تعلیم کا اولین نمونہ علامہ شبلی ہیں جن کا نام بڑے احترام سے سے اس صنف ادب میں لیا جا تا ہے ۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ جب تخلیق کار مشرقی ہے اور جن مسائل کو بیان کیا جا رہاہے وہ مشرقی ہیں تو پھر نقاد مغرب کے سر چشمہ سے اس کو ملانے کی کیو ں کو شش کرتے ہیں ؟مشرقی دائرہ میں رہ کراس فن پارے چھان پھٹک کیوں نہیں کرتے ؟تو اسلم جمشید پوری نے کہا کہ جو ناقدین مغربی ناقدین کے جملے نقل کرنا ضروری سمجھتے ہیں ان کا یہ عمل مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس فن پارے کو مشرقی اصول و ضوابط کی بنیاد پر ہی دیکھنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ اپنے نظریہ کو پیش کرنا چاہئے یہی زیادہ بہتر ہے اور زبان ادب کے لئے یہی سود مند بھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب تخلیقی تنقیدکادور شروع ہو چکا ہے اور یہی سب سے بہتر تنقید ہے کیوں کہ ایک تخلیق کار بہتر نقاد بھی ہو تا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عابد سہیل،شوکت حیات، ساجد رشید،انجم عثمانی،مشرف عالم ذوقی اور عابد سہیل وغیرہ کا نقد خالص نقاد کے نقد سے بہترہے ۔انہوں نے کہا کہ ناقدین کو لفظ کی حرمت کو بحال کیا۔
پروفیسر اسلم جمشید پوری نے تحقیق کے باب میں ایک سوال کے جواب میں کہا غالبیات اور اقبالیات پر بہت کچھ لکھا جا چکا اور اب محققین صرف جگالی کرتے ہیں اس لئے یو نیورسٹیوں کو جدیدموضوعات پر تحقیق کی جانب رجوع ہو نا چاہئے انہوں نے کہا کہ غالبیات اور اقبالیات کے موضوع پر تحقیق کے لئے اب کچھ نہیں بچا ہے اس لئے تن آسانی کو چھوڑکر ایسے موضوعات پر تحقیقی کا م کر نا چاہئے جو نئے اور اچھوتے ہوں ۔تاکہ زبان و ادب کی صحیح معنوں اور سمتوں میں پیش قدمی ہو سکے ۔
محمد حنیف خان 
سب ایڈیٹر روزنامہ ’’آگ‘‘لکھنو
haneef5758@gmail.com
9359989581

مہتاب عالم پرویز ؔ کا ’’ کارواں ‘‘ رضوان واسطی MAHTAB ALAM PERVEZ KA KARWAN

مہتاب عالم پرویز ؔ کا ’’ کارواں ‘‘

 رضوان واسطی

      *کیا افسانے ہی حقیقت بن جاتے ہیں؟ کیا حقیقتیں ہی افسانوں کا روپ اختیار کرلیتی ہیں؟؟ کیاافسانہ حقیقت کی ضد ہے؟؟؟ کیا حقیقت افسانے کی ضدہے؟؟؟؟….. یہ اور ایسے ہی نہ جانے کتنے لامتناہی سوالات افسانوں سے متعلق تنقیدی وادیوں میں گونجتے رہتے ہیں۔لیکن جہاں تک لسانی قواعد کی دنیا ہے، افسانہ اور حقیقت کو ایک دوسرے کی ضد ہی مانا جاتا رہا ہے۔تو پھر اتنی اختلافی بحث کیوں؟ دراصل وقت کے دریا نے اپنے بہاؤ کے ساتھ ایک ایسے جزیرہ نما میں پہنچادیا ہے، جہاں ایک طرف تو مفروضات کا ایک سمندر ہے اور دوسری طرف حقیقتوں کاایک پہاڑ…کسی قوم کے لیے سو سال کا فاصلہ بہت بڑا نہیں ہوتا، لیکن قوموں کی روِش میں تبدیلی ضرور آجاتی ہے۔ ادبی دنیا میں افسانوں کا بھی یہی حال ہے۔ قواعد کی دنیا کے الفاظ ’افسانہ‘ اور’ حقیقت‘ آج سے سو سال پہلے ضرور ایک دوسرے کے بالمقابل نظر آتے رہے ہونگے لیکن اب تویہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ساتھ ساتھ ادب کی دنیا میں چہل قدمی کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر اس حیثیت سے دیکھیں تو آج کے دَور کے تیزی سے پھلتے پھولتے افسانہ نگاروں میں ایک اہم نام مہتاب عالم پرویزؔ کا ہے۔ انہی کے افسانوں کے پس منظر میں اپنی بات شروع کرنے سے پہلے اس پیش خیمہ کی ضرورت محسوس ہوئی۔یوں تو مہتاب عالم پرویزؔ کا خیال ہے کہ انہوں نے نہ تو اردو کے گوناگوں افسانوں کا مطالعہ بغور کیا ہے اور نہ ہی وہ کسی افسانہ نگار سے شعوری یالاشعوری ، باضابطہ یا بے ضابطہ طور پر تأثر قبول کیا ہے۔ اگرچہ دل ان کی بات مان بھی لے، لیکن میرا ذہن ان کی اس دلیل کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے؛ کہ آج کے دور کا کوئی بھی تخلیق کار آگے بڑھنے کے لیے کسی بھی تخلیق کار سے نہ تو متأثر ہوا ہو اور نہ ہی اس کے زیر مطالعہ عظیم اور شہرت یافتہ مقبولِ زمانہ افسانہ نگاروں کی تخلیقات رہی ہوں۔ معاملہ تخلیقات کا ہو یا ننھے بچوں کا، … Aping کی راہ پر چلنا ہی پڑتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ آگے بڑھنے کے بعد اپنی نجی آزادی کا اعلان ببانگ دُہل کردیا جائے۔ اور شعوری رَو سے لے کر ریلزم اور سر ریلزم کی کے بخیے ادھیڑتے ہوئے دنیا کھنگال ڈالے۔Aping بری چیز نہیں ہے۔ آج کا کوئی بھی اردو نثر نگار اگر یہ دعویٰ کرے کہ اس نے ابنِ صفی کو نہیں پڑھا ہے اور ایک ادیب کی حیثیت سے اسے کوئی مقام بھی نہیں دینا چاہتا، تو بات عجیب ہوتے ہوئے بھی مجھے ان کی بات تسلیم کرتے ہوئے خاموش ہوجانا پڑے گا،کہ میرے پاس اس کی نفی کی کوئی دلیل یا ثبوت نہیں ہے۔ جھگڑا تو کرنے سے رہا۔کچھ ایسے بزرگ تخلیق کاروں سے بھی میرا واسطہ پڑا ہے جنہوں نے ابن صفی کے ادیب نہ ہونے پر گھنٹوں بحث کرڈالی ہے، لیکن گفتگو کے آخیر میں ابن صفی کی دو تین کتابیں مجھ سے چھین لے گئے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ’’ دے دو میں وقت گزاری کے لیے پڑھ کر واپس کردوں گا‘‘ یہ اور بات ہے کہ کتابیں مجھے واپس نہ ملی ہوں۔ یہاں ابن صفی کا نام لینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ یہی وہ معتبرفنکار ہے جس نے افسانوی ادب کو قصہ گوئی اور داستان گوئی کی پراسرار دنیا سے نکال کر موجودہ دور کے پراسرار جاسوسی ناولوں کااَوتار دیا۔ اور اسلوب و آداب نے زبان کو اتنا چست درست اور شائستہ بنادیا کہ ان کا کوئی بھی قاری جو خود بھی افسانہ نگار بن گیا ہو،ان کے اندازِ بیان کے سحر سے آزاد نہ ہو سکا۔ اس بات کا اعتراف میں نہیں اردو کے تقریباًاکثر و بیشتر معتبر اور مستند نقادوں اور محققوں نے کیا ہے۔ بہر حال مہتاب عالم پرویزؔ نے جاں فشانی اور ایمانداری سے قلم کی بھرپور دوستی کا حق نباہا ہے اور نباہ رہے ہیں۔ ان کے افسانوں کو سلسلہ وار پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں افسانوں کی اپنی سرگزشت کا آئینہ دار کہا جاسکتا ہے۔ 
     ایک عام رائے کے مطابق اردو اور ہندی ادب میں مختصر افسانوں کی بنیاد سب سے پہلے انشاء اللہ خان انشأ کی تخلیق ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ سے پڑی۔ کہانیاں اس سے پہلے بھی کہی جاتی تھیں۔ قصہ گوئی کی ابتدا کب سے ہوئی ‘ یہ شاید وثوق سے کوئی بھی نہیں کہہ سکتا۔ لیکن شروع میں کہانیاں صرف تضیعِ اوقات اور تفریح وتفنُّن کا ذریعہ ہی رہا ہوگا۔ لیکن افسانوں نے خصوصاً مختصر افسانوں نے اسے انسانی زندگی سے براہِ راست جوڑنے کا کام کیا۔ اردو میں آج سے سو سال پہلے یہ گرانقدر کام منشی پریم چند نے کیا۔ دھنپت رائے نے قلمی نام نواب رائے کی حیثیت سے لکھنا شروع کیااور ان کا پہلا افسانوی مجموعہ’سوزِ وطن‘ کے نام سے شائع ہوا۔ کتاب کے نام ہی سے ظاہر ہے کہ اس کے افسانوں میں کیا باتیں پیش کی گئی ہونگی۔ انگریزی سامراج کو بھلا یہ باتیں کیسے پسند آتیں؟ انہوں نے نہ صرف اس کتاب کو ضبط کیا ،اس پر پابندی لگادی اور پریس کو ضبط کیا بلکہ دھنپت رائے سے افسانہ گوئی اور تحریر کا حق بھی چھین لیا۔ لیکن انہوں نے بعد میں پریم چند کے نام سے افسانہ لکھنا شروع کیا اور خوب لکھا۔ لگ بھگ    تیس پینتیس برس کی انقلابی پیش قدمی کے دوران ’کفن‘ جیسا افسانہ سنگِ میل کی حیثیت سے منظرعام پر آیا۔ 
انسانی زندگی میں کچھ ضرورتیں اورکمیاں تھیں۔لہٰذا معاشرتی کمزوریوں کو اجاگر کرنے میں ہی افسانے کی خوبی سمجھی گئی۔ بعد کے افسانوں میں نہ صرف کمزوریوں اور کمیوں کی عکاسی کی جانے لگی بلکہ اشاروں کنایوں میں یا کھل کر مارکس اور اینجلس کے نظریات پر مبنی اس کا علاج بھی پیش کیا گیا۔ اس طرح پریم چند کے زیر صدارت اور سرپرستی میں ترقی پسند تحریک کا جنم ہوا۔ افسانے بیانیہ ہوتے تھے۔ سماجی نابرابری، بھوک، طبقاتی کشمکش، سرمایہ دارانہ مظالم،ظلم و تشدد کا ننگاناچ اور کھلا مظاہرہ چاروں طرف پھیلی بدعنوانیاں افسانوں کا موضوع ہوا کرتی تھیں۔ لیکن ان سبھوں کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور جنسی بے راہ روی کو بھی افسانوں میں بطور موضوع جگہ ملنے لگی۔مواد کافی تھے کینوس وسیع…. اس سلسلے میں آپسی اختلافات بھی منظرعام پر ظاہر ہونے لگے۔ اس دور کے بڑے افسانہ نگاروں میں جو خصوصاً انجمن ترقی پسندمصنفین کے پرچم تلے باضابطہ خامہ فرسائی کرتے تھے، عصمت چغتائی، کرشن چندر، حامدی کاشمیری، تلوک چند محروم، کیدار شرما، سہیل عظیم آبادی، راجندر سنگھ بیدی، انتظار حسین ، قرّۃالعین حیدر،زکی انور، احمد علی، رشید جہاں،جوگندر پال وغیرہ کے نام اہم کہے جاسکتے ہیں۔ لیکن سب سے بے باک افسانہ نگار جس نے سماج کی دوسری کمزوریوں کے ساتھ نفسیات ،جنسی بے راہ روی اور جنسی ظلم پر قلم اٹھایا وہ تھا سعادت حسن منٹو۔ اس سلسلے میں ان کے افسانہ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ کے بہانے انہیں سزا بھی سنائی گئی۔ انجمن ترقی پسند مصنفین سے خارج بھی کیا گیا۔ لیکن انہوں نے بے باکی سے مونہہ نہیں موڑا۔ آزادی ہند کے ساتھ ساتھ تقسیم ہند ، فسادات، بڑے پیمانے پر ہجرت اور انخلاءِ وطن اور زبردست خونریزی کے علاوہ جنسی استحصال کو افسانوں کا موضوع بنایا گیا۔ اس وقت بھی نفسیاتی اور جنسیاتی ظلموں کا پردہ منٹو نے فاش کیا۔ منٹو کی بے باکی اور عریانیت کو دیکھ کر ایک زمانے کو خیال ہوا کہ وہ ترقی پسندتحریک کے غلاف میں اپنے لیے شہرت کاراستہ اختیار کررہے ہیں۔ لیکن یہ بہتان اور جھوٹے الزام سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ترقی پسند تحریک کاہرگز یہ مفہوم نہیں تھا۔ یہ ان کا ذاتی فعل تھا اور اپنی ذہنی اپج سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ وہ دراصل تحریک کو زندگی کے اتنا نزدیک کرنا چاہتے تھے کہ معاشرہ سے ہر قسم کی برائی کو مٹایا جاسکے، خواہ وہ معاشی کشمکش ہو یا ذہنی، نفسیاتی اور جنسی بے راہ روی ہو۔ منٹو افسانوں کے بادشاہ کہے جاسکتے ہیں۔ اس واقعاتی تجزیہ کے پس منظر میں اگر مہتاب عالم پرویزؔ کی کہانیوں کا جائزہ لیا جائے تو یقیناًمیرے اس دعوے کو تقویت ملے گی کہ ان کی پہلی کتاب ’ریت پر کھینچی ہوئی لکیر‘ کے مقابلے میں افسانوں کا یہ نیا مجموعہ’کارواں ‘ بہر طور زیادہ وزن دار ہے اور مقبولیت کی نئی بلندیوں کا حقدار بھی۔
اس میں کئی افسانے سعادت حسن منٹو کی یاد تازہ کرجاتے ہیں : مثلاً ’بیک ڈور‘،’کتیا‘’بازگشت‘، ’ایک تلاش ہے زندگی‘، ’رشتے کی بنیاد‘ ’جرثومے‘ وغیرہ۔ایسا نہیں ہے کہ منٹو کے افسانوں کا عکس یا چربہ اس میں نظر آتا ہے بلکہ بات صرف اتنی سی ہے کہ مختصر افسانوں میں جنسیاتی کشمکش کو ظاہر کرنے کے سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ علم نفسیات کا بھرپور سہارا لیا گیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ مہتاب عالم پرویزؔ کی گہری نظر نفسیات کے اصولوں پر بھی ہے۔ 
     مہتاب عالم پرویزؔ شخصیت کے اعتبار سے ہی صرف ایک سیدھے اور سچے انسان نہیں ہیں بلکہ اپنے مختصر افسانوں کے ادھیڑبن میں بھی وہ اپنا یہی نقشہ پیش کرتے ہیں۔ منشی پریم چند نے ایک جگہ کہا ہے کہ میرے افسانوں اور تواریخ میں صرف اتنا ہی فرق ہے کہ تواریخ میں تاریخ اور نام صحیح ہوتے ہیں باقی سب فرضی، جبکہ میرے افسانوں میں تاریخ اور نام فرضی ہوتے ہیں واقعات صحیح۔ مہتاب عالم پرویز ؔ نے تو اکثرو بیشتر اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر نام اور تاریخ بھی بالکل صحیح صحیح پیش کردیا ہے۔ ہوسکتا ہے واقعات فرضی ہوں، ہوسکتا ہے نہیں، بلکہ ہیں… لیکن کہنے کا انداز اسے حقیقت سے ہم آہنگ کردیتا ہے۔
     ’’گذشتہ شب میری پانچ سالہ بیٹی نوشین نے JUBILEE PARKجانے کا پروگرام بنایا تھا۔ جب میں ساڑھے چھ بجے سائبر بند کرکے اپنے گھر لوٹا، میری بیوی میری منتظر تھی۔اور میرا چارسالہ بیٹا فرازؔ مجھے دیکھ کر کافی خوش ہوگیا تھا۔ ‘‘ 
                                              (….سانپ اور پرندے)
     زبان میں ملاحت ہی نہیں، بیباکی،سادگی اور پرکاری بھی ہے:
     ’’غلطیاں انسان سے ہوتی ہیں اور کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں خدا بھی معاف کردیتا ہے۔ اور جب خدا معاف کردیتا ہے تو بندوں سے ایسی امیدیں کی جاسکتی ہیں۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہارے ساتھ انصاف ہوگا۔‘‘
                                              (…بیک ڈور)
     ’’ شام ڈھلنے لگی تھی اور سورج کی لالی نیلم کی آنکھوں میں اتر آئی تھی۔ اس کی آنکھیں سرخ ہونے لگی تھیں، جیسے وہ نشے کی عادی ہو۔ جب وہ کمرے میں دوبارہ واپس لوٹی تو حویلی کا نوکر اس کی پشت پہ موجود تھا اس کے ایک ہاتھ میں خوبصورت سے ٹرے میں رنگین مشروب کے دو گلاس سجے ہوئے تھے۔ اور دوسرے ہاتھ میں جو ٹرے تھا اس میں ایک مرغ مسلم سجا ہوا تھا۔ ٹرے میں مرغ مسلم کچھ اس انداز سے سجایا گیا تھاکہ مجھے محسوس ہورہا تھا کہ نیلم مکمل برہنہ بستر پر دراز ہے اور اس کی دونوں ٹانگیں اوپر اٹھی ہوئی ہیں۔ نوکر دونوں ٹرے سنٹر ٹیبل پر رکھ کر جاچکا تھا۔ نیلم نے ایک گلاس میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔آج کی شام تمہارے نام‘‘ 
                                                                                                                                                                          (…کتیا)
     خواہ قارئین کی سہل نگاہی ہویا نقاد کی ژِرف بینی… افسانہ نگار کی دنیا ہو یاحقائق کی ،حالات کے پیشِ نظر اس بات سے سبھی اتفاق کریں گے کہ سعادت حسن منٹو کو جانے اور سمجھے بغیر افسانوی دنیا میں نہ تو تخلیق کار اور نہ ہی قاری کی حیثیت سے قدم رکھا جاسکتا ہے۔ آج تک جتنے بھی افسانہ نگار اردو ادب کی زینت مانے جاتے ہیں ، ان میں سعادت حسن منٹو کی حیثیت بلا شک و شبہہ اہم ترین ہے۔لیکن سعادت حسن منٹو کی نفسیاتی اور جنسیاتی بے باکی کے ساتھ حالاتِ حاضرہ کی کشمکش اور منظرنگاری کو علیحدہ کردیا جائے تو منٹو کا افسانوی جسم تو موجود رہے گا مگرروح غائب نہیں تو لاغر ضرور ہوجائے گی۔افسانوی فضا میں زبان و بیان کی کافی اہمیت ہوتی ہے۔ 
زبان صاف شفاف ہو، بے باک ہو، شستہ و فصیح ہو، لیکن ان سب کے علاوہ افسانوی زبان میں لوچ اور شیرینی بھی ہونی چاہیے ۔عصمت چغتائی، کرشن چندر، زکی انوراور واجدہ تبسم ، قاضی عبدالستار، ابن صفی وغیرہ اپنی زبانوں کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کے علاوہ دوسرے عظیم تخلیق کاروں کے ناموں کو جن کا ذکر درج بالا ہو اہے نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ بات مہتاب عالم پرویز ؔ کے افسانوں کی ہورہی تھی، جن میں بیباکی کے ساتھ تقریباً وہ تمام خوبیاں قدرتی اور فطری طور پر موجود ہیں جن کا ذکر اوپر کی سطروں میں کیا گیا۔ ابھی شروعات ہے، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
     ’’اٹھلاتی اتراتی الہڑ جوانیاں… چاند سا روشن چہرہ… بڑی بڑی سی کجراری آنکھیں… جھیل سی نیلی بیکراں آنکھیں… کتابی چہرے… شام سی گھنیری زلفیں… اور بدن کے نشیب و فراز میں جلتے الاؤ… گلاب کی پنکھڑیوں سے عنابی ہونٹ… اور وہیں گلے شکووں کا جال…اور اس جال میں لپٹی بے چین سسکتی سبکتی خواہشیں… رخساروں پہ پھسلتی ہوئی شبنمی بوندیں… آنکھوں کا بھیگتا کاجل… کمپیوٹر کے کی بورڈ پر رقص کرتی ہوئی مخروطی انگلیاں … اور سوچ کے اسکرین پر تبدیل ہوتی ہوئی رنگ برنگی تتلیاں… تتلیوں کا پیچھا کرتے ہوئے معصوم اور ننگے پاؤں… اور ان معصوم اور ننگے پاؤں کی چاپ کو متأثر کرتی ہوئی صداؤں کی بازگشت…‘‘
                                                                                                                                          (ایک تلاش ہے زندگی)

     ایک ایک افسانے کے بارے میں تفصیلی تجزیہ نہ تو یہاں ممکن ہے اور نہ ہی وقت کا تقاضہ وضرورت۔ ہر افسانے کا تعلق بنفس نفیس پڑھنے سے ہے۔ تبھی ایک ایک زاویہ مختلف نقطوں سے اسپکٹرم کی طرح پرت در پرت کھلتا جائے گا اور تین سو ساٹھ ڈگری کا دائرہ مکمل کردے گا۔ ہر افسانے میں پلاٹ، منظر نگاری، کردار سازی، تصادم و تجسس کے علاوہ عروج و ردِّ عروج(کلائمکس اور اینٹی کلائمکس) کی بوقلمونیاں نظر آتی ہیں۔ ایک دو افسانوں مثلاً ’کارواں‘ کے علاوہ ’آخری پرواز ‘اور’ سانپ اور پرندے‘ میں فنطاسی کے تجربے بھی نظر آتے ہیں۔ بہتر ہوتا اگر انگریزی کے وہ الفاظ جو بول چال کی زبان سے تعلق رکھتے ہیں اور استعمال کے اعتبار سے ضروری لگتے ہوں انہیں انگلش حروف کی بجائے اگر اردو حروف و لفظ ہی میں لکھا جا تا تو بہتر ہوتا اور روانی زیادہ فطری ہوتی۔
     مجموعی طور پر یہ کتاب ایک خوبصورت تخلیق کی حیثیت سے افسانوی عالم میں قبولیت کی بلندی حاصل کرے گی۔

()()()()()

رضوان واسطی

ڈاکٹر نزہت پروین کا تحقیقی و تجزیاتی مقالہ ’جھارکھنڈ میں اردو کے غیر مسلم فنکار‘ اور معروف ادیب و شاعر اسلم بدر کی انشائیہ نما تحریر ’پندار کا صنم کدہ ‘ (خود نوشت) کی رسم اجراء

 بسم اللہ الر حمٰن الر حیم

 ڈاکٹر نزہت پروین کا تحقیقی و تجزیاتی مقالہ ’جھارکھنڈ میں اردو کے غیر مسلم فنکار‘
 اور
 معروف ادیب و شاعر اسلم بدر کی انشائیہ نما تحریر ’پندار کا صنم کدہ ‘ (خود نوشت)
 کی رسم اجراء

 ’اردو قبیلہ‘ جمشید پور کے زیر اہتمام، مذکورہ بالا دونوں کتابوں کی رسم اجراء کریم سٹی کالج، جمشیدپور کے اسٹوڈیو ہال میں ڈاکٹر محمد زکریا (پرنسپل کریم سٹی کالج)اور جناب اختر کاظمی ( ایڈیٹر ’کوکن سہارا ‘ممبئی) کے ہاتھوں ادا کی گئی۔ 
’جھارکھنڈ میں اردو کے غیر مسلم فنکار ‘ دراصل ڈاکٹر نزہت پروین کا وہ تحقیقی و تجزیاتی مقالہ ہے ، جس پر رانچی یو نیورسٹی نے انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری سے سر فراز کیا ہے۔ ہماری اردو زبان جسے پروان چڑھانے اور اس کے حسن کو نکھارنے والوں میں صرف مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی پیش پیش تھے۔پنڈت برج نرائین چکبست، دتاتریہ کیفی،پریم چند ، فراق گورکھپوری سے لے کر گوپی چند نارنگ تک کا ایک اٹوٹ سلسلہ ہے، جو اس کشت تہذیب کی آبیاری میں اب بھی شامل ہے ۔ صوبہ جھارکھنڈ میں بھی اس سلسلے کی اہم کڑیاں ملتی ہیں۔ یہاں کے رام پرشاد کھوسلہ ’ناشاد‘(شاعر)،ہربنس دوست (افسانہ و ناول نگار)، گربچن سنگھ (افسانہ نگار) ، شیدا چینی (پورے بر صغیر میں اردو زبان کا پہلا چینی نژاد صاحب کتاب شاعر)، سے لے کر معروف شاعر جوگا سنگھ انور بھی قومی اور بین الاقوامی سطح پر جانے مانے جاتے ہیں۔ان تمام فنکاروں کے فن اور ان کی ادبی جہتوں پر ، اس کتاب میں کھل کر بحث کی گئی ہے۔ 
’پندار کا صنم کدہ‘ اسلم بدر کی خود نوشت ہے۔یہ وہ صنم کدہ ہے جس میں اپنے خود ساختہ بتوں کو موصوف نے اپنے ہی ہاتھوں توڑا ہے۔ یہ کتاب، موصوف کے تفنن طبع اور سیماب مزاجی کا ایسا آئینہ ہے، جس میں ان کی زندگی کے بعض گوشوں کے تلخ تجربوں، کٹھی میٹھی یادوں، پشیمانیوں ، محرومیوں ، ناکامیوں ،(بہت سنبھل کے حماقتوں بھی کہنا چاہتا ہوں) کا بھر پور عکس دیکھا جا سکتا ہے ۔ گویا اس کتاب کو ’آئینۂ قہقہہ ‘ (Laughing Mirror ) بھی کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا ۔ مگر یاد رہے کہ اس آئینہ خانہ میں صاحب کتاب کی بگڑی ہوئی شکل پر چسپاں آپ کو کبھی کبھی اپنا عکس بھی نظر آئے گا۔ہنسی بھی آئے گی۔ خود پر ہنسنا آسان نہیں ہو تا، مگر آپ ہنسیں گے۔ اپنے عکس پر کم ،موصوف کی عکاس شکلوں پر زیادہ ۔مگر یہ ہنسی بھی سنجیدہ ہو گی، اکثر ہنستے ہنستے آنسو چھلک پڑیں گے، اور آپ اس شعر کی تفسیر ہو جائیں گے:
ہنسی ہنسی میں کہیں آنکھ نم نہ ہو جائے حضور! دیکھئے ، اظہار غم نہ ہو جائے
کتاب میں وضع کئے گئے ذیلی عنوانات ہی سے اس کتاب کی نوعیت کا اندازہ ہو جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر چند ایک عنوانات دیکھیں:….. مچھر کا شکار، ’ جا‘تے شاعر ہو گیا،ٹن ٹن ٹن ٹن (فعلن فعلن)، درشن چاچی ہمارا فرائڈ کا سبق، پٹنہ کی بگھی تاجپور کا ٹمٹم، نثرلی نانا کی تڑگچھیا ، تما تم بیا لل لا، آیت الکرسی اور چندہ،عشق کا پروگریس رپورٹ، مارواڑی مشاعرہ، مقتل مشاعرہ، نوٹنکی مشاعرہ،لُٹا ہوا لٹیرا شاعر، شب نہاری، بھانگڑا داد ، …. … جیسے عنوانات ہی آپ کا دامن نگاہ تھام تھام لیں گے اور آپ کو مطالعہ کے لئے مجبور کر دیں گے۔
کتاب کے اخیر میں ڈاکٹر نزہت پروین (بیگم اسلم بدر ) نے اپنے مضمون ’پس نوشت‘ میں ’خم سطح آئینہ ‘ کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے، صاحب کتاب کا وہ وہ روپ ابھارا ہے کہ بس ….!!!
افسر کاظمی
(صدر،اردو قبیلہ ، جمشید پور)

نیاز اختر کی کہانیوں کے اشاریے : اسلم بدر

 نیاز اختر کی کہانیوں کے اشاریے

 اسلم بدر

 دنیا کاہر انسان معلوم و غیر معلوم نفسیات کے ساتھ اپنی زندگی جیتا ہے۔ادب اور زندگی کے اٹوٹ رشتے کے سبب ، ادب بھی بغیرِ نفسیات تخلیق نہیں پا سکتا۔افسانوی ادب میں بھی اس کے اثرات سے نہ تو پریم چند بچ سکے ہیں، نہ منٹو ، نہ بیدی ، نہ گدی نہ ہی ہمارے شہر جمشید پور کے اختر آزاد ، انور امام، مہتاب عالم پرویز اور نہ ہی ’بوڑھے برگد کا انت‘ کے نیاز اختر۔الجھن اس وقت ہوتی ہے جب یہ نفسیاتی روئیے، کہانی پن کو تو کہیں دور پھینک دیتے ہیں اور افسانہ، محض نفسیاتی الجھنوں کا مکڑ جال بن کر رہ جاتا ہے۔ الجھنیں اُس وقت اور پریشان کرنے لگتی ہیں جب افسانہ نگار کسی خاص مصلحت کے تحت یادانشوری کا خود ساختہ بوجھ ڈھونے کے لئے یا ابیقوریت کی تقلید میں یا کبھی کبھی بس یونہی (تفنن طبع کی خاطر)نہایت ہی پیچیدہ راستوں پر نا معلوم منزل کی تلاش میں چل پڑتے ہیں اور چلتے رہتے ہیں۔ ان حالات میں فن تو شکار ہوتا ہی ہے ، ممکن ہے خود فنکار بھی شکار، بلکہ بیمار ہو جائے۔خصوصی طور پر آج کے افسانے اور افسانہ نگار اس چھوت کی بیماری سے بچے ہوئے نہیں ہیں۔ایسے میں اگر کبھی فلسفے کا بخار بھی چڑھ آیا تو موت یقینی سمجھئے۔ جس کا اعلان پچھلی صدی میں ہی ہو چکا ہے…..The death of an Author۔اس مضحکہ خیز اعلان کا تتمہ یہ کہ ادیب تو ادیب ، ادب بھی دم توڑ چکا ہے۔
غرض، عرض معروض یہ کہ ادب، جو زندگی کا خوبصورت ترجمان ہے ، ایسا نہ ہو کہ کسی نا قابل برداشت بوجھ تلے دب کر واقعی دم توڑ دے یا الجھنوں کا ایسا محبس ہو جائے کہ باہر سے اندر اور اندر سے باہر بیر بہوٹی جیسے مناظر تو ہوں مگر دکھائی ہی نہ دیں۔
مگرفی الوقت فلسفے کی نہیں ، صرف نفسیات کی بات کروں گا، اس لئے کہ فلسفے کا جان لیوا بوجھ بیرون ذات کا مسئلہ ہے ، اتارا بھی جا سکتا ہے۔ نفسیات کا مسئلہ اندرون ذات کا ہے۔ اکثریہ پتا ہی نہیں چلتا کہ کس چور دریچے سے کون گھس آیا ہے اور اندرون خانہ کیسی لوُٹ مچا رکھی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ چور دریچے بند رکھے جائیں یا کھُلے۔سچائی یہ ہے کہ بند دریچے، کھلے دریچوں سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ایک سنہری لکیر یہ کہ ایسی صورت حال میں نفسیاتی علاج شرطیہ اور تیر بہدف ہے۔بیماری نا قابل علاج نہیں ہے۔ بس کسی تجربہ کار معالج کے ساتھ دو چار نشستوں کی ضرورت ہوگی۔
تازہ کار افسانہ نگار نیاز اختر کے افسانوں کے مجموعے ’ بوڑھے برگد کا انت‘ کا ہر افسانہ کسی نہ کسی انسانی و حیوانی نفسیات کی طرف اشارہ کرتا ہے، مگر کوئی افسانہ کہیں بھی کسی نفسیاتی مکڑ جال کا شکار دکھائی نہیں دیتا۔ شاید اسی روئیے کو افسانوی ادب میں ’کہانی پن‘ ، ’بیانیہ‘ یا ’خط مستقیم‘ پر چلنے کا عمل کہا گیا ہے۔یہ عوامل نیاز اختر کی کہانیوں میں بدرج�ۂ اتم پائے جاتے ہیں۔ میں نیاز اختر کو افسانہ نگار نہ کہہ کر کہانی کار کہنا پسند کروں گا ۔
ہماری روزانہ کی زندگی میں ان گنت واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی کوئی معمولی یا غیر معمولی واقعہ ، ایک کہانی کارکی سوچ میں پہلے ایک کہانی کے روپ میں جنم لیتا ہے، جسے شاعرانہ یا ڈرامائی رنگ دے کر افسانہ بنالیا جاتا ہے۔اور تب کہانی،افسانے کا روپ لے کر خط منہنی کا سفرطئے کرنے لگتی ہے۔ خط منہنی کے اس سفر میں ، ابہام، الجھنیں،استعاراتی نظام جیسے عناصر در آتے ہیں۔ کہانی یا بیانیہ کی ’سادگی کا حسن‘ ، گہنے پہن کر پر شکوہ تو ہو جاتا ، پر وقار نہیں رہتا۔قاری کی نظر ’حسن‘ پر کم ’شکوہ ‘پر زیادہ جمنے لگتی ہے …. نیاز اختر کی کہانیوں میں ’سادگی‘ ہی حسن کا زیور ہے۔ایک کلاسیکی شعرسُن لیجئے ۔
ہے جوانی خود جوانی کا سنگھار
سادگی گہنا ہے اس سِن کے لئے
میرے مطالعے کی حد تک ، موجودہ نسل کے افسانہ نگاروں اور کہانی کاروں میں مجھے اپنے شہر میں نیاز اختر کی شکل میں ایسا پہلا کہانی کار ملا ہے جس نے اپنی کہانیوں میں زبر دستی کی جنسیات یا جنسی نفسیات یا دیگر مکڑجال کی ٹھونس ٹھانس نہیں کی ہے۔ کہیں کہیں اشاروں ، کنایوں میں ایک آدھ نفسیاتی ٹچ دے کر آگے بڑھ گئے ہیں اور کہانی کو آگے بڑھایا ہے۔
’بوڑھے برگد کا انت‘کی کہانیوں کا تجزیاتی مطالعہ پیش کرتے ہوئے جناب منظر کلیم کی اجمالی رائے کے بعد کچھ اور کہنے کی گنجائش نہیں رہ جاتی،تاہم اجمال کی تفسیر وتاویل تو پیش کی ہی جا سکتی ہے۔ میرا کام اب اتنا ہی ہے کہ نقطوں کا رقص دائرہ ہو جائے ۔ اس کے لئے مرکز نگاہ خصوصی طور پر دو کہانیاں’ گدھ‘ اور ’بوڑھے برگد کا انت‘ ہیں۔اپنی پسند کی دو ایک اور کہانیوں سے بھی سرسری گزر جاؤں گا۔
راقم و قاری پیشے سے ٹاٹا اسٹیل کے شعبۂ محافظت، صحت و ماحولیات سے متعلق تھا اور کسی حد تک Industrial Management سے بھی شناسائی تھی۔ اس لئے ہو سکتا ہے تاویل و تفسیر کچھ میکانکی ہو جائے ، جس کے لئے قارئین سے معذرت چاہوں گا۔ہو سکتا ہے کہانی کار کو بھی الجھن محسوس ہو کہ خواہ مخواہ میری سادہ سی کہانی کا افسانہ بنا دیا گیا۔ تاہم سن لیں۔ فیصلہ، تاویل کے بعد کیجئے گا۔
صنعتی ترقی کی بے سمت و بے مہار بھاگم بھاگ کے نتیجے میں ماحولیاتی آلودگی کے سبب کچھ حیوانی نسلوں( بشمول پرندوں) کا عنقا ہو جانا ، نئی نئی بیماریوں کا پھیلنا، موسموں کے مزاج کا بدلنا اور سنامی جیسے حادثات تو چھوٹے چھوٹے وقوعے ہیں ۔ ماہرین فلکیات و ماحولیات کا ماننا ہے کہ اگر زمین پر کنکریٹ اور چمنیوں کے جنگل یونہی اُگتے رہے اور چمنیاں یو نہی بے لاگ اور بے روک ٹوک دُھواں اگلتی رہیں تو وہ دن دور نہیں کہ ہماری زمین کو ایک بار پھر طوفان نوح کا سامنا کرنا پڑے۔اس کی دو وجہیں ہوں گی۔گلوبل وارمنگ (global warming) اور اثیری تہوں میں سوراخ (Depletion in Ozone layer)۔گلوبل وارمنگ کی بڑی وجہ تو ہمیں معلوم ہے کہ کارخانوں کی چمنیوں سے نکلنے والا دھواں ہے(جس میں گرد و غبار اور کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس شامل ہیں) ۔اس سے نہ صرف ہوا میں، سانس لینے کے لئے ضروری آکسیجن کا تناسب بگڑ رہا ہے، بلکہ اس سے بھی اہم یہ کہ غبار اور دھوئیں کی دبیز تہیں سورج کی اُن کار آمد اور مفید شعاعوں کے آگے چلمن ہو جاتی ہیں، جن کی زمین پر بسنے والے ہر جاندارکو ضرورت ہے۔ نتیجہ ، بیماریاں، مہا ماریاں، موت ۔
اوزون کی تہیں زمین کی سطح سے تقریباً۳۰ میل کی بلندی پرہیں اور زمین کے چاروں طرف ماسک کی صورت ، سورج کی زہریلی شعاعوں(Ultra Violet Rays )کو چھان کر ، مفید شعاعیں زمین تک اتارنے میں ہمہ دم مصروف عمل ہیں۔ مگر ہم ہیں کہ اس ماسک میں سوراخ کرنے میں مصروف ہیں۔ کارخانوں سے نکلتے ہوئے دھوئیں میں ایسے کچھ کیمیائی عناصر بھی ہوتے ہیں ، جن سے اوزون کی تہوں میں سوراخ ہو رہے ہیں۔ اُن سوراخوں سے سورج کی زہریلی شعاعیں براہ راست زمینی سطح تک اتر رہی ہیں۔ ان شعاعوں کے اثر سے بھی عالم حیوانات و نباتات کی دائروی زندگی میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ مگر یہ سب بھی چھوٹے چھوٹے وقوعے ہیں۔ بڑا وقوعہ یہ کہ ان شعاعوں کے زیراثر آہستہ آہستہ شمالی اور جنوبی قطبین میں کھڑے ہوئے برف کے عظیم پہاڑ اور جمی ہوئی برف کے مہیب سمندر پگھل رہے ہیں۔ زمینی سمندروں کی سطح رفتہ رفتہ بلند ہو نے لگی ہے۔ اگر آلودگی پر لگام نہیں کسی گئی تو اثیری تہوں میں دریچے اور دروازے کھل جائیں گے ۔ تب زمین کو غرقاب ہونے سے کون روک سکے گا……آنے والی آبی قیامت کا منظر نامہ آپ کے سامنے ہے۔ صنعت کار بیدار ہوں یا نہ ہوں ، ایک کہانی کار بیدار ہے۔
اب ذرا ایک نظر صنعت کاری کی بے لگام بھاگم بھاگ پر بھی ڈال لی جائے۔ صنعت کاری کے لئے ’خام مال‘ ) (Raw Material، ’تکنیکی صلاحیت‘ (Technical Expertise)اور نفع بخش پیداوار( پیداواریت یا Productivity) کی اہمیت مسلم ہے۔ کارخانہ، کارخانہ دار اور کارخانے کے کامگار بھی اس مثلث کے زاوئے ہیں۔ ان تمام اکائیوں میں سب سے اہم اکائی ہے، نفع بخش پیداوار(محض پیداوار نہیں بلکہ ، پیداواریت) ۔ صنعت کاروں کے بیچ ’پیداواریت‘ کے فروغ کے لئے ہی قومی و بین الاقوامی مقابلے جیسی فضا قائم ہو گئی ہے ۔ایک دوسرے کے آگے پیچھے بھاگتے ہوئے یہ دیکھنے کا بھی ہوش کسے ہے کہ ’منزل‘ کوسوں پیچھے چھوٹ چکی ہے۔
پہلی کہانی ’گدھ‘ کا تھیم یقینی طور پر قومی اور بین الاقوامی صنعتی فروغ کی یک طرفہ بھاگم بھاگ ہے۔ یک طرفہ اس لئے کہ یہ ایسی کساد بازاری ہے جہاں کچھ پانے کی ہوس میں ، بہت کچھ کھویا جا رہا ہے۔
ہمارے ملک میں صنعتی فروغ کے لئے پارسیوں کو اولیت حاصل ہے۔ جمشید جی نوشیرواں جی ٹاٹا کے کپڑے کی ملوں سے ہوتا ہوا یہ کاروبار ،ٹاٹا اسٹیل تک اور پھر لا تعداد صنعتی اکائیوں تک پہنچ چکا ہے۔ نیاز اختر نے ایک ماہر سنگ تراش کی طرح’گدھ‘ کی صورت ایسا بُت تراشا ہے جس کی تصویر ان کے ذہن میں بھی تھی اور پتھر میں بھی۔ کہانی کا پس منظر پارسیوں کا Tower of Silence ہے ،جسے کہانی کار نے بہت سوچ سمجھ کر باؤلی کا نام دیا ہے۔ باؤلی سنتے ہی ذہن میں ’اندھی باؤلی‘ کا تصور ضرور ابھرے گا۔
نیاز اختر کی اس صنعتی کہانی میں ایک ایسی صنعت کاری ہے ، جہاں زرتشتیت یا پارسی مذہب ’ کارخانے کا مالک ‘(کارخانہ دار) ہے۔یاد کیجئے کہانی کا وہ ڈائیلاگ :
’’ہم پارسی اپنی لاش گاڑتے یا جلاتے کیوں نہیں‘‘
’’کیونکہ مرنے کے بعد بھی کسی کے کام آئیں‘‘
’’مسلمانوں کی لاش بھی تو دھرتی کے کیڑے مکوڑے کھاتے ہوں گے‘‘
’’چپ رہو …. ہمارے زرتشت کا یہی حکم ہے‘‘
سنگ تراش کے ذہن میں بنی ہوئی تصویر با لکل واضح ہے۔’ کارخانے کے مالک‘ کے حکم کی تعمیل ہم ’کامگاروں‘ کی ذمہ داری ہے۔کہانی کار (سنگ تراش)کے ذہن میں بنی ہوئی کچھ اور تصویریں دیکھئے۔ کہانی کی صنعت گری میں….. ’ کارخانہ‘ ہے ٹاور آف سائلنس (باؤلی)،…. ’کارخانے کے کامگار‘ ہیں منو چہر، رستم اور عادل گجدھر …..’ گدھ‘ ہے تکنیکی صلاحیت (آپ مشینیں کہہ لیں)، ’لاش‘ ہے خام مال ہے اور ’نفع بخش پیداوار‘ (پروڈکٹی ویٹی) کے طور پر حاصل ہے ،نجات ، مکتی ( مرنے کے بعد بھی کسی کے کام آ جائیں)۔ 
کہانی کی صنعت گری کا حال یہ ہے کہ ’گدھ‘ کی صورت تکنیکی صلاحیت ماند پڑ چکی ہے۔ وجہ صاف ہے، مقابل صنعت گروں کی پھیلائی ہوئی آلودگی ….تکنیکی صلاحیت کے ماند پڑتے ہی ’خام مال‘ کی کھپت میں دشواری پیش آ رہی ہے …… تکنیک میں بدلاؤ لانے کے لئے دو فیصلے لئے جاتے ہیں ……پہلا یہ کہ باہر سے بہتر مشینیں (گدھ) منگوائی جائیں، دوسرا یہ کہ کام کرنے کے طریقے میں بھی کچھ تبدیلی ہو (سولر سِل)۔مگر نتیجہ کیا ہوا:
’’صبح منوچہر کی آنکھ کھلی۔ وہ سیدھا باؤلی میں پہنچا۔ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گیا۔ دروازہ کھولا اور وہاں کا منظر دیکھ کر اس کے پیروں میں جان نہ رہی۔ اس کے ہاتھ سے دروازہ کا پلا چھوٹ گیا اور وہ وہیں پر ڈھے سا گیا۔سامنے لاش تقریباً صحیح سلامت تھی۔ مگر چاروں طرف سے گدھ ایسے بے حس و حرکت پڑے تھے جیسے اس کا سوگ منا رہے ہوں‘‘
عجیب اتفا ق ہے کہ ٹھیک یہی حال ۱۹۷۴ء میں ٹاٹا اسٹیل کی مینجمنٹ کا ہوا تھا، جب مغربی جرمنی (تھیسن ) سے درآمد شدہ نئی تکنک اپنائی گئی اور Sponge Iron (خام مال)سے فولاد(Steel )بنانے کے لئے ایک نیا پلانٹ (Bottom Blowing Oxygen) لگایا گیا ۔ مگر تقریباً چار سو کروڑ روپئے کی لاگت سے تکمیل شدہ یہ پروجکٹ بُری طرح ناکام ہو گیا۔کمپنی دیوالیہ ہوتے ہوتے رہ گئی ، کہ ٹاٹا کمپنی تھی۔نئے پلانٹ کوفوراً پرانی تکنیک(Top Blowing Oxygen) سے فولاد بنانے کے لئے استعمال کر لیا گیا۔ 
مجھے ’گدھ‘ پڑھتے ہوئے اکثر احساس ہوا ہے…..کیا نیاز اختر ٹاٹا اسٹیل کی انتظامیہ کی اس ناکامی سے واقف تھے؟ …… کیا نیاز اختر صنعت گری کے تمام اصول و ضوابط سے آشنا ہیں؟ …. بس دو باتیں سمجھ میں آئیں ….. وہ ایک کہانی کار ہیں اور:
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
میں ’گدھ‘ کو ایک صنعتی علامتی کہانی مانتا ہوں۔
یوں تو نیاز اختر کہ کئی کہانیوں نے مجھے متاثر کیا ہے۔ مثلاً ’ٹرمنیٹر‘، ’رنتھی‘، ’حقیقت‘، ’افعی‘،’کتّا‘ وغیرہ۔ ’ترمنیٹر‘ کا تھیم انوکھا ہے۔ نباتا تی و زرعی تحقیقات کے تحت نئی نئی فصلوں اور مختلف اقسام کے بیجوں کی دریافت سے تو واقفیت تھی ، مگر ’بانجھ بیج‘ کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔اخباروں سے کسانوں کی خود کشی کی خبریں ملتی رہتی تھیں، مگر خودکشی کی ایک وجہ ’بانجھ بیج‘ بھی ہو سکتی ہے ، نہیں معلوم تھا۔نیاز اخترکی کوشش رہتی ہے کہ اس طرح کی اَن چھوئی زمین سے کہانی کاڑھی جائے۔ 
’گدھ‘ کا تھیم تو فضائی آلودگی ہے۔ ’افعی‘ کا تھیم ’آبی آلودگی‘ کا مسئلہ اُٹھاتا ہے۔ ناگفتہ بہہ حالات کی سفاکی کا اندازہ اس سے لگائیے کہ ، حالات کے خلاف اُٹھنے والی آوازکو بھی صنعتی مافیا ہمیشہ کے لئے خاموش کر دینے سے باز نہیں آتے۔
’رنتھی‘ کے تھیم کو بھی مَیں ’آلودگی ‘سے ہی تعبیر کروں گا۔مگراس آلودگی کا تعلق آب و ہوا سے نہیں بلکہ انسانی اقدار سے ہے، سماج اور تہذیب سے، جس کی حد درجہ تنزلی و پستی کے اسباب ہیں ، لالچ، ہوس، کرپشن، گندی سیاست۔ہمارے ملک میں چھوٹی بڑی صنعتی اکائیوں کی بھر مار تو ہو ہی رہی ہے۔ علاج و معالجہ کے لئے’میڈیکل سنٹر‘ ، ’نرسنگ ہوم‘ ، ’کلینک‘ اور پانچ ستارہ ہوٹل جیسے ’پرائیویٹ ہسپتال‘ بھی اب نفع بخش ’بزنس سنٹر‘ ہوکر زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کی مشین بن چکے ہیں ، جہاں ڈاکٹروں کا اُٹھایا ہوا HippocraticOath (انسانی خدمت کا عہد نامۂ بقراط)، ہسپتال کے احاطے سے دور کھڑا سسکیاں لیتا دکھائی دیتا ہے اوراندرHypocracy کا تانڈو جاری ہے۔
’حقیقت‘ اور ’کُتّا‘ ،کو میں نیاز اختر کی نفسیاتی کہانیاں مانتا ہوں۔ مگر دوبارہ کہنا چاہوں گا کہ ان میں بھی نفسیاتی مکڑ جال کی پیچیدگی نہیں ہے۔ ’حقیقت‘ ازدواجی زندگی میں ’بیوی‘ کی اس نفسیات کو اجاگر کرتی ہے ، جہاں ٹوٹ کر محبت کرنے والی بیوی ،اپنے اور شوہر کے بیچ کسی تیسرے کا وجود برداشت نہیں کرسکتی ،خواہ وہ تیسرا کمرے میں در آنے والی خوبصورت سی تتلی ہی کیوں نہ ہو جو کمرے کے شو کیس میں سجے ہوئے ’مصنوعی‘ پھولوں کو حقیقی سمجھ کر عموماً آجایا کرتی ہے۔ کمرے میں تتلی کا آنا جانا چونکہ شوہر کو بہت پسند ہے اس لئے بیوی کو نا پسند ہے ۔ تتلی اس کی رقیب ہو جاتی ہے …… اور تب ، کہانی کا اختتام یوں ہوتا ہے:
’’میں نے بیگم کو آواز دی اور پوچھا…..وہ تتلی کہیں نظر نہیں آرہی ہے۔میرے غائبانے میں وہ کمرے میں نہیں آتی تھی کیا؟ …….آتی تھی، لیکن ایک دن تتلی کے آتے ہی میں نے شو کیس کا شٹر ہٹا دیا اور تمہارے ان مصنوعی پھولوں کے گلدستے کی اور تمہاری حقیقت اسے بتا دی‘‘
نیاز اختر، اس کے بعد بھی دو ایک جملے بڑھا کر کہانی کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ مگرکیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ کہانی ….. ’تمہارے ان مصنوعی پھولوں کے گلدستے کی حقیقت اُسے بتا دی ‘پر ختم ہو جاتی۔اس جملے میں’اور تمہاری حقیقت‘ بھی اضافہ ہے اور اس کے بعد کے جملے بھی۔ نفسیات کے ہر دریچے کو کھولنا ضروری نہیں ہوتا۔قاری کو کبھی کبھی تھوڑا سا پیا سا چھوڑ دینا چاہئے۔
کہانی’کُتّا‘ بھی ایک نہایت ہی حساس نفسیاتی اشاریہ ہے۔جس میں انسان و حیوان کی اپنی اپنی نفسیات بھی ہے اور دونوں کے بیچ کا ایک نفسیاتی ٹچ بھی۔ مسز نائر اور ان کے ٹائیگر دونوں کو قصداً ہوش و حواس سے محروم کر دیا گیا ۔ نشہ ٹوٹا تو اپنی انانیت کے ٹوٹ جانے کا غصہ مسز نائر نے ٹائیگر پر اتارا کہ وہ بھی اس کی حفاظت نہ کر سکا۔کتے کا نشہ ٹوٹا تو وہ شرمسار ہے کہ اس کی موجودگی میں مالکن کا سب کچھ لُٹ گیا۔ اور حیران حیران سی ایک تیسری آنکھ جو کبھی مسز نائر کو دیکھ رہی ہے تو کبھی ٹائیگر کو ۔ ٹائیگر کے انجام کے بغیر یہ کہانی ختم ہو جاتی ہے۔انجام کی یہی پیاس تو کہانی کو سیراب کرتی ہے۔اس لئے میں نے اسے ’نفسیاتی اشاریہ ‘ کہا ہے۔
کہانی کار نے جس کہانی سے کتاب کا نام تراشا ہے ، ظاہر ہے وہ کہانی اہم ہو گی۔ ڈاکٹر کوثر مظہری کے بارے میں خوب جانتا ہوں کہ وہ ’سانچے‘ والے ناقد یا مبصر نہیں ہیں، متن کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی اپنی رائے پیش کرتے ہیں، لہذا ان کی رائے میں : ’بوڑھا برگد ‘ ہماری قدیمی تہذیبی میراث کی علامت ہے، جس کے تحفظ کے لئے ہم اپنی جان بھی دے سکتے ہیں۔
منظر کلیم کی یہ رائے کہ نیاز اختر نے اپنی کہانیوں میں قصے سے زیادہ کردار کو اہمیت دی ہے۔اور تب انہیں ’جٹا شنکر‘ ایک ایسا کردار نظر آتا ہے جو ’ملک کی آزادی ‘ کی علامت ہے۔
ان دونوں ناقدین کی آراء کا اثر مجھ پر یہ پڑا کہ مجھے ’ہندوستان کی آزادی‘ اپنی قدیم تہذیبی میراث نظر آئی اور جٹا شنکر اس کی حفاظت میں جان کی بازی لگا دینے والا ایک ہندوستانی کردار۔ اگر میں جٹا شنکر کو کہانی کا سب سے اہم کردار مان بھی لوں تو ’ہندوستانی کردار ‘ نہ مان کر ’ہندوستانی ہندو کردار‘ مانوں گا۔ 
مابعد جدیدیت کے رجحانات میرے پلے نہیں پڑتے۔ نہ میں ادب و تاریخ کی موت کا قائل ہوں ، نہ خالق و تخلیق کار کی موت کا۔نہ ہی میں تکثیریت کا قائل ہوں ، نہ اسٹرکچرل ادب و شاعری کا۔ تانیثیت بھی ایک حد تک ہی مجھے قائل کرتی ہے، حد سے گزر جائے تو ’کالی‘ کے پاؤں کے نیچے مجھے ’شیو‘ کا آکار دکھائی دینے لگتا ہے اور کالی کی حیرت و ندامت سے نکلی ہوئی زبان۔اگر مجھے ما بعد جدیدیت میں کوئی چیز بھاتی ہے توادب کی قرأت میں’قاری‘ کا اختیار اور اس کی حیثیت۔ مگر میں قاری کو یہ حیثیت و اختیار، ادیب یا ادب کو موت کا جان لیوا مژ دہ سنا کر نہیں دینا چاہتا۔
میری نظر میں نیاز اختر کی کہانیاں نہ صرف زندہ ہیں بلکہ دوران قرأت مجھ سے ہمہ وقت باتیں کرتی رہی ہیں۔مجھے دوران قرأت کہانی کار کی سوچ کی سانسیں بھی محسوس ہوتی رہی ہیں اور نبض احساس کی دھڑکنیں بھی۔ پھر بھی نیاز اختر کی کہانیوں کے ایک قاری کی حیثیت سے مجھے یہ اختیار حاصل ہے کہ میں ان کی کہانی کی تفہیم اپنے طور پر کروں۔ سو میں نے کیا ہے۔سو اب کرنے جا رہا ہوں۔
ظاہر ہے جناب منظر کلیم اور ڈاکٹر کوثر مظہری نے بھی ایک قاری کی حیثیت سے اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے کہانی کا بھر پور تجزیہ پیش کیا ہے۔جو خوب ہے ، بہت خوب ہے۔ مگر، ذرا ایک بار پھر سے آپ یہ کہانی پڑھ لیں۔ میں بطور خاص اس کہانی کے اندرون بہتے ہوئے Under Current کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں :’’(یہ برگد ) زوال پذیر مغلیہ دور حکومت، برطانوی سامراجیت ، گوری پلٹن کے جبر و استبداد کے علاوہ ہر چھوٹے بڑے حادثوں کا چشم دید گواہ ہے‘‘ ….. جٹا شنکر اس برگد کا پچاری ہے …. برگد کے ساتھ اس کا سنٹی منٹل لگاؤ ہے…. اس سنٹی منٹ میں ان کے اپنے بیٹے بہو شامل نہیں ہیں ……ایک بار برگد کی ایک موٹی ٹہنی ٹوٹ کر گر گئی تھی تو وہ یوں زار و قطار رویا تھا جیسے اس کا کوئی سگا اس سے ہمیشہ کے لئے بچھڑ گیا ہو …..جٹا شنکر جو ’انگریزو ، بھارت چھوڑو ‘ کے زمانے کا فریڈم فائٹرتھا ، آزاد ہندوستان کا فریڈم فائٹر نہیں بن سکا ،محض برگد کا پجاری بن گیا۔ 
میری قرأ ت میں اس گاؤں کی کہانی کا سب سے بڑا اور اہم کردارجٹا شنکر نہیں ، خود برگد کا پیڑ ہے۔جٹا شنکر تو برگد کا ایک سنٹی منٹل پجاری ہے۔برگد کے دوسرے چاہنے والے بھی ہیں ، مگر پجاری نہیں ہیں، پجاری بھی ہوں گے مگر ویسے سنٹی منٹل نہیں ہوں گے۔آگے آپ ایک ایک جملے کی تہہ تک اتر کے اس کی تاویل و تعبیر میں ڈوب جائیے تو شاید آپ کو ایسا لگے کہ :
برگد کا پیڑ ،غلام اور آزاد ہندوستان ، دونوں کی علامت ہے کہ زوال پذیر مغلیہ حکومت، برطانوی سامراجیت، گوری پلٹن کے جبر و استبداد کے علاوہ ہر’ چھوٹے بڑے‘ حادثوں کا ’چشم دید گواہ‘ ہے۔ اس اشارے پر بھی غور کیجئے کہ اسی برگد (ہندوستان) کی ایک موٹی ٹہنی (پاکستان) کے ٹوٹ جانے پر جٹا شنکر (ہندو ہندوستانی) زار و قطار رویا تھا ، جیسے اس کا کوئی سگا اس سے ہمیشہ کے لئے بچھڑ گیا ہو۔یہ جٹا شنکر کون ہے جو غلام ہندوستان کا فریڈم فائٹر تھا مگر آزاد ہندوستان کا فریڈم فائٹر نہیں بن سکا (صرف زار و قطار رویا) ۔ اگر اب بھی ’انتہا پسندہندو تنظیم‘ کی بو نہیں محسوس ہو رہی ہو تو اگلا اشاریہ دیکھئے …. برگد (ہندوستان) کا پجاری بن گیا۔اس اشارئے پر بھی غور کیجئے کہ اس انتہا پسند تنظیم کے سنٹی منٹ میں خود ان کے اپنے شامل نہیں ہیں۔گاندھی،امبیدکر، نہرو، رادھا کرشن،نمبودری پد، جیوتی باسو، رام منوہر لوہیا ….. یہاں تک کہ (اپنا بیٹا) اٹل بہاری باجپائی بھی۔ 
آخری بات ۔کہانی میں نیاز اختر نے اس ’بوڑھے برگد کے انت‘ کی طرف بڑھتے ہوئے قدم ہی دکھائے ہیں ۔ برگد کا ابھی انت کہاں ہوا ہے۔ برگد کا انت ہو جاتا تو کہانی کچھ اور ہوتی۔ ایک قاری کی حیثیت سے میں کہانی کار کی سوچ میں شامل ہوں ، مجھے بھی اس بات کا یقین ہے کہ اس برگد کا انت کبھی نہیں ہو گا۔ہاں!شایدڈالیاں ٹوٹتی رہیں گی،یا توڑنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔سنٹی منٹل پجاری کی لاش ضرور لٹکے گی ، ایسے پجاریوں کا انت ضرور ہو جائے گا۔کہانی یہی تو کہہ رہی ہے۔ 

Aslam Badr, Mobile: 09631476773
email: aslambadr@gmail.com