ڈاکٹر انجم جمالی کے یومِ پیدائش کے موقع پر ’’ماحولیا ت اور انجم جمالی‘‘ پر شاندار پرو گرام انجم جمالی کے یوم پیدائش کو یومِ ماحولیات سے جوڑ کر منانا ایک قابل ستائش قدم ہے :ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
ڈاکٹر انجم جمالی کے یومِ پیدائش کے موقع پر ’’ماحولیا ت اور انجم جمالی‘‘ پر شاندار پرو گرام
انجم جمالی کے یوم پیدائش کو یومِ ماحولیات سے جوڑ کر منانا ایک قابل ستائش قدم ہے :ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
میرٹھ : (جون۲۰۱۳) : ’’انجم جمالی کے یوم پیدائش کو یوم ماحولیات سے جوڑ کر منانا ایک قابل ستائش قدم ہے۔ڈاکٹر انجم جمالی افسانہ نگار، شاعر ، صحافی اور ماہر ڈاکٹر تھے۔لیکن ان کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ وہ تحریک کے آدمی تھے۔انہوں نے میرٹھ اور قرب و جوار میں اردو زبان اور ادب کے فروغ کے لئے بے حد محنت کی۔متعدد مشاعرے،شام غزل، شب افسانہ، کا نفرنس، جلسہء تقسیم ایوارڈ وغیرہ منعقد کئے۔انہون نے میرٹھ میں ادب کی جو آبیاری کی تھی ااج اس کے ثمات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔’’ یہ جملے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کے تھے وہ مشہور و معروف شاعر، مصنف اور صحافی ڈاکٹر انجم جمالی کے یومِ پیدائش کے موقع پردلی روڈپر واقع چیمبربھون میں منعقدہ’’ ماحولیا ت اور انجم جمالی‘‘سیمینار اور مشاعرہ میں بحیثیت صدر خطاب فرما رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دن ہم سب ادیب وشاعر عہد کریں کہ اپنے آس پاس صفائی کا خیال رکھیں گے اور سال میں ایک پودا لگائیں گے۔
پروگرام کا افتتاح قرآن پاک کی تلاوت کے ساتھ ہوا۔ اس کے بعد سو بھارتی یونیورسی ٹی کے وی سی ڈاکٹرمنظوراحمداور ایم ڈی اے کے نایاب صدرایس کے سنگھ نے پروگرام کا باضابطہ افتتاح کیا۔ پروگرام کی صدارت ڈاکٹراسلم جمشیدپوری نے کی جبکہ نظامت کے فرائض فخری میرٹھی نے انجام دئے۔ اس موقع پر ،شہرقاضی زین الراشیدین،معروف شاعر رنجیت چوہا ن وغیرہ نے مہمان ذی وقار کی حیثیت سے پروگرام میں شرکت کی۔اس کے بعد نسیم میرٹھی نے ڈاکٹرجمالی کی غزلیں مترنم آواز میں پیش کیں۔ فاؤنڈیشن کے سکریٹری انجینئر رفعت جمالی نے سبھی مہمانان کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ اتفاق ہے کہ ڈاکٹر جمالی کا یوم پیدائش اور یوم ماحولیات
ایک ہی دن ہیں۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ماحولیات سے نہ صرف انسانی زندگی محفوظ ہوتی ہے بلکہ شاعری اور ادب بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔
اس موقع پر مہمان اعزازی جناب منظور احمد ( وائس چانسلر ) نے کہا’’ اسلام صفائی ستھرائی اور پیڑ پودون سے محبت کرنا ،انکا خیال رکھنا سکھا تاہے۔انجم جمالی میرٹھ کی روایت کو زندہ رکھنے والے ایک اہم ادیب و شاعر تھے۔انہوں نے میرٹھ کے نام کو ہندوستان اور پوری دنیا مین پہچا نے کا کام کیا۔ مہمان خصوسی ایم ڈی اے کے وی سی ایس کے سنگھ نے نے ڈاکٹر انجم جمالی کو خراج
تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر انجم جمالی ایک عظیم شاعر اور انسان تھے۔
ماہرِ علمِ ماحولیات پروفیسر وائی وملا نے یومِ ماحولیات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا’’ پودے ہمیں زندگی دیتے ہیں،ہرا بھرا ماحول دیتے ہیں،غذا دیتے ہیں،بارش کا سبب بنتے ہیں،اور ہم انہیں کیا دیتے ہیں،انہیں زہریلی فضا،گندہ پانی اور اس سے بھی زیادہ ہم انہیں اپنے مفاد کے لئے کاٹ بھی دیتے ہیں۔ فیضِ عام ڈگری کالج کی صدر شعبہء اردو ڈاکٹر فرحت خاتون ن نے انجم جمالی کی شاعری اور ادبی خدمات’’ انجم جمالی : حیات و خدمات ‘‘ پرایک پر مغز اور معلوماتی مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ انجم جمالی ترقی پسند شاعری مین میرٹھ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ان کے اشعار ہمیں زندگی کے نشیب و فراز سے بھی واقف کراتے ہین اور زندگی کرنے کا حوصلہ بھی عطا کرتے ہیں۔
اس موقع پرایک طالبہ صبا حیدرنے اپنا پرچہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیات کی آلودگی سے صرف پیڑ پودے ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ انسانی زندگی بھی اس سے متاثر ہوتی ہے ۔مشاعرے کا بھی انعقاد گیاجس میں معروف شاعروں نے حصہ لیاجس میں ڈاکٹریونس، ڈاکٹر یوسف،جمیل میرٹھی،،نسیم میرٹھی اورنظیر میرٹھی ،فخری میرٹھی نے ایک سے ایک بڑھ کر کلام پیش کیا۔
اس موقع پر، نازش، دانش، محمد شان، کامنی، انجینئر پنڈیر، انصاری، شاہین، عبد الواحد وغیرہ موجودرہے۔
پریس سکریٹری
شبانہ
آگرہ میں مغلیہ حکومت۔ بابر تا اکبر (’’تاریخ فرشتہ‘‘ کے حوالے سے) (فرقان سنبھلیؔ )
آگرہ میں مغلیہ حکومت۔ بابر تا اکبر
(’’تاریخ فرشتہ‘‘ کے حوالے سے) (فرقان سنبھلیؔ )
ہندوستان میں ترکوں کی آمد کے ساتھ ساتھ اسلامی حکومتوں کی تاریخ لکھنے کا چلن عام ہو چکا تھا۔جوکہ گیارھویں صدی سے اٹھارویں صدی تک مسلسل جاری رہا۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے اس سنہری دور کی پوری تاریخ موجود ہے۔یہ بھی اہم بات ہے کہ بہت سی تاریخیں فارسی زبان میں لکھی گئی ہیں۔ان میں محمد قاسم ہندو شاہ فرشتہ کی ’’تاریخ فرشتہ‘‘اہم تاریخی مآخذ قرار دی گئی ہے۔جو کہ فارسی میں ہے۔محمد قاسم فرشتہ کی تاریخ کی قدر اس لئے بھی زیادہ مانی گئی ہے کیونکہ اس نے حالات اور واقعات کو بیان کرنے میں ایمانداری برتی ہے۔اور کسی بھی واقعہ کو بیان کرنے میں حتی الامکان احتیاط برتی ہے۔تاریخ فرشتہ تین حصوں پر مشتمل ہے۔پہلے حصے میں سولہ (۱۶)الباب ہیں۔جن میں امیر ناصر الدین سبکتغین ،محمد غزنوی،سلطان ابراہیم،بہرام شاہ،خسرو وغیرہ کی حکومتوں کے احوال ،جنگی حکمت عملی،سیاسی سماجی اور انتظامی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔دوسرا حصہ تینتالیس(۴۳)الباب پر مشتمل ہے۔اس میں دلی سلطنت شہاب الدین غوری،کتب الدین،التمش، فیروز شاہ،رضیہ سلطان،بلبن،خلجی وغیرہ کے حکومتی احوال بیان کئے گئے ہیں۔
ساتھ ہی تغلق اور سادات خاندانوں کی تہذیبی ،ثقافتی اور ادبی معلومات بھی پیش کی گئی ہیں۔’’تاریخ فرشتہ‘‘ کے دوسرے حصے میں ہی بابر،ہمایوں اور اکبر کے ادوار پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔مغل حکومت کا قیام و استحکام ،بابر کا ہندوستان پر حملہ،ہمایوں کی حکومت اور اکبری حکومت کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی کے نشیب و فراز کا بیان نہایت خوبی کے ساتھ کیا گیا ہے۔جبکہ تیسرے حصے میں جنوبی ہند اور بہمنی سلطنت کا بیان ہے اور یہ اٹھارہ(۱۸) الباب پر مشتمل ہے۔
فرشتہ کے تاریخ سے متعلق علم کو تسلیم کرتے ہوئے بادشاہ ابراہیم عادل دوئم نے اس سے ’’ہندوستان میں اسلامی حکومت کی تاریخ‘‘لکھنے کا مطالبہ کیا۔فرشتہ چونکہ غیر جانبداری کا پرستار تھا اس لئے اس نے بادشاہ سے معذرت کر لی۔لیکن جب بادشاہ کا اصرار بڑھا تو فرشتہ نے ۱۶۰۶ء میں تاریخ لکھنا شروع کی اور پانچ سال کی سخت محنت کے بعد ۱۶۱۱ء میں مکمل کی۔اس نے حالانکہ تاریخ لکھنے میں حتی الامکان احتیاط سے کام کیا لیکن کچھ خامیاں پھر بھی چھوٹ گئیں۔اس کی بڑی وجہ قاسم فرشتہ کو جغرافیائی علم کی مکمل جانکاری نہ ہونا تھی۔کچھ خامیوں کے باوجود ’’تاریخ فرشتہ‘‘ایک اہم تاریخی دستاویز ہے جو کہ ہندوستان میں اسلامی حکومتوں کے متعلق اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔
محمد قاسم فرشتہ نے ظہیر الدین محمد بابر کے ذریعہ مغلیہ حکومت کے ہندوستان میں قیام کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔بابر کی پیدائش،خاندانی اختلافات،سمر قند،کابل وغیرہ کا بیان کرتے ہوئے جب وہ ہندوستان پر بابر کے حملوں کا بیان کرتا ہے تو اس سے اس دور کے حالات تو پتہ لگتے ہیں ساتھ ہی اس دور کی رسوم و روایتیں بھی معلوم ہو جاتی ہیں۔بابر پانی پت کی جنگ میں ابراہیم لودھی کو شکست دے کر آگرہ کے قلعہ کو آزاد کرانے پہنچا جو کہ ابھی تک سلطان ابراہیم لودھی کے عزیزوں کے قبضے میں تھا۔محض پانچ دنوں کے اندر ہی قلعہ بابر کے کنٹرول میں آ گیا تھا۔محمد قاسم فرشتہ نے تزک بابری کے حوالے سے لکھا ہے کہ بابر کو ابراہیم لودھی پر اپنی فتح بہت اہم معلوم ہوئی تھی۔کیونکہ اس نے حد سے زیادہ مخالف حالات میں یہ فتح حاصل کی تھی۔فرشتہ نے بابر کو ہمایوں کے ذریعہ قیمتی ہیرا پیش کرنے ،ہمایوں کو بابر کے ذریعہ مہر بند خزانہ عطیہ کرنے،لو اور شدت گرمی سے بابر کے سرداروں کی موت اور سرداروں کا کابل واپسی کا مطالبہ وغیرہ کا بیان بھی خوبی کے ساتھ کیا گیا ہے۔بابر نے آگرہ سے گوالیر کا سفر کیا اور وہاں سے سرخ رنگ کے گلاب کا پودھا آگرہ میں لگانے کا حکم دیا تھا کیونکہ تب آگرے میں گلاب کا سرخ پھول نہیں ہوتا تھا۔بابر کے انتقال کے ساتھ ساتھ فرشتہ نے بابر کی شخصیت ،انصاف پسندی،خوبصورتی کے لئے دیوانگی اور اس کے سلسلہ نسب پر بھی خوب روشنی ڈالی ہے۔فرشتہ نے جہاں بابر کو کبھی نماز قضا نہ کرنے والا لکھا ہے تو کبھی اسے عیاش بادشاہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔فرشتہ لکھتا ہے کہ چھٹی کے دنوں میں وہ خوبصورت عورتوں کے ساتھ وقت گزارتا تھا اور اس نے کابل میں پتھر کا ایک حوض بنوایا تھا جس میں خالص شراب بھروائی جاتی تھی۔وہ اس کے کنارے بیٹھ کر راس رنگ کی محافل سجاتا تھا اس نے یہ شعر بھی حوض پر کندہ کرایا تھا :
بابر کے انتقال کے بعد ’’نصیر الدین ہمایوں‘‘بادشاہ مقرر ہوا۔محمد قاسم فرشتہ نے تاریخ فرشتہ میں ہمایوں کے بابت بھی مفصل حالات پیش کئے ہیں۔ہمایوں کے بھائیوں کے ساتھ مشفقانہ رویے لیکن بھائیوں کی طرف سے عدم اطمینان اور شیر شاہ کی وعدہ خلافی کا بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شیر شاہ نے مغل فوج پر ۱۵۳۹ء میں حملہ کر دیا۔شدید حملے کی ہمایوں اور اس کی فوج تاب نہ لا سکی اور ہمایوں کو ندی پار کر کے آگرہ بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا۔نظام سکے کی مدد سے ہمایوں آگرہ پہنچ سکا تھا۔ہمایوں نے اسے آدھے دن کی بادشاہی سونپ کر اس سے کیا وعدہ نبھایا۔ہمایوں کے آگرہ میں رہتے ہوئے کامران مرزا کی وجہ سے فوج میں بدامنی پھیل گئی جبکہ شیر شاہ کو مغل بھائیوں کے درمیان اختلاف کی خبر ملی تو وہ دریائے گنگا کے کنارے پہنچ کر ہمایوں کو للکارنے لگا۔کالپی میں ہوئی جنگ میں حالانکہ مغل فوج جیت گئی۔ہمایوں ایک لاکھ کا فوجی لشکر لے کر شیر شاہ کے حملے کو ناکام کرنے کے لئے آگرہ
سے نکل کر کنوج کے پاس پہنچا۔لیکن کامران مرزا کے بھروسے مند سپاہی اس سے دغا کر گئے۔جس کی وجہ سے ہمایوں کی باقی فوج بھی بھاگ نکلی۔ہمایوں بھی اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ گنگا پار کر کے آگرہ واپس آ گیا لیکن جب پتہ لگا کہ شیر شاہ مسلسل قریب آتا جا رہا ہے۔تووہ لاہور روانہ ہو گئے۔
قاسم فرشتہ ہمایوں کے بارے میں آگے لکھتاہے کہ لکھنوتی میں آرام کی زندگی جی رہا تھا تو اسے پتہ چلا کہ ہندال مرزا نے آگرہ اور رامپور میں قہر برپا کر رکھا ہے۔اور مرزا کا خطبہ پڑھا جا رہا ہے۔تو ہمایوں پانچ ہزار فوج کو جہانگیر بیگ کے حوالے کر کے لکھنوتی سے آگرہ کے لئے روانہ ہوا۔لیکن راستے میں ہی شیر شاہ نے اسے آ گھیرا اور بہ مشکل تمام ہمایوں آگرہ پہنچ سکا۔ایک سال بعد ہی شیر شاہ نے آگرہ پر چڑھائی کی۔ہمایوں وہاں سے بھاگنے میں کامیاب رہا۔ہمایوں نے واپسی کی اور اس نے دوبارہ آگرہ پر قبضہ کر لیا۔فرشتہ لکھتا ہے کہ ہمایوں مزاجاً بہادر تھا ۔دان کرنا اور رحم دلی اس کے کردار کی بنیادی چیزیں تھیں۔
ہمایوں کی موت کے بعد’’ جلال الدین محمد اکبر‘‘ کو بادشاہ بنایا گیا۔فرشتہ نے علامہ شیخ ابو الفضل کی کتاب’’اکبرنامہ‘‘سے جلال الدین اکبر کے بہت سے واقعات مختصر مگر جامع انداز میں پیش کئے ہیں۔اکبر نے بھی آگرہ میں بہت وقت قیام کیا۔اس نے آگرہ سے اجمیر ،دہلی وغیرہ کا سفر کیا۔لیکن واپس آگرہ لوٹ آیا۔اکبر نے ۱۵۶۴ء میں آگرہ کا قلعہ جو کہ پکی اینٹوں کا بنا ہوا تھا اس کو گرواکر لال پتھر سے دوبارہ تعمیر کرایا جو کہ چار
سال میں تعمیر ہوا۔رنتھمبور کی فتح کے بعد اکبر نے حضرت شیخ سلیم چشتیؒ سے فتح پور سیکری میں مل کر بیٹے کے لئے دعا کرائی جو کہ قبول ہوئی۔بادشاہ اکبر نے یہاں سے آگرہ واپسی کی۔خواجہ حسین ثنائی نے شہزادے کی پیدائش پر ایک قصیدہ لکھا جس کے ہر شعر کے پہلے مصرعے سے اکبر کے بادشاہ بننے کی تاریخ اور دوسرے مصرعے سے شہزادے کی پیدائش کی
تاریخ نکلتی تھی۔اکبر نے سیکری میں رہائش اختیار کی تو یہ اس کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوئی۔اکبر نے فتح پور سیکری کے نام سے بڑے شہر کی بنیاد ڈالی۔فتح پور سیکری کے ساتھ ہی اسے کئی جیت نصیب ہوئیں۔اور اس نے اسی سال گجرات پر فتح حاصل کی۔فتح پور سیکری میں اس نے مسجد کی تعمیر ۱۵۷۲ء میں شروع کرائی جو کہ ۱۵۷۸ء میں مکمل ہوئی۔محمد قاسم فرشتہ نے تاریخ فرشتہ میں علم فلکیات سے متعلق معلومات بھی فراہم کرنے کی کوشش کی۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ حالات سے کس حد تک واقف ہونے کے بعد قلم چلاتا تھا۔اس نے لکھا ہے کہ اکبر خواجہ غریب نوازؒ کی زیارت کے لئے اجمیر گیایہاں سے دہلی اور پھر کابل کی طرف روانہ ہوا۔انہی دنوں مغرب میں ایک دمدار ستارہ دکھائی دینے لگا تھا۔جس کی وجہ سے وہ کابل کا سفر ترک کر کے دار السلطنت واپس آیا اور سیکری کی مسجد کی تعمیر مکمل کرائی۔۱۵۷۹ء میں فتح پور سیکری کے فراش خانے میں آگ لگی اور بہت سا سامان جل کر راکھ ہو گیا۔فرشتہ لکھتا ہے کہ ہمایوں کی طرح اکبر کو بھی افیون(افیم) کی لت لگ گئی تھی جس سے سبھی لوگ پریشان تھے۔۱۶۰۱ء میں اکبر نے آگرہ میں سبھی صوبوں پر اپنی فتح کا اعلان کیا۔اسی کے بعد اکبر کے دو بیٹوں کی موت واقع ہوئی۔جس کے سبب اکبر بیماری میں مبتلا ہو گیا۔۵۱ ؍سال حکومت کر کے ۱۶؍ ستمبر ۱۶۰۵ء میں اکبر انتقال کر گیا۔فرشتہ نے اکبر کے پڑھا لکھا نہ ہونے کے باوجود عالموں اور علم کی عزت افزائی کرنے کا بیان بھی کیا ہے۔اس نے لکھا ہے کہ اکبر نے عام راستوں پر پانچ پانچ کوس کے فاصلوں پر ڈاک چوکیاں بنائی تھیں جن سے شاہی فرمان بہت جلد بھیجے جا سکتے تھے۔
ہندوستان میں اسلامی حکومتوں کے متعلق فارسی میں جتنی بھی کتب ملتی ہیں ان میں ’’تاریخ فرشتہ‘‘ منفرد اہمیت رکھتی ہے۔مغلیہ دورِ حکومت پر اس میں جس جامع انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے وہ کم ہی کتابوں میں دستیاب ہے۔واقعات بیان کر نے میں صحت کا اہتمام تو کیا ہی گیا ہے ساتھ ہی گرد و پیش کے ماحول کو بھی حتی الامکان پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس لئے ’’تاریخ فرشتہ‘‘تاریخ کے واقعات کے لئے اہم ماخذ قرار دی جاتی ہے۔
محمد فرقان سنبھلی
محلہ دیپا سرائے چوک کنواں، سنبھل
موبائل نمبر:9568860786
ماہین حق نے95.8% نمبر حاصل کر کے اسکول ٹاپ کیا
ماہین حق نے95.8% نمبر حاصل کر کے اسکول ٹاپ کیا
(پریس ریلیز)
میرٹھ : 28؍ مئی2013ء
فیض عام ڈگری کالج کی صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر فرحت خاتون کی صاحبزادی ماہین حق نے12؍ ویں کے امتحان میں میرٹھ پبلک گرلس اسکول، ویسٹ ایند روڈ،میرٹھ میں95.8فی صد نمبر حاصل کر کے اپنے اسکول میں سائنس (بایو) گروپ میں اول پوزیشن حاصل کی ہے۔
ماہین حق کا خواب ایک کامیاب ڈاکٹر بننا ہے۔ ڈا کٹر بن کر وہ ملک وقوم کی خدمات کرنا چاہتی ہیں۔ اپنی بیٹی کی کامیابی پر ڈاکٹر فرحت خا تون نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی بیٹی ایک اچھی ڈاکٹر بنے اور ملک خصوصاً مسلمانوں کی دن رات خدمت انجام دے۔اس مو قع پر شہر کے معززین نے ماہین کی کامیابی پر مبارک باد دی ہے۔
ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری نے رانچی سے شائع ہونے والے سہ ماہی رسالہ ’موج ادب‘ کا اجراء کیا
ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری نے رانچی سے شائع ہونے والے سہ ماہی رسالہ ’موج ادب‘ کا اجراء کیا
رانچی مورخہ ۲ ؍جون جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی رسالے ’’موجِ ادب‘‘ کی رسمِ اجراشہر میں واقع ہوٹل یوراج پیلس میں چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ (یو۔پی) کے صدر شعبہء اُردو ، مُنشی پریم چند کی تحریری روایت کو برقرار رکھنے میں کامیاب افسانہ نگار،بین الاقوامی سطح پر اردو کے فروغ کے لئے کوشاں شخصیت اورآج کی تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کے ذریعہ انجام پائی۔جلسے میں جناب سہیل انور اڈوکیٹ جنرل،جھارکھنڈ سرکار،جناب عبد العلّام سینئر اڈوکیٹ و اسٹینڈنگ کونسل ،جھارکھنڈ ہائی کورٹ،جناب خورشید حیات چیف کنٹرولرساؤتھ ایسٹ سینٹرل ریلوے،بِلاس پور،ایم۔قیصر علی اے۔ڈی۔ایم،بانکا۔بہاراور شان بھاتی ایڈیٹر سہ ماہی’’رنگ‘‘ دھنباد مہمانِ اعزازی کی شکل میں محفل کی رونق بڑھا رہے تھے۔تقریب کی صدارت معروف شاعر اور بہار اردو اکادمی کے سابق وائس چیئرمین نے کی جب کہ نظامت کے فرائض شہر کے مقبول شاعر ڈاکٹر سرور ساجدنے انجام دیے ۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز حافظِ قُرآن جناب حذیفہ رحمانی کے تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔اس کے بعد موجِ8 ادب کے مدیر اعلیٰ جناب عالمگیر ساحل نے رسالے کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ فی الوقت رانچی سے ایک ہی ادبی رسالہ نکلتا ہے جو اس شہر کے ذی علم اور با ذوق حضرات کے لیے نا کافی ہے ،اسی لیے ہم نے یہاں سے ایک معیاری ادبی رسالہ نکالنے کی سعی کی ہے جو انشاء اللہ با قاعدگی سے جاری رہے گا اور قاری کی تشنگی کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔موج ادب کے مدیر اعزازی ملک کے معروف افسانچہ نگار جناب ڈاکٹر ایم۔اے۔حق نے نہایت مختصر اًپنی بات واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ رسالہ صرف اس کے مدیران کا نہیں ہے بلکہ اس شہر کے تمام باذوق اور ادب نواز اُردو دوستوں کابھی ہے۔اُنہوں نے یہ اعلان کیا کہ آج جو بھی شخص اس رسالے کی خریداری قبول کرے گا اُسے ۱۵۰ روپے کی جگہ صرف ۱۰۰ روپے ہی ادا کرنے ہونگے۔اس اعلان کا خاطر خواہ اثربھی پڑااور حاضرین کی ایک بڑی تعداد رسالے کی خریداری کرنے کے لئے ٹوٹ پڑی۔
جناب وکیل رضوی نے رسالے کے متعلق اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسالے کے اداریہ میں مدیر اعلیٰ نے جو دعوے کیے ہیں ان پر عمل کر پانا واقعی بڑی بات ہوگی۔
سہ ماہی رسالہ ’رنگ‘ کے ایڈیٹر شان بھارتی صاحب نے رسالہ جاری کرنے میں جو دشواریاں پیش آتی ہیں ان پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک شعر میں اپنی بات کو سمیٹ لیا ۔
ہاتھ دوزخ میں ڈال کر دیکھو
اک رسالہ نکال کر دیکھو
جناب ایم قیصر اے ڈی ایم بانکا نے موج ادب کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے اپنے نیک خواہشات کا اظہارکیا اور کہا کہ آج سب سے بڑا مسئلہ اردو کا تحفظ ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ زبان بھی فارسی کی طرح کہیں گم ہو جائے۔
مشہور افسانچہ نگار جناب خورشید حیات نے کہا کہ موج ادب اس شہر کی ادبی روایت میں ایک اضافہ ہے۔ رسالہ نکالنا گھاٹے کا سودا ہے اور یہ سودا وہی کر سکتا ہے جوجنونی ہو تا ہے۔اور جناب ڈاکٹر ایم اے حق اور عالمگیرصاحبان کا جنون دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ رسالہ دور تک جائے گا۔
مہمان خصوصی ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری نے موج ادب کے مدیران کو اپنے نیک مشوروں سے نوازتے ہوئے رسالے کی ترقی کے گرُبتائے۔ انہوں نے کہا کہ آج پھر ادب میں ایک نئے رسالے کا جنم ہوا ہے اور ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اسے خوراک دیں اور پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کریں۔ انہوں نے اس رسالے سے یہ توقع ظاہر کی کہ ’موج ادب‘ رانچی کو انٹرنیشنل سطح پر متعارف کرائے گا۔
جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے سنیئر اڈوکیٹ و اسٹینڈنگ کونسل عبد العلام صاحب نے کہا کہ میں رسالے کے مدیران کا شکر گزار ہوں جنہوں نے موجِ ادب جاری کر کے رانچی شہر پر احسان کیا ہے۔ اردو کی صورت حال بہت اچھی نہیں ہے اور اس کے ذمہ دار خود ہم ہیں۔اردو ہماری تہذیب ہے اور اردو رسائل اور اخبارات ہماری تہذیب کی نشانیاں، جہاں تہذیب مر جاتی ہے وہاں کے انسان جانور ہو جاتے ہیں۔
ایڈوکیٹ جنرل جناب سہیل انور نے اردو داں کی تعداد میں تیزی سے آتی ہوئی گراوٹ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل میں اردو کے لیے نہ کوئی شوق باقی ہے نہ Commitmentہمارے بچوں کی تعلیم کی شروعات A B Cسے نہیں ا ب پ سے ہونی چاہیے۔ یہ شعور اگر نئی نسل میں بیدار نہیں ہوتا تو اسی طرح رسائل نکلتے اور بند ہوتے رہیں گے۔
تقریب کی صدارت کر رہے مشہور شاعر جناب صدیق مجیبی نے اپنے صدارتی خطبے میں مدیران کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے رسالے کی مشمولات پر بات کی انہوں نے کہا کہ اس رسالے میں ان تمام موجودہ اصناف کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو عا م طور پر مقبول ہیں یا جن پر طبع آزمائی ہو رہی ہے۔ اس میں مضامین بھی ہیں ، انٹرویو بھی، غزلیں نظمیں اور افسانے و افسانچے بھی ۔ اس کی مشمولات سے اس کے اعلیٰ معیار کا پتا چلتا ہے۔ سلام بن رزّاق کامضمون’’ ہندوستانی دیو مالا اور اردو افسانہ‘‘ حقّانی ا لقاسمی کا مضمون ’’سید احمد شمیم کی شاعری میں تمجید بدن‘‘ ڈاکٹر منظر حسین کا مضمون ’’ڈاکٹر صغیر افراہیم۔فکشن کی تنقید کا ایک معتبر دستخظ ‘‘ڈاکٹر سرور ساجد کا آرٹیکل’’اختر اورینوی حیات اور شاعری‘‘ایک تنقیدی مطالعہ ‘‘ اور ڈاکٹر ایم۔اے۔حق کا مضمون’’ لے سانس بھی آہستہ : اردو ادب کی ایک نادر تخلیق‘‘کے علاوہ غزلیں، افسانہ با الخصوص میراق مرزا کا افسانہ ’سرپنچ گاندھی‘اور افسانچے گویا تمام تخلیقات معیاری اور قابل مطالعہ ہیں۔انہوں نے اردو زبان کے حوالے سے کہا کہ اس زبان سے اگر آپ دور ہو رہے ہیں تو اپنی تہذیب سے دور ہو رہے ہیں ایسے لوگوں کو جینے کا کوئی حق نہیں۔موج ادب ایک معیاری رسالہ ہے لیکن اگر اس کے معیار سے سمجھوتہ ہوا تو رسالہ زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہ سکے گا۔جس شہر سے کوئی رسالہ نکلتا ہے تو اس شہر کی ادبی معیار کا پتہ چلتا ہے کہ اس شہر میں علماء ادب اور مشاہیر ادب موجود ہیں۔
آخر میں رسم شکریہ جناب ہدایت اللہ نے اداکی اور تقریب کے اختتام کا اعلان کیا۔اس تقریب میں شہر کی معروف ادبی ہستیاں موجود تھیں۔
سہ ماہی رسالہ ’’موجِ ادب‘‘کی اجراء شدہ کاپی ۵۰۰۰ روپے میں نیلام ہوئی۔
سہ ماہی رسالہ ’’موجِ ادب‘‘کی اجراء شدہ کاپی ۵۰۰۰ روپے میں نیلام ہوئی۔
رانچی ۲؍ جون ۳۱۰۲ رانچی واقع ہوٹل یوراج پیلس میں سہ ماہی رسالہ موج ادب کی رسم اجراء کے موقع پر ایک پرانی روایت کو زندہ کیا گیا ۔مہمانِ خصوصی ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری،صدر شعبہء اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ(یو۔پی) کے ہاتھوں کئے گئے اجراء کی کاپی پر صدر جلسہ ڈاکٹر صدیق مجیبی،مہمانِ خصوصی ،مہمانانِ اعزازی جناب سہیل انور،جناب خورشید حیات ،جناب اے ۔علّام ،جناب ایم۔قیصر علی ،جناب شان بھارتی کے ساتھ ساتھ رسالے کے مدیر اعلی جناب عالمگیر ساحل اور مدیر اعزازی ڈاکٹر ایم۔اے۔حق کے دستخط کئے گئے۔اس مخصوص رسالے کی نیلامی کا اہتمام کیا گیا۔نیلامی کی بولی چھابڑا555کے پروپرائٹر جناب حاجی محمدشفیق نے۱۰۰ روپے سے شروع کی جوڈاکٹر مسعودجامی کے اعلان پر ۵۰۰۰ روپے پر آکر ختم ہوئی۔ڈاکٹر مسعود جامی ملک کے معروف افسانہ نگار ،ناول نگار،فلم اداکار،ڈرامہ آرٹسٹ اور اُردو سے جنون کی حد تک لگاؤ رکھنے والے ایک باہمّت شخص ہیں۔ڈاکٹر جامی افسانوی مجموعے ’’کافور اور حنا‘ اور’ہم تو ڈوبے ہیں صنم‘ ناول ’’میرے دیش کی مٹّی‘‘ ڈرامہ کی مشہور کتاب ’’اسٹیج کی تکنیک اور اُردو ڈرامے ‘‘ اور ’ ریسرچ میں معاون کتاب’رموزِ تحقیق ‘‘کے مصنّف ہیں۔ نیلامی کے بعد مدیراعلیٰ عالمگیر ساحل اور مدیر اعزادی ڈاکٹر ایم اے حق نے ڈاکٹر جامی کی گُل پوشی کی اور دستخط شدہ کاپی اُن کے حوالے کیا۔ ڈاکٹر مسعود جامی کے حوصلے کو حاضرین محفل نے خوب سراہا اور ہوٹل یو راج پیلیس کا کشادہ ہال ’’محفل ‘‘ اُن کی تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے گونج اُٹھا۔جامی کی اس ادب دوستی کو ادارہ موج ادب سلام کرتا ہے۔
نیاز اختر کے افسانوی مجموعے’’بوڑھے برگد کا انت‘‘ کی رسم اجرا
نیاز اختر کے افسانوی مجموعے’’بوڑھے برگد کا انت‘‘ کی رسم اجرا
مونگیر:جواں سال افسانہ نگار نیاز اختر کے اولین افسانوی مجموعے’’بوڑھے برگد کا انت‘‘ کی رسم اجرا مورخہ ۱۸؍مئی ۲۰۱۳ء کو رہبر اردو لائبریری کے ریڈنگ ہال میں کہنہ مشق شاعر جناب شاہ محمد صدیقی کی صدارت میں پروفیسر اقبال حسن آزاد(صدر شعبۂ اردو،جے،آر،ایس کالج،جمالپور) کے دست مبارک سے انجام پذیر ہوئی۔تقریب کے آغاز میں مدرسہ تجوید القران کے معلّم حافظ منوّر نے کلام پاک کی تلاوت فرمائی۔اس کے بعد لائبریری کے سکریٹری الحاج شمیم اللہ نے مہمانوں کا استقبال کیا۔بعد ازاں نیاز اختر نے اپنا مختصر افسانہ’’تپتی زندگی‘‘سامعین کے گوش گذار کیا جسے بے حد سراہا گیا۔مجموعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے جناب اقبال حسن آزاد نے فرمایا کہ نیاز اختر کبھی ان کے باضابطہ شاگرد نہیں رہے لیکن انہوں نے نیاز اختر کو مختصر افسانہ نویسی کے رموز و نکات سے ضرور آگاہ کیا اور ان کے شوق افسانہ نگاری کو پروان چڑھایا ۔اس طرح وہ ان کے حلقۂ شاگردی میں آگئے اور جس طرح ایک مالی کو اپنے لگائے ہوئے پودے کو لہلہاتے ہوئے اور سر سبز و شاداب دیکھ کر خوشی ہوتی ہے اسی طرح نیاز اختر کی کامیابی دیکھ کر انہیں خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ساتھ ہی ساتھ انہوں نے نیاز اختر کے چند افسانوں مثلاً ’’تپتی زندگی‘‘‘،’’گدھ‘‘ اور ’’ٹرمینٹر‘‘ کی فنی خوبیوں پر روشنی ڈالی۔پروفیسر شبیر حسن نے ’’رنتھی‘‘،بوڑھے برگد کا انت‘‘ اور ’’آزادی‘‘کا تفصیلی جائزہ لیا۔ان دو حضرات کے علاوہ جناب راشد طراز،مرزا مشکور بیگ،جناب شاہ محمد صدیقی،مولانا عبد اللہ بخاری،پروفیسر ایم،اے،او،جوہر اور جناب طارق متین(ایڈیٹر ’’علم وادب ‘‘ لکھمنیا، بیگو سرائی) نے بھی اپنے خیالات کا اظہارکیا۔جناب مرزا مشکور بیگ نے ایک تہنیتی نظم پیش کی۔
نیاز اختر کو مبارکباد دینے والوں میں مرتضیٰ صبا، احتشام عالم،ایس .ایم .ظہیر علی،ثاقب شہزادہ،انجم حسن،محبوب عالم ، ارشد حسن ، محمد اقبال ،سجاد حسین ، جمیل اختر، مصطفے کمال، منتشر عالم اور جاوید اختر آزاد شامل ہیں۔صدر محفل جناب شاہ محمد صدیقی کے خطبۂ صدارت کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
***
جیلانی بانو کا افسانہ ’’عباس نے کہا‘‘ : ڈاکٹر نعیم انیس ۔۔۔۔۔۔۔ صدر شعبۂ اردو‘ کلکتہ گرلس کالج
جیلانی بانو کا افسانہ ’’عباس نے کہا‘‘
ڈاکٹر نعیم انیس
صدر‘ شعبۂ اردو‘ کلکتہ گرلس کالج
اردو افسانہ نگاری کی تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ اس کے ابتدائی دور میں ہرچند کہ مرد ادیبوں نے افسانہ نگاری کے میدان میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے نمونے پیش کر کے صنف افسانہ کو فروغ اور وسعت دینے کا فریضہ انجام دیالیکن ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ مرد ادیبوں کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی اس میدان میں اپنی فن کارانہ صلاحیتوں کے جوہر دکھائے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ادب ہو یا سماج ، یہاں ہمیشہ سے مرد کا پلہ بھاری رہا ہے اور عورتوں کی صلاحیتوں کو وہ مقام دینے سے گریز کیا جاتا رہا ہے جس کی وہ صحیح معنوں میں مستحق ہیں۔ اپنے ساتھ کی جانے والی اس حق تلفی کے باوجود ادب ہو یا سماج یا ہماری زندگی سے وابستہ کسی بھی شعبے کا ذکر کیا جائے تو ہر جگہ ایک خاصی تعداد ایسی خواتین کی نظر آتی ہے جنھوں نے اپنی محنت صلاحیت اور تخلیقی جوہر کے بل پر منفرد شناخت قائم کرکے اپنی حقیقت منوالی ہے ۔
جب ہم اردو میں افسانوی ادب کے ارتقائی دور کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ خواتین نے بھی اس میدان میں اپنے جذبات و احساسات کے علاوہ گردوپیش کے ماحول اور اس ماحول میں رہنے والوں کے مسائل کو نہایت سلیقے سے اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے ۔ ویسے تو اردو ادب کے منظرنامے پر خواتین انیسویں صدی میں ہی نظر آنے لگی تھیں‘ لیکن بیسویں صدی میں اردو افسانے کے افق پر ایسی خواتین کے نام تیزی سے ابھرے جنھوں نے اپنے فن کے ذریعہ نئے اور اچھوتے موضوع کو اظہار کا ذریعہ بنا کر افسانوی ادب میں خاص اضافے کیے۔ ان میں جیلانی بانو کا نام اہم ہے۔
جیلانی بانو عہدِ حاضر میں اردو کے افسانوی ادب کا وہ معتبر اور باوقار نام ہے جس نے اپنی فنی عظمتوں کا اعتراف اپنے پہلے افسانے ہی سے کرالیا تھا۔ جیلانی بانو نے اپنی ادبی سفر کے آغاز کے بعد پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھااور مسلسل تخلیقی کام سے منسلک رہیں ۔ آج ان کا نام ادب کے میدان میں بین اقوامی سطح شہرت کا حامل ہے اور وہ ایک کامیاب افسانہ نگار اور ناول نگار کی حیثیت سے اپنی انفرادیت ثابت کرچکی ہیں۔
جیلانی بانو نے 2002ء میں ایک افسانہ لکھا تھا جس کا عنوان ہے ’’عباس نے کہا ‘‘ جسے صلاح الدین پرویز نے ادبی جریدے’’استعارہ ‘‘ میں شائع کیا۔ یہ افسانہ عراق پر ہونے والی جنگ میں امریکہ کی بربریت کی کہانی سناتا ہے۔ اس میں انھوں نے امریکہ کے جابرانہ رویے ، عراق پر اس کے پے در پے حملے اور دہشت و تباہی کی حقیقی تصویریں نہایت فن کارانہ انداز میں پیش کی ہیں۔ عراق میں ہونے والی جنگ انسانی ظلم و بربریت کی ایک ایسی لرزہ خیز داستان ہے جس کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دل خراش آہوں، سسکیوں اور قتل و غارت گری کی وہ ساری تصویریں زندہ ہوجاتی ہیں جو امریکہ کے اشارے پر عراق کے چپے چپے کی بے بسی کی داستانیں سناتی ہیں۔ وہ ستم زدہ داستانیں جو سفید حویلی میں مقیم اربابِ اقتدار کے اشارے پر رقم کی گئیں اور اپنی رعونت اورگھمنڈ کی تسکین کا سامان فراہم کیا۔
جیلانی بانو نے اس جنگ کا پس منظر اور اس میں شریک ہم نوا ممالک کے سربراہان کی حد درجہ بے حسی کا کھلا اظہار طنز کے پیرائے میں اپنے اس افسانے میں کیا ہے۔ عراق کے خلاف فضا ہموار کر کے جنگ کا بگل بجانا تو ایک بہانہ تھا ۔ اس کے پس پردہ امریکی حکام نے عالمی منڈی سے تجارت کے در کھول کر اپنی تجوریاں بھرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ سے پہلے ہی ذہنی طور پر امریکہ کے غلام ممالک مختلف کاموں کے ٹنڈر حاصل کرنے کی دوڑ میں لگ گئے تھے ۔ اس شرم ناک عمل کو جیلانی بانو نے اپنے افسانے میں یوں پیش کیا ہے :
’’اس یدھ کے بعد عراق کی تعمیرِ نو کے ٹھیکے حاصل کرنے کی دوڑ ساری دنیا کے بازاروں اور امریکہ کی تجارتی منڈیوں میں شروع ہو چکی ہے۔
امریکی گورنمنٹ ساری دنیا کی مارکیٹ سے ٹنڈر طلب کر رہی ہے ۔ تیل کے چشمے کون جلائے گا ۔۔۔؟ تیل کے ان چشموں کی آگ بجھانے کا کنٹریکٹ کسے ملے گا۔۔۔ ؟ ایئر پورٹ اور بندرگاہوں کو کیسے تباہ کیا جائے گا ۔۔۔؟ ان ٹھیکوں کے حق دار صرف وہی ملک ہوں گے جو عراق کو تباہ کرنے میں امریکہ کا ساتھ دیں گے۔ ‘‘
(’’عباس نے کہا ‘‘ جیلانی بانو ’’ استعارہ ‘‘ جولائی تا دسمبر 2002ء مدیر : صلاح الدین پرویز ص113-)
اس افسانے کو انھوں نے مختلف نیوز چینل کی خبروں اور ان کے نمائندوں کے تاثرات کی بنیاد پر لکھا ہے اور اس میں اپنے جذبہ احساس نیز عالمی سطح پر ہونے والے عمل اور ردِ عمل کو بھی بیان کیا ہے ۔ اس جنگ سے پورے عالم میں ہلچل مچ گئی تھی۔ لوگ کام پر نہیں گئے۔ عورتوں نے ساس بہو والی لڑائی کے سیریل نہیں دیکھے ۔بچے اسکول نہیں گئے۔ کارٹون نیٹ ورک اور پوگو کی بجائے سب عراق پر بمباری کے بعد انسانی جسم کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں اور جلتے ہوئے شہروں کا تماشہ دیکھتے رہے۔
جیلانی بانو نے اس میں سعودی عرب ، کویت اورایران کے شاہوں پر طنز کے نشتر چبھوئے ہیں۔
’’ اب آپ سی این این سے وصول ہونے والا ایک وشیش چتر دیکھیے۔ سعودی عرب ، کویت اور ایران کے ملکوں کے شاہوں نے اس یدھ سے لطف اندوز ہونے کے لیے ایسے شاندار محل بنائے ہیں جن پر کسی میزائل کا اثر نہیں ہوتا ۔ ان محلوں میں دنیا کی ہر آسائش ہے۔ تمام شاہ اور شاہ بچے ٹی وی سیٹ کے سامنے بیٹھے ہیں اور عراق کی مقدس مذہبی عمارتوں، میوزیم، لائبریری اور کربلا پر بمباری کے مناظر دیکھ رہے ہیں۔ ان شاہوں نے طے کر لیا ہے وہ اس یدھ کے خلاف کچھ نہ بولیں گے۔ مگر اس یدھ میں لڑنے والے بہادر سپاہیوں کے سر پر دستارِ فضیلت رکھیں گے ۔ اس کے لیے ان جاں باز سپاہیوں کو حضور کے آگے سر جھکانے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ حضور کے آگے ان سپاہیوں کے صرف سر لائے جائیں گے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہمیشہ بادشاہوں نے اس طرح فن کاروں ، ادیبوں اور بہادر سپاہیوں کو نوازا ہے۔‘‘
(’’عباس نے کہا ‘‘ جیلانی بانو ’’ استعارہ ‘‘ جولائی تا دسمبر 2002ء
مدیر : صلاح الدین پرویز ص113-)
امریکی بمباری سے نجف میں ہر طرف دھواں اور آگ ہے ۔ لوگ یا علی یا مولاعلی مشکل کشا سے مدد مانگ رہے ہیں ۔ اپنے پاس بلانے اور اپنے سائے میں لینے کی التجا کر رہے ہیں ۔ حضرت علیؓ کے مزار کی دیواریں بم کے دھماکوں سے ٹوٹ رہی ہیں ۔ بش کی فوج نے عراق کی درس گاہوں ، لائبریریوں ، میوزیم اور مقدس مقامات پر آگ برسائی ہے جہاں اسلامی تاریخ و تہذیب بندہے ۔ یہاں بمباری کا مقصد یہ تھا کہ اب حضرت علیؓ ، امام حسینؓ اور اپنے اسلاف کے کارنامے پڑھنے سے عراق کے بچے محروم ہوجائیں کیوں کہ پھر حسین ، علی اور عباس جیسے بچے کی پیدائش کا کوئی ڈر نہیں رہے گا ۔ امریکیوں کے نزدیک جانوروں کی جان کی اہمیت تو ہے مگر انسانوں کی جان کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ یہی وجہ ہے کہ جب سمندر میں تیل پھیلنے سے بحری پرندے بیمار ہو نے لگے تو پوری امریکی فوج غم زدہ ہوگئی تو پھر ان پرندوں پر لاکھوں روپئے خرچ کر کے انھیں زندگی کی طرف موڑا گیا ۔ عراق کی بمباری سے ہر طرف تباہی و بربادی کے مناظر میں لوگ اپنے رشتہ داروں کو ڈھونڈ رہے ہیں ۔ عورتیں آہ و بکا کر رہی ہیں ۔ ان ہی میں ایک عورت جس نے کالی چادر اوڑھ رکھی ہے اس کی گود میں ایک چھوٹا سا بچہ ہے ۔ وہ ادھر سے ادھر بھاگ رہی ہے ،رو رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ عباس تو کہاں ہے بیٹے ، مجھے پیاس لگی ہے ۔ میرا بچہ پیاسا ہے اور جب ایک ٹی وی چینل کا نمائندہ اس سے پوچھتا ہے کہ تم کون ہو ؟ اپنا نام بتاؤ۔ تو وہ عورت اپنا سر اونچا کر کے کہتی ہے :
’’ میں اس زمین کی ماں ہوں جہاں غرور کا ہر شیشہ شکستہ ہوا ہے ۔ ‘‘
پھر وہ اپنی گود کے بچے کا سر اونچا کر کے اس سے کہتی ہے ۔
’’دیکھ ۔۔۔ دیکھ میرے بیٹے ۔۔۔ اوپر کی طرف دیکھ ۔۔۔ تیرا بھائی
عباس اب پانی کی مشک لے کر آئے گا ۔ جب بھی دشمن ہمیں مارنے آئے ہیں عباس اپنی مشک میں پانی بھر کے زخمیوں کو پلاتا ہے ۔‘‘
(’’عباس نے کہا ‘‘ جیلانی بانو ’’ استعارہ ‘‘ جولائی تا دسمبر 2002ء مدیر : صلاح الدین پرویز ص117-)
دریائے فرات کے کنارے بمباری سے تباہ ہونے والے بغداد میں ہر طرف آگ لگی ہے ۔ لاشیں ہیں ۔ مکانات گر کے زمین بوس ہوگئے ہیں اور ان ٹوٹی ہوئی عمارتوں کے نیچے جو لوگ زخمی ہوکے زندہ ہیں انھیں امریکی فوج کی لاریاں اٹھائے لے جارہی ہیں ۔ ان ہی زخمی لوگوں کے درمیان سے ایک بچے کے رونے کی آواز آرہی ہے ۔ اس بچے کی عمر دس گیارہ برس کی ہے ۔ نیوز چینل کے نمائندے کو اس زخمی بچے تک پہنچنے کے لیے کتنی لاشوں کو پھلانگنا پڑتا ہے ۔ ہر طرف خون بہہ رہا ہے ۔ بچہ زخموں سے بلک رہا ہے ۔ اس کا نام علی اسمٰعیل عباس ہے جس کے دونوں ہاتھ تن سے جدا ہو چکے ہیں ۔ جیلانی بانو نے اس بچے کے ذریعہ افسانے کو اختتام تک جس طرح پہنچایا ہے وہ نہ صرف ہمیں چونکا دیتا ہے بلکہ ہم عباس کی عظمت اور بہادری کے دل سے معترف ہوجاتے ہیں۔
’’وہ زور زور سے چلا رہا ہے ۔
’’میرے ماں باپ کو بش نے مار ڈالا۔ میرے دونوں ہاتھ کٹ گئے ۔ اب میں پیاسے زخمیوں کو پانی کیسے پلاؤں گا ۔ میری ماں میرا انتظار کر رہی ہوگی ۔ ‘‘
’’تم ٹھیک ہوجاؤ گے عباس ۔‘‘ وہ فوجی بچے کو تسلی دے رہا ہے ۔ ’’ہم تمھیں امریکہ بھیج رہے ہیں ۔ وہاں تمھارا علاج ہوگا۔ تمھیں ہاتھ پھر مل جائیں گے۔ ‘‘
’’نہیں ‘‘ عباس نے غصہ میں فوجی سے کہا ۔
’’مجھے امریکہ کے ہاتھ نہیں چاہیے ۔ ‘‘ وہ نفرت سے پاؤں پٹکنے لگا ۔
’’میں امریکہ نہیں جاؤں گا ۔ مجھے تو امریکہ سے لڑنا ہے ۔ عرا ق کے پیاسے سپاہیوں کو پانی پلانا ہے ۔ ‘‘
’’مگر تمھارے ہاتھ کٹ گئے ہیں عباس ۔تم کیسے لڑو گے ؟‘‘
خون میں ڈوبا ہوا عباس لڑکھڑا تا ہوا اٹھ کر کھڑا ہوا اور غصہ میں چلا کر بولا ۔
’’بش نے میرے ہاتھ کاٹ دیے مگر میں اسے لات مار سکتا ہوں ۔‘‘
(’’عباس نے کہا ‘‘ جیلانی بانو ’’ استعارہ ‘‘ جولائی تا دسمبر 2002ء
مدیر : صلاح الدین پرویز ص113-)
جیلانی بانو کا یہ افسانہ بش کے ساتھ ہونے والے حالیہ واقعات کا عکس نظر آتا ہے کہ اسی سرزمین بغداد سے جہاں عباس نے بش کو لات مارنے کی بات کہی تھی وہیں سے ایک باہمت اور پرعزم صحافی منتظر الزیدی نے بھری محفل میں بش پر جوتا پھینک کر زندگی بھر کے لیے اس کے گلے میں لعنت و ملامت کا طوق ڈال دیا ۔ جیلانی بانو نے اس افسانے کے حوالے سے ذاتی ملاقات میں کہا کہ عباس اس صحافی کی شکل میں بڑا ہوگیا ہے ۔ عباس کو اپنے خواب کی تعبیر مل گئی ہے ۔
جیلانی بانو نے افسانوں میں اپنے ماحول کے گرد و پیش کی زندگی اور اس زندگی سے وابستہ شب و روز کے مسائل کو ایمان داری کے ساتھ پیش کیا ہے ۔ ان کے افسانے ان معنوں میں انفرادی اہمیت کے حامل ہیں کہ اس میں ماضی ، حال اور مستقبل کے اشارے بھی واضح طور پر محسوس کیے جاسکتے ہیں ۔ اردو کے نسائی ادب میں وہ فکشن کے حوالے سے بہت بلند مقام پر نظر آتی ہیں اور یہ مقام انھوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے بل پر حامل کیا ہے ۔
منٹو بحیثیت ڈراما نگار : شاہد اقبال‘ کولکاتا
منٹو بحیثیت ڈراما نگار
شاہد اقبال‘ کولکاتا
اردو نثر کی اگر بات کی جائے تو چند قدآور ناموں میں سے ایک سعادت حسن منٹو کا بھی ملے گا۔ اپنی زندگی کی صرف بیالیس ’بہاریں‘ یا ’خزائیں‘ دیکھنے والے اس فن کار کے فن میں حقیقت نگاری کے ساتھ ساتھ معنویت کا ایک جہاں آباد ہے ۔ منٹو اردو کے ان معدودے چند نثر نگاروں میں سے ہے جس نے جس کسی بھی صنفِ نثر پر قلم اٹھایا ‘ انصاف کیا۔ منٹو کی سلطنتِ نثر نگاری کی سرحدیں صرف افسانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اس احاطے میں خاکہ نگاری ، ڈراما نگاری ، مکتوب نگاری ، مضامین نویسی اور ترجمہ نگاری جیسے اصنافِ نثر بھی بخوبی ملتے ہیں۔ منٹو کے افسانوں میں جہاں ہمیں بیسویں صدی کے نصف اول کے قومی اور عالمی مسائل کا بھرپور اظہار ملتا ہے ‘ وہیں ان کے خاکوں سے ان کی ذاتی زندگی کے مصائب اور ذہنی اذیتوں کی عکاسی بھی ملتی ہے۔ قاری غیر محسوس طریقے سے منٹو کی کشاکشِ حیات سے بھی واقف ہوجاتا ہے۔
دورِجدید میں اولین برقی ذرائع ابلاغ میں سے ریڈیو کو کافی اہمیت حاصل تھی۔ خصوصاً ٹیلی ویژن کی ایجاد سے قبل اور اس کے کچھ عرصے بعد بھی ریڈیو عوام الناس کے لیے تفریح کا بہترین ذریعہ تھا۔ ریڈیو کی نشریات میں مذہبی ، تعلیمی ، سماجی ، فلمی پروگرام بھی شامل تھے۔ فلموں کی ایجاد کے بعد بھی سنیما ہال کی کمی کے سبب عوام کی اکثریت اسٹیج کیے جانے والے ڈراموں سے ہی محظوظ ہوتی تھی۔ اس دلچسپی نے قلم کاروں کو ریڈیائی ڈرامے لکھنے پر راغب کیا۔ ریڈیائی ڈرامے کی ایجاد بیسویں صدی کے اوائل میں ہوئی ۔ خصوصاً عالمی جنگوں کے بعد ریڈیو کے بڑھتے ہوئے امکانات کے دوران ریڈیائی ڈراموں کا نشریہ شروع ہوا۔ حالاں کہ ریڈیائی ڈراما سننے میں ابتداً بڑا عجیب لگا کیوں کہ ڈراما کے معنی ’’کر کے دکھائی ہوئی چیز‘‘ یا باالفاظِ دیگر کسی قصے یا واقعے کو کرداروں کے ذریعہ تماشائیوں کے روبرو پھر سے عملاً پیش کرنے کو ڈراما کہتے ہیں۔ ایسی صورت میں ریڈیو جسے صرف ایک سمعی آلے کی حیثیت حاصل تھی اور ڈراماجس کا تعلق بصارت سے تھا ‘ کے انضمام سے پیدا ہونے چیزریڈیائی ڈراما بہرحال اجتماعِ ضدین ہی تھا ۔شروع میں تو لوگوں نے اسے ’’اندھوں کا ڈراما ‘‘ کے خطاب سے نوازا ‘مگر قلم کاروں نے اس صنفِ ادب کو سنبھالا دیا اور دھیرے دھیرے یہ مقبولیت کے مدارج طے کرنے لگی ۔ ہندستان میں سب سے قبل بمبئی ، کلکتہ ، دہلی اور مدراس میں ریڈیو اسٹیشن قائم کیا۔ ان اسٹیشنوں سے تمام زبانوں کے قلم کاروں کی ایک بڑی تعداد منسلک تھی۔ ہندی میں رام کمار ورما اور دھرم ویر بھارتی، گجراتی میں سی سی مہتا اور شیو کمار جوشی ، بنگلہ میں بیریندر کرشن بھدرا ، تمل میں وی راؤ آئینگر اور کے وی جگن ناتھ وغیرہ ابتدائی دور کے ریڈیائی ڈراما نگار تھے۔
اردو میں ریڈیائی ڈراموں کی تاریخ کافی پرانی ہے۔اظہار اثر کی تحقیق کے مطابق اردو میں ریڈیائی ڈراموں کا سب سے پہلا مجموعہ کرشن چندر کا ’’دروازہ‘‘ ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس کے بعد اردو کے بہتیرے قلم کاروں نے اس صنف میں طبع آزمائی کی ۔ اس ضمن میں کرشن چندر کے علاوہ چند اہم نام راجندر سنگھ بیدی ، اوپندر ناتھ اشک ، عصمت چغتائی ، امتیاز علی تاج، سیّد عابد علی عابد ، میرا جی ، عظیم بیگ چغتائی ، میرزا ادیب ، ابوسعید قریشی ، شوکت تھانوی ، ممتاز مفتی ، کرتار سنگھ دگل ، قرۃ العین حیدر ، قاضی عبد الستار ، محمد مجیب ، حبیب تنویر ، سردار جعفری ، خواجہ احمد عباس ، انتظار حسین ، ابراہیم جلیس اور سعادت حسن منٹو کے ہیں‘ جنھوں نے اس صنفِ ادب کی نشو و نما میں اپنا کردار بخوبی ادا کیا۔
سعادت حسن منٹو اس اعتبار سے خوش قسمت ہیں کہ اردو ناقدوں نے افسانہ نگار منٹو سے کبھی بے اعتنائی نہیں برتی ۔گذشتہ نصف صدی کے دوران جو افسانہ نگار ناقدوں کی زد میں سب سے زیادہ آیا وہ بلاشبہ منٹو ہی ہے ۔ یہاں اس سے بحث نہیں ہے کہ ان تنقیدوں میں محاسن اور معائب میں سے کس کا حصہ زیادہ تھا ۔بہرکیف ناقدوں کے نزدیک افسانہ نگار منٹو کا فن عصری زندگی کے تیزی سے بدلتے منظر نامے میں زندہ جاوید کرداروں کا استعارہ ہے۔ زندگی کی تلخ حقیقتوں کا جس قدر بے باکی سے اظہار منٹو نے اظہار کیا ‘ ان کے ہم عصر اس معاملے میں ان سے بہت پیچھے رہ گئے۔ ان وجوہات نے ہی ناقدوں کو منٹو کے فن پر قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔ مگر دوسری جانب منٹو نے جن دیگر اصنافِ نثر پر طبع آزمائی کی‘ نقادوں کی دلچسپی حیرت ناک طور پر ان میں نہیں ملتی ۔ محمد اسلم پرویز اس سلسلے میں رقم طراز ہیں :
’’۔۔۔ حیرت ہوتی ہے کہ منٹو کے ایک ایک افسانے پر دس دس مضامین مل جاتے ہیں جب کہ منٹو کے ڈراموں پر جو اس وقت کسی بھی طرح افسانوں سے کم مقبول نہیں تھے ‘ایک ایسا مضمون ہمیں نہیں ملتا جسے قابلِ قدر تو جانے دیجیے قابلِ ذکر بھی کہا جاسکے سوائے ممتاز شیریں کے ، جنھوں نے منٹو کے ڈرامے ’’اس منجدھار میں ‘‘ کے حوالے سے منٹو کے آرٹ کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی وگرنہ ایمان کی تو بات یہ ہے کہ منٹو پرلکھی گئی بیشتر تنقید منٹو کے ڈراموں کے ذکر سے یکسر خالی ہے ۔ تو کیا یہ سمجھا جائے کہ ڈراما نگار منٹو سے بے توجہی اصل میں افسانہ نگار منٹو کی مقبولیت اور شہرت کا شاخسانہ ہے یا پھر منٹو کے ڈرامے سچ مچ اتنے بے جان ، کم زور اور ناقص ہیں کہ اس پر کسی نوع کی سنجیدہ گفتگو ممکن نہیں۔‘‘
(مضمون ’’ منٹو کی ڈراما نگاری ‘‘ مطبوعہ ماہنامہ ’’آج کل ‘‘ نئی دہلی شمارہ )
اس اقتباس سے فاضل مضمون نگار کے تاسف کا اظہار ہوتا ہے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اسے ہمارے ناقدوں کی بے اعتنائی کہیے کہ انھوں نے ڈراما نگار منٹو پر توجہ نہیں دی یا ان کے نزدیک ریڈیائی ڈراموں کی ادب میں زیادہ اہمیت نہیں ہے۔ منٹو نے افسانوں کی طرح ڈرامے بھی کافی تعداد میں لکھے۔ منٹو کے عرصۂ حیات کے ساتھ ساتھ ان کے فن کی عمر بھی کافی چھوٹی (تقریباً ۲۰؍ سال ) رہی مگر اس کم عرصے میں انھوں نے جو بلند پایہ شاہکار اردو ادب کو دے دیے ‘ اتنے کم عرصے میں یہ کام دوسروں سے نہیں ہوسکا۔ منٹو کے ریڈیائی ڈراموں کے کل سات مجموعے ’’آؤ ‘‘ ، ’’منٹو کے ڈرامے، ’’جنازے‘‘ ، ’’تین عورتیں‘‘ ، ’’افسانے اور ڈرامے‘‘ ، ’’کروٹ ‘‘ اور ’’تین تحفے‘‘ مرحلۂ اشاعت سے گزرے۔ ان میں شامل ڈراموں کی تعداد سو سے زائد ہی تھی ۔ حیرت اس بات پر ہوتی منٹو کے یہ تمام ریڈیائی ڈرامے صرف اس ڈیڑھ دو سالہ عرصے کے دوران لکھے گئے جو منٹو نے بحیثیت ریڈیو ملازم گذارا تھا۔ منٹو نے ۱۹۴۱ء میں آل انڈیا ریڈیو کی ملازمت اختیار کی تھی اور ۱۹۴۳ء میں ن. م. راشد سے اختلافات کی بنا پر ملازمت چھوڑ بمبئی لوٹ آئے۔ منٹو کی سریع القلمی اور لکھنے کے تئیں بے چینی کے متعلق محمد اسلم پرویز نے لکھا ہے :
’’افسانوں کی طرح منٹو نے زیادہ تر ڈرامے ایک ہی نشست میں لکھے۔ جس طرح افسانہ لکھنے سے پہلے چند ساعت کے لیے وہ بے چین ہوتا تھا اسی طرح ڈراما شروع کرنے سے پہلے اس کے عنوان کے لیے پریشان رہتا ۔ ایک بار عنوان مل گیا تو تیزی سے ڈراما لکھ لیتا تھا۔ اپنے وقت کے اہم اور مقبول ڈرامے بھی منٹو نے اتنی ہی سہجتا اور casual انداز میں لکھے ہیں۔ ‘‘
(مضمون ’’ منٹو کی ڈراما نگاری ‘‘ مطبوعہ ماہنامہ ’’آج کل ‘‘ نئی دہلی شمارہ )
منٹو کی ڈراما نگاری کو بہتر طریقے سے جاننے کے لیے لازمی ہے کہ ان کے چند نمائندہ ڈراموں کا اجمالی جائزہ بھی لیا جائے ۔منٹو نے جو ریڈیائی ڈرامے تحریر کیے ‘ ان میں عوام کی پسند اور تفریح کا خاص خیال رکھا ۔ ان ڈراموں میں تکلیف دہ عناصراور مصائب کا بیان کم ہوتاتھا۔ کوشش اس بات کی کی جاتی تھی کہ ڈرامے کا اختتام مسرت آمیز ہو۔ اس بات کے لیے منٹو کے ایک ڈراما ’’محبت کی پیدائش‘‘ کی مثال دی جاسکتی ہے۔ خالد اور حمیدہ اس ڈرامے کے مرکزی کردار ہیں اور دونوں کالج میں ہم جماعت ہیں۔ خالد حمیدہ سے ٹوٹ کر محبت کرتا ہے اور اس سے شادی کرنے کے لیے اپنے والدین کے ذریعہ پیغام بھیجتاہے۔ حمیدہ کے والدین کو بھی رشتہ منظور ہے مگر خود حمیدہ اس شادی کے خلاف ہے۔ جب خالد اس سے شادی نہیں کرنے کی وجہ دریافت کرتا ہے تو حمیدہ کہتی ہے کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتی تاہم وہ اس کے علمی استعداد اور برد بادی کی قائل ہے۔ خالد کو اس بات سے سخت تکلیف پہنچتی ہے اوروہ حمیدہ کے غائبانے میں کالج میں شراب پی کر طوفانِ بدتمیزی برپاکرتا ہے جس کی پاداش میں پرنسپل اسے ایک سال کے لیے کالج سے Expel کردیتا ہے ۔ حمیدہ کو جب اس بات کا علم ہوتا ہے تووہ محسوس کرتی ہے کہ شاید یہ تمام کچھ اس کے شادی سے انکار کے سبب ہوا ہے ۔ خالد کے محاسن یکے بعد دیگرے اس پر ظاہر ہونے لگتے ہیں اور معائب پر پردہ پڑنے لگتا ہے ۔ وہ خالد سے مل کر دریافت کرتی ہے کہ اس نے کالج میں ایسی حرکت کیوں کی ۔ تو خالد جواب میں کہتا ہے کہ میں زہر پی کر خود کا خاتمہ نہیں کرسکتا تھا ‘ اس لیے اپنا غم غلط کرنے کی خاطر شراب پی۔ ڈرامے کا اقتباس ملاحظہ ہو جو خالد کی منطقی استدلال کا ایک عمدہ نمونہ ہے :
خالد : ۔۔۔ میں مرنا نہیں چاہتا ۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں مگر میں اس محبت کی شکست پر خود کو ہلاک کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ پرانے عاشقوں کا فلسفہ میری نگاہوں میں فرسودہ ہو چکا ہے ۔ جب تک میں زندہ رہ سکوں گا تمہاری محبت اپنے دل میں دبائے رہوں گا۔ تم میری آنکھوں کے سامنے رہو گی تومیرے زخم ہمیشہ ہرے رہیں گے۔ جب ایک روگ اپنی زندگی کو لگایا ہے تو کیوں نہ وہ عمر بھر تک ساتھ رہے ۔ تم مجھ سے محبت نہیں کرتیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں اپنی محبت کا گلا گھونٹ دوں۔
(ڈراما ’’محبت کی پیدائش ‘‘ ص۔۱۳)
اور پھر جب اس طویل مکالماتی گفتگو کے بعد حمیدہ خالد کو یہ بتاتی ہے کہ وہ بھی شادی کے لیے راضی ہے تو ڈراما اپنے خوش گوار اختتام کی جانب پہنچتا ہے ۔ چند چھوٹے مکالمے ملاحظہ فرمائیں جن سے خالد کی مسرت آمیز حیرت کا بخوبی اظہار ہوتا ہے :
حمیدہ : مجھے آپ سے شادی کرنا منظور ہے۔۔۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ آپ کا ایک سال ضائع ہوگیا۔
خالد : ایک برس ضائع ہوگیا۔۔۔ میں تمھیں اپنا بنانے کے لیے اپنی زندگی کے سارے برس ۔۔۔ پر میں کیا سن رہا ہوں ؟
حمیدہ : اب میں جاتی ہوں۔ مجھے پرنسپل صاحب سے مل کر یہ کہنا ہے کہ میں اس سال امتحان میں شریک نہیں ہو رہی ہوں۔
اگلے برس ہم اکٹھے امتحان دیں گے۔ ‘‘
(ڈراما ’’محبت کی پیدائش ‘‘ ص۔۱۵ مجموعہ ’’کروٹ‘‘ ساقی بک ڈپو‘ دہلی )
محبت جیسے لطیف جذبے پر خامہ فرسائی کرنا آسان نہیں ۔ اور یہ جذبہ صرف دو مخالف جنسوں تک ہی محدود نہیں بلکہ ماں اور بچے اور استاد و شاگرد کے تقدس آمیز رشتوں میں بھی ایک پاکیزہ محبت پوشیدہ ہوتی ہے ۔ تاہم ہماری زندگی میں اکثر ایسے واقعات بھی پیش آتے جب یہ رشتے ہمیں بوجھ محسوس ہوتے ہیں ۔ ہمیں ایسا لگتا ہے گویا کوئی ہمارے اپنوں کو ہم سے چھین رہا ہو۔ حسد میں ہم اس قدر دیوانے ہوجاتے ہیں کہ دماغ میں صرف اور صرف منفی خیالات ہی باقی رہ جاتے ہیں۔ کچھ ایسے ہی جذبات اور رشتوں کا تانا بانا منٹو نے اپنے ڈرامے ’’مامتا کی چوری‘‘ میں کیا ہے۔ یہ ڈراما ایک رئیس خاتون اور اس کے بچے کی استانی کے گرد گھومتا ہے۔ رئیس خاتون مسز بھاٹیہ انتہائی درجے کی شکی ہے۔ جس کا اظہار ڈرامے میں اس کے پہلے مکالمے سے ہی ہوتا ہے :
مسز بھاٹیہ : تم یہ جھگڑا ہی ختم کیوں نہیں کردیتے۔ یہ نئی بلا جو تم نے پالی ہے اسی کے ہو رہو اور مجھے زہر دے کر ہلاک کردو۔ یہ روز روز کی کلکل تو ختم ہو۔ میرا تو اس گھر میں ہونا نہ ہونا برابر ہے ۔ یہ چپلا جب سے آئی ہے‘ ایسا جادو اس نے تم پرکیا ہے کہ میں کیا کہوں۔ اب تو گھر میں اسی کا راج ہے ۔ میں کون ۔۔۔ تین میں تیرہ میں سعی کی گرہ میں ۔۔۔تم تو خیر اس کے ہوہی گئے تھے ‘پر اس موئی نے تو میرے بچے پر بھی قبضہ جما لیا ہے ؟‘‘
(ڈراما’’ مامتا کی چوری ‘‘ )
مسز بھاٹیہ کو اس بات کا شک ہے کہ اس کے بچے گوپال کی استانی چپلا نے اپنے التفات سے نہ صرف اس کے بچے کو اُس سے دور کردیا ہے بلکہ اپنے حسن و ادا کے جال میں اس کے شوہر کو بھی پھانس لیا ہے ۔ بھاٹیہ کا بیٹا حالاں کہ سخت بیمار ہے اور کسی مہلک چھوت کے مرض میں مبتلا ہے ۔ اس کے باوجودوہ چپلا کو بہت برا بھلا کہتی ہے اور اسے اپنے گھر سے نکل جانے کو کہتی ہے جب کہ وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ گوپال کی تیمارداری کرنااس کے بس کی بات نہیں اور چپلا کے چلے جانے سے گوپال مر بھی سکتا ہے پھر بھی اس کی مامتا پر حسد حاوی ہوجاتی ہے ۔ جب مسٹر بھاٹیہ کو ان باتوں کا علم ہوتا ہے تو وہ مسز بھاٹیہ کو سخت سست کہتے ہیں۔ آخر میں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گوپال کے مرض کا چھوت چپلا کو بھی لگ جاتا ہے ۔ گوپال تو ٹھیک ہوجاتا ہے مگر چپلا موت کے منہ میں پہنچ جاتی ہے ۔ جب چپلا نزع کے عالم میں ہوتی ہے تومسز بھاٹیہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ معافی مانگنے کے لیے اس کے پاس جاتی ہے ۔ آخری وقت میں چپلا اسے یہ بتاتی ہے کہ اس کے ساتھ بھی بالکل ایسا ہی ہوا جیسا اب مسز بھاٹیہ کے ساتھ ہورہا ہے ۔ اس نے بھی کبھی اپنے شوہر ‘ بچے اور اس کی استانی کے رشتے پر شک کیا تھا جس کی سزا اسے اب مل رہی ہے۔ یہ ایک طرح سے اس کے گناہوں کا ازالہ ہے اس لیے وہ خوش ہے ۔ ملاحظہ ہوں اس موقع پر ادا کیے گئے چند مکالمے جن میں منٹو کا فن اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے :
مسز بھاٹیہ : میں نے غلط فہمی میں تم سے کئی بار ایسی باتیں کیں جن سے یقیناًتمھیں بہت دکھ پہنچا ہے۔ اب میں سوچتی ہوں اگر میں تمہاری جگہ ہوتی تو میرے دل کی کیا حالت ہوتی ؟
چپلا : میری جگہ پر آپ ہوتیں تو یہ حالات نہ ہوتے۔ لیکن آپ میری جگہ پر کیوں ہوتیں؟ ہر ایک آدمی کے لیے ایک جگہ مقرر ہے ۔ میرے لیے یہی جگہ مقرر تھی جہاں آ کر مجھے اپنی زندگی کے سب سے بڑے پاپ کا پرائشچت کرنا تھا ۔
مسز بھاٹیہ: پاپ ۔۔۔ پرائشچت۔۔۔؟
چپلا : میں اب سوچتی ہوں کہ اگر یہاں سے میں اس روز چلی جاتی تو میرے من کی من ہی میں رہ جاتی ۔ کوئی زمانہ تھا کہ میں بھی آپ ہی کی طرح تھی ۔ میرا پتی تھا جو آپ کے پتی کی طرح بڑا شریف کاروباری آدمی تھا۔ مگر میری حاسد اور بات بات پر شک کرنے والی طبیعت کا برا ہو کہ میں نے اس کو ہمیشہ پریشان رکھا۔ وہ جی ہی جی میں کڑھتا تھا۔ میں ہر گھڑی اس کو جلی کٹی سناتی مگر وہ چپ رہتا ۔ اس کو خاموش دیکھ کر میں سمجھتی چوں کہ یہ مجرم ہے اس لیے کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی ۔۔۔
مسز بھاٹیہ: یہ تو میری ہی کہانی ہے ۔۔۔
چپلا : گوپال جیسا میرا بھی ایک بچہ تھا اور میری طرح اس کی بھی ایک استانی تھی جس پر میں شک کرتی۔کئی جھگڑے ہوئے۔ میں نے اپنے پتی اور اپنی دونوں کی زندگی کو نرک بنا دیا تھا۔۔۔ اور ۔۔۔اور اس کا انجام یہ ہوا کہ میں اس معصوم عورت نے جو میرے بچے کو مجھ سے زیادہ عزیز سمجھتی تھی کچھ کھالیا اور مر گئی ۔ اور اس کے بعد بھونچال آیا اور بچہ اور اس کا باپ دونوں ہمیشہ کے لیے مجھ سے جدا ہوگئے۔ ‘‘
اس ڈرامے کی قرات کے دوران ہمارا ذہن پریم چند کی مشہور کہانی ’’حجِ اکبر‘‘ اور اس کے کرداروں صابر ، شاکرہ ، عباسی اور نصیر کی طرف بھی کچھ دیر کے لیے چلا جاتا ہے مگر دونوں میں فرق اتنا ہے کہ ’’حجِ اکبر‘‘ میں شاکرہ کو عباسی کی جانب سے صرف یہ ڈر تھا کہ وہ اس سے اس کا بچہ چھین لے رہی ہے جب کہ اس کے برخلاف ’’مامتا کی چوری‘‘ میں شک کی سوئی شوہر اور استانی کے رشتے کی طرف بھی گھوم جاتی ہے ۔ منٹو کے اس ڈرامے میں جذبات و رشتوں کی کامیاب عکاسی کی گئی ہے جسے برتنا منٹو جیسے عظیم المرتبت فن کار کا ہی خاصہ ہے ۔ اپنی بات کا اختتام محمد اسلم پرویز کی ان سطور کے ساتھ کرتا ہوں جو منٹو کی ڈراما نگار کی عظمت پر دال ہیں :
’’منٹو کے یہ ڈرامے کوئی عظیم ڈرامے نہیں ہیں مگر عظمت کی پرچھائیاں ان پر جا بجا ملتی ہیں کہ یہ ایک عظیم فن کار کے قلم سے لکھے گئے ہیں اور انھیں ہم وقتی ، صحافتی اور ہنگامی کہہ کر discard نہیں کرسکتے کیوں کہ کم زور سے کم زور ڈرامے کے پیچھے سعادت حسن منٹو کی روح محفوظ ہے ۔ ایک ایسے جینیس کی روح جس نے اپنے متعلق بجا دعویٰ کیا تھا کہ ’’میں ایک سطر بھی لکھ دوں ‘ وہ آرٹ ہے ۔ ‘‘
***
اردو شاعری کا ثمر جاوداں ۔۔۔ غبار ہجراں : خورشید حیات۔ بیلاس پور (بھارت)
خورشید حیات۔ بیلاس پور (بھارت)
Qr. No. 16/3, New N.E.Colony, Bilaspur-495004(C.G)India
E-mail: khursheedhayat1211@gmail.com, Mob. 09752475934
***
اردو شاعری کا ثمر جاوداں ۔۔۔ غبار ہجراں
زندگی کی تپتی دوپہر میں جب میری ملاقات اردو شاعری کے ثمرِ جاوداں ناصر ملک سے ہوئی۔ تب ہر لرزتے گام پر ، لفظوں کو ایک نئی قوت گویائی نصیب ہوئی – بھیڑ میں تنہا ہوتے آدمی اور بے چہرگی کی شام ، شاعری کی پوشاک میں سر کٹے سایوں کی تفسیر بن گئی۔کبھی شاعری سوچ کی سمندر گپھا میں مچلنے لگی تو کبھی سوچ و فکر کی سطح آب پر تیرنے لگی۔ کبھی قدرت کے بیشمار مظاہر ناصر ملک کی انگلیوں سے نکلنے والے حروف کی پوشاک بنتے گئے- جب سیاسی انتشار ، معاشی بہران ، اخلاقی و سماجی پستی ’’آدمی کی بستی‘‘ میں پاؤں پسارنے لگے ، جب اندھیرا روشنی پر غالب ہونے لگا اور رفتہ رفتہ ’’رات‘‘ بالکل اندھیری ہو گئی۔ تہذیب و معاشرت کا ایک بڑا حصہ ا علا اخلاقی قدروں سے انحراف اور حقائقِ زندگی سے فرار کا راستہ اختیار کرنے لگا – تب ہوا یہ کہ شاعری کی زمین زلزلوں سے ہلا دی گئی۔ ادب بستیاں تیز آندھی اور طوفان سے الٹ دی گئیں۔ وہ جن کی شاعری میں عورتوں کے بدن، موہوم کمر ، جادو بدن کی باتیں زیادہ ہوتی تھیں ، دوسرے وہ جنہوں نے ’’ شاعری دوپٹے‘‘ کو پرچم بنا کر پیش کیا تھا ۔ وہ جو ادب میں کبھی دوسری تو کبھی تیسری آواز کی تلاش میں لگے تھے ،وہ یہ بھول بیٹھے تھے کہ آواز تو بس ایک ہی معتبر ہوتی ہے ۔ ہنگامی موضوعات پر نعرے لگا رہے تھے،یہ سارے کے سارے ’’وہ‘‘ جو لفظوں کے خیمے اور میخیں رکھتے تھے ، آج نئی صدی میں شاعری کی زمین سے کدھر اور کہاں گم ہو گئے ….؟
ایک وقت ایسا بھی آیا تھا ادب کی زمین پر جب چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا۔ قاری کو ادب پگڈنڈی پر چلنا مشکل ہو گیا تھا۔ فن کو غیر انسانی بنا دیا گیا تھا ۔آڑی ترچھی لکیریں کھینچی جا رہی تھیں ، ’’ادب ،مداری‘‘ کے اشاروں پر بندر اور بندریا ناچ رہے تھے ،وہ جو جدیدیت ، انامیت کے علمبردار تھے ، وہ جو بڑے بڑے ستونوں والے تھے ، وہ جو ادب کی وادی میں علامتوں کے پہاڑ تراشتے تھے ، ان کی بستیاں الٹ دی گئیں ۔
آج کی شاعری اپنی تکمیل کے لئے اس عالم کے انتظار میں ہے ۔شاہد ہے ’’غبار ہجراں ‘‘۔۔۔
’’غبار ہجراں‘‘
۔۔۔جلتی زندگی کی سربریدہ خواہشوں کا نام ہے
غبار ہجراں۔۔۔ تنہا موسموں کے بے چہرہ دنوں کی ایک رو پیلی شام ہے
غبار ہجراں۔۔۔ پچھلے پہر کی چاندنی میں گھر سے باہرسر کتے سایوں کی شارع عام ہے
غبار ہجراں۔۔۔ تپتی دوپہر میں ننگے پیروں تھل کے لمبے سفر کا نام ہے ۔
ناصر ملک کی شاعری نفس سے جہاد کرنے کے عمل سے گزرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ’’بھیگے کاغذ پہ بھیگی آنکھوں سے ۔۔۔کوئی حرفِ دعا نہ لکھ جائے۔‘‘ گواہ ہیں یہ ۹ حروف ، کہ پھر شروع ہوتا ہے ہجر کی دس راتوں کا سلسلہ ، جس میں ہر پل ایک نئی تشنگی لئے ناصر ملک ’’ مینہ دے ، بارش دے‘‘ کی صدائیں ہتھیلی پہ لئے تھل کی تپتی ریت پر ننگے پاؤں چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ تشنگی کی یہ منزلیں ، ہجر کی یہ راتیں ، شاعری کی روح کو اک نیا اعتبار دے جاتی ہیں ۔زینہ بہ زینہ ناصر ملک کی شعری کائنات کو میں نے فلک کی طرف اپنی بانہیں پھیلاتے ہوئے دیکھا ۔ پھر ہوا یہ کہ ’’وہ‘‘ جو ہماری پیاس کو جانتا ہے ۔ بارش کی بوندوں میں تبدیل ہوتا گیا اور چپکے سے اپنی ہی ڈگر کوسبزہ کر گیا ، سوکھتی جڑوں کو اک نئی توانائی دے گیا –
’’ غبار ہجراں‘‘ کے شاعر ناصر ملک کوئی تو ’’لا‘‘ کے بعد ’’الہ ‘‘ہے ، جس نے سوچ و فکر کی سونامی لہروں کو اک نیا ادراک ، نئی آگہی عطا کیا ہے۔ کوئی تو ہے جو ناصر ملک کو اظہار کے نئے نئے راستے فراہم کرتا ہے ، کوئی تو ہے جو تھل کی تپتی ریت پر ، لفظوں کی بازگشت کو ایک نغمگی دے جاتا ہے ۔اسی’’کوئی‘‘ کی تلاش ، کائنات کی دھڑکنوں کی طرح ناصر ملک کی شاعری میں چپکے سے سمائی جاتی ہیں –
آج اسی لمحے ، اسی وقت یہیں سے ہو جائے
عشق آغاز تو ہو چاہے ’نہیں‘ سے ہو جائے
انسان ابتدا سے ہی ’’معنویت عشق‘‘کی تلاش میں ہے اور اس تلاش و جستجو میں کبھی اس نے صحراؤں کی خاک چھانی تو کبھی پہاڑوں کی گپھاؤں میں غور و فکر کی نئی نئی قندیلیں روشن کیں۔ کبھی گوشہ تنہائی میں لفظ ’’نہیں‘‘ کی وسعتوں پر غور کرتے ہوے اپنے روحانی وجود کا سلسلہ ’’ہاں‘‘سے جوڑ بیٹھا –
ذاتِ الٰہی سے عشق۔۔۔ عشق۔عبادت۔۔۔ اور ۔۔۔ عشق ۔جنوں۔۔۔ اک ایسا جنوں جس کا آغاز ’’نہیں‘‘سے ہوتا ہے اور سایہ سایہ دھوپ زندگی کو اک نیا اعتبار دے جاتا ہے۔ایک دور تھا جب عشق کو خدا، عبادت کہا جاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوے دور میں آج سب کچھ بدل گیا ۔لوگوں کے سوچنے کا انداز ، ان کی ذہنیت اور سوچنے سمجھنے کا نظریہ بھی۔آج کا آدمی بھول بیٹھا ہے ’’الف‘‘ کا سبق ، بھول بیٹھا ہے کہ وہ کس راہ کا مسافر ہے ، اور بڑھا جا رہا ہے ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں پر ۔۔۔ عشق جیسے آفاقی لفظ کی معنویت سے رو بہ رو کراتی ہے ناصر ملک کی شاعری۔
پاؤں پاؤں جب چلنا سیکھا ناصر ملک نے تو ہر لرزتے گام پر تخلیقات کا سلسلہ چل نکلا ، اشعا ر کو گویائی نصیب ہوئی ، ربط اور بے ربطگی کے درمیان شاعری مچلنے لگی کہ بے ربطگی میں بھی ایک ربط ہوتا ہے۔ ناصر ملک کی شاعری تپتے ہوے صحرا میں بارش کی’’بوندیاں‘‘ ہیں۔ناصر ملک ’’رسم وفا‘‘کے مجرم ہیں۔ایک ایسی ’’وفاداری‘‘ کا جرم وہ کر بیٹھے ہیں ، جسے بار بار کرنے کو جی چاہے کہ یہ وفاداری ، عشق ٹہنی پر کھلا یہ گلاب گلستان ہستی میں پابند قفس ہے –
لفظ ہی عشق۔۔۔ لفظ ہی ردا ، لفظ شریک سفر۔۔۔ اور ۔۔۔ لفظ نہیں تو کچھ بھی نہیں ۔ اے ہم سب کہ ناصر ملک! اگر یہ ’’لفظ‘‘ کے سائبان نہ ہوں تو ہم سب کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔لفظِ معتبر کے اشاروں پر یوں ہی چلتے رہو ، سفر کرتے رہو کہ سفر زندگی کی علامت ہے -تم نے سچ کہا ہے ناصرملک!الفاظ تہذیبی ارتقا کا زینہ ہیں ان کی حفاظت کیجئے –
دیکھے سے نقش پا کبھی کٹتا نہیں سفر
رہ رہ کے یاد آی ہمیں چارہ گر کی بات
قدرت کے بیشمار مظاہر ناصر ملک کی شاعری کا موضوع بنتے ہیں۔لرزتی خاموشی میں مچلتی ہوئی صداہے ناصر کی شاعری۔سسکتے ہوے سناٹوں کی دردناک چیخ ہے ناصر کی شاعری۔’’ایک زلزلہ زدہ لڑکی کے منظوم الفاظ‘‘ دیکھیں۔سنیے ایک ایسی لوری جس سے آنکھیں بھیگ جایا کرتی ہیں۔ لفظوں کے رخسار پہ کاجل پھیل جاتے ہیں اور لفظ گیلے ہوے جاتے ہیں۔بہار لمحوں میں ، ڈالیوں پر جھولا جھولتے ہوئے ، گزرے موسم کے اشک آنکھوں میں لئے ایک زلزلہ زدہ لڑکی نے جب لوری سنایی تو میرا وجود کانپنے لگا –
’’لوری ‘‘
چلو ماضی کی یادوں میں نیا سپنا سجا ڈالیں
انہی سنگلاخ پتھروں نے میرے بابا کو نگلا ہے
اسی ملبے نے میری ماں کو مجھ سے چھین رکھا ہے
اسی ٹوٹے ہوے در نے میرا لالہ چبا ڈالا
اسی کونے میں باجی نے فنا کا ذائقہ چکھا
چلو اٹھیں کہ ان بکھری ہوئی چیزوں کو پھر جوڑیں
یہیں سے راستہ ڈھونڈیں ، انہی پتھروں سے سر پھوڑیں
درختوں پر لٹکتی روٹیوں سے بھوک اچھی ہے
ہوس آلود نظروں سے بھلی ہے گود پتھر کی
یہ پتھر مار دیتے ہیں مگر نوچا نہیں کرتے
یہ انسانوں سے بہتر ہیں ،برا سوچا نہیں کرتے
چلو اٹھو مرے بھیا ، چلو جاگو مرے بھیا
اٹھو تنکے اکٹھے کرکے اپنے آشیاں جوڑیں
کہ برسوں بعد پہلے کی طرح سب کچھ سجا ہوگا
مگر امی نہیں ہوگی ،یہاں بابا نہیں ہوگا
ہاے ! باجی نہیں ہوگی میرا لالہ نہیں ہوگا
چلو اٹھو مرے بھیا !، اٹھو جاگو مرے بھیا !
اجل کے سرخ پنجوں سے نکل کے زندگی اوڑھیں
(غبار ہجراں – صفحہ : ۲۶ )
چلو اٹھو مرے بھیا ! اٹھو جاگو مرے بھیا!کی صدایں اب بھی میرے کانوں کو سنائی دے رہی ہیں ۔اجل کے سرخ پنجوں سے نکل کر دھنک رنگ زندگی کی ردا میں لپٹے یہ الفاظ اشارہ کر رہے ہیں کہ کل جو حالات سخت تھے ، وہ ضرور نرم ہو جائیں گے۔ کل جو مشکلات کا سامنا تھا وہ ضرور آسانیوں میں بدل جائے گا کہ آگے کا ’’راستہ‘‘ ابھی کھلا ہے بند نہیں۔ٹوٹے بکھرے وجود کی ہتھیلی پر ایک نئی امید کی کرن ہے یہ لوری۔ ایک ایسی لوری جس کے ہر لفظ میں زلزلے کی زد میں آئی زندگی پلکوں پہ صرف شبنمی بوندوں کو نہیں رکھتی بلکہ ایک نیا جوش ایک نئی امیدیں رکھ جاتی ہے ۔ اس لوری کو لکھتے وقت شاعر کی ذہنی کیفیت کیا رہی ہوگی ؟۔۔۔ ایسے تخلیقی لمحات میں جب لفظ زلزلہ کی صورت لئے اتر رہے ہوں ، پھیل رہے ہوں، ناصر ملک کی یہ لوری کامیابی کی ’’چھت‘‘ پر بیٹھی پھر سے عزم کی سخت چٹان بن بستیوں کو آباد کرنے کا ہنر سیکھا جاتی ہے۔اس لوری میں جو تڑپ اور حوصلے کا برقی انداز ہے وہ بہت کچھ کہہ جاتا ہے ۔ ناصر ملک کی شاعری اک نئی راہ کی تلاش میں ہے۔ اس راہ کی تلاش میں ، جہاں اس کا شاعرانہ مزاج ایک نئے جذبے کے ساتھ فکر کی طرف لے جاتا ہے ۔ داخلیت ناصر ملک کے یہاں بھی ہے دیگر ہمعصر شعرا کی طرح مگر ان کے یہاں خارجی دنیا کی شان و شوکت دیکھ کر ایک بے اطمینانی ملتی ہے –
یوں تو ظلمت کے ستاروں سے کئی اترے ہیں
کسی رہبر کا تعلق تو زمین سے ہو جائے
ناصر ملک کے یہاں شاعری ایک ایسا تخلیقی اظہاریہ ہے جہاں جذبات کی مصوری ، تخلیقی نثر میں فہم و ادراک کی جلوہ گری ، فاصلے اور وقت کے احساس کو مٹا دیتے ہیں۔ان کی غزلیہ ؍نظمیہ شاعری زندگی اور نفس سے جہاد کرنے کے لئے اکساتی ہیں کہ اپنے نفس سے جہاد ایک بڑی عبادت ہے ۔ جب شاعری حدیث زندگی بن جائے ،اور ماضی کے سنہرے اوراق ، کتاب زندگی کے انقلابات ، کروٹوں، سلوٹوں کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔تب شاعری اپنی سنہری روایت پر چلتے ہوئے ،نئی روایت کی تشکیل کر جاتی ہے۔ناصر ملک کی شاعری ایک ایسا ’’زندگی درپن‘‘ہے جس میں’’زندگی روپ منظر ‘‘ دیکھ کر ہم کراہنے اور کڑھنے کی بجائے ، ایک نیا حوصلہ پاتے ہیں –
گھر میں چپکے سے چاندنی اتری
پھر سے آنکھوں میں روشنی اتری
پھول ہونٹوں پہ کھل گئے کتنے
اس کے گالوں پہ اوس بھی اتری
اس کی ہر ان کہی بھی سنتا ہوں
مجھ پہ کیسی یہ بندگی اتری
عشق مستی ہی اس طرح کی ہے
چڑھ گی تو نہیں کبھی اتری
صاف ، سجل اور اچھوتا انداز بیان متاثر بھی کرتا ہے اور غور و فکر کی راہیں بھی ہموار کرتا ہے۔جس دل میں کھلونے کی یاد نہ ہو ، ٹوٹتے بکھرتے رشتے ، ذہن کو بے چین نہیں کرتے ، اپنی زمین سے جدا ہو جانے کا غم بے چین نہیں کرتا ۔اس دل کو کیا کہا جائے ، مجھ سے بہتر آپ سب جانتے ہیں۔ ناصر گزرے موسم کے ’’اشک‘‘کو آنکھوں میں لئے ، ہواؤں کے ’’رخ‘‘ پر صدائیں دیتے ہیں۔وہ ایک لڑکی جو چلتے چلتے ٹھہر کر ناصر کو پکارتی تھی، وہ ایک لڑکی جو بھر کے آنکھوں میں ننھی ننھی معصوم محبت کے حسین تارے ، اداس چشموں کے پانیوں میں اتر کے پکارا کرتی تھی،وہ جووصال راتوں کی چاندنی میں دور جانے کی ضد بھی کرتی تھی۔۔۔کائنات کی دھڑکنوں کی طرح ، شبنم کی بوندوں کی طرح ، ننھے ننھے سے اوس قطروں کی جھالروں کی طرح، بصارتوں کی وسعتوں کی طرح اس ننھی منی لڑکی کی یادیں ، ناصر کی کئی نظموں میں ہجر کی ایسی موسیقی لکھ گئی ہیں کہ سرگم کے سات سروں کی طرح ہر لفظ جلتے سلگتے لمحوں میں خزاؤں کی چادر لپیٹے ان قدموں کے نشان تلاش ڈھونڈ رہے ہیں جو ہمیں راستہ دکھاتے ہیں –
تو ہے بادلوں کی لپیٹ میں ، تجھے علم کیا ، تجھے کیا خبر
میں ہوں کس تمنا کی دھوپ میں ، مجھے کس شجر کی تلاش ہے
میری رات میں ، میری نیند میں ، نئے سلسلوں کا عذاب ہے
مجھے رت جگوں کی ہے آرزو ، مجھے ایک ڈر کی تلاش ہے
سادہ اور عام آدمی کے بیچ مچلنے والے ’’حروف‘‘ میں بہت کم تخلیقی فنکاروں نے اتنی بے تکلفی سے شاعری کی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انکی شاعری ترسیل کے المیہ کا شکار نہیں ہوتی ،بلکہ عام آدمی کی جاگتی نگاہوں سے گفتگو کرتی ہے۔ تاریکی پسند چہروں کے نام ایک روشنی لکھ جاتے ہیں ناصر ۔۔۔ ناصر ملک کی سوندھی سوندھی مٹی بدن شاعری ، گنگناتی ہوئی شوخ و چنچل ہوا کے ساتھ بہتے ہوئے ، بارش کی بوندیں لکھ جاتی ہے۔ چلئے ناصر ملک کی شاعری کی طرح ہم سب ، ہر لبوں پر ایک دائمی مسکراہٹ لکھنے کی سعی کرتے ہیں۔اپنے اپنے درون میں اک درد چھپائے ، جواں بدن،قفس میں تھرکنے والی سانسوں کے ساتھ مل کر دھانی رنگ چنریا زندگی کے نام سمندر،پیاس لکھتے ہیں کہ ناصر کی شاعری کو تلاش ہے ہنستی رتوں کے سبز شجر کی!
***
(خورشید حیات)
دیار ہندی میں فیض : شہاب ظفر اعظمی،شعبۂ اردو،پٹنہ یونیورسٹی
شہاب ظفر اعظمی،شعبۂ اردو،پٹنہ یونیورسٹی
دیار ہندی میں فیض
فیض احمد فیض بنیادی طور پر ایک ترقی پسند شاعر تھے لیکن انہیں جو عالمی مقبولیت حاصل ہے اس کی بنیادیں ادبی اور تہذیبی عناصر پر مشتمل ہیں۔ فیض کی شاعری میں موجود انسانی اقدار، درد مندی اور احتجاج کی تہہ نشیں لہروں کو کسی بھی خطے کا انسان یا کسی زبان کا نقاد نظرانداز نہیں کرسکتا۔ ان کی شاعری میں انسانیت اور دردمندی کا نظریہ ہے تو جمالیاتی سطح پر ادبیت اور خلوص بھی۔مگر ظاہر ہے کہ صرف خلوص یا نظریے سے کوئی شاعر بڑا نہیں ہوسکتا۔ جو بات فیضؔ کو مقبول خاص و عام بناتی ہے وہ ان کی تخلیقی بصیرت ہے جو اجتماعی شعور اور فکری ترجیحات سے جلاپاتی ہے۔ شعر و ادب کے طالب علموں سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ فیض اپنی تحریروں میں اجتماعی تجربے کو بڑی اہمیت دیتے ہیں اور یہ اجتماعی تجربے بڑی خوبصورتی سے فیض کی شاعری میں تہذیب اور کلچر کا استعارہ بن جاتے ہیں۔
فیضؔ کے اجتماعی شعور اور تہذیبی بصیرت نے ان کی شاعری کو اردو، ہندی اور پنجابی ہی نہیں انگریزی اور روسی زبانوں میں بھی یکساں مقبول بنایا ہے۔ فیض کی شاعری جتنی اردو میں شائع ہوئی ہے اتنی ہی یا شاید اس سے زیادہ ہندی اور پنجابی میں چھپی ہے جس سے ظاہر ہے کہ فیض کے ہندی یا پنجابی قاری نے بھی ان کے کلام کے ساتھ مکمل مکالمہ برقرار رکھا ہے۔ ہندی ادب کے مقبول ادیب اصغر وجاہت کہتے ہیں کہ:
’’ہندی کی بھری پری دنیا فیض احمد فیض کو اپنا اور بالکل اپنا شاعر مانتی ہے۔ یہ صرف اتفاق نہیں کہا جائے گا کہ فیض کی کتابیں جیسے جیسے پاکستان میں آتی رہیں ویسے ویسے وہ ہندوستان میں بھی چھپتی رہیں۔‘‘
ہندی کے معروف ادارے راج کمل پرکاشن نے فیضؔ کے کئی شعری مجموعے شائع کئے، ہندی کے ایک بڑے شاعر شمشیر بہادر سنگھ نے فیض کا انتخاب ترتیب دیا اور 1987ء میں راج کمل پرکاشن نے ہی عبدل بسم اللہ کی ادارت میں ایک کتاب ’’سارے سخن ہمارے‘‘ کے عنوان سے شائع کی جس کے ٹائٹل پیج پر معروف مصور ایم ایف حسین نے فیض کا اسکیچ بنایا تھا۔ یہ کتاب بے حد مقبول ہوئی اور 1987سے اب تک لگاتار شائع ہوتی رہی ہے۔ بقول اصغر وجاہت راج کمل گروپ کے چیئرمین اشوک مہیشوری کا کہنا ہے کہ :
’’فیض ہندی کے پڑھنے والوں میں اس طرح مقبول ہیں جیسے کوئی دوسرا ہندی کوی۔ ان کے پڑھنے والوں کی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے۔‘‘
۲
ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ فیض صرف اردو والوں کے ہی نہیں ہندی والوں کے بھی چہیتے شاعر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات کے بعد سے آج تک ہندی کے رسائل و جرائد میں اُن کا گن گان کیا جاتا رہا۔ 1985 میں ہندی کے ایک رسالے ’’اتر گاتھا‘‘ نے فیضؔ پر خاص نمبر نکالا تھا جس کے ایڈیٹر سَوے ساچی تھے۔ یہ شاید فیض پر کسی ہندی رسالے کا پہلا خاص نمبر تھا۔ آج فیض کی صد سالہ سالگرہ کے موقع پر جہاں اردو والے انہیں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں، ہندی رسائل کے بھی گوشے یا خصوصی شمارے شائع ہورہے ہیں۔ نیاپتھ،آج کل ہندی، انبھے سانچا جیسے معیاری رسائل نے فیض پر خصوصی جنم شتی نمبر چھاپے ہیں۔ ’’نیاپتھ‘‘ کا خاص نمبر چار سو صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں فیض کی شخصیت اور شاعری پر متنوع اور فکرانگیز مضامین کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ایڈیٹر مرلی منوہر سنگھ پرساد اور چنچل چوہان نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ:
’’فیض ظلم اور خلق کے بیچ چل رہی ناختم ہونے والی جدوجہد کی سمجھ رکھنے والے بہت بڑے شاعر ہیں‘‘
اسی طرح پٹنہ سے شائع ہونے والے معروف اخبار ’’پربھات خبر‘‘ نے اپنے ایک خاص نمبر میں فیض پر ایک پورا سیکشن شائع کیا جس میں نہ صرف اُنہیں شعری و نثری طور پر خراج عقیدت پیش کیا گیا بلکہ فیض کے منتخب کلام سے بھی قارئین کو محظوظ کرایا گیا۔
’’آج کل ‘‘ہندی کے رسائل میں اپنی انفرادی شناخت کے سبب مقبول و معروف ہے۔ اس کا بھی ایک بلند پایہ اور خوب صورت فیض نمبر شائع ہوچکا ہے۔ اس کی مدیرہ سیما اوجھا قابل ستائش ہیں جنہوں نے اس نمبر کے لئے نہ صرف اہم اور بڑے لکھنے والوں سے مضامین حاصل کئے بلکہ خود بھی فیض پر ایک اچھا مضمون قلمبند کیا۔ ’’فیض۔تجھ کو چاہا تو اور چاہ نہ کر‘‘ عنوان کے تحت اپنے مضمون میں اپنے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے فیض کے بارے میں انہوں نے لکھا کہ:
’‘’فیض کی شاعری ایک ایسا دلکش نغمہ ہے جو بظاہر رومانی لگتا ہے مگر اصلاً اجتہادی ہے۔ اپنے رومانی تیور میں بھی اس میں انقلابی شعور ہے۔ وہ اس وقت ڈٹے رہے جب انگریزی سامراجیت اپنا ہاتھ ہندوستان سے کھینچنے کے لئے تیار نہیں تھی اور ہر طرح کے دمن کو جائز سمجھتی تھی۔ اُسی سامراجی سیاست نے ہمارے عظیم سینے کے دوٹکڑے کردیئے تھے اور آج بھی ہم الگ الگ تڑپ رہے ہیں، لیکن فیض نے اس لکیر کو اپنے دل پر کبھی حاوی نہیں ہونے دیا۔ وہ مرتے دم تک انسانیت کے نقیب رہے۔ تیسری دنیا کی آواز ان کی اپنی آواز تھی۔ افریقہ کے جیالے ان کے اپنے تھے، پھر ہندوستان تو ان کی محبوبہ ہی بنارہا۔‘‘
دوارکا پرساد چارومتر کے ’’انبھے ساچا‘‘ کا فیض جنم شتی نمبر بھی دیدہ زیب اور وقیع ہے۔ اپنے اداریے میں دورکا پرساد چارومتر نے فیض کو اورفیض کے وسیلے سے اردو شاعری کی روشن خیالی کی اس روایت کو بھی جو کلاسیکی عہد سے ہی انسانیت، رواداری اور محبت کا پیغام دیتی آئی ہے، بجا طور پر سراہا ہے، لکھتے ہیں:
’’فیض نے (اُردو کی) انسانیت نواز روایات کو اپنے ترقی پسند خیالات اور انقلابی جذبے کے ذریعہ
۳
پروان چڑھایا ہے۔ انسانیت کے حمایتی فیض ناانصافی و استحصال کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔ یہ آواز شاعر کی آواز تو ہے ہی، شاعری کی بھی آواز ہے اور یہی آواز جب سفر پر نکلتی ہے تو عوام کی آواز ہوجاتی ہے۔‘‘
گذشتہ دنوں محترم ظہور صدیقی نے بھی ایک اہم اور قابل قدر کارنامہ انجام دیا کہ فیض پر لکھے گئے ہندی مضامین کا ایک مجموعہ نیشنل بُک ٹرسٹ سے ’’بادنوبہار‘‘ کے عنوان سے شائع کرایا۔ ظہور صدیقی خود ہندی کے معیاری رسالوں میں فیض کے بارے میں لکھتے رہے ہیں اور ہمیشہ مذہبی رواداری، ہند وپاک دوستی اور جمہوری قدروں کے فروغ کے لئے کوشاں رہے ہیں۔ فیض پر مذکورہ کتاب کی ترتیب سے بھی وہ ہندی اور اردو قارئین کے درمیان قربت اور محبت کا رشتہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ہندی کے مشہور نقادوں اور تخلیق کاروں مثلاً ارون کمل، اصغر وجاہت، دوارکا پرساد، چنچل چوہان،سیما اوجھا، اسد زیدی، کانتی موہن، منموہن اور سہیل ہاشمی کے مضامین کا نہ صرف خوبصورت ترجمہ پیش کیا ہے بلکہ خود بھی فیض پر متعدد مضامین اور انٹرویو تحریر کرکے اس کتاب کو خاصا وقیع اور یادگار بنادیا ہے۔ ان مضامین میں فیض سے ہندی والوں کی جذباتی وابستگی، ذہنی قربت اور قدرشناسی کا بہ آسانی اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ بیشتر ہندی ادیبوں نے فیض کے اشتراکی خیالات کا تجزیہ کیا ہے، جس میں شاعر کی انسان دوستی ابھر کر نظرآئی ہے وار استحصالی نظام سے اس کی نفرت بھی۔ پروفیسر ارون کمل لکھتے ہیں:
’’فیض کی کویتا ایک طرف تو زندگی میں ہمارے وشواس کو پختہ کرتی ہے اور دوسری طرف اپنے اصولوں کے لئے آدمی کی پوری عزت کے لئے ہمیں جان کو ہتھیلی پر لے کر چلنے کی نیک صلاح بھی دیتی ہے’’جان دیتے رہے زندگی کے لئے‘‘۔ فیض انسان کے جدوجہد سے بھرپور، کبھی نہ جھکنے والے روپ کے شاعر ہیں۔‘‘
نیا پتھ کے مدیر اور انگریزی کے استاد چنچل چوہان نے ’’نرواسن (دربدری) کا احساس‘‘ کے عنوان سے فیضؔ پر بہت عمدہ اور مدلل مضمون تحریر کیا ہے۔ دستِ صبا، زنداں نامہ، دست تہہ سنگ اور سروادئ سینا کے علاوہ شام سحر یاراں، مرے دل مرے مسافر اور غبار ایام وغیرہ کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد دربدری یا قید سے متعلق تشبیہات واستعارات کا نہ صرف انہوں نے تجزیہ کیا ہے بلکہ اشعار سے ثبوت بھی فراہم کیا ہے۔ اس مضمون کے آخر میں وہ لکھتے ہیں:
’’فیض کی شاعری کی یہی تو خوبی ہے کہ وہ عشق، وطن سے محبت، اپنے انقلابی نظریے اور دنیا کے محنت کشوں، محروموں و مظلوموں کے ساتھ ہمدردی اور اپنے نرواسن (دربدری) کے درد کو اس طرح اپنی شاعری میں گھلاملا دیتے ہیں کہ اس میں حقیقت کی بہت ساری پرتیں فنکاری کی نئی جھلک دیتی ہیں۔‘‘
’’نیا پتھ‘‘ کے دوسرے مدیر مرلی منوہر پرساد سنگھ بھی ہندی کے معتبر ادیب ہیں۔ انہوں نے اپنے مضمون ’’تنہاکبھی نہیں لوٹی
۴
آواز‘‘ میں فیض کے تعلق سے لکھا ہے کہ:
’’فیضؔ کی شاعری آشا اور نراشا، حقیقت اور خواب، جنگ اور امن، تخیل اور احساس کے فطری رنگوں میں بار بار نمایاں ہوتی ہے۔ وراثت اور حقیقت، ان دونوں سے روبرو فیض کی شاعری عوام کی روح میں بس جاتی ہے، اس کے جدوجہد سے بھرپور وجود کا اٹوٹ حصہ بن جاتی ہے۔‘‘
ایم ڈی یونیورسٹی روہتک میں شعبہ ہندی کے استاد منموہن نے اپنے مضمون ’’غرور عشق کا بانکپن‘‘ میں فیض کا انوکھے انداز میں مطالعہ کیا ہے وہ میر و غالب کی شاعری سے متاثر ہیں اور فیض کی شاعری کو انہیں کی اگلی کڑی کے روپ میں دیکھتے ہیں اور پھر نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
’’میر وغالب کے بعد اُردو زبان میں شاید فیض ہماری یاد میں سب سے برتر اور گہرا شعور رکھنے والے شاعروں میں سے ایک ہیں۔ پچھلی تین صدیوں میں دوسری ہندوستانی زبانوں کی شاعری میں بھی ان تینوں جیسی پختگی کتنے شاعروں میں ملے گی، کہنا مشکل ہے۔۔۔۔ یہ تینوں اپنے اپنے انداز میں شدید اخلاقی گراوٹ، بے عزتی اور سنگدل حالات میں انسان کی عظمت کو قائم رکھتے ہیں۔ شدید اندرونی تکلیف وکڑھن سے گذر کر اس کی پوری قیمت چکاتے ہیں لیکن اس کا پورا دعویٰ رکھتے ہیں۔ اس طرح تینوں ہی شخصیتیں ذلیل کرنے والے اور کچلنے والے حالات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں، یہی ان کی مزاحمت ہے۔‘‘
اسد زیدی، سہیل ہاشمی، کانتی موہن، ایم اے جاوید اور ظہور صدیقی کے مضامین میں بھی فیض کی شخصیت اور شاعری کی متنوع جہتوں کو ہندی قارئین کے سامنے سادہ اور ترسیلی اسلوب میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فیض کی شاعری کو ان کی زندگی میں بھی مختلف زبانوں نے اپنے ادب میں جگہ دی تھی۔ موجودہ عہد میں بھی مختلف زبانیں بالخصوص ہندی زبان فیض کی شاعری کی نہ صرف قدر کرتی ہے بلکہ اس کا تنقیدی و فنی محاسبہ کرکے اپنے قارئین کو اس کی قدر و قیمت سے آشکار کرارہی ہے۔ ان کی ولادت کی سالگرہ مناتے ہوئے اردو کے ساتھ ساتھ ہندی کے ادیب و دانشور بھی اس باشعور شاعر کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں بلکہ یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ وہ فیض شناسی میں اُردو ادیبوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے نظرآرہے ہیں۔ اس کا سبب پروفیسر ہربنس مکھیا یہ بتاتے ہیں کہ:
’’دراصل فیض ہمارے یُگ کے لئے جو کئی معنوں میں بہت بدلا بدلا نظرآتا ہے Relevantہیں۔ وہ ماضی کے درد کی یاد دلاتے ہوئے بھی اکیسویں صدی میں زندہ ہیں۔ کچھ ایسے اقدار ہوتے ہیں جن کی ہمیں ضرورت رہتی ہے۔ انسان کو معلوم نہیں کتنی صدیوں تک رہنا پڑے اور ظاہر ہے کہ کسی کے لئے وہی چیز ہمیشہ موثر رہے گی جو اس کے انسانی جذبات کو طاقت دیتی رہے اور اس کے لئے ایک اچھے صحت مند ماحول
۵
بنائے رکھنے میں مددگار ثابت ہو۔ فیض کی شاعری میں اسی طرح کی چیز ہے۔‘‘
ہندوستانی زبان میں فیض کی مقبولیت اور ان کی شاعری کے چاہنے والوں کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہوتا رہا ہے۔ فیض کی شاعری میں سماج کی بنیادی سچائیوں کی عکاسی اور مقبول سنگیت کاروں اور گلوکاروں کا اس شاعر کو ہاتھوں ہاتھ لینا وہ بنیادی وجوہات ہیں جنہوں نے مل کر فیض کو بیسویں صدی میں عوام کے سب سے محبوب شاعروں اور ادیبوں کی پہلی صف میں کھڑا کردیا ہے۔ وہ اپنی زندگی میں ہی ایک دیومالائی کردار بن گئے تھے۔ لوگوں کو یاد ہوگا کہ 1980 میں جب ’’جشن فیض‘‘ منایا گیا تھا تونئی دہلی کے فکی ہال میں فیض کو دیکھنے اور سننے والوں کی ایسی بھیڑ اُمڈی کہ پانچ دنوں تک ہال میں تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ اس کے بعد فیض ہندوستان میں جہاں بھی گئے اُن کے عاشقوں کی بھیڑ سیلاب کی صورت میں نظرآئی۔اسی طرح ایمرجنسی کے بعد جب فیض JNUکیمپس میں گئے تو ان کا جانا جشن برپا کرگیا۔ کیدارناتھ سنگھ نے اپنے مضمون ’’میں نے فیض کو دیکھا تھا‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’بھیڑ کا یہ عالم تھا کہ اس بڑے سے پنڈال میں سب سے آخر میں سب سے لمبا جو آدمی کھڑا تھا اس کا نام ہے مقبول فداحسین‘‘ اور آج بھی فیض ہمارے ہوش و حواس پر بغیر کسی تفریق کے ویسے ہی قبضہ کئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ ہمارے جلسے جلوسوں، تقریروں میں، کارخانوں میں استحصال کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں، انسان دوستی کے نعروں میں اور ہندوستان کے جمہوری سیکولرجدوجہد کی جنگوں میں فیضؔ کی شاعری ہتھیاروں کی طرح استعمال ہوتی ہے۔ نکڑ ناٹکوں، ڈراموں اور JNUجیسے اداروں کی سرگرم راتوں میں فیض کا کلام لہوبن کر دوڑتا ہے۔
میرا خیال ہے کہ جرمنی کے برتولت بریخت، ترکی کے ناظم حکمت اور ہمارے فیض احمد فیض ایسے شاعر ہیں جو نہ صرف اپنے عہد میں بلکہ ہمیشہ نوجوانوں کے لئے مشعل راہ رہیں گے۔ انہیں زبان یا ملک کی سرحدوں میں تقسیم نہیں کیاجاسکتا۔ ایسے میں فیض ہندی دنیا کو اپنے بالکل اپنے شاعر لگتے ہیں تو کوئی تعجب نہیں۔ اصغر وجاہت نے بالکل صحیح لکھا ہے کہ:
ہندی نے فیض کو اپنالیا ہے کیونکہ کسی بڑے شاعر کو کسی ایک زبان یا ملک سے باندھا نہیں جاسکتا۔ وہ تو ہر دل کو گرماتا رہتا ہے۔‘‘
lll