ڈرا مہ’’جس لاہور نئیں دیکھیاں….‘‘ کا مقصد قومی یکجہتی اور مذہبی روا داری کا فروغ ہے : پروفیسر اصغر وجاہت
ڈرا مہ’’جس لاہور نئیں دیکھیاں….‘‘ کا مقصد قومی یکجہتی اور مذہبی روا داری کا فروغ ہے:پروفیسر اصغر وجاہت
اے بی وی پی کی مخالفت کے با وجود شعبۂ اردو کے زیر اہتمام معروف ڈرامہ کا شاندار اور کامیاب انعقاد،ہزاروں لوگوں کی شرکت
24؍ مئی2013ء(پریس ریلیز): شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ اور یو نائیٹڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن، میرٹھ (UPTA)کے باہمی اشتراک سے عالمی شہرت یافتہ ڈراما’’جس لاہور نئیں دیکھیاں……..‘‘ کا کامیاب انعقاد24؍ مئی2013ء کو یونیورسٹی کے آڈیٹوریم نیتاجی سبھاش چندر بوس میں ہوا۔ جس کی صدارت شیخ الجامعہ محترم وکرم چند گویل نے کی ۔مہمان خصوصی پرو فیسر اصغر وجاہت تھے۔ جب کہ مہمانان ذی وقار کے طور پر محترم وبھوتی نارائن(شیخ الجامعہ،وردھا یونیورسٹی) ، پروفیسر منظور احمد(شیخ الجامعہ، سبھارتی یونیورسٹی، ڈاکٹر معراج الدین(سابق وزیر حکومت اتر پردیش) ،محترم اجیت اگروال (چےئر مین گیان بھارتی )محترم نیرج شرما(چینل ہیڈ سبھارتی ٹی وی)،محترم بھانو پرتاپ سنگھ(چےئر مین کرن پبلک اسکول)،محترم انکور جین(ڈائریکٹر پارشوناتھ ایسو سی ایٹس)،ڈاکٹر سدھا شرما(پرنسپل بھوانی ڈگری کالج،شاہ جہاں پور، میرٹھ) اور محترم جی این گپتا(پرنسپل،سی اے بی انٹر کالج،میرٹھ)نے شرکت کی۔نظامت کے فرائض محترم آفاق احمد خاں نے انجام دیے۔
پرو گرام کا آ غاز شیخ الجامعہ نے مہمانوں کے ساتھ مل کر شمع روشن سے کیا۔بعد ازاں سبھی مہمانوں کا پھو لوں سے استقبال کیا گیا۔اس مو قع پر صدر شعبۂ اردو ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری نے اس انعقاد کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہو ئے کہا کہ ڈرا مے صرف تفریح فرا ہم نہیں کرتے بلکہ تاریخ کے گواہ ہوتے ہیں ساتھ ہی انسا نیت کا پیغام بھی دیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ 1947ء نے ہمیں آزادی کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ بٹوا رے کا درد بھی دیا تھا۔یہ تقسیم دو ملکوں کی نہیں دو بھائیوں کی بھی تقسیم تھی۔لوگ سر چھپانے کے لیے در در بھٹک رہے تھے۔سر حدوں کی دو نوں جانب درد،ٹیس اور مظالم کی لہر مذہبی جنون کے سمندر میں سر پٹکتی رہی،انسا نیت کراہتی رہی اور مذہبی جنون قہقہے لگاتا رہا۔ ایسے ہی ما حول کی پروردہ ہے یہ کہانی جس کا نام ہے’’جس لاہور نئیں دیکھیاں……..‘‘ یہ کہانی کسی مسلمان کی ہے نہ ہندو کی،یہ انسانیت کی کہانی ہے،میری، آپ کی اور ہم سب کی کہانی ہے۔میرٹھ میں اس کی پیش کش میرٹھ کے باشندگان کو ایک اہم پیغام دے گی۔
یونائیٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن، میرٹھ کے صدر جناب بھارت بھوشن شرما نے اس مو قع پر بتایا کہ ’’جس لاہور نئیں دیکھیاں……..‘‘ کی پیش کش میرٹھ میں پہلی مرتبہ ہورہی ہے اور یہ ڈراما قومی و بین الاقوامی سطح پر500سے زیادہ مرتبہ اسٹیج ہو چکا ہے۔ یہ ڈرا ما مذہب کے ٹھیکیداروں پر گہرے طنز کے سا تھ ساتھ انسانیت کا پیامبر بھی ہے۔
اس مو قع پر ڈرامے کے راقم پرو فیسر اصغر وجاہت نے کہا کہ یہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ میرٹھ جیسے تاریخی شہر میں یہ ڈراما اسٹیج ہو رہا ہے کیو نکہ میرٹھ کا ملک کی آزادی میں اہم حصہ رہا ہے۔انہوں نے ڈرا مے کے حوا لے سے بات کرتے ہو ئے کہا کہ اس ڈرا مے کا مقصد قومی یکجہتی اور مذہبی روا داری کا فروغ ہے۔انسا نی رشتے مضبوط و مستحکم ہوں۔ڈرامے کے ذریعے یہی دکھایا گیا ہے کہ مختلف مذاہب اور تہذیبوں کا سنگم کتنا ناگزیر ہے۔ہمارا ملک اس بات کا گواہ ہے کہ ہزا روں سا لوں سے مختلف اقوام،مذاہب، تہذیبیں مل جل کر رہ رہی ہیں۔انسان دوستی اور رواداری آج ہمارا ہی نہیں پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ ڈرا ما دنیا میں جہاں بھی کھیلا گیا وہاں اسے خوب سرا ہا گیا۔
معروف ادیب اور مہاراشٹر کی وردھا یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ محترم وبھوتی نا رائن را ئے نے کہا کہ جس لا ہور نئیں دیکھیاں… ڈرا ما انسا نیت کا درس دیتا ہے اور یہ کسی بھی طرح کی شدت پسندی اور مظالم کے خلاف ہے۔ساتھ ہی یہ ڈراما دو قومی نظریوں کی نفی کرتا ہے۔ڈرا ما کہتا ہے کہ بھارت پاک دو قوم نہیں ہو سکتی۔
ڈرامے کی اکھل بھارتی ودھارتی پریشد نے کھل کر مخالفت کی تھی ۔اسٹیج ہونے سے قبل تک مخالفت کا ایک طوفان نہ صرف یو نیورسٹی بلکہ ہندی اخبارات تک میں چھایا ہوا تھا۔مخالفت کے سبب ہی ڈرا مے کی تشہیر نے ہزا روں ناظرین کو ڈراما دیکھنے پر مجبور کیا اور دوران ڈرا ما مخالفین کی زبانوں پر تالے پڑے ہو ئے تھے بلکہ یہ بھی ہوا کہ ڈرا مے کے مختلف مکالموں پر ہال تالیوں اور شاباشیوں کے شور سے گونجتا رہا۔ سوا دو گھنٹے کے طویل ڈرا مے کو لوگوں نے اس انہماک سے دیکھا کہ سخت گرمی اور پسینہ بھی ان کے شوق میں مانع نہ ہوا۔میرٹھ کی تاریخ میں بہت کم ایسا ہوا ہے کہ کسی ڈرا مے کو مخالفتوں کے با وجود ہزاروں لوگوں نے دیکھا ہو اور ہر کردار کو سرا ہا ہو۔
پرو گرام کے آخر میں ڈرامہ نویس پروفیسر اصغر وجا ہت کو شال ،نشان یاد گار اور پھولوں سے ان کا اعزاز کیا گیا ۔ساتھ ہی ڈرامے کے مہمان شرکاء اور اداکاروں کو بھی مو منٹو پیش کیے گئے۔
اس مو قع پر پرو وا ئس چانسلر پرو فیسر جے کے پنڈیر،پرو فیسر نوین چندر لوہنی،پرو کٹر جے کے ڈھاکہ،رجسٹرار اوم پرکاش،ڈاکٹر آصف علی،ڈاکٹر الکا وششٹھ،ڈاکٹر نسرین،اے کے سنگھ ، ڈاکٹر اتویرسنگھ،ڈاکٹر اے کے چو بے،ارون کمار،حا جی مشتاق سیفی، سلیم سیفی،جی ایم مصطفےٰ،ڈاکٹر کنور انیس خاں،ایڈوکیٹ شانتی سروپ جھا، ڈاکٹر شعیب ایڈوکیٹ ،ڈاکٹر سرج الدین ،دیویندر توصیف احمد ایڈ وکیٹ،سعید احمد،عامر نظیر ڈار، طالب حسین ڈار، سمیع اللہ الائی،محمد آصف سیفی،عشرت یعقوب،یونیورسٹی اساتذہ و ملازمین کے علاوہ عمائدین شہر اور کثیر تعداد میں طلبا و طالبات موجود رہے۔
رپورٹ سعید بزمی
شعبۂ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ
شعبۂ اردو میں پریس کانفر نس سے ڈ اکٹر اسلم جمشیدپوری اور بھارت بھوشن شر ماکا خطاب
میرٹھ میں پہلی بار ’’جس لاہور نئں دیکھیاں وہ جنمیا نئیں۔۔۔‘‘ کا اسٹیج شو کا انعقاد ہوگا۔
شعبۂ اردو میں پریس کانفر نس سے ڈ اکٹر اسلم جمشیدپوری اور بھارت بھوشن شر ماکا خطاب
21؍ مئی2013ء
(پریس ریلیز)
شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ اور یو نائیٹڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن، میرٹھ (UPTA)کے اشتراک سے عالمی شہرت یافتہ ڈراما’’جس لاہور نئیں دیکھیاں……..‘‘ 23؍ مئی2013ء کو یونیورسٹی کے آ ڈیٹوریم نیتاجی سبھاش چندر بوس میں اسٹیج کیا جائے گا۔ اس تعلق سے صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ 1947ء نے ہمیں آزادی کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ بٹوا رے کا درد بھی دیا تھا۔یہ تقسیم دو ملکوں کی نہیں دو بھائیوں کی بھی تقسیم تھی۔لوگ سر چھپانے کے لیے در در بھٹک رہے تھے۔سر حدوں کی دو نوں جانب درد،ٹیس اور مظالم کی لہر مذہبی جنون کے سمندر میں سر پٹکتی رہی،انسا نیت کراہتی رہی اور مذہبی جنون قہقہے لگاتا رہا۔ ایسے ہی ما حول کی پروردہ ہے یہ کہانی جس کا نام ہے’’جس لاہور نئیں دیکھیاں……..‘‘ یہ کہانی کسی مسلمان کی ہے نہ ہندو کی،یہ انسانیت کی کہانی ہے،میری، آپ کی اور ہم سب کی کہانی ہے۔میرٹھ میں اس کی پیش کش میرٹھ کے باشندگان کو ایک اہم پیغام دے گی۔
یونائیٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن، میرٹھ کے صدر جناب بھارت بھوشن شرما نے اس مو قع پر بتایا کہ ’’جس لاہور نئیں دیکھیاں……..‘‘ کی پیش کش میرٹھ میں پہلی مرتبہ ہونے جارہی ہے۔ یہ ڈرا ما ہندوستانی ڈرامے کی سنہری تاریخ کا روشن باب ہے۔پروفیسر اصغر وجاہت کے ذریعہ تحریر کردہ یہ ڈراما قومی و بین الاقوامی سطح پر500سے زیادہ مرتبہ اسٹیج ہو چکا ہے۔ یہ ڈرا ما مذہب کے ٹھیکیداروں پر گہرے طنز کے سا تھ ساتھ انسانیت کا پیغام دیتا ہے۔
پریس کانفرنس میں ڈرامے کے ہدایت کار جتیندر سی راج،UPTAکے صدر ستیش شرما،نائب صدر انل شرما،جنرل سیکریٹری،ونود کمار بے چین ،سیکریٹری سریندر شرما و دیگر عہدیداروں کے علاوہ شعبۂ اردو کے ڈاکٹر آصف علی اور ڈاکٹر الکا وششٹھ نے بھی حصہ لیا۔
رپورٹ: سعید احمد
آزادی کے بعد مغربی بنگال میں اردو ڈراما اور کمال احمد : ڈاکٹر محمد کاظم
ڈاکٹر محمد کاظم
شعبہ اردو، دہلی یونیور سٹی
آزادی کے بعد مغربی بنگال میں اردو ڈراما اور کمال احمد
ہندوستان کی آزادی کے بعدیوں توپورے ہندوستان کی ڈرامائی سرگرمیوں کی روشنی ماندپڑتی ہوئی نظرآتی ہے۔ لیکن ۱۹۵۰ء کے بعدیہ پھرسنبھالا لیتی ہے۔ اب چند نامور ادیب وشاعرڈراماکی جانب اپنی توجہ مبذول کرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ ان لوگوں نے پرانی روش سے ہٹ کرجدیدطرزپرڈرامے لکھے۔ ۱۹۵۰ء کے بعدپروفیسرمجیب کا ڈراما’کھیتی‘ سجادظہیرکا’بیمار‘ اوپندرناتھ اشک کا ’پاپی‘ راجندسنگھ بیدی کا مجموعہ’سات کھیل‘ سعادت حسن منٹوکا ’اس منجدھارمیں‘ سردارجعفری کا ’یہ کس کا خون ہے ‘ اورحبیب تنویر کا ڈراما’آگرہ بازار‘ خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ ان ڈراموں کا شورہندوستان کے مختلف علاقوں میں تھا اورانھیں پیش بھی کیا جارہاتھا لیکن بنگال اس سے محروم نظرآتا ہے۔
ہندوستان کی جنگ آزادی کے دوران انگریزوں کی جانب سے ڈھائے گئے مظالم، ملک کے بٹوارے کے تحت ہوئے فسادات اورقحط بنگال نے نہ صرف بنگال بلکہ پورے ہندوستان میں خوف وہراس کا ماحول پیداکردیا تھا۔ چہارطرف لوگ سہمے سہمے نظرآتے تھے۔ غرض عوام ہنسنا بھول چکے تھے۔ اس خوف وہراس کے ماحول میں بنگال میں ایک ایسا شخص منظرعام پرآتاہے جوان سہمے ہوئے عوام کے چہرے پرخوشی دیکھنا چاہتاہے اوراپنی بقیہ تمام زندگی اسی کام میں صرف کردیتا ہے۔ وہ شخصیت پروفیسر نیاز احمد خاں کی ہے۔ نیاز احمد خاں نے بہت سے مزاحیہ ڈرامے لکھے اور کلکتہ کے مختلف اسٹیج پر پیش کیے۔ان کے اس سے بھی بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے دو ایسے شاگرد تیار کیے جو اردو ڈرامے کا پرچم نہ صرف بنگال بلکہ ہندوستان گیر سطح پر بلند کیا۔
موجودہ دورمیں اگربنگال کے اردوڈرامے پرنظرڈالتے ہیں توکئی ایسے ڈراما نگارنظرآتے ہیں جونہ صرف بنگال بلکہ ہندوستان گیرسطح پراپنی پہچان بنائے ہوئے ہیں۔ ان میں نیاز احمدخاں کے محبوب شاگردکما ل احمداورظہیرانور کے ساتھ ساتھ نوجوان اظہر عالم نمایاں ہیں۔ ان تمام لوگوں نے اپنی شناخت الگ سے قائم کی ہے۔ ان کے ڈرامے صرف بنگال میں ہی نہیں بلکہ ہندوستان گیر سطح پر مقبول ہیں۔
کمال احمدموجودہ دورکے ایک اہم ڈرامانگارہیں۔ یہ نہ صرف بنگال بلکہ ہندوستان گیرسطح پراپنی شناخت رکھتے ہیں۔ کمال احمدنے ڈرامائی زندگی کی ابتداء اداکاری سے کی اوربہت جلدڈرامے کے نکات سے واقف ہوگئے۔ انھوں نے پہلی بارنیازاحمدخاں کی ہدایت میں کھیلے جانے والے ڈرامے میں اداکاری مولانا آزاد کالج کے اسٹیج پرکی۔ اس زمانے میں وہ مولانا آزاد کالج میں طالب علم اور پروفیسر نیاز احمد خاں استادتھے۔ پروفیسرنیازاحمدخاں کمال احمدکی اداکاری کے سلسلے میں رقم طراز ہیں:
’’ان(کمال احمد) کی اداکاری میں فطری اندازتکلم کے علاوہ مصنف کے جذبات سے یگانگت نمایاں تھی۔ بعض اداکارمکالموں کی ظاہری گھن گرج سے مرعوب ہوجاتے ہیں اوراس یگانگت کوحاصل نہیں کرپاتے جواداکاری کی جان ہے۔ کمال احمدنے اس رازکوسمجھااورمصنف کے ذہن میں اترنے کی کوشش کی۔ بعض مرتبہ وہ ہدایت کارکی نظربچاکرایک معمولی سی حرکت کے اضافے سے ڈرامائی عنصرکوزیادہ نمایاں کردیتے ہیں۔ ‘‘
کمال احمدنے ساتویں دہائی میں ڈراما لکھنا شروع کیا۔ اب تک ان کے پانچ ڈراموں کے مجموعے ’’دوڈرامے تجرباتی، کشکول، مورکے پاؤں، گرداب اورالٹی گنگا‘‘ کی شکل میں منظرعام پرآکرمقبولیت حاصل کرچکے ہیں۔ حالانکہ ان کا سفرمختصرمدت پرمبنی ہے لیکن انھوں نے نہایت تیزرفتاری سے اسے طے کیا ہے۔ کمال احمداب تک تقریباً چالیس ڈرامے تحریرکرچکے ہیں۔ جن میں سے تقریباً سبھی ڈرامے کئی کئی باراسٹیج کی زینت بن کرقبول عام کی سندحاصل کرچکے ہیں۔
کمال احمدحقیقت میں ایک طنزنگارہیں اورانھوں نے اپنے جذبات کے اظہارکے لیے ڈرامے کی صنف کا انتخاب کیا ہے۔ حالانکہ انھوں نے افسانے بھی لکھے ہیں لیکن ان کے ڈراموں میں جوبات ابھرکرسامنے آتی ہے افسانے میں اس کا دوردورتک پتہ نہیں ہے۔
کمال احمدکی نظرموجودہ سماج پرگہری ہے۔ وہ سماج میں ہورہی تبدیلی کومحسوس کرتے ہیں اورعہدحاضرکے بدلتے ہوئے سماجی وسیاسی حالات کواپنے ڈراموں کا موضوع بناتے ہیں۔ وہ ان موضوعات کوطنزیہ اندازمیں اس طرح پیش کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی آنکھوں کے سامنے ہورہے واقعات لگتے ہیں۔ اس زمرے میں ہم کشکول، مورکے پاؤں، ریلیف، گرداب وغیرہ کورکھ سکتے ہیں۔ ان ڈراموں میں کمال احمد نے مختلف طبقوں کی سرگزشت پیش کردی ہے جوہمارے سماج میں آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ ایک بیٹا باپ کی جان لے کراس کی جائیدادجلدازجلد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ہرشخص اپنے آپ کوکسی سے کم نہیں سمجھتا یعنی ہرشخص ’میں‘ کے علاوہ اورکچھ نہیں سوچ رہا ہے۔ ہرشخص دوسروں کونقصان پہنچاکراپنا فائدہ چاہتا ہے وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں کمال احمدکے ڈراموں میں مل جائیں گی۔
ہماراسماج اس قدرCORRUPT(کرپٹ) ہوچکا ہے جس میں یاتوغنڈوں کا بول بالا ہے جوشریف لوگوں کی پگڑیاں اچھال کرانھیں کمتری کا احساس دلارہا ہے یا دوسر جانب وہ سیاست داں ہیں جوغنڈوں کوخریدلیتے ہیں۔ اس طرح اگردیکھیں توآج ہمارے سماج پرحکومت یاتوغنڈوں کی ہے یا پھران CORRUPT سیاست دانوں کی۔ جولوگ ایماندارہیں ان کی سماج میں کوئی وقعت نہیں۔ ایسے لوگ کوڑی کوڑی کے محتاج رہتے ہیں اورکبھی کبھی زندگی بسرکرنے کے لیے کوئی غلط راہ اختیارکرنے پرمجبورہوتے ہیں۔ اس طرح کے کردارکمال احمدکے ڈراموں میں اکثرپائے جاتے ہیں۔
کمال احمدغنڈوں اورسیاستدانوں سے اس قدربیزارنظرآتے ہیں کہ یہ کردار غیر ارادی طورپراکثران کے ڈراموں میں مل جاتے ہیں۔ لیکن یہ ان کی فنکاری کا کمال ہے کہ کہیں بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ پہلے بھی پیش کیے جاچکے ہیں۔ وہ ان کرداروں کومختلف روپ میں پیش کرتے ہیں۔ ’گرداب‘ اور’مورکے پاؤں‘ میں اس طرح کے کردارموجودہیں پردونوں میں اس کی نوعیت مختلف ہے۔ ان کرداروں میں کہیں بھی تکرارکا احساس نہیں ہوتا۔
کمال احمدکے ڈراموں کوپڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کسی دوسرے کا کوئی اثرنہیں لیتے۔ دوسرے لفظوں میں اگریہ کہا جائے کہ وہ اپنے طورپراصول پرست ہیں توبے جانہ ہوگا۔ ان کے اندرایک خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ اصول پرست ضرور ہیں لیکن اپنے مقصدکواپنے قاری وناظرین پرجبراً نہیں لادتے بلکہ اسے نہایت ہی شگفتگی سے طنزومزاح کے پیرائے میں پیش کرتے ہوئے مزاح کا ہلکا سارنگ ہرجگہ برقراررکھتے ہیں جس سے ڈرامے کی دلچسپی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ مثال کے طورپر’گرداب‘ میں ’عبدل‘ اور’غفور‘ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ یہ کردارطنزکے ساتھ تفریح کا خاصا سامان فراہم کرتے ہیں۔ ایک ہکلاتاہے، اپنی بات پوری کرنے میں وقت محسوس کرتا ہے اوردوسرا اتنا باتونی ہے کہ ہرسوال کے جواب میں ایک طویل واقعہ بیان کرنے لگتا ہے۔
کمال احمدموجودہ سماج سے بیزارنظرآتے ہیں اوراکثرایک خیالی اورمثالی سماج کا تصورکرتے ہیں۔ اپنے اس مقصدکوانھوں نے ڈراما’پدیاترا‘ میں نہایت خوبی سے بیان کیا ہے۔ کمال احمداس ڈرامے میں ایک خیالی گاؤں کی تشکیل کرتے ہیں اورہمارے موجودہ سماج کے ایک ریاکارانسان کو’یاتری‘ کے طورپراس گاؤں میں بھیج دیتے ہیں۔ وہ یاتری حسب معمول تہذیب کے نام پروہ تمام برائیاں کرتا ہے جو ہمارے سماج میں بلا جھجھک رائج ہورہی ہیں اورہم اسے قبول کرتے جارہے ہیں۔
کمال احمدنہایت ہی بے باک ڈرامانگارہیں۔ وہ اپنی بات کہنے سے کبھی بھی کسی بھی حالت میں نہیں چوکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ایمرجنسی کے خلاف قلم اٹھانے میں انھیں ذرابھی جھجھک نہیں ہوئی۔ اورسماج کو مدنظررکھ کرڈراما’ایک تھا راجا‘ تحریرکیا۔ اس ڈرامے کے سلسلے میں ڈراما’ضحاک‘ (جوایمرجنسی پرمبنی ہے) کے خالق محمدحسن رقم طرازہیں:
’’کمال احمداپنے ڈراموں میں بالخصوص ’ایک تھا راجا‘ میں طنزکے کوڑے برسائے ہیں اوراپنے طورپراحتجاج کارخ اپنایاہے۔ ’ایک تھا راجا‘ ایمرجنسی کے زمانے کا بڑا بلیغ اورجامع مرقع ہے۔ گواس کی معنویت محض کسی ایک ہنگامی واقعے تک محدودنہیں بلکہ وسیع ترسماجی نظام پرمحیط ہے۔‘‘
کمال احمداپنی بات کہنے کے بعداکثرہمارے سامنے یہ سوالیہ نشان چھوڑدیتے ہیں کہ آخر ہم ظالم اورمظلوم، اچھائی اور برائی، حق اور ناحق یا محبت اور نفرت کی اس لڑائی میں کس کے ساتھ ہیں؟
کمال احمدکے ڈراموں کوپڑھنے سے اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ وہ اسٹیج کرافت سے پوری واقفیت رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ روشنی کے استعمال کوبھی نہایت خوبی کے ساتھ بروئے کارلاتے ہیں۔ اس کی دو وجہیں ہیں۔ اول تویہ کہ انھوں نے ڈرامائی سفرکا آغازبحیثیت اداکارکیا۔ دوسرے یہ کہ وہ خودہدایت کاری کا کام بھی انجام دیتے ہیں۔
کمال احمدکے تحریرکردہ ڈراموں میں ’کشکول، مرض بڑھتا گیا، اورپھربیاں اپنا، گرداب، پدیاترا، ریلیف، مورکے پاؤں، ایک تھا راجا، کوئی تعبیرنہیں، الٹی گنگا‘‘ وغیرہ کوخاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کا ڈراما’مورکے پاؤں‘ بھاگل پوریونیورسٹی کے ایم۔ اے۔ کے نصاب میں شامل ہے۔
کمال احمدنے نہ صرف طبع زادڈرامے لکھے بلکہ ترجمے بھی کئے ہیں۔ انھوں نے بنگلہ زبان کے ڈراموں کواردوکا جامہ پہنا کرانھیں ایک نیاروپ عطاکیا ہے۔ کمال احمدنے منوج متراکے بنگلہ ڈراما کو ’وہ بھی چور‘ اندرجیت سین کے ڈراما کو’گرم بھات‘ اورشانتی چکرورتی کے ڈرامے کو’دیوئیّس‘ کے نام سے اردومیں منتقل کیا ہے۔ بادل سرکارکے ڈراما’باگھ‘ سے متاثرہوکرڈراما’رہائی‘ لکھا۔ انھوں نے ریڈیائی ڈرامے بھی لکھے ہیں۔ جوآل انڈیاریڈیوسے نشرہوئے ہیں۔ جن میں’اورپھربیان اپنا‘ اہم ہے۔
کمال احمدسماج کے کڑوے سچ کوڈراماکا پیرہن عطا کرکے عوام کے سامنے لاکھڑاکرتے ہیں۔ان کی ڈراما نگاری کے سلسلے میں ڈراما کے مشہور ناقد ابراہیم یوسف رقم طراز ہیں:
’’کمال احمدبنیادی طورپرطنزنگارہیں۔ انھوں نے زندگی اورسماج میں بھری ہوئی تلخیوں کوبے نقاب کرنے کے لیے ڈراموں کو ذریعہ بنایا ہے۔ انھیں کردار نگارکی کا سلیقہ ہے اوراس سلیقہ کو انھوں نے اپنے ڈراموں میں بڑی خوبصورتی سے برتا ہے۔ انھوں نے اس ریشم کے دھاگے کو نہیں پکڑاجوخول پرچڑھاہوا ہے بلکہ اس کیڑے کی تلاش کی ہے جواس خول میں بندہے۔‘‘
ان الفاظ کے بعداب کمال احمدکے فن پرمزیدکچھ کہنے کی شایدضرورت نہ ہوکیوں کہ ابراہیم یوسف نے ان الفاظ میں کمال احمدکے پورے ڈرامائی سفرکوبیان کردیا ہے۔ کمال احمدکا تخلیقی سفرجاری ہے اوروہ نہایت ہی تیزی سے مختلف موضوعات پرڈراما لکھ رہے ہیں جواکثررسالوں واخباروں میں نظرآجاتے ہیں۔ ان دنوں انھوں نے نکڑناٹک کی جانب خاص توجہ مبذول کی ہے۔
کمال احمد کے ڈرامے کلکتہ میں مسلم اسٹی ٹیوٹ، مولانا آزاد کالج، کلامندر، گیان منچ وغیرہ کے اسٹیج پرخاصی مقبولیت حاصل کرنے کے بعداب مضافات کا سفرکررہے ہیں جن میں رانی گنج، آسنسول، بردوان، انڈال اورکلٹی خاص ہیں۔
***
(ڈاکٹراسلم جمشید پوری کی اِلہٰ آباد آمد پر اُردو گھر میں جلسۂ استقبالیہ)
(ڈاکٹراسلم جمشید پوری کی اِلہٰ آباد آمد پر اُردو گھر میں جلسۂ استقبالیہ)
اِلہٰ آباد:- اُردوکے معروف افسانہ نگار و صدر شعبۂ اُردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ کی اِلہٰ آباد آمد پر
’’اردو گھر‘‘میں جلسۂ استقبالیہ پیش کیا گیا۔جس کی صدارت ڈاکٹر اشفاق حسین نے کی اور مہمانِ اعزازی کی حیثیت
سے ڈاکٹر صالح رشید نے شرکت کی۔نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے خواجہ جاوید اختر نے’’ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری بحیثیت افسانہ نگار‘‘ اُن کا تعارف پیش کیا اور میرٹھ یونیورسٹی،شعبۂ اُردو سے متعلق اُن کی سرگرمیوں کا ذکر بھی کیا۔اُردو گھر کے اہم رکن سینئر ایڈوکیٹ ، ایم۔اے۔ قدیر نے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپنے مہمان ادیبوں اور شاعروں کا اردو گھر میں خیر مقدم کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے۔اِس موقعے پر ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کا میں تہہ
دل سے استقبال کرتا ہوں اور ساتھ ہی اُنھوں نے اردو گھر کے قیام کو عمل میں لانے کے اغراض و مقاصد بھی بیان کئے۔
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے اپنے خطبے میں کہاکہ ہمیں اپنی قوم اور اُردو زبان کی فلاح وبہبودی کے لئے سرسید کے نقشِ قدم پرچلناہوگا ورنہ ہماری قوم اور اُردو زبان کو پستی میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔اُنھوں نے اُتر پردیش اُردو اکاڈمی اور فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی کے چیئر پرسن کی اب تک تقرّری نہ ہونے پر اظہارِ افسوس بھی کیااور اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومتِ اُتر پردیش کو اِس مسئلے پر غور کرنا چاہیے تاکہ اُردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے باضابطہ طور پر کام انجام دیا جا سکے۔ آخر میں اسلم جمشید پوری نے ’’ہندوستان اور شائننگ انڈیا‘‘ کے عنوان سے ایک بہترین افسانچہ سنایا اور ’’دن کے اندھیرے اور رات کے اُجالے‘‘ کے عنوان سے افسانہ بھی پڑھا جسے سامعین نے بہت پسند کیا۔
جلسے میں ڈاکٹر ضمیر احسن،خورشید نقوی، اسرار گاندھی،احترام اسلام،فضلِ حسنین، ڈاکٹر فاضل ہاشمی،شریف اِلہٰ آبادی،اختر عزیز، جاوید نظر، نظام حسن پوری، شہنوازعالم وغیرہ شریک تھے۔جلسے کے اختتام پر کرنل اختر نے شکریہ ادا کیا۔
منجانب
خواجہ جاوید اختر
کنوئنر،اُردو گھر،اَلہٰ آباد
نئی نسل کے معروف افسانہ نگار….. مہتاب عالم پرویزؔ اور ’’ عالمی پرواز ‘‘ کی فاضل مدیرہ نغمہ ناز مکتومی ؔ کو شادی کی سولہویں سالگرہ مبارک
مہتاب عالم پرویزؔ
اور
’’ عالمی پرواز ‘‘ کی فاضل مدیرہ
نغمہ ناز مکتومی ؔ
کو
شادی کی سولہویں سالگرہ
مبارک
خدا کرے تم دونوں
ملک اور ادب کی
خوب خدمت کرو
منجانب:
ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری
صدر
شعبہء اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی
میرٹھ
بنامِ علم اب توجاہلیت رقص کرتی ہے۔۔۔! عزیزبلگامی
بنامِ علم اب توجاہلیت رقص کرتی ہے۔۔۔!
عزیزبلگامی 0091 9845291581 – 0091 9538054393
عالمِ انسانی کے موجودہ حالات کا ایمانداری سے جائزہ لیجیے اور پتہ لگائیے کہ دُنیا کے چھ سو کروڑاِنسان اس وقت کہاں مصروفِ کار ہیں،اِن کی مصروفیات کی نوعیت کیا ہے،کس محور کے اطراف ان کی سرگرمیاں اور اِن کے شب و روز گھوم رہے ہیں۔ اِنسانوں کا یہ جمّ غفیر کس منزل کی طرف اپنا رُخ کیے ، کیا کچھ زادِ سفر لیے محوِ سفرہے۔؟ہر حساس دل پکار اٹھے گا کہ یہاں سے لے کر وہاں تک انسانوں کا یہ قافلہ بلا تخصیصِ مذہب و ملت،رنگ و نسل، علاقہ و قومیت ایک عجیب بحران کی لپیٹ میں ہے اور تباہی کے ایک بھیانک غار کی جانب بگ ٹٹ دوڑرہا ہے۔اِبتدائے آفرنیش سے اِنسانوں کی ایک کثیر تعداد سطحِ زمین پر ہر زمانے میں آباد رہی ہے لیکن چشمِ فلک نے شاید اِنسانوں کو ایسا مضطرب، Restless اور اِس قدرDirectionlessکبھی نہیں دیکھا۔اس صورتحال سے اس کے باہر نکلنے کی کوئی صورت بھی نظر نہیں آتی۔عصرِ حاضرکے اِنسان کو لاحق بیماریوں کی فہرست اِس قدر طویل ہے کہ ہم اِن چند سطور میں اِن کے علاج کی تجویز تو کجا، ہم اِن کے نام تک گنانے سے قاصر ہیں۔ برائیوں اور عصیاں میں ملوث اِنسان کی کس کس برائی ، کون کون سے گناہ کاذکر کیا جائے ۔ برائیوں کی وہ کونسی قسم باقی رہ گئی ہے جس سے عالمِ انسانی واقف نہیں اور جس میں اس کا ایک بڑا حصہ مبتلا نہیں ۔ کو ن سی نیکی ایسی ہے جس کی حرمت کو پامال نہیں کیا گیا اور کیا جارہا ہے۔!! روزافزوں برائیوں کی سنگینیوں کی جتنی کچھ تفصیل ہماری نوکِ قلم سے صفحۂ قرطاس پر تحریر ہونے کو بے تاب ہے، اِسے کسی مخصوص قسم کی لفاظیت کا سہارا بھی درکار نہیں۔کیوں کہ آسمان میں چمکنے والی بجلیوں کے تعارف کی کبھی کسی کو ضرورت نہیں پڑتی۔ اِنسان خود دیکھ لیتا ہے کہ کالی گھٹا کیا ہے اور برق باری کسے کہتے ہیں۔ چنانچہ صاف اور سیدھے سادھے الفاظ حقیقتِ حال بیان کرنے کو کافی ہیں ۔ گناہوں کی گٹھری اِتنی وزنی ہوگئی ہے کہ اس کی گراں باری کاہر فردِ متنفس کو اندازہ ہے۔ایک ایک برائی گِنواتے اور ہر برائی کی چھوٹی سی چھوٹی تفصیل رقم کرتے چلے جائیے ،دامانِ قرطاس اپنی
تنگ�ئداماں کی شکایت کرتارہ جائے گا۔سورۂ الروم(۳۰)میں ربِّ کائنات کے یہ الفاظ شاید ہمارے جذبات کی حقیقی اور بھرپور ترجمانی کرتے ہیں اور صورتحال کی بہترین عکاسی بھی ، اِ س آیت میں برّو بحر کے فساد کا ذکرجس شان سے کیا گیا ہے اِن کا متبادل فراہم کرنا کائنات میں کسی کے بس کی بات نہیں۔ظاہر ہے زمین پر یا تو خشکی ہے یا تری۔کرّۂ ارض کے موجودہ بحران پر اس سے بہترین تبصرہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ:’’ خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا۔یہ اِنسانوں کی(خود) اِن کے اپنے ہاتھوں کی اپنی کمائی ہے،(اور یہ جو فساد برپا ہے،اِس کا مقصد یہ ہے کہ)،اِن کے بعض (سنگین قسم کے) کرتوتوں(کے نتائج کا) اِنہیں ذائقہ چکھایا جائے،تاکہ (یہ ہوش کے ناخون لیں اور ایک بار پھر اِنہیں) رجو ع(اِلی اللہ ) کی توفیق میسر آجائے۔‘‘ فساد کے ذمہ داروں کے چہروں پر پڑی نقاب کس غضب ناکی کے ساتھ اُلٹ دی گئی ہے یہ کہہ کر کہ’’ یہ اِنسانوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے۔‘‘(۴۱)۔
لیکن اب ہم کچھ باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں کہ اِنسانوں کا وہ اصل گروہ کون ہے، جسے اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا جائے ؟ کس نے مچا رکھی ہے یہ قیامت؟ کس کا برپا کردہ ہے یہ قہر؟تھوڑے سے غور وفکر کے بعد یہ دلچسپ مگر تلخ حقیقت ہمارے سامنے آجائے گی کہ آج زمین پرجو فساد برپا ہے اس کے ذمہ دارحیرت انگیز طور پر وہ انسان ہیں جنہیں عرف عام میں ’’پڑھے لکھے‘‘ لوگ کہا جاتا ہے، بلکہ زیادہ صحیح الفاظ ہیں :’’بہت زیادہ پڑھے لکھے ‘‘Highly qualified لوگ۔کیونکہ یہی Qualifiedلوگ ہیں جنہوں نے آج زندگی کی باگ ڈور سنبھال رکھی ہے۔دُنیا کے کسی بھی علاقے میں تشریف لے جائیے، ’’پڑھے لکھے‘‘ لوگ ہی اجتماعی زندگی کی تمام تر ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ملیں گے، جن کے پاس دُنیا کی’’ عظیم ‘‘یونیورسٹیوں کی عطا کردہ متنوع ڈگریاں بھی ہیں اور ان میں سے کئی ایسے بھی ہیں جن کو دانشوری کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے اور اعزاز ات سے بھی نوازا گیا ہے ۔پھر ان کے انتظامیہ کو عملاً چلانے والوں کی ایک اورHierarchy جو Bureaucrats پر مشتمل ہوتی ہے، حد سے زیادہ پڑھی لکھی ہونے کے باوجود’’ اڈمنسٹریٹیو سروس‘‘ کے ایک اور انتہائی پیچیدہ امتحان سے ابھرآئی ہوئی ہوتی ہے جس میں سرخ رُوئی کی خاطر نہ جانے کیا کیا کچھ پڑھنا پڑتا ہے۔یہ مٹھی بھر ’’پڑھے لکھے‘‘ لوگ بڑے کرّو فر کے ساتھ دنیا کے انتظام پر چھا جاتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ کُل ملا کر پڑھے لکھے لوگوں ہی کو دنیا کے بگاڑ کا ذمہ دار ٹہرایا جانا کوئی ایسی بات نہیں جسے جذباتیت پر محمول کیا جائے ۔جاہلوں اور’’ کم پڑھے لکھے‘‘ لوگوں کی اوقات ہی کیا کہ دنیا میں فساد برپا کر سکیں۔ مقننہ، انتظامیہ ، عدلیہ، جیسے شعبوں سے بیچاروں کا کیا تعلق۔ ان’’بے پڑھے لکھے‘‘ جاہلوں کی اوقات ہی کیا کہ وہ زمین پر فساد مچائیں، اِن کو تو کوئی منہ تک نہیں لگاتا۔ان کا کام تو بس اس قدر ہے کہ یہ اِن پڑھے لکھے لوگوں کے آگے سر تسلیم خم کردیں۔ ا نکے ’’علم‘‘کی بنیاد پر ہونے والی منصوبہ سازی کے سامنے سرِ اطاعت جھکادیں۔ یہ دیں تو لیں اور زندہ رہیں اور نہ دیں تو چپ چاپ مر جائیں۔ کبھی کبھار ان جاہلوں کو پڑھی لکھی انتظامیہ کی بد نظمی کے خلاف احتجاج کرنے کا خیال بھی آجاتا ہے، لیکن دفعتاً کوئی ’’پڑھا لکھا آدمی ‘‘ نمودار ہوکران کی قیادت سنبھال لیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کی پڑھی لکھی پولس ان جاہلوں کو لاٹھیوں، آنسو گیس اور بُلیٹوں سے نواز تی ہے ،ہاں دو ایک زخموں کے ساتھ جاہلوں کے پڑھے لکھے قائد کی جھولی ضرور بھر جاتی ہے۔ اس لیے ان بے چاروں کے پڑھے لکھے نہ ہونے کوفساد فی الارض کا ذمہ دار ٹہرانا ناانصافی کی بات ہے۔ دنیا میں فساد برپا کرنے کی ذمہ داری ان پر آ ہی نہیں سکتی ۔ بلا مبالغہ یہ سارا کیا دھرا اِن ہی پڑھے لکھے لوگوں کا ہے۔
ایک اور پہلو بھی بڑا دلچسپ ہے۔ان پڑھے لکھے لوگوں کو ہمیشہ اپنی آبادیوں کو خواند ہ بنانے کی بڑی فکر لاحق رہتی ہے۔انہیں ان کی جہالت بڑی کھلتی ہے۔ چنانچہ یہ’’ تعلیمی اداروں‘‘ کا ایک جال بچھا دیتے ہیں۔جہاں یہ لوگ ان کے ہاتھ میں وہی تیر تھما دینا چاہتے ہیں، جو وہ ’’ پڑھ لکھ‘‘ کر پہلے ہی مار چکے ہوتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ یہ پڑھی لکھی انتظامیہ اپنے علم کو، جس پر اسے ناز ہے، بروئے کار لا تی اور دنیا میں انسانوں کی زندگی کے ہر شعبے میں عدل و انصاف،سکون و چین اور فلاح و خوشحالی پیدا کرتی۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ٹھیک ان ہی پڑھے لکھے افراد کی ناک کے نیچے خود ان ہی کا برپا کردہ ظلم و جور،انتشار و بدامنی اور خسران و بد حالی برپا ہوتی ہے اور اس میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے اور الزام لگایا جاتا ہے ان جاہلوں کی جہالت پر۔اورہم انگشت بہ دنداں رہ جاتے ہیں کہ:پڑھے لکھے لوگ اور یہ بحران؟
اب سوال یہ ہے کہ ان Highly Qualified لوگوں کا اس قدر پڑھا لکھا ہونا زمین کو امن و امان کا گہوارا بنانے کے کام کیوں نہیں آیا۔؟بہ ظاہر بڑا عجیب سوال ہے اور کافی تکلیف دہ بھی۔نہ جانے اس سوال کو پڑھ کر کتنے ’’پڑھے لکھے‘‘ لوگوں کے تن بدن میں آگ لگ جائے گی۔ اور نہ جانے کتنے کوالیفائڈ لبوں پر گالیاں مچلنے لگیں گی۔لیکن کیاکیا جائے، ہم مجبور ہیں پڑھے لکھے لوگوں سے یہ پوچھنے پر کہ کس کام کے ہیں یہ تمہارے علوم جو تم نے ان عالیشان یونیورسٹیوں اور ان موٹی موٹی کتابوں سے حاصل کیے تھے، کیا دیا تمہارے دفترِ علم نے اس دنیا کو بجز کچھ ساز و سامان، کچھ مشینوں، کچھ خلائی جہازوں، کچھ فلک بوس عمارتوں، کچھ شاندار سڑکوں اور کچھ ایجادات کے؟۔ یہ سوال اربابِ علم وفن کے سامنے منہ پھاڑے کھڑے ہیں کہ بتاؤتمہاری یونیورسٹیوں میں پڑھایا جانے والا علم تمہارے باشندوں کی فلاح کے کام کیوں نہیں آتا۔ اپنے علم کی ’’روشنی‘‘ میں تم ایک مسئلہ حل بھی نہیں کر پاتے کہ ہزار مسئلوں کا ایک اور پٹارہ کھل جاتا ہے۔مثلاً تم اپنے معاشی علوم کو ملک کی معاشی حالت سدھارنے کے کام میں لانا چاہتے ہو،لیکن نتیجہ الٹا نکلتا ہے۔ تمہاری آبادیوں کا تقریباً نصف فی صد برسہا برس خط غربت کے نیچے زندگی گزارتارہ جاتا ہے۔ تم زمین سے اُبلنے والی ملک کی بے پناہ دولت کی تقسیم کا نظام اپنے اسی علم کی بنیاد پر ہی تو کرتے ہو جس پر تمہیں ناز ہے، پھر کیوں تمہاری کوششیں ناکامی کا منہ دیکھتی رہ جاتی ہیں اورملک کی چالیس فی صد عوام رات کو کھانا کھائے بغیر کھلا آسمان سر پر اوڑھے سو جاتی ہے۔تم کو اپنے اخلاقیاتEthics پر بڑا ناز ہے، پھر کیوں تمہارے نام نہاد پڑھے لکھے عوامی خدمت گار عوام کے ساتھ ہر لمحہ بد سلوکی کرتے ہیں اورپڑھے لکھے ہونے کے باوجودسر عام اپنے اخلاق وکردار کو رشوت کے عوض بیچ دیتے ہیں؟تمہارے پاس ہزاروں ’’پڑھے لکھے‘‘ ڈاکٹرس ہیں لیکن کیوں تمہارے عوام کی کثیر تعداد علاج معالجہ کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور اپنی قسمت کا رونا روتے روتے اس دُنیا سے رخصت ہو جاتی ہے۔ تمہارے ہاں ان ہی ’’پڑھے لکھے‘‘ لوگوں کے اربوں کھربوں روپیوں کا سرمایہ اُن کپڑا کارخانوں پرلُٹا دیا جاتا ہے جہاں کھربوں گز کپڑا ، جس سے کرۂ ارض کو کئی بار لپیٹا جا سکے،تیار ہونے کے باوجود کیوں۔۔۔تمہارے زندہ اِنسانوں کو چھوڑیے۔۔۔ تمہارے غریب عوام کی لاشوں تک بھی نہیں پہنچ پاتا تاکہ ان کے کفن کے کام آ سکے یا کم از کم اِن پڑھی لکھی خواتین کو اپنی طرف راغب کر سکے ، جو پڑھے لکھے لوگوں کے سکھائے ہوئے فیشن کی زد میں آکر اپنے جسم کو چھپانا پسند نہیں کرتیں۔اور کم سے کم کپڑا پہننے پر تلی ہوئی ہیں۔؟’’پڑھے لکھے‘‘ ہونے کی یہ کونسی قسم ہے جو انہیں برہنہ رہنے پر اُکساتی ہے، نیم برہنگی کی حالت میں سر عامCatwalk پر مجبور کرتی ہے۔ وہ کون لوگ ہیں جو ’’پڑھے لکھے‘‘ ہونے کے باوجود ان خواتین کو مس ورلڈ اور مس یونیورس کے خطاب کا جھانسا دے کر بھری محفل میں ان کی عصمت کاسودا کرتے ہیں اور یہ منظر پڑھے لکھے لوگوں کے الکٹرانک میڈیا ساری دنیا کو بڑی شان سے دکھاتے ہیں اور جی بھر کر پیسہ بٹورتے ہیں۔ یہ پڑھی لکھی کنواریاں کس کی ایما ء پر اپنی عصمت کو ڈالروں کے عوض بیچ دینے میں فخر محسوس کرتی ہیں۔ کون ہے جس نے ان کی شرم و حیا کی حس کو ہی موت کے گھاٹ اُتار دیا ہے؟ ظاہر ہے ’’پڑھے لکھے ‘‘ لوگوں کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے؟۔ تمہارے اناج سے بھرے ہوئے گوداموں کا بڑا حصہ یا تو چوہوں کے کام آتا ہے یا اس میں محفوظ اناج کو سڑنے کے لیے چھوڑ د یا جاتا ہے۔تاکہ اونچا دام نہ ملنے کی صورت میں اسے سمندر کی مچھلیوں کے حوالے کیا جا سکے۔ چاہے ملک کے کروڑوں انسان اناج کے ایک ایک دانے کو ترستے کیوں نہ رہ جائیں۔اسی طرح تم اپنے پڑھے لکھے قانون دانوں کو دیکھ لو۔ انصاف کو ان ظالموں نے کتنا مہنگا اور مشکل کررکھا ہے۔پندرہ بیس سال میں مظلومین کی مظلومیت کا جذبہ سرد ہو جاتا ہے،تب تم اپنا فیصلہ سناتے ہو۔تمہارے تعلیمی اداروں کو دیکھوجہاں حرف شناسی کے سوا اورکیا سکھایا جاتاہے۔ کیااخلاق و کردار کی باتوں کا بھی کوئی مقام ہے۔؟ کیا پوری دنیاطلباء کی بد اخلاقیوں کے منظر ٹی وی کے سکرین پر فخر و ناز کے ساتھ نہیں دیکھتی ۔؟اساتذہ کو پیٹنے، انہیں موت کے گھاٹ اتارنے کے ٹی وی مناظر بھی بہت زیادہ پرانے نہیں ہیں ۔پھرآئے دن قتل و غارت گری کی وارداتیں ہمارے اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔کون ہوتے ہیں اِن خبروں پر چھا جانے والےNews Makers۔؟جدید اور اِنتہائی حسا س ہتھیاروں کا استعمال ہمارے اِن پڑھے لکھے غارت گروں کو خوب آتا ہے۔ان کا پڑھا لکھا ہونا انہیں جرم کے بہترین گُر سکھاتا ہے۔ میڈیا کے ذریعہ ان کی تشہیر کے لیے چوبیس گھنٹوں تک بنا رُکے اور لہجہ بدل بدل کر ایک ہی بات دہرانے والے نامہ نگاران مجرمین کی رپورٹنگ پر مامور رہتے ہیں جو خود بھی پڑھے لکھے ہوتے ہیں اور پڑھے لکھے قاتلوں کے قتل و خون کے برہنہ رقص کی کہانیاں سناتے ہوئے اِن کی کبھی پلکیں بھیگتی ہیں،نہ اِن کے چہروں ہی سے کرب کی کوئی لہرہی جھلکتی ہے ۔ وہ نیوز چینل ہی کیا جو قتل و غارت گری کی سب سے پہلے چیخ چیخ کر ، چٹخارے لے لے کر کالجوں میں سیکھی ہوئی لسانی مہارتوں کے ساتھ رپورٹنگ نہ کرے۔ یہ ’’پڑھے لکھے‘‘ صحافی جان پر کھیل کر مالکانِ میڈیا کے لیے دھن جمع کرتے ہیں جو انہیں سرمایہ دارو ں کے اشتہاروں سے حاصل ہوتا ہے۔کھلے شہروں پر بم برسانے والے ’’پڑھے لکھے‘‘ ہی تو ہوتے ہیں،جنہیں بموں کے ساتھ ہوائی جہاز دے کر پڑھا لکھا حکمران میدان جنگ میں روانہ کر دیتا ہے۔و ہ بڑی طاقتیں کون ہیں جو اپنی عسکر ی طاقت کے نشے میں چُور غریب ملکوں پر آگ وخون کی بارش برساتی پھرتی ہیں۔ کون ہے جو دُنیا میں جمہوریت کا نعرہ لگا کر لاشوں کے ڈھیر لگا تا ہے۔ کیا کسی جاہل اور گنوار کو جمہوریت کی ہوابھی لگی ہے ؟پھر وہ لوگ کون ہیں ، جنہوں نے عالیشان عمارتوں میں سود کے اڈے قائم کر رکھے ہیں اور انہیں Bank کا معزز نام عطا کرتے ہیں۔بہر کیف یہ تذکرہ شیطان کی آنت کی طرح طویل ہے۔ جس کو بیان کرتے ہوئے ہم اُبکائی محسو س کرتے ہیں۔ایسے کئی سوال ہیں جو دُنیا میں فساد مچانے والی پڑھی لکھی دُنیا کے سامنے لب کھولے کھڑے ہیں اور ہر سوال کے پیٹ میں مزید کئی سوال چھپے ہوتے ہیں۔
’’پڑھے لکھے‘‘ اِنسانوں کی محدودعقل اور اس کے محدود علم کو یہ خبط ہے کہ اِنسانی فلاح کا پروگرام بنانے کی صلاحیت اُس میں فی الواقع موجو د ہے۔اسی خبط کے بیج سے فساد کا وہ کونپل پھوٹتا ہے، جو بالآخر ایک تناور درخت بن کر فساد فی الارض کے کڑوے کسیلے پھل دُنیا ئے اِنسانی کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اِنسانوں کے یہ گروہ ناقص عقلِ اِنسانی کے گرویدہ ہو کر یہ حقیقت فراموش کر بیٹھتے ہیں کہ اِنسانوں کی زندگی کے لیے وح�ئ الٰہی ہی ایک ایسا ذریعۂ علم و رہنمائی ہے ، جس سے فیض یاب ہوکر زمین امن و امان کا گہوارہ بن سکتی ہے اور فساد فی الا رض کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
یہ محض کسی ناصح کی بڑ نہیں نہ کوئی شاعرانہ خیال ہی ہے، بلکہ چشمِ فلک نے آج سے چودہ سو سال پہلے اس منظر کو اسی زمین پراُبھرتے دیکھا ہے۔اور اس پوری داستانِ سعادت میں سب سے حیرت انگیزمگر ایمان افروز بات یہ ہے کہ اس انقلاب کو کسی ’’پڑھے لکھے‘‘ نے برپا نہیں کیا تھا ،بلکہ یہ ایک خالص ایمان آفریں مصلحتِ خداوندی تھی کہ جس کے تحت ایک اُمی لقبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خالص وحی الٰہی کی بنیاد پر اس انقلاب کو برپا کیا تھا،جواُمی ہونے کے باوجود زمین پر ایک ایسی یونیورسٹی کی مانند تھا جسے چشمِ فلک نے کبھی نہیں دیکھا نہ آئندہ کبھی دیکھ سکے گی۔پھررسالت مآبی کی اس عظیم المرتبت یونیورسٹی کے فارغ نفوسِ قدسیہ کی اُس جماعت نے، جسے دُنیا صحابۂ کرامؓ کے نام سے یاد کرتی ہے، کسی کالج یا یونیورسٹی کے ڈگری یافتہ ہونے کی یا کسی کالج یا یونیورسٹی کو قائم کرنے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی۔ پھر بھی دُنیا کو وہ ماحول عطا کیا جس کے لیے آج تک ’’پڑھی لکھی‘‘ دنیا اپنی ہزارہا یونیورسٹیوں کے قیام کے باوجودترس رہی ہے۔ایسا امن و سکوںآج تک دُنیا کو کبھی میسر نہیں آیا جو وح�ئ الٰہی کی بنیاد پر انسانوں کو ان نفوسِ قدسیہ کے دست ہائے مبارکہ و قول ہائے مبارکہ سے حاصل ہوا تھا:
اُمّی کا لقب لے کر ، اُمّت کی قیادت کی
حیران ہیں ششدر ہیں قرطاس و قلم والے۔۔۔(ع ب)
اصل مسئلہ جہالت کا نہیں ، جاہلیت کا ہے۔خود کو اہلِ علم کہنے والے ’’پڑھے لکھے لوگ‘‘ حقیقتاً جہالت کے نہیں ، جاہلیت کے علمبردار بن کر کھڑے ہوگئے ہیں۔کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ ہم عصری تعلیم یا موجودہ تعلیمی نظام کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں،سچی بات تو یہ ہے کہ ہم نے بھی یہیں سے یہی کچھ پڑھا ہے،جس پر ابھی ہم آنسو بہاکے آئے ہیں۔ لیکن اصلاًہمارا مدعا صرف اس قدر ہے کہ’’ علم ‘‘ اور ’’حرف شناسی‘‘ کا فرق سمجھا اور سمجھایا جائے۔
کوئی ہے جو دُنیا کو ایسی یونیورسٹیاں عطا کرنے کا بیڑہ اُٹھائے جہاں سے فارغ ہونے والوں واقعتا ’’پڑھے لکھے‘‘ کہلائے جانے کے مستحق ہو جائیں؟حقیقت یہ ہے کہ یہ کام آسمانی ہدایت پر ایمان و عمل کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر ’’پڑھے لکھے‘‘ لوگ’’آسمانی ہدایت ‘‘ کی طرف رجوع ہوجائیں تو اس فساد زدہ دنیا کا نقشہ بدل سکتاہے۔ہمیں امید ہے کہ ان معروضات کو کسی دیوانے کی بڑ نہیں سمجھا جائے گا۔’پڑھی لکھی‘‘ دنیا کی خدمت میں یہ معروضات اس لیے پیش ہیں کہ وہ جہالت اور جاہلیت کے فرق کو سمجھیں۔ جہالت کو مٹانے کے نام پر جاہلیت سے تعرض نہ کرنا اور پھر بھی اِسے علم کا نام دینا، دراصل سبب ہے اُن تباہیوں کا جو رُوئے زمین پر برپا ہیں اور یہی سبب ہے کہ خشکی اور تری میں برپا فساد پر قابو پانا کسی کے بس کی بات نہیں رہ گیا ہے۔ چنانچہ جاہلیت کو دنیا سے مٹانے کی جد و جہد میں ’’پڑھے لوگوں‘‘ کے سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے ، تاکہ موجودہ یونیورسٹیوں کی از سر نو تشکیل کا جأت مندانہ تاریخ ساز فیصلہ کرنا آسان ہو جائے۔:رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَ نْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ وتُبْ عَلَیْنَااِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابٌالرَّحِیْمُ ۔ رَبَّنَا لَا تُزِ غْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَ یْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ ۔ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔
Azeez Belgaumi,
No. 43/373 First Floor
Bhuvaneshwari Nagar Main Road
Gopalappa layour, M K Ahmed Road,
Kempapura Hebbal Post BANGALORE – 560024
Mobile: 0091 9900 22 2551 azeezbelgaumi@hotmail.com
***
ناصر ملک کا شعری سفر :ہتھیلی کی روشنی میں : ڈاکٹرسید محمد یحیےٰ صبا
ناصر ملک کا شعری سفر :ہتھیلی کی روشنی میں
ڈاکٹرسید محمد یحیےٰ صبا
پروفیسر شعبہ اردو
کروڑی مل کالج دہلی یونیورسٹی
برقی میل urisath@yahoo.com
urisath@gmail.com
Mob:-+91-9968244001
بعض شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جن سے باتیں کرکے یا پھرجن کا ذکر خیر سن کر روحانی مسرت اور اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے۔ایسی شخصیت اہل تصوف کے یہاں پیرو مرشد کی ہوسکتی ہے ۔اہل اسلام بالخصوص اہل علم کے نزدیک عالم باعمل کی ہوسکتی ہے۔یاپھر کوئی بھی شخص جسے اپنا آئیڈل تصور کر لیتا ہے ۔اسے قلب ونظر میں یہ مرتبہ عطاکردیتا ہے۔لیکن ایسی شخصیتیں بہت کم ہوتی ہیں جو مذکورہ بالامیں سے نہ ہوتے ہوئے بھی دلوں پر حکمرانی کرتی ہیں جن سے کمپیوٹرکے ذریعہ آن لائن اور فون پر گفتگو کرکے مسرت اور محبت کا احساس ہوتا ہے۔ جن کی تصویر دیکھ کراحترام وعقیدت کا جذبہ پیدا ہوتاہے اورجن کا ذکر خیر باعث اطمینان قلب ہوتاہے ۔دراصل ایسے اشخاص انتہائی بلند کردار اوراعلیٰ درجہ کے انسانی بالخصوص ،اسلامی اخلاقیات کے حامل ہوتے ہیں ۔حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کو پورے شعور کے ساتھ نہ صرف فریضہ تصور کرتے ہیں بلکہ ہر وقت اسے عملی طور پر انجام دینے میں پس وپیش سے کام نہیں لیتے۔ستائش کی تمنا اور صلے کی پرواہ سے بے نیاز ہو کر ادبی اور انسانی خدمت کرتے ہیں ۔میری نظر میں ایسی بہت کم شخصیات میں سے ایک ناصر ملک بھی ہیں جو اپنے مرتبہ ومقام علمی حیثیت جذبۂ انسانی خدمت منسکر المزاجی ،مہمان نوازی،ایثارو قربانی اور اردو و اہل اردو سے بے لوث محبت کی وجہ سے وہ بڑی قدآور شخصیت کے مالک ہیں ۔جسے عام قد وقامت والوں کے درمیان ناصر ملک صاحب کی شعری اورنثری تخلیقات میں سے کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں جو آن لائن بھی ہیں اور ان کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔مجھے اعتراف ہے کہ موصوف کی جملہ کتابوں کے مطالعہ کا موقع فراہم ہوا ہے۔میں نے ان کے آن لائن میگزین اردو سخن کے دیباچے اور دیگرادبی تقریبات میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے علمی موضوعات پر پیش کی گئی تقاریر کو پڑھنے کا موقع ملا ہے ۔کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک مستند علمی شخصیت اور معتبر ادیب ہیں ۔ان کا مشاہدہ اور مطالعہ بہت وسیع ہے ۔ناصر ملک صاحب کی شخصیت ہر اعتبار سے قابل تقلید ہے ۔اہل پاکستان با لخصوص اردو کے لیے موصوف کی اس ارض بہشت میں یعنی مراد ان کی آبائی وطن سے ہے ،میں موجودگی کو نعمت غیر مترقبہ ہے۔
’’ہتھیلی‘‘ جو کہ ناصر ملک کا شعری مجموعہ ہے، اس میں حمد ونعت ،غزلیں،نظمیں اور آزاد نظمیں شامل ہیں۔ ناصر ملک نے اس مجموعہ میں تمام شعری وفنی تقاضوں کو برتتے ہوئے مختلف موضوعات مثلاً انسانی جذبات واحساسات کی ترجمانی اور قوم و ملت کے مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے۔بعض نظموں میں زندگی کے تلخ تجربات کو بیان کیا ہے۔ اس شعری مجموعہ میں معاشی مسائل پر گفتگو بھی کی گئی ہے بالخصوص مجموعے کے آخر میں پنجاب وسندھ میں 2010ء میں آئے سیلاب میں ہونے والی تباہی وبربادی سے متعلق تخلیقات پیش کی ہیں۔ ناصرملک کا شعری سفر اس مجموعہ میں پختہ اور حساس نظر آتا ہے ۔ان کا اندازہ پیش کش ،موضوعات اور مسائل زندگی کے مطالعہ سے لگایا جاسکتا ہے ۔
مہندی سے اِک خواہش اپنے ہاتھوں پر
سکھیاں لکھ کر چوری چوری پڑھتی ہیں
زندگی میں امید اور ناامیدی کی کیفیت ان کی شاعری کا حصہ ہے ۔وہ زندگی سے مثبت نتائج اخذ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں لیکن ان کی نظر موجودہ دور کے نظام حیات پر گہری ہے ۔ان کی امیدیں جہاں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں، وہیں وہ پر امید بھی نظر آتے ہیں ۔
چراغِ شب جلا کہیں ؟ نہیں ، نہیں ، ابھی نہیں
سحر نے ڈھونڈ لی زمیں ؟ نہیں ، نہیں ، ابھی نہیں
ان کی شاعری میں کلاسیکی موضوعات کی رنگا رنگی بھی خوب نظرآتی ہے ۔مقتل ،جگنو اورچشم جیسے الفاظ سے تغزل کا انداز پیدا کرنے کا ہنر خوب آتا ہے۔مثلاً
چشمِ تر میں نقوش لرزاں ہیں
غم یہاں بے لباس ہے میرا
جگنوؤں کو اُجال رکھا ہے
اس کا ملنا قیاس ہے میرا
ہیں بدن پر حقوق مقتل کے
دل مگر اُس کے پاس ہے میرا
جہاں ایک طرف قدیم روایتوں کے پاسداری ہے وہیں فرسودہ نظام سے بغاوت واحتجاج بھی موجود ہے ۔عمل کے مقابلہ جتنے بھی بے عملی و پر مبنی خیالات کا رواج ہے وہ اس پر ضرب لگاتے ہیں ۔ہتھیلی کو استعارہ بنا کر زندگی کے مختلف جہات کی اشارہ کرتے ہیں ۔شعر ملاحظہ ہو۔
لکیروں کو مٹا بھی دو، لکیریں مار دیتی ہیں
ہتھیلی کاٹ پھینکو ناں، ہتھیلی مار دیتی ہے
اے لڑکی! اِس ہتھیلی سے بغاوت ہو نہیں سکتی
اگر یہ رُوٹھ جائے تو محبت ہو نہیں سکتی
یہی تو لمس دیتی ہے شروعاتِ تعلق کو
سمندر ہے ، سمندر سے عداوت ہو نہیں سکتی
ہتھیلی کی لکیروں میں چھپے ہیں اوس کے موتی
مگر بے فیض ہاتھوں سے کرامت ہو نہیں سکتی
سنو! اپنی شرارت یا پہیلی مار دیتی ہے
ہتھیلی سے نہ اُلجھو یہ ہتھیلی مار دیتی ہے
زندگی کے تگ ودوہ میں انسان آج بھی ۔۔۔کے زمانہ سے آگے نہیں بڑھ پا یا ہے ۔آج بھی اسے سخت محنت ومشقت کے عوض دو وقت کی خوراک میسر نہیں ہوتی۔ کہنے کو زمانہ نے تو بہت ترقی کرلی ہے اور زیست کو آسان سے آسان تر بنانے میں انسان نے نئے نئے آلات خلق کرلیے ہیں اور نئی نئی ترکیبیں ایجاد کرلی ہیں ۔لیکن ایک عام شخص کیا ان وسائل سے فیضیاب ہوپاتا ہے جواب نفی میں ملے گا ۔ناصر ملک اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں۔ان کی نظر سماجی وسائل کی طرف گہری ہے ۔مثلاً
یہ اور بات قافلے سرعت سے چل دیے
وہ شخص راہِ زیست میں اَب بھی کھڑا تو تھا
پلتا ہے غریبوں کی کمائی پہ جو بدبخت
رہزن ہے حقیقت میں وہ مخدوم نہیں ہے
جب بھی تشدد یا مذہبی منافرت نفرت کے عوض بے گناہوں کی جانیں جاتی ہیں اور برسہا برس انصاف کے لیے گجرات کے اندر ذکیہ جعفری جیسے دردر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں تو ناصرملک کا دل کرب سے تڑپ اٹھتا ہے ۔
ساٹھ برسوں بعد بھی بوڑھی زبانوں پر ملے
حرص کے مارے ہوئے بلوائیوں کے تذکرے
جب بھی ظلم وجبر نے سراٹھایا ہے تو ادیبوں اور قلم کاروں نے اس کے خلاف آواز بلندکی ہے۔آواز بلند کرنے کے نتیجہ میں حکمراء طبقہ نے ادیبوں اور شاعروں کو زدوکوب بھی کیا ۔فیض اور حبیب جالب جیسے شاعروں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور کبھی جعفر زٹلی کی طرف شہید بھی کیاگیا ۔لیکن ناصر ملک نے اپنا فرض نبھاتے ہوئے اس مسئلہ کی طرف اپنی شاعری میں اشارہ کیا ہے تاکہ ادیبوں ،شاعروں اور صحافیوں کو حق گوئی کا حق حاصل ہوسکے ۔
کبھی اِس جرم کی پاداش میں ایسا ہوا بھی ہے
کہ شاعر یا کہانی کار مقتل میں کھڑا ہو اور
اسے اتنی اجازت بھی نہ ہو کہ گفت گو کر لے
گھڑی بھر دیکھ لے اُس کو ، جسے اُس نے تراشا ہو
جسے ترتیب بخشی ہو،جسے برسوں تلاشا ہو
مجھے منظور ہو گا تم کوئی بھی فیصلہ لکھ دو
میں اپنے ہر ہنر میں بھی اُسے ترتیب دیتا تھا
وادئ سوات میں خواتین پر ہورہے ظلم وجبر کے خلاف اپنی آواز یوں بلندکرتے ہیں ۔
(وادی سوات کی ہجرت کے تناظر میں)
ہمارا حوصلہ انصار کا سا تھا مگر اُس کو
ہمارے ناتواں دل سے اسی قصرِ امارت کے
لہو آلود جبڑوں نے اچانک نوچ ڈالا ہے
ہمیں معلوم ہے کل کو ہمارے گھر میں بھی ایسی
ہزاروں میّتوں پہ روٹیوں کے بین گونجیں گے
ناصر ملک کی شاعری میں ہجرت کے کرب کا احساس موجود ہے۔ آبائی وطن سے رخصت ہونے کے بعد سفر کی صعوبتیں اور نئی منزل کی تلاش وجستجو اور اجنبیت کے احساس کی تڑپ کو انہوں نے جذباتی انداز میں یوں پیش کیا ہے۔
چار کمروں کی جنت کہانی ہوئی
میرے پُرکھوں کی محنت کہانی ہوئی
فصل اُجڑی، شجر، پھول، پودے گئے
ایک پل میں مویشی بھی اوجھل ہوئے
میری املاک کے سب نشاں مٹ گئے
سارے منظر اچانک بیگانے ہوئے
گھر کا رستہ بھی مجھ کو دکھائی نہ دے
کیا کروں آج کچھ بھی سجھائی نہ دے
میری بیٹھک نہ ڈیرہ ، نہ مسجد یہاں
دادی اماں نہ دادا کا مرقد یہاں
اب نہ بہنیں ، نہ بھابھی ، نہ بھائی یہاں
کیوں یہ قسمت مجھے لے کے آئی یہاں
میرا گھر ، میری دُنیا ٹھکانے لگی
زندگی کس طرف لے کے جانے لگی
نام درکار ہے اِس کڑے درد کو
زندگی چاہیے آخری فرد کو
ماں کی عظمت اور اس کی تقدس پر اشعار کہتے ہیں ۔
چارہ گر ! بس مجھے سائباں چاہیے
چند لقمے نہیں لختِ جاں چاہیے
گھر کے سامان کا تذکرہ مت کرو
اور کچھ بھی نہیں، مجھ کو ماں چاہیے
ماں اس کائنات میں زندگی کا سرچشمہ ہے ۔اس کا سایہ ہی کسی بھی شخص کی زندگی میں کامیابی کی ضمانت ہے ۔ ہندوستان کے قدیم مذاہب میں اپنے وطن کو ماں کا درجہ دیا گیا ہے ۔ناصر ملک زندگی دینے والے اور زندگی کی حفاظت اور پرورش کرنے والے دونوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اوران کی عظمت کے قائل ہیں۔کسی بھی آفت ،مصیبت،یا پریشانی میں انسانوں کی مدد کرنا ہی سب سے بڑی عبادت ہے ۔پنجاب میںآنے والے سیلاب میں رضا کاروں کے لیے کہی گئی نظم میں وہ کہتے ہیں کہ
وہ جو موت کی آنکھ میں آنکھ ڈالے
وہ پانی میں پھنسے ہوؤں کو نکالے
وہ معدوم ہوتی ہوئی چیخ سن کر
اجل کے شکنجے سے بیٹی چھڑا لے
کہیں مامتا کو تڑپتا نہ چھوڑے
کہیں باپ کی زندگی کو بچا لے
وہ ساگر میں پیاسوں کو پانی پلائے
وہ بھوکوں کو کھانا کھلا کر دعا لے
خبر دے وہ بیمار کو زندگی کی
وہ تن ڈھانپ کر آخرت بھی کما لے
وہ صدیق ثانی بنے ، گھر لٹا دے
وہ انصار بن کر مہاجر سنبھالے
وہ دریا سے ، پتھر سے ، آفت سے لڑ کر
کسی ایک ہی زندگی کو بچا لے
رضا کاروں کو جنہوں نے اپنے جانوں پر کھیل کر آفت آسمانی کی چنگل سے چھڑانے کے لیے خود اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈالتے ہیں ۔
بیٹے کے ہاتھ سے نیا بستہ پھسل گیا
بیٹی کا تھا جہیز جو دریا نگل گیا
سیلاب سے ہوئی بربادی وتباہی کا ذکر بہت ہی جذباتی اندازمیں کیا ہے ۔یہاں ان کا رنگ کربلائی مرثیے سے جا ملتا ہے ۔وہیں کرب وہ اندوہ جو کہ تاریخ اسلام کا حصہ ہے ۔ناصر ملک اس حادثہ میں محسوس کرتے ہیں جس میں سیلاب نے ہزاروں بے گناہوں کو نگل لیا تھا۔ناصر ملک اپنی شاعری میں ایک پختہ کار شاعر کے حیثیت سے موجودہ دورکے صف اول کے شعراء میں شمار کئے جاتے ہیں ۔اس کا اندازہ ان کی شاعری کی مطالعہ سے بحسن وخوبی کیا جا سکتا ہے ۔چند مثالیں ملاحظہ ہو۔
یہ کس مقام پر ہمیں خدا نے لا کھڑا کیا
کوئی بتائے تو سہی کہ جرم ہم نے کیا کیا
یہ دھوپ کتنی تیز ہے ، کھلا ہے سر پہ آسماں
یہ بھوک بھی بلا رہی ہے ایک مرگِ ناگہاں
نگل گئی ہے پیاس میرے نونہال سینکڑوں
یہ آگ چاٹ کر چلی ہے باکمال سینکڑوں
جنہیں بچا رکھا تھا میلی آنکھ سے، وہ بیٹیاں
اَب عالمِ بے پردگی کی نذر ہو گئیں یہاں
یہ سیلِ بے ثمر ہمیں بھکاریوں کے روپ میں
کھڑا کیے ہے محوِ رقص دل شگاف دھوپ میں
سیاستِ وطن کا فیض ، بہہ گئے غریب گھر
وہ دشمنانِ قوم کی بچی رہی زمیں مگر
ہماری بے کسی کے اشتہار کس قدر بکے
مذاکروں کے نام پر کھلے ہیں اور مَے کدے
ہمارے نام پر برس رہی ہیں زر کی بارشیں
سجی ہوئی ہے منظروں سے ہر دکان دیکھ لیں
غریب کا معاوضہ حکومتوں کا مال ہے
فریب ہے ، یہ مقتدر کی بھوک کا سوال ہے
مرے خدا ! وطن کی سرزمین مجھ پہ تنگ ہے
مری طرف اُٹھی ہوئی نگاہ سرخ رنگ ہے
مذکورہ نظم میں خدا سے شکواہ کے انداز میں قومی بیضاعتی کا ذکر کرتے ہوئے فریاد کناں ہیں کہ خدا کی آفت سے کب نجات ملے گی ۔جب بھی کوئی آفت اور مصیبت آتی ہے تو غریب اور متوسط طبقہ کے لوگ متاثرہوتے ہیں ۔جبکہ حکمرا طبقہ کے لوگ اظہار افسوس کے بجائے اس لیے خوشیاں مناتے ہیں کہ امداد کی رقم کو کس طرح اپنی ذاتی تصرف میں لیا جائے ۔وہ اس کی ترکیبیں کرنے لگتے ہیں ۔ہندوستان ہو یا پاکستان یا بنگلہ دیش ہر جگہ کے مسائل ایک جیسے ہیں ۔شاعر وادیب کی ذمہ داری بھی سرحدوں کو نہیں دیکھتی ۔بلکہ جب بھی انسانیت کا خون ہوتا ہے ایک سچا اور حساس شاعر اس کر کو ذاتی کرب کی طرح محسوس کرتا ہے ۔ناصر ملک کا شمار انہیں شعراء میں کیا جا سکتا ہے۔
میرے مہمان ! بہتر پتا ہے تجھے
ہم ازل سے کڑی آفتوں میں رہے
خون، جنگ و جدل، زلزلے، آگ بھی
حکمرانوں کے ناوقت کے راگ بھی
آمریت نے توڑا ہمیں بارہا
عہدِ جمہور بھی خون پیتا رہا
ٹیکس کے عوض میں لوڈ شیڈنگ ملی
قحط و بحران کی آگ جلتی رہی
ملک دو لخت ہو کر سسکتا رہا
بینک بیلنس وزیروں کا بڑھتا رہا
اک سپاہی کا ڈنڈا ہی قانون ہے
سلطنت بھی وڈیروں کی مرہون ہے
لاکھ بھونچال ہوں ، لاکھ سیلاب ہوں
رہزنوں کے خزانے تو سیراب ہوں
میرے مہمان ! یوں دل نہ میلا کرو
چند لقمے مرے پاس ہیں ، بانٹ لو
میں نہ ممبر ، وڈیرا ، نہ سردار ہوں
ہاں مگر میں ہی تیرا الم خوار ہوں
ہم غریبوں میں گر یہ جہالت نہ ہو
ان لٹیروں کی ہم پر حکومت نہ ہو
سیلاب کے باوجود امراؤ کے خزانے بھرتے ہی جا رہے ہیں ۔جہاں ایک طرف انسانیت سسک سسک کر دم توڑ رہی ہے وہیں دوسری طرف ذخیرہ اندوزی میں بڑے بڑے لوگ مصرورف ہیں۔اس پر شدید طنز کیا گیا ہے ۔ناصر ملک کی شاعری کے مطالعہ سے اس بات کا اندازہ بخوبی لگا یا جاسکتا ہے کہ ا نہیں انسانیت سے ہمدردی اور ظلم سے نفرت وبغاوت ہے ۔وہ اپنی بات بے باکی سے کہہ دیتے ہیں ۔ان کی شاعری کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ جب بھی سماجی وملی یا قومی مسائل کی طرف توجہ دلاتے ہیں ان کا شعری آہنگ کبھی متاثر نہیں ہوتا اور یہ ہنر ایک عظیم شاعر وفنکار کی عظمت کی دلیل ہے۔یہاں سے ان کی شاعری سے متعلق خصوصیات پر ایک طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے جبکہ وہ اپنی ہمہ جہت خصوصیات کی وجہ سے عالمی پیمانہ پر شہرت کے حامل ہیں ۔چونکہ وہ ابھی بھی ایک فعال ادیب ودانشور کے حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔پوری اردو دنیا میں تمام برقی مجلہ واخبارات سے متعلق صحافیوں کی اپنے برقی مجلے کے ذریعہ رہنمائی فرما رہے ہیں۔موجودہ دورمیں ایک مرد مومن کا یہی جہادہے ۔ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی قارئین کو اپنی تحریروں افکار وخیالات سے سرفرازکرتے رہیں گے ۔
***
آشوب دھلی اور دستنبو : ڈاکٹر صالحہ رشید
ڈاکٹر صالحہ رشید
ایسوسییٹ پروفیسر
شعبۂ عربی و فارسی یونیورسٹی آف الہ آبا د
آشوب دھلی اور دستنبو
ہندوستان ہمیشہ سے ہی باہری حملوں کی آماجگاہ بنا رہا۔ غزنویوں نے ہندوستان پر پے در پے حملے کئے اور بالآخر اپنے مقصد میں کامیاب ھوئے ۔ شہاب الدین غوری نے پر تھوی راج کو شکست دی اور سرزمین ھند پر جو قدم جمائے تو انکے نقوش آنے والی کئی صدیوں تک محفوظ رھے۔ غزنویوں اور غوریوں کے بعد تیموری خاندان آیا۔اس دروان سلطنت ھندکو بارہا انقلابات کا سامنا کرنا پرا ۔ کئی خاندان بر سرِ اقتدا ر آئے اور زوال پزیر ھوگئے۔ سولہویں صدی میں بابر جیسے مدبر بادشاہ نے عظیم مغلیہ سلطنت قایم کی جسے ھمایوں کے عہد تک خاص استحکام نصیب نہ ہوا لیکن اکبر نے بڑے استقلال سے حکومت کرکے اسے مستحکم بنایا اور تاریخ ہند کو وقار بخشا۔ سلطنت مغلیہ اورنگ زیب کے بعد زوال پذیر ھوئی ۔ اس کی وفات ۱۷۰۷ ء کے بعد مغل سلطنت کی مرکزیت منتشر ھوگئی ۔ اس مستحکم عمارت کی بنیادیں ھل گئیں۔ جدوناتھ سرکار کے مطابق مغل سلطنت کا زوال اورنگ زیب کی زندگی میں ھی شروع ھو گیا تھا لیکن اس نے حکمت عملی اور تدبر سے کام لیکر اسے نمایاں نہیں ھونے دیا ۔ اس کی وفات کے بعد دس سال کے عرصے میں تخت کی وراثت کی خاطر سات بار نبرد آزمائی ھوئی جس سے زوال کی رفتار تیز ھو گئی ۔
اورنگ زیب کے بعد جو بھی حکمران دھلی کے تخت پر متمکن ھوئے وہ سیاسی سوجھ بوجھ سے بے بہرہ تھے ۔ چنانچہ اورنگ زیب کی جانشینی کے سوال پرہی جنگ ہوئی اور معظم شاہ تختِ حکومت پر قابض ھوا اور بہادر شاہ کے نام سے تخت نشیں ھوا۔ اس کے بعدتخت و تاج جہاندار شاہ کے حصے میں آیا جبکہ حکومت کا اہل عظیم الشان تھا ۔ جہاندار شاہ طبعاً بہت عیاش اور ظالم تھا۔اس نے اپنے خاندان کے تمام شاہزادوں کو قتل کروادیا۔اس کی عیاشیوں کا خاتمہ عظیم الشان کے بیٹے فرخ سیر کے ہاتھوں ھوا مگر فرخ سیر کے زمانے میں بھی ظلم و ستم کا بازار گرم رہا۔ اس نے بعض مغل شاہزادوں کو قتل کیا‘بعض کو اندھا کیا ۔ جس سے حکومت کی رہی سہی ساکھ بھی جاتی رہی ۔ شرفا خوف و ہراس کے شکار ھوئے ۔ فرخ سیر کو قدرت نے اس طرح سزا د ی کہ بارہہ کے سیدوں نے پہلے تو اسے اندھا کیا پھر ۱۱۳۱ ھ میں اس کو قتل کر دیا۔ یہ ایسا وقت تھا کہ دھلی کے تخت کا کوئی معتبر وارث نظر نہیں آ رہا تھا ۔ مولوی ذکاء اﷲ کے مطابق اورنگ زیب کے مرنے کے بعد سلطنت مغلیہ کی آنکھیں اندھی‘ کان بہرے ‘دانت ٹوٹے‘ پوپلے ‘ ٹانگیں لنگڑی ‘ کمر ٹوٹی ‘ ہاتھ لنجے ھوگئے۔ کوئی کل سیدھی نہ رھی۔ جیتے جی مر گئی ۔ اگرچہ شہنشاھی کاسر چشمۂ بزرگ دھلی بنی رہی مگر اس سے میلا گدلا پانی ان باغوں میں جاری رھا جو خس و خاشاک سے پر تھے۔
ایسے میں تحزیبی قوتوں نے سر اٹھایا۔ شاھی تخت سیدوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن گیا ۔ حرم سرا میں دادِ عیش پانے والے شہزادے تخت نشین ھوئے ۔ سب سے پہلے رفیع الدرجات تخت نشین ھوا۔ اس کے بعد روشن اختر جسے محمد شاہ رنگیلا کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔ محمد شاہ رنگیلا کو مغلوں کے انحطاط کا نمایندہ حکمران کہا جاتا ہے۔ اس کے تخت نشین ھونے پر معاشرہ کی اجتماعیت خطرے مین پڑ گئی ۔ دھلی بار بار اجڑی ۔ ۱۷۳۹ ء میں نادرشاہ حملہ آورھوا ۔
اسکی ظالمانہ لوٹ کھسوٹ کا ذکر سید ظہورالحسن نے ان الفاظ میں کیا ہے
’’بے گناہ دھلی والوں کے سر کٹنے لگے اور ہر گلی کوچے میں نادریوں کی خونریز تلواروں نے قیامت برپا کر دی ۔ خدا کی بیگناہ مخلوق ایک ایسی کثیر تعداد میں قتل کی گئی کہ شاھراھوں کے راستے رک گئے۔‘‘
۱۷۴۱ ء احمد شاہ ابدالی کی نگاہِ قہر ہندوستان کی جانب اٹھی اورپانچ چھ سال تک دھلی کو اجاڑنے میں اس کی ہوس رانی کارفرما رھی۔ نادر شاہ اور احمد شاہ کے حملوں نے دھلی کی شان و شوکت کو مٹی میں ملا دیا ۔ خانہ جنگی کے حالات پیدا ھوگئے ایک وقت ایسا آیا کہ مرکز کی سلطنت ’از دلّی تا پالم‘
ھو گئی۔ شاھانِ مغلیہ اندرونی خلفشار و انتشار سے اس لایق نہ رہے کہ بیرونی حملوں کا مقابلہ کر سکیں۔
ایسٹ انڈیا کمپنی جس نے ۱۶۰۱ ء میں ہندوستان کو اپنا بازار بنایا تھا‘رفتہ رفتہ اس نے اپنے قدم جمائے اور پورے ھندوستان کو اپنی گرفت میں لے لیا ۔ یہاں تک کہ یہ بات عام ھوگئی کہ خلق خدا کی ‘ ملک بادشاہ کا‘ حکم کمپنی بہادر کا ۔ شاہ عالم کے انتقال کے بعد۱۸۳۷ ء میں اکبرشاہ ثانی تخت نشین ھوا۔ اس کے اور لارڈ لیک کے درمیان تسخیر دھلی کے موقعہ پر جو معاہدے ھوئے اس سے عوام مایوس ھوگئی ۔ شاہانِ مغلیہ کے پنشن خوار ھو جانے کے بعد انگریزوں نے نہ صرف ان سے نفرت کا اظہار کیا بلکہ انکو حقیر سمجھنے لگے۔ یہاں تک کہ آخری مغل تاجدار یعنی بہادر شاہ ظفر کی تخت نشینی کے بعد انگریزوں نے کھل کر گستاخانہ اعلان کیا کہ بہادر شاہ ظفر کے بعد مغل خاندان لال قلعہ سے نکال دیا جائیگا اور شاہ کا لقب بھی ختم کر دیا جائیگا۔
انگریزی مظالم بتدریج بڑھتے گئے۔ یہاں تک کہ عوام کا غم و غصّہ ۱۸۵۷ ء کی بغاوت کا شعلہ بن کر میرٹھ سے بھڑکا ۔ اس کی لپٹیں بہت تیزی سے دہلی تک پہونچیں ۔ حالات بدترین ھوگئے ۔ بادشاہ ‘ رؤسا‘ امرا‘ علما‘ شعراء‘ عوام سب اس کی زد میں آگئے۔ ۱۸۵۷ ء کی زبردست جنگ آزادی اور دھلی کی تباھی غالبؔ نے اپنی آنکھوں دیکھی۔ یہ موجِ خون ان کے سر سے بھی گزری ۔ جس مغلیہ دور میں غالبؔ نے آنکھ کھولی اس کے عروج کی داستان انھوں نے اپنے بزرگوں سے سن رکھی تھی اور اس کا زوال اپنی آنکھوں سے دیکھ رھے تھے۔ جن واقعات و مناظر کی گواہ انکی آنکھیں بنیں انھوں نے وہ سب قلمبند کئے اور اسے دستنبو نام دیا۔
بہادر شاہ ظفر برای نام بادشاہ رہ گئے تھے ۔ انگریز برملا انکی توہین کرتے تھے۔ اندرون محل سازشوں کا بازار گرم تھا ۔ سپہ سالار کس کا حکم بجا لا رھے تھے؟ بادشاہ یا کسی اور کا ؟ غرضکہ محل کے حالات معمہ بنے ھوئے تھے۔ حساس طبع غالب نے یہ سب محسوس کیا ۔ ان کا دل پارہ ۔پارہ ھوا ۔ دستنبو میں درج انکے بیانات اس کے بیّن ثبوت ہیں ۔ بادشاہ کی ناگفتہ بہ حالت کے بارے میں رقمطراز ہیں کہ بادشاہ اس چاند کی طرح تھا جسے گہن لگ جائے۔
انگریز پے در پے ہندوستانیوں پر کاری ضرب لگا رہے تھے۔ ملک کی صنعت تباہ ھو چکی تھی۔ زمینوں کی جبراً قرقی اور نیلامی ھو رھی تھی۔ بادشاہ کی اہانت، ریاستوں کے جبری الحاق، عیسائی مذہب کی ترویج وغیرہ انگریزوں کے ایسے اقدامات تھے جن سے ہندوستانیوں کا ذھن مکدر ہو گیا ۔ ان میں غم و غصہ کی زبردست لہر دوڑ گئی اور یہی لہر ۱۸۵۷ ء کی بغاوت کی شکل اختیار کر گئی۔یہ ایسی آگ تھی جس نے پورے ملک کو اپنی لپٹوں سے جھلسا دیا ۔ دھلی تو دارالحکومت تھا اور غالبؔ کا مسکن بھی۔ دستنبو میں غالبؔ نے گیارہ مئ۱۸۵۷ ء سے لیکر جولائ ۱۸۵۸ ء تک دھلی میں رونما
ھونے والے واقعات کا احاطہ کیا ہے۔قلعے کی تباھی کے ساتھ ساتھ انگریزوں پر جو بیتی اس کا بھی ذکر کیا ھے۔شہر میں قتل وغارت کے ساتھ لوٹ مار بھی اوج پر تھی۔کافی لوگ شہر چھوڑ کر چلے گؤ۔جو رہ گۂ وہ اپنے گھر میں تقریباً قید رہے۔بازار کی رونق سناّٹے میں تبدیل ھو گء۔ سڑکوں پر لٹیرے آزاد گھوم رھے تھے۔غالبؔ نے اس منظر کی تصویر کشی کچھ یوں کی ہے۔
۱۱،مئ ۱۸۵۷ ء کو اچانک دھلی کے قلعے اور فصیل کی دیواریں لرز اٹھیں۔شہر دھلی میں ہندوستانیوں کے ساتھ ساتھ انگریز افسروں کے بھی مکانات تباہ ھوئے اور قتل و غارت کا منہ انھیں بھی دیکھنا پڑا۔کچھ لوگ جو انگریزوں کے نمک خوار تھے شہر سے دور چلے گؤ۔کچھ لوگ جنھیں تیر وتبر سے کام نہ تھا وہ غمگین اور ماتم زدہ اپنے گھروں میں بیٹھے رھے۔(غالبؔ بھی انھیں میں سے ایک تھے۔وہ بھی گھر میں بیٹھے تھے کہ شورو غوغا ھوا)زمین ھر طرف گل انداموں کے خون سے رنگین ھو گئ وہ بچیّ جنھوں نے دنیا کو اچھی طرح دیکھا بھی نہ تھا ایکدم قتل و خون کے بھنورمیں پھنس گئ اور بحر فنا میں ڈوب گؤ۔اندرون قلع شاھی باغ گھوڑوں کا اصطبل بنا۔شہر حاکموں سے خالی اور بندہ ہای بے خداوند سے بھرا ھوا جیسے باغ باغبان سے خالی اور درختان بے ثمر سے پر ھو۔لٹیرے ہر قسم کی پابندیوں سے اور سوداگر محصول ادا کرنے کی ذمہ داریوں سے آزاد۔گھر ویرانے معلوم ھوتے ہیں اور مکانات لوٹ مار کرنے والوں کے لؤ خوانِ مفت۔امن پسند اور نیک نہاد لوگ گھر سے بازار تک آتے ھو ئے راستے میں بیسیوں جگہ عاجزی اور مغلوبیت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔لٹیرے دن میں دلیری کے ساتھ لوٹ مار میں مصروف ہیں اور رات میں ریشمی بستر پر محو خواب۔
یہ تباھی اور غارتگری با برگ و بی برگ پر یکساں طور پر اثر انداز ھوئی ۔عالی مرتبت لوگوں کا حال زیادہ برا ھوا کیونکہ وہ تو عیش و عشرت کے عادی تھے۔دستنبو میں درج بیان کے مطابق۔
بڑے بڑے عالی خاندان لوگوں کے گھروں میں چراغ جلانے کو تیل نہیں۔اندھیری رات میں جب پیاس کی شدّت بڑھتی ہے‘ بجلی چمکنے کے منتظر رہتے ہیں کہ یہ دیکھیں کہ کوزہ کہاں رکھا ہے اور پیمانہ کدھر ہے۔زمانے کی اس بے نیازی اور بے امتیازی کو کیا کہوں کہ وہ کم رتبہ لوگ جو سارا دن مٹی بیچنے کے لئ زمین کھودتے تھے ان کو مٹی میں سونے کے ٹکڑے مل گؤ اور جن لوگوں کی محفل میں آتش گل سے چراغ روشن رہتے تھے‘ اندھیرے گھروں میں ناکامی و نامرادی کے غم میں مبتلا ہیں۔کوتوال شہر کی زن و دختر کے علاوہ ساری نازنینان شہر کا زیور بزدل اور سیہ کار رہزنوں کے قبضہ میں ہے۔
اہل علم و دانش بھی اپنی آبرو بچانے میں نا کام رھے۔وہ لوگ جنھیں اپنی قوت بازو پر ناز تھا وہ بھی خوفزدہ و ہراساں نظر آئے۔
بڑے بڑے عالموں اور ناموروں کی آبرو مٹی میں ملا دی گئ ہے۔غالبؔ اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ میرا درد بھرا حال سن کر ستاروں کی آنکھوں سے خون جاری ھو جائیں۔بڑے بڑے بہادروں کا یہ حال ھے کہ وہ اپنے سایے سے ڈریں۔دھلی کے اندر اور باہر تقریباً پچاس ہزار سواروں اور پیادوں کی فوج پڑی ہوئی ہے۔شہر کی مغرب جانب پہاڑی پر انگریزوں کا قبضہ ہے۔
کثیر تعداد میں انگریزی فوج دارلحکومت دھلی میں موجود تھی۔ھندوستانی گو کہ جنگی تکنیک میں انگریزوں سے پیچھے تھے لیکن انکا جوش وولولہ انھیں انگریزوں سے مقابلے کی ترغیب دیتا تھا۔اس بابت غالبؔ یوں رقمطراز ہیں۔
’ توپوں اور بندوقوں کے دھوئیں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کالی گھٹا چھائی ہوئی ہے اور اس سے اولے برس رہے ہیں ۔رات دن دونوں طرف سے گولہ باری ہوتی ہے۔مختلف مقامات سے آئے ھوئے سپاھی دن چڑھے شیردل انگریزوں سے لڑنے کے لئے جاتے ہیں اور سورج ڈوبنے کے پہلے واپس آجاتے ہیں۔‘
حکیم احسن اللہ خاں بہادر شاہ ظفر کے دربار میں وزیر اعظم ‘ شاہ کے طبیب اور با اثر مشاور تھے نیز صاحب علم وفضل۔وہ اپنے عصر کے علماء و فضلا کودوست رکھتے تھے۔غالبؔ سے بھی انکے دوستانہ تعلقات تھے۔انکے شاندار آراستہ وپیراستہ محل نما گھر کو بھی نذرِ آتش کیا گیا۔خوف وہرا س کا یہ عالم کہ گلیوں کے دروازے بند کر دئے گئے اور کسی میں اتنی ہمّت نہ رہی کہ باہر جا کر کھانے پینے کی اشیا مہیّا کر سکے ۔ دستنبو میں درج ہے کہ ’حکیم احسن اللہ خاں کا گھر جو خوبصورتی اور آرائش میں نگار خانۂ چین ھوا کرتا تھااسے لوٹا گیا۔اس کی چھت کو آگ لگا دی گئی۔چھت کے شہتیر اور منقش تختے جل کر راکھ ہو گئے۔ دیواریں سیاہ پڑ گئیں ۔دھلی دروازہ ترکمان دروازہ اور اجمیری دروازہ تینوں دروازے باغیوں کے قبضہ میں رہے ۔ غالب ؔ کا مکان جہاں واقع تھا اس گلی کا دروازہ بند کر لیا گیا۔اتنی ہمت نہ رہی کہ باہر جا کر خورد و نوش کا انتظام ہو سکے ۔‘غالب ؔ خود بھی اپنے مکان کے اندر بیٹھے رھے ۔
آخر گلی کے دروازے بند کر لینے پر کھانے پینے کاسامان کتنے دن ساتھ دیتا ۔ باہر کشت وخون سے لوگوں کا دل لرز لرز جاتا تھا ۔ کھانے کے ساتھ ہی پینے کا پانی ختم ھوا۔ حلق خشک ھو گئے۔ محلہ میں گندگی پھیل گئی ۔ غالبؔ گو کہ اپنے گھر میں مقید تھے لیکن ان سکا دل کراہ اٹھا ۔ ان حالات زار کا تذکرہ انکی پثر مردہ انگلیوں سے یوں رقم ھوا
’انگریزوں نے شہر میں داخل ہوتے ہی بے سروسامان لوگوں کو قتل کرنا اور مکان جلانا جایز سمجھا ۔ بے شمار مرد عورتوں کے گروہ جن میں معمولی لوگ بھی تھے اور صاحب حیثیت بھی ان تینوں دروازوں سے باہر نکل گئے ۔ شہر کے باہر جو چھوٹی چھوٹی بستیاں تھیں مقبرے تھے ، ان میں پناہ گزیں ھو گئے ۔ غالبؔ بھی اپنے مکان کے ایک گوشے میں بے سروسامانی کے ساتھ بیٹھے رہے۔ ۱۸ستمبر کو انگریزوں نے شہر اور قلعے پر قبضہ کر لیا۔ کشت و خون اور پکڑ دھکڑ غالبؔ کے گھر کی گلی تک پہونچ گئی۔ خوف سے لوگوں کے دل دہل گئے۔ ’اس گلی سے زیادہ تر لوگ چلے گئے اس طرح کہ عورتیں بچوں کو چھاتیوں سے لگائے ہوئے تھیں اور مردوں کے سر پر سامان کی گٹھریاں۔ سارے شہر میں پندرہ ستمبر سے ہر گھر کا دروازہ بند ہے ۔ دوکاندار اور خریدار دونوں غایب ہیں ۔ نہ گندم فروش ہے کہ گندم خریدیں نہ دھوبی ہے کہ کپڑے دھلوائیں ۔ حجام کو کہاں ڈھونڈیں کہ بال تراشے اور مہتر کو کہاں سے ڈھونڈھ کر لائیں کہ صفائی کرے۔ گھروں میں کھانے کا جس قدر سامان تھا ختم ہو گیا۔ پانی بیحد احتیاط سے پیا گیا لیکن آخر کار کوزہ یا گھڑے میں ایک قطرہ نہ رہا۔چوک کے آگے قتل و خون کا بازار گرم تھا۔ نہ کھانے کو روٹی نہ پینے کو پانی۔ ایک دن اچانک بادل آگیا ۔پانی برسا۔صحن میں ایک چادر باندھی گئی۔ اس کے نیچے ایک مٹکا رکھ دیا گیا اور اس طرح پانی حاصل کیا گیا ۔ شہر کے بیشتر لوگوں کو باہر نکال دیا ہے۔ جو لوگ ویرانوں اور گوشوں میں مقیم ھوئے ہیں ان کے بارے میں ابھی کوئی حکم صادر نہیں ھوا ہے۔ اندرون شہر یا بیرون شہر جو لوگ مبتلائے پریشانی ہیں ان کے درد کا کوئی مداوا نہیں ہے۔ شہر کے اندر رہنے والے مجبور لوگ ہوں یا باہر کے پریشان حال، سب کے دل درد سے بھر ے ھوئے ہیں اور سب قتل عام کے خوف سے ہراساں ہیں ۔
نہ فقط دھلی بلکہ گرد و نوح کی جاگیریں مثلاً جھجھر ،بلب گڑھ اور فرخ نگر وغیرہ بھی اس آتش میں جھلس کر رہ گئیں ۔ وھاں کے جاگیرداروں اور شاہزادوں کا انجام دردناک ھوا۔ عوام کو بری طرح جیلوں میں ٹھونس دیا گیا اس طرح کہ اعداد و شمار کی کوئی گنجائیش نہ رھی۔
’محل لوٹ لئے گئے ۔ قیمتی سامان نذرِ آتش کئے گئے ۔ جھجھر، بلب گڑھ اور فرخ نگر کے جاگیرداروں کو محل میں قید کیا گیا۔ پھر انھیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا‘۔ شاہزادوں کے بارے میں لکھتے ہیں ’بعض کو گولی مار ی گئی‘ بعض آوارہ اور پریشان پھر رہے ہیں ۔ کمزور اور ضعیف بادشاہ پر مقدمہ چل رہا ہے ۔ کچھ لوگ جو شہر سے نکل کر چلے گئے ہیں وہ اتنی دور چلے گئے ہیں گویا وہ سرزمین دھلی کے باشندے ہی نہیں تھے۔ بہت سے عالی مرتبہ لوگ شہر کے ارد گرد دو دو چار چار کوس پر ٹیلوں ،گڑھوں ، چھپروں اور کچے مکانوں میں اپنے نصیب کی طرح آنکھیں بند کئے پڑے ہیں ۔ قید خانے میں اتنے لوگوں کو بھر دیا گیا ہے گویا آدمی میں آدمی سمایا ہے۔ کتنے افراد کو پھانسی دی گئی انکی تعداد فرشتۂ موت ہی جانتا ہے‘۔
غالبؔ کے مطابق ایسے پٗر آشوب حالات میں مہر و محبت اور مسرت و انبساط کی کیا گنجائیش۔
ہر روز تنم زسایہ لرزاں گردد
ہر شب دلم از داغ چراغاں گردد
مآخذ و منابع
۱۔اسباب بغاوت ہند از سر سید احمد خاں۔
۲۔تاریخ ہند از مولوی ذکاء اﷲ جلد نہم۔
۳۔شارٹ ہسٹری آف دی انڈین پیپل از تارا چند۔
۴۔جنگ آزادی ۱۸۵۷ ء از خورشیدِ مصطفیٰ رضوی۔
۵۔دستنبو از غالبؔ ۔
۶۔دستنبو اردو ترجمہ از پروفیسر خواجہ فاروقی۔
***
ڈاکٹر صالحہ رشید
ایسوسییٹ پروفیسر
شعبۂ عربی و فارسی یونیورسٹی آف الہ آبا د
ناصر ملک ۔۔۔ اپنی ماں بولی کا سوجھوان تحریر: خورشید بیگ میلسوی
ناصر ملک ۔۔۔ اپنی ماں بولی کا سوجھوان
تحریر: خورشید بیگ میلسوی
ناصر ملک دنیائے شعر و ادب میں نووارد نہیں بلکہ عرصہ دراز سے شعر و ادب سے وابستہ چلے آرہے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ وہ بیک وقت اُردو اور پنجابی زبان کے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خوب صورت ادیب بھی ہیں۔ ان کے کالم اخبار کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ ان کے ادیبانہ اسلوب کے تو ہم پہلے سے قائل تھے۔ اب ان کی شعری دنیا میں جھانکا تو مزید خوش گوار حیرت نصیب ہوئی۔ بلاشبہ جنوبی پنجاب کو ان جیسے قلم کاروں پر فخر ہے۔
ناصر ملک روشنی میں اندھیرے کی ’’بکل‘‘ مار کے بیٹھے تو انہیں پھولوں پر ’’تریل‘‘ کا پتہ چلا۔ دراصل نام نہاد روشنی لوگوں کو یہ بتاتی پھر رہی ہے کہ شکم کے فیصلے مانو، دل کے نہیں۔ روح کی پاکیزگی اور جسم کی آلودگی مل جائیں تو بھی انسان بنتا ہے اور جسم کی پاکیزگی اور روح کی آلودگی مل جائیں تو بھی انسان بنتا ہے۔ وہ اس روشنی کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے اس اندھیرے والی صبح کی آغوش میں جا بیٹھتے ہیں جب دونوں کے اشتراک کا موسم ہوتا ہے کیونکہ پھر روشنی کو یہ منافق دنیا دیکھ لیتی ہے۔ اندھیرے کے مقابل آنے والی روشنی کا حوصلہ جان کر حضرت انسان کی نظر بد لگتی ہے اور پھر روشنی دھوپ میں ڈھل جاتی ہے۔ جسموں کو جھلسا دینے والی دھوپ۔ ناصر ملک زمانے کے مفاہمتی فلسفے Compromising Therory کی ہر شکل سے دور رہتے ہیں۔ ان کی سوچ بھی آفاقی ہے۔ وہ مقامیت کے دائرے سے باہر آچکے ہیں۔ لیکن ایک صوفی انہیں بتاتا رہتا ہے کہ زمانہ رواجوں کی صلیب پر جذبوں کو کس طرح بھول چکا ہے۔ مادہ پرستی نے انسان کو مجبور و مفلوج کر دیا ہے ۔ اور پھر ان کے ہاں صرف تفکر کی بجلی ہی نہیں بلکہ الفاظ کی گھن گرج بھی ہے۔ اسی لئے ان کے اشعار دل اور روح پر نہ صرف کسی ’’چھمک‘‘ (تازیانہ) کی طرح پڑتے ہیں بلکہ روتے رُلاتے بھی نظر آتے ہیں۔ جیسے بھری دنیا میں ان کے ہم راز دوست اُن کے یہی اشعار ہیں۔ دوست بھی زمانہ دیتا ہے جس سے روح کا ملاپ ہوتا ہے۔ شعر بھی زمانہ دیتا ہے جو روح سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ ناصر ملک کے چند اشعار دیکھئے۔
ساڈے ننگ تے بھیتی ہسدے نیں
کاہنوں آؤندی نی لج لوکاں نوں
*
نئیں ناں مکے آخر تیرے میرے جھیڑے
دنیا نے فر سانوں ہون نہ دتا نیڑے
*
سچی گل تے اکھ ناں کھلدی لوکاں دی
ملاں کولوں جھوٹی جنت منگدے نیں
*
رب وِی جے کر پہلوں دسدا ساہ دا مُل
بندہ اوہدی چوکھت تے اِی دھر جاندا
مؤخر الذکر شعر زندگی کو نہ صرف دقیق بناتا دکھائی دیتا ہے بلکہ یہ اس زندگی کی جانب ہماری توجہ دلاتا ہے کہ زندگی کا مشکل نہ ہونا بتایا جاتا تو شاید بے نیاز کے فیصلے کو تسلیم کرنے میں فرشتوں کی سجدہ ریزی مزاحم ہونے کے امکان کا سوال پیدا ہوتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی بے نیازی کی صفت کو جس خوب صورت اور دل نشیں انداز میں ناصر ملک نے بیان کیا ہے، وہ قابلِ غور بھی ہے۔ اس سے پہلے کے شعر میں بھی انہوں نے عہدِ حاضر کی اس گمراہی کی جانب اشارہ کیا ہے جس کے ذریعے ’’ملاں‘‘ لوگوں کو گمراہ کر کے جنت کے حصول کے لیے وہ کردار ادا کررہے ہیں جس کی اسلام بھی اجازت نہیں دیتا ہے۔ محبت کے معاملے میں ان کے اظہار کی ندرت پر قربان جائیے کہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے آپس کے معاملات میں اگر دنیا بیچ میں نہ آئی تو ہمیں فراق کا ’’پینڈا‘‘ نہ کاٹنا پڑتا اور یہی کچھ پہلے شعر میں خود احتسابی کے حوالے سے دعوتِ فکر ہے۔ ناصر ملک کا حواسِ خمسہ کی دریافت کے بعد سے ان کا حسیاتی مشاہدہ اور ان کا شعری سفر بلندی کی حدوں کو چھوتا دکھائی دیتا ہے۔ جب داخلی حسیات کی بات ہوتی ہے تو ایک گہرے سمندر میں شعور کی کشتی پر شاعر اس وقت سفر کررہا ہوتا ہے جب طوفانوں کا موسم ہوتا ہے اور کہیں بھی ڈوبنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ مگر ناصر ملک کے تجربات کی بھٹی میں کندن ہونا ہی وہ ضمانت بنی جس نے انہیں سخت طوفانی لمحوں میں محفوظ رکھا اور وہ محسوسات کا سچا موتی سیپ سے نکال کر لائے اور اپنے چاہنے والوں کے روبرو رکھ دیا تاکہ ان کے شعری محاس کے علاوہ ان کے فنی و فکری تجزیے کا ادراک بھی چاہنے والوں کو ہو سکے۔ ناصر ملک کے چند اشعار کی سیاحت کرتے ہیں۔
جے بُلاں اُتے ہجراں دے کنڈے اُگ پین تے
پھلاں توں تریل ماہیا چٹیاں ناں لنگھدی
*
پیروں ننگے بال سکولے بھیجے نیں
ساڈی بھکھے پیٹ عبادت کس لیکھے
*
اوہدے موڈھے نیویں نیں
جیہدے ویہڑے لڑکی اے
*
مینوں قاتل کیہندا سی
سارے رستے کھلے نیں
پہلے شعر میں داخلی حسیاتی مشاہدے کی ترجمانی ہے۔ دراصل یہ لمحاتِ ہجر میں کیفیتِ جنوں کا اظہار ہے۔ اس میں لفظیات کا انتخاب خوب ہے۔ باقی تینوں اشعار میں بیرونی مناظر مختلف اندازِ فکر میں موجود ہے۔ میں ان کے مندرجہ بالا اشعار کو تین دائروں میں منقسم کروں گا۔ ان کے پہلے دائرے میں قناعت کا سبق ہے جو بظاہر صاف ستھری زندگی کا انعام ہے اور جسے بطور سزا پیش کیا گیا وہ ان کا دوسرا دائرہ ہے۔ دراصل ناصر ملک بتانا چاہتے ہیں کہ دینے والا بے نیاز تو ہے ، مگر عادل بھی ہے جس نے قناعت کی ترغیب کو پسِ پشت ڈال دیا اور خود اپنے معاشرے کو سماجی، معاشی اور عادلانہ مساوات سے دور کردیا یہ انسان کی اپنی کج روی ہے۔ اپنی ناقص پالیسیاں ہیں، خود غرضیاں ہیں کہ وہ انفرادی اور اجتماعی دونوں شکلوں میں یا پھر طاقت کے نشے میں چور اپنے فرائضِ منصبی کو بھول کر احکاماتِ الٰہی سے روگردانی کا مرتکب ٹھہرا۔ آج کا انسان خود کو مسلمان بھی سمجھتا ہے اور خدا کی ذات کو بے نیاز بھی مانتا ہے مگر اس کے کرتوت سراسر اسلام کے منافی ہیں۔ ناصر ملک ایک حساس شاعر ہے۔ وہ مشاہدے کی آنکھ سے سب کچھ دیکھ رہا ہے اور حتی الوسع اس سماجی تلخ حقیقت سے پردہ اُٹھاتا ہے۔ ناصر ملک کے اشعار کا تیسرا دائرہ آفاقی نظر کا مشاہدہ ہے۔ وہ قاتلوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ وہ مختلف سوسائٹیوں، شہروں اور ملکوں کے ان درندہ صفت انسانوں کو معاشرے کو پراگندہ کرنے کا باعث ٹھہراتا ہے جو اپنے سے کمزور کا شکار کرنے میں مصروف ہیں اور شرفِ انسانی بھلا کر اپنے جنگلی ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔
ناصر ملک نے اپنی نظموں میں بدلتے کلچر، مادیت پرستی، روحانی عروج اور صوفیانہ اخلاق نمائی کی بات کی ہے۔ ان کی نظموں میں ’’مائے نی مائے‘‘، ’’فرق‘‘ اور ’’عید دی رانی‘‘ ندرتِ خیال اور ریاضتِ فکر کی شاہکار نظمیں ہیں۔ ’’چپ دی بکل‘‘، ’’کناں سوہنا بابا سی‘‘ (ڈاکٹر خیال امروہوی کا مرثیہ یا خراجِ عقیدت) اور ’’فیملی پلاننگ‘‘ ہم سب کے لیے فکر انگیز نظمیں ہیں۔
آخر میں ہم ’’لہراں ادبی بورڈ لاہور‘‘ کے شکر گزار ہیں کہ اس ادارے نے ناصر ملک کی ’’تریل‘‘ جیسی خوب صورت کتاب شائع کرکے ادب دوستی کا ثبوت دیا ہے اور مصنف کے مداحوں کے لیے انمول تحفہ دیا ہے۔ ناصر ملک کے دیباچے کا ایک اقتباس پیش کرکے اجازت چاہوں گا جس میں ان کی ادب نگاری کی چھاپ نمایا ں ہے۔ وہ خوب صورت شاعر، خوب صورت انسان اور خوب صورت ادیب ہیں۔ اللہ اُنہیں سلامت رکھے (آمین)۔۔۔
وہ اپنی کتاب کے دیباچے میں یوں رقم طراز ہیں۔۔۔
’’لکھاری دے ہاں نوں جگ دیاں، جگ دے کُٹھے ڈنگے ہویاں دیاں، شودھے موئے مُکے غریباں دیا اَتے اپنے اندر دیاں پچھ پرتِیتاں اِی کھا جاندیاں نیں جیہڑیاں جمدے لا توں اوہدے نال نال حیاتی لنگھاؤندیاں نیں۔ اُہ ترٹھیا تِرہایا شاعر کسے نوں کجھ آکھدا اے ، کسے نوں کوئی لارا لپا لاؤندا اے تے جدوں بھج بھج کے ہَپھ جاندا اے تے فیر اپنی سِنی جُھلڑی دی بکل مار کے لکن دی تھاں لبھدا اے۔۔۔‘‘
***
مبصر: خورشید بیگ میلسوی
’’مرزا کلینک‘‘۔ فدا بازار۔ میلسی۔ ضلع وہاڑی
فون (موبائل): 0302-7397438
ناصر ملک کی ’’تریل‘‘۔۔۔ ایک مطالعہ تحریر: پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین
جناب ایڈیٹر صاحب!
السلام علیکم و رحمتہ اللہ! خدائے لم یزل آپ کو معتبر رکھے۔
پچھلے دنوں معروف شاعر و افسانہ نگار جناب ناصر ملک کے شائع ہونے والے مجموعہ کلام ’’تریل‘‘ پر تبصرہ ارسال خدمت ہے۔ اسے ’’لہراں ادبی بورڈ لاہور‘‘ نے شائع کیاہے۔ کتاب کی طباعت، سرورق، ترتیب اور متن اچھا لگا اِس لیے حقِ مطالعہ ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ شامل اشاعت فرما کر شکریہ کا موقع دیجئے۔
آپ کا
پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین، لیہ
گورنمنٹ کالج، لیہ۔ موبائل: 0300-6767911
ناصر ملک کی ’’تریل‘‘۔۔۔ ایک مطالعہ
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین
*تخلیقی ادب میں شاعری کا رتبہ سب سے بلند تصور ہوتا ہے۔ شاعری جہاں انسان کو فکر و شعور سے بہرہ مند کرتی ہے، وہاں اس کی حسنِ جمال کو بھی ترفع بخشتی ہے۔ شاعری میں لفظ و خیال کا امتزاج ایسی کیفیات کو جنم دیتا ہے جن کی بدولت قاری یا سامع روزمرہ کے دکھوں، المیوں اور تفکرات سے خود کو ایک لمحے کے لیے آزاد محسوس کرتا ہے۔ بطور خاص علاقائی زبانوں میں تخلیق ہونے والی شاعری میں ایک خاص طرح کی چاشنی، مٹھاس، کوملتا اور لطافت ہوتی ہے۔ سندھی، بلوچی، پشتو، سرائیکی اور پنجابی شاعری اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔
علاقائی زبانوں کی شاعری میں جمالیاتی احساس کی اہم وجہ یہ تصور ہوتی ہے کہ اس کے عقب میں ماں دھرتی کی خوشبو اور بڑی حد تک فطرت کے ساتھ محبت اپنی تمام تر جولانیوں کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔ علاقائی زبانوں میں ہمارے صدیوں کے تہذیبی، تاریخی اور سماجی رویوں سے مزین ان حالات و واقعات کا اظہار ہوتا ہے جن کا تعلق یہاں کی مٹی اور لوگوں کے ساتھ ہے اور ماں بولی میں کیا گیا اظہار ہمارے بنیادی جذبات اور باطنی کیفیات کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی لیے مقامی زبانوں کے شعر و ادب میں گہرائی اور وسعت بدیسی زبانوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ اس تناظر میں ناصر ملک کی پنجابی شاعری جمالیاتی احساس کی ایک بڑی مثال ہے۔
ناصر ملک ایک زود نویس شاعر و ادیب ہیں۔ وہ محقق، افسانہ نگار، کالم نگار، مبصر اور پنجابی اور اردو کے معروف شاعر ہیں۔ اب تک ان کی کئی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ ان کتب کا غالب پہلو اُن کا برجستہ اندازِ تحریر ہے۔ وہ نثر اور شاعری دونوں شعبوں میں برجستگی اور فطری اندازِ بیان کو اختیار کرتے ہیں۔ حال ہی میں ان کا شائع ہونے والا پنجابی شعری مجموعہ ’’تریل‘‘ ان کے فطری اندازِ تحریر کا بڑا ثبوت ہے۔ ’’تریل‘‘ شبنم کا پنجابی معانی ہے۔ جس طرح شبنم تروتازہ، پاکیزہ اور صاف شفاف قطروں کی شکل میں ہوتی ہے، اسی طرح ناصر ملک کی یہ پنجابی شاعری خوب صورتی اور تازگی کی ایک علامت ہے۔
شعروادب میں فکر و خیال کی ندرت، اچھوتا پن اور نیا پن ایک کائناتی قدر تصور ہوتی ہے۔ گھسے پٹے خیالات، فرسودہ الفاظ، تراکیب، استعارات اور تشبیہات بڑی شاعری کی راہ میں بڑی رکاوت سمجھی جاتی ہیں۔ اگر فن کار باشعور ہے اور لسانی اور فنی شعور رکھتا ہے تو وہ اپنی شاعری میں نئے خیالات اور نئی شعری لسانیات کو پیش کرے گا۔ ناصر ملک کی زیرِ نظر شعری تصنیف میں نئے فکروخیال اور لطیف زبان کا استعمال فنکارانہ سلیقے سے ہوا ہے۔ ملاحظہ کیجئے۔
پیرا اَج تے بول، کرامت کس لیکھے
منگتے ہتھاں نال سخاوت کس لیکھے
***
کدیں عشق دا سورج نئیں ڈُبدا
بس روپ سروپ دی چھاں ڈھلدی
***
جت کے روندا راہسیں ناصر
ہر کے یار مناون چنگا
***
روگ اولڑے گھات سیانی
بے دردے دی ذات سیانی
***
منھ تے بیٹھی کرماں ماری
کونجاں ویکھے تے کرلاوے
***
’’تریل‘‘ میں نعت، حمد، ہائیکو، نظم اور غزل، تمام اصناف موجود ہیں۔ نعت، حمد، ہائیکو اور نظم میں ناصر ملک نے خوب صورت عنوانات کا انتخاب کیا ہے۔ ان کے علاوہ اس مجموعے میں انہوں نے ’’وین‘‘ کے عنوان سے ایک اور صنف بھی متعارف کرائی ہے۔ اگرچہ اس سلسلے میں شامل نظموں کی تعداد صرف تین ہے مگر ان میں جو انہوں نے ہست کے تجربے کئے ہیں وہ ان کے فنی شعور کی بڑی دلیل ہیں۔ اس کے علاوہ کہیں کہیں قطعات بھی دکھائی دیتے ہیں۔
ہجر و فراق، جدائی اور وچھوڑا، انسانی دلوں کی اداس کہانی ہے اور یہ ایسا دکھ ہے جو ازل سے انسان کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے۔ ہماری پنجابی کی صوفیانہ شعری روایت ہو یا جدید شاعری کا جدید لہجہ ہو، جدائی اور وچھوڑا ایک بڑے موضوع کے طور پر اپنی جگہ اختیار کرتا ہے اور ناصر ملک کے ہاں یہ موضوع ایک نئے انداز میں اپنا اظہار پاتا ہے۔ ملاحظہ کیجئے ان کی ایک نظم، جس کا عنوان ’’کونجاں‘‘ ہے۔
ڈونگھے من دے تارو ہڑ وِچ لُڑیاں، فر ناں لبھیاں
واجاں اُتے کچے پیریں مُڑیاں، فر ناں لبھیاں
تھل پنھل دا ویہڑا، ایتھے رُڑیاں، فر ناں لبھیاں
جد وِی راہیاں نال بھلیکھوں جُڑیاں، فر ناں لبھیاں
ستیاں جو سرہاندی رکھ کے پُڑیاں، فر ناں لبھیاں
رسماں نے جو دَبیاں سن اُہ کڑیاں، فر ناں لبھیاں
یوں لگتا ہے کہ ناصر ملک کو کسی بڑے وچھوڑے کا سامنا ہے اور اس وچھوڑے میں وہ بعض اوقات نہایت خوف زدہ ہو کر چلا اُٹھتے ہیں۔
جدائی والا پل جدوں
نیویں پا کے اَوندا اے
رات بن جاندا اے
(نظم: تریل والی رات)
***
اوہنوں بھل اے سَٹ کے مینوں اُہ وِی وسدا رہسی
رت وِی پیندے، مار چھڑیندے، یار وِچھوڑے، غم
ناصر ملک کے ہاں مختصر اور طویل بحروں کا ایک جہان آباد ہے۔ انہوں نے اپنی غزلوں میں دونوں انواع کی بحروں کا خوب استعمال کیا ہے۔ بعض جگہوں پر تو یہ غزلیں نظم کی طرح تسلسل کی کیفیت کو پیدا کرتی ہیں۔ مثلاً
ادھی راتیں جاگن چنگا
کلھا بیہہ کے روون چنگا
بلھیاں چتھن چیکن نالوں
دوہڑے ماہیے گاون چنگا
***
ربا دل ناں توڑ
تینوں کاہدی تھوڑ
دریا دے وِچکار
بیڑی دِتی بوڑ
اپنی جاتی سانبھ
اُچا بولن چھوڑ
ناصر ملک کی غزلیہ اور نظمیہ شاعری میں کہیں کہیں پنجابی کافی کا رنگ بھی جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ کافی کا رنگ، سوز وگداز اور فراقیہ لہجے سے تشکیل پاتا ہے۔ ناصر ملک کی اکثر نظموں اور غزلوں میں یہ انداز اس بات کا پتا دیتا ہے کہ ناصر ملک کو پنجابی شعری روایت کا نہایت گہرا شعور ہے۔ اس کی ایک مثال اس نظم میں دیکھیے۔
اکھاں دے وِچ یاد سنیہڑے
مائے! میں نی کجلا پَوناں
پتی پتی وِینی کھاوے
مائے! میں نی گجرا پَوناں
چُنی پھڑ کے بیٹھا ریہندا
مائے! میں نی کوکا پَوناں
سیت ناں دین اجازت مینوں
مائے! ہُن شنگھار نی کرنا
جے کر تیتھوں سردا ہے تے
مائے! میرا یار ملا دے
(نظم: مائے نی مائے)
ناصر ملک کی نظموں اور غزلوں میں ایک پہلو ایسا بھی ہے جو بہت کم شعراء کے ہاں موجود ہوتا ہے، وہ پہلو، دلچسپی کا ہے۔ ان کی غزلوں اور نظموں کا آغاز کسی افسانے کی طرح ڈرامائی ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نظم اور غزل کے شروع میں ہی قاری مکمل طور پر ان کی گرفت میں چلا جاتا ہے اور خاتمے پر مکمل طور پر متحیر ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگرچہ غزل کا ہر شعر الگ سے معنی اور خیال کا حامل ہوتا ہے، لیکن ان کا ہر شعر الگ الگ خیال کا حامل ہونے کے باوجود غزل کے دیگر اشعار کے ساتھ کلی طور پر ہم آہنگ ہوتا ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو ناصر ملک نے بطور خاص پنجابی غزل میں ایک بالکل نیا فکری اور فنی تجربہ کیا ہے یہی بات انہیں آج کی پنجابی شاعری میں ایک منفرد مقام دینے کے لیے کافی ہے۔
***