’’ مجھے اردو بہت اچھی لگتی ہے۔ یہ تہذیب کی زبان ہے ‘‘۔روی کشن شعبہء اردو ،میرٹھ یونیورسٹی میں’’ سیلس کا بازی گر‘‘ کا شاندار آڈیشن
’’ مجھے اردو بہت اچھی لگتی ہے۔ یہ تہذیب کی زبان ہے ‘‘۔روی کشن
شعبہء اردو ،میرٹھ یونیورسٹی میں’’ سیلس کا بازی گر‘‘ کا شاندار آڈیشن
میرٹھ( ۲۷ اپریل) : روزگار کے فقدان سے گذر رہے آج کے دور میں روز کے مواقع کو دلچسپ مقابلے کی شکل میں پیش کر نا قابلِ تحسین اقدام ہے۔شعبہء اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی ،میرٹھ ہمیشہ سے طالب علموں کو روزگار سے جوڑنے کا کوشاں رہا ہے۔اسی سلسلے میں شعبہء اردو نے ای ٹی وی اور سوکیم کمپنی کے مشترکہ اہتمام میں اتر پر دیش اور اتراکھنڈ کے لئے آڈیشن شو ’’ سیلس کا بازی گر‘‘ کی میزبانی کرکے طالب علموں کو موقع عطا کیا۔
تفصیل بتاتے ہوئے صدر شعبہء اردو، ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے کہا ’’ یہ ہم سب کے لئے خوشی کی بات ہے کہ روزگار فراہم کرنے والی کمپنی ہمارے دروازے پر آ ئی ہے۔اس طرح کے آڈیشن میں کا میاب ٹاپ ٹین کو کمپنی دس لاکھ کا پیکج دے گی۔ساتھ ہی ای ٹی وی اسے اپنے چینل پر رئیلیٹی شو کے طور پر دکھائے گا، جس سے کامیاب اور ناکام دونوں طرح کے طالب علموں کو مفت میں شہرت حاصل ہو گی۔
پہلے دن تقریبا ۱۵۰ طالب علموں نے آڈیشن میں حصہ لیا،جس میں ۳۲ کامیاب ہوئے۔دوسرے دن ۳۲ کا آڈیشن بھوجپوری فلموں کے سپر اسٹار جناب روی کشن،ماسٹر شیف کے پہلے شو کی فاتح محترمہ پنکج بھدوریہ ،مارکیٹنگ گرو سندیپ (ممبئی) نے لیا، جس میں تین طلباء کامیاب ہوئے۔
اس موقع پر جناب روی کشن نے شعبہء اردو کا معائنہ کیا اور کہا’’ مجھے اردو بہت اچھی لگتی ہے۔میں اسکرپٹ پڑھ نہیں سکتا،مگر آ پ مجھے اردو کی کوئی کتاب ہندی رسم الخط میں دیں۔‘‘ اس پر اسلم جمشید پوری نے انہیں اپنے ہندی افسانوں کا مجموعہ ’’ جاگتی آنکھوں کا خواب‘‘ اور ’’کہانی ندی‘ ‘ آڈیو البم نذر کیا۔
اسماعیل میرٹھی یادگاری خطبہ اور مہتاب عالم پرویز ؔ کی کتاب ’’کارواں‘‘ اور نعیم انیس کی کتاب ’’میزان افکار‘‘ کا اجراء عمل میں آیا
ادب اطفال عمیق مطالعے،وسیع تجربے،گہرے مشاہدے اور زبان وبیان پر دسترس کا متقاضی ہے۔پروفیسر ارتضیٰ کریم
اسماعیل میرٹھی یادگاری خطبہ اور مہتاب عالم پرویز ؔ کی کتاب ’’کارواں‘‘ اور نعیم انیس کی کتاب ’’میزان افکار‘‘ کا اجراء عمل میں آیا
میرٹھ18؍اپریل2013ء(پریس ریلیز)
شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ اور قومی کونسل برا ئے فروغ اردو زبان،نئی دہلی کے اشتراک سے،شعبہ کے پریم چند سیمینار ہال میں مولانا اسماعیل میرٹھی یادگا ری خطبہ بعنوان’’بچوں کا ادب: تاریخ،ارتقا اور امکانات‘‘ منعقد ہوا۔پروگرام کی صدارت صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے کی۔خصوصی مقرر کی حیثیت سے پرو فیسر ارتضیٰ کریم(شعبۂ اردو،دہلی یونیورسٹی، دہلی)،مہمان خصوصی کی حیثیت سے راجکمار سچان ہوری (سابق،ایم سی ڈی کمشنر،میرٹھ) اور مہمانان ذی وقار کی حیثیت سے ڈاکٹر نعیم انیس (کلکتہ)مہتاب عالم پرویزؔ (جمشید پور) ،ڈاکٹر خالد حسین خاں(صدر شعبۂ اردو،میرٹھ کالج ،میرٹھ )اور معروف ادیب طالب زیدی شریک ہوئے۔جب کہ نظامت کے فرائض شعبہ کے استاد ڈاکٹر آصف علی نے انجام دیے۔
تقریب کا آ غاز حافظ محمد خالد نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ہدیہ نعت فرح نازاور اسماعیل میرٹھی کے مختلف نصیحت آمیز اشعارچاندنی عباسی نے ،استقبالیہ کلمات محمد آ فاق خاں نے اور ڈاکٹر شاداب علیم کے ذریعے لکھا گیا مولانا اسماعیل میرٹھی کا مختصر تعارف عامر نظیر ڈار نے پیش کیا۔مہمانوں نے مل کر شمع رو شن کی اور گلوں کے ذریعے مہمانوں کا استقبال کیا گیا۔
اس کے بعد خصوصی مقرر پرو فیسر ارتضیٰ کریم نے مذکورہ موضوع پر ایک تفصیلی اور جامع خطبہ پیش کیا،جس میں انہوں نے بچوں کے ادب کی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس کے عہد بہ عہد ارتقا ء کی تفصیلات بیان کرتے ہو ئے ،اس کے مستقبل کے امکانات پر بھی مدلل گفتگو کی۔جس نے سامعین کومتحیر کردیا۔انہوں نے کہا کہ آج بچوں کو تعلیم تو دی جارہی ہے لیکن تہذیب نہیں جو صالح معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے۔بچوں کا ادب لکھنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ ادب اطفال عمیق مطالعے،وسیع تجربے،گہرے مشاہدے اور زبان وبیان پر دسترس کا متقاضی ہے۔ کیوں کہ بچوں کی اپنی ایک الگ دنیا ہو تی ہے،ان کی نفسیات،معاملات ،اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت الگ ہوتی ہے جسے سمجھنے اور سمجھانے کے لیے قلم کار کوانہی کے رنگ میں رنگنا ضروری ہے۔اسی لیے بچوں پر لکھنے وا لے ادیبوں کی تعداد کم ہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ کم وبیش ہر بڑے اور تاریخ ساز ادیب و شاعرنے بچوں کے لیے ضرور لکھا ہے۔اسماعیل میرٹھی نے بھی بچوں کی نفسیات کو بخو بی سمجھا اور اپنی تخلیقات میں پیش کیا ہے۔
مہمان خصوصی راج کمار سچان ہوری نے اسماعیل میرٹھی کی شخصیت اور خدمات پر رو شنی ڈالتے ہو ئے کہا کہ اسماعیل میرٹھی بچوں کے ساتھ ساتھ عوام کے شاعر تھے۔انہوں نے ہمیشہ ثقیل الفاظ، مشکل محاورات اور دور ازکار تشبیہات و استعارات کے بجائے عوام میں رائج الفاظ ،روزمرہ کے محاورات استعمال کیے ہیں۔آج اردو اور ہندی کے ادیب اپنی اپنی زبانوں کوفارسی اور سنسکرت کی طرف لے جانے کی کوشش کررہے ہیں ،یہ نقصان دہ نظریہ ہے۔آج پھر ضرورت ہے کہ ہم الفاظ کی شعبدہ بازی سے باز آکرسادہ عام فہم اور سماج میں رائج زبان کا استعمال کریں۔یہی ان زبانوں کی بقا کا واحد راستہ ہے۔
تقریب کے دوسرے حصے میں دو کتابوں ڈاکٹر نعیم انیس کی تحقیقی و تنقیدی کاوش’’میزان افکار‘‘اور مہتاب عالم پرویز کے افسانوی مجموعے’’کارواں‘‘ کی رسم نقاب کشا ئی بھی کی گئی۔میزان افکار پر ڈاکٹر محمد کاظم(شعبہ اردو،دہلی یونیورسٹی، دہلی)نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ نعیم انیس کی یہ کتاب ادبی ،تہذیبی اور ثقا فتی وراثت کو اجا گر کرتی ہے۔اس میں نامور قلم کاروں کے ساتھ ساتھ بہت سے گمنام ادیبوں کی خدمات کو قارئین کے سامنے لایا گیا ہے۔
’’کارواں‘‘ پر اپنے خیالات کا اظہار کر تے ہو ئے ڈاکٹر ریحانہ سلطا نہ(گوتم بدھ یونیورسٹی، نوئیڈا) نے کہا کہ مہتاب عالم پر ویز کی کہانیاں قارئین کو اپنی گرفت میں لیے رہتی ہیں۔وہ معاشرے کے تلخ حقا ئق سے رو شناس کرا تی ہیں جس کی چبھن سے بعض اوقات قاری بے چین ہو اٹھتا ہے۔ان کے کردار پسماندہ طبقات پر ہورہے ظلم و ستم کے خلاف نبرد آزما ہونے کا حوصلہ بخشتے ہیں۔انہوں نے طبقۂ نسواں کوبھی قوت اور سماج میں با عزت مقام عطا کرنے کی کوشش کی ہے۔مہتاب عالم پرویز کی کہا نیاں سماج کی آئینہ دار ہیں۔
صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے کہاکہ اسماعیل میرٹھی ان معدودے چند ادیبوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے ادب کے ذریعے ملک و قوم کی تعمیر میں حصہ لیا ہے۔جب کو ئی ادیب مفکر، دانشور اور ماہر تعلیم بھی ہو تا ہے تو اس کے ادب کے آ فاق بدل جاتے ہیں۔اسماعیل میرٹھی نے اپنی تخلیقات سے نہ صر ف قوم کی اصلاح کا کام اوراتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی بلکہ قوم کے نو نہالوں کے مستقبل کو سنوارنے وا لا ادب پیش کر کے انسانیت کے تن مردہ کی جڑوں کو سینچنے کا فریضہ انجام دیا۔ساتھ ہی لڑکیوں کی تعلیم کا نہ صرف نظریہ پیش کیا بلکہ عملی طور پر ان کی تعلیم کا انتظام بھی کیا۔
اس مو قع ڈاکٹر خالد حسین خاں،طالب زیدی،ڈاکٹر نعیم انیس ،مہتاب عالم پرویز اور قاری شفیق الرحمن قاسمی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا جس کا لب لباب یہ تھا کہ اسما عیل میرٹھی نہ صرف ایک ادیب تھے بلکہ ایک عظیم ماہر تعلیم بھی تھے۔انہوں نے تعلیم نسواں پر بہت زور دیا۔ان کی تصنیف کردہ کتابیں آج مدارس میں توپڑھائی جاتی ہیں۔مگر افسوس یہ ہے کہ اسکول اور کالجز میں اس کا رواج ختم ہو رہا ہے جس کے نقصانات ہمارے سامنے ہیں۔
پروفیسر ارتضیٰ کریم ،ڈاکٹر نعیم انیس اور مہتاب عالم پرویز کو اس مو قع پر شعبۂ اردو کی جانب سے گلدستہ،شال اور نشان یادگار دے کر ان کا اعزاز بھی کیا گیا۔اس مو قع پرپروفیسروائی وملا،ڈاکٹر الکا وششٹھ، ڈاکٹر فرحت خاتون، ڈاکٹر قمر النساء زیدی، ڈاکٹر عفت ذکیہ،صبیحہ خاتون،ڈاکٹر آمرین، قمر الحق،عرش منیر،ہیمنت گویل، انل شرما،بھارت بھوشن،جتندر شرما،سریندر شرما،نایاب زہریٰ زیدی، اکرام بالیان،محمد اظہر اور کثیر تعداد میں طلبا و طالبات نے شرکت کی۔
****
’’اردوشاعری کا انقلابی کردار‘‘ : ڈاکٹر زین رامشؔ
’’اردوشاعری کا انقلابی کردار‘‘
اہمیت و معنویت اور معانی و مفاہیم کا مختلف الجہات اور توضیحی مطالعہ
ڈاکٹر زین رامشؔ
ادب و فکر ودانش کا ایک سلسلۃ الذہب ایسا بھی ہے جو ایک طرف تو علمیت و دانشوری کا حق ادا کرتا ہے اور دوسری طرف اپنی روشنی سے سماجی و سیاسی فعالیت کی راہوں کو بھی منور کرتا ہے۔ آزاد ہندوستان میں یہ سلسلۃ الذہب مولانا ابو الکلام آزاد اور ڈاکٹر ذاکر حسین سے سید مظفر حسین برنی ،اخلاق الرحمٰن قدوای اور ڈاکٹر سید احمد تک پہنچتا ہے۔ ڈاکٹر سید احمد نے اپنی سیاسی اور سماجی ترجیحات سے قومی زندگی کے مختلف گوشوں کو آراستہ تو کیا ہی ہے اپنی علمی اور ادبی فتوحات کے ذریعہ بھی ایسے نقوش مرتسم کئے ہیں جو قابل تقلید بھی ہے اور ناقابل فراموش بھی۔
میرے پیش نظر اور زیر مطالعہ موصوف کی انتہائی اہم تحقیقی کاوش’’ اردو شاعری کا انقلابی کردار‘‘کا تیسرا ایڈیشن ہے ظاہر ہے یہ اپنے آپ میں ایک بے حد اہم دل چسپ اور نتیجہ خیز موضوع ہے اور ڈاکٹر صاحب نے موضوع کا جس طرح حق ادا کیا ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ انصاف کیا ہے تو بس یہی کہتے بنتا ہے کہ
سلیقہ دامن دل می کشدکہ جاایں جاست
اور شاید اسی لئے حرف آغاز کے تحت ڈاکٹر ملک زادہ منظور احمد نے جہاں اپنی بات کا آغاز دانشورانہ فکر کے اس اظہار کے ساتھ کیا ہے کہ’’علم و دانش تلاش و تحقیق اور جستجو و آرزو کی کوئی منز ل ،منزل آخر نہیں ہوتی نئی شہادتیں پرانے مسلمات کو رد بھی کرتی ہیں اور پرانے مسلمات نئی شہادتیں پا کر اور بھی زیادہ معتبر اور ناقابل تردید ہوتے رہتے ہیں۔رد و بدل اور حذف و اضافہ کا یہ سلسلہ ادبی تحقیق میں بھی جاری و ساری رہا ہے۔ ہم صرف شاہراہ علم پر اپنے اکتسابات سے چراغ روشن کرتے ہیں اور ہمارے بعد آنے والے انہیں کی روشنی میں اپنا سفر جاری رکھتے ہیں اور اپنی منزل کا تعین کرتے ہیں‘‘ وہیں اپنی ان تمہیدی سطور کے بعد وہ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ ڈاکٹر سید احمد کا تحقیقی مقالہ ’’اردو شاعری کا انقلابی کردار‘‘ان چند معیاری تحقیقی کارناموں میں شامل ہے جن پر بجا طور سے فخر کیا جا سکتا ہے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ آزادی کے بعد جس تیز رفتاری سے دانشگاہوں میں لکھے جانے والے تحقیقی مقالات انحطاط پذیر ہوئے ہیں ان میں یہ مقالہ مستثنیات میں شامل ہے اور تحقیق و تنقید دونو ں کا بھرم قائم رکھنے میں ممدو معاون ثابت ہوا ہے۔
بے شک ’’اردو شاعری کا انقلابی کردار‘‘ ایک ایسا اہم اور یاد گار تحقیقی اور تنقیدی کارنامہ ہے جسے اردو کی علمی و ادبی تاریخ میں فراموش نہیں کیا جا سکتا شاید یہی وجہ ہے کہ کتاب پر تبصر ہ کرتے ہوئے معین اعجاز نے بھی بلا بلیغ اشارہ کیا ہے۔انکا خیال ہے کہ ’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب کوئی ایسا تحقیقی مقالہ نظر آتا ہے جس میں واقعی محقق کا خون جگر شامل ہو تو ایسا لگتا ہے کہ دنیا کے ادب میں خوشگوار ہوا کا جھونکا سا آیا ہو۔ ڈاکٹر سید احمد کا مقالہ ’’اردو شاعری کا انقلابی کردار‘‘ایک ایسا ہی مقالہ ہے جسے پڑھ کر لگا کہ واقعی کوئی چیز پڑھی جیسا کہ عنوان ہی ہے ظاہر ہے کہ اس کے تحت کسی ایک دور یا کسی خاص تحریک کا احاطہ نہیں کیا گیا ہوگا بلکہ مجموعی طور پر اردو شاعری کے تمام ادور کو کھنگھالا گیا ہوگا ان عناصر کی نشاندیہی کی گئی ہوگی جس میں اردو شاعری کا انقلابی کردار ابھر کر سامنے آسکے۔ اس مقالے میں واقعی یہی بات ہے بلکہ اس سے بھی سوا ہے‘‘۔
باب اول سے باب آخر تک کل سات ابواب میں عہد بہ عہد اور قدم بقدم اردو شاعری کے انقلابی کردار کو جس تفصیل ،توضیح اور انفرادیت و تنوع کے ساتھ پیش کیا گیا ہے وہ محض ایک رسمی تحقیقی کام کا حصہ نہیں ہو سکتا بلکہ یہ تب ہی ممکن ہے جب فکر ونگاہ کی گہرائی و گیرائی اس کا سرنامہ بن جائے اور محقق و ناقد موضوع کے تمام پہلوؤں کے ساتھ اس طرح انصاف کرے جس طرح ڈاکٹر صاحب موصوف نے کیا ہے۔ ڈاکٹر سید احمد کی شخصیت سے واقفیت رکھنے والے اس بات سے بخوبی واقف ہیں فی الوقت ریاست جھارکھنڈ کے اہم ترین اور پر وقار عہدۂ جلیلہ پر متمکن ہونے سے قبل بھی وہ ایک انتہائی مصروف ترین اور سرگرم سیاست داں کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کرتے رہے ہیں۔ گویا ریاست جھارکھنڈ کے گورنر ہونے سے قبل مختلف اوقات میں انہوں نے چار مرتبہ ریاست مہاراسٹر کی کرسی وزارت کو سرافراز کیا ہے اور جاننے والے یہ بھی جانتے ہیں کہ سیاسی مصروفیات کے ساتھ ہی ساتھ پوری ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ مہناز ادب اردو کی زلف سوارنے کا کار مستحسن بھی انجام دیتے رہے ہیں اور ان کے مساعی کو قبولیت عوام و خواص بھی حاصل رہی ہے ۔حلقۂ سیاست میں جہاں ایک طرف محترمہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی سے لے کر سونیا گاندھی ،شرد پوار ،سشیل کمار شنڈے ، شیو راج پاٹل، گرو داس کامت، غلام نبی آزاد ، شنکر راؤ جوہان ، ولاس راؤ دیشمکھ وغیرہ کے علاوہ صدور جمہوریہ ہند آر ۔ونکٹ رمن ،شنکر دیال شرما،اے۔ پی جے ۔عبد الکلام وغیرہ کے ساتھ ان کے قریب ترین تعلقات رہے ہیں وہیں دوسری طرف اردو ادب کی نابغہ شخصیات کیفی اعظمی ،ظ۔ انصاری ،علی سردار جعفری،مجروح سلطان پوری ، واجدہ تبسم اور ملک زادہ منظور احمد وغیرہ کے ساتھ بھی ان کے قابل ذکر مراسم رہے ہیں۔ جس کے ثبوت موصوف کی تازہ ترین تصنیف (خود نوشت سوانح حیات)پگڈنڈی سے شاہراہ تک سے پوری طرح فراہم ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب موصوف کی زیر تذکرہ کتاب ’’اردو شاعری کا انقلابی کردار‘‘جیسا کہ سطور بالا میں بھی عرض کیا جا چکا ہے سات ابواب پر مشتمل ہے جس کا ساتواں باب تلخیص و نتائج ہے جب کہ چھ ابواب اس طرح ہیں:۔
باب اول انقلابی کردار، حقیقی مفہوم اور تشکیلی عناصر
باب دوم دکنی دور ،تہذیبی آمیزش کا اظہار
باب سوم شمالی ہند میں پہلا دور، سماجی اور اقتصادی بحران کی نمائندگی
باب چہارم پہلی جنگ آزادی، عوامی نقطۂ نظر کی ترجمانی
باب پنجم 1857تا1936 قومی شعور اور تاریخی بصیرت کی عکاسی
باب ہشتم 1936تا1947 قومیت و اشتراکیت،سیاست و انسانیت کے امتزاج کی پرداخت
باب اول میں نہایت محنت ،وضاحت اور ارتکاز کے ساتھ موضوع کے پہلوؤں اور اس کے حدود کو متعین کیا گیا ہے اور اس کی اہمیت ، معانی و مفاہیم اور مختلف جہات کا سیر حاصل مطالعہ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر اس حقیقت کے اظہار پر زور دیا گیا ہے کہ اردو شاعری میں انقلابی عوامل اس کے آغاز سے موجود رہے ہیں ہر چند کے طرز و ادا میں ہر عہد کے اپنے امتیازات رہے ہیں۔حقیقت نگاری ، انسانیت اور سماجیات کارشتہ اردو شاعری کے ساتھ اردو شاعری کے ساتھ ایسا پائدار رہا ہے جو اس کے انقلابی کردار پر دال ہے بقول محترم ڈاکٹر سید احمد ’’حقیقت یہ ہے کہ اردو شاعری میں ترقی پسندی یا انقلابیت ابتداء سے موجود رہی ہے البتہ اس کے روپ رنگ ،نقش و نگارہر دور میں الگ تھے۔‘‘
باب دوم میں دکنی شاعری کے حوالے سے بھر پور گفتگو کی گئی ہے اور اس کو انقلابی کردار کی شناخت کا دور آغاز بتایا گیا ہے جس کے تحت سلاطین دکن کی انسان دوستی اور وسیع المشربی پر خاص گفتگو کی گئی ہے ایک طرح سے سلاطین دکن کے سیکولر اور انسان دوست مزاج نے شاعری اور ادب کو بھی متاثر کیا تھا اور اس عہد کے سماجی منظر نامے پر بھی گہرے نقوش مرتسم کئے تھے۔ڈاکٹرصاحب موصوف رقم طراز ہیں کہ :۔
’’اکبر سے پہلے دکن کے مسلم حکمرانوں نے ہندو مسلم اتحاد کی زبردست داغ بیل رکھ دی تھی ۔‘‘جب کہ علی عادل شاہ کے تعلق سے ڈاکٹر صاحب نے بہت خوبصورت بات لکھی ہے’’اس نے شاہی تخلص نہ استعمال کرتے ہوئے خود کو مدن روپ یا مدن گوپال یعنی محبت کا راجا کہا ہے‘‘
باب سوم میں شمالی ہند کی سماجی و ادبی فضا اور شہر آشوب کی انقلابی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے اور ناجی کے شہر آشوب سے نظیر اکبر آبادی کی نظموں تک گفتگو کو پھلایا گیا ہے ۔باب چہارم میں 1857ء کے انقلاب اور اردو شاعری پر اس کے اثرات کو اس کا موضوع بنایا گیا ہے اور خصوصاً حب الوطنی کے پہلو کو نہایت خلوص کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے۔باب پنجم میں1857ء سے1936 تک حب الوطنی اور جذبۂ آزادی کے بڑتے ہوئے اثرات کو نہایت جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اور ان تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے جو اہم اور لازمی تھے۔باب ششم میں 1936ء سے1947ء تک اردو شاعری کے اہم ترین انقلابی کردار پر نہایت جامع اور با معنی گفتگو کی گئی ہے اور اس عہد کی نمائندہ شاعری کے اہم اقتباسات پیش کئے گئے ہیں۔باب ہفتم کو محاکمے کی حیثیت حاصل ہے جب کہ باب ہشتم کتابیات کے اشاریے پر مشتمل ہے۔
اختتام کلام سے قبل ضروری محسوس ہوتا ہے کہ دانشورانہ فکر کے اظہار کا وہ انداذ بھی پیش کیا جائے جو ’’عرض مصنف‘‘ کے تحت سامنے آتا ہے۔سطور ذیل سے نہ صرف دانشورانہ فکر کے نمونے سامنے آتے ہیں بلکہ ڈاکٹر صاحب موصوف کے انفرادی اسلوب کا تنوع بھی اپنی جلوہ سامانی دکھاتا ہے۔
’’اردو شاعری کے مختلف موضوعات ، رجحانات اور اسالیب پر معتدبہ تحقیقی سرمایہ فراہم ہو چکا ہے لیکن دوسری طرف
اردو زبان وادب کے ساتھ اپنوں اور بیگانوں نے ناانصافیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ روا رکھا ہے، جو اردو اکیڈمیوں
کے قیام کے بعد بھی ختم نہ ہو سکا اور اردو کو بدستور مسلمانوں کی زبان قرار دیکر فرقہ پرستی کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور اردو
کے لئے مراعات کے اعلان کو سرکار کی اقلیت نوازی کہہ کر خوب شور مچایا گیا۔ پس اردو زبان کے حسن کی برق پاشیوں
کو عام کرنے کے لئے ضروری معلوم ہوا کہ اردو شاعری نے ابتدا سے ہندوستانی سماج کے تہذیبی ارتقاء ، ایک متحدہ قومیت
کی تشکیل اور سیاسی آزادی کی جد و جہد نے جو ممتاز کردار انجام دیا ہے اسے عوام کے سامنے پیش کیا جائے‘‘
محترم ڈاکٹر سید احمد مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اتنے اہم موضوع کو اتنے سارے ابواب میں تقسیم کر کے اس کے تمام پہلوؤں کا جامع اور کثیر الجہات مطالعہ پیش کیا اور وہ کام کیا جو کہیں صدیوں میں ہوا کرتا ہے ۔اردو افسانے کے ارکان اربع کے سر فہرست رکن کرشن چندر نے جب اپنا شہرت یافتہ افسانہ ’’کالو بھنگی‘‘لکھااور وہ منظر عام پر آیا تو گویا اسلوبیاتی اعتبارسے اردو افسانے کے ٹھہرے ہوئے پانی کے سینے پر ایک وزنی پتھر آگرااور وہ ارتعاش پیدا ہوا کہ جس کی لہروں کا شور دور دور تک سنائی دیا اور یہ بات موضوع بحث و تذکرہ بنی کہ افسانہ
’’ اس طرح کے موضوعات پر ‘‘اور ’’اس طرح‘‘لکھا جاتا ہے ۔ڈاکٹر صاحب موصوف کی کتاب’’ اردو شاعری کا انقلابی کردار ‘‘بھی یہ اعلان کرتی نظر آتی ہے کہ تحقیقی کاوش ’’اس طرح کے موضوعات پر‘‘اور ’’اس طرح‘‘کی جاتی ہے۔
ڈاکٹر سید زین الحق (زین رامشؔ )
شعبہ اردو، ونوبابھاوے یونیورسٹی
ہزاریباغ
Mob:-9431160183
zainramish@yahoo.in
ادب اور اخلاقیات : اسلم بدر
ادب اور اخلاقیات
اسلم بدر
دو شاہکار تصویریں آپ کے سامنے ہیں۔ ایک کا عنوان ہے’ مونالیزا‘ ، دوسری تصویر کا عنوان ہے ’دی ریپ‘ ( انقلاب فرانس کے پس منظر میں) ۔ دونوں تصویریں مصور ی کی دنیاکا شاہکار سمجھی جاتی ہیں۔ مونالیزا ایک خوبصورت عورت کی شبیہ ہے ، جس میں مصور نے اپنا تمام ہنر اُس عورت کے لبوں پرکھیلتی ہوئی پر اسرار مسکراہٹ پر صرف کیا ہے۔ ’دی ریپ ‘ میں بھی ایک عورت ہی ہے، مگر مادر زاد برہنہ ہے جس کے ارد گرد کچھ فوجی اس کے ناموس کی دھجیاں اڑانے کے در پئے ہیں۔ مصور نے اپنی ساری ہنر مندی اُس برہنہ عورت کے بدن کے قوس اور مختلف اعضاء کے پیچ و خم پر صرف کر دی ہے۔ ایک عام ناظر جب پہلی تصویر دیکھے گا تو اس کی نظر سب سے پہلے اُس عورت کے پُر وقار حسن پر پڑے گی، وہ عام ناظر اگرناقد بھی ہے تو یہ بھی محسوس کرے گا کہ اس عورت کے ہونٹوں پر سجی ہوئی خفیف سی مسکراہٹ کس قدر پر اسرار ہے اور تب اسے ایک روحانی سر شاری محسوس ہو گی ۔دوسری تصویر کو دیکھتے ہوئے عورت کا حسن تو کہیں دور جا پڑے گا، ایک برہنہ عورت کے بدن کے قوس پر اس کی نگاہیں جم جائیں گی ۔ وہ یہ بھی دیکھے گا کہ کس فوجی کا دست تصرف عورت کے بدن کے کس حصے پر کیساہے اور یہ بھی دیکھے گا کہ فوجیوں کے چنگل سے آزاد ہونے کے لئے اس برہنہ عورت کے بدن میں کیسی کھینچا تانی چل رہی ہے۔ایک عام ناظر کو یہ تصویر ایسے جنسی ہیجان میں مبتلا کردے گی کہ وہ چٹخارے لے لے کر بار بار اس تصویر کو دیکھنا چاہے گا ، ہو سکتا ہے اس کا بے حس دل یہ تمنا بھی کرے کہ کاش فوجیوں کے بیچ وہ بھی ہوتا۔اور اگر ناظر، ناقد بھی ہے اور اس کے دل میں سماجی شعور زندہ ہے تو اس مجبور عورت کے تئیں ہمدردی کا جذبہ بھی جاگ سکتا ہے۔ ایک بات اور، کیا ایک مجبور عورت کی بے بسی کے اظہار کا یہی ایک ذریعہ ہے کہ اسے ننگا کر کے درندوں کے حوالے کر دیا جائے۔ فیصلہ آپ کر لیں۔
عرض کر چکا ہوں کہ دونوں ہی تصاویر مصوری کا اعلیٰ نمونہ ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ مصور کیا دکھانا چاہتا ہے؟ کیسے دکھانا چاہتا ہے؟ جو کچھ وہ دکھانا چاہتا ہے ، اس کا اثر دیکھنے والوں پرکیا پڑے گا ؟ دونوں تصویروں کو اپنے سامنے رکھ کر آپ سوچیں ، آپ کے اندر سے ایک آواز ضرور آئے گی…..پہلی تصویر کو ہم اپنے اہل و عیال کے ساتھ دیکھ سکتے اورمصور کی ہنر مندی پر سیر حاصل گفتگو بھی کر سکتے ہیں۔ دوسری تصویر کے لئے ہماری سماجی تہذیب ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ ہم اسے اپنے اہل و عیال کے ساتھ دیکھیں ، تصویر کے حسن و قبح پر گفتگو تو دور کی بات ہے۔
ادب کا معاملہ بھی مصوری کے معاملات سے کچھ زیادہ الگ نہیں ہے۔مصوری میں مصور کے ہاتھوں میں مو قلم ہے ادب میں ادیب کے ہاتھوں میں قلم۔مصوری میں لکیروں ، رنگوں کی ہنر مند آمیزش ہوتی ہے، ادب میں الفاظ ( زبان، بیان) کا ہنر مند استعمال۔ مگر جس طرح مذکورہ بالا دو نوں شاہکار تصویروں میں ہم نے موقلم کی جنبش اور رنگوں کی ہنر مند آ میزش کے علاوہ بھی کچھ اور دیکھا ہے، یہی ’ کچھ اور ‘ ادب کا بھی لازمی جزو قرار پائے گا۔ یہی ’کچھ اور‘ ہے ….. اخلاقیات۔
کبھی آپ نے اس نکتے پر ضرور غور کیا ہو گا کہ ہم ادب کو ’ادب‘ ہی کیوں کہتے ہیں۔غور کیجئے گا تو لفظ ا’دب ‘کا ماخذ دو بنیادی ستونوں پر کھڑا نظر آئے گا ، ایک لفظ (یا زبان و بیان) اور دوسرا اخلاق (یاتہذیب )۔ اسی اخلاق کی بنیاد پر ہم ادب کو ’ادب ‘ کہتے ہیں۔صرف لفظوں کی مخصوص ترتیب و ترکیب اور اس کے حسن کو ہی ہم ادب نہیں کہہ سکتے ، اسے ادب کہنے کے لئے لفظوں کے حسین ترکیب و ترتیب کے ساتھ ہماری تہذیب و اخلاق کی بنفشی شعاعوں کا منعکس ہونا بھی لازمی ہو گا۔ یہاں لفظوں کے حسن پر بھی غور کیجئے۔لفظوں کا یہی حسن ترتیب، ادب میں جمالیات کہلاتا ہے۔ اللہ خود حسین ہے اور حسن کو پسند کرتا ہے۔ اگر حسن ایسا ہے تو اسے سر تا سر خیر ہی خیر ہونا چاہئے۔ شر سے اس کا کیا تعلق؟ دنیا کے تمام فنون لطیفہ کا تعلق ایسے ہی حسن سے ہونا چاہئے۔ ادب میں بھی اسی حسن کی جلوہ گری مقصود ہو گی ۔اپنی منزل حیات تک پہنچنے کے لئے ہمارے سامنے دو راستے ہیں، خیر اور شر ۔ ہمارے ادب میں بھی ہماری زندگی کے نقش و نگار ابھرتے ہیں ، سوادب کے سامنے بھی یہی دو راستے ہوں گے ، خیر اور شر۔ادب میں، خصوصی طور پر شعری ادب میں بغیر جذبۂ عشق تخلیق ا دب ممکن نہیں۔ اہمارے ادب میں اگر حسن کا پہلو خیر کا ہے تو عشق ہے اور اگر حسن مائل بہ شر ہے تو ہوس۔اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ادب میں عشق کو راہ دینا چاہتے ہیں یا ہوس کو۔ دونوں ہی راہیں آپ کے سامنے کھلی ہوئی ہیں۔عشق بھی شاہکار ہو سکتا اور ہوس بھی۔ ’مونا لیزا ‘بھی شاہکار ہے اور ’دی ریپ‘ بھی۔
عرض کر چکا ہوں کہ ادب کے دو ماخذ ہیں، ایک ہے لفظ (یعنی زبان و بیان) ، دوسرا اخلاق و تہذیب۔ اب اخلاق و تہذیب کے بارے میں یہ کہنے کی ضرورت نہیں رہ جاتی کہ اس کا ماخذ صرف اور صرف ’خیر‘ ہے،’شر ‘ نہیں۔ اس کا پیمانہ سماج ہے فرد نہیں۔ فرد کی فکر اگر سماجی فکر سے ہم آہنگ نہ ہو تو اسے بے ادبی، بے راہ روی،فحاشی، گندگی کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔لہذا ادب کو ادب ہم اسی وقت کہیں گے جب الفاظ (اپنی جمالیات کے ساتھ) اخلاق و تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ادب پاروں میں ان دونوں عناصر کا پایا جانا لازمی قرار پاتا ہے۔ اگر کسی ادب پارے میں صرف اخلاقیات ہی اخلاقیات ہے ، لفظوں کے استعمال میں تخلیقی جمال نہیں ہے تو اسے کچھ اور کہہ لیجئے ، ادب نہیں کہا جا سکتا۔ ٹھیک اس کے بر عکس اگر لفظیات کے رکھ رکھاؤ میں انتہائی جمالیاتی عناصر کے با وجود بیان، اخلاق و تہذیب سے خارج ہے تو ایسے ادب کو بھی ادب سے خارج ہی سمجھنا چاہئے۔ ایک ہی مثال کافی ہو گی۔مثنوی سحر البیان کی پوری داستان ادب پارہ کہلاتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مثنوی میں زبان و بیان کی ایسی جمالیاتی فضا تیار کی گئی ہے کہ ایک ایک شعر پر منہہ سے واہ نکل جائے ۔ مگر جب شاعر ایک دوشیزہ کے بدن (سینے) کا بیان کرتے ہوئے کہتا ہے …..
گیا باغباں حسن کا رکھ کے بھول کنول کی کلی پر بنفشے کا پھول
تو اس شعر کو ادب کا نام نہیں دیا جا سکتا۔حالانکہ شعر میں سجے سجائے الفاظ بھی ہیں، خوبصورت تمثیل بھی ہے، شعر جمالیات کی بہترین مثال ہے۔ مگرکنول کی کلی اور بنفشے کا پھول جیسی تمثیل کا چٹخارہ تو ہم لے لیتے ہیں مگراس کی تشریح اپنی نوخیز بیٹی یا جوان طالبہ کے رو برو نہیں کر سکتے۔ہمارا سماج ، ہماری تہذیب اس کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم اپنی بیٹیوں کو بتائیں کہ کنول کی کلی اور بنفشے کا پھول کیا ہیں اور کیوں ہیں۔ شعر کو زبان و بیان کے اعتبار سے خوبصورت تسلیم کرتے ہوئے بھی اخلاقی و تہذیبی فقدان کی وجہ کر ادب سے خارج کرنا ہو گا۔کیا ضروری تھا کہ ایسی معیاری مثنوی میں یہ اور اس جیسے دوسرے غیر اخلاقی اشعار شامل کئے جاتے ۔ اس کے بر عکس ایک شعر اور دیکھیں:
رب کا شکر ادا کر بھائی جس نے ہماری گائے بنائی
اس میں نہ کوئی غیر اخلاقی بات ہے نہ بد تہذیبی ، مگر اسے بھی ہم ادب نہیں کہہ سکتے ۔کیونکہ اس شعر میں زبان کی جمالیات نام کی کوئی چیز نہیں ہے ،محض لفظوں کی ایک سپاٹ بندش ہے۔ نثری ادب میں لفظی جمالیات کے فقدان کے با وجود کسی حد تک اس طرح کی سادہ بیانی کھپا لی جا سکتی ہے کہ نثری ادب میں سادہ بیانی سے کام لینا اور خط مستقیم پر چلنا کام کی چیز ہوتی ہے وہیں شعری ادب میں تہہ داری اور خط منہنی کا سفر اہم ہے۔
اخلاق کا وہ تصور جو با لعموم اصلاحی ادب میں ملتا ہے ، مثلاً فکشن میں ڈپٹی نذیراحمد جیسا اخلاقی رنگ بہت دیر پا نہیں ہو سکتا ۔مگر ایسے ہی اصلاحی ادب میں جب ہم شبلی نعمانی، مولانا ابو الکلام آزاد، کی طرف رجوع کرتے ہیں تو حسن یا جمالیات کی رنگ در رنگ دھنک سی بکھرتی دکھائی دیتی ہے۔
افسانوی ادب میں منٹو کو لے لیجئے، اس میں کسی کو کوئی شک نہیں کہ وہ اپنی سادہ بیانی اور خط مستقیم کے سفر میں انتہائی کامیاب افسانہ نگار گزرا ہے۔مگر ایک عجیب حیرت ناکی ہے کہ ہمارے ناقدین، منٹو کی عظمت کے بیان میں گھوم پھر کے وہی سات آٹھ افسانوں کے حوالے پیش کرتے ہیں جن میں جنسی تلذز کی بھر مار ہے، مثال کے طور پر ٹھنڈاگوشت، کھول دو وغیرہ ۔حالانکہ منٹو نے دو سو تیس سے زاید افسانے لکھے ہیں ، جن میں کئی اعلیٰ افسانہ نگاری کی عمدہ مثال ہیں۔ منٹو کے متعلق ناقدین فن کی ایک عام رائے یہ بنتی ہے کہ ’گندگی میں اتر کے اس نے گندگی کو سمجھنے اور سمجھ کر من و عن پیش کرنے کی کوشش کی ہے‘۔ جہاں تک سمجھنے کی بات ہے تو مجھے کہنے دیجئے کہ گندگی کو گندگی سمجھنے کے لئے سنڈاس میں کودنے ضرورت نہیں ہوتی ۔ اور جہاں تک حقیقت کومن و عن پیش کرنے کا سوال ہے ، تو میرے بھائی ! یہ کام اخباری نامہ نگاروں کا ہے۔جیسا دیکھا ویسا ہی بیان کر دیا ۔ شاعر و ادیب کو بھی ان حقیقتوں سے واسطہ پڑتا ہے ، مگر وہ حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے ، نقاشی کرتے ہیں۔کسی منظر کی عکاسی میں کمال تو عکاس کیمرے کا ہے، نقاشی میں مصور کا موقلم اور ادیب کا قلم اپنے جوہر دکھاتا ہے۔
ہم جسے جمالیاتی شاعری کہتے ہیں وہ استعارہ سازی کا ایک عمل ہے۔ جہاں االفاظ اپنے لغوی معنی سے اوپر اٹھ کر معنی آفرینی کی فضا قائم کرتے ہیں۔جہاں ا لفاظ تھرتھراتے ، پگھلتے ہیں ، بکھرتے ہیں ، سمٹتے ہیں،سنورتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی عمل کائناتی نظام میں بھی جاری و ساری ہے، جہاں خالق اپنی تخلیق مکمل کر کے فارغ نہیں بیٹھتا بلکہ ایک ایسا تخلیقی ماحول بھی تیار کرتا ہے کہ ہمہ دم ، دم بدم ٹوٹنے بکھرنے بننے سنورنے کا عمل جاری و ساری رہتا ہے…… کہ آ رہی ہے دما دم صدائے کن فیکون۔
دوسرے لفظوں میں جمالیاتی شاعری دراصل خط منہنی پر چلنے والی تخلیقی شاعری کا دوسرا نام ہے۔ مگر خط منہنی کے اس سفر میں شاعر اکثر الجھ بھی جاتا ہے، ٹھوکریں بھی کھاتا ہے، منہ کے بل بھی گرتا ہے۔ اور پھر ایسا ہوتا ہے کہ ناک کے بغیر اس کا اصلی چہرہ پہچان میں نہیں آتا۔ میر تقی میر جیسا شاعر جس نے انسانی تخلیق و شناخت کے تعلق سے ایسا لازوال شعر کہا:
مت سہل ہمیں جانو ، پھرتا ہے فلک برسوں تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
وہ ’خدائے سخن ‘ میر جب منہ کے بل گرتا ہے تو یہ کہنے سے بھی باز نہیں آتا کہ…… اُس کی دوا تو عطار کے لونڈے کا پاس ہے۔ عام قاری کے لئے معاملہ بڑی الجھنوں کا ہو جاتا ہے کہ اِس ’خدائے سخن میر‘ کو اب کون سا نام دیا جائے؟۔
اپنے تمام شعری محاسن سے سجا سجایا غالب کا شعری دیوان ،جس کے بارے میں یہ کہا گیا کہ ہندوستان کو مغلوں نے دو عظیم شاہکار دئے ، ایک تاج محل دوسرا دیوان غالب۔اسی دیوان کا پہلا شعر :
نقش فریادی ہے کس کی شوخئ تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
اس بے بہا شعر میں غالب ایرانی شہنشاہوں کی درباری تہذیب کے حوالے سے کائنات کی بے ثباتی کی بات کرتا ہوا جہاں وہ واقعی ’اسداللہ ‘ نظر آتا ہے،وہیں …. کہا جو اس نے ذرا میرے پاؤں داب تو دے ….یا …… دھول دھپا اس سراپا ناز کا شیوہ نہیں ہم ہی کر بیٹھے تھے غالب پیش دستی ایک دن
….. کہتا ہواسد اللہ خاں غالب منہ کے بل گر کے محض ایک عیاش مغل بچہ ’خاں‘ کے علاوہ اور کچھ نہیں رہ جاتا۔
شعری جمالیات سے بھر پور فرا ق گورکھپوری کے اس شعر کو لے لیجئے….!
شام بھی تھی دھواں دھواں ، حسن بھی تھا اداس اداس دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں
اس شعر میں فراق منظر نگاری،پیکر تراشی، استعارہ سازی،تخلیقی جمالیات کی بلندیوں پر کھڑا نظر آتا ہے۔مگر اسی فراق کی ایک رباعی میں ،وہی اداس حسن ،دوران وصلت یوں پینگے لینے لگتا ہے کہ قاری کے ماتھے سے پسینہ اور منہ سے رال ٹپکنے لگتی ہے۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو حقیقت نگاری ہے،دوران وصلت یہ سب کچھ تو ہوتا ہی ہے، بلکہ اس سے بھی بہت کچھ سوا ہوتا ہے۔ جی ہاں! آپ بالکل صحیح فرما رہے ہیں۔فراق کو تو چھوڑئے ، ایک عالم دین ، ایک چتر ویدی پنڈت بھی اپنی ازدواجی زندگی میں ایسے پینگے لیتے ہوئے جسم سے گزرتا ہے، گزرتا رہتا ہے ۔ مگر اوروں کی نگاہ سے چھپ کر، بند دروازوں کے اندر۔ بعض اوقات تو ایسی بے حجاب تنہائی میں بھی حجاب کا یہ عالم ہوتا ہے کہ بتیاں بجھا لی جاتی ہیں، ایک دوسرے کو یوں بے حجاب دیکھنے میں بھی حیا آتی ہے۔اب ذرا اس صاحب وصلت سے کہئے کہ اس حقیقت کو وہ سر بازار بھی بے حجاب کر دے تاکہ اوروں کو بھی ایسے پینگے لیتے ہوئے بدن کے جمالیاتی منظر سے لطف اندوز ہو نے کا موقع ملے۔پینگے مارتے ہوئے بدن کو تو چھوڑئے، سر بازار اپنے محبوب کے بدن کی بے حجابی بھی اسے منظور نہیں ہو گی۔یہی ہماری تہذیب ہے، یہی ہمارے اخلاقی پہلو ہیں، زندگی کے بھی اور ادب کے بھی۔
اب تک میں نے شعری ادب کے میناروں کے غیر اخلاقی پہلوؤں کے حوالے پیش کئے ہیں۔ چلئے ایک پست قد ،بلکہ لا وجود شاعر کا بھی حوالہ پیش کر دوں۔ دوسروں کی طرف انگشت نمائی آسان ہے، دیکھنا یہ چاہئے کہ دوسروں کی طرف ایک ہی انگلی اٹھتی ہے، جبکہ ا نگلی اٹھانے والے کی طرف تین انگلیاں اشارے کرتی ہیں۔تو چلئے ، خود اپنی شاعری کے ایک مخرب الاخلاق شعر کے چہرے سے بھی نقاب الٹتا چلوں۔جمشید پور کی عمومی فضا ۱۹۶۴ء اور ۱۹۷۹ء کے فسادات کے بعد زہر آلود ہو چلی تھی۔ ادبی فضا پر بھی اس زہر کا اثرپڑنا تھا سو پڑا۔ فسادی غزلیں کہی جانے لگیں۔ میں نے بھی بے شمار فسادی اشعار کہے اور مشاعروں میں داد بٹورتا رہا، یہاں تک کہ ایسی داد لوٹنے والی شاعری کو ہی شاعری کا معیار بھی سمجھ بیٹھا ۔ مگر ایک شعر نے مجھے وہ لعنت ملامت کی کہ آج تک سر اٹھانا مشکل معلوم ہوتا ہے۔ حالات کے پیش نظر ۱۹۷۹ء میں بس یہ شعر ہو گیاتھا۔ غلطی سے یہ شعر ایک مشاعرے میں بھی سنا دیاگیا۔ میری ہی طرح ذہنی افلاس کے شکار سامعین نے داد کے ڈونگرے بھی برسا دئے۔ مجھے ایسا لگا کہ اس شعر میں کچھ ہے۔ ۱۹۸۸ء میں شائع شدہ شعری مجموعہ ’سفر اور سائے‘ میں وہ شعر شامل بھی کر لیا گیا۔ایک سوچ ہی تو تھی، ایک انتقامانہ جذبہ ہی تو تھا جس کے اظہار نے سر بازارمجھے ننگا کر دیا تھا۔سوچ کو زنجیر پہنانا مشکل ہے مگر اظہار پر تو قابو پایا جا سکتاہے ۔ بات ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ۔کتاب بازار میں آ گئی ، ناقدین نے سانچے میں ڈھلے ڈھلائے مضامین بھی لکھ مارے مگر کسی نے اس شعر کی طرف انگشت نمائی نہیں کی۔ مگر میرے بزرگ دوست سید احمد شمیم نے اپنے مضمون میں لکھا ……. ’’رجزیہ شاعری کی فضا کاڑھتے ہوئے کبھی کبھی اسلم بدر کا لہجہ ایسا انتقامی ہو جاتا ہے جو اعلیٰ انسانی قدروں سے میل نہیں کھاتا‘‘ مگر فوراً ہی میرا دفاع کرتے ہوئے یہ بھی کہہ گزرے کہ …….. ’’وقت کا بہاؤ اور حالات کی ستم ظریفی کبھی کبھی ہمیں انسانی اعلیٰ قدروں سے دور ہٹا دیتی ہے‘‘ ۔اب آپ بھی وہ شعر سن لیں۔ بلکہ اس غزل کے دو شعر سن لیں، پہلے شعر میں حالات کی منظر کشی ہے ، دوسرا شعر وہ ہے جسے سناتے ہوئے میرا سر جھکا ہی رہے گا۔
میان باقی ہے شمشیر گر پڑی ہے تو کیا کہ اب بھی حوصلۂ معرکہ سپاہ میں ہے
ہے دشمنوں کے قبیلے کی ایک لڑکی وہ کہ انتقام کا بھی ذائقہ گناہ میں ہے
میری پوری شعری کائنات میں یہی ایک شعر ایسا ہے جس نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا ہے۔ میں نے ایسا سوچا ہی کیوں؟، سوچا تو لکھا کیوں؟، لکھا تو اسے بازار کے حوالے کیوں کر دیا ؟۔ آج بھی میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا رہتا ہے۔
ضمنی طور پر ایک بہت ہی اہم بات اور عرض کر دوں۔ آج کے نوجوان شاعروں میں ’’عطار کے لونڈے سے عشق‘‘….. ’’محبوب سے دھول دھپا‘‘ یا ’’پینگے لیتا ہوا بدن‘‘ جیسے اشعار کہنے کا رجحان نہیں پایا جاتا۔ میری سمجھ میں اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ناقدین نے شعری ادب میں ایسی جنس زدگی کو کبھی معیار تسلیم نہیں کیا ۔ مگرآج کے افسانوی ادب کا مطالعہ کیجئے تو آپ بھی یہ محسوس کریں گے کہ آج کے اکثر نوجوان افسانہ نگار ’منٹو‘ بننے کے لئے فحاشی کے اعلیٰ مدارج طئے کرنے کو فن سمجھے بیٹھے ہیں۔ منٹو کے ’کھول دو‘ جیسے افسانے پر ناقدین کی داد انہیں ایسا ہی لکھنے پر اکساتی رہتی ہے۔
ناقدین کو ہوشیار ہو جانا چاہئے کہ ان کے اس روئیے سے افسانہ نگاری کی دنیا میں ایک عجیب سی مکروہ فضا تیار ہو رہی ہے۔ ہمارے نوجوان افسانہ نگاروں نے راتوں رات بڑا بننے کی فکر میں جنسی بے راہ روی، لذت پرستی، خود لذتی جیسی پستی کو معیار بنا لیا ہے تاکہ انہیں بھی آج کا منٹو تسلیم کر لیا جائے۔منٹو بننے کے لئے ’ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘ کی انتہائی پیچیدہ نفسیاتی واردات سے الجھنے کے بجائے انہیں شلوار کا ازار بند کھولنا آسان معلوم ہو تا ہے۔
ہمارے کلاسیکی ادب میں بھی اعلیٰ کلاسیکیت کے ساتھ عریانیت و فحاشی کے اعلیٰ نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ملا وجہی کی دو مثنویوں ’سب رس ‘ اور ’قطب مشتری‘ کی مثالیں کافی ہو نگی ۔یاد رکھئے کہ ملا وجہی عالم دین بھی تھے۔ بادشاہ وقت نے اپنے شاہزادے کی اخلاقی تربیت کے لئے ملا وجہی سے ’سب رس ‘ نام کی مثنوی فرمائش کر کے لکھوائی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مثنوی میں ’رموز حکومت‘، ’اسرار زندگی‘ ، ’مذہبی آگاہی‘ کے علاوہ اکثر حصے تعلیمی اور اخلاقی ہیں۔مگر اسی مثنوی میں کچھ مناظر ایسے بھی ہیں جن پر دانشوران کی ترچھی نگاہیں اٹھنی چاہئیں، جن کے خلاف ناقدین کا بے باک قلم اٹھنا چاہئے۔ مگر وہ ایسے اشعار کو بھی جنسی جمالیات کے شربت میں گھول کر پی جاتے ہیں۔ ایسے مناظر سے شہزادے نے کیا اخلاقی درس لیا ہو گا ، یہ تو ملا و جہی جانیں یا خود شہزادہ۔ ہو سکتا ہے شہزادے کی جنسی نا کارگی ایسے اشعار کی شان نزول رہی ہو۔ کونارک کے مندر میں بھی جنسی افعال میں غلطاں و پیچاں شاہکار مورتیوں کا بھی شاید یہی مقصد تھا۔ ملا وجہی کی ’قطب مشتری‘ کا بھی کچھ یہی حال ہے۔ دونوں مثنویاں کالج کے نصاب میں شامل ہیں۔ میں نے کالج کے اردو اساتذہ سے سنا ہے کہ وہ ایسے اشعار سے کترا کے گذر جاتے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کیوں گزر جاتے ہیں؟۔ جواب ملتا ہے ہماری سماجی تہذیب اجازت نہیں دیتی کہ ہم اپنے طلباء و طالبات کے سامنے ایسے اشعار پڑھ کر ان کے معنی سمجھائیں ۔شرم آتی ہے۔ یہی شرم تو ادب میں اخلاقیات کی حدیں مقرر کرتی ہے۔
مارکسی ادب کی طرح ان دنوں اسلامی ادب، اصلاحی ادب، تعمیری ادب کے خوب خوب چرچے ہیں۔ ان تمام رجحانات کو ادب کی اعلیٰ قدریں سمجھتے ہوئے بھی میں ادب کو ادب کی عینک لگا کر ہی دیکھنا پسند کروں گا۔تخلیق ادب کو ادیان، نظریات ، فلسفہ، سائنس کے خانوں میں بانٹ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ہاں! یہ ضرور ہے کہ اگر فلسفیانہ افکار یاسائنسی حقیقتوں سے آپ آشنا ہیں تو فلسفہ اور سائنس کے عناصر آپ کی تخلیقات میں ضرور در آئیں گے ۔ میں اپنے کرم فرما و رہنما ڈاکٹر احمد سجاد اور ڈاکٹر حسن رضا کی مخلصانہ تحریک سے وابستگی کے با وجود معذرت کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ادب کو میں ’اسلامی ادب‘ کی قید با مشقت میں بھی دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ دوبارہ عرض گذار ہوں کہ اگر آپ ادب کی ماہیت کو سمجھتے ہیں اور اسلامی فکر سے آشنا ہیں تو اسلامی قدریں خود بخود آپ کی تخلیقات میں در آئیں گی ۔
اب ذرا ایک اور بات دل تھام کر سن لیجئے۔اخلاقی ادب پر بہت بحث ہو چکی ، مگر سچ تو یہ ہے کہ اخلاقی ادب کا محفوظ آنگن بھی ادب کی وسیع و عریض وادی میں کہیں گم ہو کر رہ جائے گا۔ بقول کسے …. کچھ اور چاہئے وسعت مرے بیاں کے لئے۔بات اگر محض اخلاق کی ہو گی تو اخلاق کے پیمانے تراشتے ہوئے مشرقی اخلاق ، مغربی اخلاق، سقراطی، کنفیو شسی اخلاقیات تک بات جا پہنچے گی۔ادیان و مذاہب کے خانے بھی ادب کے لئے محبس ٹھہریں گے اور ہمارا بے چارہ و بے ضرر ادب ، اسلامی ادب، ہندو ادب، جین ادب ، بودھ ادب،عیسائی ادب ، یہودی ادب، تاؤ ادب، ماؤ ادب اور نہ جانے کتنے خانوں میں بنٹ جائے گا ۔ ہماری فکر کی وسعتیں محدود ہو جائیں گی۔ اگر آج اسلامی ادب کا ایک الگ خانہ بنا بھی لیا جائے تو اسے سنی ادب اور شیعی ادب کے خانوں میں بنٹنے سے کون روک سکے گا۔ پھر مختلف مسالک کی طرح ، حنفی ادب، شافعی ادب، مالکی ادب، حنبلی ادب، غیر مقلد ادب ،یہاں تک کہ حنفی ادب میں بھی بریلوی ادب، دیو بندی ادب کے خانے در خانے بنتے چلے جائیں گے۔ کتنے خانوں میں بانٹئے گا ادب کو؟
موضوع کے مرکز سے ذرا ہٹ کر ، مگر موضوع کے محور کے اندر ہی رہ کر ایک آخری بات اور ۔ ہمارے آج کے مرغ و ماہی پسند ملاؤں کی طرح ادب کو ہرگز ہرگز شرعی عینک لگا کر دیکھنے کی کوشش کبھی نہ کیجئے گا ۔ ورنہ ہمارے شاعر اسلام علامہ اقبال بھی رد کر دئے جائیں گے:
غافل تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں اپنا یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں چاک
بردشت جنون من جبریل زبوں صیدے یزداں بہ کمند آور اے ہمت مردانہ
یہاں تک کہ وہ اقبال بھی شرعی عدالت میں گناہگار ٹھہریں گے جن کی جبین نیاز میں تڑپتے ہوئے سجدے، حقیقت منتظر کو لباس مجاز میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
ادب کو بس ادب رہنے دیا جائے۔بس ہمارا با شعور ذہن ہم سے بار بار ایک ہی سوال کرتا رہے۔ ادب کو ہم ادب ہی کیوں کہتے ہیں؟ اسی سوال کا جواب ، ادب کا علاقہ ہو گا۔جہاں ہماری تہذیب، ہمارا اخلاق ، ہماری ثقافت، ہمارا سماج …… جیسے عناصر، ہمارے ادب کو زوال آمادہ ہونے سے بچاتے رہیں گے اور ہمارا ادب عروج کی منزلیں طئے کرتا رہے گا۔ انشاء اللہ۔
Aslam Badr, Jamshedpur (07-04-2013)
Mobile:09631476773, email:aslambadr@gmail.com
منٹو کے فکشن میں حقیقت نگاری : سیدہ فرحت زرتاج (ریسرچ اسکالر)
منٹو کے فکشن میں حقیقت نگاری
سیدہ فرحت زرتاج (ریسرچ اسکالر)
*سعادت حسن منٹو ۱۴ اگست ۱۹۱۲ کو لدھیانہ کے نزدیک موضع سمبرالہ میں پیدا ہوئے ۔ان کے اسلاف کشمیری تھے ۔ذات کے من وٹی تھے۔
شائد اسی وجہ سے اُنھوں نے منٹو نام اختیار کیا۔پروفیسر وہاب اشرفی تاریخ ادب اردو میں لکھتے ہیں کہ ’’انہوں نے کئی فرضی نام اختیار کئے، مثلاً مفکر، کامریڈ، ،آدم،وٹنم اور خواجہ ظہیرالدین وغیرہ۔‘‘ان کے والد کا نام خواجہ غلام السیدین تھا۔ ۱۹۳۵ میں انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی میں داخلہ لیا لیکن وہاں بیمار ہو گئے اور انہیں علی گڑھ چھوڑنا پڑا ۔ان کے قابل ذکر اساتذہ میں خواجہ محمد عمر جان ،فیض احمد فیض اور صاحبزادہ محمودالظفر کے نام لئے جاسکتے ہیں۔انکے قابل ذکر ہم جماعت ابو سعید قریشی ،خواجہ احمد عباس،مجاز ، جاں نثار اختر ،جذبی ،شاہد لطیف اور سردار جعفری تھے۔
( مندرجہ بالہ جانکاری میں نے تاریخ ادب اردو سے حاصل کی ہے)
عام طور پر منٹو کی شناخت حقیقت پسند افسانہ نگار کے طور پر ہوتی ہے ۔لیکن منٹو متنوع ذہن کے مالک تھے۔ انہوں نے صرف جنس کو ہی موضوع
نہیں بنایا بلکہ انہوں نے تقریباً تمام موضوعات پرطبع آزمائی کی ۔ منٹو نے جب افسانہ لکھنا شروع کیا اس وقت ہندوستان کی حالت نہایت دگر گوں تھی ۔ہر طرف افرا تفری کا ماحول تھا۔جنگ آزادی نیز فسادات سے متاثرہ حالات اور اشخاص کی عکاسی بخوبی انکے افسانوں میں جابجا موجود
ہیں۔منٹو بندھے ٹکے خیالات کے پابند نہیں تھے ۔انہوں نے اپنے وقت کے سماج کو ، ماحول کو ، حالات کو جیسا دیکھا ویسا ہی پیش کیا ۔اپنے ایک مضمون میں منٹو اپنے بارے میں لکھتے ہیں : 151
’’ زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں اگر آپ اس سے واقف ہیں تو میرے افسانے پڑھئے ۔ اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ زمانہ ناقابل برداشت ہے ۔میری تحریر میں کوئی نقص نہیں ۔دراصل موجودہ نظام میں نقص ہے ۔جب کسی کو اپنی بد ہیئتی کا احساس ہوتا ہے تو آئینہ دیکھنے سے کتراتا ہے ۔‘‘
(منٹو کے نمائندہ افسانے ، اطہر پرویز ص۱۱ ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ)
منٹو پر جب فحش نگار ہونے کا الزام لگایا گیا اور ان پر مقدمے چلائے گئے ، اس موقعے پر انہوں نے احمد ندیم قاسمی کو ایک خط میں لکھا کہ: 151
’’پتی ورتا استریوں کے اور نیک دل بیویوں کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے 151 کیوں نہ ایسی عورت کا دل چیر کر دکھایا جائے ، جو پتی سے دور ہو کر دوسرے مرد کے پاس چلی گئی ہے ۔زندگی کو اسی شکل میں پیش کرنا چاہئے جیسی کہ وہ ہے نہ کہ جیسی وہ تھی۔یا جیسی ہونی چاہئے ۔‘‘
(منٹو کے نمائندہ افسانے ، اطہر پرویز ، ص۲۱ ایجو کیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ)
تاریخ کی روشنی میں منٹو کا پہلا افسانہ ’’تما شہ ‘‘ہے۔جس میں جلیاں والاباغ کا قصہ بیان کیا گیا ہے ۔یہ افسانہ ۱۹۱۹ کے مارشل لا اور جلیاں والا باغ کے خونیں مناظر اور جنرل ڈائر کے وحشیانہ مظالم کی یادگار ہے۔ اس افسانے کا تانا بانا باپ اور بیٹے ہیں۔اس افسانہ میں ایک چھ سال کا بچہ ہے جس کا نام خالدہے ۹۱۹ ۱ میں منٹو کی عمر بھی چھ یا سات سال ہی رہی ہوگی، اسلئے یہ گمان گزرتا ہے کہ کہین چھ سال کا بچہ منٹو تو نہیں ۔اک اقتباس پیش خدمت ہے۔
’’بازار آمدورفت بند ہو جانے کی وجہ سے سائیں سائیں کر رہا تھا ۔دور فاصلے سے کتوں کی دردناک چیخیں سنائی دے رہی تھیں ۔ چند لمحات کے بعد ان چیخوں میں ایک انسان کی دردناک آواز بھی شامل ہو گئی ۔خالد کسی کو کراہتے سن کر بہت حیران ہوا ۔ابھی وہ اس آواز کی جستجو کے لئے کوشش ہی کر رہا تھا کہ چوک میں اسے ایک لڑکا دکھائی دیا ۔جو چیختا ،چلاتا ، بھاگتا چلا آرہا تھا۔ خالد کے گھر کے عین مقابل وہ لڑکا لڑ کھڑا کر گرگیا اور گرتے ہی بیہوش ہو گیا ۔ اس کی پنڈلی پر ایک گہرا زخم تھا ۔جس سے فوارہ کی مانند خون نکل رہا تھا ۔یہ سماں دیکھ کر خالد بہت خو ف زدہ ہو گیا۔بھاگ کر اپنے والد کے پاس آیا اور کہنے لگا ۔’’ ابا ابا بازار میں ایک لڑکا گر پڑاہے ۔اسکی ٹانگ سے بہت خون نکل رہا ہے۔‘‘
(تما شا)
منٹو کے مختلف افسانوی مجمو عے سے متعلق بہت سی جانکاری میں نے انٹرنٹ سے حاصل کی۔مثلاً یہ کہ منٹو کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’آتش پارے‘‘ ہے۔ یہ افسانہ۱۹۳۶ میں لاہوری دروازہ ،لاہور سے شائع ہوا ۔ ’’آتش پارے ‘‘کے دیباچے میں انہوں نے لکھا ہے کہ: 151
بچپن سے ہی اُن کی آنکھوں نے ایسے ہی مناظر دیکھے اور ایسے ہی ماحول کو جھیلا ۔اُن کے دِماغ میں جو کچھ نقش بنتاگیا افسانوں کی صورت میں ڈھلتا گیا۔ ٹھیک اسی طرح کا واقعہ افسانہ ’’۱۹۱۹ کی بات ‘‘میں بھی ہے ۔یعنی وہی خونیں مناظر اور انگریزوں کے ذریعہ ڈھائے گئے مظالم۔ یہ افسانہ بھی جلیاں والا باغ کے واقعے سے ہی تعلق رکھتا ہے ۔افسانہ میں دو طوائف بہنوں کاایک بدمعاش بھائی ’’تھیلا‘‘ آزادی کی لڑائی میں شریک ہوکر انگرایزوں کا نشانہ بنا اور اس کی لاش کو دیکھ کر طوائف بہنوں کا کیا حال ہوا ۔ دونوں میں ہمت تھی ، حوصلہ تھا لیکن بے رحم انگریزوں نے انھیں بھی نہیں بخشا۔
منٹو کا دوسرا افسانوی مجموعہ ’’دھواں‘‘ ہے۔ تیسرا افسانوی مجموعہ ’’سیاہ حاشئے‘‘ اور چوتھا افسانوی مجموعہ ’’منٹو کے افسا نے ‘‘ہیں۔منٹو کے افسانوں کے ذریعہ ان کی شخصیت اور ذہن کا انداز ہ لگایا جا سکتا ہے۔ان کے خون میں گرمی تھی ۔وہ انقلاب پرور تھے۔ وہ ادب اور سماج کے باغی تھے۔ انہوں نے زندگی کی تلخ حقیقتوں کا سامنا کیا اور افسانوں کے ذریعہ سماج کو روشناس کرایا ۔ان کی حقیقت نگاری سے متعلق پروفیسر گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں کہ
’’یہ افسانے دبی ہوئی چنگاریاں ہیں ۔ان کو شعلوں میں تبدیل کرنا پڑھنے والوں کا کام ہے۔‘‘
(دیباچہ: آتش پارے)
منٹو کے افسانوں میں کہیں بچپن اور لڑکپن کی شرارت ہے تو کہیں نفسیا ت اور فلسفہ ۔ منٹویوروپی مصنفین سے بہت متاثر نظر آتے ہیں۔ اس ضمن میں پروفیسر وہاب اشرفی لکھتے ہیں کہ: 151
منٹو پر تقریباً چھ مرتبہ مقدمہ چلا ۔تین مرتبہ ہندوستان کی جانب سے ،تین مرتبہ پاکستان کی جانب سے۔کیونکہ وہ آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے ۔اُن کے خیالات کو کبھی لوگ فحش کہتے تھے اور کبھی باغیانہ۔ جب ان پر فحش نگاری اور باغیانہ خیالات کے لئے الزام لگایا گیا ، تب انہوں نے اپنے مضمون میں اس الزام کے جواب میں لکھا، کہ: 151
’’منٹو Doxa کی نقاب اس لئے نوچ پھینکتا ہے کہ وہ اشرافیہ کو ننگا کر سکے ۔منٹو کا فن عورت کی گھائل روح کی کراہ اور درد کی تھاہ پانے کا فن ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اکثر و بیشتر منٹو کے کردار گوشت پوست کے عام انسانوں سے کہیں زیادہ پائیدار اور کہیں زیادہ دردانگیز بن جاتے ہیں ۔وہ ہمیں صدمہ پہنچاتے ہیں ۔جھنجھوڑتے ہیں۔‘‘
(منٹو کی نئی پڑھت ،متن،ممتا اور خالی ٹرین ’جدیدیت کے بعد ‘ ص ۲۲۳ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور ، ۲۰۰۶ ء)
’’جن مصنفین کا ذکر ان کے یہاں بار بار آتا ہے وہ روسو ، مارکس، لینن ، اسٹالین،گورکی اور ان سب کے علاوہ وکٹر ہیو گو ہیں۔ یہ سب ان کے مطالعے میں رہے تھے۔‘‘
(تاریخ ادب اردو ، حصہ دوم ، پروفیسر وہاب اشرفی ص ۸۶۳ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی)
’’ اگر ویشیا کا ذکر فحش ہے تو اس کا وجود بھی فحش ہے۔ اگر اس کا وجود فحش ہے ،اگر اس کا ذکر ممنوع ہے تو اس کا پیشہ بھی ممنوع ہونا چاہئے ۔ویشیا کو مٹائیے ،اس کا ذکر خود بخود مٹ جائے گا۔ ‘‘
(مجھے کچھ کہنا ہے ، منٹو کے مضامین)
منٹو کے ایسے بہت سے افسانے ہیں جس میں وہ دکھانا چاہتے ہیں کہ کس طرح Pimps عورتوں کے ذریعہ ناجائز طریقے سے فائدہ حاصل کرتے ہیں ۔دیکھئے اُن کے افسانے کا ایک اقتباس: 151
’’بابو گوپی ناتھ سے جب مجھے زینت کو بمبئی لانے کی غرض و غایت معلوم ہوئی تو میرا دماغ چکرا گیا ۔مجھے یقین نہ آیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔لیکن بعد میں مشاہدے نے میری حیرت دور کردی ۔بابو گوپی ناتھ کی دلی آرزو تھی کہ زینت بمبئی میں کسی اچھے مالدار آدمی کی داشتہ بن جائے ۔ایسے طریقے سیکھ جائے جس سے وہ مختلف آدمیوں سے روپئے وصول کرتے رہنے میں کامیاب ہو سکے۔‘‘
(بابو گوپی ناتھ)
منٹو کے اس طرح کے افسانے’’ ہتک‘‘ ،’’ ٹھنڈا گوشت‘‘ ، ’’ممی ‘‘، ’’بو‘‘ ، ’’جانکی‘‘ ، ’’ سڑک کے کنارے‘‘ اور’’ پھندنے‘‘ ا سی قسم کے کے افسانے ہیں۔اور ہاں’’ کالی شلوار‘‘ اور’’ بری عورت‘‘ بھی۔ان افسانو ں میں عورت کی مجبوری اور بے بسی کو دکھایا گیا ہے۔اگر چہ وہ غلط دھندہ کررہی ہیں ۔یہ طوائفیں ضرور ہیں جن کو سماج بری عورتیں کہتا ہے برا سمجھتا ہے لیکن ان عورتوں کے بھی دل ہیں اور وہ بھی انسان ہیں وہ جو غلیظ بستیو ں میں رہتی ہیں۔ گندے میلے کپڑے پہنتی ہیں، وہ بھی کسی کی بیٹی ہیں لیکن قسمت کے ہاتھوں ذلت کی زندگی جینے پر مجبور ہیں ۔یہ ماں بن کر بھی ماں نہیں، بیوی بن کر بھی بیوی نہیں۔
طوائفوں سے متعلق مرزا ہادی رسوا بہت پہلے ’’امراؤ جان اد ا‘‘ لکھ چکے ہیں ۔ اس ناول میں بھی طوائفوں کے مسائل کو دکھایا گیا ہے۔ کہ ایک لڑکی طوائف بن جانے کے بعد کہیں کی نہیں رہ جاتی ہے چاہے وہ خوبیاں رکھتی ہویا نہیں جبکہ اس میں اس کا کوئی قصور بھی نہیں ۔وہ مجبورہے۔مظلوم ہے ۔تاہم رسوا اور منٹو میں فرق یہ ہے کہ منٹو نے کوئی شے پردے میں نہیں رکھی جبکہ رسوا نے ہرشے پردے میں رکھی ۔
بیدی نے بھی اپنے افسانوں میں عورت کی مجبوری اور بے بسی کو ہی دکھایا ہے ۔لیکن بیدی کے یہاں عورت ماں ، بہن ، بیٹی اور بیوی ہے ۔ان کا رشتہ پاک ہے ۔منٹو نے سب سے منفرد اور جدا گانہ طرز تحریر اختیار کیا ۔ان کے ایسے افسانو ں میں عورت صرف عورت ہے ۔
جیسا کہ میں نے پہلے ہی لکھا کہ منٹو متنوع ذہن رکھتے تھے ۔انکے فسادات سے متعلق افسانے بھی شاہکار کا درجہ رکھتے ہیں ۔فسادات ہوئے ہندو اور مسلما ن آپس میں لڑے۔ملک کا بٹوارہ ہوا۔ان تمام مسائل کو افسانوں کا رنگ دے کرمنٹو نے اپنی فنکاری کا ثبوت دیا ۔
افسانہ ’’دو قومیں ‘‘ جس میں مرکزی کردار شاردا ہے جو مختار نامی شخص سے محبت کرتی ہے لیکن جب مذہب اور قوم کی بات آتی ہے دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں یہاں مذہب محبت کے درمیان دیوار بن جاتا ہے ۔یہ ایک مسئلہ ہے یہاں دوسرا مسئلہ قوتِ اِرادی کی کمی کا بھی ہے۔ اگر شاردا مذہب تبدیل کرلے ………….. اور اس کے بعد کچھ سوچ کر وہ غم زدہ ہو جاتی ہے اور ر وتی ہو ئی کمرے کا دروا زہ بند کرلیتی ہے ۔
جنگ کے دوران افرا تفری ، بھا گ دوڑ ، گھرچھو ڑ کر کیمپ کی طرف روانگی اور پھر ان پر وحشیانہ حملہ ،ان واقعات کی منظر کشی ’’کھول دو‘‘میں کی گئی ہے ۔مرکزی کردا ر سکینہ حالات کی ستائی ہوئی ہے ،کسی قدر مجبور ہے ،بے بس ہے ۔مظلوم ہے ،ہوش و حواس کھو بیٹھی ہے ۔یہا ں تک کہ سائکلو جیکل مریض بن چکی ہے اور جب کمرے میں روشنی ہوتی ہے تو اس کی نیم مردہ آنکھو ں نے مرد صورت ڈاکٹر کو دیکھ کر اور ادھورا جملہ’ ’ کھول دو ‘‘ سن کر اس مریض پر کیا رد عمل ہوا وہ افسانہ کے آخری جملے سے بخوبی عیاں ہو جاتا ہے۔
منٹو سے متعلق وقار عظیم لکھتے ہیں کہ: 151
’’منٹو میں اچھے افسانہ نگار کی ساری خوبیاں موجود ہیں ۔نئی سے نئی بات سوچ سکنے والا دماغ ،نئی بات کو نئے انداز سے کہ سکنے کا سلیقہ ، زبان و بیان پر قدرت ، اپنے ماحول کو غور سے دیکھ کر اس میں سے کام کی باتیں چن لینے والی نظر اور ہر چیز میں طنز و مزاح کا پہلو تلا ش کر سکنے کی صلا حیت۔‘‘
(نیا افسانہ ، وقار عظیم ، ص ۱۶۴ ایجو کیشنل بک ہاؤس ، علی گڑھ)
افسانہ ’’گور مکھ سنگھ کی وصیت ‘‘ میں افسانہ نگار نے ہندو مسلم فسادکا نقشہ کس ڈراما ئی انداز میں پیش کیا ہے۔ کس طرح فسادات کے ذریعے ہندو مسلم ایکتا پر ضرب لگائی گئی ۔ ملاحظہ فرمائیے: 151
افسانے میں مرکزی کردار گور مکھ سنگھ ہے ۔گورمکھ سنگھ نے مرنے سے پہلے اپنے بیٹے سنتوکھ سنگھ کو یہ نصیحت کی تھی کہ جج عبدالحئی صاحب بڑے بھلے آدمی ہیں۔ ان کا ہم پر بڑا احسان ہے، اسلئے بیتا ان کی عزت کرنا ۔گور مکھ سنگھ کا انتقال ہو جاتا ہے۔عید کے دن سنتوکھ سنگھ جج عبدالحئی سے ملاقات کی غرض سے سوئیاں لے کران کے گھر جاتاہے ۔جج صاحب نیم بیہوشی کی حالت میں بستر مرگ پر ہیں ۔ فساد اپنے شباب پر ہے۔سنتوکھ سنگھ جج صاحب کی بیٹی صغرا سے ان کا حال معلوم کرتا ہے۔ صغراسے انکی حالت معلوم کرنے کے بعد وہ اسے سلام کرکے گھر سے باہر نکلتا ہے ۔اور اس کے بعد جوہوا ۔وہ مندرجہ ذیل اقتباس میں ملاحظہ فرمائیے: 151
’’ وہ مکان سے باہر نکلا اور وہاں ڈھاٹا باندھے ہوئے چار آدمی اس کے پاس آئے ۔دو کے پاس جلتی ہوئی شمعیں تھیں۔ اور دو کے پاس مٹی کے تیل کے کنستر اور کچھ دوسری آتش خیز چیزیں ۔ایک نے سنتوکھ سنگھ سے پوچھا ۔
’’کیوں سردار جی اپنا کام کر آئے ؟‘‘
سنتوکھ نے سر ہلا کر جواب دیا ۔ ’’ہاں کر آیا۔‘‘
اس آدمی نے ڈھاٹے کے اندر ہنس کر پوچھا۔ ’’تو کر دیں معاملہ ٹھنڈا جج صاحب کا ۔‘‘
’’ ہا ں ۔ ۔ جیسی تمہاری مرضی ۔‘‘ یہ کہہ کر سردار گورمکھ سنکھ کا بیٹا چل دیا ۔
(گورمکھ سنگھ کی وصیت )
افسانہ ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ جس میں بٹوارے کا ماحول ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ایک طرح سے یہ بٹوارے کا المیہ ہے ۔جس میں مرکزی کرداربشن سنگھ ہے ۔پچھلے پندرہ برس سے وہ پاکستان کے پاگل خا نے میں بند ہے ۔اس کے رشتہ دار اس سے مہینے میں ایک بار ملنے ضرور آتے ہیں ۔ اس کے لئے پھل اور مٹھائیاں لاتے ہیں ۔ بشن سنگھ کوان کا بے صبری سے انتظار رہتا ہے بشن سنگھ کی ایک بیٹی روپ کور ہے جو پندرہ برسوں میں جوان ہو گئی ہے۔ بشن سنگھ اس کو نہیں پہچانتا ۔جب بھی پاگلوں کے درمیان گفتگو ہوتی ہے وہ غور سے ان کی با تو ں کو سنتا ہے اور اگر کو ئی اسکی رائے جاننا چاہتا ہے کہ وہ ہندوستان میں ہے یا پاکستان میں تو وہ لوگو ں پر برس پڑتا ہے۔
ایک دن تبادلہ کے دوران جب بشن سنگھ کو واگہ بورڈر پر لایا جا رہا تھا تو اس کی ذ ہنی اور جسمانی کیفیت کو کس طرح حقیقت کے آئینے میں پیش کیا گیاہے۔ایک اقتباس پیش خدمت ہے : 151
’’اسے بہت سمجھایا گیا کہ دیکھو اب ٹوبہ ٹیک سنگھ ہندوستان میں چلا گیا ۔اگر نہیں گیا تو فوراً اسے وہاں بھیج دیا جائے گا، مگر وہ نہ مانا ۔جب اس کو زبر دستی دوسری طرف بھیجنے کی کوشش کی گئی تو وہ درمیان میں ایک جگہ اس انداز میں اپنی سوجی ہوئی ٹانگوں پر کھڑا ہو گیا جیسے اب اسے کوئی طاقت وہاں سے نہیں ہلا سکے گی۔آدمی چونکہ بے ضررتھا۔ اس لئے مزید زبر دستی نہ کی گئی اس کو وہیں کھڑا رہنے دیا گیا اور تبادلے کا باقی کام ہوتا رہا۔ سورج نکلنے سے پہلے ساکت و صامت بشن سنگھ کے حلق سے ایک فلک شگاف چیخ نکلی ۔ادھر ادھر سے کئی افسر دوڑے آئے اور دیکھا کہ وہ آدمی جو پندرہ برس تک دن رات اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہا تھا اوندھے منہ لیٹا ہوا ہے ادھر خاردار تاروں کے پیچھے ہندوستان تھا ۔ادھر ویسے ہی تاروں کے پیچھے پاکستان ۔درمیانی زمین کے اس ٹکڑے پر جس کا کوئی نام نہیں تھا بشن سنگھ پڑا ہوا تھا ۔‘‘
(ٹوبہ ٹیک سنگھ)
’’منٹو کا زمانہ وہی ہے ۔ جو ترقی پسند تحریک کے عروج کا زمانہ ہے مگر زندہ رہنے والے فنکار تحریکات کے کبھی شکار نہیں ہوتے ۔سو منٹو ترقی پسند رہا اور نہ غیر ترقی پسند ۔وہ ایک افسانہ نگار تھا۔ اور صرف افسانہ نگار۔‘‘
(منٹو کے بعد اردو افسانہ ، شخصیات و رجحانات ، رسالہ ادیب پٹنہ ص ۹۶)
’’منٹو کے افسانوی فن پر گوگول ، ترگنیف ، چیخوف اور گورکی کے واضح اثرت ہیں۔‘‘
’’ منٹو بنیادی طور پر انسان دوست ہے ۔وہ جب کچھ انسانوں کا مذاق اڑاتا ہے ۔انہیں گالیاں دیتا ہے ۔برا بھلا کہتا ہے تو اس وقت بھی اس کے اندر کے انسان سے قربت محسوس کرتا ہے۔ انکے اندر انسانیت کے بہترین عناصر کو تلاش کرتا ہے۔‘‘
( منٹو کے نما ئندہ افسانے ، پیش لفظ، ڈاکٹر اطہر پرویز ، ص۱۱ ایجو کیشنل بک ہاؤس علیگڑھ)
’’ گو رے نے ادھر ادھر سمٹ کر استاد منگو کے وزنی گھونسوں سے بچنے کی کوشش کی اور جب دیکھا کہ اس کے مخالف پر دیوانگی کی سی حالت طاری ہے اور اس کی آنکھو ں میں شرا رے برس رہے ہیں تو اس نے زور زور سے چلا نا شرو ع کیا ۔اس کی چیخ و پکار نے استاد منگو کی بانہو ں کا کام اور بھی تیز کر دیا ۔وہ گورے کو جی بھر کے پیٹ رہا تھا۔ اور ساتھ ساتھ کہتا جاتا تھا ’’پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑفوں ۔۔۔۔۔ پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں۔ اب ہمارا راج ہے بچہ ۔‘‘
(نیا قا نون)
’’افسانے کی جان منگو کوچوان کا کردار ہے۔ ایک عام اور بالکل معمولی آدمی میں دلچسپی کے اتنے پہلوپیدا کرنا
منٹو کی کردار نگاری کا امتیازی وصف ہے۔‘‘
(سعا دت حسن منٹو ، وارث علوی ، ص ۴۴ ، ناشر: ساہتیہ اکادمی، دہلی)
’’ پہلا سماجی حقیقت نگار ی کا رجحان ہے ۔جس کی نمائندگی (بشمول پریم چند ) حیات اللہ انصاری ، اپندر ناتھ اشک، علی عباس حسینی ، رشید جہاں ، احمد علی ، راجندر سنگھ بیدی ، اختر اورینوی ، سہیل عظیم آبادی ، ہاجرہ مسرور،
بلونت سنگھ ، پرکاش پنڈت ، ہنس راج رہبر ، شوکت صدیقی اور ابوالفضل صدیقی کر رہے تھے۔ دوسرا انقلابی
حقیقت نگاری کا رجحان ہے ،جس کے نما ئندہ افسانہ نگاروں میں کرشن چندر ، احمد ندیم قاسمی ، خواجہ احمد عباس ، مہندر ناتھ ، اے حمید ، ابراہیم جلیس اور انور عظیم وغیرہ پیش پیش تھے ۔تیسرا بے باک حقیقت نگاری کا رجحان جس کی نما ئندگی کرنے والوں میں سعادت حسن منٹو ، عصمت چغتائی ، عزیز احمد ، علی عباس اور خدیجہ مستور وغیرہ کے نام لئے جا سکتے ہیں۔‘‘
(ترقی پسند افسانے کے پچاس سال ، پروفیسر قمر رئیس، ص ۳۶۱ )
منٹو کے خیالات سے متعلق پروفیسر ابو الکلام قاسمی ایک مضمون میں را ئے زنی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: 151
خلیل الرحمن اعظمی منٹو کو ترقی پسند افسانہ نگار تسلیم کرتے ہیں اور اس کے لئے وہ اشتراکی فکشن کے اثرات ان کے فن میں محسوس کرتے ہیں:۔
میرے خیال سے منٹو نے جو کچھ لکھا وہ ان کا آنکھوں دیکھا حال تھا ۔جنگ آزادی کی تباہی اور بربادی کا حال دیکھنا ہو ، یا وطن کے تقسیم ہو جانے کے بعدکا حال جاننا ہو ۔ کیو ں عورتیں بیوہ ہو گئیں ؟ کیو ں عورتیں طوائفیں بن گئیں ؟ کیوں بچے یتیم ہو گئے ؟کس طرح جوان دوشیزائیں وحشیوں کی ہوس کاشکار بن گئیں؟ان سوالوں کا جواب معلوم کرنے کے لئے منٹو کے افسانے پڑھئے ۔منٹو کے افسانے صرف افسانے نہیں ہیں بلکہ اپنے زمانے کی تاریخ ہیں۔
منٹو سے متعلق ڈاکٹر اطہر پرویز لکھتے ہیں کہ: 151
’’ نیا قانون ‘‘ جنگ آزادی کے بعد کا افسانہ ہے ۔یہ افسانہ اپنی قسم کے افسا نوں میں شاہکار کا درجہ رکھتا ہے ۔اس افسانے کے ذریعہ آزادی حاصل کرنے کے بعد عوام الناس میں کس قدر جوش اور جذبہ تھا ۔اسی کی حقیقی عکاسی کی گئی ہے۔دیکھئے افسانے کا ایک اقتباس : 151
منگو کوچوان جوش میں آکر انگریز کی پٹائی تو کر دیتا ہے لیکن جب اسے پتہ چلتا ہے کہ قانون تو وہی ہے ۔جبکہ اسے ’’نیا قانون ‘‘ کے تحت سب کچھ بدل جانے کی امید تھی ۔اس افسانے میں آزادی کے بعد انگریزوں کے خلاف نفرت کو فنی حسن عطا کیا گیا ہے ۔ افسانہ ’’نیا قانون‘‘ سے متعلق وارث علوی کی رائے پیش خدمت ہے: 151
ہندوستان کو آزادی کے لئے کن کن مرحلوں کا ، مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا ۔عوام نے کن کن مصیبتوں کا ، دکھوں کا سامنا کیا ۔کس طرح خون کی ندیاں بہہ گئیں ، لا شوں کے ڈھیر لگ گئے ۔ پاگل خانے اور جیل خانے بھر گئے ۔ کیمپ سے نوجوان دوشیزائیں غائب ہو گئیں اور ان دوشیزاؤں پر کس طرح کے قہربرپا کئے گئے۔ عوام الناس ان دنوں کن حالات سے گزر رہے تھے ۔ان کے ساتھ کیا پریشانیاں تھیں۔ہندوستان اور پاکستان میں بٹوارے کے بعد کن کن مسائل اور مصائب نے جنم لیا ۔انہیں مسئلوں اور مصیبتوں کا نقشہ پیش کرتے ہیں منٹو
کے بیشتر افسانے۔
پروفیسر صادق حسین منٹو کو ایک بے باک حقیقت نگار اور ترقی پسند افسانہ نگار لکھتے ہیں۔
اس طرح مختلف افسانوں کا جائزہ لینے کے بعد منٹو کو ہم مختلف النوع رجحان کا افسانہ نگار تو ضرور کہہ سکتے ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ ہم اُنھیں ایک حقیقت نگار تسلیم کرتے ہیں۔ منٹو نے ایسے دبے کچلے عوام کا حال اپنے افسانوں میں بیان کیا جس کی طرف بہت کم لوگوں کی نظر جاتی ہے انھوں نے واقعیت کو اپنے افسانوں کا مو ضوع بنایا ۔طوائفوں کا ایسا سچ لکھا کہ جس پر اب تک پردہ پڑا ہوا تھا جس کی وجہ سے انہیں بہت سی پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ پاگل خانے گئے ۔جیل گئے۔پھر بھی عا م ا نسانوں کے مسائل سے اپنے قارئین کو روشناس کرانے کی کوشش کی۔عام انسانوں کے درمیان رہ کر افسانہ لکھا، جو لکھا سچ لکھا۔
غرض یہ کہ اپنی قلیل عمر یعنی بیا لیس یا تینتالیس سال کی زندگی میں دنیا میں جو دیکھا لکھ دیا ۔انہوں نے بے شمار افسانے ، خاکے ، ڈرامے اور فلمی دنیا کے لئے بھی بہت کچھ لکھا ۔آج کوئی ایسا قاری ، کوئی ایسا ادیب ، کوئی ایسا ناقد نہ ہوگا جو منٹو کو نہیں جانتا ہوگا صرف اردو ادب ہی نہیں بلکہ دوسری زبان وادب میں بھی منٹو کی پہچان بن چکی ہے ۔لوگ منٹو کو اردو کا موپاساں کہتے ہیں۔منٹو کا انتقال ۱۹۵۵ ء میں ہوا ۔میں ان کی سوویں سال گرہ پر ا ن کو والہانہ خراج عقیدت پیش کرتی ہوں۔
****
سیدہ فرحت زرتاج (ریسرچ اسکالر)
محبت : صدام غنی
محبت
صدام غنی
ایم۔اے(اردو)
ورکرس کالج جمشیدپور
*محبت ایک پاکیزہ جذبے کا نام ہے ،جو دل سے پیدا ہوتی ہے اور جان تک بن جاتی ہے۔محبت ایک لافانی شے ہے جو کبھی ختم نہ ہونے کی قسم کھائی ہے۔جس طرح انسان کو زندہ رہنے کے لئے ہوا اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح محبت انسانی زندگی کاوہ اہم پہلو ہے جس کے بنا زندگی موت بن کے رہ جاتی ہے۔عمومی طور پر دل کے حسین جذبے کو محبت کہتے ہیں،لیکن زندگی کے ان سنگین پہلوؤں کی طرح محبت کو وسیع معنوں میں لیا جاتا ہے۔ عام طور پر تو محبت ایک حسین جذبے کا نام ہے ،جو انسانی زندگی کے ارد گرد گھومتی ہوئی نظر ۱ٓتی ہے۔یوں تو کائنات کے ہر جاندار ،زی روح اس محبت کے کسوٹی پر کھڑے اترتے ہیں ۔بہر حال انسانی زندگی میں یہ بات بہت وسیع تر نظر آتی ہے ۔ اس کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ جس مخلوق کے یہاں زیادہ سے زیادہ سوچنے سمجھنے کی قوت و صلاحیت ہوتی ہے اس کے پاس یہ جذبہ بڑے وسیع طور پر پایا جاتا ہے۔
بہر حال محبت ،ملاقات اور پھر ملاقات سے رابطہ ،رابطہ سے دوستی ،دوستی سے دل لگی اور دل لگی سے محبت کی بنیاد پر قائم ہے ۔مختلف افرادوں نے محبت کی تعریفیں جداگانہ اندازسے پیش کی ہیں،لیکن بات وہیں پہنچتی ہے جہاں ایک پاکیزہ جذبے کا ذکر ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔محبت کوزندگی کا اہم ترین جز قرار دیا گیاہے،کیونکہ محبت کا اثر ہمہ گیر ہے۔اس طرح جگر مرادآبادی لکھتے ہیں کہ۔
اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے
سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
انسان اپنے جذبے کا اظہار اپنے انداز میں کر ہی دیتا ہے اور یہ اظہارمحبت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یوں تو جان بوجھ کر کوئی کسی سے محبت کا اظہار نہیں کرتا بلکہ یہ دل لگی ایک جذبے کے تحت ممکن ہوتی ہے۔انسان تو عشق کے دائرے فکر میں گرفتار ہوتا ہے ،بنا محبت کے انسان کی زندگی بے بنیاد نظر آتی ہے۔اس طرح یہ انسان کے ذہن ودل میں آسانی سے گھر کرتی ہوئی اپنی پاکیزگی کا احساس دلاتی ہے۔جب انسان محبت کے دولت سے مالامال ہوجاتا ہے۔اپنے محبوب کی زلفوں میں گرفتار ہو جاتا ہے تو زندگی اور حسین ہو جاتی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ سوکھے پیڑ میں جان پڑ گئی ہو۔اور پھر وہ عاشق اپنے محبوب کی تعریف و تحسین میں مبتلاہو جاتا ہے اور بڑی سنجیدگی سے پیش کرتا ہوا نظرآتا ہے۔کبھی لب ورخسار کی باتیں توکبھی زلفوں کے پیچ وخم کا ذکر ،اور بعض دفہ تو اپنے محبوب کی آنکھوں کو مے کا پیالہ بتاتا ہوا نظر آتا ہے۔اس کی نشاندہی خواجہ میردردؔ کرتے ہیں کہ۔
کرے ہیں مست نگاہوں میں ایک عالم کو
لیے پھرے ہیں یہ شاقی شراب آنکھوں میں
حسن یار کی بے ساختہ اداؤں اور محبوب کی ہزار رنگ جلوؤں کی جھلک اس رعنائی سے ملتی ہے کہ عاشق اس کیفیت میں ڈوب جاتا ہے اور اپنے زندگی کو ایک حسین پل میں شمار کرتا ہے۔عاشق اپنے محبوب کی ہزاروں رنگ و روپ میں بڑی رعنائی و دلکشی اور رنگینی کا احساس کرتا ہے۔اور اتنا ہی نہیں بلکہ وہ اپنے محبوب کے رخ روشن کے سامنے سورج کو بھی ماندپڑتا ہوا دیکھتا ہے۔ایک سچاّ عاشق اپنے محبوب کی خرام و ناز کا بھی نقشہ پیش کرتا ہے کہ اس کا محبوب کس طرح خوشبو بکھیرتا ہوا چلتا ہے۔اس موضوع سے متعلق کسی نے خوب کہا ہے کہ۔
اگر دل بہلنے کا کوئی سامان ہو جائے
ابھی جو زندگی دشوار ہے آسان ہوجائے
زندگی میں دل کو بہلانے کے لئے محبت میں یہ سامان عاشق کو فراوانی کے ساتھ فراہم ہو جاتا ہے ، وہ دشوار زندگی کو آسان بناتا ہوا ایک پر لطف زندگی گزارنے کا دعویٰ کرتا ہے۔محبوب کی تعریف میں تو عاشق نہ جانے کیا کیا کہہ دیتا ہے۔اور پھر اپنے محبوب سے باتیں کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔کہتا ہے کہ اگر تم کو ہم سے محبت ہے ،تم ہمارے محبوب ہو تو کسی اور کی طرف اپنی مست نگاہوں سے مت دیکھنا ،کیونکہ اگر تم کسی دوسروں کے طرف دیکھوگے تو تمہارے جادو بھرے نگاہ سے اور بھی کوئی تیرا دیوانہ نہ بن بیٹھے ۔اس طرح وہ اپنے محبوب کے ساتھ ایک پاکیزہ سلوک سے عشق کرتا ہوا اپنے کو مٹا دینے کے لئے ہمیشہ تیار رہتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ۔
کیا کیا نہ سہے ہم نے ستم آپ کی خاطر
یہ جان بھی جائے گی صنم آپ کی خاطر
دوسری جانب،جب انسان محبت کے بندشوں میں بندھ جاتا ہے تو عاشق کو عشق میں بہت مزا آتا ہے۔لیکن جب جدائی کا مرحلہ پیش آتا ہے تو دل پر ایک ناقابل برداشت صدمہ پہنچتا ہے۔دل غم کے ساغر میں ڈوب جاتا ہے۔ اس کو اپنے غم محبت کے سوا دنیا میں کچھ اور نظر نہیں آتا ۔اپنے مرض کی دوا کے لیے عمر بھر بھٹکتا پھرتا ہے ،آخر کار اس کو اپنے مرض کی دوا مل ہی جاتی ہے،وہ دوا بعدد میں اس کا درد ہی نکال جاتا ہے۔انسان کے دلوں پرغم محبت کے زخمو ں کا اثر اتنا ہوتا ہے کہ وہ خود ہی دوا کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔اور انسان کے دلوں سے یہ بات برجستہ نکل پڑتی ہے کہ۔
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راہتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
انسان کا دل رفتہ رفتہ اس ناکامی کے طرف سے منتقل ہونے لگتا ہے ،وہ چاہتا ہے کہ نجات مل جائے لیکن اس کے لئے یہ ممکن نہیں ہے۔پھر بھی محبت ایک پاکیزہ جذبے کا نام ہے جو انسانی ذہن و دل میں بہت بے تابی سے پائی جاتی ہے ،اس میں وفائی ہو یا بے وفائی ۔اس طرح انسان اپنے جذبے کو ماند نہیں پڑنے دیتا ۔وہ محبت کرتا ہے،کیونکہ خدا نے اس لافانی جذبے کو انسان کے دلوں میں بھر دیا ہے۔آخر کار انسان اس بات سے اپنے دل کو تسلّی دیتا ہے کہ۔
یہ بازی عشق کی بازی ہے، جو چاہے لگالے ڈر کیسا
جو جیت گئے تو کیا کہنا اور ہار گئے تو بازی مات نہیں
………………….
صدام غنی
ایم۔اے(اردو)
ورکرس کالج جمشیدپور
خورشید حیات ۔۔۔ ایک زعم بردار کہانی کار : ناصر ملک
خورشید حیات ۔۔۔ ایک زعم بردار کہانی کار
مبصر: ناصر ملک
* اسے کوئی زعم ہے۔۔۔ اور زعم بھی کیا؟ ۔۔۔ کہ وہ کہانی کار ہے۔ کہانی لکھتا ہے۔ کہانی کون اور کب لکھ پاتا ہے؟ ۔۔۔ کہانی تو اپنی بنت خود بنتی ہے۔ کہانی تو اپنی جڑت خود تجویز کرتی ہے۔ کہانی تو اپنے مفاہیم و مکاتیب خود تشکیل دیتی ہے۔ پھر خورشید حیات کا زعم کیا؟ ۔۔۔ کیا وہ اونچے پیڑ کی ٹیسی پر بیٹھا ان کرداروں کی حرکات و سکنات کو اپنے قرنیا پر نقش کر رہا ہے؟۔۔۔ اگر کر رہا ہے تو اس میں زعم کیا؟ ۔۔۔ یہی کہ اس نے ان متحرک کرداروں کو تخلیق کیا ہے۔ ہاں! یہی زعم اسے اپنے کرداروں کی عکس بندی پر اکساتا ہے اور وہ اپنے تخلیق کردہ کرداروں کی جولانیاں، موج مستیاں اور تہذیبی اڑانیں دیکھتا، محسوس کرتا اور نقش کرتا چلا جاتا ہے۔
یا اسے کوئی اور زعم ہے ۔۔۔ اور زعم بھی کیا؟ ۔۔۔ کہ وہ ایک طویل عرصہ اپنے ترتیب دیے گئے کرداروں کی دنیا میں گم رہتا ہے۔ ان کے احساسات اور اظہاریوں پر گہری نظر رکھتے ہوئے تخلیاتی واقعات کی کڑیوں کو جوڑتا ہوا کسی غیر مبہم نتیجے پر پہنچتا ہے اور پھر اچانک زنجیر توڑ دیتا ہے۔ یہی کلائمکس اسے پڑھنے والے کی سانسوں کا رشتہ ایک بار پھر اس کے جسم و جاں سے جوڑ دیتا ہے۔ تو کیا میں یہ کہہ دوں کہ اس کا زعم بجا ہے؟
یا اسے کوئی اور زعم ہے؟ ۔۔۔ اور زعم بھی کیا؟ ۔۔۔ کہ وہ دو مختلف انداز میں ترتیب پائے ہوئے ماحولوں میں رابطے کی سبیل بنا بیٹھا ہے۔ ایک طرف انسان جو کچھ کر رہا ہے، دوسری طرف انسان جو کچھ کرنا چاہ رہا ہے۔۔۔ یہ دو عہد، دو زمانے، دو عصر اس کا خون نچوڑتے ہیں، اس سے دم بہ دم لفظ بہ طور جزیہ طلب کرتے ہیں اور نہ دینے پر خون بہا مانگتے ہیں۔ اور وہ ہے کہ چابکدستی سے اس ماحولیاتی تفریق کے تانے بانے تخلیاتی پرکاش کے سینے پر مونگ کی طرح دلنے میں مگن ہے۔ تو کہا میں یہ کہہ دوں کہ اس کا زعم بجا ہے؟
یا اسے کوئی اور زعم ہے؟ ۔۔۔ اور زعم بھی کیا؟ ۔۔۔ کہ ایک ایسی دنیا کی تشکیل کا خواہاں ہے جس میں طرب ہو، نشہ ہو، انسان کی طرف انسان کی اٹھی ہوئی نگاہوں کا طلسم ہو جو جاگے تو جان تک پہنچے اور سو جائے تو تیرہ شبی کی رات کو مدعو کرنے کے بجائے گلاب گوں خوابیدگی آمیز ہجر کی مترنم گھنٹیاں بجا دے۔ وہ پتھر کے زمانے سے محض امن کشید کرے، مذہب کے زمانے سے اخلاقیات کا باب چرائے، ایجادات کے عہد سے انسان کو آسودہ کرنے والے اوزار سمیٹے علم کے اس عہد میں شان و شوکت سے یوں وارد ہوتا ہے کہ اس کی دل آویز نگاہیں آنے والے احتسابی عہد کے پر عافیت لمحات پر گڑی ہیں۔ وہ بدگمانیوں کو آشکار کرتا ہے اور عہد و پیمان کی سیڑھی پر چڑھ کر ایقان و عرفان کے آکاش کی طرف اشارہ زن ہوتا ہے۔ تو کیا میں کہہ دوں کہ اس کا زعم بجا ہے؟
یا اسے کوئی اور زعم ہے؟ ۔۔۔ اور زعم بھی کیا؟ ۔۔۔ کہ اس نے دنیا کو نیا آہنگ اور نیا راستہ سجھایا ہے۔ اس نے ایک مہین سے نکتے میں زندگی کے ثمرات کو پرو کر والہانہ نظروں سے ادب کی بارہ دری میں قدم رکھا ہے۔ اس نے دستک کے پسِ منظر میں سجے جذبات، صوت میں چھپی بے قراری اور باب و در پر چھائی بے کیفی اور مایوسی کی مضطرب نبض پر انگلی کی پور رکھی ہے۔ ایسی ہی کیفیت میں اس نے لکھا۔۔۔ ’’دستک ہوتی رہی اور لوگ سنتے رہے کیونکہ وہ ڈرے ہوئے تھے۔ باہر کا دروازہ کھولنے پر کہیں کوئی طوفان نہ نازل ہو جائے مگر طوفان کا راستہ کب روکا جا سکتا ہے۔۔۔‘‘ (افسانہ: طوفان میں دستک)۔۔۔ اسے انسانی جبلتوں کا ادراک ہے تبھی تو وہ ان بے قراریوں اور اندیشوں کو اپنے کرداروں کی جبینوں پر سجائے دھڑکنیں گن رہا ہے۔ دھڑکنوں سے پھوٹتا ہوا جاں کنی کا ساز بھانپ رہا ہے۔ وہ ڈرتا ہے، مبادا کہ یہ اندیشے انسان کی رہتی سہتی قدروں کو نگل نہ جائیں اور وہ سانس شماری کے عذاب میں مبتلا ہو کر نہ رہ جائے۔ اپنا سفر کھوٹا نہ کر بیٹھے۔ تو کیا میں کہہ دوں کہ اس کا زعم بجا ہے؟
یا اسے کوئی اور زعم ہے؟ ۔۔۔ اور زعم بھی کیا؟ ۔۔۔ کہ اس نے دنیا کو اس کے حقیقی انداز و اطوار کے ہمراہ اپنے ہی خون کے گھونٹ پیتے ہوئے جاگتی آنکھوں اور بیدار احساس کے ساتھ دیکھ لیا ہے۔ اس نے یہ طے کر لیا ہے کہ کہانی کا عمل وہیں نمو پاتا ہے جہاں انسانی سوچ انگڑائی لے کر اپنی نشست بدلنے کو پر تولنے لگتی ہے۔ اس نے نہ صرف اپنے کرداروں، بلکہ ہم عصر کردار سازوں پر بھی نظر رکھتے ہوئے دنیا کے چلن کو دیکھنے کی سعی کی ہے جس میں وہ اس حد تک ضرور کامیاب رہا ہے کہ اس پر وہ عوامل منکشف ہوگئے جنہوں نے اس دنیا کو پہلے جیسا نہیں رہنے دیا بلکہ نمو، ترقی اور تیز رفتاری نے گام گام پر بدلاؤ اور تغیر پذیری کو جنم دیا۔ شاید یہیں کہیں اسے کہنا پڑا ۔۔۔ ’’بہت آسان ہوتا ہے کولتار کی سڑکوں کی چھاتیوں سے جدا کرتے ہوئے کہانی گاؤں کی پگڈنڈی بن جانا۔ روایت پر چلتے ہوئے بڑی خاموشی سے بغاوت کر جانااور کبھی کہانی کی سنہری روایت سے یکسر بغاوت نہ کرتے ہوئے نئی روایت کا حصہ بن جانا، آئینہ ادب میں سچائی کی تمثیل بن جانا۔‘‘ (کہانی ’’مشک سے پھوٹتی خوشبو‘‘ پر اظہارِ خیال)۔۔۔ وہ خود اعتمادی رکھتا ہے۔ وہ نرگسیت کی فضا میں دم گھٹتی سانسوں سے متنفر ہے۔ تو کیا میں کہہ دوں کہ اس کا زعم بجا ہے؟
یا اسے کوئی اور زعم ہے؟ ۔۔۔ اور زعم بھی کیا؟ ۔۔۔ کہ اس نے گھسے پٹے جملے، متروک الفاظ، پیچیدہ تراکیب، ذومعانی استعاروں اور ناکارہ تلمیحات کے زور پر کہانی کو ترتیب نہیں دیا بلکہ سیدھے اور کھرے بیانیے کہانی کو عنایت کیے۔ وہ اپنے قاری پر دنیا کھولنا چاہتا ہے ناں کہ اسے مزید الجھا کر اس پر مایوسیت اور قنوطیت طاری کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی ہر کہانی کے کلائمکس کی گود سے خوش نما نتیجہ دینے کا متمنی ہے۔ وہ کسی نئی دنیا کی تشکیل چاہتا ہے۔ وہ انسان کا انسان کے ساتھ کمزور پڑ جانے والا رشتہ مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ وہ محبت کی اساس پر اس تاج محل کی تعمیر چاہتا ہے جس کا کردار دنیا میں محض تماشہ گاہ کا نہ ہو۔ وہ اپنے قاری کو نہ تو کسی ناسٹلجیا میں مبتلا کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی اس کا ماں جیسا تعلق دھرٹی سے کٹتا ہوا دیکھنے کا روادار ہے۔ وہ امن کا حصول گولی سے نہیں، اظہارِ امن و محبت سے چاہتا ہے۔ تبھی وہ کہتا ہے ۔۔۔ ’’لوگوں کا ہجوم گاؤں سے شہر کی طرف دوڑ رہا ہے۔ سکون کی تلاش میں۔ مگر شہر نے انہیں کیا دیا؟ٹاٹ میں لپٹی زندہ لاشیں، کوڑے کے ڈھیر میں اپنا مستقبل تلاش کرتے معصوم بچے، اور بھی بہت کچھ۔‘‘(کہانی: خبر ہونے تک) اور خورشید حیات اپنی ہر کہانی میں کاملیت اور یکتائی سمیت موجود ہے اور یہی اس کا وطیرہ ہے۔ تو کیا میں کہہ دوں کہ اس کا زعم بجا ہے؟
یا اسے کوئی اور زعم ہے؟ ۔۔۔ اور زعم بھی کیا؟ ۔۔۔ کہ اس نے کہانی کو خوب صورت منظر کشی، جدا لب و لہجہ اور غیر معمولی روانی سونپ دی ہے۔ اس کے ہاں صنعتِ تضاد اگرچہ کم ہے مگر وہ مترادفات کے قلب سے منفرد آہنگ سمیٹ لاتا ہے۔ وہ لکھتا ہے۔۔۔ ’’میری بیٹیاں میری بغل میں لیٹی ہیں۔ خوب صورت سی، پیاری پیاری۔ نرم ہتھیلیاں، چھوٹی بڑی انگلیاں۔ بیٹیاں گھروں میں چڑیوں کی طرح چہکتی ہیں۔‘‘ (کہانی: پانچ انگلیاں) ۔۔۔ یہاں وہ بہت نرم خو، احساسات سے لبریز اور صرف ’’انسان‘‘ دکھائی دیتا ہے۔ انسان، وہ جو محبت کرتا ہے۔ انسان، وہ جو محبت کی طلب میں مارا مارا پھرتا ہے۔ تو کیا میں کہہ دوں کہ اس کا زعم بجا ہے؟
اور اگر اس کا زعم بجا کہنے میں میں قادر نہیں تو پھر کوئی مجھے بتائے کہ میں خورشید حیات کی کہانیاں کیوں شوق سے پڑھتا ہوں؟
***
ناصر ملک
ایڈیٹر ’’اردو سخن ڈاٹ کام‘‘۔ پاکستان
فون: 0092 302 7844094 ای میل: nasirmalik.01@gmail.com
” اردو اور بھوجپوری : آواجاہی کے پہلو” تہذیب اور زبان کے رشتوں کی نئی تلاش
’’اردو اور بھوجپوری :آواجاہی کے پہلو ‘‘تہذیب اور زبان کے رشتوں کی نئی تلاش
آفتاب احمد آفاقی
شعبۂ اردو ،بنارس ہندو یونیورسٹی
وارانسی
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی، اس لحاظ سے قابل مبارک باد ہے کہ اس کے مالی تعاون سے بھوجپوری ادھین کیندر ،بنارس ہندو یونیورسٹی کے زیر اہتمام’’اردو اور بھوجپوری : آواجاہی کے پہلو ‘‘ کے عنوان کے تحت ایک دو روزہ قومی سمینار ، ۲۲،۲۳ مارچ کو منعقد کیا گیا ۔یہ سمینار موضوع اور مواد کے لحاظ سے ان معنوں میں تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ اس سے قبل اردو یا بھوجپوری زبان میں اس نوعیت کا کوئی سمینار، مذاکرہ یا مباحثہ عمل میں نہیں آیا ۔ویسے بھی ہمارے یہاں کلاسیکی شعر و ادب اور معروف اہل قلم یا موضوعات ،ہماری فکر و دانش کا ہی حصہ رہے ہیں ،اور ہماری تمام تر توجہات و ترجیہات قدمااور متاخرین پر ہی رہی ہیں ایسے میں نئے موضوعات یا اردو سے علاحدہ ہو کر غور و فکر کرنے یا عصری تقاضوں اور مطالبات پر ہم نے کم ہی بنائے ترجیح رکھی ہے ۔اردو کی پیدائش یا انسلاکات کے ضمن میں ہمارے تصورات آج بھی اکابرین کی ہی رہین منت ہیں جبکہ صداقت یہ ہے کہ دوسری زبانیں بالخصوص ہندی اپنے کلاسیکی سرمائے کو نہ صرف متمول کر رہی ہے بلکہ اس کے حدود میں اردو کے کئی اہم موضوعات ، ادبا اور شعرا شامل ہو چکے ہیں جنھیں اردو والوں نے لائق توجہ نہیں سمجھا ۔نتیجتاََکبیر ، نانک ،رحیم اور خسروجیسے ہندوستانی شعرا ہمارے مطالعے کا حصہ نہ بن سکے ، اسی طرح علاقائی زبانوں کے رشتوں پر بھی ہم نے غور و فکر کرنے کی زحمت گوارہ نہ کی ،ایسی حالت میں اردو کے تعلق سے یہ خیال پیدا ہونا ایک فطری امر ہے کہ اردو صرف اشرافیہ کی زبان ہے۔اس خیال کو اس مفروضے نے مزید تقویت بخشی کہ اس کی پرورش و پرداخت بڑی حد تک محلوں ، امرا و روساء کے درباروں میں ہوئی ہے۔دلی ، لکھنؤ ، عظیم آباد ، کلکتہ اور دکن اس کے اہم مراکز رہے ہیں۔ظاہر ہے اردو زبان کی نزاکتوں اور لطافتوں پر اس کے اثرات سے انکار کی گنجائش نہیں ، لیکن اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ اردو محض امرا تک ہی محدود رہی ہے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ اس زبان کا رشتہ دوسری علاقائی زبانوں اور بولیوں سے بڑا گہرا اور پائدار رہا ہے ۔ اردو کو مخصوص طبقے تک محدود کرنے کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ یہ زبان مقامی تہذیب و ثقافت کی نفی کرتی ہے اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اور روایات کی علمبردار نہیں ہے ۔ظاہر ہے کہ اردو صرف ترسیل کی زبان ہی نہیں بلکہ ہماری برسہا برس کی ملواں تہذیب کی علامت بھی ہے جس کے رگ و ریشے میں مختلف مذاہب ، عقائد اور تصورات کے خون دوڑ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اردو اور فارسی برسہا برس تک اس ملک کی سرکاری زبان رہی ہیں جس کے باعث دفتروں کے علاوہ عوام و خاص کی تہذیب کا حصہ بننے کا انھیں شرف بھی حاصل رہا ہے ۔ چنانچہ ہندوستان کی دوسری زبانوں مثلاََ بنگلہ، گجراتی اور مراٹھی کے علاوہ بھوجپوری اور میتھلی وغیرہ بولیوں اور شعر و ادب پر بھی اردو کے اثرات نمایاں ہیں۔خصوصاََبھوجپوری علاقے پر اس کے گہرے نقوش مرتب ہوئے ہیں ، اردو کے ہزاروں الفاظ بھوجپوری میں ایسے رچ بس گئے ہیں جنھیں علاحدہ کرنا مشکل ہے ۔مثلاََ اکثرہاں ( اکثرا) اجماوال( آزمانہ) آرج ( عرض) کبول ( قبول) سبر ( صبر) سوبھا ( صبح) ستاول ( ستانا) کریجہ (کلیجہ) بے ماری ( بیماری ) کترل ( کترنا ) وغیرہ جیسے سیکڑوں الفاظ بھوجپوری زبان میں اس طرح رچ بس گئے ہیں کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ اردو کے ہیں یا بھوجپوری کے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں زبانوں میں لین دین کا عمل یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہے ۔ اردو کی شعری تخلیقات کو اگر منہا کر دیا جائے تو تقریباََ تمام نثری فن پاروں خصوصاََ فکشن پر بھوجپوری کے اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ بالخصوص بہار کے مغربی علاقوں اور اتر پردیش کے مشرقی اضلاع کے شعر و ادب پر بھوجپوری کے اثرات بہ آسانی دیکھے جا سکتے ہیں ۔ عوامی سطح پر اردو گیت ، بارہ ماسے کی روایت ، کہاوت ، ضرب المثل ، دیہی علاقوں میں پڑھے جانے والے مرثیے اور شادی کے موقع پر گائے جانے والے گیت ہمارے جذباتی رشتوں اور تہذیبی قدروں کا شفاف آئینہ ہیں ۔
متذکرہ رشتوں پر غور و فکر اور تحقیق و جستجو کے اعتبار سے متذکرہ سمینار کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے ۔اول یہ کہ اس علاقے کی مشترکہ تہذیبی قدروں کی از سرِنو باز یافت کی ایک سعی کی گئی، اور دوم لسانی سطح پر ان دونوں زبانوں کے رشتے کی تلاش اور اس کی روشنی میں مستقبل میں ان دونوں زبانوں کے فروغ کے لیے عملی اقدام کے تعلق سے حکمتِ عملی متعین کی گئی۔ اس سلسلے میں ہندی کے ممتاز نقاد پروفیسر اودھیش پردھان نے اپنے کلیدی خطبے میں اردو اور بھوجپوری کے رشتے پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں زبانیں ہندوستان کی سوندھی مٹی سے جنمی ہیں ان دونوں زبانوں کے بولنے اور سمجھنے والے ایک ہی ہیں،ان کا کلچر،ان کا علاقہ اور رسم ورواج سب ایک ہیں۔بھوجپوری بولنے والی آبادی کا تعلق چونکہ دیہات سے رہا ہے اور اس خطّے کی آبادی کا بڑا حصّہ آج بھی گاؤں میں بستا ہے ،جہاں رواداری،بھائی چارگی اور میل جول ،دکھ سکھ میں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی مثالیں ،صارفیت کے اس عہد میں بھی شہروں کے مقابلے زیادہ دیکھی جا سکتی ہیں۔ بھوجپوری میں اردو اور فارسی زبانوں کی کثرت اس کی بین مثا لیں ہیں ۔اس لئے کہ ہندو اور مسلمان ،ان دونوں زبانوں کی آبیاری اور ترویج و اشاعت میں برابر کے شریک رہے ہیں۔ ان کا خیال تھا کے ان دونوں زبانوں کا مطالعہ ہمارے اتحادو اتفاق کے چلن کو بھی مضبوط کریگا اور ہماری سا جھا وراثت کوعام کرنے میں بھی ممد و معاون ثابت ہوگا۔
مہمانِ خصوصی پروفیسر پرتھیویش ناگ،وائس چانسلر،مہاتما گاندھی کاشی ویدیاپیٹھ نے اپنے افتتاحی کلمات میں ،مختلف ممالک میں اپنی ملازمت کے دوران قیام اور وہاں اردو کی صورتحال پر معلو مات افزا روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عرب ممالک میں میرے عربی سیکھنے کا واحد ذریعہ ہندوستانی زبان اردو ہی تھی۔ پروفیسر ناگ نے زبان اور جغرافیہ کے رشتوں کی نشاندہی بڑے دلچسپ انداز میں کرتے ہوئے کہا کہ ہر زبان پر سماج کی طرح جغرافیہ اور قدرتی مناظر کے بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ان کا خیال تھا کہ ماریشس اورسورینام جیسے ممالک میں ہندوستانی، مزدور کی حیثیت سے گئے تھے لیکن اپنی زبان اور تہذیب کو اپنے سینے سے لگائے رکھا آج وہاں اردو ،ہندی اور بھوجپوری بولنے والوں کی جو تعداد ہے وہ انہیں دیہاتیوں کی محنت کا ثمرہ ہے ۔پاکستان میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ بھلے ہی حاصل ہے لیکن آج وہاں محض سات فیصد لوگ ہی اردو کو اپنی تحریری ضروریات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ا نھوں نے کہا کہ بھوجپوری اور اردوزبان میں نوجوان اپنا مستقبل تلاش کر سکتے ہیں اس میں ممکنات کی کمی نہیں ہے ۔ اس زبا ن کو جغرافیہ ، سماجیات اور دوسرے مضامین سے بھی جوڑا جا سکتا ہے ۔ اس موقع پر صدر شعبۂ اردو ، ڈاکٹر یعقوب یاور نے کہا کہ ہماری تہذیب اور زبانیں اسی ملک کی پیداوار ہیں ۔تہذیب ،تمدن اور ادب کے باہمی میل جول سے ایک ایسا کلچر پیدا ہوتا ہے جس میں انسانیت مقدم ٹھہرتی ہے ۔ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ ہم نے زبانوں کو مختلف تہذیبوں کی طرح خانوں میں بانٹ کر دیکھنے کی سعی کی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زبان و تہذیب کے باہمی اختلاط اس قدر پیچیدہ ہوتے ہیں اور اس کے اثرات دوسروں پر اس طرح مرتب ہوتے ہیں کہ ان کی نشاندہی مشکل ہے ۔ پروفیسر شاہینہ رضوی نے بھوجپوری علاقے کی تہذیب و ثقافت کا بطور خاص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گاؤں میں آج بھی محّرم کے موقع پر بھوجپوری بھاشا میں مرثیے ،نوحے اور دہے پڑھے جاتے ہیں ان میں اردو اور فارسی کے الفاظ بہ آسانی دیکھے جا سکتے ہیں۔اپنے صدارتی کلمات میں ڈین فیکلٹی آف آرٹس مہیندر ناتھ رائے نے کہا کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی اوربھوجپوری اسٹڈی سینٹر نے اس سمینار کا انعقاد کرکے اردو اور بھوجپوری جاننے والوں کو ایک نئی راہ دکھائی ہے ۔ آخر میں تمام شرکاء کو بھوجپوری کی پہچان گمچھا اور جھولا پیش کیا گیا جس میں سادگی بھی تھی اور اپنی قدروں کی حفاظت کا جذبہ بھی موجزن تھا۔افتتاحی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی نے کی ۔آخر میں بھوجپوری اسٹڈی سینٹر کے صدر پروفیسر سدا نند شاہی نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا ۔ دوپہر کے کھانے میں بھی اس علاقے کی روایت کوخصوصی اہمیت دی گئی تھی۔پوڑی ،اچار اور سبزی کے ذائقے سے مقامیت کی خو شبو آرہی تھی۔ہر شخص اس بات سے مطمئین نظر آرہا تھا کہ پہلی بار ہی صحیح لیکن یہ ایک خو ش آئین پہل ہے۔کسی نے ایک شعر پڑھا اور بجا پڑھا:
کچھ نہیں تو کم سے کم خوابِ سحر دیکھا تو ہے۔۔جس طرف دیکھا نہ تھا اس طرف دیکھا تو ہے
شام کو اردو اور بھوجپوری کے شعرا پر مشتمل ایک ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں دونوں زبانوں کے شاعروں نے اپنے کلام سے نوازا اور شامعین دیر تک محظوظ ہوتے رہے۔جن اردو شعرا کے کلام داد و تحسین لینے میں کامیاب ہوئے ان میں طربؔ صدیقی ،الکبیرؔ بنارسی، ثمر غازی پوری ،نظامؔ بنارسی اور یعقوب یاور کے نام بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
دوسرے دن کے پہلے اجلاس میں ہندی اور اردو کے ادیبوں اور قلم کاروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ،اس اجلاس کی صدارت ڈاکٹرجمیل اخترنے کی ۔موصوف نے علی گڑھ میں تعلیم حا صل کی ہے لیکن اپنی عملی زندگی میں بھوجپور ی زبان کے مرکز یعنی آرہ میں درس وتدریس سے وابستہ ہیں ۔ وہ شاعر بھی ہیں اور ادب فہمی کا ایک شستہ مذاق رکھنے کے علاوہ بھوجپوری سے بھی شغف رکھتے ہیں۔ اس اجلاس میں پہلا مقالہ دیواکر پانڈے نے بہ عنوان ’’بھوجپوری شاعری میں اردو الفاظ ‘‘ پیش کیا ، ان کی پوری تقریر بھوجپوری میں تھی لہجے کا اتار چڑھاؤ اور بھوجپوری کے میٹھے الفاظ نے ایک ایسی فضا تیار کر دی جس میں غورو فکر کے ساتھ سامعین نے قہقہے بھی لگائے۔ان کی گفتگو میں کہیں طنز و مزاح کے تیر تھے کہیں کھیتوں کھلیانوں ،ندی اور تالابوں کی خوشبو۔ تو کہیں چرواہوں کی مختلف آوازیں،کھیتوں میں کام کرنے والیوں کے گیت،جھومر اور سوہر کے رس نے پریم چند کے ان کرداروں اور ماحول کو زندہ کر دیا جس میں ہوری اور دھنیا کبھی بستے تھے ۔ان کا خیال تھا کہ بھوجپوری اصلاََ گاؤں دیہات کے علاقے سے تعلق رکھتی ہے ۔ جہاں ہندوؤں اور مسلم تہذیب کے علاوہ کوئی تیسری سنسکرتی نہیں ملتی یہی وجہ ہے کہ بھوجپوری شعر و ادب میں اردو یا فارسی کے الفاظ ہی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ بھوجپوری زبان کی قدیم شاعری یا جدید غزلوں کے مجموعوں پر اردو کے گہرے اثرات بہ آسانی دیکھے جا سکتے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اردو زبان نے بھوجپوری شاعری کو متمول کرنے میں جو کردار ادا کیا ہے اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔
ڈاکٹر جمیل اختر نے ’’ بھوجپوری پر اردو کے اثرات ‘‘ عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا، انھوں نے کہا کہ بھوجپوری ایک آریائی زبان ہے جو اتر پردیش کے مشرقی اور بہار کے مغربی اضلاع میں بولی جاتی ہے۔ اس خطے کی اپنی ثقافت اور سماجی ساخت ہے جسے ہم گنگا جمنی تہذیب و ثقافت سے عبارت کرتے ہیں جس میں مختلف مذاہب کے لوگ اور مختلف لسانی گروہ باہم مل جل کر رہتے آئے ہیں ۔ ظاہر ہے اس میل جول اور باہمی اختلاط کے نتیجے میں ایک دوسرے کی تہذیبی و معاشرتی رسوم و روایات ، عقاید و تو ہمات ، ترجیہات و تعصبات ، خیالات و تصورات کا تبادلہ ایک فطری امر ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ مغلیہ دور حکومت میں فارسی کا غلبہ رہا ۔ فارسی عدالتی اور سرکاری زبان تھی ، اس کا اثر مقامی زبانوں پر بھی پڑا ، بھوجپوری نے بھی فارسی کا اثر قبول کیا ، لیکن اخذ و استفادہ کا بڑا سرچشمہ اس علاقے میں بسنے والے عوام کی زبان یعنی اردو ہی تھی جس کے اثرات اس علاقے کی بولی ، بھوجپوری نے سب سے زیادہ قبول کیے ۔ ہر چند کہ اس زبان میں سنسکرت ، کھڑی اور انگریزی کے متعدد الفاظ موجود ہیں لیکن آج ہندی ، اردو اور بھوجپوری کے الفاظ باہم اس طرح شیر و شکر نظر آتے ہیں کہ انھیں علاحدہ کرنامشکل ہے ۔
ڈاکٹر صفدر قادری نے ’’ اردو کی پیدائش کے نظریات اور بھوجپوری کا ابتدائی ادب‘‘ کے عنوان سے اپنا مقالہ بہ زبانِ ہندی پیش کرتے ہوئے مروّجہ نظریات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اردو دوسری زبانوں کی طرح ہی عوام کے درمیان سماجی ضروریات کے نتیجے میں پیدا ہوئی لیکن اس کا رشتہ درباروں سے قائم ہوتارہا یہی سبب ہے کہ اس پر اشرافیہ طبقے کی پسند و نا پسند کے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں بلکہ ایک طرح سے اردو برہمن واد کی زبان کی منتقل صورت ہے ۔امیر خسرو بھلے ہی عوامی شاعر تھے لیکن وہ بھی آخر کار اشرافیہ سماج کے اہم رکن تھے ۔ اردو محققین کے وسائل اس قدر محدود ہیں کہ وہ اردو کی پیدائش اور ارتقاء کے تعلق سے پنجاب اور دلی کے دائرے سے باہر نہ نکل سکے ۔ جبکہ واقعہ یہ ہے کہ اردو کی پیدائش کے سلسلے میں الہ آباد کے مشرق میں بولی جانے والی عوامی زبان اور ادب کو بنیاد بنا کر تحقیق کی جاتی تو اس کے نتائج زیادہ بہتر بر آمد ہوتے ۔ بہ الفاظ دیگر بھوجپوری ، مگہی ، متھلی ، برج اور جھارکھنڈ کی ناگپوری ایسی بھاشائیں ہیں جنھیں بنیاد بنا کر از سر نو تحقیق کی جا سکتی ہے ۔ بھوجپوری اور دوسری بولیوں کی یہ بدقسمتی رہی کہ زبان اور فکر و شعور کی سیاست میں یہ علاقہ کمزور اور بے اثر رہا ہے ۔ انگریزوں کی آمد کے بعد بھی ادبی لحاظ سے متمول ہونے کے باوجود اس کی قدر و قیمت متعین نہ ہو سکی ۔ لہٰذا ضرورت ہے کہ پورب کے اس خطے کے ادبیات کے تعلق سے گفتگو کا آغاز ہو اس سے بھوجپوری علاقے کی تاریخ ، تہذیب اور شعر و ادب سے ہم بخوبی واقف ہوں گے۔ صفدر قادری عام طور سے ان پہلوؤں پر بطورِ خاص روشنی ڈالتے ہیں جن سے اختلافی نکتے بر آمد ہوں ،ان کے مضمون میں اسی طرح کی بات تھی ۔بلکہ دلائل کی جگہ جذبات کے غلبے نے بعض نئے سوالات پیدا کر دیے۔
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے ’’اردو ناولوں میں بھوجپوری کا استعمال‘‘ کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔ اسلم صاحب ہماری نسل میں ایک ایسے ادیب ہیں جن میں تنظیمی صلاحیتیں غیر معمولی ہیں ۔وہ بذاتِ خود نئے موضوعات پر اکثر سیمینار اور مذاکرے کا اہتمام کرتے رہتے ہیں، تاہم بھوجپوری اور اردو کے تعلق سے منعقدہ اس سیمینار سے اس قدر خوش تھے کہ وہ اسے سنگ میل کی حیثیت قرار دینے سے بھی گریز نہ کر سکے ۔ اپنے پرچے میں پریم چند ، راہی معصوم رضا، عبدالصمد ، الیاس احمد گدی، غضنفر وغیرہ کے وسیلے سے یہ ثابت کیا کہ اردو فکشن میں بھوجپوری زبان اور بولیوں کا استعمال بڑی خوبی سے ہو رہا ہے ۔بالخصوص اس علاقے سے تعلق رکھنے والے کرداروں کے مکالمے اس کے بیّن ثبوت ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ انھیں محض مکالمہ کہہ کر اردو پر تنگ نظری کا الزام نہیں لگایا جا سکتا ، اس لیے کہ یہی مکالمے فکشن کے کرداروں کی جان ہیں اور کردار نگاری کے سیاق میں جنھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ادھر اسیّ کے بعد اردو کی نئی نسلوں کی تخلیقی نگارشات میں مقامیت پر توجہ کی جو روش عام ہوئی ہے ان میں بھوجپوری بھاشا کا بھی استعمال ہو رہا ہے جسے ہم اردو کی کشادگی سے تعبیر کر سکتے ہیں۔
پروفیسر انیل کمار رائے ( گورکھپور یونیورسٹی ) نے اردو اور بھوجپوری کے رشتوں کو ایک اٹوٹ رشتہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے قلم کاروں کا یہ فریضہ ہے کہ اپنی اس قدیم وراثت کو نہ صرف محفوظ رکھیں بلکہ اس کے فروغ و اشاعت میں بھی دلچسپی لیاجائے۔ بعض لوگوں نے اردو کے سمٹتے ہوئے علاقوں پر تشو یش کا اظہار کیا اور اس کی ذمہ داری اردو آبادی کے کاندھوں پر ہی دے ڈالی۔تاہم اس بات پر بھی افسوس ظاہر کیا کہ ہم اردو غزل سے دلچسپی تو لیتے ہیں لیکن اس کے فنی لوازمات سے بے خبر ہیں ۔ اس سلسلے
میں دیویندر آریہ کا خیال تھا کہ اردو کا چلن کم ہوا ہے اور اس کے بولنے اور پڑھنے والوں کی تعداد میں بھی خاصی کمی آئی ہے ۔ انھوں نے اس بات پر توجہ دی کہ تہذیبی اور لسانی سطح پر یہ دوریاں سیاسی ،سماجی اور معاشرتی کے ساتھ لسانی عصبیت کی زائیدہ ہیں۔ اس لیے کہ اردو بڑی حد تک عربی اور فارسی سے قریب رہی ہے ۔ چنانچہ علاقائی بولیوں سے پرہیز نے اسے مخصوص طبقے تک محدود کر دیا ۔ دوسری پریشانی اس کے رسم الخط سے بھی پیدا ہوئی ہے ۔ اس اجلاس کی قابلِ ذکر بات یہ تھی کہ اس طرح کے متنازعہ فیہ تصور کا جواب حقائق اور انصاف کی بنیاد پر دینے والے ادیب بھی موجود تھے ۔ڈاکٹر پرکاش اودے نے دیویندر آریہ کے اردو سے متعلق اٹھائے گئے سوالات اور بعض اعتراضات کا بڑے مدلل انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہر زبان کی اپنی تہذیب اور ثقافت ہوتی ہے اور اسی کی بنیاد پر اسے اختصاص حاصل ہوتا ہے۔ تو پھر اردو پر ہی یہ الزام کیوں؟ کیا ہندی میں ثقیل سنسکرت الفاظ نہیں ہیں ؟جبکہ اردو اور ہندی دونوں بڑی حد تک ایک ہی زبان ہیں۔ اردو کی خوبصورتی اس کے الفاظ کی نرمیت ، ملائمیت ، شیرینی کے علاوہ اس کے رسم الخط سے بھی ہے اور پھر اردو کسی مذہب کی زبان تو نہیں اس زبان کی ترقی و ترویج و اشاعت میں دوسرے مذاہب کے لوگ برابر کے شریک ہیں۔ڈاکٹر محمد عقیل نے اردو اور فارسی زبان کے لسانی رشتوں اور بھوجپوری کی قواعد پر بطورِ خا ص روشنی ڈالی۔اس سیمینار کی ایک اہم خا صیت جس کے اثرات بہت دورتک مرتب ہوں گے وہ یہ تھی کہ نئی نسل نے اس میں بڑھ چڑھ کے نہ صرف حصّہ لیا بلکہ بحث و تمحیث میں بھی پیش پیش رہی ۔بالخصوص ہندی کے طلبہ نے یہ اعتراف کیا کہ بھوجپوری میں در آئے الفاظ کو آج تک ہم اسی کے الفاظ سمجھتے رہے ،اب ہمیںیہ احساس ہوا کہ یہ اردو اور فارسی کہ الفاظ ہیں ،اسی طرح ہندی کو سندر بنانے میں اردو زبان کے کردار سے انکا ر نہیں کیا جا سکتا۔
سیمینار کے اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر نسیم احمد نے کی ۔اس مو قع پر اودھیش پردھان نے اپنی پُر مغز تقریر میں کہا کہ اردو صرف ایک زبان ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب اور ہماری اتحاد کی علامت بھی ہے۔ یہ درست ہے کہ اردو کے قلمکاروں نے عربی اور فارسی زبان و ادب سے کسبِ فیض کیا،لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس بھاشا نے یہاں کے عوام کو قریب لانے ، یہاں کے مذاہب و عقا یدکو فروغ دینے اور باہمی اتحاد و اتفاق پیدا کرنے میں جو رول ادا کیا ہے اسے نظر انداز کرنا ،تاریخ کو یکسر مسترد کرنے کے مترادف ہے۔اردو نے ہندی اور بھوجپوری کے ذخیرۂ الفاظ کو متمول تو کیا ہی ہے بعض اصناف مثلاً غزل اس زبان کی ایسی دین ہے جسے ہر زبان اپنانے کی سعی میں مصروف نظر آرہی ہے۔لیکن ہمیںیہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اردو شاعری کو فنی لوازمات سے آراستہ کرنے اور اس کے تقاضوں کو برتنے میں اردو شعرا و ادبا نے جس تندیہی ، عرق ریزی اور جانفشانی سے کام لیا ہے وہ انہی کا خاصہ ہے ۔اردو غزل کی اپنی ایک تہذیب ہے ، ایک معیار ہے، ایک وقار اور وزن ہے، جسے وہ ہر صورت میں سنبھال کر رکھنا چاہتی ہے اور یہی صفت اسے ہندوستان کی دوسری زبانوں پر برتری عطا کرتی ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ان اقدار کو زندگی کا شیوہ بنا لیں جنھیں ہمارے اکابرین ، بزرگوں ،صوفیوں اور سنتوں نے قائم کیا تھا۔ یہ دھرتی نانک ،بابا فرید ، بلّے شاہ اور خواجہ غریب نواز اور رامانوج کی ہے ،جنھوں نے امن اور شانتی کا بیغام دینا کو دیا تھا۔اردو نے بھی ایسے ہی صوفیوں اور سنتوں کے خون جگر سے جنم لیا ہے، اس لیے اس بھاشا میں پریم ،مٹھاس اور لچک موجود ہے ۔اپنے صدارتی کلمات میں پروفیسر نسیم احمد نے کہا کہ ضرورت ہے کہ اردو کے کلاسیکی شعر و ادب کا ترجمہ بھوجپوری زبان میں کیا جائے ۔ ہر چند کہ شاعری کا ترجمہ ایک مشکل عمل ہے لیکن کم از کم اس کے وسیلے سے بھوجپوری خطے کے لوگ میر، غالب ،مومن اور دوسرے اہم شعرا کے احساسات و جذبات سے باخبر ہوں گے۔آخر میں پروفیسر بلراج پانڈے ، صدر شعبۂ ہندی نے اظہار تشکر کی رسم ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس طرح کے پروگرام سے ایک نئی روشنی اور نئی قوت ملتی ہے ۔جس کی روشنی میں ہماری نسلیں اپنے مستقبل کی راہیں متعین کریں گی اور بدگمانیوں سے محفوظ رہیں گی۔اس سمینار نے جہاں بہت سارے سوالات کے حل تلاش کیے وہیں اردو کے تعلق سے قائم شدہ مفروضات کو تہس نہس کرکے ایک ایسی روایت کی طرح بھی ڈالی، جس پر مزید غور و فکر کے امکانات روشن ہیں اور حق و صداقت کو عام کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ سچ کو زیادہ سے زیادہ مشتہیر کیا جائے ورنہ جھوٹ کی کثرت ہماری تہذیب کو مندمل کر دے گی۔
****
آفتاب احمد آفاقی
شعبۂ اردو ،بنارس ہندو یونیورسٹی
وارانسی
کریم سِٹی کالج ، جمشید پور(ہندوستان) میں سعادت حسن منٹو پر دو روزہ قومی سیمنار
کریم سِٹی کالج ، جمشید پور(ہندوستان) میں سعادت حسن منٹو پر دو روزہ قومی سیمنار
*کریم سِٹی کالج ، جمشید پور کے شعبۂ اردو کے زیرِاہتما م ۲۳ اور ۲۴ مارچ ،۲۰۱۳ء کو دو رزہ قومی سیمنار منعقد کیا گیا۔ اس یو۔جی۔سی کے زیرِ کفالت انعقاد پانے والے سیمنار کا عنوان ’’ منٹو صدی تقریبات‘‘تھا۔ سیمنار کے پہلے دن افتتاحیہ بزم بڑے تزک و احتشام سے مانندِ جشن منایا گیاجس میں محترمہ شہناز نبی( کلکتہ ) نے مہمانِ خصوصی اور پروفیسر حسین الحق صاحب (بودھ گیا) نے مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے شرکت فرمائی۔ افتتاحیہ مجلس کو خطاب کرتے ہوئے سیمنار کے کنوینر احمد بدر نے تعارف پیش کیا اور ان کے بعد دونو ں مہمان عظیم شخصیتوں نے سیمنار کے مقاصد ، اہمت اور بعد ازاں سعادت حسن منٹو پر منظم اور جامع تقریر کی۔ وقفعۂ طعام کے بعد تکنیکی اجلاس کا آغاز ہوا ۔ جس کا سلسلہ اگلے دن تک جاری رہا۔ اس سیمنار میں صوبہ بہار اور جھارکھنڈ کے اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز کے ذریعے متعدد پرچے پڑھے گئے۔ پرچے پیش کرنے والوں میں ڈاکٹر سرور ساجد (رانچی)، ڈاکٹر زین رامش (ہزاری باغ)، ڈاکٹر اقبال حسن آزاد (مونگیر)، ڈاکٹر بسم اللہ خاں (چترا)،ڈاکٹر موصوف احمد (دھنباد)،ڈاکٹر افسر کاظمی (جمشید پور)یحیٰ ابراہیم (جمشید پور)، ڈاکٹر رضوانہ پروین (جمشید پور) ڈاکٹر شیریں حسنین( جمشید پور)، ڈاکٹر اختر آزاد( سرائے قلعہ )،قسیم اختر (پورنیہ) اور سوبھاش چندر گپتا (جمشید پور) کے علاوہ لگ بھگ تیس مقالہ نگاروں نے اپنے اپنے پرچے پیش کیے جس سے منٹو کے حیات و فن کی بے شمار جہتیں سامنے آئیں۔اس اہم سیمنا ر کے اختتام پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر سرور ساجد نے نئی نسل کے مقالہ نگاروں کو سراہا اور مناسب راہنمائی فرمائی۔
پروفیسر حسین الحق نے اپنے صدارتی خطبے میں سعادت حسن منٹو کے تخلیقی اسلوب اور ان کے موضوعات کی وسعت پر خاص تبصرہ کیا ، ان کی اہمیت اور ان کی تخلیقات کی افادیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔انھوں نے ان لوگوں کوہدفِ تنقید بھی کیا جو منٹو کی ذاتی زندگی اور ذاتی معاملات کو ادب سے جوڑتے ہیں جس کے سبب ان کے عظیم اور بے مثل فن کی مقبولیت کی راہ میں گردِ بے توجہی حائل ہونے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے۔ انھوں نے منٹو کا ذکر کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ منٹو زندگی کا مصوّر تھا ۔ اور زندگی منٹو کے عہد میں جیسی تھی ویسی آج بھی ہے ۔ لہٰذا منٹو ہمارے لئے جیسے کل با معنی تھے ویسے آج بھی ہیں۔ آخر میں انھوں نے کالج کے شعبۂ اردو اور تمام شرکاء کو مبارک باد کہا۔ بعد ازاں خراجِ تشکر کے ساتھ اس دو روزہ تاریخی سیمنار کا اختتام ہوا۔
اس سیمنار کے موقع پر ایک بہترین ادبی اور شعری نشست کا بھی اہتما م کیا گیا جس میں احمد بدر کی کتاب ’’حاصلِ مطالعہ‘‘ کی رسمِ اجرا ادا کی گئی اور پھر مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں لگ بھگ پندرہ شاعروں نے شرکت کی اور اپنے کلام سے محفل کو فیضیاب کیا۔ اس مشاعرے میں جن شعرا ئے کرام نے شرکت کی ان میں پروفیسر حسین الحق ، شہناز نبیؔ ، سرور ساجدؔ ، زین رامشؔ ، احمد بدر، ؔ گوہرؔ عزیز، موصوف احمد ، رضوانہ ارمؔ ، جمیل مظہرؔ ، رضواں ؔ واسطی ، طیبؔ واسطی وغیرہ اہم ہیں۔ اس کی نظامت مشہور و معروف شاعر گوہرؔ عزیز ( شعبۂ اردو، کریم سِٹی کالج)نے بہ حسن و خوبی فرمائی۔اس طرح یہ قومی سیمناراور بزمِ سخن نے جمشید پور کی ادبی تاریخ کا ایک اہم باب بنے کا اضافہ کیا۔
***
سید اطہرالدین گفتار کے ہی نہیں کردار کے بھی غازی تھے : ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری
سید اطہرالدین گفتار کے ہی نہیں کردار کے بھی غازی تھے : ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری
میرٹھ کے معروف شاعرمرحوم اطہر الدین اطہر کی یاد میں شعبہء اردو میں تعزیتی جلسے کا انعقاد
*میرٹھ (۱۶ مارچ ) : سید اطہر الدین اطہر اردو کے عمدہ ادیب وشاعر اور انگریزی کے اچھے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ با اخلاق ،باکردار ،وطن پرست اوخدمت خلق کے جذبے سے لبریز انسان تھے ۔خدمت خلق ان کا پسند یدہ مشغلہ تھا ۔وہ اپنے علم ،مال،اور ادب سبھی کو اس پر بے دریغ خرچ کرتے تھے مرحوم اطہر گفتار کے نہیں کردار کے غازی تھے ۔عمل میں یقین رکھنے کا ان کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی شریک حیات کو عمر کے اس حصے میں اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرایا جب عورتیں عمومًا ازدواجی زندگی اور بچوں کی تعلیم وتربیت کے مسائل میں الجھ کر اپنی تعلیم ہی نہیں سماج سے بیگانہ ہوجاتی ہیں یہ الفاظ تھے ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری کے جنہیں وہ مرحوم اطہر الدین اطہر کی یاد میں شعبہء اردو میں منعقد کئے گئے تعزیتی جلسے کے صدارتی خطبے میں ادا کررہے تھے ۔واضح ہو کہ انگریزی کے استاد اور ثقہ ادیب وشاعر سید اطہر الدین اطہر /12مارچ 2013کو رات گیارہ بجے اچانک حرکت قلب بند ہو جانے کے سبب اس دارفانی کو خیر آباد کہہ گئے تھے۔
اس تعزیتی جلسے میں سید ذکی الدین (سابق ایم ۔ایل۔ اے) محترمہ ریتا سروہی (پرنسپل رشب اکیڈمی) ڈاکٹر یوسف قریشی (سماجی کارکن) پروفسیر وائی وملا( شعبہء باٹنی چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی ،میرٹھ)پربھات رائے(سابق آئی اے ایس افسر) اور طالب زیدی (معروف ادیب و شاعر) مہمانانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔جبکہ نظامت کے فرائض شعبہء کے استاد ڈاکٹر آصف علی نے انجام دیے۔جلسے کا آغاز سعید سہارنپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا بعدازاں چاندنی عباسی نے مرحوم کی لکھی ہوئی نعت،بزرگ شاعر محترم اسرارالحق اسرار کٹھوروی نے’’میرانادان شہر‘‘عامر نظیر ڈار نے’’مجھے بھی کاش اک اولاد نالائق ملی ہوتی‘‘اور محترم آفاق احمد خاں نے ہندوستان ایکسپریس میں لکھے گئے مستقل کالم ’’رب ہی جانے‘‘کا ایک اقتباس پیش کیا ۔
اس موقع پر پروفیسر وائی وملا نے اپنے بیان میں کہا کہ مرحوم سے میری ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب ان کی زوجہ ڈاکٹر شاداب علیم کو ایم فل ٹاپ کرنے پر چانسلر میڈل ملا تھا میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی تھی کہ مسلم خاندانوں میں بھی ایسے افراد موجود ہیں جو اس عمرمیں بھی اپنی بیوی کی تعلیم کے لیے اتنے فراخ دل ہیں ۔محترم ریتاسروہی نے روتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک ایسا استاد کھودیا جو طلبہ کو اہم معلومات فراہم کرانے کے ساتھ ساتھ ان میں حوصلہ مندی کے جذبات پیدا کرتا تھا۔ سید ذکی الدین (سابق ایم ایل اے )نے کہا کہ میاں اطہر اردو ،انگریزی اور ہندہی پر یکساں قدرت رکھتے تھے وہ آئی پی ایس کا امتحان پاس کرچکے تھے مگر بو جوہ ملازمت اختیار نہیں کی تھی ڈاکٹر یوسف قریشی نے کہا مرحوم حقیقت پسند ،راست گو اور گنگا جمنی تہذیب کے علم بردار تھے وہ سماج میں نفرت پھیلانے والوں کی بنا تفریق مذہب وملت شدید مذمت کرتے تھے محترم پربھات رائے نے کالج کے زمانے کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا وہ انقلابی شخص تھے اور انقلابی کبھی فنا نہیں ہوتے اطہر بھی اپنے انسان پرستانہ جذبات اور آئیڈیالوجی کے سبب ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے محترم طالب زیدی نے مرحوم کی شاعری پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اطہر کی طبعیت میں ’’ حس مزاح‘‘غالب کی طرح کوٹ کوٹ کر بھری تھی ادبی محفلیں ان کی اس حسیت کی بدولت زعفران ژار بنی رہتی تھیں سیدہ کاکل رضوی اور سید احمر رضوی نے اپنے رندھے گلے سے والد کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاپا ہمیں ہمیشہ حالات سے نبردآزمارہنے اور کسی بھی حال میں حوصلہ نہ ہارنے کی تلقین کرتے تھے ۔محترم ذیشان احمد خاں نے مرحوم کا فراق گورکھپوری کے ساتھ تقابل کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر انہیں موجودہ دور کا فراق گورکھپوری کہا جائے توزیادہ بہتر ہوگا ‘‘ رشب اکیڈمی کے درجہ بارہ کی طلبہ تکشکاور مانے طلباء کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ یوں تو سبھی اچھے ہوتے ہیں لیکن رول ماڈل بننے کی صلاحیت کسی کسی استاد میں ہوتی ہے اطہر صاحب ان میں سے ایک تھے /16نومبر 2012کو اطہر صاحب کے ذریعے پڑھی گئی ان کی ایک غزل بھی پروجیکٹر کے ذریعے سامعین کی نذر کی گئی اور بالآخر دعا پر تقریب ختم ہوئی ۔
اس موقع پر پروفسیر جے مالا،ڈاکٹر یونس غازی ،ڈاکٹر الکا وششٹ ،ڈاکٹر فرحت حہاں ،ایاز احمد ایڈوکیٹ ،ماسٹر حامد ،اروند شرما ،سمیت خاندان ،میرٹھ کے قرب و جوارکے عمائدین نیز رشب اکیڈمی اور یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ بڑی تعداد میں موجود تھے۔
*****