’’ہتھیلی‘‘ پر لکھی انمٹ تحریر کے نام : اعظم خاکوانی
’’ہتھیلی‘‘ پر لکھی انمٹ تحریر کے نام
تحریر: اعظم خاکوانی
*تھل محبت سے لبریز پیاسی ریگِ رواں کا نام تھا۔ اس میں رہنے والے تھلوچڑ جن کی اکثریت بلوچ اقوام پر مشتمل تھی، اپنے اونٹوں کو ساتھ لیے نئی چراگاہوں کی تلاش میں تھل کے اندر پیکارِ مسافت رہا کرتے تھے۔ پانی زندگی اور تہذیب کی نمو کرتا ہے اور تھل صدیوں پانی کے قحط کا شکار رہا ہے۔ یہاں کے پیاسے باسی گہرے بھورے بادلوں سے پیار کرتے تھے اور ان پانی بھرے آبگینوں کے تعاقب میں دوڑتے ہوئے ہمیشہ اپنے ٹھکانے بدلتے رہتے تھے۔ جناح بیراج کے قیام کے بعد پیاسے تھل میں پانی سے بھری نہریں جال کی طرح تھل میں پھیلادی گئیں تو اس کے تہذیبی ارتقا کا عمل شروع ہو گیا۔ پانی کی تلاش میں تھلوچڑوں نے ٹھکانوں پر ٹھکانے بدلنا موقوف کر دیے۔ رب کائنات وقت کو لوگوں کے درمیان الٹتا پلٹتا رہتا ہے۔ ہم نے تھل کے خشک ریگی ٹیلوں پر صبح کاذب کے بعد سنہری دھوپ کو پگھلتے ہوئے سونے کی طرح لہروں میں لپٹتا اور موج در موج بہتے دیکھا ہے۔ جب یہ دھوپ سردی سے ٹھٹھرے ہوئے کسی ہرن پر اپنی سنہری کرنیں بکھیرتی تھی تو ملگجا ہیولا اچانک کسی ماہر مورتی ساز کے ہاتھوں سے ڈھل کر سنہرا بت بن جاتا اور دیکھنے والوں کو حیرت زدہ کر دیتا تھا۔ اسی تھل کے قلب میں ہم نے کسی زمانے میں ایک چھوٹا سا چوراستہ دیکھا تھا جسے آج چوک اعظم کے نام سے ملک کا طول و عرض جانتا ہے۔ یہاں محض چند دکانیں اور ایک آدھ چھپر ہوٹل تھا۔ مغرب کے بعد کسی ہوٹل پر کھانا نہیں ملتا تھا۔ کوئی دکان کھلی نہیں ملتی تھی۔ زندگی سرِشام اندھیرا اوڑھ کر سو جایا کرتی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ چوراستہ ایک پررونق شہر بنا گیا اور اس شہر میں ٹھکانہ بنانے کیلئے زمین حاصل کرنا ملتان اور لاہور کے مقابلے میں دشوار تر ہو گیا۔ آج یہ شہر ناصر ملک کے نام سے اور ناصر ملک اس شہر کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔
ناصر ملک ملتان سے شائع ہونے والے اخبار، روزنامہ نوائے وقت، جس میں ہم بھی کالم لکھا کرتے تھے، آج کل بھی کبھی کبھار ہماری معروضات اس میں پڑھنے کو ملتی ہیں، میں نے جب پہلی مرتبہ ناصر ملک کی تحریر پڑھی۔ پہلی مرتبہ ٹیلی فون پر ناصر ملک سے گفتگو کی تو پتہ چلا کہ وہ پنجابی بولنے والے ہیں لیکن ان کی گرفت سرائیکی پر بھی بڑی مضبوط اور غیر معمولی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ابھی تک اپنے اس دوست کو ’’دریافت‘‘ کرنے میں مصروف ہیں کہ وہ کالم نگار ہیں، افسانہ نگار ہیں، کہانی نویس ہیں، شاعر ہیں یا اپنے ناکام عشق کے خمیازہ بھرے مراحل سے نبرد آزما قلم کار ہیں۔ ناصر ملک کی شخصیت میں بہت سے جوہر چھپے ہیں۔ ان کی ذات میں ہم نے جو کچھ دریافت کر لیا وہ اس کے علاوہ کیا ہیں؟۔۔۔ یقیناًابھی تعارف کے بہت سے مرحلے باقی ہیں۔ وہ سرِدست ہمارے لیے خاصے اجنبی ہیں لیکن اس کے باوجود ہم جیسے ’’گنہ گار‘‘ ہیں۔ وہ ہمارے اسی عاصی قیبلے کا ایک فرد ہیں جس نے اس ملک اور قوم کے اندر رہتے ہوئے قلم پکڑنے کا ’’گناہ‘‘ سرزد کیا ہے۔ قلم کاری ہمارے معاشرے میں ایسی ناپسندیدہ جسارت ہے جسے کسی پہلو سے بھی درگزر اور معاف نہیں کیا جا سکتا۔ جہالت زدہ آنکھ روشن کرنوں کے سامنے آ کر بیمار ہو جاتی ہے۔
شاعری کی ہماری نگاہ میں کوئی جامع تعریف نہیں ہے۔ اسے کوئی اگر زبان کی موسیقی کہے تو زبان دانی ایک بحرِ لامحدود ہے۔ اس بے کنار سمندر میں شاعری کے سیپ سے گوہرِ مقصود تلاش کرنے کیلئے عمرِ نوح کی ضرورت ہے تو پھر شاعری کیا ہے؟۔۔۔ پرانے شعراء شاعری کی صرف ایک صنف غزل کی تشریح بس یوں کرتے ہیں کہ ایک چھوٹے بچے کی ماں ،ہرنی جب اپنے نوزائیدہ بچے کو کسی گھنی جھاڑی میں دشمنوں سے چھپا کر اور سلا کر اپنا پیٹ بھرنے کیلئے جنگل میں چرتے ہوئے بھیڑیوں کے غول میں گھر جائے، قابو میں آجائے اور باوجود کوشش کے خود کو درندوں سے نہ بچا سکے تو مرنے سے پہلے مایوس اور اپنے بچے کیلئے بے قرار ہرنی کے حلق سے جو زور دار آواز برآمد ہوتی ہے، اسی پردرد چیخ کو شاعر غزل کا نام دیتے ہیں۔
دھرتی کا دکھ اس کے بیٹوں کو زبان عطا کرتا ہے۔ تھل کے سلگتے ہوئے مسائل نے ناصر ملک کو قلم تھمایا۔ وہ اب اپنی تخلیق ’’ہتھیلی‘‘ پر یہ سندیسہ لیے پھرتا ہے کہ شاعری فردِ جرم ہے۔ جبکہ اس جرم کے پاک پانی سے معاشرے کو وضو کرانا اور اس کے گناہ دھونا ایک ایسا عمل ہے جو انسانیت کے ماتھے پر روشنی کا تاج بن کر چمکتا ہے۔ شاعری ساکت ہو جائے تو زندگی کا زیور یوں گم ہو جاتا ہے جیسے تھل کے خوب صورت صحرا سے ہرن غائب ہو گئے ہیں۔ اس لیے زندگی کا رنگ گھولنے کیلئے ضروری ہے کہ کوئی نہ کوئی انسان وسیب میں شاعری کا جرم کرتا رہے۔ کوئی نہ کوئی دیوانہ فرزانوں کی بستی میں موجود رہے۔
ناصر ملک نے اپنی نظم ’’ہتھیلی‘‘ میں وہی کیفیت بیان کی ہے جب اداس دھرتی کی یکسانیت سے دل گھبرا جاتا ہے تو مایوسی کے ساتھ ساتھ یہ حوصلہ بھی پہلو میں سنبھال رکھنا پڑتا ہے کہ وقت آخر بدل ہی جاتا ہے۔ خزاں کے بعد بہار بھی انسانی مقدر کا ضروری حصہ قرار پاتی ہے۔
اے لڑکی! اس ہتھیلی سے بغاوت ہو نہیں سکتی
اگر یہ روٹھ جائے تو محبت ہو نہیں سکتی
یہی تو لمس دیتی ہے شروعاتِ تعلق کو
سمندر ہے، سمندر سے عداوت ہو نہیں سکتی
اسی دھرتی پہ دریا ہیں، اسی پر پھول اگتے ہیں
درخشندہ رفاقت ہے شکایت ہو نہیں سکتی
یہ بحرِ بے کراں کی تلخیوں سے پرورش پا کر
رخِ ماہِ منور سے عبارت ہو نہیں سکتی
ایک ایسا معاشرہ جہاں جمود ہو، وہاں تبدیلی کے صرف دو راستے ہوتے ہیں۔ قلم یا تلوار۔۔۔ اللہ تبارک و تعالین نے قلم کے ذریعے انسان کو علم سکھایا اور علم نے دنیا کو سنگھار دیا۔ انسانوں میں امن کا حصول بھی قلم کے مرہونِ منت ہے۔ قلم کی لامحدود زبانیں ہیں۔ اس کی ہر زبان انسانی معاشرے کو راحت اور آسودگی کی طرف لے کر جاتی ہے۔ جو وسیب قلم کی زبان نہیں سمجھتا، اس کیلئے محض تلوار کا راستہ باقی بچتا ہے۔ تلوار کی ایک ہی زبان ہوتی ہے جو ہست کو نیست کر دیتی ہے۔ شاعر، ادیب، فلسفی، کہانی نویس، سنگ تراش اور قلم کار جو زبان بولتے ہیں، وہ بہت شائستہ ہوتی ہے۔ لہجے میں وہ خوشبو ہوتی ہے جو زندگی کے گلستان کے ہر پھول کو آراستہ و پیراستہ رکھتی ہے۔ ناصر ملک زندگی کا شاعر ہے۔ وہ اپنی دھرتی ماں پر قلم کی حکمرانی چاہتا ہے۔ وہ اس وسیب میں ظلم کے خلاف نعرہ زن ہے۔ وہ دھرتی ماں کو صرف شفیق اور معتبر دیکھنے کا خواہاں ہے۔ وہ ایک سائباں، ایک ماں کی شفقت بھری پناہ طلب کرتا ہے۔
چارہ گر! بس مجھے سائباں چاہیے
چند لقمے نہیں، لختِ جاں چاہیے
گھر کے سامان کا تذکرہ مت کرو
اور کچھ بھی نہیں، مجھ کو ماں چاہیے
ناصر ملک زبان و مکاں کی حدوں اور سرحدوں سے بے نیاز ہے۔ سیاست نے انسانوں کو جس انداز سے تقسیم کر رکھا ہے، ناصر ملک اس غیر فطری تقسیم سے نالاں اور بیزار دکھائی دیتا ہے۔ اس کی ماں وہی سرزمین ہے جس پر وہ رہتا ہے۔ وہ اسی کے گن گاتا ہے اور اس کی آبیاری میں جان و تن سے مشغول رہتا ہے۔ وہ یہ خواہش بھی دل میں آشکار رکھتا ہے کہ اسے سرائیکی اور پنجابی زبانوں کی گروہ بندیوں میں شامل کیے بغیر چوک اعظم کے بیٹے کی حیثیت سے ہی یاد رکھا جائے۔ ہم اس ’’تھلوچڑ شاعر‘‘ کو اس کے اپنے وسیب میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ وہ یہ بات سمجھے یا نہ سمجھے، لیکن ہم اپنے قلبی جذبات سے مغلوب ہو کر یہ ضرور کہیں گے:
پیار کے دیپ جلانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں
سچی بات بتانے والے کچھ کچھ پاگل ہوتے ہیں
***
اعظم خاکوانی
’’الممتاز‘‘ I۔ سبزہ زار کالونی، بوسن روڈ۔ ملتان
فون نمبر 0343-7114411 061-6503050
ناصر ملک کی ’’تریل‘‘۔۔۔ ایک مطالعہ : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین
جناب ایڈیٹر صاحب!
السلام علیکم و رحمتہ اللہ! خدائے لم یزل آپ کو معتبر رکھے۔
پچھلے دنوں معروف شاعر و افسانہ نگار جناب ناصر ملک کے شائع ہونے والے مجموعہ کلام ’’تریل‘‘ پر تبصرہ ارسال خدمت ہے۔ اسے ’’لہراں ادبی بورڈ لاہور‘‘ نے شائع کیاہے۔ کتاب کی طباعت، سرورق، ترتیب اور متن اچھا لگا اِس لیے حقِ مطالعہ ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ شامل اشاعت فرما کر شکریہ کا موقع دیجئے۔
آپ کا
پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین، لیہ
گورنمنٹ کالج، لیہ۔ موبائل: 0300-6767911
ناصر ملک کی ’’تریل‘‘۔۔۔ ایک مطالعہ
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین
۔۔۔*۔۔۔
*تخلیقی ادب میں شاعری کا رتبہ سب سے بلند تصور ہوتا ہے۔ شاعری جہاں انسان کو فکر و شعور سے بہرہ مند کرتی ہے، وہاں اس کی حسنِ جمال کو بھی ترفع بخشتی ہے۔ شاعری میں لفظ و خیال کا امتزاج ایسی کیفیات کو جنم دیتا ہے جن کی بدولت قاری یا سامع روزمرہ کے دکھوں، المیوں اور تفکرات سے خود کو ایک لمحے کے لیے آزاد محسوس کرتا ہے۔ بطور خاص علاقائی زبانوں میں تخلیق ہونے والی شاعری میں ایک خاص طرح کی چاشنی، مٹھاس، کوملتا اور لطافت ہوتی ہے۔ سندھی، بلوچی، پشتو، سرائیکی اور پنجابی شاعری اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔
علاقائی زبانوں کی شاعری میں جمالیاتی احساس کی اہم وجہ یہ تصور ہوتی ہے کہ اس کے عقب میں ماں دھرتی کی خوشبو اور بڑی حد تک فطرت کے ساتھ محبت اپنی تمام تر جولانیوں کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔ علاقائی زبانوں میں ہمارے صدیوں کے تہذیبی، تاریخی اور سماجی رویوں سے مزین ان حالات و واقعات کا اظہار ہوتا ہے جن کا تعلق یہاں کی مٹی اور لوگوں کے ساتھ ہے اور ماں بولی میں کیا گیا اظہار ہمارے بنیادی جذبات اور باطنی کیفیات کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی لیے مقامی زبانوں کے شعر و ادب میں گہرائی اور وسعت بدیسی زبانوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ اس تناظر میں ناصر ملک کی پنجابی شاعری جمالیاتی احساس کی ایک بڑی مثال ہے۔
ناصر ملک ایک زود نویس شاعر و ادیب ہیں۔ وہ محقق، افسانہ نگار، کالم نگار، مبصر اور پنجابی اور اردو کے معروف شاعر ہیں۔ اب تک ان کی کئی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ ان کتب کا غالب پہلو اُن کا برجستہ اندازِ تحریر ہے۔ وہ نثر اور شاعری دونوں شعبوں میں برجستگی اور فطری اندازِ بیان کو اختیار کرتے ہیں۔ حال ہی میں ان کا شائع ہونے والا پنجابی شعری مجموعہ ’’تریل‘‘ ان کے فطری اندازِ تحریر کا بڑا ثبوت ہے۔ ’’تریل‘‘ شبنم کا پنجابی معانی ہے۔ جس طرح شبنم تروتازہ، پاکیزہ اور صاف شفاف قطروں کی شکل میں ہوتی ہے، اسی طرح ناصر ملک کی یہ پنجابی شاعری خوب صورتی اور تازگی کی ایک علامت ہے۔
شعروادب میں فکر و خیال کی ندرت، اچھوتا پن اور نیا پن ایک کائناتی قدر تصور ہوتی ہے۔ گھسے پٹے خیالات، فرسودہ الفاظ، تراکیب، استعارات اور تشبیہات بڑی شاعری کی راہ میں بڑی رکاوت سمجھی جاتی ہیں۔ اگر فن کار باشعور ہے اور لسانی اور فنی شعور رکھتا ہے تو وہ اپنی شاعری میں نئے خیالات اور نئی شعری لسانیات کو پیش کرے گا۔ ناصر ملک کی زیرِ نظر شعری تصنیف میں نئے فکروخیال اور لطیف زبان کا استعمال فنکارانہ سلیقے سے ہوا ہے۔ ملاحظہ کیجئے۔
پیرا اَج تے بول، کرامت کس لیکھے
منگتے ہتھاں نال سخاوت کس لیکھے
***
کدیں عشق دا سورج نئیں ڈُبدا
بس روپ سروپ دی چھاں ڈھلدی
***
جت کے روندا راہسیں ناصر
ہر کے یار مناون چنگا
***
روگ اولڑے گھات سیانی
بے دردے دی ذات سیانی
***
منھ تے بیٹھی کرماں ماری
کونجاں ویکھے تے کرلاوے
***
’’تریل‘‘ میں نعت، حمد، ہائیکو، نظم اور غزل، تمام اصناف موجود ہیں۔ نعت، حمد، ہائیکو اور نظم میں ناصر ملک نے خوب صورت عنوانات کا انتخاب کیا ہے۔ ان کے علاوہ اس مجموعے میں انہوں نے ’’وین‘‘ کے عنوان سے ایک اور صنف بھی متعارف کرائی ہے۔ اگرچہ اس سلسلے میں شامل نظموں کی تعداد صرف تین ہے مگر ان میں جو انہوں نے ہست کے تجربے کئے ہیں وہ ان کے فنی شعور کی بڑی دلیل ہیں۔ اس کے علاوہ کہیں کہیں قطعات بھی دکھائی دیتے ہیں۔
ہجر و فراق، جدائی اور وچھوڑا، انسانی دلوں کی اداس کہانی ہے اور یہ ایسا دکھ ہے جو ازل سے انسان کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے۔ ہماری پنجابی کی صوفیانہ شعری روایت ہو یا جدید شاعری کا جدید لہجہ ہو، جدائی اور وچھوڑا ایک بڑے موضوع کے طور پر اپنی جگہ اختیار کرتا ہے اور ناصر ملک کے ہاں یہ موضوع ایک نئے انداز میں اپنا اظہار پاتا ہے۔ ملاحظہ کیجئے ان کی ایک نظم، جس کا عنوان ’’کونجاں‘‘ ہے۔
ڈونگھے من دے تارو ہڑ وِچ لُڑیاں، فر ناں لبھیاں
واجاں اُتے کچے پیریں مُڑیاں، فر ناں لبھیاں
تھل پنھل دا ویہڑا، ایتھے رُڑیاں، فر ناں لبھیاں
جد وِی راہیاں نال بھلیکھوں جُڑیاں، فر ناں لبھیاں
ستیاں جو سرہاندی رکھ کے پُڑیاں، فر ناں لبھیاں
رسماں نے جو دَبیاں سن اُہ کڑیاں، فر ناں لبھیاں
یوں لگتا ہے کہ ناصر ملک کو کسی بڑے وچھوڑے کا سامنا ہے اور اس وچھوڑے میں وہ بعض اوقات نہایت خوف زدہ ہو کر چلا اُٹھتے ہیں۔
جدائی والا پل جدوں
نیویں پا کے اَوندا اے
رات بن جاندا اے
(نظم: تریل والی رات)
***
اوہنوں بھل اے سَٹ کے مینوں اُہ وِی وسدا رہسی
رت وِی پیندے، مار چھڑیندے، یار وِچھوڑے، غم
ناصر ملک کے ہاں مختصر اور طویل بحروں کا ایک جہان آباد ہے۔ انہوں نے اپنی غزلوں میں دونوں انواع کی بحروں کا خوب استعمال کیا ہے۔ بعض جگہوں پر تو یہ غزلیں نظم کی طرح تسلسل کی کیفیت کو پیدا کرتی ہیں۔ مثلاً
ادھی راتیں جاگن چنگا
کلھا بیہہ کے روون چنگا
بلھیاں چتھن چیکن نالوں
دوہڑے ماہیے گاون چنگا
***
ربا دل ناں توڑ
تینوں کاہدی تھوڑ
دریا دے وِچکار
بیڑی دِتی بوڑ
اپنی جاتی سانبھ
اُچا بولن چھوڑ
ناصر ملک کی غزلیہ اور نظمیہ شاعری میں کہیں کہیں پنجابی کافی کا رنگ بھی جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ کافی کا رنگ، سوز وگداز اور فراقیہ لہجے سے تشکیل پاتا ہے۔ ناصر ملک کی اکثر نظموں اور غزلوں میں یہ انداز اس بات کا پتا دیتا ہے کہ ناصر ملک کو پنجابی شعری روایت کا نہایت گہرا شعور ہے۔ اس کی ایک مثال اس نظم میں دیکھیے۔
اکھاں دے وِچ یاد سنیہڑے
مائے! میں نی کجلا پَوناں
پتی پتی وِینی کھاوے
مائے! میں نی گجرا پَوناں
چُنی پھڑ کے بیٹھا ریہندا
مائے! میں نی کوکا پَوناں
سیت ناں دین اجازت مینوں
مائے! ہُن شنگھار نی کرنا
جے کر تیتھوں سردا ہے تے
مائے! میرا یار ملا دے
(نظم: مائے نی مائے)
ناصر ملک کی نظموں اور غزلوں میں ایک پہلو ایسا بھی ہے جو بہت کم شعراء کے ہاں موجود ہوتا ہے، وہ پہلو، دلچسپی کا ہے۔ ان کی غزلوں اور نظموں کا آغاز کسی افسانے کی طرح ڈرامائی ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نظم اور غزل کے شروع میں ہی قاری مکمل طور پر ان کی گرفت میں چلا جاتا ہے اور خاتمے پر مکمل طور پر متحیر ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگرچہ غزل کا ہر شعر الگ سے معنی اور خیال کا حامل ہوتا ہے، لیکن ان کا ہر شعر الگ الگ خیال کا حامل ہونے کے باوجود غزل کے دیگر اشعار کے ساتھ کلی طور پر ہم آہنگ ہوتا ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو ناصر ملک نے بطور خاص پنجابی غزل میں ایک بالکل نیا فکری اور فنی تجربہ کیا ہے یہی بات انہیں آج کی پنجابی شاعری میں ایک منفرد مقام دینے کے لیے کافی ہے۔
***
اساطیری جمالیات کا مصور …..راجہ روی ورما : حقانی القاسمی
اساطیری جمالیات کا مصور …..راجہ روی ورما
حقانی القاسمی
غالب نے کہاتھا:
سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوری
تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہئے
شاید راجہ روی ورما نے بھی اپنی محبوبہ کے لیے ہی مصوری سیکھی ہوگی مگر وہ خود ہی مصوری کی وجہ سے ’محبوب‘ بن گئے اور اسی مصوری نے انہیں ہندوستانی آرٹ کی تاریخ میں زندہ جاوید کردیاہے۔
ہندوستانی آرٹ کو نئی جمالیاتی جہت، نیازاویہ اور اسلوب عطاکرنے والی شخصیت اور جدید ہندوستانی جمالیات میں انقلاب بپا کرنے والے راجہ روی ورماکوئل تھمپورن (1848-1906) کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے ہندوستان کے مذہبی رزمیے رامائن اورمہابھارت کے اساطیری کرداروں کو کینوس پراتار کران دونوں رزمیوں کے ذریعہ ہندوستان کے Ethosکو عوامی شعور سے متعارف کرایا اوران میں ارضیت کا عنصر شامل کرکے نئی طرفیں کھول دیں۔
راجہ روی ورمانے اپنی پینٹنگس میں قدیم ہندوستانی آرٹ اور یورپی واقعیت پسندی (realism) کے امتزاج سے کمال ہنر کا مظاہرہ کیا اور قدیم وجدید آرٹ کے مابین ایک مضبوط رشتے کی بنیاد ڈال دی۔ اسی لیے انہیں روایت پسندوں کے درمیان ماڈرن اور جدت پسندوں کے درمیان معقولیت پسند (rationalist) سمجھاجاتاتھا۔ نئی تکنیک اور میڈیم کی وجہ سے ان کی پینٹنگس کو شہرت و مقبولیت نصیب ہوئی اورعالمی سطح پر مصور کی حیثیت سے راجہ روی ورما کی شناخت بھی مستحکم ہوئی۔ انہوں نے مصورانہ موضوعات اور تکنیک کی سطح پر کئی نئے تجربے بھی کیے خاص طورپر رامائن اورمہابھارت کے اساطیری کرداروں سے جڑی کہانیوں کو کینوس پر اتارا اور اسے عصری حسیت اورمعنویت عطاکی۔
ہندوستانی اساطیر کی تصویرکاری نے ہندوستانی تخیل کو نئی جہت اور اجتماعی لاشعور کو نئی زمین عطا کی ہے۔ راجہ روی ورما نے اپنی پینٹنگس میں ہندو دیویوں کو جنوبی ہند کی خوبصورت ناریوں کے روپ میں پیش کیا۔ دیویوں کے تقدس اور حسن و جمال کی علامت کے طورپر جنوبی ہند کی خواتین کے امیج کے استعمال پر اعتراضات بھی ہوئے مگر مجموعی طورپر دیویوں کایہ مقدس حسین روپ عام ناظرین کو بے حد پسند آیا۔
راجہ روی ورما نے ہندوستانی آرٹ کو نئے آفاق سے آشنا کیا اور مصوری کو نئے جمالیاتی معیارات بھی عطاکیے کہ انہوں نے خود کو چند موضوعات میں محصور نہیں رکھا بلکہ نئے موضوعات اور کینوس کی تلاش میں ہندوستان کے طول و عرض کا سفرکیا۔ نگاہ شوق اور شوخی نظارہ نے نئے موضوعات اور کینوس عطاکئے، اس طرح ان کی مصوری تنوع اورتجدد کی نئی لہروں سے آشنا ہوئی۔
راجہ روی ورما کا جمالیاتی وژن بہت گہرا تھا اور حس نہایت لطیف اسی لیے ان کی مصوری نے جمالیات کی ایک نئی کائنات تخلیق کی۔ جمالیاتی نقطہ نظر سے ان کی مصوری کے شاہ کاروں میں خوبصورت ساڑیوں میں ملبوس خواتین کی پینٹنگس بھی شامل ہیں۔ ساڑی ان کی تصویروں میں جمالیات کی ایک پروقار علامت کے طورپر نظرآتی ہے۔ ساڑی کے ذریعے نسائی جوہر (Feminity)اور جنسی حساسیت اورجاذبیت، رعنائی و زیبائی کااتنا خوبصورت مصورانہ اظہاراور فنتاسی کا جمال بہت کم مصوروں کے ہاں نظرآتاہے۔ ساڑی میں ملبوس ناریاں نسائیت سے معمور اور حسن وجمال کا مرقع نظرآتی ہیں اور کبھی یوں محسوس ہوتاہے جیسے
بھیگی ہوئی ساڑیوں سے کوندے لپکے
ہر پیکر نازنیں کھنکتی ہوئی چنگ
اپنی مصوری میں راجہ روی ورما نے ساڑی کو ایک نئی معنویت عطاکی ہے اور حسن افزا ساری کے مصورانہ تخلیقی استعمال نے ان کی مصوری کے رنگ واسلوب کو ایک نئی شناخت بھی عطاکی ہے۔ان کی ایک پینٹنگ اس تعلق سے اتنی مشہور ہوئی کہ ایک ساڑی پر جب راجہ روی ورما کی پینٹنگ کی نقل اتاری گئی تو اس کی قیمت 40لاکھ روپے طے ہوئی۔ بیش قیمت جواہرات سے سجی دنیا کی یہ سب سے مہنگی ساڑی ہے جس کانام لمکا بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہے۔ اس ساڑی کی خوبی یہ ہے کہ اس پر راجہ روی ورما کی پینٹنگLady Musicians کا عکس ہے۔
راجہ روی ورما کی مصوری میں عورت کا آرچ ٹائپ ہے جسے یونگ نے سول امیج (Soul Image) کہاہے اور روی ورما نے عورت کے پورے جمالیاتی نقش کو اس کی تمام تر کیفیات کے ساتھ کینوس پر اتارا ہے۔ عورتوں کی Paintings میں راجہ روی ورما نے اتنے جمالیاتی ارتعاشات پید اکردئیے ہیں کہ آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں۔ ان کی پینٹنگس کی موہنی ہو یا دمینتی، شکنتلا ہو یا کوئی اور سب ونڈرفل نظرآتی ہیں۔ انہوں نے اپنی مصوری میں عورتوں کو Seductress اور Tempress کی حیثیت سے بھی پیش کیاہے اور موج خیز بدن کے نشیب و فراز، جمالیاتی زاویوں مخفی عبارتوں، سینے کے تناؤ میں پکھاوج کی ترنگ، روانی روش اور مستی ادا کو کینوس پر کچھ اس خوبصورتی سے اتاراہے کہ :
رس کے ساگر میں ڈوب جاتی ہے نگاہ
خاص طورپر مہاراشٹر کی حسین عورتوں کی پینٹنگس کا تو جواب نہیں۔
ایسی پینٹنگس دیکھ کر’ رتی یگ‘ کے ’شرنگار کا ویہ‘ کا گماں گزرتاہے یا پھر فراق کے ’روپ‘ کی رباعیاں کینوس پر روشن ہوتی نظرآتی ہیں:
وہ روپ کہ کامدیو جس کا ہوشکار
وہ رنگ اوشا نے جیسے چھیڑا ہو ستار
وہ ہونٹوں کارس جان طراوت ہر بوند
وہ گات کہ سر سے ایڑیوں تک چمکار
151151
یہ روپ مدن کے بھی خطا ہوں اوسان
یہ سج جو توڑ دے رتی کا ابھمان
پھیکی پڑتی ہے دھوپ یہ جوبن جوت
یہ رنگ کہ آنکھ کھول دے جیون گان
151151
لرزش میں بدن کی باغ جنت کی لہک
وجدان سیاہ کار گیسو کی لٹک
ہر عضو کے لوچ کا کچھ ایسا انداز
ست رنگے دھنش میں جیسے آجائے چمک
پینٹنگ میں بھی ہر خط بدن کی لومیں مدھم جھنکار سنائی دینے لگتی ہے رس میں ڈوبا ہوا لہراتایہ راگ بدن کینوس پر کچھ اور رنگ بکھیر جاتاہے۔ سجل بدن کے رسیلے روپ کی ایسی تصویر کشی بہت کم مصوروں نے کی ہے۔
راجہ روی ورما کی مصوری نے ہندوستانی طرز فکر اور احساس کو بھی تبدیل کیااور اس حدتک کہ فلم اور میوزک ویڈیوزجیسے پاپولر کلچر میں ان کی پینٹنگس کی نقالی شروع ہوگئی اورفلم سے جڑے ہوئے تخلیقی اذہان کو بھی ان کی پینٹنگس سے تحریک ملی۔ کہاجاتا ہے کہ سب سے زیادہ نقل راجہ روی ورما کی Paintings کی گئی۔ پھالگنی پاٹھک کے میوزک ویڈیو کے گانے ’’مری چنراڑاڑجائے‘‘ میں بھی ورما کی مشہور پینٹنگ ’شکنتلا‘ کی نقالی کی گئی ہے۔ ہندوستانی سنیما کے فادر داداصاحب پھالکے، راجہ روی ورما کی static realismسے بے انتہا متاثر تھے۔ اسطوری تاریخ پر بنائی گئی فلموں میں بھی راجہ روی ورما کی پینٹنگس کا استعمال کیاگیاہے۔ 1950کے دوران کتھاکلی کے ماہرکلامنڈلم رمن کٹی نائر نے پرشورام (وشنو کے اس اوتار کا خاص ہتھیار کلہاڑی ہے) کے کاسیٹوم کو دوبارہ ڈیزائن کیااور اس کو راجہ روی ورما کے پورٹریٹ کی شکل میں ڈھالا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ راجہ روی ورماکی مصورانہ بصیرت اور حسیت کی کیااہمیت اور معنویت تھی۔
راجہ روی ورماہندوستانی آرٹ میں جدید حسیت (Modern Sensibility) کانقطہ آغاز تھے اورانہیں مصوری کے ایک نئے دبستان کی حیثیت حاصل تھی۔ انہوں نے مصوری میں جو نئے ہیئتی اور موضوعاتی تجربے کیے اس کی وجہ سے ان کی مخالفت بھی ہوئی۔ راجہ روی ورما پر فحاشی اور عریانیت کے الزامات بھی لگے، ان کی گرفتاری بھی عمل میں آئی،مذہبی اور تہذیبی جذبات اوراخلاقی اقدار کی پامالی کے جرم میں معتوب بھی ہوئے۔ ان کی پینٹنگس میں اروشی اور مینکاوشو امتر پر بھی عریانیت کالیبل چسپاں کیاگیا، اپنی محبوبہ سگندھا کے سلسلے میں بھی وہ مقہور ہوئے مگرتخلیقی آزادی کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہی اور ملامتوں کے درمیان ان کی مقبولیت بڑھتی رہی۔
پورٹریٹ پینٹنگس میں انہیں درک کامل تھا۔ انہیں اتنی مہارت تھی کہ بڑی سے بڑی شخصیتیں بھی راجہ روی ورما کے اس ہنر سے مسحور تھیں۔ ماسٹرپینٹر آف پورٹریٹس کی حیثیت سے انہیں عالمی شہرت حاصل تھی۔ ان کے پورٹریٹ اتنے خوبصورت ہوتے تھے کہ میسور کے مہاراجہ نے اپنے اوراپنے خاندا ن کے پورٹریٹ کے لیے 1885 میں انہیں خاص طورپر مدعو کیا۔ بڑودا کے گائیکوارکی خصوصی دعوت پر انہوں نے وہاں کئی سال گزارے۔ راجہ روی ورما نے ہی اودے پور کے مہارانا اور ان کے پیش روؤں کے پورٹریٹ بنائے۔ روی ورما نے مہارانا پرتاپ کا جو پورٹریٹ بنایا ہے، اسے شاہکار کادرجہ حاصل ہے۔ 1904 میں مدراس گورنمنٹ ہاؤ س میں سرآرتھر ہیولاک (Sir Arthur Havelock) کی تصویر بنانے کے لیے انہیں خاص طور پر مدعو کیاگیااور اسی سال انہیں قیصرہندگولڈمیڈل عطاکیاگیا۔ راجہ روی ورما نے مختلف پس منظروں سے تعلق رکھنے والی عورتوں کے پورٹریٹ بھی بنائے اوران میں عورتوں کاحسن نہایت ہی دلفریب، جانفزا، مسحور اور مدہوش کن نظرآتا ہے۔ راجہ روی ورما کو پورٹریٹ آرٹسٹ کی حیثیت سے اس وقت شہرت ملی جب 1870 اور1878 کے دوران انہوں نے برطانوی افسران اور ہندوستانی ارسٹوکریٹس کے پورٹریٹ بنائے۔ پورٹریٹ بنانے کی وجہ سے انہیں اتنی شہرت ملی کہ کلمنور جیسے چھوٹے گاؤں میں حکومت کو پوسٹ آفس کھولنے پرمجبور ہوناپڑا۔ کیونکہ غیرممالک سے پورٹریٹ کی فرمائشیں آتی تھیں۔پورٹریٹ میں راجہ روی ورما نے تنجور (Thanjavoor) روایت کے اسالیب اور یوروپی حقیقت پسندی کے عناصر کاخوبصورت امتزاج پیش کیا۔ انہوں نے اپنے پورٹریٹ میں تنجور کی روایت کا احترام ملحوظ رکھا جس میں نائیکاز کا تصور عام تھا۔ اس دبستان مصوری میں نسائی جذبات کو مرکزی خیال کی حیثیت حاصل تھی۔
راجہ روی ورما کی وجہ سے ہی ’کلینڈرآرٹ‘ کو فروغ ملا۔ ان کے Oleographic Art کی مقبولیت اتنی بڑھی کہ1894 میں Oleography Press قائم کیاگیا جس کانام روی ورما پکچرس ڈپوٹ رکھاگیا۔ یہ پریس دیوان آف بڑودہ کے مشورہ پر قائم کیاگیا تاکہ عام لوگوں تک ان کی پینٹنگس کی رسائی ہوسکے۔ ان ہی کی وجہ سے پاپولرپینٹنگس کے ماس پروڈکشن کے عہد کاآغاز ہوا، مگر بیسویں صدی کے آرٹ مورخین نے اسے discard کیااور اسے انڈین امیج کے Industrializationکا نتیجہ قراردیا اور ان کی پینٹنگس کوIndustrialization of Gods سے تعبیرکیا۔
راجہ روی ورما نے ہندوستان کے قدیم آرٹ اور فوک کے ساتھ مذہبی بیانیے کے Illustrationsبھی بنائے۔ قصہ گوئی کے میڈیم کے طورپر Illusionist Paintings ورما کی اپنی ذہنی اختراع اور ایجاد ہے۔
راجہ روی ورما کی پینٹنگس کا تہذیبی تاریخی سیاق وسباق بھی ہے۔ ہندوستان کے تہذیبی استعارات، تاریخی علائم اور تلازمات کی انہوں نے خوبصورت عکاسی کی ہے۔ انہوں نے اجتماعی لاشعور کو بصری اظہارات (Visual Expressions) میں ڈھال کر عوامی شعور کو ایک نیا تصورعطاکیا، یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے اپنی مصوری کے ذریعے ہندوستانی اساطیر کو ایک نئی زندگی عطاکی اورانہیں اپنی مصوری کے لیے اساطیر کی شکل میں ایک وسیع ترکائنات کی کلید مل گئی ۔ رامائن اور مہابھارت دو ایسے مذہبی رزمیے ہیں جن میں قدیم ہندوستانی سماج، فلسفہ، ثقافت، سنسکرتی، مذہب اورنظام حیات کی پوری تاریخ ہے۔ انہوں نے اپنی مصوری کے ذریعے اس ’اتیہاس‘ کو عوامی شعور اور تخیل کا حصہ بنادیا اور ماضی کی حسیت کو اجتماعی حافظے میں روشن کردیا۔ انہوں نے وشنوکے دو اہم اوتاروں کی کہانیوں کو کینوس میں ڈھال کر گویاہندوستانی شعور اور ثقافت کی ترجمانی کی ہے اوراپنی مصوری کے ذریعے ہندو فلسفے اوراخلاقیات کے اہم سرچشمے سے ہندوستانی ذہن کو روشناس کرایا ہے۔ رامائن اورمہابھارت دوسنسکرت رزمیوں کو مرکزی حیثیت عطاکرکے انہوں نے مصوری کے ذریعے قدیم ہندوستانی تاریخ اور سنسکرتی کا احیاکیاہے اور ہندوازم کو آفاقی بصری اکائی(Visual Unity) بھی عطا کی۔ رامائن جووالمیکی کا تحریرکردہ ہے اس میں وشنو کے ساتویں اوتار رام کی زندگی اورعہد کابیان ہے جب کہ 1370 قبل مسیح میں عظیم شاعر اور مفکر ویاس کے تحریر کردہ رزمیہ (epic) مہابھارت میں کوروں اور پانڈوؤں کی جنگ، زندگی اورعہد کی عکاسی ہے اور اس عہد کارشتہ وشنو کے آٹھویں اوتار شری کرشن جی سے ہے۔ راجہ روی ورما کی پینٹنگس میں وہ اساطیری کردار مقدس اساطیری حیوانات جنہیں دیوی دیوتاؤں کا مقام بلند بھی حاصل تھا اور وہ دیوی دیوتا شامل ہیں جن کاذکر مہابھارت یا رامائن میں ہے۔ ایسے کردار جن سے ہر شعبہ حیات اور ہر عمر کے افراد تحریک حاصل کرسکیں ان میں کرشن، ارجن، بھیشم، بھیم جیسے کردار ہیں تو وہیں خواتین کے لیے دروپدی اور کنتی جیسے اسطوری کردار۔ مہابھارت شاعروں کے لیے مکمل کاویہ ہے تو بہتوں کے لیے مکمل ضابطہ حیات کہ اس میں زندگی کا مکمل گیان ہے اور اس کے ساتھ ہی خیرو شر کی جنگ میں خیر کی فتح دکھائی گئی ہے اور یہ بھی پیشین گوئی کی گئی ہے کہ پرتھوی اپنی جوانی کھو چکی ہے اور آنے والے دن نہایت ہیبت ناک ہوں گے۔ راجہ روی ورما نے مہابھارت کی مکمل رزمیہ روایت کو پینٹنگس میں زندہ کیاہے۔ انہوں نے دشینت، شکنتلا، رادھا، شری کرشن، دیوکی، نل اوردمینتی کی پینٹنگس بھی بنائی ہیں اور اپنی سرزمین کے کلچر اور تجریدی خیالات (absract ideas) کو visualiseکیا ہے۔
راجہ روی ورماکی جمالیاتی، اساطیری رومانی حسیت کی مظہر پینٹنگس میں درج ذیل بہت اہمیت کی حامل ہیں:
nVillage Belle
nLady Lost in Thought
nDamayanti Talking to a Swan
nThe Orchestra
nArjuna and Subhadra
nLady with lemon
nThe Heartbroken
nShakuntala
nLord Krishna as Ambassador
nJataya, a bird devotee of Lord Rama is mauled by Rawana
nVictory of Indrajit
nA family of Beggers
nA Lady Playing Swarbat
nLady Giving Alms at the Temple
nLord Rama Conquers Varuna
nNair Woman
nRomancing Couple
nDraupadi Dreading to Meet Kichaka
nShantanu and Matsyagandha
nShakuntala Composing a Love Letter to King Dushyanta
nGirls in Sage Kanwa’s Hermitage (Rishi-Kanya)
راجہ روی ورما کی پینٹنگس جو دیوی دیوتاؤں، رزمیہ کے ہیرو، ہیروئنوں سے متعلق ہیں ان سے روی ورما کی سائیکو اساطیر (Psycho-Mythology) کی شناخت کے ساتھ ساتھ Pan-Indian Iconography کی نئی تعبیر سامنے آتی ہے۔ ان کی زیادہ تر پینٹنگس کا جوPanoramic بیک گراؤنڈ اور لینڈاسکیپ ہیں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں، ان کی امیج میں بھیArtistocratic Orientalism ملتی ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے بصری ثقافتی ورثے(Visual Cultrual Heritage) میں گراں قدر اضافہ کیاہے۔
راجہ روی ورماایک ایسے خانوادے کے چشم و چراغ تھے جہاں آرٹ اور کلچر کا خوبصورت ماحول تھا اور خاندان میں ودوان کوئل نمپورن، کتھاکلی کے مصنف راون وجائم، تلال رقص کی مشہور کتاب ’پاورتی سوائم ورم‘ کی مصنفہ اوماانبابائی نمپورتی جیسے آفتاب ومہتاب تھے۔روی ورما کا جنم 29؍اپریل1848 میں کلیمنور(جواب کیرالہ کا ایک چھوٹا ساگاؤں ہے) میں ہوا۔ ان کے والد اممبا تھمپوری تھے اور ماں کانام نیلاکندن بھٹا تھری پد تھا۔ سات سال کی عمر میں ہی انہیں مصوری کاشوق پیدا ہوگیاتھا۔ گھر کی دیواروں کو چارکول سے رنگنے کاسلسلہ شروع ہوا توان کے چچا راجہ راجہ ورما کوان کی پیشانی پر ذہانت کا نور نظرآیا اور چچا نے اپنے بھتیجے کے ذوق مصوری کو مہمیز کرنے کے لیے اس کے آداب سکھانے شروع کردئیے۔ اس طرح ایک آبلہ پاوادی پر خار میں داخل ہوا۔ مصوری کے رموز ونکات سے آگہی نے راجہ روی ورما کے ذہنی کینوس کو مزیدوسعت عطاکی۔ مصوری کے سلسلے میں ٹراونکور کے مہاراجہ ائیلائم تھرونل (Ayilyam Thirunal)نے بھی ان کے جذبہ وجنوں کو مہمیز کیا۔ چودہ سال کی عمر میں تھروونتھا پورم میں مودتھ مادام ہاؤس میں مقیم رہ کر راج محل کے مصور راماسوامی نائیڈو کی نگرانی میں روی ورما نے واٹر پینٹنگ سیکھی اور اطالوی مصوروں کی پینٹنگس دیکھنے کا انہیں موقع ملا۔ تین سال کے بعد برطانوی پینٹر تھیوڈرجینسن (Theoder Jenson)نے انہیں Oil Paintingسکھائی۔ اس سلسلے میں ان کی راہ میں سنگ گراں بھی آئے کیونکہ اس وقت اس پینٹنگ کی تکنیک سے ٹراونکور میں صرف ایک ہی شخص واقف تھا جس کانام تھا راماسوامی نائیکر۔ راجہ روی ورما کی شکل میں سوامی کو ایک طاقت ور حریف نظرآنے لگا اس لیے انہوں نے یہ تکنیک سکھانے سے منع کردیا۔ پتیوں پھولوں، درخت کی چھالوں اور مٹیوں سے پینٹنگس بنانے والے راجہ روی ورما کے مصورانہ تخیل کو نئی اڑان اس وقت ملی جب انہیں کینوس پر رنگوں کے استعمال کاایک سنہرا موقع ملااور پھر انہوں نے ستاروں سے آگے کے جہاں کی جستجو شروع کردی اور حدپرواز سے آگے ممکنات کی نئی دنیائیں تلاش کرلیں۔ غالب کی طرح انہوں نے بھی دشت امکاں کو ایک نقش پاپایا۔ 1873 میں انہیں مدراس کی پینٹنگس نمائش میں Nair Lady at the toilet پر پہلا انعام ملا اور پھر جب ویانا (Vienna) انٹرنیشنلArt Exhibition میں انہیں پہلا انعام ملا توان کی شہرت نئی بلندیاں چھونے لگی اورآرٹ کی پوری دنیا ان کے جذبوں کے رنگ میں اپنے تخیل کی کائنات تلاش کرنے لگی۔1874 میں A Tamil Lady پر بھی انہیں ایوارڈ ملا۔اس کے بعد 1893 میں ورلڈ کولمبین کمیشن ایوارڈ (شکاگو) سے سرفراز ہوئے۔
راجہ روی ورما نے کینوس میں حقیقی رنگ بھرنے کے ساتھ اپنی زندگی کے کینوس کو کورا نہیں چھوڑا۔ اپنی نجی زندگی کو بھی سوندھی سوندھی خوشبوئے بدن سے معطر کیا جس کی تازگی اور صباحتیں ان کی پینٹنگس میں بھی نظرآتی ہیں اور وہ رعنائی خیال بھی جو اس کے تصور سے تھی۔ ان کی شادی شاہی خاندان Mavelikaraکی رانی بھاگیرتھی بائی سے ہوئی۔ جنہوں نے ان کے خواب زندگی کو بدلا اور پھر خیال حسن میں حسن عمل کا سا خیال اپنا رنگ بکھیرنے لگا۔ ان کے سب سے بڑے بیٹے پرنس کیرالہ ورما کی پیدائش 1876میں ہوئی تھی۔ 1912 میں گم ہوئے تو ان کا پتہ ہی نہیں چلا۔ ان کے دوسرے بیٹے پرنس راما ورماایک آرٹسٹ تھے جنہوں نے ممبئی کے جے جے اسکول آف آرٹس میں تعلیم حاصل کی تھی۔ تیسرے بیٹے پرنس راجہ راجہ ورما تھے۔ان کی بڑی صاحبزادی پرنسیز مہاپربھا ٹراونکور کی مہارانی سیتھو لکشمی بائی کی ماں تھی ایک اور صاحبزادی پرنسیز اوما بائی تھی جو مہاراجہ چتھرا تھرونل بلرام ورما کی دادی تھی اس طرح مویلکارا شاہی خاندان سے ان کا رشتہ بہت گہراتھا۔
راجہ روی ورمانے 2؍اکتوبر1906 میں 58سال کی عمر میں آخری سانس لی اوراس جہان فانی سے اپنا رشتہ توڑلیا مگرآرٹ کی دنیا سے ان کا رشتہ اتنا مضبوط ومستحکم ہوگیا کہ آج بھی آرٹ کی تاریخ ان کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ ان کی زندگی کی نئی پرتیں کھلتی جارہی ہیں اوران کے فن کے اسرار منکشف ہوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے مصوری کو جن ممکنات سے متعارف کرایا ان پر تحقیق کاسلسلہ جاری ہے۔ان کی عظمت کا اعتراف صرف ہندوستان میں آرٹ کے شیدائی ہی نہیں کرتے بلکہ غیرملکی ماہرین آرٹ بھی ان کی مصورانہ عظمتوں کو سلام کرتے ہیں۔ ان پر انگریزی اور ملیالم میں بہت سی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ پرس رام ، منگھارام نے
Raja Ravi Verma: The Most Celebrated Painter of India
کے نام سے دوجلدوں میں کتاب لکھی ہے وہیں دو جرمن اسکالرز Erwin Neumayer and Christine Schelberger نے Raja Ravi Verma and the Printed Gods of India کے نام سے کتاب مرتب کی اور رنجیت ڈیسائی نے ان سے متعلق ایک سوانحی ناول ’’راجہ روی ورما‘‘ کے نام سے لکھا جس پر انگریزی اور ہندی میں کیتن مہتا جیسے ڈائریکٹر کی فلم ہے۔ انگریزی میں یہ فلم "Colors of Passion” کے عنوان سے ہے جب کہ ہندی میں ’رنگ رسیا‘ کے نام سے جس میں نوبل انعام یافتہ ماہراقتصادیات امرتیاسین کی بیٹی نندناسین نے روی ورما کی محبوبہ سوگندھ کارول اداکیاہے۔
ہندوستانی آرٹ میں ان کی خدمات کااعتراف کرنے کے لیے کیرالہ حکومت نے ان کے نام پر راجہ روی ورما پر سکارم کاآغاز کیا جس کے تحت آرٹ اور کلچر کے میدان میں نمایاں اور امتیازی کردار اداکرنے والوں کو ایوارڈ دیے جاتے ہیں۔ اب تک ایم ایف حسین (2007) سمیت کے جی سبرامنین (2001) ایم وی دیوان (2002) اے راماچندرن (2003) واسو دیون نمبودری (2004) کنائی کنہی رمن (2005) وی ایس ولیاتھن(2006) اس ایوارڈ سے سرفراز کیے جاچکے ہیں۔ کیرالہ کے Mavelikara ضلع میں ان کے نام پر ایک کالج بھی تعمیر کیاگیا ہے۔
****
حقانی القاسمی
h_qasmi@rediffmail.com
گور نر جھا ر کھنڈ کی کتاب ’’اردو شا عری کاانقلابی کر دار‘‘ : ڈاکٹر فہیمہ خا تون
گور نر جھا ر کھنڈ کی کتاب ’’اردو شا عری کاانقلابی کر دار‘‘
ڈاکٹر فہیمہ خا تون، شعبۂ اردو ما روا ڑ ی کا لج’رانچی‘جھا ر کھنڈ
اس طرح مجھے یہ با ت بہت ا چھی لگتی ہے کہ قو میت کا تصور دراصل وطن پر ستی کے تصور کی تو سیعی شکل ہے’’عزت مآ ب جھار کھنڈ‘‘ کی کتا بوں کی سا ری با توں کو قلمبند کروں یہ ممکن نہیں، انکی کتا بوں کی کچھ مخصوص با توں کو میں بیان کر رہی ہوں۔ ’’اردوصرف مسلما نوں کی زبا ن نہیں ہے‘‘لیکن افسوس کے کچھ لو گوں نے اسی زبا ن کو تو ڑ نے کا کا م کیا ہے۔ پو رے ہندوستان میں اس زبا ن کوبو لنے اور سمجھنے والے مو جود ہیں لیکن تو ڑ نے وا لی طا قتوں نے نہ صرف یہ کہ زبان کو تو ڑ نے کی کو شش کی بلکہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو بھی مٹا نے کی کو شش کی یہ با ت ذہن نشیں کر لینی چا ہئے کہ اردو زبان ہندی سے رقا بت بھی کیسے کر سکتی ہے۔ اردو دستو رِ ہند میں تسلیم کی گئی زبا نوں میں ایک ہے اور جنگِ آزادی کے سپا ہیوں میں اکثر یت کی زبان اردو ہی تو تھی۔ تو پھر اس کے سا تھ سو تیلا پن کیوں۔
میں عزت مآب جھا ر کھنڈ ڈا کٹر سید احمد صاحب کے ذ ہنی انقلاب سے بے حد متا ثر ہوں اور میر اذہن بھی ان کے ذ ہن سے ہم آہنگ ہو کر یہ کہہ اٹھتا ہے
’’اگر ہمت کر ے تو کیا نہیں انسا ن کے بس میںیہ ہے کم ہمتی جو بے بسی معلوم ہو تی ہے جسے اور کر گزر نے پر ہر قلم کا ر مجبور ہو جا ئے اور انشا اللہ اسے عملی جا مہ پہنا یا جا ئے ’’گور نر جھا ر کھنڈ‘‘ سید احمد صا حب کی کتا ب دانشوروں کے لئے ایک قیمتی تحفہ ہے جس سے سبق حا صل کرکے زندگی کے کیڑ ا بن جا ئیں۔ نہ کہ صر ف تعر یفی کتا بی کیڑابنے۔ بلکہ وہ جز بہ پیدا کر یں۔
تصور کھینچ وہ نقشہ جس میں وہ صفائی ہو
ادھر شمشیر ئصینچی ہو ادھر گر دن جھکا ئی ہو
کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ ہوا ؤ ں کو قید نہیں کیا جا سکتا اور وقت کو با ند ھ کرنہیں رکھا جا سکتا اسلئے میں بھی کہتی ہوں۔
وہ وقت تو کبھی آ ئے گا
جب دل کے کنول کھل جا ئیں گے
مر جا ؤ ں گی تو کیا مر نے سے
یہ خوا ب میرے مر جا ئیں گے
یہ خوا ب ہی میر ے حصہ ہیں
یہ تمہیں دے جا ؤں گی
اس دہر میں جینے مر نے کا
اندا ز تمہیں دے جا ؤں گی
ممکن ہے دنیا کی روش پل بھر میں
تمہا را سا تھ نہ دے
کا نٹوں ہی کا تحفہ نظر کر ے
پھو لوں کی کو ئی سو غا ت نہ دے
ایسے نہ گھٹ کر رہ جا نا
اشکوں سے نہ دا من بھر لینا
غم آ پ بڑ ی ایک طا قت ہے
یہ طا قت بس میں کر لینا
ہو عزم تو دے اٹھتا ہے
ہر زخم سلگتے سینے کا
جو اپنا حق خود چھین سکے
ملتا ہے اسے حق جینے کا
لیکن یہ ہمیشہ یا د رہے
اک فر د کی طا قت کچھ بھی نہیں
تنہا تمہیں جب پا ئیں گے
طا قت کے شکنجے جکڑ یں گے
سب ہا تھ اٹھیں گے جب مل کر
ظا لم کا گر یباں پکڑیں گے
’’گو ر نر جھا ر کھنڈ ‘‘ڈا کٹر سید احمد صا حب کی کتا ب میں ظفر علی خاں کی نظم نو ید آ زادئی ہند، کا فی معنیٰ خیز ہے اس میں انہوں نے یہ لکھ کر ثا بت کر دیا ہے
کہ دیوا نو ں کے دل میں آ زا دئی تڑپ کتنی ہے۔وہ کتنے بیقرار ہیں ان کے اندر اضطر اری کیفیت پا رہ کے ما نندمضمر ہے کہ ذ را سی چبھن جو ا لا مکھی کی
ما نند پھو ٹ پڑ تا ہے یقیناً جو ایما ن کی قو ت رکھتا ہے وہ آ گ میں کو د پڑ تا ہے جس طر ح ’بے خطر کو د پڑ ا آتشِ نمر ود میں عشق ‘‘ اور کا غذی گھو ڑ ے انسا ن
پر اس کاکچھ اثر نہیں ہو تا ۔ چو نکہ اس کی سوچ مر دہ ہے اس لئے یہ با ت سچ ہے کہ’’شیر کے پنجہ کو زندہ مغز چا ہئے،مر دہ ہا تھی نہیں‘‘
اس طرح میں دیکھتی ہو ں ڈا کٹر سید احمد صا حب نے دینی تعلیم بھی حا صل کی اور جد ید تعلیم سے بھی آ را ستہ ہو ئے۔ شا ید یہی وجہ ہے کہ اعتدال پسند
ان کی شخصیت کا اہم جز و ہے۔ دینی تعلیم نے ان کے ذہن کو محد ود نہیں کیا بلکہ کشا د گی عطا کی اور سیکو لر زم کو انہوں نے اپنا طر ز حیا ت بنا یا ۔ اور اپنے آپ کو
کسی ایک مسلک کے حصا ر میں قید نہیں کیا اور یہ بھی ان کی شخصیت کا ایک دلنو از پہلو ہے۔
مگر میں یہا ں پر
معذ رت چا ہوں گی اور ڈا کٹر سید احمد صا حب سے یہ کہنا چا ہوں گی کوئل کی کو ک سبھوں کو اپنی طرف متو جہ کر تی ہے اور سا رے لو گ
کو ں، کوں ، کوں کے دا یونے ہیں مگر اس طرح’’سید احمد صا حب ‘‘ کو کوں ، کوں ، کوں کی آ واز میں اللہ ہو ، ہو، ہو کی آ واز سنا ئی دے تب
جا نوں ………ان کے اندر خدا نے بے بہا یہ صفت نو ازی ہے
مخدوم یحیٰ منیر یؒ کی با ت پیش کر تی ہوں ۔
’’ظلم کا خا صہ یہ نہیں کہ اس سے با دشا ہت ملے ۔ انصا ف سے ملک حا صل ہو تا ہے با دشا ہت عقل سے تقو یت پا تی ہے تمہا رے
کا م میں تمہا رے انصا ف ہی سے پا ئیدا ری آ ئے گی۔ انصا ف کر وعا لم سے ظلم کو نکا لو۔ تا کہ تمہا رے انصا ف کے ذ ر یعہ عا لم میں
پا ئیدا ری آ ئے‘‘۔
یوں تو ہندو ستان کی ہمہ گیر تا ریخ اور یہا ں کی تہذ یبی شعو ر کی اہمیت سا ری د نیا میں مسلمہ حقیقت ہے۔ اسکی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے
کہ گزری ہو ئی کئی صد یو ں کی پر انی تا ریخ و تہذ یب کے اہم نقو ش کو ہما رے بز ر گوں نے محفو ظ کر رکھا ہے۔ کہیں یہ تہذ یب پتھروں پر
کندہ ملتی ہے تو کہیں مو ر تیو ں میں سجی ہو ئی ، کہیں مقبر وں اور مزاروں میں اس کے نشا ں ملتے ہیں تو کہیں آ ثا رِ قد یمہ کے کھنڈرات اسکا پتہ دیتے ہیں ، تو کہیں عا لیشا ن عما رتیں اپنی کھا ئیوں کو پیش کر تی ہو ئی نظر آ تی ہیں ۔
گورنر ڈا کٹر سید احمد صا حب نے فیض احمد فیضؔ کے نظم کو قلمبند کر کے اپنے انقلا بی جوش کا اظہار کیا ہے۔
یہ دا غ دا غ اجا لا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظا ر تھا جس کا وہ سحر تو نہیں
جگر کی آ گ ،نظر کی امنگ، دل کی جلن
کسی پہ چا رۂ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں
کہا ں سے آ ئی نگا رِ صبا کدھر کو گئی
ابھی چراغ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
اس نظم کو عمیق نظر وں سے دیکھا جا ئے تو ایک وجدا نی کیفیت اور انقلا بی جوش پیدا ہو تا ہے۔ جو میٹھا میٹھا درددیتا ہے اور کہتا ہے کہ
’’چلے چلو ابھی وہ منزل نہیں آ ئی۔اس سے یہ ثا بت ہو تا ہے کہ’’گو ر نر جھار کھنڈ‘‘ کو ہیر ے کی تلا ش ہے گیہوں کی نہیں ۔ گیہوں
مر غ کے لئے اور ہیر ا جو ہری کے لئے۔ ان کی کتا ب’’اردو شا عری کا انقلا بی کر دا ر ‘‘کا ہر لفظ حقیقت کا آ ئینہ ہے’’ انہوں نے ایک بہت
اچھی بات کہی ہے شیر کو جب بھو ک لگتی ہے تب وہ حملہ کر تا ہے مگر چیتا بار بار حملہ کر تا ہے ‘‘اس طرح آ زا دی کے دیو ا نوں کو حملے کی ضرورت
ہے مگر حو صلہ مندی سے، اور دا نشو ار انہ حکمت عملی سے، گو ر نر جھاکھنڈنے انگر یز وں کے سبھی راز و نیا ز سے وا قف کر ایا ہے۔ (جاری)
انگر یز وں کے اندر بے پنا ہ مکرو فریب بھر اہو ا تھا ۔ جن کو اردو کے عظیم شعر اء نے اپنی شا عری کے ذریعہ ان کی شا طر انہ چال کو بے نقاب کیا۔ اور عوام کو ان کے فریب سے آ گا ہ کرا تے رہے اس طرح دیکھا جا ئے تو ہر دور میں عظیم شعراؤں نے اپنی قلم کی قوت سے لو گو ں کو جگا یا ہے اس طرح میں ’’عزت مآ ب‘ کی ذہن سے متفق ہو کر یہ شعر عر ض کر تی ہوں ۔
بے معجزہ دنیا میں ابھر تی نہیں قو میں
جو ضرب کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر ہی کیا
نہیں مقام کی خو گر طبیعت آ زاد
ہوا ئے سیر مثا ل نسیم پیدا کر
ہزاروں چشمے تیرے سنگ راہ سے پھو ٹے
خودی میں ڈوب کر ضرب کلیم پیدا کر
سب سے بڑی حقیقت نگاری جس کا تعلق اسلوبِ بیان جسے دوسرے حیات وکانئات اور ملک و ملت سے محبت جو شا عری کی رو ح ہے اس کے وجہ سے قا ری کے ذہن پر ایک نقش ابھر نے لگتا ہے۔ اور اس کے ذریعہ اس کے اندر عقا بی روح پیدا ہو جا تی ہے جو طو فان کا رخ موڑ تے ہو ئے ہوا ؤ ں کا سینہ چیر تے ہو ئے آگے بڑ ھنے کی اپنی اندر بے پنا ہ صلا حیت پیدا کر لیتا ہے ۔یہ سا ری با تیں آ ج کے ’’گورنرجھارکھنْد‘‘ڈاکٹر سید احمد صا حب کی کتاب اردو شا عری کاانقلا بی کر دا ر میں پا یا جاتا ہے میری نگا ہ میں یہ کتاب ایسی ہے جیسے ’’مٹی کے پتلے میں جان ڈال دی گئی ہو‘ان کے اس کتاب میں فن کار کھ رکھاؤ بھی ہے۔ اسلوب کی چا شنی بھی اور جذ با ت کی تپش تو مت پو چھئے آسمان کو چھو تی نظر آ تی ہے۔
جب میں گو نر جھا ر کھنڈ ڈا کٹر سید احمد صا حب سے رو برو گفتگو کر تی ہوں تو ان کے اندر ایک تڑپ پا تی ہوں۔ جسے وہ لفظوں میں بیان نہیں کر پا تے،
مگر دیدہ ور نگا ہیں پہچان جا تی ہیں کہ انہیں اپنی ما ں ۔ کنبہ، خا ندان ریا ست کے عوام اور ہندوستان سے بے پنا ہ محبت ہے۔ ان کے اندر کچھ کر گزرنے کی کیفیت جو الا مکھی کی طرح مضمر ہے۔ خدا انہیں کا میا بی دے اور ان کی تر قی میں چا ر چا ند لگا دے۔ اور یہ سا ری با تیں ان کی کتا ب ’’اردو شا عری کا انقلابی کر دار میں بھی ملتی ہیں جو سچا ئی کی علمبر دار ہے میں بہت ہی صا حب قلم اور دانشوروں سے ملی ہوں ۔مگر انکے اندریہ جذبہء حق نہیں دیکھی ہوں ۔ میری نگا ہ میں ابھی تک ایک ہی صا حبِ قلم ہیں جو گور نر صا حب کے با لقا بل ہیں میں ان کی تہ دل سے قدرکرتی ہوں مگر یہ راز راز ہی رہے تو زیا دہ بہتر ہے۔ بصیرت بھری نگا ہیں انہیں فوراً پہچان جا ئیں گی۔ اور بصیرت بھری نگا ہیں خدا کے طرف سے عطیہ کی جا تی ہیں جو خدا داد صلا حیت ہے اور یہ صلا حیت ہما رے گورنر جھار کھنڈ‘‘کے اندر بے پنا ہ مو جود ہے۔ ان کی نگا ہیں بصیرت اسے پر واز کرتے ہو ئے شا ہین با ز تک ہے اس طرح میں دیکھتی ہوں کہ۔
’’گورنر جھا ر کھنڈ ‘‘ کو اپنے زبان و بیان پر بے حد قدرت حا صل ہے وہ صا حبِ نسبت ہیں ۔ صا حبِ قلم اور صا حبِ اخلاق ہیں اور وہ اپنے سینے میں زندہ دل رکھتے ہیں ۔ جس سے زندگی عبا رت ہے وہ زندگی سے زیا دہ موت کا تعا قب کر تے ہیں مگر مو ت ان سے کو سوں دور بھا گتی ہے۔
چو نکہ ان کے اندر بے پنا ہ ایما ن کی طا قت ہے‘‘۔
’’اردو شا عری کا انقلا بی کر دار‘‘ کی یہ بین شہا دت ہے چنا نچہ عرس ملسیا نی انقلا ب کی با ت کر تے ہیں تو شہیدا نِ وطن کی یا د میں آ ستین انقلا ب کو خون سے تر پا تے ہیں ۔ جاں نثاراختر ؔ ہمر یا ن قافلہ میں اسیاانقلا بی جذ بہ کی گرم ا فتادی کے آرزو مند ہیں اور خود کہتے ہیں۔
ظلمتیں میداں سے آ خر بھا گنے وا لی ہیں اب
دفعتاً منزل کی را ہیں جا گنے وا لی ہیں اب
اس طر ح ظلمتوں کو میدا ن سے بھگا نے کے لئے ہندو ستا ن چھو ڑو ’’کے فلک شگا ف نعرے بلند ہو ئے اور اسطرح مجا ز نے بدیسی مہمان سے کہا
مسا فر بھا گ وقت بے کسی ہے
تیرے سر پر اجل منڈ لا رہی ہے
یہ قول بھی صحیح ہے ’’ جو ابر یہا ں سے اٹھے گا وہ سارے جہا ں پربر سے گا ‘‘اس طرح میں بھی کہتی ہوں
’’وہ آ ہ کو ئی آ ہ ہے۔ لگ جائے نہ جس سے آ گ ۔ وہ اشک کو ئی اشک ہے۔جس میں لہو نہ ہو۔ فہمی نما ز یں عشق کی مقبو لیت محا ل ۔ جب تک کیاپنے خون جگر سے و ضو نہ ہو‘‘
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ
’’اردو ادب میں سیا ست کو ئی نئی چیز نہیں ہما رے ادب میں سیا ست اس وقت سے شامل ہو گئی جب سے زبا ن نے ادب کا درجہ حا صل کیا ہے۔ اور ہما رے گو ر نر جھا ر کھنڈ ڈ اکٹر سید احمد صا حب بھی ایک بہت بڑے سیا ست داں ہیں ۔ ان کے اندر ادب میں سیا ست اور ستاسے میں ادب چھپا ہے۔۔۔۔۔۔۔جو ایک جا مع شخصیت کے لئے فخر کی با ت ہے۔ خدا جسے جس چیز سے نو ا ز دے ۔ عزت مآ ب سید احمد صاحب کو اللہ نے باد شا ہت میں فقیری اور فقیری میں با دشا ہت سے نواز دیا ہے ان کے لئے ایک تصوفا نہ شعر عر ض کر تی ہوں۔
اک رات وہ پا ئی ہے جو کا ٹے نہیں کٹتی
اک درد وہ جا گا ہے جو سو نے نہیں دیتا
خود دار طبیعت ہے جو جھکنے نہیں دیتی
غیرت کا تقا ضہ ہے کہ رو نے نہیں دیتا ‘‘
انہوں نے اپنی کتا ب میں اس با ت کا ذکر کیا ہے جو بہت معنیٰ خیز ہے
۱۔امرت اسے دیو تا ؤ ں نے پی لیا۔
۲۔لکشمی دیوی۔ ان پر وشنو جی نے قبضہ جما لیا
۳۔سر یعنی شراب۔ اسے دیتوں نے پی لیا
۴۔چاند۔ یہ شیو جی کے حصہ میں آ یا اور اسے انہوں نے اپنی پیشا نی پر لگا یا۔
۵۔دہن ون تری وید۔ یہ ایک ہا تھ میں جونک اور ایک ہا تھ میں بلیلہ لئے ہو ئے بر آ مد ہوا ۔
۶۔رامبھا ۔ایک حسین بہشتی حور تھی ۔ را جہ اندر کی ہو ئی ۔
۷۔کو نسیہ من۔ یہ ہیر ا تھا ۔ اسے و شنو جی نے اپنی کٹھ ما لا میں ڈال کر پہن لیا۔
۹۔پا ر جا ت۔ ایک بہشتی در خت تھا اس سے جو ما نگو مل جاتا۔
۱۰۔کام دھینو۔ اعلیٰ صفت گا ئے ، بر ہما جی نے لی۔
۱۱۔شنکھ ۔ اس کے پھو نکنے سے با دل کے گر جنے کی سی آواز پیدا ہو تی تھی و شنو جی اس کے حقدار۔
۱۲۔اہر اوت۔ نا یا ب ہا تھی۔ اندر دیوتا اس پتر بر اجمان ہو ئے۔
۱۳۔دھنش یا کمان۔ قو س و قزح اس کو انددرنے لیا۔
۱۴۔وش یعنی ز ہر ۔اسے شیو جی نے پی لیا اور اسی لئے ان کے حلق کے گر دا یک نیلا حلقہ پڑ گیا۔
ان تفصیلا ت سے انہوں نے ہندو ؤ ں کے منتر کو اجا گر کر دیا۔ جو آ ج کل کے انسا نوں کے اندر ان کے اس منتر کا اثر ذرا بھی نہیں جبکہ ہونا چاہئے چو نکہ انسا ن کے اندر سب سے بڑ ی طا قت قوتِ ظر ف ہے جوانسا ن کو اعلیٰ مقا م تک پہنچا تا ہے۔اس طرح’’ عزت مآب جھا ر کھنڈ ‘‘ نے اپنی کتاب میں چو دہ ر تن کا ذ کر کیا ہے۔ جو قا بل تعر یف ہے۔
جگت سمندر میتھو چتر ا ئی ر منی کر سنگار
پلکہ تیز دھن ر مبھا تیری لجیا لچھیں لینے او تا ر
کٹا چہ تر نگ سین انبر ت پکہ کا جر ینہ کو چندر کینی نا ر
سو ہ سر اکو سبھ کپکے ڈور ی یا ر جا ت ہ ہملتا سنگ سیا ر
مدن بہت نر کھن دہتر
یکا م و ہیں سو و شٹ و ک پنو ار
اس طرح اس کا مطلب صاف ہے۔
نو جوان حسینہ نے کمال عیا ری سے اپنے سنگا ر کے لئے دنیا کے سمندر متھا ۔ اس کی پلکیں کم ن کی تیر ہیں ۔اس کی شرم وو حیا اپسر ا رمبھا جیسی ہے۔اس نے گو یا خود لکشمی دیو ی کا اوتا ر لیا ہے ۔ تر چھے ابر او گھو ڑ ے کی طرح بے تاب ہیں غمز ہ چشم حیا ت ہے۔ پلکو ں میں کا جل اگا ہے اور محبت کے جو ش نے اس کے چہر ے کو چا ند بنا دیا ہے ۔ اس کی محبت شرب
ہے۔ اس نے گلے میں ڈوری سے کو ستبھ ہیر ا پہن ر کھا ہے۔ اسکے بندپا ر جا ت پھو لا کی طرح ہے اور اس کا گلا سنکھ ، اس کا دیکھنا ویددہنت منتری کا اعجا زرکھتا ہے ۔ اس کی نظر دکھ کو دور کر نے وا لی کا م دھینو گا ئے ہے۔
اس رتن سے یہ با ت صاف ظا ہر ہو جا تی ہے کہ اس میں شا عر کو صرف حسن کا سر اپا کھینچنا مقصود نہیں تھا ۔ بلکہ اس نے ایک مکمل دیو ما لا ئی قصہ کو ا ستعمال کر دیا۔ اس طرح سے اس میں شعر یت کے تقا ضے بھی پو رے ہو ئے اور روح عصر سے میل کھا تا ہو اشا عر کا مز اج بھی جھلک گیا۔
یہ صر یحاً انقلا بی مز اج تھا ۔ ہندو دیو تا ؤ ں سے علی عا دل شا ہ کی عقیدت کی اہمیت کو یو ں سمجھئے کہ یہ کسی عا م آ دمی یا محکو مہ کی عقیدت نہیں تھی ۔ یہ کسی صو فی کے مشرب کا آ ئینہ دا ر عقیدت بھی نہیں تھی۔ بلکہ یہ با دشا ہِ وقت کی عقیدت تھی اس کے لئے کو ئی مجبو ری نہیں تھی اس کے سا منے کو ئی مشن نہیں تھا یہ عقیدت اس فکر ی ہم آ ہنگی کا لا ز می نتیجہ تھی جو اس عہد میں ہندو مسلم اشتر ا کی تمدن سے پیدا ہو ئی تھی ۔ علی عا دل شا ہ ثا نی نے اما م حسینؓ کی شہادت ت پر مر ثیے بھی لکھے ہیں لیکن اسکے مذہبی عقید ے نے کبھی دو سرے مذا ہب کے احترام سے اسے منع نہ رکھتے تھے، وہ مر تضیٰ کا غلام ہو کر بھی سر ی کر شن کے حسن کا مزا لے سکتا تھا۔
بہر کیف شا ہی کی و سیع انظر ی اور اس دو ر میں ہندو مسلم تہذ یبی اتحا د کو شا ہی کی شا عری نے جس طرح خود میں سمو لیا ہے یہ اس شا عری کے انقلا بی کر دار پر دلا لت کر تا ہے اور آ ج جب کہ تا ریخ اس صدا قت کے متعلق خا مو ش ہے تو شا ہی کی شا عری بو لتی ہے۔
اس طرح ہم اعجا ز حسین کے الفا ظ میں کہتے ہیں ۔
’’جہا ں تا ریخ خا مو ش ہو جا تی ہے حالات تا ر یکی کے پر دے میں آ جا تے ہیں وہا ں شا عری اپن چر ا غ رو شن کر کے جذ با ت و محسو سا ت کو رو ز رو شن کی طرح سا منے لا کر کھڑا کر دیتی ہے‘‘
اس طر ح میں کہہ سکتی ہو ں ’’اگر کسی بھی کتا ب میں مصنف کی اپنی کو ئی سو چ نہیں ہے تو وہ کتا ب بیکا ر ہے۔ مگر’’ اردو شاعری کا انقلا بی کردار ‘‘میں مصنف کی اپنی سوچ ہے اور مصنف کی یہ کتاب بہت ہی جامع ہے۔
****
ڈاکٹر فہیمہ خا تون، شعبۂ اردو ما روا ڑ ی کا لج رانچی‘جھا ر کھنڈ
بہتر افسانچے وہی لکھ سکتاہے جو افسانے کے اسرارورموز سے واقف ہو۔ ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری
بہتر افسانچے وہی لکھ سکتاہے جو افسانے کے اسرارورموز سے واقف ہو۔ ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری
آل انڈیا افسانچہ اکیڈمی کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سیمینار ’’افسانہ کل آج اور کل‘‘ کا شاندار آغاز
درگ (۲۴فروری ) : ’’ افسانچہ نگاری کا فن کوئی آسان کام نہیں۔بہتر افسانچے وہی لکھ سکتاہے جو افسانوی ادب کے اسرارورموز سے واقف ہے۔آزاد ہندوستان میں۱۹۴۸ میں منٹو نے افسانچے لکھے جو سیاہ حاشیے کے عنوان سے منظرِ عام پر آکر مقبول ہوچکے ہیں۔‘‘
مذکورہ بالا خیالات کا اظہار کرتے ہوئے چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے صدر شعبہء اُردو ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری نے افسانچے کی تاریخ میں پہلی بار آل انڈیاافسانچہ اکیڈمی کے تحت درگ (چھتیس گڑھ)میں منعقد دو روزہ سیمینار میں ۲۳ جنوری کو پہلے سیشن میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے جلسے میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔اس موقع پر انہوں نے افسانچے کے فن اوراس سلسلے میں پائی جانے والی الجھنوں کو صاف کرتے ہوئے اس بات سے خبردار کیا کہ اس کی تخلیق میں فنی معیار کا بہر حال خیال رکھا جانا ضروری ہے انہوں نے مستقبل میں اس کے روشن امکانات پر بھی روشنی ڈالی۔
درگ کے عالیشان ہوٹل الکا پیلس کے ہال میں منعقد مذکورہ اجلاس میں تقریباًپانچ ریاستوں کے ادباء نے شرکت کی اور فن افسانہ نگاری پر اپنے گرانقد خیالات و تاثرات کااظہار کیا۔ افسانچہ ’’کل آج کل ‘‘کے عنوان پر منعقد اس دو روزہ سیمینار میں آل انڈیا اکیڈمی کے اغراض مقاصد پر اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر ایم اے حق نے روشنی ڈالتے ہوئے اس کی اہمیت و افادیت بیا ن کی۔چونکہ ۸۷ سالہ رتن سنگھ طبیعت کی علالت کے سبب تقریب میں شرکت نہیں کرسکے۔اس لئے محترمہ ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ پروفیسر شعبہء اُردو گوتم بدھ یونیورسٹی نے معروف افسانچہ نگار رتن سنگھ کے تحریری تاثرات کو پڑھ کر سنایا ۔
اس افتتاحی تقریب کے آغاز میں اکیڈمی کے چیئرمین نے اپنی گفتگو میں آئے ہوئے تمام ادباء کا استقبال اور خیر مقدم کیا۔ تقریب کے صدرارتی خطبے میں فن افسانچہ نگاری پر روشنی ڈالتے ہوئے بڑی پُر مغز باتیں کیں۔
اس موقعے پر جناب یوسف انصاری افضلؔ کا شعری مجموعہ ’’عکس وفا‘‘کا اجراء بھی عمل میں آیا۔ڈاکٹر وکیل احمد رضوی صدر شعبہء اُردو رام گڑھ کالج جھارکھنڈ نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں ایک صوفی شاعر ، صالح قدروں کا ایک پختہ گو ترجمان قرار دیا۔ افتتاحی تقریب میں اُردو کے علاوہ ہندی کے کئی قلم کاروں نے بھی افسانچے اور لگو کتھا کے عنوان سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔
دوسرے سیشن میں مندوبین نے افسانچے کے فن اور اس کی تکنیک پر اپنے تاثرات اور تحریری مقالات پیش کئے۔ خورشید حیات نے کہا کہ زندہ تحریریں ہر عہد میں باتیں کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تخلیق کی لہریں بیتی رہتی ہیں اس لئے مختصر کہانیاں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔بشیر مالیرکوٹلوی نے پوری تفصیل کے ساتھ’’ افسانچے کی تاریخ اور کامیاب افسانچوں کی خوبیوں ‘‘پر روشنی ڈالتے ہوئے ہوئے منٹو، جوگندر پال اور رتن سنگھ کو افسانچہ نگاری کی یشلیث قرار دیا اور کئی افسانچوں کے تجزیے بھی پیش کئے ۔سکریٹری ڈاکٹر ایم اے حق نے ’’افسانچوں کی عالمی گونج‘‘کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا اور دنیا کے مختلف ممالک میں اس کے عام چلن اور تجربوں پر روشنی ڈالی۔افسانچہ اکیڈمی کے صدر جناب رونق جمال نے ’’افسانچہ تحقیق کے آئینے میں‘‘ کے عنوان سے پیش کئے گئے اپنے مقالے میں فن افسانچہ نگاری پر مختلف یونیورسٹیوں میں کئے جارہے تحقیقی کاموں کا ذکر کیا۔ ڈاکٹر ایم آئی ساجد نے اُردو مین افسانچہ، منی کہانی اور پوپ کہانی پر روشنی ڈالتے ہوئے پوپ کہانی کو ایک معمہ قرار دیا۔ اشتیاق سعید نے فکشن نگاروں کی گھٹتی تعداد اور افسانچے کی بڑھتی مقبولیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔معین الدین عثمانی نے ’’افسانہ اور افسانچے کا تجزیہ ‘‘پیش کرتے ہوئے مہاراشٹر کے چند معروف افسانچہ نگاروں کا تخلیقی اور تحقیقی جائزہ لیا۔انہوں نے افسانچوں میں اجزائے ترکیبی کو برتے جانے پر زور دیا۔ ڈاکٹر وکیل رضوی نے ’’جوگندر پال کا افسانوی ادب کاافسانوی ادب کتھا نگر کے حوالے سے ‘‘کے عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے انہیں ایک بڑا فکشن نگار قرار دیا اور اُردو افسانچوں کے معیار کو بلند کرنے اور اس کی ایک الگ شناخت قائم کرنے میں ان کی کاوشوں کاذکر کیا اور ان کے افسانچوں کا مختصر و جامع تجزیہ بھی پیش کیا۔ آکر میںآسنسول سے آئے معروف افسانہ نگار ڈاکٹرعشرت بیتاب ’’سیاہ حاشیے اور منٹو‘‘ کے عنوان سے پیش کئے گئے اپنے مقالہ میں منٹو کے فن کے بلند معیار کو پیش کیا اور یہ بتایا کہ منٹو کے افسانچوں میں عورت کے خارجی نہیں بلکہ داخلی احساسات و تاثرات کا گہرا رنگ پایا جاتا ہے۔
آخر میں دوسرے سیشن کے صدر ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری نے اپنے صدارتی خطبے میں پیش کئے تمام مقالات پر مختصر اور جامع روشنی ڈالی اس کے ساتھ ہی انہوں نے ان پر ناقدانہ نظر ڈالتے ہوئے مقالوں کی خوبیوں کا بھی ذکر کیا اور کمیوں و کوتاہیوں کی بھی پوری بے باکی کے ساتھ نشاندہی فرمائی۔ اکادمی کے صدر نے آخر میں تمام مندوبین کا شکریہ ادا کیا۔
طنزیہ شاعری کا نقطۂ آ غاز : جعفر زٹلی……… فرح ناز
طنزیہ شاعری کا نقطۂ آ غاز : جعفر زٹلی
فرح ناز
طنزو مزاح تخلیقی ادب کا وہ حسن ہے جس کی بنیاد ان لطیف اشا روں پر مبنی ہو تی ہے جو اس ماحول کی دین ہے۔طنزو مزاح کے رنگوں کے مناسب استعمال سے کسی بھی تحریر کو دلکش و دلفریب بنایا جا سکتا ہے۔ جس کی عمدہ مثالیں ہمارے ادب میں جگہ جگہ بکھری ہوئی نظر آ تی ہیں۔جس کا استعمال ادیب یا مصنف نے اپنی بات کو پر اثر اور با وزن بنانے کے لیے خوب سے خوب تر کیا ہے۔
اگر ہم طنز یہ و مزاحیہ ادب کے نقوش کی نشاندہی کریں تو اس کے ابتدا ئی رنگ ہمیں امیر خسروؔ کی کہہ مکرنیاں،دوسخنے اور النمل میں ہی نظر آ تے ہیں۔جن میں بے ربط و بے جوڑ الفاظ کے ذریعے مزاح کے عنصر وجود پاتے ہیں۔دکن میں یہ رنگ ہمیں قلی قطب شاہ اور ولی دکنی کے یہاں ملتا ہے۔’’اودھ پنچ‘‘ اردو طنز ومزاح کی تعمیر میں ایک بنیا دی حیثیت کا حا مل ہے جس میں اس صنف کے ذریعے سجاد حسین، احمدعلی شوق، پنڈت تربھون ناتھ ہجر، مولوی سید عبد الغفور شاہ باز اور اکبر الہ آ بادی جیسے سماجی مفکروں نے سیا سی و سماجی تنقید و ارتقا کا بہترین کام لیا اور اس صنف کے سہارے دو مخالف تہذیبوں میں توازن پیدا کر نے کی بھر پور سعی کی۔ ’’اودھ پنچ‘‘ سے پہلے بھی سینکڑوں برس پر پھیلا ایک طویل دور جو لوٹ مار ،حادثات اور حملوں کا دور رہا ہے۔ان میں بھی شعرا کرام کی ایک ایسی ابھرتی ہوئی رو نظر آتی ہے جو فرار اور قنوطیت سے مخالفت کرتے ہیں اور طنز و ہجو کا سہارا لے کر ان حا لات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ اودھ پنچ سے پہلے طنزو مزاح نگاری کی اس راہ میں سوداؔ ،فائزؔ دہلوی، حاتمؔ ، انشاءؔ ،مصحفیؔ ، رنگینؔ ،نظیر ؔ اکبر آدی اور غالبؔ وغیرہ کے نام پیش پیش ہیں۔
مگر جب ہم طنز ومزاح کی اس ابتدا ئی روا یت میں طنز و ہجو نگاری کے اول اور بھر پور نمو نے تلاش کرتے ہیں تو اس پوری روا یت میں نقطہ آ غاز کے طور پر جو نام ابھر کر ہمارے سا منے آ تا ہے وہ اٹھا رہویں صدی کا اشہر شاعرجعفر زٹلی کا ہے ،جنہوں نے پہلی بار اپنی شاعری میں اس صنف کا’بطریق ٹالم ٹولہ‘ استعمال کیا ہے۔
جعفر زٹلی کا پو را نام مرزا محمد جعفر تھا۔مگر تیز مزاج اور حا ضر جواب ہونے کی وجہ سے ہزل کہا کرتے تھے۔ اسی لیے جعفر زٹلی کے نام سے عوام میں مشہور ہوئے۔ زٹل کے معنی بکواس،جھک اور لغو کے ہیں۔ اس طرح زٹلی کا مطلب بھی بکواسی اور بکّی ہوا۔لیکن جعفر نے کبھی اپنے نام کے آ گے زٹلی لگانے میں کوئی حرج نہ سمجھا بلکہ وہ وہ خود زٹل کو اپنے نام کے ساتھ جوڑتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں
کشتیِ جعفر زٹلی در بھنور افتادہ است
ڈبکوں ڈبکوں می کند از یک توجہ پار کن
غریب،عاجزِ مسکیں زٹلی ام جعفر
ہزار شکر کہ زورو نہ زہرہ دارم من
تاریخی اوراق کا مطالعہ کرنے پر ہمیں جعفر زٹلی کی زندگی کے حالات کے متعلق معلومات میں خاصی تشنگی کا احساس ہو تا ہے اور مختصر طور پر اس بات کا علم ہو تا ہے کہ جعفر زٹلی نار نول کے رہنے وا لے تھے۔ لیکن اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ دہلی میں گذارا۔ اگر شاعری میں زٹل کو اہمیت نہ دیتے تو ملک الشعراء بن جاتے۔کیونکہ آپ نے فرّخ سیر بادشاہ کا دور اور اس میں میر جملہ کے کہنے پر ہو ئے خوف ناک مظالم کی بھیانک صورتوں(جس میں بہت سے لوگ قتل کروا دیے گئے،ان کی زبانیں کاٹ دی گئیں اور انہیں اندھا کردیا گیا) کو اپنی آ نکھو ں سے دیکھا اور دل سے محسوس کیا تھا۔اس لیے جب فرّخ سیر کے نام کا سکہ مسکوک ہوا تو ان کی تعریف میں یہ شعر لکھا گیا
سکہ زد از فضل حق بر سیم و زر
پادشاہِ بحر و بر فرخ سیر
جب یہ شعر جعفر زٹلی کے علم میں آ یا تو آپ اپنا دل مسوس کر رہ گئے اور بغیر بادشاہ کے رعب، دبدبے سے بے خوف ہو کر اور اعتدال پسندی سے عاری ہو کر اپنے کاٹ دار مزاج سے بادشاہ کی تضحیک میں یہ شعر کہا
سکہ زد بر گندم و موٹھ و مٹر
بادشاہے تسمہ کش فرّخ سیر
جعفر زٹلی کا یہ شعر جب منظر عام پر آ یا تو عوام نے اس شعر کی خوب پذیرا ئی کی اور عوام کی یہ پذیرائی ہی جعفر زٹلی کی موت کا سبب بھی بنی ۔کیونکہ با دشاہ وقت کو اس شعر کے دور رس نتائج نظر آ نے لگے اور اس نے جعفر زٹلی کی موت کا فر مان جاری کر دیا۔
لیکن یہ حقیقت ہے کہ نئی طرز ادا اور منفرد لب و لہجے کے مالک جعفر زٹلی کی شاعری اپنے وقت اور زمانہ رائج تہذیب کی بھر پور عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے پہلی بار اپنی شاعری میں دہلی کی تباہی و بربادی کی بہترین تصویر کشی کی اور روایت سے بغا وت کرتے ہو ئے وہ پہلی بار سیاسی و سماجی مکاریوں ،عیاریوں، پریشانیوں اور بد حالیوں کا بڑے تیکھے طور پر عوام سے تعارف کراتے ہیں۔جس کی وضاحت کرتے ہو ئے ڈاکٹر محمد فیروز دہلوی لکھتے ہیں:
’’اردو میں جعفر زٹلی ایسے پہلے شاعر ہیں جنہوں نے ورنگ زیب کے بعد سلطنت مغلیہ کی بکھری ہوئی مرکزیت ،حاکموں کی بے انصا فی، ظلم و ستم، معاشی بدحالی، ہنر مندوں کی رسوا ئی ،بگڑتے ہوئے اخلاق و کردار کو طنزیہ اور انتہائی جارحانہ انداز میں نظم کیا۔ایسا جارحانہ انداز جسے برہنہ گفتاری ہی کہا جاسکتا ہے……
جعفر زٹلی نے اپنے احتجاج اور اعتراضات کے لیے جس برہنہ گفتاری یا بد گفتاری کا سہارا لیا ہے وہ طنز کا انتہائی تیز اور تیکھا پن ہے۔ مگر ہم اس رنگ کو نظر انداز بھی نہیں کرسکتے۔ شمالی ہند میں اسی آشوبیہ کلام سے اردو شاعری کا آغاز ہوا۔‘‘
[اردو ادب میں طنزو مزاح کی روا یت، مرتب ڈا کٹر خالد محمود، ص 177-178،اردو اکادمی، دہلی2005]
وہ جس چیز کو جس طرح دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں اس کے حقائق کو اپنے شوخ و شنگ لب ولہجے میں دو ٹوک انداز میں بیان کردیتے ہیں جس سے طنز وجود میں آتا ہے۔ در اصل طنز حقیقت نگاری پر مبنی اس حساس اور با شعور انسانی ذہن کی اُپج ہے جو سو سائٹی میں در آئے نا سوروں پر نشتر چلانے کا خواہش مند ہو۔جعفر زٹلی کے نشتروں کی چبھن بڑی کاٹ دار اور پُر درد ہے جو ان کے اپنے ما حول کی دین ہے اور زمانہ زوال کی بے حد تکلیف دہ حقائق ہیں اور جو ہر طرح کے خوف و اور پابندیوں سے آزاد نظر آ تا ہے۔جس کی شہادت وہ خود اس طرح دیتے ہیں
کپٹ کھوٹ میرے سخن میں نہیں
ان کے کلام میں حق گوئی اور جرأت گو ئی کے طنز کی تیزی دیکھئے کہ وہ اپنے وقت کے شہنشا ہوں پر بھی طنز کے گہرے وار چلا نے نہیں چو کتے اور مصیبت زدہ عوام کی خستہ حالت کا ذکر اس بے با کی سے کرتے ہیں
ہنرمند ہرجائی پھریں در در پر سوائی
رذل قوموں کی بن آئی عجب یہ دور آیا ہے
نفر کی جب طلب ہو وے غریب عاجز کھڑا رووے
میاں گھر میں پڑا سووے عجب یہ دور آیا ہے
سپائی حق نہیں پا ویں نت اٹھ اٹھ چو کیاں جاویں
قرض بنیوں سے لے کھاویں عجب یہ دور آیا ہے
اس طرح وہ شاعری کا سہارا لے کر سماج کے ان مسائل کو ہدف طنز بناتے ہیں جنہیں ان سے پہلے شعرا نے بیان کر نے میں ہچکچا ہٹ محسوس کی۔ ان کے طنز کا رو ئے سخن خاص طور پر ان عالم گیر عیوب کی جانب ہے جو اپنے عہد کی تمام حدوں کو پار کرچکے ہیں۔ وہ مغرب زدہ مشرقی سماج کی ٹوٹتی پھوٹتی قدروں کو، ان کے اندر آئے انسا نی رشتوں کی حرمت و عظمت کی پا مالی اور عورت ذات سے رخصت ہوئی شرم و حیا کو اپنے طنز کا نشا نہ بنا تے ہو ئے اس طرح لکھتے ہیں
نہ بولے را ستی کوئی، عمر سب جھوٹ میں کھوئی
اتاری شرم کی لوئی،عجب یہ دور آیا ہے
خصم کے جورو اٹھ مارے، گریباں باپ کا پھاڑے
زنوں سے مرد بھی ہارے ،عجب یہ دور آ یا ہے
چو نکہ جعفر زٹلی ایک ذی شعور اور مو زوں طبع کے حا می ہیں۔اس لیے انہوں نے دور حا ضر کے مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے سنجیدگی یا لفظی بازیگری کی جگہ اپنے طنز کو حا لات و خیالات کی بھٹی میں تپا کر نکھارا ہے ۔کیو نکہ وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ مو جودہ مسائل و حا لات سے کنارہ کشی کرنا یا اس منافقت بھری دنیا کے سُر میں سُر ملانا انسانیت محبت اور خلوص جیسے معتبر جذبات و احساسات کا خون کر نے کے برا بر ہے۔ اس لیے وہ طنز و ہجو کا لبا دہ اوڑھ کر عملی طور پر اپنی نفرت اور نا پسندگی کا اظہار کرتے ہیں۔لہٰذا وہ مذہب کے ان رہنما ؤں کی جانب بھی اپنے طنز کا پہلا قدم بڑھاتے ہیں جنہوں نے اس کو اپنا پیشہ بنا لیا ہے۔ وہ ان کے اس بھیا نک روپ کی تصویر کشی کرتے ہو ئے اپنی نظم’’کچھوا نامہ‘‘ میں اس طرح پیش کرتے ہیں
کی عرض شیخ جی نے دو نوں ہاتھ کر کے جوڑ
نازل ہوا خدا کا غضب شیخ پر کروڑ
ہم شیخ ہیں غریب نہیں ہو گے بندہ چھوڑ
دریا کے پار کر نے کی ہم سے نہ کر مروڑ
لے پیٹھ پر اتار کرم پنجتن سیتی
کچھوے نے کہا سن کے تم شیخ گو ہ ہو
ہر بات میں شرارت و حجت اٹھوہ ہو
مرگھٹ کے اور قبروں کے مردے نچوہ ہو
دنیا میں ملعون کے لڑکوں کے گوہ ہو
تم نے دغا کیا تھا امام حسن سیتی
پھر گرکے شیخ جی نے کہا ہم غلام ہیں
اور جان و دل سے ہم تو غلام امام ہیں
جلدی اتارو پار بہت ہم کو کام ہیں
ہم بندے تم سے فیض رساں کے مدام ہیں
کر نے لگے سلام و لیکن نہ من سیتی
وہ دور ایک ایسا انتشاری دور تھا جب معاشرہ مکرو فریب کے تیز تھپیڑوں کے بیچ ہچکو لے لے رہا تھا اور سماجی قدریں زمان ومکاں کے حدود توڑ چکی تھیں۔پھر اس کڑے وقت میں حقیقت کا جو آئینہ جعفر زٹلی نے ہمارے سا منے پیش کیا ہے وہ بھلا خوف ناک اور بدرنگ کیوں نہ ہو تا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے کلام کو وقت و حا لات کی پھیلی ہو ئی زہر ناکی سے نہ بچا سکے اور اس زہر ناکی کو طنز و ہجو کے روپ میں ڈھال کر اس فن کے بانی بنے۔ڈا کٹر جمیل جالبی ان کے فن پر روشنی ڈا لتے ہو ئے یوں رقم طراز ہیں:
’’ شمال میں سترہویں صدی کے آ خر اور اٹھا رہویں صدی کے شروع کا پہلا بھر پور شاعر مرزا محمد جعفر ہے جو اپنی روا یت کا خود ہی خالق ہے اور خود ہی خا تم۔ جعفر نے طنز و ہجو سے اپنے دور کے روح و مزاج کی ایسی ترجمانی کی کہ پونے تین سو سال کا عرصہ گذر جانے کے با وجود اس کا نام آج بھی زندہ ہے۔‘‘
[تاریخ ادب اردو،جمیل جالبی،جلددوم حصہ اول، ص 90،ایجو کیشنل پبلشنگ ہا ؤس، دہلی6،2000ء]
اپنے عہد میں جعفر زٹلی کی آواز اس دور کی عکاسی تو کرتی ہی ہے ،ساتھ ہی وہ عوام کے جذبات و احساسات کے بہترین ترجمان کے طور پر بھی ابھرتی ہے۔ انہوں نے پہلی بار اپنی شاعری میں خواص کی جگہ عوام کو مخا طب کیا اور فارسی کے بجائے اردو کو وسیلۂ اظہار بنایا۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے غزل کے مقابلے نظم کو اہمیت دی تاکہ وہ اپنی بات کو کھول کر عوام کے سامنے پیش کر سکیں۔کیوں کہ ان کی شاعری ایک ایسے زمانے کی پیدا وار ہیں جو سماجی اقدار اور مجلسی و مذہبی ضوابط کی انتہا معلوم ہوتی ہے۔اس لیے وہ اپنے باغی ذہن اور منہ پھٹ طبیعت ہو نے کی وجہ سے اس زوال آ مادہ وقت میں در آ ئی برائیوں پر اپنے کاٹ دار لہجے سے طنز و ہجو کی کاری ضربیں لگاتے ہیں اور زبان کو ایک خاص معیار و توا نائی بخشتے ہیں۔ ان کا یہ فن تب اپنی انتہا ؤں پر پہنچا ہوا نظر آ تا ہے جب وہ خود اپنی ذا ت کو بھی طنز کے تیر سے گھائل کرتے نظر آتے ہیں
جعفر زٹلی از لبِ تو جوت بہتر است
در آب داریِ سخنت موت بہتر است
در حقِ بندگانِ خدا آنچہ گفتہ ای
لا حولِ می کنم کہ ز تو بھوت بہتر است
اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ طنز یہ و مزاحیہ فن میں جعفر زٹلی کا نام اس نقطۂ آ غاز کے طور پر ابھر کر ہمارے سامنے آتا ہے جس نے بر سوں سے چلے آ رہے محدود ادبی دا ئرے کو اپنے طنز کی تیز تلوار سے کاٹ کر اسے وسیع سے وسیع تر بنادیا اور ادبی راہ پر ایسے نقوش چھوڑ دیے جن پر چل کر ہمیں طنز و مزاح کی ایک طویل،صحت مند روایت پروان چڑھتی ہوئی نظر آ تی ہے۔
***
Farha Naaz
110/ Kothi Atanas,Jali Kothi,
Near Dr. Majeed,Meerut City
خورشید جہاں کی انشائیہ نگاری : ڈاکٹر افسر کاظمی
خورشید جہاں کی انشائیہ نگاری
ڈاکٹر افسر کاظمی
dr.afsar.kazmi@gmail.com
ہما ری سما جی زندگی تضاد تخاتف اور نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے۔اور ہر لمحہ حیات انسانی نت نئے تجرباتی ذائقوں سے گزرتی رہتی ہے۔اور ان کے اثرات اوررد عمل کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے۔دکھ سکھ رنج وراحت اور غم و مسرت کی وضاحت ہمارے رونے اور ہنسے سے ہوتی ہے ۔یہ عام انسانوں کا شیوہ ہے۔ترتیب یا فتہ ذہن ومزاج رکھنے والے شائستہ افراد ہنس ہنس کر اپنے غموں کا مداوا کرنے کا سلیقہ رکھتے ہیں۔یہ سلیقہ تہذیبی زندگی کے مجاہدوں ہی کے ذریعہ نمایاں ہوتا ہے۔ چونکہ شعر وادب کے ذریعہ مشاہدات، خیالات اورتاثرات کی حیات آفریں کیفیات سامنے آتی ہیں اور ان میں رنج وراحت کے احسا سات کے عناصر بھی شامل ہوتے ہیں۔اسلئے اس سلیقے کا اظہار یہاں نہایت خوبی وخوش اسلوبی کے ساتھ ہوتا ہے۔طنزیہ اور مزاحیہ ادب میں یہ خصو صیت ذراتیز اور سریع الاثر ہوتی ہے جس طرح رونا رلانا بلاسبب نہیں ہوتا اسی طرح ہنسنا اورہنسانا بلا مقصد نہیں ہوتا۔شخصی اور معاشرتی زندگی میں جو ناہمواریاں موجودہوتی ہیں ہنسنے ہنسانے کی تحریک انہیں ملتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کی ناہمواری ہی مزاح وطنز کے میلان کو فروغ دینے کا وسیلہ بنتی ہے ۔اس ناہمواری کوبے نقاب کرنے اورمنظرعام پرلانے کے لئے گہری سماجی آگہی کی ضرورت ہوتی ہے ۔مزاح وطنز کی ہمکاری ادب کی معنویت کو زیادہ پہلودار باوقار بنا دیتی ہے ۔
جہاں تک پروفیسرخورشید جہاں کا سوال ہے میری ان سے کبھی ملاقات
نہیں رہی لیکن ان کوغائبانہ طور پر جانتا پہچانتا بھی ہوں۔ان کے انشائیوں کا مجموعہ (ہوئے کیوں نہ غرق
دریا)ان کے انتقال کے بعد میرے مطالعے میںآیا۔تب جا کراندازہ ہواکہ خورشید جہاں ایک اچھی اور
کامیاب انشائیہ نگار بھی تھیں۔پوری کتاب کے مطالعے کے بعد یہ اندازہ بھی ہوا کہ خورشید جہاں نے
پورے تعلیمی معاشرہ کو مافیاوں نے کس طرح اپنے شکنجے میں لے رکھا ہے اس پر زبر دست چوٹ کی ہے۔ تعلیم کے میدان میں نئے نئے تما شے آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔کس کو نمبر بڑھوانا ہے تو کیا کرناچا ہیئے ۔ کسی کو اگزامنر بننے کے لئے کیا کیاکرنا پڑتا ہے ۔ خورشید جہاں کے دو ایک انشایئے کو چھوڑ کر بقیہ تمام انشایئے تعلیم سے جڑے معاملات پر مبنی ہے ۔آج کل کالج میں پروفیسر کس طرح کلاس لیتے ہیں اور اپنی ڈیوٹی سے کس طرح لا پر واہ ہوتے جا رہے ہیں اس پر خورشید جہاں نے جم کر طنز کیا ہے۔
ملاحظہ ہو ان کا یہ اقتباس:
۔۔۔۔ اگر لڑکے اردو میں فیل ہونے لگے تو پھراردو پڑھے گا کون؟
اور اگر کوئی اردو نہ پڑھے گا تو ہمیں کون پو چھے گا نہ کوئی
اگزامنی ہوگا نہ کوئی اگزامنر نہ کوئی اسٹوڈ ینٹ ہوگا نہ
ٹیچر، لڑکوں کو اردو میں زیادہ سے زیادہ نمبرملیں گے تو زیادہ
سے زیادہ لڑکے یہ مضمو ن رکھیں گے،آئی بات سمجھ میں۔
سلیم صاحب نے ہماری کم عقلی پر ترس کھا کر سمجھایا۔۔۔
(مضمون اعجاز مئے) ا سی انشائیے کا ایک اور اقتبا س د یکھئے جس میں اگزامنر کو کیسی کیسی مصیبتیں جھیلنی پڑتی ہیں خورشید جہاں
نے بڑے انو کھے انداز میں پیش کیا ہے ۔
۔۔۔۔۔جیسے ہی Appointment letter ملا یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح
چھوٹے سے شہر میں پھیل گئی کہ ہم یونیورسٹی کی کاپیاں کاٹنے رانچی جا رہے
ہیں۔یہ کا پی کاٹنے کا لفظ میری سمجھ میں نہ آیا۔ اب تک تو ہم کاپی جانچنے یا
دیکھنے کاذکر سنتے آئے تھے۔جیسے جیسےEvaluation کی تاریخ
قریب آرہی تھی ویسے ویسے ہمارے یہاں جا ننے والوں اور بھولے
بسرے رشتہ داروں کی آمد ورفت بڑھتی جا رہی تھی۔ ہماری قابلیت
و ذہانت اور اخلاق ومحبت کے تمہیدی بیان کے بعد سب کا موضوع
ایک ہی تھا۔تمہاری بھانجی نے امتحان دیا ہے ذرا خیال رکھنا محنت
تو اس نے بہت کی ہے پھر بھی اس کواردواور ہسٹری میں ڈر ہے اردو تو
خیر تمہارے ہاتھ ہی میں ہے ذرا ہسٹری میں بھی کوشش کر دینا ۔‘‘
مزاح شگفتگی اور طنز کی چبھن نے اس الم انگیز بیانیہ اسلوب کی تاثیر و کشش کو توجہ طلب بنا دیا ہے ۔ یہ ایک
طرح سے خود احتسابی کا عمل بھی ہے نہ کسی کا شکوہ نہ شکایت ،تلخ حقیقت کا اظہار نفیس انداز میں ہوا ہے ۔
طنز وظرافت کی فضا بنانے کے لئے لفظوں کی مزاج شناسی بے حد ضروری ہے ۔طنز و مزاح نگار کے اسلوب تحریر میں اسی سے ندرت اور کشش پیدا ہوتی ہے سیدھے سادے الفاظ میں خورشید جہاں اپنی
بات کہنے میں پورے طور سے کامیاب ہیں ۔ملاحظہ ہو ان کا ایک انشائیہ ’’شوگر نامہ‘‘ کا یہ اقتباس:
’’ایک دلچسپ بات بتانا تو ہم بھول ہی گئے ۔ ایک صبح ٹہلتے ہوئے ہم
مرض دوستوں سے ملاقات ہو گئی ۔ہم نے ان سے ان کے کامیاب
نسخوں اور کچھ نئے نسخوں کے بارے میں دریافت کیا تو بڑی مسکین
صورت بناکر کہنے لگے ۔
نہیں بھائی ان سب سے کچھ نہیں ہوتا آج کل ہم لوگ بھی انسولین لے
رہے ہیں۔
آفتاب بھائی آپ ؟
ہاں میں بھی ۔
اور مقبول صاحب؟
وہ بھی ۔
سنہا جی۔
سب کے سب ۔‘‘
اس انشائیہ کی خوبی یہ ہے کہ شوگر کے جتنے مریض ہیں شروع میں سب کے سب ڈاکٹر نظر آتے ہیں اور
اپنے اپنے طور پر دوا بھی تجویز کر تے ہیں لیکن آخر میں سب کو انسولین کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے ۔
خورشید جہاں کا ایک انشائیہ ’’میری قدر ‘‘ جہیز کی لعنت پر لکھا گیا ایک خوبصورت طنزیہ انشائیہ ہے ۔ ہمارا پورا معاشرہ آج کس طرح جہیز کی لعنت میں گھرا ہوا ہے اور اس کے برُے اثرات کا نتیجہ ہے کہ آج معاشرے میں لڑکیاں خود کشی کر رہی ہیں لیکن جہیز کی لعنت ختم نہیں
ہو رہی ہے ۔
مہنگائی کی مار پورا ملک جھیل رہا ہے ایک طرف نیا ’’ پے اسکیل ‘‘شروع ہوتا ہے دوسری طرف گرانی آسمان کو چھونے لگتی ہے ۔ دراصل خورشید جہاں نے اس انشائیہ میں طنز کا نشانہ حکومت کو بنایا ہے ایک طرف نیا پے اسکیل لاگو ہو تا ہے اور وقتی طور پر نئے پے اسکیل پانے کی خوشی میں نئے نئے منصوبے بنائے جاتے ہیں کہ نیا پے ملے گا تو یہ کرینگے وہ کرینگے لیکن تنخواہ بڑھتے ہی بازار میں قیمت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ انسان بہت کچھ سوچنے کے باوجود کچھ نہیں کر پاتا ۔اور جہاں سے سفر شروع ہوا تھا وہیں کے وہیں رکے رہتے ہیں۔اور خواہشیں دم توڑ دیتی ہیں غالب نے کیا خوب کہا ہے ۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارماں پھر بھی کم نکلے
نیا ’’ پے اسکیل ‘‘ کا یہ حصّہ ملاحظہ ہو:
’’مرتا کیا نہ کرتا اب تو سامان پیک ہو چکا تھا ۔ اپنی عزت کا سوال تھا۔
کسی طرح قیمتوں کی ادائیگی کی اور بقیہ مار کیٹنگ آئندہ پر ٹال
کر لٹے پٹے گھر لوٹ آئے ۔ گھر آکر شوہرسے جم کر جھگڑاہوا
ان کا کہنا تھا کہ اتنا سامان خریدنے کی کیا ضرورت تھی جیسے پہلے
کام چلتا تھا ویسے ہی اب بھی چلنا چاہئیے اب ہم کیا جانتے تھے
کہ اتنی بڑی تنخواہ پانے کے باوجود ہم پہلے سے بھی بدتر ہو رہے ہیں‘‘
(نیا پے اسکیل ص۶۲)
مشہور طنزو مزاح نگار یوسف ناظم نے خورشید جہاں کی انشائیہ نگاری کے بارے میں اپنی رائے کچھ
اس طرح دی ہے ۔
’’زیر نظر کتاب کی خالق کی یہ اچھائی تو میں نے بیان ہی نہیں کی
ان کی اصل خوبی یہ ہے کہ مٹھائیوں کے جتنے ڈبے ان کے گھر
پہنچائے گئے وہ سب مٹھائیاں مو صوفہ نے چا ندی کے ورق لگاکر
اپنے مضامین کے ذریعے ہم جیسے مستحقین میں تقسیم کر دیں
دعا کیجئے کہ ان کا گھر ہمیشہ مٹھائیوں سے بھرا اور ان کا ہاتھ
کھلا رہے۔‘‘ (ہوئے کیوں نہ غرق دریا ،ص۱۱)
خورشید جہاں کے انشائیوں کے بارے میںآخر میں اتنا تو طے ہے کہ وہ ایک کامیاب انشائیہ نگار
کی حیثیت سے اپنی پہچان بنا چکی ہیں ۔ کاش کہ وہ ہمارے درمیان کچھ روز اور ہوتیں تو اور بھی معیاری
اور اہم انشائیے پڑھنے کو ملتے ۔ڈاکٹرجلیل اشرف کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے مرحومہ کی عدم
موجودگی میں ایک بڑا کام کر دیا ہے ۔۔
****
ڈاکٹر افسر کاظمی
dr.afsar.kazmi@gmail.com
منظر کاظمی کے افسانے: اسلامی حقائق و واقعات کی روشنی میں ………ڈاکٹراختر آزاد
ڈاکٹر اختر آزاد
مکان نمبر۔۳۸، روڈ نمبر۔۱
آزاد نگر ، جمشید پور۔۸۳۲۱۱۰(جھارکھنڈ)
موبائل : 09572683122
dr.akhtarazad@gmail.com
برادرم مہتاب عالم پرویز!
……..بے پناہ محبتیں
اردو سائٹ ڈیولو کرنے کی دیرینی خواہش ’’ عالمی پرواز ‘‘ کی صورت میں ادب نواز دوستوں کے دلوں میں گھر کرنے لگا ہے ۔’’افسانہ ریئلیٹی شو ‘‘ کی پسندیدگی کے کئی فون اور میل بیرونِ ملک سے مجھے موصول ہوئے ہیں ۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کی محنت عالمی سطح پر بھی رنگ لانے لگی ہے ۔اور اب جو تحریر نستعلیق میں آرہی ہے اس سے قاری کو پڑھنے میں آسانی ہو رہی ہے ۔ ایک دن وہ بھی آئے گا جب آپ کے سارے خواب شرمندہء تعبیرکو پہنچ جائیں گے۔ آپ اپنی کوشش جاری رکھیں۔ میری اللہ سے یہی دعاء ہے کہ آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں ۔
ایک مضمون’’ منظر کاظمی کے افسانے: اسلامی حقائق وواقعات کی روشنی میں‘‘ بھیج رہا ہوں ۔ پسند آ جائے تو عنقریب شامل کر لیں گے۔
منظر کاظمی (پیدائش۔ ۲۴؍ ستمبر ۱۹۴۰ء، انتقال۔ ۱۲؍ اکتوبر ۲۰۰۰ء) کا تعلّق جدید افسانہ نگاروں کی اس نسل سے ہے جنہوں نے اردو کو خوبصورت افسانے عطا کئے۔انہوں نے اپنے افسانوی سفر کا آغاز ۱۹۵۹ء میں کیا ۔ ان کا پہلاا فسانہ ’’ زہر کی پوٹ ‘‘ جام نو، دھنباد میں شائع ہوا تھا ۔جو بالکل روایتی قسم کا افسانہ تھا ۔ اصل پہچان ۶۵۔۱۹۶۲ء کے درمیان بنی ۔جب انہوں نے روایتی افسانوں سے خود کو الگ کیا ۔افسانہ ’’ مچکی ‘‘ (رسالہ ، راوی ، مارچ اپریل ۱۹۶۳ء) نے انہیں ایک پہچان دی ۔ اسی زمانے میں ان کا ایک افسانہ ’’ شب رنگ ‘‘ الہ آباد میں ’’سیاہ غلاف اور کالے جر نیل ‘‘ کے نام سے شائع ہوا ، جس نے منظر کاظمی کو وہ وقار عطا کیا کہ آج بھی اس افسانے کو ایک ایسی اہمیت حاصل ہے کہ کئی ناقدین اسے اب تک سیرت پاک پر لکھی کہانیوں میں سب سے بہتر کہانی تسلیم کرتے ہیں ۔ اور کئی ناقدین نے تو یہ بھی کہا کہ اگر منظر کاظمی صرف یہی افسانہ لکھتے، تب بھی وہ اردو افسانے میں باقی رہتے ۔سیرت پاک پر لکھے گئے تمام افسانوں میں یہ افسانہ میری نظر میں بھی اہم افسانہ ہے ۔
منظر کاظمی کا پسندیدہ موضوع اسلامیات بھی رہا ہے ۔ان کے پانچ افسانوں میں ہم اسلامی حقائق و واقعات کی واضح جھلک جدید اسلوب و نگارش کے پیرائے میں دیکھ سکتے ہیں ۔ اردو میں بہت کم افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اسلامی حقائق و واقعات کو افسانے میں اس طرح برتا ہے۔
انہوں نے بہت زیادہ نہیں لکھا ۵۵۔۵۰ افسانے لکھے ۔ادب میں جو مقام ملنا چاہئے تھا وہ انہیں اب تک نہیں مل پایا ہے ۔میں نے ان کی شخصیت اور فن پر پی ایچ ڈی کی ہے جو کتابی صورت میں’’ منظر کاظمی کے افسانوں کا تنقیدی جائزہ‘‘ کے عنوان سے ۲۰۰۷ء شائع ہو چکی ہے ۔ یہ مضمون کتاب سے بالکل الگ ہے ۔
خدا کرے آپ شگفتہ ہوں ۔
جواب کا انتظار رہے گا۔ آپ کا
ڈاکٹراختر آزاد
۲۴؍ فروری ۲۰۱۳ء
منظر کاظمی کے افسانے: اسلامی حقائق و واقعات کی روشنی میں
ڈاکٹر اختر آزاد
مکان نمبر۔۳۸، روڈ نمبر۔۱
آزاد نگر ، جمشید پور۔۸۳۲۱۱۰
موبائل: 09572683122
dr.akhtarazad@gmail.com
ترقّی پسند تحریک کی نفی کرتے ہوئے جدیدیت ایک نئے تیور کے ساتھ ادب میں نمو دار ہوئی اوربنے بنائے تمام اصول و ضوابط کو توڑتے ہوئے زندگی کے نئے افہام و تفہیم میں جُٹ گئی۔ ابتدا ء میں جدیدیت کی مخالفت ہوئی کیوں کہ یہ انسان کے داخلی کرب کو جہاں اجاگر کرتی ہے وہیں خارجیت سے داخلیت ، افراد سے فرد ، شوروغل سے خاموشی اور بھیڑ سے تنہائی کی طرف کا ایک ایسا سفر تھا جو انسان کے اندرون میں جا کر ختم ہوتا تھا ۔ لیکن آہستہ آہستہ اندرون کا یہی سفر ذات سے شروع ہو کر کائنات میں تبدیل ہونے لگا ۔ اس تبدیلی نے ادب میں ایسے دور کا آغاز کیا جس کی وجہ سے تمثیل ، علامت ، استعارہ اور تشبیہ نے زبان و بیان میں پہلے سے زیادہ شگفتگی پیدا کی، نئے مفاہیم عطا کئے۔
فکشن کی دوسری صنف کی طرح جدید اردو افسانے میں بھی حیرت انگیز تبدیلی ہوئی اور وہ افسانہ جو ’کفن‘ میں لپٹا ہوا تھا ، جدیدیت کے کاندھے پر سوار ہو کر ’ دوسرے آدمی کے ڈرائنگ روم تک پہنچ گیا۔ منظر کاظمی جیسے افسانہ نگار ڈرائنگ روم میں بیٹھنے والے نہیں تھے۔بھٹک بھٹک کر منزل تک پہنچنے میں انہیں مزا آتا تھا ۔ اس لئے وہ جدید افسانہ نگاروں کے ساتھ ساتھ چلتے تو رہے ، لیکن وقت ملتے ہی دور نکل گئے۔ لکشمن ریکھا کی تلاش میں ….اس سلسلے میں جوگیندر پال لکھتے ہیں
’’خوشی کا مقام یہ ہے کہ منظر کاظمی اگر اظہار کے روایتی اسالیب سے مطمئن نہیں تو
یہ بھی ہے کہ وہ اظہار کے نئے امکانات کو بے جواز قبول کرنے کے حق میں نہیں ….
بعض یار لوگ شکایت کرتے ہیں کہ کہانی اپنے راستے سے بھٹک گئی تھی۔ میں اس
بیان کو شکایت کنند گان کی سادہ لوحی پر محمول کرتا ہوں ۔ بھٹکنے کی جُراء ت کے بغیر
’نئی دنیا‘ کی دریافت کیوں کر ممکن ہے ۔ سیدھے سیدھے چل کر تو آپ وہیں پہنچے
گیں جہاں سبھی ٹکٹ کٹا کر بآسانی جا پہنچتے ہیں ۔ مگر منزلیں انجانی ہوں تو مسافر کو
خود آپ ہی اپنا راستہ کھوجنا پڑتا ہے۔ منظر کاظمی بڑی ثابت قدمی سے اپنی انجانی
منزلوں کی ٹوہ میں ہے اور کٹی پھٹی راہیں ہموار کرنے میں برابر جٹا رہتا ہے ۔
ایسے میں فن کار بھٹک بھٹک کر فن کو اچھوتے مقامات کو جالیتے ہیں اور جہاں
جہاں وہ آج بھٹکے ہیں ، وہیں کل نئی شاہراہوں کااہتمام انجام پانے لگتا ہے۔ ‘‘
’’منظر نامہ ‘‘ کے فلیپ سے مرتب: ڈاکٹر ہمایوں اشرف
منظر کاظمی کا تعلق جدید افسانہ نگاروں کی اس نسل سے ہے جنہوں نے اردو میں جدید افسانے کی بنیاد رکھی ۔ یہ وہ دور تھا جب ترقّی پسندتحریک دم توڑ رہی تھی اور جدیدیت اپنے نئے امکانات کی تلاش میں سر گرداں تھی ۔ ایسا اکثر ہوتا ہے کہ جب کوئی تحریک سالہا سال چلتی ہے تو بہت سارے لوگ اس کے ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں لیکن ایک ہی سمت میں ، ایک ہی رفتار کے ساتھ اور ایک ہی منزل کی تلاش میں چلتے چلتے کبھی لوگ اکتا بھی جاتے ہیں ۔ کچھ تھک کر رک جاتے ہیں اور کچھ دوسری سمت سفر میں لگ جاتے ہیں ۔ قدم قدم پر بکھرے نئے مناظر ان کی آنکھوں میں حیرت و استعجاب کا رنگ گھول کر متحیّر کر دیتے ہیں ۔ نئی چیز کو دیکھنے اور پانے کی تمنّا میں ان کا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا ہے ۔ نئی چاہت میں وہ اپنا راست بدل دیتے ہیں ۔ پہلی منزل کو چھوڑ کر دوسری منزل کی تلاش میں آگے بڑھ جاتے ہیں ۔
وقت بدلتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہت ساری قدریں بدلتی ہیں ۔ اور یہی وہ قدریں ہیں جو آہستہ آہستہ ماحول کو سازگار بناتی رہتی ہیں ۔ یہی ترقی پسند ادب کے ساتھ بھی ہوا ۔ ترقی پسندوں نے ادب پر جو ترقی پسندی تھوپ رکھی تھی ۔ اسے سامنے رکھ کر ہر کوئی ادب تخلیق نہیں کر سکتا تھا ۔کیوں کہ سماجی ، تہذیبی اور خارجی رشتوں میں شکست وریخت کا دور شروع ہو چکا تھا ۔ ترقی پسندادب کی حمایت کرنے والے بھی ایک راستے پر چلتے چلتے اوب چکے تھے۔ اس لئے متعیّن راہوں سے گذرتے ہوئے کترانے لگے ۔ یہیں سے نئی نسل میں بے چینی اور اضطرابی کیفیت پیداہوئی ۔ اور ۱۹۵۵ء سے ۱۹۶۰ ء تک آتے آتے ترقی پسند تحریک پژمردگی کا شکار ہونے لگی اور تب جدیدیت غاروں سے نکل کر اندھیرے میں شب خون مارنے لگی ۔
منظر کاظمی کے لکھنے کا دور بھی یہی ہے ۔ ان کا پہلا افسانہ ’’ زہر کی پوٹ‘‘ رسالہ’’ جام نو‘‘دھنباد ۱۹۵۹ء میں شائع ہوا ۔ جو بالکل روایتی انداز کا افسانہ تھا ۔ اصل پہچان ۱۹۶۳ سے ۱۹۶۷ ء کے درمیان بنی ۔ جب انہوں نے خود کو روایتی افسانوں سے الگ کیا ۔’’ مچکی ‘‘ (رسالہ راوی ، مارچ تا اپریل ۱۹۶۳ء ) اور ’’ سیاہ غلاف اور کالے جرنیل ‘‘( رسالہ شب رنگ ، الہٰ آباد) جیسے افسانوں کی بدولت انہیں افسانے کی نئی سرزمین پر قدم جمانے کا موقع ملا۔
منظر کاظمی نے بہت زیادہ نہیں لکھا ۔ لیکن جو لکھا وہ بہت سوچ سمجھ کر لکھا ۔ان کے نزدیک زیادہ لکھنے سے بہتر کم اور اچھّا لکھنا تھا۔ اپنے بیالس سالہ ادبی سفر میں انہوں نے اتنا بھی نہیں لکھا جتنا ایک بسیارنویس دو چار سال میں لکھ ڈالتاہے۔ان کے اکلوتے افسانوی مجموعے ’’لکشمن ریکھا(۱۹۹۱ء )میں کل سترہ افسانے ہیں ۔باقی رسالوں میں بکھرے پڑے ہیں ۔ ان کے یہاں دو طرح کے افسانے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ایک وہ جس میں ہمیں سیاسی ، سماجی ، اقتصادی ، معاشرتی ، جنسی اور کہیں کہیں سائنسی ترقی کی گونج سنائی دیتی ہے ۔ اور دوسرے طرز کے افسانے وہ ہیں جن میں قرآنی آیات اور اسلامی واقعات کے موتیوں کو نہایت ہی نفاست اور باریکی کے ساتھ افسانوی لڑیوں میں پرویا گیا ہے ۔ اور یہی وہ سب سے اہم حصّہ ہے جو دوسروں کے یہاں مفقود ہے۔
۶۰ء سے ۸۰ء کے درمیان جدید افسانہ نگاروں نے علامتی اور تجریدی افسانے کے نام پر کچھ ایسے افسانے لکھے جہاں ترسیل کا مسئلہ سب سے اہم تھا ۔ منظرکاظمی نے اپنے افسانوں میں علامت ، تمثیل ، استعارہ ، تشبیہ اور تلمیح کا بر محل اور خوبصورت استعمال کر کے ، سہل تجریدیت اور متحرک علامت نگاری کو اتنا عام فہم بنا دیا کہ قاری تک اس کی رسائی ممکن ہو گئی ۔اس سلسلے میں ڈکٹر لطف الرحمٰن نے لکشمن ریکھا کے فلیپ پر اپنی رائے دیتے ہوئے ہوئے لکھا ہے :
’’منظر کاظمی نے تلمیحات و استعارات اور خوبصورت علامتوں کے ذریعے عہد حاضر
کی ان حسّیات وکیفیات کو اپنے دلکش اور رگ وجاں کو چھو جانے والے اسلوب میں
اس طرح پیش کیا ہے کہ قاری ان کی جمالیاتی تجربات و مشاہدات کا محض شاہد ہی نہیں
رہ جاتابلکہ خود فن کاری کی طرح ان دکھوں کا نوحہ گر بن جاتا ہے ۔ ان کی سب سے
بڑی انفرادیت یہ ہے کہ ان کی کہانیوں میں قصّہ پن بدرجہ احسن موجود رہتا ہے ۔ ،
ان کی کہانیاں آج کے بیش تر افسانہ نگاروں کی تخلیقات کی طرح معمّہ نہیں رہ جاتیں ۔
جہاں گوہرِ معنیٰ موجوں کے پسِ پردہ نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں ۔ بلکہ ان کی
کہانیوں میں معنیٰ کی تہہ داری کے باوجود مختلف سطحوں پر ترسیل و ابلاغ کی حسین
موجیں ساحل بہ کنار نظر آتی ہیں ۔ ہم عصر افسانہ نگاروں میں ان کی یہی انفرادیت
ان کے سچّے مخلص اور ممتاز فنکار کا منصب عطا کرتی ہے ۔ ‘‘
پروفیسرلطف الرحمٰن نے منظر کاظمی کے افسانوں کے حوالے سے تشبیہ اور استعارے کا بر محل اور خوبصورت استعمال کے متعلق جو باتیں کی ہیں ، اس کے چند نمونے دیکھئے اور خود بھی لطف اندوزہوئیے ۔
’’ پیپل کی گھنی چھاؤں میں بیٹھے ہوئے لوگ اگر ہم سے پوچھیں گے کہ ہماری آنکھیں
، جنہیں ہم نے ہر حال میں محفوظ رکھا تھا ، کیا ہوئیں تو ہم کیا جواب دیں گے۔؟‘‘
(لکشمن ریکھا )
’’ چاند کو چھونے کی تمنّامیں آج کے انسان کا اسقاط ہو گیا ہے۔ ‘‘
(کانٹوں کا تاج)
’’ کولہوں کی چرمراتی ہڈیاں اور مشرق ومغرب میں پھیلی ٹانگوں کا منظر اب کیمرے
کی تقدیر ہے ۔ اجتماعی آبرو ریزی کی فلم بندی ایک نیا تجربہ ہے اور یہ سارے قبولیت
کے دروازے کھٹکھٹا رہا ہے ۔‘‘
(ٹاور آف بے بی لون)
منظر کاظمی کی زبان جدید بیانیہ کی ایک خوبصورت مثال ہی ۔ جدید بیانیہ سے مراد وہ تحریر ہے جس میں تشبیہ ، استعارہ ، تمثیل ، تلمیح کی زرکاری بھی ہو اور بیان کی شگفتگی بھی ۔ ان کے یہاں زبان کا استعمال بھی تخلیقی اور جدلیاتی سطح پر ہوا ہے ۔ ان کے اسلوب کے متعلق شفیع جاوید لکھتے ہیں ۔
’’جس طرح ہر موسم کی ایک دعا ہوتی ہے ۔ جس طرح ہر منظر کا ایک سلام ہوتا ہے ،
اسی طرح ہر لکھنے والا کا ایک اندازِ بیان ہوتا ہے جو اس کی شناخت ہوتی ہے۔منظر کاظمی
اس طور پر منفرد ہیں ۔ ان کا ہرافسانہ۔ اس کا لہجہ ، اس کا بیان ، اس کی بُنت ، اس کی تعمیر
وتربیت، اس کا سلگتا ہوا فن ، اپنی انفردیت اس طرح رکھتا ہے کہ افسا نہ نگار کا نام
ہٹا بھی دیا جائے تو اسٹائل اور یہ سارے اجزاء چیخ چیخ کر کہیں گے کہ ہم منظر کاظمی
کے قلم سے لہو کی بوند کی مانند ٹپکے ہیں ۔ ‘‘
مضمون ’’داغِ جگر کی نمود ‘‘، منظر نامہ، مرتب : ڈاکٹر ہمایوں اشرف
واقعی منظر کاظمی کے قلم سے ان کا اسلوب لہو کی بوند کی طرح صفحہء قرطاس پر ٹپکا ہے ۔ چند اقتبا س دیکھئے کہ وہ کیسے لفظ لفظ جوڑ کر جملے کی تعمیر کرتے ہیں اور افسانے میں نئی روح پھونکتے ہیں ۔
’’جب نشیبی علاقوں میں پانی جوان ہوتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر ریڑھ کی ہڈی پر ہوتا ہے۔‘‘
(ٹاور آف بے بی لون)
’’مقابل میں کوئی بھی ہو پھر بھی فتح ان ہی کی ہوتی ہے ۔ اور یہ بات بھی دیکھی گئی ہے
کہ تعداد کوئی جنس نہیں ہوتی اور مقصد سے بڑا کوئی جرنیل نہیں ہوتا ۔‘‘
(سیاہ غلاف اور کالے جرنیل )
’’ایک واٹر ٹینک کی تیّاری میں ہزاروں گاگریں ٹوٹتی ہیں اور اس ٹینک کو آگے بڑھنے
کی علامت سمجھ کر لوگ خوش ہوتے ہیں ۔‘‘
(لکشمن ریکھا )
منظر کاظمی نے اپنے افسانوں میں جا بجا طنزیہ جملوں کا بھی استعمال کیا ہے ۔ جو بلیڈ کی طرح بے آواز روح میں اتر جاتے ہیں اور آدمی اندر ہی اندر تلملا کر رہ جاتا ہے۔ اور کسی جملے میں ایسی تیزابیت ہوتی ہے جو ریڑھ کی ہڈی کو پگھلا دیتی ہے ۔ ایک پل میں تنا ہو ا انسان جھک جاتا ہے ۔ طنز کا ایسا وار طنز نگاروں کے یہاں تو ملتا ہے لیکن افسانوں میں یہ سب جس طرح سے منظر کے یہاں آیا ہے ان کے ہم عصروں کے یہاں دیکھنے کو کم ملتا ہے ۔
’’ کہیں ایسا تو نہیں کہ تعداد ان کے یہاں کوئی جنس بن گئی ہو …. یا زمین کی پستیوں میں
آسمان بن کر رہنے کا فن لوگوں نے بھلا دیا ہے ۔‘‘
(سیاہ غلاف اور کالے جرنیل )
’’نیند اگر تقسیم کرنے کی شئے ہوتی تو دنیا میں سب سے قابلِ قدر انسانی کارنامہ اسی کو
مانا جاتا۔ لیکن کارنامے تو وہ قر پائے جو نیندیں اُڑا لے گئے۔‘‘
(میرے حصے کی نیند)
اسلوب کی طرح ان کے مکالمے بھی معنویت سے بھر پور ہوتے ہیں ۔ ایک ایک جملے میں پوری کہانی چھپی ہوتی ہے ۔تہہ دار جملے کی ان کے یہاں کمی نہیں ہے ۔ اور جملے بھی ایسے کہ پڑھنے والا سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ ایسے جملے وہ کیسے گڑھ لیتا ہے۔
منظرکاظمی کی نظر میں زندگی ایک فلسفہ ہے ۔ وہ کہانی نہیں بھی لکھتے تو بھی ایک فلاسفر کی طرح اپنی باتوں کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے کوئی نہ کوئی راہ ضرور اختیار کرتے ۔ بات سے بات پیدا کرنے میں انہیں بہت مزا آتا تھا ۔ وہ زندگی کو ایک الگ ڈھنگ سے دیکھنا چاہتے تھے ۔ یہ دنیا کیا ہے ؟ کیوں بنی ہے؟ہم کون ہیں ؟ اور ہمارا کیا کردار ہے ؟کیا صرف ہم اس لئے پیدا ہوئے ہیں کہ ہمیں مرنا ہے اس لئے ہمیں پیدا کیا گیا ہے ۔ ؟ وہ اپنے افسانوں میں بھی فلسفیانہ گفتگو کرتے نظر آتے ہیں ۔ جہاں جہاں انہوں نے فلسفیانہ گفتگو کی ہے ، وہاں وہاں افسانے کا وہ حصہ اہم ہو گیا ہے جوافسانے کو نئی سمت عطا کرنے میں معاون ہوا ہے اوراس کے حسن کو دوبالا بھی کیاہے ۔
’’خوراک سے جاندار پیدا ہوتے ہیں ۔
…. بارش سے خوراک پیدا ہوتی ہے ۔
قربانی سے بارش ہوتی ہے ۔
اور قربانی عمل سے ہوتی ہے ۔‘‘
(لکشمن ریکھا )
میں نے اپنی گفتگو کے آغاز میں ہی یہ واضح کیا تھا کہ کاظمی کا محبوب موضوع اسلامیات ہے ۔ لیکن ان افسانوں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے قاری کا ذہین ہونا یا اسلامی تاریخ سے واقف ہونا ضروری ہے ۔ کیوں کہ کاظمی اشارے اشارے میں وہ بھی کہہ جاتے ہیں ، جس کا ذکر افسانے کے کسی پیرا گراف میں موجود نہیں ہوتا ۔ اس میں بھی اتنے رخ ہوتے ہیں کہ وہاں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے کسی انجام سے قبل قاری کو اپنے ذہن کے ساتھ تھوڑی بہت گتھم گتھی تو کرنا ہی پڑتی ہے ۔
اسلامی موضوعات پر لکھے گئے افسانوں میں ’’ سیاہ غلاف اور کالے جرنیل ‘‘،’’ ایک کجلائی ہوئی شام ‘‘،’’ کانٹوں کا تاج‘‘ ، ’’ آسمان سے گرتی ہوئی روٹیاں ‘‘ قابلِ ذکر ہیں ۔ان افسانوں کا تانا باناقرآنی آیات اور اسلامی واقعات کی روشنی میں علامتی، تمثیلی، استعاراتی اور تشبیہاتی رنگ برنگے دھاگوں سے بُنا گیا ہے۔جس سے معنوعیت کی ایک ایسی دنیا آباد ہوتی ہے کہ قاری ہر پل زندگی کے نئے مفاہیم سے لطف اندوز ہوتا ہے اور کہانی کے اندرون میں اتر کر ایک ایسا رشتہ استوار کرتا ہے کہ ’کہانی ‘اور ’کہانی کار‘کے درمیان مثلث کا تیسرا زاویہ بنتا دکھائی دیتا ہے …. حقیقت کو افسانہ بنانا منظر کاظمی کو بخوبی آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی حقائق کو افسانے میں پوری طرح سے ڈھالنے کے با وجود انہوں نے خود کو کہیں exposeنہیں کیا ہے۔ورنہ اقبال کی طرح تبلیغیت کا الزام ان کی تحریر کے بھی سر جاتا۔
اسلامی موضوعات پر کہانی لکھنا پل صراط پر چلنا ہے ۔ کیوں کہ واقعات میں کسی طرح کا آپ جوڑ گھٹاؤ نہیں کر سکتے۔اور نہ ہی کھیل تماشے ہی دکھا سکتے ہیں ۔ ذرا سی چوک ہوئی اور آپ ایمان سے خارج …. لیکن منظر کاظمی نے ان موضوعات کو بھی اتنی فنّی چابک دستی سے افسانے میں برتا ہے کہ اسلامی تاریخ اور قرآن پاک کی آیتیں دماغ کی قندیلیں جلا دیتی ہیں ۔ روشنی بن کر اندھیرے میں اتر جاتی ہیں ۔
منظر کاظمی نے حیات مبارکہ کو موضوع بنا کر ’’ سیاہ غلاف اور کالے جرنیل ‘‘ جیسے افسانے لکھے جو اردو ادب میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کی تحقیق کے مطابق حضرت محمّد کی سیرت پاک پر یہ اردو کا پہلا افسانہ ہے ۔ پریم چند نے اس سے قبل اس موضوع کو بنیاد بنا کر ’’ نبی کی نیتی‘‘ افسانہ رقم کیا ہے ۔لیکن مکمل سیرت پاک منظر کاظمی کی تحریر میں اپنی پوری شگفتگی کے ساتھ نظر آتی ہے ۔
اسلامی حقائق و واقعات کو انہوں نے کس طرح فن کا جامہ پہنایا ہے اس کی جھلک دیکھنا چاہیں تو آپ ان اقتباسات میں دیکھ سکتے ہیں ۔
’’ ایک طرف ہزاروں کی تعداد میں بپھری ہوئی فوج تھی اور دوسری طرف کوئی نہ تھا ۔
سب لوگ پہاڑوں میں جا چھپے تھے ۔ اور روتے تھے ۔ اور ان پر خوف طاری تھا ۔ ادھر
یہ بپھری ہوئی فوج کالے کالے جرنیلوں کے ساتھ لڑائی پر آمادہ تھی۔ لیکن ان
کے مقابلے میں کوئی نہ تھا۔ایک گھر تھا اور وہاں ایک سیاہ غلاف تھا اور یہ چاہتے تھے
کہ اس سیاہ غلاف سے پھوٹنے والی روشنی کو ہمیشہ کے لئے بجھا دیں ۔ لیکن ان کے
ساتھ ایسا ہواکہ مقابل میں کوئی نہ تھا ۔ پھر بھی ان کے سروں پر کالے کالے بادل اُمڈ
آئے تھے اور جب وہ برسے تو بپھری ہوئی فوج حیران رہ گئی ۔طاقت کے زعم میں
ڈولتے ہوئے کالے کالے جرنیل بھاگ کھڑے ہوئے تو دیکھا یہ گیا کہ مقابل میں کوئی بھی ہو پھر بھی فتح ان ہی کی ہوتی ہے جن کو ہونا ہوتی ہے ۔‘‘
(سیاہ غلاف اور کالے جرنیل)
مذکورہ اقتباس میں’’ سورۃالفیل‘‘ کا واقعہ ہے ۔ ایک روایت کے مطابق ابرہہ خانہ ء کعبہ کے مسمار کرنے کے ارادے سے نکلا تھا ۔ لیکن خدا نے ان کی فوجوں پر ابابیل کے ذریعہ کنکڑیاں برسا کر اپنے گھر کی حفاظت کی اور ابرہہ اپنی فوج کے ہمراہ ہاتھیوں کے پیروں تلے کچل کر مارا گیا ….. اس افسانہ میں خانہء کعبہ کو ’’سیاہ غلاف‘‘ کالے کالے جرنیل کو ’’ہاتھی‘‘ اور ابابیل کو ’’کالے کالے بادلوں ‘‘کے ذریعہ دکھایا گیا ہے ۔ لیکن اس افسانے کے حوالے سے منظر کاظمی یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ فتح اس کے قدم چومتی ہے جو حق وصداقت پر ہوتا ہے ۔ تعداد جیت کی ضمانت نہیں ہوتی۔
’’ یہ ہمیں معلوم ہے کہ پانی کے چوڑے سینے پر بہنے والا چوبی بکس بڑا قیمتی تھا
کہ اس میں ایک ایسی زندگی بند تھی جو موت کہ منہ سے بچ کے آئی تھی ۔ لیکن اس
کی پرورش موت کے ہاتھوں ہوئی تھی ۔ اور کچھ دنوں بعد اس زندگی نے موت
کا خاتمہ کر دیا ۔ اب یہ بات عام ہو چکی ہے کہ ہم میں سے بہت سارے لوگ
اپنی موت کی پرورش خود اپنے ہاتھوں سے کیا کرتے ہیں ۔ اور سب کچھ لٹا دینے
کے بعداپنی نگاہیں آسمان کی طرف اُٹھا لیتے ہیں ۔ اپنے چاروں طرف پھیلے
اندھیروں کی انہیں کوئی خبر نہیں ہوتی ۔ ان کا صرف ایک کام رہ گیا ہے کہ ان کی
آنکھیں کھلے ہوئے آسمان کی وسعتوں روٹیاں تلاش کرتی ہیں اور ان کے پاؤں
کے نیچے گیہوں کے پودے سوکھتے ہیں ۔
(آسمان سے گرتی ہوئی روٹیاں)
اس میں موسٰی اور فرعون کا قصّہ بیان ہوا ہے ، فرعونِ مصر بنی اسرائیل کی قوم میں پیدا ہوئے تمام لڑکوں کو ختم کر دینا چاہتا تھا ۔ موسٰی کی والدہ اس زندہ رکھنے کی غرض سے رال وروغن چڑھے ہوئے صندوق میں بند کر کے دریائے نیل کے حوالے کر دیتی ہے ۔صندوق فرعون کی بیٹی کے ہاتھ لگتا ہے ۔ موسٰی کی پرورش فرعون کے گھر ہوتی ہے ۔بالآخر موسٰی کے ہاتھوں فرعونِ مصر کا خاتمہ ہوتا ہے اورقوم بنی اسرائیل کو اس کے ظلم و جبر سے نجات ملتی ہے۔
’’ یہی وہ تاریک کمرہ ہے جو یہ حوصلہ بخشتا ہے کہ ہم اپنی قتل گاہ کی طرف بڑے فخر کے
ساتھ سر اُٹھاتے ہوئے چلے جاتے ہیں اور اسی کمرے کی بصیرت کا کمال ہے کہ دہکتے
ہوئے آتش کدے کے درمیان نمو پانے والے ہرے درخت سے گفتگو کرنے کی
جراء ت عطا کرتی ہے ۔ جنگلی جانوروں سے ہم ڈرتے ہیں ۔ لیکن صرف اس قدر
کہ وہ پشت کی جانب سے نہ آئے۔ میرے ہاتھ کا قلم کیا تمہیں باتیں کرتا ہوا دکھائی
نہیں دیتا …..ہمیں معلوم ہے کہ دریائے نیل کی موجوں پر ایک نیل کے کنارے حواّ
کی بیٹی دیوانہ واربھاگتی تھی ۔ اسے معلوم تھا کہ بند کمرے میں روشنی کا ایک مینار ہے۔‘‘
(کانٹوں کا تاج)
کہانی ’’ کانٹوں کا تاج‘‘ میں بھی موسٰی اور فرعون کے واقعے کو ایک الگ ڈھنگ سے پیش کیا ہے….. ہامان سے موسٰی کی شہرت دیکھی نہیں جاتی ۔ وہ ایک قبطی کے خون کا الزام اس پر لگاتا ہے ۔ اس سے پہلے کہ فرعون اسے سزا دیتا ، آپ وہاں سے بھاگ کر مدین چلے جاتے ہیں ،جہاں آپ کا نکاح شعیب ؑ کی بیٹی صفورہ کے ساتھ ہوتا ہے۔رخصتی کے وقت شعیبؑ ان کو اپنی پیغمبری والی لاٹھی دیتے ہیں ۔ دورانِ سفر انہیں ایک عناب کا سر سبز پیڑ دکھائی دیتا ہے۔ جس کے پود سے بے دھوئیں کی روشنی نکل رہی ہوتی ہے …. .. منظر کاظمی نے جسے اس کہانی میں ’’آتش کدہ‘‘ اور ’ہرے درخت‘ کے ذریعہ دکھایاہے ۔اسی درخت کے نیچے رالعالمین نے موسٰی کو پیغمبری عطا کی اور دو نشانیاں دیں ۔ لاٹھی کا سانپ بن جانااور ہاتھ کو بغل میں دباتے ہی اس میں نور بھر جانا ۔
’’ وہ خیمہ سے سر بلند کئے سامنے کھلے میدان میں اپنی اولادوں کو نیزوں پر لٹکا ہوا
دیکھتا ہے اور اطمینان اور سکون کے ساتھ اس کی نگاہیں کبھی اپنے پہلو سے بہنے والی
ندی پر پڑتی ہیں ، جو اس کی ماں کا حق تھا ، اور کبھی دور آسمان کی وسعتوں میں کہ جس
کے نیچے حد درجہ روشنی بخشنے وا لی ایک شئے سیاہ غلاف سے ڈھکی ہوئی ہے۔‘‘
(ایک کجلائی ہوئی شام )
مذکورہ اقتباس میں منظر کاظمی نے کربلا کے واقعے کو نہایت ہی فنکاری کے ساتھ رقم کیا ہے ۔ان کے سب سے قریبی دوست شاعر و ناقد سیّد احمد شمیم ؔ نے اسلامی تاریخ اور سیرت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے منظر کاظمی کے متعلّق اپنے مضمون ’’ذکر اس پری وش کا ‘‘میں یہ لکھا ہے ۔
’’ منظر کاظمی نے اسلامی تاریخ و سیرت کی کتابوں سے استفادہ کیا ہے ۔اور سورۃالبقر
، یوسف ، آلِ عمرانِ، نساء ،اعراف،بنی اسرائیل،کہف، طٰہٰ ، قصص، مزمّل، الم نشر اور
سورۃالفیل وغیرہ کی نورانی تجلیّوں سے اپنے اسلوب کو چمکایا ہے۔‘‘
(سیّد احمد شمیم)
منظر کاظمی اس قبیل کی افسانوں میں شروعات اور اختتام پر کافی محنت کرتے نظر آتے ہیں ۔بیچ سے ہی افسانے کو شروع کر دیتے ہیں ۔جیسے پہلے کچھ اور بھی ہو چکا ہو ….. وہ اکثر ’’تب یوں ہوا کہ‘‘، ’’اس سے پہلے یہ ہوا تھا کہ ‘‘اور ’’ دیکھا گیا کہ‘‘ جیسے فجائیہ فقروں سے اپنی بات کی ابتدا کرتے ہیں ۔اور پڑھنے والا آگے کی بات جاننے کے لئے بے چین ہو جاتا ہے۔ ان کے افسانوں میں جو اسلامی موضوعات ہیں ان میں بھی کافی تنوع پایا جاتا ہے ۔ لیکن ’’ آسمان سے گرتی ہوئی روٹیاں ‘‘ اور ’’ کانٹوں کا تاج ‘‘ میں موضوعات کی تکرار ملتی ہے۔دونوں میں یوسف ؑ ، عیسٰیؑ ، موسٰیؑ اور فرعون کے قصّے بیان ہوئے ہیں ۔لیکن یہ منظر کاظمی کا ہی وصف ہے کہ پڑھتے وقت دونوں افسانے ایک دوسرے کی ضد نظر آتے ہیں ۔اور اگر یہ ضد کچھ لوگوں کو نظر نہ بھی آئے تو یہی یکسانیت ایک سیریز کے طور پر آگے بڑھتی ہے جو قاری کے لئے ایک خوشگوار اضافے کی حیثیت رکھتی ہے۔
اردو میں یوں تو کئی افسانہ نگاروں نے اسلامی حقائق وواقعات اور سیرت پاک جیسے موضوعات کو افسانے کے قالب میں فنّی چابکدستی سے ڈھالا ہے،لیکن ایک ساتھ پانچ چھ افسانے ان کے عہد میں دوسروں کے یہاں دیکھنے کو کم ملتے ہیں۔ یہی وہ امتیاز ہے جو منظر کاظمی کو ان کے ہم عصروں میں ممتاز بناتا ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ناقدین ادب کی نگاہ ابھی اس امتیازِ خاص پر نہیں گئی ہے۔
***
Add:-
DR.AKHTAR AZAD
HOUSE NO:-38 , ROAD NO:- 1
AZADNAGAR, JAMSHEDPUR-832110 (JHARKHAND)
dr.akhtarazad@gmail.com mobile.09572683122
جدید ذہن کا قدیم شاعر….. اسماعیل میرٹھی : ڈاکٹر شاداب علیم
جدید ذہن کا قدیم شاعر: اسماعیل میرٹھی
ڈاکٹر شاداب علیم
لکچرر شعبۂ اردو
چودھری چرن سنگھ (میرٹھ)
انیسویں صدی کے اواخر سے بیسویں صدی کے اواخر تک نسل در نسل اردو داں طبقہ اردو کے حروف تہجی سے بھی قبل مولانا اسماعیل میرٹھی کے نام سے واقف ہوتا رہا ہے۔ اس طویل عرصے میں اسماعیل میرٹھی نے اپنی نصابی کتب اور ان میں تحریر کردہ اپنے مضامین اور شاعری کے ذریعہ متعدد نوخیز نسلوں کی ذہنی آبیاری کی۔ مولانا اسماعیل میرٹھی کی حیات کا یہ پہلو ان کی جملہ زندگی اور کارناموں پر اس قدر حاوی ہوا کہ اسماعیل میرٹھی کو محض بچوں کا شاعر سمجھ لیا گیا۔ حالانکہ بچوں کی زبان میں ان کے ذہن، ان کی استعداد اور نفسیات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا شعری ادب تخلیق کرنا جس کے باعث بچوں کے شعور اور لاشعور میں اعلیٰ اخلاقی اقدار، کندا ہو کر ان کے کردار کی تخلیق کریں اوران کے لئے مسرتوں اور انبساط کا ذریعہ بھی بنیں۔ بذات خود ایک مہتم باالشان کارنامہ ہے۔ انگریزی کا مقولہ ہے Child is the Father of Manیعنی آج کے اطفال ہی مستقبل کی جوان قوم ہے۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہندوستان میں ملت اسلامیہ کی کئی نسلیں اپنی تعلیم و تربیت کے لئے مولانا کی مرہون منت ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسماعیل میرٹھی ایک ہمہ جہت و ہمہ صفت شخصیت تھے۔
جب ہم اسماعیل میرٹھی کی شاعری کا تجزیہ کرتے ہیں تو ایک حقیقت واضح طور پر ہمارے سامنے آتی ہے کہ مولانا ایک جدید انقلابی شاعرتھے۔ اس خطاب پر یقیناًمتعدد پیشانیوں پرشکنیں ابھریں گی۔ لیکن ہمارے پاس ان کو ایک مجدد انقلابی شاعر کہنے کا جواز موجود ہے۔ یہاں لفظ انقلاب کے استعمال سے میرا مقصد یہ ہے کہ اسماعیل میرٹھی نے شاعری کی ہر صنف میں خواہ وہ غزل ہو یا قصیدہ، رباعیات ہوں، نظمیں ہوں، یا قطعات، انہوں روایت سے انحراف کرتے ہوئے ہیئت کے نئے نئے تجربات کیئے۔ ان کے تجربات صرف ہیئت تک محدود نہیں رہے۔ انہوں نے اصناف کے مواد اور زبان میں بھی تبدیلیاں کیں اور نئے تجربات کئے۔
اردوزبان کی سب سے ہر دلعزیز صنف غزل ہے۔ جب بھی اردو شاعری کا تصور ذہن میں آتا ہے ہے توغزل اپنے پورے حسن و جمال، رعنائیوں و دلآویزیوں اور خوبیوں کے ساتھ نگاہوں کے سامنے جلوہ گر ہوتی ہیں۔ مولانا اسماعیل میرٹھی نے اپنی غزلوں میں دو طریقوں سے روایت سے روگردانی کی ہے۔ اولا یہ کہ ان کی کئی غزلوں میں مطلع مفقود ہے۔ اس کی وجہ استعداد کی کمی نہ تھی بلکہ عادتا روایت سے انحراف تھا۔ دوسرا روایت سے انحراف اور ہیئت میں تبدیلی یہ ہے کہ مولانا کی کلیات میں ۶۸؍ غزلیں موجود ہیں۔ لیکن ان کی ایک غزل بھی ایسی نہیں جن میں مولانا نے مقطع کہا ہو۔ دو غزلوں میں ضرور قمر تخلص کیا گیا ہے۔ لیکن یہ وہ غزلیں ہیں جو اسماعیل میرٹھی نے اپنے بہنوئی قمر الدین کومشاعروں میں پڑھنے کے لئے کہہ کردیں تھیں۔ بذات خود اپنے نام کا استعمال انہوں نے غزل میں کبھی نہیں کیا ۔ لہٰذا ان کی کسی بھی غزل میں مقطع نہیں پایا جاتا۔ غالبا وہ اردو شاعری میں ایسے پہلے غزل گو شاعر ہیں جنہوں نے مقطع کہنے سے احتراز کیا۔ یہ روایت سے انحراف نہیں بلکہ بغاوت ہے۔ مولانا اسماعیل میرٹھی فارسی کے مدرس تھے۔ فارسی کے اثرات ان کی شاعری میں ہونا فطری عمل ہے۔ اس لئے جو زبان دن کے بیشتر حصے میں ان کے استعمال میں رہتی تھی وہ ان کے شعور اور لاشعور کا حصہ بن گئی تھی۔ اس لئے اس زبان کا اثر ان کی شاعری میں ہونا فطری بھی تھا اور ناگزیر بھی۔ اس لئے ان کی غزل میں فارسی تراکیب اور فارسی الفاظ کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ مثلا
جز دل پاک نہ پایا حرم خاص کہیں
دیر و کعبہ میں عبس ناصیہ فرسائی کی
لیکن سرسید کی تحریک پراسماعیل میرٹھی نے اپنی غزلوں میں نہ صرف سادہ و سلیس الفاظ کا استعمال شروع کیا بلکہ مقامی الفاظ، مقامی محاوروں اور ہندی الفاظ کو بھی غزل کا حصہ بنادیا۔
ہے اشارے پر قلم کے لشکروں کی صلح و جنگ
دو گروہ کی چوپ سے دم بند ہے شمشیر کا
دو جگہ خفتگان خاک مجھے
تھوڑے تھوڑے ذرا پرے سرکو
دو گرہ کی چوپ، پرے سرکو، مقامی الفاظ و محاورے ہیں جن کا استعمال اسماعیل میرٹھی نے غزلوں میں کیا ہے۔
قصیدہ کی باقاعدہ ہیئت مقرر ہے جس کے اجزائے ترکیبی میں مطلع، تشبیب، گریز، مدح اور دعایا حسن طلب شامل ہے۔ کلیات اسماعیل میں قصائد کے عنوان کے تحت ۱۹؍ شعری تخلیقات درج ہیں۔ مدح قصیدہ کا لازمی جزو ہے حقیقت تو یہ ہے کہ قصیدہ اور مدح اردو میں ہم معنی الفاظ بن چکے ہیں۔ اس پیمانے پر اگر ہم ناپیں تو قصائد کے تحت درج شعری تخلیقات میں صرف چند کوہی قصیدہ کہہ سکتے ہیں۔ ان قصائد میں بھی مولانا نے قصیدہ کی روایت کا احترام نہیں کیا اور قصیدہ کے اجزائے ترکیبی میں سے کوئی نہ کوئی جز مفقود ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ مولانا نے قصیدہ کے ایک نئے طرز کی بنیاد ڈالی ہے۔ دو قصائد ملکہ و کٹوریہ اور دو جارج پنجم سے متعلق ہیں۔ دونوں مدحیہ قصائد ہیں، مگر ان کے قصائد میں بھی وکٹوریہ اورجارج پنجم سے زیادہ انگریزی نظام حکومت کے قائم کردہ اداروں اور ان سے عوام کو جو منفعت حاصل ہوئی اورامن و آتشی اور ایک مستحکم حکومت کے قیام کی مدح ہے۔ اس کے علاوہ عصری تعلیم اور سائنس کو بھی عملی جامہ پہنانے سے جو نئے اختراعات، ایجادات و مصنوعات و جود میں آئیں اور عوام ا لناس کے لئے فلاح و بہبودی اور خوش حالی کا ذریعہ بنی اس کی مدح ہے۔موضوعات کی طرح قصائد کی زبان میں بھی مولانا نے تجربات کیے ہیں۔ قصائد کی زبان میں جہاں فارسی الفاظ و تراکیب کا استعمال کیا گیا ہے وہیں کچھ اشعار کی زبان سادہ سلیس ہے، قصیدہ کی روایت سے انحراف کرتے ہوئے انہوں نے متعدد الفاظ بھاشا یا مقامی زبان کے استعمال کیے ہیں۔ ان میں مقامی محاورے اور کہاوتیں بھی شامل ہیں۔ جیسے:
نہ پرنالے چلے اب کے دھڑا دھڑ
نہ گذری کی سڑک رونے بہائی
نہ اے بھادوں بھرن برسائی تونے
نہ اے ساون جھڑی تونے لگائی
اس کے علاوہ انہوں نے گوہار، جھوٹ موٹ، بور کے لڈو، چر کٹے، پھاؤلا، ڈھئی ہوئی، اوٹ پٹانگ، پوٹیہ، پنڈا، میل کچیل، مڑک، اٹک، ٹھیکرا، بکھیڑا، جمگھٹا، ریل پیل جیسے الفاظ کااستعمال فارسی الفاظ کے پہلو بہ پہلو کیا۔
اردو میں رباعی کی ہیئت مقرر ہے۔ یہ چار مصرعوں کی صنف ہے۔ اس کا پہلا، دوسرا اور چوتھا مصرعہ مردف ہوتا ہے۔ جب کہ تیسرا مصرعہ غر مردف، اسماعیل میرٹھی نے رباعی کی ہیئت سے انحراف کرتے ہوئے نئے تجربات کیئے ہیں۔ مولانا اسماعیل میرٹھی کے یہاں تین طرح کی رباعیاں ملتی ہیں۔ مردف، چارقوافی اور سہ قوافی رباعیاں۔ مولانا نے اپنی رباعیوں کو عنوانان بھی دیئے ہیں۔
مولانا اسماعیل میرٹھی کے ساتھ قلق میرٹھی بھی سرشتہ تعلیم،میرٹھ سرکل میں ملازم تھے۔ قلق میرٹھی نے انگریزی کی ۱۵؍ اخلاقی نظموں کے منظوم تراجم کیئے۔ جس پر مرزا غالب نے نظر ثانی کی۔ تراجم کا یہ مجموعہ ۱۸۶۴ ء میں یعنی انجمن تحریک پنجاب سے دس سال قبل ’’جواہر منظوم‘‘ کے نام سے گورنمنٹ پریس، الٰہ آباد سے شائع ہوا۔ مولانا کے بیٹے اسلم سیفی ’’حیات و کلیات اسماعیل‘‘ میں رقم طراز ہیں:
’’ مولانا کے لئے اس ترجمہ کا مطالعہ ایک امر اتفاق تھا۔ جس نے مولانا کی طبیعت کا رخ بالکل بدل دیا۔‘‘
اسماعیل میرٹھی نے اس ترجمہ کو دیکھ کر بعض انگریزی نظموں کا ترجمہ کیا، یہ نظمیں کلیات اسماعیل میں موجود ہیں، اس کے علاوہ آئندہ کے لئے اپنے کلام کی بنیاد اس نئے انداز پر رکھی، یہ نظمیں انجمن پنجاب کی نظم جدید کی تحریک سے کئی سال قبل کہی گئی ہیں، اس لئے بقول گوپی چند نارنگ ’’ ان کا شمار اردو نظم کے بنیاد گزاروں میں ہونا چاہئے‘‘ اسماعیل میرٹھی نے بھی اپنی متعدد نظموں کے لئے مثنوی کی صنف کو چنا، لیکن اس کے علاوہ آپ نے مثلث، مربع، مخمس، مثمن اور ترجیع بند اصناف میں بھی نظمیں کہیں۔ آثار سلف، (مشعر کیفیت قلعہ اکبر آباد) مولانا اسماعیل میرٹھی کی طویل نظم ہے ، جو ۷۰؍ بندو پر مشتمل ہے اس میں مولانا نے مثمن کی صنف استعمال کی ہے، اس نظم کی اشاعت کے بعد مولانا اسماعیل میرٹھی کا مرتبہ استادی عام طور پر تسلیم کیا جانے لگا تھا۔
وہ عیش کے مملوک تھے نے بندہ راحت
گلگشت چمن زار تھی گویا انہیں عزت
برداشت جفا کرتے تھے سہتے تھے صعوبت
اوروں کے بھروسے پہ نہ کرتے تھے معیشت
دنیا کے کسی کام میں ہیٹی نہ تھی عزت
بے غیرتی زنہار نہ تھی ان کی جبلت
ہمت میں تھے شاہین تو جرأت میں تھے شہباز
عزت کی بلندی پہ کیا کرتے تھے پرواز
اس بند میں ’’شاہین، شہباز‘‘ کی علامتیں مستعمل ہوئی ہیں۔ یہ مولانا اسماعیل میرٹھی کا اختراعی ذہن ہے۔ ممکن ہے اقبال نے ان علامتوں کو مولانا اسماعیل میرٹھی سے شعور یا غیر شعور طور پر مستعار لیا ہو اور بعد میں ان کو اپنالیا ہو۔ اقبال کے یہاں خودی کا فلسفہ شاہین اور شہباز کی مدد سے ہی مرتب ہوا ہے اور انہیں علامتوں سے ابلاغ میں مدد لی گئی ہے۔
چونکہ مولانا کا مقصد نصیحتیں کرنا و تربیت دینا تھا اس لئے یہ ضر وری ہوا کہ زبان وہی استعمال کی جائے جسے عوم الناس با آسانی سمجھ سکیں۔ جگر بریلوی نے تحریر کیا ہے:
’’ حقیقت یہ ہے روانی میں مولانا کی بعض نظمیں سحر البیان سے بھی آگے نظر آتی ہیں اور جس سہل ممتنع کو غالب سے خاص طور پر منسوب کیا جاتا ہے مولانا اس کے بادشاہ تھے۔‘‘
مقامی الفاظ، روز مرہ اور مقامی محاوروں کے استعمال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسماعیل میرٹھی کی شاعری میں دیہی عناصر جابجا ملتے ہیں اور ظاہر ہے کہ دیہی مناظر کے بیان کے لئے دیہی زبان سے بہتر کون سی زبان ہوسکتی ہے۔ مولانا کی ان نظموں میں بھی جو دیہی فضا سے دور علمی نظمیں ہیں۔ یہ مقامی عناصر مولانا کے لاشعور سے نکل کر ان کی نظموں میں سب سے الگ تھلک مگر حسین لبادے میں ملبوس کھڑے نظر آتے ہیں۔ اگر دیگر شعرا نے بھی اس طرح کے الفاظ کا استعمال اپنی شاعری میں کیا ہوتا تو اردو شاعری کا ذخیرہ الفاظ بے انتہا وسیع ہو گیا ہوتا اور اردو آج بے حد مالدار زبان ہوتی۔
مولانا اسماعیل میرٹھی کی دو نظمیں ان کا نادر و عظیم کارنامہ ہیں۔ ’’تاروں بھری رات‘‘ اور ’’چڑیا کے بچے‘ ‘ ان کو اپنے ہم عصروں میں نہ صرف ممتاز ترین مقام عطا کرتی ہیں بلکہ یہ امربھی واضح کرتی ہیں کہ مولانا اپنے ہم عصروں سے میدان نظم میں برسوں آگے تھے۔
اولا غیر مقفیٰ اور بعد میں نظم معریٰ کے نام سے موسوم کی جانے والی نظموں کا اردو میں یہ پہلا نمونہ ہے۔ مولانا اپنی’’ چڑیا کے بچے‘‘ میں مصرع کا ایک نیا تصور سامنے لائے ہیں جو اردو فارسی شاعری کے مصرع کے تصور سے بالکل مختلف ہے۔ لیکن جو انگریزی نظموں میں رائج ہے جس کو مصرع مسلسل کہا جاتا ہے۔
مولانا نے نظموں میں ہیئت کا ایک اور تجربہ کیا۔ انہوں نے اردو ادب میں ’’ابیات‘‘ کا اضافہ کیا۔ فردیات کا رواج زمانہ قدیم سے ہے لیکن مطلع کی صورت میں ایک خیال کو صرف دو مصرعوں میں مرکوز کردینا مولانا کی اختراع ہے۔ انہوں نے ایک مکمل خیال کو قطعہ سے بھی چھوٹی ہیئت میں پیش کرکے اردو شاعری میں ایک نئی صنف کا اضافہ کیا۔
یہ ایجازد بیان اور جامعیت کی نادر مثال ہے۔ ہم اس کو بیت یا یک شعری نظم بھی کہہ سکتے ہیں۔ مولانا نے ہر ’’بیت‘‘ کو ایک عنوان بھی دیا ۔ ان کی ’’ابیات‘‘ ضرب المثل بن کر زبان زد خاص و عام ہے۔
ہیئت میں نئے تجربے کرنے سے مولانا ایک جدید مزاج کے حامل نظر آتے ہیں۔ جب کہ شاعری میں معنوی تسلسل اور اعلیٰ اخلاقی اقدار شامل کرنے کے باعث وہ ایک قدیم ذہن کے مالک نظر آتے ہیں۔ در حقیقت ان کا ذہن قدیم تھا مگر ان کامزاج جدید، قدیم و جدید کے اس حسین امتزاج سے انہوں نے قارئین کے دلوں میں اپنے لئے جگہ بنالی تھی۔ ان کا دو ر ادبی اورسماجی آگہی کا دور تھا، مغربی تہذیب، ادب و شاعری ہندوستان کی زر خیز زمین میں تخم ریزی کررہی تھی۔ اسماعیل میرٹھی نے مغربی شعری و ادبی خیالات کی تازہ ہوا کے لئے اپنے ذہن کی کھڑکیاں کھول دی تھیں اور اس اثر کو اتنی خوبصورتی کے ساتھ اردو شاعری و زبان کے مزاج و کردار سے ہم آہنگ کیا کہ ہماری نظم ہی کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے۔ کوئی انگریزی پیوند کاری نہیں۔
مولانا ا سماعیل میرٹھی کو ادب میں وہ مقام نہیں مل پایا جس کے وہ مستحق تھے۔ ہمارے ناقدین نے انہیں بچوں کا شاعر کہہ کر نظر انداز کردیا جب کہ مولانا اسماعیل میرٹھی پر متعدد نہج اور مختلف زاویوں سے تحقیق کی جانی چاہئے۔
***
ڈاکٹر شاداب علیم
لکچرر شعبۂ اردو
چودھری چرن سنگھ (میرٹھ)
’’ کارواں ‘‘ ایک تجزیاتی مطالعہ : اسلم بدرؔ
’’ کارواں ‘‘ ایک تجزیاتی مطالعہ
اسلم بدرؔ
انسانی تہذیب نے اپنے ارتقائی مراحل ، حیوانات کے بود باش کا مشاہدہ کرتے ہوئے طے کئے ہیں۔اللہ نے بھی آدمؑ کو جنت سے زمین پر اتارنے سے پہلے ہی اس زمین پر جمادات ونباتات و حیوانات کی دنیا بسا رکھی تھی۔ آدم ؑ کوپہلا علم تو اللہ نے ہی ان کے کان میں علم الاسماء پھونک کر سکھایا تھا کہ اسے اشرف المخلوقات ہونا تھا، مگر زمین پر اترنے کے بعد جب آدم ؑ و آدم زاد نے خود کو سری لنکا کے جنگلوں میں جنگلی جانوروں کے درمیان گھرا پایا تو اپنی محافظت اور بود و باش کے طریقے انہیں جانوروں سے سیکھے ہوں گے۔غاروں میں رہنا اور شکار کرناشاید شیروں ، بھالوؤں سے سیکھا ہو گا۔ درختوں پر درندوں سے محفوظ رہنے کا فن بندروں سے سیکھا ہو گا۔کبھی دیکھا ہو گا کہ ریوڑ میں رہنے والے جنگلی بھینسوں کے سامنے شیر بھی اپنی دم دبا لیتے ہیں، اجتماعی زندگی انہیں بھا نے لگی ہو گی۔پھر گاؤں بسائے گئے ہوں گے۔ اور اس طرح انسانی تہذیب نے جست لگانا شروع کر دیا ہو گا۔ پرندوں کو دیکھ کر ابن فرناس نے اپنے بازوؤں سے پر باندھ لئے اوراسپین کے ایک ٹاور سے چھلانگ لگا دی بعد ازاں لیونارڈو دا ونچی اور رائٹ برادرس کے نام ہوائی سفر کا سہرا باندھا گیا۔چمگادڑوں کی جبلی قوت نے آدم زاد کی رہنمائی رادار تک کی۔انسانوں اور جانوروں کے اسی درمیانی رشتے کو سمجھنے میں شاید ڈارون سے کہیں کوئی غلطی ہو گئی کہ اس نے ایک جاہلانہ اعلان کر دیا ….’آج کا انسان ، بندر کی اولاد ہے‘۔ حالانکہ اس رشتے کی بنیاد نفسیاتی ہے جسمانی نہیں۔
انسانوں اور جانوروں کا یہی نفسیاتی رشتہ ، مہتاب عالم پرویز ؔ کے ’کارواں‘ کی کہانیوں کا خمیر ہے۔یہ نفسیاتی رشتہ ان کے تحت الشعور میں شاید کہیں دبا ہوا ضرور تھا جس کی گرہیں اُن کی کہانیوں میں کھلتی نظر آتی ہیں۔کبھی کبھی بلکہ اکثر ان کی کہانیوں کے عنوانات سے اس کا راست اظہار ہوتا ہے تو کہیں متن سے اور کہیں متن کے ایک جملے سے ۔
’کارواں‘ کے بلبلاتے ہوئے اونٹ۔ ’کتیا‘ کا سفید بالوں والا کتا اور گلی کی آوارہ اور میلی کچیلی کتیا، انسانوں کا کتوں جیسا اور کتوں کا انسانوں جیسا برتاؤ۔’کبوتر باز‘ کے جنگلی کبوتروں کا شکار کرتے ہوئے سفید کبوتر۔’سانپ اور پرندے‘ میں سانپ جیسی بل کھاتی سڑک پر سیر کرتے بھیڑئے جیسے خونخوار لوگ، ریچھ کے ناخونی پنجوں میں خوبصورت لڑکیوں کی مخروطی انگلیاں،کُتے سی خصلت جیسے رال ٹپکاتے لڑکے، درخت سے لپٹا ہوا وہ سانپ جو پرندے کے گھونسلے میں چوزوں کو نگل رہا ہے اور پھر سانپ پر پرندوں کا حملہ۔ ’آخری پرواز‘ کے کبوتر کی جوڑی، کبوتر کی پہلی اور باز کی آخری پرواز، کبوتر کے ساتھ پرواز کرتے ہوئے جنگل کے سارے پرندے۔ ’جرثومے‘ میں سماج کے پروردہ ظلم و نا انصافی کے جرثومے، اپنے خول میں سمٹی بیر بہوٹی اور بد مست ہاتھی کی طرح جھومتا ہوا وشال پیڑ۔’ایک تلاش ہے زندگی‘ کا منڈلاتا ہوا بھنورا اور رنگ برنگی تتلیاں۔’بازگشت‘ کا وحشی درندہ اور تاریکی میں پھڑپھڑاتے ہوئے پرندے (چمگادڑیں)۔ ’کہانی کا دوسرا رخ‘ میں اپنی گردنوں پر جانوروں کے خوفناک چہرے لگائے ، ایک دوسرے کو بھنبھوڑتے ہوئے لوگ اور اپنے بچوں کو پلّا سمجھنے والی ماں۔’رشتے کی بنیاد‘ کا کتّا (انور)۔ ’گائیڈ لائین‘ میں مکڑی کے جالے اور تتلی کے رنگین پر۔بیک ڈور کا رینگتا اور پھنکاریں مارتا ہوا سانپ ۔
ان کہانیوں میں ’کارواں‘، ’کتیا‘،’ کبوتر باز‘، ’سانپ اور پرندے‘، ’آخری پرواز‘، ’بازگشت ‘ ، ’جرثومے‘ اور ’بیک ڈور‘ ایسی کہانیاں ہیں ، جن سے گزرنے کے بعد یہ پتا چلتا ہے کہ ایک جینوین کہانی کارکس طرح اپنے ارد گرد رونما ہونے والے عام سے واقعات و حادثات سے کس حد تک اثر قبول کرتا ہے اور کس طرح ایک بظاہر معمولی سا وقوعہ ایک بڑی کہانی کو جنم دے سکتا ہے۔ وہ کہانی خانگی و سماجی بھی ہو سکتی ہے،نفسیاتی بھی، سیاسی بھی ، قومی بھی اور بین الا قوامی بھی۔ ’کارواں‘ کی کہانیاں ان تمام مسائل سے دو چار ہیں۔
کہانی کار نے ایک عرصہ خلیج ممالک میں کام کرتے گزارا ہے۔اس نے وہاں کے حالات کا بھر پور مشاہدہ کیاہے۔ وہ جانتا ہے کہ کس طرح وہاں کے صحرا باہری ممالک سے آئے ہوئے لوگوں کے خون کا ایک ایک قطرہ نچوڑ لیتے ہیں۔ جہاں کامگاروں کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں۔ وہاں کے اونٹ ، کامگاروں سے زیادہ قیمتی ہیں۔ جب اس علاقے میں کبھی زہریلی گیس پھیلتی ہے تو انتظامیہ کے سارے عملے کو انسانوں سے زیادہ اونٹوں کو بچانے کی فکر ہوتی ہے ۔ ’کارواں‘ نامی اس کہانی میں ایک نفسیاتی موڑ بھی ہے۔ کہانی کار کی چھوٹی بیٹی کو اونٹ کی سواری بہت پسند ہے۔ کیوں پسند ہے ، کہانی کار نے اس کی وضاحت نہیں کی ہے مگر بین السطور یا پھر بچی کے تحت الشعور میں شاید یہ بات پوشیدہ ہے کہ جب بھی اس کے ابا اونٹوں کے ملک سے آتے ہیں تو طرح طرح کے کھلونے اور تحفے لے کر آتے ہیں ۔ اب وہ چاہتی ہے کہ اس بار اس کے ابا وہاں سے اونٹ لے کر آئیں۔ ابا تو نہیں آتے ، ابا کی لاش ایک تابوت میں بند آتی ہے اور بچی اس تابوت پر سوارہو جاتی ہے۔
’کتیا‘ جہاں ایک طرف آج کے ٹیڈی سماج کی پراگندگیوں کی طرف اشارے کرتی ہے تو دوسری طرف صرف انسانی ہی نہیں بلکہ جانوروں کی نفسیات پر بھی بحث کرتی ہے۔ایک خوبصورت لڑکی کے ہاتھوں میں کتے کی زنجیر دیکھ کہانی کار کو اپنی بیوی کے پلو سے بندھا رہنا اچھا نہیں لگتا۔ وہ چاہتا ہے کہ کاش کوئی خوبصورت سی لڑکی اس کی گردن میں بھی کتے کا پٹّہ باندھ دیتی۔ مگر جب کتے کا پٹہ اس کی گردن میں باندھ دیا جاتا ہے تو کتے کی حمیت جاگ اٹھتی ہے ، وہ اچانک لڑکی پر حملہ کر کے اسے کو بھنبھوڑنے لگتا ہے اور کہانی کار کی گردن سے گرا ہوا پٹّہ اٹھا کر لڑکی کے زخمی ہاتھوں پر رکھ دیتا ہے اور اس کی گود میں سر رکھ کر کوں کوں کرنے لگتا ہے۔
’ کبوتر باز‘ اور ’آخری پرواز‘ کا مسئلہ بین الاقوامی ہے۔’کبوتر باز‘ اُن دو ملکوں کی کہانی ہے جہاں کی دھرتی اکثر خون کے دھبوں سے سرخ رہتی ہے۔جہاں ایک دیوانہ ’امن کا پیامبر‘ ہمیشہ سفید کبوتر یا سفید پتنگ اڑایا کرتا ہے۔ مگر لوگ اسے آوارہ کہتے ہیں( یا آج کی زبان میں دہشت گرد)۔ مگر ایک دن ایسا بھی آتا ہے کہ نیلے آکاش کے پردے پر دور دور تک امن کے پیامبر پرواز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔’آخری پرواز‘ کہانی کار کے پہلے افسانوی مجموعے ’ریت پر کھنچی ہوئی لکیر‘ میں بھی شامل ہے۔ اس مجموعے میں بھی شامل کرنے کا جواز یہ ہے کہ کہانی میں جس گمبھیر مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کے حل کے لئے ابھی کچھ وقت اور چاہئے۔ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو جاتا ، کہانی زندہ رہے گی اور بار بار خود کو دہراتی رہے گی، اس وقت تک جب تک’باز‘ کے ظلم کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک کبوتر اپنی پہلی جراٗت آمیز اڑان نہیں بھرتا، جب تک جنگل کے سارے’ پرند‘ اس کے پیچھے پرواز کرنے نہیں لگتے اور جب تک ’باز‘ کی پرواز ’آخری پرواز‘ نہیں ہو جاتی۔
’بازگشت‘ ملک کے خونیں فسادات کے پس منظر لکھی گئی زوال و کمال انسانیت کی کہانی ہے۔ کمال انسانیت یہ کہ فسادیوں کے ہوس کی بھینٹ چڑھی ہوئی ایک عورت کی معصوم بچی ’ارپنا‘کی پناہ گاہ ’نادرہ‘ کی گود ہے جہاں وہ ’زیبا‘ کے روپ میں پل کرجوان ہو تی ہے۔ زوال انسانیت یہ کہ اسی فساد کی آگ میں لگاتار جلتا ہوا اس معصوم بچی کا جنونی اور درندہ باپ اپنی ہی بچی (زیبا) کے ساتھ ہوس کی آگ بجھاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس نے اپنی بیوی کا انتقام لے لیا ہے۔
’سانپ اور پرندے‘ ایک نہایت ہی کامیاب کہانی ہے۔ اور اس لئے بھی کامیاب ہے کہانی کار نے اسے اپنی بچی کے ایک ’خوف‘ سے تراشا ہے۔ کہانی نہ صرف ایک ننھی سی بچی کے خوف کا نفسیاتی علاج پیش کرتی ہے بلکہ حالات سے ڈرے سہمے لوگوں کو بھی آئینہ دکھاتی ہے۔سانپ کے منہ کوکچلنا ہی ہو گا ورنہ وہ ایک دن تمہارے چوزوں کو بھی نوالہ بنا لے گا۔
’بیک ڈور‘ کا کلائمکس چونکانے والا ہے۔ آخری جملے تک پہنچنے سے پہلے کہانی ایک کالج کے عمومی ماحول کا بیان معلوم ہوتی ہے ، مگر آخری جملے کے’ بیک ڈور‘ تک پہنچنے کے بعد ہی بیانیہ اچانک کہانی بن جاتا ہے اور کہانی کے عنوان ’بیک ڈور‘ کی وضاحت ہو پاتی ہے۔
’جرثومے‘ کو میں کہانی کار کی ایک شاہکار کہانی تسلیم کرتا ہوں۔ جہاں کہانی اپنی کہانی کہتی سنائی اور دکھائی دیتی ہے ۔ اس کہانی کو میں ایک سماجی کہانی کے ساتھ ہی ساتھ ایک سائینسی شعور رکھنے والے کہانی کار کی سائینسی کہانی بھی تسلیم کرتا ہوں۔جیسے کرشن چندر کا ’الٹا درخت‘ یا ابن صفی کے بعض ناول جن سے مصنف کا سائنسی شعور جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔
مجھے نہیں معلوم کہ مہتاب عالم پرویز سائنس کے طالب علم رہے ہیں یا نہیں اور اگر سائنس سے انہوں نے تعلیم حاصل کی بھی ہے تو عالم نباتات کا علم رکھتے ہیں یا نہیں۔ میں بس یہ جانتا ہوں کہ ایک تخلیق کار کے ذہن میں بقول غالب اکثر غائب سے مضامین اترا کرتے ہیں۔
عالم نباتات کی ایک زندہ اور ثابت شدہ حقیقت ہے کہ کسی بھی پودے کی جڑ کی مٹی سے چِمٹے ہوئے کروڑوں ایسے جرثومے ہوتے ہیں جو پودوں کی بالیدگی و زرخیزی میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ اگر یہ جرثومے پودوں کی جڑوں سے چمٹے ہوئے نہ ہوں تو مٹی ہزار نم ہو زرخیز نہیں ہو سکتی۔کھیتوں میں ہل چلانے والے کسان جتنی بھی محنت کر لیں نہ کونپلیں پھوٹیں گی نہ کونپلیں، پودوں میں تبدیل ہوں گی نہ پودے درخت کی صورت اختیار کرسکیں گے۔ یہ جرثومے دراصل اندیکھے کسانوں کے وہ گروہ ہیں جو مٹی کے اندر با عمل رہتے ہیں ، انہیں سے نباتات کی افزائش کا سلسلہ دراز رہتا ہے۔
راقم نے اپنی مثنوی’ کن فیکون‘میں ’قرانی تعلیمات اور تخلیقی عمل‘ کے
زیر عنوان نباتات کی جڑوں سے چمٹے ہوئے ان جرثوموں کی کار کردگی پر چند اشعار کے حوالے سے روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے…!
فضا کے مطابق نمو کا نظام
رتوں کے مطابق ہیں فصلیں تمام
ہے مٹی میں جو حصہء نامیات
وہی پیڑ پودوں میں پھونکے حیات
اگر ایک چٹکی میں مٹی اٹھائیں
ارب ہا ارب اس میں جرثومے پائیں
پس پردۂ خاک نور حیات
یہ امواجِ بحر سرورِ حیات
انہی خرد بینی جراثیم پر
حیاتِ نباتات ہے منحصر
یہ آنکھوں سے اوجھل کسانوں کے دل
درونِ زمیں گر نہ ہوں با عمل
ہزار آدمی کھیت میں ہل چلائیں
تدابیر کتنی ہی وہ آزمائیں
یہ جرثومے جب تک مدد نہ کریں
نہ گلشن سجیں اور نہ جنگل بھریں
ان اشعار سے گزرنے کے بعد آپ ایک بار پھر مہتاب عالم پرویز ؔ کی کہانی ’جرثومے‘ سے گزر لیجئے۔ کہانی ایک نیا باب کھولتی دکھائی دے گی۔ ایک فرق ضرور نظر آئے گا کہ نباتات کی افزائش میں یہ جرثومے ایک مثبت کردار نبھاتے نظر آئیں گے جبکہ انسانی سماج میں پلتے بڑھتے ہوئے ان جرثوموں کا کردار منفی ہو گا۔کہانی میں سماج کے اند ررینگتے ہوئے یہ جرثومے ایک وشال درخت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، جس کی چھاؤں میں ظلم و جبر کی داستانیں دہرائی جاتی ہیں، جہاں گاؤں کی پنچائت مظلوموں کے خلاف نا جائز فیصلے کیا کرتی ہے۔ مگر ایک دن اسی وشال درخت کی ایک شاخ، جرثومے پھیلانے والے وحشی درندے کے سر پر گرپڑتی ہے۔ وحشی درندہ اب بھی زندہ ہے مگر گاؤں کی گلیوں میں ننگا گھومتا رہتا ہے اور گاؤں کے بچے (جو دراصل وہی رینگتے ہوئے جرثومے ہیں جو اب دوڑنے لگے ہیں) اُسے پتھر مارا کرتے ہیں۔سماج کے کلبلاتے ہوئے یہ جرثومے کبھی نہیں مرتے ، مختلف روپ اروپ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
میں عزیزی مہتاب عالم پرویزؔ کو اس شاہکار کہانی اور ’کارواں‘ کی دیگر کامیاب اور نہایت ہی کامیاب کہانیوں کے لئے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ مستقبل قریب میں بھی وہ اسی طرح اپنے ارد گرد ہونے والے معمولی واقعات کا بغور مطالعہ و مشاہدہ کرتے رہیں گے اور بڑی بڑی کہانیوں کو جنم دیتے رہیں گے۔
بڑے سے بڑے کہانی کار کی ہر کہانی کو بڑی کہانیوں کی فہرست میں نہیں رکھا جا سکتا ۔ خواہ وہ منشی پریم چند ہوں یا منٹو یا کرشن چندر۔ یہ بات اہم ہے کہ مہتاب عالم پرویزؔ میں آس پاس کے چھوٹے چھوٹے وقوعے سے بڑی کہانیاں گھڑنے کی صلاحیت موجود ہے ۔
()()()()()
اسلم بدرؔ