اردونثر پر سرسیدکے احسانات : ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ
ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ
موبائل:08860438994
اردونثر پر سرسیدکے احسانات
جب کوئی شخص کسی بات کو قطعیت ووضاحت سے پیش کرنا چاہتا ہے تو وہ عموماً نثر کا سہارا لیتا ہے۔ استدلالی ومنطقی انداز سے اپنی بات کو ثابت کیا جائے تب بھی نثر کا سہارا لینا ضروری ہوجاتا ہے ۔ اس ترقی یافتہ دور میں مختلف نوعیت کے مسائل کی گھتیوں کو سلجھانے میں نثر کی افادیت مسلم ہے۔
1850 ء میں مرزا غالب نے سلیس اور عام فہم نثر میں خطوط نگاری کے ذریعہ جدید نثر کی داغ بیل ڈالی جیسے سرسید اور ان کے رفقاء نے غدر کے بعد فروغ دیا۔ اور ایک اصلاحی تحریک کی شروعات کی۔ اس کا ایک بہت بڑا مقصد یہی تھا کہ اردو میں اصلیت اور واقفیت کی فضا پیدا کی جائے۔ نثر میں تنقید، سوانح نگاری، تاریخ نویسی، صحافت نگاری، مضمون نگاری، ناول نگاری وغیرہ کو رائج کر کے سرسید اور ان کے رفقاء کار نے جدید نثر کی مضبوط اور پائیدار عمارت کی تعمیر میں اہم حصہ لیا ہے۔
1832 ء میں فارسی کے بجائے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیاگیا۔ لہٰذا یہ ضروری ہوگیا ہے کہ حکومت وقانون کی وہ تمام اصطلاحیں جو پہلے فارسی اور انگریزی زبان میں تھیں۔ اب اردو میں منتقل کی جائیں۔ اسی زمانے میں اردو میں وہ قانونی اصطلاحات رائج ہونے لگیں جو آج بھی عدالتوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ اسی زمانے میں اخباروں کو آزادی دی گئی۔ ہندوستانی زبان کے چھاپے خانے کھلنے لگے۔
آزاد کے والد نے اردو اخبار اور سرسید کے بڑے بھائی نے سیدالاخبار کا اجراء کیا جو اردو کے ابتدائی اخبار ہیں۔ ابتدا میں خود سرسید کی نظر میں بھی سلیس نثر کی کامیابی مشتبہ تھی۔ اپنی کتاب آثارالصنادید کو جو 1847 ء میں چھپی ۔ سرسید نے مولانا امام بخش صہبائی سے مسجع اور مقفع نثر میں لکھوایا۔ لیکن سرسید کی دو اندیشی نے زمانے کے تقاضے کو جلد ہی سمجھ لیا اور آثارالصنادید کو اپنے ہی قلم سے سلیس اور بے تکلف اسلوب میں تحریر کیا۔
1863 ء میں سرسید نے ’’سائنٹفک سوسائٹی‘‘ قائم کی تاکہ مغربی زبانوں کی علمی اور سائنٹفک کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا جائے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اردو کے مصنفین کو نئے اور کارآمد موضوعات واسالیب سے واقفیت ہوئی۔
1882 ء میں سرسید نے علی گڑھ یونیورسٹی گزٹ نکالا۔ جو اس سوسائٹی کا ترجمان سمجھا جاتا تھا۔ دلی کالج نے اردو نثر کے اس پہلو کی تکمیل کی جسے فورٹ ولیم کالج نے نظرانداز کردیاتھا۔ دلی کالج نے جغرافیہ ، تاریخ، سائنس اور قانون سے متعلق بہت سی کتابوں کا ترجمہ کروایا۔ ماسٹر رام چندر جو اس کالج سے وابستہ تھے۔ اردو نثر کو جدید موضوعات سے روشناس کرانے میں پیش پیش رہے۔ وہ ریاضی کے بڑے ماہر تھے۔ دلی کالج نے جس راستے کو اپنایا تھا سرسید نے بڑی تندہی اور جانفشانی سے اس راستے پر آگے قدم بڑھایا۔
1857 ء کی جدوجہد ہندوستانی قوم کی آزادی حاصل کرنے کی آخری کوشش تھی۔ لیکن تنظیم اور ڈسپلن کی کمی، جدید جنگ کی ٹیکنیک سے ناواقفیت، آپس کا نفاق، دیسی ریاستوں کا تعاون سے انکار اور اسلحہ اور جنگی مصارف کی کمی کے سبب آزادی کی یہ جنگ کامیاب نہ ہوسکی اور انگریزوں نے اسے بغاوت کا نام دے کر ہندوستانیوں اور خصوصاً مسلمانوں پر شدید مظالم ڈھاے۔ سرسید نے ’’اسباب بغاوت ہند‘‘ رسالے میں بغاوت کی بہت کچھ ذمہ داری حکومت پر عائد کی اور مسلمانوں کو اس سے بری الذمہ قرار دیا۔ انہوں نے حکومت کو چند مفید مشورے بھی دئے اور یہ حقیقت ہے کہ سرسید نے اپنی آئندہ کی سیاسی پالیسی کی بنیاد اسی رسالے کو بنایا۔ 1858 ء میں جب کمپنی کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور لارڈ کیننگ کو گورنر جنرل کے بجائے وائسرائے ہند بنایا گیا اور انگلینڈ کی حکومت نے ملکہ وکٹوریہ کو قیصر ہند کا لقب دے کر ہندوستان کی حکومت کو براہ راست اپنے اختیار میں لے لیا تب سرسید کے مفید مشوروں پرحکومت نے خاص توجہ دی۔
1859 ء میں سرسید نے رسالہ ’’اسباب بغاوت ہند‘‘ لکھ کر حکومت کو یہ بات ذہن نشین کرانی چاہی کہ ہندوستان کو سیاسی مراعات دی جائیں اور اپنے ہی ملک میں حکومت کرنے کے لیے ان کی خدمات حاصل کی جائیں۔ سرسید کو یہ احساس تھا کہ مسلمانوں کے مذہب میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ لیکن چند غیرضروری نقصان دہ رسم و رواج اور غلط عقائد نے نیز مذہبی احکام کی غلط تاویلات نے اسلام کو مسلمانوں کے لیے فراریت اور گریز کا ذریعہ بنادیا ہے اور ان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کی ترقی پسند روح کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے۔ ایک طرف سرسید نے مغربی علوم سے واقفیت پیدا کرنے کے لیے غازی پور میں مدرسہ قائم کیا۔ سائنٹفک سوسائٹی کی بنیاد رکھی اور علی گڑھ کے مدرسۃ العلوم کوقائم کیا تو دوسری طرف مسلمانوں کے خیالات انقلاب لانے کے لیے خطبات احمدیہ، تفسیرقرآن، اور تہذیب الاخلاق کے بہت سے مضامین میں اسلام کے نظریات کی جدید تاویلات پیش کیں اور عیسائی مشنریوں کے حملوں سے اسلام کے نظریات کادفاع کیا۔
ہنٹر کمیشن نے مسلمانوں کی تعلیم کے لیے خاص بندوبست کرنے کی سفارش کی۔ سرسید نے اس بات کا انتظار نہیں کیا کہ حکومت خود مسلمانوں کے لیے تعلیمی میدان میں کچھ کام کرے، بلکہ اپنی کوششوں سے اس میدان میں وہ کارہائے نمایاں انجام دئے جس کا اعتراف سب ہی کو ہے۔
اردو نثر نگاری میں 1875 ء کا سال ہمیشہ یادگار رہے گا اسی سال سرسید نے ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کا اجراء کیا۔ جدید موضوعات افکار اور اسالیب کی طرف راغب کرنے میں اس رسالے نے سب سے اہم حصہ لیا۔ مذہبی ، معاشرتی، سماجی، تمدنی، سیاسی او رادبی اصلاح کے لیے سرسید نے اس میں پرمغز تنقید اور نہایت کار آمد مضامین قلمبند کیے۔ سرسید کا اسلوب تصنع سے پاک ہے ان الفاظ کو جو عوام الناس کی زبان پر جاری ہوں اور جو عام فہم اور روز مرہ کی گفتگو میں استعمال ہوتے ہوں جان بوجھ کر استعمال کرتے اورلغت و قواعد کی پابندیوں کی پرواہ نہیں کرتے تھے ایک فطری انداز بیان کو سرسید نے اس لیے اپنایاتھا کہ پرخلوص اور فطری جذبات کو پیش کرنے کے لیے ایسے ہی اسلوب کی ضرورت تھی۔ سرسید صنائع و بدائع کا استعمال بہت کم کرتے تھے ۔ تشبیہوں اور استعاروں میں فطری بے ساختگی، سلاست اور عام فہم انداز کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ جس قسم کا مضمون ہو اسی قسم کا پیرایہ اور لہجہ استعمال کرنا ان کی ایک اور خصوصیت تھی۔ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے بیشتر مدلل اور منطقی پیرایہ بیان اختیار کرتے تھے۔
تہذیب الاخلاق 1875 ء میں جاری ہوا اور 1877 ء تک نکلتا رہا۔ اس دور میں اس میں دو سو چھبیس (226) مضامین لکھے گئے ۔ تین سال کے بعد یعنی 1880 ء میں یہ پھر جاری ہوا اور 2سال 5مہینے تک شائع ہوتا رہا۔اور تقریباً بارہ برس کے بعد یعنی 1896 ء میں یہ تیسری مرتبہ جاری ہوا اور تین برس تک نکلتارہا یعنی 1899 ء تک اور پھر بند ہوگیا۔
مقالہ نگاری اور انشاء پرداشی کا جو مہذب، سنجیدہ اور بلند معیار سرسید نے اس پرچے کے ذریعے قائم کیا وہ تب تک فراموش نہیں کیا جاسکتا جب تک اردو زبان زندہ ہے۔ سرسید کا مشن یہ تھا کہ مسلمانوں کی معاشرت اور عادتوں میں جو جامد اور غیر متحرک خیال داخل ہوگئے ہیں انہیں اور اوہام پرستی، قدامت پرستی، رجعت پرستی اور احساس کمتری کو دور کرکے انہیں جدید ترقی یافتہ خیالات سے روشناس کرایا جائے۔ انگلینڈ کے سفر نے ان کے اس خیال کو او ربھی تقویت بخشی۔ انگلینڈ کی حیرت انگیز ترقی انگریزوں کی صنعتی، تہذیبی، تمدنی ترقی اور وہاں کے جمہوری اقدار اور سیاسی افکار سے سرسید نے بہت زیادہ اثر قبول کیا۔
جدید علم الکلام کی بنیاد بھی سرسید ہی نے لکھی، ولی، روح ، فرشتے ، الہام وغیرہ کو بھی سرسید نے عقل اور نیچر کے مطابق ثابت کرنے کی کوشش کی۔ سرسید کی اس مذہبی دخل اندازی کو اس دور کے قدامت پرست مسلمانوں نے اچھی نظر سے نہیں دیکھا اور ان کی شدید مخالفت کی گئی۔ مگر پھر بھی ان کے ارادہ میں کوئی لرزش نہیں پیدا ہوئی اور ان کے قائم کردہ علی گڑھ کالج نے ترقی کر کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا روپ لے لیا۔ اس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والے مسلمانوں میں ایسی کئی عظیم ہستیاں ہیں جنہوں نے ملک اور قوم کی قابل قدر خدمات انجام دیں۔ مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں کو جدید علوم سے واقف کراکے انہیں ترقی یافتہ اور کارآمد شہری بنانے میں یونیورسٹی نے سب سے زیادہ حصہ لیا ہے۔
ہندوستان کے پرآشوب دور میں سرسید نے مسلمانوں کے مذہب، تعلیم اور معاشرت کی اصلاح کی جان توڑ کوششیں کیں۔ علوم مادی سے مذہبی تعلیم کو ہم آہنگ کیا۔ قدامت پرست اور رجعت پرست لوگوں نے سرسید کو کافر، ملحد اور نیچری کے خطابات سے نوازا ۔ اودھ پنچ نے ان کا مضحکہ اڑایا۔ اکبرالہ آبادی نے طنز سے تیر برسائے، کٹھ ملاؤں نے کفر کے فتوے صادر کیے لیکن آج سارا زمانہ اس بات کا قائل ہے کہ سرسید نے مسلمانوں کی پستی اور تباہی کو دور کرنے میں عدیم المثال کارنامے انجام دئے۔ انہوں نے اردو ادب پر احسان عظیم کیا اور انہیں کے ایما پر حالی ؔ ، شبلیؔ ، آزاد اور نذیر احمد وغیرہ نے اردو ادب میں عقلیت ، واقعیت اور اصلاح پسندی کو فروغ دیا۔ اور ان لوگوں نے اردو نثر ونظم کو زمین سے آسمان پر پہنچادیا۔ سرسید نے سب سے پہلے اردو ادب میں ہیئت اور اسلوب کے بجائے موضوع اور خیال پر زوردیا۔ ادب اور زندگی کا راستہ استوار کیا۔ ادب اور سماج ، ادب اور عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی مفید کوششیں کیں ۔ ادب میں افادیت، اجتماعیت، عقلیت اور واقعیت کے پہلے علمبردار سرسید ہی تھے۔
ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ
فیکلٹی ایسوسی ایٹ:اسکول آف ہیومانیٹیز اینڈ سوشل سائنس (اردو)
گوتم بدھ یونیورسٹی، گریٹرنوئیڈا، گوتم بدھ نگر ، یوپی
sultana.rehana78@yahoo.com
Rehana1478@gmail.com
Ph: 08860438994
09868410962
2401477
سیّد احمد شمیم ؔ کی خاکہ نگاری : ڈاکٹر اختر آزاد
ڈاکٹر اختر آزاد
مکان نمبر۔۳۸ ، روڈ نمبر ۔ ۱
آزاد نگر ، جمشید پور۔ ۸۳۲۱۱۰
موبائل:۔ 09572683122
dr.akhtarazad@gmail.com
برادرم مہتاب عالم پرویز!آداب
افسانہ ’’ ریئلیٹی شو ‘‘ کو اپنے ادبی سائٹ ’’عالمی پرواز میں شامل کرنے کے لئے بہُت بہُت شکریہ۔آپ اور آپ کی ٹیم عالمی پرواز کے لئے جس طرح محنت کر رہی ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔ ابھی تو ابتداء ہے ۔ لیکن ابتدائی دور میں جس طرح سے لوگوں نے اس سائٹ کو ترجیح دینا شروع کیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ مستقبل میں عالمی پرواز کی پہچان ایک مستند ادبی سائٹ کی ہو گی ۔ بس خیال اس بات کا رکھنا ہے کہ جو چیز بھی آپ شامل کریں اس کے معیار کا خاص خیال رکھیں گے ۔
ادھر میں ناول’’ لیمی نیٹیڈ گرل ‘‘ کو مکمّل کرنے میں مصروف تھا ۔ جس کی وجہ سے افسانے کے لئے وقت نکالنا مشکل ہو گیا ۔ لیکن اس دوران ایک مضمون’’ سیّد احمد شمیم کی خاکہ نگاری ‘‘ پرمیں نے لکھا ہے۔ سیّد احمد شمیم کی ذات اور شاعری آپ سے پوشیدہ نہیں ہے ۔بنیادی طور پر شاعر ہیں اور کچھ حد تک نقاد بھی ۔ پروفیسرکے عہدے سے ریٹائرد ہوچکے ہیں ۔دو شعری مجموعے ’’ بے درو دیوار ‘‘ اور’’ ڈوبتی شام ‘‘شائع ہو چکے ہیں ۔ تنقید پر ایک کتاب ’’ ارژنگ ‘‘ آ چکی ہے۔ ایم فل پر چھودھری چرن سنگھ یونیور سِٹی میں ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کی نگرانی میں کام چل رہا ہے ۔ اس کے علاوہ ان کے فن اور شخصیّت پر ڈاکٹر انوری بیگم کی ایک کتاب منظر عام پر آ چکی ۔ اور عنقریب ایک ضخیم کتاب جناب منظر کلیم ترتیب دے رہے ہیں ۔
شاعری اور تنقید سے ہٹ کرسید احمد شمیم نے خاکہ کے میدان میں بھی قدم رکھا ہے ۔ اپنے پچاس سالہ ادبی سفر میں انہوں نے بہت سارے شاعر و ادیب کو نزدیک سے دیکھا ہے ۔ کچھ ان کے بہت قریب رہے اور کچھ ان کے قلم کی روشنائی میں گھل کر خاکہ کی صورت میں صفحہء قرطاس پر بکھر گئے۔ ان گیارہ شخصیّتوں کے اسم گرامی کچھ اس طرح ہیں جن پر خاکے لکھے ہیں۔ عبدالعلیم آسی ، مظہر امام ، زکی انور ، وہاب اشرفی ، عبدالمنّان طرزی ، محمّد سالم ، جوہر بلیاوی ، اسلم بدر، شمس فریدی ، منظر امام اور منظر کاظمی۔(ان تمام حضرات کا تعلّق بہار سے ہے)ان تمام حضرات پر جس طرح سے خاکے لکھے گئے ہیں دراصل وہی دیکھنے والی بات ہے ۔جسے سیّد احمد شمیم نے’’ بند آنکھوں کا تماشا‘‘ کا نام دیا ہے ۔
اگر خاکہ نگاری پر یہ مضمون کسی قابل ہے تو اسے’’ عالمی پرواز ‘‘کے کسی شمارے میں شامل کر لیں گے ۔
میرا ایک مضمون ’’ منظر کاظمی کے افسانے: اسلامی حقائق و واقعات کی روشنی میں ‘‘ اردو دنیا ، جنوری ۲۰۱۳ء کے شمارے میں شائع ہوا ہے ۔ امید ہے نظروں سے گذرا ہو گا ۔
دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔ آپ کا
خدا کرے آپ شگفتہ ہوں ۔ اختر آزاد
۱۰؍جنوری ۲۰۱۳ء
ڈاکٹر اختر آزاد
مکان نمبر۔۳۸ ، روڈ نمبر ۔ ۱
آزاد نگر ، جمشید پور۔ ۸۳۲۱۱۰
موبائل:۔ 09572683122
dr.akhtarazad@gmail.com
سیّد احمد شمیم ؔ کی خاکہ نگاری
غیر افسانوی ادب میں ’خاکہ نگاری کو ‘ ایک اہم صنف کی حیثیت حاصل ہے ۔انگریزی میں ’خاکہ‘کے لئے ’’ LiterarySketch, Pen sketch, Sketchاور بھی کئی ناموں سے جانا جاتا ہے ۔لفظوں کی آڑی ترچھی لکیروں سے جب کوئی فنکارکسی شخص کانہایت ہی ہُنر مندی سے’ڈھانچہ‘ یا ’نقشہ ‘تیّار کرتا ہے تو اُسے ادبی اصطلاح میں’ خاکہ‘ کا نام دیا جاتا ہے ۔
’’مت سہل ہمیں جانو ‘‘ کے دیباچہ میں انور ظہیر خان لکھتے ہیں۔
’’خاکہ میں کسی جسمانی اورذہنی وجود کا ایکسرے ہوتا ہے یا پوسٹ مارٹم …….. اس
میں شخصیات کو اس کے اصلی چہرے مہرے ، رفتارو افکار اور احوال و آثار کے
ساتھ ایک شگفتہ ، شیریں ، سلیس و رواں پیرائے میں پیش کیا جاتا ہے ، جہاں
دال میں نمک کے برابر تخیّل کی کارفرمائی تو ہو سکتی ہے ۔ لیکن ابہام ، مبالغے، اور
غلو کی آمیزش ناقابلِ قبول ہو تی ہے ۔‘‘ (صفحہ ۔۱۰)
ایسی اور اس طرح کی کئی اور تعریفیں خاکہ نگاری کے متعلّق دانشورانِ ادب نے پیش کی ہیں ۔ لیکن ضروری نہیں کہ ہر خاکہ نگار اس کو ملحوظ رکھ کر تخلیق کرے ۔ہر کسی کا اپنا اسٹائل ہوتا ہے ۔خاکہ نگار جب اپنے ہی اسٹائل میں کسی شخص کا ناک نقشہ، عادات و اطوار، افکار وخیالات ،چال چلن ،گفتگوکے طور طریقے کو بغیر کسی مبالغے کے اس طرح پیش کرتا ہے کہ لفظوں کا یہ ’پورٹریٹ‘ اپنے کینوس سے نکل کرسامنے چلتا پھرتا دکھائی دینے لگتا ہے تو وہ حقیقی زندگی سے قریب تر دکھائی دیتاہے ……..لیکن اس کے لئے کسی مناسب شخص کا انتخاب ضروری ہے ۔ یہ کوئی بھی ہو سکتا ہے ۔ کبھی کبھی غیر دلچسپ دکھائی دینے والا شخص بھی خاکہ کا حصّہ ہو سکتا ہے ۔ یہ لکھنے والے پر منحصرہے کہ وہ کس کے اندر سے کتنامواد حاصل کرتا ہے ۔ویسے جس کی زندگی میں جتنے ڈائمینشن ہوں گے اس کے خاکے میں اتنی ہی رنگا رنگی نظر آئے گی ۔ رنگوں کا یہی وہ حسین امتزاج ہے جس میں خاکہ نگاراپنی فنّی بصیرت اور قوّتِ تخلیق سے الگ الگ لکیراور شیڈس پیدا کرتا ہے ۔ کچھ نئے اور کچھ پرانے پہلوؤں سے قاری کو روشناش کراتاہے۔
اردو میں یوں تو نثر اور نظم دونوں میں کسی نہ کسی شکل میں خاکہ موجود رہا ہے ۔ ویسے جس ’مرقع نگاری‘ کو یا شخصیّت پر لکھے خاکے کو باضابطہ صنف کا درجہ ملا وہ’نثر ‘کے حصّے میں آیا جو کسی نہ کسی طور پر’ انشائیہ‘ سے قریب تر ہے ۔ سعادت حسن منٹوؔ ،مولوی عبدالحق ،فرحت اللہ بیگ ،رشید احمد صدیقی،خواجہ احمد فاروقی،مالک رام ، کرشن چندر ،عصمت چغتائی، ممتاز مفتی ، شوکت تھانوی ،عبدالماجد دریا بادی ، مشفق خواجہ ، مجتبی حسین، ابراہیم جلیس ، یوسف ناظم ، مشتاق احمد یوسفی،اور ایسے کئی ادیب ہیں جنہوں نے اپنے اپنے دور کی اہم شخصیّتوں کی تصویریں اپنی اپنی تحاریر میں اتارنے کی کوشش کی ہیں……. اس کڑی کو اگر آگے جوڑتے جائیں تو اردو کا ایک اہم شاعر و نقّاد سیّد احمد شمیم بھی آپ کو خاکہ نگاروں کی اس فہرست میں جُڑتے ہوئے نظر آئیں گے ۔
سیّد احمد شمیم کی کتاب ’’ بند آنکھوں کا تماشا ‘‘ کے نیچے برائکیٹ میں (خاکے،یادداشتیں ) رقم ہیں۔عنوان اس شعرسے ماخوذ ہے
کوئی منظر کبھی بھولا نہ گیا بند آنکھوں کا تماشا نہ گیا
یہ شعر ان کی غزل کا مطلع ہے ۔جو ان کے دوسرے شعری مجموعے’’ڈوبتی شام‘‘ میں اپنے کھوئے ہوئے چاندعرفیؔ کے نام ہے ۔ وہ غزل کیا ہے ؟ اگر آپ دھیان سے پڑھیں گے تو وہ بھی آپ کووقت سے پہلے گذر جانے والے نوخیز بیٹے کا خاکہ معلوم ہو گا ۔گذرے دنوں کاایک ایک منظر انہیں آج بھی یاد ہے ۔پہلے شعری مجموعہ ’’بے درو دیوار‘‘ کی ایک نثری نظم’’نوحہ:برگِ گل کی گمشدگی کا ‘‘ ہے ،جس میں بھی بیٹے عرفی کا خاکہ کھینچا گیاہے ۔
’’ دن بہر حال گذر جاتا ہے؍اُلجھے سُلجھے؍رات آتی ہے تو ؍جی خوف سے گھبراتا ہے ؍
پھر وہی ……..بسترِ بے خواب پہ ؍جلتی آنکھیں؍ذہن کی دھندلی فضاؤں میں ؍
ابھرتے مٹتے؍اپنے بیتے ہوئے موسم کے ہزاروں؍ چہرے؍اور اُن سب میں نمایاں روشن؍
مسکراتا ہوا وہ چاند سا پیاراچہرہ ؍صاف شفّاف، چمکتی ہوئی دلکش آنکھیں؍
برگِ گل …….ہنستے ہوئے ہونٹ؍ملائم نازک ؍اور کانوں میں کھٹکتی ہوئی چنچل آواز؍
اپنی بے تابیِ دل ؍اور بڑھا دیتی ہے ؍ہونٹ تک آنے میں الفاظ پگھل جاتے ہیں ؍
شدّتِ گرمئ احساس میں جل جاتے ہیں!!‘‘
اور یہی وہ یادیں ہیں جو انسان کو ہر لمحہ کریدتی رہتی ہیں ۔ لکھنے پر اُکساتی ہیں ۔ اور جب سیّد احمد شمیم ؔ نے اپنے دوست و احبات ، عزیز و بزرگ جن سے والہانہ تھا ،لکھنے بیٹھے تو اُن کے ساتھ گُزارے لمحات دنیا کے تماشوں میں ڈھل کر قسط در قسط آنکھوں میں خواب کی طرح اترتے چلے گئے ۔ یہی تلخ و شیریں لمحات زندگی کے تماشے بنتے رہے ۔ ’’بند آنکھوں کا تماشا‘‘ کے بیک کور پراپنے تماشوں کے متعلّق سیّد احمد شمیم نے لکھا ہے ۔
’’مفتیانِ ادب خاکہ کی کیا تعریف کرتے ہیں میں نہیں جانتا اور نہ جاننے کی
ضرورت محسوس کرتا ہوں ، اتنا ضرور جانتا ہوں کہ ایک فنکار پرانے سانچوں کو
توڑنے اور ان کی نئی صورت گری کرنے کا حق رکھتا ہے ۔ میرے ان مضامین
کو کیا نام دیا جائے گا مجھے نہیں معلوم ۔ میں انہیں’’بند آنکھوں کا تماشا ‘‘ کہتا
ہوں اور میرے لئے یہی سب سے بڑا سچ ہے ۔ ‘‘
سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کون کرے گا؟ ۔لیکن یہ بتا دوں کہ انہوں نے اپنی تنقیدی کتاب ’’ارژنگ‘‘ کے پیش لفظ میں بھی لکھا تھا کہ’’ میں کوئی نقاد نہیں ہوں ۔‘‘یہاں ’’بند آنکھوں کا تماشہ گر ‘‘ہونے سے بھی انکار کیا ہے اور سب کچھ’مفتیانِ ادب‘‘ کے حوالے کر دیاہے……….ایک ڈاکٹر جب تک خود کو ڈاکٹر نہیں کہتا ہے، تب تک مریض ان سے علاج نہیں کرواتا ۔سیّد احمد شمیمؔ شاعر کے ساتھ نقاد اور خاکہ نگار ہیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہئے ۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایسا انہوں نے ادبی انکساری کی وجہ سے لکھا ہے۔ لیکن ادب میں ایسے لوگ کتنے ہیں ؟دیکھا تو یہ گیا ہے کہ بہت سارے لوگ جو کچھ نہیں ہوتے وہ بھی بہت کچھ ہونے کا دعوی کرتے ہیں ۔تو ایسے میں اگر سیّد احمد شمیم خاکہ کے نئے سانچوں کو توڑتے ہیں اور ان کی نئی صورت گری کرتے ہیں تو اس کا بھی مفتیان ادب کو بڑھ کر استقبال کرنا چاہئے ۔
اس کتاب میں کُل گیارہ خاکے ہیں ۔جن ادباء وشعراء پر خاکے لکھے گئے ہیں ، ان کے اسم گرامی کچھ اس طرح ہیں ۔ عبدالعلیم آسی ، مظہر امام ، زکی انور ، وہاب اشرفی ، عبدالمنّان طرزی ، محمّد سالم ، جوہر بلیاوی ، اسلم بدر، شمس فریدی ، منظر امام اور منظر کاظمی ۔تمام خاکوں کے عنوانات کی انفرادیت اس میں ہے کہ وہ سب کے سب کسی نہ کسی شعر کے مصرے ہیں۔ ’’ یاد آئے تو بہُت یاد آئے ‘‘۔’’ عصرِ نو اپنی نگاہوں میں چھپا لے مجھ کو ‘‘، کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدّس خواب تھے ‘‘،’’ وہ شخص میرا غیر بھی اپنا بھی نہیں ہے ‘‘،’’ طرزی کی ہے کچھ طرزِ ادا اور‘‘ سات سمندر پار جو آ کر دشت فضا کو دیکھا ہے ‘‘،’’ بھول بیٹھا ہوں کدھر جانا ہے ‘‘،’’ اوبہ ناز عجبے من بہ نیاز عجبے‘‘ ، ’’ اس کو سوچا تو کئی رنگ کے پیکر آئے ‘‘،’’ من تو شدم تومن شدی ‘‘اور ’’ ایسا کہاں سے لاؤں کہ اپنا کہوں جسے ‘‘جیسے مصرعے اس خوبصورتی سے عنوانات کے تحت لائے گئے ہیں کہ وہ اس شخصیت کی جلوہ گری میں نمایاں رول ادا کرتے نظر آتے ہیں ۔ جس سے خاکہ نگارکی ذہنیّت کا بھی پتہ چلتا ہے اور ان شخصیّات کا بھی جن پر خاکے لکھے گئے ہیں۔ ۔یہی وہ سلیقہ ہے جو پڑھنے والے کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے ۔
جی ہاں گیارہ اسمائے گرامی اور گیارہ مصرعے۔ لیکن میں آپ کو یہ بتا دوں کہ اس کتاب میں گیارہ نہیں بارہ خاکے ہیں اور وہ بارہواں خاکہ ہے خود مصنّف کا یعنی سیّد احمد شمیم کا۔ چوں کہ مصنّف نے اُن پر خاکے لکھے ہیں جن سے ان کے گہرے مراسم تھے ، یا جنہیں وہ بہت قریب سے جانتے تھے۔اس لئے ان خاکوں میں سیّد احمد شمیم کی شمولیت تو ضروری تھی ۔ اپنی بات کہنے کے لئے انہوں نے چند ایک واقعات کا سہارا لیاجِسے ہمیشہ یادداشت کے سہارے آگے بڑھایا ……… خاکے میںیاد داشت جہاں جہاں ضم ہوئی ہے، وہاں وہاں سیّد احمد شمیم کی جلوہ گری ہوئی ہے ۔ اور یہی جلوہ گری بارہویں خاکے کی شکل میں کتاب میں موجود ہے ۔ جن کی حصّہ داری پوری کتاب میں ٹرین کی اس ایک پٹری کی طرح ہے جو دوسری پٹری کے ساتھ ساتھ چلتی ہے ۔
سیّد احمد شمیم نے اپنے خاکوں کے لئے جس طرح کے اسلوب نگارش کا استعمال کیا ہے ، اس سے ان کی نثر میں شگفتگی پیدا ہوئی ہے ۔بھاری بھر کم الفاظ اوراصطلاحات سے بھی پرہیز کیا ہے ۔مبالغہ آرائی سے بھی خود کو دور رکھا ہے ۔ اور جس کے متعلّق جو بات کی ہے وہ پورے وثوق سے کی ہے ۔اور اپنے انداز میں کی ہے ۔ خاکہ لکھنے کے پیچھے جو خلوص ہے وہ بھی ہر پیراگرف میں کسی زیریں لہر کی طرح موجود ہے۔جس کا احساس قاری کو ہر لمحہ ہوتا رہتا ہے ۔ یہاں ان کے شگفتہ ، دلکش اور پُر اثر اسلوب نگارش کے چند نمونے دیکھئے اور عش عش کیجئے۔
’’وہاب صاحب کا قلم پھول کھلاتا ہے اور کانٹے بھی اگانا جانتا ہے ۔ مگر وہ گفتگو اتنی
خوبصورت کرتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان فورراً مرکزِتوجُّہ بن جاتے ہیں ۔وہ ایک
کامیابconversationalistہیں اور خطرناک حد تک extrovertبھی ۔
کسی بھی موضوع پر بے تکلُّف اور حد درجہ شگفتہ گفتگو کرتے ہیں۔فکشن شاعری ڈرامہ
تصوُّف،مذہب ۔ مگر ان کا پسندیدہ علاقہ سیکس ہے ۔لیکن موضوع کوئی بھی ہو اپنی ذات
کا مرکز نہیں چھوڑتے ۔ اپنی نمائش کا پہلو پیدا کرنے میں یکتا روزگار ہیں ، مگر ہوشیار اتنے
ہیں کہ بندوق دوسرے کا کاندھے پر رکھ کر داغتے ہیں ۔‘‘
’’وہ شخص مرا غیر بھی اپنا بھی نہیں ہے ‘‘ صفحہ۔۴۳
’’تاریخ ادبیاتِ عالم‘‘ اور ’’ اردو ادب کی تاریخ‘‘جیسی تاریخ ساز کتاب لکھ کر عالمی شہرت حاصل کرنے والے بلند پائے کے نقاد ڈاکٹروہاب اشرفی ؔ کے تعلق سے انہوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ ان کی زندگی میں شائع بھی ہوا ہے۔ اپنے خاکے میں ان کے محبوب موضوع ’سیکس‘ کو فوکس کر کے’کوّے ‘ کوعلامتی انداز میں جس طرح شامل کیا ہے اس سے ایک طرح کا حَظ اُٹھانے کی کوشش کی گئی ہے ، اُس میں طنز کا پہلو کم اور مزاح کا عنصر زیادہ ہے ۔اس طرح کے جُملے کئی اور خاکوں میں بھی نظر آتے ہیں ، جو قاری کی دلچسپی کا سبب بھی ہیں اورشخصیت کے اندر اُترنے کا جواز بھی ۔
اسلم بدؔ ر جدید مثنوی ’’کُن فیّکون ‘‘ کے شاعر ہیں ۔ ان کے دوستوں میں شمار ہوتے ہیں ۔گھر بالکل پاس ہے ۔ ان کی شاعری ، ان کی زندگی اور ان کی شخصیّت پر گہری نگاہ رکھتے ہیں ۔ان کے ساتھ جب ادب پر گفتگو ہوتی ہے تو پڑوسیوں کو ایسا لگتا ہے جیسے دونوں لڑ رہے ہیں ۔پھر کچھ ہی دیر بعد جب یہ دیکھتے ہیں کہ دونوں ہنس بھی رہے ہیں تو بات سمجھ میں نہیں آتی کہ پہلے دونوں کس بات پر لڑ رہے تھے کہ اتنی جلدی صلح ہوگئی اور پان کھانے بھی نکل پڑے ۔ اُن پر اپنے قلم کا جادو چلاتے ہوئے بڑی ہی پیاری بات لکھتے ہیں ۔
’’یہ شخص اسلم بدر بھی عجیب ہے عارضۂ قلب میں مبتلا ہے۔ تین بار دل کے آپریشن سے اور
چار بار اینجیو گرافی سے گذر چکا ہے ۔ بستر پر پڑا بھی ہو تو نہ صرف تندرست اور توانا لگتا ہے ،
بلکہ بے شکن پیشانی، مسکراتے ہوئے ہونٹ ، باتوں میں نرمی و گرمی اور جینے کے حوصلے سے
بھر پور ہوا کرتا ہے ۔ کسی کی عیادت کرتے ہوئے بھی اندازِ گفتگو ایسا کہ بستر مرگ پر پڑا ہوا
مریض بھی ہشّاش و بشّاش ہو جائے ۔ ‘‘
’’ او بہ ناز عجبے من بہ نیاز عجبے ‘‘صفحہ۔۸۲
مظہر امام جو اعلی پائے کے شاعر اور آزاد غزل کے بانی ہیں ۔رشتے میں بڑے بھائی منظر شہاب کے سالے ہیں۔ ان سے عقیدت رکھتے ہیں ۔اکثر ان کا ذکر بھی چھیڑ دیتے ہیں۔اپنے مضمون میں انہوں نے اس بات کا اعترف بھی کیا اور ’امیر منزل ‘(دربھنگہ) کے حوالے سے جب بھی بات کی ہے، مظہر امام ادب کی امامت کرتے نظر آئے …….. ان کے دُبلے پن اور لمبے قد کو سیّد احمد شمیم نے طنز ومزاح کے پیرائے میں اس طرح سمویا ہے کہ اس میں بھی ایک طرح کا حسن پیدا ہو گیا ہے ۔بات ممدوح کے کمر درداور پاؤں کی ہڈّی ٹوٹنے کی کرتے ہیں ۔ لیکن پڑھنے والا ان کے شگفتہ اسلوب میں اس طرح اسیر ہوتا ہے کہ وہ اس درد میں بھی خوشی کا پہلو تلاش کر لیتا ہے ۔
’’مظہر امام کی صحت ہمیشہ ان کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتی رہتی ہے ۔ تنفُّس کا عارضہ تو نفس
کے ساتھ ہے ۔ پھر بھی گردن ، کبھی پشت اور کبھی کمر کا درد انہیں برابر ستاتا رہتا ہے ۔ اس پر
اُن کا دبلا پن اور لمبا قد جسے اُن کے پاؤں سنبھال نہیں پاتے ہیں ، چنانچہ اب تک دو بار
پاؤں کی ہڈّی تڑوا چکے ہیں ۔‘‘ ’’عصرِ نو اپنی آنکھوں میں چھپا لے مجھ کو ‘‘ صفحہ ۔ ۲۵
ڈاکٹر منظر کاظمی ایک کامیاب افسانہ نگار ہیں اور ان کے دوست بھی ۔ زندگی کے پُر پیچ راستوں میں ساتھ چلے بھی ہیں ۔ اور ساتھ چلتے ہوئے بھی برسوں دور دور رہے ہیں ۔ جس کا ذکر خاکے میں موجود ہے ۔ سیّد احمد شمیم اور منظر کاظمی میں بلا کی ذہانت تھی ۔ ایک شاعر تھے تو دوسرے افسانہ نگار۔بات بن سکتی تھی لیکن دونوں کو نقادی کا بھی شوق تھا ۔
شاعر اور افسانہ نگار ایک ساتھ برسوں رہ تو سکتے ہیں ۔ لیکن دو نقاد…………؟ یہی ہوا۔بقول سیّد احمد شمیم کے زمانے کی نظر لگ گئی یا مفاد پرستوں نے اپنے گُل کھلائے ۔ بہر حال آخری دونوں میں تعلّقات بہُت بہتر نہیں تھے ۔ اس کے باوجود منظر کاظمی نے بھی اپنے بیٹے کی شادی میں دوستی کی لاج رکھی اور سیّد احمد شمیم نے بھی اسی زمانے میں خاکہ لکھ کر جذبات کو آئینہ دکھایا ۔
’’نفیس سگریٹ اور اچھّا کھانا کاظمی کی پسند ہے ۔ پھلوں میں آم اس کا مرغوب پھل ہے ۔
قلمی سلیقے سے تراش کر کھاتا اور تخمی چوس چوس کر ……..کاظمی مانے یا نہ ما نے وہ بہت جلد
طیش میں آ جاتا ہے ۔ مگر ٹھنڈا بھی جلد ہو جاتا ہے اس میں شعلہ و شبنم کا عجیب امتزاج ہے کہ
وہ اپنے اندر امرت تو رکھتا ہے زہر پالنا نہیں جانتا ، انتقام اس کی سرشت میں نہیں ہے ۔ اس
کے دل کی وسعتوں کا تجربہ مجھے ذاتی طور پر بھی بارہا ہوا ہے ۔ ‘‘
’’ ایسا کہاں سے لاؤں کہ اپنا کہوں جسے ‘‘ صفحہ نمبر۔۱۵۱
زکی انور اردو افسانے کا وہ نام ہے جسے وہ مرتبہ نہیں مل پایا جس کے وہ مستحق تھے ۔ اس میں جتنا قصور ناقدوں کا ہے اس سے زیادہ ان کی ذات کا ہے ۔ آج دس سے بیس افسانے جس بھی معیار کے ہوں اگر شائع ہو گئے توو ہ فوراً کمپوزنگ کروا کر ایک عدد کتاب کا مالک بن بیٹھتا ہے ۔ لیکن تقریباًپانچ سو افسانے اور اٹھائس ناول لکھنے کے بعد بھی انہوں نے خود کو کبھی کتاب چھپوانے کی دوڑ میں شامل نہیں کیا ۔ وجہ صاف تھی کہ بغیر کتاب چھپوائے انہیں گھر گھر پڑھا جارہا تھا تو ایسے میں کتاب چھپوا کراپنے پیسے کا زیاں کیوں کرتے؟۔( جنہوں نے اپنی کتابیں بانٹی وہ ناقدوں کے چہیتے بنے)………اپنے افسانوی کرداروں کی طرح ان میں بھی زمانے سے ٹکرانے کی قوّت تھی ۔ ایک مثالی انسان کی طرح امن کے خواہاں اور دوستی کے پیمبر تھے ۔ لیکن جب بڑے بڑوں کو حق کی خاطر سولی پر چڑھنا پڑا ۔ زہرِ ہِلاہِل پینا پڑا ہو تو زکی انور توایک ایسی زبان’ اردو ‘جسے اپنے ہی گھر سے بے گھر کر دیا گیاہو، اُس کے پروفیسر، افسانہ نگار ، ناول نگار ، ڈرامہ نگار تھے، توانہیں کہاں چھوڑا جاتا ……… امن کے دشمنوں نے بھی ان کے ساتھ وہ کیا جو ہوتا آیا ہے ۔ویسے کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ جس نے اپنے کنویں کے پانی سے جس پڑوسی کے گھر کی آگ بجھائی ہووہی اُسے مار کر پڑوسی ہونے کا اس طرح سے فرض نبھائے گا ۔زکی انور ان کے استاد تھے اور کلیگ بھی ۔ انہوں نے ’’ کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدّس خواب تھے ‘‘ عنوان کے تحت ان پر خاکہ لکھ کر نذرانہ عقیدت پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ان کی زندگی کے کئی ان چھوئے پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی ہے ۔تحریر دیکھئے:
’’بنیادی طور پر زکی بھائی بے حد معصوم آدمی تھے۔اسی معصومیت نے انہیں
اکثر نقصان بھی پہنچایا ۔ قطعی غیر سیاسی تھے۔ مگر سیاست میں ٹانگ ضرور اڑاتے
تھے ۔ احباب سے لمبی لمبی بحثیں کرتے تھے اورہمیشہ اپوزیشن میں رہنا پسند
کرتے تھے ۔ بے حد محنتی تھے۔ زندگی کی ابتدا دکھوں میں کی تھی ۔ بہت ہی کم
عمری میں گھریلو زندگی کا بوجھ ان پر آن پڑا تھا ۔ مگر کچھ کر دکھانے کی دیوانگی تھی ۔
جس نے انہیں تمام عمر فعال رکھا ………..اپنے گھر کے کنویں سے پڑوسیوں
کے گھر کی آگ بجھاتے رہے اور پڑوسیوں نے زکی انور کو قتل کر کے اسی کنویں
میں ڈال دیا ۔‘‘
’’ کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدّس خواب تھے ‘‘ ، صفحہ نمبر ۔۳۲ اور ۳۹
اس کے علاوہ جن دوست واحباب کا خاکہ انہوں کھینچا ہے وہ بھی پڑھنے سے تعلّق رکھتا ہے ۔ سب سے اہم بات ان کے خاکے میں وہ دلچسپی ہے جو قاری کو باندھ کر رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔نہیں پڑھنے والا بھی اگر ایک دوپاراگراف کہیں بیچ سے پڑھ جائے تو وہ شروع کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔ عبد المنّان طرزی کی کئی تصویریں دیکھنے کے بعد سیّد احمد شمیم کو اس بات کا اندازہ ہوا کہ تصویر کھینچوانے کا سبب کیا رہا ہوگا ۔اور ہر بار جب وہ تصویر کھینچواتے ہیں تو ایک طرف جھکے ہونے کا راز کیا ہے ۔ بہر حال اس راز کا پردہ فاش انہوں نے کس طرح کیا ہے ، اسے دکھانے کا انداز دیکھئے محظوظ ہوئیے اور محتاط ہو جائیے کیوں کہ اگلی تصویر آپ کی بھی ہوسکتی ہے ۔
’’ میں نے کئی گروپ تصویروں میں طرزی کو بھیڑ کے درمیان سے جھانکتے ہوئے
دیکھا ہے اور ایسے میں اس کا سر کسی نہ کسی خاتون کے شانے سے اُلجھا ہو ادکھائی
دیتا ہے ۔‘‘
’’ طرزی کی ہے کچھ طرزِ ادا اور‘‘ صفحہ ۔۵۵
محمد سالم ؔ ان کے بچپن کے دوستوں میں سے ہیں ۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے وہ کبھی بھی اُن کی مٹھّی میں نہیں آ سکے ۔ جس کے باعث ان کی شخصّیت ہمیشہ توجہ کا مرکز رہی ۔ جناب ہندوستان میں رہ گئے اور وہ سات سمندر پار کر کے نیو جرسی امریکہ پہنچ گئے ۔ سالم سے ملنے امریکہ جا نہیں سکتے تھے اس لئے انہوں نے ان کی ذات کو لفظوں میں سمیٹ کر اپنے خاکے کے اندر سمیٹ لیا تاکہ جب ان سے ملنے کی خواہش ہو ’’بند آنکھوں کا تماشا‘‘ کھول کر دیکھ لیں ۔ شخصّیت کے تئیں یہ جذباتی لگاؤ ہی ہے جسے وہ اکثر ڈھونڈتے رہتے ہیں ۔لیکن سیداحمد شمیم کے ڈھونڈنے کے طریقے کودیکھئے اور داد محمدسالم کی دھمکی کو دیجئے کہ وہ دھمکی میں بھی کیا دیتاہے۔؟
’’میں اس سالم کو ڈھونڈرہا ہوں جو کبھی خوبرونوجوان تھا ، دل پھینک تھا ۔کمیونسٹوں
سے ربط ضبط رکھتا تھا اور پکّا مسلمان بھی تھا ………. ان دنوں صاحب ریش حاجی ہے
……… حج کر کے مجھ جیسے کمزور فقیروں کو اپنی بددعاؤں کی دھمکی دیتا ہے ۔ ‘‘ ’’ سات سمندر پار جو آ کر دشت فضا کو دیکھا ہے ‘‘ صفحہ۔۶۲۔۶۳
جوہرؔ بلیاوی اس شاعرکا نام ہے جنہیں ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کے تمام لوگوں کی عمر ، کون کس سے کتنا بڑا تھا۔ کون کس سے کتنا چھوٹا ہے ، دن تاریخ ، مہینے اور گھنٹے کے حساب سے علم تھا ۔ ان سے جو بھی ایک بار ملا ہو انہیں زندگی بھر نہیں بھول سکتا ۔کیوں کہ وہ کڑی سے کڑی ملاتے ہوئے رشتے اور عمر کی لمبائی تک بخوبی پہنچنے کا ہُنر رکھتے تھے ۔بحر اور اوزان میں اتنے ماہر تھے کہ غالبؔ اور اقبالؔ کے کلام میں بھی کمیّاں ڈھونڈ لیتے تھے۔ابتدائی تعلیم مدرسہ میں پائی ۔مدرسہ میں پڑھائے بھی۔ہائی اسکول کی ہیڈ ماسٹری کی۔ زندگی بھی کرتا پائجامہ پہنے۔کبھی کسی کے آگے نہیں جھکے۔ ان سے سیّد احمد شمیم کی دوستی تو تھی ۔لیکن وہ کبھی ان کی دوستی سے لطف اندوز نہیں ہو سکے ۔ ایسے دوست شاعر کے متعلّق بہت ہی دلچسپ پیرائے میں ماں باپ کو کھانے اوران پرجوانی کے نہیں آنے کا ذکرپُرلُطف انداز میں کرتے ہیں ۔
’’جوہر بلیاوی ……….طربیہ سے نہیں مرثیہ سے دلچسپی رکھتا ہے ……… آں جناب
بہت کم عمری میں اپنے ماں باپ کو کھا بیٹھے ہیں ۔ مغل بچّے ہوتے تو معشوق کو کھاتے ۔
پیدا ہوئے حافظ رحیم اللہ کے گھر اور محبّت پائی بوڑھی نانی کی تسبیح گزار آغوش میں ،
جوانی کبھی جوہر پر آئی ہی نہیں ۔ ‘‘
’’ بھول بیٹھا ہوں کدھر جانا ہے ‘‘ صفحہ۔۶۵
شمس فریدی ان کے بہترین دوستوں میں سے ہیں ۔شاعر ہیں اور پوری دنیا گھوم چکے ہیں ۔ ان کے ساتھ سید احمد شمیم کے بہُت پرانے مراسم ہیں۔ہر اچھّے بُرے میں دونوں ساتھ رہے ہیں۔ان کی سادگی ، ان کی معصومیت، اور ان کی مسکراہٹ پر انہوں نے جس طرح سے جملے تراشے ہیں اس سے آپ کو شمس فریدی جیسے خلیق اور ملنسار شاعر کے تئیں محبّت بڑھتی جائے گی ۔
’’میاں شمس فریدی کی مسکراہٹ آج بھی قاتلانہ ہے ، مجھ جیسے اس کے چند اور
عزیز دوست اس مسکراہٹ کے قتیل ہیں ………. راز کی کتنی ہی گہری بات ہو وہ
کہیں نہ کہیں ضرور افشاں کر دے گا ۔اور پھر غصّہ میں پوچھو تو یہ کہہ دے گا کہ ’’ یہ
کون سی ایسی بات تھی کہ سینے میں چھُپا کر رکھتے۔ ‘‘
’’اس کو سوچا تو کئی رنگ کے پیکر آئے‘‘صفحہ۔۹۹
منظر امام ان کے لنگوٹیا دوست ہیں۔ اس لئے ان پر انہوں نے جی بھرکر لکھا ہے ۔وہ بھی لکھ دیا ہے جس پر اعتراض ہو سکتا ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ منظر امام نے ماضی کر گربھ میں پوشیدہ راز کے افشاں ہونے سے کس طرح سے ری ایکٹ کیا ہو گا۔ لیکن اتنا جانتا ہوں کہ اس خاکہ کے لکھے جانے اور چھپنے سے پہلے ان کے علم میں آیا ہوگا ۔اگر انہوں نے کسی طرح کا ری ایکشن نہیں دکھایا ہو گا تو یہ ان کی شخصیّت کا مثبت پہلو ہی گا ۔ کیوں کہ یہ ساری باتیں اگر انسان کے اندر نہ ہوں اور سب کچھ فرشتوں جیسا سرزد ہونے لگے تو انسان کی شناخت پر بھی سوالیہ نشان لگ جائے گا……..بہر حال منظر امام ان کے بہترین دوستوں میں ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ ادب میں تھوڑی بہت بھی ہلچل اگرسیّد احمد شمیم پیدا کرنا چاہتے ہیں تو وہ خبر بھی پہلے منظر امام تک پہنچتی ہے ۔ یہاں منظرامام اور امیر منزل کے تعلّق سے جو بات انہوں نے لکھی ہے وہ آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں ۔
’’ہماری معاثرت میں تقسیم وراثت کی جبریت بہت سے المیے جنم دیتی ہے ۔
اس تقسیم کے جبر نے امیر منزل کا سنگھار بھی چھین لیا ۔امیر منزل تقسیم ہوئی ……
دائیں جانب جو بڑا سا باغ تھا منظرامام کو ملا(جسے)انہوں نے تقسیم سے پہلے
ہی اس حصّے کو ایک ہندرررر بنیا سے بیچ دیا ‘‘
’’من تو شدم تو من شدی ‘‘صفحہ۔۱۱۹
جیسا کہ میں نے پہلے ہی عرض کیا ہے کہ سیّد احمد شمیم ایک شاعر کے ساتھ ساتھ نقّاد بھی ہیں ، اس لئے خاکے میں جو زبان انہوں نے استعمال کی ہے اس میں کہیں کہیں شاعرانہ اسلوب کی چاندنی چمکتی ہے اور کہیں کہیں نقّادوں کا لہجہ بھی ۔اور ایسا ہونا فطری ہے ۔لیکن اس بات کا ہر خاکہ نگار کو خیال رکھنا چاہئے کہ وہ جس کسی کے بارے میں لکھیں ، اس کی ذات اور اس کے موجودہ کردار کو سامنے رکھ کر لکھیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بات جس سے تضحیک کا پہلو نکلتا ہواور اس کے سوا کسی اور کو معلوم نہ ہو ۔ یا معلوم بھی ہو تو دوچار لوگوں کو ۔ اور اس دوران اُن کی ذات میں اتنا بدلاؤ آ گیا ہو کہ کمزوریوں کی وہ شاخ جو کبھی ان کے ذاتی شجر کا حصّہ رہی ہو۔کٹ کر راہ پر گر جائے تو آنے جانے والے لوگوں کو تکلیف پہنچے ۔ ذات پر حرف آ ئے اور پوری کی پوری شخصیّت مسخ ہو جائے ۔ ایسے میں خواہ دوست ہو یا دشمن ۔خاکہ نگار کوقلم سنبھال کر لکھنا چاہئے………. بیش تر جگہوں میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے ۔ ایک دو جگہ قلم بہکا بھی ۔ لیکن اچھّی بات یہ ہے کہ زیادہ تر لوگوں کوچھپنے سے پہلے خاکہ سپرد کر دیاگیا تھا تاکہ وہ اپنی لفظی تصویر کو تمام زاویوں سے دیکھ سکیں ۔
میں نے سیّد احمد شمیمؔ کے متعلق بہُت کچھ لکھنے کے بارے میں سوچا تھا ۔ کم سے کم دس بار شروع بھی کیا ۔لیکن ہر بار ایک طویل مضمون یا مکمّل کتاب کاخاکہ ادھورا کا ادھورا رہ گیا ۔ان کی شخصیّت پوری طرح سے میری مٹھّی میں ہوتے ہوئے بھی ریت کی طرح پھسلتی رہی ………شاعری پر جب کچھ نہیں لکھ سکا توان کی تنقید اور خاکہ پر لکھنے کا دباؤ بڑھ گیا ۔ آخر کارشاعری اور تنقید کے بجائے خاکہ نگاری میرے لئے آسان ثابت ہوئی ۔ آسان اس معنیٰ میں کہ میں پہلی بار جب لکھنے کے کے لئے بیٹھاتو قلم خود بخود آگے بڑھتا چلا گیا ……… لیکن ہر پیراگراف کے بعد میں یہ سوچتا رہا کہ جو کام میں نے بیس پچیس سالوں میں نہیں کیا ۔ کیا وہ کام دو چار دنوں میں ہو پائے گا۔؟
اللہ کا فضل ہے کہ’’بند آنکھوں کا تماشا ‘‘ جاری ہے ۔تماشہ دیکھنے اور دکھانے والے ہمیشہ بدلتے رہے ہیں ……..لیکن مجھے امیّد ہے کہ ابھی اور بھی تماشے سیّد احمد شمیمؔ کی آنکھوں میں محفوظ ہو ں گے ۔آنے والا کل ایک بار پھر بند آنکھوں کا گواہ بنے گا۔اور تب ہم یہ بھی دیکھیں گے مفتیان ادب خاکہ نگاری کی’ نئی میزان‘ لئے ان تماشوں کو تول رہے ہوں گے ۔پلڑا کس طرف جھکے گا یہ میں بھی جانتا ہوں اور آپ بھی ۔
***
DR.AKHTAR AZAD,
HOUSE NO. 38, ROAD NO . 1,AZAD NAGAR , JAMSHEDPUR-10 (JHARKHAND)
منظر کاظمی …لکشمن ریکھا کے آس پاس از: رضواںؔ واسطی
منظر کاظمی …لکشمن ریکھا کے آس پاس
از: رضواںؔ واسطی
سر پرکسی حد تک گھونگھریالے بال، آنکھوں میں وقفہ وقفہ سے جھلکیاں دیتا گلابی دھند کے پرے، ستواں مگر تیکھی نکیلی ناک، ناک کے نیچے ہونٹوں کا چھوٹا دائرہ جس میں سے آزاد ہوتا ہوا سگریٹ کے دھوووں کا مرغولہ اپنے حصار میں سینے سے اٹھتے ہوئے طوفان کو قید کئے دور بلندی پر لے جاکر خود بھی آزادی کی سانس لیتا ہے اور خیالات کوبھی فضا میں آزاد چھوڑدیتا ہے۔چہرے کی رمق اور خدو خال کا تیکھا پن ذہانت کا اعلامیہ ہے۔انگلیوں میں دبا ہوا سگریٹ کبھی کبھی احساس کو جھلسا کر اپنی موجودگی کے ثبوت سے خیالات کی توجہ بدلتا ہوا… یہ ہے منظر کاظمی کی وہ تصویر جو کبھی کبھی نظر آتی ہے۔سینے میں اٹھتا ہوا جذباتی ہیجان اور ذہنی رَوکی زیریں روانی کا طوفان بتا رہا ہے کہ باہری دنیا کا کوئی سانحہ احساسات کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ ہوسکتا ہے بظاہر طوفان نظر آنے والا منظر کسی معمولی بگولے کا عکاس ہو۔لیکن ایک حساس ذہن ،ایک ذہین فنکار اور ایک دانشور قلم کار کے براہِ راست متأثر ہونے میں اور ایک عام انسان کی سوچ میں کافی دوری ہوتی ہے۔ یہ کام منظر کاظمی جیسے ادیب کا ہوتا ہے کہ اس طوفان کے متوقع اثرات سے قاری کو اپنے قلم کی مدد سے آشنا اور متوجہ کرادے؛ اوراحساس کو جھنجھوڑ دے۔اب مضراب خامہ کون سا نغمہ کون سے ساز پرچھیڑتی ہے؟ اس کا فیصلہ وہی ہیجان کرے گا جو قلم کار کے سینے میں کروٹیں لے رہا ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ منظر کاظمی نے پہلے تحریر کی دنیا میں صحافت نگاری کے راستے قدم رکھا تھا۔ آج کی صحافت آنے والے کل کی تاریخ کہلائے گی۔آنے والی تاریخ آئندہ نسل کے ہاتھ میں ہوگی۔واقعات کو آئینے کے کس زاویئے سے پیش کرے گی یہ اس نسل کی سیاست جانے۔ افسانہ نگار آج کی صحافت کو آج کی تواریخ بنا دیتا ہے اور اس میں معاون ہوتا ہے اس کا فن اوراس کی فن کاری.. .پریم چندنے بہت خوبصورتی سے کہا تھا کہ تواریخ اور افسانوں میں بس اتنا ہی فرق ہوتا ہے کہ تواریخ میں واقعات غلط ہوتے ہیں تاریخیں اور نام صحیح، جبکہ افسانوں میں تاریخیں اور نام غلط ہوتے ہیں واقعات صحیح۔
منظر کا ظمی ایسے ہی واقعات کے ساتھ چلتے ہیں۔یہی وجہ ہے اس دور میں جب جدیدیت کے نام پر اچھے اچھے افسانہ نگار بھٹک رہے تھے منظر کاظمی نے خود کو گمراہی اور گم گشتگی سے محفوظ رکھا۔جدیدیت کے نام پر کچھ نیا کرنے کی تمنا اور خواہش ضرور تھی جو ان کے مختصر افسانوں میں جگہ جگہ نظر آجاتا ہے۔
منظر کاظمی ایک ایسی شخصیت کے مالک تھے جس نے زندگی کی ہر سطح پر ہر روپ میں خود جی کر دیکھا ہے اور دکھایا بھی ہے۔۲۴؍ ستمبر ۱۹۴۰ ء میں پیدائش کے بعد مکمل شروعاتی عمر ضلع دربھنگہ کے سندرپور میں گزری۔میٹرک کرکے جمشیدپور چلے آئے اور صحافت میں زندگی کو آگے بڑھایا۔ میڈیکل ڈاکٹر کے بیٹے تھے خود بھی ہومیو پیتھی ڈاکٹری میں اچھا نام کمایا۔ اسکول میں ٹیچری کی، کریمیہ ٹرسٹ میں کلرکی کی، ٹاٹا اسٹیل میں ملازمت اختیار کی لیکن یہ آخری منزل نہیں تھی…کریم سیٹی کالج میں لیکچرار اور پھر پرنسپل کے عہدے پر فائزہوئے۔ ذہانت کی بلندی نے ایڈمنسٹریٹر کی کرسی میں بھی خوب ساتھ نباہا۔
’لکشمن ریکھا‘ منظر کاظمی کے مختصرافسانوں کا ایک مختصر سا مجموعہ ہے اور اسے دیکھنے کے بعد سوچ کروٹ لیتی ہے… منظر کاظمی جیسے عظیم فنکاراور تسلیم شدہ مستندافسانہ نگار کی کل کائنات ’لکشمن ریکھا‘ کے کل سترہ افسانوں میں سمٹی ہوئی ہو،ذہن تسلیم نہیں کرتا۔اگر اس شخص نے اوسطاً ہر برس دو مختصر افسانے بھی لکھے ہوں تو کم از کم اسّی افسانوں کا ایک معمولی سا ذخیرہ تو ہونا ہی چاہیے تھا ۔شماریات کے کسی طالب علم کی طرح میں نے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا ہے بلکہ یہ ایک محتاط قیاس تھا، جس سے یہ احساس اجاگر ہوا کہ:
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پنہاں ہوگئیں
دراصل منظر کاظمی کو طبیعی طور پر جتنا جینا چاہئے تھا ، زندگی نے اس سے بہت کم جینے کی مہلت انہیں دی… جتنا لکھنا چاہئے تھا ،اس سے بہت کم لکھا … جتنا لکھا، اس سے بہت ہی کم چیزوں کی اشاعت ہوئی…جتنے افسانوں کی اشاعت ہوئی ، ان میں سے بہت کم کو تزئین و ترتیب یا تسوید کے مرحلے سے گزرنے کا موقع ملا۔پھر بھی بہت اعتماد اور یقین کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہی چند افسانے منظر کاظمی کے قلم کو افسانوی اور ادبی دنیا میں حیات جاودانی بخشنے کے لئے کافی ہیں۔
اردو افسانہ نگاری کی عمر ایک صدی سے زیادہ ہوگئی اور اس سو سال یا اس سے کچھ زیادہ کے سفر میں اس نے کا فی اتار چڑھاؤ دیکھے۔منشی پریم چند کے افسانوی مجموعہ ’سوزِ وطن‘ کی سیدھی سادی کہانیوں نے تیس پینتیس برس کے عرصے میں ’کفن‘ جیسے علامتی افسانے کا روپ اختیار کرلیااور پھر اسی کے ساتھ ساتھ ترقی پسند تحریک کے بنیادی تقاضوں نے افسانوں میں بیانیہ سادگی کو تو اہمیت دی لیکن پرکاری کی اہمیت کم ہوتی چلی گئی۔ سادگی اور پرکاری کے درمیان فاصلہ بڑھتا چلاگیا۔ تاریخ کی زبان میں ہم جسے ’آزادیِ ہند‘ کہتے آئے ہیں ،اس نے اپنے ساتھ بٹوارے ، خون خرابے اور جلاوطنی کا کتنا بڑا سیلاب لایاافسانوی دنیا میں بھی ایک ہلچل مچادیااور افسانوں کو ایک نئی جہت سے روشناس بھی کرایا۔
سماجی تناؤ، فسادات، غریبی، بھوکمری، سماجی نامساویت،مزدور اور غریب طبقہ کے خلاف ظلم و بربریت کا اندھا ناچ اور بدعنوانیوں کے ہم رکاب نفسیاتی اور جنسی کجرویاں بھی افسانوں کے موضوعات میں شامل ہوگئیں۔ مواد اور مدعا کی بہتات نے ہیئت اور اسلوب کے اعتبار سے بیسویں صدی کے چھٹے عشرے تک افسانوی ذہن کو یہ سوچنے کی بھی فرصت نہیں دی کہ کم از کم وہ اپنا لباس تو تبدیل کرلے۔ پھر مقصدیت نامقصدیت اور روایت سے بغاوت کے نام پر ایک نیا دور شروع ہوا۔ یہ جدیدیت کا دور کہلایا۔ افسانہ نگاری کے ارتقائی سفر میں بلاشبہ یہ ایک شکست وریخت (Metamorphosis) کے ایک فطری دور کا آغاز تھا۔ یہ اور بات ہے کہ شناخت کی تلاش میں کچھ گم شدہ اور بھٹکے ہوئے ذہنوں نے رطب و یابس اور غیر فطری عناصر کی طرح اس عمل کو بھی ایک توڑ پھوڑ کی شکل دے دی تھی۔پلاٹ، کردار، منظرنگاری وغیرہ ہی تجربوں کی بھینٹ نہیں چڑھے ،بلکہ کہیں کہیں تو افسانوں کی روح یعنی وحدتِ ثلاثہ تک کو نہیں بخشا گیا۔ان تجربوں میں خس و خشاک کی بہتات تھی جو وقت کی تیز ہواؤں کے سامنے ٹک نہ سکے۔راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے۔ تنازع البقأ کی جنگ یہاں بھی چلی اور غیر اصلح فنا ہوگئی۔لیکن اس آگ نے اصل فن کو تپا کرکندن بنا دیا۔
بقولِ شخصے وحیداختر بیسویں صدی کی ساٹھ کی دہائی کے بعد مختصر افسانہ فضاؤں میں معلق ہوگیا تھااور اسی اور نوّے کی دہائیوں میں ایک بار پھر زمین پر اس کے پاؤں واپس آگئے اور اب اس کی شکل پہلے سے زیادہ نکھری ہوئی ہے۔ منظر کاظمی کی افسانہ نگاری اس پورے دور کا نہ صرف احاطہ کرتی ہے بلکہ آئینہ دار بھی ہے۔ یوں تو اس دور میں اوپندر ناتھ اشک جیسے بزرگ اور روایت پرست افسانہ نگار بھی اس طوفانی تحریک سے اپنے آپ کو اچھوتا نہ رکھ سکے، لیکن شاید کوئی اہم کارنامہ انجام دینا ان کے مقصد میں شامل نہیں تھا۔ہاں جوگندر پال کے افسانوں نے ادبی دنیا میں ضرور ایک تہلکہ مچادیا۔جوگندر پال کے علاوہ جو نام اس دور کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے اور اپنی ایک الگ شناخت بناتا ہے وہ نام منظر کاظمی کا ہے۔ میں یہاں یہ بتاتا چلوں کہ پریم چند سے انہیں بڑی محبت تھی اور پریم چند کا افسانہ ’کفن‘ ان کے پسندیدہ افسانوں میں سب سے اہم تھا۔شاید یہی وجہ ہے کہ اپنی تمام ترجدت طرازیوں کے باوجود منظر کاظمی قصہ سنانے کا فن نہیں بھولے ہیں۔
منظر کاظمی افسانہ لکھتے نہیں جس طرح کوئی اچھا شعر ایک شاعر کو لکھنے پر مجبور کردیتا ہے…..اسی طرح جب کوئی خیال منظر کاظمی کے ذہن کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو یہ آنے والے خیال کا بھرپور خیر مقدم کرتے ہیں اور اس طرح انہیں ایک موضوع مل جاتا ہے۔وہ اس موضوع کو ایک مقصد کے تحت استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ہوسکتا ہے کہ بظاہر یہ کوئی عام زندگی کا عام اور معمولی سا واقعہ یا سانحہ ہو…لیکن ان کے دل میں احساس وجذبات کا طوفان مچانے کے لئے ایک ہلکی سی ہوا کا جھونکا کافی ہے۔اس طوفان کو اپنے دشتِ فکر میں آزاد چھوڑدیتے ہیں۔جو فکر سے قلم میں اور پھر قلم سے صفحۂ قرطاس پر منتقل ہو جاتا ہے۔اس پورے عمل میں ایک خاصی مدت لگتی ہے ۔۔۔ اور ایک زندگی کی حقیقتوں اور لطافتوں سے بھرپور افسانہ عالمِ وجود کو لبیک کہتا ہے۔اپنے اس جذباتی ہیجان کو منظر کاظمی ایک یا زیادہ سے زیادہ دو نشستوں میں الفاظ کے محاصرے میں سمیٹ لینا چاہتے ہیں۔یہ عمل شعوری ہے لیکن کبھی کبھی جذبات کا یہ طوفان شعور کا ساتھ نہیں بھی دیتا ہے اور افسانہ ایک خودرو پودے کی مانند بالیدہ ہوجاتا ہے۔یہ تو صحیح ہے کہ اس میں تخئیل کا اصل مادہ مجروح نہیں ہوتا ،تاہم اس کی آزادہ روی اپنی فطرت کے اعتبار سے اسے کبھی شاعری اور کبھی انشایئے کے نزدیک لادیتی ہے اور وحدتِ ثلاثہ کا روایتی تصور دھندلا ہوتے ہوتے آنکھوں سے اوجھل ہونے لگتا ہے۔کچھ ناقدین نے تو منظر کاظمی کے کئی افسانوں کو لوازمات کے فقدان میں اسے افسانہ ماننے سے ہی انکار کیا ہے اور اسے انشائیہ تک کہہ ڈالا ہے۔
افسانے کی اب تک حتمی تعریف متعین نہیں ہوئی ہے۔ کبھی مختصر افسانے کو اس کے نام کے اعتبار سے وقت کے دائرے میں محصور کیا گیااور جب یہ دائرہ ٹوٹا تو وحدتِ ثلاثہ کی زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کی گئی ۔وحدتِ زماں ، وحدتِ مکاں اور وحدتِ امر یا تأ ثر کو بنیادی اصول مانا جانے لگا۔ کبھی عناصر اور لوازمات مثلاً ماجرا، منظرنگاری،کردار،تجسس اور تصادم، تمہید، نقطۂ عروج اور برعکس نقطۂ عروج وغیرہ کی شمولیت کو مختصر افسانے کے مذہبی اعمال میں شامل کرلیا گیا۔ حالانکہ ہمارے آبا واجداد نے جب کہانیاں سنائی ہونگی تو ان کو ان سب باریکیوں کا علم بھی نہیں ہوگا۔ ایک راجا تھا…اس کی تین رانیاں تھیں …ا س کی سات بیٹیاں تھیں…وغیرہ کی داستانیں ضرورت وقت اور ارتقائی منزلوں سے گزرتی ہوئی آج بھی رواں دواں ہے۔ الکٹرانِک میڈیا نے اسے اور آکسیجن پہنچایا ہے۔حقیقت اور افسانے پہلے ایک دوسرے کے تضاد سمجھے جاتے تھے۔ آج افسانے انہیں کو کہا جاتا ہے جو حقائق پر مبنی ہوں۔ یعنی سانحہ یا واقعہ ایسا ہوا ہو یا نہیں لیکن ایسا ہوسکتا ہے؛ بلکہ ایسا ہوتا تو اچھا ہوتا۔ اختصار تو وقت کی ضرورت ہے۔ تکنیکی اعتبار سے اگر افسانے کی تعریفی منزل تک رسائی نہیں ہوئی ہے اور نہ ہونے کی امید ہے۔ لیکن غیر تکنیکی اعتبار سے بی۔ جان کی یہ شاعرانہ تعریف بہت پرکشش ہے:
’’اگر آپ صبح سویرے باغ کی سیر کو جائیں گے تو پھول کی پنکھڑیوں پر اور پتیوں پر شبنم کی ننھی ننھی صاف و شفاف بوندیں دیکھیں گے ان بوندوں میں آپ کو آس پاس کی ایک مکمل دنیا نظر آئے گی … یہی افسانہ ہے۔‘‘
افسانوں کی تعریف سے متعلق جن باتوں اور لوازمات کا اوپر تذکرہ کیا گیا آج بھی افسانوں میں موجود ہیں لیکن ان اصطلا حات کی تفصیلی بحث میں فرق ضرور آیا ہے۔ہوسکتا ہے منظر کاظمی اور ان جیسے کچھ افسانہ نگاروں کے یہاں وحدت زماں مجتمع طور پر گھڑی کی سوئیوں اور کیلنڈر کی تاریخوں پر منحصر نہ ہوں، وقت کی مدت یا پھیلاؤ کا تعلق ازل سے ابد تک ہو…وحدت مکاں ایک مکان یا محلے سے نکل کر ارض و سماسے پرے لاہوت تک کو احاطہ کرتی ہو…وحدت امر یا تأ ثرکے اعتبار سے ان کا فلسفہ حیات و ممات کی آفاقیت کو قید کرتا ہو۔ یہی وسعت ان کے کرداروں اور منظرنگاری میں بھی نظر آتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے کردار پریم چند کے ’کفن‘ کے ہوری ؔ اور گھسیٹا ؔ کی طرح دو فرد نہیں بلکہ ان کے کرداروں میں کہیں ایک سماج ایک قوم یا ایک معاشرہ نظر آتا ہو۔ منظر نگاری میں ہو سکتا ہے کہ ان کے افسانوں کا بازار جو آپ کے پیشِ نظر ہے وہ نہیں بلکہ دنیا کا بازار ‘ہو۔ عام طور پر منظر کاظمی کے افسانے کا تعلق واحد تأثر سے ہوتا ہے جسے پیش کرنے کے لئے صرف ایک یا کچھ مخصوص سانحات یا مناظر کو قلمبند کیا جاتاہے۔ ساخت کے اعتبار سے موصوف کے افسانے میں کسی پیچیدہ ماجرا(پلاٹ) کا انتخاب نہیں کیا جاتا بلکہ پلاٹ بہت مختصراور سہل ہوتا ہے۔ان کے کردار فعال ہوتے ہیں اور ڈرامائی تصادم کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں، ہاں کوئی ضروری نہیں کہ کردار کا مکمل خاکہ سامنے ہو یا سامنے آجائے۔ افسانوں کا دائرۂ کار محدود ہوتا ہے پھر بھی اس کا فیصلہ تب ہی ممکن ہے جب اس کے کردار اور موضوع سے متعلق منظر کاظمی کی کاریگریاں اور صناعی تأثراتی طور پر قاری کو پوری طرح مطمئن کرتی ہیں۔اور اس پر منظر کاظمی نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
ہر افسانے کی زبان اتنی خوبصورت، چست اور درست ہے گویا منظر کاظمی لکھتے نہیں بلکہ قلم کی روشنائی سیماب کی طرح ڈھلک کر خود الفاظ کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے اور صفحۂ قرطاس پر موتی بن کر بکھرتی جارہی ہے۔ کچھ لمحوں کے بعد رمزیت رمزیت نہیں رہ جاتی بلکہ ہر اشارہ کتاب کی طرح ورق در ورق کھلتا چلا جارہا ہے۔ بھرپور، فی البدیہ اور باموقع تلمیحات کا استعمال بھی افسانوں کو شاعری سے نزدیک تر کردیتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ شاعری میں تلمیحات کی تلخیص کبھی کبھی عام طور پر قاری یا سامع کے علم اور فہم و دانش کا امتحان بھی لے لیتی ہے۔ لیکن افسانوں میں بہتر تفصیل کی گنجائش ہوتی ہی ہے۔
’’……اس سے پہلے یہ ہوا تھا کہ ایک طرف ہزاروں کی تعداد میں بپھری ہوئی فوج تھی اور دوسری طرف کوئی نہ تھا۔ سب لوگ پہاڑوں میں جاچھپے تھے اور روتے تھے اور ان پر خوف طاری تھا۔ادھر یہ بپھری ہوئی فوج کا لے کالے جرنیلوں کے ساتھ لڑائی پر آمادہ تھی۔ لیکن ان کے مقابلے میں کوئی نہ تھا۔ ایک گھر تھا اور وہاں ایک سیاہ غلاف تھا اور یہ چاہتے تھے کہ اس سیاہ غلاف سے پھوٹنے والی روشنی کو ہمیشہ کے لئے بجھا دیں ۔ لیکن ان کے ساتھ ایسا ہوا کہ مقابل میں کوئی نہ تھا پھر بھی ان کے سروں پر کالے کالے بادل امنڈ آئے اور جب وہ برسے تو بپھری ہوئی فوج حیران رہ گئی۔ طاقت کے زعم میں ڈولتے ہوئے کالے کالے جرنیل بھی بھاگ کھڑے ہوئے، تو دیکھا یہ گیا کہ مقابل میں کو ئی بھی ہو پھر بھی فتح انہیں کو ہو تی ہے جن کو ہونا ہوتی ہے اور یہ بات بھی دیکھی گئی کہ تعداد کی کوئی جنس نہیں ہوتی اور مْقصد سے بڑا جرنیل نہیں ہوتا۔ ‘‘
(سیاہ غلاف اور کالے جرنیل)
بڑی بڑی فلسفیانہ گتھیوں کو سلجھانے کے لئے ایسے امور کا سہارا لیتے ہیں جو عمومی طور پر ہم آپ اور سبھوں کی نظروں سے گزرتے ہیں لیکن ہم یا آپ انہیں اہمیت اس لئے نہیں دیتے کہ بظاہر یہ باتیں بہت معمولی نظر آ تی ہیں۔ منظر کاظمی کی ژرف نگاہی ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑا بڑا مواد حاصل کرلیتی ہے۔ مثلاً افسانہ ’طوطے بولتے ہیں‘میں ایک بحث چھڑ جاتی ہے۔
’’بھئی یہ بتا ؤ یہ طاطا کھڑا ہے یا بیٹھا ہے۔‘‘
’’اگر ڈائس پر ہو تو کھڑا ہے اگر شاخ پر ہو تو بیٹھا ہے۔‘‘
منظر کاظمی کا کوئی بھی افسانہ چھوٹا یا بڑا نہیں بلکہ بقول ڈاکٹر وہاب اشرفی ان کی پانچوں انگلیاں برابر ہیں۔ منظر کاظمی کی قصہ گوئی اور اس کی کامیابی کے درپردہ آخر راز کیا ہے؟ اس سوال کا جواب شاید شعوری سطح پر خود منظر کاظمی کے پاس بھی نہ رہاہو …لیکن افسانہ’ سو گز پر دفن کہانی‘ کے بین السطور میں کہیں کہیں اس کے جواب کی جھلکیاں ضرور ملتی ہیں۔
’’اور تیسرا آدمی رد کردیا گیا۔
ہم‘ ہم ہیں
تم، تم ہو
مگر یہ تیسرا کون ہے؟‘‘
جو لوگ اس کہانی کا پس منظر جانتے ہیں ان کے لئے اس سوال کا جواب ڈھونڈھنا بہت مشکل بھی نہیں ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ ۱۹۷۹ ء کے فسادات کے دوران جمشیدپور شہر میں ایک ا عظیم افسانہ نگار زکی انور امن کے نام پر شہید کردیا جاتا ہے اور اس کی قبر منظر کاظمی کے گھر سے سو گز کی دوری پر ہے۔
’’مگر یہ تیسرا کون ہے؟‘‘
یہ ایک سوال نہیں۔۔۔ ایک دعوت ہے ، ایک چیلنج ہے آج کے دانشوروں کے لئے۔۔۔اور اسی طرح کے سوال اور کرید پیدا کرنے کا ہنر منظر کاظمی کو ایک بڑا افسانہ نگار بناتا ہے۔۔۔ساتھ ہی ساتھ ان لوگوں کو مایوس بھی کرتا ہے جو آج بھی افسانوں میں یا تو یا تو دوپٹے کی رنگینیاں اور آنچل کی ہوا تلاش کرتے ہیںیا زیادہ سے زیادہ اپنے آس پاس اور اپنے گھریلو زندگی کی ترجمانی پسند کرتے ہیں۔ایک بات سمجھنے سے اب تک قاصر ہوں کہ انتخاب کی سختی نے آخر کچھ بہترین افسانوں مثلاً علاج، دن کا سورج رات کا چاند، جیسے افسانوں کو نظر انداز کیوں کردیا گیا ہے۔ تلاش و تحقیق ابھی منظر کاظمی کے دوسرے بہتیرے افسانوں کا انتظار کررہی ہیں۔
۔۔۔(***)۔۔۔
از: رضواںؔ واسطی
نغمہ ناز مکتومی ؔ کے قلم سے….. : ایڈیٹرعالمی پرواز
نغمہ ناز مکتومی ؔ کے قلم سے…..
نغمہ ناز مکتومیؔ
ایڈیٹر ’’ عالمی پرواز ‘‘
ہماری زندگی میں یکم فروری کا دن بڑی ہی اہمیت کا حامل رہا ہے۔
یکم فروری محترم جناب مہتاب عالم پرویزؔ کی پیدائش کا دن ہے۔ ’’ عالمی پرواز ‘‘ جھارکھنڈ و بہا ر کے پہلے اردو پورٹل کی لانچنگ اسی دن ہونا تھی لیکن ڈھیر ساری مصروفیت کے باعث یہ پروگرام ایک دن تاخیر سے ہوا۔
آپ تمام لوگوں کی میں بے حد مشکور ہوں کہ اس پروگرام کو آپ تمام لوگوں نے مل کر کامیاب بنایا ۔ ’’ عالمی پرواز ‘‘ کے لئے میں اُن تمام جذ بوں کو سلام کرتی ہوں۔
کُچھ عطیے جو ہمیں وراثت میں ملے ہیں اور اُن کا اظہار ضروری ہے میرے والد محترم جناب محمد مکتوم شرطؔ ایک کُہنہ مشق شاعر ہیں۔ میرے ماموں جان محترم جناب جہانگیر محمد ایک اچھّے افسانہ نگار ہیں مگر اُنہوں نے خانقاہی روایت کے پیشِ نظر ادب کو سب کچھ نہیں بنایا ۔ ویسے ایک بات اور گوش گذار کردوں کہ مولانا محترم جناب زینُ ا لعابدین مرحوم جو سرکاری حکیم بھی تھے میرے والد محترم کے پھو پھا جان تھے اُن کے بڑے صاحب زادے محترم جناب خالد سیف اُللہ جو مفتی اور قاضی بھی ہیں، اور ان دنوں حیدرآباد میں قیام پزیر ہیں اور ان ہی کے چچا جان محترم جناب مولانا قاضی مُجاہد الاسلام نوراللہ مرقدہ ہمارے قریبی ددِھیالی زمرے میں آتے ہیں ۔
محترم جناب عنایت اللہ مکتومؔ میرے تیسرے بھائی ہیں جس نے ندوۃ العلماء سے حفظ کیا اور عالِم کی ڈگری لے کر جب دادا جان محترم جناب مو لانا قا ضی مُجاہد الاسلام کے پاس پہُنچے تو اُنہوں نے اپنا صافہ اُتار کر محترم جناب عنایت اللہ کے سر پر رکھ دیا اور کہا تم روشن ؔ کے بیٹے ہو نا ۔؟تم نے ہمارا نام روشن کر دیا۔ اور میرے بڑے بھائی سے تو آپ لوگ واقف ہی ہوں گے جو کبھی نور اللہ نور ، نور مکتومیؔ ، نون مظفر پوری کے نام سے مضامین ، مقالے، افسانے ، کہانیاں ، غزلیں وغیرہ لکھتے رہے ہیں۔ ’’ الا اکلیل ‘‘کے مصنف مخدومی حضرت شمس الہدی دامت برکاتہم ، محترم جناب مہتاب عالم پرویزؔ کے دادا جان ہیں اور ایک خاص گوشہ وہ بھی عیاں کر دوں کہ افسانوی مجموعہ ’’ ریت پر کھینچی ہوئی لکیر ‘‘ کے مصنف محترم جناب مہتاب عالم پرویزؔ میرے خالہ زاد بھائی تھے ۔ بتاریخ۲ /مئی ۱۹۹۷ء جب ہم دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تو وہ میرے شریکِ سفر بن گئے، اور اِن دنوں اپنے آنے والے نئے مجموعے ’’ کارواں ‘‘ اور ’’ اِ سکِن ‘‘ کی تیاریوں میں مصروف ہیں، اردو کا خمیر ہمارے وجود کا حصّہ ہے۔ اور اردو جس کے سائے تلے میں پروان چڑھی ہوں یہ ہمارے خون میں شامل ہے۔
دُعا ایمانؔ ہماری پیاری سی بیٹی ہے جس نے چھ سال کی عمر میں کہانی ’’ ایمان کو آنے دو ‘‘لکھ کر یہ احساس دلایا کہ میری رگوں میں بھی ایسا ہی خون شامل ہے ۔ دراصل اردو کی زبوں حالی اردو کی طرف سے جوبے التفاتی ہم تمام لوگوں سے ہو رہی ہے جس کا احاطہ کرنا ناقابلِ برداشت ہے۔ اپنی تلافی کے لئے یہ ’’ عالمی پرواز ‘‘ کا جھار کھنڈ و بہار کا پہلا اردو پورٹل ہم نے شروع کیا ہے۔ اور یہ تمام اردو ادب والوں کا ہے اور اس کی بنیاد میرے شریکِ سفر محترم جناب مہتاب عالم پرویز ؔ نے رکھی ہے ۔میں اللہ کے دربار میں سجدہ ریز ہوں اور میرے ہاتھ بارگاہِ خُدا وندی کی طرف اُٹھے ہوئے ہیں کہ میرے شریکِ سفر، میرے ہم سفر کا یہ سفر اور اس سفر میں اُٹھے ہوئے اُن کے قدم اپنی منزلیں چُھو لیں اور اُن کے سر کا تاج ہمیشہ اونچا رہے اسے کسی بے ادبوں کی نظر نہ لگے۔راہ میں آنے والی تمام تر پریشانیوں ، مشکلوں کو آسان بناتے ہوئے وہ یوں ہی سدا ترقی کی نت نئی منزل کی طرف گامزن رہیں، آمین ثم آمین ۔ ویسے بھی کامیابی کی طرف اُٹھنے والا ہر قدم انسان کو اُس کی منزل سے ہمکنار کرتا ہے۔
اور میں شُکر گُذار ہوں’’ عالمی پرواز ‘‘ کے سب ایڈیٹر محترم جناب افروز سلیمیؔ کی کہ اُنہوں نے پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے کیا۔
میں شُکر گُذار ہوں محترم جناب اسلم جمشید پوری کی کہ وہ اپنی گونا گوں مصروفیتوں کے بعد میرٹھ یونیورسِٹی سے تشریف لائے اور ’’ عالمی پرواز ‘‘ کے پروگرام میں شامل ہو کر، شامل طوفانی ہواؤں میں بھی اپنا وقار قائم رکھا ، اور میں شُکر گُذار ہوں معروف شاعر محترم جناب رضوان واسطی کی کہ اُنہوں نے محترم جناب اسلم جمشید پوری کا تحریر کردہ ’’عالمی پرواز ‘‘ کا پہلا اداریہ لیپ ٹاپ کی اسکرین سے پڑھ کر سُنایاا ور ساتھ ہی ساتھ ’’ عالمی پرواز ‘‘ کو پرواز کے لئے نئی دشائیں دیں۔ اور شُکر یہ اُن تمام لوگوں کا جنہوں نے اپنی تخلیقات عنایت کر کے ہماری مدد فرمائی ۔ ڈاکٹر جناب اسلم جمشید پوری ، جناب اسلم بدرؔ ، جناب رضوان واسطیؔ ، جناب مہتاب عالم پرویز،ؔ جناب افروز سلیمی ؔ ،ڈاکٹر جناب اختر آزادؔ ، جناب نیاز اختر ، جناب گوہر عزیز اور جناب جہانگیر محمد کا میں ایک بار پھر سے شُکریہ ادا کرتی ہوں۔
میں اُن تمام خواتین و حضرات کی بھی شُکر گُذار ہوں جنہوں نے ’’ عالمی پرواز ‘‘ کے پروگرام میں شامل ہو کر ہمارے پروگرام کو کامیاب بنایا۔
اپنی کم علمی اور کم فہمی کا اعتراف کرتے ہوئے میں معذ رت چاہتی ہوں کہ پھر لکھوں گی نرم ،گرم ،شیریں و تلخ انشاء اللہ……..
نغمہ ناز مکتومیؔ
ایڈیٹر ’’ عالمی پرواز ‘‘
وقت کا احتساب : جہانگیر محمد
جہانگیر محمد
جالے ، دربھنگہ ، بہار
ہم ایک ایسے عہد اور دور جدیدسے گُذر رہے ہیں جہاں سیاہیوں سے لکھے ہوئے خطوط پارینہ داستان بن کر رہ گئے ہیں۔جہاں KEY BOARD پر اُنگلیاں تھرکتی ہیں اور دُنیا سمٹ جاتی ہے۔
الکٹرونک میڈیا نے ایک نیا معاشرہ تعمیر کردیا ہے، موبائل انٹرنیٹ اور سٹلائیٹ کے اس دور جدید میں ادب اور فنکار تماشائی بن کر ششدر رہ گئے ہیں۔
ایسے وقت میں کوئی سچا فنکار اُمید کی کرن کو روشن کرتا ہے تو یقیناًارود ادب سے والہانہ محبت رکھتا ہے اور یہ غماز ہے کہ وقت کے نبض پر اس کی اُنگلیاں ہیں اور وہ آسمان کے اُفق پر آفتاب ومہتاب کی تلاش وجستجو میں ایک ایسا باب رقم کرنا چاہتا ہے جس کے قلم کی روشنائی تمام حدودزُبان وادب اور تمام سرحدوں سے رابطہ قائم کر ناچاہتی ہیں یقینایہ قابل ترجیح اور قابل ستائش قدم ہے ،یہ بے لوث خدمت کا جذبہ اردو سے محبت اور تعمیر نو کی بنیادہے،یہ جنوں کا مسافر ایک توجہ طلب شخصیت ہی ہو سکتی ہے……میری مُراد مہتاب عالم پرویزؔ سے ہے ،جس نے سنگِ آہن کی سر زمین میں ’’عالمی پروا ز ‘‘کی بنیاد ڈال کر سب کو اپنا گرویدہ کر دیا ہے۔ یقیناًیہ قابلِ ستائش شخصیت ،حوصلے ، جدو جہد کی نئی راہیں ، نئی دشائیں تعمیر کر رہی ہیں۔ اور ہم تمام اُردو ادب والوں سے درخواست کرتے ہیں کہ قدم سے قدم ملائیں………..
مہتاب عالم پرویزؔ نے ’’ عالمی پرواز ‘‘کے ذریعہ اردو دُنیا کو دیگر زُ بانوں سے ہم آہنگی پیدا کر دی ہے کہ وہ ہر حال میں اُردو ادب کا چراغ اپنی ہتھلیوں پر جلانا جانتے ہیں۔ بے شک یہ کام پُر کٹھن ہے اور وقت طلب بھی ہے……….
عصری تمام تقاضوں میں وقت کا سب سے بڑا اور اہم تقاضہ یہ ہے کہ اپنی مادری زبان کی بقاء کے لئے ہم پوری جدوجہد کریں اور سب یکجا ہو جائیں۔ اور اس تعمیرِ نو میں مُتّحد ہو جائیں۔
بقول منٹوؔ ہم تخلیق کار ہیں، ہم شاعر ہیں، ہم افسانہ نگار ہیں ہم مہتر نہیں، ہم بھڑ بھونجے نہیں ہم کنجڑے نہیں ہیں۔ہمارے ہاتھوں میں قلم ہے اور ہماری روشنائیاں خون سے بھی زیادہ مہنگی ہیں۔ اور ہم ادیب ہیں لیکن ہم محض تماشائی بن کر رہ گئے۔ بے شک ہم ہر لحاظ سے ہم سب سے اعلی و ارفع ہیں کاش ہم نے خود کو پہچانا ہوتا۔؟
قوموں کی سوئی ہوئی تقدیر بدلنے والا ہی سو گیا……
بڑے غور سے سُن رہا تھا زمانہ
ہم ہی سوگئے داستان کہتے کہتے
اللہ تعالی مہتاب عالم پرویزؔ کے حوصلے کو بلند فرمائے۔ آمین
’’عالمی پرواز ‘‘ کو اللہ تعالی آسماں کی وسعتوں کی بلندی عطا فرمائے اور آفتاب و مہتاب کی طرح پورے عالم میں روشن کردے۔
’’عالمی پرواز ،جھارکھنڈ سے شروع ہونے والا اردوکا واحد پورٹل ‘‘ ….. ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
بہاروجھارکھنڈ کاپہلااردو پورٹل’’عالمی پرواز‘‘ جمشید پورسے جاری
جمشید پور ۔ (۴فروری ۲۰۱۳ء ) ’’ عالمی پرواز ‘‘ نامی ایک پہلا اردو Portal www.aalamiparwaz.com جھار کھنڈ کے منظرعام پر جلوہ افروز ہوا ،بزم کاآغاز جناب قاری افروز سلیمی صاحب مدیر دینیات ’’عا لمی پرواز‘‘ کے تلاوتِ کلام پاک سے ہوا ،میرٹھ سے تشریف فرما مہمان خصوصی ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے ایک سفید کبوتر اڑاکر پورٹل کاافتتاح کیا ،جس کی صدارت جناب سید رضا عباس چھبن نے فرمائی ،شہر کے تمام ادیب وقلم کاراور شائقین ادب نے اس پروگرام میں شرکت فرماکر پروگرام کو کامیاب بنایا ۔