Skip to main content

Aalamiparwaz

نبی کریم ﷺ کی مثالی سیرت

نبی کریم ﷺ کی مثالی سیرت

راحت علی صدیقی قاسمی

اللھم اھدی قومی فانھم لایعلمون، اے اللہ میری قوم کو ہدایت دے، وہ جانتی نہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے ادا ہوئے یہ کلمات آپ کی فکر و کڑھن اور انسانوں کے تئیں آپ کی محبت و ہمدردی کو ظاہر کرتے ہیں،یہ جملہ اور وہ پس منظر جس میں یہ جملہ کہا گیا، آپ کے دل کی کیفیات کو بھانپنے ،پرکھنے اور جانچنے کا اہم ذریعہ ہے۔آپ زخموں سے چور ہیں ،تھکاوٹ کا غلبہ ہے،چہرہ انور و مقدس سے لہو بہہ رہا ہے، چاند سے بھی خوبصورت آپ کا رخ انور خون سے رنگین ہے،دانت مبارک شہید ہوچکے ہیں،اپنوں کی لاشیں خون میں لت پت پڑی ہوئی ہیں،جانثاروں کی جدائی کا اثر قلب مبارک کو رنجیدہ و مضمحل کرنے کے لیے کافی ہے،کفار کی آرزو اور خواہش یہ ہے کہ آج محمد، دین محمداور اصحاب محمد ،کو نیست و نابود کردیا جائے،ان کی شخصیت اور افکار کو قصۂ پارینہ بنا دیا جائے،نہ یہ مشن زندہ رہے اور نہ اس طرح کی سوچ و فکر رکھنے والے افراد زمین کے سینہ کو بوجھل کریں اور نہ ہمارے عزائم و مقاصد کی تکمیل میں رکاوٹ ثابت ہوں،اسی منشاء اور مقصد کے تحت کفار مکہ احد پہاڑ کے دامن میں آئے تھے،مٹا دینا چاہتے تھے، حق اور حق کی آواز کو،سچائی اور ایمانداری کو گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند دینا چاہتے تھے،گانے والیاں ان کے حوصلوں کو دوبالا کررہیں تھیں اور ان کے قلوب میں پک رہے لاوے کو کھولا رہیں تھیں،ان کی رگوں میں دوڑ رہا لہو زبان حال سے پکار رہا تھا ،آج بول بالا کردیا جائے گا کفر کا، اب کا ئنات میں لات و ہبل کی پوجا ہوا کرے گی ،ان ہی کے نام کی نذر و نیاز ہوگی اور آج ہم اپنے آباو اجداد کے خون کا بدلہ لے کر رہیں گے اور تاریخ میں اپنا وقار اور اپنی ناک بلند رکھیں گے،فکر رسول ،منشاء مصطفی اور مقصد محمد کچھ اور ہی ہے،آپ حکمرانی کے بھوکے ہیں ،نہ حسن و عشق کے پجاری ۔آپ کے اس جملے نے یہ حقیقت ساری کائنات کے سامنے عیاں کر دی ،اللہ میری قوم کو ہدایت دے ،عقلیں حیران اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ،کائنات کا جری سے جری، بہادر سے بہادر شخص اتنا مضبوط دل اور بلند فکر کا حامل نہیں ہوسکتا،جو اُن کیفیات اور ناگفتہ بہ صورت حال کے باوجود اس طرز کے جملے ادا کردے،اور اپنے مقصد اور اپنی فکر پر اسی طرح کار بند رہے،یہ آپ کا امتیاز ہے ورنہ تو بہک جانا ،درد و الم کے بہتے دریا میں غرقاب ہوجانا ،حالات سے مرعوب ہوجانا فطرت انسانی کی وہ کمزوریاں ہیں ،جن سے تاریخ کے صفحات سیاہ ہیں، مگر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مقصد پر اسی طرح جمے ہوئے ہیں اور نسل انسانی کی محبت میں ایسے غرق ہیں کہ، اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن میں آپ کی اس حالت کو بیان کرتا ہے’’لعلک باخع نفسک الا یکون مؤمینن‘‘(سورہ کہف )آپ جان اقدس کو ہلاک کرنے پر تلے ہوئے ہیں،آپ ہلاکت تباہی و بربادی ،شر وفساد کے داعی و مبلغ نہیں ہیں،بلکہ آپ تو اس فکر اور غم میں گھلے جارہے ہیں،کہ انسان اپنے مالک حقیقی کو پہچان لے، اس کا کلمہ پڑھنے والا اس کا دم بھرنے والا اور اس کا نام لیوا ہو جائے،اسی حقیقت کو قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے، ’’لقد جائکم رسول من انفسکم عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم‘‘ ذاتی وجاہت آپ کا مقصد نہیں ہے ،دولت و شہرت سے بھی آپ کو کوئی سروکار نہیں ہے،وہ تو ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘کہہ کر اللہ نے آپ کو دے رکھا ہے،انسانیت کو آگ سے بچانا چاہتے ہیں،درد و تکلیف سے دور کردینا چاہتے ہیں،آپ کو یہ گوارا نہیں ہے ،دوزخ کی ہولناک صورت حال سے انسان کو سابقہ ہو ،اور وہاں موت بھی ان کی جان نہ بچائے،اور میری یہ امت جلتی تڑپتی رہے،اس حقیقت کو ان الفاظ میں واضح کررہے ہیں، میری مثال اس شخص کی سی ہے جو لوگوں کی پیٹھ پکڑ کر انہیں آگ میں گرنے سے روک رہا ہے اور وہ ہیں کہ گرے جارہے ہیں، ،اس مقصد کی تکمیل کی خاطر آپ صلی اللہ علیہ نے ہر طرح کی صعوبت مشکل اور پریشانی کو برداشت کیا ،گالیاں کھائیں، کاہن و ساحر کہا گیا،تکالیف کی انتہا کردی گئی،آپ کے وقار کو ٹھیس پہنچائی گئی ،مگر آپ نے اس فکر کی لو کو مدہم نہیں ہونے دیا اور آپ پوری توانائی کے ساتھ اشاعت دین اور دعوت دین کے فریضہ کو انجام دیتے رہے،کفار کے تکلیف دینے پر بھی آپ اپنی کمزوری کا شکوہ کرتے ہیں، ان کے حق میں بددعا آپ کی زبان پر جاری نہیں ہوتی ،اگر کوئی اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہے تو وہ طائف کا مشکل ترین سفر اس میں پیش آمدہ درد انگیز صورت حال کادیدار کرے اور واپسی پر آپ کے الفاظ دیکھے ،دنیائے انسانیت اس طرح کے واقعات سے پوری طرح خالی ہے،کوئی قائد، کوئی مصلح، کوئی راہنما اس فکر کا حامل نظر نہیں آتا،آپ ہر صورت میں کائنات کو خدائی قانون سے پر دیکھنا چاہتے تھے،آپ کو انسانوں اور انسانیت سے اتنی محبت تھی کہ آپ انہیں تکلیف میں مبتلا نہیں ہونے دینا چاہتے تھے ،زندگی بھر آپ اسی کڑھن اور فکر کے ساتھ تبلیغ دین کے فریضہ کو انجام دیتے رہے،خدا کے سامنے روتے اور گڑگڑاتے رہے،دعائیں مانگتے رہے،امت کے لیے ایمان اور جنت طلبی میں مشغول رہے ،اور آخری عمر تک آپ سے یہ فکر جدا نہیں ہوئی ،حجۃ الوداع کا خطبہ اس حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے،جب آپ صحابہ کے مجمع سے گواہی طلب کرتے ہیں،کیا میں نے اپنے منصب کا حق ادا کردیا ،تین مرتبہ گواہی لینے کہ بعد آپ نے اللہ تعالیٰ سے بھی عرض کیا ،کہ خدائے عز وجل ان کی گواہی پر گواہ رہنا میں نے اپنا حق ادا کردیا ،اور وصیت کرگئے،کہ حاضرین غائبین تک یہ پیغام پہنچاتے رہیں ،ہم ان تمام واقعات کو پڑھتے بھی ہیں،جانتے بھی ہیں،کبھی کبھی آنسو بھی بہاتے ہیں،مگر عجیب و غریب صورت حال کے ہم ان افکار و خیالات اور اعمال کو ہم اپنی زندگی داخل نہیں کرتے،ہمارے قلوب میں انسانیت کہ تئیں وہ جذبہ نہیں ہے ،جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ کی پہچان ہے،ہم نے آپ کو کسی داستان کا مافوق الفطرت کا کردار سمجھ رکھا ہے،غم و اندوہ کاواقعہ آیا رودئے،خوشی و مسکراہٹ کا پہلو نظر آیا مسکرا دئے،ہم بھول گئے کہ خداوند قدوس نے لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ کہا ہے،آپ کی زندگی سانچہ ہے ،جس میں ہمیں ڈھلنا ہے اور اپنی حیات کو ان خیالات سے پاکیزہ کرنا ہے،جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ہیں اور پوری کائنات کو اس فلسفہ زندگی سے روشناس کرانا ہے اور اسلام کی حقانیت کو واضح کرنا ہے،کھرے کھوٹے کا امتیاز کرنا ہے،یہی ہماری زندگی کا مقصد اور منہج ہے،قرآن کہتا ہے، ’’قل ھذہ سبیلی ادعوا اللہ الی علی بصیرۃ انا ومن اتبعنی،،اور وقت اور حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ہم دعوت دین اور تعارف اسلام کی ذمہ داری پوری محنت کے ساتھ ادا کریں،دجالی میڈیا نے اسلام پر سوالات کی بوچھار کررکھی ہے اور ہم ہیں کہ خاموش بیٹھے ہیں اور اپنے کردار و عمل اور زبان سے اسلام کے مبلغ نظر نہیں آتے اور نہ سوالات کے جوابات دینے میں ہماری دلچسپی ہے،جب کہ ہونا تو چاہیے کہ ہم اقدام کریں،اور نبی کا طرز اور طریقہ اپنائیں اور لوگوں کو حق سے روشناس کرائیں،فطرت انسانی اس امر کی غماز ہے کہ جب تاریکی اپنی چادر پھیلادیتی ہے،تو ہر شخص روشنی کی جستجو کرتا ہے،اندھیرے کو اپنا مقدر اور نصیب نہیں گردانتا اور اسے راہ کی رکاوٹ بھی نہیں سمجھتا ، یہی وجہ ہے کہ رات کی تاریکی میں بھی زندگی رواں دواں نظر نہیں آتی ہے،پھر ہم روحانی تاریکی کو دور کیوں نہ کریں جب کہ ہم روشن سورج رکھتے ہیں،قرآن کہتا ’’کتاب انزلنہ الیک لتخرج الناس من الظلمٰت الی النور‘‘ اور سرور دو عالم کے حوالہ سے، وداعیا الی اللہ باذنہ و سراجا منیرا، ہمارے پاس یہ دونوں چیزیں موجود ہیں ،ہم ان کے ذریعہ کفر و جہل کی تاریکی کو دور کریں،اور کائنات کو علم و ایمان کی روشنی سے منور کرنے کی کوشش کریں،یہی آپ صلی اللہ کو سچا خراج عقیدت ہوگا،تاریکی میں روشنی کی قندیلیں چھپائے بیٹھے رہنااور یہ گمان کرنا کہ گھٹا ٹوپ اندھیرا کہیں تاریکی کو نگل نہ لے، عقل مندی نہیں حماقت ہے اور اسوہ نبی بھی ہمیں یہ تعلیم نہیں دیتا ہے،تو کیوں ہم اندھیرے سے خوف زدہ رہیں اور دعوت دین اور اشاعت دین کا فریضہ انجام نہ دیں ،یا سستی اور کوتاہی کا شکار رہے-

دعا اہمیت،ضرورت و آداب : ابوعبدالقدوس محمدیحییٰ

دعا اہمیت،ضرورت و آداب

ابوعبدالقدوس محمدیحییٰ

 

دعا مانگتے وقت  تضرع وعاجزی اختیار کریں، اپنے ضعف و کمزوری کا اظہار کریں۔رب کے سامنے دل کی گہرائی سے روئیں اورگڑگڑائیں۔ یہاں تک کہ آنکھوں سے انمول موتی چھلک جائیں جن سے جہنم کی آگ بھی سرد ہوجاتی ہے۔  جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں ۔  ان انمول موتیوں کی دنیا میں شایدکوئی قدروقیمت نہ ہو لیکن  !

اہمیت:

دعا اللہ تعالیٰ سے رازونیازکاعمل ہے ۔یہ عرض حاجت ہے۔جس میں انسان اپنے رب سے خیراوربھلائی طلب کرتا ہے۔  اللہ تعالیٰ بندہ کے مانگنے پرنہ صرف خوش ہوتا ہے بلکہ وہ بندے کو حکم دیتا ہے کہ  اس سے دعا مانگے۔

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (سورة غافر: 60)”

اورتمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا”۔ایک اورمقام پر اللہ رب العزت کا فرمان  ہے:

 ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً (الاعراف: 55)

اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑاکے اورآہستہ۔

ہرعاقل، ذی شعوراور معرفت رکھنے  والے کے لئے لازم ہے کہ اپنی گوناگوں مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر اللہ رب العزت سے دعائیں مانگے۔ کتب سابقہ میں بھی اس کا حکم دیاگیاتھا جیسا کہ صحف ابراہیم علیہ السلام میں ہے :

علی العاقل مالم یکون مغلوبا علی عقلہ ان یکون لہ ساعۃ یناجی فیہاربہ۔

"عقل مند کے لئے لازم ہے کہ دن کی ایک گھڑی رب سے مناجات (سرگوشی)  کرے”۔ اللہ رب العزت نےاپنی ذات سے مانگنے والے کے لئے قرآن مجید میں یہ  اعلان فرمایاہے کہ وہ سائل سے قریب ہے اوراس کی دعائیں قبول کرتاہے:

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي)البقرۃ:186)۔

 اے میرے محبوب جب میرے بندے تم سے میرا پوچھیں تومیں نزدیک ہوں اورپکارنے والے کی دعا قبول کرتاہوں جب وہ مجھے پکارے۔

دعا کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ دعا تقدیر کوٹال دیتی ہے۔

لایرد القضاء الاالدعاء (مشکوٰۃ)۔

یا ایک روایت میں ہے:

ان الدعا والبلاء بین السماء والارض یقتتلان ،ویدفع الدعاء البلاء۔

بے شک دعا اوربلاء( مصیبت) زمین و آسمان کے درمیان جھگڑتی  رہتی ہیں  پس دعاء مصیبت کو دورکردیتی ہے۔یعنی جومصیبت نازل ہونے والی ہوتی وہ دعائیں مانگنے کی وجہ سے انسان سے دور کردی جاتیں ہیں اوراسے خبر تک نہیں ہوتی کون سی مصیبت کس دعا کی وجہ سے دور کردی گئی۔

حضور اکرم ﷺنے دعا کو  داخلِ عبادت قراردیاہے۔

الدعا مخ العبادۃ

"دعاعبادت کامغز  ہے” ۔ بالفاظ دیگردعاکوبہترین عبادت بھی کہاجاسکتاہےیعنی کہ ایک آدمی اپنے لئے نعمتیں(دنیوی واخروی) مانگ رہا ہے اور رب ان نعمتوں سے نوازنے کے ساتھ ساتھ اس کے مانگنے کے عمل کو  بہترین عبادت قراردے کر سائل کو ثواب بھی عطا کر رہا ہے۔ کیاکہیں اور ایسا ہے کہ  مانگنے پر نوازنے کے ساتھ ساتھ خوشی کااظہاراورباربارمانگنے کاحکم بھی دیاجارہاہو۔بقول مولانا رومی اللہ تعالیٰ مومن کی پکار کو دوست اور عزیز رکھتا ہے:

نالۂ مومن ہمید اریم دوست     

               گوتضرع کن ایں اعزاز اوست

"ہم مومن کے نالہ کو دوست رکھتے ہیں اورمومن کا تضرع کرنا اس کے لئے اعزاز ہے”۔

الغرض دعا کی اہمیت پربہت سی  قرآنی آیات ، احادیث مبارکہ آثار صحابہ اور تاریخی واقعات وشواہد دال ہیں۔جن کا یہاں احاطہ ناممکن ہے ۔

ضرورت:

قرآن کریم اوراحادیث مبارکہ کی شہادت کے بعد اگرچہ دعا کی ضرورت  بیان کرنے کی کچھ حاجت نہ تھی لیکن انسانی فطرت ہے کہ وہ ہرشے کوجسمانی،مادی،نفسیاتی ضرورتوں کی تکمیل کے حوالے سے دیکھتا ہے یعنی وہ ان اشیاء کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے جن کےنفع ونقصان کا اسے ذاتی مشاہدہ ہوجائے یاپھروہ ماحول  اور اردگرد کی چیزوں میں  دیکھ لے ۔

نفسیاتی اعتبار سے بھی اگردیکھاجائے تودعاانسان کو بہت سہارادیتی ہے۔جب انسان اپنی تمام تر منصوبہ بندی،کوشش اورجدوجہد کے بعددعاکرکے اپنے معاملات اللہ رب العزت کو سونپ دیتاہے تو اس عمل سے انسان، بہادر، قوی،مطمئن،پرسکون ہوجاتا ہے۔جیسا کہ  بچہ جب اپنے والد کے ہمراہ کہیں جارہاہو تو والد کی موجودگی کی وجہ سے اس بچہ کو نہ ہی راستہ بھٹکنے کا کوئی ڈرہوتا ہے اورنہ کوئی اورخوف خطر وہ اپنے اردگرد سے مکمل طور پر لطف اندوز ہوتاہےکیونکہ وہ جانتاہے اس کی حفاظت اورضروریات کی تمام تر ذمہ داری اس کے والد پر ہے۔اسی طرح دعامانگنے والا اپنے معاملات رب کے سپرد کرکے مطمئن اورپرسکون ہوجاتاہے۔اب اسے حوادث  زمانہ  پریشان نہیں کرسکتےکیونکہ وہ اللہ رب العزت کو” نعم المولیٰ ونعم النصیر” سمجھتا ہے ۔اوروہ اس روحانی طاقت وہمت سے ان حوادث کاپامردی سے  مقابلہ کرتا ہے اوران پر غلبہ پاتے ہوئے کامیابی سے ہم کنار ہوتاہے۔

آداب:

انسانی فطرت ہے کہ کتنا ہی باریک بین ،پیچیدہ اوردشوارکام ہی کیوں نہ ہو جب انسان اس کام کو باربار کرتا ہے تو کام کے عمل سے میکانکی  انداز(Mechanical Process) سے گزرجاتا ہے۔جیسا کہ انجن  بنانے والا یا ڈرائیونگ کرنے والا گزرجاتاہے ۔

ہمارا المیہ یہی ہے کہ ہم نماز ،تلاوت ،وظیفہ اوردعاکے عمل سے بھی روبوٹ کے انداز میں یعنیFed Data پرعمل کرتے ہوئے گزرجاتے ہیں کہ ہمیں کچھ خبر نہیں ہوتی ہم کیا پڑھ اورکررہے ہیں۔جس کی وجہ سے ہم  ان اعمال سے پیدا ہونے والے نور ،بصیرت اورفہم سے محروم ہیں اور ان اعمال سے پیداہونے والی اچھائیوں  کے  اثرات ہماری زندگیوں پرمرتب نہیں ہورہے ہیں۔ ورنہ دعا اور تلاوت قرآن میں حقیقتاً اتنی تاثیر ہے کہ اگرکوئی شخص پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹانے کے لئے بھی یقین کے ساتھ  دعاکرے یا تلاوت کرے۔تو ضرور بالضرور وہ پہاڑ  اپنی جگہ سے ہٹ جائے گا۔جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے:

حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک بیماری میں مبتلا شخص کے کان میں کچھ پڑھا جس سے اسے افاقہ ہوا۔آپ ﷺنے پوچھاکہ تم نے اس شخص کے کان میں کیاپڑھا ہے انہوں نے جواب دیا کہ سورۃ المومنون أفحسبتم أنما خلقناكم عبثا سے آخرتک تلاوت کی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:لو أن رجلا موقنا قرأ بها على جبل لزال"اگرکوئی صاحب یقین اس کو پہاڑ پر بھی پڑھے تو وہ اپنی جگہ سے ہٹ جائے۔”(مسند ابویعلیٰ)

دعا پوری توجہ ،اخلاص ،یقین اوریکسوئی سے مانگنی چاہئے ۔اللہ رب العزت بے یقینی اورلاپرواہی کے ساتھ مانگی گئی دعا قبول نہیں فرماتا۔حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے:

اُدْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ۔

اللہ سے دعا اس یقین سے کیا کرو کہ ضرور قبول ہونگی اورجان لو اللہ تعالیٰ غافل اوربے پرواہ دل کی دعاؤں کو قبول نہیں فرماتا۔ (ترمذی)

دعامانگتے وقت انسان یہ نہ کہے کہ اے اللہ اگر توچاہے تو قبول فرما اور اگر تونہ چاہے تو نہ قبول فرما ۔اللہ پر کوئی جبر نہیں کرسکتا وہ اپنی رحمت سے ہی دعا قبول کرتاہے۔اس لئے اس یقین سےدعا  مانگیں کہ انشاء اللہ ضرور قبول ہوگی۔

إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَعْزِمْ فِي الدُّعَاءِ وَلَا يَقُلْ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي فَإِنَّ اللَّهَ لَا مُسْتَكْرِهَ لَهُ۔

” جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو وہ پختگی اوریقین کے ساتھ کرے اوریہ نہ کہے کہ اے اللہ اگر تو چاہے تو مجھے عطاکر بے شک اللہ تعالیٰ پر کوئی جبر کرنے والانہیں”۔(مسلم)

ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ میں بندے کے گمان کے مطابق ہوں یعنی اگروہ یہ گمان رکھتاہے کہ رب میری دعائیں قبول کرتا ہے تو وہ اس کی دعائیں قبول کرے گا اگر اس کا گمان اس کے برعکس ہوگا اللہ رب العزت بندے کے گمان کے مطابق ہے۔أنا عند ظن عبدي بي وأنا معه إذا دعاني۔”میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جو وہ میرے متعلق رکھتاہے اورجب وہ مجھے پکارتاہے میں اس کے ساتھ ہوتاہوں”۔(مجمع الزوائد)

دعا مانگنے سے قبل اللہ رب العزت کی حمدوثناء کرنی چاہئے اورحضور ﷺ پر درود شریف کا نذرانہ بھیجناچاہئے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے:

إذا صلى احدكم فليبدأ بتحميد الله تعالى ، والثناء عليه ثم ليصل على النبي صلى الله عليه وسلم ، ثم ليدعو بعد بما شاء.

"جب تم میں سے کوئی شخص دعا مانگے تو دعا کے آغاز میں اللہ کی حمد و ثناء کرے پھر نبی اکرم ﷺپر درود بھیجے پھر وہ جووہ چاہے دعا کرے”۔ (کنزالاعمال)

ایک اورحدیث میں آتاہے:

كل دعاء محجوب حتى يصلي على محمد صلى الله عليه وسلم وآل محمد.

 "ہر دعا معلق رہتی ہے یہاں تک کہ وہ (سائل)حضرت محمد ﷺ اور ان کی آل پر درود نہیں بھیجتا”۔(الطبراني)

دعا مانگنے کے لئے ہاتھ بھی اٹھائے جائیں جیسا کہ حضور ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَعَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَسَحَ وَجْهَهُ بِيَدَيْهِ۔

"حضور ﷺ جب دعا فرماتے تو اپنے ہاتھ بلند فرماتے اورہاتھوں کو چہرہ انور پرپھیرتے”۔(ابوداود)

دعا کی ابتداء اپنی ذات سے کرنی چاہئے پھر اس میں دوسروں کے لئے بھی بھلائی اورخیر مانگنی چاہئے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا بَدَأَ بِنَفْسِهِ۔

"حضور ﷺ جب دعا فرماتے تو اس کی ابتداء اپنی ذات مبارکہ سے کرتے”۔(ابوداود)

جو شخص چاہتا ہے کہ اللہ رب العزت شدت اورتکلیف میں اس کی دعائیں قبول کرے اسے چاہئے کہ وہ بحالت فراخی کثرت سے دعائیں کیاکرے۔

مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْتَجِيبَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ الشَّدَائِدِ وَالْكَرْبِ فَلْيُكْثِرْ الدُّعَاءَ فِي الرَّخَاءِ۔

"جو شخص چاہتا ہے کہ اللہ رب العزت شدت اورتکلیف میں اس کی دعائیں قبول کرے اسے چاہئے کہ وہ بحالت فراخی کثرت سے دعائیں کیاکرے”۔(سنن ترمذی)

دعا مانگتے وقت  یہ تصور کرنا چاہیے کہ وہ رب کریم  کو دیکھ رہا ہے اوراس سے سرگوشیاں کررہاہے اگر یہ تصورنہیں کرسکتا پس اتناضرور دل میں یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہاہے۔اس تصور کے ساتھ اب تضرع وعاجزی اختیار کریں، اپنے ضعف و کمزوری کا اظہار کریں۔اس کے سامنے دل کی گہرائی سے روئیں اورگڑگڑائیں۔ یہاں تک کہ آنکھوں سے انمول موتی چھلک جائیں جن سے جہنم کی آگ بھی سرد ہوجاتی ہے۔بقول نظیر باقری

آگ دنیا کی لگائی ہوئی بجھ جائے گی

کوئی آنسو مرے دامن پہ بکھر جانے دے

جہنم کی آگ جس  کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں ۔  ان انمول موتیوں کی دنیا میں شایدکوئی قدروقیمت نہ ہو لیکن  آخرت کے لئے اجروثواب کاوہ ذخیرہ اورتوشہ ہیں جنہیں وہ میسرآگئے انہیں کسی اورچیز کی حاجت نہ ہوگی۔  یہ آنسو سخت سے سخت  دل  کوبھی پسیج دیتے ہیں۔  پتھردلوں کو موم میں تبدیل کردیتے ہیں اور رب کریم کی رحمت کومتوجہ کردیتے ہیں ۔ بقول مولانا روم

ہرکجا اشک رواں رحمت بود

ہرکجاآب رواں خضرت بود

"جس جگہ آنسو رواں ہوتے ہیں اسی جگہ رحمت ہوتی ہے اورجس جگہ پانی رواں ہوتاہے وہیں سرسبزہ ،ہریالی اورشادابی ہوتی ہے”

  پھر اسماء حسنیٰ کا ورد کرتے ہوئے ،اس کی صفات پر کامل ایمان لاتے ہوئے غور کرے،مثلاً الخالق ،القوی،القادر، الرزاق،الشافی پر۔اور اپنی کمزوری وضعف(خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا:النساء :28)، ظلم، جہالت، ( إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا: سبا:72) عجلت(خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ:الانبیاء:37) کا احساس کرتے ہوئے دعا  عجز و انکسارسے مانگے ۔ اس کے سامنے روئے گڑگڑائے ، فریاد کرے اےرب میں تیرے غضب اورعذاب کامتحمل نہیں ہوسکتا  اور تیری رحمت کی دوری  کو بھی دنیا اور آخرت  میں برداشت نہیں کرسکتا مجھے معاف فرمااورمیری خطاؤں سے درگزرفرما۔ اپنی اخروی اوردنیوی کامیابیوں فوز وفلاح کی بالیقین دعا  مانگے ۔ اپنی جائز دنیاوی حاجات طلب کرے ، چھوٹی چھوٹی چیزیں اورحاجتیں  بھی اپنے رب سے مانگے ، اپنے اوراپنے مسلمان بھائیوں کے لئے ہدایت، عافیت،رحمت ،جنت مانگے۔ پھر اپنی عجلت ،ناامیدی اورناشکری(إِنَّ الْإِنْسَانَ لَكَفُورٌ مُبِينٌ:الزخرف : 15) جیسی منفی صفات پر غلبہ پاتے ہوئے صبر سے انتظار کرے۔ رب العزت اسے دنیا اورآخرت دونوں جہانوں میں نوازے گا اورو دل میں ایک خاص سکون کی کیفیت پیدافرمادے گا جو اس کے لئے نعمتِ غیر مترقبہ ہوگی۔

دعا:

دعا  مناجات،عبادت  ،اطاعت، رازو نیاز اور بہترین ہتھیار ہے ۔یہ  ایسا عمل ہے جو تقدیرکوبھی بدل سکتا ہے۔ اس لئے آئیں انتہائی خشوع وخضوع اورخلوص سے دعا کے تمام آداب ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے رب  کے حضور  دعا کے لئے ہاتھ بلند کریں ۔

اے اللہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، اے اللہ! جو تو پھیلا دے اسے کوئی سمیٹ نہیں سکتا ، جسے  تو دور کردے اسے کوئی قریب نہیں کرسکتا ، جسے تو قریب کردے اسے کوئی دور نہیں کرسکتا ، جس سے تو قبض کرلے  اسے کوئی دینے والا نہیں ہے اور جسے تو عطاکرے اس سے کوئی چھیننے والانہیں ۔اے اللہ! ہم پر اپنی رحمتیں ،برکتیں، فضل نازل فرما اور بہترین رزق  عطا فرما ۔ اے اللہ! ہم تجھ سے کبھی نہ ختم ہونے والی نعمتوں کا سوال کرتے ہیں جو ہمیشہ قائم رہیں اور تیری اطاعت میں حائل نہ ہوں ۔ اے اللہ!ہم تجھ سے ہر تنگی میں آسانی اورہر جنگ کے دن امن کا سوال کرتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تیری پناہ میں آتے ہیں اس چیز کی برائی سے جو تو نے عطا کی اور اس چیز کے شر سے جو تو نے ہم سے روک لی۔

اے اللہ ہماری گمراہی کو ہدایت سے، ظلمت کو نورسے ،کج روی کو صراط مستقیم سے، شقاوت کو سعادت سے،جہالت کو علم نافع سے، بدامنی کو امن سے،بے باکی کو حیاء سے، انتشار کو اتفاق سے، افتراق کو اتحاد سے، کمزوری کو طاقت سے ،بزدلی کو بہادری سے،حزن کو خوشی سے، سنگدلی کو نرم دلی سے،مایوسی کو امید سے،شکستگی کو سلامتی سے ، مرض کو صحت سے، تنگدستی کو تونگری سے تبدیل کردے۔اورہمیں رحمت وبرکت،سکون ومحبت،طمانیت وقناعت اور ہمت و حوصلہ عطافرما جوہم سے روٹھ چکا ہے۔آمین بجاہ سید الامین  الکریمﷺ

فسھل یاالھی کل صعب

بحرمۃ سید الابرارسھل

 

مقدس مہینے رمضان کی پر خلوص مبارکباد "عالمی پرواز ” ڈاٹ کوم

مقدس مہینے رمضان کی پر خلوص مبارکباد

"عالمی پرواز ” ڈاٹ  کوم

www.aalamiparwaz.com

کے قارئین کو 
مقدس مہینے
رمضان 
کی پر خلوص
مبارکباد
خدا ہم سب 
کو گناہوں سے
بچنے اور زیادہ 
سے زیادہ
ثواب کمانے کی 
تو فیق عطا کرے۔
آ مین
 
  سرپرست ۔ ڈاکٹراسلم جمشیدپوریؔ

مدیرخصوصی ۔  ابرار مجیب 

مدیرہ ۔ نغمہ نازمکتومیؔ 

سب ایڈیٹر  ۔ جناب افروز سلیمیؔ  

 

ماہنامہ اُردو آپریشن  جھارکھنڈ

 

سرپرست ۔ ڈاکٹراسلم جمشیدپوریؔ 

مدیرخصوصی ۔  رضوان واسطی
 مدیر اعزازی  ۔ جہانگیر محمد
 مدیرہ ۔ نغمہ نازمکتومیؔ

سب ایڈیٹر  ۔ جناب افروز سلیمیؔ

 

زیرِاہتمام ”  عالمی پرواز  ڈاٹ کوم  "

ماہنامہ اُردو آپریشن  جھارکھنڈ

عالمی افسانوی کارواں

 

 ترتیب  ۔مہتاب عالم پرویزؔ 

 

 www.aalamiparwaz.com

aslamjamshedpuri@gmail.com     mahtabalampervez@gmail.com

 

خواتین کے احکام ومسائل قرآن وحدیث کی روشنی میں: تحریر مولانا غیور احمد قاسمی

خواتین کے احکام ومسائل قرآن وحدیث کی روشنی میں: تحریر مولانا غیور احمد قاسمی

عورت معاشرہ کا انتہائی اہم حصہ ہےاس کے بغیر زندگی کی گاڑی چلانا بہت مشکل ہے اسلام واحد مذہب ہے جس نے سب سے پہلے عورت کی عظمت احترام اور صحیح مقام کا واضح تصور دنیا کے سامنے پیش کیا اور ان تمام جاہلانہ جابرانہ اور وحشیانہ رسومات کا قلع قمع کیا جو عورت کی عزت اور اس کے انسانی منصب کے خلاف تھی شریعت مطہرہ نے عورت کی تکریم عزت او راحترام کو ضروری قرار دیا مذہب اسلام نے ہر روپ میں اس کی عزت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ہے باری تعالیٰ نے قرآن حکیم میں مستقبل ایک سورہ نساء نازل فرمائی اس میں خصوصیت کے ساتھ عورتوں کے حقوق بیان فرمائے یتیم بچیوں کے حقوق بیوہ خواتین کے حقوق کو بیان کیا جن سے ان کی زندگی ان کی عزت وآبرو محفوظ ہو اسی طرح مہر اور میراث کے معاملہ عورتوں کے ساتھ انصاف حسن سلوک اور حسن معاشرت کی ترغیب دی گئی ازدواجی تعلقات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایاگیا کہ یہ جسم جسم کا تعلق نہیں بلکہ انسانیت نواز عزت وشرافت سے بھرپو راور کریمانہ تعلق ہے باہمی ہمدردی اور تعاون ہی حیات انسانی کی اصل بنیاد ہے اس کو اختیار کر کے انسان خوشگوار زندگی گذار سکتا ہے شریعت کا حکم ہے کہ ہر معاملہ میں احسان اور بہتر سلوک کیاجائے اور یہ بات ملحوظ رہے کہ احسان کی بنیاد باہمی ہمدردی وتعاون ایک دوسرے کے ساتھ جذبہ تعاون خیر خواہی وہمدردی امانت ودیانت اور عدل وانصاف پر قائم ہے او راسی صورت میں ایک صحت مند معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔

اسلام کی آمد سے قبل زمانہ جاہلیت میں لڑکیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا عورتوں وک عزت ومقام حاصل نہیں تھا البتہ یہ رسم عام نہیں تھی کچھ قبیلے او ربڑی شخصیتیں اس کام کی مخالف تھی ان میں جناب عبد المطلب جو نبی پاک کے دادا تھے اس کام کے شدید مخالف تھے لیکن واقعات گواہ ہیں یہ رسم بڑی حد تک لوگوں میں پھیلی ہوئی تھی صعصعہ بن ناجیہ کی فطری بتدا سے سلیم تھی چنانچہ زمانہ جاہلیت میں جبکہ دختر کشی عام تھی اور لوگ لڑکیوں کو ننگ قرابت اور فقر وفاقہ کے خوف سے زندہ دفن کردیتے تھے صعصعہ بن ناجیہ کی آغوش محبت لڑکیوں کی پرورش کے لئے کھلی تھی اور وہ دوسروں کی لڑکیو ں کو خرید کر پرورش کرتے تھے اسلام کی آمد کے بعد وفد تمیم کے ساتھ مدینہ آئے او راسلام قبول کیا نبی پاکؐ سے کچھ آیات قرآنی سکھی پھر پوچھا یا رسول میں نے زمانہ جاہلیت میں جو اچھے کام کئے ہیں وہ قبول ہوں گے اور مجھ کو ان کا اجر ملے گا فرمایا کون سے اعمال کئے ہیں عرض کیا ایک مرتبہ میری دس ماہ دو حاملہ اونٹنیاں گم ہوگئی ہیں اونٹ پر سوار ہوکر ان کو تلاشی کرنے کے لئے نکلا راستہ میں دومکان دکھائی دئے میں ان میں گیا ایک مکان میں ایک شخص نظر آیا میری اس سے باتیں ہونے لگی اتنے میں گھر سے آواز آئی کہ اس کے گھر میں ولادت ہوئی، اس نے پوچھا کون بچہ ہوا، معلوم ہوا لڑکی اس نے کہا اس کو دفن کردو، میں نے کہا دفن نہ کرو، میں اس کو خریدتا ہوں، چنانچہ میں نے اس کو دو اونٹنیاں بچوں سمیت اور اپنی سواری کا اونٹ دیکر لڑکی لے لی، اس طریقہ سے ظہور اسلام تک میں نے تین سوساٹھ دفن ہونے والی لڑکیوں کو فی لڑکی دس دس مہینہ کی دو دو حاملہ اونٹنیاں اور ایک ایک اونٹ دیکر خریدا، اس کا مجھے کوئی اجر ملے گا؟ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ تم کو خدانے اسلام کے شرف سے سرفراز کیا ہے، اس لئے ان تمام نیکیوں کا اجر ملے گا۔ صعصعہ کے اعمال حسنہ محض لڑکیوں کو بچانے تک محدود نہ تھے  بلکہ وہ غربا پرور بھی تھے اور غریبوں اور محتاجوں کے لئے ان کا دست کرم ہمیشہ دراز رہتا تھا، ضروریات سے جو کچھ بچتا تھا، اس کو پڑوسیوں او رمسافروں میں تقسیم کردیتے تھے، ایک مرتبہ رسول اللہؐ سے عرض کیا یا رسول اللہ میرے پاس ضروریات سے زیادہ جو کچھ بچتا ہے، اس کو میں پڑوسیوں اور مسافروں کے لئے رکھ چھوڑتا ہوں، فرمایا پہلے ماں، باپ، بھائی، بہن اور قریبی رشتہ داروں کو یاد کرو۔

عورت کی عزت ومنزلت ثابت کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ اسلام نے اس کے تمام اخراجات کا ذمہ دار، اگر وہ غیرشادی شدہ یا بیوہ ہو تو اس کے باپ یا سرپرست کو بنایا ہے اور اگر وہ شادی شدہ ہو تو اس کے شوہر کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خاتونِ خانہ کی عصمت کی حفاظت اور سماجی اقدار کی سلامتی ہے، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

یعنی: ذرا ان لوگوں کو تو دیکھیں جنہیں کچھ شرعی علم عطا کر دیاگیا (مگر پھر بھی) وہ گمراہی مول لیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ (حق) سے بھٹک جاؤ۔

نیز فرمایا:

یعنی: مال دار کو چاہئے کہ اپنے مال میں سے دیا کرے اور کسی کو تنگی رزق ہو تو بھی جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے دیا کرے، اللہ تعالیٰ کسی کو اتنا ہی پابند کرتا ہے جتنا اسے دیا ہے، اللہ تنگی کے بعد آسانی کر دے گا۔

نان نفقہ کے ضمن میں مناسب رہائش کی فراہمی بھی شامل ہے، اسی لئے حکم ہوا:

یعنی: جہاں تک ہو سکے (اپنی طلاق یافتہ) بیویوں کو (عدت پوری ہونے تک) وہیں رہائش دو جہاں تم خود رہتے ہو اور ان پر تنگی کر کے انہیں پریشان نہ کرو اور اگر وہ حمل سے ہوں تو اس وقت تک ان کا خرچہ اٹھاؤ جب تک وہ جَن نہ دیں اور اگر وہ تمہارے بچے کو دودھ پلائیں تو انہیں اس کا صلہ بھی دو اور آپس کے معاملات خوش اسلوبی سے طے کرو اور اگر تمہاری آپس میں نہ بنے تو (باپ) بچے کو کسی دوسری عورت سے دودھ پلوائے۔

سنن ابو داود میں نبی کریم علیہ الصلاۃ السلام سے اس حکم کی تشریح یوں مروی ہے: حکیم بن معاویہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم علیہ الصلاۃ السلام سے دریافت کیا کہ بیوی کا شوہر پر کیا حق ہے؟ فرمایا: جیسا خود کھاؤ اسے بھی کھلاؤ، جس معیار کا کپڑا خود پہنو اْسے بھی پہناؤ،چہرے پر نہ مارو اور نہ ہی بْرا بھلا کہو اور اگر بول چال بند کرو تب بھی گھر میں ہی رکھو۔

معلوم ہوا کہ شوہر کو بیوی کے ساتھ معاملات کی بنیاد اپنائیت پر رکھنی چاہئے تاکہ وہ اس کی روحانی و نفسیاتی سکون کا باعث ہو یوں بھی ان کا باہمی رشتہ محبت و شفقت  پر ہی قائم رہ سکتا ہے اور یہ رشتہ اس قانونی بندھن سے زیادہ مضبوط اور پائیدار ہے جو شوہر کو محض بیوی کی مالی یا مادی ضروریات کو پورا کرنے کا پابند کرتا ہے … اور جب کوئی شوہر اپنی شریکِ حیات کو اس دلکش پیرائے میں اپناتا ہے تو ازدواجی زندگی کے راستہ میں حائل ساری رکاوٹیں اور کانٹے دور ہوتے چلے جاتے ہیں بصورتِ دیگر نتیجہ طلاق یا قطع تعلق کی شکل میں سامنے آتاہے جوکہ دونوں میاں بیوی کی زندگی میں زہر گھول دیتا ہے۔(اخلاقنا الاجتماعی، ص 148، تالیف: مصطفی السباع)

حقِ ملکیت:

اسلام نے خواتین کو میراث میں حصہ دیا جبکہ اس سے پہلے اْسے محروم رکھا جاتا تھا، فرمانِ ربِّ کریم ہے:

یعنی: (جس طرح) والدین اور رشتہ داروں کے ورثہ میں سے مردوں کا حصہ ہے (اسی طرح) والدین اور رشتہ داروں کے ورثہ میں عورتوں کا (بھی) حصہ ہے، ایک مقرر کردہ حصہ جو تھوڑا ہو یا زیادہ۔علاوہ ازیں اسلام نے خواتین کو اپنی زیرِ ملکیت اشیاء میں ہر طرح مکمل تصرّف کا اختیار دیا ہے یعنی وہ خرید وفرخت کرے یا کرایہ پر لین دین کرے یا تحفہ دے، وصیت کرے، وقف کرے، صدقہ کردے، ادھار دے، رہن رکھوائے، ضمانت دے یا اپنے مال سے سرمایہ کاری کرے وغیرہ وغیرہ (عمل المرأۃ وموقف الاسلام منہ، تالیف: عبد الرب آل نواب، ص۔ 135)۔ غرضیکہ اسلام کی رو سے خواتین اپنے مالی معاملات و معاہدے خود کر سکتی ہیں وہ ہر قسم کی جائیداد اور مال واسباب کی مالک ہو سکتی ہیں وہ ہر قسم کی جائز تجارت اور روزی کمانے کے طریقے بھی اپنا سکتی ہیں انہیں اختیار ہے کہ جس کی چاہیں ضمانت دیں اور وارثوں کے علاوہ جس کے لئے چاہیں وصیت کریں اور ضرورت پڑنے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں یہ سارے کام وہ اپنے شوہر یا سرپرست کی نگرانی کے بغیر بھی کر سکتی ہیں۔

خواتین کی عزت ومرتبت ثابت کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ اسلام نے انہیں بحیثیت ماں وہ اعلیٰ مقام عطا کیا ہے جو انہیں کہیں اور حاصل نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر اپنی عبادت کے ساتھ ہی ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے، جیسا کہ فرمایا:

یعنی: آپ کے رب نے یہ طے کر دیا ہے کہ تم سب صرف اسی کی عبادت کرو اور والدین سے حسنِ سلوک کرو۔

نیز یہ کہ ان پر شفقت و رحمت کی تاکید کی ہے: یعنی: جب ان (والدین) میں سے کوئی ایک یا دونوں عمر رسیدہ ہو جائیں تو ان کی کسی بات پر پریشانی کا اظہار بھی نہ کرو اور نہ ہی انہیں جھڑکو اور ان کے ساتھ نرمی سے بات کرو۔

اسلام ہی ہے جس نے ان کے لئے سب سے بہتر سلوک اور دیکھ بھال فرض کی ہے، جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم   علیہ الصلاۃ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر دریافت کیا کہ وہ کون ہے جو میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حقدار ہے؟ فرمایا: تمہاری ماں! پوچھا: اْن کے بعد؟ فرمایا: پھر بھی تمہاری ماں!، پھر پوچھا: اْن کے بعد؟ فرمایا: پھر بھی تمہاری ماں! پوچھا پھر کون؟ فرمایا: تمہارا باپ! (بخاری)

اور یہ اسلام ہی ہے جس نے ماں کے ساتھ بھلائی اور قرابت داری نبھانے کا حکم دیا اگرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو، اس سلسلہ میں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ ایک بار، جبکہ قریش نبی کریم علیہ الصلاۃ السلام   کے ساتھ مدّتِ معاہدہ میں تھے، میری مشرکہ ماں اپنے باپ کے ساتھ مجھ سے ملنے آئی، میں نے رسول اللہ علیہ الصلاۃ و السلام سے مسئلہ پوچھا کہ میری ماں مجھ سے ملنا چاہتی ہے کیا میں اس کے ساتھ قرابت داری نبھاؤں؟ فرمایا: ضرور! (بخاری)

خواتین پر اسلام کی نوازشوں کا یہ ایک دل آویز انداز ہے کہ ماں اگرچہ کافر ہی ہو تب بھی اس کے ساتھ صلہ رحمی کی جائے، یہ تو سمندر میں سے ایک قطرہ سمجھیں کیونکہ اسلام نے خواتین کو جس قدر حقوق عنایت کئے ہیں اور جنہیں مغربی دنیا کسبِ معاش، شراکت داری اور مساوات کے نام پر چھیننے کے درپے ہے، وہ بہت زیادہ ہیں۔ فی الحال یہاں ان حقوق کو گِنوانا مقصد نہیں بلکہ غور و فکر کے لئے اشارہ کرنا ہی کافی ہے۔

تمام قارئین سے صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ وہ صرف ماؤں کی نہیں بلکہ تمام خواتین کی عزت کریں‘ وہ بیٹیاں ہوں‘ بہنیں‘ بیویاں‘ ساتھ کام کرنے والی خواتین ہوں یا پھر سر راہ کسی بھی حوالے سے نظر آنے والی خواتین۔ خواتین کو نمبروں میں تقسیم نہ کریں‘ جس طرح اپنی بہن اور بیٹی کی عزت کو مقدم رکھتے ہیں اسی طرح سے ہر عورت کی عزت کا احترام کریں۔یقین کریں کہ خواتین نہ آزادی چاہتی ہیں اور نہ ہی آوارگی‘ وہ چاہتی ہیں تو صرف اور صرف عزت۔ اپنے گھر سے‘ اپنے لوگوں سے اور ہر اس جگہ جہاں وہ جاسکتی ہے۔

میں کہنا چاہتی ہوں کہ اپنی عورتوں سے کہ وہ اپنے بیٹوں اور بھائیوں کی تربیت کچھ اس انداز میں کریں کہ وہ خواتین کا ویسا ہی احترام کریں جیسا کہ ہمارے پیارے رسول اپنی زوجات اور بیٹی کا کیا کرتے تھے موجودہ معاشرے میں عورتوں کے ساتھ عزت و احترام کا معاملہ کرے انکے حقوق کی خلاف ورزی نہ کریں انکو اسلامی تعلیمات سے واقف کرانے نظم سر پرست حضرات پر لازم ہے اسلامی تعلیمات کا گھر میں اھتمام ھو تلاوت قرآن پاک کا ماحول پیدا کرنے کے لیے خود نماز فجر کے بعد تلاوت کا التزام کرین بچوں کے عقائد کی نگرانی کرین شوسل میڈیا پر بچوں کو مصروف نہ ہونے دین بقدرِ ضرورت استعمال کی اجازت دے لڑکیوں کو سماجی حالات سے آگاہ کریں اگر وقت رہتے توجہ نہیں دی تو اس کا خمیازہ کبھی غیر مسلم سے شادی کی شکل یاارتداد والحاد کی صورت میں بہگتنا پڑ سکتا ہے اپنے اہل خانہ پر مکمل اعتماد کرتے خصوصی توجہ دے انکو نفع و نقصان سے واقف اور روشناس کروایا جائے رسوائی وذلت کا سامنا کرنے سے پہلے ہی اپنے آپ کو اور اہل خانہ کو بری عادتون اور پراگندہ ماحول سے تحفظ فراہم کرنے کا مضبوط انتظام کریں انکیے دوست اور متعلقین کے انداز واطوار پر گہری نظر رکھے کلاس اور ٹیوشن کے اوقات معلوم کرے گاہے بگاہے دونوں جگہوں پر تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے پارٹیوں اور خاندانی تقریب میں اپنے بچوں کو اجنبی لوگوں سے دور رہنے کی ہدایت کریں اور تنہا دور دراز کے سفر پر روانہ نہ کریں اسلامی شریعت نے گھر کے سربراہ کو جواب دہ بنایا ہے اپنی ذمہ داری سے راہ فرار اختیار نہ کریں اللہ تعالیٰ ہمارے گھر میں خوشگوار ماحول عطا فرمائے آمین اور ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی توفیق وھدایت سے نوازے۔

 معاشرتی وسماجی طور پر بھی بیٹی کو بلند مقام عطا کیا- بیٹیاں آتشِ دوزخ سے نجات اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہیں۔

بہن کے روپ میں عورت ایک بہت خوبصورت اور پاکیزہ رشتہ ہے- بہن، خواہ بڑی ہو یا چھوٹی، باعثِ رحمت ہوتی ہے- بہن کا مْقام بھی بیٹی ہی کی مانند ہے- وہ حقوق جو ایک بیٹی کو حاصل ہیں، وہ تمام حقوق بہن کے لیے بھی مقرر کیے گئے ہیں۔

نیک بیوی دْنیا کی بہت بڑی نعمت ہے۔ وہ دْکھ سْکھ کی ساتھی ہوتی ہے اور ہر مشکل وقت میں نہ صِرف ساتھ کھڑی ہوتی ہے بلکہ حسبِ موقع مفید مشورے بھی دیتی ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ  بھی بہت سے معاملات میں ازواجِ مطہرات سے مشاورت کیا کرتے تھے۔ اِسلام نے بیوی کو بہت سے حقوق سے نوازا ہے اور اْن تمام حقوق کو ادا کرنا مرد کے لیے لازم قرار دیا ہے جن میں اْس کے ساتھ اچھے طریقے، حسنِ سلوک، نرمی اور عزّت واحترام سے پیش آنا بھی شامل ہے، غرض یہ کہ عورت کا ہر روپ ہی بہت خوبصورت اور قابلِ احترام ہے۔

ہمارے معاشرے میں عورت کا ایک رْوپ ایسا بھی ہے جو تمام مْقدس رشتوں کو پامال کرتا ہے، وہ ہے ایک عورت کا مرد کے ساتھ بغیر کسی جائز رشتے کے تعلق قائم کرنا- عورت گھر کی ملکہ اور زینت بنا کر پیدا کی گئی ہے نا کہ گلیوں اور بازاروں کی رونق بننے کے لیے- عورت اگر شرم وحیا کی چادر اْتار پھینکے تو وہ سب کی نظروں میں گِر جاتی ہے اور معاشرے میں اْس کا احترام اور تقدّس بھی ختم ہو کر رہ جاتا ہے-

بعض جگہوں پر آج بھی عورت کے ساتھ زمانہ جاہلیت کی طرح ہی سلوک کیا جاتا ہے- اولاد ماں کے احترام، اْس کی قربانیوں اور ایثار کو بالکل ہی بْھلا دیتی ہے اور اْس کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتی ہے جیسے وہ اْن کی خادمہ ہو- بیوی کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے گو کہ وہ کوئی زر خرید غلام ہو- بیٹیوں اور بہنوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے- جب اِسلام نے اِن کے حقوق مقرر کیے ہیں تو اْن حقوق کا احترام کرتے ہوئے ہمیں اْن کے ساتھ محبّت اور شفقت سے پیش آنا چاہئیے-

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عورتوں کا احترام کرنے اور اْن کے حقوق اچھے طریقے سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے- آمین

ارشاد ربانی ہے:

وہ لوگ بہت ہی خسارہ میں ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کو نادانی میں بے بنیاد قتل کیا اور جو انہیں اللہ نے نصیب کررکھا تھا اسے اپنے اوپر حرام کرلیا اللہ پر افترا کرتے ہوئے۔

امام قطبیؒ نے اپنی تفسیر میں ایک حیرت انگیز واقعہ نقل کیاہے جو زمانہئ جاہلیت کے مشرکین کی انتہائی سفاہت وحماقت کا مظہر ہے کہ ایک صحابیؓ رسول ہمیشہ غمزدہ اور افسردہ طبیعت رہتے تھے آپؐ نے دریافت فرمایا کہ تم ہمیشہ مغموم کیوں رہتے ہو؟ عرض کیا یا رسول اللہ! زمانہئ جاہلیت میں میں نے ایک جرم کا ارتکاب کیاتھا جس کی وجہ سے مجھے اندیشہ ہے کہ خداتعالیٰ میری مغفرت نہیں فرمائیں گے اگرچہ میں اسلام کے حلقہ بگوش ہوگیا ہوں! آپ نے فرمایا وہ کونسا گناہ بتلائیے؟ عرص کیا یا رسول اللہ! میں ان لوگوں میں سے ہوں جو زمانہئ جاہلیت میں اپنی لڑکیوں کو قتل کردیتے تھے، میرے یہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی، میری بیوی نے درخواست کی کہ یہ لڑکی مجھے دیدی جائے، میں نے اس کے سپرد کردی یہاں تک وہ جوان اور سمجھدار ہوگئی وہ لڑکی انتہائی خوبصورت تھی اس لئے بہت سے لوگوں نے پیغام نکاح دیا جس کے نتیجہ میں مجھ پر غیرت وحمیت کا بھوت سوار ہوگیا اور میں اس بات کو برداشت نہ کرسکا کہ میں اس کی کسی سے شادی کروں یا اس کو گھر میں غیر شادی شدہ ہی رہنے دوں، اس لئے میں نے ایک روز بیوی سے کہا کہ میں اپنے عزیز واقربا سے ملنے جارہاہوں تم اس لڑکی کو میرے ساتھ بھیج دو میری بیوی نے بخوشی اس کو کپڑے پہنائے اور زیورات سے آراستہ کردیا، میں اس کو شہر کے باہر ایک کنویں کی مینڈ پرلے گیا میں نے کنویں میں جھانکا تو لڑکی سمجھ گئی کہ میں اس کو کنویں میں ڈالنا چاہتا ہوں وہ مجھ سے لپٹ گئی او راس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے مجھے اس پر ترس آگیا، پھر میں نے کنویں کی طرف دوبارہ دیکھا تو غیرت وحمیت نے پھر مجھے جکڑ لیا اور شیطان نے مجھ پر اپنا پورا تسلط قائم کرلیا چنانچہ میں نے اس کو منھ کے بل کنویں میں ڈال دیا اور جب تک اس کی آواز بند نہیں ہوگئی اس وقت تک میں وہیں رہا اس کے بعد گھر واپس لوٹا یہ سن کر آپؐ او رآپ کے اصحاب روپڑے او رااپ نے فرمایا کہ ”اگر میں زمانہ جاہلیت کے کسی فعل پر کسی کو سزا دیتاتو تمہیں دیتا۔ (الجامع لا حکام القرآن للامام القرطبی،7/97)

لڑکیوں کے زندہ درگور کرنے کا سبب:

گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین قریش کی بعض حماقتوں، گمراہیوں اور ان کے بعض شرمناک جرائم کا تذکرہ فرمایا جن میں اولاد کا قتل او رلڑکیوں کا زندہ درگور کر دینا بھی شامل ہے، اس ظلم وستم کا پہاڑ ان پر اس لئے نہیں ٹوٹتاتھا کہ انہو ں نے کسی جرم میں اپنے ہاتھ رنگ لئے ہوتے بلکہ یہ ظلم محض ان

کی حماقت وگمراہی اور ان کی اس جاہلی عصبیت کی بناپر ہوتا ہے جس پر وہ پروان چڑھے تھے، وہ لڑکیوں کو اپنے لئے نحوست اور باعث ننگ وعار سمجھتے تھے جس سے چھٹکارا پانا ان کے نزدیک ضروری تھا، اس لئے وہ ان کو زندہ ہی دفن کردیتے، جیسا کہ ارشاد  ربانی ہے:

او رجب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خبر دی جائے تو سارے دن اس کا چہرہ بے رونق رہتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے جس چیز کی خبر دی ہے اس کی عار سے لوگوں سے چھپا پھرے یا اس کو ذلت پر لئے رہے یا اس کو مٹی میں گاڑدے خوب سن لو ان کی یہ تجویز بہت ہی بری ہے۔

اس طرح ان کی جہالت وحماقت اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ مردننگ وعار کے باعث یا فقر وفاقہ کے اندیشہ سے لڑکی کو زندہ ہی دفن کردیتے یہ سب سا لئے ہوتا چونکہ شیطان نے ان تمام جرائم اور قباحتوں کو ان کی نظر میں خوشنما بنادیاتھا یہاں تک کہ وہ ان چیزوں کو فخر ومباہات کا ذریعہ اور مدح وستائش کے حصوں کا وسیلہ خیال کرتے تھے۔

ان آیات بینات میں قرآن کریم نے ہمارے عرب آباء واجداد کی خرافات اور گمراہیوں کی طرف ہماری توجہ مبذول کراتی ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا:

اور اسی طرح ان دیوتاؤں نے بہت سے مشرکوں کی نظر میں ان کی اولاد کے قتل کو خوشنما بنارکھا ہے تاکہ انہیں برباد کرڈالیں اور ان کے دین کو ان پر رلا ملادیں اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو آپ ان کو اور ان کی افترا پر دازی کو ان پر چھوڑدیجئے۔ آیت کریمہ کا آخری جز تہدید آمیز ہے۔

 

روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی شفاعت کے امین…….مولانا فاران

روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی شفاعت کے امین…….مولانا فاران

(مسروالا پریس ریلز)مدرسہ قادریہ مسروالا (ہماچل پردیش) کے ناظم حضرت مولانا کبیر الدین فاران مظاہری نے کہاکہ قرآن پاک،رمضان المبارک اور روزوں کا چولی دامن کا رشتہ ہے۔
اسلئے رمضان کے روزے فرض قرار دیئے گئے تاکہ انسان”تقوی“ والا بن جائے جس کی بدولت انسانوں میں فہم قرآن اور منشاء قرآن کی صلاحیت پید ا ہوجائے گناہوں سے بچنے اور نیکی کے کاموں میں لگ جانے کا لطف آنے لگے،زندگی با مقصد ہوجائے،خیر کی طلب گار ہوجائے،محتاط زندگی گزارنے کی مشق ہوجائے یہی تقوہ ہے اور رمضان میں قرآن کا نازل کرنا اشارہ ہے کہ قرآن بھی تمہارے لئے خدائی افطارہے تم ہدایت کے معاملہ میں بھوکے تھے۔ خدانے اپنی نعمت ہدایت ’قرآن‘ کے ذریعہ تم کو سیر اب کیا۔
مولانا فاران نے اپنے خطاب میں کہا کہ رمضان میں کھانے پینے سے روکے رہنا اللہ کی نعمتوں کی قدر اور بھوکے اور نعمتوں سے محروم لوگوں کی مشکلات کوجاننے اور اسکی حل کی طرف توجہ دلاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے حوالہ سے کہاکہ روز ے کی حالت میں آدمی بھوکارہے اورغیبت،برائیوں اور من چاہی عادتوں کو کرتارہے تواسنے بھوکے رہنے کے سواء کچھ نہیں پایا۔روزہ در اصل تمام جسم کو ظاہری اور باطنی برائیوں سے روکنے کا نام ہے۔
یہاں جمعہ میں استقبال رمضان کے عنوان پر ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فاران نے پیغمبر اسلام ﷺ کی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روزہ اور قرآن قیام کے دن بندے کی شفاعت کریں گے روزہ کہے گا اے میرے رب میں نے اس کو کھانے اور شہوات سے باز رکھا تھا اور قرآن کہے گا کہ میں نے رات کو سونے سے روکا اور قرآن کو تراویح میں سننے کا اہتمام کیا تھا۔ لہٰذ ا ہماری سفارش قبول فرمائے۔

مقدس مہینے رمضان کی پر خلوص مبارکباد

مقدس مہینے رمضان کی پر خلوص مبارکباد

"عالمی پرواز ” ڈاٹ  کوم

www.aalamiparwaz.com

کے قارئین کو 
مقدس مہینے
رمضان 
کی پر خلوص
مبارکباد
خدا ہم سب 
کو گناہوں سے
بچنے اور زیادہ 
سے زیادہ
ثواب کمانے کی 
تو فیق عطا کرے۔
آ مین
 
  سرپرست ۔ ڈاکٹراسلم جمشیدپوریؔ

مدیرخصوصی ۔  ابرار مجیب 

مدیرہ ۔ نغمہ نازمکتومیؔ 

سب ایڈیٹر  ۔ جناب افروز سلیمیؔ  

 

ماہنامہ اُردو آپریشن  جھارکھنڈ

 

سرپرست ۔ ڈاکٹراسلم جمشیدپوریؔ 

مدیرخصوصی ۔  رضوان واسطی
 مدیر اعزازی  ۔ جہانگیر محمد
 مدیرہ ۔ نغمہ نازمکتومیؔ

سب ایڈیٹر  ۔ جناب افروز سلیمیؔ

 

زیرِاہتمام ”  عالمی پرواز  ڈاٹ کوم  "

ماہنامہ اُردو آپریشن  جھارکھنڈ

عالمی افسانوی کارواں

 

 ترتیب  ۔مہتاب عالم پرویزؔ 

 

 www.aalamiparwaz.com

aslamjamshedpuri@gmail.com    mahtabalampervez@gmail.com

 

مقدس مہینے رمضان کی پر خلوص مبارکباد

عالمی پرواز  ڈاٹ  کوم

کے قارئین کو 
مقدس مہینے
رمضان 
کی پر خلوص
مبارکباد
خدا ہم سب 
کو گناہوں سے
بچنے اور زیادہ 
سے زیادہ
ثواب کمانے کی 
تو فیق عطا کرے۔
آ مین
 
 سرپرست   ۔ ڈاکٹراسلم جمشیدپوریؔ

مدیرخصوصی ۔  رضوان واسطی
 مدیر اعزازی  ۔ جہانگیر محمد
 مدیرہ ۔ نغمہ نازمکتومیؔ 
 ترتیب  ۔مہتاب عالم پرویزؔ 

زیرِاہتمام ’  عالمی پرواز  ڈاٹ کوم  ٗ 

ماہنامہ اُردو آپریشن  جھارکھنڈ

عالمی افسانوی کارواں
www.aalamiparwaz.com

aslamjamshedpuri@gmail.com         mahtabalampervez@gmail.com

شب ِ برات قرآن وحدیث کی روشنی میں : محمدافروز سلیمیؔ

٭شب ِ برات قرآن وحدیث کی روشنی میں ٭

محمدافروز سلیمیؔ
معاون قاضی امارت شرعیہ جمشیدپور
8002853919

                    شبِ برات کی حقیقت اور اس کی فضیلت یقینا اپنی جگہ مسلم ہے، اس کے فضائل ومراتب سے انکاربھی نہیں کیاجاسکتا ہے، جیساکہ قرآن کریم کی سورہ دخان کی ابتدائی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”انا النزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ“ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کرام نے خوب وضاحت فرمائی،اور اس میں اختلاف بھی ہے کہ اس سے کو ن سی رات مراد ہے؟ بعض مفسرین کرام نے اس سے شب ِ قدر مراد لیا ہے اور بعض نے شبِ برات مراد لیا ہے، چونکہ بدیہی طور پرقرآن کریم کانزول تیئس سال میں ہوااور نزول شبِ قدر میں ہویا شبِ برات میں، ہرحال میں اس سے وہ نزول مراد ہے جوبیک وقت عرش سے آسمان ِدنیاکی طرف شب برات میں یہ نزول تجویز کیاگیاہواور شبِ قدر میں اس کاوقوع ہواہو، اورمبارکہ سے اس کے فضائل مراد ہے خطباتِ حکیم الامت ج7،ص395 لیکن صاحب تفسیر ابن کثیروصاحب تفسیر مظہری کے ساتھ ساتھ دورحاضرکے ایک باکمال مفسرومحقق اور عالم اسلام کی ایک عظیم شخصیت، ہزاروں کتاب کے مصنف مولانامفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے فی لیلۃ مبارکۃ سے شبِ قدر ہی مرادلئے ہیں آسان ترجمہ قرآن ص 1037 اس رات میں عبادت کرنا، ذکر واذکار میں مشغول رہنا، نوافل کا اہتمام کرنا اور قبرستان جاکر دعائے مغفرت کر نا یہ ساری باتیں اپنی جگہ فضائل کے اعتبارسے مسلم ہے، اور دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی روایت کردہ وہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات اپنے پاس نہ پایاتو میں آپ کی تلاش میں گھر سے نکلی تو دیکھتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں تشریف فرماہیں، آپ نے فرمایاکیاتمہیں یہ خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تمہارے ساتھ زیادتی کریں گے، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے یہ خیال ہوا کہ شاید آپ کسی دوسری اہلیہ کے پاس تشریف لئے گئے ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناََ اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمان دنیاپر(اپنی شان کے مطابق)جلوہ گر ہوتاہے، اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتاہے(ترمذی ج1، ص156، ابن ماجہ، مسند احمد، مصنف ابن شیبہ) یہ حدیث چہ جائے کہ ضعیف ہے لیکن عند المحدثین ایسی ضعیف حدیث جس کی سند یں کئی ہوتو وہ درجہ صحت کوپہنچ جاتی ہے، اس کے علاوہ احادیث ضعیفہ سے احکام وفضائل میں استدلال کے لئے فقہاء وعلماء ومحدثین کرام کی تین رائے ہیں (1) احادیث ضعیفہ سے احکام وفضائل دونوں میں استدلال کیا جاسکتا ہے(2) احادیث ضعیفہ سے احکام وفضائل دونوں میں استدلال نہیں کیاجاسکتاہے(3) احادیث ضعیفہ سے عقائد یا احکام تو ثابت نہیں ہوتے، البتہ قرآن یااحادیث صحیحہ سے ثابت شدہ اعمال کی فضیلت کے لئے احادیث ضعیفہ قبول کی جاتی ہے، جمہور محدثین ومفسرین وفقہاء وعلماء کی یہی رائے ہے، اور مشہورمحدث مسلم شریف کی سب سے زیادہ مقبول شرح لکھنے والے امام نوویؒ (مولف ریاض الصالحین)نے علماء امت کا اس پر اجماع ہونے کاذکر کیاہے، اورزمانہ قدیم سے جمہور محدثین کااصول یہی ہے کہ ضعیف حدیث فضائل میں معتبر ہے انہوں نے ضعیف حدیث کوصحیح حدیث کی اقسام کے ضمن میں ہی شمار کیاہے، امام نوویؒ فرماتے ہیں: کہ محدثین، فقہاء اور جمہور علماء نے فریاماہے کہ ضعیف حدیث پر عمل کرنافضائل وترغیب وترہیب میں جائز اورمستحب ہے،(الاذکار، ص8۔7) اور اسی اصول کو دیگرعلماء ومحدثین کرام نے تحریرفرمایا ہے، جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں: شیخ ملاعلی قاریؒ(موضوعات کبیرہ، ص5، شرح العقاریہ، ج1، ص9)شیخ امام حاکم ابوعبد اللہ نیشاپوریؒ (مستدرک حاکم، ج۱،ص490)شیخ علامہ الشوکانیؒ (نیل الاوطار1044/3) شیخ حافظ ابن رجب حنبلیؒ (شرح علل الترمذی (شیخ علامہ ابن تیمیہ حنبلیؒ (فتاویٰ ج۱، ص39) شیخ نواب صدیق حسن خانؒ(دلیل الطالب علی المطالب ص889)
بہر حال موجودہ دور میں شب برات کے متعلق امت مسلمہ کا ایک بڑاطبقہ افراط وتفریط کا شکاربن کر رہ گیاہے بعض حضرات شبِ برات کی نفلی عبادت میں غلو کرجاتے ہیں، مثلاََنوافل، ذکر اذکار، روزہ ومغفرت، اور قبرستان پر جانالازمی شمارکرتے ہیں، اور بڑے اہتمام سے اس کے انتظام میں منہمک رہتے ہیں، اپنے گھروں، مسجدوں اور قبرستانوں کو چراغاں کرتے ہیں، اور حلوے کھانے وپکانے کا خوب زوروشور کے ساتھ اہتمام بھی کرتے ہیں، چہ جائے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت کردہ مذکورہ حدیث میں گھروں ومسجدو ں اورقبرستانوں کوچراغاں کرنے اور حلوے کھانے و پکانے کاذکر نہیں ہے، لیکن پھر بھی ضروری اورلازمی سمجھ کرانجام دیتے ہیں،اسی کے برعکس ایک دوسراطبقہ شب ِ برات کی حقیقت اور اس کے فضائل کوماننے سے انکارکر تے ہیں، اور مذکورہ تمام چیزوں کے اہتمام کو بدعت شمار کر تے ہیں، حالانکہ بخاری ومسلم شریف میں ایک دوسری حدیث حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: ومارایتہ فی شھراکثرمنہ صیاماََ فی شعبان، یعنی میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ نفلی روزے رکھتے ہوں ] بخاری ومسلم [ماہ شعبان میں آقاصلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ نفلی روزے کااہتمام کرتے تھے اس میں کئی وجوہات اور حکمتیں بیان کی گئی ہیں،بعض حدیثوں سے بھی اشارہ ملتاہے چنانچہ حضرت اسامہ بن زید ؓ سے مروی ایک حدیث ہے کہ اس بارے میں پیارے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاگیاتوآپ نے فرمایاکہ: اسی ماہ کے اندر بارگاہ الہٰی میں بندوں کے اعمال کی پیشی ہوتی ہے، اورمیں اس بات کی خواہش رکھتاہوں کہ جب میرے اعمال کی پیشی ہوتومیں روزے کی حالت میں ہوں، علاوہ ازیں رمضان کا قرب اس کے انواربرکات سے مزید مناسبت پیداکرنے کاشوق اورداعیہ بھی غالباََ اس کا سبب اورمحرک ہوگا، اور شعبان کی نفلی روزوں کورمضان کے فرض روزوں سے وہی مناسبت ہوگی جوفرض نمازوں سے قبل پڑھی جانے والی نوافل کو فرضوں سے ہوتی ہے، اسی طرح ماہ شوال کے چھ نفلی روزوں کی تعلیم وترغیب میں وہی مناسبت ہوگی جوفرض نمازوں کے بعد والی سنتوں ونفلوں کو فرض نمازسے ہوتی ہے (معارف الحدیث، ج4،ص379)
اگر کوئی صاحب ِ ایمان حدیث مذکورکی وضاحت کو اپنے ذہن ودماغ میں رکھتے ہوئے ماہ رجب وشعبان کی فضیلت کو اپناتے ہوئے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ” اللّھم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلغنارمضان“ ] مسنداحمد، طبرانی، بیہقی[کوسنتِ رسول جانتے ہوئے شبِ برات میں نوافل و اذکار ومستحبات اور اس کے صبح کبھی نفل روزے کااہتمام کرے اور کبھی نہ کرے توان کے بدعتی ہونے کافتویٰ صادر کرناکونسی عقلمندی ہے؟ہم نے ماناکہ فضائل ِشب ِ برات کے متعلق احادیث ضعیف ہیں،لیکن زیادہ ممکن ہے کہ وہ حدیث حسن ہو، صحیح ہوجس کی وجہ کر نبی صلی اللہ علیہ کے فرمان کا انکارلازم آئے، اور یہ توفضائل کی بات ہے ساتھ ہی اصول بھی ہے کہ ضعیف حدیث فضائل میں معتبر ہے، اس کے علاوہ جید علماء، فقہاء اورمحدثین ِکرام کی ایک بڑی جماعت کی رائے ہے کہ پندرہویں شعبان سے متعلق احادیث کے قابل قبول اور امت مسلمہ کا عمل ابتداء سے اس پر عمل ہونے کی وجہ سے پندرہویں شعبان کی رات میں انفرادی طورپر نفل نمازوں کی ادائیگی، قرآن کریم کی تلاوت، ذکر اور دعاؤں کاکسی حدتک اہتمام کرناچاہئے،لہذااس نوعیت سے پندرہویں شعبان کی رات میں عبادت کرنابدعت نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔

محمدافروز سلیمیؔ
8002853919
معاون قاضی امارت شرعیہ جمشیدپور

حج اوراس کے تقاضے :عفیف اللہ قاسمی امام خطیب مسجدزکریا

 مرتب:(مفتی)عفیف اللہ قاسمی امام خطیب مسجدزکریاایچ آر ایس چوک دہلی روڈ میرٹھ شہریوپی۔
 حج اوراس کے تقاضے

                       حج اسلام کاوہ عظیم الشان رکن ہے جس کے ہرہرپہلوسے عشق خداوندی اورمحبت ایزدی کااظہارہوتاہے۔حج کاسفرسیروتفریح نہیں بلکہ بندہ کی جانب سے جذبہئ عاشقی کابھرپورمظاہرہ ہے۔حاجی احرام باندھ کرگویااعلان کرتاہے کہ اب وہ دُنیاوی علائق سے آزادہوکراپنے محبوب حقیقی سے وصال کے لئے رخت سفرباندھ چکاہے اب اس کی زبان پرایک ہی رٹ ہے۔لبیک اللھم لبیک (اے اللہ میں حاضرہوں،میں حاضرہوں)وہ مکہ مکرمہ پہنچ کردیوانہ واربیت اللہ شریف کاطواف کرکے اپنے جذبہئ عشق کوسکون عطاکرتاہے اسی طرح اسے حکم ہے کہ وہ صفا ومروہ کے درمیان عاشقانہ نازوانداز سے سعی کرے۔پھریہی عشق اسے منیٰ،عرفات اورمزدلفہ کی وادیوں میں لے جاتاہے بالآخروہ بارگاہ ایزدی میں قربانی کرکے گویااپنی جان کانذرانہ محبوب کی خدمت میں پیش کردیتاہے۔الغرض سفرحج کاہرلمحہ عشق ومحبت کاآئینہ داراوربندہ کی جانب سے محبوب حقیقی سے سچی انسیت کاکھلامظاہرہ ہے۔اسی لئے اس عبادت کے فضائل بھی بہت عظیم الشان ہیں۔
ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاکہ حج مبرورکابدلہ جنت کے سواکچھ نہیں ہے (مشکوٰۃ شریف ص 222)دوسری حدیث میں ارشادنبوی ہے کہ جوشخص حج کرے اوراس میں بے حیائی اورفسق وفجورنہ کرے تووہ حج کرکے اس طرح گناہوں سے پاک ہوکرلوٹے گاگویاآج ہی ماں کے پیٹ سے پیداہواہے۔ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاگیاکہ کون ساعمل افضل ہے،آپ نے جواب دیااللہ پرایمان لانا،پھرجہاد کرنا،اورپھرحج مقبول جوبقیہ سارے اعمال پراتنے درجہ فضیلت رکھتاہے جوسورج کے طلوع وغروب کے درمیان ہے۔ایک حدیث میں ارشادنبوی نقل کیاگیاہے کہ حج گناہوں کواس طرح دھوڈالتاہے جیسے پانی میل کچیل کوصاف کردیتاہے انکے علاوہ بھی بہت سی احادیث وآثارحج کی فضیلت وعظمت ہیں جن سے یہ اندازہ لگانادشوارنہیں ہے کہ اس اہم عبادت کواللہ رب العزت کی بارگاہ میں خاص امتیاز حاصل ہے۔
سفرحج کی اصل روح پورے سفرکے دوران خاص طورپرمنکرات وفواحش سے کلی اجتناب کرناہے حتی کہ اس سفربہت سے ایسے اموربھی ناجائز قراردئے جاتے ہیں جوسفرسے پہلے جائز ہوتے ہیں مثلابیوی سے بے حجابی کی باتیں کرنا،زیب وزینت کرناوغیرہ دراصل حج کی قبولیت کامدارانہی ہدایات کی پیروی کرنے پرہے۔
یہ بات نہایت افسوس ناک ہے کہ آج کل حج جیسی پرعظمت عبادت میں ریاکاری،شہرت طلبی،اسراف اورمنکرات پرمبنی رسمیں جگہ پکڑتی جارہی ہیں اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی پوری طرح صادق آرہی ہے کہ آخری زمانہ میں چارطرح کے لوگ حج کریں گے چچ،بادشاہ تفریح کی غرض سے،امراء تجارت کے مقصد سے،فقراء بھیک مانگنے کیلئے،اورقرّااورعلماء شہرت طلبی کیلئے۔یہ غیرشرعی التزامات حاجی کے سفرپرجانے سے کافی دنوں پہلے سے شروع ہوجاتے ہیں۔حاجی کی طول طویل دعوتیں ہوتی ہیں کہیں کہیں قوالی کی محفلیں بھی منعقدکی جاتی ہیں،اوربجائے اسکے کہ احکام حج کوسیکھاجائے اورآتش شوق میں اضافہ کیاجائے فضول ملاقاتوں میں وقت ضائع کیاجاتاہے پھرجانے والے دن سارے خاندان کے افرادمردوعورت جمع ہوتے ہیں اسی پربس نہیں بلکہ ایک ایک حاجی کوائیرپورٹ تک چھوڑنے کیلئے سوسوافراد جاتے ہیں جن میں بے پردہ عورتیں حتی کہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی شامل ہوتے ہیں اورائیرپورٹ پروہ شورشرابا،فوٹوگرافی اوربے حجابی کے نظارے دیکھنے میں آتے ہیں الامان الحفیظ،ایک میلالگارہتاہے جس میں عبادت کاجذبہ برائے نام اورسیروتفریح اصل مقصود ہوجاتی ہے حاجی کوپھولوں سے لاد کراس کے ساتھ تصاویرکھنچوائی جاتی ہیں،اوربعض لوگ توباقاعدہ،،ویڈیوفلم میکر،،کوساتھ لے کرجاتے ہیں جوان سب مناظرکوکیمرے میں قیدکرنے کافرض انجام دیتاہے گویاپہلے ہی مرحلے میں اللہ رب العزت کی نافرمانی سامنے آتی ہے اورحج کے سفرکی روح نکال دی جاتی ہے۔پھربہت سے لوگ حج کے ارکان کی ادائیگی کے وقت بھی جائز وناجائز کی طرف قطعادھیان نہیں دیتے بیت اللہ شریف میں حجراسود کے بوسہ کیلئے اس قدرازدحام ہوتاہے کہ مردوعورت کاامتیاز اورلحاظ باقی نہیں رہتاعورتیں بے حیائی کے ساتھ غیرمردوں کے درمیان گھس جاتی ہیں جبکہ اس طریقہ پرمعصیت کرکے حجراسود کاستلام ثواب نہیں بلکہ گناہ ہے کیونکہ اگربوسہ لینے کاموقع نہ ہوتودورسے اشارہ کرکے ہاتھ چوم لے سے بھی بعینہ وہی ثواب ملتاہے،توگناہ کے ارتکاب سے کیافائدہ؟اس مقدس اورمبارک مقام پراس بے حیائی کااظہارحددرجہ مذموم اورقابل ترک ہے حج کے ہرلمحہ میں اس طرح کے بے حیائی کے کاموں سے مکمل اجتناب کرناچاہئے اللہ کاشکرہے کہ حکومت سعودیہ کی توجہ سے حرم نبوی مدینہ منورہ میں زیارت کے لئے مردوں اورعورتوں کے الگ الگ اوقات مقررکردینے سے وہاں بے محابااختلاط سے نجات مل گئی ہے خداکرے مسجدحرام میں بھی اس طرح کی کوئی شکل نکل آئے تواس عموم بلویٰ سے چھٹکاراحاصل کیاجاسکتاہے۔اسی طرح اپنی نظرکی حفاظت میں لوگ بڑی کوتاہی کرتے ہیں۔یہ بڑی محرومی اوربدبختی کی بات ہے کہ انسان وہاں جاکربھی اپنے نفس کوقابومیں نہ رکھ سکے۔
اسکے بعدجب حاجی فریضہ حج اداکرکے وطن واپس ہوتاہے توپہلے ہی سے اس کے استقبال کے لئے ایئرپورٹ پہنچنے والے رشتہ دارجن میں مردوعورت سب شامل ہوتے ہیں معصیت اورنافرمانی کی چیزیں،فوٹواورویڈیوکیمرے اسی طرح پھولوں اورنوٹوں کے ہارلئے تیارہتے ہیں اوراطاعت خداوندی کاعہدکرکے لوٹنے والاحاجی آتے ہی ان معاصی میں مبتلاہوکرقبولیت دعاکی سعادت سے محروم ہوجاتاہے اس لئے کہ حدیث پاک میں ہے کہ حجاج سے گھرلوٹنے اورگناہوں میں مبتلاہونے سے قبل دعاکراؤ،پھرگھرآکرجورسمیات اپنائی جاتی ہیں وہ سب بھی حج کی روح سے میل نہیں کھاتیں۔یہ صورت حال افسوس ناک ہی نہیں بلکہ تشویش ناک بھی ہے اورمعاشرہ کے بااثراورہوشمندافراد نے اگراس پرسنجیدگی سے توجہ نہ دی توحج کے نام پرکی جانے والی یہ فضول خرچیاں بڑھتے بڑھتے حج کے اصل مصارف سے بھی زیادہ ہوجائیں گی۔اورمعاشرہ کے ایک عام فرد کیلئے حج ویسے ہی مشکل ہے اگریہی صورت رہی تواورمشکل ہوجائیگااورکتنے لوگ شرعی طورپرحج فرض ہونے کے باوجود اس انتظارمیں حج سے محروم رہیں گے کہ حج سے پہلے اوربعدکے اوپری خرچوں کاانتظام ہوجائے خداکرے ہماری آنکھیں کھلیں اورعبادت کوعبادت کی حیثیت سے انجام دینے کی توفیق حاصل ہو۔آمین۔
امام غزالی نے لکھاہے کہ حج مقبول کی نشانی یہ ہے کہ حاجی دنیاسے بے رغبت،آخرت کی یادمیں مستغرق اوردوبارہ زیارت حرمین شریفین کاشوق لے کرلوٹے۔اگریہ جذبات نہیں ہیں توسمجھ لے کہ اس کاحج مبرورنہیں ہے۔ہونایہ چاہئے کہ حج،انسان کے اعمال میں انقلاب،اطاعت کی توفیق اورمعاصی سے مکمل احتراز کاذریعہ بن جائے جبھی سفرحج کاواقعی فائدہ حاصل ہوسکتاہے۔اللہ تعالی سب کوہدایت سے نوازے اورحج کے تقاضوں پرعمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین۔
نئے حجاج کرام سے خاص طورپراستدعاہے کہ وہ کوتاہیوں پرتوبہ واستغفارکرکے آئندہ صاف ستھری اورسنت کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کریں یہ ان کے حج کی قبولیت کی بڑی نشانی ہوگی (واللہ ولی التوفیق)

مرتب: (مفتی عفیف اللہ قاسمی)امام وخطیب مسجدزکریاایچ آر ایس چوک دہلی روڈ میرٹھ شہریوپی۔
موبائل نمبر:9760387786

کیا قربانی سے جانور کم ہوجائیں گے۔؟ : افروز سلیمیؔ

 کیا قربانی سے جانور کم ہوجائیں گے۔؟    

 افروز سلیمیؔ
 معاون قاضی امارت شرعیہ جمشیدپور
 موبائل 8002853919

                               قربانی کرنا اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے عطاکر دہ ایک عبادت واجبہ ہے،اور خود رب کا ئنات نے اپنی کتاب قران مقدس کے سورہ کو ثر میں فرمایا کہ ”آپ اپنے رب کے لئے نماز اداکیجئے اور قربانی کیجئے“ قربانی اللہ کے نبی حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی سنت ہے اور باتفاق جمہور علمائے اسلام ہم امت محمدیہ پر واجب ہے اب اگر کوئی عبادت واجبہ کو ترک کرکے یہ کہنا شروع کر دے کہ قربانی کے ایام میں بیک وقت لاکھوں جا نور ہلاک ہوجاتے ہیں تواس کا مضر اثر قوی اقتصادیات پر پڑتاہے،جانور کم ہوجا تے ہیں،جس کی وجہ سے لوگوں کے دیگر ضروریات زندگی(دودھ، دہی، گھی،گوشت اور کھیت کی جوتائی وغیرہ) پوری نہیں ہوپائے گی، اور ملت کا ایک بڑا طبقہ حرج اور مشکلات و پریشانی میں پڑجا ئیں گے، لیکن یہ خیالات صرف ہماشماکے ذہن پر مسلط ہو تے ہیں جبکہ خالق ِکائنات کی قدرت ِکاملہ اور اس کے نظام کائنات کا ہم بارہامشاہدہ کر تے ہیں اور آئے دن ہم نظام قدرت سے آشناہوتے رہتے ہیں،اور وہ یہ کہ جب دنیا میں کسی چیز کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے تو خالق کائنات بھی اس کی خلقت میں اضافہ کر دیتے ہیں اور جب ضرورت کم ہوتی ہے تو اس کی خلقت میں کمی ہوجاتی ہے، مثلا کوئی شخص کنوئیں کے پانی پر رحم کھاکر اس لئے نکالنا چھوڑدے کہ کہیں پانی ختم نہ ہوجائے۔ توکیا کنوئیں کے سو نتھ بند ہو جائیں گے اور کنواں پانی دینا چھوڑ دے گا؟ نہیں! بلکہ جتنا زیادہ پانی کی کھینچائی ہوگی اسی قدر پانی زیادہ دے گا۔ ہم اندازہ کر یں اور اعداد وشمار کا حساب لگاکر دیکھیں، زمانہ گذشتہ میں جتنی قربانی کی جاتی تھی آج اس قدر قربانی نہیں کی جاتی ہے،دیگر عبادات مثلاََنماز،روزہ، زکوۃ اور حج کی طرح قربانی کا فریضہ انجام دینے میں سستی و کاہلی برتتے ہیں اور اس سلسلے میں دیگردنیاوی حالات کے شکنجوں میں ہم مسلمان جکڑ گئے ہیں،مگر جب ہم تاریخ اسلام کا مطالعہ کر تے ہیں اور زمانہ خیر القرون پر ہم اپنی نگاہ دوڑاتے ہیں تو ایک ایک فرد ایک جانور نہیں بلکہ سو،سو اونٹوں کی قربانی کر تے تھے۔خودپیارے آقاجناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو اونٹوں کی قربانی پیش کی، اور ان جانوروں میں سے پیارے آقانے خود اپنے دست مبارک سے تریسٹھ اونٹوں کی قربانی کا فریضہ انجام دیا۔] تاریخ قربانی[اس زمانہ خیر القرون میں قربانی کی اس قدر فراوانی وزیادتی کے باوجود یہ شکایتیں نہیں سنی گئی کہ جانور نہیں ملتے یا جانور خریدنے میں کافی روپئے خرچ ہوتے ہیں اور جانور کو حاصل کر نے کے لئے کافی مشکلات کا سامنا کر نا پڑتاہے،اس طرح کی بات ہر گز کسی نے نہ کہی اور نہ سنی گئی،مگر آج لاکھوں انسان جن پر قربانی کر نا شرعاََ واجب ہے او ر وہ شخص اس لائق ہیں کہ قربانی کرسکتے ہیں لیکن پھر بھی قربانی نہیں کر تے ہیں،اورطرح طرح کے حیلہ اختیار کرتے ہیں،کہ قربانی سے جانور کم ہوجائیں گے، یقین مانئے آج بھی بہت سے ممالک ہیں،جہاں مسلمانوں کی آبادی برائے نام ہے، نہ وہاں قربانی ہوتی ہے اور نہ جانور کم ہوتے ہیں،مگر جانور اور گوشت کی قیمت ہمارے ملک سے کہیں زیادہ نظر آتی ہے اگرمسلم قوم آج بھی ایک سال کے لئے کسی شہر یا ملک میں قربانی بند کر دے تو کیا جانور وگوشت کی قیمت میں کمی ہوجائے گی وہاں کی اقتصادیات میں بہتری ہوجائیگی؟ کیاوہاں جانور کافی تعداد میں پائے جائیں گے؟ دودھ یاگھی کی ندیاں بہہ جائے گی؟ جواب نہیں، نہیں ہر گز نہیں۔۔۔ آج ہمارا ملک ہندوستان ہے اسی ہندوستان میں جبکہ مسلمان اور انگریزی فوج روزانہ لاکھوں گائے ذبح کیاکر تے تھے اور سالانہ قربانی ہواکر تی تھی لیکن گھی اور دودھ کی قیمت اس قدر زیادہ نہ تھی جس قدرا ٓج کے دور میں ہے، وجہ صرف اور صر ف یہ ہے کہ ہم نے نظام خالق کائنات کے خلاف راہ اختیار کر لئے ہیں دیگر فرائض کے ساتھ ہم نے واجبات کو بھی ترک کر دیا ہے،کیا یہ مثال دنیاوالوں کے نظروں تلے نہیں ہے کہ اب سے سوسال قبل میل درمیل کا سفر صرف گھوڑوں پر ہی کیا جاتاتھا، اور ساری دنیا میں جنگ وجدال صرف گھوڑوں ہی کے ذریعہ کی جاتی تھیں، فوج کے لئے لاتعداد گھوڑے پالے جاتے تھے، اور اب موجودہ زمانے میں جب گھوڑوں کی جگہ سا ئیکلوں، موٹر سا ئیکلوں،کاریں،بسوں، ریلوں اور ہوائی جہازوں ودیگر سواریوں نے لے لی تو کیا دنیامیں گھوڑے سستے ہوگئے؟ہر گلی،کوچے میں گھوڑے ہی ہنہنانے لگے؟نہیں لوگو!یہ خالق کائنات کا عظیم کارخانہ او ر نظام خداوندی ہے جو انسانی سمجھ بوجھ،عقل و فہم او ر ان کی خود ساختہ تجویز سے اعلیٰ وارفع ہے۔
                    کاش کہ قربانی سے ناآشنا مسلمان تھوڑی دیر سوچ لیتے اور خوب اچھی طرح غور وفکر کر لیتے توقربانی جیسے مقد س عمل کو فقط ایک رسم یا عید کی تفریح ہرگز نہ بناتے، بلکہ اس کی حقیقت کو بین النظرین رکھ کر، اللہ کے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت سمجھ کر،پیارے نبی آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو پڑھکر،سن کر، اورخود عبادت واجبہ کوواجب جان کر،اس مقدس فریضہ کو انجام دیتے تو ایمان و عمل میں قوت واخلاص کی برکات کا مشاہد ہ کر نے لگتے، یاد رکھئے قربانی سے ایمان واخلاص میں قوت اوراعمال شاقہ کے لئے عزم و ہمت پیداہوتی ہے۔

افروز سلیمیؔ
معاون قاضی امار ت شرعیہ جمشیدپور ِِ
ِ