غزل : مقصود انور مقصود – دوحہ ، قطر
غزل
مقصود انور مقصود
دوحہ ، قطر
ہتھیلی پہ تمہاری شوق سے میں اپنی جاں رکھ دوں
کہو تو کورے کاغذ پہ انگوٹھے کا نشاں رکھ دوں
اگر سچ بولنا ہے جرم تو پھر آپ بتلائیں
لبوں پہ قفل ڈالوں کاٹ کر اپنی زباں رکھ دوں
تجھے میری وفاداری اگر مشکوک لگتی ہے
زمانے میں گناکر میں بھی تیری خامیاں رکھ دوں
ابھی تک تو نے میرے لمس کا جادو نہیں دیکھا
وہ میرا ہو کے رہ جاتا ہے میں انگلی جہاں رکھ دوں
اگر کشتی ہواؤں کے اشارے پر ہی چلنی ہے
تو کیا ایسا کروں کہ کھول کر میں بادباں رکھ دوں
وفا کے نام پر عہد وفا کو توڑنے والا
بضد ہے نام اس کا میں جہاں میں مہرباں رکھ دوں
تمنا دل کی برآۓ تجھے مقصود مل جائے
زمیں کی گود میں لاکر کہو تو آسماں رکھ دوں
———
مقصود انور مقصود
دوحہ ، قطر
آخری ای میل : رضواں واسطیؔ
آخری ای میل
رضواں واسطیؔ
میں بسم اللہ تو لکھوں، تمہارا نام کیا لکھّوں؟
یہ سوچوں آخری خط میں تمہیں پیغام کیا لکھّوں؟
کہا تھا میں نے تم کو کیوں کہ نازِ نازنیں ہو تم
ہو مہ رو، ماہِ طلعت،ماہِ انجم، مہ جبیں ہو تم
میں آئینہ تھا پھر بھی کہتا تھا حسیں ہو تم
مگر میں ہی غلط تھا جو سمجھتا تھا نہیں ہو تم
فقط اس بحث میں کیوں الجھیں عشق اور دوستی کیا ہے؟
ویلن ٹائن کسے کہتے ہیں؟ چودہ فروری کیا ہے؟
یہ اکیسویں صدی کیا ہے؟ یہ پندرہویں صدی کیا ہے؟
کہاں پہنچے ہوئے ہیں ہم؟زمانہ آخری کیا ہے؟
پرائیویٹ زندگی میں ایک دن دیدار کر بیٹھا
یہ سچ ہے میں تمہارے حسن کا اقرار کربیٹھا
ہے یہ بھی سچ کہ میں تم سے ذرا سا پیار کر بیٹھا
ذرا موقع دیا تم نے تو میں اظہار کر بیٹھا
تمہاری براؤن آنکھوں میں بھی تھوڑی سی گلابی تھی
وہ بھیگی فروری کی شام بھی ہلکی شرابی تھی
مگر یہ سچ نہیں کہ میری نیت میں خرابی تھی
مری حرکت مری اپنی نہیں تھی بس جوابی تھی
کبھی کھائی تھیں قسمیں دوستی تم نے نبھانے کی
کہ رسمیں ہی کہاں توڑی تھیں ہم نے کچھ زمانے کی
نہیں تھی بات کوئی بیتی باتیں بھول جانے کی
روابط ٹوٹنے کے بعد بھی ملنے ملانے کی
تمہارا فون کرنا مجھ کو بستر سے اٹھا لینا
کبھی وہ آرکائیو لائبریری میں بلا لینا
مرا پھر روٹھنا تم سے تمہارا پھر منا لینا
مگر اب یاد آتا ہے تمہارا مُنہ چرالینا
تمہاری کاپیوں میں میری تحریروں کا مل جانا
کتابوں میں تمہاری میری تصویروں کا مل جانا
نہ بھایا وقت کو کیوں پاک تقدیروں کا مل جانا
ہوا کیوں خواب پھر خوابوں کی تعبیروں کا مل جانا
فقط مانی زمانے کی نہ مانی آرزو دل کی
بہت لمبی نہیں تھی باقی یوں تو راہ منزل کی
ادھوری راہ سے پلٹی نہ پھر ڈگری ہی حاصل کی
مری کشتی ڈبودی جیسے کچھ لہروں نے ساحل کی
ہوس سمجھیں گے اس کو لوگ الفت کون سمجھے گا
میں سمجھوں اور تم سمجھوگے عصمت کون سمجھے گا
یہ رسوا دونوں کو کردیں گے تہمت کون سمجھے گا
یہ کیا شے ہے پلاٹونِک محبت، کون سمجھے گا
چمن میں پھول کھلتے ہیں تو مرجھانا بھی پڑتا ہے
جو اس دنیا میں آتا ہے اسے جانا بھی پڑتا ہے
سمجھ آئے نہ آئے خود کو سمجھا نا بھی پڑتا ہے
کھلونے دے کے اپنے دل کو بہلانا بھی پڑتا ہے
مرا دل ناپتا ہے عشق کی گہرائیاں اب بھی
تصور میں چلی آتی ہیں وہ پرچھائیاں اب بھی
ستاتی ہیں بہت مجھ کو مری تنہائیاں اب بھی
اٹھادیتی ہیں طوفاں ذہن میں شہنائیاں اب بھی
جو خط تم کو لکھا ہے ایک دن ای میل کردوں گا
اُسی دن سوچتا ہوں ختم سارا کھیل کردوں گا
٭٭٭٭٭
غزل "لُوٹا ہے میر ے دل کا چمن ایک بہار نے…” مہتاب عالم پرویزؔ (کویت) LUTA HAI MERE DIL KA CHAMAN EK BAHAR NE … MAHTAB ALAM PERVEZ – KUWAIT
غزل
لُوٹا ہے میر ے دل کا چمن ایک بہار نے…..
مہتاب عالم پرویزؔ (کویت)
MAHTAB ALAM PERVEZ-KUWAIT
ہر بد دعا کا درد دعاؤں کو دے دیا
میرا پتہ یہ کس نے بلاؤں کو دے دیا
لُوٹا ہے میر ے دل کا چمن ایک بہار نے
الزام تُونے کیسے خزاؤں کو دے دیا
جلتا رہا چراغ ہواؤں کے زور پر
کیسا نظام رب نے ہواؤں کو دے دیا
گُذرا ہے راہ گیرکوئی اس مقام سے
پیغام میرا اُس نے ہواؤں کو دے دیا
خنجر تلاش کرتا تھا قاتل تمام شب
آ نکھوں سے حُکم میں نے اداؤں کو دے دیا
مجھ سے خطا ہوئی تھی یہ اُن کا خیال ہے
ایک داغ جس نے میری وفاؤں کو دے دیا
سب کچھ گنواکے ہوش میں آنے سے یہ ہوا
ساری دعائیں اُن کی وفاؤں کو دے دیا
رُوٹھا رہا وہ شخص سدا میری ذات سے
اپنی انا کی بھینٹ سزاؤں کو دے دیا
مہتابؔ بن کےآ ؤں گا میں کہہ کے آ گیا
ایک انتظار اُن کی جفاؤں کو دے دیا
مہتاب عالم پرویزؔ (کویت)
نظم۔۔۔ "چہرہ” فوزیہ اختر ردا
نظم۔۔۔
"چہرہ”
فوزیہ اختر ردا
آئینے کو بھی چہرہ عطا کیجئے
اور ہونٹوں پہ نغمہ سرا کیجئے
دشت در دشت کالی گھٹا
درد، آنسو، رہے مغفرت کی دعا کے لئے
گرد آفاق سے ڈھک گئے
حسرتوں کے دئے
عکس دیوار پر جھلملانے لگے
روح کی کارسازی یا وارفتگی
معتبر یوں بصیرت خدا کیجئے
آئینے کو بھی چہرہ عطا کیجئے
سانس چلتی رہے اپنی رفتار سے
پیرہن روح کی سی لیا ورد اقرار سے
شر سے مطلب نہیں
خیر ہی خیر ہے
خواب سے کچھ بھی شکوہ نہیں
اس کی تعبیر سے دل الجھتا نہیں
ہم نوا کا پتہ بھی نہیں
ناز و نخرہ نہیں کچھ نشہ بھی نہیں
حسن ایسا عطا کیجئے
آئینے کو بھی چہرہ عطا کیجئے
رنجشوں کی نوازش ہوئ
دوستوں کی نمائش ہوئی
میل دل کا ہو کافور اب
سرنگوں بھی ہو مغرور اب
کرچیاں بنکے اڑنے لگے
عشق کے وار سے
اچھے اچھے ہوئے
منقسم، منہدم
جس کے آگے زمانہ جھکے
قلب ایسا عطا کیجئے
آئینے کو بھی چہرہ عطا کیجیئے
فوزیہ اختر ردا
غزل : دلشاد نظمی
غزل
دلشاد نظمی
گھُٹی صدا کو کبھی مصلحت رہائی دے
میں چاہتا ہوں مری چیخ بھی سنائی دے
نظر ہٹے کبھی خود سے تو کچھ نظر آئے
خدا کرے تجھے کچھ اور بھی دکھائی دے
اسی کے ہاتھوں سے اترے گی نتھ سیاست کی
جو رونمائی سے پہلے ہی منھ دکھائی دے
لکھوں تو متن مرا سرخیوں سے بھر جائے
رگِ قلم کے لئے ایسی روشنائی دے
بھٹک گیا ہوں میں دنیا تلاش کرتے ہوئے
خدایا مجھ کو کبھی خود سے آشنائی دے
اس اجنبی سے کنکشن بحال کرنا ہے
اسے کہو وہ تعلق کی وائی فائی دے
اس عمر میں مجھے دلشاد چاہیئے عزت
میں چاہتا نہیں بیٹا مجھے کمائی دے
دلشاد نظمی
غزل- مشتاق احزن : گھر جلتا ہے GHAZAL – GHAR JALTA HAI…..MUSHTAQUE AHZAN
غزل
مشتاق احزن : جمشید پور
انڈیا
جب کبھی میری امیدوں کا شجر جلتا ہے
میرے اندر کہیں احساس کا پر جلتا ہے
وہ تو رہتا ہے مرے پیکر اشعار میں گم
ہاں اسی واسطے سوچوں کا سفر جلتا ہے
وہ اندھیروں کو نگل جاتا ہے بن کر سورج
جہد کی آنچ پہ جو شام و سحر جلتا ہے
سرد لہروں سے بھڑک اٹھتے ہیں دل میں شعلے
کیا قیامت ہے کہ برسات میں گھر جلتا ہے
روزو شب ظلم کے سائے میں جہاں کٹتے ہیں
ایسی جگہوں پہ تو آہوں کا ثمر جلتا ہے
اپنی نفرت میں وہ رہتے ہیں شرابور احزن
اور میں ہو کہ محبت میں جگر جلتا ہے
مشتاق احزن جمشید پور
انڈیا
موبائل نمبر 9334195021
ہندوستان کی مشہور ومعروف شاعرہ ” فوزیہ اختر ردا ” کی غزلوں پر تبصرہ : پروفیسر رام داس، جھارکھنڈ، رانچی
ہندوستان کی مشہور ومعروف شاعرہ "فوزیہ اختر ردا” کی غزلوں پر تبصرہ قارئین کی نذر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
تبصرہ۔۔۔ پروفیسر رام داس، جھارکھنڈ، رانچی
فوزیہ اختر ردا کی شاعری اردو شعر و ادب میں نئی روح پھونکنے اور نئی زندگی بخشنے والوں میں شعرا، ادبا، ناقدین، افسانہ نگار، مقالہ نویس، اساتذہ (Men)، کے شانہ بشانہ خواتین اساتذہ، شاعرات، ادیبہ و ناقدہ، مضمون و مقالہ نویسندہ، کہانی کار، گلوکارہ، اداکارہ وغیر حضرات women artist یعنی ذہین و فطین، زن و خواتین فنکار بھی ازل سے کارہائے نمایاں انجام دیتی رہی ہیں مثلا زیب النسا، بیگم مخفی، حبہ خاتون، مہ جبیں بیگم ناز عرف مینا کماری، پروین شاکر وغیرہ- جدید اور وحید العصر شاعرات میں بھی متعدد اور منفرد نیز مختلف مکاتیب فکر کی قابل قدر خواتین قلمکار حضرات موجود ہیں جو تحریری تصاویر اور نقوش مقدس پیش فرما کر سرخرو ہو رہی ہیں ان ہی میں سے ایک بالکل نئی شاعرہ محترمہ فوزیہ اختر ردا صاحبہ ہیں جو دنیائے شعر و ادب میں مشق سخن اور مسلسل تخلیق فن کے سبب روز بروز فوز و کامرانی حاصل کر رہی ہیں اور ترقیوں کی سیڑھیاں چڑھتی جا رہی ہیں۔ بحر متقارب مثمن محزوف کے مخصوص ارکان فعولن فعولن فعل کے تحت فوزیہ اختر ردا فرماتی ہیں۔۔۔
وفاؤں کا وہ مستقر لے گیا
مری چاہتوں کا ہی گھر لے گیا
محبت” اگر شرط بندوں سے ہے "
فرشتوں سے بازی بشر لے گیا
مرے پاؤں سے اس نے کھینچی زمیں
سفر سے مرے ، رہگذر لے گیا
تماشا، تصنع کہ مکر و فریب
دعاؤں سے تیری اثر لے گیا
ابھی اس کا مرکز کوئی اور ہے
کدھر کا نشانہ کدھر لے گیا
اس دور پر آشوب میں اردو کی شاعرات جدید تحریک اور ہیجان
& Stimulation Encouragement سے متاثر ہو کر اپنے اضطراب، اضطرار، جوش و ہیجان، ہلچل، بے تابی اور بے قراری STIR & AGITATION کو اپنے جدید سے جدید تر اسالیب، شعریات و منظومات، غزلیات و مثنویات اور قطعات و رباعیات وغیرہ میں پیش کر رہی ہیں۔ بحر خلیل جیسی ثقیل، سخت اور مشکل وزن کے اہم افاعیل و ارکان ” فعولن فاعلاتن فاعلاتن” کے تحت عزیزہ فوزیہ اختر ردا صاحبہ کہتی ہیں ۔۔۔
جوآنسو ہم بہانے لگ گئے ہیں
سمندر کو دہانے لگ گئے ہیں
شب تاریک بھی بے خواب گذری
اجالے بھی ستانے لگ گئے ہیں
یہ دل ہر دم سرابوں میں رہا ہے
بیاباں میں زمانے لگ گئے ہیں
دعا کی ہے رسائی عرش پر اب
تو ہم دل کو منانے لگ گئے ہیں
یہ تنہائی سنور جائے مری اب
کہ لمحے مسکرانے لگ گئے ہیں
محبت سے صدا دی منزلوں نے
قدم ہم بھی بڑھانے لگ گئے ہیں
اس غزل کے مطلع پر خدائے سخن میر تقی میر، اکبر آبادی، مرزا اسد اللہ خان غالب، شوکت علی فایونی بدایونی، رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری وغیرہ کی روحیں رقصِ درد و غم فرمائیں گی ویسے ردا کے بیشتر اشعار میں حکیم مومن خاں مومن، نواب مرزا خاں داغ دہلوی، سید فضل الحسن حسرت موہانی وغیرہ کے رنگ بھی ہیں۔ ردا نے ویسی علامتوں کا ذکر بالکل نہیں کیا جو غزل کے روایتی اسلوب سے مطابقت نہ رکھتی ہوں۔ ردا کے اشعار سادہ، سنجیدہ اور پسندیدہ ہیں۔ پھر خفیف مسدس مجنون محزوف مقطوع کے مخصوص ارکان "فاعلاتن مفاعلن فعلن” کے تحت فوزیہ اختر ردا فرماتی ہیں۔۔۔
مضطرب آرزو ضروری ہے
آنکھ میں بھی نمو ضروری ہے
تجھ کو پانا نہیں ہے ناممکن
ہاں مگر جستجو ضروری ہے
ربط رکھنے کے واسطے ہمدم
فون پر گفتگو ضروری ہے
پیار کرنا مگر تخیل میں
پیار کی آبرو ضروری ہے
اپنی منزل کی دید کی خاطر
راہ میں ماہ رو ضروری ہے
بن چکی ہے ردا فقط اس کی
شور یہ کو بکو ضروری ہے
اردو غزل میں ردا نے ہندی و انگریزی وغیرہ کے بھاشاؤں کے شبدوں کا ذکر بڑی خوبصورتی سے کیا ہے جو قابل داد و مبارکباد ہے- چونکہ اردو لشکری زبان ہے اردو بھاشاؤں میں تمام بھاشاؤں کے الفاظ شامل ہیں جن سے غزل تخلیق کرنے اور سکیولر (secular) اور ٹیمپورل (Temporal) مزاج رکھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ موجودہ زمانے میں پنپتے ہوئے کٹھ ملے پن، جہالت بھرے پنڈت پن، نصرانیت و یہودیت وغیرہ کے بے جا اور نہایت نا معقول و خطرناک اور مضر اثرات کے باعث جدید نسلیں تباہ و برباد بلکہ نیست و نابود کی حدود تک ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ حیف صد حیف!! مجھ جیسے حقیر لیکن باروشن ضمیر فقیر رام داس جاوید المعروف والخطاب بہ "غالب ثانی” نے بحر رمل مثمن مجنون ابتر کے اہم افاعیل وارکان فاعلاتن، فعلاتن، فعلاتن، فعلن کے تحت کہا ۔۔
لوگ دنیا کے بنے جاتے ہیں دشمن ہر دن
مجھ کو دنیا کو بچانے کے لئے جینا ہے
بحر ہزج سالم اخرب محزوف مقصور کے مخصوص ارکان مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن و فعولان کے تحت عزیزہ فوزیہ اختر ردا صاحبہ کہتی ہیں۔۔
ملتے ہیں عداوت سے ہی جیون میں سبھی لوگ
دشمن تو ملا کرتے ہیں پیارے نہیں ملتے
اشکوں کے سمندر میں کنارے نہیں ملتے
اب ڈوبنے والوں کو سہارے نہیں ملتے
ہیں بھید جو گہرے، وہ مرے دل میں چھپے ہیں
فوزی نے سمجھا تھا، شرارے نہیں ملتے
فوزی کو ان کے دیور ( معنوی) شری پریم ناتھ بسمل جی بڑے پیار اور عقیدت و احترام سے "بھوجی” کہتے ہیں۔ ایشور یا اللہ عزیزہ فوزی یعنی فوزیہ اختر ردا و ان کے مجازی خدا (خاوند یعنی شوہر نامدار) عنقریب سمجھدار شاعرہ نواز ادیب یا بہترین انسان) ان کی محسن و محب و مکرم سہیلی ڈاکٹر نگار سلطانہ نگار صاحبہ، حضرت منظور قاضی، رام داس وغیرہ کو ہمیشہ حسن اخلاق و حسن کردار نیز خلوص و اخلاص کی دولت سے نوازے۔۔ آمین! بحر مضارع اخرب مکفوف محزوف کے اہم ارکان مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن کے تحت فوزیہ اختر ردا نے چند بہترین اشعار تخلیق کئے ہیں۔۔
اس نے ہمیں جو عشق کا مہمان کر دیا
راہ وفا پہ چلنا بھی آسان کر دیا
مجھ کو تو اس نے رسم محبت کے نام پر
تاعمر تخت ہجر کا سلطان کر دیا
اس نے تو الجھنوں میں گرفتار یوں کیا
سو الفتیں جتا کے پھر انجان کر دیا
اک اس کو چاہنے کے ہی احساس نے
ردا ویران زندگی کو گلستان کر دیا
نئی شاعرات میں فوزیہ اختر ردا کی موجودگی اہم ہے۔ ابھی ردا کو بہت محنت کرنی ہے- اس پیاری شاعرہ کو بہت دور جانا ہے۔اس بے حس اور بے درد زمانے میں اس ادیبہ و شاعرہ کو اپنا لوہا منوانا ہے۔ اپنا مقام بنوانا ہے۔۔ میری دعائیں اور میری نیک خواہشات اس پاکیزہ اور پسندیدہ ہستی کے ساتھ ہیں۔ خدا ردا کو حضرت فاطمہ جیسی بنائے۔۔۔ آمین ۔۔۔۔
غزل : نغمہ ناز مکتومیؔ ” چلے بهى آؤ تم ” CHALE BHI AAO TUM – NAGHMA NAAZ MAKTOOMI
غزل : GHAZAL
نغمہ ناز مکتومیؔ – NAGHMA NAAZ MAKTOOMI
” اپنے شریکِ حیات کے نام "
بہت اُداس ہے موسم چلے بهى آؤ تم
ہماری آنکھیں ہوئیں نم چلے بهى آؤ تم
فضائيں بدلی ہیں منظر بھی روکھا روکھا ہے
بہت خراب ہے موسم چلے بهى آؤ تم
نہ جانے كون سا دن كون سى گھڑى ہو گی
کھڑی ہوں دور ہو ہر غم چلے بهى آؤ تم
پرندے لوٹتے ہیں روز آشیانوں میں
انہیں سے سیکھ لیں کچھ ہم چلے بھی آؤ تم
گزر گئیں کئی صدیاں کہ تم بسے پرديس
پکارے دیس کا موسم، چلے بھی آؤ تم
یہاں بھی جیتے ہیں انسان مال وزر کے بغیر
نہ لوں ریال نہ دِرہم چلے بھی آ ؤ تم
تمہاری نغمہؔ راہ حيات ميں ہوں نہ
نہ ماہتاب ہو مدھم چلے بھی آؤ تم
نغمہ ناز مکتومیؔ
غزل : رضواں واسطیؔ
غزل
رضواں واسطیؔ
کچھ بوجھ سا دل پر ایسا پڑا ہم ٹوٹ گئے ہم ٹوٹ گئے
ہر رنگ بہاراں خاک ہوا ہم ٹوٹ گئے ہم ٹوٹ گئے
تیرے جھوٹے وعدوں کے آنچل ہم اُوڑھ کے سو تو جاتے تھے
اک خواب تھا سو وہ بھی نہ رہا ہم ٹوٹ گئے ہم ٹوٹ گئے
پانی تو ملا شفاف بہت لیکن پانی پھر بھی پانی ہے
اک عکس بنا اور مٹ بھی گیا ہم ٹوٹ گئے ہم ٹوٹ گئے
جو ہو گیا وہ تو ہونا تھا ، قسمت کے لکھے کو رونا کیا
بے وقت جو توڑا عہدِ وفا ہم ٹوٹ گئے ہم ٹوٹ گئے
دشمن سے تو لڑ بھی سکتے تھے اپنوں ہی سے لڑنا مشکل تھا
سنگین تھا شاید جُرم وفا ہم ٹوٹ گئے ہم ٹوٹ گئے
اللہ کی رحمت سے رضواں ہم تو نہ کبھی مایوس ہوئے
دُنیا نے جو ہم کو زخم دیا ہم ٹوٹ گئے ہم ٹوٹ گئے
رضواں واسطیؔ
غزل : ﻓﻮﺯﯾﮧ ﺍﺧﺘﺮ ﺭﺩﺍ GHAZAL OF FAUZIA AKHTER RIDA . KOLKATA
غزل
ﻓﻮﺯﯾﮧ ﺍﺧﺘﺮ ﺭﺩﺍ
کلکتہ، انڈیا
akhterfauzia1978@gmail.com
MOBILE No. 7518713348
تقاضے چاہ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ نبھانے آتے ہیں
ہمیں ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ بہانے آتے ہیں
کبھی خوشی ﺗﻮ کبھی ﻏﻢ سنانے آتے ہیں
ﻣﻼﻝ ﺩﻝ ﮐﺍ ہمیشہ مٹانے آتے ﮨﯿﮟ
ﺟﻮ ﻟﻮﮒ بھول ﭼﮑﮯ تھے ہمیں زمانے سے
کسی بہانے سے ہم ﮐﻭ منانے آتے ہیں
قیام کرتے ہیں یوں ﺗﻮ ﺩﻟﻮﮞ پہ ﺑﺮﺳﻮﮞ تک
ﭘﮭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﻟﻮﮞ کو ﺩُکھانے آتے ﮨﯿﮟ
کسی ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻭ ﺩﻝسے بھلاﻧﺎ ہے مشکل
ﺩﻟﻮﮞ میں آگ ہمیشہ لگانے آتے ﮨﯿﮟ
ﺭﺩﺍ ﮐﻭ ﺭﺍﮒ نئے گنگنانے آتے ﮨﯿﮟ
حسین ﺷﻌﺮ ہمیں بھی سنانے آتے ﮨﯿﮟ
ﻓﻮﺯﯾﮧ ﺍﺧﺘﺮ ﺭﺩﺍ
کلکتہ، انڈیا
akhterfauzia1978@gmail.com
MOBILE No. 7518713348