ایک نظم: اپنے بیٹے کے نام! ڈاکٹر زین رامشؔ
ایک نظم: اپنے بیٹے کے نام!
ڈاکٹر زین رامشؔ
مرے بیٹے!
تمہارا چہرہ پر نور
میرے دل میں بستا ہے
تمہاری مسکراہٹ ذہن کی تاریکیوں میں
نور بنتی ہے
مری راتیں تمہاری خواب کی تعبیر چنتی ہیں
محبت کی
لطافت کی
صباحت کی
عجب تصویر بنتی ہے
میں اس تصویر کو
آنکھوں میں پھر محفوظ کرتا...
امید کی کرن……. از : ثمرین پروین
امید کی کرن از :ثمرین پروین
یہ دنیا اور مری تقدیر کہتی ہے ۔۔۔۔ وہ میرا ہو نہیں سکتامگر میری انا کہتی ہے، وہ میرے سواشایدکسی بھی اور کا ہو ہی نہیں سکتازمانے میں کسی کی کون سنتا ہے؟یہ دنیا کے نظارے کتنے روشن ہیں!نظاروں کے پسِ منظرکوئی چہرہمگر روشن نہیں ہوتاتجھے ثمرین، ہے خواہش زمانے سے رہائی کیرہائی خودکشی سیہو، کبھی ایسا نہیں ہوتاخود اپنی اس تباہی کے ہیں ذمہ دار ہم سب خودنہیں ہوتا ہے کوئی کامیاب ایمان سے ہٹ کرکبھی اللہ کے حکموں سے توتاخیر ممکن ہےمگر میرا خدا مایوس بندوں کو نہیں کرتا۔۔۔!!!
***
Back to Conversion Tool...
اب نہ جاگو گے تو پھر بیکار ہے : احمد نثارؔ
غزل
شاعر: احمد نثارؔ
اب نہ جاگو گے تو پھر بیکار ہےسوچ لو یہ وقت کی للکار ہے
کیا عجب دل کیا عجب دلدار ہےتیرے گلشن میں نہ گل، نہ خار ہے
میان ہے نہ دھار کی تلوار ہےاب خودی ہے نہ کوئی خود دار ہے
رقص ہے نہ روح کے طاؤس میں دل کی پائل میں نہ اب جھنکار ہے
اک مذاقِ زندگی ہے یہ مزاحنامِ فن ہے، اب کہاں فنکار ہے
یہ سمجھنا ہی بہت مہنگا پڑازندگی یہ کونسی دشوار ہے
اپنے آباء کی کبھی تاریخ پڑھجان، دشمن، کون تیرا یار ہے
اپنی دانائی سے تھوڑا کام لےدیکھ بیڑے کتنے کرنا پار ہے
کل تلک تھی آبرو گھر کی بنےآج ننگے سر، سرِ بازار ہے
بے حیائی سر چڑھا کر، دیکھئےساری دنیا بن گئی آزار ہے
کھول کر کہہ دے تو دل احمد نثارؔآگ دل میں پالنا بیکار ہے
٭٭٭٭
شاعر: احمد نثارؔ
Email: ahmadnisarsayeedi@yahoo.co.in...
آخری ای میل : رضواں واسطیؔ
آخری ای میل
رضواں واسطیؔ
میں بسم اللہ تو لکھوں، تمہارا نام کیا لکھّوں؟
یہ سوچوں آخری خط میں تمہیں پیغام کیا لکھّوں؟
کہا تھا میں نے تم کو کیوں کہ نازِ نازنیں ہو تم
ہو مہ رو، ماہِ طلعت،ماہِ انجم، مہ جبیں ہو تم
میں آئینہ تھا پھر بھی کہتا تھا حسیں ہو تم
مگر میں ہی غلط تھا جو سمجھتا تھا نہیں ہو تم
فقط اس بحث میں کیوں الجھیں عشق اور دوستی کیا ہے؟
ویلن ٹائن کسے کہتے ہیں؟ چودہ فروری کیا ہے؟
یہ اکیسویں صدی کیا ہے؟ یہ پندرہویں صدی کیا ہے؟
کہاں پہنچے ہوئے ہیں ہم؟زمانہ آخری کیا ہے؟
پرائیویٹ زندگی میں ایک دن دیدار کر بیٹھا
یہ سچ ہے میں تمہارے حسن کا اقرار کربیٹھا
ہے یہ بھی سچ کہ میں تم سے ذرا سا پیار کر بیٹھا
ذرا موقع دیا تم نے تو میں اظہار کر بیٹھا
تمہاری براؤن آنکھوں میں بھی تھوڑی سی گلابی تھی
وہ بھیگی فروری کی شام بھی ہلکی شرابی تھی
مگر یہ سچ نہیں کہ میری نیت میں خرابی تھی
مری حرکت مری اپنی نہیں تھی بس جوابی تھی
کبھی کھائی تھیں قسمیں دوستی تم نے نبھانے کی
کہ رسمیں ہی کہاں توڑی تھیں ہم نے کچھ زمانے کی
نہیں تھی بات کوئی بیتی باتیں بھول جانے کی
روابط ٹوٹنے کے بعد بھی ملنے ملانے کی
تمہارا فون کرنا مجھ کو بستر...
آخری ای میل : رضوان واسطی
رضوان واسطی :
میں بسم اللہ تو لکھوں، تمہارا نام کیا لکھّوں؟ یہ سوچوں آخری خط میں تمہیں پیغام کیا لکھّوں؟ کہا تھا میں نے تم کو کیوں کہ نازِ نازنیں ہو تم ہو مہ رو، ماہِ طلعت،ماہِ انجم، مہ جبیں ہو تم میں آئینہ تھا پھر بھی کہتا تھا حسیں ہو تم مگر میں ہی غلط تھا جو سمجھتا تھا نہیں ہو تم فقط اس بحث میں کیوں الجھیں عشق اور دوستی کیا ہے؟ ویلن ٹائن کسے کہتے ہیں؟ چودہ فروری کیا ہے؟ یہ اکیسویں صدی کیا ہے ؟ یہ پندرہویں صدی کیا ہے؟ کہاں پہنچے ہوئے ہیں ہم ؟زمانہ آخری کیا ہے؟ پرائیویٹ زندگی میں ایک دن دیدار کر بیٹھا یہ سچ ہے میں تمہارے حسن کا اقرار کربیٹھا ہے یہ بھی سچ کہ میں تم سے ذرا سا پیار کر بیٹھا ذرا موقع دیا تم نے تو میں اظہار کر بیٹھا تمہاری براؤن آنکھوں میں بھی تھوڑی سی گلابی تھی وہ بھیگی فروری کی شام بھی ہلکی شرابی تھی مگر یہ سچ نہیں کہ میری نیت میں خرابی تھی مری حرکت مری اپنی نہیں تھی بس جوابی تھی کبھی کھائی تھیں قسمیں دوستی تم نے نبھانے کی کہ رسمیں ہی کہاں توڑی تھیں ہم...