Skip to main content

Aalamiparwaz

غزلیں : سہیل ثاقب

غزلیں   سہیل ثاقب  Dammam, Saudi Arabia     مانا مکیں بُرے ہیں مگر گھر برا نہیں  ثاقب ہمارے شہر کا منظر برا نہیں  جو اپنے ساتھ لے کے گیا تھا ہر ایک شخص اُس کا دلوں میں خوف تھا محشر برا نہیں  اس دورِ بے حسی میں یہ حیرت کی بات ہے  آئینہ کہہ رہا تھا کہ پتھر برا نہیں الزام خود کو دو جو نہیں بن سکا ہے کام  نیت کا ہے قصور مقدر برا نہیں  دن بھر تو سم رسیدہ ہوائوں میں میں رہا سو لوٹ کے جانے کو مرا گھر برا نہیں  توڑی تھی کس نے نائو یہ معلوم کیجیے کشتی کو ہے یقیں کہ سمندر برا نہیں  کرتے بھی کیا کہ یادوں کی ہم دسترس میں تھے ورنہ ہمارے سونے کا بستر برا نہیں ثاقب رکے ہیں خوف سے کیوں میرے ہمسفر رستے یہ کہہ رہے ہیں کہ رہبر برا نہیں    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭     عام ہو خاص ہو تم یہ نہیں پہچانتی ہے   موت آتی ہے تو رُتبہ نہیں پہچانتی ہے کاش اِس بات کا اندازہ ہمیں ہو جاتا  جب بُرا وقت ہو دنیا نہیں پہچانتی ہے  روکنا چاہو بھی تو روک نہیں سکتے ہو یہ ہوا وہ ہے جو رستہ نہیں پہچانتی ہے عصرِ حاضِر مجھے کس موڑ پہ لے آیا ہے  زندگی اپنا ہی چہرا نہیں پہچانتی ہے  کون کِس کے ہے مقابل سرِ میدانِ وفا  دل کی بازی کوئی رشتہ نہیں پہچانتی ہے زندگی چاند کی...

غزلیں : محمد قسیم اخترؔ ، پورنیہ (بہار)

  غزلیں    محمد قسیم اخترؔ ، پورنیہ (بہار)   ہم زمیں پر آسماں کے نور ہیں سر بلندی ہے مگر مجبور ہیں کروٹیں لیتے ہیں بستر پر اَمیر چین سے سوتے ہیں جو مزدور ہیں دل میں جذباتِ کلیمی چاہیےریت کے ذرّات کو ہِ طور ہیں آسمانوں سے اُتر کر دیکھیے فرش والے کس قدر رنجور ہیں ہم وفا اور وہ جفا کرتے رہےحسن والوں کے یہی دستور ہیں ہے تباہی بھی انہیں کے ساتھ ساتھاس جہاں میں جو بہت مشہور ہیں سر کٹا دیتے ہیں جو حق بات پراس صدی میں تو وہی منصور ہیں لُٹ کے ہم رہزن کو دیتے ہیں دعا چین سے سوتے ہیں اب مسرور ہیں ٹمٹماتا ہے وہاں اخترؔ تو کیا ہم جو دیپک ہیں زمیں کے نور ہیں ****حسیں جنّت بنانا چاہتا ہوں تمہیں دل سے لگانا چاہتا ہوں تری مہکی ہوئی زلفوں میں چھپ کرہر اک غم کو بھلانا چاہتا ہوں مرا دل آگیا اک بے وفا پراسی پر دل لٹانا چاہتا ہوںگھڑی بھر کو ترے نزدیک آکر سکونِ دل کو پانا چاہتا ہوں تری راہوں میں پھولوں کی جگہ پر میں اپنا دل بچھانا چاہتا ہوں سرِ محفل محبت کا ترانہتمہارے ساتھ گانا چاہتا ہوں سُنا کر دل کی بربادی کا قصّہزمانے کو رُلانا چاہتاہوں نشیلی آنکھ سے آنکھیں ملا کر میں پینا اور پلانا چاہتا ہوں تری رنگین یادوں کے سہارے شمع دل کی جلانا چاہتا ہوںتمہارے...

غزلیں : مشتاق احزنؔ

غزلیں مشتاق احزنؔ انا ہی جس نے زمانے میں بیچ دی ہوگی اسی کی گود میں دنیا کی ہر خوشی ہوگی بچا کے رکھنا اجالوں کو اپنے دامن میں تمھارے گھر میں کسی روز تیرگی ہوگی کوئی تو شب کے سفر میں رہے گا ساتھ مرے کسی کی شمعِ محبت تو جل رہی ہوگیوہی تو ہوگا سبب انتشارِ ملّت کا وہ جس نے ہاتھ سے رسّی ہی چھوڑ دی ہوگی جسے زمانہ بڑا پارسا سمجھتا تھا اسی کی ذات سے رغبت گناہ کی ہوگی ہر ایک شخص فسردہ ہے اپنے غم سے یہاں ہے کون جس کو میسّر ہر اک خوشی ہوگییہ سوچ کر میں جلاؤں گا خونِ دل احزنؔ کسی کی بزمِ طرب میں تو روشنی ہوگیمیرے اندر کتنا پانی بہہ گیا پیاس کا احساس لیکن رہ گیا مر ہی جاتا زہرِ غم پی کر غریب سخت جاں اتنا تھا سب کچھ سہ گیایہ پریشانی مقدّر بن گئی سلسلہ پیدل سفر کا رہ گیا زندگی بھر موت کا کرنا نہ خوفمرتے مرتے مرنے والا کہہ گیاجو تعلّق کا گھروندہ تھا بنا ریت کا اک سیَل آیا بہہ گیا بعد مدّت کے جو احزنؔ سے ملے باندھ ٹوٹا، اشک سارا بہہ گیا ***مشتاق احزنؔ MUSHTAQUE AHZANP.W.SCHOOL AZAD NAGARMANGO, JAMSHEDPUR- 832110MOB- 9334135021...

غزلیں : احمد بدرؔ

مہتاب صاحبعالمی پرواز کی بلند پروازی اور سر بلندی کی نیک خواہشات کے ساتھ دو غزلیں پیش خدمت ہیں۔شامل کر لیجیے تاکہ میں بھی اڑان بھر سکوں۔احمد بدرؔ شعبۂ اردو کریم سٹی کالج    غزلچہرہ بھی پتھر لگتا ہے         آئینے سے ڈر لگتا ہےگھر گھر میں ویرانی ا یسی   صحرا صحرا گھر لگتا ہےشاخوں پر غنچے دیکھوں تو   ہاتھوں میں خنجر لگتا ہےمردہ سانسوں کی صحبت میں    جی پانا دوبھر لگتا ہےدل کی بے چینی میں مخمل     کانٹوں کا بستر لگتا ہےچینٹی سے ڈرتا ہے ہاتھی      کتنا طاقتور لگتا ہےکل دشمن کو غور سے دیکھا   یاروں سے بہتر لگتا ہےغزلجب دل میں ویرانی جاگے      آنکھوں میں حیرانی جاگےراتوں کو بے چین سمندر       چاند چڑھے تو پانی جاگےخوشبو کی چادر پھیلائے      شب بھرر ات کی رانی جاگےجاگے دھن مرلی والے کی    یا میرا دیوانی جاگےجب بھی درد پرانا سوئے      کوئی یاد پرانی جاگے...

غزلیں : فرحین اقبال

 فرحینؔ اقبال  غزل کرتے ہوئے سجدہ سحر و شام چلے ہیںجب اہل جنون لے کے تیرا نام چلے ہیںشاید کہ میسر ہو طواف در جاناںخوشبوئوں کا ہم باندھ کے احرام چلے ہیںزخموں سے بھرا دل ہے جگر درد سے معمورمحفل سے تیری لے کے یہ انعام چلے ہیںدستور جنون رسم زمانہ سے جدا ہیںارباب خرد ایک روش عام چلے ہیںہے پاس گرفتار یہ خاطر کا یہ فرحینہاتھوں میں ہوائوں کا لئے دام چلے ہیںغزلاب زخم زخم دل کا مداوا کرے گا کونخوشبو کا یوں گلوں سے تقاضا کرے گا کونیہ شہر سنگ اور شیشہ کی کائناتبے قافلہ سفر کا ارادہ کرے گا کونسچائیوں کی کوئی بھی قیمت نہیں ہے آجدار و رسن کی آج تمنا کرے گا کونٹوٹے ہوئے وہ خواب یہ سرمایہ حیاتاب ان سے آرزئوں کا سودا کرے گا کونفرحینؔ شہر دل پہ حکومت ہے اب تیریہمت کسی کی اب کہاں رسوا کرے گا کون...

غزلیں : ڈاکٹر سرور ساجد

غزلیں  ڈاکٹر سرور ساجد جو اب تک ہو نہیں پایا وہی اک کام ہونا چاہیے تھادیارِ و دشت میں اک ربط باہم عام ہونا چاہیے تھاعجب فرضی سی اک پختہ خیالی کی اذیت میں گھرا ہےاگر دل ہے تو اس میں کچھ خیال خام ہونا چاہیے تھاقدم کی کامیابی سرحد پستی کو روشن کر رہی ہےبلندی کی ہوس تھی تو مجھے ناکام ہونا چاہیے تھاتعجب ہے کہ دل کی بے کلی کچھ اور بڑھتی جا رہی ہےملن کے بعد اس سے کچھ نہ کچھ آرام ہونا چاہیے تھاتمہیں عاشق فریبی میں ملی شہرت زمانے میں اگرچہغزل، خوشبو ،دھواں، چشمہ تمہارا نام ہونا چاہیے تھانشہ ، تغمہ ،بدن ، خوشبو ہوئے ہیں مفت میں بدنام ساجدؔ مری بربادی کا بس اس کے سرالزام ہونا چاہے تھا****دیکھتے دیکھتے تم دیکھنا ہو جاؤ گےوہ بھی دن دور نہیں فاصلہ ہو جاؤ گےمیں تری راہ کا پتھر ہی سہی تیرے لیےکچھ نہ بن پاؤں گا تو آئینہ بن جاؤں گاکچھ حریفوں سے میں اس طرح سے لوں گا بدلہنقش قرطاس پہ اک دیر پا بن جاؤں گامیں نے قطرے کو بھی دیکھا ہے سمندر بنتےنقش پا آج ہوں کل راستہ بن جاؤں گااتنی تیزی سے بدلنے لگے چہرے ہر ایکسب سے ممکن ہے کہ ناآشنا بن جاؤں...

غزل: رضواں ؔ واسطی

غزل رضواں ؔ واسطی کوئی کشتی کا ناخدا ہے نا لاکھ طوفان ہو، خدا ہے نا بے زبانی زبان کی تاثیرلب پہ خاموش مدّعا ہے نا پیاسی نظروں سے پینا جرم ہے کیامے کدہ آنکھوں کا کھلا ہے نا عشق کا ہر قدم مبرّم ہےرَہ معلّق تو حسن کا ہے نا فرق رجحان اور سمجھ کا ہےچاندنی سے بھی گھر جلا ہے نا شعر بازیگری ہے لفظوں کیذہن معنیٰ بھی ڈھونڈتا ہے نا میری چُپ بھی لگے انہیں تکراربولو رضواں ؔیہ انتہا ہے نا  ...

غزل- مشتاق احزن : گھر جلتا ہے GHAZAL – GHAR JALTA HAI…..MUSHTAQUE AHZAN

غزل مشتاق احزن : جمشید پور انڈیا    جب کبھی میری امیدوں کا شجر جلتا ہے  میرے اندر کہیں احساس کا پر جلتا ہے  وہ تو رہتا ہے مرے پیکر اشعار میں گم  ہاں اسی واسطے سوچوں کا سفر جلتا ہے  وہ اندھیروں کو نگل جاتا ہے بن کر سورج  جہد کی آنچ پہ جو شام و سحر جلتا ہے  سرد لہروں سے بھڑک اٹھتے ہیں دل میں شعلے  کیا قیامت ہے کہ برسات میں گھر جلتا ہے  روزو شب ظلم کے سائے میں جہاں کٹتے ہیں  ایسی جگہوں پہ تو آہوں کا ثمر جلتا ہے  اپنی نفرت میں وہ رہتے ہیں شرابور احزن  اور میں ہو کہ محبت میں جگر جلتا ہے    مشتاق احزن جمشید پور  انڈیا  موبائل نمبر 9334195021...

غزل کائنات : (اسلم بدر) جمشید پور

بہت ہی عزیز مہتاب عالم پرویز ! محبتیں، دعائیں تمہارے ویب سائیٹ اور ای میگزین کی خبر نے باغ باغ کر دیا۔خدا کرے تمہارا یہ میگزین ’جدید ادب‘، ’کائنات‘ اور ’شعر و سخن ‘ جیسے ای میگزین کا ہم پلہ بلکہ ان سے بھی بہتر ثابت ہو۔ بڑی مشکلوں سے سنبھالا لیا تھا۔مگر ادھر کچھ دنوں سے جذبہ و فکر میں پھر سے بھنور پڑنے لگا ہے۔ دعا کرو کہ ڈوب نہ جاؤں۔بس یوں سمجھ لو کہ ان دنوں ایک ایسے بھنور سے دوچار ہوں جس کی محوری گردش کا بھی سامنا ہے اور جو مجھے اپنے مرکز کی طرف بھی لگاتار کھینچ رہا ہے۔ کشتئ جاں کے ڈوب جانے کا ہمہ وقت خوف طاری رہتا ہے، خوف سے لرزہ بھی۔مگر اسی لرزش میں ایک جمالیاتی تھرتھری بھی شامل ہے۔ جمالیاتِ کائنات کی تھرتھراہٹ۔ لہر، موج یا بھنور بغیر بوند کی تھرتھراہٹ کے وجود میں آ بھی تو نہیں سکتی۔ ’غزل کائنات‘ کے زیر عنوان (مختلف ذیلی عنوانات کے ساتھ) کچھ غزلیں، یا پھر نظمیں یا تم اسے کچھ بھی کہہ لو، وہ کچھ تمہارے لئے بھیج رہا ہوں۔ اسے تم جمالیاتی حس کہہ لو یا حسی جمالیات، درکی حس کہہ لو یا حسی ادراک۔ میرے نزدیک احساس و...

غزل : یامین چودھری

غزل یامین چودھری   گِلے شکوے مِٹاکر دیکھتے ہیں  ذرا نزدیک آکر دیکھتے ہیں   گھُٹن ہونے لگی اب تو صحن میں  یہ دیواریں ہٹا کر دیکھتے ہیں   تلاشیں بے غرض دنیا کہیں پر   چلو بچپن میں جا کر دیکھتے ہیں   نئی نسلوں کے خوابوں کی زمین کو  سیاست سے بچا کر دیکھتے ہیں  وہ خونریزوں کے شیشے کے گھروں پر  کوئی پتّھر اُٹھا کر دیکھتے ہیں   کِسی معصوم کی معصومیت کو  درِندوں سے بچا کر دیکھتے ہیں  وفاؤں کا اُنہیں ہے پاس کِتنا   نظر اُن سے ملا کر دیکھتے ہیں   اُجاڑی ہے جو بستی نفرتوں نے  اُسے پِھر سے بسا کر دیکھتے ہیں  تمہارے گیت میں اشعار اپنے  ملا کر گنگنا کر دیکھتے ہیں  ...

غزل : نورؔ جمشیدپوری

  غزل نورؔ جمشیدپوری  دل سے دل کا جب تلک کہ رابطہ ہوتا نہیں  پیار کہتے ہیں جسے وہ حادثہ ہوتا نہیں  بارہا سوچا کہ بڑھ کر ہاتھ اسکا تھام لیں  حوصلہ کرتے ہیں لیکن حوصلہ ہوتا نہیں  بس رہا تھا سانس بن کر کل تلک جو روح میں مدتوں اب اس کو مجھ سے واسطہ ہوتا نہیں  ایک دوجے کو بھلا کیسے بنیں گے ہم خیال  اس سے جب تک گفتگو کا سلسلہ ہوتا نہیں  ہم بڑھاتے دو قدم گر وہ بھی آتا دو قدم  آگیا ہے درمیاں جو فاصلہ ہوتا نہیں  دل کی ویرانی مرے چہرے پہ پڑھ پاتا اگر  اس طرح سے آج مجھ پر وہ خفا ہوتا نہیں  چاہتا ہے ہر گھڑی دل نور کی قربت مگر   پیار بھی تو اس سے لیکن برملا ہوتا نہیں...

غزل : نورؔ جمشید پوری

غزل نورؔ جمشید پوری     ادا پہ ایسے بندے کی خدا بھی مسکراتا ہے انا کو چھوڑ پیچھے جو کہ روٹھوں کو مناتاہے چمک ہوتی ہے جس کی مختلف کچھ اور تاروں سے اسے پھر آسماں بھی جھک کے بانہوں میں اٹھاتا ہے لکیروں میں مقدر ڈھونڈنے کا وہ نہیں قائل جو اپنے بازوؤں کے دم پہ قسمت کو بناتا ہے تو پھرہر موڑ پر ملتی ہیں بس ہموار راہیں ہی اگر کوئی کسی کی راہوں کے پتھر ہٹاتا ہے برستی ہے سدا رحمت خدا کی اسکے آنگن میں رضا کے واسطے رب کی جو بچھڑوں کو ملاتاہے جو بند آنکھوں نے دیکھا تھا اسے تم خواب مت سمجھو ہے سپنا در حقیقت وہ جو نیندوں کو اڑاتا ہے رقم کرتا نہیں تاریخ کوئی یوں ہی صفحوں پر پسینے کی شکل میٰں خون وہ اپنا بہاتا ہے بڑھا دیتا ہے اپنا مول سونے سا نکھر کر وہ جو روز و شب لگن کی آنچ میں خود کو تپاتا ہے یقینا نور سے وہ علم کے سرشار ہوتا ہے دیا انسانیت کا اس جہاں میں جو جلاتا ہے...

غزل : نورؔ جمشید پوری

غزل نورؔ جمشید پوری   ہےسیا ست میں کثافت کی حکومت کیا کروں  رائیگاں اب جارہی ہے ہر شہادت کیا کروں  دیکھ حالت ملک کی اب خون کے آنسو بہے  مل گئی ہے بے ضمیروں کی قیادت کیاکروں  راستہ تھا کون سا ؟ کس راہ پر یہ چل پڑی؟  بڑھ رہی اب قوم میں اپنی ضلا لت کیا کروں  حادثے کچھ دیکھ عبرت سے بھرے، آنکھیں کھلیں  ہاتھ کا یہ میل لگتی ہے بضاعت کیا کروں  لغزشوں سے دور ہوتے، جو دلوں کو جوڑ دے  ایسا کوئی بھی ملے نہ اب وساطت کیا کروں  نذر آتش کردیا ہے ہر سخاوت کا حساب  وقتِ رخصت آگیا ہے اب اشاعت کیا کروں  چین پایا دن میں، نہ ہی رات دیکھی نورؔ نے  اس سے بڑھ کر اب بتاؤ میں ریاضت کیا کروں   نورؔ جمشید پوری...

غزل : نغمہ ناز مکتومیؔ GHAZAL – NAGHMA NAAZ MAKTOOMI

 غزل  نغمہ ناز مکتومیؔ  دُنیا کی بے   نیازی کا    چرچا ہی کیوں کریںاپنی انا کو شہر  میں     رُسوا ہی کیوں کریںتیرے   غموں کو   ہم نے جو دل    سے لگا لیاخوشیوں   کو تیرے غم کا مدا وا ہی کیوں کریںہم مطمئن   ہیں اپنی    وفاؤں   سے   ہر طرحتجھ سے تری جفاؤں  کا شکوہ ہی  کیوں کریںکرتا ہے فر ق   دونوں     میں اک    جلوۂ   نگاہاہلِ خرد    کا ہم    بھلا سجدہ   ہی کیوں کریںبد نامیوں کا    تیری    ہمیں    خوف    ہے فقطتو ہی بتا کہ  ہم تجھے    رُسوا ہی   کیوں کریںنغمہ ؔ رہ حیا ت    میں    غم ساتھ    ساتھ   ہےمحرومیوں  کا جابجا    چرچا ہی    کیوں     کریںنغمہ ناز مکتومیؔ مکان نمبر ۱۱ ، کروس روڈ نمبر ۶۔ بیآزاد نگر ، مانگو ، جمشید پور ۔ ۸۳۲۱۱۰جھارکھنڈ ، انڈیاE - mail naghmanaazmaktoomi@gmail.com ...

غزل : نغمہ ناز مکتومیؔ ” چلے بهى آؤ تم ” CHALE BHI AAO TUM – NAGHMA NAAZ MAKTOOMI

 غزل : GHAZAL ‎ نغمہ ناز مکتومیؔ - NAGHMA NAAZ MAKTOOMI    " اپنے شریکِ حیات کے نام "   ‎بہت اُداس ہے موسم چلے بهى آؤ تم ‎ہماری آنکھیں ہوئیں نم چلے بهى آؤ تم ‎ فضائيں بدلی ہیں منظر بھی روکھا روکھا ہے ‎بہت خراب ہے موسم چلے بهى آؤ تم   ‎نہ جانے كون سا دن كون سى گھڑى ہو گی ‎کھڑی ہوں دور ہو ہر غم چلے بهى آؤ تم   ‎پرندے لوٹتے ہیں روز آشیانوں میں ‎انہیں سے سیکھ لیں کچھ ہم چلے بھی آؤ تم   ‎گزر گئیں کئی صدیاں کہ تم بسے پرديس ‎ پکارے دیس کا موسم، چلے بھی آؤ تم   ‎یہاں بھی جیتے ہیں انسان مال وزر کے بغیر ‎ نہ لوں ریال نہ دِرہم چلے بھی آ ؤ تم   ‎تمہاری نغمہؔ راہ حيات ميں ہوں نہ ‎نہ ماہتاب ہو مدھم چلے بھی آؤ تم     نغمہ ناز مکتومیؔ...

غزل : مقصود انور مقصود – دوحہ ، قطر

غزل مقصود انور مقصود دوحہ ، قطر ہتھیلی پہ تمہاری شوق سے میں اپنی جاں رکھ دوں کہو تو کورے کاغذ پہ انگوٹھے کا نشاں رکھ دوں اگر سچ بولنا ہے جرم تو پھر آپ بتلائیں لبوں پہ قفل ڈالوں کاٹ کر اپنی زباں رکھ دوں تجھے میری وفاداری اگر مشکوک لگتی ہے زمانے میں گناکر میں بھی تیری خامیاں رکھ دوں ابھی تک تو نے میرے لمس کا جادو نہیں دیکھا وہ میرا ہو کے رہ جاتا ہے میں انگلی جہاں رکھ دوں اگر کشتی ہواؤں کے اشارے پر ہی چلنی ہے تو کیا ایسا کروں کہ کھول کر میں بادباں رکھ دوں وفا کے نام پر عہد وفا کو توڑنے والا بضد ہے نام اس کا میں جہاں میں مہرباں رکھ دوں تمنا دل کی برآۓ تجھے مقصود مل جائے زمیں کی گود میں لاکر کہو تو آسماں رکھ دوں --------- مقصود انور مقصود دوحہ ، قطر...

غزل : مشتاق راز

غزل  مشتاق راز زباں فروش غضب کا کمال رکھتے ہیں ہوس کا حرص کا لہجے میں جال رکھتے ہیں اُنھیں کو دیتی ہے دنیا سند شرافت کی جو اپنے ساتھ کئی بد خصال رکھتے ہیں کبھی کسی پہ نہیں کرتے طنز کی بارشجو ظرف والے ہیں اتنا خیال رکھتے ہیں غلط کمائی سے ہم پیٹ بھر نہیں سکتے دعا میں حاجتِ رزقِ حلال رکھتے ہیں خدا نے بخشی ہے دولت ہمیں قناعت کی مصیبتوں میں بھی چہرے بحال رکھتے ہیں بنائے بیٹھے ہیں جو شان میرؔ و مرزاؔ کی وہی بیاض میں مانگے کا مال رکھتے ہیں ہمارے بارے میں اے رازؔ کوئی کچھ بھی کہےفقیرِ وقت ہیں سب کا خیال رکھتے ہیں ...

غزل : فیروزؔ اقبال

 غزل  فیروزؔ اقبال   متاعِ حیات محبت کی راہ میںسب کچھ لٹایا ہے اُنکی چاہ میںپھول سے چہرے ہزار ہیں راہ میںکھڑے ہیں مگر ہم ایک کی چاہ میں بادِ صبا مل کے خاروں کے ساتھچاک کرے ہے دامن اُن کی راہ میںبیاں بھی نہ ہو درد سہا بھی نہ جائےعجیب لذّت ہے عشق کی آہ میںبھول کر تلخیاں چلے آؤ فیروزؔ شباب گم نہ جائے تمہاری چاہ میں *** contact No. 09423254346فیروزؔ اقبال ناگپور ہندوستان...

غزل : ﻓﻮﺯﯾﮧ ﺍﺧﺘﺮ ﺭﺩﺍ GHAZAL OF FAUZIA AKHTER RIDA . KOLKATA

غزل  ﻓﻮﺯﯾﮧ ﺍﺧﺘﺮ ﺭﺩﺍ کلکتہ،  انڈیا akhterfauzia1978@gmail.com MOBILE No. 7518713348   تقاضے  چاہ ﮐﮯ   ﺳﺎﺭﮮ نبھانے      آتے ہیں ہمیں ﺗﻮ ﻋﺸﻖ      ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ بہانے آتے ہیں کبھی خوشی ﺗﻮ کبھی ﻏﻢ سنانے آتے  ہیں ﻣﻼﻝ    ﺩﻝ ﮐﺍ    ہمیشہ   مٹانے       آتے ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ بھول ﭼﮑﮯ    تھے ہمیں زمانے  سے کسی بہانے سے   ہم ﮐﻭ   منانے    آتے ہیں قیام کرتے ہیں یوں     ﺗﻮ ﺩﻟﻮﮞ   پہ ﺑﺮﺳﻮﮞ تک ﭘﮭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ   ﺩﻟﻮﮞ کو ﺩُکھانے     آتے ﮨﯿﮟ کسی ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻭ ﺩﻝسے بھلاﻧﺎ ہے مشکل ﺩﻟﻮﮞ      میں آگ      ہمیشہ   لگانے آتے ﮨﯿﮟ ﺭﺩﺍ ﮐﻭ         ﺭﺍﮒ نئے       گنگنانے    آتے ﮨﯿﮟ حسین ﺷﻌﺮ   ہمیں بھی      سنانے آتے ﮨﯿﮟ ﻓﻮﺯﯾﮧ ﺍﺧﺘﺮ ﺭﺩﺍ کلکتہ،  انڈیا akhterfauzia1978@gmail.com MOBILE No. 7518713348...

غزل : فرحت حسین خوشدؔ ل ہزاری باغ،جھارکھنڈ،انڈیا

 غزل فرحت حسین خوشدؔ ل - ہزاری باغ،جھارکھنڈ،انڈیا  موبائل 9798562194  ہماری غزلوں کو سُن کے تُم بھی ،غزل سُناؤ تو ہم بھی جانیں۔۔۔۔جو دِل کے اندر مچل رہی ہے وہ لب پہ لاؤ تو ہم بھی جانیںغزل کی شیریں زباں کا جادُو،جو تُم جگاؤ تو ہم بھی جانیں۔۔۔۔طلسمِ حسنِ غزل کا پہلوئے خاص لاؤ تو ہم بھی جانیںغزل کا ہر شعر اپنے اندر،چُھپائے رکھتا ہے خاص گوہر۔۔۔۔دبی زباں سے جو حالِ دِل تُم،ہمیں سُناؤ تو ہم بھی جانیںجنابِ ناوکؔ کا قول پڑھ کر ،سمجھ میں آیا غزل کا تیور۔۔۔۔دو چار غزلیں جو شاد ؔ جیسی ، ہی کہہ کے لاؤ تو ہم بھی جانیںغزل سے رشتہ ہے جانے کب سے،غزل کو پڑھتے ہیں ہم ادب سے۔۔غزل کو سُن کر غزل سراپا،جو بن کے آؤ تو ہم بھی جانیںگُمان بھی ہے ،یقین بھی ہے،یہ صِنفِ نازک حسین بھی ہے۔۔۔۔۔غزل کا شعری مزاج ہو تو ، یہ نغمہ گاؤ تو ہم بھی جانیںغزل کو کہتے ہو نیم وحشی،یہ بات وحشت بھری ہے کیسی۔۔۔۔تُم اپنے دعوے کے حق میں کوئی،دلیل لاؤ تو ہم بھی جانیںنہیں ہے آساں غزل سرائی،جنابِ خوشدؔ ل کو راس آئی۔۔۔غزل میں غالبؔ کا رنگ لا کر ،ہمیں دکھاؤ تو ہم بھی جانیں (شادؔ عظیم آبادی اور غالبؔ کی نذر)...