غزل : ظفر اقبال رحمانی
غزل
ظفر اقبال رحمانی ہما ری عمر سے صد یو ں بڑ ی ہے جو اک مد ت سے آو یز اں گھڑ ی ہے کسی کے جسم کا بسترہو جیسے ز میں ز یرِ فلک ایسی پڑ ی ہے کسی سے بے سبب ر بطِ مسلسل عجب قر بت کی یہ لمبی کڑ ی ہے میں خضرِراہ سب کی ہو ں نظر میں چلی جا مو ت پیچھے کیو ں پڑ ی ہےز میں کے ہو نٹ تو پیا سے ر ہیں گےکہ یہ بر سا ت کی پہلی جھڑ ی ہے تر ی لفظوں میں کیا تعر یف ہو ماں تر ے ا حسان کی چھتری بڑ ی ہےحسیں کیو ں ہے اگر بو ڑ ھی ہے د نیا نظر اس پہ ظفرؔ سب کی گڑی ہے*****...
غزل : صدام غنی
غزل صدام غنی
شجر کی نرم و نازک پتیّاں دل کو لبھاتی ہیں ہوائیں اپنی دھن میں راگنی اب بھی سناتی ہیں وہی خاموش منظر ہے وہی مہکی فضائیں ہیں بس ایسے میں تری یادیں مجھے پاگل بناتی ہیں کبھی وعدے محبت کے کبھی قسمیں وفاؤں کی خیالوں میں وہ باتیں آج بھی دل کو دکھاتی ہیں لب نازک پہ باتیں پیار کی آنکھوں میں اک جادوشب غم میں تری الفت کی باتیں یاد آتی ہیں کبھی چھیڑا کوئی نغمہ وفا کے ساز پہ ہم نےتو ایسے میں مجھے تری صدائیں یاد آتی ہیں یہ حسرت رہ گئی تھی دم نکلتا ان کی باہوں میں وہی حسرت بہ شکل زخم دل ہم کو رلاتی ہیں کبھی تو راس آئے مجھ کو میرے خواب کی دنیامگر خوابوں کا کیا خوابوں کی باتیں یاد آتی ہیں...
غزل : رجنیؔ ملہوترا
غزل رجنیؔ ملہوترا DVC Bokaro thermal Distt - Bokaro- Jharkhan
آئے گا انقلاب رہنے دےسچ کے منہ پر نقاب رہنے دے
اپنا دامن بچا کے تو رکھناہے زمانہ خراب رہنے دے
یہ ضروری نہیں کہ جھوٹے ہوںاپنے پلکوں پہ خواب رہنے دے
اپنی سانسوں میں لمس کی خوشبومثلِ بوئے گلاب رہنے دے
شرم زیور ہے پھر بھی عورت کاکچھ تو باقی حجاب رہنے دے
میں نے آنکھوں سے پڑھ لیا سب کچھزندگی کی کتاب رہنے دے
ناز کس شئے پہ ہو یہاں رجنیؔ زندگی ہے حباب رہنے دے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔...
غزل : ڈاکٹر افسر کاظمی
غزل
ڈاکٹر افسر کاظمی
مجھے پھر قتل کرنے کا تو کوئی فیصلہ لے لےخزاں آنے کو ہے پھر خوں کا مرے ذائقہ لے لےمیریے چہرے پہ تو جتنا بھی چاہے طنز کر لینامگر ہے شرط پہلے ہاتھ میں اک آئینہ لے لے تری تاریک راہوں میں بھی کرنیں جگمگا ئیں گی اگر اپنے بزرگوں کی دعائے گمشدہ لے لےکسی دن دیکھنا منزل ترے قدموں تلے ہو گی تو اپنے رہنما کے نقش پا کا سلسلہ لے لےاگر تاریخ کا بھولا سبق اس کو نہ یاد آئے تو ایسی قوم سے اللہ اس کا حا فظہ لے لےتجھے دیوار کہتے تھے کبھی اب ڈھیر اینٹوں کاکبھی اس زاویئے سے کاش اپنا جائزہ لے لے یہ میدان عمل ہے امتحاں گا ہ جنوں افسرجسے ہو جان پیا ری مصلحت کا راستہ لے لے ****...
غزل : دلشاد نظمی
غزل
دلشاد نظمی یہ الگ ہے کہ مرے ہاتھ نہ آئی دنیا پر فقیری نے بہت سیر کرائی دنیا جوڑ، تقسیم ، ضرب سے نہیں رکها مطلب کهو دیا اس سے زیادہ جو کمائی دنیا مجھ کو دیوانہ سمجهتے رہے دنیا والے ساری دنیا سے الگ میں نے بنائی دنیا اپنی دنیا سے نبهانا ہی بہت مشکل ہے اس پہ اپنانے کو آئی ہے پرائی دنیا. خواب میں میرے کوئی اور جہاں روشن تها صبح دم میں نے وہی سامنے پائی دنیا مجھ پہ اب جا کے کهلا وہ مری دنیا کا نہ تها ہائے کس شخص کی آنکهوں سے چرائی دنیا ہم تو پرکهوں کی بنائی ہوئی دنیا میں رہے اور بچوں نے الگ اپنی بنائی دنیا لے گئی مجھ کو ہوس دور بہت دور مگر اپنی دنیا میں مجهے کھینچ کے لائی دنیا وقت رہتے ہوئے دلشاد گنوا دی میں نے اور پهر مڑ کے مرے پاس نہ آئی دنیا
دلشاد نظمی...
غزل : دلشاد نظمی
غزل دلشاد نظمی
گھُٹی صدا کو کبھی مصلحت رہائی دے میں چاہتا ہوں مری چیخ بھی سنائی دے
نظر ہٹے کبھی خود سے تو کچھ نظر آئے خدا کرے تجھے کچھ اور بھی دکھائی دے
اسی کے ہاتھوں سے اترے گی نتھ سیاست کی جو رونمائی سے پہلے ہی منھ دکھائی دے
لکھوں تو متن مرا سرخیوں سے بھر جائے رگِ قلم کے لئے ایسی روشنائی دے
بھٹک گیا ہوں میں دنیا تلاش کرتے ہوئے خدایا مجھ کو کبھی خود سے آشنائی دے
اس اجنبی سے کنکشن بحال کرنا ہے اسے کہو وہ تعلق کی وائی فائی دے
اس عمر میں مجھے دلشاد چاہیئے عزت میں چاہتا نہیں بیٹا مجھے کمائی دے
دلشاد نظمی...
غزل : تاباں واسطی
غزل تاباں واسطی
مری زندگی کے ورق ورق پہ ہے تیرا نام لکھا ہوامرے ہر نفس میں اے جانِ جاں ہے ترا نفس بھی گھُلا ہواہے تُجھی سے رونقِ انجمن، تو ہی میری جاں تو ہی میرا منمری آرزو کے چمن میں ہے تو ہی ایک پھول کھِلا ہوامری سادگی کی ہر اک ڈگر پہ ہے حسنِ ناز و نیاز توتری دوستی کا بھرم ہے یہ کہ چراغ ہوں میں جلا ہواترے لمس کی وہ لطافتیں ہیں مرے دِماغ کی نُزہتیںہوں صبا کے سیلِ بہار میں تری رہ گذر پہ کھڑا ہوانہ جھٹک تو گیسوئے عنبریں، نہ لُٹا تو نکہتِ دلنشیںبادب کہ آئینہ زیست کا تری زلف سے ہے بندھا ہواہوں تری نگاہ میں معتبر،تو ہی دوست ہے تو ہی چارہ گرلے خبر کہ موجِ فراق میں مرا قافلہ ہے پھنسا ہوامیں شکستہ ساز ہوں منفرد، مرے آئینے میں تری اَداکوئی ڈھونڈے میری کتاب میں ترے غم کا موتی چھپا ہواترے عارضوں کا گُلاب ہوں،میں ترے لبوں کی شراب ہوںمیں وہ ایک نخلِ حیات ہوں تری دھوپ میں جو ہرا ہوا
****تاباں واسطی...
غزل : احمد نثارؔ
غزل شاعر : احمد نثارؔ
دیارِ عشق میں تنہا کھڑا، کھڑا ہی رہامحبتوں کے نگر میں پڑا، پڑا ہی رہا
ثمر خلوص و محبت کے تازہ تر ہی رہےکدورتوں کا ثمر تھا سڑا، سڑا ہی رہا
تھے خواب جتنے بھی تعبیر سے پرے، لیکننگاہِ ناز کا شیدا، اڑا، اڑا ہی رہا
وہ چھوٹی سوچ کا مالک، سمٹ گیا لیکنخیال و فکر میں جو تھا بڑا، بڑا ہی رہا
ہوا کے ساتھ سفر کر، جہاں میں پھیل گیاانا کی قبر میں جو تھا گڑا، گڑا ہی رہا
ذرا سی تند پہ شاخوں سے گر گئے پتےدرخت جو بھی زمیں سے جڑا، جڑا ہی رہا
وہ ظرف چھوٹا تھا، پانی بھی کم ملا اس کوجو اعلی ظرف کا مالک گھڑا، گھڑا ہی رہا
نثارؔ آپ تلاتم سے کھیلتے ہی رہےیہ زندگی کا سفر تھا کڑا، کڑا ہی رہا٭٭٭٭٭شاعر : احمد نثارؔ، شہر پونہ، مہاراشٹر، انڈیا۔ Email: ahmadnisarsayeedj@yahoo.co.in...
غزل محمدقسیم اختر
غزل محمدقسیم اختر، مدیر( اعزازی) At. Bahadarpur P.o. Amour, Distt. Purnea Pin 854315 (Bihar) Mob. 9470120116
بڑھنے لگی ہے گرمئ بازار کیا کریںحیرت زدہ ہیں آج خریدار کیا کریںفصل بہار آئی سماں کیف کا لئےبجنے لگے ہیں جسم کے ہر تار کیا کریںکالی گھٹا نے جب ڈھکا ماہِ تمام کوباد نسیم تھم گئی دیدار کیا کریںعشقِ بتاں ہو عشقِ خدا ہو کہ آپ ہوں خونِ جگر کے سب ہیں طلبگار کیا کریںچشمِ خموش کانپتے لب دیکھے آپ نےاب تشنگی کے ذوق کا اظہار کیا کریںآیا ہے لیس ہو کے وہ اسبابِ قتل سےدکھتے نہیں ہیں جینے کے آثار کیا کریںبجلی گرا دو خاک ہوا چاہتے ہیں ہمدرد جگر سے آج ہیں لاچار کیا کریںدستِ ستم میں آپ ہی خنجر کو رکھ دیایارو بتاؤ مجھ سے یہ فنکار کیا کریںرعنائیاں وشوخیاں سب اس سے جا ملیںکوئی نہیں ہے اپنا طرفدار کیا کریںاخترؔ وفورِ درد سے ہم مسکرادئےورنہ ہے دل میں زخم کی بھرمار کیا کریں۔...
غزل "لُوٹا ہے میر ے دل کا چمن ایک بہار نے…” مہتاب عالم پرویزؔ (کویت) LUTA HAI MERE DIL KA CHAMAN EK BAHAR NE … MAHTAB ALAM PERVEZ – KUWAIT
غزل
لُوٹا ہے میر ے دل کا چمن ایک بہار نے.....
مہتاب عالم پرویزؔ (کویت)
MAHTAB ALAM PERVEZ-KUWAIT
ہر بد دعا کا درد دعاؤں کو دے دیا
میرا پتہ یہ کس نے بلاؤں کو دے دیا
لُوٹا ہے میر ے دل کا چمن ایک بہار نے
الزام تُونے کیسے خزاؤں کو دے دیا
جلتا رہا چراغ ہواؤں کے زور پر
کیسا نظام رب نے ہواؤں کو دے دیا
گُذرا ہے راہ گیرکوئی اس مقام سے
پیغام میرا اُس نے ہواؤں کو دے دیا
خنجر تلاش کرتا تھا قاتل تمام شب
آ نکھوں سے حُکم میں نے اداؤں کو دے دیا
مجھ سے خطا ہوئی تھی یہ اُن کا خیال ہے
ایک داغ جس نے میری وفاؤں کو دے دیا
سب کچھ گنواکے ہوش میں آنے سے یہ ہوا
ساری دعائیں اُن کی وفاؤں کو دے دیا
رُوٹھا رہا وہ شخص سدا میری ذات سے
اپنی انا کی بھینٹ سزاؤں کو دے دیا
مہتابؔ بن کےآ ؤں گا میں کہہ کے آ گیا
ایک انتظار اُن کی جفاؤں کو دے دیا
مہتاب عالم پرویزؔ (کویت)
...
غزل : محمد شفیع الرحمن شفیعؔ
غزل محمد شفیع الرحمن شفیعؔ
نزاکتوں کا خیال رکھیےیہ آبگینہ سنبھال رکھیےجبیں پہ جاہ و جلال رکھیےمگر بخاطر جمال رکھیےمتاعِ مال و منال رکھیےخود اپنی جاں کا وبال رکھیےجواب جس کا کہیں نہیں ہوکبھی نہ ایسا سوال رکھیےجہانِ انجم تو اجنبی ہےزمیں سے رشتہ بحال رکھیےابو لہب اسم با مسمیٰسوادِ حبشی بلال رکھیےسفر ظفر کا بنے وسیلہمگر خیالِ مآل رکھیےہے دوستی کا یہی تقاضاسلوک میں اعتدال رکھیےہے شرق اپنا ، ہے غرب اپناجنوب ہو یا شمال ، رکھیےشفیعؔ معقول بات کہتےوبالِ خواہش کو ٹال رکھیے...
غزل : رضواں واسطیؔ
غزل
رضواں واسطیؔ
کچھ بوجھ سا دل پر ایسا پڑا ہم ٹوٹ گئے ہم ٹوٹ گئے
ہر رنگ بہاراں خاک ہوا ہم ٹوٹ گئے ہم ٹوٹ گئے
تیرے جھوٹے وعدوں کے آنچل ہم اُوڑھ کے سو تو جاتے تھے
اک خواب تھا سو وہ بھی نہ رہا ہم ٹوٹ گئے ہم ٹوٹ گئے
پانی تو ملا شفاف بہت لیکن پانی پھر بھی پانی ہے
اک عکس بنا اور مٹ بھی گیا ہم ٹوٹ گئے ہم ٹوٹ گئے
جو ہو گیا وہ تو ہونا تھا ، قسمت کے لکھے کو رونا کیا
بے وقت جو توڑا عہدِ وفا ہم ٹوٹ گئے ہم ٹوٹ گئے
دشمن سے تو لڑ بھی سکتے تھے اپنوں ہی سے لڑنا مشکل تھا
سنگین تھا شاید جُرم وفا ہم ٹوٹ گئے ہم ٹوٹ گئے
اللہ کی رحمت سے رضواں ہم تو نہ کبھی مایوس ہوئے
دُنیا نے جو ہم کو زخم دیا ہم ٹوٹ گئے ہم ٹوٹ گئے
رضواں واسطیؔ...
شانِ حسینؓ : ناصر ملک
شانِ حسینؓ شاعر: ناصر ملک۔ چوک اعظم (ضلع لیہ) فون: 0302-7844094 اُس جیسا کوئی ایک سخی ہو۔۔۔دُنیا نے اِک سورج مانگاکرنیں چاہیں، رستا مانگاخیموں کی دہلیز پکڑ کرکوئی درس انوکھا چاہاایک زمانہ لرزیدہ سا، شرمندہ سا، ساتھ کھڑا تھامانگ رہا تھادُنیا کا ہر ایک زمانہ ایک تمدن مانگ رہا تھاوہ تہذیب کا بانی لیکن، خیمے کی دہلیز کے اندراپنے رب کو دیکھ رہا تھا، سوچ رہا تھانخلِ جاں سے خون کے قطرے مانگ رہا تھااُس تہذیب کی بنیادوں کو خون کے قطرے سونپ رہا تھاجس تہذیب میں سورج، کرنیں، چاند ، ستارے ہر موسم کے پھول اُگے ہیںبارش، افشاں، آس کے جگنو، نورِ اَنا ہے ، خودداری بھیعزم، اصول و مقتل، آنسو، صحرا، خون کے دریابھیرستا، خاک ، گہر کی تاب زمانہ دیکھ رہا ہےآج بھی اُس تہذیب میں سانسیں پلتی ہیں***...
سانحہ پشاور : نورؔ جمشید پوری |
سانحہ پشاور : نورؔ جمشید پوری
ان آنکھو ں سے یہ اشکوں کا سمندر کیوں بہا ڈالا جو منظر دید کے قابل نہ تھا تو نے دکھا ڈالا
ارے ظالم بتا کیا دشمنی تھی تیری بچوں سے ابھی تو ٹھیک سے کھولی نہ تھیں آنکھیں سلا ڈالا
تو ترسے گا شفاعت کو نبی کی روزِ محشر میں شرم سے انکی امت کا جو تونے سر جھکا ڈالا
تو انساں ہو نہیں سکتا، یہ حیواں کر نہیں سکتا عمل نے تیرے وحشی، پتھروں کو بھی رلا ڈالا
ازل سے بر بریت کی جو سنتے آئے تھے تونے بس اک پل میں وہ ساری ہی مثا لو ں کو مٹا دالا
ابھی اک لمحہ پہلے تھا چمن گلزار پھولوں سے کچل کر کیوں گلوں کو اس طرح صحرا بنا ڈا لا
ستوں ایمان کا اک لازمی انسانیت بھی ہے ارے شیطان تو نے آج اسکو بھی ہلا ڈالا
بھلا کب دی تجھے اجداد نے ورثے میں سفاکی تو آکر کس کے بہکاوے میں ،سب کچھ ہی بھلا ڈالا
خبر تجھ کہ نہیں ظالم تجھے اب زیر کرنے کو دیا اک عزم کا ہر دل میں تونے ہی جلا ڈالا
تجھے تھا خوف کیا کل...
دُعا…. از: رضواںؔ واسطی، جمشیدپور
دُعا از:رضواںؔ واسطی، جمشیدپور
جذبۂ ایماں شوقِ عبادت دے اللہ آمینپھر وہی عزّت پھر وہی عظمت دے اللہ آمیندھوپ بہت ہے تیز گناہوں کی، اورہم نادانجھلس رہے ہیں، سایۂ رحمت دے اللہ آمینصلوٰۃوصوم وحجّ و زکوٰۃاب بھی ہیں ہمارے پاسبے جاں جسم میں روحِ عبادت دے اللہ آمینپتہ نہیں ہم آج کہاں ہیں ،ہوگاکیا انجام؟شافعِ محشر کی تو شفاعت دے اللہ آمینمانگ رہے ہیں پھر وہی نورِایماں، جلوۂ طورہم پروانۂ شمعِ رسالت دے اللہ آمینکیوں تیرے محبوب کی اُمّت بنی ’سمندرپھین‘؟پھر سے اسے جذبۂ اخوّت دے اللہ آمینمفت کی دولت سے تو مولا ہم کو رکھنا پاکحلال کی روزی میں برکت دے اللہ آمینچھوٹے بڑے سب بھول چکے ہیں جینے کے آداباِن کو تمیز اور اُن کو شفقت دے اللہ آمینخود کو کمترسمجھ کے مانگیں کیوں غیروں سے بھیک؟فنون و حِکمت، علم وتجارت دے اللہ آمینرسمِ دعا ہم بھول چکے ہیں دامن بھی ہے تنگلا محدود ہے تیری عنایت دے اللہ آمینفرقوں اور مسلکوں میں بٹ کر بکھر رہی ہے قومتو اتّحاد، میل محبّت دے اللہ آمینگمراہوں کو راہ دکھانا کس کے بس کی بات؟تیری مرضی ہو تو ہدایت دے اللہ آمینخون کے آنسو بدحالی پر روتا ہے دل آجرضواںؔ کو تو صبروقناعت دے اللہ آمین*****از:رضواںؔ واسطی، جمشیدپور...
حمد باری تعالیٰ : ناصر ملک
حمد باری تعالیٰ * ناصر ملک *
دُنیا کی ہر زبان کا حسنِ ادا وہیاپنا خدا جو آپ ہے ، میرا خُدا وہیاپنا خیال آپ تو اپنا بدن بھی آپپوچھا گیا ’وہ کون ہے‘ دل نے کہا ’وہی‘دستِ عطا سے منظروں کو بھی ملی زباںصحنِ خیال میں نظر آتا رہا وہیکوئی بھی سوچ اُس کا اِحاطہ نہ کرسکیدے کر شعور و آگہی سب پر کھلا وہییوں تو سبھی جہان میں ہیں معترف مگرجو اُس کے عشق میں ہے یقیناًجُدا وہینظمِ سخا پہ میرے دل و جان بھی نثارلازم تھا نقشِ پائے محمدؐ ، ملا وہیخالق سے پیار ہے مگر تخلیق سے نہیںاَب بھی فریبِ ذات کا ہے مسئلہ وہیناصر جو قلب و جان پہ چھایا رہا سداعقلِ جہاں سے آج بھی ہے ماورا وہی*** ناصر ملک۔ چوک اعظم (لیہ)
www.urdusukhan.comemail: nasirmalik_01@hotmail.com...
حمد : محمدمکتوم شرطؔ
بسم اللہ الرّحمن الرّحیمحمد محمدمکتوم شرطؔ ؔ سہسولی ، اورائی ، مظفر پوراے خُداہم نے نہ دیکھا تو یہ نادانی تھیہر طرف تیرے ہی جلوؤں کی فراوانی تھیہم سے معصوم گُلوں پر ہی یہ آفت کیسیخطۂ ہند بھی تیری ہی گُلستانی تھیتیرے دربار میں ہم رو بھی دےئے ہیں اکثرہم کو بھی چند گُناہوں کی پشیمانی تھیکاش یہ جاں تیرے قدموں پر نچھاور جاتیجان تو جان ہے حیلے سے کبھی جانی تھیاُس نے روشن کیا اے شرط ؔ چراغِ ایماںخان ۂدل میں تو پہلے سے ویرانی تھی...
حمد : اجملؔ نقشبندی
حمد اجملؔ نقشبندی یہ جسم اس کی عطا ہے یہ روح اس کی دینوہ مجھ کو سود و زیاں تولنے نہیں دیتاحفاظتیں وہی کرتا ہے میرے لہجے کیزباں پہ زہر کبھی گھولنے نہیں دیتااسی کے دم سے ہے قائم مری امّید وبیمسزا کے خوف سے وہ ہَولنے نہیں دیتاوہی سمیٹ کے رکھتا ہے مجھ کو اے اجملؔ وہ مجھ سے راز مرا کھولنے نہیں دیتا...
بے پردہ سرو تم پہ ردا کیوں نہیں آتی :احمد نثارؔ
نظم
احمد نثارؔ
بے پردہ سرو تم پہ ردا کیوں نہیں آتی
٭٭٭٭
اس دور جہالت کو قضا کیوں نہیں آتیہر سمت محبت کی فضا کیوں نہیں آتی
ٹھوکر سے سنبھلتے ہیں سبھی، تو نہیں سنبھلاآخر تجھے جینے کی ادا کیوں نہیں آتی
کیوں بوجھ سمجھتے ہیں سروں پر یہ دپٹےبے پردہ سرو تم پہ ردا کیوں نہیں آتی
کیا ہوگیا تقویٰ کی نظر تیری نظر کوآوارہ نگاہوں کو حیا کیوں نہیں آتی
تا عمر جہنم کے خزینے کو کما کرروتا ہے کہ جنت کی ہوا کیوں نہیں آتی
کیا بیچ دیا تونے ضمیروں کو زمانے؟تجھ کو تِرے اندر کی صدا کیوں نہیں آتی
دعویٰ ہے تمہیں اپنی وفاؤں پہ ولیکنہر سمت سے پھر بوئے وفا کیوں نہیں آتی
بوتے ہی نہیں بیج وفا اس پہ ستم یہکرتے ہیں گلہ شاخ وفا کیوں نہیں آتی
اخلاص و قرینے سے نثارؔ آپ پکاریں پھر دیکھئے رحمت کی گھٹا کیوں نہیں آتی
٭٭٭
احمد نثارؔ
E-mail: ahmadnisarsayeedi@yahoo.co.in...
بہار،بادل اور بجلی (تِرے آنے سے پہلے تک کا دورِبے فکر) ناصر ملک
بہار،بادل اور بجلی (تِرے آنے سے پہلے تک کا دورِبے فکر) ناصر ملک ڈائریکٹر: آرٹ لینڈ، گرلز کالج روڈ چوک اعظم چوک اعظم 0302-7844094تِرے آنے سے پہلے زندگی میں غم نہیں تھا، سُناُترتی رات کا بستر سجا کے خواب بنتا تھامِری راتوں کے دامن میں کئی جگنو چمکتے تھےمجھے نامضطرب سوچیں سدا خوش حال رکھتی تھیںمِرے نخلِ فلک پہ سینکڑوں تارے دمکتے تھےفراغت کے مِرے لب پر مچلتے تھے کئی نغمےکہیں بجلی چمکتی تھی، کہیں بادل برستے تھےتِرے آنے سے پہلے میں کبھی شب بھر نہ جاگا تھاکوئی پچھلا پہر میں نے جوانی میں نہ دیکھا تھاکبھی قاتل، کوئی مقتل کہانی میں نہ دیکھا تھاتِرے آنے سے پہلے میں بہاروں کا پرندہ تھاگلوں کا اِک نگر آباد رکھتا تھا، سنو جاناں!میں دِل کی رہ گزر آباد رکھتا تھا، سنو جاناں!کوئی گردِ مسافت تھی نہ رُسوائی کے قصے تھےمیں کرنوں سے سحر آباد رکھتا تھا، سنو جاناں!مِری خوشیوں میں شامل تھے بہاروں کے پڑاؤ بھیمیں چڑیوں سے شجر آباد رکھتا تھا ، سنو جاناں!مِرے منظر سجا کرتے تھے ہر موسم کی نکہت میںمیں ہر موسم میں گھر آباد رکھتا تھا، سنو جاناں!تِرے آنے سے پہلے زندگی نے دیکھ رکھا تھاوہ ہر تازہ گماں جو وقت کو پُرسِ وفا دیتاوہ ہر تازہ جہاں جس میں محبت...