Skip to main content

Aalamiparwaz

اتر پردیش کی حکمراں جماعت ،مسلمان اور بے چا ری اردو: ڈاکٹراسلم جمشید پوری

  اتر پردیش کی حکمراں جماعت ،مسلمان اور بے چا ری اردو  ڈاکٹر اسلم جمشید پور                             اتر پردیش سر کار کی تشکیل کو اکیس مہینے کا طویل عرصہ گذرنے کو ہے ۔اس مدت میں موجودہ سر کار نے اپنے تقریبا سبھی شعبوں میں مختلف النوع کاموں سے شروعات کردی ہے۔ سبھی شعبوں کی تشکیل بھی ہو گئی ہے۔ اب سے کچھ ماہ قبل تک اقلیتوں سے متعلق زیا دہ تر شعبے مدرسہ عربی فارسی بورڈ ،اقلیتی کمیشن،وقف بورڈ ،اردو اکادمی، فخر الدین علی احمد کمیٹی وغیرہ معلق سے تھے۔ ان کے نہ تو سر براہ اور نہ ہی کمیٹیاں نامزد ہوئی تھیں۔ ان میں سے صرف حج کمیٹی ہی ایسا ادارہ ہے جو حکومت کی ابتدا کے ساتھ ساتھ کام کررہا تھا۔ ان تمام اداروں کا تعلق براہ راست مسلمانوں سے ہے۔ موجودہ سر کار بھی نہ صرف مسلمانوں کی حمایتی رہی ہے بلکہ اس بار کے انتخاب میں مسلمانوں کے یک طرفہ ووٹ ڈالنے سے سر کار نے ریکارڈ فتح حاصل کرتے ہو ئے واضح اکثریت سے بھی زائد نشستیں حا صل کیں۔ یوں بھی ملائم سنگھ مسلمانوں کے مسیحا کہلائے جاتے ہیں اور اس میں کوئی...

ابھی تو ظلمتیں ہم کو بہت ڈرائیں گی_ ابھی نہیں ہے ہمارے حساب کا سورج: (مقصود جالب)

ابھی تو ظلمتیں ہم کو بہت ڈرائیں گی ابھی نہیں ہے ہمارے حساب کا سورج: (مقصود جالب) معروف شاعر محترم بی ایس جین جوہر ؔ کی یاد میں مشاعرہ (پریس ریلیز) میرٹھ یکم/جولائی 2019ء شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ کے منشی پریم چند سیمینار ہال میں میرٹھ کے معروف شاعر مرحوم بی ایس جین جوہرؔ کی یاد میں ایک مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت پروفیسر سید احمد شمیم نے کی اور مہمانان میں پروفیسر خالد حسین خاں، محترم نپن جین شریک ہوئے مہمانان کے لیے استقبالیہ کلمات ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے ادا کیے اور تعارف ڈاکٹر شاداب علیم، نظامت کے فرائض معروف نوجوان شاعر فرقان سنبھلی نے بحسن و خوبی ادا کیے۔ اس موقع پر اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر سید احمد شمیم نے بی ایس جین جوہر ؔ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ داغؔ دہلوی کے علمی خانوادے کی روایت کے امین جوہرؔ نے اپنے استاد سیماب اکبر آبادی کے رنگ کو بخوبی نبھایا۔ دنیا کی بے ثباتی، قومی ہم آہنگی، انسانی شناخت، حب الوطنی جیسے عناصر سے مملو کی شاعری، میرٹھ ہی نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ایک خزانے سے کم نہیں۔ پروفیسر اسلم جمشید پوری نے محترم نپن جین کی...

آگرہ میں مغلیہ حکومت۔ بابر تا اکبر (’’تاریخ فرشتہ‘‘ کے حوالے سے) (فرقان سنبھلیؔ )

 آگرہ میں مغلیہ حکومت۔ بابر تا اکبر (’’تاریخ فرشتہ‘‘ کے حوالے سے) (فرقان سنبھلیؔ ) ہندوستان میں ترکوں کی آمد کے ساتھ ساتھ اسلامی حکومتوں کی تاریخ لکھنے کا چلن عام ہو چکا تھا۔جوکہ گیارھویں صدی سے اٹھارویں صدی تک مسلسل جاری رہا۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے اس سنہری دور کی پوری تاریخ موجود ہے۔یہ بھی اہم بات ہے کہ بہت سی تاریخیں فارسی زبان میں لکھی گئی ہیں۔ان میں محمد قاسم ہندو شاہ فرشتہ کی ’’تاریخ فرشتہ‘‘اہم تاریخی مآخذ قرار دی گئی ہے۔جو کہ فارسی میں ہے۔محمد قاسم فرشتہ کی تاریخ کی قدر اس لئے بھی زیادہ مانی گئی ہے کیونکہ اس نے حالات اور واقعات کو بیان کرنے میں ایمانداری برتی ہے۔اور کسی بھی واقعہ کو بیان کرنے میں حتی الامکان احتیاط برتی ہے۔تاریخ فرشتہ تین حصوں پر مشتمل ہے۔پہلے حصے میں سولہ (۱۶)الباب ہیں۔جن میں امیر ناصر الدین سبکتغین ،محمد غزنوی،سلطان ابراہیم،بہرام شاہ،خسرو وغیرہ کی حکومتوں کے احوال ،جنگی حکمت عملی،سیاسی سماجی اور انتظامی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔دوسرا حصہ تینتالیس(۴۳)الباب پر مشتمل ہے۔اس میں دلی سلطنت شہاب الدین غوری،کتب الدین،التمش، فیروز شاہ،رضیہ سلطان،بلبن،خلجی وغیرہ کے حکومتی احوال بیان کئے گئے ہیں۔ساتھ ہی تغلق اور سادات خاندانوں کی تہذیبی ،ثقافتی اور ادبی معلومات بھی پیش کی گئی ہیں۔’’تاریخ...

آشوب دھلی اور دستنبو : ڈاکٹر صالحہ رشید

ڈاکٹر صالحہ رشید ایسوسییٹ پروفیسر شعبۂ عربی و فارسی یونیورسٹی آف الہ آبا د  آشوب دھلی اور دستنبو  ہندوستان ہمیشہ سے ہی باہری حملوں کی آماجگاہ بنا رہا۔ غزنویوں نے ہندوستان پر پے در پے حملے کئے اور بالآخر اپنے مقصد میں کامیاب ھوئے ۔ شہاب الدین غوری نے پر تھوی راج کو شکست دی اور سرزمین ھند پر جو قدم جمائے تو انکے نقوش آنے والی کئی صدیوں تک محفوظ رھے۔ غزنویوں اور غوریوں کے بعد تیموری خاندان آیا۔اس دروان سلطنت ھندکو بارہا انقلابات کا سامنا کرنا پرا ۔ کئی خاندان بر سرِ اقتدا ر آئے اور زوال پزیر ھوگئے۔ سولہویں صدی میں بابر جیسے مدبر بادشاہ نے عظیم مغلیہ سلطنت قایم کی جسے ھمایوں کے عہد تک خاص استحکام نصیب نہ ہوا لیکن اکبر نے بڑے استقلال سے حکومت کرکے اسے مستحکم بنایا اور تاریخ ہند کو وقار بخشا۔ سلطنت مغلیہ اورنگ زیب کے بعد زوال پذیر ھوئی ۔ اس کی وفات ۱۷۰۷ ؁ء کے بعد مغل سلطنت کی مرکزیت منتشر ھوگئی ۔ اس مستحکم عمارت کی بنیادیں ھل گئیں۔ جدوناتھ سرکار کے مطابق مغل سلطنت کا زوال اورنگ زیب کی زندگی میں ھی شروع ھو گیا تھا لیکن اس نے حکمت عملی اور تدبر سے کام لیکر اسے نمایاں نہیں ھونے...

آزادی کے بعد مغربی بنگال میں اردو ڈراما اور کمال احمد : ڈاکٹر محمد کاظم

 ڈاکٹر محمد کاظم شعبہ اردو، دہلی یونیور سٹی آزادی کے بعد مغربی بنگال میں اردو ڈراما اور کمال احمد   ہندوستان کی آزادی کے بعدیوں توپورے ہندوستان کی ڈرامائی سرگرمیوں کی روشنی ماندپڑتی ہوئی نظرآتی ہے۔ لیکن ۱۹۵۰ء کے بعدیہ پھرسنبھالا لیتی ہے۔ اب چند نامور ادیب وشاعرڈراماکی جانب اپنی توجہ مبذول کرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ ان لوگوں نے پرانی روش سے ہٹ کرجدیدطرزپرڈرامے لکھے۔ ۱۹۵۰ء کے بعدپروفیسرمجیب کا ڈراما’کھیتی‘ سجادظہیرکا’بیمار‘ اوپندرناتھ اشک کا ’پاپی‘ راجندسنگھ بیدی کا مجموعہ’سات کھیل‘ سعادت حسن منٹوکا ’اس منجدھارمیں‘ سردارجعفری کا ’یہ کس کا خون ہے ‘ اورحبیب تنویر کا ڈراما’آگرہ بازار‘ خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ ان ڈراموں کا شورہندوستان کے مختلف علاقوں میں تھا اورانھیں پیش بھی کیا جارہاتھا لیکن بنگال اس سے محروم نظرآتا ہے۔ہندوستان کی جنگ آزادی کے دوران انگریزوں کی جانب سے ڈھائے گئے مظالم، ملک کے بٹوارے کے تحت ہوئے فسادات اورقحط بنگال نے نہ صرف بنگال بلکہ پورے ہندوستان میں خوف وہراس کا ماحول پیداکردیا تھا۔ چہارطرف لوگ سہمے سہمے نظرآتے تھے۔ غرض عوام ہنسنا بھول چکے تھے۔ اس خوف وہراس کے ماحول میں بنگال میں ایک ایسا شخص منظرعام پرآتاہے جوان سہمے ہوئے عوام کے چہرے پرخوشی دیکھنا چاہتاہے اوراپنی بقیہ تمام زندگی اسی کام میں صرف کردیتا ہے۔...

آر ایس ٹیو ٹو ریل کا ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری کے دست مبا رک سے افتتاح

 آر ایس ٹیو ٹو ریل کا ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری کے دست مبا رک سے افتتاح (پریس ریلیز) میرٹھ20؍ اگست2013ء            ’’تعلیم کو عام کرنا ہمارا دینی اور دنیا وی فریضہ ہے۔ ہم پر غیر تعلیم یافتہ لوگوں کو علم کی دولت سے مالا مال کر نے کی ذمہ داری ہے۔ علم کا حصول اسی وقت مکمل ہو تا ہے جب ہم سیکھے ہو ئے علم کو دوسروں تک پہنچا دیں۔‘‘ یہ الفاظ ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری کے تھے۔وہ ذا کر کالونی ، میرٹھ میں وا قع آر ایس ٹیو ٹو ریل کا بطور مہمان خصوصی افتتاح کررہے تھے۔ڈا کٹر اسلم نے مزید کہا کہ کو چنگ اور ٹیوٹو ریل کلا سز بھی سماج میں بڑی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ ہر کوچنگ سینٹر پر ایک لائبریری اور انفارمیشن سینٹر ہو نے چاہےءں تاکہ طالب علموں اور عام لوگوں کو بھی مستفید ہونے کے موا قع مل سکیں۔اس مو قع پر کو چنگ کے ڈا ئریکٹر رئیس الدین سیفی نے مہمانوں کا استقبال کیا اور کو چنگ کے طور پر طلباء کو بہتر سہولتیں فراہم کر نے کا وعدہ کیا۔ پرو گرام کی نظا مت اطہر خان نے کی۔ صدارت محترم...

آج مسلمانوں کو تحفظ،تعلیم اور رو زگار کی اشد ضرورت ہے: سید فیصل علی

 آج مسلمانوں کو تحفظ،تعلیم اور رو زگار کی اشد ضرورت ہے: سید فیصل علی شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی ،میرٹھ کے 11؍ویں یوم تاسیس پر تین کتابوں کا اجراء اور شام افسانہ کا انعقاد (پریس ریلیز) میرٹھ2؍ اکتو بر2013ء                شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی ،میرٹھ نے بڑے تزک و احتشام سے اپنا11؍واں یوم تاسیس منایا۔ اس مو قع پر شعبۂ اردو نے بعنوان’’ایک شام کہانی کے نام‘‘سے جہاں ہندوستان کے مختلف افسانہ نگاروں کی محفل آراستہ کی وہیں تین اہم کتابوں کے اجراء کا بھی اہتمام کیا۔پروگرام کی صدارت صدر شعبۂ اردو، ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری نے کی،مہمان خصوصی کے طور پر یونیورسٹی کے نائب شیخ الجامعہ پرو فیسر جے کے پنڈیر نے شرکت کی ،مہمان ذی وقار کے بطور سید فیصل علی، گروپ ہیڈ راشٹریہ سہارا اردو و عالمی اردو نیوز چینل ،شریک ہو ئے اور مہمان مکرم کے بطور مولاناسید محمد اطہر کاظمی، ممبر عربی و فارسی بورڈ، اتر پردیش نے شرکت کی۔جب کہ نظا مت کے فرائض ڈا کٹر آصف علی اور مہمانوں کا استقبال ڈاکٹر شاداب علیم نے اداکیا۔پروگرام کا آ غاز قاری محمد خالد کی تلا وت کلام پاک سے ہوا۔مہمانوں نے مل کر...

(ڈاکٹراسلم جمشید پوری کی اِلہٰ آباد آمد پر اُردو گھر میں جلسۂ استقبالیہ)

 (ڈاکٹراسلم جمشید پوری کی اِلہٰ آباد آمد پر اُردو گھر میں جلسۂ  استقبالیہ)   اِلہٰ آباد:- اُردوکے معروف افسانہ نگار و صدر شعبۂ اُردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ کی اِلہٰ آباد آمد پر’’اردو گھر‘‘میں جلسۂ استقبالیہ پیش کیا گیا۔جس کی صدارت ڈاکٹر اشفاق حسین نے کی اور مہمانِ اعزازی کی حیثیتسے ڈاکٹر صالح رشید نے شرکت کی۔نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے خواجہ جاوید اختر نے’’ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری بحیثیت افسانہ نگار‘‘ اُن کا تعارف پیش کیا اور میرٹھ یونیورسٹی،شعبۂ اُردو سے متعلق اُن کی سرگرمیوں کا ذکر بھی کیا۔اُردو گھر کے اہم رکن سینئر ایڈوکیٹ ، ایم۔اے۔ قدیر نے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپنے مہمان ادیبوں اور شاعروں کا اردو گھر میں خیر مقدم کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے۔اِس موقعے پر ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کا میں تہہدل سے استقبال کرتا ہوں اور ساتھ ہی اُنھوں نے اردو گھر کے قیام کو عمل میں لانے کے اغراض و مقاصد بھی بیان کئے۔ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے اپنے خطبے میں کہاکہ ہمیں اپنی قوم اور اُردو زبان کی فلاح وبہبودی کے لئے سرسید کے نقشِ قدم پرچلناہوگا ورنہ ہماری قوم اور اُردو زبان کو پستی میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔اُنھوں نے اُتر پردیش...

(انشائیہ)اردو ریل: احمد نثارؔ(نثاراحمد سید)، شہر پونہ، مہاراشٹر، ہندوستان

   (انشائیہ)  اردو ریل  از قلم  احمد نثارؔ (نثار احمد سید)، شہر پونہ، مہاراشٹر، ہندوستان  Email : ahmadnisarsayeedi@yahoo.co.in                   شہر پونہ سے ممبئی جانے والی ریل، دکن کوین، اپنی تیز رفتار ی سے جارہی تھی۔ کھڑکی سے باہر بیش بہا مناظر ، مہاراشٹر کے مغربی گھاٹ جنہیں مہاراشٹر گھاٹ کے نام سے بھی جاناپہچانا جاتا ہے۔ فطرت کے خوشنما اور دلکش مناظر ذہن کے اندر ایک نئی دنیا کا نقشہ کھینچ رہے تھے۔ ریل کی دھڑدھڑاہٹ کی آواز۔۔۔ ہواکی سرسراہٹ سے تھوڑی مدھم ضرور ہوئی تھی۔۔۔۔ لیکن اپنی وہی پرانی پہچان سے آگے جاری تھی۔۔۔۔ جسے اکثر سنا کرتے ہیں۔ اونچی پہاڑیوں سے گذرتی ریل، ریل کے باہر پہاڑی سلسلوں کادیدہ زیب منظر نہایت ہی خوبصورت تھا، یوں لگ رہا تھاکہ۔۔۔ کسی ننھی لڑکی نے ۔۔۔ ریت کو استعمال کرکے۔۔۔ اپنے نازک ہاتھوں سے۔۔۔ پہاڑیاں بنائی ہو، اور ادھراُ دھر سے سبز پودے لاکر جوڑ دی ہو۔۔۔ سبز چادر ہوا کے ہلکے جھونکوں سے دلکش نظارا پیدا کر رہی تھی۔ ریل کے اندر سے آنے والی آواز نے میرے اس خیالی سفر سے ریل کے اندر کھینچ لائی۔ ریل کے اندر ایک عجیب منظر، چار اندھے لوگ، جن میں دو خواتین، ایک چھوٹی لڑکی اور ایک ادھیڑ عمر...

”آخری پرواز “ پرویز ؔ کی پہلی افسانوی پرواز: ڈاکٹر اسلم جمشید پو ریؔ

   ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری    ”آخری پرواز “  پرویز ؔ  کی پہلی افسانوی پرواز               مہتاب عالم پرویز، جمشید پو ر کے80ء کے بعد اُبھرنے والے تازہ کا ر افسانہ نگار ہیں۔ مہتاب نے شہر آہن کی فضا ؤں میں آنکھیں کھو لیں، قلم سنبھا لا اور واقعات کو قصے اور کہا نیوں کا لباس عطا کیا۔ پھر عمر کا ایک بڑا حصہ خلیج کے ریگ زاروں میں گذا را......سنگ، آہن، سفر،پرندہ، پرواز، ریگستان،نخلستان، وطن سے دوری، اپنوں کی بے پناہ محبتیں، قربتوں اور فاصلوں کے درمیان جھولتی زندگی، تنہا ئی،اندرون کا سفر، شناخت اورباز یافت کا مسئلہ وغیرہ ایسے مو ضو عات ہیں جن سے پرویز کا سامنا ہمیشہ ہو تا رہا ہے۔ یہی باعث ہے کہ پرویز کی کہا نیوں میں کچھ اشیاء نے مستقل علامت کی صورت اختیار کرلی ہے۔ پرندہ، پرواز، ریت، کبوتر،باز، سفر....... ان کے یہاں صرف الفاظ کی صورت استعمال نہیں ہو ئے ہیں بلکہ گنجینہئ معنی کا طلسم کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ لفظ اپنے اندر معنی کی پوری کائنات رکھتا ہے شرط لفظ کے در، وا کر نے کی ہو تی ہے معنی کا طلسم خود ظا ہر ہو نے لگتا ہے۔ پرویزؔ کی متعدد کہا نیاں اس کی عمدہ مثال کہی...

”آج سر سیدکے مشن کو آگے بڑھانا ہی ان کوسچا خراج ہے۔“ پرو فیسر صغیر افراہیم

 ”آج سر سیدکے مشن کو آگے بڑھانا ہی ان کوسچا خراج ہے۔“        پرو فیسر صغیر افراہیم                  شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ میں ایک خصوصی لیکچر بعنوان ”سر سید اور ان کے معاصرین“ کا انعقادمیرٹھ 22دسمبر2014ء                       شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں ایک خصوصی لیکچر بعنوان ”سر سید اور ان کے معاصرین“منعقد ہوا۔ یہ لیکچر خصوصی مقرر شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرو فیسر اور معروف رسالہ”تہذیب الاخلاق“ کے مدیر پرو فیسر صغیر افراہیم نے دیا۔ پرو گرام کی صدارت، صدر شعبہ اردو، ڈا کٹر اسلم جمشید پوری نے فرمائی۔مہمان خصوصی کے طور پر سابق وزیر حکومت اتر پردیش ڈاکٹر معراج الدین نے شر کت کی اور مہمانان ذی وقار کے طور پر محترم بھارت بھوشن (صدر، اُپٹا) اور معروف ادیب و شاعر محترم طالب زیدی موجود رہے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف علی،استقبال ڈاکٹر شاداب علیم اور شکریے کی رسم محترم آ فاق احمد خاں نے انجام دیے۔ پرو گرام کا آغاز محمد نعیم نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔بعد ازاں چاندنی عباسی نے نعت...

” ریت پر کھینچی ہوئی لکیر “ پر یو پی اُردو اکادمی کا انعام

 ” ریت پر کھینچی ہوئی لکیر “ پر یو پی اُردو اکادمی کا انعام         میرٹھ : 23 جون : اُتر پردیش اُردو اکادمی،لکھنونے گذشتہ دنوں 2011 ، 2012 اور 2013 کی کتابوں پر انعامات کا اعلان کر دیا ہے۔ 2011 کے لئے یوپی اُردو اکادمی نے نئی نسل کے معروف افسانہ نگار محترم مہتاب عالم پرویزؔ کے پہلے افسانوی مجموعے ” ریت پر کھینچی ہوئی لکیر“ کو انعام کے لئے منتخب کیا ہے۔اُتر پردیش اردو اکادمی صاحبِ کتاب محترم مہتاب عالم پرویز ؔکو ....... انعام پانچ ہزار روپے اور سند پیش کرے گی۔        خوشی کے اس موقع پر جمشید پور اور میرٹھ کے احباب پروفیسر ساغر بر نی ، رضواں واسطی ، جہانگیر محمد ، اختر آزاد ؔ، نغمہ ناز مکتومیؔ ( ایڈیٹرعالمی پرواز. کوم ) ڈاکٹر            اسلم جمشید پوری وغیرہ نے مہتاب عالم پرویز ؔ کو صمیمِ قلب سے مبارک باد دی ہے۔        مرسلہ         ڈاکٹر اسلم جمشید پوری        ممبر اُتر پردیش اُردو اکادمی...

” وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ” : مرجینا صدیقی – MARJINA SIDDIQUI

   "وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ" مرجینا صدیقی   دولت علم سے بہرہ مند ہونا ہر مرد و زن کے لئے لازمی امر ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کو مجموعی طور پر دین سے روشناس کرانے‘ تہذیب و ثقافت سے بہرہ ور کرنے میں اس قوم کی خواتین کا اہم بلکہ مرکزی اور اساسی کردار ہوتا ہے۔ ترقی صرف اس قوم کی میراث ہے جس کے افراد زور علم سے آراستہ و پیراستہ ہوں۔ اور قوم کے نونہالوں کی صحیح اُٹھان اور نشوونما میں ان کی ماﺅں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ ماں کی گود بچے کا اولین مدرسہ ہے۔ بچے کی ابتدائی درسگاہ دراصل ماں کی گود ہوتی ہے۔ اگر ماں تعلیم یافتہ اور سلیقہ شعار ہو تو اولاد بھی صاحب علم اور مہذب ہوگی۔ ماں کے قدموں تلے جنت کا ہونا بھی اس  کاباعث ہے کہ اولاد کی تعلیم و تربیت میں ماں کا کردار بہ نسبت باپ زیادہ کی اہمیت ہے۔ ایک ماں ہی اپنی اولاد کے خیالات اور کردار کو سنوارنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ جب ماں کی بنیادیں مستحکم ہوں گی تو بچے بھی معاشرے کے اہم فرد کی حیثیت سے اُبھر سکتے ہیں۔علم...

” عالمی افسانہ میلہ "

‫  " عالمی افسانہ میلہ "   معزز خواتین و حضرات     15سے 31 اگست تک اردو افسانہ فورم میں " عالمی افسانہ میلہ " کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ جس میں دنیا بھر سے افسانہ نگار حصہ لے رہے ہیں ۔ آپکو بھی اس میں شمولیت کی باقاعدہ دعوت دی جاتی ہے ۔ امید ہے آپ اس میلہ میں بھرپور شرکت فرمائیں گے ۔ براہ کرم میلہ کے قواعد و ضوابط دیکھ لیجیئے ۔ سب سے پہلے تو اس بات کے لئے معذرت قبول کیجیے کہ افسانہ میلہ کے دوران افسانے کے علاوہ کسی بھی قسم کی کوئی اور پوسٹ فورم پر اپروو نہ کی جائیگی۔ قواعد و ضوابط 1۔ " عالمی افسانہ میلہ " کے دوران ہر افسانہ نگارکو اپنا ایک ہی افسانہ پیش کرنے کی اجازت ہے۔ براہ کرم ہمیں افسانہ دیتے وقت اس کے ساتھ یہ ضرور لکھیں ۔ افسانہ برائے عالمی میلہ ، افسانے کا نام ، آپکا اپنا نام ، شہر اور ملک کا نام ۔ 2۔ آپ ابھی سے افسانہ میلہ کے لیئے اپنے افسانے براہ راست فورم کی وال پر پوسٹ کر سکتے ہیں (آپ جو افسانہ فورم کی وال پر پیش کرینگے اسے اپروو کرنے سے پہلے اس کے لیئے...

” زاویہ نظر "اور عامر نظیر ڈار کی باتیں

  " زاویہ نظر "اور عامر نظیر ڈار کی باتیں کتاب کا نام: زاویہ نظرمصنف : پشپیندر کمار نم صفحات : 112قمیت : 150پبلیشر : ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس،دہلیمبصر : عامر نظیر ڈار ریسرچ اسکالر،شعبہء اردو دہلی یونیورسٹی،دہلی قبل اس کے کہ ہم کتاب کے مواد پر گفتگوکرے پہلے اس کے مصنف کے حوالے سے کچھ جاننے کی کوشش کرے گے۔ مصنف کا تعلق اردو ادب کے ان طلبہ میں سے ہے جو ایک ایسے حلقے سے آئے ہیں جن کا اردو زبان سے دور دور تک کوئی رشتہ نہیں تھا، اب یہ محبت میں یا مجبوری میں انہوں نے اردو زبان کو گلے لگایا بحرحال جو کچھ بھی ہے انہوں نے سچے من سے اردو زبان کو سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کی کوششوں میں ایک کوشش ”زاوئے نظر‘‘ بھی ہے۔یہ ان کے22مضامین پر مشتعمل ایک مجموعہ ہے۔اس کتاب کو انہوں نے پیش لفظ اورکتابیات کے علاوہ تین ابواب پر منقسم کیا ہے۔پہلا باب صنف”غزل“ پر ہے جس میں انہوں نے میرؔ،غالبؔ،حالی ؔ، ساحر لدھیا نویؔ،مجروح ؔسلطان پوری،اختر شیرانی ؔ جیسے بلند پائے غزل گوشاعروں پر مضامین قلم بند کئے۔ انہوں نے ان کی غزل گوئی کو کئی ہسیتوں سے جاچھنے اور پرکھنے کی کوشش کی،اور ساتھ ہی ساتھ ان کی...

’مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا‘

 ’مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا‘ میرٹھ13؍ ستمبر2013ء (پریس ریلیز)                             گذشتہ کئی دنوں سے مظفر نگر اور آس پاس کے علاقوں میں گنگا جمنی تہذیب اور جمہوریت مخالف فرقہ پرست عناصر نے جس طرح انسانوں کے بھیس میں درندگی کو انجام دیا وہ مہذب اور تعلیم یافتہ سماج کے ماتھے کا بد نما داغ ہے۔جس طرح عورتوں،بچوں اور بوڑھوں پر مظالم ڈھائے گئے اس کی مثال تاریخ میں خال خال ہی نظر آ تی ہے اور المیہ تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ مذہب کے نام پر کیا گیا جب کہ کوئی بھی مذہب ظلم کی اجازت نہیں دیتا بلکہ بھائی چارے،آپسی میل جول ،رواداری اور دوسروں کے جذبات کا احترام اور امن و سکون قائم کر نے کا حکم دیتا ہے۔مختلف مذاہب میں امن کے اس پیغام کو عام کر نے کے تعلق سے شعبۂ اردو چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی ،میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں ’’مذہب نہیں سکھاتا آ پس میں بیر رکھنا‘‘کے عنوان سے ایک پرو گرام منعقد ہوا۔ جس کی صدارت ڈاکٹر دھرم دیواکر نے کی اور مقررین کے طور پر پرو فیسر زین الساجدین(شہر قاضی،میرٹھ)،پرو فیسر تنگ ویر سنگھ آریہ(صدر...

’’ہتھیلی‘‘ پر لکھی انمٹ تحریر کے نام : اعظم خاکوانی

’’ہتھیلی‘‘ پر لکھی انمٹ تحریر کے نامتحریر: اعظم خاکوانی                   *تھل محبت سے لبریز پیاسی ریگِ رواں کا نام تھا۔ اس میں رہنے والے تھلوچڑ جن کی اکثریت بلوچ اقوام پر مشتمل تھی، اپنے اونٹوں کو ساتھ لیے نئی چراگاہوں کی تلاش میں تھل کے اندر پیکارِ مسافت رہا کرتے تھے۔ پانی زندگی اور تہذیب کی نمو کرتا ہے اور تھل صدیوں پانی کے قحط کا شکار رہا ہے۔ یہاں کے پیاسے باسی گہرے بھورے بادلوں سے پیار کرتے تھے اور ان پانی بھرے آبگینوں کے تعاقب میں دوڑتے ہوئے ہمیشہ اپنے ٹھکانے بدلتے رہتے تھے۔ جناح بیراج کے قیام کے بعد پیاسے تھل میں پانی سے بھری نہریں جال کی طرح تھل میں پھیلادی گئیں تو اس کے تہذیبی ارتقا کا عمل شروع ہو گیا۔ پانی کی تلاش میں تھلوچڑوں نے ٹھکانوں پر ٹھکانے بدلنا موقوف کر دیے۔ رب کائنات وقت کو لوگوں کے درمیان الٹتا پلٹتا رہتا ہے۔ ہم نے تھل کے خشک ریگی ٹیلوں پر صبح کاذب کے بعد سنہری دھوپ کو پگھلتے ہوئے سونے کی طرح لہروں میں لپٹتا اور موج در موج بہتے دیکھا ہے۔ جب یہ دھوپ سردی سے ٹھٹھرے ہوئے کسی ہرن پر اپنی سنہری کرنیں...

’’لیمی نیٹیڈ گرل ‘‘کی انفرادیت موضوع اور ٹکنک : پروفیسرسیّد احمد شمیم

’’لیمی نیٹیڈ گرل ‘‘کی انفرادیت موضوع اور ٹکنک  پروفیسرسیّد احمد شمیم                اختر آزاد نے اپنی زندگی کی ابتداء مختصر افسانے سے کی اور بہت ہی قلیل مدّت میں اُنہوں نے افسانے کی صورت گری میں اپنی انفرادی حیثیت قائم کی ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے ہم عصروں میں بیانیہ پر اتنی مضبوط گرفت کم ہی لوگوں کو حاصل ہو گی ۔بیانیہ کا سارا معاملہ دراصل لفظوں کی ہنر کاری پر منحصر ہے ۔ کفایت لفظی لازماً ضروری ہے ۔ وقوعہ کے بیان میں اتنی چابکدستی حاصل ہونی چاہئے کہ کس واقعہ کو کتنا بیان کریں اور کتنا نظر انداز کردیں ،یہ سب سے اہم بات ہے ۔یہی وہ فن ہے کہ افسانہ نگار کے لئے جادوئی ٹوپی کا کام دیتا ہے کہ وہ سب کو دیکھتا ہے اور کوئی اُسے نہیں دیکھتا ۔ اس لئے اس فن کی معروضی وضاحت میرے خیال میں ناممکن ہے ۔  اختر آزاد نے اپنے ادبی سفر میں ایک قدم یہ بھی بڑھایا کہ انہیں ناول نگاری سے دلچسپی پیدا ہو گئی ۔ ان کا پہلا ناول ’’لیمی نیٹیڈ گرل‘‘ 2013ء میں منظر عام پر بھی آ چکا ہے ۔ اور موضوع گفتگو بھی بنا ہے ۔...

’’لیمی نٹیڈ گرل ‘‘ نئے موضوع پر لکھا گیا منفرد ناول : ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

 ’’لیمی نٹیڈ گرل ‘‘ :نئے موضوع پر لکھا گیا منفرد ناول ڈاکٹر اسلم جمشید پوری                           اردو ناول ہمیشہ ترقی پذیر رہا ہے۔ ادھر نئے اردو ناول نے ایک نئی انگڑا ئی لی ہے۔ اکیسویں صدی میں اردو ناول نے موضو عات کی سطح پر اور تکنیک کے طور پر بھی خا صی ترقی کی ہے۔ 10-12برسوں میں اردو کوکئی اہم اور معیاری ناول میسر آئے ہیں ۔شمس الرحمن فاروقی، مشرف عالم ذوقی، غضنفر، پیغام آ فاقی، ترنم ریاض، رحمن عباس، صا دقہ نواب سحر، شا ئستہ فاخری، عبد الصمد، نور الحسنین ،احمد صغیر، محمد علیم، شموئل احمد وغیرہ کے کئی ناول زیور طبع سے آ راستہ ہو کر با زار میں آ ئے ہیں۔کئی ناولوں نے ادب میں اپنا مقام متعین کرلیا ہے اور کئی کا مقام ابھی وقت طے کرے گا۔ ناول نگاروں کے اس قافلے میں ایک نئے نام ڈا کٹر اختر آزاد کا اضا فہ ہوا ہے۔ ناول کی دنیا میں اختر ضرور نو وا رد ہیں لیکن وہ اس سے قبل افسا نے کی دنیا میں اپنا لو ہا تسلیم کر وا چکے ہیں۔ اس سے قبل ان کے کئی افسا نوی مجمو عے...

’’عالمی پرواز ،جھارکھنڈ سے شروع ہونے والا اردوکا واحد پورٹل ‘‘ ….. ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

بہاروجھارکھنڈ کاپہلااردو پورٹل’’عالمی پرواز‘‘ جمشید پورسے جاری جمشید پور ۔ (۴فروری ۲۰۱۳ء ) ’’ عالمی پرواز ‘‘ نامی ایک پہلا اردو  Portal  www.aalamiparwaz.com جھار کھنڈ کے منظرعام پر جلوہ افروز ہوا ،بزم کاآغاز جناب قاری افروز سلیمی صاحب  مدیر دینیات ’’عا لمی پرواز‘‘ کے تلاوتِ کلام پاک سے ہوا ،میرٹھ سے تشریف فرما مہمان خصوصی ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے ایک سفید کبوتر اڑاکر پورٹل کاافتتاح کیا ،جس کی صدارت جناب سید رضا عباس چھبن نے فرمائی ،شہر کے تمام ادیب وقلم کاراور شائقین ادب نے اس پروگرام میں شرکت فرماکر پروگرام کو کامیاب بنایا ۔...