روزہ جسم وروح کی پاکیزگی اور مہلک بیماریوں سے نجات کیلئے خدائی ایک عظیم تحفہ : مولانا کبیر الدین فاران مظاہری
روزہ جسم وروح کی پاکیزگی اور مہلک بیماریوں سے نجات کیلئے خدائی ایک عظیم تحفہ مولانا کبیر الدین فاران مظاہری (مسروالاپریس ریلیز)
اللہ کے حکموں اور آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ کے مبارک طریقوں میں زندگی گزارنا۔ ظاہر اور باطن ہر لحاظ سے انسانوں کیلئے فائدے اور رحمت کا ضامن ہے اللہ کے حکم اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کے مطابق رمضان المبارک کے مکمل روزے رکھکر انسان اپنے رب کا فرمانبرداراور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی کہلاتاہے وہیں انسانی خیر خواہی یعنی بھوکے پیاسے رہکر غریبوں محتاجوں کی ضرورتوں کا احساس پیداکرلیتاہے اورگناہوں سے بچکر نیک بندہ بن جاتاہے اس طرح وہ روزے رکھ کر کئی مہلک بیماریوں سے نجات پالیتاہے ۔مشہور روحانی عالم دین حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب ؒ کا ارشاد ہے کہ روزہ رکھنے کی غر ض یہی ہے کہ انسان کہ اندر موجود حیوانی صفت بے لگام نہ ہوجائے۔اس کا اظہار رمضان المبارک کے پہلے جمع کی نماز سے قبل مرکزوالی مسجد مسروالامیں مدرسہ قادریہ مسروالا ہماچل پردیش کے ناظم مولانا کبیر الدین فاران ایک مجمع سے خطاب کررہے تھے ۔آپ نے سلسلہ بیان میں کہا کہ...
رمضان کی پر خلوص مبارکباد : ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ
’’عالمی پرواز ‘‘
کے قارئین کو مقدس مہینے رمضان کی پر خلوص مبارکباد خدا ہم سب کو گناہوں سے بچنے اور زیادہ سے زیادہ ثواب کمانے کی تو فیق عطا کرے۔ آ مین ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ
ابرار مجیب
مہتاب عالم پرویزؔ
نغمہ ناز مکتومیؔ
افروز سلیمیؔ
...
رمضان کی پر خلوص مبارکباد : ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
’’عالمی پرواز ‘‘
کے قارئین کو مقدس مہینےرمضان کی پر خلوصمبارکبادخدا ہم سب کو گناہوں سےبچنے اور زیادہ سے زیادہثواب کمانے کی تو فیق عطا کرے۔آ مینڈاکٹر اسلم جمشید پوری...
راوی ادبی کتا بی سلسلہ : شمارہ : اول اگست – 2014
راوی ادبی کتا بی سلسلہ : شمارہ : اول اگست – 2014
راوی کے ابواب مشہور مصور، افسانہ نگار اور ہالی ووڈ فلم ساز، ہدایت کار، ڈرامہ نویس ممتاز حسین کی مصوری سے مزیں ہوں گے۔
شمارہ اول کے شرکا کی ایک ناتمام جھلک
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ
سریندر ورما
ایلس منرو
فاطمہ حسن
علی احمد فاطمی
شموئل احمد
پیغام آفاقی
دانیال طریر
معید رشیدی
اقبال حسن خاں
فرخ ندیم
راشد اشرف
ابرار احمد
فرحت پروین
عذرا عباس
ممتاز حسین
احمد سہیل
حسنین جمال
نسیم سید
سید احمد قادری
کوثر جمال
محمد نعیم دیپالپور
نورالعین ساحرہ
راوی میں شامل اردو کی تخلیقات اور مضامین غیر مطبوعہ ہیں جنہیں فیس بک یا الکٹرنک میڈیا پر بھی پیش نہیں کیا گیا ہے.
...
ڈیمیج کنٹرول : متاثرین سے ہمدردی یا ووٹ بینک کی درستگی : ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری ڈیمیج کنٹرول : متاثرین سے ہمدردی یا ووٹ بینک کی درستگی یہ زبان بھی کیا عجیب شئے ہے؟ الفاظ، وقت حا لات اور استعمال سے کیسے کیسے معنی دیتے ہیں۔ انگریزی سے دور دور رہنے وا لے اور ہندی اور اردو کا دم بھرنے وا لے بھی انگریزی کے بعض الفاظ کا دھڑ لے سے استعمال کر نے سے خود کو روک نہیں پاتے ہیں۔ سو شل انجینئرنگ سے تو آپ سب وا قف ہو ہی گئے ہو ں گے۔ اب ڈیمیج کنٹرول کا استعمال ہندی اور اردو رو زناموں میں تیزی سے ہو رہا ہے۔ مظفر نگر فساد کے بارے میں قیا فہ شناس بھی حیران ہیں کہ ایسا تو نہیں سو چا تھا۔ مجھے لگتا ہے منصو بہ بنا نے وا لوں کے بھی وہم و گمان میں نہیں ہو گا کہ اونٹ اس کروٹ بیٹھ جا ئے گا۔بعض لو گوں کا ماننا ہے کہ چو را سی پریکرما کی طرح مظفر نگر فساد بھی بی جے پی اور سماج وا دی کا ایک منصو بہ بند ڈرامہ تھا۔کچھ لوگوں نے اسے’’فکسڈ‘‘ بھی قرار دیا۔ کچھ نے اسے دو پہلو انوں کی’نو را کشتی‘...
ڈرامے کے فروغ کے لیے ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کو صفدر ہاشمی ایوارڈ سے نوازا گیا
ڈرامے کے فروغ کے لیے ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کو صفدر ہاشمی ایوارڈ سے نوازا گیا (پریس ریلیز) میرٹھ27/ مارچ2017ء
بین الاقوامی اسٹیج ڈے اور در پن کلا کیندر ناٹیہ سنستھان(رجسٹرڈ) کے45/ ویں یوم تاسیس کے مو قع پر ناٹیوتسو2017ء کا انعقاد، ڈی این پی جی کالج، میرٹھ کے شنکر آ ڈیٹوریم میں ہوا۔ اس مو قع پر میرٹھ میں ڈرا مے کے فرو غ کے لیے ڈا کٹر اسلم جمشید پوریؔ، صدر شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ کو”صفدر ہاشمی ایوارڈ“ سے سر فراز کیا گیا۔ ایک شال، ایک نشان یا دگار اور سند کی شکل میں یہ ایوارڈ سابق ایم ایل اے اور وزیر محترم پر بھو دیال با لمیکی، در پن کلا کیندر کے سر پرست جناب ستیش شرما، ڈا ئریکٹر جناب ونود کمار بے چین اور دیگر نے عطا کی۔ واضح ہو کہ ڈا کٹر اسلم جمشید پوریؔ نے گذشتہ دس بارہ برسوں میں میرٹھ میں ڈا را مے کے فروغ کے لیے کا فی کام کیا ہے۔ ان کی سر پرستی میں تقریبادو درجن اہم ڈرا مے پیش کیے جا چکے ہیں۔ کئی ڈرا مہ فیسٹیول، نکڑ ناٹک اور ڈرا مے کے مقابلوں کا انعقاد کر کے ڈا کٹر اسلم نے میرٹھ میں ڈرا...
ڈرا مہ’’جس لاہور نئیں دیکھیاں….‘‘ کا مقصد قومی یکجہتی اور مذہبی روا داری کا فروغ ہے : پروفیسر اصغر وجاہت
ڈرا مہ’’جس لاہور نئیں دیکھیاں....‘‘ کا مقصد قومی یکجہتی اور مذہبی روا داری کا فروغ ہے:پروفیسر اصغر وجاہت
اے بی وی پی کی مخالفت کے با وجود شعبۂ اردو کے زیر اہتمام معروف ڈرامہ کا شاندار اور کامیاب انعقاد،ہزاروں لوگوں کی شرکت24؍ مئی2013ء(پریس ریلیز): شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ اور یو نائیٹڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن، میرٹھ (UPTA)کے باہمی اشتراک سے عالمی شہرت یافتہ ڈراما’’جس لاہور نئیں دیکھیاں........‘‘ کا کامیاب انعقاد24؍ مئی2013ء کو یونیورسٹی کے آڈیٹوریم نیتاجی سبھاش چندر بوس میں ہوا۔ جس کی صدارت شیخ الجامعہ محترم وکرم چند گویل نے کی ۔مہمان خصوصی پرو فیسر اصغر وجاہت تھے۔ جب کہ مہمانان ذی وقار کے طور پر محترم وبھوتی نارائن(شیخ الجامعہ،وردھا یونیورسٹی) ، پروفیسر منظور احمد(شیخ الجامعہ، سبھارتی یونیورسٹی، ڈاکٹر معراج الدین(سابق وزیر حکومت اتر پردیش) ،محترم اجیت اگروال (چےئر مین گیان بھارتی )محترم نیرج شرما(چینل ہیڈ سبھارتی ٹی وی)،محترم بھانو پرتاپ سنگھ(چےئر مین کرن پبلک اسکول)،محترم انکور جین(ڈائریکٹر پارشوناتھ ایسو سی ایٹس)،ڈاکٹر سدھا شرما(پرنسپل بھوانی ڈگری کالج،شاہ جہاں پور، میرٹھ) اور محترم جی این گپتا(پرنسپل،سی اے بی انٹر کالج،میرٹھ)نے شرکت کی۔نظامت کے فرائض محترم آفاق احمد خاں نے انجام دیے۔پرو گرام کا آ غاز شیخ الجامعہ نے مہمانوں کے ساتھ مل کر شمع...
ڈاکٹر نزہت پروین کا تحقیقی و تجزیاتی مقالہ ’جھارکھنڈ میں اردو کے غیر مسلم فنکار‘ اور معروف ادیب و شاعر اسلم بدر کی انشائیہ نما تحریر ’پندار کا صنم کدہ ‘ (خود نوشت) کی رسم اجراء
بسم اللہ الر حمٰن الر حیم ڈاکٹر نزہت پروین کا تحقیقی و تجزیاتی مقالہ ’جھارکھنڈ میں اردو کے غیر مسلم فنکار‘ اور معروف ادیب و شاعر اسلم بدر کی انشائیہ نما تحریر ’پندار کا صنم کدہ ‘ (خود نوشت) کی رسم اجراء ’اردو قبیلہ‘ جمشید پور کے زیر اہتمام، مذکورہ بالا دونوں کتابوں کی رسم اجراء کریم سٹی کالج، جمشیدپور کے اسٹوڈیو ہال میں ڈاکٹر محمد زکریا (پرنسپل کریم سٹی کالج)اور جناب اختر کاظمی ( ایڈیٹر ’کوکن سہارا ‘ممبئی) کے ہاتھوں ادا کی گئی۔ ’جھارکھنڈ میں اردو کے غیر مسلم فنکار ‘ دراصل ڈاکٹر نزہت پروین کا وہ تحقیقی و تجزیاتی مقالہ ہے ، جس پر رانچی یو نیورسٹی نے انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری سے سر فراز کیا ہے۔ ہماری اردو زبان جسے پروان چڑھانے اور اس کے حسن کو نکھارنے والوں میں صرف مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی پیش پیش تھے۔پنڈت برج نرائین چکبست، دتاتریہ کیفی،پریم چند ، فراق گورکھپوری سے لے کر گوپی چند نارنگ تک کا ایک اٹوٹ سلسلہ ہے، جو اس کشت تہذیب کی آبیاری میں اب بھی شامل ہے ۔ صوبہ جھارکھنڈ میں بھی اس سلسلے کی اہم کڑیاں ملتی ہیں۔ یہاں کے رام پرشاد کھوسلہ ’ناشاد‘(شاعر)،ہربنس دوست (افسانہ و ناول نگار)، گربچن سنگھ (افسانہ نگار) ، شیدا...
ڈاکٹر سپریا پاہوجا،جے پی سنگھ(جئے وردھن)، اور ہیمنت کمار گویل کو اُپٹا نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا
شعبہ اردو،میرٹھ یونیورسٹی اوریو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشنکے مشترکہ اہتمام میں ڈراما فیسٹول اور ایوارڈ فنکشن کا انعقادڈاکٹر سپریا پاہوجا،جے پی سنگھ(جئے وردھن)، اور ہیمنت کمار گویل کو اُپٹا نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا (پریس ریلیز)میر ٹھ 31/دسمبر2017ء آج یہاں نیتا جی سبھاش چندر بوس آڈیٹوریم،واقع چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میں شعبہ اردو اور یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن(UPTA) کے مشترکہ اہتمام میں ڈرا ما فیسٹول میں بعنوان”مایا رام کی مایا“ اور درپن کلا کیندر کا ڈرامہ”گدھ“پیش کیا گیا جس کو نا ظرین نے خوب پسند کیا اور تالیوں کی گڑ گڑا ہٹ سے ارا کین ڈرامہ اور اداکاروں کو حوصلہ بخشا۔ڈرامہ ”گدھ“ونود کمار بے چین کا تحریر کردہ ڈرا ما ہے جس کا ڈا ئریکشن انل شرما نے کیا۔ جب کہ یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن کی پیش کش ”مایا رام کی ما یا“کو جے وردھن نے تحریر کیا تھا اور اس کا ڈائریکشن بھا رت بھو شن شرما نے کیا۔ اُپٹا نے ہر سال کی طرح امسال بھی اسٹیج اورڈراما نگاری کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے وا لوں کو ایوارڈ سے سر فراز کیا۔ معروف ڈرامہ نویس اور اداکار جے پی سنگھ(جئے وردھن) کواپٹا بھارتیندو ہریش چندر...
ڈاکٹر انجم جمالی کے یومِ پیدائش کے موقع پر ’’ماحولیا ت اور انجم جمالی‘‘ پر شاندار پرو گرام انجم جمالی کے یوم پیدائش کو یومِ ماحولیات سے جوڑ کر منانا ایک قابل ستائش قدم ہے :ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
ڈاکٹر انجم جمالی کے یومِ پیدائش کے موقع پر ’’ماحولیا ت اور انجم جمالی‘‘ پر شاندار پرو گرام انجم جمالی کے یوم پیدائش کو یومِ ماحولیات سے جوڑ کر منانا ایک قابل ستائش قدم ہے :ڈاکٹر اسلم جمشید پوری میرٹھ : (جون۲۰۱۳) : ’’انجم جمالی کے یوم پیدائش کو یوم ماحولیات سے جوڑ کر منانا ایک قابل ستائش قدم ہے۔ڈاکٹر انجم جمالی افسانہ نگار، شاعر ، صحافی اور ماہر ڈاکٹر تھے۔لیکن ان کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ وہ تحریک کے آدمی تھے۔انہوں نے میرٹھ اور قرب و جوار میں اردو زبان اور ادب کے فروغ کے لئے بے حد محنت کی۔متعدد مشاعرے،شام غزل، شب افسانہ، کا نفرنس، جلسہء تقسیم ایوارڈ وغیرہ منعقد کئے۔انہون نے میرٹھ میں ادب کی جو آبیاری کی تھی ااج اس کے ثمات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔’’ یہ جملے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کے تھے وہ مشہور و معروف شاعر، مصنف اور صحافی ڈاکٹر انجم جمالی کے یومِ پیدائش کے موقع پردلی روڈپر واقع چیمبربھون میں منعقدہ’’ ماحولیا ت اور انجم جمالی‘‘سیمینار اور مشاعرہ میں بحیثیت صدر خطاب فرما رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دن ہم سب ادیب وشاعر عہد کریں کہ اپنے آس پاس صفائی کا خیال رکھیں...
ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری نے رانچی سے شائع ہونے والے سہ ماہی رسالہ ’موج ادب‘ کا اجراء کیا
ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری نے رانچی سے شائع ہونے والے سہ ماہی رسالہ ’موج ادب‘ کا اجراء کیا رانچی مورخہ ۲ ؍جون جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی رسالے ’’موجِ ادب‘‘ کی رسمِ اجراشہر میں واقع ہوٹل یوراج پیلس میں چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ (یو۔پی) کے صدر شعبہء اُردو ، مُنشی پریم چند کی تحریری روایت کو برقرار رکھنے میں کامیاب افسانہ نگار،بین الاقوامی سطح پر اردو کے فروغ کے لئے کوشاں شخصیت اورآج کی تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کے ذریعہ انجام پائی۔جلسے میں جناب سہیل انور اڈوکیٹ جنرل،جھارکھنڈ سرکار،جناب عبد العلّام سینئر اڈوکیٹ و اسٹینڈنگ کونسل ،جھارکھنڈ ہائی کورٹ،جناب خورشید حیات چیف کنٹرولرساؤتھ ایسٹ سینٹرل ریلوے،بِلاس پور،ایم۔قیصر علی اے۔ڈی۔ایم،بانکا۔بہاراور شان بھاتی ایڈیٹر سہ ماہی’’رنگ‘‘ دھنباد مہمانِ اعزازی کی شکل میں محفل کی رونق بڑھا رہے تھے۔تقریب کی صدارت معروف شاعر اور بہار اردو اکادمی کے سابق وائس چیئرمین نے کی جب کہ نظامت کے فرائض شہر کے مقبول شاعر ڈاکٹر سرور ساجدنے انجام دیے ۔تقریب کا باقاعدہ آغاز حافظِ قُرآن جناب حذیفہ رحمانی کے تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔اس کے بعد موجِ8 ادب کے مدیر اعلیٰ جناب عالمگیر ساحل نے رسالے کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ...
ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کے افسانوی مجمو عے”عید گاہ سے واپسی“کو انعام
ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کے افسانوی مجمو عے”عید گاہ سے واپسی“کو انعام (پریس ریلیز) میرٹھ24/ جون2017ء
معروف افسا نہ نگار، ناقد اور صدر شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری ؔکے افسانوی مجمو عے”عید گاہ سے واپسی“ پر بہار اردو اکادمی پٹنہ نے کتابوں پر دیا جانے والا اپنا پہلا انعام جو21000 روپے پر مشتمل ہے، دیے جانے کا اعلان کیا ہے۔ واضح ہو کہ”عید گاہ سے واپسی“ ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کا چو تھا افسا نوی مجمو عہ ہے جو اکتو بر2015ء میں منظر عام پر آیا۔ چھ ماہ کی قلیل مدت ہی میں مجمو عے کا دوسرا ایڈیشن مارچ2016ء میں شا ئع ہوا۔ مجمو عے میں کل 12/ افسانے شامل ہیں جن میں عالمی سطح پر شہرت یا فتہ افسا نہ ”عید گاہ سے واپسی“ بھی شامل ہے۔ اس افسانے میں ڈاکٹر اسلم نے پریم چند کی معروف کہا نی”عید گاہ“ کے کردار حامد کو70سالہ بزرگ دکھایا ہے اور پریم چند کے 70سال بعد، آج کے فرقہ وارانہ ما حول میں خصوصادیہات کے پس منظر میں کہانی کا تانا بانا بنا ہے۔مجمو عے کی کئی دیگر کہا نیاں پانی اور پیاس، بدلتا ہے رنگ آ سماں ...،تیری سادگی کے پیچھے، دن کے اندھیرے رات...
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کی نئی کتاب دکھ نکلوا شائع ہو گئی ہے
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کی نئی کتاب دکھ نکلوا شائع ہو گئی ہے (پریس ریلیز) میرٹھ30؍ نومبر2013ء
شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کے پریم چند سیمینار ہال میں ایک پریس کانفرنس منعقد ہو ئی۔پریس کانفرنس میں ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری (صدر شعبۂ اردو،سی سی ایس یو)کی ہندی کہانیوں کا نیا مجمو عہ جو ’’دکھ نکلوا‘‘ کے نام سے شائع ہوکر آ یا ہے پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔’’دکھ نکلوا‘‘ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کی مشہور تصنیف ’’لینڈرا‘‘ ،جسے قومی و بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی ،کا ہندی روپ ہے۔مجمو عی طور پر یہ ان کی انیسویں کتاب ہے۔اس سے قبل ان کی متعدد کتابیں تنقید، تحقیق،ترتیب و تالیف پر آچکی ہیں۔ساتھ ہی ساتھ ان کے افسا نوں کے کئی مجمو عے مثلا’’افق کی مسکراہٹ‘‘،’’ممتا کی آواز‘‘،’’جاگتی آ نکھوں کا خواب‘‘،’’لینڈرا‘‘،’’کہانی محل‘‘ وغیرہ منظر عام پر آ چکی ہیں۔’’دکھ نکلوا‘‘ کی زیا دہ تر کہا نیاں قومی و بین الاقوامی اخبا رات و رسائل میں شائع ہو چکی ہیں اور کئی کہانیوں کو مختلف انعا مات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔’’دکھ نکلوا‘‘ کے اردو روپ’’ لینڈرا‘‘ پر اسکندریہ یو نیورسٹی، مصر اور شعبۂ اردو جموں یو نیورسٹی جموں میں...
ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کو افسانہ کلب،مالیر کو ٹلہ، پنجاب کا باوقار ’’منٹو ایوارڈ2015“ پیش کیا گیا
ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کو افسانہ کلب،مالیر کو ٹلہ، پنجاب کا باوقار ’’منٹو ایوارڈ2015“ پیش کیا گیا
میرٹھ (12 مئی): نئی نسل کے ممتاز افسانہ نگار،صحافی، ناقداور صدر شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیور سٹی،میرٹھ ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کو مالیر کوٹلہ کلب،پنجاب میں با وقار ’’منٹو ایوارڈ 2015“سے سرفراز کیا گیا۔ ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کو اردو افسانے کی ترقی وفروغ کے لئے،ہندوستان کی معروف تنظیم افسانہ کلب،ملیر کوٹلہ کی جانب سے یہ اعزاز پروفیسر صغیر افراہیم(مدیر، تہذیب الاخلاق)،محترم امجد علی(چیئر مین،سہراب گروپ آف کمپنیز)،محترم سکھ دیو سنگھ گریوال(امریکا)،محترم نگیندر پال،محترم بشیر مالیر کوٹلوی(صدر،افسانہ کلب) کے دستِ مبارک سے، دو روزہ کل ہند سیمینار ”اردو کے سکھ افسانہ نگار“ کے افتتاحی اجلاس میں دیا گیا۔ واضح ہو کہ پہلا منٹو ایوارڈ اردو کے معروف افسانہ نگار محترم شرون کمار ورما کو دس سال قبل دیا گیا تھا۔دوسرا منٹو ایوارڈ پیش کرتے ہوئے افسانہ کلب کے صدر محترم بشیر مالیر کوٹلوی نے کہا ”یہ ایوارڈ اردو افسانے کے فروغ میں عملی تعاون دینے والے لوگوں کو دیا جاتاہے۔ڈاکٹر اسلم جمشید پوری ؔنے نہ صرف افسانے تحریر کر کے نئی نسل میں اپنا مقام بنایا ہے،بلکہ انہوں نے افسانے کے فن پر متعدد قومی اور بین...
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کو اردو خدمات کے لیے ایوارڈ
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کو اردو خدمات کے لیے ایوارڈ (پریس ریلیز) میرٹھ4؍ جون2012ء
میرٹھ کی معروف تنظیم’وجے ما نو سیوا سنستھان‘ نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں میرٹھ کا نام روشن کر نے وا لی اہم شخصیات کو ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری ( صدر شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ) کو اردو زبان و ادب کے فرو غ کے لیے’’وجے مانو سیوا ایوارڈ2012ء‘‘ سے نوازا گیا۔ انہیں یہ ایوارڈ سا بق چیف جسٹس ایس پی تیاگی، سریندر پرتاپ سنگھ، را میشور تیاگی اور ڈا کٹر انشو جندل نے مشترکہ طور پر پیش کیا۔ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری کو ایوارڈ ملنے پر اردو حلقوں میں خو شی کی لہر ہے۔احباب نے انہیں مبارک باد پیش کی ہے۔...
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کو ادب اور ڈرا ما کے فروغ کے لیے کملیشور ایوارڈ سے نوازا گیا…..
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کو ادب اور ڈرا ما کے فروغ کے لیے کملیشور ایوارڈ سے نوازا گیا یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشنUPTA،میرٹھ کے چوتھے یوم تاسیس میں’’ایک اور درونا چاریہ‘‘ کھیلا گیا۔ (پریس ریلیز) میرٹھ یکم نومبر؍2013ء
’’ یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن، میرٹھ نے اپنے چار سالہ کامیاب سفر کے دوران شہر کے متعدد مقامات پر سماجی مسائل پر مبنی مختلف ڈرامے پیش کر کے تہذیبی وراثت اور اخلا قی قدروں کو فروغ دینے کا کار نامہ انجام دیا ہے۔جسے شہر کے غیور عوام نے خوب سرا ہا ہے۔اب ہمیں اور محنت کر کے اور دیگر تنظیموں کو بھی اس میں شامل کر کے بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی شناخت قائم کرنی ہوگی۔’’ڈراما’’ایک اور دروناچاریہ‘‘ سماج میں خصوصاً شعبۂ تعلیم میں پھیلتے جارہے کرپشن پر کاری ضرب ہے۔‘‘ یہ الفاظ تھے صدر شعبۂ اردو ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری کے جو کملیشور ایوارڈ حاصل کر نے کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن،میرٹھ نے اپنے چو تھے یوم تاسیس کے مو قع پر سینٹ جوزف انٹر کالج میں ایک ڈرا ما بعنوان’’ ایک اور درونا چاریہ‘‘ کا...
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کو ’’ پوروانچل پتھک‘‘ نے’’ نشان الہ آ باد اعزاز‘‘ سے نوازا
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کو ’’ پوروانچل پتھک‘‘ نے’’ نشان الہ آ باد اعزاز‘‘ سے نوازا ہندی رسالہ پوروانچل پتھک کے سالانہ جلسے میں’’ دکھ نکلوا‘‘ پر مذاکرہ اور متعدد علمی و ادبی شخصیات کو اعزاز دیا گیا
میرٹھ31؍ دسمبر2013ء الہ آ باد سے شائع ہو نے وا لا ہندی رسالہ’’پوروانچل پتھک‘‘ نے اپنے سا لانہ پرو گرام میں ڈا کٹر اسلم جمشید پوری کو’’ نشان الہ آ باد اعزاز‘‘ سے نوازا ساتھ ہی جلسے میں ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری کے ہندی مجمو عے’’ دکھ نکلوا‘‘ پر ایک مذاکرے کا بھی اہتمام کیا۔میرٹھ پہنچنے پر ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری نے پریس میں یہ جانکا ری دی۔ انہیں یہ اعزاز اردو کے معروف ترقی پسند ناقد وسا بق صدر شعبۂ اردو ،الہ آ باد یو نیورسٹی پرو فیسر سید محمد عقیل رضوی، سابق ایڈ وکیٹ جنرل،اتر پردیش محترم سید محمد احمد کاظمی اور جناب جی کے بنسل( آئی اے ایس،آفیسر) نے ایک سپاس نامہ اور ٹرا فی کی شکل میں پیش کیا۔’’دکھ نکلوا‘‘ پر مذاکرے میں پرو فیسر سید محمد عقیل رضوی، سید محمد احمد کاظمی، اسرار گاندھی، ڈا کٹر صا لحہ رشید، ارملا جین، انل رنجن بھو مک،...
ذوقی کی فکری جہت نالہ شب گیر کے حوالے سے : الماس فاطم
ذوقی کی فکری جہت نالہ شب گیر کے حوالے سے
از۔الماس فاطمہ
اورنگ آباد،مہاراشٹر
”کیا کہتی ہے مجھ سے میری روٹھی ہوئی تقدیر
ائے نالہئ شب گیر........
بیگانی ہوئی جاتی ہے مجھ سے میری تصویر
ائے نالہئ شب گیر........
کیوں لکھنے لگا کوئی میرے درد کی تفسیر
ائے نالہئ شب گیر........“
موجودہ عہد کی ایک ایسی شخصیت جو اپنے شاندار ناولوں اور افسانوں سے اردو ہی نہیں بلکہ ہندی دنیا میں بھی اپنا ایک منفرد مقام بنائے ہوئے ہیں وہ شخصیت مشرف عالم ذوقی کی ہے۔ ذوقی اب تک کئی ناولوں کی تخلیق کر چکے ہیں جس میں نیلام گھر،بیان،مسلمان،شہر چپ ہے،پوکے مان کی دنیا، لے...
دیار ہندی میں فیض : شہاب ظفر اعظمی،شعبۂ اردو،پٹنہ یونیورسٹی
شہاب ظفر اعظمی،شعبۂ اردو،پٹنہ یونیورسٹی دیار ہندی میں فیض فیض احمد فیض بنیادی طور پر ایک ترقی پسند شاعر تھے لیکن انہیں جو عالمی مقبولیت حاصل ہے اس کی بنیادیں ادبی اور تہذیبی عناصر پر مشتمل ہیں۔ فیض کی شاعری میں موجود انسانی اقدار، درد مندی اور احتجاج کی تہہ نشیں لہروں کو کسی بھی خطے کا انسان یا کسی زبان کا نقاد نظرانداز نہیں کرسکتا۔ ان کی شاعری میں انسانیت اور دردمندی کا نظریہ ہے تو جمالیاتی سطح پر ادبیت اور خلوص بھی۔مگر ظاہر ہے کہ صرف خلوص یا نظریے سے کوئی شاعر بڑا نہیں ہوسکتا۔ جو بات فیضؔ کو مقبول خاص و عام بناتی ہے وہ ان کی تخلیقی بصیرت ہے جو اجتماعی شعور اور فکری ترجیحات سے جلاپاتی ہے۔ شعر و ادب کے طالب علموں سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ فیض اپنی تحریروں میں اجتماعی تجربے کو بڑی اہمیت دیتے ہیں اور یہ اجتماعی تجربے بڑی خوبصورتی سے فیض کی شاعری میں تہذیب اور کلچر کا استعارہ بن جاتے ہیں۔فیضؔ کے اجتماعی شعور اور تہذیبی بصیرت نے ان کی شاعری کو اردو، ہندی اور پنجابی ہی نہیں انگریزی اور روسی زبانوں میں بھی یکساں مقبول بنایا ہے۔ فیض کی شاعری جتنی اردو میں شائع ہوئی ہے اتنی ہی...
دلاور علی آزر کی شاعری : ایک جہانِ حیرت : ابرار مجیب
دلاور علی آزر کی شاعری : ایک جہانِ حیرت ابرار مجیب
جمشیدپور ، انڈیا شاعری جہانِ حیرت کی تخلیق کا نام ہے۔ یہ جہانِ حیرت کیا ہے ؟ انسانی سطح پر شاعر کے تجربات و مشاہدات وہی ہیں جو ایک عام آدمی کے ہیں، وہ اسی دنیا میں سانس لیتا ہے ، آفتاب کے طلو ع و غروب کا نظارہ کرتا ہے۔ چاند کی ٹھندی کر نو ں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ ندیوں کی روانی اور ہو ا کی اٹھکھیلیاں ، زندگی کے سرد و گرم ، خوبصورتی اور بدصورتی، نفرت اور محبت ، موت و حیات کی کشمکش یہ سب کچھ کسی شاعر کے تجربات و مشاہدات کا بھی حصہ ہوتے ہیں ۔ آخر یہ تجربات و مشاہدات کس طرح ایک جہانِ حیرت میں ڈھل جاتے ہیں جب شاعری کی صورت اپنی جلوہ گری دکھاتے ہیں؟ کس طرح ہمیں ایک شعر اس محسوس دنیا سے نکا ل کر ایک ماوئرائی کائنات کی سرحدو ں میں داخل کر دیتا ہے۔ ایک ایسے تجربے سے گزارتا ہے جو نہ صر ف یہ کہ حیرتناک ہے ، پراسرار اور تفہیم کی اقلیم سے باہر بلکہ ہماری بصیرت...