Skip to main content

Aalamiparwaz

خورشید حیات ۔۔۔ ایک زعم بردار کہانی کار : ناصر ملک

خورشید حیات ۔۔۔ ایک زعم بردار کہانی کارمبصر: ناصر ملک       * اسے کوئی زعم ہے۔۔۔ اور زعم بھی کیا؟ ۔۔۔ کہ وہ کہانی کار ہے۔ کہانی لکھتا ہے۔ کہانی کون اور کب لکھ پاتا ہے؟ ۔۔۔ کہانی تو اپنی بنت خود بنتی ہے۔ کہانی تو اپنی جڑت خود تجویز کرتی ہے۔ کہانی تو اپنے مفاہیم و مکاتیب خود تشکیل دیتی ہے۔ پھر خورشید حیات کا زعم کیا؟ ۔۔۔ کیا وہ اونچے پیڑ کی ٹیسی پر بیٹھا ان کرداروں کی حرکات و سکنات کو اپنے قرنیا پر نقش کر رہا ہے؟۔۔۔ اگر کر رہا ہے تو اس میں زعم کیا؟ ۔۔۔ یہی کہ اس نے ان متحرک کرداروں کو تخلیق کیا ہے۔ ہاں! یہی زعم اسے اپنے کرداروں کی عکس بندی پر اکساتا ہے اور وہ اپنے تخلیق کردہ کرداروں کی جولانیاں، موج مستیاں اور تہذیبی اڑانیں دیکھتا، محسوس کرتا اور نقش کرتا چلا جاتا ہے۔ یا اسے کوئی اور زعم ہے ۔۔۔ اور زعم بھی کیا؟ ۔۔۔ کہ وہ ایک طویل عرصہ اپنے ترتیب دیے گئے کرداروں کی دنیا میں گم رہتا ہے۔ ان کے احساسات اور اظہاریوں پر گہری نظر رکھتے ہوئے تخلیاتی واقعات کی کڑیوں کو جوڑتا ہوا کسی غیر مبہم نتیجے پر پہنچتا ہے اور پھر...

خورشید جہاں کی انشائیہ نگاری : ڈاکٹر افسر کاظمی

خورشید جہاں کی انشائیہ نگاریڈاکٹر افسر کاظمی dr.afsar.kazmi@gmail.com ہما ری سما جی زندگی تضاد تخاتف اور نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے۔اور ہر لمحہ حیات انسانی نت نئے تجرباتی ذائقوں سے گزرتی رہتی ہے۔اور ان کے اثرات اوررد عمل کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے۔دکھ سکھ رنج وراحت اور غم و مسرت کی وضاحت ہمارے رونے اور ہنسے سے ہوتی ہے ۔یہ عام انسانوں کا شیوہ ہے۔ترتیب یا فتہ ذہن ومزاج رکھنے والے شائستہ افراد ہنس ہنس کر اپنے غموں کا مداوا کرنے کا سلیقہ رکھتے ہیں۔یہ سلیقہ تہذیبی زندگی کے مجاہدوں ہی کے ذریعہ نمایاں ہوتا ہے۔ چونکہ شعر وادب کے ذریعہ مشاہدات، خیالات اورتاثرات کی حیات آفریں کیفیات سامنے آتی ہیں اور ان میں رنج وراحت کے احسا سات کے عناصر بھی شامل ہوتے ہیں۔اسلئے اس سلیقے کا اظہار یہاں نہایت خوبی وخوش اسلوبی کے ساتھ ہوتا ہے۔طنزیہ اور مزاحیہ ادب میں یہ خصو صیت ذراتیز اور سریع الاثر ہوتی ہے جس طرح رونا رلانا بلاسبب نہیں ہوتا اسی طرح ہنسنا اورہنسانا بلا مقصد نہیں ہوتا۔شخصی اور معاشرتی زندگی میں جو ناہمواریاں موجودہوتی ہیں ہنسنے ہنسانے کی تحریک انہیں ملتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کی ناہمواری ہی مزاح وطنز کے میلان کو فروغ دینے کا وسیلہ بنتی ہے...

چہار روزہ بین الاقوامی سیمینار کے تعلق سے شعبہ اردو میں سی سی ایس یو میں پریس کانفرنس کا انعقاد

چہار روزہ بین الاقوامی سیمینار کے تعلق سے شعبہ اردو میں سی سی ایس یو میں پریس کانفرنس کا انعقاد اس دوران شام افسانہ، شام غزل، مشاعرہ، آرٹ گیلری، بک فیئر اور ڈرامے کا بھی ہوگا انعقاد شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔پریس سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر اسلم جمشید پوری نے بتایا کہ شعبہ اردو’اور اتر پردیش اردو اکادمی کے اشتراک سے’موجودہ سماجی تغیرات کے فکشن پر اثرات“ عنوان سے7/ دسمبر2018ء سے10/ دسمبر 2018ء تک ایک کثیر لسانی عالمی سیمینار(اردو، ہندی،انگریزی) کا انعقاد کررہا ہے۔جس کا مقصد زبانوں کا ارتقا،باہمی میل جول، مختلف زبانوں کے ادب کا ارتقا و شناسائی، کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے ادیبوں کے ادب کی پرکھ، گیرا ئی و گہرائی،مختلف زبانوں میں کی جا رہی ادبی خدمات کی ایک دوسرے سے واقفیت،عوام کے سامنے ان سبھی کاموں کو سامنے لانا اور ادبی وراثت کو مزید پختگی فراہم کرنا، آپسی میل جول، اتحاد و اتفاق کو فروغ دینا ہے۔اس چہار روزہ عالمی سیمینار میں، مشاعرہ، شام غزل، شام افسا نہ، ڈراما، کتب میلہ،آرٹ گیلری اورکتابوں کے اجراء جیسے مختلف پروگرام منعقد ہو ں گے۔ جس میں جرمنی،امریکا، کناڈا، قطر اور بنگلا دیش...

جیلانی بانو کا افسانہ ’’عباس نے کہا‘‘ : ڈاکٹر نعیم انیس ۔۔۔۔۔۔۔ صدر شعبۂ اردو‘ کلکتہ گرلس کالج

 جیلانی بانو کا افسانہ ’’عباس نے کہا‘‘ ڈاکٹر نعیم انیس صدر‘ شعبۂ اردو‘ کلکتہ گرلس کالج  اردو افسانہ نگاری کی تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ اس کے ابتدائی دور میں ہرچند کہ مرد ادیبوں نے افسانہ نگاری کے میدان میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے نمونے پیش کر کے صنف افسانہ کو فروغ اور وسعت دینے کا فریضہ انجام دیالیکن ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ مرد ادیبوں کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی اس میدان میں اپنی فن کارانہ صلاحیتوں کے جوہر دکھائے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ادب ہو یا سماج ، یہاں ہمیشہ سے مرد کا پلہ بھاری رہا ہے اور عورتوں کی صلاحیتوں کو وہ مقام دینے سے گریز کیا جاتا رہا ہے جس کی وہ صحیح معنوں میں مستحق ہیں۔ اپنے ساتھ کی جانے والی اس حق تلفی کے باوجود ادب ہو یا سماج یا ہماری زندگی سے وابستہ کسی بھی شعبے کا ذکر کیا جائے تو ہر جگہ ایک خاصی تعداد ایسی خواتین کی نظر آتی ہے جنھوں نے اپنی محنت صلاحیت اور تخلیقی جوہر کے بل پر منفرد شناخت قائم کرکے اپنی حقیقت منوالی ہے ۔جب ہم اردو میں افسانوی ادب کے ارتقائی دور کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا...

جموں وکشمیر میں اردو ناول کا ارتقاء از: محمد سلمان بلرامپوری

 جموں وکشمیر میں اردو ناول کا ارتقاء از: محمد سلمان بلرامپوری۱۳۷۔ایس۔ایس نارتھ،اے .ایم.یو،علی گڑھ9897908383salmankhan0009@gmail.com  جموں کشمیر میں اردو ناول کی روایت کوئی خاصی پرانی نہیں بلکہ ۱۹۴۷ ؁ء کے بعد اور بھی مرکز توجہ رہی۔ جو کچھ ناول کا سر مایہ ہمیں دیکھنے کو ملتاہے وہ سب کے سب ۱۹۴۷ ؁ء کے بعد ہی ملتے ہیں لیکن ہم اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ یہاں کے ناول نگار جس فنی مہارت و ریاضت کا ثبوت بہم پہچاتے ہیں وہ امید افزا بھی ہے اور قابل ستائش بھی یہ ناول فنی، تکنیکی اور مو ضو عی اعتبار سے حد درجہ روایتی ہیں لیکن ناولوں کی اہمیت اس سے ہے کہ ان کا اصل دار و مدار اس بات پر ہے کہ مختلف سیاسی و سماجی معاشرتی اور تہذیبی رنگوں کو پیش کرتے ہیں بلاشبہ اردو کے مختلف و متعدد ادیبوں نے کشمیر کو اپنا موضوع خاص بنایا ہے ممتاز شعراء اور ادیبوں نے کشمیر کی برف پوش کہساروں، دوشیزہ سبزہ زاروں، فطرت کے دیگر شاداب اور سحر کار مناظر کو اپنی تخلیقات میں سمونے کی کوشش کی ہے، لیکن ان تخلیقات میں ہم صرف کشمیر کا جسم دیکھ سکتے ہیں یہاں کی روح بڑی حد تک ان کی نظروں سے اوجھل رہی...

جمعیۃعلماء ہند کے زیر اہتمام ۲۷؍اجتماعی شادیاں منعقد

   جمعیۃعلماء ہند کے زیر اہتمام ۲۷؍اجتماعی شادیاں منعقد   ہر لڑکی کو جمعیۃ کی طرف سے ۱۰۔۱۰ہزار نقد اور حکومت اترپردیش کی جانب سے ۱۔۱ لاکھ روپئے کا چیک دیا گیا       مظفرنگر 25ستمبر(پریس ریلیز)                     جمعیۃعلماء ہند کے زیر اہتمام آج قصبہ شاہپور محلہ قریشیانمیں ان افراد کی 27 لڑکیوں کی اجتماعی شادیاں ہوئی جوامدادی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے نکاح پڑھایا۔جمعیۃعلماء قصبہ شاہپورکے صدر حافظ محمد عباس نے بتایا کہ ان غریب لوگوں کی لڑکیوں کی شادیاں آج ہوئی ہیں جنہوں نے اپنی بیٹیوں کے نکاح کی تیاریاں مکمل کر رکھی تھیں مگر فسادات میں ان کا گھر بار لٹ گیا اور انہیں گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس لئے جمعیۃعلماء ہند کے ذمہ داران نے ان لوگوں کی بیٹیوں کی شادی کرنے کا فیصلہ کیا جو آج مکمل ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان تمام بچیوں کو ضرورت کا تمام سامان، بیڈ ، برتن ، کپڑے اور دیگر سامان دیا گیا ہے یہ تمام چیزیں مسلمانوں نے جمع کرکے ان لڑکیوں کو دی ہیں۔اس موقع پر مولانا سید ارشد مدنی نے بھی 10۔10 ہزار روپے ہر...

جشن سر سید تقریبات کا فیض عام انٹر کالج، میرٹھ میں شاندار آ غاز

  جشن سر سید تقریبات کا فیض عام انٹر کالج، میرٹھ میں شاندار آ غاز  (پریس ریلیز)  میرٹھ8؍ اکتو بر2013ء                   شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی اور سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی، میرٹھ کے باہمی اشتراک سے منعقد ہو رہے ہفت روزہ جشن سر سید تقریبات کا آج فیض عام انٹر کالج ،میرٹھ میں شہر قاضی پروفیسر زین الساجدین کی سرپرستی میں شاندار آغاز ہوا۔جس کی صدارت کے فرائض ڈاکٹرمحمد یو سف قریشی،ایڈوکیٹ نے انجام دیے۔مہمان خصوصی کے بطور نواب کو کب حمید(ایم ایل اے وسابق وزیر حکومت اتر پردیش) اور مہمان ذی وقار کے طور پر ڈاکٹر معراج الدین (سابق وزیر ،حکومت اتر پردیش )شریک ہوئے۔جب کہ مقررین کے طور پر پر بھات کمار را ئے، قاری شفیق الرحمن قاسمی، رو حامہ احمد، ذیشان احمد خان نے شرکت کی۔ اور نظا مت کے فرا ئض آفاق احمد خاں نے انجام دیے اور شکریے کی رسم ڈاکٹر اسلم صدیقی نے ادا کی۔واضح ہوکہ ہر سال شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی سر سید ایجو کیشنل سوسائٹی،میرٹھ کے اشتراک سے محسن قوم، عظیم تعلیمی رہنما سر سید احمد خاں کی یو م پیدا ئش کے موقع پر ہفت...

جرمنی میں جشنِ رضیہ سجاد ظہیر اور احمد ندیم قاسمی : اسلم جمشید پوریؔ کو "اردو ستارہ‘ ایوارڈ”

جرمنی میں جشنِ رضیہ سجاد ظہیر اور احمد ندیم قاسمیاسلم جمشید پوریؔ کو "اردو ستارہ‘ ایوارڈ"رپورٹ: عارف نقوی برلن 4/جولائی               جرمنی کی راجدھانی برلن میں اتوار یکم جولائی کو دو ممتاز ترقی پسند ادیبوں رضیہ سجاد ظہیر کے سو سالہ یومِ پیدائش اور احمد ندیم قاسمی کے102سالہ یوم پیدائش کے احترام میں ایک بڑا جلسہ کیا گیا۔ جس میں ہندوستان سے معروف ادیب و میرٹھ کی چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبہ ء اردو کے صدر پروفیسر اسلم جمشید پوریؔ اور دہلی سے رضیہ سجاد ظہیر کی دختر ڈاکٹر نور ظہیر نے خاص طور سے شرکت کی۔ کراچی سے انجمن ترقی اردو کی ڈاکٹر فاطمہ حسن کو بھی شرکت کرنا تھی، لیکن انہیں وقت پر جرمنی کا ویزا نہ مل سکا۔                سب سے پہلے معروف طنز و مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔اس کے بعد رضیہ سجاد ظہیر اور احمد ندیم قاسمی کی زندگی اور خدمات کے بارے میں اردو انجمن کے نائب صدرانور ظہیر رہبر کی تیار کردہ ایک مختصردستاویزی فلم دکھائی گئی۔ انور ظہیر نے اردو میں اور مایا ظہیرنے جرمن زبان میں نظامت کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی اسلم جمشید پوری،نور ظہیر...

جرمنی میں اردو زبان و ادب کی ترقی کے لیے متعدد ادبی تنظیمیں سر گرم عمل ہیں: عارف نقوی

جرمنی میں اردو زبان و ادب کی ترقی کے لیے متعدد ادبی تنظیمیں سر گرم عمل ہیں: عارف نقویشعبہ اردو،سی سی ایس یونیورسٹی میں ”جرمنی میں اردو کی صورت حال“پر خطبہ اور تین کتابوں کی رسمِ اجراء میرٹھ8/اپریل2017ء(پریس ریلیز)                   شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں شعبہ اردو کے دو سابق طالب علموں کی تحقیقی و تنقیدی کتابوں،چاندنی عباسی کی کتاب ”ڈاکٹر ودیا ساگر آنند: حیات و خدمات“ اور پشپیندر کمار نم کے مضامین کا مجموعہ”زاویہئ نظر“ کا اجراء عمل میں آیا۔جس میں مہمان خصوصی کے بطور جرمنی سے تشریف لائے اردو کے معروف اسکالر محترم عارف نقوی شریک ہو ئے اور صدارت کے فرائض صدر شعبہ اردوڈاکٹراسلم جمشید پوریؔ نے انجام دیے۔ اس موقع پر عارف نقوی کی کتاب ”راہِ الفت میں گامزن“ کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ جلسے میں بطورمہمانان ذی وقار یو نیورسٹی کے کار گذار رجسٹرار ڈا کٹر دنیش کمار،سابق وزیر حکو مت اتر پردیش ڈاکٹر معراج الدین احمد اور عرشیہ پبلی کیشنز، نئی دہلی کے منیجرمحترم اظہار ندیم نے شر کت کی۔ استقبالیہ کلمات ڈا کٹر شاداب علیم، نظا مت ڈا کٹر آ صف علی اور شکریے کی...

جدید ذہن کا قدیم شاعر….. اسماعیل میرٹھی : ڈاکٹر شاداب علیم

جدید ذہن کا قدیم شاعر: اسماعیل میرٹھی ڈاکٹر شاداب علیملکچرر شعبۂ اردو چودھری چرن سنگھ (میرٹھ) انیسویں صدی کے اواخر سے بیسویں صدی کے اواخر تک نسل در نسل اردو داں طبقہ اردو کے حروف تہجی سے بھی قبل مولانا اسماعیل میرٹھی کے نام سے واقف ہوتا رہا ہے۔ اس طویل عرصے میں اسماعیل میرٹھی نے اپنی نصابی کتب اور ان میں تحریر کردہ اپنے مضامین اور شاعری کے ذریعہ متعدد نوخیز نسلوں کی ذہنی آبیاری کی۔ مولانا اسماعیل میرٹھی کی حیات کا یہ پہلو ان کی جملہ زندگی اور کارناموں پر اس قدر حاوی ہوا کہ اسماعیل میرٹھی کو محض بچوں کا شاعر سمجھ لیا گیا۔ حالانکہ بچوں کی زبان میں ان کے ذہن، ان کی استعداد اور نفسیات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا شعری ادب تخلیق کرنا جس کے باعث بچوں کے شعور اور لاشعور میں اعلیٰ اخلاقی اقدار، کندا ہو کر ان کے کردار کی تخلیق کریں اوران کے لئے مسرتوں اور انبساط کا ذریعہ بھی بنیں۔ بذات خود ایک مہتم باالشان کارنامہ ہے۔ انگریزی کا مقولہ ہے Child is the Father of Manیعنی آج کے اطفال ہی مستقبل کی جوان قوم ہے۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہندوستان میں ملت اسلامیہ کی کئی نسلیں...

جدید ٹکنالوجی کی طرف تیزی سے بڑھتے اردو کے قدم: ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ

ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ     جدید ٹکنالوجی کی طرف تیزی سے بڑھتے اردو کے قدم فیس بک کے بعد،وھاٹس ایپ پر اردو کی سر گرمیاں قابلِ ستائش آج سے بیس برس قبل اردو کے حوا لے سے یہی مشہور تھا کہ اردو جدید ٹکنا لوجی کے استعمال کے معا ملے میں دیگر زبانوں سے بہت پیچھے ہے۔ بہت سے لوگوں کو اس میں بھی شک تھا کہ اردو میں کمپیوٹر کا استعمال بخو بی ہو پائے گا۔ لیکن اردو جیسی ہر دل عزیز، سخت جان اور پیاری زبان نے ثا بت کردیا کہ وہ جدید ٹکنا لوجی کے استعمال میں کسی زبان سے پیچھے نہیں ہے۔ یوں تو اردو میں کمپیوٹر بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں ہی آگیا تھا، لیکن نئی صدی کی ابتدا نے تو اردو میں کمپیوٹر کے بہترین استعمال اور شاندار نتا ئج پر مہر لگا دی تھی۔ اکیسویں صدی نے زندگی کے ہر شعبے کو متا ثر کیا۔ زبان و ادب میں نئے تصورات، نئے رجحانات سامنے آ ئے۔ ادب سے لے کر سیاست تک ایک نئے دور کا آ غاز ہوا۔ نفرت، فرقہ پرستی، آ تنک واد، ظلم و ستم، نئے نئے روپ میں سامنے آ ئے۔ اکثریت اور اقلیت کے درمیان کی خلیج مزید وسیع ہوئی۔ ایسے...

جامعات میں ادبی و علمی مباحث کی فضا کو پروان چڑھانے کی ضرورت: خواجہ شاہد

 جامعات میں ادبی و علمی مباحث کی فضا کو پروان چڑھانے کی  ضرورت:خواجہ شاہد مرکز برائے اُردو زبان‘ ادب و ثقافت‘ مانو میں کتاب ”خورشید  الاسلام‘ ایک شاعر ایک ناقد“ کا رسم اجراء                      حیدرآباد 26/اگست (پریس نوٹ): خورشید الاسلام اُردو ادب کا ایک جانا پہچانا نام ہے‘ نقاد کی حیثیت سے ان کی خدمات کاشہرہ ہے تاہم شاعر کے طور پر ان کی شخصیت سے عوام پوری طور پر آگاہ نہیں تھے‘ ڈاکٹر ظفر گلزار کی کتاب نے اس کمی کو پورا کیا ہے۔پروفیسر خواجہ محمد شاہد شیخ الجامعہ‘ مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی نے کتاب ”خورشید الاسلام‘ ایک شاعر ایک ناقد“ کی رسم اجراء انجام دیتے ہوئے اپنے صدارتی خطاب میں کل ان خیالات کا اظہار کیا۔ یونیورسٹی کے مرکز برائے اُردو زبان‘ ادب و ثقافت نے سمینار ہال میں اس تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ پروفیسر خواجہ محمد شاہد نے خورشید الاسلام کے علی گڑھ سے تعلق کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ میں ان کی قیام گاہ ترقی پسند وں کی آماجگاہ تھی۔ اُس دور کے علی گڑھ میں ادبی علمی و تحقیقی موضوعات پر کھل کر بحث ہوتی تھی۔ آج جامعات میں ایسی ہی صحت...

تنویراختررومانی کا افسانوی شجر ” ببول” اورڈاکٹراختر آزادؔ

تنویراختررومانی کا افسانوی شجر " ببول"  اور ڈاکٹراخترآزادؔ              تنویر اختر رومانی نے اپنے افسانوی سفرکی شروعات افسانہ ” ندامت کے آنسو“ سے کی۔ یہ افسانہ ماہنامہ بتول ، رامپور کے دسمبر 1975کے شمارے میں شائع ہوا۔اس طرح اگر آ پ دیکھیں تو ان کا افسانوی سفر چالیس سالوں سے بھی زیادہ عرصے پر محیط ہے۔اس عرصے میں بقول ان کے کہ انہوں نے باسٹھ افسانے لکھے۔شب وروز کے ترازو کے ایک پلڑے میں اگر ایک سال کابٹکھرا رکھیں تو دوسرے پلڑے میں صرف ڈیڑھ افسانے ہی چڑھتے ہیں۔          دوسری طرف اگر دیکھیں اور دیگر اصناف میں لکھی گئی تصنیفات جس میں بچوں کے لئے کہانیاں، افسانچے،،ڈرامے،انشایئے،مضامین، تبصرے ،نظمیں اور غزلیں اور اردو سے ہندی اور ہندی سے اردو افسانوں کے تراجم کو جو ڑ دیا جائے تو یہ تعداد تقریبا  پونے تین سو ہو جاتی ہیں۔ یعنی سال میں سات تخلیقات جس میں تراجم بھی شامل ہیں۔  1990 سے 2014 تک تقریبا 25 سالوں کے دوران انہوں نے صرف دو افسانے لکھے ۔                   گزشتہ بیس سالوں سے وہ جماعت کے ساتھ بھی جڑے رہے ہیں ۔ ایک وجہ تو یہ سمجھ میں...

تنویر اختر رومانیؔ،زندگی کی حقیقتوں کو افسانہ کر نے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں: ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ

تنویر اختر رومانیؔ،زندگی کی حقیقتوں کو افسانہ کر نے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں: ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔادارہ ادب ِ اسلامی،جمشید پور کے زیرِاہتمام،تنویر اختررومانیؔ کے افسانوں کے پہلے مجموعے ”ببول“ کی تقریبِ رسمِ رونمائی                    جمشید پور (27 اکتوبر): ”زندگی سے مردِ آہن کی طرح آنکھیں ملانا سب سے بڑا فن ہے او رتنویر اختر رومانی ؔنے ایسے فن کو برتا ہے۔ برسوں وہ حقیقت کو افسانہ اور افسانے کو حقیقت سے روشناس کراتے رہے۔ کبھی اپنے کردار پر حرف نہیں آنے دیا۔ نئی نسل کی تعلیم وتربیت، ادب کی خدمت اور آپسی میل جول اور بھائے چارے کے فروغ میں اپنا صد فی صد وقت دینے والے ایک عظیم انسان، ایک فنکار کا نام تنویر اختر رومانیؔ ہے جو زندگی کی حقیقتوں کو افسانہ کر نے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔“ان خیالات کا اظہار چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ کے صدر شعبہ اردو، ڈاکٹر اسلم جمشیدپوریؔ نے تنویر اختر رومانیؔ کے افسانوں کے پہلے مجموعے ”ببول“ کی رسمِ رونمائی کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنویر اختر رومانیؔ کی کئی کہانیاں ایسی ہیں جو سماج کا آئنہ ہیں۔ببول،دنگل،روٹی مانگتی زندگی،بھروسہ،بند مٹھی کا کرب ایسے ہی افسانے...

تضاد و تصادم کی داستان۔ ”ایوانوں کے خوابیدہ چراغ“ : پروفیسر علی احمد فاطمی

پروفیسر علی احمد فاطمی شعبہ اردو  ، الہ آباد یونیورسٹی۔ الہ آبار تضاد و تصادم کی داستان۔ ”ایوانوں کے خوابیدہ چراغ“                   ایک خیال ہے کہ ناول کی تمام قسموں میں سب سے مشکل قسم تاریخی ناول کی ہوتی ہے۔ اس مزاج کے ناول تاریخ اور ناول کے مفکّرانہ و فنکارانہ امتزاج و انجذاب سے وجود میں آتے ہیں۔ امتزاج کی کوئی نہ کوئی صورت اور کیفیت تو ہر قسم کے ناولوں میں ہوتی ہے، لیکن تاریخی ناول میں دو متضاد عناصر کو یکجا کرکے اسے اولااور آخرافکشن یا ناول کی ہئیت اختیار کرنی پڑتی ہے۔ متضاد ان معنوں میں کہ تاریخ کا انحصار حقائق پر ہوتا ہے اور فکشن کا بڑا حصّہ تصور و تخیل سے وابستہ ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں تاریخی ناول میں حقیقت اور رومانیت کا خوبصورت و معنی خیز تال میل بنانا پڑتا ہے اور ناول نگار کو ہمہ وقت یہ خیال بھی پریشان کرتا رہتا ہے کہ وہ تاریخ نہیں بلکہ ناول لکھ رہا ہے، اس لئے ترجیح تو ناول نویسی کو ملتی ہے۔ ناول کے فن کی بالا دستی رہتی ہے۔                 اس فنّی و تخلیقی عمل میں درمیانِ تخلیق کبھی کبھی تاریخی حقائق مبہم ہوتے ہیں اور کبھی مسخ بھی جس کی اجازت تاریخ داں نہیں...

ترکی میں پہلی عالمی اردو ادب کانفرنس بیاد احمد ندیم قاسمی منعقد

ترکی سے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری ؔکی رپورٹترکی میں پہلی عالمی اردو ادب کانفرنس بیاد احمد ندیم قاسمی منعقد ترکی کے شہر انتالیہ میں سہ روزہ کانفرنس13 تا 15 اکتوبر 2016کا شاندار اہتمامکسی ادیب کو اس کی وسیع النظری بقائے دوام عطا کرتی ہے: پروفیسر ارتضیٰ کریماحمد ندیم قاسمی بڑے مدیر، ادیب و شاعر کے علاوہ اچھے انسان بھی تھے: ناہید قاسمی                  ترکی کے دارالسلطنت انقرہ میں واقع شاندار انقرہ یونیورسٹی شعبہ اردو کے زیراہتمام یونیورسٹی کے انتالیہ مرکز کے ہوٹل Orsem میں معروف شاعر و افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی کی صدسالہ یوم پیدائش کے موقعے پر پہلی بین الاقوامی اردو ادب کانگریس کا افتتاح کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی محترمہ ناہید قاسمی (احمد ندیم قاسمی کی بڑی صاحب زادی) نے کہا ”مجھے وہ آج بے حد حساب یاد آرہے ہیں وہ ایک بڑے شاعر، افسانہ نگار، کالم نویس اور اعلیٰ پائے کے مدیر تو ہی تھے لیکن ایک بہترین انسان اور شفیق و بہترین باپ بھی تھے۔“ محترمہ ناہید قاسمی نے اس موقع پر اپنے والد احمد ندیم قاسمی کے بعض ذاتی واقعات سنائے اور ان کی ادبی نگارشات پر کھل کر گفتگو کی۔ پہلی بین الاقوامی اردو ادب کانگریس کی روح رواں...

تخلیقی تنقید کی نئی بولیاں : سلمان عبد الصمد

  ● تخلیقی تنقید کی نئی بولیاں ! ■ سلمان عبد الصمد ○ آزاد الفاظ بولتے ہیں اور اس طرح بولتے ہیں کہ تقریر وتحریر کی دیواریں ایک دوسرے سے گلے ملتی دکھائ دیتی ہیں۔ تخلیق و تنقید کی سرحدیں مدغم ہوجا تی ہیں۔ خورشید حیات کے یہاں بھی ا لفاظ بولتے ہیں ۔ تخلیق وتنقید کی سرحدیں مل جاتی ہیں۔ حالانکہ الفاظ ان کے ہاتھوں میں محبوس ہیں۔ حبس کے ماحول میں زبانیں تو گونگ ہوجاتی ہیں۔فکری سوتے خشک ہوجاتے ہیں ، مگر ان کے یہاں محبوس لفظوں میں قوتِ گویائی کیوں باقی رہتی ہے؟ اس سوال و تضاد پر شاید خود خورشید حیات بھی حیرت کناں ہیں۔ اس لیے پوچھتے ہیں ’لفظ تم بولتے کیوں ہو؟‘۔ ’تجسیمِ لفظ ‘ کے پنڈتوں نے بتایا ہے کہ جو ش ملیح آبادی کے سا منے الفاظ ہاتھ جوڑے کھڑے رہتے تھے اور ان کی فکر کی غلامی لفظوں کے لیے باعث افتخار تھی۔جوش کے شاعرانہ پیکر اور نثری ساخت میں قید ہو کر بھی الفاظ بولتے تھے،خورشید حیات کے یہاں بھی الفاظ اسی حدتک غلام ہیں کہ بولنے کی آزادی سلب نہیں ہوئی۔ خورشید کے یہاں لفظوں کو حیاتِ نو کا جام ملتا ہے اوریہ الفاظ ابولکلا م کے ہم کلام ہوجاتے...

تابُوت کا اُونٹ ……… اور مہتاب عالم پرویزؔ کے افسانے : ابرار مجیب TABOOT KA ONTH AUR MAHTAB ALAM PERVEZ KE AFSANE

 تابُوت کا اُونٹ ......... اور مہتاب عالم پرویزؔ کے افسانے                                                                                      ابرار مجیب                اردو افسانے پر بھی عجب وقت آن پڑا ہے۔ اذہان عجب گومگو کی کیفیت میں مبتلاہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس فن کے تعلق سے گُلاب اور ببول کی صف بندی میں کوئی عار نہیں۔ اس کی وجہ ہے ترقی پسندی ، جدیدیت اور اب مابعد جدیدیت جیسی اصطلاحات نے لوگوں کے ذہن کو پراگندہ کر دیا ۔ معدودے چند باعلم لوگوں کے علاوہ بیشتر ہی لوگوں نے شاید ہی غور کیا ہو کہ ان اصطلاحات کا اِطلاق افسانے کے فن پر کیسے اور کیوں کر ہوا......... ترقی پسندیدیت کو پرے رکھتے ہوئے، جدیدیت اور ما بعد جدیدیت پر اک ذرا ٹھہر کر غور کریں۔ عام خیال یہ ہے کہ جدیدیت نے افسانوں میں علامت ، استعارہ ، تمثیل ، یہاں تک کہ داستانوں کی کج ادائی کا کافرانہ رجحان پیدا کیا اور بیانیہ کی موت واقع ہوگئی۔ اب مابعد جدیدیت...

پروفیسراصغروجاہت، محترم دنیش اہلاوت اور ڈاکٹر عابد زیدی کواُپٹا نیشنل ایوارڈ2015ء

 پروفیسر اصغر وجاہت، محترم دنیش اہلاوت اور ڈاکٹر عابد زیدی  کواُپٹا نیشنل ایوارڈ2015ء  شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ اور یونائیٹڈ  پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن کا پریس کانفرس میں اعلان                   میرٹھ6/نومبر2015ء                 شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ اور یونائیٹڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن کے مشترکہ اہتمام میں بتاریخ 7/ نومبر2015ء بروز ہفتہ بمقام شنکر آڈیٹوریم،ڈی این پی جی کالج، میرٹھ میں شام پانچ بجے یونائیٹڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن کے چھٹے یوم تاسیس کے موقع پر ایک شاندار پروگرام منعقد ہو گا جس میں معروف ادیب و ڈراما نگار پروفیسر اصغر وجاہت کو”اُ پٹا بھارتیندو ہریش چندر نیشنل ایوارڈ2015ء“،مشہور ہدایت کار اداکار محترم دنیش اہلاوت ”اُپٹا حبیب تنویر نیشنل ایوارڈ2015ء“ اور مشہور مصورہ ڈاکٹر عابد زیدی کو”اُپٹا امرتا شیر گل نیشنل ایوارڈ2015ء پیش کیے جائیں گے۔                 اس مو قع پر بطور مہمان خصوصی کمشنر میرٹھ محترم آلوک سنہا(آئی اے ایس) شریک ہوں گے۔ جب کہ شمع افروزی کی رسم چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کے نائب شیخ الجامعہ پروفیسرایچ ایس سنگھ،سرسوتی پوجا محترم سنیل کمار وادھوا اور صدارت کے فرائض ڈ ا کٹر تریوینی شرما(پرنسپل ڈی این پی جی کالج، میرٹھ) انجام دیں گے۔مہمانان ذی وقار کے طور...

پروفیسر عظیم الشان صدیقی کا انتقال اردو فکشن تنقید کا زبردست نقصان ہے۔

پروفیسر عظیم الشان صدیقی کا انتقال اردو فکشن تنقید کا زبردست نقصان ہے۔شعبہ اردو، سی سی ایس یونیورسٹی میں تعزیتی نشست (پریس ریلیز) میرٹھ6/ جون2018ء               شعبہ اردو،چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی میں معروف فکشن ناقد اور مشفق استاد پرو فیسر عظیم الشان صدیقی کے سانحہئ ارتحال پر ایک تعزیتی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صدر شعبہ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا:پروفیسر عظیم الشان صدیقی کا انتقال اردو ادب خصوصاً اردو فکشن تنقید کا زبردست نقصان ہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مستند اساتذہ کے نما ئندہ پروفیسر عظیم الشان صدیقی کافی زمانے تک یاد کیے جائیں گے۔ پروفیسر عظیم الشان صدیقی نے اردو فکشن کی تنقید میں ہمیشہ ایک خاص معیار قائم رکھا۔ فکشن تنقید پر آپ کی کئی کتب”اردو ناول: آغاز و ارتقا(1957ء تا 1914ء)، پریم چند: ایک محاکمہ، اردو افسا نہ: فکری مباحث، ہمارے تنقیدی سر مائے میں اضا فہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے علاوہ بھی ان کی کئی کتب مقبول ہوئی ہیں۔ تنقید میں آپ سرسر ی گذرنے کے قائل نہیں تھے۔ آپ چھوٹے سے چھوٹے نکتے پر بھی خاصی بحث کرتے تھے۔             پروفیسر عظیم الشان صدیقی کا...