Skip to main content

Aalamiparwaz

مظفر نگر فساد: پل پل بدلتا سیاسی منظر نامہ : ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری

 ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری کے قلم سے مظفر نگر فساد: پل پل بدلتا سیاسی منظر نامہ                  مظفر نگر فساد آ ہستہ آہستہ ہندوستا نی سیا ست کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ کرفیو ہٹا لیا گیا ہے اور سیا سی رہنما ؤں کی آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ پہلے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو، پھر وزیر اعظم منمو ہن سنگھ، سو نیا گا ندھی اور را ہل گاندھی..... گاؤں گاؤں بر بریت کے ہو ئے ننگے ناچ اور اس کے نتا ئج کے طور پر کیمپوں میں پناہ گزیں افراد کی درد بھری داستانیں۔یہ سب دیکھنے اور سننے کے بعد سب نے تسلیم کیا کہ ’’ اتنا بڑا فساد‘‘ ہو گیا ۔جی یہ اس مظفر نگر کا حال ہے جہاں مسلم آ بادی کا تناسب35-40 فی صد ہے۔ کل میرے ایک دوست جو میرٹھ کے ہیں لیکن 20-25؍ برسوں سے راجستھان میں مقیم ہیں، نے فون پر فساد پر خاصا افسوس جتایا۔ انہوں نے جب یہ کہا کہ اس سے تو ہم مسلمان راجستھان میں ہی محفوظ ہیں جہاں2یا5فی صد مسلمان شہروں اور گا ؤں میں ہے۔ اتر پردیش میں مسلمانوں کا یہ حال ہے؟ ان کی زبا نی...

مظفر نگر فساد : ترقی یافتہ عہد میں کہاں جارہے ہیں ہم : ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

  ڈاکٹر اسلم جمشید پوری   مظفر نگر فساد : ترقی یافتہ عہد میں کہاں جارہے ہیں ہم                             اکیسویں صدی، آئی ٹی کی صدی____ہر طرف کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، مو بائل، اسمارٹ فون، ایس ٹی ڈی، آئی ایس ڈی، پین ڈرائیو، ڈی وی ڈی، وسی سی ڈی، بلو ٹوتھ، فیس بک، ٹوئیٹر، یو ٹوب اور اس طرح کی ہزا روں سوشل سائٹس کی بھر مار___، ما ؤس کلک کرتے ہی اسکرین بدل جانے کے عہد میں انسان کہاں جا رہا ہے۔ کیا یہی ترقی ہے؟ وسائل اور مادیت کے معاملے میں ہم نے کس قدر ترقی کر لی۔ ہندو ستان کا شمار دنیا کے چار پانچ طاقتور ملکوں میں ہو تا ہے۔ ہمارے پاس پانچ ہزار کلو میٹر تک مار کر نے وا لی میزائیلیں موجود ہیں،خود کار جنگی طیارے، ٹینک شکن تو پیں، زمین سے ہوا، پانی اور زمین پر دشمنوں کو مار گرا نے وا لی میزائیلوں سے مسلح ہندوستان۔ آئی ٹی میں امریکہ کو ٹکر دینے وا لا ملک ہندوستان____کتنی ترقی کی ہے ہم نے۔ لیکن بحیثیت انسان ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ماں بہن بیٹیوں کی عصمت دن رات تار تار ہو رہی ہے۔ انسان...

مشرقی اور مغربی سماجیات و فلسفہ پر گہری نظر : فاروق ارگلی

 فاروق ارگلی 25، گنیش پارک، رشید مارکیٹ دہلی۔51 مشرقی اور مغربی سماجیات و فلسفہ پر گہری نظر                              اربابِ نقد و نظر کی آراء اور جانچ پرکھ سے قطع نظر یہ بات پوری ادبی ذمہ داری کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ مہتاب عالم پرویز ؔ کے افسانے اپنی تخلیقیت، زبان و بیان اور اثرپذیری کے تناظرمیں عصری اُردو فکشن میں مثبت اہم اور خوش آئند اضافہ ہیں۔ مہتاب عالم کے اوّلین افسانوی مجموعے ’’ریت پر کھینچی ہوئی لکیر‘‘ میں شامل صرف پندرہ افسانے اور پانچ افسانچے پڑھنے والے کو یہ باور کرا دیتے ہیں کہ مصنف کا تخلیقی اور فکری اُفق، وسیع، انسانی و سماجی شعور پختہ اور اسلوبِ نگارش بلیغ و دل پذیرہیں۔ مہتاب عالم پرویز ؔ اپنے گردوپیش کے جیتے جاگتے کرداروں کے غموں، مسرتوں، حسرتوں ، آرزوؤں اور جذبوں کو کہانیوں میں پروکر اتنی سچائی اور ایمانداری سے بیان کرتے ہیں کہ انسانی احساسات کی دھڑکنیں اور روح کی سانسیں صاف صاف سنی جاسکتی ہیں۔ اس مجموعے میں شامل افسانے ریت پر کھینچی ہوئی لکیر، تپتی ریت کا مسافر، اندھیرے کا سفر، آخری پرواز، پرندے کی واپسی، رشتے کی بنیاد وغیرہ یقیناًاس عہد کے بہترین افسانوں میں شمار...

مدیحہ اسلم ؔنے بایو لوجی میں نام روشن کیا

 مدیحہ اسلم ؔنے بایو لوجی میں نام روشن کیا                      میرٹھ (۲۲ مئی) : معروف افسانہ نگار اور صدر،شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یو نیور سٹی،میرٹھ ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کی صاحبزادی مدیحہ اسلم ؔنے سی بی ایس سی کے بارہویں کے امتحان میں بایو لوجی میں 94% نمبر حاصل کرکے اسکول کا نام روشن کیا ہے۔میرٹھ پبلک گرلس اسکول، شاستری نگر،میر ٹھ کی طالبہ مدیحہ اسلمؔ نے مجموعی طور پر 81.3% نمبر حاصل کئے ہیں۔ مدیحہ اسلمؔ نے اپنے مستقبل کے منصوبے کے بارے میں بتایا کہ وہ گریجو یشن کے بعد سول سروسز کی طرف جائیں گی۔...

مدیحہ اسلم اور ان کی ٹیم نے ڈاکیو منٹری کے ذریعے اعضاء ہد یہ کی ترغیب دی

مدیحہ اسلم اور ان کی ٹیم نے ڈاکیو منٹری کے ذریعے اعضاء ہد یہ کی ترغیب دی میرٹھ: آر۔جی (پی جی) کالج،میرٹھ کے شعبہ با ٹنی اکیڈمی و کلچرل سو سائٹی کے زیر اہتمام اعضاء ہدیہ بیداری پرو گرام منعقد کیا گیا۔جس میں خصوصی مقرر کے طور پر میرٹھ کے معروف آئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر گورو مشرا نے شر کت کی۔نظامت کے فرائض ایسو سی ایٹ پروفیسر نرلیپ کور نے انجام دیے۔اس پروگرام کی کنوینر ڈاکٹر مینو گپتا تھیں۔ پروگرام میں خصوصی مقرر ڈا کٹر گورو مشرا نے جسمانی اعضاء کو ہد یہ کر نے کی اہمیت، افادیت اور ضرورت پر رو شنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انسان اور صحت مند سماج کی پہلی ضرورت صحت مند انسان ہیں۔ معذوری اور اپاہج پن عہد حاضر کے لیے انتہائی شرم ناک پہلو ہے کیونکہ میڈٰیکل سائنس نے آج جو ترقی کر لی ہے اس کی بنیاد پر فطرت کے دیے ہوئے اپاہج پن اور معذوریت کو بڑی حد تک دور کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے معاشرہ کو بیدار کر کے انہیں اعضاء ہدیہ کر نے کی ترغیب دینی ہو گی۔ یہ سماجی خد مت کا ایک انتہائی قیمتی اور کار گر طریقہ ہے۔ اس سے معاشرہ کو صحت مند...

مدعیان اردو کی چشم پوشی اردوزبان کے لئے خطرہ اردو کی بقاء کے لئے حکومت کی جانب دست سوال کرنے کے بجائے ہمیں خود آگے آ نا ہوگا :پروفیسراسلم جمشید پوری

 مدعیان اردو کی چشم پوشی اردوزبان کے لئے خطرہ اردو کی بقاء کے لئے حکومت کی جانب دست سوال کرنے کے بجائے ہمیں خود آگے آ نا  ہوگا :پروفیسراسلم جمشید پوری  اردو زبان کی شیرینی اور اس میں مٹھاس کے قائل نہ صرف اہل زبان رہے ہیں بلکہ اس زبان کے شیدائیوں میں برادران وطن سمیت متعدد انگریز اسکالر بھی رہے ہیں جن میں خاص طور سے کرنل ہالرائڈ اور جان گلکرائسٹ کا نام لیا جا سکتا ہے ۔اس کے باوجود اردو زبان اپنے ہی گھر میں بے گھری کی شکار رہی ہے ،جس کے ذمہ دار صرف ارباب حل و عقد ہی نہیں بلکہ خود اس زبان کی پرستاری اور اس سے محبت کا دعویٰ کر نے والے بھی ہیں ۔جب اردو کی لسانی اہمیت اور اس کو مستقبل میں در پیش خدشات سے متعلق میرٹھ یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردوپروفیسر اسلم جمشید پوری سے گفتگو کی گئی تو انہوں نے حقائق کا اعتراف کرتے ہوئے اردو کے ساتھ سرکاری سطح پر کی گئی نا انصافیوں اور اپنوں کی چشم پوشیوں کی وضاحت کی اور اس زبان کے مستقبل سے متعلق خدشات کا ازالہ کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ہم اردو کو خطرات سے بچا سکتے ہیں اور اس کا...

مد رس ہوم پبلک اسکول عصری اور دینی تعلیم کا مرکز

 مد رس ہوم پبلک اسکول عصری اور دینی تعلیم کا مرکز۔                 جمشید پور ( صبیحہ شاکر) : موجودہ دور میں تعلیم کی اہمیت اور افادیت پر اکثر باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ وہیں انگریزی تعلیم کے کچھ مضر اثرات کا ذکر بھی لازمی ہے۔ ایسے ہی ماحول میں مسلم اقلیتی طبقہ کے لئے معیاری تعلیمی ادارہ بنانا اور اسکو اچھے ڈھنگ سے چلانا کوئی آسان کام بھی نہیں ہے۔کیونکہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ عوامی فلاحی کاز شروع کرنے والا ایک قدم بڑھانے سے قبل ہی ذاتی نفع و نقصان کا حساب لگا نے لگتاہے اور بڑے بڑے منصوبے بنتے ہی پانی کے بلبلے کی طرح مٹ جاتے ہیں۔ ایسے ہی ماحول میں خاموشی سے ایک شخص سعودی عرب سے چودہ برسوں کے بعد ملازمت ترک کر کے آتا ہے اور اپنی تمام تر جمع پونجی کو اپنی والدہ محترمہ کے نام: Mother Rabia Educational & Charitable Trust کو وقف کرکے جمشید پور کے اہل علم اور دانشوروں کے باہم مشوروں اور مشترکہ کوششوں کے نتیجہ میں 2مارچ1997 ء Mother's Home Public School کا قیام عمل میں آیا۔کل تیس بچوں سے اس اسکول کی شروعات کی گئی اب ماشاء اللہ پانچ سو سے زائد طلباء...

محمد یامین انصاری کو پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری تفویض

محمد یامین انصاری کو پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری تفویض (پریس ریلیز) میرٹھ: یکم جنوری2016ء               شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کے ریسرچ اسکالرمحمد یامین انصاری کو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ نے ان کے مقا لے”پنڈت رتن ناتھ سر شار کی ناول نگاری کا تنقیدی جائزہ“ پر پی۔ایچ۔ ڈی کی ڈگری تفویض کی ہے۔ محمد یامین انصاری نے اپنا مقالہ شعبہ اردو کے صدر اور معروف ادیب و فکشن نگارڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کے زیر نگرا نی مکمل کیا ہے۔انہیں یہ ڈگری یونیورسٹی کے جلسہ تقسیم اسنادجو کہ5/ جنوری2016ء کو منعقد ہو نے جا رہا ہے،میں گورنر اتر پردیش عزت مآب جناب رام نائک کے ہاتھوں پیش کی جائے گی۔               محمد یامین انصاری نے اپنے مقالے میں پنڈت رتن ناتھ سر شار کی ناول نگاری کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے بتایا ہے کہ انیسویں صدی کے آخر میں اودھ کی زوال پذیر تہذیب میں جو نشیب و فراز دیکھنے کو ملے انہیں سر شار نے نہایت ہی خوبصورت انداز میں اپنے ناولوں میں پیش کیاہے۔ سر شار کے شہرہ آ فاق ناول”فسانہ آ زاد“ پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے ان کے اہم کرداروں پر خصوصی رو...

محمد علی جو ہر یو نیورسٹی مولانا کو پہلا عملی خراج عقیدت : ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

مولانا محمد علی جو ہر کی یاد میں تقریب کا اہتماممحمد علی جو ہر یو نیورسٹی مولانا کو پہلا عملی خراج عقیدت:ڈاکٹر اسلم جمشید پوریمیرٹھ10؍ دسمبر2013ء                   مولانا محمد علی جو ہر ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے۔صحافت،سیاست، خطابت ،شاعری، میں جہاں انہیں ملکہ حاصل تھا وہیں مولانا قائدانہ صلاحیت سے بھی مالا مال تھے۔اظہار حق میں بھی انہوں نے کبھی تامل سے کام نہیں لیا ۔اس تعلق سے دوست و دشمن کی ان کے یہاں کوئی تفریق نہیں تھی۔انہوں نے گول میز کانفرنس کے دوران ملک کے واجب مطالبات کو ایسے مدلل انداز میں پیش کیا تھا کہ بڑے سے بڑے سیاست داں انگشت بدنداں رہ گئے تھے۔یہ الفاظ تھے صدر شعبۂ اردو،ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری کے جو شعبۂ اردو میں مولانا محمد علی جو ہر کے یوم پیدائش پر منعقدہ تقریب کی صدارت کے دوران پیش کر رہے تھے۔انہوں نے طلبا سے مخا طب ہو تے ہو ئے کہا کہ مو لا نا جوہر کے اندر یہ لیاقت علم کی بدولت پیدا ہوئی تھی۔ہمیں انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے معیاری تعلیم گاہیں کھولنااور اپنے اپنے شعبہ جات کا تعلیمی معیار بلند کرنا ہوگا۔اس سلسلے میں رام پور میں...

محبت : صدام غنی

      محبت        صدام غنی       ایم۔اے(اردو)      ورکرس کالج جمشیدپور       *محبت ایک پاکیزہ جذبے کا نام ہے ،جو دل سے پیدا ہوتی ہے اور جان تک بن جاتی ہے۔محبت ایک لافانی شے ہے جو کبھی ختم نہ ہونے کی قسم کھائی ہے۔جس طرح انسان کو زندہ رہنے کے لئے ہوا اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح محبت انسانی زندگی کاوہ اہم پہلو ہے جس کے بنا زندگی موت بن کے رہ جاتی ہے۔عمومی طور پر دل کے حسین جذبے کو محبت کہتے ہیں،لیکن زندگی کے ان سنگین پہلوؤں کی طرح محبت کو وسیع معنوں میں لیا جاتا ہے۔ عام طور پر تو محبت ایک حسین جذبے کا نام ہے ،جو انسانی زندگی کے ارد گرد گھومتی ہوئی نظر ۱ٓتی ہے۔یوں تو کائنات کے ہر جاندار ،زی روح اس محبت کے کسوٹی پر کھڑے اترتے ہیں ۔بہر حال انسانی زندگی میں یہ بات بہت وسیع تر نظر آتی ہے ۔ اس کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ جس مخلوق کے یہاں زیادہ سے زیادہ سوچنے سمجھنے کی قوت و صلاحیت ہوتی ہے اس کے پاس یہ جذبہ بڑے وسیع طور پر پایا جاتا ہے۔بہر حال محبت ،ملاقات اور پھر...

ماہین حق نے95.8% نمبر حاصل کر کے اسکول ٹاپ کیا

 ماہین حق نے95.8% نمبر حاصل کر کے اسکول ٹاپ کیا (پریس ریلیز) میرٹھ : 28؍ مئی2013ء  فیض عام ڈگری کالج کی صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر فرحت خاتون کی صاحبزادی ماہین حق نے12؍ ویں کے امتحان میں میرٹھ پبلک گرلس اسکول، ویسٹ ایند روڈ،میرٹھ میں95.8فی صد نمبر حاصل کر کے اپنے اسکول میں سائنس (بایو) گروپ میں اول پوزیشن حاصل کی ہے۔ماہین حق کا خواب ایک کامیاب ڈاکٹر بننا ہے۔ ڈا کٹر بن کر وہ ملک وقوم کی خدمات کرنا چاہتی ہیں۔ اپنی بیٹی کی کامیابی پر ڈاکٹر فرحت خا تون نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی بیٹی ایک اچھی ڈاکٹر بنے اور ملک خصوصاً مسلمانوں کی دن رات خدمت انجام دے۔اس مو قع پر شہر کے معززین نے ماہین کی کامیابی پر مبارک باد دی ہے۔ ...

لاہور دل میں،تو قصور آنکھوں میں بسا ہے_ از قلم:حسیب اعجاز عاشرؔ

   لاہور دل میں،تو قصور آنکھوں میں بسا ہے_  لاہور سے قصور تک کا سفر۔یادوں کے دریچوں سے حال کی چوکھٹ پر  از قلم:حسیب اعجاز عاشرؔ             بات علم و فنون کی ہو یا مذہب و روحانیت کی یا چاہے سیاست و معاشرت، ادب و صحافت، تہذیب و ثقافت،فن و سیاست،صنعت و معیشت کی،یا کسی بھی شعبہ ہائے زندگی کی بات ہی کیوں نہ ہوہر میدان میں قصور کی زرخیز مٹی نے شہرہ آفاق ناموں کو جنم دیا۔مگرجب میں نے اپنے بزرگوں کے ہمراہ اِس شہرمیں آناشروع کیا تو اتنا چھوٹا تھا کہ بابا بلھے شاہ،بابا کامل شاہ،پیر جہانیاں جیسی برگزیدہ ہستیوں سے بھی نا واقف تھا،اور محمد علی ظہوری قصوری،عبداللہ عبدالقادر خویشگی‘ اقبال قیصر‘ اقبال بخاری‘ مقصود حسنی، میڈم نورجہاں،بھولو پہلوان، گاما پہلوان، یوسف خان،ضیاء محی الدین، مصور آزر روبی،قوال مہر علی اور شیر علی قوال،راجہ ٹوڈرمل سمیت ڈاکٹر معین قریشی‘ خورشید محمود قصوری جیسی قصور کی نامور  شخصیات بھی میرے علم میں نہ تھی۔اور نہ ہی میں یہاں کے فالودے، اندردسوں، بھلے پکوڑیوں، دہی قلچوں، مسالے دار مچھلی جیسے لذیز ترین روایتی کھانوں اور اِس  شہر کے تاریخی پس منظر سے مکمل واقف تھا،قصور کے لئے میرا پہلا اور آخری حوالہ صرف  بابا نواز ش علیؒ(مرحوم)تھے،اِن روحانی ہستی سے ہمارے خاندان کا...

گورنر آف جھارکھنڈ نے ڈاکٹر اخترآزاد کو’بیسٹ کریئٹوفکشن رائٹر‘ کے اعزاز سے نوازا

 گورنر آف جھارکھنڈ نے ڈاکٹر اخترآزاد کو’’بیسٹ کریئٹوفکشن رائٹر‘  کے اعزاز سے نوازا (جمشیدپور۔۲۰؍اگست۲۰۱۳ء)                ۱۹؍ ستمبر کو راج بھون (رانچی)میں نئی نسل کے اہم افسانہ نگارو ناول نگار ڈاکٹر اختر آزادکی فکشن میں نمایاں کارکردگی کو دیکھتے ہوئے جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ عزّت مآب عالی جناب ڈاکٹر سیّد احمد نے انہیں’’بیسٹ کریئٹیوفکشن رائٹر ‘‘ کے لئے گورنر مومینٹو سے نوازا۔یہ پہلا موقع ہے جب جھارکھنڈ کے گورنر نے جمشید پور کے ادیب کی اس طرح سے حوصلہ افزائی کی ہے ۔ اس موقع پر اختر آزاد کا ناول ’’لیمی نیٹیڈ گرل‘(جھارکھنڈ کے قیام کے بعدیہ اردو کا پہلا ناول ہے)‘کی رسم رونُمائی بھی ہوئی ۔دریں اثناڈاکٹراختر آزادکے فن اورشخصیّت پر پروفیسر منظر حسین (رانچی یونیورسِٹی )نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ اس سے قبل اختر آزاد کو مرکزی حکومت کے زیر سایہ پروان چڑھ رہے۔’’ اردوہیری ٹیج کارواں ‘‘کی جانب سے سعادت حسن منٹو کی صدسالہ تقریبات کے موقع پر ’’انڈیا انٹر نیشنل سِنٹر‘‘ دہلی میں مرکزی وزیر کپل سبّل کے ہاتھوں پہلا ’’سعادت حسن منٹو ایوارڈ ۔ینگ ٹلینٹ فار اردو پروز‘‘   ۱۹ ؍ ستمبرکو دیا گیا تھا ۔ اس کے علاوہ درجنوں اعزازات و انعامات اختر آزاد کے نام ہیں ۔* شکیلہ...

گور نر جھا ر کھنڈ کی کتاب ’’اردو شا عری کاانقلابی کر دار‘‘ : ڈاکٹر فہیمہ خا تون

گور نر جھا ر کھنڈ کی کتاب ’’اردو شا عری کاانقلابی کر دار‘‘ڈاکٹر فہیمہ خا تون، شعبۂ اردو ما روا ڑ ی کا لج’رانچی‘جھا ر کھنڈ               اس طرح مجھے یہ با ت بہت ا چھی لگتی ہے کہ قو میت کا تصور دراصل وطن پر ستی کے تصور کی تو سیعی شکل ہے’’عزت مآ ب جھار کھنڈ‘‘ کی کتا بوں کی سا ری با توں کو قلمبند کروں یہ ممکن نہیں، انکی کتا بوں کی کچھ مخصوص با توں کو میں بیان کر رہی ہوں۔ ’’اردوصرف مسلما نوں کی زبا ن نہیں ہے‘‘لیکن افسوس کے کچھ لو گوں نے اسی زبا ن کو تو ڑ نے کا کا م کیا ہے۔ پو رے ہندوستان میں اس زبا ن کوبو لنے اور سمجھنے والے مو جود ہیں لیکن تو ڑ نے وا لی طا قتوں نے نہ صرف یہ کہ زبان کو تو ڑ نے کی کو شش کی بلکہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو بھی مٹا نے کی کو شش کی یہ با ت ذہن نشیں کر لینی چا ہئے کہ اردو زبان ہندی سے رقا بت بھی کیسے کر سکتی ہے۔ اردو دستو رِ ہند میں تسلیم کی گئی زبا نوں میں...

کون فرقہ پرست ہے ا ور کون سیکو لر۔۔۔۔؟ : ممتاز شارق

  کون فرقہ پرست ہے ا ور کون سیکو لر۔۔۔۔؟   تحریر : ممتاز شارق ، جمشیدپور                               عام طور پر ہندوستان میں دو طرح کی سیاسی تنظمیں پائی جاتی ہیں۔کچھ ایسی ہیں جو فرقہ وارانہ کشیدگی کا ماحول پیدا کرکے سیاسی مفاد کی حصولیابی میں لگی ہوئی ہیں اور یہ سلسلہ اپنے عروج سے بھی آگے نکل چکا ہے۔دوسری طرف بہت ساری ایسی جماعتیں بھی ہیں جو خود کو سیکولر کہتی ہیں۔جسکا مطلب ان کے کہنے کے مطابق مذہب،ذات،برادری،علاقائیت سے اُپر اُٹھ کر صرف اور صرف ملک کی سا لمیت کے لئے کام کرنا مقصد ہوتا ہے۔ جبکہ حقیقتاایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آتا ہے۔کیوں کہ گذشتہ ساٹھ برسوں سے اکثر انتخابات میں مخصوص مذہبی طبقہ کو اولیّت دیتے ہوئے، ذات،برادری، اہل ثروت اور علاقائیت کو نظر میں رکھ کر ہی ٹکٹ تقسیم کی جاتی ہے۔                          دوسری طرف انہیں خودساختہ سیکولر جماعتوں سے ہی نکل کرکچھ لوگ فرقہ پرست جماعتوں میں نظر آرہے ہیں۔ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ مذہبی فرقہ پرست سیاسی جماعت میں اسمبلی یا پارلیمانی انتخابی ٹکٹ نہیں ملنے یا حسب خواہش عہدہ...

کسی بھی افسانہ نگار کی پہلی کہانی پہلی اولاد کی طرح اہم ہوتی ہے: پروفیسر اسلم جمشید پوری

”کسی بھی افسانہ نگار کی پہلی کہانی پہلی اولاد کی طرح اہم ہوتی ہے“: پروفیسر اسلم جمشید پوریشعبہ اردو میں ایک ادبی نشست کا انعقاد(پریس رلیز)میرٹھ 21 / ستمبر 2019ء شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے پریم چندسیمینار ہال میں ایک ادبی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں شعبہ اردو میں پڑھنے والے ایم۔ اے، ایم فل، پی ایچ ڈی کے طلباء نے پروگرام کی پہلی نشست میں اپنی تخلیقات پیش کیں اور دوسری نشست میں شعبہ اردو کے استاد ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹر شاداب علیم نے تخلیقات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا پروگرام کی صدارت پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کی، نظامت کے فرائض شعبہء اردو کی رسرچ اسکالر شوبی زہرا نقوی نے بحسن و خوبی انجام دی۔ پروگرام کا آغاز ایم۔اے کے طالب علم اسراراحمد نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔بعداذاں ایم۔اے کی طالب علم صبا نے نعت اور علما نے اقبال کی غزل پیش کی۔ رہنما شفا نے اپنا ایک منفرد مضمون بعنوان”اردو کے فروغ میں مدارس کا کردار“پیش کیا۔جس کو کافی پسند کیا گیا۔اصفہ انجم نے اپنی کہانی”قیدی“ پیش کی جبکہ، شاکر مطلوب نے اپنی کہانی”جڑیں“منفرد انداز میں سناکر سامعین کو متاثر کیا اور مریم نے اپنی کہانی ”ملازمہ“ کی قرأت...

کریم سِٹی کالج ، جمشید پور(ہندوستان) میں سعادت حسن منٹو پر دو روزہ قومی سیمنار

                 کریم سِٹی کالج ، جمشید پور(ہندوستان) میں سعادت حسن منٹو پر دو روزہ قومی سیمنار                 *کریم سِٹی کالج ، جمشید پور کے شعبۂ اردو کے زیرِاہتما م ۲۳ اور ۲۴ مارچ ،۲۰۱۳ء کو دو رزہ قومی سیمنار منعقد کیا گیا۔ اس یو۔جی۔سی کے زیرِ کفالت انعقاد پانے والے سیمنار کا عنوان ’’ منٹو صدی تقریبات‘‘تھا۔ سیمنار کے پہلے دن افتتاحیہ بزم بڑے تزک و احتشام سے مانندِ جشن منایا گیاجس میں محترمہ شہناز نبی( کلکتہ ) نے مہمانِ خصوصی اور پروفیسر حسین الحق صاحب (بودھ گیا) نے مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے شرکت فرمائی۔ افتتاحیہ مجلس کو خطاب کرتے ہوئے سیمنار کے کنوینر احمد بدر نے تعارف پیش کیا اور ان کے بعد دونو ں مہمان عظیم شخصیتوں نے سیمنار کے مقاصد ، اہمت اور بعد ازاں سعادت حسن منٹو پر منظم اور جامع تقریر کی۔ وقفعۂ طعام کے بعد تکنیکی اجلاس کا آغاز ہوا ۔ جس کا سلسلہ اگلے دن تک جاری رہا۔ اس سیمنار میں صوبہ بہار اور جھارکھنڈ کے اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز کے ذریعے متعدد پرچے پڑھے گئے۔ پرچے پیش کرنے والوں میں ڈاکٹر سرور ساجد (رانچی)، ڈاکٹر زین رامش (ہزاری...

کرشن کمار بیدل کی کتاب ہندی کے نو آموز شعرا کو شاعری کا صحیح علم دے گی: ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ

کرشن کمار بیدل کی کتاب ہندی کے نو آموز شعرا کو شاعری کا صحیح علم دے گی: ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ بین الاقوامی ساہتیہ کلا منچ، کے بینر کے تحت ڈاکٹر کرشن کمار بیدل کی ہندی میں شائع شدہ کتاب”غزل: ردیف قافیہ اور ویاکرن“ کی رسمِ اجرا میرٹھ (24 اگست) : ”داکٹر کرشن کمار بیدل کی کتاب ”غزل: ردیف قافیہ اور ویاکرن“ہندی شعرا کے لئے فالِ نیک ہے۔ہندی میں غزل کے عروض اور قواعد پر میرٹھ سے شائع ہونے والی پہلی کتاب ہے۔زمانے سے ہندی کے حلقوں میں کسی ایسی کتاب کی کمی محسوس کی جارہی تھی،جس سے شاعری کے فن میں پختگی آسکے۔جو ہندی کے نو آموز شعرا کو شاعری کا صحیح علم دے سکے۔ڈاکٹر بیدل کی کتاب نے اس بڑی کمی کوبہت حد تک پورا کیا ہے۔“ یہ الفاظ ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کے تھے۔وہ چیبر آف کامرس میں بین الاقوامی ساہتیہ کلا منچ، کے بینر کے تحت ڈاکٹر کرشن کمار بیدل کی ہندی میں شائع شدہ کتاب”غزل: ردیف قافیہ اور ویاکرن“ کی رسمِ اجراکے موقع پر بطور مقررِ خصوصی اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا”کرشن کمار بیدل نے کتابِ ہٰذا میں عمدگی سے اردو کی شعری اصناف، غزل کی روایت،قافیہ،تضمین،عیوبِ شعر،بحر،بحر کی اقسام،تقطیع،وغیرہ کو...

کارواں میری نظر میں : ڈاکٹر ریحانہ سلطا نہ KARWAN MERI NAZAR MEN – DR. REHANA SULTANA

کارواں میری نظر میں از : ڈاکٹر ریحانہ سلطا نہ کارواں : (افسانوی مجمو عہ) صفحات : 128 قیمت : 200/ روپے ناشر : ایم۔ آر پبلی کیشنز موڈرن پبلشنگ ہا ؤس۔9،گولا مارکیٹ،دریا گنج، دہلی110002               ” کارواں “ مہتاب عالم پرویز ؔکی 13/ کہا نیوں کا مجمو عہ ہے۔ ان کا انتخاب اور ان افسا نوں کو رضوان واسطیؔ صاحب نے مرتب کیا ہے۔ کمپو زنگ کا کام شا ہین خان صا حبہ نے بڑی خو بی سے انجام دیا ہے۔            مہتاب عالم پرویزؔ صا حب کی یہ کتاب ادبی دنیا میں خا ص کر افسا نوی ادب میں اپنا الگ مقام رکھتی ہے۔ کیونکہ افسا نہ نگاری کے لیے جو سب سے اہم فن ہے وہ ہے زبان پر گرفت اور ایک خاص اسلوب اور ان دو نوں دو لتوں سے مہتاب عالم پرویز ؔ صاحب کے افسا نے مالا مال ہیں۔ ان کا اپنا اسلوب ان کے افسا نوں میں سے ان کے افسا نے ”باز گشت“ میں بخو بی نظر آ تا ہے۔ اس افسا نے میں افسا نہ نگار نے انسا نی نفسیات کا ایسا نقشہ کھینچا ہے کہ افسا نے کے انجام تک پہنچتے، پہنچتے...

فرقہ پرستی کی بنیاد مذہب نہیں بلکہ سوچ ہے ……. ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

 فرقہ پرستی کی بنیاد مذہب نہیں بلکہ سوچ ہے ....... ڈاکٹر اسلم  جمشید پوری مظفرنگر22؍نومبر(کلیم تیاگی )                  جب انسان خود کو برترسمجھنے لگتا ہے تو اس کے اندر ایک برائی اور پیدا ہوتی ہے وہ دوسروں کو کمتر اور اپنے سے برا سمجھنے لگتا ہے ، یہیں سے فرقہ پرستی کی شروعات ہوتی ہے۔فرقہ پرستی کی بنیاد صرف مذہب نہیں بلکہ انسانوں کی کمتربی اور برتری کی سوچ ہوتی ہے۔ اِن خیالات کا اظہارڈاکٹر اسلم جمشیدپوری (صدر شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی ،میرٹھ) نے آج پیس لائبریری میں منعقد سمینار میں کیا۔ وہ ’سروکار ‘نامی تنظیم کے زیر اہتمام منعقدہ’فرقہ پرستی اور سماج‘ کے عنوان پربطور مہمانِ خصوصی عوام سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں لاتعداد فرقہ وارانہ فسادات ہو چکے ہیں،جو صرف اور صرف مذہب کی بنیاد پر نہیں ہوتے اُن کی دیگر وجوہات بھی ہوتی ہیں، انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بھی فسادات ہوتے ہیں، جبکہ وہاں غیر مسلم بہت کم ہیں، اسی طرح پوری دنیا میں اِس وقت فساد رونما ہو رہے ہیں، جس کی وجہ انسانوں کی ذہنیت بن رہی ہیں، لہٰذا میں سب سے پہلے انسان بننا ہوتا، انسانیت...