فرقان سنبھلی کو پی ایچ ڈی ڈگری تفویض (علی گڑھ)
فرقان سنبھلی کو پی ایچ ڈی ڈگری تفویض (علی گڑھ)
ادیب و افسانہ نگار محمد فرقان سنبھلی کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے شعبہ اردو کے لئے تحریر کردہ مقالے پر پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی ہے۔کنٹرولر آف ایگزام،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق محمد فرقان(سنبھلی)نے شعبہ اردو کے سینئر پروفیسر اور معروف نقاد پروفیسر ابوالکلام قاسمی کے زیر نگرانی ”روہیلکھنڈ میں اردو افسانے کا ارتقاء“ کے موضوع پر مقالہ مکمل کیا تھا۔جس کے بیرونی ممتحن جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی کے پروفیسر عبید الرحمن ہاشمی نے مقالے کو اہم تحقیقی کام قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مقالے میں خطہ روہیلکھنڈ میں اردو افسانے کے ارتقاء کو سمجھنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے ساتھ ہی روہیلکھنڈ علاقے کی اردو افسانے کو دین کو بھی سلیقے سے پیش کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ فرقان سنبھلی نے تقریبا سولہ سال سول انجینیرنگ کے شعبہ میں کام کرنے کے بعد اردو سے اپنی محبت کے لئے پی ایچ ڈی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ نو(9) اہم کتابوں کے مصنف محمد فرقان سنبھلی کو بہار اور یوپی کی اردو اکادمیوں سے سات (7)قومی سطح...
عید چراغاں : احمد نثارؔ
عید چراغاں از قلم: احمد نثارؔ
دنیا کے لگ بھگ اقوام میں یہ رواج عام ہے کہ خوشی کے موقعوں پر گھر، گلی، کوچوں، اداروں، درسگاہوں اور عبادت گاہوں کو چراغاں کرے۔ یہ عمل ایک قسم کا اظہار خوشی ہے۔ ماحول کو روشن کرنااور روشنی کو عام کرنا، روشن دانوں اور فانوسوں کو روشن کرنا ایک ثقافتی فعل تصور کیا جاتا ہے۔ خواہ اس چراغاں کرنے کی نسبت مذہب سے ہو یا نہ ہو، مگر چراغاں کرنا اپنی تذہیب و تمدن کی عکاسی یا اس کا نمونہ مانا جاتا رہا ہے۔ فانوس یا قمقمے جلانا، دیے جلانا مشرقی ممالک اوربرصغیر میں عام ہے، تو فانوس جلانا عرب کے علاقے بی الخصوص مصر میں اور سلطنت عثانیہ کے ماثر علاقوں میں عام ہے، یہاں تک کہ آج کل متحدہ عرب امارات، کویت جیسے ممالک میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ وسط ایشیائی ممالک جیسے ازبکستان، تاتارستان، آذربائجان و دیگر ممالک میں بھی یہ رواج عام ہے۔ مصر کا فانوس روشن کرنے کا رواج کافی دلچسپ رہا اور اس کلچر کو مختلف اقوام نے بھی اپنا لیا ہے۔مصر میں خلافتِ فاطمیہ کے دور سے یہ رواج چلا آرہا...
عید الفطر کی دلی مبارکباد
عالمی پرواز ڈاٹ کام
کے ناظرین اور قارئین کی خدمت میں
عالمی پرواز ڈاٹ کام انتظامیہ کی طرف سے
عید الفطر کی دلی
مبارکباد
خدا کرے یہ عید ہم میں باہمی اتحاد و اتفاق کا
مضبوط وسیلہ بنے
اور
دنیا کے مسلمان امن و امان میں رہیں
اور
عالمی سطح پر انسانی بھائی چارہ بنا رہے
منجانب
ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ
ابرار مجیب
مہتاب عالم پرویزؔ
نغمہ ناز مکتومیؔ
افروز سلیمیؔ
...
عالمی یوم خواتین
عالمی یوم خواتین کے مو قع پرشعبہ اردو،سی سی ایس یو اور وی کمٹ،میرٹھ کے زیر اہتمام مشاعرہئ شاعرات کا انعقاد (پریس ریلیز) میرٹھ 8/مارچ2017ء
شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں عالمی یوم خواتین کے مو قع پر شعبہ اردو اور وی کمٹ کے مشترکہ اہتمام میں ایک شاندار مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ جس کی صدارت محترمہ نایاب زہرا زیدی نے کی۔مہمان خصوصی کے طور پراسماعیل نیشنل گرلز پی جی کالج کی پرنسپل ڈاکٹر سادھنا سہائے نے شرکت کی اور مہمان ذی وقار کے بطور صدرجمہوریہ ایوارڈ یافتہ محترمہ قمرالنساء زیدی نے شرکت کی۔نظامت کے فرائض محترمہ میناکشی شاستری نے بحسن و خوبی انجام دیے مہمانوں کا تعارف ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ(صدر شعبہ اردو)نے پیش کیا اور شکریے کی رسم سماجی تنظیم وی کمٹ کی صدر محترمہ رما نہرو نے ادا کی۔ پرو گرام کا آ غازشوبی رانی نے ہدیہئ نعت سے کیا۔ بعد ازاں مہمانوں نے مل کر شمع افروزی کی۔...
عالمی پرواز ڈاٹ کوم کے مدیران پرویزؔ اور نغمہؔ کی ہمسفری
عالمی پرواز ڈاٹ کوم کے مدیران پرویزؔ اور نغمہؔ کی ہمسفری، (پرویز ؔکے مہتابکو نغمہؔ پر نازہوا)کے یاد گار لمحاتکو سلامدعا ہے کہ دونوں یو ں ہی ہمراہ رہیں اور نئی نئی منزلیں سر کریں
مبارکباد
ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔنگراں عالمی پروازڈاٹ کوم...
عالمی پرواز ڈاٹ کوم کے مدیران پرویزؔ اور نغمہؔ کی ہمسفری …….
عالمی پرواز ڈاٹ کوم کے مدیران پرویزؔ اور نغمہؔ کی ہمسفری، (پرویز ؔکے مہتابکو نغمہؔ پر نازہوا)کے یاد گار لمحاتکو سلامدعا ہے کہ دونوں یو ں ہی ہمراہ رہیں اور نئی نئی منزلیں سر کریں
مبارکباد
ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔنگراں عالمی پروازڈاٹ کوم...
عالمی پرواز ڈاٹ کام کے زیر اہتمام مہتاب عالم پرویزؔ کی تین کتابوں کی شانداررسمِ اجرا
مہتاب عالم پرویزؔکے افسانے موجودہ وقت کے مسائل کی عمدیہ عکاسی ہیں:ڈاکٹر اسلم جمشیدپوریؔ
عالمی پرواز ڈاٹ کام کے زیر اہتمام مہتاب عالم پرویزؔ کی تین کتابوں کی شانداررسمِ اجرا
جمشیدپور (23/مارچ) : ”بحث اس سے نہیں ہے کہ مہتاب عالم پرویزؔ کے افسانے منٹو کے افسانوں کی طرح کتنے نفسیاتی ہیں، کتنے جنسی ہیں یاکتنے گرم ہیں۔ افسانے گرم ہوں یا ٹھنڈے یہ بھی قابلِ ذکر بات نہیں ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مہتاب عالم پرویز کا اسلوب اپنا ہے۔یہ بڑی خوبی ہے کہ جب ان کے افسانے موجودہ وقت کے مسائل کی عمدیہ عکاسی ہیں۔ ہم ان کے افسانے پڑھتے ہیں تو محسوس ہوجاتا ہے کہ یہ افسانے مہتاب عالم پرویزؔ ہی کے ہیں۔یہی چیز ادب میں کسی افسانہ نگار کو زندہ رکھتی ہے، اسے دوام عطا کرتی ہے۔یہ بڑی بات ہے کہ مہتاب عالم پرویزؔ کسی کے اسلوب کی نقل نہیں کرتے۔“ مہتاب عالم پرویزؔ کی افسانہ نگاری کے تعلق سے یہ خیالات،تقریبِ رسمِ اجرا میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک،ڈاکٹر...
طنزیہ شاعری کا نقطۂ آ غاز : جعفر زٹلی……… فرح ناز
طنزیہ شاعری کا نقطۂ آ غاز : جعفر زٹلیفرح نازطنزو مزاح تخلیقی ادب کا وہ حسن ہے جس کی بنیاد ان لطیف اشا روں پر مبنی ہو تی ہے جو اس ماحول کی دین ہے۔طنزو مزاح کے رنگوں کے مناسب استعمال سے کسی بھی تحریر کو دلکش و دلفریب بنایا جا سکتا ہے۔ جس کی عمدہ مثالیں ہمارے ادب میں جگہ جگہ بکھری ہوئی نظر آ تی ہیں۔جس کا استعمال ادیب یا مصنف نے اپنی بات کو پر اثر اور با وزن بنانے کے لیے خوب سے خوب تر کیا ہے۔اگر ہم طنز یہ و مزاحیہ ادب کے نقوش کی نشاندہی کریں تو اس کے ابتدا ئی رنگ ہمیں امیر خسروؔ کی کہہ مکرنیاں،دوسخنے اور النمل میں ہی نظر آ تے ہیں۔جن میں بے ربط و بے جوڑ الفاظ کے ذریعے مزاح کے عنصر وجود پاتے ہیں۔دکن میں یہ رنگ ہمیں قلی قطب شاہ اور ولی دکنی کے یہاں ملتا ہے۔’’اودھ پنچ‘‘ اردو طنز ومزاح کی تعمیر میں ایک بنیا دی حیثیت کا حا مل ہے جس میں اس صنف کے ذریعے سجاد حسین، احمدعلی شوق، پنڈت تربھون ناتھ ہجر، مولوی سید عبد الغفور شاہ باز اور اکبر الہ آ بادی جیسے سماجی مفکروں نے سیا سی و سماجی تنقید...
طرزِبیان کے معاملے میں اردو کہانی ہندی سے بہت آگے ہے: ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
طرزِبیان کے معاملے میں اردو کہانی ہندی سے بہت آگے ہے۔ ۔ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
شعبہ ء اردو ،موہن لال سوکھاڈیہ یونیورسٹی ،اودے پور،راجستھان ،میں’’ہم عصر اردو۔ہندی کہانی ‘‘مو ضوع پر توسیعی خطبہ اودے پور ,انڈیا: رپورٹ۔شہناز(ریسرچ اسکالر)
اردو افسانہ آج کے معاصر سماج کی مکمّل عکاسی کے فرائض پوری ذمہ داری سے ادا کر رہا ہے۔پریم چند نے اردو افسانے کو جو زمین فراہم کی تھی اس کی بنیادوں پر آج اردو افسانے کی عالی شان عمارت کھڑی ہے۔‘‘یہ جملے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کے تھے،وہ شعبہ ء اردو ،موہن لال سوکھاڈیہ یونیورسٹی ،اودے پور،راجستھان ،میں’’ہم عصر اردو۔ہندی کہانی ‘‘مو ضوع پر توسیعی خطبہ پیش کررہے تھے۔ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے اس موقع پر مزید کہا کہ گلوبلائزیشن کے ساتھ زندگی کے بدلتے ہوئے منظر نامے کا بیان ہو یا نئی طرزِ معاشرت سے پیدا ہونے والی برائیاں ہوں یا ان کے مثبت پہلو، اردو افسانے نے سب کچھ اپنے موضوعات میں سمیٹ لیا ہے۔دہشت گردی ‘فرقہ وارانہ فسادات ،صارفیت‘ ماحولیات ،آبی تحفظ ،آنر کلنگ ،علاقائیت ،رشتوں کی بکھرتی کرچیاں ، ٹوٹتے خاندان، غرض سب کچھ آج کی اردو کہانی میں بیان ہو رہاہے۔ اردو ۔ہندی کہانی کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندی کہانی میں موضوعات کا تنوع اردو سے...
صمیمِ قلب سے مبارکباد : عالمی پرواز.کوم
سالِ نو
2015
کی آمد پر
"عالمی پرواز.کوم"
"عالمی افسانوی کارواں"
اور
"اُردو آپریشن"
کے قارئین اور ناظرین
کو
صمیمِ قلب سے
مبارکباد
دیتا ہوں
خدا کرے یہ سال
آپ زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں
بھر دے اور ہر طرف امن و امان
بحال رہے۔آمین
-------------
ڈاکٹراسلم جمشیدپوری
ابرار مجیب
رضوان واسطی
جہانگیر محمد
نغمہ نازمکتومیؔ
مہتاب عالم پرویزؔ
افروز سلیمی
زیرِاہتمام " عالمی پرواز .کوم "
www.aalamiparwaz.com...
شناور اسلمؔ کی ہائی اسکول میں شاندار کامیابی
شناور اسلمؔ کی ہائی اسکول میں شاندار کامیابی
میرٹھ: (4 جون):
معروف ناقد،افسانہ نگار اور صدر شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یو نیور سٹی، میرٹھ، کے فرزند شناور اسلمؔ نے سی بی ایس سی کے دسویں کے امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔انہوں نے میرٹھ کے مشہور اسکول،کے ایل انٹر نیشنل اسکول سے دسویں جماعت پاس کی ہے۔ شناور اسلمؔ نے انگریزی میں 95فی صد نمبر حاصل کئے ہیں۔دیگر مضامین حساب،سائنس،ہندی اور سشل سائنس میں بھی 85 فی صد نمبر حاصل کئے ہیں۔اس موقع پر احباب نے ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کو مبارکباد دی ہے۔...
شموئل احمد کی افسانہ نگاری : ڈاکٹر پرویز شہریار
شموئل احمد کی افسانہ نگاری ڈاکٹر پرویز شہریار ایڈیٹر،این سی ای آر ٹی، نئی دہلی16-(انڈیا)
شموئل احمد کی پہچان اُن کے مشہور افسانہ ”سنگھاردان“ سے قائم ہوتی ہے،لیکن خود شموئل احمد کو ”عنکبوت“ میں شامل افسانہ ”ظہار“بہت پسندہے۔ بہر حال،”ظہار“ اگرشموئل کا سب سے پسندیدہ افسانہ ہے تو ”سنگھاردان“ کی بھی اپنی انفرادی شان ہے۔شموئل احمد نے اس افسانے میں جس طرح ہندوستانی مسلمانوں کی اجتماعی سائیکی پر سوار فسادات کے مضر اثرات کے آسیب کو بوتل میں قید کیا ہے۔اس کمال ِفن تک مابعد جدیدیت کے اچھے سے اچھے افسانہ نگار کی رسائی ممکن نہیں ہو پائی ہے۔ اعتراض کرنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ آٹھویں دہائی کے بعد افسانہ نگاری کے نام پر زیادہ تر رپورٹنگ ہوئی ہے۔ایسے ناقدین ادب سے میری مودبانہ گزارش ہے کہ وہ ایسے قلب کو بے چین کر دینے والے احساسات اورروح کو فگار کر دینے والے کٹیلے واقعات پر مبنی شموئل کے افسانے کی قرات سے خود کو کم از کم ایک بار ضرور گزاریں اور دیکھیں کہ اس افسانے میں موجود آتشیں شعلوں سے وہ کس حد تک اپنا دامن بچا پاتے ہیں۔ المختصر، یہ افسانہ شموئل احمد کا معجزہئ فن...
شعبہ اردو،سی سی ایس یومیں ”نرگس کے پھول“ کا اجراء
شعبہ اردو،سی سی ایس یومیں ”نرگس کے پھول“ کا اجراء (پریس ریلیز) میرٹھ22/ جنوری2016
شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ اور کیلاش راج سیوا گیان سمیتی کے مشترکہ اہتمام میں میرٹھ کے معروف افسانہ نگار سنیل گجراتی کے افسا نوی مجمو عے”نرگس کے پھول“ کا اجراء عمل میں آیا۔ پرو گرام کی صدارت کے فرائض صدر شعبہ اردو ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری ؔنے انجام دیے۔مہمانان خصوصی کے بطور نائب شیخ الجامعہ پرو فیسر ایچ ایس سنگھ اور ڈا کٹر کلدیپ اُجول(وزیر حکومت اتر پردیش) شریک ہوئے جب کہ مہمانان ذی وقار کے طور پر پرو فیسر وائی وملا(ڈی ایس ڈبلیو، سی سی ایس یو)۔مراد احسن(انجینئر، سہارنپور) اور معروف ہندی شا عر ڈا کٹر ایشور چند’گمبھیر‘ نے شرکت کی۔نظا مت ڈا کٹر آصف علی، استقبال ڈا کٹر شاداب علیم اور شکریے کی رسم آبھا شرما(صدر،کیلاش راج سیوا گیان سمیتی) نے انجام دی۔ تقریب کا آ غاز مہما نان نے شمع رو شن کر کے کیا اور مہمانوں کو پھولوں کا نذرا نہ پیش کیا گیا۔اس مو قع پر محمد صادق نے اپنی مترنم آواز میں اقبال کی غزل پیش کر کے سامعین کو مسحور کردیا۔ بعد ازاں مہمانان کے ہاتھوں ”نرگس کے پھول“ کا اجراء عمل میں آیا۔ سنیل گجراتی...
شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں معروف گیت کار بھارت بھو شن کو خراج عقیدت
شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں معروف گیت کار بھارت بھو شن کو خراج عقیدت
میرٹھ18/ دسمبر2015ء
شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی،میرٹھ اور یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن(UPTA) کے مشترکہ اہتمام میں معروف گیت کار آنجہانی بھارت بھوشن کی برسی کے مو قع پر شعبہ کے پریم چند سیمینار ہال میں ایک شاندار پرو گرام کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کی صدارت کے فرا ئض صدر شعبہ اردو ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری ؔنے انجام دیے۔مہمان خصوصی کے طور پربھا رت بھو شن کے دا ماد وی کے سکسینہ نے شرکت کی۔اور مہمان ذی وقار کے طور پر معروف ادیب پرو فیسر وید پر کاش بٹوک شریک ہو ئے۔ نظا مت کے فرا ئض ڈا کٹر آصف علی نے انجام دیے۔استقبال ڈا کٹرشاداب علیم اور شکریے کی رسم یو نائٹیڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن کے صدر بھارت بھوشن شرما نے ادا کی۔ اس سے قبل پرو گرام کا آغاز مہمانان شمع رو شن کر کے کیا۔ بعد ازاں مہمانوں کا پھولوں کے ذریعے استقبال کیا گیا۔ پروگرام تین حصوں پر منقسم تھا۔پہلے حصے میں عظیم گیت کار بھا رت بھو شن پر مبنی ڈا کیو...
شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار اختتام پذیر
شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار(اردو،ہندی،انگریزی) اختتام پذیر
آخری روزریسرچ اسکالرز کے مقالات کے علاوہ،رسم اجراء اور تقسیم انعامات کا انعقاد 11/دسمبر2018ء شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ اور اتر پردیش اردو اکادمی کے اشتراک سے’موجودہ سماجی تغیرات کے فکشن پر اثرات“ عنوان سے منعقدہ چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار(اردو،ہندی،انگریزی) کے چوتھے دن ریسرچ اسکالرز سیمینار،کتاب کی رسم اجراء اور تقسیم انعامات کا پرو گرام منعقد ہوا۔ جس میں ابرا ہیم افسر، شوبی زہرا نقوی، تسلیم جہاں اور راحت علی صدیقی نے اپنے اپنے مقالات پیش کیے۔یہ اجلاس مجاہد آزادی مولانا محمد علی جوہر اورمرحوم نواب کوکب حمید کی یاد میں منعقد کیے گئے تھے کی، محفل صدارت پر پرو فیسرشہاب ظفر اعظمی،پٹنہ،نایاب زہرا زیدی،میرٹھ ڈا کٹر ارشد اقبال،نوشاد عالم،جمشید پور اور ڈاکٹر محمد عباس،جمشید پور رونق افروز رہے۔نظامت کے فرائض تابش فرید نے انجام دیے۔بعد ازاں تقسیم انعامات کا جلسہ منعقد ہوا جس کی صدارت پروفیسر غلام ربانی، بنگلہ دیش، اشتیا ق سعید، ممبئی، حاجی عمران صدیقی اور ڈا کٹر نگار عظیم نے کی۔ استقبالیہ کلمات ڈا کٹر شاداب علیم، شکریے کی رسم ڈا کٹر ارشاد سیانوی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف علی نے انجام دیے۔ پرو فیسر اسلم جمشید پوری...
شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار
شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار(اردو،ہندی،انگریزی)جاری
دوسرے روزدرجنوں مقالات کے علاوء بک فیئر، آرٹ گیلری اور شام افسانہ کا انعقاد (پریس ریلیز) 9/دسمبر2018
شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ اور اتر پردیش اردو اکادمی کے اشتراک سے’موجودہ سماجی تغیرات کے فکشن پر اثرات“ عنوان سے منعقدہ چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار(اردو،ہندی،انگریزی) کے دوسرے دن اردو کے دو اجلاس،ہندی کا ایک اجلاس اور شام افسانہ کی محفل منعقد کی گئی۔ساتھ ہی اس مو قع پریونیورسٹی کے شعبہ فائن آرٹس کی طالبات اور معروف آرٹسٹ ڈاکٹر عابد زیدی کی پینٹنگ سے سجی آرٹ گیلری اوربک فیئر کا بھی اہتمام کیا گیا۔شام میں عالمی مشاعرہ منعقد ہوا۔ سیمینار کے پہلے اور دوسرے اجلاس کی محفل صدارت پرپرو فیسر غلام ربا نی بنگلہ دیش، سر دار علی،امریکا، پروفیسر صا لحہ رشید، الہ آ باد، پرو فیسر ارادھنا، ڈاکٹر فو زیہ بانو،عارف نقوی، جرمنی، مقصود انور قطر، ڈاکٹروضاحت حسین رضوی،ڈاکٹر نعیم فلاحی، طالب زیدی رونق افروز رہے۔ان اجلاس میں ڈاکٹر حسن البنا، بنگلہ دیش،ڈا کٹر نعیم فلا حی راجستھان، ڈا کٹر عابد حسین حیدری، سنبھل، بشیر مالیر کو ٹلوی، پنجاب،پروفیسر غلام ربانی،پروفیسر صا لحہ رشید، ڈا کٹر اختر آزاد، جاوید انورنے اپنے مقالے پیش کیے۔ جب کہ...
شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار
شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار(اردو،ہندی،انگریزی)جاری
تیسرے روز مقالات کے علاوہ، شام افسانہ اورڈرامہ”خاک وطن“ کا انعقاد 10/دسمبر2018ء شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ اور اتر پردیش اردو اکادمی کے اشتراک سے’موجودہ سماجی تغیرات کے فکشن پر اثرات“ عنوان سے منعقدہ چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار(اردو،ہندی،انگریزی) کے تیسرے دن اردو کے دو اجلاس،انگلش کا ایک اجلاس اور شام افسانہ کی محفل منعقد کی گئی۔ساتھ ہی اس مو قع پرشام پانچ بجے آرجی پی جی کالج میں حب الوطنی پر مبنی ڈرامہ ”خاک وطن“ اسٹیج کیا گیا۔ سیمینار کے پہلے اور دوسرے اجلاس جو پروفیسر عظیم الشان صدیقی اورعابد سہیل کے نام تھے کی محفل صدارت پراسرار گاندھی، الہ آ باد، ڈاکٹر حسن البنا، بنگلہ دیش، ڈا کٹر عابد حسین حیدری، سنبھل، جاوید انور،عارف نقوی، پروفیسر صا لحہ رشید، الہ آ باد، ڈاکٹر محمد کاظم،ڈاکٹر اکبر علی،کے پی شمس الدین، احمد حسنین رونق افروز رہے۔جبکہ تیسرے اجلاس(انگلش) جو سابق وائس چانسلر آنجہانی پروفیسر ارون کمار کی یاد میں منعقد کیا گیا تھا کی محفل صدارت پرڈاکٹر جمال احمد صدیقی، ڈاکٹر انویتا اگروال اور رما نہرو رونق افروز رہے۔ان تینوں اجلاس کی نظامت بالترتیب ڈاکٹر آصف علی،ڈاکٹر ارشاد سیانوی اورمدیحہ اسلم نے کی جب کہ...
شعبہ اردو، سی سی ایس یونیورسٹی اور وی کمٹ کی جانب سے مقابلہ بیت بازی کا انعقاد
شعبہ اردو، سی سی ایس یونیورسٹی اور وی کمٹ کی جانب سے مقابلہ بیت بازی کا انعقاد 7/ مئی2016ء
شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ اور میرٹھ کی ایک معروف سماجی تنظیم وی کمٹ اور اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ کے مشترکہ اہتمام سے ایک عظیم الشان بیت با زی مقابلہ کا انعقاد صبح دس بجے سے یو نیورسٹی میں واقع برہسپتی بھون میں کیا گیا۔ جس میں میرٹھ اور آس پا س کے اضلاع کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ اس کا مقصد اردو کی اس اہم قدیم ادبی روا یت کو نئی نسل تک پہنچا نا تھا۔ پرو گرام میں مہمان خصوصی کے طور پر اتر پردیش اردو اکا دمی کے چیئر مین اور معروف شاعر ڈا کٹر نواز دیو بند، مہمان ذی وقار کے بطور مو لا نا آزاد نیشنل اردو یو نیورسٹی حیدر آ باد کے فا ؤنڈر وا ئس چا نسلر پرو فیسر شمیم جے راج پوری اور ججز کے بطور ڈاکٹر یونس غازی، ڈاکٹر سمنیش سمن، ڈا کٹر فر قان سردھنوی، نذیر میرٹھی، منوج کمار منوج اور رام گوپال بھارتی شریک ہو ئے۔جب کہ اسٹوپ واچ کی ذمہ داری مرزا منہاج اور نظا مت کے فرائض...
شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں ایک پریس کانفرنس منعقد ہوئی۔
پریس ریلیز
4/ مئی2016ء
شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں ایک پریس کانفرنس منعقد ہوئی۔
شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں ایک پریس کانفرنس منعقد ہوئی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے صدر شعبہ اردو ڈا کٹر اسلم جمشید پوریؔ نے کہا کہ اردو ادب کی کچھ روا یتیں ایسی ہیں جو زمانے کے ساتھ ساتھ مفقود ہو تی جا رہی ہیں۔ ان ہی میں سے ایک بیت بازی بھی ہے جس کا ماضی تو شانداررہا ہے لیکن آج کی اس برق رفتار زندگی میں یہ روا یت دم توڑ رہی ہے۔ہماری نئی نسل تو اس سے تقریبا نا آشنا ہے۔ اسی روایت کو زندہ رکھنے اور نئی نسل تک پہنچا نے کی غرض سے شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ اورمیرٹھ کی معروف سماجی تنظیم وی کمٹ کے اشتراک سے اس روایت کو پھر سے زندہ رکھنے کی خاطرزونل سطح پربیت بازی کے مقابلے کا اہتمام کررہا ہے۔ یہ مقابلہ7/مئی2016ء کو بوقت صبح10:00بجے یو نیورسٹی کے احاطے میں منعقد کیا جائے گا۔
وی کمٹ تنظیم کی صدر رما نہرو نے بتا یا کہ اس بیت...
شعبہ اردو میں مرحوم شمس الدین کی یاد میں تعزیتی جلسہ کا انعقاد
شعبہ اردو میں مرحوم شمس الدین کی یاد میں تعزیتی جلسہ کا انعقاد (پریس ریلیز) 7/جون2016ء
خدائے برتر نے انسان کو عجیب و غریب خصائل سے نوازا ہے۔ کبھی انسان ضروری وسائل اور ساز گار ما حول کے با وجود اپنا نصب العین حاصل نہیں کر پاتا ہے تو کبھی وسائل کی کمی اور ناسازگار ما حول میں بھی وہ ایسے کار نا مے انجام دے جاتا ہے کہ وہ مثال کی حیثیت رکھنے لگتے ہیں۔ایسے ہی مثا لی کا ر نامے انجام دینے والوں میں مرحوم شمس الدین کی شخصیت بھی تھی۔ تعلیمی درسگاہوں کے فقدان اور دیہاتی ماحول میں پرورش پانے کے با وجود دھنو را،ضلع بلند شہر کے ساکن مرحوم شمس الدین نے اپنی ذاتی کو ششوں سے علاقے میں پہلی مرتبہ ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا تھا۔ ان کی یہ کاوش اہل علا قہ کے لیے قابل فخر تھی اور انہوں نے انہیں ”بابو جی“ کے نام سے موسوم کردیا تھا۔ انہوں نے اپنے علاقے کے کئی بچوں کی ادھوری تعلیم مکمل کرا کر ملازمت کے لیے راہ استوار کی تھی۔ان کا5/جون2016 ء کو اچا نک حر کت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے 85سال...