Skip to main content

Aalamiparwaz

شعبۂ اردو میں پریس کانفر نس سے ڈ اکٹر اسلم جمشیدپوری اور بھارت بھوشن شر ماکا خطاب

 میرٹھ میں پہلی بار ’’جس لاہور نئں دیکھیاں وہ جنمیا نئیں۔۔۔‘‘ کا اسٹیج شو کا انعقاد         ہوگا۔ شعبۂ اردو میں پریس کانفر نس سے ڈ اکٹر اسلم جمشیدپوری اور بھارت بھوشن شر ماکا       خطاب 21؍ مئی2013ء (پریس ریلیز) شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ اور یو نائیٹڈ پرو گریسیو تھیٹر ایسو سی ایشن، میرٹھ (UPTA)کے اشتراک سے عالمی شہرت یافتہ ڈراما’’جس لاہور نئیں دیکھیاں........‘‘ 23؍ مئی2013ء کو یونیورسٹی کے آ ڈیٹوریم نیتاجی سبھاش چندر بوس میں اسٹیج کیا جائے گا۔ اس تعلق سے صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ 1947ء نے ہمیں آزادی کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ بٹوا رے کا درد بھی دیا تھا۔یہ تقسیم دو ملکوں کی نہیں دو بھائیوں کی بھی تقسیم تھی۔لوگ سر چھپانے کے لیے در در بھٹک رہے تھے۔سر حدوں کی دو نوں جانب درد،ٹیس اور مظالم کی لہر مذہبی جنون کے سمندر میں سر پٹکتی رہی،انسا نیت کراہتی رہی اور مذہبی جنون قہقہے لگاتا رہا۔ ایسے ہی ما حول کی پروردہ ہے یہ کہانی جس کا نام ہے’’جس لاہور نئیں دیکھیاں........‘‘ یہ کہانی کسی مسلمان کی ہے نہ ہندو کی،یہ انسانیت کی کہانی ہے،میری، آپ کی اور...

شعبہ اردو کے زیر اہتمام منعقدہ چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینارمیں مشاعرہ کی یاد گار شام

شعبہ اردو کے زیر اہتمام منعقدہ چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینارمیں مشاعرہ کی یاد گار شام اک داغ ہے سینے میں دو اشک ہیں آنکھوں میں مفلس نہ مجھے سمجھو یہ میرا خزانہ ہےعارف نقوی 11/دسمبر2018ء (پریس ریلیز) برہسپتی بھون،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے ہال میں چہار روزہ کثیر لسانی عالمی سیمینار کے دوران ایک شاندار مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ جس کی صدارت جرمنی سے تشریف لائے عارف نقوی نے کی۔مہمانان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر معراج الدین احمد، سید معراج اور حاجی عمران صدیقی نے شرکت کی۔مہمانوں کا تعارف ڈاکٹر اسلم جمشید پوری(صدر شعبہئ اردو)نے پیش کیا جب کہ نظامت کے فرائض نو جوان شاعر،معروف ناظم معین شاداب نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ بعد ازاں مہمانوں نے مل کر شمع افروزی کی۔اس مو قع پر پڑھا گیا منتخب کلام قارئین کی نظر ہے ؎اک داغ ہے سینے میں دو اشک ہیں آنکھوں میں مفلس نہ مجھے سمجھو یہ میرا خزانہ ہےعارف نقویاس دور میں جھوٹ کا کچھ ایسا چلن ہےسچ بھی کوئی بولے تو بھروسہ نہیں ہوتارفیق ریوانیتمام عمر میں زد میں رہاہوں راتوں کیمرے خدا مرے حصے کی اب سحر آئےخان محمد رضوانچراغ بجھنے لگے سر ہوئے ہیں مدھم پھرگذر نہ جائے یہ آزادیوں کا موسم...

شعبہ اردو کے ذریعہ منعقدہ پانچ روزہ بین الاقوامی افسا نہ ورکشاپ اختتام پذیر ورکشاپ میں تینوں زبانوں کی کہانیوں کی تفہیم کے نئے در وا ہوئے : پروفیسر زماں آزردہ

 شعبہ اردو کے ذریعہ منعقدہ پانچ روزہ بین الاقوامی افسا نہ  ورکشاپ اختتام پذیر ورکشاپ میں تینوں زبانوں کی کہانیوں کی تفہیم کے نئے در وا  ہوئے : پروفیسر زماں آزردہ          میرٹھ 28/ اپریل2015ء        اس ورکشاپ میں تینوں زبانوں کی تفہیم کے در وا ہوئے ہیں۔اب انسانی زندگی اور اس کی تمام تہذیبی قدریں بدل چکی ہیں جس کے اثرات معاشرے پر جا بجا نظرآ رہے ہیں۔کہانی بخو بی اس تغیر کو پیش کر رہی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان دوستی اور اخوت و بھائی چارے کی فضا کو ہموار کیا جائے۔ اس سلسلے میں افسانہ تاریخ ساز کردار ادا کرسکتا ہے۔یہ الفاظ تھے پرو فیسر زماں آزردہ کے جو شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی میرٹھ،قومی کونسل برا ئے فروغ اردو زبان اور اتر پردیش اردو اکادمی کے با ہمی اشتراک سے منعقدہ پا نچ رو زہ بین الاقوامی افسا نہ ورکشاپ(اردو،ہندی، انگریزی) کے اختتامی اجلاس میں بطور صدر خطاب کررہے تھے۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر ایچ ایس سنگھ (نائب شیخ الجامعہ،سی سی ایس یو)نے شرکت کی جب کہ مہمانان ذی وقار کی حیثیت سے پروفیسرزین الساجدین،(چیئر مین،عربی فارسی بورڈ، لکھنو)،ڈاکٹر ہاشم رضا زیدی،محترم طالب زیدی، ڈاکٹر پارُل...

شعبہ اردو ،میرٹھ یونیورسٹی میں معروف شاعرخواجہ جاوید اختر کو خراج عقیدت

 شعبہ اردو ،میرٹھ یونیورسٹی میں معروف شاعرخواجہ جاوید اختر  کو خراج عقیدت   میرٹھ15؍جولائی2013ء                    شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ میں نئی نسل کے معتبر و معروف شا عرخواجہ جاوید اخترکے انتقال پر ایک تعزیتی جلسہ کا انعقاد کیا گیا،جس کی صدارت صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری نے کی اور نظا مت کے فرا ئض ڈاکٹر آصف علی نے انجام دیے۔واضح ہو کہ خواجہ جاوید اختر کلکتہ کے رہنے وا لے تھے مگر عرصہ دراز سے ملازمت کے تعلق سے الہ آ باد میں سکونت اختیار کیے ہو ئے تھے۔ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ’’نیند شرط نہیں‘‘ 2010ء میں منظر عام پر آ یا تھا جسے 2010ء میں اتر پردیش اردو اکا دمی،لکھنؤ اور 2012ء میں بہار اردو اکادمی،نے انعامات سے نوازا۔پرو گرام کا آ غاز سعید احمد سہا رنپوری نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔اس مو قع پر ڈاکٹر آصف علی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ خواجہ جاوید اختر کی شاعری کا لہجہ عام گفتگو پر مبنی ہے۔ایسے اشعار بہت متاثر کن ہوتے ہے بشر طیکہ شاعر تک بندی سے اجتناب کرے۔ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری نے اپنے صدارتی خطبہ میں...

شاعری دلوں کو جوڑنے کا بہترین ذریعہ ہے : ڈاکٹر نوازد یوبندی

 شاعری دلوں کو جوڑنے کا بہترین ذریعہ ہے : ڈاکٹر نوازد یوبندی شعبہ اردو سی سی ایس یو اور میرٹھ پبلک گرلز اسکول کی جانب سے”بچوں کا مشاعرہ“کا کا میاب انعقاد (پریس ریلیز) میرٹھ16/ فروری2015ء               شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ پبلک گرلز اسکول اور اتر پردیش اردو اکا دمی کے با ہمی اشتراک سے آج یہاں یونیورسٹی کے برہسپتی بھون میں ایک شاندار پروگرام بعنوان”بچوں کا مشاعرہ“ کا انقاد ہوا۔ جس میں مہمان خصوصی کے بطور اتر پردیش اردو اکا دمی کے چیئر مین اور شہرہئ آفاق شاعر محترم ڈاکٹرنوا ز دیو بندی شریک ہوئے اور پروگرام کی صدا رت شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ کے صدر محترم ڈا کٹر اسلم جمشید پوری نے فرمائی۔نظامت کے فرا ئض زہرا اور آکانشا گوسوامی نے ادا کیے۔مہمانوں کا تعارف اورشکریے کی رسم میرٹھ پبلک گرلز اسکول کی پرنسپل ڈاکٹر مرنالنی اننت نے ادا کی۔ پرو گرام کا آغاز شان رحمانی نے نعت پاک سے کیا۔بعد ازاں مہمانوں کا پھولوں سے استقبال کیا۔اس موقع پرحسنیٰ میموریل اسکول، صوفیہ گرلز اسکول، نیو ہو رائزن پبلک اسکول اور میرٹھ پلک گرلز اسکول کے طلبہ و طالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔مشاعرے میں میرٹھ پبلک گرلز اسکو ل...

شادی کی اٹھارویں سالگرہ مبارک : رضواں واسطیؔ

 شادی کی اٹھارویں سالگرہ مبارک  دعائیہ  ...رضواں واسطیؔ    جیون  کا یہ میل  مبارک، شادی  کی  یہ   سالگرہ  آس کے دیپ  جلانے کو اور نئی  امیدیں جگانے کو پیار، محبت، وفا، دوستی کی یہ  محفل رہے سد ا بیتے اٹھارہ سال ، ابھی ہیں  سال ہزاروں  آنے  کو   ایک کلی ایک پھول کی خوشبو مہکائے عالم سارا نور  ’  دعا ایمان ‘ ہے ،’ عبداللہ ‘ ہے  آنکھوں  کا تارا صدیاں  لاکھوں  آئیں، اورآنگن  میں  کریں  یہ  اجیارا رحمت سے اللہ کی  یہ  جگ  سجا  رہے  پیارا  پیارا    نغمہ  ناز مکتومی کی   دنیا کا   محافظ  خدا  ر  ہے بس یوں  ہی مہتاب  عالم  پرویز کا گلشن کھِلا رہے   ٭٭٭٭٭٭...

سید اطہرالدین گفتار کے ہی نہیں کردار کے بھی غازی تھے : ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری

سید اطہرالدین گفتار کے ہی نہیں کردار کے بھی غازی تھے : ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری        میرٹھ کے معروف شاعرمرحوم اطہر الدین اطہر کی یاد میں شعبہء اردو میں تعزیتی    جلسے کا انعقاد                    *میرٹھ (۱۶ مارچ ) : سید اطہر الدین اطہر اردو کے عمدہ ادیب وشاعر اور انگریزی کے اچھے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ با اخلاق ،باکردار ،وطن پرست اوخدمت خلق کے جذبے سے لبریز انسان تھے ۔خدمت خلق ان کا پسند یدہ مشغلہ تھا ۔وہ اپنے علم ،مال،اور ادب سبھی کو اس پر بے دریغ خرچ کرتے تھے مرحوم اطہر گفتار کے نہیں کردار کے غازی تھے ۔عمل میں یقین رکھنے کا ان کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی شریک حیات کو عمر کے اس حصے میں اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرایا جب عورتیں عمومًا ازدواجی زندگی اور بچوں کی تعلیم وتربیت کے مسائل میں الجھ کر اپنی تعلیم ہی نہیں سماج سے بیگانہ ہوجاتی ہیں یہ الفاظ تھے ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری کے جنہیں وہ مرحوم اطہر الدین اطہر کی یاد میں شعبہء اردو میں منعقد کئے گئے تعزیتی جلسے کے صدارتی خطبے میں ادا کررہے تھے ۔واضح ہو کہ...

سیّد احمد شمیم ؔ کی خاکہ نگاری : ڈاکٹر اختر آزاد

ڈاکٹر اختر آزاد مکان نمبر۔۳۸ ، روڈ نمبر ۔ ۱ آزاد نگر ، جمشید پور۔ ۸۳۲۱۱۰ موبائل:۔ 09572683122 dr.akhtarazad@gmail.comبرادرم مہتاب عالم پرویز!آدابافسانہ ’’ ریئلیٹی شو ‘‘ کو اپنے ادبی سائٹ ’’عالمی پرواز میں شامل کرنے کے لئے بہُت بہُت شکریہ۔آپ اور آپ کی ٹیم عالمی پرواز کے لئے جس طرح محنت کر رہی ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔ ابھی تو ابتداء ہے ۔ لیکن ابتدائی دور میں جس طرح سے لوگوں نے اس سائٹ کو ترجیح دینا شروع کیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ مستقبل میں عالمی پرواز کی پہچان ایک مستند ادبی سائٹ کی ہو گی ۔ بس خیال اس بات کا رکھنا ہے کہ جو چیز بھی آپ شامل کریں اس کے معیار کا خاص خیال رکھیں گے ۔ادھر میں ناول’’ لیمی نیٹیڈ گرل ‘‘ کو مکمّل کرنے میں مصروف تھا ۔ جس کی وجہ سے افسانے کے لئے وقت نکالنا مشکل ہو گیا ۔ لیکن اس دوران ایک مضمون’’ سیّد احمد شمیم کی خاکہ نگاری ‘‘ پرمیں نے لکھا ہے۔ سیّد احمد شمیم کی ذات اور شاعری آپ سے پوشیدہ نہیں ہے ۔بنیادی طور پر شاعر ہیں اور کچھ حد تک نقاد بھی ۔ پروفیسرکے عہدے سے ریٹائرد ہوچکے ہیں ۔دو...

سہ ماہی رسالہ ’’موجِ ادب‘‘کی اجراء شدہ کاپی ۵۰۰۰ روپے میں نیلام ہوئی۔

 سہ ماہی رسالہ ’’موجِ ادب‘‘کی اجراء شدہ کاپی ۵۰۰۰ روپے میں نیلام ہوئی۔  رانچی ۲؍ جون ۳۱۰۲ رانچی واقع ہوٹل یوراج پیلس میں سہ ماہی رسالہ موج ادب کی رسم اجراء کے موقع پر ایک پرانی روایت کو زندہ کیا گیا ۔مہمانِ خصوصی ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری،صدر شعبہء اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ(یو۔پی) کے ہاتھوں کئے گئے اجراء کی کاپی پر صدر جلسہ ڈاکٹر صدیق مجیبی،مہمانِ خصوصی ،مہمانانِ اعزازی جناب سہیل انور،جناب خورشید حیات ،جناب اے ۔علّام ،جناب ایم۔قیصر علی ،جناب شان بھارتی کے ساتھ ساتھ رسالے کے مدیر اعلی جناب عالمگیر ساحل اور مدیر اعزازی ڈاکٹر ایم۔اے۔حق کے دستخط کئے گئے۔اس مخصوص رسالے کی نیلامی کا اہتمام کیا گیا۔نیلامی کی بولی چھابڑا555کے پروپرائٹر جناب حاجی محمدشفیق نے۱۰۰ روپے سے شروع کی جوڈاکٹر مسعودجامی کے اعلان پر ۵۰۰۰ روپے پر آکر ختم ہوئی۔ڈاکٹر مسعود جامی ملک کے معروف افسانہ نگار ،ناول نگار،فلم اداکار،ڈرامہ آرٹسٹ اور اُردو سے جنون کی حد تک لگاؤ رکھنے والے ایک باہمّت شخص ہیں۔ڈاکٹر جامی افسانوی مجموعے ’’کافور اور حنا‘ اور’ہم تو ڈوبے ہیں صنم‘ ناول ’’میرے دیش کی مٹّی‘‘ ڈرامہ کی مشہور کتاب ’’اسٹیج کی تکنیک اور اُردو ڈرامے ‘‘ اور ’ ریسرچ میں معاون کتاب’رموزِ تحقیق ‘‘کے مصنّف ہیں۔ نیلامی کے بعد مدیراعلیٰ عالمگیر ساحل اور...

سرسید کی سوچ سائنسی تھی اورجدید تعلیم عام کرنا ان کا مشن تھا:پروفیسر این کے تنیجا

سرسید کی سوچ سائنسی تھی اورجدید تعلیم عام کرنا ان کا مشن تھا:پروفیسر این کے تنیجاشعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اورسرسید ایجوکیشنل سوسائٹی کے باہمی اشتراک سے منعقدہ ہفت روزہ سر سید تقریبات اختتام پذیرمیرٹھ19 / اکتوبر2015ء(پریس ریلیز) سرسید کی سوچ سائنسی تھی اورجدید تعلیم عام کرنا ان کا مشن تھا جو آج بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جو سرسید کے وقت میں رکھتاتھا۔ سرسید کی اسی سوچ کو عام کرنا ان کو سچا خراج عقیدت ہوگا۔ سر سید کا مقصد ہر شہر،گاؤں اور محلے میں تعلیم گاہ کھولنا اور تعلیم کو عام کرنا تھا۔ ابھی ہم لوگ بہت پیچھے ہیں۔ ہم سب کو مل کر سر سید کے مشن کو عام کرنا ہوگا۔یہ الفاظ تھے شیخ الجامعہ پروفیسر این کے تنیجا کے جو شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اورسرسید ایجوکیشنل سوسائٹی کے باہمی اشتراک سے پریم چند سیمینار ہال میں منعقدہ جشن سر سید تقریبات سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پرسیانہ، بلند شہر سے تشریف لائے محترم بدر الاسلام(ممبر حج کمیٹی،اتر پردیش) نے کہا کہ سر سید ایسے زمانے میں سامنے آئے جب قوم بے سہارا اور تعلیم کے مقصد سے بے بہرہ تھی۔انہوں نے تعلیم اور بالخصوص جدید تعلیم کی وکالت...

سرسید احمد خاں جدید ہندوستان کے بنیاد گذار تھے: پروفیسرقاضی زین الساجدین

سر سید احمد خاں جدید ہندوستان کے بنیاد گذار تھے:پروفیسر قاضی زین الساجدین ہفت روزہ جشن سر سید تقریبات کا حمیدیہ گرلز ہائی اسکول،میرٹھ میں شاندارآغاز (پریس ریلیز) میرٹھ12/ اکتو بر2015ء               شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی اور سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی، میرٹھ کے باہمی اشتراک سے منعقد ہو رہے ہفت روزہ جشن سر سید تقریبات کاآغاز حمیدیہ گرلز ہائی اسکول،خیر نگر، میرٹھ میں ہوا جس کی صدارت کے فرائض ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ(صدر شعبہ اردو) نے انجام دیے۔مہمان خصوصی کے بطورپروفیسر قاضی زین الساجدین (چیئرمین مدرسہ ایجو کیشن بورڈ، اتر پردیش،لکھنؤ)اور مہمان ذی وقار کے بطور محترم پربھات رائے(سابق آئی اے ایس) شریک ہوئے۔جب کہ مقررین کے طور پر ڈاکٹرمہر عالم خاں،محترم ذیشان احمد خان،محترمہ نایاب زہرا زیدی محترمہ قمر النساء زیدی اور عرفانی بیگم نے شرکت کی۔نظا مت اور کوئز کی ذمہ داریاں محترم آفاق احمد خاں نے بحسن و خوبی انجام دیں۔                   پرو گرام کا آغاز تلا وت کلام پاک سے ہوا۔ بعد ازاں مقرین نے سر سید احمد خاں کی حیات و خدمات پر روشنی ڈا لی۔اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے...

سر سید نے اپنے نظریے کی اشاعت کے لیے با ضا بطہ عملی اقدام بھی اٹھائے:محترم طالب زیدی

سر سید نے اپنے نظریے کی اشاعت کے لیے با ضا بطہ عملی اقدام بھی اٹھائے:محترم طالب زیدیمیرٹھ سمیت مغربی اتر پردیش کے اسکولوں میں ”جشنِ سرسید تقریبات“ انعقاد (پریس ریلیز)میرٹھ16/اکتوبر 2019ء سالہا ئے گذشتہ کی طرح امسال بھی شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور سر سید ایجوکیشنل سوسائٹی، میرٹھ کے اشتراک سے محسن قوم عظیم تعلیمی رہنما سرسید احمد خاں کی یوم پیدائش کے موقع پر ”جشنِ سرسید تقریبات“ کے دوسرے دن میرٹھ میں حسنیٰ بیگم اردو میڈیم موڈل پبلک اسکول،(شاہ پیر گیٹ، میرٹھ)،نیو ہورائزن پبلک اسکول، زیدی نگر سوسائٹی،میرٹھ،اسماعیل نیشنل گرلز انٹر کالج، کوتوالی میرٹھ میں نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ منائی گئی۔ سر سید کا شمار عالمی سطح کے ایسے پیغامبروں میں ہو تا ہے جنہوں نے نہ صرف اپنا نظریہ پیش کیا بلکہ نظریے کی اشاعت کے لیے با ضا بطہ عملی اقدام بھی اٹھائے۔ مہمانِ خصوصی کے بطورشرکت فرما رہے۔ نیو ہورائزن پبلک اسکول میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے معروف شاعر طالب زیدی نے کہا۔مہمانِ خصوصی نے بطور محترم بدرالحسن صاحب نے کہا کہ سر سید احمد خاں نے تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردی ہماری زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو ان کے احسانات سے...

سر سید کو سچا خراج ان کے تعلیمی اور عملی مشن کو گھر گھر تک پہنچانا ہے : پروفیسر منظور احمد

 سر سید کو سچا خراج ان کے تعلیمی اور عملی مشن کو گھر  گھر تک پہنچانا ہے : پروفیسر منظور احمد شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی اور سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی،  میرٹھ کے باہمی اشتراک سے ’’یوم سر سید‘‘ کا انعقاد  (پریس ریلیز)  میرٹھ19؍ اکتو بر2013ء                 ’’ سر سید احمد خاں ایسے وقت میں سامنے آئے جب ہندوستانی معاشرہ تنگ نظری ، بے جا تعصب اور بے عملی جیسی برائیوں میں مبتلا تھا، انہوں نے عمل کا درس دیا ۔گوشہ نشینوں کو خلوت سے نکالا،ماضی پرستوں اور اجداد کے کارناموں پر فخر کر نے والوں کو و قت اور عمل کی اہمیت سکھائی ،قوم آج ایک بار پھر انہی سماجی برائیوں کی طرف بڑھ رہی ہے ۔لہٰذا ایسے میں قوم کی سب سے بڑی خدمت اور سر سید کو سچا خراج عقیدت یہی ہوگا کہ ہم ان کے تعلیمی اور عملی مشن کو گھر گھر تک پہنچائیں۔‘‘ ان خیالات کااظہار پروفیسر منظور احمد(شیخ الجامعہ، سبھارتی یونیورسٹی، میرٹھ) نے شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی اور سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی، میرٹھ کے باہمی اشتراک سے منعقد ہ ہفت روزہ جشن سر سید تقریبات کے اختتام...

سال نو میں سالِ گذشتہ کا محاسبہ : ڈاکٹر اسلم جمشیدپوریؔ

                                                                    سال ِنو میں سالِ گذشتہ کا محاسبہ   ڈاکٹر اسلم جمشیدپوریؔ                  وقت، ایک بہتا ہوا دریا ہے۔ایسا دریا جو ہمیشہ بہتا رہتا ہو۔ ٹک ٹک ٹک۔۔۔گردشِ لیل ونہار کا اشاریہ ہے۔ اقبال نے کیا خوب عکاسی کی ہے۔                  سلسلہ ء روز وشب،   نقش گرِ حادثات                  سلسلہ ء روز وشب، اصلِ حیات وممات                 یہ وقت کاسلسلہ ہے جو کبھی رکتا نہیں ہے،خواہ زلزلہ آئے،یا آسمانی بجلی گرے یا پانی اور ہواکتنا ہی طوفان اُٹھائے۔سکنڈ سے منٹ، منٹ سے گھنٹہ اور پھر دن، مہینے اور سال۔۔یہ سفر یو ں ہی جاری رہتا ہے ۔ جنوری میں سال شروع ہوتا ہے۔ہم نئے سال کا جشن مناتے ہیں۔  پھرپورے سال ہم موج مستی میں غرق، اپنی من مرضی کرتے،’ وقت‘ کو اپنے قدموں تلے روندے رہتے ہیں لیکن دسمبر کے آتے ہی منظر بدل جاتا ہے۔ وقت ہمیں روندتا ہوا بے رحمی سے گذرتا، خدا حا فظ کہتا، منہ چڑا تا،چلا جا تاہے۔ ہم ہوش میں آکر وقت کے پیچھے بھاگنے اور اسے پکڑ نے کی سعی...

زخمی احساس کا شاعر مشتاق احزن : ڈاکٹر معصوم رضا امرتھوی

  زخمی احساس کا شاعر:مشتاق احزن صبح ہونے تک کے آئینے میں ڈاکٹر معصوم رضا امرتھوی سابق صدر شعبہ اردو، مہیلا کالج،جموئی،بہار 09934664444, 093408186380                              مشتاق کا زخمی احساس مسلسل زخموں کی چوٹ کھا کر سکون محسوس کرتا ہوا زخمی احساس سے پیدا شدہ حالات کے تحت حزن وملال کی تاریکی میں ڈوب کر نئے حوصلے کے ساتھ ”صبح ہونے تک“ کے انتظار میں اپنا ذہنی سفر جاری رکھتاہے۔ موصوف اپنے اس ذہنی کرب کے اظہار کے لئے جو شعری Patternاختیار کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے جو معنویت اور اثر انگیزی میں جواب نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے علامہ ناوک حمزہ پوری جیسے بزرگ استاذ شاعر نے ان کے شعری فکر کو بے داغ اورتہذیب ِغزل کی شان کہا ہے   ؎ فنکار غزل حضرت مشتاق احزن پاکیزہ ہے ہر فن تو بے داغ ہے فن تہذیب غرل کے یہ نقوش ذی شان تاریخ سخن کے یہ طبرناک بیان                 احزن کے شعری محاسن سے پھر پور اشعار نے مجھے بے حد متاثر کیا   ؎ نہ پوچھ ساتھ گزرا ہوا وہ اک لمحہ جو یاد آئے تو کتنا سکوں دیتا ہے                 مجموعہ کلام ”صبح ہونے تک“ علامتی اہمیت سے لبریز ہے۔ جناب اسلم بدر نے ٹھیک ہی کہا کہ مشتاق احزن کی...

ریت پر ….ایک ناقص رائے : محمد زکریا

  ریت پر ....ایک ناقص رائے   محمد زکریا   پرنسپل،کریم سٹی کالج  جمشید پور                           ”ریت پر کھینچی ہوئی لکیر“ کے مسودے کوپہلے تو الٹ پلٹ کر دیکھا،کچھ کہانیوں کو سنجیدگی سے پڑھا اور پھر ایک انجانے عذاب میں پھنسا۔پرویز نے بڑی محبت سے کہانیوں پر کچھ لکھنے کا اصرار کیا۔پہلے تو یقین ہی نہیں ہوا کہ مجھ سے کیا مطالبہ کیا جارہا ہے،اوریہ افواہ کس نے پھیلادی کہ کہانیوں پر میں بھی رائے دے سکتا ہوں۔میں تو ٹھہرا معمولی قاری اور ادبی محفلوں کا سنجیدہ سامع ....!چلو افواہ کا ایک فائدہ تو ضرور ہوا کہ بیٹھے بٹھائے ہم بھی پڑھے لکھے لوگوں کی صَف میں شامل ہوگئے....!اور جب معلوم ہوا کہ پرو فیسر احمد بدر اور ڈاکٹر اختر آزاد نے اس کتاب ِ مستطاب پر امام ضامن باندھ کر دَم کردیا ہے تو میری حیثیت تو اس مولوی کی ٹھہری جو بغیر کچھ پڑھے فاتحہ کی مٹھائی پر پھونک مارتا ہے اور اپنی عافیت خراب کرتا ہے...!                           کہانی پڑھنا،سمجھنااور پھر ہضم کرنا-ان تینوں مراحل سے گزرنے کے بعد جو رائے وجود میں آئے گی۔اسے گرانقدر رائے...

روزے کی فرضیت کا بنیادی مقصد لوگوں کی زندگی میں تقویٰ پیدا کرنا ہے: مولانا جبریئل

روزے کی فرضیت کا بنیادی مقصد لوگوں کی زندگی میں تقویٰ پیدا کرنا ہے: مولانا جبریئل شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کیمپس میں روزہ افطار کا انعقاد (پریس ریلیز) میرٹھ یکم جون2018ء            شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی،میرٹھ میں ایک شاندار افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا جس میں یونیورسٹی کے پروفیسر،افسران، ملازمین اور مسلم طلباو طالبات کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں علماء،دانشوران،سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوریؔ،ڈپٹی لائبریرین ڈا کٹر جمال احمد صدیقی،ڈاکٹر شاداب علیم، ڈاکٹر آصف علی،ارشد حسین،محمد عثمان،نجم پاشا، عبد السلام، اور اسٹوڈینٹ لیڈرفرحین نے سبھی مہمانان کا استقبال کیا۔             معروف خطیب مولا نا جبرئیل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کا مہینہ بہت ہی با برکت اور عظمت وا لا ہے اور اللہ تعالیٰ اس ماہ میں ہر عمل خیر کا درجہ کئی گنا بڑھادیتے ہیں۔روزے کی فرضیت کا بنیادی مقصد لوگوں کی زندگی میں تقویٰ پیدا کرنا ہے۔روزہ خواہشات کو کنٹرول کرنے میں بڑا معاون ہو تا ہے اور جب خواہشات پر قابو پالیا جاتا ہے تو انسان تقویٰ کی جانب گامزن ہوجا تا ہے اور تقویٰ سے ہی دلوں میں اللہ...

روزے کی فرضیت کا بنیادی مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے: مولا نا جبرئیل

روزے کی فرضیت کا بنیادی مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے: مولا نا جبرئیل شعبہ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کیمپس میں روزہ افطار کا انعقاد،وائس چانسلر کی شر کت (پریس ریلیز)میرٹھ ۲۲مئی شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی،میرٹھ میں ایک شاندار افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا جس میں یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ پروفیسر این کے تنیجا، دیگر پروفیسر،افسران، ملازمین اور طلباو طالبات کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں علماء،دانشوران،سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ صدر شعبہ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری،ڈپٹی لائبریرین ڈا کٹر جمال احمد صدیقی، ارشد سلطان، ڈاکٹر نازیہ ترنم،ڈاکٹر شاداب علیم، ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹر ارشاد سیانوی، نے سبھی مہمانان کا استقبال کیا۔ روزہ کسا ئی کی اس تقریب میں معروف خطیب مولا نا جبرئیل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کا مہینہ بہت ہی با برکت اور عظمت وا لا ہے اور اللہ تعالیٰ اس ماہ میں ہر عمل خیر کا درجہ کئی گنا بڑھادیتے ہیں۔روزے کی فرضیت کا بنیادی مقصد لوگوں کی زندگی میں تقویٰ پیدا کرنا ہے۔روزہ خواہشات کو کنٹرول کرنے میں بڑا معاون ہو تا ہے اور جب خواہشات پر قابو پالیا جاتا ہے تو انسان تقویٰ کی جانب گامزن ہوجا تا ہے اور تقویٰ سے ہی...

روزہ ہمیں انسانیت،قربانی اور غربا ومساکین کے ساتھ ہمدردی کا درس دیتا ہے:قاری شفیق الرحمن قاسمی

روزہ ہمیں انسانیت،قربانی اور غربا ومساکین کے ساتھ ہمدردی کا درس دیتا ہے:قاری شفیق الرحمن قاسمیچودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں روزہ افطار کا انعقاد،شیخ الجامعہ پروفیسر این کے تنیجا کی شرکت (پریس ریلیز) میرٹھ 17/ جون2017ء         شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی،میرٹھ میں ایک شاندار افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا جس میں یونیورسٹی افسران، ملازمین اور مسلم طلباو طالبات کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں علماء،دانشوران،افسران،سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ صدر شعبہ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ،ڈپٹی لائبریرین ڈا کٹر جمال احمد صدیقی،ڈاکٹر نازیہ ترنم،ڈاکٹر شاداب علیم، ڈاکٹر آصف علی،محترم ارشد حسین اور سلمان چوہان نے سبھی مہمانان کا استقبال کیا۔ معروف خطیب مولا نا جبرئیل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روزے کے بے شمار فائدے ہیں۔جسمانی بھی اور رو حانی بھی۔ اس کے ذریعے جہاں روح میں بالید گی پیدا ہوتی ہے وہاں جسمانی طور پر بھی بیماریاں کم ہوتی ہیں۔ڈاکٹروں کے قول کے مطابق رو زے سے نظام ہاضمہ درست رہتا ہے۔یہ جسم کے لیے اوور ہالنگ کا کام کرتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ہفتے میں دو رو زے رکھنے والا تمام بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ اس سے رزق میں اور حسن...

روزہ خواہشات کو کنٹرول کرنے میں معاون ہو تا ہے:پروفیسر قاضی زین الساجدین

 روزہ خواہشات کو کنٹرول کرنے میں معاون ہو تا ہے:پروفیسر قاضی  زین الساجدین شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں روزہ افطار کا انعقاد (پریس ریلیز) میرٹھ29؍ جو لائی2013ء                   شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی ،میرٹھ میں ایک شاندار افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا جس میں یونیورسٹی افسران،ملازمین اور مسلم طلباو طالبات کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں علماء،دانشوران،افسران،سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے سبھی مہمانان کا استقبال کیا۔اس مو قع پر معروف عالم دین اور شہر قاضی میرٹھ پروفیسر قاضی زین الساجدین نے روزے کی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ رمضان کا مہینہ بہت ہی با برکت اور عظمت وا لا ہے اور اللہ تعالیٰ اس ماہ میں ہر عمل خیر کا درجہ کئی گنا بڑھادیتے ہیں۔روزے کی فرضیت کا بنیادی مقصد لوگوں کی زندگی میں تقویٰ پیدا کرنا ہے۔روزہ خواہشات کو کنٹرول کرنے میں بڑا معاون ہو تا ہے اور جب خواہشات پر قابو پالیا جاتا ہے تو انسان تقویٰ کی جانب گامزن ہوجا تا ہے اور تقویٰ سے ہی دلوں میں اللہ کا خوف پیدا ہو تا ہے۔اسی لیے روزہ کے ذریعے ہم عبادات ، معاملات...