Skip to main content

Aalamiparwaz

افسانہ ’’ آقا ‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ : مہتاب عالم پرویزؔ

  افسانہ ’’ آقا ‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ   مہتاب عالم پرویزؔ                جہانگیر محمد کا شمار عصر حاضر کے ممتاز ادیبوں میں ہوتا ہے ۔ جمشید پور میں آپ کو بہت ہی عزّت و احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ افسانے کے بہترین اُستاد ہیں اور اُن کے تمام شاگردوں کے اندر وہی جلالت شان، فن کمالات بدرجہ اُتم موجود ہے اور یہ آپ کی درسی خدمت کا ثمرہ ہے ۔تیس بتّیس سالوں کے بعد غیر دانستہ طور پرآپ کا افسانہ ’’ حقائق ‘‘ میں پڑھ کر بے حد خوشی ہوئی ویسے آپ کے افسانے کی ابتدا ۱۹۷۷ء تا ۱۹۷۸ء میں ہو چکی تھی اور آپ کی پہلی کہانی ’’ ایک سفید گلاب ‘‘ جواز میں شائع ہوئی تھی پھر کئی کہانیاں جیسے ’’ لا کا سفر ‘‘ ’’ سُرخ گلاب ‘‘ اور آج کل میں ’’ ممی ‘‘ جیسے مقبول افسانے۱۹۸۳ء میں شائع ہوئے ۔ اور ان دنوں بہت ساری کہانیاں، غزلیں، نظمیں اور آزاد نظمیں میں نے سُنی ہیں جو غیر مطبوعہ ہیں۔             شہر آہن کے ہی بہت سارے ادیبوں کی نشود نما آپ کے ہی ہاتھوں ہوئی جن میں...

اسماعیل میرٹھی یادگاری خطبہ اور مہتاب عالم پرویز ؔ کی کتاب ’’کارواں‘‘ اور نعیم انیس کی کتاب ’’میزان افکار‘‘ کا اجراء عمل میں آیا

 ادب اطفال عمیق مطالعے،وسیع تجربے،گہرے مشاہدے اور زبان وبیان پر دسترس کا متقاضی ہے۔پروفیسر ارتضیٰ کریم اسماعیل میرٹھی یادگاری خطبہ اور مہتاب عالم پرویز ؔ کی کتاب ’’کارواں‘‘ اور نعیم انیس کی کتاب ’’میزان افکار‘‘ کا اجراء عمل میں آیا  میرٹھ18؍اپریل2013ء(پریس ریلیز)   شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ اور قومی کونسل برا ئے فروغ اردو زبان،نئی دہلی کے اشتراک سے،شعبہ کے پریم چند سیمینار ہال میں مولانا اسماعیل میرٹھی یادگا ری خطبہ بعنوان’’بچوں کا ادب: تاریخ،ارتقا اور امکانات‘‘ منعقد ہوا۔پروگرام کی صدارت صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے کی۔خصوصی مقرر کی حیثیت سے پرو فیسر ارتضیٰ کریم(شعبۂ اردو،دہلی یونیورسٹی، دہلی)،مہمان خصوصی کی حیثیت سے راجکمار سچان ہوری (سابق،ایم سی ڈی کمشنر،میرٹھ) اور مہمانان ذی وقار کی حیثیت سے ڈاکٹر نعیم انیس (کلکتہ)مہتاب عالم پرویزؔ (جمشید پور) ،ڈاکٹر خالد حسین خاں(صدر شعبۂ اردو،میرٹھ کالج ،میرٹھ )اور معروف ادیب طالب زیدی شریک ہوئے۔جب کہ نظامت کے فرائض شعبہ کے استاد ڈاکٹر آصف علی نے انجام دیے۔تقریب کا آ غاز حافظ محمد خالد نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ہدیہ نعت فرح نازاور اسماعیل میرٹھی کے مختلف نصیحت آمیز اشعارچاندنی عباسی نے ،استقبالیہ کلمات محمد آ فاق خاں نے اور ڈاکٹر شاداب علیم کے ذریعے لکھا گیا مولانا اسماعیل میرٹھی کا مختصر تعارف عامر...

اسلم جمشیدپوری کے افسانوں میں دیہات : فرقان سنبھلی

  اسلم جمشیدپوری کے افسانوں میں دیہات  فرقان سنبھلی                 اسلم جمشیدپوری کاشمار دورحاضرکے کامیاب افسانہ نگاروں میں ہوتاہے۔ انھوں نے جن موضوعات پر افسانے لکھے ہیں وہ نہ صرف شہربلکہ گاؤں کے مسائل کوبہ خوبی متعارف کراتے ہیں۔ اسلم جمشیدپوری نے فنی لوازمات کا لحاظ رکھتے ہوئے افسانے لکھے ہیں جس کی وجہ سے افسانے نہ صرف دلچسپ ہیں بلکہ سماجی، عصری مسائل کوخوبصورتی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ وہ جس نوع کے افسانہ نگارہیں اس میں افسانوں کا Categorization توممکن نہیں پھربھی الجھن کودورکرنے کے لیے موٹے طورپردوزمروں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ ایک وہ افسانے جوشہرکی زندگی اوراس کے مسائل پرمبنی ہیں اوردوسرے وہ جوپریم چندکی روایت کاحصہ ہیں ساتھ ہی دیہی مسائل اوردیہی زندگی کے عکاس ہیں۔                اسلم جمشیدپوری نے دیہی زندگی کے تعلق سے جوافسانے تخلیق کیے ہیں ان میں سے ”لینڈرا“،”عیدگاہ سے واپسی“،”شبراتی“،”بدلتاہے رنگ“،”دن کے اندھیرے رات کے اجالے“،”اندھیراابھی زندہ ہے“،”نہ بجھنے والا سورج“وغیرہ اہم افسانے ہیں۔ جنھوں نے نہ صرف مقبولیت حاصل کی ہے بلکہ ادب میں بھی گراں قدراضافہ کیاہے۔ ان تمام افسانوں میں گاؤں کی زندگی کے مختلف شیڈپیش کیے گئے ہیں جس طرح کی حقیقت نگاری ان افسانوں...

اسلم جمشیدپوریؔ کی کہانیاں بیانیہ کی عمدہ مثال ہیں۔ پروفیسر اعجاز علی ارشد

 اسلم جمشیدپوری ؔکی کہانیاں بیانیہ کی عمدہ مثال ہیں۔ پروفیسر اعجاز علی ارشد                دنیائے ادب“جمشیدپور کے زیر اہتمام معروف افسانہ نگار اسلم جمشیدپوریؔ کے تازہ افسانوی مجموعے ”عیدگاہ سے واپسی“کی رسم اجرا کاانعقاد جمشید پور(4/اکتوبر) : ”عیدگاہ سے واپسی“ نئی صدی میں منظر عام پرآنے والے افسانوی مجموعوں میں انفرادیت کا حامل ہے۔ مجموعہ کے زیادہ تر افسانے سماج کے تضاد کو عمدگی سے پیش کرتے ہیں“یہ جملے معروف فکشن ناقد اور مظہر الحق عربی فارسی یونیور سِٹی، پٹنہ کے وائس چانسلر پروفیسر اعجاز علی ارشد کے تھے۔ وہ ڈاکٹر شری کرشن سنہا سنستھان، بسٹوپور جمشیدپور میں ”دنیائے ادب“ کے زیر اہتمام معروف افسانہ نگار اسلم جمشیدپوریؔ کے تازہ افسانوی مجموعے ”عیدگاہ سے واپسی“کی رسم اجرا کے موقع پر بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ پروفیسر اعجاز علی ارشد نے مزید کہاکہ اسلم جمشیدپوریؔ کی کہانیاں بیانیہ کی عمدہ مثال ہیں۔مجموعہ کی ٹائٹل کہانی عیدگاہ سے واپسی پریم چند کی کہانی کو آج کے پس منظر میں بیان کرتی ہے۔ اسی موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف افسانہ نگار ابرار مجیب نے کہا کہ اسلم جمشیدپوریؔ کے افسانے براہ راست بیانیہ یا راست بیانیہ کا بھرپور اظہار ہیں۔...

اسلم جمشید پوری کا افسانوی اسلوب متاثر کرتاہے:پروفیسر شاداب رحمانی

  اسلم جمشید پوری کا افسانوی اسلوب متاثر کرتاہے:پروفیسر شاداب رحمانی فکشن گروپ کراچی کے زیراہتمام”ایک شام اسلم جمشید پوری کے نام“کا انعقادکراچی:(۲۲/نومبر)پروفیسر اسلم جمشیدپوری کا اافسانوی اسلوب متاثر کرتا ہے۔انہوں نے کولاژٹکنک کا کامیابی سے استعمال کیاہے،جس طرح کیمسٹری میں جراثیم نیوکلیس سے باہر ہوجاتاہے وہ وجود کردیتا ہے،ٹھیک اسی طرح کولاژٹکنک میں بھی ہر واقعے کا مرکزی خیال سے اندرونی ربط کہانی کو پاور فل بناتاہے۔آدھی ادھوری کہانی خود کلامی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے اور قاری کوبے حد متاثر کرتی ہے۔یہ الفاظ شعبہ اردو کراچی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور صدرمحترم ڈاکٹر شاداب رحمانی کے تھے۔وہ میرٹھ سے تشریف لائے ہندوستان کے معروف افسانہ نگار اور فکشن ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری کے اعزاز میں فکشن گروپ کراچی کے زیر اہتمام ایک شام اسلم جمشیدپوری کے نام سے بہ طور صدر خطاب کررہے تھے۔معروف شاعر و ناقد صبااکرام کے دولت کدے،گرے گارڈن گلشن جوہر، کراچی پر منعقدہ پروگرام میں پروفیسر اسلم جمشید پوری کا تعارف کراتے ہوئے ناظم جلسہ صبا اکرام نے کہاکہ اسلم جمشید پوری اس وقت نہ صرف ہندوستان بلکہ اردو دنیاکے انتہائی متحرک،فعال ادبی شخصیت ہیں،وہ نئی نسل کے نمائندہ افسانہ نگار اور فکشن ناقد ہیں۔ان کے افسانے اور تنقید پاکستان میں پابندی سے شائع ہوتی...

اساطیری جمالیات کا مصور …..راجہ روی ورما : حقانی القاسمی

اساطیری جمالیات کا مصور .....راجہ روی ورما حقانی القاسمی                غالب نے کہاتھا:سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوریتقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہئےشاید راجہ روی ورما نے بھی اپنی محبوبہ کے لیے ہی مصوری سیکھی ہوگی مگر وہ خود ہی مصوری کی وجہ سے ’محبوب‘ بن گئے اور اسی مصوری نے انہیں ہندوستانی آرٹ کی تاریخ میں زندہ جاوید کردیاہے۔ہندوستانی آرٹ کو نئی جمالیاتی جہت، نیازاویہ اور اسلوب عطاکرنے والی شخصیت اور جدید ہندوستانی جمالیات میں انقلاب بپا کرنے والے راجہ روی ورماکوئل تھمپورن (1848-1906) کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے ہندوستان کے مذہبی رزمیے رامائن اورمہابھارت کے اساطیری کرداروں کو کینوس پراتار کران دونوں رزمیوں کے ذریعہ ہندوستان کے Ethosکو عوامی شعور سے متعارف کرایا اوران میں ارضیت کا عنصر شامل کرکے نئی طرفیں کھول دیں۔ راجہ روی ورمانے اپنی پینٹنگس میں قدیم ہندوستانی آرٹ اور یورپی واقعیت پسندی (realism) کے امتزاج سے کمال ہنر کا مظاہرہ کیا اور قدیم وجدید آرٹ کے مابین ایک مضبوط رشتے کی بنیاد ڈال دی۔ اسی لیے انہیں روایت پسندوں کے درمیان ماڈرن اور جدت پسندوں کے درمیان معقولیت پسند (rationalist) سمجھاجاتاتھا۔ نئی تکنیک اور میڈیم کی وجہ سے ان کی پینٹنگس کو شہرت و مقبولیت نصیب ہوئی...

ارشاد سیانوی کی تنقیدی بصیرت کا ثبوت ہے،نئی صدی کا اردو افسانہ : ڈا کٹر وضا حت حسین رضوی

ارشاد سیانوی کی تنقیدی بصیرت کا ثبوت ہے،نئی صدی کا اردو افسانہ : ڈا کٹر وضا حت حسین رضویتنقید کے مروجہ اصولوں سے انحراف،ارشاد کی شناخت:خورشید حیاتشعبہ اردو،سی سی ایس یومیں ڈاکٹر ارشاد سیانوی کی کتا ب ”نئی صدی کا اردو افسانہ“کی رسم اجراء (پریس ریلیز)میرٹھ04/مئی 2019ء ”یہ کتاب تحقیق کے طالب علموں کے لئے بے حد مفید صابت ہوگی۔ارشاد سیانوی نے اپنی تنقیدی بصیرت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ 21وی صدی میں 21 کہانیوں کے حوالے سے کئی بدلاؤ پیش کئے گئے ہیں۔ ابھی کئی بڑے نام چھوٹ گئے جن کو شامل کئے جانے کی ضرورت ہے۔ “یہ الفاظ ڈا کٹر وضا حت حسین رضوی، (ڈپٹی ڈائریکٹر، انفارمیشن،میرٹھ،اور سابق مدیر ماہنامہ نیا دور،لکھنؤ) کے تھے جو شعبہ اردو میں منعقدہ پروگرام ڈاکٹر ارشاد سیانوی کی دوسری تنقیدی کاوش”نئی صدی کا اردو افسانہ“ کی رسمِ اجراء کے مو قع پر ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شعبہ اردو اپنے طالب علموں کو جس طرح تراش خراش کر منظر عام پر لا رہا ہے،وہ دیگر اداروں کے لئے مثال ہے۔ اس موقع پر معروف افسانہ نگار محترم خورشید حیات نے کہا ”فکر نو کی تجلیوں کو نئی تنقید کے کوہِ طور پر دیکھنا ہو تو ڈا کٹر ارشاد سیانوی...

اردونثر پر سرسیدکے احسانات : ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ

ڈاکٹر ریحانہ سلطانہموبائل:08860438994اردونثر پر سرسیدکے احساناتجب کوئی شخص کسی بات کو قطعیت ووضاحت سے پیش کرنا چاہتا ہے تو وہ عموماً نثر کا سہارا لیتا ہے۔ استدلالی ومنطقی انداز سے اپنی بات کو ثابت کیا جائے تب بھی نثر کا سہارا لینا ضروری ہوجاتا ہے ۔ اس ترقی یافتہ دور میں مختلف نوعیت کے مسائل کی گھتیوں کو سلجھانے میں نثر کی افادیت مسلم ہے۔1850 ؁ء میں مرزا غالب نے سلیس اور عام فہم نثر میں خطوط نگاری کے ذریعہ جدید نثر کی داغ بیل ڈالی جیسے سرسید اور ان کے رفقاء نے غدر کے بعد فروغ دیا۔ اور ایک اصلاحی تحریک کی شروعات کی۔ اس کا ایک بہت بڑا مقصد یہی تھا کہ اردو میں اصلیت اور واقفیت کی فضا پیدا کی جائے۔ نثر میں تنقید، سوانح نگاری، تاریخ نویسی، صحافت نگاری، مضمون نگاری، ناول نگاری وغیرہ کو رائج کر کے سرسید اور ان کے رفقاء کار نے جدید نثر کی مضبوط اور پائیدار عمارت کی تعمیر میں اہم حصہ لیا ہے۔1832 ؁ء میں فارسی کے بجائے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیاگیا۔ لہٰذا یہ ضروری ہوگیا ہے کہ حکومت وقانون کی وہ تمام اصطلاحیں جو پہلے فارسی اور انگریزی زبان میں تھیں۔ اب اردو میں منتقل کی...

اردو کے فروغ کے لیے معاصر چیلنجز کو سامنے رکھنا ضروری : پروفیسرخواجہ اکرام الدین

 اردو کے فروغ کے لیے معاصر چیلنجز کو سامنے رکھنا  ضروری:پروفیسرخواجہ اکرام الدین  شعبۂ اردو ،میں قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر کا پریس سے خطاب  (پریس ریلیز) میرٹھ12؍ دسمبر                          اس میں شک نہیں کہ اردو زبان مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ کمپیوٹر، انٹر نیٹ اور مو بائل وغیرہ میں بھی اردو کے نئے نئے پروگرامس لانچ کیے جا رہے ہیں۔اس سلسلے میں قومی کونسل برا ئے فروغ زبان اردو نئی دہلی نے اہم خدمات انجام دی ہیں۔ انہی سب باتوں کے تعلق سے شعبۂ اردو میں ایک کانفرنس منعقد ہو ئی جس میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹرپروفیسر خواجہ اکرام الدین نے تفصیل سے رو شنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اردو کو اگر فروغ دینا ہے تو معاصر چیلنجز کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ موجودہ عہد میں تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ تعلیمی وسائل میں بھی زبردست تبدیلی آ ئی ہے۔ موجودہ عہد میں زبان کے سیکھنے اور سکھانے کے روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ نئے وسائل میں بڑی تیزی سے جگہ بنائی ہے۔جیسے آن لائن لرننگ۔ ڈیجیٹل اور کمپیوٹر ٹیکنا لوجی کی مدد سے تعلیم کو عام کرنے کی عالمی کوششیں ہو رہی ہیں۔ان...

اُردو کا المیہ : نغمہ ناز مکتومیؔ URDU KA ALMIA – NAGHMA NAAZ MAKTOOMI

  اُردو کا المیہ   نغمہ ناز مکتومیؔ    ایڈیٹر ’’ عالمی پرواز ‘‘  ایڈیٹر ’’ اُردو آپریشن ‘‘                             عصرِحاضر کا سب سے بڑا المیہ اُردو کے ساتھ بے اعتنائی ، بے توجہی اور بے التفاتی ہے۔جو محتاجِ بیان نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ناقابلِ تلافی جُرم ہے ارباب اُردوسے لے کر اُردو کے مفکّر ، دانش ور ، حکمراں تمام لوگوں سے اس سمت بے توجہی ہوتی رہی ہے۔ اس پر بھی بس نہیں ہے بلکہ ہمارے جگر گوش نئی تہذیب کے دلدادہ HYPOCRIT نوجوان انگریزی پڑھ کر اُردو اور اُردو والوں کو کمتر نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دراصل وہ خود ہی احساس کمتری کے شکار ہیں اور وہ اپنی مادری زُبان کے ساتھ غدّاری کر رہے ہیں۔ کاش اُن کو انگریزی زُبان پر بھی عبور حاصل ہوتا۔کسی زُبان کو سیکھنا جُرم نہیں ہے بلکہ یہ ایک اچھی علامت ہے ، مگر اپنی تہذیب اور تمدن کو کمتر سمجھنا اور نقالی کرنا یہ ایک بڑی حماقت ہے،خصوصی ہم جس ملک میں رہتے ہیں۔ ہندوستان میں اُردو دم توڑ رہی ہے مظلوم ، مجبور اور بے بس نظر آتی ہے۔آج تو ہم خود ہی اس کی قبر کھودرہے...

اردو شاعری کا ثمر جاوداں ۔۔۔ غبار ہجراں : خورشید حیات۔ بیلاس پور (بھارت)

 خورشید حیات۔ بیلاس پور (بھارت) Qr. No. 16/3, New N.E.Colony, Bilaspur-495004(C.G)India E-mail: khursheedhayat1211@gmail.com, Mob. 09752475934 *** اردو شاعری کا ثمر جاوداں ۔۔۔ غبار ہجراں   زندگی کی تپتی دوپہر میں جب میری ملاقات اردو شاعری کے ثمرِ جاوداں ناصر ملک سے ہوئی۔ تب ہر لرزتے گام پر ، لفظوں کو ایک نئی قوت گویائی نصیب ہوئی - بھیڑ میں تنہا ہوتے آدمی اور بے چہرگی کی شام ، شاعری کی پوشاک میں سر کٹے سایوں کی تفسیر بن گئی۔کبھی شاعری سوچ کی سمندر گپھا میں مچلنے لگی تو کبھی سوچ و فکر کی سطح آب پر تیرنے لگی۔ کبھی قدرت کے بیشمار مظاہر ناصر ملک کی انگلیوں سے نکلنے والے حروف کی پوشاک بنتے گئے- جب سیاسی انتشار ، معاشی بہران ، اخلاقی و سماجی پستی ’’آدمی کی بستی‘‘ میں پاؤں پسارنے لگے ، جب اندھیرا روشنی پر غالب ہونے لگا اور رفتہ رفتہ ’’رات‘‘ بالکل اندھیری ہو گئی۔ تہذیب و معاشرت کا ایک بڑا حصہ ا علا اخلاقی قدروں سے انحراف اور حقائقِ زندگی سے فرار کا راستہ اختیار کرنے لگا - تب ہوا یہ کہ شاعری کی زمین زلزلوں سے ہلا دی گئی۔ ادب بستیاں تیز آندھی اور طوفان سے الٹ دی گئیں۔ وہ جن کی شاعری میں عورتوں کے بدن، موہوم کمر ،...

اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کا ’عالمی یوم اردو‘ پروگرام منعقد

 اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن،مظفرنگر دفتر: 55،سٹی سینٹر مارکیٹ،مناکشی چوک،مظفرنگر فون:9897632786  پریس ریلیز اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کا ’عالمی یوم اردوپروگرام منعقد  اردو اور ہندی کا لسانی جھگڑا ہندوستانیت کے فروغ کا سمِ ّقاتل: پروفیسر مولا بخش اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعہ ہمیں بیدار کرنے کی عملی کوشش کی: ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ250/اردو طلبہ وطالبات کو ٹرافی اور سرٹیفکیٹ دیے گئے۔اہم شحصیات کو ”علامہ اقبال ایوارڈ‘ سے نوازاگیا۔مظفرنگر:9/نومبر2016 اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن و اردو انووادک راجیہ کر مچاری سنگھ کے زیر اہتمام شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم پیدائش 9 نومبر کے موقع پر ’عالمی یوم اردو‘کا انعقاد سادات ہوسٹل،آریہ سماج روڈ،مظفرنگر میں کیا گیا،جس کی صدارت معروف ماہر تعلیم اشوک کمار بھٹناگر نے کی اور مشترکہ نظامت یو. ڈی. او. کے ضلع صدر کلیم تیاگی ونائب صدر مولانا موسیٰ قاسمی نے کی۔ پروگرام کا بابرکت آغاز نعت ِسرورِ کونین سے ہوا۔جس میں مہمان کے طور پر پروفیسر مولی ٰ بحش علی گڈھ مسلم یونیورسٹی،ڈاکٹر اسلم جمیشد پوری صدر شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ،ببلو کمار ایس ایس پی مظفرنگر،ڈاکٹر ارشد اقبال ڈائریکٹر سبھارتی یونیورسٹی میرٹھ نے شرکت کی۔ بطور مہمان خصوصی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تشریف لائے شعبہ اردو کے استاد ماہر اقبالیات اور تنقیدنگار پروفیسر مولا بخش نے اپنے خطاب میں کہا کہ...

اردو افسانہ فورم کے عالمی افسانہ میلہ کی ناقابل یقین پذیرائی : ابرار مجیب

  اردو افسانہ فورم کے عالمی افسانہ میلہ کی ناقابل یقین پذیرائی   ابرار مجیب                                   اردو افسانہ فورم کے عالمی افسانہ میلہ کی ناقابل یقین پذیرائی اور کامیابی پر ہم فورم کے تمام ممبران ، میلہ کے شرکا افسانہ نگار ، تبصرہ نگار اور ناقدین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور انہیں مبارک باد پیش کرتے ہیں. افسانہ کے تعلق سے ہند و پاک میں ایک مایوسی کی فضا پائی جاتی ہے، اس بات کا اکثر رونا رویا جاتا ہے کہ شاعری نے اردو ادب کو اپنے شکنجے میں کس رکھا ہے اور افسانہ نگاری دم توڑ رہی ہے . اس کی بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ نۓ لکھنے والے سامنے نہیں آ رہے ہیں. لیکن عالمی افسانہ میلہ میں شریک ہونے والے تازہ واردان ادب کو دیکھیں تو یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ نئے لکھنے والوں کی کمی نہیں ہے. اتنی کثیر تعداد میں افسانہ نگار سامنے آئے ہیں کہ حیرت سے آنکھیں پھٹ جاتی ہیں. اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فنکاروں کے ابھر کر نہ آنے کی وجہ یہ نہیں ہے...

ادبی رسائل کا کردار ریسرچ کے میدان میں : ہاجرہ بانو

 ادبی رسائل کا کردار ریسرچ کے میدان میں ہاجرہ بانو                           ادب کی اشاعت و فروغ کیلئے ادبی رسائل کا وجود بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہر دور کا ادب تخلیق میں اپنی نمایاں عکاسی پیش کرتا ہے اور تخلیقات تو اپنی اشاعت کے لئے سب سے پہلے ادبی رسائل ہی میں اپنا مقام بناتی ہیں اور اپنے عصری دور کی خامیوں اور خوبیوں کو پیش کرتی ہیں۔ تخلیق کار کے اظہار خیال کے لئے ادبی رسائل کا زینہ سماج تک راست طریقے تک اپنی بات پہنچانے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ مغرب کی ترقی کا راز بھی وہاں کے ادبی رسائل و جرائد کی اشاعت سے ہی منسلک ہے۔ مشرق نے بھی طرز سخن کے اس طریقے کو اپنایا اور حتی المکان کامیابی حاصل ہوئی۔ ابتدا میں اخبارات شائع ہوئے۔ خبروں کے ساتھ ساتھ ادبی نگارشات بھی صفحات کی زینت بننے لگیں۔ خواص و عوام کی پسندیدگی کے پیش نظر رفتہ رفتہ یہ صفحات علوم و فنون کے ہر شعبے سے متعلق علیحدہ علیحدہ ادبی رسائل کی شکل اختیار کرنے لگے۔ دور حاضر میں ایک خاصی بڑی تعداد ادبی رسائل کی ہے جن میں ماہنامے، دوماہی، سہہ ماہی،...

ادب کی تعلیم کے بغیر انسان ادھو را ہے : ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری

          ادب کی تعلیم کے بغیر انسان ادھو را ہے : ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری                    میرٹھ پبلک گرلز اسکول، شاستری نگر،میرٹھ میں  ”ادب پر ایک کوئز“  کا  انعقاد                    (پریس ریلیز)                     میرٹھ26/ اگست2014ء                   ”ادب انسان کو زندگی گزارنے کے سلیقے سکھاتا ہے۔ ادب کی تعلیم کے بغیر انسان ادھو را ہے۔ دنیا کی تمام زبانوں کا ادب انسان کو سوچنے، سمجھنے اور غورو فکر کر نے دعوت دیتا ہے۔“ یہ الفا ظ صدر شعبہ اردو ڈا کٹر اسلم جمشید پوری کے تھے۔وہ میرٹھ گرلز پبلک اسکول، شاستری نگر میں ادب پر منعقد ایک کوئز میں بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہاکہ”شاعری، افسا نہ، ناول وغیرہ آج کے آلودہ ماحول میں تازہ ہوا کے مانند ہیں۔“                 پرو گرام کی شروعات مہمان خصوصی ڈا کٹر اسلم جمشید پوری، مہمان ذ ی وقار محترم وکرم شاستری(ڈائریکٹر آف اسکول) اور محترمہ کیتکی سنگھ شاستری کے استقبال سے ہوا۔                 کوئز میں اسکول کے چار ہاؤسز  (۱)  اہلییہ (۲)   میتری  (۳)  سروجنی   (۴)  گارگی ہاؤس،نے حصہ لیا۔ ہر ٹیم میں چار ممبران تھے۔اردو،ہندی اور انگریزی...

ادب کی تخلیق جوکھم بھرا کام ہے: آلوک کمار

                 ادب کی تخلیق جوکھم بھرا کام ہے:  آلوک کمار                   ”ادب میں تخلیق کا کام جوکھم بھرا ہے۔ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ جواں سال قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔“                   یہ باتیں دھال بھوم، جمشیدپور کے ایس ڈی او شری آلوک کمار نے نیاز اختر کے افسانوی مجموعے”بوڑھے برگدکا انت“ کی رسم رونمائی کی تقریب کے موقع پر کہیں۔                 14/جون2015 کو سنٹر فار ایکس لینس میں شہر سنگ و آہن، جمشیدپور کے جواں سال افسانہ نگار نیاز اختر کے افسانوی مجموعے ”بوڑھے برگد کاانت“ کی رسمِ رونمائی کی تقریب کا انعقاد ہوا۔ شری آلوک کمار(ایس ڈی او، دھال بھوم، جمشیدپور) کے ساتھ انجمن ترقی پسند مصنفین، جمشیدپور کے صدراور نامور کہانی کار شری جے نندن، ڈاکٹر سبھاش چندر گپتانے بھی کتاب کی رونمائی کی اور انہیں مومینٹو اور شال بھی پیش کیا۔ایس ڈی او شری آلوک کمار نے نیاز اختر کے پہلے افسانوی مجموعے کے لئے مبارک باد دی اور ان کے روشن ادبی مستقبل کی خواہش کا اظہار کیا۔                 تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انجمن ترقی پسند مصنفین، جمشیدپور کے سکریٹری شری سبھاش چندر گپتا نے نیاز اختر کو بے چینیوں کا کہانی کار بتایا...

ادب اور اخلاقیات : اسلم بدر

 ادب اور اخلاقیات اسلم بدر  دو شاہکار تصویریں آپ کے سامنے ہیں۔ ایک کا عنوان ہے’ مونالیزا‘ ، دوسری تصویر کا عنوان ہے ’دی ریپ‘ ( انقلاب فرانس کے پس منظر میں) ۔ دونوں تصویریں مصور ی کی دنیاکا شاہکار سمجھی جاتی ہیں۔ مونالیزا ایک خوبصورت عورت کی شبیہ ہے ، جس میں مصور نے اپنا تمام ہنر اُس عورت کے لبوں پرکھیلتی ہوئی پر اسرار مسکراہٹ پر صرف کیا ہے۔ ’دی ریپ ‘ میں بھی ایک عورت ہی ہے، مگر مادر زاد برہنہ ہے جس کے ارد گرد کچھ فوجی اس کے ناموس کی دھجیاں اڑانے کے در پئے ہیں۔ مصور نے اپنی ساری ہنر مندی اُس برہنہ عورت کے بدن کے قوس اور مختلف اعضاء کے پیچ و خم پر صرف کر دی ہے۔ ایک عام ناظر جب پہلی تصویر دیکھے گا تو اس کی نظر سب سے پہلے اُس عورت کے پُر وقار حسن پر پڑے گی، وہ عام ناظر اگرناقد بھی ہے تو یہ بھی محسوس کرے گا کہ اس عورت کے ہونٹوں پر سجی ہوئی خفیف سی مسکراہٹ کس قدر پر اسرار ہے اور تب اسے ایک روحانی سر شاری محسوس ہو گی ۔دوسری تصویر کو دیکھتے ہوئے عورت کا حسن تو کہیں دور جا پڑے...

اداریہ- الوداع2013ء، خوش آ مدید2014ء : ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری

   اداریہ  الوداع2013ء، خوش آ مدید2014    ڈاکٹراسلم جمشیدپوری                        الوداع2013ء، خوش آ مدید2014ء۔نیا سال2014ء شروع ہو گیا ہے۔ آپ سب کو مبارک۔ 2013 بڑا یاد گار رہا۔ ادب، سماج، سیاست ہر سطح پر نمایاں تغیرات رونما ہو ئے۔ نشیب و فراز سے گذرتے ہو ئے2013ء نے متعدد تاریخ رقم کیں۔ ادب کے لیے2013ء نئی سو غا تیں لے کر آیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا میں اردو نے اپنے پرچم لہرا ئے۔ فیس بک، وہاٹس اپ، ٹو (Too)سے لے کر یو ٹوب تک اردو کے نغمے، قصے اور شیرینی کا خوب زور چلا۔ گذشتہ برس ہی ’’عالمی پرواز .کوم ‘‘نے اردو ادب کے آسمان سے گلیاروں تک پرواز کی۔ ’’ عالمی پرواز.کوم ‘‘ کی مقبو لیت نے کئی قدیم ویب سائٹس کے ریکارڈز کو پس پشت ڈال دیا۔ اسی مقبو لیت کے شانے پہ سوار ’’ عا لمی پرو از .کوم ‘نے ’’عالمی افسانوی کارواں ‘‘ کی شروعات کی۔ فیس بک پر ’’ عالمی افسا نوی کارواں ‘‘ کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ یہی نہیں ’’عالمی پرواز .کوم ‘‘نے محسوس کیا کہ اخبارات و رسائل اور انٹر نیٹ کی پورٹل اور میگزین میں جو کچھ شائع ہو رہا ہے اس کا ایمانداری سے...

اداریہ : پروفیسر اسلم جمشید پوری ؔ

اداریہ:   پروفیسر اسلم جمشید پوری ؔ                                   اردو کو ووٹ بینک بنایا جائے                  عالمی پرواز کے قارئین کو نئے سال کی دلی مبارکباد             لیجئے وقت کے بے کراں سمندر میں ایک بوند  2018  پھر سما جانے کو ہے۔ایک نیا سال ہمارے رو برو ہے۔ گذشتہ برسوں کی طرح گذرتے ہوئے سال  2018نے ہمیں اردو کے فروغ کے لیے سنجیدگی سے غور کرنے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اردو کی مقبو لیت کے شور وغو غا میں ہم اس کے بنیادی مسائل پر توجہ نہیں دے پا رہے ہیں۔ ہماری نئی نسل اردو سے دور ہوتی جارہی ہے۔ جو بچے ایم۔اے، ایم فل تک پہنچ رہے ہیں، ان میں بھی زیا دہ تعداد مدارس اور پرائیویٹ تعلیم حاصل کرنے وا لوں کی ہے۔ مدارس کے طلبہ تو عربی،فارسی پس منظر سے آ تے ہیں تو ان کی زبان بہتر ہوتی ہے۔ وہ تھو ڑی سی سنجیدگی اختیار کرتے ہیں تو بہت بہتر طا لب علم ثابت ہوتے ہیں۔لیکن پرا ئیویٹ، بی اے اور ایم اے کرنے وا لے طالب علم اردو میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کی بنیاد بھی کمزور ہو...

اچھے مقالے کے لیے مواداور پیش کش کے ساتھ تلفظ کا درست ہو نا اشد ضروری: پروفیسر اسلم جمشید پوری شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ میں دو روزہ شعبہ جاتی سیمینار کا اختتام

اچھے مقالے کے لیے مواداور پیش کش کے ساتھ تلفظ کا درست ہو نا اشد ضروری: پروفیسر اسلم جمشید پوریشعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ میں دو روزہ شعبہ جاتی سیمینار کا اختتام (پریس ریلیز) میرٹھ 14نومبر 2019ء شعبہ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں چل رہے دو روزہ شعبہ جاتی سیمینار(14۔13نومبر) کا آج آخری دن تھا جوایک اجلاس پر مشتمل تھا۔جن کی صدارت صدر شعبہ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے اور نظا مت کے فرائض مولانا اسرار، اور محمد شاکر نے انجام دیے۔ سیمینار کے دوسرے دن اجلاس صبح 10:30/ بجے شروع ہوا۔جس ایم فل کی طالب علم رہنما شفا نے”متنی تنقید کی تعریف اور اس کی اہمیت“،سیدہ مریم نے”تنقید کے مفہوم اور اس کے بنیادی اصول“،آصفہ انجم نے ”مولاناامتیاز علی خاں عرشی بحیثیت متنی نقاد“، شاکر مطلوب نے ”ادبی تحقیق کے مسائل: ایک جائزہ“ ایم۔اے سال دوم کے طالب علم اسرار احمد نے”اقبال کی شاعری کے فکری پہلو“،عبدالواحد نے”اقبال کی نظموں کے اقسام“،سامعہ نے”اقبال کے معاصر غزل گو شعراء“، صائمہ نے”اقبال کا فلسفہ خودی: ایک جائزہ“،محمدشاکر نے”اردو غزل گوئی میں اقبال کی انفرادیت“ اور صبا پروین نے”ابوکلام آزادکے قومی نظریات“ ایم۔اے سال اوّل کے طالب علم محمد انس نے ”اردو کے...