مہتاب عالم پرویزؔ کی منتخب کہانیاں : MAHTAB ALAM PERVEZ KI MUNTAKHIB KAHANIYAN
مہتاب عالم پرویزؔ کی منتخب کہانیاں
MAHTAB ALAM PERVEZ KI MUNTAKHIB KAHANIYAN
مہتاب عالم پرویزؔ کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے بعض حضرات نے لفظ بیانیہ پر اپنی سادہ لوحی کے سبب بڑا زور صرف کیا ہے۔ میرے نزدیک مہتاب عالم پرویزؔ کے تمام تر افسانے بیانیہ سے گہرا انسلاک رکھتے ہیں۔ اور کہانی پن بھی اپنی پوری شدّت کے ساتھ ان افسانوں میں نمایاں ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کے افسانوں میں کہانی سیدھی لکیر میں نہیں چلتی بلکہ اپنے اندر ایک ابہام ، ایک اسرار لئے ہوئے آگے بڑھتی ہے۔ ادب میں فکشن کے عظیم مصنف سیدھی سادی کہانیاں کبھی نہیں لکھتے۔ میں وکٹورین عہد کے ناول اور افسانوں کی مثال کو طاق پر رکھ کر گفتگو کر رہا ہوں۔ آپ گیبرل گارسیا مارکز کے فکشن پر ایک نظر ڈالیں۔ کیا سو سال کی تنہائی میں حبسیوں کے ٹوٹکوں کا بیان یا اس کی مختلف کہانیوں میں جادوئی فضا بندی آپ کو ایک مبہم دُنیا کی سیر نہیں کراتی۔ فکشن میں موجود معنی قاری سے ذہانت کا مطالبہ کرتا ہے۔ مہتاب عالم پرویز ؔ کے افسانے بھی ذہنی ورزش کے بغیر حواس کی گرفت میں نہیں آتے۔ ...
مہتاب عالم پرویزؔ کی کہانی اور ’’ کہانی کا دوسرا رُخ ‘‘ MAHTAB ALAM PERVEZ KI KAHANI AUR KAHANI KA DOOSRA RUKH
مہتاب عالم پرویزؔ کی کہانی اور ’’ کہانی کا دوسرا رُخ ‘‘
( MAHTAB ALAM PERVEZ KI KAHANI AUR ( KAHANI KA DOOSRA RUKH
ڈاکٹر شاداب علیم شعبۂ اردو سی .سی. ایس. یونیورسٹی ،میرٹھ اردو افسانے کا کارواں خرا ماں خراماں دس دہا ئیاں طے کرچکا ہے۔ اس مختصر مدت میں اس کو اپنی بقا کے لیے مختلف چو لے بدلنے پڑے ۔کبھی رومان پسندی کی ردا اوڑھی، تو کبھی سماجی حقیقت نگاری کا جبہ پہنا، کبھی ترقی پسندی کا عمامہ سر پر رکھا ،تو کبھی جدیدیت کے دو شالے میں پناہ لی۔ اس طرح ہمارا افسا نہ کبھی تخلیق کا مرہون منت نہیں رہا بلکہ اس میں عہد بہ عہد فنی و فکری سطح پر بہت سی تبدیلیاں ہو تی رہیں۔شاید انہی کے باعث وہ آج بھی ترو تازہ اورسرسبز و شاداب ہے۔اردو افسا نے کی تاریخ میں وہی افسانہ نگار اہم تصور کئے گئے جنہوں نے تازہ ہواؤں کا خیر مقدم کیا اور تقلید سے انحراف برتتے ہو ئے نئی نئی فضا ؤں سے اکتساب فیض کیا۔یہ سلسلہ ہر دور میں جاری رہا اور آج بھی مہتاب عالم پرویز ؔ جیسے افسانہ نگار ہمارے افسا نوی ادب کو اپنی تازہ کا ری کے باعث صرف نئے رجحان ہی...
مہتاب عالم پرویزؔ ، میں اور میری آنکھیں MAHTAB ALAM PERVEZ – MAIN AUR MERI AANKHEN جاوید اختر
مہتاب عالم پرویزؔ ، میں اور میری آنکھیں
MAHTAB ALAM PERVEZ – MAIN AUR MERI AANKHEN
جاوید اختر اُردو ادب میں افسانہ کی تخلیق اِس کی وجودیت اور اس کی تعریف ابھی تک غیر واضح اور مشکوک ہے افسانہ کی تعریف اور تشریح ہماری پرائمری اسکول کے استادوں اور یونیورسیٹی کے پروفیسر وں اور ڈا کٹروں کے ذریعہ ہوتی آئی ہے اور ہو رہی ہے با لکل نہ مناسب اورمضحکہ خیزہے تعجب اور حیرت انگیز ی بھی کہ بڑے بڑے پروفیسروں بڑے بڑے ادبی ڈاکٹروں ناقدین منٹو ،عصمت ،واجدہ تبسم ،بیدی ، اوراشک کے افسانوں پر موٹی موٹی کتابیں لکھنے والے اتنے سطحی اور معمولی ذہن کے مالک ہیں کہ افسانہ کی تعریف نہیں لکھ پاتے پھر وہ اپنے پست اور قاصر ذہن کا اقرار کیوں نہیں کر لیتے کہ افسانہ نگاری ایک ایسی پیچیدہ اور غیر معمولی صلاحیت کی حامل ہے جس کی تخلیق افسانہ نگار کی غیر معمولی ذہانت اور ادبی الہامی کیفیت کے سبب وجود میں آتی ہے جس کا بیان لفظوں اور جملوں میں کرنا ایک غیر تخلیق کار کیلئے نہ ممکن سے بھی نہ ممکن ہے۔ کاش کے منٹو سے پوچھا ہوتا کہ افسانہ نگاری کیا ہے ۔تو ہمارا...
مہتاب عالم پرویزؔ ، میں اور میری آنکھیں : جاوید اختر MAHTAB ALAM PERVEZ , MAIN AUR MERI AANKHEN : JAVED AKHTAR
مہتاب عالم پرویزؔ ، میں اور میری آنکھیں جاوید اختر *اُردو ادب میں افسانہ کی تخلیق اِس کی وجودیت اور اس کی تعریف ابھی تک غیر واضح اور مشکوک ہے افسانہ کی تعریف اور تشریح ہماری پرائمری اسکول کے استادوں اور یونیورسیٹی کے پروفیسر وں اور ڈا کٹروں کے ذریعہ ہوتی آئی ہے اور ہو رہی ہے با لکل نہ مناسب اورمضحکہ خیزہے تعجب اور حیرت انگیز ی بھی کہ بڑے بڑے پروفیسروں بڑے بڑے ادبی ڈاکٹروں ناقدین منٹو ،عصمت ،واجدہ تبسم ،بیدی ، اوراشک کے افسانوں پر موٹی موٹی کتابیں لکھنے والے اتنے سطحی اور معمولی ذہن کے مالک ہیں کہ افسانہ کی تعریف نہیں لکھ پاتے پھر وہ اپنے پست اور قاصر ذہن کا اقرار کیوں نہیں کر لیتے کہ افسانہ نگاری ایک ایسی پیچیدہ اور غیر معمولی صلاحیت کی حامل ہے جس کی تخلیق افسانہ نگار کی غیر معمولی ذہانت اور ادبی الہامی کیفیت کے سبب وجود میں آتی ہے جس کا بیان لفظوں اور جملوں میں کرنا ایک غیر تخلیق کار کیلئے نہ ممکن سے بھی نہ ممکن ہے۔کاش کے منٹو سے پوچھا ہوتا کہ افسانہ نگاری کیا ہے ۔تو ہمارا افسانوی اُردو ادب اتنا غریب نہ ہوتاوہ...
مہتاب عالم پرویزؔ کے گرم افسانے : MAHTAB ALAM PERVEZ KE GARM AFSANE
مہتاب عالم پرویزؔ کے گرم افسانے
MAHTAB ALAM PERVEZ KE GARM AFSANE
اردو افسانے پر بھی عجب وقت آن پڑا ہے۔ اذہان عجب گومگو کی کیفیت میں مبتلاہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس فن کے تعلق سے گُلاب اور ببول کی صف بندی میں کوئی عار نہیں۔ اس کی وجہ ہے ترقی پسندی ، جدیدیت اور اب مابعد جدیدیت جیسی اصطلاحات نے لوگوں کے ذہن کو پراگندہ کر دیا ۔ معدودے چند باعلم لوگوں کے علاوہ بیشتر ہی لوگوں نے شاید ہی غور کیا ہو کہ ان اصطلاحات کا اِطلاق افسانے کے فن پر کیسے اور کیوں کر ہوا......... ترقی پسندیدیت کو پرے رکھتے ہوئے، جدیدیت اور ما بعد جدیدیت پر اک ذرا ٹھہر کر غور کریں۔ عام خیال یہ ہے کہ جدیدیت نے افسانوں میں علامت ، استعارہ ، تمثیل ، یہاں تک کہ داستانوں کی کج ادائی کا کافرانہ رجحان پیدا کیا اور بیانیہ کی موت واقع ہوگئی۔ اب مابعد جدیدیت کے طفیل افسانہ بیانیہ کی دلبری سے ازسر نو بہرہ مند ہورہا ہے۔ کیا واقعی ایسا کچھ ہے۔؟ ایک تو اس غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے کہ بیانیہ ،فن افسانہ نگاری کے قلم رو سے کبھی...
مہتاب عالم پرویز ؔ کی منتخب کہانیاں : MAHTAB ALAM PERVEZ KI MUNTAKHIB KAHANIYAN
مہتاب عالم پرویز ؔ کی منتخب کہانیاں
MAHTAB ALAM PERVEZ KI MUNTAKHIB KAHANIYAN
مہتاب عالم پرویز ؔنے 1985ء سے اپنے افسانوی سفر کا آغاز کیا۔ تقریباً 30سال کے اپنے افسانوی سفر میں مہتاب عالم پرویز ؔنے بڑے نشیب و فراز دیکھے۔کبھی کہانی ان کے اندر اٹھکھیلیاں کرتی، کبھی انگڑائیاں لیتی تو کبھی وہ کہانی سے عشق فرمانے لگتے۔اور کبھی ایسا ہوتا کہ دونوں کے درمیان ہجر اپنے پاؤں پسارنے لگتا۔کہانی اور پرویزؔ کے درمیان کے یہ تعلقات گذشتہ ایک دہائی تک بالکل ختم سے ہوگئے تھے، لیکن اِدھر پرویز ؔنے پھر سے مراجعت کی ہے۔ اور مہتاب عالم پرویز ؔنام کا افسانہ نگار اپنے علم و فن سے ایوانِ افسانہ میں زلزال ثابت ہوا۔
کئی کہانیوں میں ان کے اسلوب نے جدید لب و لہجہ سے انہیں انفرادیت عطا کی ہے۔پرویز ؔکی کہانیوں میں خوبصورت جملے، عمدہ تشبیہات و استعارے اور تراکیب قاری کو جہاں زبان کا لطف عطا کرتی ہیں، وہیں تحیر و تجسس، لطف و انبساط، کیف و سرور اور دلکشی و لگاؤ، کہانی اور قاری کے فاصلوں کو ختم کرکے، افسانے میں دلچسپی کے عناصر تخلیق کرتی ہیں۔مہتاب ؔنے شہر آہن کی فضا ؤں میں آنکھیں کھو...
مہتاب عالم پرویز ؔ کا ’’ کارواں ‘‘ رضوان واسطی MAHTAB ALAM PERVEZ KA KARWAN
مہتاب عالم پرویز ؔ کا ’’ کارواں ‘‘ رضوان واسطی *کیا افسانے ہی حقیقت بن جاتے ہیں؟ کیا حقیقتیں ہی افسانوں کا روپ اختیار کرلیتی ہیں؟؟ کیاافسانہ حقیقت کی ضد ہے؟؟؟ کیا حقیقت افسانے کی ضدہے؟؟؟؟..... یہ اور ایسے ہی نہ جانے کتنے لامتناہی سوالات افسانوں سے متعلق تنقیدی وادیوں میں گونجتے رہتے ہیں۔لیکن جہاں تک لسانی قواعد کی دنیا ہے، افسانہ اور حقیقت کو ایک دوسرے کی ضد ہی مانا جاتا رہا ہے۔تو پھر اتنی اختلافی بحث کیوں؟ دراصل وقت کے دریا نے اپنے بہاؤ کے ساتھ ایک ایسے جزیرہ نما میں پہنچادیا ہے، جہاں ایک طرف تو مفروضات کا ایک سمندر ہے اور دوسری طرف حقیقتوں کاایک پہاڑ...کسی قوم کے لیے سو سال کا فاصلہ بہت بڑا نہیں ہوتا، لیکن قوموں کی روِش میں تبدیلی ضرور آجاتی ہے۔ ادبی دنیا میں افسانوں کا بھی یہی حال ہے۔ قواعد کی دنیا کے الفاظ ’افسانہ‘ اور’ حقیقت‘ آج سے سو سال پہلے ضرور ایک دوسرے کے بالمقابل نظر آتے رہے ہونگے لیکن اب تویہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ساتھ ساتھ ادب کی دنیا میں چہل قدمی کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر اس حیثیت سے دیکھیں تو آج کے دَور کے تیزی سے پھلتے پھولتے افسانہ نگاروں میں ایک...
مہتاب عالم پرویزؔ کے گرم افسانے : MAHTAB ALAM PERVEZ KE GARM AFSANE
مہتاب عالم پرویزؔ کے گرم افسانے
MAHTAB ALAM PERVEZ KE GARM AFSANE
منٹو کی بے باکی اور عریانیت کو دیکھ کر ایک زمانے کو خیال ہوا کہ وہ ترقی پسندتحریک کے غلاف میں اپنے لیے شہرت کاراستہ اختیار کررہے ہیں۔ لیکن یہ بہتان اور جھوٹے الزام سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ترقی پسند تحریک کاہرگز یہ مفہوم نہیں تھا۔ یہ ان کا ذاتی فعل تھا اور اپنی ذہنی اپج سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ وہ دراصل تحریک کو زندگی کے اتنا نزدیک کرنا چاہتے تھے کہ معاشرہ سے ہر قسم کی برائی کو مٹایا جاسکے، خواہ وہ معاشی کشمکش ہو یا ذہنی، نفسیاتی اور جنسی بے راہ روی ہو۔ منٹو افسانوں کے بادشاہ کہے جاسکتے ہیں۔ اس واقعاتی تجزیہ کے پس منظر میں اگر مہتاب عالم پرویزؔ کی کہانیوں کا جائزہ لیا جائے تو یقینا میرے اس دعوے کو تقویت ملے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
...
منظر کاظمی… علامتی افسانے کے عظیم اسکول : جہانگیر محمد
منظر کاظمی...... علامتی افسانے کے عظیم اسکول جہانگیر محمد
*عصر ی ا فسا نے کے ا علی وارفع میز ان پربہت سا رے افسا نہ نگار ہیں۔یہ ایک طویل فہر ست ہے۔ما بعد جد ید یت ، ا ظہار وا سلو ب کی تبد یلی کے بعد آج پھر ا فسا نے کو عا م راہ پر لا کرکھڑا کیا ۔ ترقی پسند ی ،حقیقت نگا ری اور رومان پسند ی کے بعد علا متی ،تجریدی ، ا ستعار ی دو ر سے گُذر تا ہو ا آج بہت سار ے سو ا لات کو لئے آج کے عہد کا ا فسا نہ آسما ن سے ز مین پر ا تر آیا ہے۔ قبو ل و ر دکی تما م سند سے بے نیاز ہو کر لیکن منظر کا ظمی ان تما م بھیڑمیں ا یسا فعا ل چہرہ ہے جس پر آ نکھیں مر کو زہو جا تی ہیں۔کیو نکہ اس نے بھیڑ سے الگ را ہیں متعین کی ہیں ۔آج منظر کا ظمی کا ا فسا نہ ا فکا ر کی بلندیوں پر بر ا جمان ہے۔ حا لا نکہ ان کے ا فسا نے...
منظر کاظمی کے افسانے: اسلامی حقائق و واقعات کی روشنی میں ………ڈاکٹراختر آزاد
ڈاکٹر اختر آزاد مکان نمبر۔۳۸، روڈ نمبر۔۱آزاد نگر ، جمشید پور۔۸۳۲۱۱۰(جھارکھنڈ)موبائل : 09572683122 dr.akhtarazad@gmail.com برادرم مہتاب عالم پرویز! ........بے پناہ محبتیںاردو سائٹ ڈیولو کرنے کی دیرینی خواہش ’’ عالمی پرواز ‘‘ کی صورت میں ادب نواز دوستوں کے دلوں میں گھر کرنے لگا ہے ۔’’افسانہ ریئلیٹی شو ‘‘ کی پسندیدگی کے کئی فون اور میل بیرونِ ملک سے مجھے موصول ہوئے ہیں ۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کی محنت عالمی سطح پر بھی رنگ لانے لگی ہے ۔اور اب جو تحریر نستعلیق میں آرہی ہے اس سے قاری کو پڑھنے میں آسانی ہو رہی ہے ۔ ایک دن وہ بھی آئے گا جب آپ کے سارے خواب شرمندہء تعبیرکو پہنچ جائیں گے۔ آپ اپنی کوشش جاری رکھیں۔ میری اللہ سے یہی دعاء ہے کہ آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں ۔ایک مضمون’’ منظر کاظمی کے افسانے: اسلامی حقائق وواقعات کی روشنی میں‘‘ بھیج رہا ہوں ۔ پسند آ جائے تو عنقریب شامل کر لیں گے۔منظر کاظمی (پیدائش۔ ۲۴؍ ستمبر ۱۹۴۰ء، انتقال۔ ۱۲؍ اکتوبر ۲۰۰۰ء) کا تعلّق جدید افسانہ نگاروں کی اس نسل سے ہے جنہوں نے اردو کو خوبصورت افسانے عطا کئے۔انہوں نے اپنے افسانوی سفر کا آغاز ۱۹۵۹ء میں کیا ۔ ان کا پہلاا فسانہ ’’ زہر کی...
منظر کاظمی …لکشمن ریکھا کے آس پاس از: رضواںؔ واسطی
منظر کاظمی ...لکشمن ریکھا کے آس پاساز: رضواںؔ واسطیسر پرکسی حد تک گھونگھریالے بال، آنکھوں میں وقفہ وقفہ سے جھلکیاں دیتا گلابی دھند کے پرے، ستواں مگر تیکھی نکیلی ناک، ناک کے نیچے ہونٹوں کا چھوٹا دائرہ جس میں سے آزاد ہوتا ہوا سگریٹ کے دھوووں کا مرغولہ اپنے حصار میں سینے سے اٹھتے ہوئے طوفان کو قید کئے دور بلندی پر لے جاکر خود بھی آزادی کی سانس لیتا ہے اور خیالات کوبھی فضا میں آزاد چھوڑدیتا ہے۔چہرے کی رمق اور خدو خال کا تیکھا پن ذہانت کا اعلامیہ ہے۔انگلیوں میں دبا ہوا سگریٹ کبھی کبھی احساس کو جھلسا کر اپنی موجودگی کے ثبوت سے خیالات کی توجہ بدلتا ہوا... یہ ہے منظر کاظمی کی وہ تصویر جو کبھی کبھی نظر آتی ہے۔سینے میں اٹھتا ہوا جذباتی ہیجان اور ذہنی رَوکی زیریں روانی کا طوفان بتا رہا ہے کہ باہری دنیا کا کوئی سانحہ احساسات کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ ہوسکتا ہے بظاہر طوفان نظر آنے والا منظر کسی معمولی بگولے کا عکاس ہو۔لیکن ایک حساس ذہن ،ایک ذہین فنکار اور ایک دانشور قلم کار کے براہِ راست متأثر ہونے میں اور ایک عام انسان کی سوچ میں کافی دوری ہوتی ہے۔ یہ کام منظر کاظمی جیسے ادیب کا ہوتا...
منٹو کے فکشن میں حقیقت نگاری : سیدہ فرحت زرتاج (ریسرچ اسکالر)
منٹو کے فکشن میں حقیقت نگاری
سیدہ فرحت زرتاج (ریسرچ اسکالر) *سعادت حسن منٹو ۱۴ اگست ۱۹۱۲ کو لدھیانہ کے نزدیک موضع سمبرالہ میں پیدا ہوئے ۔ان کے اسلاف کشمیری تھے ۔ذات کے من وٹی تھے۔شائد اسی وجہ سے اُنھوں نے منٹو نام اختیار کیا۔پروفیسر وہاب اشرفی تاریخ ادب اردو میں لکھتے ہیں کہ ’’انہوں نے کئی فرضی نام اختیار کئے، مثلاً مفکر، کامریڈ، ،آدم،وٹنم اور خواجہ ظہیرالدین وغیرہ۔‘‘ان کے والد کا نام خواجہ غلام السیدین تھا۔ ۱۹۳۵ میں انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی میں داخلہ لیا لیکن وہاں بیمار ہو گئے اور انہیں علی گڑھ چھوڑنا پڑا ۔ان کے قابل ذکر اساتذہ میں خواجہ محمد عمر جان ،فیض احمد فیض اور صاحبزادہ محمودالظفر کے نام لئے جاسکتے ہیں۔انکے قابل ذکر ہم جماعت ابو سعید قریشی ،خواجہ احمد عباس،مجاز ، جاں نثار اختر ،جذبی ،شاہد لطیف اور سردار جعفری تھے۔( مندرجہ بالہ جانکاری میں نے تاریخ ادب اردو سے حاصل کی ہے)عام طور پر منٹو کی شناخت حقیقت پسند افسانہ نگار کے طور پر ہوتی ہے ۔لیکن منٹو متنوع ذہن کے مالک تھے۔ انہوں نے صرف جنس کو ہی موضوعنہیں بنایا بلکہ انہوں نے تقریباً تمام موضوعات پرطبع آزمائی کی ۔ منٹو نے جب افسانہ...
منٹو بحیثیت ڈراما نگار : شاہد اقبال‘ کولکاتا
منٹو بحیثیت ڈراما نگار شاہد اقبال‘ کولکاتا اردو نثر کی اگر بات کی جائے تو چند قدآور ناموں میں سے ایک سعادت حسن منٹو کا بھی ملے گا۔ اپنی زندگی کی صرف بیالیس ’بہاریں‘ یا ’خزائیں‘ دیکھنے والے اس فن کار کے فن میں حقیقت نگاری کے ساتھ ساتھ معنویت کا ایک جہاں آباد ہے ۔ منٹو اردو کے ان معدودے چند نثر نگاروں میں سے ہے جس نے جس کسی بھی صنفِ نثر پر قلم اٹھایا ‘ انصاف کیا۔ منٹو کی سلطنتِ نثر نگاری کی سرحدیں صرف افسانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اس احاطے میں خاکہ نگاری ، ڈراما نگاری ، مکتوب نگاری ، مضامین نویسی اور ترجمہ نگاری جیسے اصنافِ نثر بھی بخوبی ملتے ہیں۔ منٹو کے افسانوں میں جہاں ہمیں بیسویں صدی کے نصف اول کے قومی اور عالمی مسائل کا بھرپور اظہار ملتا ہے ‘ وہیں ان کے خاکوں سے ان کی ذاتی زندگی کے مصائب اور ذہنی اذیتوں کی عکاسی بھی ملتی ہے۔ قاری غیر محسوس طریقے سے منٹو کی کشاکشِ حیات سے بھی واقف ہوجاتا ہے۔ دورِجدید میں اولین برقی ذرائع ابلاغ میں سے ریڈیو کو کافی اہمیت حاصل تھی۔ خصوصاً ٹیلی ویژن کی ایجاد سے قبل اور اس کے کچھ عرصے بعد بھی ریڈیو عوام...
ملک کے تمام تر سیاسی اور سماجی کاموں میں گاندھی کے اصولوں پر چلنا ہی صحیح معنے میں مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت ہے۔ ممتاز شارق
ملک کے تمام تر سیاسی اور سماجی کاموں میں گاندھی کے اصولوں پر چلنا ہی صحیح معنے میں مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت ہے۔
ممتاز شارق
’’ ہر سیاسی مکتب فکر ، سماجی تنظیمیں ، فلاحی ادارے ، اعلیٰ عہدہ دار اور سرکاری و غیر سرکاری ملاز مین کی زبانوں پر گاندھی جی کا نام صرف ایک فیشن اور رسم کے طور پر ہوتاہے ۔ حقیقتاً دور دور تک انکے اصولوں پر کوئی عمل کرتا نظر نہیں آتا۔ ملک کے تمام تر سیاسی اور سماجی فیصلوں پر گاندھی کے اصولوں کو فوقیت دینی چاہئے اور تمام تر سیاسی اور سماجی کاموں میں گاندھی کے اصولوں پر چلنا ہی صحیح معنے میں مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت ہے۔گاندھی جی نے کہا تھا ’’ ہندو اور مسلمان ہماری دو آنکھیں ہیں۔‘‘ لیکن ملک میں فرقہ وارانہ فساد کا سلسلہ آزادی کے قبل سے اب تک جاری ہے۔ملک سے محبت اور خدمت کا دم بھرنے والے رہنما بے شرمی کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔ بے قصور نوجوانوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلا جارہا ہے۔ گاندھی کے اس دیش میں انکے اصولوں کی دھجیاں اڑائی جارہی...
معین شاداب اور شاہد انجم اکیسویں صدی کے ممتاز شاعر: ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ
معین شاداب اور شاہد انجم اکیسویں صدی کے ممتاز شاعر: ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ (پریس ریلیز) میرٹھ6/ ستمبر2017ء
چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں اس سیشن کی پہلی ہفت روزہ ادبی محفل کا انعقاد عمل میں آیا۔ جس میں اردو کے دو مشہورو معروف شاعر معین شاداب اور شاہد انجم نے بطور مہمان شر کت کی۔ صدارت کے فرائض صدر شعبہ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ نے انجام دیے اورنظا مت ڈا کٹر آصف علی نے کی۔ شعبے میں ان کا استقبال ڈا کٹر شاداب علیم نے کیا۔ محفل کا آغاز شو بی زہرا نقوی نے نعت پاک سے کیا۔ ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔنے محفل کے آ خر میں اپنے صدارتی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معین شاداب اور شاہد انجم اکیسویں صدی کے ممتاز شعرا ہیں۔ ان کے یہاں نئی لفظیات، ترا کیب اور نیا لب و لہجہ ملتا ہے جو انہیں اپنے عہدکے شعرا میں ممتاز کرتا ہے۔دونوں مہمان شاعروں نے اپنے کلام سے سامعین کو خوب مسحور کیا اور خوب داد و تحسین حاصل کی۔ منتخب اشعار قارئین کے پیش نظر ہیں ؎شکست جس کا نصیب ہو گی کچھ اس کا سوچوتمہارا کیا ہے تمہیں تو سکہ اچھالنا ہے ؎یہ کس کی سانسوں...
معروف شاعر محترم بی ایس جین جوہر ؔ کے انتقالِ پر ملال پر تعزیتی جلسہ
معروف شاعر محترم بی ایس جین جوہر ؔ کے انتقالِ پر ملال پر تعزیتی جلسہ بی ایس جین جوہر ؔ کا انتقال نہ صرف میرٹھ بلکہ پوری اردو دنیا کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے : پروفیسر سید احمد شمیم(پریس ریلیز) میرٹھ 28/ جون 2019ء
شعبہ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ کے منشی پریم چند سیمینار ہال میں میرٹھ کے معروف شاعر مرحوم بی ایس جین جوہرؔ کی یاد میں ایک تعزیتی جلسہ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت پروفیسر سید احمد شمیم نے کی اور مہمانان میں پروفیسر خالد حسین خاں، محترم نپن جین شریک ہوئے مہمانان کے لیے استقبالیہ کلمات ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے ادا کیے اور تعارف ڈاکٹر شاداب علیم، نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف علی نے بحسن و خوبی ادا کیے۔ تعزیتی جلسہ کا آغاز شعبے کے طالب علم اسرار احمد نے مرحوم بی ایس جین جوہر ؔ کی خوبصورت غزل سے کیا۔بعداذاں ڈاکٹر شاداب علیم نے معروف شاعر محترم بی ایس جین جوہر ؔ کا تعاروف پیش کرتے ہوئے کہا کہ محترم جوہرؔ جیسے شاعر،ملنسار اوربا کردار انسان کبھی کبھی پیدا ہوتے ہے۔شاعری کے ذریعے ان کی لگن و کام جو انھوں نے اپنی زندگی میں جاری رکھے اور غریبوں کو آگے بڑھانے...
معروف افسانہ نگاراورفکشن ناقد ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کابحیثیت پروفیسر تقرر
معروف افسانہ نگاراورفکشن ناقد ڈاکٹر اسلم جمشید پوریؔ کا بحیثیت پروفیسر تقرر (پریس ریلیز)
میرٹھ: معروف افسانہ نگار، فکشن ناقد اور شعبہ اردو،چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کے صدر ڈا کٹر اسلم جمشید پوریؔ کو یونیور سٹی نے سی اے ایس کے تحت پروفیسر کے عہدے پرتقرر کیا ہے۔ پرو فیسر اسلم جمشید پوری ؔکی اب تک29کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ گذشتہ دنوں آپ کی کئی اہم کتب عید گاہ سے واپسی(افسانے) اردو فکشن کے پانچ رنگ(تحقیق وتنقید)،تجزیے(تنقید)، جدید اردو افسا نہ بدلتی قدریں (ترتیب و تزئین) عصمت شناسی(ترتیب) کی ادبی حلقوں میں کافی پذیرا ئی ہوئی۔ان کی دیگر اہم کتب میں لینڈرا(افسانے)،اردو فکشن: تنقید و تجزیہ (تحقیق وتنقید) اردو افسا نہ: تعبیر و تنقید (تحقیق وتنقید)، جدیدیت اور اردو افسانہ (تحقیق وتنقید)، ترقی پسند اردو افسا نہ اور اہم افسا نہ نگار (تحقیق وتنقید)، آدھا گاؤں (ترجمہ) شا مل ہیں۔ پروفیسر اسلم جمشید پوریؔ نے گذشتہ پندرہ بیس برسوں میں بطور فکشن ناقد اپنی حیثیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔ انہیں اکیسویں صدی کے اہم فکشن ناقدین میں شمار کیا جاتا ہے۔انہوں نے اپنی تنقید کے ذریعہ نئی نسل کو متعارف کرانے کا اہم کام کیا ہے۔ان کی فکشن تنقید پر نسف درجن سے زائد کتب...
معرکہ : ثناءغوری
معرکہ
ثناءغوری
پاکستان میں جنگل کا قانون رائج ہے آئی ٹی منسٹری سو رہی ہے یہ کہنا سرا سرغلط ہے. مجھے اس جملے سے ہمیشہ شدید اختلاف رہا ہے، کیوں کہ جنگل کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے، قدرت کے عطاکردہ ضابطے ہوتے ہیں، جن پر چرند پرند عمل کرتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں، مگر ہمارے یہاں تو اندھیر نگری چوپٹ راج ہے۔ مہذب اورباعزت معاشرے کے قیام کے لیے انسانی حقوق کی پاس داری بہت ضروری ہے۔ دوسروں کے حقوق کے احترام کے بغیر فرد انسانیت کے مرتبے تک نہیں پہنچ سکتا۔ چناں چہ حق تلفی کے سدباب کے لیے قوانین اور ادارے بنائے جاتے ہیں، جو کسی فرد یا جماعت کے حقوق چھینے جانے پر حرکت میں آجاتے ہیں۔ لیکن ایسے قوانین کی تشکیل اور اداروں کا قیام اور ان کی کارکردگی اس بات پر منحصر ہے کہ معاشرہ اپنے حقوق سے کس حد تک آشنا اور ان کی پاس داری کے لیے تیار ہے۔ ہم پاکستانیوں کا المیہ تو یہ ہے کہ ہماری حق تلفی ہوتی رہی اور ہم اس کے عادی ہوتے گئے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ کم ازکم غریب شہریوں کوگرانی کی آفت سے بچائے...
معاشرے کی تشکیل میں کہانیوں کا اہم کردار: پرو فیسر صغیر افراہیم
معاشرے کی تشکیل میں کہانیوں کا اہم کردار: پرو فیسر صغیر افراہیم
عظیم اسٹریٹ،سر سید نگر،علی گڈھ،میں اسلم جمشید پوری کے اعزاز میں ”شامِ افسانہ“ علی گڑھ (ایس این بی)
”کہانی لکھنا مشکل فن ہے۔کہانی سننے اور سنانے کا دور وا پس لوٹ آ ئے تو تہذیبی زوال رک سکتا ہے۔ معاشرے کی تشکیل میں کہانیوں کا اہم کردار ہو تا ہے۔“ان خیالات کا اظہار معروف ناقد پرو فیسر صغیر افرا ہیم نے ڈاکٹر افشان ملک کے دولت کدے عظیم اسٹیٹ، سر سید نگر میں نئی نسل کے منفرد افسانہ نگارجناب ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کے اعزازمیں شام ِافسانہ“ تقریب میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہو ئے کیا۔انہوں نے مزیدکہا کہ ناول اور افسا نہ نگار بے حد حساس ہو تے ہیں اور وہ زمانے کے درد کو پہلے خود پر طاری کرتے ہیں تب جا کر کوئی فن پا رہ تخلیق ہو تا ہے۔انہوں نے از سر نو کہانی کا رواج فروغ دینے پر زور دیا۔بزم افسا نہ کے مہمان اعزازی، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کے شعبہئ اردو کے صدر،معروف افسا نہ نگار ڈا کٹر اسلم جمشید پو ری...
معاشرہ میں امن وانصاف کا قیام وقت کی اہم ضرورت : حضرت امیر شریعت
معاشرہ میں امن وانصاف کا قیام وقت کی اہم ضرورت : حضرت امیر شریعت جمشید پور ۲۹؍ جون
امن وانصاف کا قیا م موجودہ معاشرہ کی اہم ضرورت ہے ، اس لئے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انصاف کی راہ کو آسان بنائیں اور معاشرہ میں امن وسکون کی خوشگوار فضا قائم کرنے کی فکر کریں۔دار القضاء کا نظام در اصل اسی انصاف کی راہ کو آسان بنانے اور مسلمانوں کو ان کے عائلی مسائل میں شریعت اسلامی کے مطابق فیصلہ حاصل کرنے کیلئے قائم کیا گیا ہے ، ضرورت ہے کہ اس نظام کو مزید مستحکم بنایا جائے اور پوری وسعت دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس نظام سے فائدہ اٹھا سکیں ،ان خیالات کا اظہار حضرت امیر شریعت مولانا سید نظام الدین مد ظلہ جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بوورڈ نے قضاۃ وعلماء کے ایک باوقات اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔ آپ نے اس موقع پر علماء اور قضاۃ کو اپنے مطالعہ میں وسعت پیدا کرنے،مقدمات کے فیصلوں میں پوری گہرائی وگیرائی کے ساتھ غور اور تدبر کرنے کی بھی تلقین کی اور کہا کہ ہمارے علماء اور...