وہ اتنا کم سے کم تو مہرباں ہے : منصورخوشترؔ
غزل
منصورخوشترؔ
وہ اتنا کم سے کم تو مہرباں ہےمرا ہی نام زیبِ داستاں ہےسلیقے سے جو کرتا دشمنی بھیستمگر اب کوئی ایسا کہاں ہےکہانی شوق کی ہے میرے اتنیکہ اک مٹی کا پانی پر مکاں ہےمجھے اب کیا کسی شے کی ضرورتترا غم جب متاعِ جاوداں ہےبھلا کیسے یقیں اس پر کروں میں مرا محبوب مجھ سے بدگماں ہےکہانی فیس بُک پر ہے رقم ابمحبت اپنی مشہورِ جہاں ہےمجھے خوشترؔ وطن اپنا ہے پیارازمیں پر خُلد یہ ہندوستاں ہے
منصورخوشترؔ...
وقت گواہ ہے: رضواں ؔواسطی
وقت گواہ ہے
رضواں ؔواسطی
جمشیدپور
اس کے خلاف آواز اٹھانا دہشت گردی
ظلم کو سہنا بھی تو ظلم ہے
کچھ لوگوں نے ’ستونِ دار‘ کو
’سر کے چراغوں‘سے تھا سجایا
اب وہ کہاں ہیں؟
کچھ دیوانے ’کوئے یار‘ سے نکلے
’سوئے دار‘ چلے تو
کسی نے سرخ آنچل کو پرچم بنا کے دیکھا
مڑ کے نہ دیکھا
سرخ سویرا خواب تھا ان کا
ؒخواب رہ گیا
قفس کی دیواروں سے سر ٹکراتے رہے وہ
کچھ دیواریں ٹوٹی بھی تھیں
لیکن کچھ آزاد پرندے
مست مگن تھے اپنی اڑانوں میں
کچھ ایس
اپنی حدوں سے آگے بڑھ گئے
جنت ان کے قدموں کی جاگیر بن گئی
پیچھے مڑ کر دیکھتے بھی کیوں؟
اپنے ساتھی تاریکی میں کیسے ڈوبے؟
تاریکی یاظلمت ان کو نظر بھی آخر کیسے آتی؟
ان کی آنکھوں پر تواپنے نئے افق کی
دھول جمی تھی ....سوچا ہم کو جنت مل گئی
سچ یہ نہیں تھا، سچ یہ نہیں ہے
ان کو یہ بھی علم نہیں تھا
انقلاب کے پیچھے بھی اک انقلاب ہے
ایک نیا طوفان کھڑا ہے
اس طوفان کا نام تو چاہے جو بھی رکھ لیں
سائیکلون،ٹارنیڈو، آندھی، آئیلا، ہریکین،
کال بیساکھی،شمال،کیٹرینا یا سونامی
یہ بھی تو سوچیں
یہ سارے طوفان زمیں پر کیوں اگتے ہیں؟
کیوں اٹھتے ہیں؟
یہ بھی زمیں کے پروردہ ہیں
ہند وپاک، افغانستان، عراق،ایران،
شری لنکا، نیپال......
کہیں بھی اٹھ سکتے ہیں
سارے زمیں کے ہی بیٹے ہیں
انقلاب کی کروٹ
جب بھی بدلی ہے دھرتی نے
جنم لیا ہے ایک نئے طوفاں...
وطن کی فریاد: احمد نثارؔ
وطن کی فریاد(ایک گیت)شاعر: احمد نثارؔممبئی، مہاراشٹراMob: 09325811912 / 9175562265Email: ahmadnisarsayeedi@yahoo.co.in
آپ کا ملک ہو ں کچھ تو میری سنو
آپ کا ملک ہو ں، کچھ تو میری سنومیری آواز ہے، میرے نالے ہیں یہمیری فریاد ہے، کچھ تو میری سنو۔۔۔۔ آپ کا ملک ہوں کچھ تو میری سنو!
خوں سے یوں نہ رنگو، میرے اِتِہاس کویوں نہ توڑو کبھی، میرے وشواس کومیں کبھی بھی تمہیں، غیر جانا نہیں مجھ کو اپنا کبھی، تم نے مانا نہیں دھرم کے نام ملکوں کی تقسیم کیکیا کبھی میں نے نفرت کی تعلیم دیکیوں محبت کے دامن کو چھوڑے ہوتماپنے ہی آپ سے مُنہ کو موڑے ہو تممیری آواز ہے میرے نالے ہیں یہمیری فریاہے کچھ تو میری سنو۔۔۔۔ آپ کا ملک ہوں کچھ تو میری سنو!
حملہ ور بن کے آئے یہاں ہر کوئیآریہ، ہون ہو، یا ہو مسلم کوئیتم ہو کس دھرم کے میں نے پوچھا نہیں تم ہو کس نسل کے میں پوچھا نہیں میں نے دامن بچھایا تھا، ہر ایک کومیرا گلشن سجایا تھا، ہر ایک کواور بدلے میں دیکھو، مجھے کیا مِلامیرا دامن یوں ٹکڑوں میں بٹوا دیاجن پہ میں ناز کرتا تھا خاموش ہیں میرا احساں لئے بھی فراموش ہیں میری آواز ہے میرے نالے ہیں یہمیری فریاد ہے کچھ تو...
ہوا کو باندھ کے طوفان کر دیا گیا ہے: دلشاد نظمی
غزل
دلشاد نظمی
ہوا کو باندھ کے طوفان کر دیا گیا ہے
چلیں گی آندھیاں اعلان کر دیا گیا ہے
پتہ نہیں میں کبھی فائدہ بھی لکھ پاؤں
کچھ اس قدر مرا نقصان کر دیا گیا ہے
یہاں سے امن کے حامی گزرنے والے ہیں
یہ رستہ اس لئے سنسان کر دیا گیا ہے
بھگت رہا ہوں میں وعدوں کی تلخ سچائی
تجھے بھی ماءلِ امکان کر دیا گیا ہے
قصاص مانگ رہا تھا امیرِشہر سے جو
دِیَت میں اس کو بھی قربان کر دیا گیا ہے
اٹھا دیے گئے رستوں سے میل کے پتھر
مسافروں کو پریشان کر دیا گیا ہے
بنا دئیے گئے معصوم لوگ دہشت گرد
منافقوں کو مسلمان کر دیا گیا ہے
وہ آخری تھی مری چیخ.اور یہ تازہ لہو
ابھی ابھی مجھے قربان کر دیا گیا ہے
خود اپنے آپ سے دلشاد کچھ نہ کہہ پاؤں
یہ کس قدر مجھے بے جان کر دیا گیا ہے
--------
دلشاد نظمی...
ہندوستان کی مشہور ومعروف شاعرہ ” فوزیہ اختر ردا ” کی غزلوں پر تبصرہ : پروفیسر رام داس، جھارکھنڈ، رانچی
ہندوستان کی مشہور ومعروف شاعرہ "فوزیہ اختر ردا" کی غزلوں پر تبصرہ قارئین کی نذر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
تبصرہ۔۔۔ پروفیسر رام داس، جھارکھنڈ، رانچی
فوزیہ اختر ردا کی شاعری اردو شعر و ادب میں نئی روح پھونکنے اور نئی زندگی بخشنے والوں میں شعرا، ادبا، ناقدین، افسانہ نگار، مقالہ نویس، اساتذہ (Men)، کے شانہ بشانہ خواتین اساتذہ، شاعرات، ادیبہ و ناقدہ، مضمون و مقالہ نویسندہ، کہانی کار، گلوکارہ، اداکارہ وغیر حضرات women artist یعنی ذہین و فطین، زن و خواتین فنکار بھی ازل سے کارہائے نمایاں انجام دیتی رہی ہیں مثلا زیب النسا، بیگم مخفی، حبہ خاتون، مہ جبیں بیگم ناز عرف مینا کماری، پروین شاکر وغیرہ- جدید اور وحید العصر شاعرات میں بھی متعدد اور منفرد نیز مختلف مکاتیب فکر کی قابل قدر خواتین قلمکار حضرات موجود ہیں جو تحریری تصاویر اور نقوش مقدس پیش فرما کر سرخرو ہو رہی ہیں ان ہی میں سے ایک بالکل نئی شاعرہ محترمہ فوزیہ اختر ردا صاحبہ ہیں جو دنیائے شعر و ادب میں مشق سخن اور مسلسل تخلیق فن کے سبب روز بروز فوز و کامرانی حاصل کر رہی ہیں اور ترقیوں کی سیڑھیاں چڑھتی جا رہی ہیں۔ بحر متقارب مثمن محزوف کے مخصوص ارکان فعولن فعولن فعل کے تحت فوزیہ اختر ردا فرماتی...
نظم۔۔۔ "چہرہ” فوزیہ اختر ردا
نظم۔۔۔
"چہرہ"
فوزیہ اختر ردا
آئینے کو بھی چہرہ عطا کیجئے اور ہونٹوں پہ نغمہ سرا کیجئے دشت در دشت کالی گھٹا درد، آنسو، رہے مغفرت کی دعا کے لئے گرد آفاق سے ڈھک گئے حسرتوں کے دئے عکس دیوار پر جھلملانے لگے روح کی کارسازی یا وارفتگی معتبر یوں بصیرت خدا کیجئے آئینے کو بھی چہرہ عطا کیجئے
سانس چلتی رہے اپنی رفتار سے پیرہن روح کی سی لیا ورد اقرار سے شر سے مطلب نہیں خیر ہی خیر ہے خواب سے کچھ بھی شکوہ نہیں اس کی تعبیر سے دل الجھتا نہیں ہم نوا کا پتہ بھی نہیں ناز و نخرہ نہیں کچھ نشہ بھی نہیں حسن ایسا عطا کیجئے آئینے کو بھی چہرہ عطا کیجئے
رنجشوں کی نوازش ہوئ دوستوں کی نمائش ہوئی میل دل کا ہو کافور اب سرنگوں بھی ہو مغرور اب کرچیاں بنکے اڑنے لگے عشق کے وار سے اچھے اچھے ہوئے منقسم، منہدم جس کے آگے زمانہ جھکے قلب ایسا عطا کیجئے آئینے کو بھی چہرہ عطا کیجیئے
فوزیہ اختر ردا...
نذرِ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام :احمد علی برقیؔ اعظمی
نذرِ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام
احمد علی برقیؔ اعظمی
حسین ابن علی کی زندگی اک درسِ عبرت ہےحسین ابن علی کی آج بھی سب کو ضرورت ہےجہادِ زندگانی میں یہ روحِ آدمیت ہےاسی سے خونِ دل میں اہلِ ایماں کے حرارت ہےبچالی موجِ خوں میں ڈوب کر اسلام کی کشتیشہامت اِس کو کہتے ہیں،یہی شانِ شجاعت ہےعلی مرتضی کی راہ پر تھے گامزن وہ بھیکرو تم پیروی اُن کی اگر ذوقِ عبادت ہےہے عملی زندگی رُشد و ھدیٰ شبیر و شبر کیتمہارے سامنے دیکھو یہ معیارِ اِمامت ہےحسین ابن علی سے آکے سیکھے کربلا میں وہجہاں میں جس کو بھی درکار صبرو استقامت ہےرضائے حق میں ہے برقیؔ مثالی اُن کی قُربانیاِدھر آؤ اسے دیکھو اگر شوقِ شہادت ہے...
مہینوں کا سلطاں:احمد نثارؔ
مہینوں کا سلطاں
احمد نثارؔ، شہر پونہ، مہاراشٹر، انڈیا
مہینوں کا سلطاں،ہے یہ ماہِ رمضاں کہ تکمیلِ ایماں، ہے یہ ماہِ رمضاں ہلال آگیا ہے نظر آسماں پرجو برلائے ارماں، ہے یہ ماہِ رمضاں جو ننھے جواں اور بوڑھوں کے حق میں سجایا گلستاں، ہے یہ ماہِ رمضاں ہیں روزوں کے جھرنے، نمازوں کے چشمےعبادت کا ساماں، ہے یہ ماہِ رمضاں کہ درسِ وفا درسِ ایثار دیتاہوا جو درخشاں، ہے یہ ماہِ رمضاں سیاہی زمانے کی دھونے دھلانےجو بخشا ہے یزداں، ہے یہ ماہِ رمضاں غریبوں امیروں کو نزدیک لانےہمیشہ ہی کوشاں، ہے یہ ماہِ رمضاں مکاں لامکاں کی جو نسبت بتائےسنو اہلِ ایماں، ہے یہ ماہِ رمضاں نثارؔ آپ بھی اپنی دولت کما لومہینے کا مہماں، ہے یہ ماہِ رمضاں
٭٭٭٭٭احمد نثارؔ، شہر پونہ، مہاراشٹر، انڈیا...
متفرق غزلیات : (اسلم بدر) جمشید پور
وادئ جاں میں جاں بہ لب اترے پاؤں اپنے زمیں پہ اب اترے ہو رہا ہے غبارِ شام بلند اب تو ہونے کی تاب و تب اترے پردۂ برگ گل میں لمس بدن خوشبو و رنگ لب بہ لب اترے خواب میں کچھ نقوش بے معنی بے طلب اترے بے سبب اترے بھول کر درد اپنے سب آداب میرے زخموں میں بے ادب اترے جھانجھنے چاندنی کی بجنے لگیں شام کی سیڑھیوں سے شب اترے کتنے بے نام ذائقے اسلمؔ میری آنکھوں میں بے نسب اترے
دنیا سب کی داسی ہے
کیا یہ بات ذرا سی ہے مٹی سے نوری حد تک سیڑھی ایک دعا سی ہے چھونے سے اپنانے تک ہر تازہ پل باسی ہے بھوگ کے سارا سکھ سنسار جوگن من سنیاسی ہے صحرا کی چُپ ہے سیراب بہتی ندّی پیاسی ہے وقت کچھ ایسا ہے ہم پر تتلی بھی بھونرا سی ہے
کانپ رہی ہے جو تھر تھر
بوند وہی دریا سی ہے پھولوں کی مہکار میں بھی اک خاموش صدا سی ہے شب کا کاجل ہے تیار شام ابھی سُرما سی ہے چاند نگر کے باسی کو دھرتی بھی تارہ سی ہے...
لوری : ناصر ملک
لوریایک زلزلہ زدہ لڑکی کے منظوم الفاظ ۔۔۔
ناصر ملکڈائریکٹر: آرٹ لینڈ ۔ گرلز کالج روڈ چوک اعظم۔ ضلع لیہفون: 0606-372557
چلو اِک بار پھر سے ہماجل کے سرخ پنجوں سے نکل کے زندگی اَوڑھیںیہ مٹی اپنے پیاروں نے لہو سے گوندھ رکھی ہےاِسی مٹی میں پتھروں کو پَرو کر ہم نئے گھر کی بنا ڈالیںچلو ماضی کی یادوں میں نیا سپنا سجا ڈالیںانہی سنگلاخ پتھروں نے مرے ’’بابا‘‘ کو نگلا ہےاِسی ملبے نے میری ’’ماں ‘‘ کو مجھ سے چھین رکھا ہےاِسی ٹوٹے ہوئے دَر نے مرا ’’لالہ‘‘ چبا ڈالااِسی کونے میں ’’باجی ‘‘ نے فنا کا ذائقہ چکھاچلو اُٹھو کہ ان بکھری ہوئی چیزوں کو پھر جوڑیںیہیں سے راستہ ڈھونڈیں ، اِنہی پتھروں سے سر پھوڑیںدرختوں پر لٹکتی روٹیوں سے بھوک اچھی ہےہوس آلود نظروں سے بھلی ہے گود پتھر کییہ پتھر مار دیتے ہیں مگر نوچا نہیں کرتےیہ انسانوں سے بہتر ہیں، بُرا سوچا نہیں کرتےچلو اُٹھو مرے بھیا! چلو جاگو مرے بھیا!اُٹھو تنکے اکٹھے کر کے اپنا آشیاں جوڑیںکہ برسوں بعد پہلے کی طرح سب کچھ سجا ہوگامگر ’’امی‘‘ نہیں ہوگی، یہاں ’’بابا‘‘ نہیں ہوگاہائے ’’باجی‘‘ نہیں ہوگی، مرا ’’لالہ ‘‘ نہیں ہوگاچلو اُٹھو مرے بھیا! اجل سے بھاگ جاتے ہیںکھلونے ٹوٹ جاتے تھے...
گیت : نیاز اختر
نیاز اختر
(گیت)ایس۔ڈی۔او ۔آفس جمشیدپور سجن کیوں بھول گئے ہو گاؤں کھیتوں کی وہ بھیگی مٹی ہردم سوندھی سوندھی مٹی ماں کی گودی جیسی مٹی وہی دھوپ اور چھاؤں سجن کیوں بھول گئے ہو گاؤں اب بھی چلتا رو ز ر ہٹ ہے اب بھی ویسا ہی پنگھٹ ہے بہتی ندیاں گیلا تٹ ہے جہاں پڑے تھے پاؤں سجن کیوں بھول گئے ہو گاؤںلگتے ہیں ویسے ہی میلے ناٹک کھیل تماشے جھولے سکھیوں سے سن کر من ڈولے ساتھ میں کس کے جاؤں سجن کیوں بھول گئے ہو گاؤںپتہ پتہ ڈالی ڈالی کہکے جب کؤیلیا کالی میں برہن ہو کر متوالی کس کو د رد سناؤں سجن کیوں بھول گئے ہو گاؤں کیسے کاٹوں سونی رتیا کاہے بھولے ساری بتیا دکھ سے پھٹتی موعی چھتیا دل کے زخم کسے دکھلاؤں سجن کیوں بھول گئے ہو گاؤں
نیاز اختر ایس۔ڈی۔او آفس جمشیدپور E-mail- niyazakhtar40@gmail.com ...
غزلیں : یوسف دانش
غزلیں۔۔۔ یوسف دانشزمیں کو آسماں سے با خبر ہونے نہیں دیتایہ شیطاں آدمی کو معتبر ہونے نہیں دیتاملاقاتوں سے طئے کرتے رہے ہم فاصلہ لیکنیہ کیسی بے بسی وہ دل میں گھر ہونے نہیں دیتایہ نفرت جو دلوں میں غم کی بارش روز کرتی ہےوہ صحرا ہے جو الفت کا شجر ہونے نہیں دیتاوہ اب ناکامیوں سے خوف کھاتا ہے اسی خاطرمری اچھائیوں کو مشتہر ہونے نہیں دیتاتماشے بد نصیبی کے توقدرت ہی دکھاتی ہےہر اک موسم درختوں میں ثمر ہونے نہیں دیتابناتی ہے دعا اک رابطہ احساس کا دل سےدعا میں حوصلہ میرا اثر ہونے نہیں دیتامقدر کا جو لکھا ہے بدلتا ہے کبھی دانشؔ سکوں سے زندگی اپنی بسر ہونے نہیں دیتاجستجو میں کس کی دیوانہ ہوں میںذات سے خود اپنی بیگانہ ہوں میںمنزلیں ہیں پیار کی باقی ابھیٹھوکریں کہتی ہیں انجانا ہوں میںبار ہے لمحوں پہ یوں میرا وجوداک ادھورا جیسے افسانہ ہوں میںمجھ سے چاہے جس قدر برہم رہےزندگی تیرا ہی پروانہ ہوں میںاور دانشؔ کیا تعارف دیجئےہر نظر میں جانا پہچانا ہوں میں****یوسف دانش...
غزلیں : یوسف دانشؔ
غزلیں
یوسف دانشؔ ہم پہ احساس کا غالب ہے اثر جانتے ہیں ورنہ جینے کے کئی اور ہنر جانتے ہیں ہم کو معلوم ہے دنیا کے مصائب کی روشیہ فقط مفلس و نادار کا گھر جانتے ہیںکیوں اندھیروں سے ڈراتے ہو ہمیں تم یاروپردۂ شب سے ابھرتی ہے سحر جانتے ہیںخود کو اوروں کی نگاہوں سے کبھی دیکھ ذراتو بھلا چیز ہے کیا اہلِ نظر جانتے ہیںگمرہی سے ہی ملا ہے ہمیں منزل کا پتہہم نہ رہبر نہ کوئی راہ گذر جانتے ہیںموج دریا کو بنالینگے سہارا اپناہم بھی طوفاں سے گذرنے کا ہنر جانتے ہیںرہ نمائی کی ضرورت نہیں ہم کو دانشؔ راہِ منزل کا ہر اک زیر و زبر جانتے ہیں*****مرکز میرے اُمید کا ایسا نکل گیابھوکا تھا میں وہ خون کا پیاسا نکل گیاخنجر کی پیاس کی ذرا شدت تو دیکھئےزخموں سے خون پھر مرے تازہ نکل گیارفتار میری دیکھ کے حیرت میں ہے جہاںاس کو گماں ہے پاؤں سے کانٹا نکل گیاکتنا ہے خوش نصیب وہ لوگوں کے درمیاںاندھوں کے شہر میں بھی جو کانا نکل گیازخموں کو دیکھتے ہی تعجب ہوا مجھےسمجھا تھا جس کو غیر وہ اپنا نکل گیامیں نے کبھی تو ان کو کہا بے وفا نہیںلیکن قلم سے شعر کچھ ایسا نکل گیاچرچہ تھا...
غزلیں : نوشاد مومن، کلکتہ
نوشاد مومن، کلکتہ غزلیںیہ دستور محبت ہے، سنو ایسا نہیں کرتےسرِ محفل محبت کا کبھی چرچا نہیں کرتےجنہیں معلوم ہے شہرت یہاں یکساں نہیں رہتیذرا سی کامیابی پر وہ اترایا نہیں کرتےرہے پیش نظر منزل ، تمنا گر ہے منزل کیسفر ہے شرط تو تھک کر کہیں بیٹھا نہیں کرتےکہیں ایسا نہ ہو زد میں تمہارا سر ہی آجائےبلندی کی طرف پتھر کبھی پھینکا نہیں کرتےجو ممکن ہو نہیں سکتا وہ مومنؔ کردکھاتے ہیںزمانے کے حوادث کی وہ کچھ پروا نہیں کرتےغزلاس کی آنکھ میں پانی ہےعالم کو حیرانی ہےذرہ ہوں میں ، میرا کیا ؟لاکھ ہوا طوفانی ہےمیری یاد کا حصہ تم !کیسی یہ نادانی ہےبھیس بدل لو جتنے بھیصورت تو پہچانی ہےجب سے گیا ہے روٹھ کے وہیہ دنیا بے معنی ہےلنگر کھولو تو جانیںدریا میں طغیانی ہےمومنؔ رسوا چاروں اُورشان مگر سلطانی ہے...
غزلیں : مظفرؔ حنفی
غزلیں
مظفرؔ حنفی نشاں دیں گے ، نقوشِ پا نہ چھوڑوکچل دے گی ہَوا ، رستا نہ چھوڑوبسائے جارہے ہو شہر پر شہرکہیں جنگل کہیں ویرانہ چھوڑوبھری بستی میں وحشت ناچتی ہےیہاں لاکر کوئی دیوانہ چھوڑواندھیرا تھا تو اتنا بچ رہا ہوںاُجالے میں مجھے تنہا نہ چھوڑوکنارے سے َ چھٹی ِ حس چیختی ہےکہ خطرہ ہے ابھی دریا نہ چھوڑوسبق لو حاشیہ آرائیوں سے بیاضوں کے ورق سادا نہ چھوڑوجدھر دیکھو بگولے اُٹھ رہے ہیںخیالِ طرّۂ لیلیٰ نہ چھوڑوصداقت کی زباں میں سُوئی دے کرمِلے جب تک من و سلویٰ نہ چھوڑوبہت لکھنے سے گھبراکر مظفرؔ مصیبت میں غزل کہنا نہ چھوڑو****پا بہ زنجیر ہیں بے باک صدائیں کیسیقید ہیں شہرِ تمنّا میں ہَوائیں کیسیہم نے چہرے تو نقابوں میں ُ چھپا رکھے تھےآئینوں میں نظر آتی ہیں بلائیں کیسیسانس لیجیے تو کماں زخم کی تن جاتی ہےصرف جینے کا قصور اور سزائیں کیسیدیوتا پھر سے بلوتے ہیں سمندر شایدورنہ دھرتی پہ ہر اِک سمت وبائیں کیسیپاس پہنچے تو وہی صفر الف کے اوپردُور سے تھیں یہی خوش رنگ قبائیں کیسیہاتھ سے ہاتھ نہ جاتا رہے گمراہی کاکیا پتہ آپ نئی راہ بتائیں کیسیکوئی گردن زدنی ہو تو ہزاروں حیلےبخشنا ہی کوئی چاہے تو خطائیں کیسیہر طرف اپناہی چہرہ نظر آتا ہے مجھےاوڑھ لیں...
غزلیں : گوہر عزیز
گوہر ؔ عزیزشعبۂ اردوکریم سٹی کالججمشید پور (انڈیا)غزلیںکٹ گئی رات تو اب دن کے اُجالے ہوں گےپھر سفر ؟ پھر تو وہی پاؤں کے چھالے ہوں گےگاؤں میں کچھ نہ سہی پیارسے جی تو لیں گے شہر کے لوگ تو نہ پوچھنے والے ہوں گے قتل و خوں، خوف دھماکوں کا، یہ دہشت گردی کیا مرے بچّے ا سی وقت کے پالے ہوں گے زندگی روٹھ کے تو ہم سے کہاں جائے گی ہم سے بڑھ کر نہ کہیں چاہنے والے ہوں گے ہم تو دستارِ شرف پا کے ہوئے خوش لیکن جو بھی ہوں گے وہی جنّت کے نکالے ہوں گے غم تجھے دے گا، تجھے غم کا بدل بھی دے گا اس کے اندازِ محبّت تو نرالے ہوں گےہوئے کیسے بدنام چاہت سے پہلے سیاست ہوئی ہے محبت سے پہلےخدا جانے ان کی نظر کیا کرے گیجلا دے نہ مجھ کو عنایت سے پہلے یہ کیسی عدالت، یہ انصاف کیسا مرا جرم ثابت سماعت سے پہلےنہ دیکھا، نہ پوچھا، نہ چاہا تو پھر کیاسبب تو بتاتے بھی نفرت سے پہلےادائے وفا دل کو دے دے خدایامحبت ہے لازم عبادت سے پہلےجو تھا وہ ہے اب بھی جو ہے وہ رہے گاحقیقت ہے وہ ہر حقیقت سے پہلےدعاء کیجیے میرے حق میں یہ گوہرؔ شعور آئے مجھ میں ندامت سے پہلے...
غزلیں : خواجہ جاوید اختر
غزلیں
خواجہ جاوید اختر ہے کہاں اب ایسا قد آور کوئیہم سے پہلے تھا شجاعؔ خاور کوئیاِس تناور شاعری کے سامنے ہو نہیں پائے گا بار آور کوئیغور سے دیکھو ذرا اُس شخص کومجھ کو لگتا ہے وہ دیدہ ور کوئیحق و باطل کا کرے گا فیصلہچُھپ کے بیٹھا ہے کہیں داور کوئیکچھ نہ کچھ تو ہے سبب جو آجکلمجھ کو کرتا ہی نہیں باور کوئیمیرے فن کی دیکھنا باریکیاںمیں نہیں ہوں جب کہ پیشہ ور کوئیغزل ہر وقت یہ احساس دلانے کا نہیں میںتیرا ہوں فقط، سارے زمانے کا نہیں میںمدّت سے مرے سینے میں اک راز ہے پنہاںیہ راز مگر سب کو بتانے کا نہیں میںدریا تو ہوں لیکن مرے اندر ہے وہ وسعتکوزے میں کسی طور سمانے کا نہیں میںاِس بار کوئی گل میں کھلاؤں گا یقیناصحرا میں فقط خاک اُڑانے کا نہیں میںاِس بھیڑ میں پہچان مری سب سے جدا ہےشیشہ ہوں مگر آئینہ خانے کا نہیں میںلگتا ہے وہ پھر کوئی نئی چال چلے گااِس بار مگر جال میں آنے کا نہیں میںاب ڈوبنا چاہے جو کوئی شوق سے ڈوبےہر ڈوبنے والے کو بچانے کا نہیں میںخواجہ جاوید اختر ...
غزلیں : اشرف علی اشرفؔ ، جمشید پور (جھارکھنڈ)
غزلیں اشرف علی اشرفؔ ، جمشید پور (جھارکھنڈ) زخم جب جب بھی مرا تم کو دکھائی دے گا پشت پہ کس نے کیا وار گو اہی دے گا بے وفا دیکھ ذرا دل میں اتر کر میرےہر طرف درد بھرا نغمہ سنائی دے گا حسن والے کا تو انصاف جدا ہوتا ہے قید مانگو گے اگر تم تو رہائی دے گا نیک کردار ، عمل اور وفا کا پودا کوئی موسم ہو مگر سبز دکھائی دے گاکوئی دے یا نہ دے لیکن تھا بھروسہ مجھ کو وقت آیا تو سہارا میرا بھائی دے گا دیکھ تو لاکے کبھی اپنے تصوّر میں اُسےدل کی آنکھوں کو حسیں جلوہ نمائی دے گا فرمانبردار جو فرزند ترا ہو اشرفؔ اس سے بڑھ کر کے خدا کیسی کمائی دے گا ****کلی ہے پھول ہے گلشن ہے کیا کیا جائے عجب سی ذہن میں الجھن ہے کیا کیا جائے پسند آئے نہ آئے تجھے تری مرضی یہی غریب کا آنگن ہے کیا کیا جائے شباب اور چڑھے گا حیا بھی آئے گی ابھی ادا میں لڑکپن ہے کیا کیا جائے بہار چھائی ہے ان کے چمن میں خوشیوں کی ہماری آنکھوں میں ساون ہے کیا کیا جائے وہ کوئی غیر نہیں جس نے گھر اُجاڑا ہے ہمارا بھائی ہی دشمن ہے کیا کیا جائے میں کیسے پیاس بجھاؤں نگاہ سے اشرفؔ مرا رقیب...
غزلیں : اسلم بدر
شکریہ مہتاب
" عالمی پرواز " کے تمام شہپروں کو میری طرف سے بھی عید الالضحیٰ کی مبارکباد.........
آپ کے سائیٹ کے لئے دس بالکل تازہ غزلیں بھیج رہا ہوں ۔
اسلم بد ر
غزلیں
اسلم بدر (مشرق وسطیٰ کے نام دو غزلیں)
شام کے سائے گھنیرے، وقت ہے ٹھہرا ہوا سا فاختہ سہمی ہوئی سی، اژدہا بڑھتا ہوا سا سوئے ہیں محراب و منبر ریشمی چادر لپیٹے اک پرانا بوریہ مینار سے لپٹا ہوا سا برف ہونٹوں سے پھسلتی بولیاں ٹھٹھری ہوئی سی فکر کفنائی ہوئی، احساس دفنایا ہوا سا صبح کے صفحے پہ آنکھیں کیا نئی تعبیر لکھیں رات، پچھلی رات جیسی، خواب بھی دیکھا ہوا سا متحد ہیں پنچ سب بستی کے لیکن ایک سر کش اور کچی ڈور سے اک فیصلہ لٹکا ہوا سا کالے سونے کی ابلتی موج مئے سے بزم جل تھل خود فراموشی کا نشّہ چار سو چھایا ہوا سا سرسراہٹ میں ہواؤں کی، کوئی آہٹ سی اسلمؔ پیش خیمہ سر پھری آندھی کا...
غزلیں : فاروق بخشی
غزلیں فاروق بخشی
میں جانتا ہوں مجھے کیسے کیسے پرکھے گاوہ خود اصول بنائے گا خود ہی توڑے گامری انا کی حفاظت اسے نہیں منظور وہ مجھ سے کہہ کے گیا ہے کبھی نہ لوٹے گاابھی سے کیوں ہے چراغاں تمھاری پلکوں پرڈھلے گی رات تو وہ شہر دل سے گزرے گاوہاں وہ بستیاں تاراج کرنے والاپھراکڑ کے کہتا ہے یہ تخت و تاج لے لے گامجھے درختوں کی صحبت نصیب ہے فاروقکسی نے مجھ کو دیا بھی تو کوئی کیا دے گا............... اس زمیںآسماں کے تھے ہی نہیںرابطے درمیاں کے تھے ہی نہیں ہم سے مٹی مہک گئی کیسے ہم تو اس خاکداں کے تھے ہی نہیںکیسے کرتے رقم حدیث دل واقعے سب بیاں کے تھے ہی نہیںوہ مری سمت دیکھتا کیسے رشتے کچھ جسم و جاں کے تھے ہی نہیںہم وہ کردار کیسے بن پاتے جب تری داستاں کے تھے ہی نہیںان سے تہذیب کی توقع تھی وہ جو اردو زباں کے تھے ہی نہیں***...