السبت, 18 آذار/مارس 2017 20:10

جی۔ایل موومنٹ: ڈاکٹر اختر آزاد G.L MOVEMENT - DR. AKHTAR AZAD

Rate this item
(0 votes)

(افسانہ) 

جی۔ایل موومنٹ 
ڈاکٹر اختر آزاد
 جمشید پور

              اور پھر ایک دن ڈونالڈ نے جیکسن کے عضوِ خاص کا آپریشن کر کے اُسے جانگھوں کے درمیان سے آزاد کر دیا اور وہاں آرٹی فیشیل سوراخ بنا کر ایک ایسا کارنامہ انجام دیا کہ ساری دُنیا محوِ حیرت بنی دیکھتی رہ گئی ۔ 
وہ میڈیکل کالج کا پہلا دن تھا ۔ جب Aegean Seaجزیرے کی دیوی صفت میڈم Shapphoنے انٹروڈکشن کے بعد مردوزن کے اسرار و رموز سے حیاتیاتی پردہ سرکاتے ہوئے ہارمونس پر اپنے لکچر کا آغاز کیا ’’ ہارمونس کی زیادتی سے جہاں ایک عورت کے اندر مرد کی خصلتیں در آتی ہیں ، وہیں کمی کے باعث ایک مرد میں عورت کی عادتیں بھی سرایت کر جاتی ہیں ۔ ‘‘ تب جیکسن کا ہاتھ سرکتا ہوا بغل میں بیٹھے ڈونالڈ کی جانگھوں کے درمیان جا کر ٹھہر گیا ۔ ڈونالڈ نے ترچھی نظروں سے بغل میں بیٹھے اُس پُر کشش چہرے والے ساتھی کو دیکھا اور ردِّعمل کے طور پر مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھ دیا ۔ 
کلاس ختم ہوتے ہی دونوں پرنسپل چیمبر پہنچے۔ 
’’اگر تمہارے روم پارٹنروں کو اعتراض نہ ہو تو میوچول انڈر اسٹینڈنگ کی بنیاد پر تم دونوں روم پارٹنربن سکتے ہو ۔ ‘‘
پھر کیا تھا:کھانا پینا ، اُٹھنا بیٹھنا ، گھومنا پھرنا، سونا جاگنا سب ایک ساتھ ہونے لگا ۔ کالج میں ہر جگہ دونوں ساتھ ساتھ دکھائی دیتے ۔ ایک ہی بینچ پر بیٹھتے، مارکیٹنگ بھی ساتھ کرتے ۔ کسی پروگرام میں شریک ہوتے تو دونوں ہوتے ، نہیں ہوتے تو دونوں نہیں ہوتے ۔ کالج کی چھُٹّیاں بھی ساتھ ساتھ گُذارتے ........ .کالج میں جہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہر روز نِت نئے جھگڑوں کا اوسکار ہوتا ، وہیں دونوں کے درمیان کبھی تُوتُو، مَیں مَیں بھی نہیں ہوئی۔ اِس لئے ہر سال بِنا کسی کانٹیسٹ کے بیسٹ فرینڈ شپ ایوارڈ بھی دونوں کو ملتے رہے ۔ کچھ نے نفاق کی کوشش کی ۔ لڑکیوں کا سہارا لیا ، لیکن لڑکیوں کی پُر کشش آنکھیں بھی دونوں کے درمیان حدِّ فاضل کھینچنے میں ناکام رہیں ........ لیلیٰ مجنوں اور رومیوجولیٹ جیسے الفاظ جو پھبتیوں کے طور پہ ہر خاص وعام کی طرف سے کَسے جاتے تھے اس کابھی براہِ راست اثر دونوں پہ مثبت پڑتا ۔ اور اس وقت دونوں ایک عجیب سے نشے میں شرابور ہو جاتے اور پشت سے ہو کر گذرنے والی گذرگاہ کی طرف تیزی سے بڑھ جاتے ۔
کالج ختم ہوا اور وہ دونوں اپنی آنکھوں میں غیر فطری سفر کی تھکان سمیٹے اپنے اپنے گھر لوٹے ........ گھر والوں نے کچھ اور سمجھا ۔ حالاں کہ اپنے اپنے طور پر یہ جاننے کی کوشش کی کہ کہیں معاملہ دِل کا تو نہیں ہے ؟ لیکن جب سب پوچھ تاچھ کر کے ہار گئے تو پھر شادی کے لئے نانا کرنے کے باوجود سماجی دباؤ بناتے ہوئے گھر والوں نے اپنی پسند کی لڑکی اُن پرمسلّط کر دی ۔اور وہ دونوں چاہ کر بھی اپنا منہ نہ کھول سکے ۔ 
ڈونالڈ سیدھے راتے کا فطری مسافر تھا ۔ لیکن غیر فطری طریقۂ کار نے اُسے پُشت کے راستے پر ڈھکیل دیا تھا........ جب جینیفر اُس کی زندگی میں آئی تو ناف سے ہو کر گذرنے والا راستہ اُسے ایک دن جسمانی کارخانے تک لے گیا ۔ 
وقت سے پہلے ہی جینیفر کو درد اُٹھا ۔ڈونالڈ اُسے فوراً ہسپتال لے کر آیا۔ آپریشن کیا ........ بچّی تو بچ گئی، لیکن وہ اس درد کی شدّت کو برداشت نہیں کر پائی۔ ڈونالڈ نے جب یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تو اُسے ایسا لگا کہ خالقِ کائنات نے صرف انسانی کاروبار کے لئے عورت کی کوکھ کو ’بازار‘ کے طور پر استعمال کیا ہے ........ اِس لئے اُس نے اسی دن اپنی نومولود بچّی ڈاچی کے متعلق اپنا فیصلہ خود کو سُنا دیا کہ وہ اُسے زندہ دفن کر دے گا ، لیکن کبھی مردوزن کے جسمانی سفر کی اجازت نہیں دے گا۔
خامیاں اور کمزوریاں جب کسی کا مقدّر بن جاتی ہیں تب اپنے وقار کی بحالی کے لئے شہنائی سے دورتنہائی کے پڑاؤ کو انسان اپنا مسکن بنا لیتا ہے........ جیکسن بھی ایسا ہی کرنا چاہتا تھا، لیکن اِس سے پہلے ہی اُس کے گھر والوں نے جبراً اُس کی شادی کر دی۔
شادی کی پہلی رات جیکشن کو ایسی اُمید نہیں تھی کہ وہ سب کچھ جب اپنی کاغذی بیوی مارتینا کو بتائے گا تو وہ خوشی سے پاگل ہو جائے گی ۔ کیوں کہ وہ بچّہ جو مارتینا کی کوکھ میں پل رہا تھا ، وہ کس کا ہے ؟ اُسے خود بھی معلوم نہیں تھا۔ اِس لئے اُسے کسی ایسے ہی شو پیس مرد کی تلاش تھی ........ جیکسن بھی خوش تھا کہ مفت میں آج کل زہر نہیں ملتاتو فری میں وارث کون دیتا ہے ؟ لیکن اس سے پہلے کہ جیکسن اپنی کاغذی بیوی کا شکریہ ادا کرتا ، وہ ولیم کو جنم دے کر اپنے نئے بوائے فرینڈ کے ساتھ آزاد فضا میں پرواز کر گئی ۔
وقت کے سمندر میں تیرتی عزّت کی کشتی جب بے عزّتی کے بھنور میں پھنسنے لگی تب نومولود بچّے نے وقت کی پتوار تھام لی ۔ اس طرح جیکسن کی زندگی کی کشتی دوبارہ عزّت کے ساحل سے آ لگی ۔
سرکاری ڈاکٹروں کے تبادلے کو لے کر جہاں ملک بھر میں افرا تفری مچی ہوئی تھی ، وہیں انٹر نیٹ پہ ہوئی تصویری گفتگو کے بعد چوائس ٹرانسفر نے پری پلاننگ ڈونالڈ اور جیکسن کو دُنیا کے سب سے کثیر آبادی والے میٹرو پولی ٹن سِٹی میں برسوں بعد آنے سامنے لا کھڑا کیا تھا ۔ 
اس طرح ایک نئے شہر میں ایک بارپھر دونوں روم میٹ ایک ہی فلیٹ کی چھاؤں میں اپنے بچّوں کے ہمراہ رہنے لگے ......... ساتھ ساتھ ہسپتال جانا ۔ ایک ہی کیبن میں بیٹھنا ۔ ایک ہی گاڑی کا استعمال کرنا ۔ شاپنگ میں ساتھ ساتھ رہنا ۔ بچّے الگ الگ روم میں سوتے لیکن وہ دونوں ایک ہی بیڈ پر ساتھ ساتھ نیند کا مزہ اُٹھایا کرتے ۔ اس طرح ایک بار پھر پہلے کی طرح دونوں کی جوڑی ہسپتال سے لے کر سارے شہر میں ہِٹ ہو گئی ۔ 
شہر اور بیرون شہر میں عزیز و اقارب کی دیگر تقریبات میں دونوں جہاں ہمہ تن شریک ہوتے وہیں شادی جیسی اہم تقریب میں ان کی عدم شمولیت لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتی ۔ پوچھنے پر وہ تشفّی بخش جواب یوں پیش کرتے ۔
’’کھانے سے پہلے ہی ڈائننگ ٹیبل پر دو بدن ننگے ہو جاتے ہیں ۔ اس لئے کراہیت ٹپکنے لگتی ہے ۔ ‘‘
’’شادی کیا ہے ؟جسمانی لذّت ہی تو ہے۔ پھر اِس لذّت کے لئے صنفِ مخالف کیوں ؟ ہم جنس کیوں نہیں ؟ نہ بچّہ ، نہ درد اور نہ ہی جان کی قربانی .......‘‘ 
اس آئیڈیالوجی کو اپناتے ہوئے ایک دن ڈونالڈ نے جیکسن کے عضوِ خاص کا کامیاب آپریشن کیا اور ببانگِ دہل اُسے اپنا لائف پارٹنر بنا لیا ۔ 
لذّت اور لذّت کے پیچھے بھاگتی دنیا یہ سب کچھ دیکھتی رہی ۔
دونوں کی تصویریں اخباروں میں چھپتی رہیں ۔
ٹیلی ویژن پر انٹرویو کا دور چلتا رہا ۔ 
’’دوستو! ہماری خوشیوں کا محور جسمانی لذّت ہے ۔ ہم نے ہم جنس پر کامیاب تجربہ کیا ہے ۔ اس لئے یہ میرا دعویٰ ہے کہ آپریشن کے بعد ہم جنس جوڑے آپس میں ویسی ہی جسمانی لذّت حاصل کر سکتے ہیں ۔ یاد رہے کہ ہمارے یہاں ویسے جوڑوں کا آپریشن مفت میں کیا جاتا ہے ۔‘‘
پھر دونوں نے اپنی اس مہم کو شہر شہر گھوم کر تیزکرنے کی کوشش کی ۔ کئی ایک جوڑوں کو کنونس بھی کیا ۔ بچّہ رہِت خوشیوں کا جو نیا کانسیپٹ اس مہم نے دیا تھا اس کے تحت نئی نسل میں کافی آکرشن تھا۔ اس لئے آزاد فضا میں آزادانہ زندگی گزارنے والے آزاد ہم جنس جوڑے فوراً اس مہم میں کود پڑے ۔ 
پھر جگہ جگہ ’’ گے اینڈ لیزبین سوسائٹی‘‘ کی بنیاد رکھی گئی ۔ کلب کھولے گئے ۔ پرچار کے لئے میڈیا کو بھی اعتماد میں لیا گیا ۔ ملک گیر پیمانے پر اس مہم کو جاری رکھنے کے لئے دونوں نے اپنی اپنی زندگی کا سارا اَثاثہ لگا دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ آہستہ آہستہ اس مہم کا اثر ایسا ہوا کہ ہر روز نِت نئے جوڑے اس میں شامل ہونے لگے ........ پھر ایک ملک سے دوسرے ملک ، دوسرے سے تیسرے ملک۔ اور اس طرح دُنیا کے سارے ممالک میں ہم جنس مہم کی آگ کچھ اس طرح پھیل گئی کہ شادی بیاہ کے سارے پنڈال جل کر راکھ ہو گئے۔ 
مذہبی پیشواؤں نے اس مہم کی پُر زور مخالفت کی اور جگہ جگہ ’’صنفِ مخالف تحریک‘‘ کی بنیاد ڈالی ۔ پرانی پیڑھی نے بھی مذہبی رہنُماؤں کا کُھل کر ساتھ دیا ، لیکن نئی نسل لذّتوں میں اس قدر ڈوبی ہوئی تھی کہ اُن پر اس تحریک کا ذرا بھی اثر نہیں ہوا ....... اور وقت کے ساتھ ساتھ جب یہ تحریک دم توڑنے لگی تو پرانی نسل کے صنفِ مخالف پرستار اپنی نسل کی بے راہ روی سے اتنے شرمسار ہوئے کہ آنکھوں میں آنسو چھُپائے تابوت نگر کی طرف آہستہ آہستہ کوچ کر گئے ۔
پھر اس کے بعد اس دھرتی پر وہی آپریٹ کئے ہوئے ہم جنس جوڑے باقی رہ گئے ۔ جگہ جگہ ’’گے بار‘‘اور ’’لیزبین کلب‘‘ کُھل گئے...... .. ناچ گانا، شراب وکباب تو بالکل عام سی بات ہو کر رہ گئی تھی ۔ سب کے سب اپنے آپ میں مست ۔ کسی کو کسی سے کوئی مطلب نہیں ۔ اب زندگی کا صرف ایک ہی مقصد تھا ۔
انجوائے اور انجوئے ........اور اسی انجوائے کے درمیان پرانی پیڑھی کا تابوتی سفر جاری رہا ۔ 
آبادی بدستور گھٹتی رہی۔ 
اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب پوری پرانی پیڑھی ختم ہو گئی ۔ نئی پیڑھی جو خود پر بانجھ کا لیبل چپکا چکی تھی، آبادی کے تناسب کو برقرار کیسے رکھتی ؟ جو بچے تھے اُن میں سے بھی ہر روز کسی نہ کسی بہانے لوگ مرتے رہے ۔ آبادی اسی طرح گھٹتی رہی ۔ وسائل کی فراوانی کے سبب نئی نسل کی ہتھیلی پر چاند سورج اُگتے رہے ۔ نئی نسل انہیں پوجتی رہی ۔ اور وہ بھی ہر روز خود کو خالق سمجھنے کا گناہ کرتے رہے ۔ 
لیکن ایک دن جب بُڑھاپا دل کے دروازے پر دستک دینے آیا تب جیکسن اور ڈونالڈ کو پہلی بار اس بات کا احساس ہواکہ یہ دُنیا فانی ہے ۔ ہر وہ شئے جو ہے اُسے موت کا مزا چکھنا ہے ۔ ایک دن دوسروں کی طرح وہ بھی مر جائیں گے ۔ سارے لوگ مر جائیں گے ۔ ساری دُنیا ختم ہو جائے گی ۔ وقت کا مورِّخ جب تاریخ لکھے گا تب سارا الزام ’’گے اینڈ لیزبین موومنٹ‘‘ کے ہی سر کھے گا ۔ اس لئے اب وہ اپنے اس جرم کی پاداش میں مر کر بھی اپنی نسل کے لہو میں زندہ رہناچاہتے تھے ۔ اس سے پہلے کہ ڈاچی اور ولیم ہم جنسیت کے بھنور میں پھنسیں ، وہ جلد سے جلد دونوں کی شادی کر دینا چاہتے تھے ......... ڈونالڈ اور جیکسن صنفِ مخالف جوڑوں کی تلاش میں نکلے۔ پہلے اپنے شہر پر ایک نظر ڈالی ۔ریاست کے کونے کونے میں پہنچے۔ پورا ملک چھان مارا۔ اس سے بھی نہیں ہوا تو وہ برسوں دُنیا کی سیر کرتے رہے ......... جہاں بھی گئے ، جس گھر کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا معلوم ہوا کہ وہ سب ’’جی ۔ایل انٹر نیشنل کلب‘‘ کے ایکٹیو ممبر ہیں ۔ اس لئے شادی بیاہ سے زیادہ انجوائے کرنے میں یقین رکھتے ہیں ........ دونوں نے کئی ایک لڑکے اور لڑکیوں کو پیسے کے لالچ بھی دیئے۔ ساری جائداد لکھنے کی قسمیں کھائیں ۔ بلینک چیک ہاتھوں میں رکھا ، لیکن کوئی بھی آزادانہ زندگی کو تیاگنے کے لئے راضی نہیں ہوا۔ 
اس طرح پوری دُنیا کے چکّر کاٹنے کے بعد وہ دونوں مایوس قدموں کے ساتھ گھر لوٹے ۔ دونوں کے جھریوں بھرے چہرے پر ساری دُنیا کی تھکان جہاں سِمٹ آئی تھی وہیں اُن کی بوڑھی دھنسی ہوئی آنکھوں میں کائنات کی ساری رنگینیاں گڈ مڈ ہو کر سیاہی مائل ہو چکی تھیں ۔ 
یکایک جیکسن پر دل کا دورہ پڑا ۔
ڈونالڈ نے فون کر کے فوراً ڈاچی اور ولیم کو بُلایا اور کہا:
’’دیکھو اس وقت میرا لائف پارٹنر زندگی اور موت کے درمیان جھول رہا ہے ۔ تم چوں کہ ہماری وراثت کے امین اور نسل کے پاسبان ہو ، اس لئے ہماری خواہش ہے کہ تم دونوں آپس میں شادی کر لو اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے کے لائف پارٹنر بن جاؤ۔‘‘
’’شادی.......! ‘‘ دونوں کے مُنہ کُھلے کے کُھلے رہ گئے ۔
’’میرا لائف پارٹنر تو میرا روم میٹ ہے ۔ میں اُس کے ساتھ اپنی زندگی کے بہترین دن گزار رہا ہوں ۔ مجھے ڈاچی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘ ولیم نے مُنہ بناتے ہوئے نفی میں سر ہلایا ۔ 
ڈاچی نے بھی اُسی انداز میں ولیم کا مُنہ توڑ جواب دیا ........’’اور میں کون سا تمہیں اپنا لائف پارٹنر بنانے جا رہی ہوں ....... میں خود اپنی ایک گرل فرینڈ کے ساتھ انگیج ہوں ۔ ‘‘
اتنا سُنتے ہی جیکسن کا دل دھونکنی کی طرح دھڑک اُٹھا اور سر یکایک دوسری طرف ڈھلک گیا ۔ 
ڈونالڈ نے یہ سب کچھ جو دیکھا تو دفعتاً اُن کی آنکھوں کے سامنے گھنا اندھیرا چھا گیا ۔ لیکن اس اندھیرے میں بھی بڑھاپے کہ وہ بیساکھی جو اُن کے کاندھے کے نیچے جھول رہی تھی ، روشن ہو اُٹھی ......... پھر اُنہوں نے روہانسی آواز میں پاگلوں کی طرح ’’جیکسن ........جیکسن!‘‘ چیختے ہوئے فلک بوس ’’گے اینڈلیزبین انٹر نیشنل آپریشن تھیٹر ‘‘کی ساری عضو تراش نسل کُش مشینوں کو ایک ایک کر کے توڑنا شروع کر دیا ۔
ڈاچی اور ولیم ، ڈونالڈ کی اس اَدا پر خوشی سے لِپٹ گئے ۔ 
DR.AKHTAR AZAD
HOUSE NO-38, ROAD NO-1 AZADNAGAR, JAMSHEDPUR-832110 E.MAIL- عنوان البريد الإلكتروني هذا محمي من روبوتات السبام. يجب عليك تفعيل الجافاسكربت لرؤيته.   

MOBILE NO-9572683122 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

M

Read 2464 times

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.

Latest Article

Contact Us

RAJ MAHAL, H. No. 11
CROSS ROAD No. 6/B
AZAD NAGAR, MANGO
JAMSHEDPUR- 832110
JHARKHAND, EAST SINGHBHUM, INDIA
E-mail : mahtabalampervez@gmail.com

Aalamiparwaz.com

Aalamiparwaz.com is the first urdu web magazine launched from Jamshedpur, Jharkhand. Users can submit their articles, mazameen, afsane by sending the Inpage file to this email id mahtabalampervez@gmail.com, aslamjamshedpuri@gmail.com