الإثنين, 17 حزيران/يونيو 2013 10:36

ڈاکٹر نزہت پروین کا تحقیقی و تجزیاتی مقالہ ’جھارکھنڈ میں اردو کے غیر مسلم فنکار‘ اور معروف ادیب و شاعر اسلم بدر کی انشائیہ نما تحریر ’پندار کا صنم کدہ ‘ (خود نوشت) کی رسم اجراء Featured

Rate this item
(0 votes)

 بسم اللہ الر حمٰن الر حیم

 ڈاکٹر نزہت پروین کا تحقیقی و تجزیاتی مقالہ ’جھارکھنڈ میں اردو کے غیر مسلم فنکار‘
 اور
 معروف ادیب و شاعر اسلم بدر کی انشائیہ نما تحریر ’پندار کا صنم کدہ ‘ (خود نوشت)
 کی رسم اجراء

 ’اردو قبیلہ‘ جمشید پور کے زیر اہتمام، مذکورہ بالا دونوں کتابوں کی رسم اجراء کریم سٹی کالج، جمشیدپور کے اسٹوڈیو ہال میں ڈاکٹر محمد زکریا (پرنسپل کریم سٹی کالج)اور جناب اختر کاظمی ( ایڈیٹر ’کوکن سہارا ‘ممبئی) کے ہاتھوں ادا کی گئی۔ 
’جھارکھنڈ میں اردو کے غیر مسلم فنکار ‘ دراصل ڈاکٹر نزہت پروین کا وہ تحقیقی و تجزیاتی مقالہ ہے ، جس پر رانچی یو نیورسٹی نے انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری سے سر فراز کیا ہے۔ ہماری اردو زبان جسے پروان چڑھانے اور اس کے حسن کو نکھارنے والوں میں صرف مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی پیش پیش تھے۔پنڈت برج نرائین چکبست، دتاتریہ کیفی،پریم چند ، فراق گورکھپوری سے لے کر گوپی چند نارنگ تک کا ایک اٹوٹ سلسلہ ہے، جو اس کشت تہذیب کی آبیاری میں اب بھی شامل ہے ۔ صوبہ جھارکھنڈ میں بھی اس سلسلے کی اہم کڑیاں ملتی ہیں۔ یہاں کے رام پرشاد کھوسلہ ’ناشاد‘(شاعر)،ہربنس دوست (افسانہ و ناول نگار)، گربچن سنگھ (افسانہ نگار) ، شیدا چینی (پورے بر صغیر میں اردو زبان کا پہلا چینی نژاد صاحب کتاب شاعر)، سے لے کر معروف شاعر جوگا سنگھ انور بھی قومی اور بین الاقوامی سطح پر جانے مانے جاتے ہیں۔ان تمام فنکاروں کے فن اور ان کی ادبی جہتوں پر ، اس کتاب میں کھل کر بحث کی گئی ہے۔ 
’پندار کا صنم کدہ‘ اسلم بدر کی خود نوشت ہے۔یہ وہ صنم کدہ ہے جس میں اپنے خود ساختہ بتوں کو موصوف نے اپنے ہی ہاتھوں توڑا ہے۔ یہ کتاب، موصوف کے تفنن طبع اور سیماب مزاجی کا ایسا آئینہ ہے، جس میں ان کی زندگی کے بعض گوشوں کے تلخ تجربوں، کٹھی میٹھی یادوں، پشیمانیوں ، محرومیوں ، ناکامیوں ،(بہت سنبھل کے حماقتوں بھی کہنا چاہتا ہوں) کا بھر پور عکس دیکھا جا سکتا ہے ۔ گویا اس کتاب کو ’آئینۂ قہقہہ ‘ (Laughing Mirror ) بھی کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا ۔ مگر یاد رہے کہ اس آئینہ خانہ میں صاحب کتاب کی بگڑی ہوئی شکل پر چسپاں آپ کو کبھی کبھی اپنا عکس بھی نظر آئے گا۔ہنسی بھی آئے گی۔ خود پر ہنسنا آسان نہیں ہو تا، مگر آپ ہنسیں گے۔ اپنے عکس پر کم ،موصوف کی عکاس شکلوں پر زیادہ ۔مگر یہ ہنسی بھی سنجیدہ ہو گی، اکثر ہنستے ہنستے آنسو چھلک پڑیں گے، اور آپ اس شعر کی تفسیر ہو جائیں گے:
ہنسی ہنسی میں کہیں آنکھ نم نہ ہو جائے حضور! دیکھئے ، اظہار غم نہ ہو جائے
کتاب میں وضع کئے گئے ذیلی عنوانات ہی سے اس کتاب کی نوعیت کا اندازہ ہو جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر چند ایک عنوانات دیکھیں:..... مچھر کا شکار، ’ جا‘تے شاعر ہو گیا،ٹن ٹن ٹن ٹن (فعلن فعلن)، درشن چاچی ہمارا فرائڈ کا سبق، پٹنہ کی بگھی تاجپور کا ٹمٹم، نثرلی نانا کی تڑگچھیا ، تما تم بیا لل لا، آیت الکرسی اور چندہ،عشق کا پروگریس رپورٹ، مارواڑی مشاعرہ، مقتل مشاعرہ، نوٹنکی مشاعرہ،لُٹا ہوا لٹیرا شاعر، شب نہاری، بھانگڑا داد ، .... ... جیسے عنوانات ہی آپ کا دامن نگاہ تھام تھام لیں گے اور آپ کو مطالعہ کے لئے مجبور کر دیں گے۔
کتاب کے اخیر میں ڈاکٹر نزہت پروین (بیگم اسلم بدر ) نے اپنے مضمون ’پس نوشت‘ میں ’خم سطح آئینہ ‘ کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے، صاحب کتاب کا وہ وہ روپ ابھارا ہے کہ بس ....!!!
افسر کاظمی
(صدر،اردو قبیلہ ، جمشید پور)

Read 1448 times

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.

Latest Article

Contact Us

RAJ MAHAL, H. No. 11
CROSS ROAD No. 6/B
AZAD NAGAR, MANGO
JAMSHEDPUR- 832110
JHARKHAND, EAST SINGHBHUM, INDIA
E-mail : mahtabalampervez@gmail.com

Aalamiparwaz.com

Aalamiparwaz.com is the first urdu web magazine launched from Jamshedpur, Jharkhand. Users can submit their articles, mazameen, afsane by sending the Inpage file to this email id mahtabalampervez@gmail.com, aslamjamshedpuri@gmail.com