الإثنين, 17 حزيران/يونيو 2013 11:43

مہتاب عالم پرویز ؔ کا ’’ کارواں ‘‘ رضوان واسطی MAHTAB ALAM PERVEZ KA KARWAN Featured

Rate this item
(0 votes)


مہتاب عالم پرویز ؔ کا ’’ کارواں ‘‘

 رضوان واسطی

      *کیا افسانے ہی حقیقت بن جاتے ہیں؟ کیا حقیقتیں ہی افسانوں کا روپ اختیار کرلیتی ہیں؟؟ کیاافسانہ حقیقت کی ضد ہے؟؟؟ کیا حقیقت افسانے کی ضدہے؟؟؟؟..... یہ اور ایسے ہی نہ جانے کتنے لامتناہی سوالات افسانوں سے متعلق تنقیدی وادیوں میں گونجتے رہتے ہیں۔لیکن جہاں تک لسانی قواعد کی دنیا ہے، افسانہ اور حقیقت کو ایک دوسرے کی ضد ہی مانا جاتا رہا ہے۔تو پھر اتنی اختلافی بحث کیوں؟ دراصل وقت کے دریا نے اپنے بہاؤ کے ساتھ ایک ایسے جزیرہ نما میں پہنچادیا ہے، جہاں ایک طرف تو مفروضات کا ایک سمندر ہے اور دوسری طرف حقیقتوں کاایک پہاڑ...کسی قوم کے لیے سو سال کا فاصلہ بہت بڑا نہیں ہوتا، لیکن قوموں کی روِش میں تبدیلی ضرور آجاتی ہے۔ ادبی دنیا میں افسانوں کا بھی یہی حال ہے۔ قواعد کی دنیا کے الفاظ ’افسانہ‘ اور’ حقیقت‘ آج سے سو سال پہلے ضرور ایک دوسرے کے بالمقابل نظر آتے رہے ہونگے لیکن اب تویہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ساتھ ساتھ ادب کی دنیا میں چہل قدمی کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر اس حیثیت سے دیکھیں تو آج کے دَور کے تیزی سے پھلتے پھولتے افسانہ نگاروں میں ایک اہم نام مہتاب عالم پرویزؔ کا ہے۔ انہی کے افسانوں کے پس منظر میں اپنی بات شروع کرنے سے پہلے اس پیش خیمہ کی ضرورت محسوس ہوئی۔یوں تو مہتاب عالم پرویزؔ کا خیال ہے کہ انہوں نے نہ تو اردو کے گوناگوں افسانوں کا مطالعہ بغور کیا ہے اور نہ ہی وہ کسی افسانہ نگار سے شعوری یالاشعوری ، باضابطہ یا بے ضابطہ طور پر تأثر قبول کیا ہے۔ اگرچہ دل ان کی بات مان بھی لے، لیکن میرا ذہن ان کی اس دلیل کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے؛ کہ آج کے دور کا کوئی بھی تخلیق کار آگے بڑھنے کے لیے کسی بھی تخلیق کار سے نہ تو متأثر ہوا ہو اور نہ ہی اس کے زیر مطالعہ عظیم اور شہرت یافتہ مقبولِ زمانہ افسانہ نگاروں کی تخلیقات رہی ہوں۔ معاملہ تخلیقات کا ہو یا ننھے بچوں کا، ... Aping کی راہ پر چلنا ہی پڑتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ آگے بڑھنے کے بعد اپنی نجی آزادی کا اعلان ببانگ دُہل کردیا جائے۔ اور شعوری رَو سے لے کر ریلزم اور سر ریلزم کی کے بخیے ادھیڑتے ہوئے دنیا کھنگال ڈالے۔Aping بری چیز نہیں ہے۔ آج کا کوئی بھی اردو نثر نگار اگر یہ دعویٰ کرے کہ اس نے ابنِ صفی کو نہیں پڑھا ہے اور ایک ادیب کی حیثیت سے اسے کوئی مقام بھی نہیں دینا چاہتا، تو بات عجیب ہوتے ہوئے بھی مجھے ان کی بات تسلیم کرتے ہوئے خاموش ہوجانا پڑے گا،کہ میرے پاس اس کی نفی کی کوئی دلیل یا ثبوت نہیں ہے۔ جھگڑا تو کرنے سے رہا۔کچھ ایسے بزرگ تخلیق کاروں سے بھی میرا واسطہ پڑا ہے جنہوں نے ابن صفی کے ادیب نہ ہونے پر گھنٹوں بحث کرڈالی ہے، لیکن گفتگو کے آخیر میں ابن صفی کی دو تین کتابیں مجھ سے چھین لے گئے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ’’ دے دو میں وقت گزاری کے لیے پڑھ کر واپس کردوں گا‘‘ یہ اور بات ہے کہ کتابیں مجھے واپس نہ ملی ہوں۔ یہاں ابن صفی کا نام لینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ یہی وہ معتبرفنکار ہے جس نے افسانوی ادب کو قصہ گوئی اور داستان گوئی کی پراسرار دنیا سے نکال کر موجودہ دور کے پراسرار جاسوسی ناولوں کااَوتار دیا۔ اور اسلوب و آداب نے زبان کو اتنا چست درست اور شائستہ بنادیا کہ ان کا کوئی بھی قاری جو خود بھی افسانہ نگار بن گیا ہو،ان کے اندازِ بیان کے سحر سے آزاد نہ ہو سکا۔ اس بات کا اعتراف میں نہیں اردو کے تقریباًاکثر و بیشتر معتبر اور مستند نقادوں اور محققوں نے کیا ہے۔ بہر حال مہتاب عالم پرویزؔ نے جاں فشانی اور ایمانداری سے قلم کی بھرپور دوستی کا حق نباہا ہے اور نباہ رہے ہیں۔ ان کے افسانوں کو سلسلہ وار پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں افسانوں کی اپنی سرگزشت کا آئینہ دار کہا جاسکتا ہے۔ 
     ایک عام رائے کے مطابق اردو اور ہندی ادب میں مختصر افسانوں کی بنیاد سب سے پہلے انشاء اللہ خان انشأ کی تخلیق ’’رانی کیتکی کی کہانی‘‘ سے پڑی۔ کہانیاں اس سے پہلے بھی کہی جاتی تھیں۔ قصہ گوئی کی ابتدا کب سے ہوئی ‘ یہ شاید وثوق سے کوئی بھی نہیں کہہ سکتا۔ لیکن شروع میں کہانیاں صرف تضیعِ اوقات اور تفریح وتفنُّن کا ذریعہ ہی رہا ہوگا۔ لیکن افسانوں نے خصوصاً مختصر افسانوں نے اسے انسانی زندگی سے براہِ راست جوڑنے کا کام کیا۔ اردو میں آج سے سو سال پہلے یہ گرانقدر کام منشی پریم چند نے کیا۔ دھنپت رائے نے قلمی نام نواب رائے کی حیثیت سے لکھنا شروع کیااور ان کا پہلا افسانوی مجموعہ’سوزِ وطن‘ کے نام سے شائع ہوا۔ کتاب کے نام ہی سے ظاہر ہے کہ اس کے افسانوں میں کیا باتیں پیش کی گئی ہونگی۔ انگریزی سامراج کو بھلا یہ باتیں کیسے پسند آتیں؟ انہوں نے نہ صرف اس کتاب کو ضبط کیا ،اس پر پابندی لگادی اور پریس کو ضبط کیا بلکہ دھنپت رائے سے افسانہ گوئی اور تحریر کا حق بھی چھین لیا۔ لیکن انہوں نے بعد میں پریم چند کے نام سے افسانہ لکھنا شروع کیا اور خوب لکھا۔ لگ بھگ    تیس پینتیس برس کی انقلابی پیش قدمی کے دوران ’کفن‘ جیسا افسانہ سنگِ میل کی حیثیت سے منظرعام پر آیا۔ 
انسانی زندگی میں کچھ ضرورتیں اورکمیاں تھیں۔لہٰذا معاشرتی کمزوریوں کو اجاگر کرنے میں ہی افسانے کی خوبی سمجھی گئی۔ بعد کے افسانوں میں نہ صرف کمزوریوں اور کمیوں کی عکاسی کی جانے لگی بلکہ اشاروں کنایوں میں یا کھل کر مارکس اور اینجلس کے نظریات پر مبنی اس کا علاج بھی پیش کیا گیا۔ اس طرح پریم چند کے زیر صدارت اور سرپرستی میں ترقی پسند تحریک کا جنم ہوا۔ افسانے بیانیہ ہوتے تھے۔ سماجی نابرابری، بھوک، طبقاتی کشمکش، سرمایہ دارانہ مظالم،ظلم و تشدد کا ننگاناچ اور کھلا مظاہرہ چاروں طرف پھیلی بدعنوانیاں افسانوں کا موضوع ہوا کرتی تھیں۔ لیکن ان سبھوں کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور جنسی بے راہ روی کو بھی افسانوں میں بطور موضوع جگہ ملنے لگی۔مواد کافی تھے کینوس وسیع.... اس سلسلے میں آپسی اختلافات بھی منظرعام پر ظاہر ہونے لگے۔ اس دور کے بڑے افسانہ نگاروں میں جو خصوصاً انجمن ترقی پسندمصنفین کے پرچم تلے باضابطہ خامہ فرسائی کرتے تھے، عصمت چغتائی، کرشن چندر، حامدی کاشمیری، تلوک چند محروم، کیدار شرما، سہیل عظیم آبادی، راجندر سنگھ بیدی، انتظار حسین ، قرّۃالعین حیدر،زکی انور، احمد علی، رشید جہاں،جوگندر پال وغیرہ کے نام اہم کہے جاسکتے ہیں۔ لیکن سب سے بے باک افسانہ نگار جس نے سماج کی دوسری کمزوریوں کے ساتھ نفسیات ،جنسی بے راہ روی اور جنسی ظلم پر قلم اٹھایا وہ تھا سعادت حسن منٹو۔ اس سلسلے میں ان کے افسانہ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ کے بہانے انہیں سزا بھی سنائی گئی۔ انجمن ترقی پسند مصنفین سے خارج بھی کیا گیا۔ لیکن انہوں نے بے باکی سے مونہہ نہیں موڑا۔ آزادی ہند کے ساتھ ساتھ تقسیم ہند ، فسادات، بڑے پیمانے پر ہجرت اور انخلاءِ وطن اور زبردست خونریزی کے علاوہ جنسی استحصال کو افسانوں کا موضوع بنایا گیا۔ اس وقت بھی نفسیاتی اور جنسیاتی ظلموں کا پردہ منٹو نے فاش کیا۔ منٹو کی بے باکی اور عریانیت کو دیکھ کر ایک زمانے کو خیال ہوا کہ وہ ترقی پسندتحریک کے غلاف میں اپنے لیے شہرت کاراستہ اختیار کررہے ہیں۔ لیکن یہ بہتان اور جھوٹے الزام سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ترقی پسند تحریک کاہرگز یہ مفہوم نہیں تھا۔ یہ ان کا ذاتی فعل تھا اور اپنی ذہنی اپج سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ وہ دراصل تحریک کو زندگی کے اتنا نزدیک کرنا چاہتے تھے کہ معاشرہ سے ہر قسم کی برائی کو مٹایا جاسکے، خواہ وہ معاشی کشمکش ہو یا ذہنی، نفسیاتی اور جنسی بے راہ روی ہو۔ منٹو افسانوں کے بادشاہ کہے جاسکتے ہیں۔ اس واقعاتی تجزیہ کے پس منظر میں اگر مہتاب عالم پرویزؔ کی کہانیوں کا جائزہ لیا جائے تو یقیناًمیرے اس دعوے کو تقویت ملے گی کہ ان کی پہلی کتاب ’ریت پر کھینچی ہوئی لکیر‘ کے مقابلے میں افسانوں کا یہ نیا مجموعہ’کارواں ‘ بہر طور زیادہ وزن دار ہے اور مقبولیت کی نئی بلندیوں کا حقدار بھی۔
اس میں کئی افسانے سعادت حسن منٹو کی یاد تازہ کرجاتے ہیں : مثلاً ’بیک ڈور‘،’کتیا‘’بازگشت‘، ’ایک تلاش ہے زندگی‘، ’رشتے کی بنیاد‘ ’جرثومے‘ وغیرہ۔ایسا نہیں ہے کہ منٹو کے افسانوں کا عکس یا چربہ اس میں نظر آتا ہے بلکہ بات صرف اتنی سی ہے کہ مختصر افسانوں میں جنسیاتی کشمکش کو ظاہر کرنے کے سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ علم نفسیات کا بھرپور سہارا لیا گیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ مہتاب عالم پرویزؔ کی گہری نظر نفسیات کے اصولوں پر بھی ہے۔ 
     مہتاب عالم پرویزؔ شخصیت کے اعتبار سے ہی صرف ایک سیدھے اور سچے انسان نہیں ہیں بلکہ اپنے مختصر افسانوں کے ادھیڑبن میں بھی وہ اپنا یہی نقشہ پیش کرتے ہیں۔ منشی پریم چند نے ایک جگہ کہا ہے کہ میرے افسانوں اور تواریخ میں صرف اتنا ہی فرق ہے کہ تواریخ میں تاریخ اور نام صحیح ہوتے ہیں باقی سب فرضی، جبکہ میرے افسانوں میں تاریخ اور نام فرضی ہوتے ہیں واقعات صحیح۔ مہتاب عالم پرویز ؔ نے تو اکثرو بیشتر اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر نام اور تاریخ بھی بالکل صحیح صحیح پیش کردیا ہے۔ ہوسکتا ہے واقعات فرضی ہوں، ہوسکتا ہے نہیں، بلکہ ہیں... لیکن کہنے کا انداز اسے حقیقت سے ہم آہنگ کردیتا ہے۔
     ’’گذشتہ شب میری پانچ سالہ بیٹی نوشین نے JUBILEE PARKجانے کا پروگرام بنایا تھا۔ جب میں ساڑھے چھ بجے سائبر بند کرکے اپنے گھر لوٹا، میری بیوی میری منتظر تھی۔اور میرا چارسالہ بیٹا فرازؔ مجھے دیکھ کر کافی خوش ہوگیا تھا۔ ‘‘ 
                                              (....سانپ اور پرندے)
     زبان میں ملاحت ہی نہیں، بیباکی،سادگی اور پرکاری بھی ہے:
     ’’غلطیاں انسان سے ہوتی ہیں اور کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں خدا بھی معاف کردیتا ہے۔ اور جب خدا معاف کردیتا ہے تو بندوں سے ایسی امیدیں کی جاسکتی ہیں۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہارے ساتھ انصاف ہوگا۔‘‘
                                              (...بیک ڈور)
     ’’ شام ڈھلنے لگی تھی اور سورج کی لالی نیلم کی آنکھوں میں اتر آئی تھی۔ اس کی آنکھیں سرخ ہونے لگی تھیں، جیسے وہ نشے کی عادی ہو۔ جب وہ کمرے میں دوبارہ واپس لوٹی تو حویلی کا نوکر اس کی پشت پہ موجود تھا اس کے ایک ہاتھ میں خوبصورت سے ٹرے میں رنگین مشروب کے دو گلاس سجے ہوئے تھے۔ اور دوسرے ہاتھ میں جو ٹرے تھا اس میں ایک مرغ مسلم سجا ہوا تھا۔ ٹرے میں مرغ مسلم کچھ اس انداز سے سجایا گیا تھاکہ مجھے محسوس ہورہا تھا کہ نیلم مکمل برہنہ بستر پر دراز ہے اور اس کی دونوں ٹانگیں اوپر اٹھی ہوئی ہیں۔ نوکر دونوں ٹرے سنٹر ٹیبل پر رکھ کر جاچکا تھا۔ نیلم نے ایک گلاس میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔آج کی شام تمہارے نام‘‘ 
                                                                                                                                                                          (...کتیا)
     خواہ قارئین کی سہل نگاہی ہویا نقاد کی ژِرف بینی... افسانہ نگار کی دنیا ہو یاحقائق کی ،حالات کے پیشِ نظر اس بات سے سبھی اتفاق کریں گے کہ سعادت حسن منٹو کو جانے اور سمجھے بغیر افسانوی دنیا میں نہ تو تخلیق کار اور نہ ہی قاری کی حیثیت سے قدم رکھا جاسکتا ہے۔ آج تک جتنے بھی افسانہ نگار اردو ادب کی زینت مانے جاتے ہیں ، ان میں سعادت حسن منٹو کی حیثیت بلا شک و شبہہ اہم ترین ہے۔لیکن سعادت حسن منٹو کی نفسیاتی اور جنسیاتی بے باکی کے ساتھ حالاتِ حاضرہ کی کشمکش اور منظرنگاری کو علیحدہ کردیا جائے تو منٹو کا افسانوی جسم تو موجود رہے گا مگرروح غائب نہیں تو لاغر ضرور ہوجائے گی۔افسانوی فضا میں زبان و بیان کی کافی اہمیت ہوتی ہے۔ 
زبان صاف شفاف ہو، بے باک ہو، شستہ و فصیح ہو، لیکن ان سب کے علاوہ افسانوی زبان میں لوچ اور شیرینی بھی ہونی چاہیے ۔عصمت چغتائی، کرشن چندر، زکی انوراور واجدہ تبسم ، قاضی عبدالستار، ابن صفی وغیرہ اپنی زبانوں کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کے علاوہ دوسرے عظیم تخلیق کاروں کے ناموں کو جن کا ذکر درج بالا ہو اہے نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ بات مہتاب عالم پرویز ؔ کے افسانوں کی ہورہی تھی، جن میں بیباکی کے ساتھ تقریباً وہ تمام خوبیاں قدرتی اور فطری طور پر موجود ہیں جن کا ذکر اوپر کی سطروں میں کیا گیا۔ ابھی شروعات ہے، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
     ’’اٹھلاتی اتراتی الہڑ جوانیاں... چاند سا روشن چہرہ... بڑی بڑی سی کجراری آنکھیں... جھیل سی نیلی بیکراں آنکھیں... کتابی چہرے... شام سی گھنیری زلفیں... اور بدن کے نشیب و فراز میں جلتے الاؤ... گلاب کی پنکھڑیوں سے عنابی ہونٹ... اور وہیں گلے شکووں کا جال...اور اس جال میں لپٹی بے چین سسکتی سبکتی خواہشیں... رخساروں پہ پھسلتی ہوئی شبنمی بوندیں... آنکھوں کا بھیگتا کاجل... کمپیوٹر کے کی بورڈ پر رقص کرتی ہوئی مخروطی انگلیاں ... اور سوچ کے اسکرین پر تبدیل ہوتی ہوئی رنگ برنگی تتلیاں... تتلیوں کا پیچھا کرتے ہوئے معصوم اور ننگے پاؤں... اور ان معصوم اور ننگے پاؤں کی چاپ کو متأثر کرتی ہوئی صداؤں کی بازگشت...‘‘
                                                                                                                                          (ایک تلاش ہے زندگی)

     ایک ایک افسانے کے بارے میں تفصیلی تجزیہ نہ تو یہاں ممکن ہے اور نہ ہی وقت کا تقاضہ وضرورت۔ ہر افسانے کا تعلق بنفس نفیس پڑھنے سے ہے۔ تبھی ایک ایک زاویہ مختلف نقطوں سے اسپکٹرم کی طرح پرت در پرت کھلتا جائے گا اور تین سو ساٹھ ڈگری کا دائرہ مکمل کردے گا۔ ہر افسانے میں پلاٹ، منظر نگاری، کردار سازی، تصادم و تجسس کے علاوہ عروج و ردِّ عروج(کلائمکس اور اینٹی کلائمکس) کی بوقلمونیاں نظر آتی ہیں۔ ایک دو افسانوں مثلاً ’کارواں‘ کے علاوہ ’آخری پرواز ‘اور’ سانپ اور پرندے‘ میں فنطاسی کے تجربے بھی نظر آتے ہیں۔ بہتر ہوتا اگر انگریزی کے وہ الفاظ جو بول چال کی زبان سے تعلق رکھتے ہیں اور استعمال کے اعتبار سے ضروری لگتے ہوں انہیں انگلش حروف کی بجائے اگر اردو حروف و لفظ ہی میں لکھا جا تا تو بہتر ہوتا اور روانی زیادہ فطری ہوتی۔
     مجموعی طور پر یہ کتاب ایک خوبصورت تخلیق کی حیثیت سے افسانوی عالم میں قبولیت کی بلندی حاصل کرے گی۔

()()()()()


رضوان واسطی

Read 2390 times

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.

Latest Article

Contact Us

RAJ MAHAL, H. No. 11
CROSS ROAD No. 6/B
AZAD NAGAR, MANGO
JAMSHEDPUR- 832110
JHARKHAND, EAST SINGHBHUM, INDIA
E-mail : mahtabalampervez@gmail.com

Aalamiparwaz.com

Aalamiparwaz.com is the first urdu web magazine launched from Jamshedpur, Jharkhand. Users can submit their articles, mazameen, afsane by sending the Inpage file to this email id mahtabalampervez@gmail.com, aslamjamshedpuri@gmail.com