الإثنين, 01 تموز/يوليو 2013 18:19

مہتاب عالم پرویزؔ کی کہانی اور ’’ کہانی کا دوسرا رُخ ‘‘ MAHTAB ALAM PERVEZ KI KAHANI AUR KAHANI KA DOOSRA RUKH Featured

Rate this item
(0 votes)

 مہتاب عالم پرویزؔ کی کہانی اور ’’ کہانی کا دوسرا رُخ ‘‘ 

   (  MAHTAB ALAM PERVEZ KI KAHANI AUR ( KAHANI KA DOOSRA RUKH 

 



ڈاکٹر شاداب علیم 
شعبۂ اردو 
سی .سی. ایس. یونیورسٹی ،میرٹھ


        اردو افسانے کا کارواں خرا ماں خراماں دس دہا ئیاں طے کرچکا ہے۔ اس مختصر مدت میں اس کو اپنی بقا کے لیے مختلف چو لے بدلنے پڑے ۔کبھی رومان پسندی کی ردا اوڑھی، تو کبھی سماجی حقیقت نگاری کا جبہ پہنا، کبھی ترقی پسندی کا عمامہ سر پر رکھا ،تو کبھی جدیدیت کے دو شالے میں پناہ لی۔ اس طرح ہمارا افسا نہ کبھی تخلیق کا مرہون منت نہیں رہا بلکہ اس میں عہد بہ عہد فنی و فکری سطح پر بہت سی تبدیلیاں ہو تی رہیں۔شاید انہی کے باعث وہ آج بھی ترو تازہ اورسرسبز و شاداب ہے۔
اردو افسا نے کی تاریخ میں وہی افسانہ نگار اہم تصور کئے گئے جنہوں نے تازہ ہواؤں کا خیر مقدم کیا اور تقلید سے انحراف برتتے ہو ئے نئی نئی فضا ؤں سے اکتساب فیض کیا۔یہ سلسلہ ہر دور میں جاری رہا اور آج بھی مہتاب عالم پرویز ؔ جیسے افسانہ نگار ہمارے افسا نوی ادب کو اپنی تازہ کا ری کے باعث صرف نئے رجحان ہی سے نہیں بلکہ نئے امکانات سے بھی آ شنا کرارہے ہیں۔
        مہتاب عالم پرویزؔ اپنی کہا نیوں کا مواد اپنے گردو پیش سے منتخب کرتے ہیں اور پھر ان افسا نوں کو اپنی زبان کی چاشنی سے شیرینی عطا کرتے ہیں۔ ان کی کہا نیوں میں جدیدیت کا رنگ وا ضح نظر آ تا ہے۔زیر نظر افسا نہ ’’کہانی کا دوسرا رُخ ‘‘ ایک معمہ یا ایک پہیلی نظر آتا ہے ۔عام قاری کہانی مکمل ہونے کے بعد کہانی کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف ہوجاتا ہے اور کہانی میں جدیدیت کی چیستانی تکنیک قاری کے دماغ کو الجھادیتی ہے۔مہتاب عالم پرویزؔ نے کہانی میں ماضی اور حال کو اس طرح پرودیا ہے کہ ایک سے دوسرے کو الگ کرنا ایک مشکل مرحلہ بن گیا ہے ۔
        کہانی کا آغاز الزام تراشی سے ہوتا ہے۔افسانہ نگار پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے کہانی کی ہیروئن ’سنبل ‘ کو اپنی کہانی کا کردار بناکر سماج میں بدنام کردیا ہے۔یہی الزام سنبلؔ اور افسانہ نگار کے بیچ جدائی کی وجہ بن جاتا ہے۔اس سے قبل کہ افسانہ نگار الزامات کا جواب دے پاتا سنبلؔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کی زندگی سے دور ہوجاتی ہے ۔جس کا اظہار افسانہ نگار ان الفاظ میں کرتا ہے:
        ’’میں سرابوں کا اسیر خوابوں کے جزیرے میں تنہا رہ گیا ۔اپنی بے گناہی کی لاش اپنے ہی کاندھوں پر اٹھائے آنسوبہاتا ہوابے سمت،نامعلوم منزلوں کی طرف گامزن۔‘‘
        افسانہ نگار اپنی کہانی کے جواز میں ایک آفاقی حقیقت بیان کرکے اپنی بے گناہی ان الفاظ میں ثا بت کرتا ہے:
        ’’مجھے احساس ہوتا ہے کہ کہانیاں تو اسی سماج کی دین ہیں ، اسی معاشرے میں جنم لیتی ہیں ۔کہانی کار بھلا کیاکرسکتا ہے ،ایک بہاؤ ہے جو اندر کی سبھی چٹانوں کو توڑ کر باہر نکل پڑتا ہے اور قلم دوڑنے لگتاہے۔‘‘
        افسانہ نگار کی خود کلامی کے دوران مہتاب عالم پرویز ؔ بلا کسی تمہید ایک نئی کہانی کا آغاز کردیتے ہیں ۔ایک مڈل کلاس اوسط ہندوستانی جوڑے کی کہانی دفتر میں کام کرنے والا ایک ادھیڑ مرد اور گھر کی چہار دیواری میں قید ایک ادھیڑ عمر عورت کی کہا نی ،جو کئی لڑکوں کی ماں ہے ،گھر کی نوکرانی ہے ۔بچوں کی آیا ہے۔اور مرد کی جنسی تسکین کا ذریعہ بھی۔ لیکن جو ایک لڑکی کی پیدائش کی شدید خواہش رکھتی ہے۔وہ اپنے شوہر سے بے حد نالاں ہے کیوں کہ:
        ’’ایک پھول سی بچی مانگتے مانگتے تھک گئی ہوں۔ اس سے تو کہیں اچھا ہوتا کہ میں بانجھ ہوتی‘‘
        یہ مسئلہ دونوں کے درمیان مستقل موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ عورت کو یقین ہے کہ اس کا شوہربیٹی پیدا کر نے کے قابل نہیں ہے۔ایک روز جب شوہر وقت سے قبل گھر لوٹتا ہے ،تو گھر میں بچوں کا شور و ہنگاموں کانہ ہونا اسے حیرت میں ڈال دیتا ہے لیکن جلد ہی اس کو خاموشی کی وجہ سمجھ میں آجاتی ہے جب وہ بیڈ روم سے آتی ہوئی آواز سنتا ہے ۔
        ’’ڈارلنگ تمہیں لڑکی چاہیے ۔بس اتنی سی بات ‘‘
         یہ سن کر وہ چپ چاپ واپس لوٹ جاتا ہے اور کہانی ختم ہوجاتی ہے ۔ قاری کو حیران چھوڑ کر ۔کہانی کے اس حصے میں کہی گئی کئی باتیں تسلیم کر نے کے لیے ذہن تیار نہیں ہو تا۔ایک مڈل کلاس عورت کی لڑکی کے لیے اس قدر شدید خواہش کہ وہ اس خواہش کی تکمیل کے لیے اپنا جسم غیر مرد کے حوالے کردے بعید از قیاس ہے ۔آج کے سماج میں جب کہ مرد عورت پر مکمل طور پر حاوی ہے اور لڑکیاں رحم مادر ی میں قتل کی جارہی ہیں، ایک لڑکی کی خواہش کے لیے ایک گھریلو عورت کا اس حد تک گر جانا حقیقت سے دورہے ۔ایک لڑکے کے لیے اگر کوئی عورت ایسا قدم اٹھائے تو کسی حد تک مانا جاسکتا ہے۔لیکن شاید حقیقت اور افسانے میں یہی فرق ہے کہ نا ممکن حقیقت ،افسانہ بن جاتی ہے۔
         اگر مذکورہ بالا حقیقت کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو بھی عورت کا کردار قابلِ یقین نہیں ۔بد ترین عورت کے لیے بھی اس کی اولاد تذکیر و تانیث کی قید کے بغیر اس کے وجود کا حصہ ہوتی ہے۔عورت کا ماں بننا اس کے وجود کی تکمیل ہے۔کہانی کار نے ماں کی زبان سے........
           ’’یہ پِلّا تو میری گود چھوڑ تا ہی نہیں ۔‘‘
           ’’یہ مانا کہ میں نے ان پلّوں کو جنم دیا ہے۔‘‘ 
           یا
           ’’ویسے بھی تم نے آج تک ان پلّوں کے نام کے سوا دیا ہی کیا ہے۔‘‘ 
          جیسے جملے قبول کرنے سے ذہن انکار کر دیتا ہے ۔بیٹی کی خواہش کتنی بھی شدید سہی مگر ماں کے لیے بیٹے پلّے ہوجائیں یہ ممکن نہیں۔
          حیران قاری جب کہانی کو سمجھنے کے لیے باریک بینی سے کہانی کا دوبارہ مطالعہ کر کے کہانی کی گتھی سلجھانے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر کہانی کی اول اور آخری حصے کے تسلسل کی حقیقت کھلتی ہے ۔ وہ یہ کہ کہانی کاآخری حصہ یعنی مرد و عورت کی کہانی در اصل سنبل ؔ کی کہانی کا ’’ فلیش بیک ‘‘ ہے۔
          مہتاب عالم پرویز ؔ نے آج کے پیچیدہ سماج کی ایک پیچیدہ کہانی تحریر کی ہے۔اگر وہ کہانی کے حال اور ماضی کی جانب ذراسا اشارہ کردیتے تو کہانی گنجلک نہ ہوکر ایک واضح کہانی بن جاتی۔اس پیچید گی کو مہتاب عالم پرویز ؔ نے ایک تکنیک کے طور پر استعمال کیا ہے لیکن اس تکنیک نے کہانی کی ترسیل کو دشوار بنا دیا ہے۔
          ہر فن کار اپنے اظہار میں خوش شگفتگی اور حسن کارانہ فنی رویوں کو سب سے زیا دہ اہمیت دیتا ہے۔کیوں کہ مواد اور خیال قاری کے لیے ثا نوی حیثیت رکھتے ہیں۔ فن کار اپنے خیالات و احساسات کو قاری یا سامع تک پہنچا نے کے لیے لفظوں کا سہا را لیتا ہے۔ لفظ یا اظہار بیان خوبصورت نہ ہوں تو بہتر خیال بھی اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔مہتاب عالم پرویزؔ صا حب اس فن سے بخو بی وا قف ہیں۔
        کہانی میں اول تا آخر مہتاب عالم پرویز ؔ کی زبان کی چاشنی بر قرار رہتی ہے۔کہیں کہیں تو ان کی نثر نثری نظموں کا مزہ دیتی ہے۔ملاحظہ ہو:
          ’’دیکھیے میری خاموشی کا یہ مطلب نہیں کہ آپ میرے وجود سے میرا آخری لباس بھی نوچ لیں۔‘‘ 
          ایک جگہ ان کے جملے کا نوں میں اس طرح شہد گھول دیتے ہیں:
          ’’ اس کی خوب صورت آنکھوں میں روز کی طرح کا جل کی لکیریں تھیں جو اس کی آنکھوں کے اسرار کو وسعت بخشتی تھیں۔‘‘
          یا یہ:
          ’’اب ہر طرف جدائی کا موسم ہے۔شاید ہماری قسمت میں وصال کے اتنے ہی لمحے آئے تھے ۔ہر طرف خوابوں کی برسات ہو رہی ہے ۔شاید اب آنسوؤں سے چراغ جلیں گے۔‘‘ 
         کہا نی کے بیا نیہ کے دوران مہتاب عالم پرویز ؔ چپکے سے تلخ حقائق اور کام کی باتیں بھی کہہ جاتے ہیں۔جیسے’’باتیں ہوئیں اور ختم بھی ہوگئیں ۔اور لوگ باگ پرانے قصے ،کہانیوں کی طرح اس سانحہ کو بھی اپنے اندر کسی گوشے میں گم کرکے نئے قصوں کی تلاش کرنے لگے۔‘‘
         یا
         ’’ گھر کا مذہبی ماحول ،پابندیاں ، سماج کا پھیلاہوا خوفناک جبڑا ،زندگی اور موت اور سبھوں کے اپنے اپنے فلسفے ،نشیب و فراز ، تضادوں کی دنیا ،امی کی آدرش وادی باتیں حق اور باطل کے وہی پرانے قصے ۔‘‘
         مہتاب صاحب آج کی تیز رفتار اور پیچیدہ زندگی میں بے چہرگی کو بھی خو بصورتی سے بیان کرتے ہیں جو کہ جدیدیت کی خاص پہچان ہیں:
         ’’آدمی اس پوری بھیڑ میں اپنی پہچان کی تلاش میں بھٹک رہا ہے ۔بھیڑ موجود ہے لیکن اس کا چہرہ ،گردنوں کے اوپر جانوروں کے چہرے لگائے لوگ ایک دوسرے کو بھنبھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔‘‘ 
         مہتاب عالم پرویز ؔ کی یہ کہانی پلاٹ کی پیچیدگی اورزبان کی شیرینی کے بہا ؤ میں بہتی چلی جاتی ہے۔قاری کہا نی کو لطف لے لے کر آخر تک پڑھتا ہے۔دیکھا جائے تویہ کہانی آج کی پیچیدہ سماج کی ایک پیچیدہ کہا نی ہے۔جہاں حقائق بعید از فہم ضرور لگتے ہیں مگر کیا آج کا سماج بعید از فہم نہیں؟ 

***

ڈاکٹر شاداب علیم 
شعبۂ اردو 
سی .سی. ایس. یونیورسٹی ،میرٹھ

Read 7206 times

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.

Latest Article

Contact Us

RAJ MAHAL, H. No. 11
CROSS ROAD No. 6/B
AZAD NAGAR, MANGO
JAMSHEDPUR- 832110
JHARKHAND, EAST SINGHBHUM, INDIA
E-mail : mahtabalampervez@gmail.com

Aalamiparwaz.com

Aalamiparwaz.com is the first urdu web magazine launched from Jamshedpur, Jharkhand. Users can submit their articles, mazameen, afsane by sending the Inpage file to this email id mahtabalampervez@gmail.com, aslamjamshedpuri@gmail.com